Ayahs 37:119–122وَتَرَكْنَا عَلَيْهِمَا فِي الْاٰخِرِيْنَ : ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھیے اسی سورت کی آیات (78 تا 81)۔
Ayahs 37:123–124وَاِنَّ اِلْيَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ : ”اَلَا تَتَّقُوْنَ“ کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة شعراء کی آیت (106)۔
Ayah 37:125اَتَدْعُوْنَ بَعْلًا : قرآن کے متعدد مقامات پر لفظ ”بَعْلًا“ شوہر کے معنی میں آیا ہے۔ دیکھیے سورة بقرہ (228) اور نساء (127) اس کا معنی مالک اور آقا بھی ہے۔ مشرک اقوام اس لفظ کو رب یا معبود کے معنی میں استعمال کرتی ہیں، اس لیے الیاس ؑ کی قوم نے اپنے سب سے بڑے بت کا نام ”بعل“ رکھا ہوا تھا۔ الیاس ؑ نے انھیں سمجھایا کہ کیا تم ”بعل“ نامی بت کو پوجتے ہو ؟
وَّتَذَرُوْنَ اَحْسَنَ الْخَالِقِيْنَ : اور بنانے والوں میں سب سے بہتر یعنی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ دیتے ہو۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اور بھی کوئی پیدا کرنے والا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو سب پیدا کرنے والوں سے بہتر فرمایا ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ اشیاء کو جوڑ کر کوئی چیز بنانے پر بھی ”خلق“ کا لفظ بولا جاتا ہے، مثلاً انسان لوہے وغیرہ سے مشینیں اور موٹریں وغیرہ بنا لیتا ہے، مگر ان سب میں وہ اللہ کے بنائے ہوئے مادے کا محتاج ہے۔ اس لیے اس کی بنائی ہوئی ہر چیز بھی اللہ ہی کی (خلق) پیدا کردہ ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَاللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ) [ الصافات : 96 ] ”حالانکہ اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا اور اسے بھی جو تم کرتے ہو۔“ البتہ ابتدا میں کسی چیز کو پیدا کرنا یا چیزیں جوڑ کر ان میں روح ڈال دینا صرف اس پاک پروردگار کا کام ہے۔ (دیکھیے حج : 73) اس لیے اسے ”اَحْسَنَ الْخَالِقِيْنَ“ فرمایا۔
Ayah 37:126اللّٰهَ رَبَّكُمْ وَرَبَّ اٰبَاۗىِٕكُمُ الْاَوَّلِيْنَ : الیاس ؑ نے ان کی توجہ اس طرف مبذول کروائی کہ یہ بعل دیوتا کا بت تو تم نے خود گھڑا ہے، یہ بےجان بت ہے، جس کے خالق تم خود ہو۔ اس کی حفاظت بھی تم ہی کرتے ہو، پھر اس کی عبادت بھی کرنے لگتے ہو۔ تمہیں تو لازم تھا کہ اس کی عبادت کرتے جس نے تمہیں بنایا ہے، پھر تمہیں صرف بنایا ہی نہیں بلکہ تمہاری پرورش بھی کرتا ہے، تمہارے آبا و اجداد کا بھی وہی خالق و رازق ہے۔ ایسے بہترین خالق کو چھوڑ کر اپنے گھڑے ہوئے بےجان بت کے سامنے سربسجود ہوتے ہوئے تمہیں شرم نہیں آتی ! ؟ (کیلانی)
Ayah 37:127فَكَذَّبُوْهُ فَاِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَ : یعنی وہ جھٹلانے کی پاداش میں جہنم میں حاضر کیے جانے والے ہیں، جہاں انھیں جھٹلانے کی سزا مل کر رہے گی۔
Ayah 37:128اِلَّا عِبَاد اللّٰهِ الْمُخْلَصِيْنَ : یعنی الیاس ؑ کی ساری قوم نے انھیں جھٹلایا، مگر اللہ کے چنے ہوئے بندوں نے نہیں جھٹلایا، بلکہ وہ ان پر ایمان لے آئے، اس لیے وہ عذاب سے محفوظ رہے اور رہیں گے۔
Ayahs 37:129–132وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْاٰخِرِيْنَ : ان آیات کی تفسیر پیچھے آیات (78 تا 81) کے تحت گزر چکی ہے۔ ”اِلْ يَاسِيْنَ“ الیاس ؑ ہی کا دوسرا نام ہے، جیسے ایک ہی پہاڑ کو قرآن میں ”طور سینا“ بھی کہا گیا ہے اور ”طور سینین“ بھی۔
Ayahs 37:133–136وَاِنَّ لُوْطًا لَّمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ : ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة ہود (77 تا 83) اور سورة حجر (57 تا 77)۔
Ayahs 37:137–138وَاِنَّكُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَيْهِمْ مُّصْبِحِيْنَ : یعنی تم تجارت کے لیے شام و فلسطین کی طرف جاتے اور آتے ہوئے دن رات اور صبح و شام قوم لوط کی تباہ شدہ بستیوں کے پاس سے گزرتے ہو، تو کیا تم عقل نہیں کرتے اور تمہیں ان کے انجام سے عبرت نہیں ہوتی ؟
Ayah 37:139وَاِنَّ يُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ : ان کا نام حدیث میں یونس بن مَتّٰی آیا ہے۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لاَ یَنْبَغِيْ لِعَبْدٍ أَنْ یَّقُوْلَ أَنَا خَیْرٌ مِنْ یُوْنُسَ بْنِ مَتّٰی) [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ : (و إن یونس لمن المرسلین) : 3416 ] ”کسی بندے کے لائق نہیں کہ وہ کہے کہ میں یونس بن مَتّٰی سے بہتر ہوں۔“
Ayah 37:140اِذْ اَبَقَ : ”أَبَقَ (ض، ن، س) إِبَاقًا وَ أَبْقًا وَ أَبَقًا، الْعَبْدُ“ غلام کے اپنے مالک کے پاس سے بھاگ جانے کو کہتے ہیں۔ یونس ؑ چونکہ اپنے مالک (اللہ تعالیٰ) کے حکم کا انتظار کیے بغیر اپنی قوم کو چھوڑ کر چلے گئے تھے، اس لیے ان کے جانے کے لیے ”اَبَقَ“ کا لفظ استعمال کیا گیا۔ یونس ؑ اپنی قوم کو کب اور کیوں چھوڑ کر چلے گئے تھے ؟ اس کے لیے دیکھیے سورة یونس (98) اور سورة انبیاء (87)۔
اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ : بھری ہوئی کشتی سے مراد سامان اور مسافروں سے بھری ہوئی کشتی ہے۔
Ayah 37:141فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِيْنَ :”سَاھَمَ“ (مفاعلہ) قرعہ میں حصہ لینا۔ ”الْمُدْحَضِيْنَ“ ”أَدْحَضَ یُدْحِضُ“ (افعال) میں سے اسم مفعول ہے، پھسلانا، باطل کرنا۔ ان آیات سے واقعہ کی یہ صورت سمجھ میں آتی ہے کہ یونس ؑ جس کشتی میں سوار ہوئے وہ اپنی گنجائش سے زیادہ بھرئی ہوئی تھی۔ دوران سفر طوفان یا کسی خطرے کی صورت میں زائد بوجھ کم کرنے کے لیے پہلے سامان سمندر میں پھینکا جاتا ہے، اس کے بعد بھی اگر خطرہ باقی رہے تو کچھ آدمیوں کو پھینک دیا جاتا ہے، تاکہ سب لوگ غرق نہ ہوں۔ یونس ؑ جس کشتی میں سوار ہوئے اس کے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ پیش آیا۔ چناچہ فیصلہ ہوا کہ قرعہ ڈالا جائے اور جن لوگوں کا نام پھینکنے کے لیے نکلے، انھیں سمندر میں پھینک دیا جائے۔ قرعہ ڈالا گیا تو یونس ؑ کا نام بھی ان لوگوں میں نکلا جو سمندر میں پھینکے جانے والے تھے۔ ”فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِيْنَ“ (تو وہ قرعہ ہارنے والوں یا پھسلائے گئے آدمیوں میں سے ہوگیا) کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ قرعہ میں یونس ؑ کے ساتھ اور لوگوں کا نام بھی نکلا، اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنے تھے۔ مختصر یہ کہ سب کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دیا گیا۔
اس مقام پر بعض تفاسیر میں لکھا ہے : ”جب یونس ؑ کشتی میں سوار ہوگئے اور کشتی گہرے پانی میں پہنچی تو آگے بڑھنے کے بجائے چکر کھانے لگی۔ کشتی والوں نے کشتی میں سوار لوگوں سے کہا کہ ایسا معاملہ ہمیں اس وقت پیش آتا ہے جب کوئی بھاگا ہوا غلام کشتی میں سوار ہو۔ انھوں نے قرعہ ڈالا کہ جس کا نام قرعہ میں نکلے اسے سمندر میں پھینک دیا جائے۔ تین بار قرعہ ڈالا گیا، لیکن وہ ہر بار یونس ؑ ہی کے نام پر نکلا۔ بار بار قرعہ اس لیے ڈالا گیا کہ وہ لوگ یونس ؑ کی نیکی دیکھ کر انھیں سمندر میں پھینکنا نہیں چاہتے تھے۔ جب تین بار قرعہ انھی کے نام پر نکلا تو وہ خود ہی یہ کہہ کر سمندر میں کودنے کے لیے تیار ہوگئے کہ وہ بھاگا ہوا غلام میں ہوں۔“ اس حکایت میں وہ باتیں ہیں جو قرآن و حدیث میں نہیں ہیں اور نہ ہی کسی معتبر ذریعے سے ثابت ہیں، اس لیے ان کا اعتبار مشکل ہے۔
Ayah 37:142فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَهُوَ مُلِـيْمٌ : ”الْحُوْتُ“ مچھلی۔ اکثر بڑی مچھلی کو ”حُوت“ کہا جاتا ہے۔ ”مُلِـيْمٌ“ ”أَلَامَ یُلِیْمُ“ (افعال) ملامت والا کام کرنا، ملامت کا مستحق ہونا۔ ”مُلِـيْمٌ“ ملامت کا مستحق، خواہ اسے ملامت کی جائے یا نہ کی جائے۔ جب یونس ؑ کو سمندر میں پھینکا گیا تو اللہ کے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے انھیں سالم نگل لیا۔ مستحق ملامت اس لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر قوم سے نکل آئے تھے۔
Ayahs 37:143–144فَلَوْلَآ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِيْنَ : ”اگر یہ بات نہ ہوتی کہ وہ تسبیح کرنے والوں میں سے تھا“ میں دو چیزیں شامل ہیں، ایک تو یہ کہ وہ اس سے پہلے بھی ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور اس کا ذکر کرنے والے تھے اور دوسری یہ کہ اس وقت بھی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہوئے کہا : (لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ ڰ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ) [ الأنبیاء : 87 ] ”تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، یقیناً میں ظلم کرنے والوں سے ہوگیا ہوں۔“ اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے تو وہیں فوت ہوجاتے اور مچھلی کا پیٹ ہی ان کی قبر بن جاتا۔
اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ مصیبت کے وقت پکارنے پر مدد فرماتا ہے، خوش حالی میں اپنی تسبیح اور ذکر کرنے والوں کا مصیبت میں زیادہ خیال رکھتا ہے۔ عبداللہ بن عباس ؓ سے ایک لمبی حدیث میں مروی ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سواری پر سوار تھا، آپ ﷺ نے فرمایا : ”لڑکے ! میں تمہیں چند باتیں نہ سکھاؤں جن کے ساتھ تمہیں اللہ تعالیٰ نفع دے گا ؟“ میں نے کہا : ”کیوں نہیں !“ آپ ﷺ نے فرمایا : (اِحْفَظِ اللّٰہَ یَحْفَظْکَ ، اِحْفَظِ اللّٰہَ تَجِدْہُ أَمَامَکَ ، تَعَرَّفْ إِلَیْہِ فِي الرَّخَاءِ ، یَعْرِفْکَ فِي الشِّدَّۃِ) [ مسند أحمد : 1؍307، ح : 2807، قال المحقق حدیث صحیح ] ”اللہ کا دھیان رکھ، وہ تیرا دھیان رکھے گا۔ اللہ کا دھیان رکھ تو اسے اپنے سامنے پائے گا۔ خوش حالی میں اس سے جان پہچان رکھ، وہ سختی میں تیری پہچان رکھے گا۔“ جو خوش حالی میں ایمان نہ لائے اور اللہ تعالیٰ کو یاد نہ رکھے سختی میں اس کا ایمان اور اس کی فریاد کام نہیں دیتی، جیسا کہ فرعون نے غرق ہوتے وقت کہا : (اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيْٓ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ) [ یونس : 90 ] ”میں ایمان لایا کہ حق یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں۔“ تو اسے کہا گیا : (اٰۗلْئٰنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِيْنَ) [ یونس : 91 ] ”کیا اب ؟ حالانکہ بیشک تو نے اس سے پہلے نافرمانی کی اور تو فساد کرنے والوں سے تھا۔“
Ayah 37:145فَنَبَذْنٰهُ بالْعَرَاۗءِ وَهُوَ سَقِيْمٌ : ”اَلْعَرَآءُ“ چٹیل میدان، جس میں کوئی درخت اور سائے کی چیز نہ ہو۔ مچھلی نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انھیں سمندر سے باہر ایک چٹیل میدان میں اسی طرح صحیح سالم اگل دیا جس طرح نگلا تھا، مگر مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی وجہ سے ان کی جلد نہایت نرم و نازک ہوگئی تھی اور وہ اس وقت سخت کمزور اور بیمار تھے۔ البتہ اللہ تعالیٰ کے خاص احسان سے توبہ کی قبولیت کی وجہ سے ان کا مرتبہ پہلے سے بلند ہوچکا تھا۔ دیکھیے سورة قلم (49، 50) یونس ؑ مچھلی کے پیٹ میں کتنے دن رہے، تھوڑی دیر رہے یا تین دن یا سات دن یا چالیس دن، جیسا کہ مفسرین کہتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے یہ بات بیان نہیں فرمائی، کیونکہ جتنی مدت بھی رہے ہوں، تھوڑی ہو یا زیادہ، مچھلی کے پیٹ میں ان کا زندہ رہ جانا اور صحیح سلامت نکل آنا ہی بہت بڑا معجزہ ہے۔
Ayah 37:146وَاَنْۢبَتْنَا عَلَيْهِ شَجَرَةً مِّنْ يَّقْطِيْنٍ : ”قَطَنَ بالْمَکَانِ“ (ن) کسی جگہ اقامت اختیار کرنے کو کہتے ہیں۔ ”يَّقْطِيْنٍ“ اس میں سے ”یَفْعِیْلٌ“ کے وزن پر ہے۔ یہ لفظ ہر ایسے پودے پر بولا جاتا ہے جس کا تنا نہ ہو، مثلاً کدو، ککڑی، تربوز اور خربوزہ وغیرہ۔ زیادہ تر پیٹھے کدو کو ”يَّقْطِيْنٍ“ کہتے ہیں، کیونکہ وہ زمین پر پڑا رہتا ہے۔ ”عَلَيْهِ“ کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بیل کا تنا معجزانہ طور پر اونچا کردیا، جس سے یونس ؑ پر سایہ ہوگیا، یا وہ بیل کسی اور بلند چیز پر چڑھ کر انھیں سایہ اور غذا مہیا کرتی رہی۔
Ayah 37:147وَاَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ يَزِيْدُوْنَ : تندرست ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے انھیں پھر ایک لاکھ یا اس سے زیادہ افراد پر مشتمل آبادی کی طرف پیغام حق پہنچانے کے لیے بھیج دیا۔ اکثر مفسرین کا کہنا ہے کہ یہ وہی آبادی تھی جہاں سے وہ ناراض ہو کر گئے تھے اور جن کی توبہ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب سے محفوظ رکھا تھا۔ یہاں ایک سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں جو لفظ ”اَوْ“ استعمال فرمایا ہے کہ ہم نے اسے ایک لاکھ کی طرف بھیجا ”یا“ وہ زیادہ ہوں گے، یہ لفظ تو شک کے لیے استعمال ہوتا ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ کے لیے شک کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ یہ دیکھنے والوں کے لحاظ سے ہے کہ اگر کوئی انھیں دیکھے تو کہے گا کہ ایک لاکھ ہیں یا اس سے زیادہ ہیں۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ یہاں ”اَوْ“ بمعنی ”بَلْ“ ہے، اور اسی کے مطابق ترجمہ کیا گیا ہے ”بلکہ وہ زیادہ ہوں گے۔“
Ayah 37:148فَاٰمَنُوْا : شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں : ”وہی قوم جس سے بھاگے تھے، ان پر ایمان لا رہی تھی۔ (وہ انھیں) ڈھونڈتی تھی کہ یہ جا پہنچے، (اس سے) ان کو بڑی خوشی ہوئی۔“ (موضح)
فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِيْنٍ : یعنی انھیں عذاب سے بیک وقت ہلاک کرنے کے بجائے ہر ایک کو اس کی مقررہ عمر تک فائدہ اٹھانے کا موقع عطا فرمایا۔
Ayah 37:149فَاسْتَفْتِهِمْ اَلِرَبِّكَ الْبَنَاتُ : پچھلی آیات کے ساتھ ان آیات کی مناسبت یہ ہے کہ مشرکین کے بد ترین عقائد میں سے ایک قیامت کا انکار تھا اور ایک شرک تھا، جس کی ایک صورت فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دے کر ان کے بت بنا کر ان کی پرستش کرنا تھی۔ قرآن میں متعدد مقامات پر ان کے اس عقیدے کا ذکر کر کے اس کی تردید کی گئی ہے۔ دیکھیے سورة نساء (117) ، نحل (57، 58) ، بنی اسرائیل (40) ، زخرف (16 تا 19) اور نجم (21 تا 27) یہاں سورت کے شروع میں ان کے انکار قیامت پر فرمایا : (فَاسْتَفْتِهِمْ اَهُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمْ مَّنْ خَلَقْنَا ۭ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّنْ طِيْنٍ لَّازِبٍ) [ الصافات : 11 ] ”سو ان سے پوچھ کیا یہ پیدا کرنے کے اعتبار سے زیادہ مشکل ہیں، یا وہ جنھیں ہم نے پیدا کیا ؟ بیشک ہم نے انھیں ایک چپکتے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے۔“
اب دوسرے عقیدے کی تردید کرتے ہوئے فرماما : (فَاسْتَفْتِهِمْ اَلِرَبِّكَ الْبَنَاتُ وَلَهُمُ الْبَنُوْنَ) ”پس ان سے پوچھ کیا تیرے رب کے لیے بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے ؟“ زمخشری نے فرمایا : ”اس کا عطف سورت کے شروع میں ”فَاسْتَفْتِهِمْ اَهُمْ اَشَدُّ خَلْقًا“ پر ہے، اگرچہ ان کے درمیان بہت فاصلہ ہے۔“ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے ہوئے وہ تین ظلم کر رہے تھے، ایک یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دے رہے تھے، حالانکہ وہ اس سے پاک ہے، کیونکہ یہ عجز اور محتاجی کی دلیل ہے۔ دوسرا یہ کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹیاں قرار دیں، جب کہ اپنے لیے بیٹے پسند کرتے ہیں۔ تیسرا یہ کہ انھوں نے اللہ کے مقرب فرشتوں کو مؤنث قرار دیا، حالانکہ وہ مذکر و مؤنث کی تفریق سے پاک ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان سب باتوں پر ان کا رد فرمایا اور سخت غصے کا اظہار فرمایا، چناچہ فرمایا : ”ان سے پوچھو کہ کیا تیرے رب کے لیے بیٹیاں اور ان کے لیے بیٹے ہیں ؟“ ان کا اپنا حال یہ ہے کہ بیٹی کی خبر پر ان کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور اسے زندہ درگور کرنے کی فکر کرنے لگتے ہیں اور اپنے لیے اتنی ناگوار بات کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرتے ہیں۔
Ayah 37:150اَمْ خَلَقْنَا الْمَلٰۗىِٕكَةَ اِنَاثًا وَّهُمْ شٰهِدُوْنَ : اس میں فرشتوں کے مؤنث ہونے کی تردید فرمائی کہ انھیں کیسے معلوم ہوا کہ فرشتے مؤنث ہیں، کیا جب ہم نے فرشتوں کو پیدا کیا تو یہ موجود تھے کہ انھوں نے دیکھا ہو کہ ہم نے انھیں مؤنث بنایا ہے ؟
Ayahs 37:151–152اَلَآ اِنَّهُمْ مِّنْ اِفْكِهِمْ لَيَقُوْلُوْنَ : فرمایا، سن لو ! ان کا یہ کہنا کہ اللہ نے اولاد جنی ہے صاف بہتان ہے اور یہ یقیناً جھوٹے ہیں۔
Ayahs 37:153–155اَصْطَفَى الْبَنَاتِ عَلَي الْبَنِيْنَ : ”اَصْطَفَى“ اصل میں ”أَ اِصْطَفٰی“ تھا، ہمزہ استفہام آنے کے بعد ہمزہ وصلی حذف کردیا۔ ”تَذَكَّرُوْنَ“ اصل میں ”تَتَذَکَّرُوْنَ“ ہے۔
Ayahs 37:156–157اَمْ لَكُمْ سُلْطٰنٌ مُّبِيْنٌ : دعوے کو ثابت کرنے کے لیے یا عینی شہادت ہوتی ہے یا کوئی نقلی دلیل۔ عینی شہادت کا رد یہ کہہ کر فرمایا کہ جب ہم نے فرشتوں کو پیدا کیا تو کیا تم موجود تھے ؟ ظاہر ہے موجود نہیں تھے۔ اب کسی معتبر نقلی دلیل کا مطالبہ فرمایا کہ کیا تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب ہے جس میں لکھا ہے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ؟ جب یہ بھی نہیں تو صاف ظاہر ہے کہ تمہارے عقائد من گھڑت اور جھوٹ ہیں۔
Ayah 37:158وَجَعَلُوْا بَيْنَهٗ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَـبًا : اللہ تعالیٰ اور جنوں کے درمیان نسب بنانے سے کیا مراد ہے ؟ ابن کثیر ؓ نے اس کی تفسیر میں دو قول ذکر کیے ہیں، پہلا مجاہد کا قول کہ مشرکین نے کہا، فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ تو ابوبکر ؓ نے پوچھا، تو ان کی مائیں کون ہیں ؟ انھوں نے کہا ”بَنَاتُ سَرَوَاتِ الْجِنِّ“ ”سردار جننیوں کی بیٹیاں۔“ مگر اس تفسیر میں اللہ تعالیٰ اور جنوں کے درمیان نسبی رشتہ قائم نہیں ہوتا، بلکہ صہری یعنی سسرالی رشتہ قائم ہوتا ہے، کیونکہ جننیوں کی بیٹیاں (نعوذ باللہ) اللہ کی بیویاں ہوں تو جنّ سسر ہوں گے۔ علاوہ ازیں مجاہد کی ابوبکر ؓ سے ملاقات بھی نہیں، اس لیے یہ منقطع ہے۔ دوسرا قول ابن عباس ؓ کا نقل کیا ہے کہ اللہ کے ان دشمنوں نے اللہ تعالیٰ اور ابلیس کو دو بھائی قرار دیا۔ مفسرین نے اس تشریح میں فرمایا کہ یہ ایرانیوں کا عقیدہ تھا کہ خالق دو ہیں، ایک خالق خیر، جسے ”یزداں“ کہتے ہیں اور ایک خالق شر، جسے ”اہرمن“ کہتے ہیں۔ مگر اس تفسیر میں بھی دو خرابیاں ہیں، ایک تو اس کی سند ثابت نہیں، کیونکہ یہ طبری نے عوفی عن ابن عباس کے طریق سے بیان کی ہے، جو ضعیف ہے، دوسرے اس میں اللہ تعالیٰ اور ابلیس کے درمیان بھائی ہونے کے رشتے کا بیان ہے، جب کہ آیت میں عام جنوں کا ذکر ہے۔
بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہاں ”الْجِنَّةِ“ سے مراد فرشتے ہیں، کیونکہ جنّات کو ان کے چھپے ہوئے ہونے کی وجہ سے ”جنّ“ کہتے ہیں، جیسا کہ جنین، جنون وغیرہ الفاظ میں یہی مفہوم پایا جاتا ہے اور فرشتے بھی چھپے ہوتے ہیں، اس لیے یہاں مراد یہ ہے کہ انھوں نے فرشتوں اور اللہ کے درمیان نسبی رشتہ قرار دیا ہے، اس طرح کہ انھیں اللہ کی بیٹیاں قرار دیا۔ مگر اس میں بھی دو خرابیاں ہیں، ایک تو فرشتوں کو ”جنّ“ کہنا بہت بڑا تکلف ہے، کیونکہ جنّ آگ سے پیدا ہوئے ہیں اور فرشتے نور سے۔ دوسری خرابی یہ ہے کہ یہ بات تو اوپر آیت (153) میں گزر چکی ہے : (اَصْطَفَى الْبَنَاتِ عَلَي الْبَنِيْنَ) اسے بلا ضرورت دوبارہ ذکر کرنے کا کیا فائدہ ؟ میں نے اس مسئلے میں بہت سی تفاسیر کا مطالعہ کیا، سب کا خلاصہ یہ ہے جو میں نے اوپر بیان کردیا۔ آخر میں مجھے مولانا ثناء اللہ امرتسری کی تفسیر سے اطمینان ہوا، وہ یہ کہ مشرکین جس طرح فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے جنوں کو اللہ کے بیٹے (یا اولاد) کہتے تھے۔ دلیل اس کی اللہ تعالیٰ کا یہی فرمان ہے کہ انھوں نے اللہ کے درمیان اور جنوں کے درمیان نسب قرار دیا۔ ظاہر ہے نسب کا اطلاق سب سے پہلے بیٹوں اور بیٹیوں پر ہوتا ہے۔ مشرکوں سے یہ بات کچھ بعید نہیں اور اللہ سے زیادہ سچا راوی کون ہوسکتا ہے ؟ (واللہ اعلم)
وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَ : ”مُحْضَرُوْنَ“ (حاضر کیے گئے) انھی کے متعلق کہا جاتا ہے جو خود آنا نہ چاہتے ہوں۔ یعنی یقیناً جنّوں کو معلوم ہے کہ وہ حساب کے لیے حاضر کیے جانے والے ہیں۔ کیا باپ کا اولاد کے ساتھ یہ معاملہ ہوتا ہے ؟