37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 37:81

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:81 in the Quran reader

یقینا وہ ہمارے مومن بندوں سے تھا۔

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِيْنَ : کیونکہ وہ ہمارے مومن بندوں سے تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان بندوں کے مراتب میں سب سے بلند مرتبہ ہے، کیونکہ اس میں دین کے تمام عقائد و اعمال آجاتے ہیں، پھر جیسے جیسے ایمان کامل ہوگا ویسے ہی جزا کامل ہوگی۔ اور ظاہر ہے نوح ؑ اور دوسرے انبیاء کے ایمان کے کمال تک عام لوگوں کا ایمان نہیں پہنچ سکتا اور ہمارے نبی ﷺ کو تو اللہ تعالیٰ نے سید ولد آدم بنایا، ان کے ایمان کا درجہ تو سب سے عالی ہے۔
Ayah 37:82

ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَ Open ayah 37:82 in the Quran reader

پھر ہم نے دوسروں کو غرق کردیا۔

ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِيْنَ : پھر نوح ؑ کو ملنے والی جزا میں سے ایک بہت بڑی جزا یہ ہے کہ ہم نے انھیں اور ان کے اہل کو نجات دی اور دوسرے تمام لوگوں کو غرق کردیا جو ان پر ایمان نہیں لائے اور انھیں عمر بھر ستاتے رہے، کیونکہ دشمنوں سے انتقام کے ساتھ دل اور آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔
Ayah 37:83

وَ اِنَّ مِنْ شِیْعَتِهٖ لَاِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 37:83 in the Quran reader

اور بیشک اس کے گروہ میں سے یقینا ابراہیم (بھی) ہے۔

وَاِنَّ مِنْ شِيْعَتِهٖ لَاِبْرٰهِيْمَ : ”شِیْعَۃٌ“ ”شَاعَ یَشِیْعُ شِیَاعًا“ (ض) سے مشتق ہے، جس کا معنی ساتھ دینا ہے، ایسی جماعت جو کسی کا ساتھ دے۔ یعنی نوح ؑ کا ساتھ دینے والے گروہ میں سے ابراہیم ؑ بھی ہیں، کیونکہ وہ بھی توحید، آخرت اور دین کی تمام بنیادی چیزوں کے متعلق وہی عقائد و اعمال رکھتے تھے جو نوح ؑ کے تھے، بلکہ تمام انبیاء کا اصل دین ایک ہی ہے جس کا نام اسلام ہے اور سب کی امتیں ایک امت ہیں جس کا نام امت مسلمہ ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَاِنَّ هٰذِهٖٓ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّاَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّــقُوْنِ) [ المؤمنون : 52 ] ”اور بیشک یہ تمہاری امت ہے، جو ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں، سو مجھ سے ڈرو۔“
Ayah 37:84

اِذْ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ Open ayah 37:84 in the Quran reader

جب وہ اپنے رب کے پاس بےروگ دل لے کر آیا۔

اِذْ جَاۗءَ رَبَّهٗ بِقَلْبٍ سَلِـيْمٍ : جب اس نے نوح ؑ کی طرح شرک، شک، منافقت، حسد، بغض، سرکشی اور ہر روگ سے پاک دل لے کر نہایت اخلاص اور عاجزی کے ساتھ اپنے رب کی طرف رجوع کیا۔
Ayah 37:85

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا ذَا تَعْبُدُوْنَۚ Open ayah 37:85 in the Quran reader

جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تم کس چیز کی عبادت کرتے ہو ؟

اِذْ قَالَ لِاَبِيْهِ وَقَوْمِهٖ : ابراہیم ؑ کا یہ سوال پوچھنے کے لیے نہیں بلکہ ان کی عبادت کے انکار کے لیے تھا۔
Ayah 37:86

اَئِفْكًا اٰلِهَةً دُوْنَ اللّٰهِ تُرِیْدُوْنَؕ Open ayah 37:86 in the Quran reader

کیا اللہ کو چھوڑ کر گھڑے ہوئے معبودوں کو چاہتے ہو ؟

اَىِٕفْكًا اٰلِــهَةً دُوْنَ اللّٰهِ تُرِيْدُوْنَ : ”اَىِٕفْكًا“ مصدر بمعنی اسم مفعول برائے مبالغہ ہے اور ”اٰلِــهَةً“ اس سے بدل ہے۔ ”اَىِٕفْكًا“ کو اصل معنی میں لیں تو یہ مفعول لہٗ بن جائے گا۔
Ayah 37:87

فَمَا ظَنُّكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 37:87 in the Quran reader

تو جہانوں کے رب کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے ؟

فَمَا ظَنُّكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ : یعنی رب العالمین جو پوری کائنات کا مالک ہے اور تمام جہانوں کے ایک ایک ذرے کی پرورش کر رہا ہے، اس کے متعلق تمہارا کیا گمان ہے ؟ کیا تم نے اس میں کوئی نقص یا عیب پایا کہ اپنے گھڑے ہوئے معبودوں کی عبادت کرنے لگے اور اس کی گرفت سے بالکل بےخوف ہوگئے ؟
Ayah 37:88

فَنَظَرَ نَظْرَةً فِی النُّجُوْمِۙ Open ayah 37:88 in the Quran reader

پس اس نے ستاروں میں ایک نگاہ ڈالی۔

فَنَظَرَ نَــظْرَةً فِي النُّجُوْمِ : ابراہیم ؑ نے جب دیکھا کہ محض زبانی نصیحت سے وہ بتوں کے بےبس اور بےاختیار ہونے کو ماننے کے لیے تیار نہیں بلکہ اس مقصد کے لیے عملاً انھیں توڑنا پڑے گا تو انھوں نے پہلے تو اعلان کیا کہ اللہ کی قسم ! جب تم کہیں گئے تو میں تمہارے بتوں کی کوئی تدبیر ضرور کروں گا۔ (دیکھیے انبیاء : 57) پھر مناسب موقع کا انتظار کرنے لگے، کیونکہ ان کی موجودگی میں یہ کام نہیں ہوسکتا تھا۔ اسی دوران ان کی قوم کے ایک جشن یا میلے کا دن آگیا، انھوں نے ابراہیم ؑ کو اس میں شرکت کی دعوت دی۔ ابراہیم ؑ چاہتے تھے کہ جب وہ لوگ اپنے میلے میں چلے جائیں اور ان کے بتوں کے پاس کوئی نہ رہے تو اطمینان کے ساتھ انھیں توڑ دیں، اس لیے انھوں نے پہلے تو ستاروں میں ایک نگاہ ڈالی۔ ستاروں میں نگاہ ڈالنے کا مقصد کیا تھا ؟ بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ محاورہ ہے جو غور و فکر کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، کیونکہ جب کوئی غور طلب معاملہ سامنے آتا ہے تو آدمی آسمان کی طرف دیکھتا ہے، یعنی ابراہیم ؑ نے ستاروں میں ایک نگاہ ڈالی، کچھ سوچا اور کہا کہ میں تو بیمار ہوں، اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ ابراہیم ؑ کی قوم بتوں کے علاوہ سورج، چاند اور ستاروں کی پرستش بھی کرتی تھی اور ستاروں کو حوادث زمانہ میں مؤثر سمجھتی تھی، اس لیے ابراہیم ؑ نے انھیں مغالطہ دینے کے لیے کہا کہ میں تو بیمار ہوں، یا بیمار ہونے والا ہوں، تاکہ وہ سمجھیں کہ انھوں نے یہ بات ستاروں کو دیکھ کر معلوم کی ہے۔
Ayah 37:89

فَقَالَ اِنِّیْ سَقِیْمٌ Open ayah 37:89 in the Quran reader

پھر کہا میں تو بیمار ہوں۔

فَقَالَ اِنِّىْ سَقِيْمٌ : یہ ایسی بات تھی جو درحقیقت سچی تھی، کیونکہ عموماً آدمی کی طبیعت کچھ نہ کچھ خراب ہوتی ہے، مگر قوم نے اس کا مطلب کچھ اور سمجھا (کہ وہ جانے کے قابل نہیں ہیں) جس سے ابراہیم ؑ اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ ایسی باتوں کو جن میں کہنے والے کی نیت کچھ ہو اور سننے والا کچھ اور سمجھے ”معاریض“ کہتے ہیں، جن کے ساتھ آدمی صریح جھوٹ سے بچ جاتا ہے۔ صحیح بخاری (3358) میں ابراہیم ؑ کی ”ثَلَاثَ کَذِبَاتٍ“ والی حدیث پر مفصل بحث کے لیے دیکھیے سورة انبیاء کی آیت (62، 63) کی تفسیر۔
Ayah 37:90

فَتَوَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِیْنَ Open ayah 37:90 in the Quran reader

تو وہ اس سے پیٹھ پھیر کر واپس چلے گئے۔

فَتَوَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِيْنَ : تو وہ لوگ انھیں وہیں چھوڑ کر چلے گئے۔
Ayah 37:91

فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمْ فَقَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَۚ Open ayah 37:91 in the Quran reader

تو وہ چپکے سے ان کے معبودوں کی طرف گیا اور اس نے کہا کیا تم کھاتے نہیں ؟

فَرَاغَ اِلٰٓى اٰلِـهَــتِهِمْ : ”رَاغَ یَرُوْغُ“ (ن) کا معنی خفیہ طور پر جانا، حیلہ کرتے ہوئے تیزی سے جانا، مائل ہونا۔ ابراہیم ؑ چپکے سے ان کے بتوں کی طرف گئے اور ان کا مذاق اڑاتے ہوئے ان سے کہنے لگے : ”کیا تم کھاتے نہیں ؟“ اس سے صاف ظاہر ہے کہ مندر میں بتوں کے سامنے طرح طرح کے کھانے، مٹھائیاں اور پھل وغیرہ رکھے ہوئے تھے۔ مقصد یہ کہ معمولی جانور بھی کم از کم کھاتے تو ہیں، یہ بےجان پتھر جو کھاتے بھی نہیں، انسان ان کی پوجا کیسے کرنے لگا ؟
Ayah 37:92

مَا لَكُمْ لَا تَنْطِقُوْنَ Open ayah 37:92 in the Quran reader

تمہیں کیا ہے کہ تم بولتے نہیں ؟

مَا لَكُمْ لَا تَنْطِقُوْنَ : جب بتوں کی طرف سے جواب نہ ملا تو کہنے لگے، تمہیں کیا ہے کہ تم بولتے نہیں ! ناک نقشہ اور تمام اعضا تو تمہارے انسانوں جیسے ہیں، مگر تم نہ کھا سکتے ہو، نہ بول سکتے ہو، پھر تعجب ہے کہ وہ انسان تمہیں پوجنے لگے جو کھاتے پیتے بھی ہیں اور بولتے بھی ہیں ؟
Ayah 37:93

فَرَاغَ عَلَیْهِمْ ضَرْبًۢا بِالْیَمِیْنِ Open ayah 37:93 in the Quran reader

پھر وہ دائیں ہاتھ سے مارتے ہوئے ان پر پل پڑا۔

فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًۢـا بالْيَمِيْنِ : ”یَمِیْنٌ“ کا معنی دایاں ہاتھ بھی ہے اور قوت بھی۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة انبیاء کی آیت (58) کی تفسیر۔
Ayah 37:94

فَاَقْبَلُوْۤا اِلَیْهِ یَزِفُّوْنَ Open ayah 37:94 in the Quran reader

تو وہ دوڑتے ہوئے اس کی طرف آئے۔

فَاَقْبَلُوْٓا اِلَيْهِ يَزِفُّوْنَ : ”زَفَّ یَزِفُّ زَفًّا وَ زُفُوْفًا وَ زَفِیْفًا“ (ض) تیزی سے جانا، دوڑنا۔ یعنی بتوں کا یہ حال دیکھ کر قوم کو یہ جاننے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی کہ ان کا یہ حال کس نے کیا ہے، کیونکہ ابراہیم ؑ انھیں پہلے ہی اپنے ارادے سے آگاہ کرچکے تھے، اس لیے وہ سب دوڑتے ہوئے ان کے پاس آئے اور انھیں پکڑ کر مجمع میں لے آئے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة انبیاء (59 تا 61)۔
Ayah 37:95

قَالَ اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَۙ Open ayah 37:95 in the Quran reader

اس نے کہا کیا تم اس کی عبادت کرتے ہو جسے خود تراشتے ہو ؟

قَالَ اَ تَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ : کیا تم اپنے تراشے ہوئے بتوں کی عبادت کرتے ہو ؟
Ayah 37:96

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَ مَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 37:96 in the Quran reader

حالانکہ اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا اور اسے بھی جو تم کرتے ہو۔

وَاللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ : ”مَا تَعْمَلُوْنَ“ کے دو معنی ہوسکتے ہیں، ”مَا“ موصولہ ہو تو مطلب یہ ہے کہ کیا تم اس کی عبادت کرتے ہو جسے خود تراشتے ہو، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں پیدا کیا اور ان چیزوں کو بھی جو تم بناتے ہو، یعنی تم اور تمہارے بت دونوں اللہ کی مخلوق ہیں، پھر خالق کو چھوڑ کر مخلوق کی عبادت کیوں کرتے ہو ؟ اور ”مَا“ مصدریہ ہو تو معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں پیدا کیا اور جو عمل تم کرتے ہو وہ بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ بندے کے تمام افعال کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہے، بندہ صرف کا سب اور عامل ہے، اس کے عمل کا خالق وہ خود نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہے اور یہی اہل سنت کا عقیدہ ہے۔ امام بخاری ؓ نے اس مسئلے پر کتاب ”خَلْقُ أَفْعَالِ الْعِبَادِ“ لکھی ہے۔
Ayah 37:97

قَالُوا ابْنُوْا لَهٗ بُنْیَانًا فَاَلْقُوْهُ فِی الْجَحِیْمِ Open ayah 37:97 in the Quran reader

انھوں نے کہا اس کے لیے ایک عمارت بناؤ، پھر اسے بھڑکتی آگ میں پھینک دو۔

قَالُوا ابْنُوْا لَهٗ بُنْيَانًا : ”بُنْيَانًا“ کی تنوین تعظیم کی ہے۔ ”الْجَــحِيْمِ“ خوب بھڑکائی ہوئی آگ، یہ ”حَجَمَ فُلَانٌ النَّارَ“ (ف) (فلاں نے آگ خوب بھڑکائی) سے مشتق ہے۔ دلیل میں لاجواب ہونے پر انھوں نے فیصلہ کیا کہ ابراہیم ؑ کے لیے ایک بڑی عمارت بناؤ، اسے ایندھن سے بھر کر آگ لگاؤ اور جب وہ خوب بھڑک اٹھے تو ابراہیم ؑ کو اس میں پھینک دو۔ اس چار دیواری یا عمارت کا بلند اور بڑا ہونا تو ”بُنْيَانًا“ کے لفظ اور اس کی تنوین سے ظاہر ہو رہا ہے، مگر اس کی پیمائش کسی معتبر ذریعے سے ہم تک نہیں پہنچی۔
Ayah 37:98

فَاَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَسْفَلِیْنَ Open ayah 37:98 in the Quran reader

غرض انھوں نے اس کے ساتھ ایک چال چلنے کا ارادہ کیا تو ہم نے انھی کو سب سے نیچا کردیا۔

فَاَرَادُوْا بِهٖ كَيْدًا : اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة انبیاء (70)۔
Ayah 37:99

وَ قَالَ اِنِّیْ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 37:99 in the Quran reader

اور اس نے کہا بیشک میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں، وہ مجھے ضرور راستہ دکھائے گا۔

وَقَالَ اِنِّىْ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيْ : قرطبی نے فرمایا : ”یہ آیت ہجرت اور کفار سے علیحدگی اختیار کرنے میں اصل ہے۔“ آگ سے سلامتی کے ساتھ نکلنے کے عظیم معجزے کے بعد بھی جب لوط ؑ کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا تو ابراہیم ؑ نے وہاں سے ہجرت کا فیصلہ فرمایا اور کہنے لگے، میں اپنی قوم اور اپنے وطن سے، جہاں کفر کا تسلط ہے، اپنے رب کی طرف جاتا ہوں، جہاں آزادی سے اپنے رب کی عبادت کرسکوں اور اس کے دین کی دعوت دے سکوں۔ ان کے ساتھ ان کی بیوی سارہ اور بھتیجے لوط ؑ تھے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ آدمی جب کسی جگہ اپنے دین پر پوری طرح عمل نہ کرسکے تو اسے وہاں سے ہجرت کرنی چاہیے۔ سَيَهْدِيْنِ : یہ اصل میں ”سَیَھْدِیْنِيْ“ ہے، یہاں ”سین“ تاکید کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”وہ مجھے ضرور راستہ دکھائے گا“ کیا گیا ہے۔ ابراہیم ؑ جب اپنے وطن سے نکلے تو انھیں معلوم نہ تھا کہ کہاں جانا ہے، مگر انھیں اپنے رب پر بھروسے کی وجہ سے یقین تھا کہ وہ ضرور ان کی راہ نمائی فرمائے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اِحْفَظِ اللّٰہَ یَحْفَظْکَ) [ ترمذي، صفۃ القیامۃ والرقائق، باب : 2516 ] ”تو اللہ تعالیٰ کا دھیان رکھ وہ تیرا دھیان رکھے گا۔“ اور یہ بات یقینی ہے کہ جو شخص اللہ کی خاطر کوئی چیز چھوڑتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر چیز عطا فرماتا ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی راہ نمائی مبارک سرزمین شام کی طرف فرمائی۔
Ayah 37:100

رَبِّ هَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 37:100 in the Quran reader

اے میرے رب ! مجھے (لڑکا) عطا کر جو نیکوں سے ہو۔

رَبِّ هَبْ لِيْ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ : اس سے ظاہر ہے کہ اس وقت ابراہیم ؑ کی اولاد نہیں تھی۔ چناچہ جب وہ اپنی قوم سے مایوس ہوئے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ پروردگار ! مجھے اپنی قوم اور خاندان کے عوض صالح اولاد عطا فرما، جو غریب الوطنی میں میری مونس و غم خوار اور مددگار ہو۔ واضح رہے، صالح ہونا بندے کے مقامات میں سے بہت اونچا مقام ہے، جس کی ابراہیم ؑ نے اپنے لیے دعا کی : (رَبِّ هَبْ لِيْ حُكْمًا وَّاَلْـحِقْنِيْ بالصّٰلِحِيْنَ) [ الشعراء : 83 ] ”اے میرے رب ! مجھے حکم عطا کر اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملا۔“ اور اس جگہ ابراہیم ؑ نے اپنے بیٹے کے لیے دعا کی : (رَبِّ هَبْ لِيْ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ) یوسف ؑ نے اپنے لیے دعا کی : (تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِيْ بالصّٰلِحِيْنَ) [ یوسف : 101 ] ”مجھے مسلم ہونے کی حالت میں فوت کر اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملا دے۔“ اور سلیمان ؑ نے دعا کی : (وَاَدْخِلْنِيْ بِرَحْمَتِكَ فِيْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِيْنَ) [ النمل : 19 ] ”اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے نیک بندوں میں داخل فرما۔“ کیونکہ مکمل صالح وہ ہے جس کا ہر کام درست ہو۔
Ayah 37:101

فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ Open ayah 37:101 in the Quran reader

تو ہم نے اسے ایک بہت برد بار لڑکے کی بشارت دی۔

فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِـيْمٍ : یعنی ہم نے ان کی دعا قبول کی اور انھیں ایک بہت حلم والے لڑکے کی بشارت دی۔ حلم میں صبر، حسن خلق، حوصلے کی وسعت اور زیادتی کرنے والوں سے درگزر شامل ہے۔ عموماً اس کا ترجمہ بردباری کیا جاتا ہے۔ یہ بیٹا اسماعیل ؑ تھا۔ ابراہیم ؑ نے یا تو یہ دعا کافی عمر ہونے کے بعد کی، یا ان کی دعا اور اس کی قبولیت میں کئی سال کا وقفہ ہوا، کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا : (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ وَهَبَ لِيْ عَلَي الْكِبَرِ اِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ) [ إبراہیم : 39 ] ”سب تعریف اس اللہ کی ہے جس نے مجھے بڑھاپے کے باوجود اسماعیل اور اسحاق عطا کیے۔“ ابراہیم ؑ نے اسماعیل ؑ اور ان کی والدہ کو وادی غیر ذی زرع (مکہ) میں چھوڑا، جہاں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے آب زم زم مہیا فرمایا اور قبیلہ بنو جرہم کو لابسایا۔
Ayah 37:102

فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیْۤ اَرٰى فِی الْمَنَامِ اَنِّیْۤ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَا ذَا تَرٰى١ؕ قَالَ یٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ١٘ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 37:102 in the Quran reader

پھر جب وہ اس کے ساتھ دوڑ دھوپ کی عمر کو پہنچ گیا تو اس نے کہا اے میرے چھوٹے بیٹے ! بلاشبہ میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ بیشک میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، تو دیکھ تو کیا خیال کرتا ہے ؟ اس نے کہا اے میرے باپ ! تجھے جو حکم دیا جا رہا ہے کر گزر، اگر اللہ نے چاہا تو تو ضرور مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائے گا۔

فَلَمَّا بَلَــغَ مَعَهُ السَّعْيَ : ”يٰبُنَيَّ“ ”اِبْنٌ“ کی تصغیر ہے، اے میرے چھوٹے بیٹے ! مراد ہے اے میرے پیارے بیٹے ! ابراہیم ؑ وقتاً فوقتاً شام سے اسماعیل ؑ اور ان کی والدہ کی خبر گیری کے لیے آتے رہتے تھے۔ جب بیٹا اس کے ساتھ دوڑ دھوپ کی عمر کو پہنچ گیا، یعنی اس قابل ہوگیا کہ باپ کا ہاتھ بٹا سکے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابراہیم ؑ کو ایک نیا امتحان پیش آیا۔ وہ یہ کہ انھوں نے خواب میں دیکھا کہ وہ بڑی دعاؤں اور آرزؤوں کے بعد بڑھاپے میں ملنے والے نہایت عزیز بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں۔ نبی کا خواب بھی وحی ہوتا ہے، اس لیے انھوں نے اسے اللہ کا حکم سمجھ کر کسی بھی تردّد کے بغیر اس پر عمل کا پکا ارادہ کرلیا اور بیٹے سے کہا، اے میرے پیارے بیٹے ! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، سو دیکھ، تو کیا خیال کرتا ہے۔ فَانْظُرْ مَاذَا تَرٰى : بیٹے کی رائے پوچھنے کا مطلب یہ نہ تھا کہ اگر وہ نہ مانتا تو وہ اللہ کے حکم پر عمل نہ کرتے، بلکہ وہ اپنے ساتھ بیٹے کو اللہ کے حکم کی اطاعت میں شریک کرنا چاہتے تھے اور انھیں امید تھی کہ بیٹا اللہ کے حکم کی تعمیل کے لیے ضرور آمادگی کا اظہار کرے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں حلیم لڑکے کی بشارت دی تھی اور واقعی بیٹے نے یہ کہہ کر حلیم ہونے کا ثبوت دیا جو اگلے جملے میں مذکور ہے۔ قَالَ يٰٓاَبَتِ افْعَلْ مَا تُــؤْمَرُ :”يٰٓاَبَتِ“ کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورة یوسف (4) اس سے معلوم ہوا کہ اسماعیل ؑ نے اسے محض خواب نہیں بلکہ اللہ کا حکم سمجھا اور کہا اے میرے باپ ! آپ کو جو حکم دیا جا رہا ہے وہ کیجیے۔ یہ صاف دلیل ہے کہ انبیاء کا خواب وحی ہوتا ہے۔ ابراہیم اور اسماعیل ؑ دونوں نے یہی سمجھا اور دونوں اسے اللہ کا حکم سمجھ کر اس کی تعمیل کے لیے تیار ہوگئے۔ سَتَجِدُنِيْٓ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِيْنَ : اس میں اسماعیل ؑ کی کمال اطاعت کے ساتھ ان کا کمال صبر ظاہر ہو رہا ہے، جو ان کے ”غُلَامٌ حَلِیْمٌ“ ہونے کا نتیجہ تھا۔ اطاعت اور صبر کے ساتھ ان کا اللہ تعالیٰ کے لیے حسن ادب بھی ظاہر ہو رہا ہے کہ انھوں نے اپنی اطاعت اور قربانی کو اللہ تعالیٰ کی مشیّت کے تابع قرار دیا کہ اگر اس نے چاہا تو میں اس آزمائش پر صبر کروں گا۔
Ayah 37:103

فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا وَ تَلَّهٗ لِلْجَبِیْنِۚ Open ayah 37:103 in the Quran reader

تو جب دونوں نے حکم مان لیا اور اس نے اسے پیشانی کی ایک جانب پر گرا دیا۔

فَلَمَّآ اَسْلَمَا وَتَلَّهٗ لِلْجَبِيْنِ : عام طور پر مفسرین نے ”اَلْجَبِیْنُ“ کا ترجمہ پیشانی یا ماتھا کیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ابراہیم ؑ نے بیٹے کو اوندھا اس لیے لٹایا کہ ذبح کرتے وقت اس کا چہرہ دیکھ کر کہیں دل میں رِقّت اور ہاتھ میں لرزش پیدا نہ ہوجائے۔ بعض نے کچھ آثار بھی نقل کیے ہیں کہ اسماعیل ؑ نے خود ابراہیم ؑ کو ایسا کرنے کی وصیت کی۔ بعض نے لکھا ہے کہ ابراہیم ؑ نے بیٹے کے کہنے پر اس کے دونوں ہاتھ گردن کے ساتھ باندھ دیے اور اسے الٹا لٹا لیا اور چاہتے تھے کہ نیچے سے گردن پر چھری پھیریں۔ مگر یہ سب اسرائیلیات ہیں اور ان میں سے کوئی بات بھی ثابت نہیں۔ اس مقام پر جبین سے مراد ماتھا لینا بہت بعید ہے، کیونکہ جبین کا معنی ”جَبْھَۃٌ“ (ماتھے) کی ایک جانب ہے۔ ہر آدمی کی دو جبینیں ہوتی ہیں۔ طبری نے اس قسم کی روایتیں نقل کرنے کے باوجود خود ”وَتَلَّهٗ لِلْجَبِيْنِ“ کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے : ”وَ صَرَعَہُ لِلْجَبِیْنِ وَالْجَبِیْنَانِ مَا عَنْ یَمِیْنِ الْجَبْھَۃِ وَ عَنْ شِمَالِھَا وَلِلْوَجْہِ جَبِیْنَانِ وَالْجَبْھَۃُ بَیْنَھُمَا“ یعنی ابراہیم ؑ نے اسے جبین پر گرا لیا اور دو جبینیں وہ ہیں جو ”جَبْھَۃٌ“ (پیشانی) کے دائیں اور بائیں طرف ہوتی ہیں اور چہرے کی دو جبینیں ہوتی ہیں اور ”جَبْھَۃٌ“ (پیشانی) ان دونوں کے درمیان ہوتی ہے۔“ قاموس میں ہے : ”اَلْجَبِیْنَانِ حَرْفَانِ مَکْتَنِفَا الْجَبْھَۃِ مِنْ جَانِبَیْھَا“”یعنی ماتھے کے دونوں جانبوں والے کناروں کو دو جبینیں کہتے ہیں۔“ اس لیے میں نے اس کا ترجمہ کیا ہے کہ ”اس نے اسے پیشانی کی ایک جانب پر گرا دیا۔“ ذبح کرتے وقت کسی بھی جانور کو اسی طرح گرایا جاتا ہے، تاکہ حلق پر چھری پھر سکے۔ ”فَلَمَّآ اَسْلَمَا وَتَلَّهٗ لِلْجَبِيْنِ“ (تو جب دونوں نے حکم مان لیا اور اس نے اسے پیشانی کی ایک جانب پر گرا دیا) تو پھر کیا ہوا ؟ صاحب کشف نے فرمایا : ”جواب یہ ہے کہ (کَانَ مَا کَانَ) یعنی پھر ہوا جو ہوا۔“ اس سوال کا جواب یہاں ذکر نہیں کیا گیا، کیونکہ یہ بات بیان میں آنا مشکل ہے کہ اس وقت باپ کے دل پر کیا گزری تھی، فرشتوں کی حیرانی کا کیا عالم تھا اور اللہ تعالیٰ ، جس کے حکم پر وہ عزیز بیٹے کو ذبح کر رہے تھے، کس قدر خوش اور مہربان ہو رہا تھا۔ اس مقام پر مفسرین نے بعض صحابہ اور تابعین سے مختلف آثار نقل کیے ہیں، جن میں سے اکثر کی تو سند ہی صحیح نہیں۔ اگر صحیح ہو بھی تو ظاہر ہے وہ حضرات واقعہ کے وقت موجود نہیں تھے، نہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے وہ باتیں روایت کی ہیں اور نہ ہی اپنی معلومات کا کوئی اور معتبر ذریعہ بتایا ہے۔ حافظ ابن کثیر ؓ نے ”البدایۃ والنہایۃ“ میں اسماعیل ؑ کے قصے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے : ”غَالِبُ مَا ھٰھُنَا مِنَ الْآثَارِ مَأْخُوْذٌ مِنَ الْإِسْرَاءِیْلِیَاتِ وَفِي الْقُرْآنِ کِفَایَۃٌ عَمَّا جَرٰی مِنَ الْأَمْرِ الْعَظِیْمِ وَالْاِخْتِبَارِ الْبَاھِرِ وَأَنَّہُ فُدِيَ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ وَ قَدْ وَرَدَ فِي الْحَدِیْثِ أَنَّہُ کَانَ کَبَشًا“ ”یعنی یہاں ذکر کیے جانے والے اکثر آثار اسرائیلیات سے لیے گئے ہیں اور قرآن مجید میں جو کچھ مذکور ہے وہ اس عظیم الشان معاملے اور طاقت سے اونچے امتحان کے بیان کے لیے کافی ہے اور یہ کہ ان کا فدیہ عظیم ذبیحے کے ساتھ دیا گیا اور حدیث میں آیا ہے کہ وہ ایک مینڈھا تھا۔“
Ayahs 37:104–105

وَ نَادَیْنٰهُ اَنْ یّٰۤاِبْرٰهِیْمُۙ Open ayah 37:104 in the Quran reader

اور ہم نے اسے آواز دی کہ اے ابراہیم !

قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْیَا١ۚ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:105 in the Quran reader

یقینا تو نے خواب سچا کر دکھایا، بیشک ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔

وَنَادَيْنٰهُ اَنْ يّـٰٓاِبْرٰهِيْمُ : جب ان دونوں نے حکم مان لیا اور اس نے اسے پیشانی کی ایک جانب پر گرا دیا (تو ہوا جو ہوا) اور ہم نے اسے آواز دی کہ اے ابراہیم ! یقیناً تو نے خواب سچا کر دکھایا۔ مفسر سلیمان الجمل نے فرمایا : ”اگر تم کہو کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ؑ کو کیسے فرمایا کہ تو نے خواب سچا کر دکھایا، حالانکہ انھوں نے خواب دیکھا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں، خواب سچا تو اسی صورت میں ہونا تھا کہ اسے ذبح کردیتے ؟ تو میں کہوں گا کہ اللہ تعالیٰ نے خواب سچا کر دکھانے والا اس لیے فرمایا کہ انھوں نے اپنی پوری کوشش اور طاقت صرف کردی، جو کچھ کرسکتے تھے کیا، ذبح کرنے والا جو کچھ کرتا ہے وہ سب کیا، تو اللہ تعالیٰ کو جو مطلوب تھا وہ انھوں نے ادا کردیا اور وہ تھا اللہ تعالیٰ کے حکم کے لیے پوری طرح مطیع اور فرماں بردار ہوجانا۔“ بقاعی نے اس سوال کے جواب میں فرمایا : ”قَال اللّٰہُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْیَا فِيْ أَنَّکَ تَذْبَحُہُ فَإِنَّکَ قَدْ عَلَجْتَ وَ بَذَلْتَ الْوُسْعَ فِیْہِ وَ فَعَلْتَ مَا رَأَیْتَ فِي الْمَنَامِ فَمَا انْذَبَحَ لِأَنَّکَ مَا رَأَیْتَ أَنَّکَ ذَبَحْتَہُ فَاکْفُفْ عَنْ مُعَالَجَۃِ الذِّبْحِ بِأَزْیَدَ مِنْ ھٰذَا“ ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا، تو نے اپنا خواب سچا کردیا کہ تو اسے ذبح کر رہا ہے، کیونکہ تو نے کوشش کی اور اپنی پوری طاقت اس میں صرف کی اور جو کچھ خواب میں دیکھا تھا وہ کیا، مگر وہ ذبح نہیں ہوا، کیونکہ تو نے یہ نہیں دیکھا تھا کہ تو نے اسے ذبح کردیا ہے (بلکہ یہ دیکھا تھا کہ ذبح کر رہے ہو) اس لیے اس سے زیادہ ذبح کی کوشش سے رک جا۔“ بقاعی کے علاوہ اور کئی مفسرین نے یہی توجیہ فرمائی ہے کہ خواب ”اَنِّىْٓ اَذْبَحُكَ“ تھا، ”أَنِّيْ ذَبَحْتُکَ“ نہیں تھا اور ابراہیم ؑ نے جو کچھ کیا اس کے ساتھ وہ خواب سچا ہوگیا۔ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ : یعنی ہمارا دستور ہے کہ ہم نیکو کاروں کو ایسے مشکل حکم کر کے آزماتے ہیں، پھر انھیں ثابت قدم رکھتے ہیں۔ جب وہ اس آزمائش میں پورے اترتے ہیں تو ان کے درجات بلند کرتے ہیں اور جس آزمائش میں ہم انھیں ڈالتے ہیں اس سے نکلوا بھی دیتے ہیں، جیسے ابراہیم ؑ کو آگ کی آزمائش میں ڈالا اور وہاں سے سلامت نکال بھی لائے اور ان کا درجہ بلند کردیا۔ اسی طرح بیٹے کی قربانی کی آزمائش میں بیٹے کو بچا لیا اور درجات بھی بلند کردیے۔
Ayah 37:106

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْبَلٰٓؤُا الْمُبِیْنُ Open ayah 37:106 in the Quran reader

بیشک یہی تو یقینا کھلی آزمائش ہے۔

اِنَّ ھٰذَا لَهُوَ الْبَلٰۗــــؤُا الْمُبِيْنُ : یعنی بوڑھے باپ کو اکلوتا بیٹا ذبح کرنے کا حکم، جو کام کاج میں اس کا مددگار بننے کی عمر کو پہنچ چکا ہے، یقیناً یہ باپ بیٹے دونوں کے لیے کھلی آزمائش اور بہت سخت امتحان ہے۔
Ayah 37:107

وَ فَدَیْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ Open ayah 37:107 in the Quran reader

اور ہم نے اس کے فدیے میں ایک بہت بڑا ذبیحہ دیا۔

وَفَدَيْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِيْمٍ : ”ذِبْحٌ“ (ذال کے کسرہ کے ساتھ) بمعنی ”مَذْبُوْحٌ“ یعنی ہم نے اسماعیل ؑ کے فدیے اور بدلے میں ایک عظیم ذبیحہ دیا۔ یہ ایک مینڈھا تھا جو ابراہیم ؑ نے اللہ کے حکم سے قربان کردیا۔ اسے عظیم اس لیے فرمایا کہ وہ اسماعیل ؑ جیسے عظیم شخص کا فدیہ تھا اور اس لیے کہ اس کی قربانی عظیم عبادت تھی، جو قیامت تک کے مسلمانوں کے لیے سنت قرار پائی۔ تفسیری روایات میں اس مینڈھے کا جنت سے آنے کا ذکر ہے اور یہ بھی کہ یہ وہی مینڈھا تھا جو آدم ؑ کے بیٹے نے بطور قربانی دیا تھا۔ وہ جنت میں پلتا رہا اور اس موقع پر ابراہیم ؑ کے لیے اتارا گیا۔ بعض نے کہا کہ یہ ایک پہاڑی بکرا تھا جو پہاڑ سے اتارا گیا تھا۔ مگر یہ تمام روایات اسرائیلی ہیں، رسول اللہ ﷺ سے ایک بھی ثابت نہیں۔ ہاں ! یہ ثابت ہے کہ وہ سینگوں والا مینڈھا تھا، جیسا کہ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (کعبہ کے چابی بردار) عثمان بن طلحہ ؓ کو بلایا اور فرمایا : (إِنِّيْ کُنْتُ رَأَیْتُ قَرْنَيِ الْکَبْشِ حِیْنَ دَخَلْتُ الْبَیْتَ ، فَنَسِیْتُ أَنْ آمُرَکَ أَنْ تُخَمِّرَہُمَا، فَخَمِّرْہُمَا فَإِنَّہُ لاَ یَنْبَغِيْ أَنْ یَکُوْنَ فِي الْبَیْتِ شَيْءٌ یَشْغَلُ الْمُصَلِّيَ ، قَالَ سُفْیَانُ لَمْ تَزَلْ قَرْنَا الْکَبْشِ فِي الْبَیْتِ حَتَّی احْتَرَقَ الْبَیْتُ فَاحْتَرَقَا) [ مسند أحمد : 4؍68، ح : 16637۔ مسند احمد کے محققین نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے ] ”میں جب بیت اللہ میں داخل ہوا تو میں نے اس مینڈھے کے سینگ دیکھے تھے، تو میں تمہیں ان کو ڈھانپنے کا حکم دینا بھول گیا۔ سو انھیں ڈھانپ دو ، کیونکہ یہ مناسب نہیں کہ بیت اللہ میں کوئی ایسی چیز ہو جو نمازی کو مشغول کرے۔“ سفیان نے فرمایا : ”وہ سینگ بیت اللہ میں رہے، حتیٰ کہ بیت اللہ کو آگ لگ گئی تو وہ بھی جل گئے۔“
Ayahs 37:108–111

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۖ Open ayah 37:108 in the Quran reader

اور پیچھے آنے والوں میں اس کے لیے یہ بات چھوڑ دی۔

سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ Open ayah 37:109 in the Quran reader

کہ ابراہیم پر سلام ہو۔

كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:110 in the Quran reader

ہم اسی طرح نیکی کرنے والوں کو بدلہ دیتے ہیں۔

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:111 in the Quran reader

بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں سے تھا۔

وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْاٰخِرِيْنَ : ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھیے اسی سورت کی آیات (78 تا 81)۔
Ayah 37:112

وَ بَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 37:112 in the Quran reader

اور ہم نے اسے اسحاق کی بشارت دی، جو نبی ہوگا، صالح لوگوں سے (ہو گا)۔

وَبَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ : اہل کتاب کا کہنا ہے کہ ذبح کا یہ واقعہ اسماعیل ؑ کے ساتھ نہیں بلکہ اسحاق ؑ کے ساتھ پیش آیا۔ بعض مسلم مفسرین نے بھی یہی بات کہی ہے، مگر یہ درست نہیں، کیونکہ یہاں اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ؑ کی دعا سے ملنے والے بیٹے کو ذبح کرنے کے حکم کے ساتھ آزمائش کے بعد اسحاق ؑ کی خوش خبری کا ذکر فرمایا اور اس بات پر مسلمانوں کا اور اہل کتاب کا اتفاق ہے کہ اسماعیل ؑ پہلے پیدا ہوئے تھے۔ ایک اور نہایت مضبوط دلیل اس کی یہ ہے کہ جب فرشتوں نے ابراہیم ؑ کی بیوی کو اسحاق ؑ کی خوش خبری دی تو اس کے ساتھ ہی فرمایا : (ۙ وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ) [ ھود : 71 ] کہ اسحاق ؑ کے بعد ان کے بیٹے یعقوب ؑ ہوں گے، ظاہر ہے یہ وہ بیٹا ہو ہی نہیں سکتا جسے دوڑ دھوپ کی عمر کو پہنچتے ہی ذبح کا حکم دیا جانے والا تھا، کیونکہ ان کے متعلق تو اتنی عمر تک زندہ رہنے کی بشارت تھی کہ پورے جوان ہو کر ان کی شادی ہوگی، پھر اولاد ہوگی۔ اس کے علاوہ تورات میں اکلوتے بیٹے کی قربانی کا ذکر ہے (دیکھیے پیدائش : 22۔ 2) اور اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ اکلوتے بیٹے اسماعیل ؑ تھے۔ اس کے باوجود اہل کتاب نے تحریف کر کے اسحاق ؑ کو ذبیح لکھ دیا۔ پھر اس مینڈھے کے سینگوں کا کعبہ میں مدت تک رہنا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ واقعہ مکہ میں ہوا۔ اگر یہ واقعہ اسحاق ؑ سے متعلق ہوتا تو شام میں ہوتا، مکہ سے اس کا تعلق نہ ہوتا۔
Ayah 37:113

وَ بٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَ عَلٰۤى اِسْحٰقَ١ؕ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَّ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِیْنٌ۠ Open ayah 37:113 in the Quran reader

اور ہم نے اس پر اور اسحاق پر برکت نازل کی اور ان دونوں کی اولاد میں سے کوئی نیکی کرنے والا ہے اور کوئی اپنے آپ پر صریح ظلم کرنے والا ہے۔

وَبٰرَكْنَا عَلَيْهِ وَعَلٰٓي اِسْحٰقَ : ”عَلَيْهِ“ سے مراد ابراہیم اور اسماعیل ؑ میں سے کوئی بھی ہوسکتا ہے۔ برکت میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ انھیں بہت اولاد عطا فرمائی اور ان کی اولاد میں نبوت کا سلسلہ رکھا۔ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں : ”دونوں“ کہا دونوں بیٹوں کو، دونوں سے بہت اولاد پھیلی، اسحاق ؑ کی اولاد میں نبی گزرے بنی اسرائیل کے اور اسماعیل ؑ کی اولاد ہیں عرب، جن میں ہمارے پیغمبر ﷺ ہوئے۔“ (موضح) وَمِنْ ذُرِّيَّـتِهِمَا مُحْسِنٌ وَّظَالِمٌ : یعنی ان کی اولاد میں سے نیک بھی ہوں گے، بد بھی، عدل کرنے والے بھی ہوں گے اور اپنی جان پر صاف ظلم کرنے والے بھی۔ شیخ عبدالرحمان السعدی نے فرمایا : ”شاید یہ کہنے کا مقصد یہ وہم دور کرنا ہو جو بعض لوگوں کو ”وَبٰرَكْنَا عَلَيْهِ وَعَلٰٓي اِسْحٰقَ“ سے پیدا ہوسکتا تھا کہ اس کا تقاضا ہے کہ ان کی اولاد میں بھی وہ برکت جاری رہے اور برکت مکمل تب ہوتی جب ساری اولاد نیک ہو، تو اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ اولاد میں سے نیک و بد ہر قسم کے لوگ ہوں گے۔“ یعنی محض خاندان اور باپ دادا کے ساتھ نسبت اللہ تعالیٰ کے ہاں کچھ حیثیت نہیں رکھتی۔ اس کی مثال امت مسلمہ میں بعض لوگوں کا اہل بیت کے متعلق یہ خیال ہے کہ سید بادشاہ جو کچھ بھی کرتے رہیں نبی ﷺ اور حسن و حسین ؓ کی اولاد ہونے کی وجہ سے بخشے بخشائے ہیں، جب کہ یہ خیال باطل ہے۔ کیونکہ اگر نبی کی اولاد ہونا ہی بخشش کے لیے کافی ہو تو سارے انسان ہی آدم و نوح ؑ جیسے جلیل القدر پیغمبروں کی اولاد ہیں، اس لیے سب ہی بخشے ہوئے ہونے چاہییں۔
Ayah 37:114

وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلٰى مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَۚ Open ayah 37:114 in the Quran reader

اور بلا شبہ یقینا ہم نے موسیٰ اور ہارون پر احسان کیا۔

وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلٰي مُوْسٰى وَهٰرُوْنَ : یعنی انھیں نبوت عطا کی اور دوسرے بیشمار احسانات فرمائے، جن میں سے بعض احسانات کا ذکر آگے فرمایا۔
Ayah 37:115

وَ نَجَّیْنٰهُمَا وَ قَوْمَهُمَا مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 37:115 in the Quran reader

اور ہم نے ان دونوں کو اور دونوں کی قوم کو بہت بڑی مصیبت سے نجات دی۔

وَنَجَّيْنٰهُمَا وَقَوْمَهُمَا مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيْمِ : بہت بڑی مصیبت سے مراد فرعون کی غلامی، لڑکوں کا قتل اور عورتوں کا باقی رکھنا ہے۔ علاوہ ازیں سمندر میں غرق ہونے سے نجات بھی کرب عظیم سے نجات ہے۔
Ayah 37:116

وَ نَصَرْنٰهُمْ فَكَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَۚ Open ayah 37:116 in the Quran reader

اور ہم نے ان کی مدد کی تو وہی غالب ہوئے۔

وَنَصَرْنٰهُمْ فَكَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِيْنَ : ”ھُمْ“ ضمیر جمع لانے کی وجہ یہ ہے کہ فرعون سے نجات اور اس پر اور اس کی آل یعنی قبطیوں پر فتح و نصرت صرف موسیٰ اور ہارون ؑ کو نہیں بلکہ تمام بنی اسرائیل کو حاصل ہوئی۔
Ayah 37:117

وَ اٰتَیْنٰهُمَا الْكِتٰبَ الْمُسْتَبِیْنَۚ Open ayah 37:117 in the Quran reader

اور ہم نے ان دونوں کو نہایت واضح کتاب دی۔

وَاٰتَيْنٰهُمَا الْكِتٰبَ الْمُسْتَبِيْنَ : ”اَلْمُبِیْنُ“ باب افعال سے اسم فاعل ہے، معنی ہے ”واضح“ اور ”الْمُسْتَبِيْنَ“ باب استفعال سے اسم فاعل ہے، اس میں حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے معنی میں مبالغہ ہے، اس لیے ترجمہ ”نہایت واضح“ کیا گیا ہے، مراد تورات ہے۔
Ayah 37:118

وَ هَدَیْنٰهُمَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۚ Open ayah 37:118 in the Quran reader

اور ہم نے ان دونوں کو سیدھے راستے پر چلایا۔

وَهَدَيْنٰهُمَا الـصِّرَاطَ الْمُسْتَــقِيْمَ : صراط مستقیم کی ہدایت بہت بڑا احسان ہے، کیونکہ اسی پر نجاتِ اُخروی کا دارو مدار ہے۔