Ayah 37:1وَالصّــٰۗفّٰتِ صَفًّا : قسم عموماً تاکید کے لیے استعمال کی جاتی ہے، جب مخاطب کسی بات کا منکر ہو۔ بعض اوقات کسی بات کی عظمت اور اہمیت واضح کرنے کے لیے بھی قسم اٹھائی جاتی ہے۔ قرآن مجید کی اکثر قسموں پر غور کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قسم عموماً اس بات کی دلیل ہوتی ہے جو قسم کے بعد بیان ہوتی ہے۔ ”الصّــٰۗفّٰتِ“ ”صَافَّۃٌ“ کی جمع ہے، صف بنانے والی جماعت۔ ان جماعتوں سے اکثر مفسرین نے فرشتے مراد لیے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ صفت خود ان کی زبانی بیان فرمائی ہے، فرمایا : (وَّاِنَّا لَنَحْنُ الصَّاۗفُّوْنَ۔ وَاِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُوْنَ) [ الصافات : 165، 166 ] ”اور بلاشبہ ہم، یقیناً ہم صف باندھنے والے ہیں۔ اور بلاشبہ ہم، یقیناً ہم تسبیح کرنے والے ہیں۔“ حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (فُضِّلْنَا عَلَی النَّاسِ بِثَلاَثٍ ، جُعِلَتْ صُفُوْفُنَا کَصُفُوْفِ الْمَلَاءِکَۃِ وَ جُعِلَتْ لَنَا الْأَرْضُ کُلُّہَا مَسْجِدًا وَ جُعِلَتْ تُرْبَتُہَا لَنَا طَہُوْرًا إِذَا لَمْ نَجِدِ الْمَاءَ) [ مسلم، المساجد و مواضع الصلاۃ : 522 ] ”ہمیں دوسرے لوگوں پر تین باتوں میں فضیلت دی گئی ہے، ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں کی طرح بنائی گئی ہیں اور ہمارے لیے ساری زمین مسجد بنادی گئی ہے اور ہمارے لیے اس کی مٹی پاک کرنے والی بنادی گئی ہے جب ہمیں پانی نہ ملے۔“ اور جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (أَلَا تَصُفُّوْنَ کَمَا تَصُفُّ الْمَلَاءِکَۃُ عِنْدَ رَبِّہَا ؟ فَقُلْنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! وَکَیْفَ تَصُفُّ الْمَلَاءِکَۃُ عِنْدَ رَبِّہَا ؟ قَالَ یُتِمُّوْنَ الصُّفُوْفَ الْأُوَلَ وَیَتَرَاصُّوْنَ فِي الصَّفِّ) [ مسلم، الصلاۃ، باب الأمر بالسکون في الصلاۃ۔۔ : 430 ] ”کیا تم اس طرح صفیں نہیں بناتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے پاس صفیں بناتے ہیں ؟“ ہم نے کہا : ”اے اللہ کے رسول ! فرشتے اپنے رب کے پاس کس طرح صفیں بناتے ہیں ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”وہ (پہلے) پہلی صفیں مکمل کرتے ہیں اور صف میں چونا گچ ہو کر کھڑے ہوتے ہیں۔“
Ayah 37:2فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًا : ”فاء“ اس بات کی دلیل ہے کہ ان سے مراد بھی فرشتے ہیں، جن کا ذکر پچھلی آیت میں ہے۔ ”زَجْرًا“ تاکید کے لیے ہے، یعنی پھر ان فرشتوں کی قسم ! جن کی ڈانٹ معمولی نہیں بلکہ ایسی زبردست ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ مخلوقات، خواہ کتنی بےپناہ قوت کی مالک ہوں، ان کے سامنے دم نہیں مار سکتیں، مثلاً موت کے فرشتے۔ (دیکھیے انعام : 93) ہواؤں اور بادلوں پر مامور فرشتے جو انھیں ہانکتے اور چلاتے ہیں۔ (دیکھیے رعد : 13) پہاڑوں پر مامور فرشتہ، جس نے رسول اللہ ﷺ کی طائف سے واپسی پر اللہ کے حکم سے آپ کو پیش کش کی کہ اگر آپ فرمائیں تو میں آپ کی قوم کے کفار کو دو پہاڑوں کے درمیان پیس کر ملیامیٹ کر دوں۔ صور میں پھونکنے والا فرشتہ، جس کی ایک ہی ڈانٹ سے تمام لوگ قبروں سے نکل کر زمین کے اوپر ہوں گے، جیسا کہ فرمایا : (فَاِنَّمَا ھِيَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ۔ فَاِذَا هُمْ بالسَّاهِرَةِ) [ النازعات : 13، 14] ”پس وہ تو صرف ایک ہی ڈانٹ ہوگی۔ پس یک لخت وہ زمین کے اوپر موجود ہوں گے۔“
Ayah 37:3فَالتّٰلِيٰتِ ذِكْرًا : اس سے مراد بھی فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے انبیاء پر ذکر نازل کرتے ہیں اور لوگوں کے دلوں میں نیکی کا خیال ڈالتے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (فَالْمُلْقِيٰتِ ذِكْرًا۔ عُذْرًا اَوْ نُذْرًا) [ المرسلات : 5، 6 ] ”پھر جو (دلوں میں) یاد (الٰہی) ڈالنے والے ہیں۔ عذر کے لیے یا ڈرانے کے لیے۔“
Ayah 37:4اِنَّ اِلٰهَكُمْ لَوَاحِدٌ : یعنی اللہ کے حکم سے کائنات کا نظام چلانے والے فرشتے، جو اس کے سامنے صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں اور جن کی ڈانٹ سے زمین و آسمان کے معاملات کی تدبیر ہوتی ہے اور جو پیغمبروں پر وحی نازل کرتے ہیں اور ذکر الٰہی کی تلاوت کرتے ہیں، یہ سب فرشتے شاہد اور دلیل ہیں کہ کائنات کا معبود حقیقی ایک ہے۔ کیونکہ اگر وہ ایک نہ ہو تو یہ کائنات ایک لمحے کے لیے قائم نہیں رہ سکتی، بلکہ ایک دوسرے سے ٹکڑا کر فنا ہوجائے گی، جیسا کہ فرمایا : (لَوْ كَانَ فِيْهِمَآ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا) [ الأنبیاء : 22 ] ”اگر ان دونوں (زمین و آسمان) میں اللہ کے سوا کوئی اور معبود ہوتے تو وہ دونوں ضرور بگڑ جاتے۔“ شاہ عبدالقادر ؓ نے ان تینوں آیات کی ایک اور بہت عمدہ تفسیر فرمائی ہے، وہ لکھتے ہیں : ”فرشتے کھڑے ہوتے ہیں قطار ہو کر سننے کو حکم اللہ کا، پھر جھڑکتے ہیں شیطانوں کو جو سننے کو جا لگتے ہیں، پھر جب اتر چکا، تو اس کو پڑھتے ہیں ایک دوسرے کو سنانے کو۔“ (موضح) اگلی آیات میں اس دعوے کی مزید دلیلیں بیان فرمائی ہیں۔
Ayah 37:5رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا : مراد اس سے پوری کائنات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بار بار اپنے اکیلے رب ہونے کو اکیلا معبود ہونے کی دلیل کے طور پر پیش فرمایا ہے کہ جب ہر چیز کا مالک اور رب میں ہوں اور تم بھی مانتے ہو کہ ہر چیز پیدا میں نے کی اور اس کی پرورش بھی میں ہی کرتا ہوں، تو عبادت کسی اور کی کیوں ہو ؟ داتا اور دستگیر کوئی اور کس طرح بن گیا ؟ مصیبت کے وقت کسی اور کو پکارا کیوں جائے ؟
وَرَبُّ الْمَشَارِقِ : ”الْمَشَارِقِ“ ”مَشْرِقٌ“ کی جمع ہے، طلوع ہونے کی جگہ۔ سورج ہمیشہ مشرقی سمت کے درمیان سے طلوع نہیں ہوتا، بلکہ گرمیوں میں اس کا مشرق شمال کی طرف سرکتا جاتا ہے اور سردیوں میں جنوب کی طرف اور ہر روز سورج کے طلوع ہونے کی جگہ الگ ہوتی ہے، اس لحاظ سے سال بھر میں سورج کے 365 مشرق ہوتے ہیں۔ پھر اس کائنات میں صرف سورج ہی گردش نہیں کرتا، چاند اور بیشمار سیارے طلوع و غروب ہوتے ہیں۔ ہر ایک کے طلوع ہونے کے اپنے اپنے مقامات ہیں، جن میں سورج کے مشرقوں کی طرح تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ اس لحاظ سے مشرقوں کی تعداد ہمارے حساب سے باہر ہے۔ یہاں صرف مشارق کے ذکر پر اکتفا فرمایا، کیونکہ ظاہر ہے کہ جو مشرقوں کا رب ہے مغربوں کا رب بھی وہی ہے۔ سورة معارج (70) میں مشارق و مغارب دونوں کے رب کی قسم کھائی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے رب المشارق ہونے کا مطلب یہ ہے کہ سورج اور ان تمام سیاروں کی نقل و حرکت کا مالک وہی ہے، کسی اور کا اس میں کچھ دخل نہیں۔ ”رَبُّ الْمَشَارِقِ“ میں ایک اور نکتہ بھی ہے کہ سورج اپنی روزانہ کی گردش میں اس زمین کے مختلف حصوں پر ایک دوسرے کے بعد پے در پے طلوع ہوتا ہے۔ جہاں زمین کا کوئی حصہ سورج کے سامنے آتا ہے وہی اس کا مشرق ہے۔ اس لحاظ سے بھی نہ مشرقوں کا شمار ہے نہ مغربوں کا۔ (الوسیط)
Ayah 37:6اِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِزِيْنَةِۨ الْكَـوَاكِبِ :”الدُّنْيَا“ ”اَلْأَدْنٰی“ کی مؤنث ہے، سب سے قریب، یعنی جو آسمان ہماری زمین سے دکھائی دیتا ہے۔ ”زِیْنَۃٌ“ پر تنوین تنکیر کی ہے، اس لیے ترجمہ ”ایک انوکھی زینت“ کیا ہے۔ ”الْكَـوَاكِبِ“ ”زِیْنَۃٌ“ سے بدل ہے، ترجمے میں اسے ملحوظ رکھا گیا ہے۔ معلوم ہوا کہ ستاروں کی پیدائش کی بیشمار حکمتوں میں سے ایک آسمان دنیا کی آرائش و زیبائش ہے۔ اگر ستارے نہ ہوں تو نہ آسمان کا یہ حسن ہو نہ زمین پر روشنی ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے انھیں چراغ بھی فرمایا ہے : (وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَجَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّـيٰطِيْنِ وَاَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَاب السَّعِيْرِ) [ الملک : 5 ] ”اور بلاشبہ یقیناً ہم نے قریب کے آسمان کو چراغوں کے ساتھ زینت بخشی اور ہم نے انھیں شیطانوں کو مارنے کے آلے بنایا اور ہم نے ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔“
Ayah 37:7وَحِفْظًا مِّنْ كُلِّ شَيْطٰنٍ مَّارِدٍ : ”مَّارِدٍ“ ”شَدِیْدُ الشَّرِّ“ یعنی زینت کے علاوہ آسمان دنیا کو ہر سرکش شیطان سے محفوظ کرنے کے لیے بنایا ہے۔
Ayah 37:8لَا يَسَّمَّعُوْنَ اِلَى الْمَلَاِ الْاَعْلٰي : ”لَا يَسَّمَّعُوْنَ“ اصل میں ”لَا یَتَسَمَّعُوْنَ“ (تفعّل) ہے۔ ”اوپر کی مجلس“ سے مراد فرشتوں کی مجلس ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکام کی تنفیذ کے لیے آپس میں گفتگو کرتے ہیں کہ آئندہ فلاں کام کب اور کیسے کرنا ہے۔ یعنی ان ستاروں کے ذریعے سے سرکش شیاطین سے فرشتوں کی باتیں محفوظ رکھنے کا اتنا زبردست انتظام ہے کہ وہ ان کی مجلس کی طرف کان بھی نہیں لگا سکتے، بلکہ ان پر ہر جانب سے شہاب پھینکے جاتے ہیں۔ اگر ”ۙاِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَــطْفَةَ“ کا استثنا نہ ہوتا تو یہ آیت دلیل تھی کہ وہ کچھ بھی نہیں سن سکتے، مگر اللہ تعالیٰ نے خود ہی ”ۙاِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَــطْفَةَ“ (مگر جو کوئی اچانک اچک کرلے جائے) کے ساتھ استثنا فرما دیا، جو آگے آرہا ہے۔
Ayah 37:9دُحُوْرًا وَّلَهُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌ:”دَحَرَ یَدْحَرُ دَحْرًا وَ دُحُوْرًا“ (ف) بھگانا، دفع کرنا۔ ”وَّاصِبٌ“ ”وَصَبَ یَصِبُ وُصُوْبًا“ (ض) دائمی ہونا۔ یعنی ان کے لیے دائمی عذاب ہے، کیونکہ دنیا میں بھگانے کے لیے ان پر شہاب پھینکے جاتے ہیں اور آخرت میں جہنم کا عذاب اس کے علاوہ ہے۔
Ayah 37:10اِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَــطْفَةَ : یعنی شیاطین ملأ اعلیٰ کی کسی بات پر کان نہیں لگا سکتے، سوائے اس بات کے جسے کوئی شیطان دفعتاً اچک کرلے جائے، تو ایسی صورت میں ایک چمکتا ہوا شعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے۔ چناچہ کبھی تو وہ شعلہ نیچے کے شیطان کو وہ بات پہنچانے سے پہلے ہی لگ کر اسے ہلاک کر ڈالتا ہے اور کبھی پہنچانے کے بعد، پھر وہ بات کئی شیاطین سے منتقل ہوتی ہوئی کسی کاہن تک پہنچ جاتی ہے، جو اس میں سو جھوٹ ملا کر لوگوں کے درمیان پھیلا دیتا ہے۔ استاذ محمد عبدہٗ ؒ لکھتے ہیں : ”یہ بحث حکماء اور علماء کے مابین مختلف فیہ چلی آئی ہے کہ آیا یہی تارے شہاب ثاقب کا بھی کام دیتے ہیں یا وہ شہاب ان کے علاوہ ہیں، یا ان تاروں کی گرمی سے آگ پیدا ہو کر ہی انگارا بن جاتا ہے۔“ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں : ”انھی تاروں کی روشنی سے آگ نکلتی ہے جس سے شیطانوں کو مار پڑتی ہے، جیسے سورج سے اور آتشی شیشے سے۔“ (موضح) ان آیات کی مفصل تفسیر کے لیے دیکھیے سورة حجر (16 تا 18) ، شعراء (210 تا 212 اور 222، 223) اور سورة جن (8، 9)۔
Ayah 37:11فَاسْتَفْتِهِمْ اَهُمْ اَشَدُّ خَلْقًا : کفار آخرت کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھے، ان کا کہنا تھا کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا ممکن ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ان کے جواب میں دو دلیلیں ذکر فرمائی ہیں، پہلی یہ کہ اس سے پہلے ہم جو کچھ پیدا کرچکے ہیں، جن کا اس سورت میں ذکر ہے، یعنی آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی مخلوق، صافات، زاجرات، تالیات، فرشتے، شیاطین اور ستارے وغیرہ، انھیں پیدا کرنا مشکل ہے یا ان لوگوں کو دوبارہ پیدا کرنا ؟ ظاہر ہے اتنی عظیم مخلوقات کے مقابلے میں انسان بےچارے کی حیثیت ہی کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے دوبارہ زندہ نہ کرسکے، جیسا کہ فرمایا : (لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ) [ المؤمن : 57 ] ”یقیناً آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے سے زیادہ بڑا (کام) ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔“ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورة یٰس (81)۔
دوسری دلیل یہ ہے کہ ہم نے انھیں ایک چپکتے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے (جو مٹی اور پانی کے ملنے سے بنتا ہے) اور یہ مر کر پھر مٹی ہوجائیں گے۔ تو جب پہلی دفعہ ہم نے انھیں مٹی سے پیدا کرلیا تو اسی مٹی سے ہم انھیں دوبارہ کیوں پیدا نہیں کرسکتے، جب کہ اس سے پہلے ہم ایک مرتبہ انھیں پیدا کر بھی چکے ہیں ! ؟ (دیکھیے حج : 5) اور ہر عقل مند جانتا ہے کہ دوسری مرتبہ بنانا پہلی مرتبہ سے آسان ہوتا ہے، یہی حقیقت اللہ تعالیٰ نے سورة روم میں بیان کرتے ہوئے فرمایا : (وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ) [ الروم : 27 ] ”اور وہی ہے جو خلق کو پہلی بار پیدا کرتا ہے، پھر اسے دوبارہ پیدا کرے گا اور وہ اسے زیادہ آسان ہے۔“
Ayahs 37:12–13بَلْ عَجِبْتَ : یہاں ایک سوال ہے کہ یہاں ”بَلْ“ لانے کا کیا فائدہ ہے ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ”فَاسْتَفْتِهِمْ“ (ان سے پوچھ) کہ تمہیں دوبارہ پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا جو کچھ ہم پیدا کرچکے ؟ جواب اس کا اس کے سوا ہو ہی نہیں سکتا کہ یقیناً وہ سب کچھ انسان کے دوبارہ پیدا کرنے سے زیادہ مشکل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے شروع میں بیان فرمایا ہے۔ چناچہ اس سوال کا مقصد انھیں لاجواب کرنے کے علاوہ کچھ نہیں۔ اتنے واضح دلائل کے باوجود یہ لوگ قیامت سے انکار کیوں کرتے ہیں، یہ بات انسان کی سمجھ میں نہیں آسکتی، بلکہ اے نبی یا اے مخاطب ! اس پر تجھے تعجب ہوتا ہے اور تعجب ہونا بھی چاہیے، کیونکہ بات ہی تعجب کی ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَاِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِيْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ ڛ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ ۚ وَاُولٰۗىِٕكَ الْاَغْلٰلُ فِيْٓ اَعْنَاقِهِمْ ۚ وَاُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ) [ الرعد : 5 ] ”اور اگر تو تعجب کرے تو ان کا یہ کہنا بہت عجیب ہے کہ کیا جب ہم مٹی ہوجائیں گے تو کیا واقعی ہم یقیناً ایک نئی پیدائش میں ہوں گے۔ یہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کا انکار کیا اور یہی ہیں جن کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور یہی آگ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔“
وَيَسْخَرُوْنَ : یعنی تجھے ان پر تعجب ہوتا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ جب دلائل سے لاجواب ہوتے ہیں تو مذاق اڑاتے ہیں۔
Ayah 37:14وَاِذَا رَاَوْا اٰيَةً يَّسْتَسْخِرُوْنَ : ”سَخِرَ یَسْخَرُ“ (س) مذاق اڑانا اور ”اِسْتَسْخَرَ“ (استفعال) میں حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے معنی میں مبالغہ پیدا ہوگیا، اس لیے ترجمہ میں لفظ ”خوب“ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یعنی جب کوئی معجزہ دیکھتے ہیں، مثلاً چاند کا پھٹنا یا آپ کا راتوں رات مسجد اقصیٰ تک سیر کر کے آجانا اور اس کے متعلق ان کے ہر سوال کا درست جواب دینا وغیرہ، تو ایمان لانے کے بجائے خوب مذاق اڑاتے ہیں۔
Ayah 37:15وَقَالُوْٓا اِنْ ھٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ: یعنی ہر معجزے کو جادو قرار دے کر ایمان لانے سے انکار کردیتے ہیں۔
Ayahs 37:16–17ءَاِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا : ان آیات کی تفسیر اور ”ءَاِذَا مِتْنَا“ اور ”ءَاِنَّا“ میں دو دفعہ ہمزہ استفہام لانے کی حکمت کے لیے دیکھیے سورة نمل (67، 68)۔
Ayah 37:18قُلْ نَعَمْ : یعنی آپ ان سے کہیں ہاں، تم اور تمہارے باپ دادا مٹی اور ہڈیاں ہونے کے بعد دوبارہ اٹھائے جاؤ گے۔
وَاَنْتُمْ دَاخِرُوْنَ : ”دَخَرَ یَدْخَرُ دُخُوْرًا“ (ف) ذلیل اور حقیر ہونا۔ یعنی تم اس حال میں اٹھائے جاؤ گے کہ اللہ عزوجل کی قدرت کے سامنے بےبس اور حقیر ہو گے۔ تمہارا اٹھنا اختیاری نہیں بلکہ اضطراری ہوگا، یعنی جس طرح تمہاری پیدائش اور موت میں تمہاری اپنی مرضی کا کوئی عمل دخل نہ تھا، اسی طرح تم دوبارہ جی اٹھنے پر بھی مجبور اور بےبس ہو گے، جیسا کہ فرمایا : (وَكُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِيْنَ) [ النمل : 87 ] ”اور وہ سب اس کے پاس ذلیل ہو کر آئیں گے۔“
Ayah 37:19فَاِنَّمَا هِىَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ : اس سے مراد دوسرا نفخہ ہے۔ یعنی انھیں دوبارہ اٹھانے کے لیے اللہ تعالیٰ کو کسی خاص اہتمام کی ضرورت نہیں ہوگی، بلکہ صور کی ایک پھونک ایسی زبردست ڈانٹ اور اٹھ جانے کا اعلان ہوگی کہ سب قبروں سے نکل کر زمین کے اوپر ہوں گے، جیسا کہ فرمایا : (فَاِنَّمَا ھِيَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ۔ فَاِذَا هُمْ بالسَّاهِرَةِ) [ النازعات : 13، 14 ] ”پس وہ تو صرف ایک ہی ڈانٹ ہوگی۔ پس یک لخت وہ زمین کے اوپر ہوں گے۔“
فَاِذَا هُمْ يَنْظُرُوْنَ : یعنی اس ایک ہی ڈانٹ سے سب مردے خواہ مٹی ہوچکے ہوں، یکایک زندہ ہو کر قیامت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں گے۔
Ayah 37:20وَقَالُوْا يٰوَيْلَنَا ھٰذَا يَوْمُ الدِّيْنِ : قیامت کے دن کفار کے پچھتانے اور اپنے آپ کو ملامت کرنے کا ذکر ہو رہا ہے کہ وہ اس وقت اپنی ہلاکت کو آواز دیں گے اور کہیں گے، ہائے ہماری بربادی ! یہی جزا کا دن ہے، حالانکہ اس وقت ندامت کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
Ayah 37:21ھٰذَا يَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِيْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ : اس وقت فرشتے اور مومن انھیں کہیں گے، یا وہ خود ایک دوسرے کو ملامت کے لیے کہیں گے، ہاں ! یہی وہ فیصلے کا دن ہے جسے تم نہیں مانتے تھے۔
Ayah 37:22اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ : یہاں ”الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا“ سے مراد کفار و مشرکین ہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ انھیں اور ان کے ”من دون اللہ“ معبودوں کو جہنم کی طرف لے جانے کا حکم ہوگا اور ظاہر ہے موحد مسلمان اللہ کے سوا کسی معبود کی پرستش نہیں کرتے۔ نیز دیکھیے سورة انعام (82) اور لقمان (13) ”وَاَزْوَاجَهُمْ“ طبری میں علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے مروی ہے : ”أَزْوَاجٌ“ (جوڑوں) سے مراد ان جیسے دوسرے لوگ ہیں۔“ بیویاں بھی مراد ہوسکتی ہیں، جو کفرو شرک میں ان کی ہم نوا تھیں۔ یعنی قیامت قائم ہونے کے ساتھ فرشتوں کو حکم ہوگا کہ کفار و مشرکین کو مومنوں سے الگ کرو اور ان میں سے ہر ہر قسم کو الگ الگ اکٹھا کرو، مثلاً زانیوں کو زانیوں کے ساتھ، سود خوروں کو سود خوروں کے ساتھ، چوروں کو چوروں کے ساتھ، اسی طرح مشرک خاوندوں کو ان کی مشرک بیویوں کے ساتھ اکٹھا کرنے کا حکم ہوگا، جیسا کہ ایمان والے اپنی بیویوں کے ساتھ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (جَنّٰتُ عَدْنٍ يَّدْخُلُوْنَهَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَاۗىِٕهِمْ وَاَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيّٰــتِهِمْ) [ الرعد : 23 ] ”ہمیشگی کے باغات، جن میں وہ داخل ہوں گے اور ان کے باپ دادوں اور ان کی بیویوں اور ان کی اولادوں میں سے جو نیک ہوئے۔“ ان کے ساتھ ان کے بتوں اور دوسرے باطل معبودوں کو بھی اکٹھا کر کے جہنم کے راستے کی طرف لے جانے کا حکم ہوگا، جن کی وہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر عبادت کرتے رہے تھے۔ جن میں شیاطین اور وہ جنّ اور انسان بھی شامل ہوں گے جو اپنی عبادت کروانے پر خوش تھے۔ مقصد انھیں ذلیل کرنا ہوگا کہ اب اپنے خداؤں سے کہو کہ تمہاری مدد کریں۔ البتہ فرشتے، انبیاء اور صلحاء، جنھیں وہ پوجتے رہے تھے، وہ اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔ دیکھیے سورة انبیاء (98 تا 103)۔
Ayah 37:23فَاهْدُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطِ الْجَحِيْمِ : ہدایت کا لفظ یہاں ان کا مذاق اڑانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔
Ayah 37:24وَقِفُوْهُمْ اِنَّهُمْ مَّسْـُٔـوْلُوْنَ : جہنم کے صراط کی طرف لے جاتے ہوئے حکم ہوگا کہ انھیں ٹھہراؤ، کیونکہ ان سے ان کے اعمال کے متعلق سوال ہوگا، اس وقت دنیا میں ان کے کفرو شرک اور دوسرے برے اعمال میں شریک دوست اور ان کے جھوٹے معبود بھی ان کے ساتھ ہوں گے، جیسا کہ فرمایا : (وَيَوْمَ يُحْشَرُ اَعْدَاۗءُ اللّٰهِ اِلَى النَّارِ فَهُمْ يُوْزَعُوْنَ) [ حٰم السجدۃ : 19 ] ”اور جس دن اللہ کے دشمن آگ کی طرف اکٹھے کیے جائیں گے، پھر ان کی الگ الگ قسمیں بنائی جائیں گی۔“ ”يُوْزَعُوْنَ“ کا ایک معنی یہ ہے کہ ان کی الگ الگ قسمیں بنائی جائیں گی اور ایک معنی یہ ہے کہ انھیں روکا جائے گا۔
Ayah 37:25مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُوْنَ :”تَنَاصَرُوْنَ“ (تفاعل) اصل میں ”تَتَنَاصَرُوْنَ“ ہے، ایک تاء تخفیف کے لیے حذف کردی ہے۔ باب تفاعل میں تشارک ہوتا ہے، ”تَنَاصَرَ“ ایک دوسرے کی مدد کرنا۔ اعمال کے محاسبے کے ساتھ ساتھ انھیں ذلیل کرنے کے لیے اور ان کے خداؤں کی بےبسی ظاہر کرنے کے لیے ایک سوال یہ ہوگا کہ تم تو کہا کرتے تھے : (اَمْ يَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِيْعٌ مُّنْتَــصِرٌ) [ القمر : 44 ] ”ہم ایک جماعت ہیں جو بدلا لے کر رہنے والے ہیں۔“ یا جیسا کہ تمہارا دعویٰ تھا کہ قیامت کے دن ہمارے معبود ہمیں بچا لیں گے، اب تمہیں کیا ہوا کہ تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کر رہے ؟
Ayah 37:26بَلْ هُمُ الْيَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ : ”أَسْلَمَ یُسْلِمُ“ (افعال) تابع فرمان ہوجانا، ”اِسْتَسْلَمَ“ میں مبالغہ ہے، اس لیے ترجمہ ”بالکل فرماں بردار“ کیا گیا ہے۔ یعنی آج وہ کوئی جواب نہیں دے رہے، بلکہ ان کی تمام اکڑفوں جاتی رہی اور وہ پوری طرح عاجز اور فرماں بردار ہو کر کھڑے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (وَاَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ يَوْمَىِٕذِۨ السَّلَمَ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ) [ النحل : 87 ] ”اور اس دن وہ اللہ کے سامنے فرماں بردار ہونا پیش کریں گے اور ان سے گم ہوجائے گا جو وہ جھوٹ باندھا کرتے تھے۔“
Ayah 37:27وَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰي بَعْضٍ يَّتَسَاۗءَلُوْنَ : یعنی گمراہ لوگ اور انھیں گمراہ کرنے والے، کمزور اور قوت والے ایک دوسرے سے مخاطب ہو کر یہ گفتگو کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل جہنم کی باہمی گفتگو، ان کا ایک دوسرے کو ملامت کرنا اور گمراہ کرنے والوں کا اپنی پیروی کرنے والوں سے بری ہونے کے اعلان کا ذکر کئی مقامات پر فرمایا ہے۔ دیکھیے سورة بقرہ (166، 167) ، ابراہیم (21، 22) ، اعراف (38، 39) ، سبا (31 تا 33) اور مومن (47، 48)۔
Ayah 37:28قَالُوْٓا : یعنی کمزور اور پیروی کرنے والے اپنے سرداروں اور گمراہ کرنے والوں سے کہیں گے۔
اِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا عَنِ الْيَمِيْنِ : ”الْيَمِيْنِ“ کا معنی قسم بھی ہے، دایاں ہاتھ بھی اور دائیں جانب بھی۔ اگر اس کا معنی قسم لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ تم ہی قسم کی راہ سے ہمارے پاس آتے تھے، یعنی قسمیں کھا کھا کر اپنے آپ کو ہمارا خیرخواہ ظاہر کرتے تھے اور اگر اس کا معنی دایاں ہاتھ لیا جائے تو اس سے مراد قوت ہوگی، کیونکہ اہل عرب یمین بول کر قوت مراد لیتے ہیں۔ مطلب یہ ہوگا کہ تم زور اور قوت دکھلا کر ہمیں مرعوب کرتے تھے اور بہکانے کے لیے ہم پر چڑھ دوڑا کرتے تھے اور اگر دائیں جانب معنی ہو تو مراد خیر اور نیکی کی جانب ہوگی اور مطلب یہ ہوگا کہ تم آکر ہمیں خیرخواہی، نیکی اور دین حق کی راہ سے بہکاتے تھے اور کہتے تھے کہ جس چیز کا ہم تمہیں حکم دے رہے ہیں نیکی اور حق وہی ہے۔ آیت کے الفاظ میں بیک وقت تینوں معنوں کی گنجائش ہے اور یہ کلام اللہ کا اعجاز ہے، کیونکہ ان کے سردار گمراہ کرنے کے یہ تینوں طریقے استعمال کرتے تھے۔ کمزور لوگوں کا مقصد اپنی گمراہی کی پوری ذمہ داری سرداروں پر ڈالنا ہوگا، تاکہ عذاب سے کسی طرح بچ سکیں۔
Ayah 37:29قَالُوْا بَلْ لَّمْ تَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ : ان کے سردار انھیں پانچ جواب دیں گے، پہلا یہ کہ دنیا میں ہم تمہارے کفر کا سبب نہیں تھے، بلکہ تم نے خود اپنی مرضی سے ایمان قبول کرنے سے انکار کیا اور اس پر کفر کو ترجیح دی۔ کفر کا منبع تمہاری ذات تھی، ایمان کسی وقت بھی تمہارے دلوں میں نہیں تھا کہ ہم نے تمہیں اس سے مرتد کیا ہو۔
Ayah 37:30وَمَا كَانَ لَنَا عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ : یہ دوسرا جواب ہے کہ ہمارا تم پر کوئی ایسا غلبہ نہ تھا جو تمہیں کفر پر قائم رہنے پر مجبور کرتا۔ تم اپنی رضا سے کفر پر مطمئن اور خوش تھے۔
بَلْ كُنْتُمْ قَوْمًا طٰغِيْنَ : یہ تیسرا جواب ہے کہ بلکہ خود تمہارے خمیر میں حد سے تجاوز اور سرکشی بھری ہوئی تھی، اس لیے تم حق کو چھوڑ کر ہمارے پیچھے لگ گئے اور انبیاء کی مخالفت کرتے رہے۔
Ayah 37:31فَحَــقَّ عَلَيْنَا قَوْلُ رَبِّنَآ ڰ اِنَّا لَذَاۗىِٕقُوْنَ : یہ پہلے تینوں جوابوں کے نتیجے میں چوتھا جواب ہے، یعنی ہم نے کفر پر قائم رکھنے کے لیے تم پر کوئی زبردستی نہیں کی، بلکہ اصل میں نہ تم ایمان والے تھے نہ ہم، جیسے ہم مجرم تھے ویسے ہی تم مجرم تھے، لہٰذا یہی انجام ہوا کہ دونوں عذاب کے مستحق ٹھہرے اور کفر و شرک کی جزا کے طور پر ہمارے رب نے جس عذاب کا وعدہ کیا تھا کہ : (لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ) [ السجدۃ : 13 ] (یقیناً میں جہنم کو جنوں اور انسانوں، سب سے ضرور بھروں گا) وہ وعدہ ہم پر پورا ہوگیا۔
Ayah 37:32فَاَغْوَيْنٰكُمْ اِنَّا كُنَّا غٰوِيْنَ : یہ پانچواں جواب ہے کہ ہمارا تم پر کوئی زور نہ تھا، مگر ہم خود گمراہ تھے اور ظاہر ہے ایک گمراہ سے گمراہی کی طرف بلانے ہی کی توقع ہوسکتی ہے، کیونکہ جو گمراہ ہوتا ہے وہ لازماً یہ چاہتا ہے کہ دوسرے بھی اس جیسے ہوجائیں، تاکہ کوئی کسی کو ملامت کرنے والا نہ رہے۔ لہٰذا ہم نے تمہیں گمراہی کی دعوت ہی دینا تھی اور دی، یہ تمہارا کام تھا کہ عقل سے کام لیتے اور ہماری بات نہ مانتے۔ اب مرضی سے کفر اختیار کرنے کے بعد ہمیں اس کا ذمہ دار نہ ٹھہراؤ۔
Ayah 37:33فَاِنَّهُمْ يَوْمَىِٕذٍ فِي الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ : یعنی پیروی کرنے والے بھی اور پیشوا بھی، گمراہ ہونے والے بھی اور گمراہ کرنے والے بھی، سب اپنی اپنی گمراہی کے مطابق عذاب میں شریک ہوں گے، جیسے گمراہی میں شریک تھے۔ کسی کا کوئی عذر قبول کر کے اسے معافی نہیں دی جائے گی۔
Ayah 37:34اِنَّا كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بالْمُجْرِمِيْنَ : مجرمین سے مراد کفار و مشرکین ہیں، کیونکہ آگے آ رہا ہے کہ وہ ”لا الٰہ الا اللہ“ کہنے سے تکبر کرتے تھے۔ یعنی ان کے ساتھ ہم یہی سلوک کرتے ہیں کہ جس طرح وہ جرم میں باہم شریک تھے، عذاب میں بھی باہم شریک ہیں۔
Ayah 37:35اِنَّهُمْ كَانُوْٓا اِذَا قِيْلَ لَهُمْ : یہاں ”لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ“ سے پہلے ”قُوْلُوْا“ (کہو) محذوف ہے۔ ”إِنَّ“ تعلیل یعنی عذاب کی وجہ بیان کرنے کے لیے ہے۔ یعنی ان کے عذاب کی وجہ یہ ہے کہ جب انھیں کہا جاتا ہے کہ ”لا الٰہ الا اللہ“ کہو اور توحید کا اقرار کرو تو اس سے تکبر کرتے تھے، یعنی اس سب سے بڑی حقیقت کو بھی ماننے سے انکار کردیتے تھے اور اصل تکبر یہی ہے کہ حق بات کا انکار کردیا جائے۔ عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : (لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِيْ قَلْبِہِ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِنْ کِبْرٍ ، قَالَ رَجُلٌ إِنَّ الرَّجُلَ یُحِبُّ أَنْ یَکُوْنَ ثَوْبُہُ حَسَنًا وَنَعْلُہُ حَسَنَۃً ، قَالَ إِنَّ اللّٰہَ جَمِیْلٌ یُحِبُّ الْجَمَالَ ، الْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ) [ مسلم، الإیمان، باب تحریم الکبر و بیانہ : 91 ] ”وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہوگا۔“ ایک آدمی نے پوچھا : ”آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کا کپڑا اچھا ہو اور اس کا جوتا اچھا ہو۔ (کیا یہ بھی تکبر ہے) ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”بیشک اللہ جمیل ہے، جمال کو پسند کرتا ہے، تکبر تو حق سے اکڑ جانے اور لوگوں کو حقیر جاننے کا نام ہے۔“
Ayah 37:36وَيَقُوْلُوْنَ اَىِٕنَّا لَتَارِكُوْٓا اٰلِـهَتِنَا : یعنی وہ کلمہ توحید کی دعوت کے جواب میں کہتے تھے کہ کیا ہم اپنے معبودوں کو، جن کی عبادت ہم اور ہمارے آباء کرتے چلے آئے ہیں، ایک دیوانے شاعر کے کہنے پر چھوڑ دیں ؟ اس سے ان کی مراد نبی کریم ﷺ تھے۔ ان ظالموں نے حق سے انکار ہی کو کافی نہیں سمجھا، بلکہ سارے جہان سے زیادہ علم و عقل والے شخص کو دیوانہ اور شاعر قرار دیا۔ حالانکہ وہ خوب جانتے تھے کہ آپ کا شعر اور شعراء سے کوئی تعلق تھا اور نہ ہی آپ دیوانے تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت میں ان کا جواب دیا۔
Ayah 37:37بَلْ جَاۗءَ بالْحَــقِّ : یعنی آپ ﷺ کا آنا حق ہے اور آپ جو کتاب اور شریعت لے کر آئے ہیں وہ بھی حق ہے۔
وَصَدَّقَ الْمُرْسَلِيْنَ : اور آپ نے تمام رسولوں کی تصدیق کی ہے۔ تصدیق کا معنی سچا قرار دینا ہے، یہاں اس سے کئی معانی مراد ہیں، ایک یہ کہ آپ ﷺ کے آنے کے ساتھ پہلے رسولوں کا سچا ہونا ثابت ہوگیا، کیونکہ انھوں نے آپ کی آمد کی پیش گوئی کی تھی، اگر آپ تشریف نہ لاتے تو ان کا سچا ہونا ثابت نہ ہوتا۔ دوسرا یہ کہ آپ ﷺ نے پہلے رسولوں کی تصدیق کی، ان پر ایمان لائے اور انھیں اور ان کی لائی ہوئی شریعت کو سچا قرار دیا۔
Ayah 37:38اِنَّكُمْ لَذَاۗىِٕقُوا الْعَذَابِ الْاَلِــيْمِ : اس سے پہلے انھوں نے آپس میں جو کہا تھا ”اِنَّا لَذَاۗىِٕقُوْنَ“ (ہم عذاب چکھنے والے ہیں) صحیح بھی ہوسکتا تھا، غلط بھی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے یقینی بات کا اعلان فرمایا کہ تم یقیناً دردناک عذاب چکھنے والے ہو۔
Ayah 37:39وَمَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ : یعنی ہم نے تم پر کوئی ظلم نہیں کیا، بلکہ تمہیں اسی کفرو شرک اور رسولوں کو جھٹلانے کی جزا مل رہی ہے جس کا ارتکاب تم کرتے رہے۔
Ayah 37:40اِلَّا عِبَاد اللّٰهِ الْمُخْلَصِيْنَ : مگر اللہ کے وہ بندے جنھیں اس نے اپنے لیے خالص کرلیا، جن کے متعلق ابلیس نے بھی اقرار کیا کہ وہ انھیں گمراہ نہیں کرسکے گا (دیکھیے سورة ص : 83) وہ عذاب الیم نہیں چکھیں گے، نہ ان کے حساب میں شدت ہوگی، بلکہ اللہ تعالیٰ ان کی نیکیوں کو دس گنا سے سات سو گنا، بلکہ بےحساب گنا تک بڑھائے گا اور برائیوں سے، اگر کوئی ہوئیں، درگزر فرمائے گا۔