Ayah 36:41وَاٰيَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّــتَهُمْ : ”ذُرِّیَّۃٌ“ کا لفظی معنی اولاد ہے۔ ”ذُرِّيَّــتَهُمْ“ میں ضمیر ”ھُمْ“ سے مراد انسان ہیں۔ ”الْمَشْحُوْنِ“ بھری ہوئی، مراد اس سے نوح ؑ کی کشتی ہے۔ یعنی ایک اور نشانی ان کے لیے یہ ہے کہ ہم نے نسل انسان کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا اور وہ پانی جو لوہے کی سوئی اور لکڑی کے ایک ڈنڈے تک کو نہیں اٹھاتا، بلکہ غرق کردیتا ہے، اسی پانی نے ہمارے سکھانے کے مطابق لوہے یا لکڑی سے بنی ہوئی کشتی کو اٹھا لیا، جو آدمیوں سے اور ہر جانور کے ایک ایک جوڑے اور ان کی ضرورت کی اشیاء سے خوب بھری ہوئی تھی۔
یہاں ایک سوال ہے کہ کشتی میں اولاد ہی نہیں ان کے باپ بھی سوار ہوتے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ جو فرمایا کہ ”ہم نے ان کی نسل (یا اولاد) کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا“ یہ کیوں نہ فرما دیا کہ ”ہم نے ان کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا ؟“ جواب اس کا یہ ہے کہ نوح ؑ سے پہلے آباء کو کشتی بنانے کا طریقہ معلوم نہ تھا، نہ وہ سمندر میں سفر کرسکتے تھے۔ آدم ؑ کے بعد ان کی اولاد، جسے باقی رکھنا منظور تھا، ساری کی ساری اس کشتی میں سوار تھی اور طوفان کے بعد وہی زمین پر باقی رہی، باقی سب غرق ہوگئی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے نوح ؑ کے متعلق فرمایا : (وَجَعَلْنَا ذُرِّيَّتَهٗ هُمُ الْبٰقِيْنَ) [ الصافات : 77 ] ”اور ہم نے اس کی اولاد ہی کو باقی رہنے والے بنادیا۔“ اس لیے یہاں ”اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّــتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ“ فرمایا۔ (نظم الدرر) دوسری جگہ اسی کشتی کا ذکر ان الفاظ میں ہے : (اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَاۗءُ حَمَلْنٰكُمْ فِي الْجَارِيَةِ۔ لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَّتَعِيَهَآ اُذُنٌ وَّاعِيَةٌ) [ الحآقۃ : 11، 12 ] ”بلاشبہ ہم نے ہی جب پانی حد سے تجاوز کر گیا، تمہیں کشتی میں سوار کیا، تاکہ ہم اسے تمہارے لیے ایک یاد دہانی بنادیں اور یاد رکھنے والا کان اسے یاد رکھے۔“
Ayah 36:42وَخَلَقْنَا لَهُمْ مِّنْ مِّثْلِهٖ مَا يَرْكَبُوْنَ : اس سے معلوم ہوا کہ اس سے پہلے انسان کو کشتی بنانے کا علم نہ تھا۔ نوح ؑ کی بنائی ہوئی کشتی کے ذریعے سے طوفان سے بچ نکلنے والوں نے بحری سفر کے لیے کشتیاں بنانے کا سلسلہ شروع کردیا جو عام کشتیوں سے باد بانی جہازوں تک پہنچا، پھر انجن والے جہاز ایجاد ہوئے، جن کا سلسلہ ایٹمی ایندھن سے چلنے والے طیارہ بردار جہازوں اور آبدوزوں تک جا پہنچا ہے۔ آگے دیکھیے کیا کچھ ایجاد ہوتا ہے۔ بعض مفسرین نے اس آیت سے مراد یہ لیا ہے کہ ہم نے ان کے لیے کشتی کی طرح اور سواریاں بھی پیدا کی ہیں، مثلاً اونٹ جو صحرا کا جہاز کہلاتا ہے، اسی طرح موٹر، ریل اور ہوائی جہاز وغیرہ۔ اگرچہ یہ معنی بھی ہوسکتا ہے، مگر اگلی آیت میں غرق کے ذکر کی وجہ سے ”مِّنْ مِّثْلِهٖ“ سے مراد ایسی سواریاں لینا بہتر ہے جو سمندری سفر میں کام آتی ہیں، جن میں ہوائی جہاز بھی شامل ہیں۔ نو ایجاد سواریوں کا پیشگی ذکر سورة نحل (8) میں ملاحظہ فرمائیں۔
Ayah 36:43وَاِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْهُمْ فَلَا صَرِيْخَ لَهُمْ : یعنی یہ ہمارا احسان ہے کہ ہم نے پانی میں بحری جہاز اٹھانے کی خوبی رکھی اور انسان کو کشتیاں اور جہاز بنانے کا سلیقہ سکھایا، پھر ہمارا ہی احسان ہے کہ ہم انھیں سلامتی کے ساتھ منزل پر پہنچا دیتے ہیں۔ اگر ہم چاہیں تو انھیں غرق کردیں، پھر نہ کوئی ان کی مدد کو پہنچ سکتا ہے اور نہ وہ خود اپنے آپ کو غرق ہونے سے بچا سکتے ہیں۔
Ayah 36:44اِلَّا رَحْمَةً مِّنَّا وَمَتَاعًا اِلٰى حِيْنٍ : یہ بس ہماری رحمت اور زندگی کی مقررہ مدت تک مہلت دینے ہی کا نتیجہ ہے کہ ہم سمندر اور ہواؤں کی سرکش اور بےپناہ قوتوں کو اپنے کنٹرول میں رکھتے ہیں، جس سے مسافر اور تاجر صحیح سلامت دوسرے کنارے پر جا اترتے ہیں۔
Ayah 36:45وَاِذَا قِيْلَ لَهُمُ اتَّقُوْا مَا بَيْنَ اَيْدِيْكُمْ : کائنات میں پھیلی ہوئی توحید اور آخرت کی نشانیوں اور دلیلوں کے ذکر کے بعد، جن سے مشرکین نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں، اب نصیحت کرنے والوں کے ساتھ ان کے سلوک کا ذکر فرمایا۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ انھوں نے خیر خواہی کی ہر بات سے بھی کان بند کر رکھے ہیں۔ ”مَا بَيْنَ اَيْدِيْكُمْ“ سے مراد پہلے گناہ اور ”وَمَا خَلْفَكُمْ“ سے مراد بعد کے گناہ ہیں، یا ”مَا بَيْنَ اَيْدِيْكُمْ“ سے مراد دنیا کا عذاب اور ”وَمَا خَلْفَكُمْ“ سے مراد آخرت کا عذاب ہے۔ یعنی جب ان سے ان گناہوں سے بچنے کے لیے کہا جاتا ہے جو وہ کرچکے ہیں کہ ان پر نادم ہوجاؤ، ان سے توبہ کرلو اور آئندہ کے لیے ان سے بچ جاؤ، یا جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس عذاب سے بچ جاؤ جو تمہارے گناہوں کی پاداش میں تم پر دنیا میں آسکتا ہے اور اس سے بھی جو آخرت میں آ رہا ہے، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ اس جملے کا جواب یہ ہے ”أَعْرَضُوْا عَنْہُ“ یعنی وہ اس نصیحت سے منہ پھیر لیتے ہیں، مگر یہاں یہ جواب حذف کردیا گیا ہے، کیونکہ یہ اگلی آیت سے خود بخود معلوم ہو رہا ہے۔
Ayah 36:46وَمَا تَاْتِيْهِمْ مِّنْ اٰيَةٍ : یعنی صرف اس نصیحت ہی سے نہیں، ان کے پاس ان کے رب کی آیات میں سے جو آیت بھی آتی ہے وہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں، خواہ وہ ان کی ذات یا پوری کائنات میں پھیلی ہوئی آیات اور نشانیاں ہوں اور خواہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ آیات ہوں۔ چناچہ وہ نہ اس کی توحید کو مانتے ہیں اور نہ اس کے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں۔
Ayah 36:47وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ : یعنی جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو کچھ دیا ہے، اس میں فقراء اور مساکین کے جو حقوق ہیں وہ بھی ادا کرو، تو جواب یہ دیتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہوتا تو وہ ان فقراء و مساکین کو خود ہی دے دیتا۔ جب اللہ تعالیٰ ہی کا ارادہ انھیں دینے کا نہیں تو ہم انھیں کیوں دیں ؟ تم مسلمان تو صاف گمراہی میں پڑے ہوئے ہو کہ ایسے لوگوں کا پیٹ بھرنا چاہتے ہو جن کا پیٹ اللہ نہیں بھرنا چاہتا۔
مشرکین کی یہ بات محض کٹ حجتی ہے، کیونکہ وہ خود بھی خوب جانتے تھے کہ غریبوں کی مدد کرنا بہت اچھا کام ہے۔ رہا اللہ کے چاہنے کا بہانہ، تو یہ محض اپنی بخیلی چھپانے کے لیے ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا امتحان ہی کے لیے بنائی ہے، فقیری اور امیری دونوں آزمائشیں ہیں، فقیر کی آزمائش صبر سے ہے اور غنی کی اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے سے۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی مشیّت یعنی اس کے چاہنے کا سہارا صرف اس وقت تک لیتے ہیں جب تک خود مجرم ہوں۔ جب کوئی دوسرا مجرم ہو اور ان کی حق تلفی ہو رہی ہو تو کبھی اللہ کی مشیّت کا سہارا نہیں لیں گے۔ مثلاً اگر کوئی ڈاکو ان کا مال چھین لے، یا ان کا آدمی قتل کر دے تو کبھی یہ کہہ کر خاموش نہیں ہوں گے کہ اللہ نے ایسے ہی چاہا، اس لیے ٹھیک ہوگیا۔
اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کفار و مشرکین کو صرف توحید و رسالت ہی کی دعوت نہیں دیتے تھے، بلکہ نماز، زکوٰۃ اور دوسری نیکیوں کا حکم بھی دیتے تھے، جیسا کہ حدیث ہرقل میں ہے کہ ہرقل نے ابوسفیان سے رسول اللہ ﷺ کے متعلق پوچھا : ”وہ تمہیں کس بات کا حکم دیتے ہیں ؟“ تو ابو سفیان نے بتایا : (یَأْمُرُنَا بالصَّلَاۃِ وَالزَّکَاۃِ وَالصِّلَۃِ وَالْعَفَافِ) ”وہ ہمیں نماز، زکوٰۃ، صلہ رحمی اور پاک دامنی کا حکم دیتے ہیں۔“ [ بخاري، التفسیر، باب : (قل یا أھل الکتاب تعالوا۔۔) : 4553 ]
Ayah 36:48وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى ھٰذَا الْوَعْدُ : کفار چونکہ قیامت کو نہیں مانتے تھے، اس لیے وہ نبی ﷺ اور مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ پھر تم قیامت لاتے کیوں نہیں ؟ اچھا، یہ بتاؤ کہ وہ کب آئے گی ؟ اس سے ان کا مقصود تاریخ معلوم ہونے پر اس کی تیاری نہ تھا، بلکہ محض جھٹلانا اور مذاق اڑانا تھا کہ جب وہ فوراً قیامت نہ لاسکیں گے تو ہم کہیں گے قیامت وغیرہ کچھ نہیں۔
اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ : یہ الفاظ ابھارنے کے لیے اور جھوٹا ثابت کرنے میں زور پیدا کرنے کے لیے ہیں۔
Ayah 36:49مَا يَنْظُرُوْنَ اِلَّا صَيْحَةً وَّاحِدَةً : ان کے جواب میں یہ نہیں کہا گیا کہ قیامت فلاں وقت آئے گی، بلکہ ان کے سامنے قیامت کے چند ہولناک مناظر کا نقشہ پیش کردیا گیا ہے۔
اِلَّا صَيْحَةً وَّاحِدَةً : ایک ہی چیخ سے مراد اسرافیل ؑ کا پہلی دفعہ صور میں پھونکنا ہے، جس سے تمام مخلوق مرجائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، یہ لوگ جس قیامت کا انتظار کر رہے ہیں اس کے لیے ہمیں کسی لمبی چوڑی تیاری کی ضرورت نہیں، صرف ایک مرتبہ صور میں پھونک دیا جائے گا، جس کی چیخ کی آواز سے سب لوگ بےہوش ہو کر مرجائیں گے۔
تَاْخُذُهُمْ وَهُمْ يَخِصِّمُوْنَ : ”يَخِصِّمُوْنَ“ اصل میں ”یَخْتَصِمُوْنَ“ (افتعال) ہے۔ تاء کو صاد کے ساتھ بدل کر صاد میں ادغام کردیا اور صاد کی موافقت کے لیے خاء کو بھی کسرہ دے دیا۔ ادغام سے ان کے جھگڑنے کی شدت بیان کرنا مقصود ہے۔ یعنی وہ قیامت آہستہ آہستہ نہیں آئے گی، جسے دیکھ کر وہ کچھ سنبھل جائیں، بلکہ سب لوگ اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہوں گے اور پورے زور و شور سے ایک دوسرے سے جھگڑا اور بحث کر رہے ہوں گے کہ اچانک ایک چیخ سے قیامت برپا ہوجائے گی۔ ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : (تَقُوْمُ السَّاعَۃُ وَالرَّجُلُ یَحْلُبُ اللِّقْحَۃَ فَمَا یَصِلُ الْإِنَاءُ إِلٰی فِیْہِ حَتّٰی تَقُوْمَ وَ الرَّجُلَانِ یَتَبَایَعَان الثَّوْبَ فَمَا یَتَبَایَعَانِہِ حَتّٰی تَقُوْمَ وَالرَّجُلُ یَلِطُ فِيْ حَوْضِہِ فَمَا یَصْدُرُ حَتّٰی تَقُوْمَ) [ مسلم، الفتن، باب قرب الساعۃ : 2954 ] ”قیامت (اتنی اچانک) قائم ہوگی کہ آدمی اونٹنی کا دودھ دوہ رہا ہوگا، پھر برتن اس کے منہ تک نہیں پہنچے گا یہاں تک کہ وہ قائم ہوجائے گی اور دو آدمی کپڑے کی خریدو فروخت کر رہے ہوں گے، تو ابھی سوداکر نہیں پائیں گے کہ وہ قائم ہوجائے گی اور آدمی اپنے حوض کی لپائی کر رہا ہوگا، ابھی واپس نہیں ہوگا کہ وہ قائم ہوجائے گی۔“
Ayah 36:50فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ تَوْصِيَةً : ”تَوْصِيَةً“ ”وَصّٰی یُوَصِّيْ“ (تفعیل) کا مصدر ہے، وصیت کرنا۔ یعنی اس چیخ کے بعد انھیں اتنی مہلت نہیں ملے گی کہ وہ کچھ وصیت کرسکیں، یا جو باہر ہیں وہ اپنے گھر واپس جاسکیں، بلکہ جو کوئی جہاں موجود ہوگا وہیں دھر لیا جائے گا۔
Ayah 36:51وَنُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَاِذَا هُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ : ”الْاَجْدَاثِ“ ”جَدَثٌ“ کی جمع ہے، جیسے ”فَرَسٌ“ کی جمع ”أَفْرَاسٌ“ ہے۔ ”يَنْسِلُوْنَ“ ”نَسَلَ“ (ن، ض) نَسْلاً ، نَسَلًا وَ نَسَلَانًا فِيْ مَشْیِہِ“ دوڑنا۔
یعنی صور میں دوسری دفعہ پھونکا جائے گا تو اچانک سب لوگ اپنی قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف دوڑ رہے ہوں گے۔ (دیکھیے قمر : 6 تا 8۔ معارج : 43) صور میں کتنی دفعہ پھونکا جائے گا اور دو دفعہ پھوکنے کے درمیان کتنا عرصہ ہوگا، اس تفصیل کے لیے سورة نمل کی آیت (87) کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔
Ayah 36:52قَالُوْا يٰوَيْلَنَا مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا : یعنی اس وقت انھیں یہ احساس نہیں ہوگا کہ وہ مرچکے تھے اور اب زندہ کیے گئے ہیں، بلکہ سمجھیں گے کہ ہم سوئے ہوئے تھے اور کسی نے ہمیں جگا دیا ہے۔ گزری ہوئی لمبی مدت انھیں ایک لمحہ معلوم ہوگی۔ مزید دیکھیے سورة بنی اسرائیل (52) اور روم (55)۔
ۆھٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَصَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ : یہاں یہ ذکر نہیں کہ یہ بات کون کہے گا، عین ممکن ہے کہ خود ہی ان کی سمجھ میں آجائے کہ یہ تو وہی قیامت ہے جو رسول ہمیں بتایا کرتے تھے اور ہم اسے جھٹلاتے تھے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مومن یا فرشتے انھیں یہ بات کہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مستقبل کو حاضر قرار دے کر اب یہ جواب دے رہے ہوں۔
یہاں لفظ ”الرَّحْمٰنُ“ صرف اس کا وعدہ یاد دلانے کے لیے نہیں، بلکہ یہ بتانے کے لیے ہے کہ اس خوف ناک دن میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ننانوے حصوں کے وہ جلوے نظر آئیں گے جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتے، جیسا کہ فرمایا : (اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذِۨ الْحَقُّ للرَّحْمٰنِ) [ الفرقان : 26 ] ”اس دن حقیقی بادشاہی رحمٰن کی ہوگی۔“ اور فرمایا : (وَخَشَعَتِ الْاَصْوَات للرَّحْمٰنِ) [ طٰہٰ : 108 ] ”اور سب آوازیں رحمٰن کے لیے پست ہوجائیں گی۔“
Ayah 36:53اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَيْحَةً وَّاحِدَةً : مراد صور میں دوسری دفعہ کی پھونک ہے، جس سے لمحہ بھر میں قیامت برپا ہوجائے گی۔ دیکھیے سورة نحل (77) اور نازعات (13، 14)۔
Ayah 36:54فَالْيَوْمَ لَا تُــظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــًٔا : یعنی اس وقت اعلان ہوگا کہ آج کسی جان پر کچھ بھی ظلم نہیں کیا جائے گا، نہ یہ کہ ان کی نیکیوں میں کوئی کمی کی جائے اور نہ یہ کہ وہ گناہ اس کے ذمے ڈال دیے جائیں جو اس نے نہیں کیے، بلکہ صرف انھی اعمال کی جزا ملے گی جو وہ کرتے رہے تھے۔
Ayah 36:55اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ الْيَوْمَ : یہ ذکر کرنے کے بعد کہ ہر ایک کو اس کے عمل ہی کی جزا ملے گی، پہلے اہل جنت کی جزا ذکر فرمائی کہ آج کے دن وہ ایک عظیم مشغولیت میں خوش ہوں گے۔ ”شُغُلٍ“ کا معنی ایسا کام ہے جو انسان کو دوسرے کاموں سے روک دے۔ اس میں تنوین تعظیم کی ہے، مراد یہ ہے کہ وہ اپنی بیویوں سے اور جنت کی دوسری نعمتوں سے لذت اٹھانے میں ایسے مگن ہوں گے کہ انھیں کسی اور چیز کا خیال تک نہیں آئے گا، کیونکہ جنت کی وہ نعمتیں ایسی ہوں گی جو انسان کے وہم و گمان سے بھی بالا ہیں۔ دیکھیے سورة سجدہ (17) ”الْيَوْمَ“ (آج) کے لفظ سے معلوم ہوا کہ اہل جنت جلد ہی جنت میں چلے جائیں گے۔
Ayah 36:56هُمْ وَاَزْوَاجُهُمْ فِيْ ظِلٰلٍ : جنت کے سایوں کے لیے دیکھیے سورة نساء کی آیت (57)۔
Ayah 36:57لَهُمْ فِيْهَا فَاكِهَةٌ وَّلَهُمْ مَّا يَدَّعُوْنَ : ”فَاكِهَةٌ“ میں تنوین تکثیر کے لیے ہے، یعنی ان کے لیے جنت میں بہت سے پھل ہوں گے اور انھیں ہر وہ چیز ملے گی جس کی وہ تمنا کریں گے اور مانگیں گے۔ یہ تو جسمانی لذتوں کا حال ہوگا، روحانی لذتوں میں سب سے اونچی لذت کا ذکر اگلی آیت میں فرمایا۔
Ayah 36:58سَلٰمٌ ۣ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ : یعنی اس بیحد مہربان رب کی طرف سے جنتیوں کو سلام کہا جائے گا۔ دوسری آیات میں ہے کہ انھیں اللہ تعالیٰ کا دیدار بھی ہوگا۔ رب رحیم کے دیدار اور اس کی طرف سے سلام کے بعد انھیں ہر لحاظ سے سلامتی حاصل ہوگی اور ایسا تحفہ اور ایسی نعمت ملے گی جس سے بڑا تحفہ اور بڑی نعمت کوئی نہیں، کیونکہ اس سے انھیں اس کی ابدی رضا حاصل ہوجائے گی، جس کے بعد وہ کبھی ان پر ناراض نہیں ہوگا۔ دیکھیے سورة توبہ (72) اور سورة یونس (26)۔
Ayah 36:59وَامْتَازُوا الْيَوْمَ اَيُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ : جنتیوں کی ہر لحاظ سے تکریم اور رب رحیم کی طرف سے سلام کے ذکر کے بعد بتایا کہ جہنمیوں سے کیا کہا جائے گا، یعنی ان سے کہا جائے گا کہ اے مجرمو ! تم جنتیوں سے الگ ہوجاؤ۔ دنیا میں بیشک تم اکٹھے رہے، مگر آج تمہارا ان سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ چناچہ یہود و نصاریٰ ، مجوس اور مشرکین سب الگ ہوجائیں گے (دیکھیے یونس : 28۔ روم : 14 تا 16) اور جو جس کی پرستش کرتا تھا اس کے پیچھے چلا جائے گا، صرف موحد باقی رہ جائیں گے۔ دیکھیے سورة قلم کی آیت (42) (يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ) کی تفسیر۔
Ayah 36:60اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَيْكُمْ يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ :”عَھِدَ إِلَیْہِ“ کا معنی ہے اس کو وصیت کی۔ آلوسی نے فرمایا، اس تاکیدی نصیحت سے مراد اللہ تعالیٰ کے وہ اوامرو نواہی ہیں جو اس نے اپنے رسولوں کی معرفت بنی آدم کے لیے بھیجے، جن میں سے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی ہے : (يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطٰنُ كَمَآ اَخْرَجَ اَبَوَيْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ يَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوْاٰتِهِمَا ۭاِنَّهٗ يَرٰىكُمْ هُوَ وَقَبِيْلُهٗ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ ۭاِنَّا جَعَلْنَا الشَّيٰطِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ لِلَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ) [ الأعراف : 27 ] ”اے آدم کی اولاد ! کہیں شیطان تمہیں فتنے میں نہ ڈال دے، جس طرح اس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے نکال دیا، وہ دونوں سے ان کے لباس اتارتا تھا، تاکہ دونوں کو ان کی شرم گاہیں دکھائے، بیشک وہ اور اس کا قبیلہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انھیں نہیں دیکھتے۔ بیشک ہم نے شیطانوں کو ان لوگوں کے دوست بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے۔“ بعض نے کہا، مراد وہ عہد ہے جو ”اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ“ میں مذکور ہے، (دیکھیے سورة اعراف : 172 کی تفسیر) یا وہ عقلی دلائل ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے کائنات میں رکھے ہیں۔
Ayah 36:61وَّ اَنِ اعْبُدُوْنِيْ ڼ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَــقِيْمٌ : ”اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطٰنَ“ میں اور ”اَنِ اعْبُدُوْنِيْ“ میں ”اَنِ“ تفسیریہ ہے اور یہ سب اسی تاکیدی نصیحت کی تفسیر ہے۔
Ayah 36:62اَفَلَمْ تَكُوْنُوْا تَـعْقِلُوْنَ : یعنی کیا تم اتنی عقل نہ رکھتے تھے کہ جب شیطان تمہارا دشمن تھا تو تم اس کے بتائے ہوئے راستے پر نہ چلتے ؟
Ayahs 36:63–64هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ : ”اِصْلَوْهَا“ ”صَلِيَ یَصْلٰی (ع) النَّارَ“ کا اصل معنی آگ سینکنا ہے۔ انھیں یہ بات بطور طنز و استہزا کہی جائے گی۔ (التحریر) اور اس حکم کے ساتھ ہی انھیں دھکیل کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ سورة طور میں فرمایا : (يَوْمَ يُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا۔ هٰذِهِ النَّارُ الَّتِيْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ) [ الطور : 13، 14 ]”جس دن انھیں جہنم کی آگ کی طرف دھکیلا جائے گا، سخت دھکیلا جانا۔ یہی ہے وہ آگ جسے تم جھٹلاتے تھے۔“
Ayah 36:65اَلْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓي اَفْوَاهِهِمْ : مونہوں پر مہر لگانے کی وجہ یہ ہوگی کہ بعض مجرم قیامت کے دن اپنے جرم کا اقرار کرنے سے انکار کردیں گے اور کہیں گے کہ ہم نے کوئی جرم کیا ہی نہیں، وہ گواہوں کو جھٹلا دیں گے اور نامہ اعمال کو بھی درست نہیں مانیں گے، بلکہ اپنے بےگناہ ہونے کی قسمیں کھائیں گے، جیسا کہ فرمایا : (ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ اِلَّآ اَنْ قَالُوْا وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ) [ الأنعام : 23 ] ”پھر ان کا فریب اس کے سوا کچھ نہ ہوگا کہ کہیں گے، اللہ کی قسم ! جو ہمارا رب ہے، ہم شریک بنانے والے نہ تھے۔“ اور قسمیں کھا کر دل میں سمجھیں گے کہ جس طرح دنیا میں جھوٹ چل جاتا تھا، اب بھی چل جائے گا، فرمایا : (يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا فَيَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا يَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَيَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰي شَيْءٍ ۭ اَلَآ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ) [ المجادلۃ : 18 ] ”جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا تو وہ اس کے سامنے قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں اور گمان کریں گے کہ وہ کسی چیز پر (قائم) ہیں، سن لو ! یقیناً وہی اصل جھوٹے ہیں۔“
اس وقت ان سے یہ معاملہ ہوگا جس کا اس آیت میں ذکر ہے۔ انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے کہ آپ اچانک ہنس دیے اور فرمایا : ”جانتے ہو میں کس بات پر ہنسا ہوں ؟“ ہم نے کہا : ”اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔“ تو آپ ﷺ نے فرمایا : (مِنْ مُخَاطَبَۃِ الْعَبْدِ رَبَّہُ یَقُوْلُ یَا رَبِّ ! أَلَمْ تُجِرْنِيْ مِنَ الظُّلْمِ ؟ قَالَ یَقُوْلُ بَلٰی، قَالَ فَیَقُوْلُ فَإِنِّيْ لَا أُجِیْزُ عَلٰی نَفْسِيْ إِلَّا شَاہِدًا مِنِّيْ ، قَالَ فَیَقُوْلُ کَفٰی بِنَفْسِکَ الْیَوْمَ عَلَیْکَ شَہِیْدًا وَبِالْکِرَامِ الْکَاتِبِیْنَ شُہُوْدًا قَالَ فَیُخْتَمُ عَلٰی فِیْہِ فَیُقَالُ لِأَرْکَانِہِ انْطِقِيْ قَالَ فَتَنْطِقُ بِأَعْمَالِہِ قَالَ ثُمَّ یُخَلّٰی بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْکَلَامِ قَالَ فَیَقُوْلُ بُعْدًا لَکُنَّ وَسُحْقًا فَعَنْکُنَّ کُنْتُ أُنَاضِلُ) [ مسلم، الزھد والرقائق، باب الدنیا سجن للمؤمن و جنۃ للکافر : 2969 ] ”میں بندے کی اپنے رب سے گفتگو پر ہنسا ہوں (جو وہ قیامت کے دن کرے گا) ، وہ کہے گا : ”اے میرے رب ! کیا تو مجھے ظلم سے پناہ نہیں دے چکا ؟“ وہ فرمائے گا : ”کیوں نہیں ؟“ کہے گا : ”میں اپنے سوا کسی گواہ کی گواہی اپنے خلاف منظور نہیں کروں گا (میرا بدن میرا اپنا ہے باقی سب میرے دشمن ہیں)۔“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ”آج تیری ذات ہی تیرے خلاف بطور گواہ کافی ہے اور کراماً کاتبین گواہ کافی ہیں۔“ چناچہ اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کے جسم کے اعضا سے کہا جائے گا : ”بولو !“ تو وہ اس کے سارے اعمال بول کر بتائیں گے، پھر اسے بولنے کی اجازت دی جائے گی تو وہ اپنے اعضا سے کہے گا : ”تمہارا ستیاناس ہو اور تم (مجھ سے) دور ہوجاؤ، میں تو تمہارا ہی دفاع کر رہا تھا۔“
اس آیت میں ہاتھوں اور پاؤں کے بولنے اور شہادت دینے کا ذکر ہے، جبکہ دوسرے مقامات پر جسم کے دوسرے اعضا کے بولنے کا بھی ذکر ہے، چناچہ فرمایا : (حَتّىٰٓ اِذَا مَا جَاۗءُوْهَا شَهِدَ عَلَيْهِمْ سَمْعُهُمْ وَاَبْصَارُهُمْ وَجُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ) [ حٰآ السجدۃ : 20 ] ”یہاں تک کہ جوں ہی اس (آگ) کے پاس پہنچیں گے ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے چمڑے ان کے خلاف اس کی شہادت دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔“ اور فرمایا : (يَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَاَيْدِيْهِمْ وَاَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ) [ النور : 24 ] ”جس دن ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے خلاف اس کی شہادت دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔“ اس آیت پر ایک سوال ہے کہ مونہوں پر مہر کے باوجود زبانیں کیسے شہادت دیں گی ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ مہر سے مراد یہ ہے کہ اس کی زبان پر سے اس کا اختیار ختم کردیا جائے گا اور زبان کو اپنی مرضی سے صحیح بات کہنے کا اختیار ہوگا۔
Ayah 36:66وَلَوْ نَشَاۗءُ لَطَمَسْنَا عَلٰٓي اَعْيُـنِهِمْ : پچھلی دو آیتوں کے ساتھ ان دو آیات کا تعلق یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ وہ قیامت کے دن شرک سے انکار کے بعد اس کے اعتراف پر مجبور ہوجائیں گے، تو اس سے دل میں خیال گزرتا ہے کہ کاش ! دنیا میں بھی انھیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے رسولوں کی تصدیق پر مجبور کردیا جاتا۔ تو اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ اگر ہمارا ارادہ یہ ہوتا تو ہم ایسا کردیتے اور کفرو شرک کرنے والوں کو فوراً پکڑ لیتے، تاکہ وہ اپنے کفرو شرک سے باز آجائیں، مگر ہم نے دنیا کو دارالامتحان بنایا ہے اور ہر ایک کو عمل کی مہلت دی ہے۔ (ابن عاشور)
”طَمَسَ یَطْمِسُ“ (ض) کا معنی ”مٹانا“ ہے، لفظ ”عَلٰٓي“ کے بغیر بھی اس کا معنی یہی ہے، ”عَلٰٓي“ کے لفظ سے مراد مٹانے میں مبالغہ ہے۔ یعنی اگر ہم چاہیں تو ان کی آنکھیں سرے ہی سے مٹا دیں، پھر وہ راستے کی طرف بڑھیں تو اسے کس طرح دیکھیں گے۔ ”لَوْ“ کا لفظ شرط کے نہ ہونے کی وجہ سے جزا کے نہ ہونے کے لیے ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ”لیکن ہم نے یہ نہیں چاہا تو ایسا نہیں ہوا، بلکہ ہم نے انھیں ان کی تمام تر نافرمانیوں کے باوجود ایک وقت تک مہلت دی ہے۔“
Ayah 36:67وَلَوْ نَشَاۗءُ لَمَسَخْنٰهُمْ عَلٰي مَكَانَـتِهِمْ : مسخ کا معنی ہے انسان کی شکل اس کے علاوہ کسی اور شکل میں بدل دینا، مثلاً اسے بندر یا خنزیر یا پتھر بنادینا۔ ”مَکَانَۃٌ“ ”مَکَانٌ“ (جگہ) کی مؤنث ہے (بُقْعَۃٌ کی تاویل کے ساتھ) ، یعنی اور اگر ہم چاہیں تو (جب وہ کفر و شرک کا ارتکاب کریں) انھیں زمین کے عین اسی ٹکڑے پر مسخ کردیں، پھر نہ وہ آگے جاسکیں اور نہ گھر واپس جاسکیں (مگر ہم نے یہ نہیں چاہا۔۔)۔
Ayah 36:68وَمَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِي الْخَلْقِ : انسان کی جوانی جوں جوں ڈھلتی ہے، بڑھاپا، کمزوری اور ناتوانی آتی جاتی ہے، حتیٰ کہ وہ دوبارہ بچوں کی طرح کمزور اور ہر کام میں دوسروں کا محتاج ہوجاتا ہے۔ بڑے عالی دماغ کے باوجود سب کچھ بھول جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ﮨـعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ﮨـعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ﮨـعْفًا وَّشَيْبَةً ۭ يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۚ وَهُوَ الْعَلِيْمُ الْقَدِيْرُ) [ الروم : 54 ] ”اللہ وہ ہے جس نے تمہیں کمزوری سے پیدا کیا، پھر کمزوری کے بعد قوت بنائی، پھر قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا بنادیا، وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور وہی سب کچھ جاننے والا ہے، ہر چیز پر قادر ہے۔“ اور فرمایا : (ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْٓا اَشُدَّكُمْ ۚ وَمِنْكُمْ مَّنْ يُّتَوَفّٰى وَمِنْكُمْ مَّنْ يُّرَدُّ اِلٰٓى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَيْــــًٔا) [ الحج : 5 ] ”پھر ہم تمہیں ایک بچے کی صورت میں نکالتے ہیں، پھر تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچو اور تم میں سے کوئی وہ ہے جو قبض کرلیا جاتا ہے اور تم میں سے کوئی وہ ہے جو سب سے نکمّی عمر کی طرف لوٹایا جاتا ہے، تاکہ وہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے۔“
اَفَلَا يَعْقِلُوْنَ : مفسرین نے پچھلی آیات کی مناسبت سے اس کی تفسیر دو طرح سے کی ہے، ایک یہ کہ زندگی کے ان انقلابات کو دیکھ کر بھی یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ یہ انقلابات لانے والی ہستی کے لیے انسان کو دوبارہ زندہ کرنا اور قیامت برپا کرنا کچھ مشکل نہیں، بلکہ آخرت اور جزائے اعمال حق ہے۔ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں : ”یعنی جیسے لڑکا سست تھا، بوڑھا بھی ویسا ہی ہوا، یہ بھی نشان ہے پھر پیدا ہونے کا۔“ (موضح) دوسری تفسیر یہ کہ پھر بھی کیا یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ جو پروردگار عمر دے کر بناوٹ میں الٹا کردیتا ہے، وہ اس پر بھی قادر ہے کہ آنکھیں دینے کے بعد انھیں مٹا دے اور اچھی صورتیں عطا کرنے کے بعد انھیں مسخ کر دے۔
Ayah 36:69وَمَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنْۢبَغِيْ لَهٗ : پچھلی آیات سے اس کی مناسبت یہ ہے کہ کفار توحید و آخرت اور زندگی کے بعد موت اور جنت و دوزخ کے متعلق نبی ﷺ کی باتوں کو محض شاعری قرار دے کر اپنے خیال میں بےوزن ٹھہرانے کی کوشش کرتے تھے، یہ ان کے اس الزام کا رد ہے۔ یعنی آپ ﷺ نبوت و رسالت کے جس مقام پر فائز ہیں شاعری کو اس سے کوئی مناسبت نہیں۔ شاعری کا حسن اور کمال تو جھوٹ، مبالغہ آرائی، خیالی بلند پروازی اور فرضی نکتہ آفرینی ہے، جب کہ نبی ﷺ کی شان ان چیزوں سے بلندوبالا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی طبیعت ایسی رکھی کہ باوجود خاندان عبدالمطلب سے ہونے کے، جس کا ہر فرد فطرتاً شاعر ہوتا تھا، پوری عمر میں کوئی شعر نہیں کہا۔ یوں جنگ وغیرہ کے موقع پر زبان مبارک سے کبھی کوئی مقفّٰی عبارت ایسی نکل گئی جو شعر کا سا وزن رکھتی تھی تو وہ الگ بات ہے، اسے شعر و شاعری نہیں کہا جاسکتا۔ شعر اور شعراء پر مفصل کلام کے لیے دیکھیے سورة شعراء کی آیات (24 2 تا 227) کی تفسیر۔
”وَمَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ“ کے الفاظ پر ان لوگوں کو غور کرنا چاہیے جو رسول اللہ ﷺ کو ”عَالِمُ مَا کَانَ وَمَا یَکُوْنُ“ قرار دیتے ہیں۔
اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ وَّقُرْاٰنٌ مُّبِيْنٌ : یعنی یہ تو نصیحت اور یاد دہانی ہے اور واضح پڑھی جانے والی آسمانی کتاب ہے۔
Ayah 36:70لِّيُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَيًّا : تاکہ یہ اس آدمی کو ڈرائے جس کا دل اور جس کی بصیرت زندہ ہے، جس نے اپنے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو معطل نہیں کر رکھا اور نہ ہی اس کا دل پتھر کی طرح مردہ ہوچکا ہے کہ اسے کتنی ہی نصیحت کی جائے اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا، کیونکہ زندہ دل والا آدمی ہی اس کے ڈرانے سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۭ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ۔ وَمَا يَسْتَوِي الْاَعْمٰى وَالْبَصِيْرُ۔ وَلَا الظُّلُمٰتُ وَلَا النُّوْرُ۔ وَلَا الظِّلُّ وَلَا الْحَــرُوْرُ۔ وَمَا يَسْتَوِي الْاَحْيَاۗءُ وَلَا الْاَمْوَاتُ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُسْمِعُ مَنْ يَّشَاۗءُ ۚ وَمَآ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِي الْقُبُوْرِ۔ اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِيْرٌ۔ اِنَّآ اَرْسَلْنٰكَ بالْحَقِّ بَشِيْرًا وَّنَذِيْرًا ۭ وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ) [ فاطر : 18 تا 24 ] ”تو صرف ان لوگوں کو ڈراتا ہے جو دیکھے بغیر اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو پاک ہوتا ہے تو وہ صرف اپنے لیے پاک ہوتا ہے اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ اور اندھا اور دیکھنے والا برابر نہیں۔ اور نہ اندھیرے اور نہ روشنی۔ اور نہ سایہ اور نہ لُو۔ اور نہ زندے برابر ہیں اور نہ مردے۔ بیشک اللہ سنا دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور تو ہرگز اسے سنانے والا نہیں جو قبروں میں ہے۔ توُ تو محض ایک ڈرانے والا ہے۔ بیشک ہم نے تجھے حق کے ساتھ خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور کوئی امت نہیں مگر اس میں ایک ڈرانے والا گزرا ہے۔“ اور فرمایا : (اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّـبَعَ الذِّكْرَ وَخَشِيَ الرَّحْمٰنَ بالْغَيْبِ ۚ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَّاَجْرٍ كَرِيْمٍ) [ یٰسٓ : 11 ] ”توُ تو صرف اسی کو ڈراتا ہے جو نصیحت کی پیروی کرے اور رحمٰن سے بِن دیکھے ڈرے۔ سو اسے بڑی بخشش اور باعزت اجر کی خوش خبری دے۔“ اور فرمایا : (فَاِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاۗءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِيْنَ۔ وَمَآ اَنْتَ بِهٰدِي الْعُمْىِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ ۭ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ يُّؤْمِنُ بِاٰيٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ) [ الروم : 52، 53 ] ”پس بیشک تو نہ مردوں کو سناتا ہے اور نہ بہروں کو پکار سناتا ہے، جب وہ پیٹھ پھیر کر لوٹ جائیں۔ اور نہ تو کبھی اندھوں کو ان کی گمراہی سے راہ پر لانے والا ہے۔ تو نہیں سناتا مگر انھی کو جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں، پھر وہ فرماں بردار ہیں۔“
وَّيَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ : اور تاکہ جو کفر پر ڈٹے رہیں ان پر اللہ کی طرف سے حجت پوری ہوجائے اور ان کے پاس کوئی ایسا عذر نہ رہے جس کی بنا پر وہ قیامت کے دن اپنے آپ کو بےقصور اور مظلوم تصور کرسکیں۔
Ayah 36:71اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ : یہاں سے پھر توحید اور اس کے بعد آخرت کے دلائل کا بیان ہے۔”اَنْعَامًا“ ”نَعَمٌ“ کی جمع ہے، یعنی کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ یہ جانور جن کے یہ مالک بنے ہوئے ہیں، یہ سب ہم نے پیدا کیے ہیں۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں کا ذکر قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر بھی ہے اور ان پر ایمان رکھنا اور ان کی کیفیت اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنا واجب ہے، تاہم یہاں اہل علم نے ”اپنے ہاتھوں سے“ بنانے کا مطلب یہ بیان فرمایا ہے کہ ہم نے انھیں کسی کی شرکت یا واسطے کے بغیر خود بنایا ہے۔ ان کے پیدا کرنے میں کسی دوسرے کا ذرہ برابر دخل نہیں ہے۔ (فتح البیان)
Ayah 36:72وَذَلَّــلْنٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوْبُهُمْ : یعنی ان چوپاؤں کو ہم نے ان کے تابع کر رکھا ہے، اگر ہم دوسرے جنگلی جانوروں کی طرح ان کی طبیعت میں بھی وحشت رکھ دیتے تو وہ کبھی ان کے قابو میں نہ آتے، کجا یہ کہ ان کے مالک بنتے۔ ہمارے تابع کرنے کا نتیجہ ہے کہ ایک چھوٹا سا بچہ بھی اونٹ کی نکیل تھام لے تو اونٹ جیسا قوی اور بڑا جانور اس کے ساتھ چل پڑتا ہے اور اگر اس کے ساتھ سو اونٹوں کی قطار ہو تو وہ بھی ایک بچے کے ہانکنے سے سیدھی چلتی رہتی ہے۔ اس ماتحتی کے علاوہ ان پر سوار ہو کر لمبے لمبے سفر آسانی سے طے کرتے ہیں۔ خود سوار ہوتے ہیں، سامان لادتے ہیں اور بوجھ ڈھونے کا کام لیتے ہیں، حتیٰ کہ بعض کو ذبح کر کے ان کا گوشت بھی کھاتے ہیں۔
Ayah 36:73وَلَهُمْ فِيْهَا مَنَافِعُ وَمَشَارِبُ : سواری اور گوشت کے علاوہ انسان کے لیے ان جانوروں میں بہت سے فوائد ہیں، مثلاً ان کی کھال، چربی، سینگوں، بالوں اور آنتوں وغیرہ سے سیکڑوں چیزیں بناتے ہیں۔ ان کے ساتھ کھیتی باڑی کرتے ہیں، ان کے گوبر کی کھاد بناتے ہیں اور ان کی خریدو فروخت کے ساتھ زندگی کی ہر ضرورت پوری کرتے ہیں۔ جانوروں کے ذریعے سے آدمی کو پینے کی بھی بہت سی چیزیں مہیا ہوتی ہیں، مثلاً ان کا دودھ اور بیشمار وہ چیزیں جو دودھ سے بنتی ہیں۔ مزید دیکھیے سورة نحل (5 تا 8) اور سورة زخرف (12 تا 14)۔
اَفَلَا يَشْكُرُوْنَ : یعنی یہ سب قسم کے احسانات تو انسان پر اللہ تعالیٰ نے کیے، اب بجائے اس کے کہ وہ اللہ کا شکر ادا کرتا، اس نے انھی جانوروں کی قربانیاں غیر اللہ کے آستانوں پر اور ان کے نام پر کیں۔ ان کے نام پر جانور آزاد چھوڑے جن کا ان جانوروں کے پیدا کرنے اور انھیں انسان کا مطیع بنانے میں کچھ بھی عمل دخل نہ تھا، اس سے بڑھ کر ناشکری اور نمک حرامی کیا ہوسکتی ہے ! ؟
Ayah 36:74وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ : انسان نے اللہ کے سوا جن کی بھی عبادت کی ہے صرف اس لیے کی ہے کہ وہ اس کی مدد کریں، اس کی کوئی حاجت پوری کریں، یا اس کی کوئی مشکل دور کریں۔ اگر وہ آخرت پر بھی ایمان رکھتا ہے تو اس لیے کہ اسے سفارش کے بل بوتے پر عذاب سے بچا لیں، یہ سب مدد کی صورتیں ہیں۔
Ayah 36:75لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَهُمْ : فرمایا، وہ ان کی مدد کی طاقت نہیں رکھتے، نہ دنیا میں نہ آخرت میں۔ دنیا میں ان کی مدد کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے عابدوں کی مدد تو کیا کریں گے وہ اپنی بقا، حفاظت اور دوسری ضروریات کے لیے اپنی عبادت کرنے والوں کے محتاج ہیں اور آخرت میں وہ ان کے دشمن بن جائیں گے اور ان کی عبادت کا انکار کردیں گے۔ دیکھیے سورة احقاف (6)۔
وَهُمْ لَهُمْ جُنْدٌ مُّحْضَرُوْنَ : اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں، پہلا یہ کہ ”هُمْ“ سے مراد مشرکین اور ”لَهُمْ“ سے مراد ان کے معبود ہوں، یعنی بجائے اس کے کہ ان کے معبود ان کی مدد کریں یہ عبادت کرنے والے ہر وقت ان کے مددگار اور خدمت گار فوج بنے ہوئے ہیں، ان کے آستانے تعمیر کرتے ہیں، ان کے آستانوں اور قبروں پر جھاڑو دیتے ہیں، انھیں چمکا کر رکھتے ہیں، وہاں لنگر کا انتظام کرتے ہیں، ان کی حمایت میں لڑتے جھگڑتے ہیں اور ان کی مشکل کشائی اور حاجت روائی کے جھوٹے قصّے بیان کر کے لوگوں کو ان کا گرویدہ بناتے ہیں۔ اگر عبادت کرنے والوں کے یہ لشکر نہ ہوں تو ان کی خدائی ایک لمحہ نہیں چل سکتی۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ ”هُمْ“ سے مراد باطل معبود اور ”لَهُمْ“ سے مراد مشرکین ہوں، یعنی وہ جھوٹے معبود قیامت کے دن ان کفار کی عبادت کا انکار کر کے انھیں عذاب دینے دلوانے والے لشکر بن جائیں گے۔
Ayah 36:76فَلَا يَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ : اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ جب ہمارے متعلق ان مشرکین کے جہل اور عناد کا یہ حال ہے تو آپ بھی ان کی باتوں سے غم زدہ نہ ہوں۔
اِنَّا نَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَمَا يُعْلِنُوْنَ : (إِنَّ تعلیل کے لیے ہوتا ہے) کیونکہ آپ غم زدہ تو تب ہوں جب انھیں کوئی پوچھنے والا نہ ہو، ہم تو ان کی وہ باتیں بھی جانتے ہیں جو وہ چھپاتے ہیں اور وہ بھی جو ظاہر کرتے تھے۔ ہمیں معلوم ہے کہ آپس میں وہ آپ کے سچا ہونے کا اقرار کرتے ہیں اور لوگوں کے سامنے آپ کو شاعر، ساحر اور کاہن وغیرہ کہتے ہیں۔ اسی طرح ہمیں ان کی خفیہ سازشوں کا بھی علم ہے اور علانیہ دشمنی کا بھی، آپ فکر نہ کریں، ہم سارا حساب برابر کردیں گے۔
Ayah 36:77اَوَلَمْ يَرَ الْاِنْسَانُ : یہاں سے سورت کے آخر تک کفار کے اس انکار کا دلیل کے ساتھ جواب ہے جو وہ قیامت کا مذاق اڑانے کے لیے سوال کی صورت میں کرتے تھے کہ ”مَتٰى ھٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ“ قیامت کا وعدہ کب پورا ہوگا ؟ یعنی قیامت وغیرہ کچھ نہیں، نہ ہی کوئی مر کر زندہ ہوسکتا ہے۔ ”اَوَلَمْ يَرَ“ (اور کیا انسان نے نہیں دیکھا) سے مراد ہے ”أَوَلَمْ یَعْلَمْ“ (اور کیا انسان کو معلوم نہیں)۔ کیونکہ کسی بھی شخص نے اپنا نطفے سے پیدا ہونا آنکھوں سے نہیں دیکھا۔
اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ : ”نُّطْفَةٍ“ ”نَطَفَ یَنْطُفُ“ (ن، ض) ٹپکنا، اس میں تنوین تحقیر کے لیے ہے، معمولی اور حقیر قطرہ، یعنی کیا انسان کو معلوم نہیں کہ ہم نے انسان کو ایک حقیر قطرے سے پیدا کیا ہے ؟ بسر بن جحاش القرشی ؓ بیان کرتے ہیں : (بَزَقَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ فِيْ کَفِّہِ ، ثُمَّ وَضَعَ أُصْبَعَہُ السَّبَّابَۃَ وَقَالَ یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ أَنّٰی تُعْجِزُنِي ابْنَ آدَمَ وَقَدْ خَلَقْتُکَ مِنْ مِثْلِ ہٰذِہِ ، فَإِذَا بَلَغَتْ نَفْسُکَ ہٰذِہِ ، وَأَشَارَ إِلٰی حَلْقِہِ ، قُلْتَ أَتَصَدَّقُ ، وَأَنّٰی أَوَان الصَّدَقَۃِ ؟) [ ابن ماجہ، الوصایا، باب النھي عن الإمساک۔۔ : 2707، قال البوصیري صحیح وقال الألباني حسن ] ”رسول اللہ ﷺ نے اپنی ہتھیلی پر تھوکا، پھر اپنی شہادت کی انگلی اس پر رکھی اور فرمایا : ”اللہ عز و جل فرماتا ہے، اے ابن آدم ! تو مجھے کیسے عاجز کرسکتا ہے، حالانکہ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا ہے اور جب تیری جان یہاں پہنچ جاتی ہے (اور آپ نے حلق کی طرف اشارہ فرمایا) تو کہتا ہے، میں صدقہ کرتا ہوں، بھلا اب صدقے کا وقت کہاں ؟“
Ayah 36:78فَاِذَا هُوَ خَصِيْمٌ مُّبِيْنٌ : ”خَصِيْمٌ“ مبالغے کا صیغہ ہے، بہت جھگڑنے والا۔ ”إِذَا“ فجائیہ اچانک کے معنی میں آتا ہے، یعنی ایسی عجیب چیز کا وجود میں آنا جس کا وہم و گمان نہ ہو، یعنی ایسے حقیر قطرے سے پیدا کیے جانے والے انسان کا حق تو یہ تھا کہ ہمیشہ اس کا سر ہمارے احسان کے بوجھ سے جھکا رہتا۔ یہ تو امید ہی نہ تھی کہ وہ صاف جھگڑے پر اتر آئے گا اور اتنا زیادہ جھگڑے گا۔ دیکھیے سورة نحل (4)۔
وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِيَ خَلْقَهٗ : یعنی ہمیں مخلوق کی طرح عاجز سمجھتا ہے کہ جس طرح انسان مردہ کو زندہ نہیں کرسکتا ہم بھی نہیں کرسکتے اور یہ بھول جاتا ہے کہ خود اسے ہم نے کس چیز سے پیدا کیا۔ کہتا ہے، آخر جب بدن گل سڑ کر ہڈیاں رہ گیا اور وہ بھی پرانی اور بوسیدہ و کھوکھلی تو انھیں دوبارہ کون زندہ کرے گا ؟ اگر یہ اپنی پیدائش کو یاد رکھتا تو یہ سوال ہرگز نہ کرتا، کیونکہ جو انسان کو ایک حقیر مردہ قطرے سے پیدا کرسکتا ہے، جب اس کا نام و نشان نہیں تھا، اس کے لیے اسے اس کی بوسیدہ ہڈیوں کو دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے انسان کو نطفے سے پیدا کرنے کی بات کئی مقامات پر یاد دلائی ہے، سورة دہر میں فرمایا : (اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ) [ الدھر : 2 ] ”بلاشبہ ہم نے انسان کو ایک ملے جلے قطرے سے پیدا کیا۔“ اور سورة مرسلات میں فرمایا : (اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّاۗءٍ مَّهِيْنٍ) [ المرسلات : 20 ] ”کیا ہم نے تمہیں ایک حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا ؟“
Ayah 36:79قُلْ يُحْيِيْهَا الَّذِيْٓ اَنْشَاَهَآ : یعنی جس نے ان ہڈیوں کو اس وقت پیدا کرلیا جب ان کا وجود ہی نہ تھا، پھر ان میں جان ڈال دی، وہی انھیں دوبارہ زندہ کر دے گا، کیونکہ دوبارہ بنانا تو زیادہ آسان ہوتا ہے۔ اگرچہ اس قادر مطلق کے لیے پہلی مرتبہ بنانا اور دوبارہ بنانا یکساں آسان ہے۔ دیکھیے سورة روم (27)۔
وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِـيْمُۨ : ”خَلْقٍ“ مصدر بھی ہوسکتا ہے، یعنی ”ہر طرح کا پیدا کرنا“ اور اسم مفعول بمعنی مخلوق بھی، یعنی ”ہر ہر مخلوق“ پہلا معنی ہو تو مطلب یہ ہے کہ وہ ہر چیز کے متعلق خوب جانتا ہے کہ اسے کس طرح پیدا کرنا ہے، پھر یہ بھی کہ اسے پہلی دفعہ کیسے پیدا کرنا ہے اور دوبارہ کیسے بنانا ہے، لہٰذا اس کے لیے بوسیدہ ہڈیوں کو زندہ کرنا کچھ مشکل نہیں۔ دوسرا معنی ہو تو مطلب یہ ہے کہ وہ ہر ہر مخلوق کو جانتا ہے کہ وہ کہاں ہے اور اس کے فنا ہونے کے بعد اس کے ذرات کہاں کہاں ہیں، سو وہ ہر ذرے کو اس کی جگہ سے جمع کر کے دوبارہ زندہ کرسکتا ہے۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (کَانَ رَجُلٌ یُسْرِفُ عَلٰی نَفْسِہِ ، فَلَمَّا حَضَرَہُ الْمَوْتُ قَالَ لِبَنِیْہِ إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُوْنِيْ ثُمَّ اطْحَنُوْنِيْ ثُمَّ ذَرُّوْنِيْ فِی الرِّیْحِ ، فَوَ اللّٰہِ ! لَءِنْ قَدَرَ اللّٰہُ عَلَيَّ لَیُعَذِّبَنِّيْ عَذَابًا مَا عَذَّبَہُ أَحَدًا فَلَمَّا مَاتَ فُعِلَ بِہِ ذٰلِکَ ، فَأَمَرَ اللّٰہُ الْأَرْضَ ، فَقَالَ اجْمَعِيْ مَا فِیْکِ مِنْہُ فَفَعَلَتْ فَإِذَا ہُوَ قَاءِمٌ، فَقَالَ مَا حَمَلَکَ عَلٰی مَا صَنَعْتَ ؟ قَالَ یَا رَبِّ ! خَشْیَتُکَ فَغَفَرَ لَہُ) [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب : 3481 ] ”ایک آدمی اپنی جان پر زیادتی کرتا تھا۔ جب اس کی موت کا وقت آیا، اس نے اپنے بیٹوں سے کہا، جب میں فوت ہوجاؤں، مجھے جلا دینا، پھر مجھے پیسنا، پھر مجھے ہوا میں اڑا دینا، کیونکہ قسم ہے اللہ کی ! اگر اللہ نے مجھ پر قابو پا لیا تو مجھے ایسا عذاب دے گا جو اس نے کسی کو نہیں دیا۔ تو جب وہ فوت ہوگیا، اس کے ساتھ ایسے ہی کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا، فرمایا، تجھ میں اس کا جو کچھ ہے جمع کر دے، اس نے ایسے ہی کیا تو وہ اسی وقت کھڑا ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ”تجھے اس طرح کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا ؟“ اس نے کہا : ”اے میرے رب ! تیرے خوف نے۔“ تو اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا۔“
Ayah 36:80الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الشَّجَرِ الْاَخْضَرِ نَارًا : ”الْاَخْضَرِ“ سے مراد تروتازہ درخت ہے، جو پانی سے لبریز ہوتا ہے۔ یہ دوبارہ زندگی کی دوسری دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اشیاء سے ان کی ضد نکالنے پر قادر ہے، وہ بوسیدہ ہڈیوں سے دوبارہ زندہ انسان بنا دے گا، کیونکہ دیکھو، پانی اور آگ ایک دوسرے کی ضد ہیں، مگر اس نے پانی سے لبریز تازہ درخت میں آگ پکڑنے والا وہ مادہ رکھ دیا ہے جس سے تازہ لکڑی بھی جلنے لگتی ہے۔ اسی طرح وہ زندہ سے مردہ کو اور مردہ سے زندہ کو نکالتا ہے اور نکالے گا۔