Ayah 37:41اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌ : یعنی ایسی روزی جو ان کے لیے مقرر ہوچکی ہے، جس کے ملنے کا انھیں یقین ہے کہ ہمیشہ ملتی رہے گی، کبھی روکی نہیں جائے گی۔ اگلی آیت میں اس کی کچھ تفصیل بیان فرمائی۔
Ayah 37:42”فَوَاكِهُ“ ”فَاکِھَۃٌ“ کی جمع ہے، پھل جس سے لذت حاصل ہو۔ یعنی ان کے کھانے کی تمام چیزیں، حتیٰ کہ گوشت وغیرہ بھی، لذت کے لیے ہوں گی، نہ کہ پیٹ بھرنے کے لیے، کیونکہ جنت میں بھوک پیاس کے ستانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دیکھیے سورة طٰہٰ (118، 119)۔
وَهُمْ مُّكْـرَمُوْنَ : ”ۙفَوَاكِهُ“ جسمانی لذتیں ہیں جو روحانی لذتوں کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتیں، اس لیے فرمایا کہ وہ اس میں عزت بخشے گئے ہیں۔ ”مُّكْـرَمُوْنَ“ اسم مفعول اس لیے استعمال فرمایا کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے، فرشتوں کی طرف سے اور جنت کے دوسرے تمام ساتھیوں اور خدمت گاروں غرض ہر طرف سے عزت ملے گی۔
Ayah 37:43فِيْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ : کھانے پینے اور اکرام کے ساتھ رہنے کی عمدہ جگہ بھی ضروری ہے، اس لیے فرمایا، وہ نعمت کے باغوں میں ہوں گے، جہاں نعمت کے سوا کسی چیز کا تصور ہی نہیں۔ وہاں نہ فقر ہے نہ بیماری، نہ بغض ہے نہ عداوت، نہ غم ہے نہ خوف اور نہ ہی وہاں موت ہے۔ غرض نعمت ہی نعمت ہے، نہ کوئی زحمت ہے نہ کسی نعمت کا زوال۔
Ayah 37:44عَلٰي سُرُرٍ مُّتَـقٰبِلِيْنَ : لذت کی تکمیل کے لیے احباب اور مجلس کے لوازم کا ہونا ضروری ہے۔ فرمایا، وہ اور ان کے احباب سب بادشاہ ہوں گے، جو تختوں پر بیٹھے ہوں گے اور وہ جتنے بھی زیادہ ہوں گے ہر ایک کا چہرہ دوسرے کے چہرے کے سامنے ہوگا، کسی کی پیٹھ دوسرے کی طرف نہیں ہوگی۔ اس سے ان کے دلوں کی صفائی اور باہمی محبت کا بھی اظہار ہوتا ہے، کیونکہ دلوں میں محبت نہ ہو تو چہرے ایک دوسرے کی طرف نہیں رہتے۔
Ayah 37:45يُـطَافُ عَلَيْهِمْ بِكَاْسٍ : ”کَأْسٌ“ شیشے کا پیالہ جو شراب سے بھرا ہوا ہو، خالی پیالے کو ”کَأْسٌ“ نہیں کہتے۔ مجلس احباب میں سرور کے لیے شراب معروف تھی، سو فرمایا، جنت میں شراب کے جام پھرانے والے۔ غلمان ہوں گے، انھی جنتیوں کے لڑکے جو (چھوٹی عمر میں فوت ہوگئے اور) ہمیشہ اسی طرح رہیں گے، جیسا کہ فرمایا : (وَيَطُوْفُ عَلَيْهِمْ غِلْمَانٌ لَّهُمْ كَاَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَّكْنُوْنٌ) [ الطور : 24 ] ”اور ان پر چکر لگاتے رہیں گے انھی کے لڑکے، جیسے وہ چھپائے ہوئے موتی ہوں۔“ اور فرمایا : (يَــطُوْفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ۔ بِاَكْوَابٍ وَّاَبَارِيْقَ ڏ وَكَاْسٍ مِّنْ مَّعِيْنٍ) [ الواقعۃ : 17، 18 ] ”ان پر چکر لگا رہے ہوں گے وہ لڑکے جو ہمیشہ (لڑکے ہی) رکھے جائیں گے۔ ایسے کوزے اور ٹونٹی والی صراحیاں اور لبالب بھرے ہوئے پیالے لے کر جو بہتی ہوئی شراب کے ہوں گے۔“
مِّنْ مَّعِيْنٍۢ : ”مَّعِيْنٍۢ“ ”مَعَنَ یَمْعَنُ مُعُوْنًا“ (ف، ک) ”اَلْمَاءُ“ ”جَرٰی“ پانی کا بہنا۔ ”مَّعِيْنٍۢ“ (فَعِیْلٌ) بہنے والا، جیسے ”شَرُفَ“ سے ”شَرِیْفٌ“ ہے۔ یعنی وہ شراب اس قسم کی نہیں ہوگی جو دنیا میں پھلوں اور غلوں کو سڑا کر کشید کی جاتی ہے، بلکہ قدرتی چشموں سے نکلے گی اور نہروں کی صورت میں بہتی ہوگی، جن میں سے جام بھر بھر کر انھیں پلائے جائیں گے۔ جنت کی چار قسم کی نہروں میں سے ایک قسم کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَاَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيْنَ) [ محمد : 15 ] ”اور کئی نہریں شراب کی ہیں، جو پینے والوں کے لیے لذیذ ہے۔“
Ayah 37:46بَيْضَاۗءَ لَذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيْنَ : ”بَيْضَاۗءَ“ ”أَبْیَضُ“ کی مؤنث ہے، سفید۔ کھانے پینے کی چیزوں میں سب سے پہلی مرغوب یا نامرغوب چیز ان کا رنگ ہے، اس کے بعد ان کی لذت ہے۔ دنیا کی شرابیں عموماً بد رنگ ہوتی ہیں اور اتنی بد ذائقہ اور بدبودار ہوتی ہیں کہ پینے والے کا منہ بگڑ بگڑ جاتا ہے، جبکہ جنت کی شراب کا رنگ نہایت سفید ہوگا اور پینے والوں کے لیے بہت لذیذ ہوگی، جس میں سے کستوری کی خوشبو آئے گی، جیسا کہ فرمایا : (خِتٰمُهٗ مِسْكٌ) [ المطففین : 26 ] ”اس کی مہر کستوری ہوگی۔“ ”لِّلشّٰرِبِيْنَ“ (جمع) لانے میں اشارہ ہے کہ شراب کا دور مجلس احباب میں چلے گا۔
Ayah 37:47لَا فِيْهَا غَوْلٌ وَّلَا هُمْ عَنْهَا يُنْزَفُوْنَ : ”غَوْلٌ“ کا معنی خرابی، سر درد، پیٹ کا درد اور ہلاکت ہے۔ ”يُنْزَفُوْنَ“ ”نَزَفَ“ (مجرد) اور ”أَنْزَفَ“ (مزیدفیہ) معروف و مجہول کا معنی عقل زائل ہونا ہے۔ دنیا کی شراب میں پائی جانے والی خرابیوں میں سے اس کے بدرنگ، بد ذائقہ اور بدبو دار ہونے کی نفی تو ”ۙبَيْضَاۗءَ لَذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيْنَ“ سے ہوگئی تھی، اب اس میں پائی جانے والی مزید خرابیوں کی بھی نفی فرما دی۔ دنیا کی شراب پینے کے بعد الٹیاں آتی ہیں، خمار کی صورت میں سر، پیٹ اور سارے جسم میں درد ہوتا ہے جو بعض اوقات ہلاکت تک پہنچا دیتا ہے اور عقل جو انسان کا شرف ہے، جاتی رہتی ہے۔ جنت کی شراب ایسی ہر خرابی سے پاک ہوگی، نہ اس میں سر درد یا کوئی اور خرابی ہوگی اور نہ ہی اس کی وجہ سے ان کی عقل ماری جائے گی۔ البتہ شراب کی وہ خوبیاں جن کی وجہ سے لوگ اتنی خرابیوں کے باوجود اسے پیتے ہیں، وہ سب بدرجہ اتم موجود ہوں گی، مثلاً کھانے کی رغبت پیدا کرنا، سرور لانا اور قوت و شہوت کو ابھارنا وغیرہ۔
Ayah 37:48وَعِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ عِيْنٌ : ”عِيْنٌ“ ”عَیْنَاءُ“ کی جمع ہے، خوب صورت موٹی آنکھوں والی۔ کھانے پینے اور شراب کے ساتھ لذت کی تکمیل بیویوں کی صحبت سے ہوتی ہے، اس کے لیے ان کی بیویوں کا ذکر فرمایا، جو ہر قسم کے ظاہری و باطنی اور صوری و معنوی کمال سے آراستہ ہوں گی۔ معنوی کمال یہ کہ ایسی عفیف ہوں گی کہ ان کی نگاہیں اپنے خاوندوں کے سوا کسی کی طرف نہیں اٹھیں گی اور ظاہری حسن کا یہ حال ہوگا کہ وہ گورے رنگ والی اور نہایت خوب صورت موٹی آنکھوں والی ہوں گی، جن کی آنکھوں کی سیاہی بہت سیاہ اور سفیدی بہت سفید ہوگی۔ سورة واقعہ میں ہے : (وَحُوْرٌ عِيْنٌ) [ الواقعۃ : 22 ] ”اور (ان کے لیے وہاں) سفید جسم، سیاہ آنکھوں والی عورتیں ہیں، جو فراخ آنکھوں والی ہیں۔“
Ayah 37:49كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ: ”بَيْضٌ“ ”بَیْضَۃٌ“ کی جمع ہے، انڈے۔ انڈے کا رنگ عموماً سفید سرخی مائل ہوتا ہے، جس میں کچھ زردی کی آمیزش ہوتی ہے۔ یہ رنگ چھپا کر رکھنے سے قائم رہتا ہے، ورنہ اڑجاتا ہے۔ خصوصاً شتر مرغ کے انڈے اس رنگ کے ہوتے ہیں اور شتر مرغ انھیں اپنے ملائم اور نرم پروں کے ریشوں کے فرش پر رکھ کر انھی کے ساتھ ڈھانپ دیتا ہے۔ عرب لوگ عورتوں کے ایسے رنگ کو بہت پسند کرتے ہیں اور انھیں چھپائے ہوئے انڈوں کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں۔ اشرف الحواشی میں ہے : ”بعض مفسرین نے ”بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ“ کی تفسیر ”انڈے کے چھلکے کے نیچے چھپی ہوئی جھلی“ سے کی ہے اور اس کی یہی تفسیر ام سلمہ ؓ نے نبی ﷺ سے نقل کی ہے، اس لیے اس کی یہی تفسیر صحیح ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے ”بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ“ کا مطلب دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”ان کی (یعنی جنت کی حوروں کی) نرمی اور نزاکت اس جھلی جیسی ہوگی جو انڈے کے چھلکے سے چپکی ہوتی ہے اور اسے ”غِرْقِیٌّ“ کہا جاتا ہے۔“ (ابن کثیر، ابن جریر) قاموس میں ہے : ”غَرْقَأَتِ الدَّجَاجَۃُ بَیْضَتَھَا“ ”مرغی نے سخت چھلکے کے بغیر انڈا دیا۔“ مگر تفسیر ابن کثیر کے محقق حکمت بن بشیر نے اس روایت کے متعلق لکھا ہے : ”اسے طبری اور طبرانی نے ایک ہی سند اور متن کے ساتھ روایت کیا ہے اور اس کی سند سلیمان بن ابی کریمہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔ اسے عقیلی اور ابن عدی نے ضعیف کہا ہے۔“ علاوہ ازیں قرآن میں ان عورتوں کو ”الولوا المکنون“ بھی کہا گیا ہے، اس لیے ”بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ“ اور ”الولوا المکنون“ کی مناسبت مدنظر رہنی چاہیے۔ (واللہ اعلم)
Ayah 37:50فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰي بَعْضٍ يَّتَسَاۗءَلُوْنَ : جنتی جنت میں ایسی آراستہ مجلسوں میں بیٹھے ہوئے ایک دوسرے سے دنیا میں گزرے ہوئے حالات و واقعات پوچھیں گے اور سنائیں گے۔
Ayahs 37:51–53قَالَ قَاۗىِٕلٌ مِّنْهُمْ اِنِّىْ كَانَ لِيْ قَرِيْنٌ : ”قَرِيْنٌ“ ایسے ساتھی یا دوست کو کہتے ہیں جو ہم عمر ہو، یا بہادری، قوت اور اس طرح کے دوسرے اوصاف میں ہم سر ہو، اور اس لفظ کا استعمال عموماً برے معنوں میں ہوتا ہے۔ (کیلانی) ان میں سے ایک جنتی کہے گا، دنیا میں میرا ایک ساتھی تھا، جو مرنے کے بعد اٹھنے کا منکر تھا، وہ مذاق کرتے ہوئے انکار کے طور پر کہا کرتا تھا کہ کیا واقعی تم بھی ان لوگوں میں شامل ہو جو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے جیسی بعید از عقل بات کو مانتے ہیں، کیا جب ہم مرکر مٹی اور ہڈیاں ہوگئے تو کیا واقعی ہمیں ہمارے اعمال کی جزا دی جائے گی ؟ ”مَدِیْنُوْنَ“ ”مَدِیْنٌ“ کی جمع ہے، جو اصل میں ”دَانَ یَدِیْنُ دِیْنًا“ (ض) سے اسم مفعول ”مَدْیُوْنٌ“ ہے۔
Ayah 37:54قَالَ هَلْ اَنْتُمْ مُّطَّلِعُوْنَ : وہ مومن اپنے جنتی ساتھیوں اور ہم نشینوں سے کہے گا، کیا تم جہنم میں جھانکو گے، شاید وہ کہیں نظر آجائے تو دیکھیں کس حال میں ہے ؟ کیونکہ اسے گمراہ کرنے کی کوشش کرنے والے کو جہنم میں دیکھ کر اور دوستوں کو دکھا کر خوشی ہوگی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (فَالْيَوْمَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْكُفَّارِ يَضْحَكُوْنَ۔ عَلَي الْاَرَاۗىِٕكِ ۙ يَنْظُرُوْنَ۔ هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ) [ المطففین : 34 تا 36 ] ”سو آج وہ لوگ جو ایمان لائے، کافروں پر ہنس رہے ہیں۔ تختوں پر (بیٹھے) نظارہ کر رہے ہیں۔ کیا کافروں کو اس کا بدلا دیا گیا جو وہ کیا کرتے تھے ؟“
Ayah 37:55فَاطَّلَعَ فَرَاٰهُ فِيْ سَوَاۗءِ الْجَحِيْمِ :”سَوَاۗءِ“ کا اصل معنی برابر ہے، یہاں مراد درمیان ہے، کیونکہ درمیان کی جگہ چاروں طرف سے برابر ہوتی ہے۔ چناچہ وہ مومن اپنے دوستوں کے ساتھ جھانکے گا تو قیامت کے اس منکر کو بھڑکتی ہوئی آگ کے وسط میں دیکھے گا۔
اس سے معلوم ہوا کہ آخرت میں جنتیوں کو دیکھنے اور سننے کی جو قوتیں عطا کی جائیں گی وہ دنیا کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوں گی۔ اس وقت ہم دنیا میں ہزاروں میل دور بیٹھے ہوئے آدمیوں کی آوازیں سنتے اور انھیں دیکھتے ہیں، مگر صرف ٹیلی ویژن کی وساطت سے۔ آخرت میں ہر شخص دوسرے سے کسی آلے کے بغیر بات کرسکے گا اور اسے دیکھ سکے گا، خواہ وہ کتنا دور ہو۔
Ayah 37:56قَالَ تَاللّٰهِ اِنْ كِدْتَّ لَتُرْدِيْنِ :”اِنْ كِدْتَّ“ اصل میں ”إِنَّکَ کِدْتَّ“ تھا، دلیل اس کی ”لَتُرْدِيْنِ“ کا لام ہے۔ ”کِدْتَّ“ ”کَادَ یَکَادُ“ سے ماضی معلوم ہے۔ ”لَتُرْدِيْنِ“ اصل میں ”لَتُرْدِیْنِيْ“ تھا۔ ”أَرْدٰی یُرْدِيْ إِرْدَاءً“ (افعال) ہلاک کرنا۔ اسے مخاطب کر کے کہے گا، اللہ کی قسم ! یقیناً تو قریب تھا کہ مجھے راہ راست سے بہکا کر ہلاک کردیتا۔
ان آیات میں برے ساتھیوں سے اجتناب کا سبق ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل نہ ہو تو اس کا نتیجہ کتنا مہلک ہے۔
Ayah 37:57وَلَوْلَا نِعْمَةُ رَبِّيْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِيْنَ : اس کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کا احسان یاد کر کے اس کا تذکرہ کرے گا کہ اگر میرے رب کا مجھ پر احسان نہ ہوتا تو میں بھی ان لوگوں میں شامل ہوتا جنھیں گرفتار کر کے جہنم میں حاضر کیا گیا ہے۔ یہ اس کا احسان ہے کہ اس نے مجھے ایمان پر قائم رکھا، ورنہ میرے قدم بھی ڈگمگا جاتے۔
ان دونوں دوستوں کا قصہ سورة کہف میں مذکور دو باغوں کے مالک (جو آخرت کا منکر تھا) اور اس کے مومن دوست کے قصے سے مناسبت رکھتا ہے۔
Ayahs 37:58–59اَفَمَا نَحْنُ بِمَيِّتِيْنَ : ان آیات کی دو تفسیریں ہیں، ایک یہ ہے کہ وہ مومن یہ بات اپنے اس کافر دوست کو کہے گا جو قیامت کا منکر تھا اور وہ دنیا میں کہا کرتا تھا : (اِنْ هِىَ اِلَّا مَوْتَـتُنَا الْاُوْلٰى وَمَا نَحْنُ بِمُنْشَرِيْنَ) [ الدخان : 35 ] ”کہ ہماری اس پہلی موت کے سوا کوئی (موت) نہیں اور نہ ہم کبھی دوبارہ اٹھائے جانے والے ہیں۔“ مومن اسے مخاطب کر کے کہے گا، اب دیکھ لو ! کیا تمہاری وہ بات درست نکلی یا غلط کہ : (اَفَمَا نَحْنُ بِمَيِّتِيْنَ 58ۙاِلَّا مَوْتَتَنَا الْاُوْلٰى وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِيْنَ)”تو کیا ہم کبھی مرنے والے نہیں ہیں، مگر ہماری پہلی موت اور نہ ہم کبھی عذاب دیے جانے والے ہیں۔“ یعنی اب آگ کے وسط میں گرنے پر تمہیں ثابت ہوگیا کہ تمہاری بات غلط تھی ؟
دوسری تفسیر یہ ہے کہ اس مومن کا یہ خطاب اپنے دنیا کے کافر ساتھی کے ساتھ اس سے پہلی آیت ”لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِيْنَ“ پر ختم ہوگیا، اس کے بعد وہ مومن جنت میں عطا کردہ نعمتوں کو دیکھ کر اور یہ جان کر کہ اب ہمیشہ جنت میں رہنا ہے، اب نہ موت آئے گی اور نہ یہاں سے نکالے جائیں گے، خوشی اور تعجب کے ساتھ اپنے جنتی ساتھیوں سے کہے گا کہ کیا واقعی ایسا ہے کہ پہلی موت کے بعد جو آچکی، اب ہم کبھی مرنے والے نہیں، نہ ہی ہمیں کبھی عذاب ہوگا، بلکہ ہم ہمیشہ زندہ رہیں گے اور جنت ہی میں رہیں گے ؟ اگرچہ اکثر مفسرین نے دوسری تفسیر کی ہے، مگر پہلی تفسیر زیادہ ظاہر ہے۔
Ayahs 37:60–61اِنَّ ھٰذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ : یہ دونوں آیات اس مومن کا بقیہ کلام بھی ہوسکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا کلام بھی کہ ”عِبَاد اللّٰهِ الْمُخْلَصِيْنَ“ (اللہ کے خالص کیے ہوئے بندوں) کو حاصل ہونے والا یہ ”رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌ“ (مقرر رزق) ہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ ایسے ہی خوش کن انجام کو حاصل کرنے کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے۔
Ayah 37:62اَذٰلِكَ خَيْرٌ نُّزُلًا اَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّوْمِ : ”نُّزُلًا“ کھانے پینے کی چیزیں اور آرام کی جگہ جو مہمان کے آنے کے وقت کے لیے تیار کی جائیں۔ ”الزَّقُّوْمِ“ اسی سے ”تَزَقُّمٌ“ ہے، جس کا معنی کسی ناگوار چیز کو نہایت مشکل سے نگلنا ہے۔ اس درخت کا دنیا میں وجود نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ اسے آگ میں پیدا فرمائے گا۔ صرف لفظی مشابہت کی حد تک ایک زہریلا پودا ہے جو ”زقوم“ کہلاتا ہے، جس کا دودھ جسم کو لگ جائے تو جسم سوج جاتا ہے اور آدمی مرجاتا ہے۔ صحرا کے قریب کی خشک زمینوں میں پایا جاتا ہے۔ (الوسیط) اہل جنت کے لیے ”رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌ 41ۙفَوَاكِهُ ۚ وَهُمْ مُّكْـرَمُوْنَ 42ۙفِيْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ“ کی مہمانی کے ذکر کے بعد اہل جہنم کی مہمانی کا ذکر فرمایا۔ اگرچہ بہتری میں دونوں کا کوئی مقابلہ نہیں، مگر کفار اپنے اعمال کو مسلمانوں کے اعمال سے بہتر سمجھتے تھے، اس لیے ان کا نتیجہ ذکر کر کے فرمایا کہ بتاؤ، دونوں میں سے بہتر کیا ہے ؟ علاوہ ازیں اس میں کفار پر طنز بھی ہے۔
Ayah 37:63اِنَّا جَعَلْنٰهَا فِتْنَةً لِّلظّٰلِمِيْنَ : یہاں ”اَلظَّالِمِیْنَ“ سے مراد کفارو مشرکین ہیں اور ”زقوم“ انھی کے لیے آزمائش ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان سنایا : (اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِ۔ طَعَامُ الْاَثِيْمِ۔ كَالْمُهْلِ ڔ يَغْلِيْ فِي الْبُطُوْنِ۔ كَغَلْيِ الْحَمِيْمِ) [ الدخان : 43 تا 46 ] ”بیشک زقوم کا درخت گناہ گار کا کھانا ہے۔ پگھلے ہوئے تانبے کی طرح، پیٹوں میں کھولتا ہے۔ گرم پانی کے کھولنے کی طرح۔“ اور یہ فرمان : (ثُمَّ اِنَّكُمْ اَيُّهَا الضَّاۗلُّوْنَ الْمُكَذِّبُوْنَ۔ لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍ) [ الواقعۃ : 51، 52 ] ”پھر بیشک تم اے گمراہو ! جھٹلانے والو ! یقیناً تھوہر کے پودے میں سے کھانے والے ہو۔“ تو ایمان والوں کو اسے ماننے میں کوئی الجھن نہیں ہوئی، کیونکہ انھیں یقین تھا کہ اللہ اور اس کا رسول جو فرماتے ہیں وہ حق ہے۔ وہ کفار ہی تھے جنھوں نے کہا، آگ میں درخت کیسے ہوسکتا ہے ؟ مزید دیکھیے سورة بنی اسرائیل (60)۔
Ayah 37:64اِنَّهَا شَجَــرَةٌ تَخْرُجُ فِيْٓ اَصْلِ الْجَحِيْمِ : یعنی زقوم ایسا درخت ہے جو جہنم کی تہ میں اگتا ہے اور آگ کی حرارت سے اس کا کچھ نہیں بگڑتا، جیسے پانی جن پودوں پر چڑھ جائے وہ مرجاتے ہیں، مگر سمندر کی تہ میں بیشمار درخت اور پودے اگتے ہیں۔
Ayah 37:65طَلْعُهَا كَاَنَّهٗ رُءُوْسُ الشَّيٰطِيْنِ : قاموس میں ہے ”طَلْعٌ“ دو ملے ہوئے جوتوں جیسی چیز ہے (جو کھجور کے درخت کے سرے پر نکلتی ہے) جس کے درمیان تہ بہ تہ پھل ہوتا ہے۔ ”رُءُوْسُ الشَّيٰطِيْنِ“ میں شیاطین سے مراد اگر ابلیس کی اولاد ہو تو وہ کسی نے نہیں دیکھی، نہ ان کے سر دیکھے ہیں، مگر یہ تشبیہ اس لیے دی گئی ہے کہ تمام دماغوں میں شیطان کا تصور سب سے بری اور مکروہ شخصیت کا ہے، جو ہر قسم کی خیر سے خالی ہے، جیسا کہ کسی بدصورت عورت یا مرد کو بدصورتی میں تشبیہ دینی ہو تو اسے بھوتنی یا بھوت کہا جاتا ہے، حالانکہ بھوت کسی نے نہیں دیکھا۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ سانپوں کی ایک قسم کو بھی شیاطین کہتے ہیں، ان کے سروں سے مراد ان کے ”پھن“ ہیں۔
Ayah 37:66فَاِنَّهُمْ لَاٰكِلُوْنَ مِنْهَا : یعنی جہنمیوں پر ایسی خوف ناک بھوک مسلط ہوگی کہ زقوم کے نہایت تلخ ہونے اور گلے میں اٹکنے کے باوجود اسے چارو ناچار کھائیں گے۔ دیکھیے سورة مزمل (12، 13) اور غاشیہ (6، 7) اور پیٹ بھر کر کھائیں گے۔
Ayah 37:67ثُمَّ اِنَّ لَهُمْ عَلَيْهَا لَشَوْبًا مِّنْ حَمِيْمٍ : ”شَابَ یَشُوْبُ شَوْبًا“ (ن) ملانا۔ ”حَمِيْمٍ“ انتہائی گرم پانی، یعنی زقوم کھانے کے بعد انھیں ایسی ہولناک پیاس لگے گی جس کی وجہ سے وہ مجبوراً انتہائی گرم پانی پییں گے، جو ایسا سخت گرم ہوگا کہ ان کی انتڑیاں ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا، فرمایا : (وَسُقُوْا مَاۗءً حَمِيْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَاۗءَهُمْ) [ محمد : 15 ] ”اور انھیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا تو وہ ان کی انتڑیاں ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔“ یہی مضمون سورة واقعہ (51 تا 55) میں بھی بیان ہوا ہے۔
Ayah 37:68ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَا۟اِلَى الْجَحِيْمِ : اس سے معلوم ہوا کہ زقوم کا درخت اور کھولتے پانی کے چشمے جہنم کے کسی خاص حصے میں ہوں گے، جب انھیں بھوک یا پیاس لگے گی تو انھیں اس مقام کی طرف ہانک دیا جائے گا، یا وہ خود ہی چلے جائیں گے، پھر دوبارہ انھیں بھڑکتی ہوئی آگ میں اپنے ٹھکانے کی طرف واپس لایا جائے گا، جیسا کہ فرمایا : (يَطُوْفُوْنَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيْمٍ اٰنٍ) [ الرحمٰن : 44 ] ”وہ اس (جہنم) کے درمیان اور کھولتے ہوئے سخت گرم پانی کے درمیان چکر کاٹتے رہیں گے۔“
Ayahs 37:69–70اِنَّهُمْ اَلْفَوْا اٰبَاۗءَهُمْ ضَاۗلِّيْنَ : ”اَلْفَوْا“ ”أَلْفٰی یُلْفِيْ إِلْفَاءً“ (افعال) پانا۔ ”يُهْرَعُوْنَ“ کی وضاحت کے لیے سورة ہود کی آیت دیکھیے (78) کی تفسیر۔ یعنی ان کفار کے عذاب الیم کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے اپنے آباء کو ضلالت پر جمے ہوئے دیکھا اور اندھوں کی طرح بغیر سوچے سمجھے ان کے پیچھے دوڑ پڑے، جیسے کوئی انھیں پیچھے سے ہانک رہا ہو۔
Ayah 37:71وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ اَكْثَرُ الْاَوَّلِيْنَ : اس آیت میں رسول اللہ ﷺ اور داعیان حق کو تسلی دی ہے کہ ان کے ایمان نہ لانے پر زیادہ پریشان نہ ہوں، ان سے پہلے بھی اکثر لوگ گمراہ ہوئے۔ اگر یہ گمراہ ہیں تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ حق کی پیروی کرنے والی ایک جماعت ہمیشہ موجود رہی ہے، اگرچہ اکثریت گمراہوں کی رہی ہے۔
Ayah 37:72وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا فِيْهِمْ مُّنْذِرِيْنَ : یعنی پہلے اکثر لوگوں کے گمراہ ہونے کا باعث یہ نہیں تھا کہ ان کے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے ان میں بہت سے ڈرانے والے بھیجے، جو انھیں کفرو شرک اور اللہ کی حدود سے تجاوز کے برے انجام سے ڈراتے تھے۔ مگر انھوں نے حق قبول نہیں کیا، بلکہ باپ دادا کی تقلید پر جمے رہے اور اندھا دھند پہلوں کے نقش قدم پر دوڑتے گئے۔
Ayah 37:73فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ : تو اے رسول یا اے مخاطب ! دیکھ، ان لوگوں کا انجام کیا ہوا کہ اپنے اعمال کی وجہ سے پکڑے گئے، اس پکڑ کی کچھ وضاحت سورة عنکبوت میں ہے، فرمایا : (فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا ۚوَمِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ ۚ وَمِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ ۚ وَمِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا ۚ وَمَا كَان اللّٰهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ) [ العنکبوت : 40 ] ”تو ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ میں پکڑ لیا، پھر ان میں سے کوئی وہ تھا جس پر ہم نے پتھراؤ والی ہوا بھیجی اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے چیخ نے پکڑ لیا اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے ہم نے غرق کردیا اور اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرے اور لیکن وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔“
Ayah 37:74اِلَّا عِبَاد اللّٰهِ الْمُخْلَصِيْنَ : یعنی ہم نے تمام جھٹلانے والوں کو تباہ و برباد کردیا، مگر اللہ کے وہ بندے جو اس کی توحید و عبادت کے لیے چنے ہوئے تھے، وہی محفوظ رہے۔ آگے چند ”مُنْذِرِیْنَ“ (ڈرانے والوں) اور چند ”مُنْذَرِیْنَ“ (ڈرائے جانے والوں) کے قصے بیان فرمائے، تاکہ رسول اللہ ﷺ اور حق کے تمام داعی حضرات کے دلوں کو اطمینان حاصل ہو اور حق جھٹلانے والوں کو عبرت ہو۔
Ayah 37:75وَلَقَدْ نَادٰىنَا نُوْحٌ : پکارنے سے مراد وہ دعا ہے جو نوح ؑ نے ساڑھے نوسو سال تک صبرو استقامت کے ساتھ دعوت دینے کے بعد اس وقت کی جب اللہ تعالیٰ نے انھیں آگاہ کیا کہ اب تمہاری قوم میں سے ان کے سوا کوئی ایمان نہیں لائے گا جو ایمان لا چکے۔ اس دعا کا ذکر سورة قمر (10) اور سورة نوح (26) میں ہے۔
فَلَنِعْمَ الْمُجِيْبُوْنَ : یہاں اس کے بعد مخصوص بالمدح ”نَحْنُ“ محذوف ہے، یعنی یقیناً ہم اچھے دعا قبول کرنے والے ہیں۔ نوح ؑ کی دعا کی قبولیت کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة ہود (36 تا 48)۔
Ayah 37:76وَنَجَّيْنٰهُ وَاَهْلَهٗ : ”الْكَرْبِ الْعَظِيْمِ“ (بہت بڑی مصیبت) سے نجات سے مراد اس طوفان عظیم سے نجات ہے اور اس ہر وقت کی پریشانی سے بھی جو قوم کے جھٹلانے اور ستانے کی صورت میں سیکڑوں برس انھیں لاحق رہی۔
Ayah 37:77وَجَعَلْنَا ذُرِّيَّتَهٗ هُمُ الْبٰقِيْنَ : اس سے صاف ظاہر ہے کہ طوفان کے بعد صرف نوح ؑ کی نسل آگے چلی، باقی ایمان والوں کی نسل ختم ہوگئی۔ اس آیت کے مطابق سورة بنی اسرائیل کی آیت (3) : (ذُرِّيَّــةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ) (اے ان لوگوں کی اولاد جنھیں ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا !) کا مطلب بھی یہی ہے کہ بعد میں نوح ؑ کے بیٹوں اور پوتوں کی نسل ہی چلی جو کشتی میں سوار تھے۔ طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ نوح ؑ کی اولاد کے سوا کوئی باقی نہیں رہا۔
Ayahs 37:78–79وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْاٰخِرِيْنَ : یعنی بعد میں آنے والی تمام اقوام نوح ؑ پر سلام بھیجتی رہیں گی۔
Ayah 37:80اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ : ”احسان“ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں بھی ہوتا ہے اور بندوں کے ساتھ بھی۔ اللہ کی عبادت میں احسان کا ذکر حدیث جبریل میں ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : (أَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَأَنَّکَ تَرَاہُ ، فَإِنْ لَمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَإِنَّہُ یَرَاکَ) [ بخاري، الإیمان، باب سؤال جبریل النبي ﷺ۔۔ : 50 ] ”(احسان یہ ہے) کہ تو اللہ کی عبادت اس طرح کرے گویا تو اسے دیکھ رہا ہے، تو اگر تو اسے نہیں دیکھتا تو یقیناً وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔“ بندوں کے ساتھ احسان کا ذکر قارون کو اس کی قوم کی نصیحت میں ہے، فرمایا : (وَاَحْسِنْ كَمَآ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَيْكَ) [ القصص : 77 ] ”جس طرح اللہ نے تجھ پر احسان کیا تو بھی احسان کر۔“ یعنی کسی معاوضے کی خواہش کے بغیر ان سے نیکی کر۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم نے نوح ؑ کو جزا دی، ان کی دعا قبول کی، انھیں اور ان کے اہل کو بہت بڑی مصیبت سے نجات دی اور ان پر سلام کو تاقیامت جاری رکھا، ایسے ہی ہم سب احسان کرنے والوں کو جزا دیتے ہیں۔ اس میں رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کے لیے بہت بڑی خوش خبری ہے۔