36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 36:1
يٰسۗ: یہ حروف مقطعات ہیں، ان کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورة بقرہ کی پہلی آیت۔
Ayah 36:2

وَ الْقُرْاٰنِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 36:2 in the Quran reader

اس حکمت سے بھرے ہوئے قرآن کی قسم !

وَالْقُرْاٰنِ الْحَكِيْمِ : قسم سے مقصود اس بات کا یقین دلانا ہوتا ہے جس کے لیے قسم اٹھائی جائے اور قسم اس بات کی دلیل ہوتی ہے جو اس قسم کے بعد اس کے جواب کے طور پر آرہی ہوتی ہے، پھر بعض اوقات جس کی قسم اٹھائی جائے اس کی عظمت ہی کو جواب قسم کی شہادت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، مثلاً اللہ کی قسم، اور بعض اوقات قسم کا مفہوم جواب قسم کی دلیل ہوتا ہے اور اس کے سچے ہونے کی شہادت دے رہا ہوتا ہے۔ ”الْحَكِيْمِ“ کا ایک معنی یہ ہے کہ یہ قرآن دانائی اور حکمت سے بھرپور ہے، اس کی کوئی بات نہ خطا ہے نہ عقل کے خلاف اور نہ کم تر درجہ کی، بلکہ ہر بات ہی کمال عقل و دانش پر مبنی ہے اور ایک معنی یہ ہے کہ یہ قرآن انتہائی محکم اور مضبوط ہے، اس کی آیات میں کوئی باہمی اختلاف نہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے قرآن حکیم کی قسم کھا کر تین باتیں فرمائیں، پہلی یہ کہ یقیناً تو رسولوں میں سے ہے، جنھیں ہماری طرف سے بھیجا گیا ہے، دوسری یہ کہ یقیناً تو سیدھے راستے پر ہے اور تیسری یہ کہ یہ عزیز و رحیم کا نازل کردہ ہے۔ قسم اور جواب قسم میں مناسبت بالکل واضح ہے کہ آپ کی رسالت اور دوسری دونوں باتوں کے لیے اور کوئی دلیل نہ بھی ہو تو یہ قرآن ہی ان کی دلیل کے لیے کافی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حکمت سے بھرپور اور ہر لحاظ سے محکم یہ قرآن اس بات کا شاہد ہے کہ یقیناً آپ اللہ کے رسول ہیں، بالکل سیدھے راستے پر ہیں اور یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا ہوا ہے، جو عزیز بھی ہے اور رحیم بھی۔ کیونکہ آپ ﷺ اُمّی تھے، نہ لکھنا جانتے تھے نہ پڑھنا، نہ آپ نے کسی کی شاگردی اختیار کی تھی، نہ آپ نے نبوت سے پہلے کبھی کوئی ایسا یا اس سے ملتا جلتا کلام پیش کیا، جس سے شبہ ہو کہ کلام کا یہ ملکہ ترقی کرتا کرتا اس درجے تک پہنچ گیا۔ یہ سب باتیں کفار مکہ اچھی طرح جانتے تھے، کیونکہ وہ ذاتی طور پر آپ کو چالیس برس سے جانتے تھے، پھر چالیس برس کے بعد آپ ﷺ کی زبان پر یک لخت ایسے کلام کا جاری ہوجانا، جس نے عرب کے تمام فصیح و بلیغ لوگوں کو مقابلے سے عاجز کردیا اور گونگا بنادیا اور بار بار کے چیلنج کے باوجود وہ ایسا کلام پیش کرنے سے عاجز آگئے۔ اس سے یہ تین باتیں ثابت ہو رہی ہیں، ایک یہ کہ یہ عظیم الشّان حکیمانہ کلام آپ کا کلام نہیں بلکہ کسی اور کا کلام ہے جس نے آپ کو بھیجا ہے، دوسری یہ کہ وہ بھیجنے والا کوئی مخلوق نہیں بلکہ خود خالق کائنات ہے، جو عزیز و رحیم ہے، کیونکہ اگر یہ کسی اور کا کلام ہوتا تو وہ اس جیسا مزید بھی بنا کر پیش کردیتا، جب کہ پوری کائنات مل کر بھی اس جیسی ایک سورت پیش کرنے سے عاجز ہے اور تیسری یہ کہ جب آپ اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں تو یقیناً آپ جس راہ پر چل رہے ہیں وہ بالکل سیدھا راستہ ہے۔ اس میں قرآن کی عظمت و رفعت کا اظہار بھی ہے کہ اس کی قسم اٹھائی جا رہی ہے۔
Ayah 36:3

اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:3 in the Quran reader

بلاشبہ تو یقینا بھیجے ہوئے لوگوں میں سے ہے۔

اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ : اس کا یہ مطلب نہیں کہ معاذ اللہ نبی کریم ﷺ کو اپنے رسول ہونے میں کوئی شک تھا، بلکہ در اصل یہ ان کفار کی تردید ہے جو آپ ﷺ سے صاف کہتے تھے کہ آپ اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے نہیں ہیں، بلکہ اپنی طرف سے گھڑ کر یہ کلام پیش کر رہے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا ۭ قُلْ كَفٰى باللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ ۙ وَمَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ) [ الرعد : 43 ] ”اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کہتے ہیں تو کسی طرح رسول نہیں ہے۔ کہہ دے میرے درمیان اور تمہارے درمیان اللہ کا فیگواہ ہے اور وہ شخص بھی جس کے پاس کتاب کا علم ہے۔“
Ayah 36:4

عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍؕ Open ayah 36:4 in the Quran reader

سیدھی راہ پر ہے۔

عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَــقِيْمٍ : یعنی آپ دین توحید پر ہیں، جو سیدھا اللہ تک پہنچا دیتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَعَلَي اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِيْلِ وَمِنْهَا جَاۗىِٕرٌ) [ النحل : 9 ] ”اور سیدھا راستہ اللہ ہی پر (جا پہنچتا) ہے اور ان میں سے کچھ (راستے) ٹیڑھے ہیں۔“ یہی بات ان آیات میں فرمائی : (وَاِنَّكَ لَـــتَهْدِيْٓ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ , صِرَاط اللّٰهِ الَّذِيْ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭ اَلَآ اِلَى اللّٰهِ تَصِيْرُ الْاُمُوْرُ) [ الشوریٰ : 52، 53 ] ”اور بلاشبہ تو یقیناً سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ اس اللہ کے راستے کی طرف کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اسی کا ہے، سن لو ! تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیں۔“
Ayah 36:5

تَنْزِیْلَ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 36:5 in the Quran reader

یہ سب پر غالب، نہایت مہربان کا نازل کیا ہوا ہے۔

تَنْزِيْلَ الْعَزِيْزِ الرَّحِيْم : یعنی یہ کسی بےاختیار اور بےبس شخص کا کلام نہیں جس کے جھٹلانے کی کوئی پروا نہ ہو، بلکہ اس اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ ہے جو سب پر غالب ہے، اس کے مقابلے میں نہ کوئی اپنا کلام لاسکتا ہے نہ اس کے کلام کو نافذ ہونے سے کوئی طاقت روک سکتی ہے اور نہ اسے جھٹلا کر کوئی اس کی گرفت سے بچ سکتا ہے۔ ساتھ ہی وہ بیحد رحم والا بھی ہے کہ اس نے تمہاری ہدایت کے لیے رسول بھیجا، کتاب نازل فرمائی، پھر تمہیں مہلت دی اور جھٹلانے پر فوراً نہیں پکڑا۔
Ayah 36:6

لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اُنْذِرَ اٰبَآؤُهُمْ فَهُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 36:6 in the Quran reader

تاکہ تو اس قوم کو ڈرائے جن کے باپ دادا نہیں ڈرائے گئے، تو وہ بیخبر ہیں۔

لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اُنْذِرَ اٰبَاۗؤُهُمْ : یعنی آپ ﷺ کو اس لیے رسول بنایا اور یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ آپ اس قوم کو ڈرائیں جس میں اس سے پہلے کوئی نبی نہیں آیا، اس لیے وہ دین حق سے بیخبر ہیں۔ یہی مضمون سورة سجدہ (4) میں ملاحظہ فرمائیں۔ ابن کثیر نے فرمایا کہ ”لِتُنْذِرَ قَوْمًا“ میں قوم سے مراد عرب ہیں، جن کے آباء کو ڈرایا نہیں گیا، مگر اس پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ رسول اللہ ﷺ صرف عرب ہی کے لیے بھیجے گئے تھے۔ اس کا جواب ابن کثیر نے یہ دیا ہے کہ اکیلے عرب کے ذکر سے دوسری اقوام کی طرف مبعوث ہونے کی نفی نہیں ہوتی، جس طرح بعض افراد کے ذکر سے عموم کی نفی نہیں ہوتی۔ یہاں بہت سی آیات اور متواتر احادیث سے ثابت ہے کہ آپ تمام اقوام کی طرف مبعوث ہیں اور آپ کی بعثت قیامت تک کے لیے ہے۔ دیکھیے سورة اعراف (157) اور سورة سبا (28) مفسر سلیمان الجمل نے فرمایا : ”لِتُنْذِرَ قَوْمًا“ سے مراد عرب اور غیر عرب تمام اقوام ہیں اور ”اٰبَاۗؤُهُمْ“ سے مراد قریب کے آباء ہیں، یعنی قریب زمانے میں نہ عرب کی طرف کوئی نبی آیا نہ غیر عرب کی طرف۔ ہاں بعید زمانے میں عرب کی طرف اسماعیل، ہود، صالح اور شعیب ؑ مبعوث ہوئے اور غیر عرب کی طرف سب سے آخر میں عیسیٰ ؑ مبعوث ہوئے، جن کی بعثت کو تقریباً چھ سو برس گزر چکے تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے زمانے کے تمام لوگوں کی طرف مبعوث ہیں، خواہ عرب ہو یا عجم، کیونکہ ان کے قریب آباء کی طرف کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا۔ انبیاء کی آمد پر مدت دراز گزرنے کی وجہ سے یہ سب لوگ اصل دین سے بیخبر ہیں۔“ یہ تفسیر بھی بہت عمدہ ہے۔ اس پر وہ سوال پیدا ہی نہیں ہوتا جو ابن کثیر ؓ کی تفسیر پر وارد ہوتا ہے۔ ایک اور سوال یہ ہے کہ زمانۂ فترت (جس میں کوئی رسول نہیں آیا) کے لوگوں کو شرک اور گمراہی کی وجہ سے عذاب کیوں ہوگا، جب کہ اللہ تعالیٰ کا قاعدہ ہے : (وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا) [ بني إسرائیل : 15 ] ”اور ہم کبھی عذاب دینے والے نہیں، یہاں تک کہ کوئی پیغام پہنچانے والا بھیجیں۔“ جواب اس کا سورة بنی اسرائیل میں اسی مذکورہ بالا آیت (15) کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔
Ayah 36:7

لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰۤى اَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:7 in the Quran reader

بیشک ان کے اکثر پر بات ثابت ہوچکی، سو وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰٓي اَكْثَرِهِمْ :”حَقَّ الْقَوْلُ“ (بات ثابت ہوچکی) سے مراد ان پر عذاب کا فیصلہ ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ) [ السجدۃ : 13 ] ”اور اگر ہم چاہتے تو ہر نفس کو اس کی ہدایت دے دیتے اور لیکن میری طرف سے بات پکی ہوچکی کہ یقیناً میں جہنم کو جنوں اور انسانوں، سب سے ضرور بھروں گا۔“ یہ ان لوگوں کا ذکر ہے جو پیغمبر کی آمد اور حق واضح ہونے کے بعد بھی اپنے کفر پر اڑے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو ازل ہی میں ان کے بارے میں علم تھا کہ وہ اپنے عناد اور سرکشی کی وجہ سے ایمان نہیں لائیں گے اور اس نے اپنے اس علم کی بنا پر لکھ دیا تھا کہ وہ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ یہ اس وجہ سے نہیں کہ اللہ نے جبراً انھیں ایمان سے محروم رکھا، کیونکہ جبر کی صورت میں تو وہ عذاب کے مستحق قرار نہ پاتے۔ یہ بات کہ ان کی گمراہی کا باعث خود ان کی ضد اور ان کا عناد ہے، کئی آیات میں بیان ہوئی ہے۔ دیکھیے سورة بقرہ (26، 27) ، زخرف (36، 37) ، صف (5) ، انعام (110) ، حم السجدہ (25) اور احقاف (17، 18) اس آیت کی ہم معنی یہ آیت ہے : (اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ۔ وَلَوْ جَاۗءَتْھُمْ كُلُّ اٰيَةٍ حَتّٰى يَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِيْمَ) [ یونس : 96، 97 ] ”بیشک وہ لوگ جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی، وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ خواہ ان کے پاس ہر نشانی آجائے، یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں۔“
Ayah 36:8

اِنَّا جَعَلْنَا فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ اَغْلٰلًا فَهِیَ اِلَى الْاَذْقَانِ فَهُمْ مُّقْمَحُوْنَ Open ayah 36:8 in the Quran reader

بیشک ہم نے ان کی گردنوں میں کئی طوق ڈال دیے ہیں، پس وہ ٹھوڑیوں تک ہیں، سو ان کے سر اوپر کو اٹھا دیے ہوئے ہیں۔

اِنَّا جَعَلْنَا فِيْٓ اَعْنَاقِهِمْ اَغْلٰلًا : ”اَغْلٰلًا“ ”غُلٌّ“ (غین کے ضمّہ کے ساتھ) کی جمع ہے، لوہے کا کڑا یا زنجیر جو مجرم کے گلے میں ڈال کر اسے باندھا جاتا ہے، بعض اوقات اس کے ساتھ ہی اس کے ہاتھ بھی گردن کے ساتھ باندھ دیے جاتے ہیں۔ یہ قید کی سخت ترین صورت ہے۔ ”الْاَذْقَانِ“ ”ذَقَنٌ“ کی جمع ہے، ٹھوڑیاں۔ ”مُّقْمَحُوْنَ“ ”قَمَحَ الْبَعِیْرُ“ جب اونٹ حوض سے سر اٹھائے اور پانی نہ پیے۔ ”فُلَانٌ أَقْمَحَ الْبَعِیْرَ“ ”فلاں نے اونٹ کا سر اٹھا دیا۔“ ”مُقْمَحٌ“ اسم مفعول، جس کا سر اوپر اٹھا دیا گیا ہو اور وہ اسے نیچے نہ جھکا سکتا ہو۔ اس آیت میں ان کے کفر پر اصرار اور اڑے رہنے کی نہایت مؤثر تصویر کشی فرمائی ہے، یعنی ہم نے ان انکار کرنے والوں کی گردنوں میں بھاری طوق ڈال دیے ہیں، جو ایک دوسرے کے اوپر اس طرح تہ بہ تہ ہیں کہ ٹھوڑیوں تک پہنچ گئے ہیں۔ جن کی وجہ سے ان کے سر اوپر اٹھا دیے گئے ہیں۔
Ayah 36:9

وَ جَعَلْنَا مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ سَدًّا وَّ مِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَاَغْشَیْنٰهُمْ فَهُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:9 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے آگے سے ایک دیوار کردی اور ان کے پیچھے سے ایک دیوار، پھر ہم نے انھیں ڈھانپ دیا تو وہ نہیں دیکھتے۔

وَجَعَلْنَا مِنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْهِمْ سَدًّا : یعنی ہم نے ان کی گردنوں میں بھاری طوق ڈالنے کے علاوہ ان کے آگے ایک دیوار اور ان کے پیچھے ایک دیوار کردی ہے، پھر انھیں اوپر سے پردے کے ساتھ ڈھانک دیا ہے، جس کے نتیجے میں انھیں کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ یہ مثال ہے ان لوگوں کی جو اپنی جاہلانہ اور مشرکانہ رسوم پر اڑے ہوئے ہیں۔ ان کے غلط ہونے کی کھلی سے کھلی دلیل بھی نہ انھیں دکھائی دیتی ہے نہ اسے سنتے ہیں۔ اب یہ لوگ حق پر ایمان لائیں تو کیسے لائیں ؟
Ayah 36:10

وَ سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:10 in the Quran reader

اور ان پر برابر ہے، خواہ تو انھیں ڈرائے، یا انھیں نہ ڈرائے، وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

وَسَوَاۗءٌ عَلَيْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ : اس کا مطلب یہ نہیں کہ انھیں سمجھانا اور تبلیغ کرنا چھوڑ دیں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب آپ لوگوں کو سمجھائیں گے اور عام تبلیغ کریں گے تو آپ کو دو قسم کے لوگوں سے سابقہ پیش آئے گا، ایک وہ لوگ جن پر آپ کی تبلیغ کوئی اثر نہیں کرے گی اور وہ اپنے کفر و شرک پر بضد رہیں گے۔ اس آیت میں انھی لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ مزید دیکھیے سورة بقرہ (6)۔
Ayah 36:11

اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ١ۚ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَّ اَجْرٍ كَرِیْمٍ Open ayah 36:11 in the Quran reader

تو تو صرف اسی کو ڈراتا ہے جو نصیحت کی پیروی کرے اور رحمان سے بن دیکھے ڈرے۔ سو اسے بڑی بخشش اور باعزت اجر کی خوش خبری دے۔

اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّـبَعَ الذِّكْرَ : یعنی آپ کے ڈرانے کا فائدہ صرف ان لوگوں کو ہوگا جو نصیحت سنیں اور اسے مان کر اس پر عمل کریں۔ ”وَخَشِيَ الرَّحْمٰنَ بالْغَيْبِ“ کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة فاطر (18) ”بِمَغْفِرَةٍ“ کی تنوین تعظیم کے لیے ہے۔
Ayah 36:12

اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰى وَ نَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَهُمْ١ۣؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 36:12 in the Quran reader

بیشک ہم ہی مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور ہم لکھ رہے ہیں جو عمل انھوں نے آگے بھیجے اور ان کے چھوڑے ہوئے نشان بھی اور جو بھی چیز ہے ہم نے اسے ایک واضح کتاب میں ضبط کر رکھا ہے۔

اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى : یعنی ہم ان سب کو مرنے کے بعد زندہ کریں گے، ان کو بھی جو آپ کے ڈرانے کے باوجود کفر پر اڑے رہے اور انھیں بھی جنھوں نے آپ کی نصیحت سن کر اس کی پیروی کی، تاکہ انھیں ان کے اعمال کی جزا دیں۔ بعض مفسرین نے مردوں کو زندہ کرنے سے مشرکین کو شرک سے نکال کر ایمان میں لانا مراد لیا ہے، مگر سیاق کے لحاظ سے پہلا معنی زیادہ ظاہر ہے۔ وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا : اور اچھے یا برے جو عمل بھی انھوں نے کیے ہیں، ہم سب لکھ رہے ہیں۔ مراد اس سے وہ اعمال ہیں جو انھوں نے اپنی زندگی میں خود کیے۔ وَاٰثَارَهُمْ : ”اٰثَارَ“ ”أَثَرٌ“ کی جمع ہے۔ اس کی تفسیر میں دو قول ہیں، ایک یہ کہ اس سے مراد ان کی زندگی میں یا ان کی موت کے بعد دوسرے لوگوں کے وہ اچھے یا برے اعمال ہیں جن کا سبب یہ بنے اور ان کے کسی قول یا فعل یا ان کی کسی حالت کی وجہ سے دوسرے لوگوں نے وہ اعمال اختیار کیے۔ چناچہ لوگوں نے ان کی دعوت، نصیحت، امر بالمعروف، نہی عن المنکر یا جہاد فی سبیل اللہ کی وجہ سے یا ان کے پڑھانے یا تصنیف کی وجہ سے ان کی زندگی میں یا موت کے بعد جو نیک عمل کیے، یا انھوں نے کوئی مسجد، مدرسہ یا لوگوں کے فائدے کی کوئی چیز بنادی، جس سے ان کی موت کے بعد بھی لوگ فائدہ اٹھاتے رہے، سب ان کے نامہ اعمال میں لکھے جائیں گے۔ یہی حال ان برے اعمال کا ہے جو ان کی وجہ سے ان کی زندگی میں یا موت کے بعد لوگوں نے کیے، وہ بھی ان کے نامہ اعمال میں درج ہوں گے۔ جریر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّۃً حَسَنَۃً فَلَہُ أَجْرُہَا وَ أَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِہَا بَعْدَہُ مِنْ غَیْرِ أَنْ یَّنْقُصَ مِنْ أُجُوْرِہِمْ شَيْءٌ وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّۃً سَیِّءَۃً کَانَ عَلَیْہِ وِزْرُہَا وَ وِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِہَا مِنْ بَعْدِہِ مِنْ غَیْرِ أَنْ یَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِہِمْ شَيْءٌ) [ مسلم، الزکاۃ، باب الحث علی الصدقۃ۔۔ : 1017 ] ”جو شخص اسلام میں کوئی اچھا طریقہ (یعنی کتاب و سنت کی کوئی بات) جاری کرے اس کے لیے اس کے اپنے عمل کا اجر ہے اور ان لوگوں کے عمل کا بھی جو اس کے بعد کریں، بغیر اس کے کہ ان کے اجر میں سے کچھ کم ہو اور جو شخص اسلام میں کوئی برا طریقہ (یعنی کتاب و سنت کے خلاف یا کوئی بدعت) جاری کرے اس پر اپنے گناہ کا بوجھ ہوگا اور ان کے گناہ کا بھی جو اس کے بعد کریں گے، بغیر اس کے کہ ان کے بوجھ میں سے کچھ کم ہو۔“ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِذَا مَاتَ الإِْنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْہُ عَمَلُہُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَۃٍ إِلَّا مِنْ صَدَقَۃٍ جَارِیَۃٍ أَوْ عِلْمٍ یُنْتَفَعُ بِہِ أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ یَدْعُوْ لَہُ) [ مسلم، الوصیۃ، باب ما یلحق الإنسان۔۔ : 1631 ] ”جب انسان فوت ہوجاتا ہے، تو اس کا عمل اس سے منقطع ہوجاتا ہے، سوائے تین چیزوں کے، صدقہ جاریہ سے، یا اس علم سے جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں، یا نیک اولاد سے جو اس کے لیے دعا کرے۔“ اس آیت اور ان احادیث سے دعوت و تعلیم اور جہاد فی سبیل اللہ کے عمل کی عظمت اور فضیلت معلوم ہوتی ہے۔ ”اٰثَارَهُمْ“ کی تفسیر میں دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ نیکی یا بدی کی طرف چل کر جانے والے قدموں کے نشانوں کو بھی اللہ تعالیٰ لکھ لیتے ہیں۔ چناچہ جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ مسجد نبوی کے ارد گرد زمین کے کچھ قطعے خالی ہوگئے تو بنو سلمہ نے ارادہ کیا کہ مسجد کے قریب منتقل ہوجائیں۔ رسول اللہ ﷺ کو اس کی اطلاع ملی تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”مجھے اطلاع ملی ہے کہ تم مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ رکھتے ہو ؟“ انھوں نے کہا : ”ہاں، یا رسول اللہ ! ہم نے یہ ارادہ کیا ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا : (یَا بَنِيْ سَلِمَۃَ ! دِیَارَکُمْ ! تُکْتَبْ آثَارُکُمْ دِیَارَکُمْ ! تُکْتَبْ آثَارُکُمْ) [ مسلم، المساجد، باب فضل کثرۃ الخطا إلی المساجد : 665 ] ”اے بنو سلمہ ! اپنے گھروں ہی میں رہو، تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جائیں گے، (اے بنو سلمہ !) اپنے گھروں ہی میں رہو، تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جائیں گے۔“ ابن کثیر نے فرمایا، اس قول اور پہلے قول میں کوئی تضاد نہیں، بلکہ اس قول کی رو سے ”اٰثَارَهُمْ“ سے کسی کی پیروی کی وجہ سے کیے جانے والے اعمال مراد لینا بدرجہ اولیٰ ثابت ہوتا ہے، کیونکہ جب قدموں کے نشان تک لکھے جاتے ہیں تو اچھے یا برے جن اعمال میں کوئی شخص نمونہ بنا، وہ تو بدرجہ اولیٰ لکھے جاتے ہیں۔ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ : ”اِمَامٍ مُّبِيْنٍ“ سے مراد لوح محفوظ ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے ہونے والا ہر کام پہلے ہی درج فرما دیا ہے، یا ہر شخص کا اعمال نامہ ہے جس میں اس کا چھوٹا یا بڑا ہر عمل پورے ضبط کے ساتھ درج ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۢ بِاِمَامِهِمْ) [ بني إسرائیل : 71 ] ”جس دن ہم سب لوگوں کو ان کے امام کے ساتھ بلائیں گے۔“ یہاں امام سے مراد ان کے اعمال کی کتاب ہے۔ اس واضح کتاب کا ذکر قرآن مجید میں کئی مقامات پر ہے۔ دیکھیے سورة زمر (69) اور کہف (49) یہاں ”اِمَامٍ مُّبِيْنٍ“ سے مراد اعمال نامہ لینا زیادہ مناسب ہے، اگرچہ اس میں وجود میں آنے کے بعد وہی کچھ درج ہوگا جو اس سے پہلے لوح محفوظ میں درج ہوچکا ہے۔
Ayah 36:13

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِ١ۘ اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ Open ayah 36:13 in the Quran reader

` اور ان کے لیے بستی والوں کو بطور مثال بیان کر، جب اس میں بھیجے ہوئے آئے۔

وَاضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْيَةِ : یعنی جن لوگوں کو ڈرانے کے لیے آپ کو یہ قرآن حکیم دے کر مبعوث کیا گیا ہے اور جن کے اکثر لوگ کفر پر اصرار کی وجہ سے عذاب کے مستحق بن چکے ہیں، انھیں اس بستی کے لوگوں کا حال بطور مثال سنائیں، جن کی طرف ہمارے بھیجے ہوئے رسول آئے۔ انھوں نے بھی اپنے رسولوں کو انھی کی طرح جھٹلایا تھا، سو ان کا انجام یہ لو گ بھی پیش نظر رکھیں۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی بھی ہے کہ آپ پہلے رسول نہیں جسے اس کی قوم نے جھٹلایا ہو۔
Ayah 36:14

اِذْ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمُ اثْنَیْنِ فَكَذَّبُوْهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ مُّرْسَلُوْنَ Open ayah 36:14 in the Quran reader

جب ہم نے ان کی طرف دو (پیغمبر) بھیجے تو انھوں نے ان دونوں کو جھٹلا دیا، پھر ہم نے تیسرے کے ساتھ تقویت دی تو انھوں نے کہا بیشک ہم تمہاری طرف بھیجے ہوئے ہیں۔

اِذْ اَرْسَلْنَآ اِلَيْهِمُ اثْــنَيْنِ فَكَذَّبُوْهُمَا : یعنی ہم نے ان لوگوں کی طرف دو رسول بھیجے تو انھوں نے دونوں کو جھٹلا دیا، تو ہم نے انھیں تیسرے پیغمبر کے ساتھ قوت دی، تو ان سب نے حرف تاکید ”إِنَّ“ کے ساتھ انھیں کہا کہ یقیناً ہم تمہاری طرف بھیجے ہوئے ہیں۔ مفسر عبد الرحمن کیلانی ؓ لکھتے ہیں : ”یہ بستی کون سی تھی ؟ اس کے متعلق قرآن و حدیث میں کوئی صراحت نہیں۔ (بعض) مفسرین کہتے ہیں کہ اس سے مراد روم میں واقع شہر انطاکیہ ہے۔ پھر اس بات میں بھی اختلاف ہے کہ یہ رسول بلاواسطہ رسول تھے یا بالواسطہ رسول یا مبلغ تھے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ مبلغ سیدنا عیسیٰ ؑ ہی نے بھیجے تھے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ سیدنا عیسیٰ ؑ کے حواریوں میں سے تھے۔ قرآن کے بیان سے سرسری طور پر یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ بلاواسطہ اللہ کے رسول تھے اور اگر یہی بات ہو تو ان کا زمانہ سیدنا عیسیٰ ؑ سے پہلے کا زمانہ ہونا چاہیے، کیونکہ سیدنا عیسیٰ ؑ کے بعد رسول اللہ ﷺ کی بعثت تک کوئی نبی یا رسول مبعوث نہیں ہوا، اور بستی کے نام کی تعیین یا رسول کے بلاواسطہ یا بالواسطہ ہونے کی تعیین کوئی مقصود بالذات چیز بھی نہیں کہ اس کی تحقیق ضروری ہو، مقصود بالذات چیز تو کفار مکہ کو سمجھانا ہے۔ کیونکہ کفار مکہ اور ان بستی والوں کے حالات میں بہت سی باتوں میں مماثلت پائی جاتی تھی۔“ یہ رسول عیسیٰ ؑ کی طرف سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے بھیجے ہوئے تھے۔ اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ ان پر وہی اعتراض کیا گیا جو اللہ کے دوسرے رسولوں پر کیا گیا کہ تم ہمارے جیسے بشر ہو۔ عیسیٰ ؑ کے حواریوں پر اس اعتراض کے بجائے وہ کوئی اور اعتراض کرتے۔
Ayah 36:15

قَالُوْا مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۙ وَ مَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ Open ayah 36:15 in the Quran reader

انھوں نے کہا تم ہمارے جیسے بشر ہی تو ہو اور رحمان نے کوئی چیز نازل نہیں کی، تم تو محض جھوٹ ہی کہہ رہے ہو۔

قَالُوْا مَآ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا : کفار مکہ نے بھی رسول اللہ ﷺ کو یہی بات کہی۔ دیکھیے سورة انعام (91) بلکہ ہر قوم نے اپنے رسول کو یہی کہا کہ تم ہمارے جیسے بشر ہو، آخر تم میں ہم سے بڑھ کر وہ کون سی خوبی ہے جو اللہ نے تمہیں ہی نبوت کے لیے منتخب کیا ؟ دیکھیے سورة ابراہیم (10) ، بنی اسرائیل (94) ، مومنون (34) اور تغابن (6) گویا نبوت کے متعلق ہمیشہ سے جاہلی تصور یہ ہے کہ جو بشر ہو وہ رسول نہیں ہوسکتا۔ دوسرے الفاظ میں یہی تصور بعض جاہلوں میں اس طرح پایا جاتا ہے کہ جو رسول ہو وہ بشر نہیں ہوسکتا، حالانکہ قرآن تمام انبیاء کو بشر بھی ثابت کرتا ہے اور رسول بھی۔
Ayah 36:16

قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ لَمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:16 in the Quran reader

انھوں نے کہا ہمارا رب جانتا ہے کہ یقینا ہم تمہاری طرف ضرور بھیجے ہوئے ہیں۔

قَالُوْا رَبُّنَا يَعْلَمُ اِنَّآ اِلَيْكُمْ لَمُرْسَلُوْنَ :”ہمارا رب جانتا ہے“ یہ الفاظ قسم کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ بلاغت کا اصول ہے کہ سننے والا جتنی شدت کے ساتھ کسی بات کا منکر ہو اتنی ہی تاکید کے ساتھ بات کی جائے۔ پیغمبروں کا حوصلہ دیکھیے، بستی والوں کے انھیں صاف جھوٹا کہنے پر بھی وہ برا فروختہ نہیں ہوئے، بلکہ قسم کھا کر انھیں اپنی رسالت کا یقین دلانے کی کوشش کی۔
Ayah 36:17

وَ مَا عَلَیْنَاۤ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 36:17 in the Quran reader

اور ہم پر صاف پہنچا دینے کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں۔

وَمَا عَلَيْنَآ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ : یعنی ہمارا فریضہ اتنا ہی ہے کہ ہم تمہیں اللہ کا پیغام صاف پہنچا دیں۔ رہا تمہیں مومن بنا لینا، یا تمہارے مطالبات کے مطابق معجزے دکھانا، یا تم پر عذاب لے آنا، تو یہ ہمارا کام نہیں۔
Ayah 36:18

قَالُوْۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَیَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 36:18 in the Quran reader

انھوں نے کہا بیشک ہم نے تمہیں منحوس پایا ہے، یقینا اگر تم باز نہ آئے تو ہم ضرور ہی تمہیں سنگسار کردیں گے اور تمہیں ہماری طرف سے ضرور ہی دردناک عذاب پہنچے گا۔

قَالُوْٓا اِنَّا تَــطَيَّرْنَا بِكُمْ : جب بستی والے دلیل کے ساتھ جواب نہ دے سکے تو دھمکی پر اتر آئے، جیسا کہ فرعون اور دوسرے متکبروں کا شیوہ رہا ہے۔ کہنے لگے، اگر تم اپنی دعوت سے باز نہ آئے تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے اور تمہیں ہمارے ہاتھوں درد ناک سزا سے دو چار ہونا پڑے گا۔ ”تَــطَيَّرْنَا“ کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة نمل (47) اور سورة اعراف (131)۔
Ayah 36:19

قَالُوْا طَآئِرُكُمْ مَّعَكُمْ١ؕ اَئِنْ ذُكِّرْتُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 36:19 in the Quran reader

انھوں نے کہا تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے۔ کیا اگر تمہیں نصیحت کی جائے، بلکہ تم حد سے بڑھنے والے لوگ ہو۔

قَالُوْا طَاۗىِٕرُكُمْ مَّعَكُمْ : پیغمبروں نے کہا، تم پر آنے والی نحوست کا باعث ہم نہیں بلکہ خود تمہارے افعال ہیں کہ تم نے اللہ کے ساتھ شرک اور اس کی صریح نافرمانی اور سرکشی اختیار کر رکھی ہے۔ اگر تم پر قحط پڑا ہے، یا وبا آئی ہے، یا کوئی اور آفت تو اس کا باعث تم خود ہو، ہم نہیں، کیونکہ ہم تو اللہ کی توحید اور اس کی اطاعت ہی کی دعوت دیتے ہیں۔ اَىِٕنْ ذُكِّرْتُمْ : اس شرط کا جواب محذوف ہے، یعنی کیا اگر تمہیں نصیحت کی جائے اور تمہاری خیر خواہی کی جائے تو شکر گزار ہونے کے بجائے ہمیں منحوس قرار دیتے ہو اور دھمکیاں دیتے ہو ؟ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ : بلکہ اصل یہ ہے کہ تم حد سے بڑھنے والے لوگ ہو۔ اپنی خواہشوں کے خلاف اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی، یا عقل و دانش کی رو سے عائد ہونے والی کوئی پابندی تمہیں قبول نہیں۔
Ayah 36:20

وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:20 in the Quran reader

اور شہر کے سب سے دور کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا، اس نے کہا اے میری قوم ! ان رسولوں کی پیروی کرو۔

وَجَاۗءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِيْنَةِ رَجُلٌ يَّسْعٰى : آیات سے ظاہر ہے کہ پیغمبروں کی دعوت اور قوم کا مباحثہ مدت تک جاری رہا، حتیٰ کہ ان کی دعوت ساری بستی میں پھیل گئی اور جب انھوں نے قتل کی دھمکی دی تو یہ خبر بھی ہر طرف پھیل گئی کہ بستی کے لوگ پیغمبروں کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔ بستی خاصی بڑی تھی، جسے پہلے اللہ تعالیٰ نے ”الْقَرْيَةِ“ فرمایا ہے، اس کے بعد اسے ”الْمَدِيْنَةِ“ یعنی شہر کہا ہے۔ اس شہر کے سب سے دور کنارے میں ایک صالح آدمی رہتا تھا، اسے جب پیغمبروں کی دعوت اور قوم کے انکار کی اور پیغمبروں کو قتل کرنے کی دھمکیوں کی خبر پہنچی تو وہ شہر کے سب سے دور کنارے سے دوڑتا ہوا آیا کہ کہیں وہ جلدی میں پیغمبروں کو قتل ہی نہ کردیں، اور وہ اپنی قوم کو سمجھانے لگا۔ اس مرد صالح کا یہ عمل ہمارے لیے نمونہ ہے کہ جب اسے معلوم ہوگیا کہ پیغمبر حق پر ہیں تو اس نے اس بات پر اکتفا نہیں کیا کہ اپنی جگہ بیٹھ کر اللہ اللہ کرتا رہتا، بلکہ حق کی شہادت دینے کے لیے جتنی جلدی ہوسکتا تھا دوڑتا ہوا پہنچا اور اس نے اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے قوم کو سمجھانے کی پوری کوشش کی اور کہا، اے میری قوم ! اللہ کے ان رسولوں کی پیروی اختیار کرو۔ اس مرد صالح کا نام تفاسیر میں حبیب نجار لکھا ہے جو اسرائیلیات سے ماخوذ ہے۔ (واللہ اعلم) یہاں ایک سوال ہے کہ سورة قصص میں موسیٰ ؑ کو ان کے قتل کے مشورے کی خبر دینے والے صاحب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (وَجَاۗءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِيْنَةِ يَسْعٰى) [ القصص : 20 ] جب کہ یہاں فرمایا : (وَجَاۗءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِيْنَةِ رَجُلٌ) اس میں کیا حکمت ہے ؟ اہل علم نے فرمایا کہ ہمیشہ پہلے اس بات کا ذکر کیا جاتا ہے جو موقع کے لحاظ سے زیادہ اہم ہو۔ سورة قصص میں موسیٰ ؑ کو اطلاع دینے والے شخص کی مردانگی کا اظہار زیادہ اہم تھا، اس لیے ”رَجُلٌ“ کا ذکر پہلے فرمایا، جب کہ یہاں اس مرد ناصح کا دور سے آ کر سمجھانے کا ذکر زیادہ اہم تھا، اس لیے ”مِنْ اَقْصَا الْمَدِيْنَةِ“ کو پہلے ذکر فرمایا۔ (واللہ اعلم)
Ayah 36:21

اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا یَسْئَلُكُمْ اَجْرًا وَّ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 36:21 in the Quran reader

ان کی پیروی کرو جو تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتے اور وہ سیدھی راہ پائے ہوئے ہیں۔

اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا يَسْـَٔــلُكُمْ اَجْرًا وَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ : یعنی پیغمبروں کی بات مان لو، ان کے کہنے پر چلو اور دیکھو کہ وہ اپنے کسی دنیوی مفاد کی خاطر تمہیں دعوت نہیں دے رہے، نہ ہی تم سے اپنی اس خیر خواہی کی کوئی اجرت طلب کر رہے ہیں، خود سیدھے راستے پر ہیں اور تمہیں سیدھے راستے کی طرف بلا رہے ہیں۔
Ayah 36:22

وَ مَا لِیَ لَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 36:22 in the Quran reader

اور مجھے کیا ہے کہ میں اس کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔

وَمَالِيَ لَآ اَعْبُدُ الَّذِيْ فَطَرَنِيْ : توحید کی دعوت دیتے ہوئے اس مرد صالح نے نہایت حکیمانہ اسلوب اختیار کیا کہ انھیں مخاطب کرنے کے بجائے اپنے آپ کو مخاطب کرلیا، تاکہ وہ چڑ نہ جائیں۔ یعنی آخر مجھے کیا ہے کہ میں اس کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور ان کی عبادت کروں جنھوں نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا، بلکہ خود لوگوں نے انھیں بنایا ہے۔ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ : اور یہ بھی نہ سمجھنا کہ اس نے ہمیں پیدا کر کے آزاد چھوڑ دیا ہے، اب اس کا کوئی تعلق واسطہ ہم سے نہیں رہا، بلکہ تم سب کو مرنے کے بعد اسی کے پاس واپس لے جایا جائے گا، خواہ تم چاہو یا نہ چاہو۔
Ayah 36:23

ءَاَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنْ یُّرِدْنِ الرَّحْمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغْنِ عَنِّیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا وَّ لَا یُنْقِذُوْنِۚ Open ayah 36:23 in the Quran reader

کیا میں اس کے سوا ایسے معبود بنالوں کہ اگر رحمان میرے بارے میں کسی نقصان کا ارادہ کرے تو ان کی سفارش میرے کسی کام نہ آئے گی اور نہ وہ مجھے بچائیں گے۔

ءَاَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِهٖٓ : کیا میں اپنے پیدا کرنے والے کے بجائے ان زندہ یا مردہ ہستیوں کی عبادت کروں کہ رحمن اگر مجھے کوئی تکلیف پہنچانے کا ارادہ کرے تو ان کی سفارش میرے کسی کام آسکے گی نہ وہ زبردستی مجھے بچا سکیں گے۔
Ayah 36:24

اِنِّیْۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:24 in the Quran reader

یقینا میں تو اس وقت ضرور کھلی گمراہی میں ہوں گا۔

اِنِّىْٓ اِذًا لَّفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ : یعنی اگر میں ایسا کروں گا تو اس وقت میں یقیناً کھلی گمراہی میں ہوں گا۔ اس بستی والوں میں عقیدے اور عمل کی جو خرابیاں تھیں وہ سب اہل مکہ میں بھی پائی جاتی تھیں۔ اس بستی والوں کی مثال کے ساتھ مقصود اہل مکہ کو سمجھانا ہے۔
Ayah 36:25

اِنِّیْۤ اٰمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُوْنِؕ Open ayah 36:25 in the Quran reader

بیشک میں تمہارے رب پر ایمان لایا ہوں، سو مجھ سے سنو۔

اِنِّىْٓ اٰمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُوْنِ : پھر اس مرد ناصح نے لوگوں کو اور اس بستی کی طرف بھیجے گئے پیغمبروں کو، سب کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے ایمان لانے کا اور اس پر اپنی استقامت کا اعلان کیا، یعنی میں اس رب پر ایمان لایا ہوں جو میرا ہی نہیں تمہارا بھی رب ہے، سو تم پر لازم ہے کہ میری بات غور سے سنو۔
Ayah 36:26

قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ١ؕ قَالَ یٰلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 36:26 in the Quran reader

اسے کہا گیا جنت میں داخل ہوجا۔ اس نے کہا اے کاش ! میری قوم جان لے۔

قِيْلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ : یہاں درمیان کی بات محذوف ہے جو خود بخود سمجھ میں آرہی ہے کہ اس کی اس بات پر قوم کے لوگ اس پر پل پڑے اور اسے شہید کردیا، تو اللہ تعالیٰ نے اس کی شہادت کو قبول فرمایا اور شہادت کی دیر تھی کہ اسے جنت میں داخلے کی بشارت مل گئی۔ شہداء کے جنت میں داخلے کی کیفیت کے متعلق دیکھیے سورة بقرہ (154) اور آل عمران (169 تا 171)۔ قَالَ يٰلَيْتَ قَوْمِيْ يَعْلَمُوْنَ : اس سے ظاہر ہے کہ وہ بندہ اپنی قوم کا کس قدر خیر خواہ تھا کہ زندگی میں بھی اس نے جان کی پروا نہ کرتے ہوئے قوم کو نصیحت کی اور مرنے کے بعد بھی ان کے لیے اس کی خیر خواہی جاری رہی، پھر اپنے قاتلوں کے متعلق اس کی تمنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے جو اعزازو اکرام بخشا کسی طرح ان کو بھی معلوم ہوجائے اور اسے جان کر وہ بھی ایمان لے آئیں اور اس اکرام کے حق دار بن جائیں۔ فی الحقیقت مومن ایسا ہی خیر خواہ ہوتا ہے، احد کے شہداء نے شہادت کے بعد اسی تمنا کا اظہار کیا تھا۔ ہمارے لیے اس میں سبق ہے کہ دعوت دیتے ہوئے کبھی غیظ و غضب اور انتقامی جذبے سے مغلوب نہ ہوں، بلکہ نہایت صبرو ہمت کے ساتھ دعوت جاری رکھیں۔
Ayah 36:27

بِمَا غَفَرَ لِیْ رَبِّیْ وَ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُكْرَمِیْنَ Open ayah 36:27 in the Quran reader

اس بات کو کہ میرے رب نے مجھے بخش دیا اور مجھے معزز لوگوں میں سے بنادیا۔

بِمَا غَفَرَ لِيْ رَبِّيْ وَجَعَلَنِيْ مِنَ الْمُكْرَمِيْنَ : اس قصّے میں اہل مکہ کے لیے بھی پیغام ہے کہ جس طرح وہ مرد صالح اپنی قوم کا خیر خواہ تھا محمد ﷺ بھی تمہارے ایسے ہی سچے خیر خواہ ہیں۔ اس قصّے میں قریش کے لیے ایک اور سبق بھی ہے کہ اگر تم نبی کریم ﷺ پر ایمان نہیں لاؤ گے تو اللہ تعالیٰ اور لوگوں کو لے آئے گا جو آپ پر ایمان لائیں گے اور آپ کی مدد کریں گے اور شہادت کی پروا نہیں کریں گے، جیسا کہ اس بستی کے دور ترین حصے سے وہ آدمی آیا تھا۔
Ayah 36:28

وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى قَوْمِهٖ مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ مَا كُنَّا مُنْزِلِیْنَ Open ayah 36:28 in the Quran reader

اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا اور نہ ہم اتارنے والے تھے۔

وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلٰي قَوْمِهٖ مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ : اس قوم کے بالکل حقیر اور بےوقعت ہونے کے اظہار کے لیے فرمایا کہ ہم نے اس کے بعد اس کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے آسمان سے فرشتوں کا کوئی لشکر نہیں اتارا اور نہ ہی جب ہم کسی قوم کو مکمل طور پر نیست و نابود کرنا چاہتے ہیں تو فرشتوں کی فوج بھیجتے ہیں، کیونکہ اس کام کے لیے اس کی ضرورت ہی نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے ایک فرشتے کی ایک چیخ ہی کافی ہوتی ہے۔ ہاں، اپنے مومن بندوں کی مدد کے لیے ہم ہزاروں فرشتے نازل کردیتے ہیں جو ان کے دل کو مضبوط رکھتے ہیں، اور اس وقت کفار کو عذاب آسمان کے فرشتوں کے ذریعے سے نہیں بلکہ ایمان والوں کے ہاتھوں سے دیا جاتا ہے۔
Ayah 36:29

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ خٰمِدُوْنَ Open ayah 36:29 in the Quran reader

وہ نہیں تھی مگر ایک ہی چیخ، پس اچانک وہ بجھے ہوئے تھے۔

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَيْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ خٰمِدُوْنَ : یعنی فرشتے نے ایک چیخ ماری جس سے ان سب کی زندگی کا شعلہ بجھ گیا۔ ان کے یک لخت ہلاک ہونے کو آگ کے بجھنے کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ ابو العلاء المعری نے کہا ہے ؂ وَ کَالنَّارِ الْحَیَاۃُ فَمِنْ رَمَادٍ أَوَاخِرُھَا وَ أَوَّلُھَا دُخَانٗ ”زندگی آگ کی طرح ہے، جس کا آخر راکھ اور ابتدا دھواں ہے۔“
Ayah 36:30

یٰحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ١ۣۚ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 36:30 in the Quran reader

ہائے افسوس بندوں پر ! ان کے پاس کوئی رسول نہیں آتا رہا مگر وہ اس کے ساتھ ٹھٹھا کیا کرتے تھے۔

يٰحَسْرَةً عَلَي الْعِبَادِ : فوت شدہ چیز پر شدید افسوس کو حسرت کہتے ہیں۔ ”الْعِبَادِ“ میں الف لام عہد کا ہے، مراد وہ بندے ہیں جو رسولوں کو جھٹلاتے رہے، اس بستی والے بھی ان میں شامل ہیں۔ یہ ان کی حالت کا نقشہ ہے کہ ان کا حال ایسا ہے جس پر حسرت و افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔ ان کے پاس جو رسول بھی آیا وہ اسے جھٹلاتے ہی رہے۔
Ayah 36:31

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ اَنَّهُمْ اِلَیْهِمْ لَا یَرْجِعُوْنَؕ Open ayah 36:31 in the Quran reader

کیا انھوں نے نہیں دیکھا، ہم نے ان سے پہلے کتنے زمانوں کے لوگ ہلاک کردیے کہ بیشک وہ ان کی طرف پلٹ کر نہیں آتے۔

اَلَمْ يَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ : ”اَلَمْ يَرَوْا“ سے مراد ”أَلَمْ یَعْلَمُوْا“ ہے، یعنی سابقہ اقوام کے انجام کی طرف نہ دیکھتے ہیں نہ اس میں غور و فکر کرتے ہیں۔ وہ قومیں بھی اپنے رسولوں کا مذاق اڑاتی رہیں اور اس کی پاداش میں انھیں ہلاک کردیا جاتا تھا اور ان کا نام و نشان تک ایسا مٹا کہ ان میں سے کوئی بھی بچ کر ان کے پاس واپس نہیں لوٹا، پھر بھی ان کافروں کا یہی دستور رہا کہ جب کوئی نیا رسول آتا تو اس سے اسی طرح تمسخر اور استہزا شروع کردیتے جو پہلے کفار کی عادت تھی اور کچھ سبق حاصل نہیں کرتے تھے اور آج کفار مکہ کا بھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایسا ہی معاملہ ہے۔ (کیلانی) ”لَا يَرْجِعُوْنَ“ (وہ پلٹ کر نہیں آتے) کے لفظ میں ان لوگوں کا رد ہے جو بعض شخصیتوں کے موت کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر دنیا میں آنے کے قائل ہیں اور ان ہندؤوں کا بھی جو کہتے ہیں کہ تمام مرنے والے دوبارہ دنیا میں کسی دوسری شکل میں آتے ہیں۔ اگر پہلی زندگی میں انھوں نے اچھے کام کیے ہوں تو پہلے سے اچھی صورت میں اور اگر برے کام کیے ہوں تو پہلے سے بری صورت میں اور اس عقیدے کو تناسخ یا او اگون کہتے ہیں۔
Ayah 36:32

وَ اِنْ كُلٌّ لَّمَّا جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ۠ Open ayah 36:32 in the Quran reader

اور نہیں ہیں وہ سب مگر اکٹھے ہمارے پاس حاضر کیے جانے والے ہیں۔

وَاِنْ كُلٌّ لَّمَّا جَمِيْعٌ : یہ ”اِنْ“ نافیہ ہے اور ”لَّمَّا“ بمعنی ”إِلَّا“ ہے۔ یعنی جو لوگ پہلے گزر چکے یا موجود ہیں یا آئندہ ہوں گے، وہ سب ہمارے پاس اکٹھے حاضر کیے جانے والے ہیں۔ ”مُحْـضَرُوْنَ“ اسم مفعول ہے، یعنی وہ چاہیں یا نہ چاہیں، اپنے خیال میں جتنے بڑے ہوں، ہر حال میں سب ہمارے پاس اکٹھے حاضر کیے جانے والے ہیں۔
Ayah 36:33

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَیْتَةُ١ۖۚ اَحْیَیْنٰهَا وَ اَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:33 in the Quran reader

اور ایک نشانی ان کے لیے مردہ زمین ہے، ہم نے اسے زندہ کیا اور اس سے غلہ نکالا تو وہ اسی میں سے کھاتے ہیں۔

وَاٰيَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَيْتَةُ : پچھلی آیت میں تمام لوگوں کے اللہ تعالیٰ کے پاس حاضر کیے جانے کا ذکر ہے، جو قیامت کے دن ہوگا، چونکہ کفار اسے نہیں مانتے تھے، اس لیے اب اس کی کئی دلیلیں بیان فرمائیں۔ یہاں ”َاٰيَةٌ“ (نشانی) سے مراد دلیل وبرہان ہے۔ مردہ زمین سے مراد بنجر اور بےآباد زمین ہے۔ اَحْيَيْنٰهَا وَاَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا : ”اٰيَةٌ“ میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، یعنی ہماری مردوں کو زندہ کرنے کی قدرت کی ایک عظیم دلیل یہ ہے کہ ہم بنجر اور قحط زدہ زمین پر بارش برساتے ہیں تو وہ بڑھتی پھولتی اور لہلہاتی ہے، پھر ہم اس سے غلہ پیدا کرتے ہیں جو ان کے کھانے کی چیزوں کا اکثر حصہ ہیں۔
Ayah 36:34

وَ جَعَلْنَا فِیْهَا جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ وَّ فَجَّرْنَا فِیْهَا مِنَ الْعُیُوْنِۙ Open ayah 36:34 in the Quran reader

اور ہم نے اس میں کھجوروں اور انگوروں کے کئی باغ بنائے اور ان میں کئی چشمے پھاڑ نکالے۔

وَجَعَلْنَا فِيْهَا جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِيْلٍ : ”نَّخِيْلٍ“ ”نَخْلٌ“ کی جمع ہے، جیسے ”عَبْدٌ“ کی جمع ”عَبِیْدٌ“ ہے۔ ”اَعْنَابٍ“ ”عِنَبٌ“ کی جمع ہے اور ”الْعُيُوْنِ“ ”عَیْنٌ“ کی جمع ہے، مراد کنویں اور چشمے ہیں جن سے زمین سیراب کی جاتی ہے۔ یعنی مردہ زمین کو زندہ کر کے ہم اس سے ان کی خوراک کے لیے صرف غلہ ہی نہیں اگاتے بلکہ ان کے کام و دہن کی لذت کے لیے مختلف اقسام کے پھل بھی کثرت سے پیدا کرتے ہیں۔ یہاں صرف دو پھلوں کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ یہ کثیر المنافع بھی ہیں اور عربوں کو مرغوب بھی، نیز ان کی پیداوار بھی عرب میں زیادہ ہے، پھر غلے کا ذکر پہلے کیا، کیوں کہ اس کی پیداوار بھی زیادہ ہے اور خوراک کی حیثیت سے اس کی اہمیت بھی مسلّمہ ہے۔ جب تک انسان روٹی یا چاول وغیرہ خوراک سے اپنا پیٹ نہیں بھرتا، محض پھل فروٹ سے اس کی غذائی ضرورت پوری نہیں ہوتی۔ (احسن البیان)
Ayah 36:35

لِیَاْكُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖ١ۙ وَ مَا عَمِلَتْهُ اَیْدِیْهِمْ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 36:35 in the Quran reader

تاکہ وہ اس کے پھل سے کھائیں، حالانکہ اسے ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا، تو کیا وہ شکر نہیں کرتے۔

لِيَاْكُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖ ۙ وَمَا عَمِلَتْهُ اَيْدِيْهِمْ : یعنی یہ غلے، باغات، چشمے اور پھل ان کی کسی کوشش اور محنت سے پیدا نہیں ہوئے بلکہ یہ سب کچھ ہم نے پیدا کیا ہے، تو کیا وہ شکر نہیں کرتے کہ ہماری ہی عبادت کریں، کسی اور کو اس میں شریک نہ کریں۔
Ayah 36:36

سُبْحٰنَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ وَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ مِمَّا لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 36:36 in the Quran reader

پاک ہے وہ جس نے سب کے سب جوڑے پیدا کیے ان چیزوں سے جنھیں زمین اگاتی ہے اور خود ان سے اور ان چیزوں سے جنھیں وہ نہیں جانتے۔

سُبْحٰنَ الَّذِيْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا : یعنی ان لوگوں نے اللہ کے جو شریک بنا رکھے ہیں وہ ان سے پاک ہے۔ پھر اپنی کچھ صفات بیان فرمائیں جو صرف اس کے ساتھ خاص ہیں اور جن کا تقاضا ہے کہ اسے ہر عیب، ہر نقص اور ہر شرک سے پاک سمجھا جائے۔ ”الْاَزْوَاجَ“ کے کئی معنی ہیں، مثلاً اس کا اطلاق نر و مادہ پر بھی ہوتا ہے۔ مرد عورت کے لیے زوج ہے اور عورت مرد کے لیے اور ان دونوں میں اللہ تعالیٰ نے فطرتی طور پر ایک دوسرے کے لیے کشش رکھ دی ہے، پھر اس زوج کے ایک دوسرے سے ملنے سے آگے مزید تخلیق کا سلسلہ چلتا ہے اور یہ سلسلہ صرف حیوانات ہی میں نہیں، نباتات میں بھی پایا جاتا ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ) [ الذاریات : 49 ] ”اور ہر چیز سے ہم نے دو قسمیں بنائیں، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔“ نباتات میں سے کچھ درخت تو ایسے ہیں جن کا عام انسانوں کو بھی علم ہوتا ہے، مثلاً کھجور اور انار کے درخت نر بھی ہوتے ہیں اور مادہ بھی، جب پھل لگنے کا موسم ہوتا ہے تو ہوائیں نر درختوں کا بیج اٹھا کر مادہ درختوں پر پھینک دیتی ہیں تو مزید پیدائش عمل میں آتی ہے اور نباتات کی ہر قسم میں نر و مادہ کا سلسلہ موجود ہے، خواہ ابھی تک انسان کو اس کا علم ہوا ہو یا نہ ہو۔ پھر یہ سلسلہ جمادات حتیٰ کہ مادہ کے ایک ذرہ کے اندر بھی پایا جاتا ہے۔ اس میں بھی مثبت اور منفی قوتیں موجود ہیں، جو آپس میں ایک دوسرے کے لیے کشش رکھتی ہیں۔ دوسرے زوج کا لفظ آپس میں مماثلت رکھنے والی چیزوں کے لیے بھی آتا ہے، مثلاً ایک جوتا دوسرے جوتے کے لیے زوج ہوتا ہے اور اس معنی میں بھی یہ لفظ قرآن میں موجود ہے، جیسے فرمایا : (وَّاٰخَرُ مِنْ شَكْلِهٖٓ اَزْوَاجٌ) [ ص : 58 ] ”اور دوسری اس کی ہم شکل کئی (ازواج) قسمیں۔“ اور ازواج کا ایک معنی ایک دوسرے کے مخالف اشیاء، جیسے دن رات کا زوج ہے اور رات دن کا، یا سایہ دھوپ کا اور دھوپ سائے کا، یا روشنی تاریکی کی زوج اور تاریکی روشنی کی، گویا یہ زوج کا سلسلہ اتنا وسیع ہے جو نباتات اور حیوانات کے علاوہ بھی تمام اشیاء میں پایا جاتا ہے، خواہ تمہیں اس کا علم ہو یا نہ ہو سکے۔ فرمایا : (وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ) [ الذاریات : 49 ] ”اور ہم نے ہر چیز سے دو قسمیں بنائیں، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔“ اس آیت کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے ”ۙسُبْحٰنَ الَّذِيْ“ کا لفظ استعمال فرمایا، جس کا مطلب یہ ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی ہے جو ہر قسم کے زوج سے پاک ہے، نہ اس کا کوئی مقابل ہے اور نہ مماثل، کیونکہ مقابلہ یا مماثلت ان چیزوں میں ہوسکتی ہے جو کسی درجہ میں فی الجملہ اشتراک رکھتی ہوں، مگر خالق اور مخلوق کا کسی حقیقت میں اشتراک نہیں ہوتا، اور اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ دنیا میں شرک کی جتنی بھی اقسام پائی جاتی ہیں ان میں سے ہر قسم میں اللہ تعالیٰ کی ذات میں کسی نہ کسی کمی، کمزوری، عیب یا نقص کا الزام ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ نے ”ۙسُبْحٰنَ“ کا لفظ کہہ کر مشرکوں کے ہر قسم کے شرکیہ عقیدے کی تردید فرما دی۔ (کیلانی)
Ayah 36:37

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الَّیْلُ١ۖۚ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَاِذَا هُمْ مُّظْلِمُوْنَۙ Open ayah 36:37 in the Quran reader

اور ایک نشانی ان کے لیے رات ہے، ہم اس پر سے دن کو کھینچ اتارتے ہیں تو اچانک وہ اندھیرے میں رہ جانے والے ہوتے ہیں۔

وَاٰيَةٌ لَّهُمُ الَّيْلُ : ”نَسْلَخُ“ ”سَلَخَ یَسْلَخُ“ (ف، ن) بکری کی کھال اتارنا۔ قیامت اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل میں سے مکانی دلیل مردہ زمین بیان فرمائی ہے۔ اب زمانی دلیلوں کا ذکر ہوتا ہے کہ ان کے لیے ایک اور دلیل قیامت کی اور اس بات کی بھی کہ اللہ تعالیٰ جو چاہے کرسکتا ہے، رات ہے، جس پر دن کے نور کا پردہ چڑھا ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت کے اظہار کے لیے اپنا ذکر جمع کے صیغے کے ساتھ کرتے ہوئے فرمایا : (نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ) ہم اس رات سے دن کو کھینچ اتارتے ہیں تو اچانک وہ اندھیرے میں رہ جانے والے ہوتے ہیں۔ یعنی وہ جو اندھیرے کے بعد روشنی اور روشنی کے بعد اندھیرا لانے والا ہے، اس کے لیے تمہیں موت کے بعد زندہ کرنا کیا مشکل ہے ؟
Ayah 36:38

وَ الشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِؕ Open ayah 36:38 in the Quran reader

اور سورج اپنے ایک ٹھکانے کے لیے چل رہا ہے، یہ اس سب پر غالب، سب کچھ جاننے والے کا اندازہ ہے۔

وَالشَّمْسُ تَجْرِيْ لِمُسْتَــقَرٍّ لَّهَا : ”مُسْتَقَرٌّ“ باب استفعال سے اسم ظرف ہے، قرار کی جگہ یا وقت۔ یہ دوسری دلیل ہے، یعنی سورج کا روزانہ غروب ہونے کے بعد طلوع ہونا موت کے بعد زندگی کی دلیل ہے۔ اس آیت کے دو معنی ہیں اور دونوں معنی ایک وقت میں مراد ہوسکتے ہیں اور یہ قرآن کا اعجاز ہے۔ ایک معنی یہ کہ سورج اپنی اس جگہ چل رہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقرر فرما دی ہے اور وہ عرش کے نیچے ہے۔ اس صورت میں ”لِمُسْتَــقَرٍّ“ میں ”لام“ ”عَلٰی“ یا ”فِيْ“ کے معنی میں ہوگا، جیسا کہ شاہ عبد القادر ؓ نے ترجمہ کیا ہے : ”اور سورج چلا جاتا ہے اپنے ٹھہرے ہوئے راستے پر۔“ اس معنی کی دلیل ابوذر ؓ کی یہ حدیث ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ”ۙوَالشَّمْسُ تَجْرِيْ لِمُسْتَــقَرٍّ لَّهَا“ کے متعلق پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : (مُسْتَقَرُّھَا تَحْتَ الْعَرْشِ)[ بخاري، التفسیر، سورة یٰسٓ، باب قولہ : (و الشمس تجري۔۔) : 4803 ] ”اس کا مستقر عرش کے نیچے ہے۔“ دوسرا معنی یہ کہ سورج اپنی اس جگہ یا وقت کی طرف چلا جا رہا ہے جو اس کے ٹھہرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے مقرر فرما دیا ہے، جہاں پہنچنے کے بعد اسے آگے چلنے کے بجائے واپس چلنے کا حکم دیا جائے گا اور وہ مشرق سے طلوع ہونے کے بجائے مغرب سے طلوع ہوگا۔ اس کے چلنے کا یہ راستہ اور ٹھہر جانے کی وہ جگہ اور وہ وقت اس ہستی کا مقرر کردہ ہے جو سب پر غالب، سب کچھ جاننے والی ہے۔ یہ معنی بھی حدیث سے ثابت ہے، جیسا کہ ابوذر ؓ ہی سے مروی ہے کہ سورج غروب ہوتے وقت رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا : (أَ تَدْرِيْ أَیْنَ تَذْھَبُ ؟) ”کیا تم جانتے ہو یہ کہاں جاتا ہے ؟“ میں نے کہا : (اَللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ أَعْلَمُ) ”اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا : (فَإِنَّہَا تَذْہَبُ حَتّٰی تَسْجُدَ تَحْتَ الْعَرْشِ ، فَتَسْتَأْذِنَ فَیُؤْذَنَ لَہَا، وَیُوْشِکُ أَنْ تَسْجُدَ فَلاَ یُقْبَلَ مِنْہَا، وَتَسْتَأْذِنَ فَلاَ یُؤْذَنَ لَہَا، فَیُقَالُ لَہَا ارْجِعِيْ مِنْ حَیْثُ جِءْتِ فَتَطْلُعُ مِنْ مَّغْرِبِہَا، فَذٰلِکَ قَوْلُہُ تَعَالٰی : (ۙوَالشَّمْسُ تَجْرِيْ لِمُسْتَــقَرٍّ لَّهَا ۭذٰلِكَ تَــقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِــيْمِ) [ بخاري، بدء الخلق، باب صفۃ الشمس والقمر : 3199 ] ”یہ سورج چلتا جاتا ہے، حتیٰ کہ عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے، پھر اجازت مانگتا ہے تو اسے اجازت دی جاتی ہے اور قریب ہے کہ وہ سجدہ کرے تو اس کا سجدہ قبول نہ کیا جائے اور اجازت مانگے تو اسے اجازت نہ دی جائے، پھر وہ اپنے مغرب سے طلوع ہوگا، یہ ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان : (ۙوَالشَّمْسُ تَجْرِيْ لِمُسْتَــقَرٍّ لَّهَا ۭذٰلِكَ تَــقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِــيْمِ)“ اس آیت سے معلوم ہوا کہ سورج چل رہا ہے۔ سائنس دان اس کی دو حرکتیں بیان کرتے ہیں، ایک اس کی اپنے مدار کے گرد حرکت اور دوسری اس حرکت کے ساتھ ساتھ کسی عظیم کہکشاں کے گرد حرکت۔ (واللہ اعلم) یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ حقیقت تو سب کو معلوم ہے کہ سورج ہر وقت چلتا رہتا ہے، اگر کہیں غروب ہوتا ہے تو اس سے اگلی جگہ طلوع ہو رہا ہوتا ہے، تو غروب ہوتے وقت اس کے عرش کے نیچے سجدہ کرنے اور چلنے کی اجازت طلب کرنے کا مطلب کیا ہے ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ سورج عرش کے نیچے چل رہا ہے اور ہر وقت اور ہر لمحے اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہے اور ہر لمحے اس کا آگے چلنا اللہ تعالیٰ کی اجازت پر موقوف ہے، جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اجازت نہیں ملے گی، وہ ٹھہر جائے گا اور اللہ کے حکم کے مطابق مشرق کے بجائے مغرب سے طلوع ہوگا۔ اس کی دلیل قرآن مجید کی یہ آیت ہے : (اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يَسْجُدُ لَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَاۗبُّ وَكَثِيْرٌ مِّنَ النَّاسِ ۭ وَكَثِيْرٌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ ۭ وَمَنْ يُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّكْرِمٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاۗءُ) [ الحج : 18 ] ”کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ، اسی کے لیے سجدہ کرتے ہیں جو کوئی آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے اور بہت سے لوگ۔ اور بہت سے وہ ہیں جن پر عذاب ثابت ہوچکا اور جسے اللہ ذلیل کر دے پھر اسے کوئی عزت دینے والا نہیں۔ بیشک اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے۔“ سورج کا روزانہ غروب کے بعد دوبارہ طلوع ہونا موت کے بعد زندگی کی واضح دلیل ہے۔ سورج اور چاند کی عظیم مخلوقات کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنی دو جلال و کمال والی صفات ”عزیز“ اور ”علیم“ کا یہاں بھی ذکر فرمایا ہے اور سورة انعام (96) اور سورة حٰم السجدہ (12) میں بھی۔
Ayah 36:39

وَ الْقَمَرَ قَدَّرْنٰهُ مَنَازِلَ حَتّٰى عَادَ كَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِیْمِ Open ayah 36:39 in the Quran reader

اور چاند، ہم نے اس کی منزلیں مقرر کردیں، یہاں تک کہ وہ دوبارہ پرانی (کھجور کی) ٹیڑھی ڈنڈی کی طرح ہوجاتا ہے۔

وَالْقَمَرَ قَدَّرْنٰهُ مَنَازِلَ حَتّٰى عَادَ كَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِيْمِ : ”اَلْعُرْجُوْنَ“ بروزن ”فُعْلُوْنَ“ جمع ”عَرَاجِیْنُ“ یہ ”اَلْعِرَاجُ“ سے مشتق ہے، جس کا معنی ٹیڑھا ہونا ہے۔ کھجور کے گچھے کی وہ ٹیڑھی میڑھی ڈنڈیاں جن کے ساتھ کھجوریں لگی ہوتی ہیں۔ یہ تیسری دلیل ہے، سورج کی طرح چاند ہمیشہ ایک شکل کا نہیں رہتا، بلکہ روزانہ گھٹتا بڑھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی اٹھائیس منزلیں مقرر فرمائیں جن میں وہ نظر آتا ہے۔ پھر ایک دن یا دو دن غائب رہ کر دوبارہ طلوع ہوجاتا ہے۔ پہلی رات وہ پتلی ٹیڑھی سی لکیر کی طرح ہوتا ہے جس کی روشنی بھی مدھم ہوتی ہے، پھر وہ بڑھتا ہوا چودھویں رات کو پورا روشن ہوجاتا ہے، پھر گھٹتا ہوا اٹھائیسویں رات کو دوبارہ اس حالت میں پلٹ جاتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے کھجور کی پرانی ٹیڑھی بےرونق ڈنڈی کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ لاکھوں برس سے چاند کا گھٹنا بڑھنا اور طلوع و غروب اسی طرح جاری ہے۔ اتنے زبردست غلبے اور کامل علم والے کے لیے انسان کو دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہے۔
Ayah 36:40

لَا الشَّمْسُ یَنْۢبَغِیْ لَهَاۤ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَ لَا الَّیْلُ سَابِقُ النَّهَارِ١ؕ وَ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 36:40 in the Quran reader

نہ سورج، اس کے لیے لائق ہے کہ چاند کو جاپکڑے اور نہ رات ہی دن سے پہلے آنے والی ہے اور سب ایک ایک دائرے میں تیر رہے ہیں۔

لَا الشَّمْسُ يَنْۢبَغِيْ لَهَآ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ : یہ چوتھی دلیل ہے، یعنی چاند کی روشنی کے ظہور کا وقت رات ہے، یہ نہیں ہوسکتا کہ رات کو جب چاند چمک رہا ہو تو اچانک سورج طلوع ہوجائے۔ وَلَا الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ : اور نہ یہ ہوسکتا ہے کہ ابھی دن کا وقت باقی ہو اور یکایک رات چھا جائے۔ وَكُلٌّ فِيْ فَلَكٍ يَّسْبَحُوْنَ : ”سَبَحَ یَسْبَحُ“ (ف) کا معنی تیرنا ہے۔ یعنی کیا سورج، کیا چاند اور کیا ستارے (جن میں زمین بھی شامل ہے) ہر ایک کا اپنا اپنا فلک (مدار) ہے، جس میں وہ تیر رہا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اربوں ستاروں میں سے ہر ایک کا مدار دوسرے سے الگ بنایا ہے اور ایسا نظام قائم کیا ہے کہ کوئی ستارہ دوسرے کے مدار میں آکر اس سے ٹکراتا نہیں، بلکہ باقاعدگی سے اپنے مدار میں گھوم رہا ہے اور یہ نظام قیامت تک چلتا رہے گا۔ یقیناً یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نشانی ہے۔ ان آیات کا اصل مقصد علم ہیئت کے حقائق بیان کرنا نہیں، بلکہ انسان کو یہ سمجھانا مقصود ہے کہ اگر وہ آنکھیں کھول کر دیکھے اور عقل سے کام لے تو زمین سے لے کر آسمان تک جدھر بھی وہ نگاہ ڈالے گا اس کے سامنے اللہ تعالیٰ کی ہستی اور اس کی یکتائی کے بیحد و حساب دلائل آئیں گے اور کہیں کوئی ایک دلیل بھی دہریت اور شرک کے ثبوت میں نہ ملے گی۔ ہماری یہ زمین جس میں نظام شمسی بھی شامل ہے، اس کی عظمت کا یہ حال ہے کہ اس کا مرکز سورج زمین سے تین لاکھ گنا بڑا ہے اور اس کے بعید ترین سیارے نیپچون کا فاصلہ سورج سے کم از کم 2 ارب 79 کروڑ 30 لاکھ میل ہے۔ بلکہ اگر پلوٹو کو بعید ترین سیارہ مانا جائے تو وہ سورج سے 4 ارب 60 کروڑ میل دور تک پہنچ جاتا ہے۔ اس عظمت کے باوجود یہ نظام شمسی ایک بہت بڑے کہکشاں کا محض ایک چھوٹا سے حصہ ہے۔ جس کہکشاں میں ہمارا یہ نظام شمسی شامل ہے اس میں تقریباً تین ہزار ملین (3 ارب) آفتاب پائے جاتے ہیں اور اس کا قریب ترین آفتاب ہماری زمین سے اس قدر دور ہے کہ اس کی روشنی یہاں تک پہنچنے میں 4 سال صرف ہوتے ہیں۔ پھر یہ کہکشاں بھی پوری کائنات نہیں ہے، بلکہ اب تک کے مشاہدات کی بنا پر اندازہ کیا گیا ہے کہ یہ تقریباً بیس لاکھ لولبی سحابیوں میں سے ایک ہے اور ان میں سے قریب ترین سحابیے کا فاصلہ ہم سے اس قدر زیادہ ہے کہ اس کی روشنی دس لاکھ سال میں ہماری زمین تک پہنچتی ہے۔ رہے بعید ترین اجرام فلکی، جو ہمارے موجودہ آلات سے نظر آتے ہیں، ان کی روشنی تو زمین تک پہنچنے میں دس کروڑ سال لگ جاتے ہیں۔ اس پر بھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ انسان نے ساری کائنات دیکھ لی ہے۔ (تفہیم القرآن) حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی سلطنت ہیئت دانوں کے ان اندازوں بلکہ انسان کے خیال سے بےحدو حساب وسیع ہے۔ یہ ایک معمولی جھلک ہے جو انھیں دکھائی دی ہے۔