Ayah 35:1اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : ”فَطَرَ یَفْطِرُ فَطْرًا“ (ض، ن) نئے سرے سے پیدا کرنا، پھاڑنا۔ سورت کی ابتدا اس دعوے کے ساتھ ہوئی ہے کہ تمام خوبیوں اور سب تعریف کا حق دار اللہ وحدہ ہے۔ ”اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ“ کی تفسیر سورة فاتحہ کی ابتدا میں ملاحظہ فرمائیں۔ اس کے بعد پوری سورت میں اس بات کے دلائل بیان ہوئے ہیں کہ وہ اکیلا تمام خوبیوں کا مالک اور معبود برحق ہے۔ درمیان میں توحید کے ساتھ ساتھ نبوت، قیامت اور ان سے متعلق بعض باتوں کا ذکر بھی ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کے اکیلے معبود برحق ہونے کی پہلی دلیل یہ بیان فرمائی کہ وہ آسمان و زمین کو ابتداءً کسی نمونے کے بغیر عدم سے پھاڑ نکالنے والا ہے۔ آسمان و زمین سے مراد ساری کائنات ہے۔ جب پیدا کرنے والا وہ ہے تو عبادت کا حق دار کوئی دوسرا کیسے ہوسکتا ہے ؟ یہی بات آگے صراحت کے ساتھ آیت (3) میں آرہی ہے۔ پھر اس نے اپنی مخلوق کو پیدا فرما کر ایسے ہی نہیں چھوڑ دیا، بلکہ ان کے لیے دنیا کی ہر ضرورت مہیا فرمائی اور اس کی طرف ان کی راہ نمائی فرمائی، فرمایا : (رَبُّنَا الَّذِيْٓ اَعْطٰي كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى) [ طٰہٰ : 50 ] ”ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی شکل و صورت بخشی، پھر راستہ دکھایا۔“ فطری ہدایت کے علاوہ انبیاء و رسل کو مبعوث فرمایا، اس کا ذکر آیت (4) میں ہے۔ پھر ظاہر ہے کہ جب اس نے پہلے پہل نمونے کے بغیر یہ سب کچھ پیدا فرما لیا تو دوبارہ بنانا اس کے لیے کیا مشکل ہے، اس کا صراحت کے ساتھ ذکر آیت (5) میں آرہا ہے۔
جَاعِلِ الْمَلٰۗىِٕكَةِ رُسُلًا : ”رُسُلًا“ ”رَسُوْلٌ“ (بروزن فَعُوْلٌ“ بمعنی مَفْعُوْلٌ) کی جمع ہے، جسے کوئی پیغام دے کر بھیجا جائے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے جن انبیاء و رسل کا انتخاب فرمایا، ان کے پاس اپنا پیغام پہنچانے کے لیے اس نے فرشتوں کو اپنا رسول بنایا۔ (دیکھیے سورة شوریٰ : 51) ان میں سب سے بڑی شان والے جبریل ؑ ہیں۔ ان کا لقب ”اَلرُّوْحُ الْأَمِیْنُ“ ہے۔ بعض اوقات وہ دوسرے فرشتوں کو بھی پیغام پہنچانے کے لیے یا اپنے احکام کی تنفیذ کے لیے بھیجتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے طائف میں کفار کی بدسلوکی اور زیادتی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (فَانْطَلَقْتُ وَ أَنَا مَہْمُوْمٌ عَلٰی وَجْہِيْ فَلَمْ أَسْتَفِقْ إِلَّا وَأَنَا بِقَرْنِ الثَّعَالِبِ فَرَفَعْتُ رَأْسِيْ فَإِذَا أَنَا بِسَحَابَۃٍ قَدْ أَظَلَّتْنِيْ فَنَظَرْتُ فَإِذَا فِیْہَا جِبْرِیْلُ فَنَادَانِيْ فَقَالَ إِنَّ اللّٰہَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِکَ لَکَ وَمَا رَدُّوْا عَلَیْکَ وَ قَدْ بَعَثَ اللّٰہُ إِلَیْکَ مَلَکَ الْجِبَالِ لِتَأْمُرَہُ بِمَا شِءْتَ فِیْہِمْ فَنَادَانِيْ مَلَکُ الْجِبَالِ فَسَلَّمَ عَلَيَّ ثُمَّ قَالَ یَا مُحَمَّدُ ! إِنَّ اللّٰہَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِکَ لَکَ ، وَ أَنَا مَلَکُ الْجِبَالِ وَ قَدْ بَعَثَنِيْ رَبُّکَ إِلَیْکَ لِتَأْمُرَنِيْ بِأَمْرِکَ فَمَا شِءْتَ ؟ إِنْ شِءْتَ أَنْ أُطْبِقَ عَلَیْہِمُ الْأَخْشَبَیْنِ فَقَال النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَلْ أَرْجُوْ أَنْ یُّخْرِجَ اللّٰہُ مِنْ أَصْلاَبِہِمْ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰہَ وَحْدَہُ لَا یُشْرِکُ بِہِ شَیْءًا) [ بخاري، بدء الخلق، باب إذا قال أحدکم آمین و الملائکۃ۔۔ : 3231۔ مسلم : 1795 ] ”تو میں غم کی حالت میں جدھر منہ تھا چل پڑا۔ مجھے افاقہ ہوا تو میں قرن الثعالب پر تھا، میں نے سر اٹھایا تو ایک بدلی نے مجھ پر سایہ کیا ہوا تھا۔ میں نے دیکھا تو اس میں جبریل ؑ تھے۔ انھوں نے مجھے آواز دی اور کہا : ”اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی بات اور آپ کو ان کا جواب سن لیا اور اس نے آپ کی طرف پہاڑوں کے فرشتے کو بھیجا ہے، تاکہ آپ ان کے متعلق اسے جو چاہیں حکم دیں۔“ پھر مجھے پہاڑوں کے فرشتے نے آواز دی اور مجھے سلام کہا، پھر کہا : ”اے محمد ! اللہ عزوجل نے آپ کی قوم کی بات سن لی ہے، میں پہاڑوں کا فرشتہ ہوں اور آپ کے رب نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے، تاکہ آپ مجھے جو حکم چاہیں کریں ؟ اگر چاہیں کہ میں انھیں دو پہاڑوں کے درمیان پیس دوں تو میں ایسے کردیتا ہوں۔“ تو میں نے کہا : ”بلکہ میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی پشتوں سے وہ لوگ نکالے گا جو اللہ کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے۔“
بعض اوقات فرشتوں کو انبیاء کے علاوہ بھی اپنے صالح بندوں کو بشارت دینے کے لیے یا ان کی راہ نمائی کے لیے خواب میں یا بیداری میں بھیج دیتا ہے، جیسا کہ اسماعیل ؑ کی والدہ، موسیٰ ؑ کی والدہ اور مریم ؑ کا معاملہ ہوا اور جیسا کہ وہ میدان قتال میں مجاہدین کے دل مضبوط رکھنے کے لیے فرشتوں کو بھیجتا ہے۔ بعض اوقات وہ انھیں آزمائش کے لیے بھی بھیج دیتا ہے، جیسا کہ صحیح بخاری (3464) میں گنجے، برص والے اور اندھے کا قصہ مذکور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ”اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ“ کی دلیل کے طور پر یہاں آسمان و زمین کی پیدائش کے بعد فرشتوں کا ذکر اس لیے فرمایا کہ وہ اس کے ہاں بہت معزز مقام رکھتے ہیں، اس کے باوجود اس کے بندے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَ) [ الأنبیاء : 26 ] ”بلکہ وہ بندے ہیں جنھیں عزت دی گئی ہے۔“ ان کے ذمے اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچانا ہے اور انھیں نافذ کرنا بھی، جیسا کہ فرمایا : (فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا) [ النازعات : 5 ] ”پھر جو کسی کام کی تدبیر کرنے والے ہیں !“ اس میں مشرکین کو اس بات کی طرف توجہ دلانا بھی مقصود ہے کہ جن فرشتوں کو تم نے معبود بنا رکھا ہے وہ اپنا اختیار کچھ نہیں رکھتے، ان کی حیثیت محض رسول (قاصد) کی ہے جس کی اپنی بات کچھ نہیں ہوتی، بلکہ وہ بھیجنے والے کا پیغام پہنچاتا ہے، یا اس پر عمل کرتا ہے۔
اُولِيْٓ اَجْنِحَةٍ مَّثْنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ ۭ : فرشتوں کی پیدائش میں اپنے کمال قدرت کے بیان کے لیے ان کے ”اجنحۃ“ کا ذکر فرمایا، جو ”جَنَاحٌ“ (بفتح جیم) کی جمع ہے۔ یہ لفظ ہاتھ، بازو اور پہلو کے معنی میں بھی آتا ہے، مگر پرندوں کے ذکر کے ساتھ اس کا معنی ”پَر“ ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَلَا طٰۗىِٕرٍ يَّطِيْرُ بِجَنَاحَيْهِ) [ الأنعام : 38 ] ”اور نہ کوئی اڑنے والا، جو اپنے دو پروں سے اڑتا ہے۔“ فرشتوں کی آسمانوں اور زمین میں آمد و رفت کے لیے پَر ہی موزوں ہوسکتے ہیں، اب اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے، یا جس نے انھیں اصل صورت میں دیکھا ہے کہ ان ”اجنحۃ“ کی کیا کیفیت ہے ؟ آیا وہ صرف پرواز کے لیے ہیں، یا وہی بازوؤں کا کام بھی دیتے ہیں۔ آیت سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے پَر کم از کم دو ضرور ہیں، زیادہ کی حد اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ تین تین، چار چار سے معلوم ہوا کہ وہ دو سے زیادہ پروں والے بھی ہیں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ضروری نہیں فرشتوں کے پر جفت عدد میں ہوں بلکہ طاق بھی ہیں۔
يَزِيْدُ فِي الْخَلْقِ مَا يَشَاۗءُ : اس جملے کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں اور سبھی بیک وقت مراد لیے جاسکتے ہیں اور جامع کلمات ایسے ہی ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کو پیدا کرتے ہوئے جس کے پَر جتنے چاہتا ہے زیادہ بنا دیتا ہے، جس سے ان کی قوت پرواز میں بےحساب اضافہ ہوجاتا ہے۔ عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں : (أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ رَأَی جِبْرِیْلَ ، لَہُ سِتُّمِاءَۃِ جَنَاحٍ) [ بخاري، التفسیر، باب قولہ تعالیٰ : (فأوحی إلی عبدہ ما أوحی) : 4857 ] ”رسول اللہ ﷺ نے جبریل ؑ کو (اصل صورت میں) دیکھا، ان کے چھ سو پَر تھے۔“
دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ساری مخلوق میں سے جس میں چاہتا ہے اور جتنی چاہتا ہے زیادتی کردیتا ہے، مثلاً طویل القامت یا قصیر القامت ہونے میں، حسن و جمال میں، عقل و دانش میں، جرأت و بہادری میں، سخاوت و بخل میں، بلندی و پستی میں، قوت و ضعف میں، غرض کمیت و کیفیت کی بیشمار صورتوں میں جتنی چاہتا ہے زیادتی کردیتا ہے۔ تیسرا مطلب یہ ہے کہ اس نے جتنی مخلوق بنائی ہے اس میں جتنا چاہتا ہے اضافہ کرتا رہتا ہے، نئی سے نئی مخلوق، نئے سے نئے سیارے، نئی کہکشائیں، نئے حیوانات و جمادات و نباتات پیدا فرماتا رہتا ہے۔ سورة رحمٰن میں ہے : (كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِيْ شَاْنٍ) [ الرحمٰن : 29 ] ”ہر دن وہ ایک (نئی) شان میں ہے۔“ اس میں یہود کا رد ہے، جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آدم ؑ کی پیدائش کے بعد ساتویں دن فارغ ہوگیا، اب وہ مزید کوئی چیز پیدا نہیں کرتا۔
اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ : ”اِنَّ“ عموماً پہلی بات کی علت بیان کرنے کے لیے ہوتا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ خلق میں اپنی مرضی کے مطابق اضافہ کرتا ہے اور زمین و آسمان کی اور پروں والے پیغام رساں فرشتوں کی پیدائش فرماتا ہے، کیونکہ وہ ہر چیز پر پوری طرح قارد ہے۔ وہاں کسی بھی ارادے کے پورا کرنے میں کسی عجز کا تصور نہیں ہے۔
Ayah 35:2مَا يَفْتَحِ اللّٰهُ للنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ۔۔ : اس آیت سے مقصود بھی مشرکین کی اس غلط فہمی کا رد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے کوئی انھیں اولاد، روزی یا کوئی نعمت دے سکتا ہے یا روک سکتا ہے۔ رحمت سے مراد وہ نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا فرماتا ہے، چاہے وہ مادی ہو جیسے بارش، روزی، اولاد اور صحت وغیرہ، یا معنوی اور روحانی ہو، جیسے علم و حکمت، ایمان و اسلام، بعثت انبیاء، دعا کی قبولیت اور توبہ کی توفیق وغیرہ۔ مطلب یہ ہے کہ بندوں کو جو بھی نعمت حاصل ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے۔ وہ اپنی نعمت کسی کو دینا چاہے تو کوئی اسے روکنے والا نہیں اور روکنا چاہے تو کوئی اسے دینے والا نہیں۔ مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ہر فرض نماز کے بعد کہا کرتے تھے : (لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ ، وَ لَہُ الْحَمْدُ ، وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَيْءٍ قَدِیْرٌ، اللّٰہُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَیْتَ ، وَ لَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَ لاَ یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ) [ بخاري، الأذان، باب الذکر بعد الصلاۃ : 844 ] ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے سب تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔ اے اللہ ! جو تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو تو روک دے وہ دینے والا کوئی نہیں اور تیرے مقابلے میں کسی شان والے کو اس کی شان کوئی کام نہیں دیتی۔“ یہ مضمون قرآن مجید میں کئی مقامات پر بیان ہوا ہے۔ دیکھیے سورة انعام (17) ، یونس (107) اور سورة زمر (38)۔
وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ : خبر پر الف لام لانے سے کلام میں حصر پیدا ہوگیا۔ یہ پہلے جملے کی علت ہے کہ وہی ایسا زبردست غالب ہے کہ اس کے حکم کو کوئی روک نہیں سکتا اور ایسا کمال حکمت والا ہے جس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں، کسی اور میں یہ صفات ہیں ہی نہیں، تو پھر کون ہے جو اس کے کھولے ہوئے کو بند کرسکے یا اس کے بند کیے ہوئے کو کھول سکے ؟
Ayah 35:3يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ ۭ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمتیں فراموش نہ کرو اور نمک حرام نہ بنو، بھلا بتاؤ اللہ کے سوا تمہارا کوئی خالق ہے جو تمہیں رزق دے رہا ہو ؟ ظاہر ہے کوئی نہیں۔ استفہام انکاری ہے۔
فَاَنّٰى تُـؤْفَكُوْنَ : یعنی پھر تمہیں یہ دھوکا کہاں سے لگ گیا کہ خالق و رازق تو اللہ تعالیٰ ہو، مگر بندگی اور فرماں برداری دوسروں کی کی جائے۔ مثل مشہور ہے ”جس کا کھائیے اسی کا گائیے۔“
Ayah 35:4وَاِنْ يُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ ۭ : توحید کے بعد رسالت کا ذکر ہے۔ ”وَاِنْ يُّكَذِّبُوْكَ“ میں واؤ عطف دلیل ہے کہ اس سے پہلے ایک جملہ محذوف ہے، جس کا مفہوم یہ ہے : ”فَإِنْ یُصَدِّقُوْکَ فَقَدْ فَازُوْا لِأَنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ حَقًّا“ یعنی اگر یہ آپ کی تصدیق کریں تو یہ کامیاب ہیں، کیونکہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔
وَاِنْ يُّكَذِّبُوْكَ ‘ : شرط ہے، اس کی جزا محذوف ہے جو خود بخود سمجھ میں آرہی ہے : ”وَإِنْ یُکَذِّبُوْکَ فَتَأَسَّ بالرُّسُلِ مِنْ قَبْلِکَ فَقَدْ کُذِّبَتْ رُسُلٌ مِنْ قَبْلِکَ“ یعنی اگر یہ آپ کو جھٹلا دیں تو آپ اپنے سے پہلے رسولوں کے حالات سے تسلی حاصل کریں، کیونکہ آپ سے پہلے کئی رسول جھٹلائے گئے اور انھوں نے قوم کے جھٹلانے پر صبر کیا۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی ہے اور جھٹلانے والوں کے لیے وعید کہ رسولوں کو پہلے جھٹلانے والے لوگوں کی طرح یہ لوگ بھی برباد ہوں گے۔ قرآن مجید میں کئی مقامات پر پہلے رسولوں کا حوالہ دے کر آپ کو تسلی دی گئی، جیسا کہ فرمایا : (وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰي مَا كُذِّبُوْا وَاُوْذُوْا حَتّٰى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا ۚ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ ۚ وَلَقَدْ جَاۗءَكَ مِنْ نَّبَاِى الْمُرْسَلِيْنَ 34) [ الأنعام : 34 ] ”اور بلاشبہ یقیناً تجھ سے پہلے کئی رسول جھٹلائے گئے تو انھوں نے اس پر صبر کیا کہ وہ جھٹلائے گئے اور ایذا دیے گئے، یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی اور کوئی اللہ کی باتوں کو بدلنے والا نہیں اور بلاشبہ یقیناً تیرے پاس ان رسولوں کی کچھ خبریں آئی ہیں۔“ اور دیکھیے سورة حٰم السجدہ (43)۔
وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْر : یعنی یہ لوگ آپ کو جھٹلا کر آخر کہاں جائیں گے، تمام معاملات آخر پیش تو ہمارے سامنے ہی ہوں گے اور ہم نے ہی ان کا فیصلہ کرنا ہے۔ توحید و رسالت کے ساتھ آخرت کا ذکر ہے۔
Ayah 35:5يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ : وعدے سے مراد آخرت کا وعدہ ہے، جس کا پچھلی آیت کے آخری جملے میں ذکر ہے کہ تمام معاملات اللہ کے حضور پیش ہونے والے ہیں۔
فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا : یعنی اللہ کا وعدہ یقیناً سچا ہے کہ تمہیں اس کے حضور پیش ہونا ہے تو کہیں دنیا کی زندگی اپنی لذتوں اور دل فریبیوں کے ساتھ تمہیں اس دھوکے میں نہ ڈال دے کہ بس یہی زندگی ہے، کیونکہ اس دنیا نے بہت سے لوگوں کو اس دھوکے میں رکھ کر برباد کردیا۔ دیکھیے سورة انعام (29) ، مؤمنون (37) اور سورة جاثیہ (24) ”الدُّنْيَا“ ”اَلْأَدْنٰی“ کی مؤنث ہے، قریب کی زندگی جو آخرت کے مقابلے میں قریب ہے، یا کمینی اور حقیر زندگی، جیسا کہ ”دَنِئٌ“ بمعنی حقیر ہے۔ مقصود دنیا کی زندگی کی حقارت کی طرف توجہ دلا کر اس سے ہوشیار ہونے کی تاکید ہے۔
وَلَا يَغُرَّنَّكُمْ باللّٰهِ الْغَرُوْر :”الْغَرُوْر“ غین کے ضمّہ کے ساتھ ”غَرَّ یَغُرُّ“ (ن) کا مصدر ہے، دھوکا دینا اور غین کے فتحہ کے ساتھ صفت مشبہ ہے، جس میں مبالغے کا معنی بھی ہے، یعنی بہت دھوکا دینے والا۔ الف لام اس میں عہد کا ہے، وہ دھوکا دینے والا جسے تم بھی جانتے ہو، یعنی شیطان، جس کی صراحت اگلی آیت میں آرہی ہے، جیسا کہ ”شُکُوْرٌ“ (شین کے ضمّہ کے ساتھ) شکر کرنا اور ”شَکُوْرٌ“ (شین کے فتحہ کے ساتھ) بہت شکر کرنے والا۔
شیطان اللہ تعالیٰ کے بارے میں کئی طرح سے فریب دیتا ہے، کسی کو یہ فریب دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا سرے سے وجود ہی نہیں، یہ کائنات خود بخود چل رہی ہے۔ کسی کو اس غلط فہمی میں مبتلا کرتا ہے کہ اللہ کے سوا اور بھی معبود ہیں جو نفع و نقصان کا اختیار رکھتے ہیں۔ کسی کو یہ حکم دیتا ہے کہ گناہ کرلو پھر توبہ کرلینا، کسی کو اللہ کی رحمت کے نام پر دھوکا دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بڑا غفور و رحیم ہے، جتنے چاہو گناہ کرلو، وہ بخش دے گا اور اکثر کو ”تسویف“ کے ساتھ دھوکا دیتا ہے، تسویف کا معنی ہے ”سَوْفَ أَفْعَلُ“ کہ میں نیک عمل کر ہی لوں گا، ایسی بھی کیا جلدی ہے، ابھی بہت وقت باقی ہے، وہ آدمی کو اسی دھوکے میں رکھتا ہے، حتیٰ کہ عمل کی مہلت ختم ہوجاتی ہے۔
Ayah 35:6اِنَّ الشَّيْطٰنَ لَكُمْ عَدُوٌّ : شیطان تمہارا دشمن ہے، تمہارے ساتھ اس کی عداوت قدیم اور قیامت تک کے لیے دائمی ہے، جس کی بنیاد حسد پر ہے اور حاسد کی عداوت کبھی ختم نہیں ہوتی۔ سورة کہف میں اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا : (وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِيْسَ ۭ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ ۭ اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَذُرِّيَّتَهٗٓ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِيْ وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ ۭ بِئْسَ للظّٰلِمِيْنَ بَدَلًا) [ الکہف : 50 ] ”اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو تو انھوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس، وہ جنوں میں سے تھا، سو اس نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی، تو کیا تم اسے اور اس کی اولاد کو مجھے چھوڑ کر دوست بناتے ہو، حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں، وہ (شیطان) ظالموں کے لیے بطور بدل برا ہے۔“
فَاتَّخِذُوْهُ عَدُوًّا ۭ : جب وہ تمہارا دشمن ہے تو تم بھی ہمیشہ اسے دشمن ہی سمجھو، وہ کبھی تمہارا خیر خواہ یا دوست نہیں ہوسکتا، اپنے عقائد و اعمال اور اپنے اقوال و افعال اور احوال، غرض ہر چیز میں اس کی مخالفت کرو اور مرتے دم تک یہ عداوت قائم رکھو۔
اِنَّمَا يَدْعُوْ احِزْبَهٗ لِيَكُوْنُوْا مِنْ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ : اپنے گروہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اس کا کہا مانتے ہیں اور اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے ہیں۔ یعنی شیطان بظاہر جتنی بھی خیر خواہی کرے مقصد اس کا یہی ہے کہ وہ اکیلا جہنم میں جانے کے بجائے اپنے دوستوں کو بھی اپنے ساتھ لے کر جائے۔ اس لیے اس کی خیر خواہی پر کبھی بھی اعتماد نہ کرو۔
Ayah 35:7اَلَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌ: اس آیت میں اپنے فرماں بردار اور نافرمان بندوں کا انجام بیان فرمایا ہے۔
لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّاَجْرٌ كَبِيْرٌ : ”مَّغْفِرَةٌ“ پر تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”بڑی بخشش“ کیا گیا ہے۔ ”اَجْرٌ كَبِيْرٌ“ (بہت بڑا اجر) یعنی ان کے لیے ان کے اعمال سے کہیں بڑھ کر اور ان کی سوچ اور فکر سے بھی بڑا اجر ہے۔ یہاں ”اجر کبیر“ سے مراد جنت اور اس کی نعمتیں ہیں۔
Ayah 35:8اَفَمَنْ زُيِّنَ لَهٗ سُوْۗءُ عَمَلِهٖ فَرَاٰهُ حَسَـنًا : اس کا جواب محذوف ہے : ”أَيْ کَمَنْ لَیْسَ کَذٰلِکَ“ یعنی کیا وہ شخص جس کے لیے اس کا برا عمل مزین کردیا گیا تو اس نے اسے اچھا سمجھا، وہ اس شخص کی طرح ہے جو ایسا نہیں ؟ ظاہر ہے کہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔ ایسا شخص اس شخص کی طرح نہیں ہوسکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت عطا ہوئی ہو اور وہ اس پر عمل کرتا ہو۔ دوسری جگہ یہ بات واضح الفاظ میں فرمائی : (اَفَمَنْ كَانَ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ كَمَنْ زُيِّنَ لَهٗ سُوْۗءُ عَمَلِهٖ وَاتَّبَعُوْٓا اَهْوَاۗءَهُمْ) [ محمد : 14 ] ”تو کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل پر ہے، اس شخص کی طرح ہے جس کے لیے اس کے برے اعمال مزیّن کردیے گئے اور انھوں نے اپنی خواہشوں کی پیروی کی۔“ مطلب یہ کہ کافر اور مومن برابر نہیں ہوسکتے اور نہ ہی وہ شخص جس کے لیے اس کا برا عمل مزیّن کیا گیا تو اس نے اسے اچھا سمجھا، اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو اگرچہ برا کام کرتا ہے لیکن اسے برا ہی سمجھتا ہے، اچھا نہیں۔ ظاہر ہے یہ دونوں شخص بھی برابر نہیں ہوسکتے، کیونکہ ایک شخص جو برا کام کرتا ہے اور اسے برا ہی سمجھتا ہے، اس کے متعلق تو امید کی جاسکتی ہے کہ وہ کبھی نہ کبھی راہ راست پر آجائے گا، لیکن جو شخص برا کام کرتا ہے مگر اسے اچھا سمجھ کر کرتا ہے تو اس کے راہ راست پر آنے کی کبھی امید نہیں کی جاسکتی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بالْاَخْسَرِيْنَ اَعْمَالًا 103ۭ اَلَّذِيْنَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ يُحْسِنُوْنَ صُنْعًا 10 4۔) [ الکہف : 103، 104 ] ”کہہ دے کیا ہم تمہیں وہ لوگ بتائیں جو اعمال میں سب سے زیادہ خسارے والے ہیں۔ وہ لوگ جن کی کوشش دنیا کی زندگی میں ضائع ہوگئی اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایک اچھا کام کر رہے ہیں۔“
اس آیت میں برے عمل سے مراد کفرو شرک ہے، جیسا کہ سورة کہف کی آیت کے بعد فرمایا : (اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ وَلِقَاۗىِٕهٖ) [ الکہف : 105 ] ”یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کی آیات کا اور اس کی ملاقات کا انکار کیا۔“ البتہ آیت کے الفاظ عام ہونے کی وجہ سے بدعتی لوگ بھی اس میں شامل ہیں، کیونکہ وہ بدعت کو نیکی سمجھ کر اس پر عمل کرتے ہیں۔ ظاہر ہے چوری، زنا اور قتل وغیرہ کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے آپ کو گناہ گار سمجھتا ہے، اس لیے امید ہے کہ وہ توبہ کرلے گا، مگر خود ساختہ دین پر عمل کرنے والا، مثلاً اپنے یا لوگوں کے بنائے ہوئے ورد و وظائف یا دوسرے کام کرنے والا شخص تو جو کچھ کر رہا ہے نیکی سمجھ کر کرتا ہے، اسے توبہ کی توفیق کیسے ہوسکتی ہے ؟ اس لیے جب شیطان کسی کو کافر بنانے میں کامیاب نہیں ہوتا تو اس کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اسے کسی بدعت پر لگا دے، جسے وہ نیکی سمجھ کر کرتا رہے گا اور جتنی محنت سے کرے گا اتنا ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوتا جائے گا، کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی آگ میں ہے۔
فَاِنَّ اللّٰهَ يُضِلُّ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ ڮ : یعنی ایسے لوگوں کا وجود اللہ تعالیٰ کی مشیّت ہی کی وجہ سے ہے اور بعض کا گمراہ ہونا اور بعض کا ہدایت پانا اس کی حکمت کا نتیجہ ہے، وہ چاہتا تو سب ہدایت پا جاتے مگر وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے، اگرچہ اس کا ہدایت دینا یا گمراہ کرنا بھی آدمی کے عمل یا استعداد کا نتیجہ ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَمَا يُضِلُّ بِهٖٓ اِلَّا الْفٰسِقِيْنَ) [ البقرۃ : 26 ] ”اور وہ اس کے ساتھ گمراہ نہیں کرتا مگر فاسقوں کو۔“
فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرٰتٍ ۭ : ”حَسَرٰتٍ ۭ“ واحد ”حَسْرَۃٌ“ کسی چیز کے ہاتھ سے نکلنے پر شدید غم اور افسوس، یعنی آپ کا کام دعوت اور پیغام پہنچانا ہے، انھیں راہ راست پر لے آنا آپ کے بس میں نہیں۔ اس لیے یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ان کے ایمان نہ لانے پر حسرت و افسوس کی وجہ سے آپ کی جان ہی نکل جائے۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی ہے کہ کفار کا کفر پر قائم رہنا اللہ کی مشیّت سے ہے، آپ اپنا کام سر انجام دیں، لوگوں کا ایمان لانا آپ کی ذمہ داری نہیں۔ اس آیت سے اس بات کا اظہار بھی ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو لوگوں کے ایمان نہ لانے پر کس قدر افسوس اور صدمہ ہوتا تھا، حتیٰ کہ قریب تھا کہ آپ اس غم میں جان ہی سے گزر جائیں، جیسا کہ فرمایا : (فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًا) [ الکہف : 6 ] ”پس شاید تو اپنی جان ان کے پیچھے غم سے ہلاک کرلینے والا ہے، اگر وہ اس بات پر ایمان نہ لائے۔“ اور فرمایا : (لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ) [ الشعراء : 3 ] ”شاید تو اپنے آپ کو ہلاک کرنے والا ہے، اس لیے کہ وہ مومن نہیں ہوتے۔“
اِنَّ اللّٰهَ عَلِـيْمٌۢ بِمَا يَصْنَعُوْنَ : اس جملے میں دھمکی ہے کہ ایک وقت آئے گا جب اللہ تعالیٰ انھیں ان کے برے اعمال کی سزا دے گا۔ کسی حاکم کا مجرم کو یہ کہنا کہ میں تمہاری حرکتوں سے خوب واقف ہوں، دراصل اسے آگاہ کرنا ہوتا ہے کہ تمہیں اس کی سزا دے کر رہوں گا۔
Ayah 35:9وَاللّٰهُ الَّذِيْٓ اَرْسَلَ الرِّيٰحَ فَتُـثِيْرُ سَحَابًا۔ : قرآن کریم میں موت کے بعد زندگی پر عموماً خشک زمین کے ہرا ہونے سے استدلال کیا گیا ہے، جیسا کہ سورة حج میں فرمایا : (ۭ وَتَرَى الْاَرْضَ هَامِدَةً فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاۗءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَاَنْۢبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍۢ بَهِيْجٍ ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَاَنَّهٗ يُـحْيِ الْمَوْتٰى وَاَنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ وَّاَنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ لَّا رَيْبَ فِيْهَا ۙ وَاَنَّ اللّٰهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُوْرِ) [ الحج : 5 تا 7 ] ”اور تو زمین کو مردہ پڑی ہوئی دیکھتا ہے، پھر جب ہم اس پر پانی اتارتے ہیں تو وہ لہلہاتی ہے اور ابھرتی ہے اور ہر خوبصورت قسم میں سے اگاتی ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ اللہ ہی حق ہے اور (اس لیے) کہ وہی مردوں کو زندہ کرے گا اور (اس لیے) کہ وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ اور (اس لیے) کہ قیامت آنے والی ہے، اس میں کوئی شک نہیں اور (اس لیے) کہ اللہ ان لوگوں کو اٹھائے گا جو قبروں میں ہیں۔“ سب لوگ دیکھتے ہیں کہ بارش ہوتی ہے تو خشک، بنجر اور مردہ زمین یک دم زندہ ہو کر نباتات سے لہلہا اٹھتی ہے، پھر اس سے صرف نباتات ہی پیدا نہیں ہوتے بلکہ ہزاروں جانور یعنی مینڈک، حشرات الارض اور جھینگر وغیرہ بھی پیدا ہو کر اپنی اپنی بولیاں بولنے لگتے ہیں۔ یہ آخر کہاں سے پیدا ہوگئے ؟ بالکل یہی کیفیت انسانوں کے زمین سے جی اٹھنے کی ہوگی، انسان کا حال عجیب ہے کہ جو چیز اس کے مشاہدے میں آتی ہے اسے من و عن تسلیم کرلیتا ہے، مگر بالکل اس جیسی دوسری چیز کا انکار صرف اس لیے کردیتا ہے کہ وہ اس کے مشاہدے میں نہیں آئی، حالانکہ دونوں میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔
Ayah 35:10 مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعِزَّةَ فَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ جَمِيْعًا ۭ: عزت کا معنی غلبہ ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَعَزَّنِيْ فِي الْخِطَابِ) [ ص : 23 ] ”اور اس نے بات کرنے میں مجھ پر بہت سختی کی۔“ اس آیت کی تفسیر دو طرح سے ہوسکتی ہے، پہلی جو سب سے واضح ہے، یہ ہے کہ جو شخص چاہتا ہے کہ اسے عزت و غلبہ حاصل ہو تو اسے جان لینا چاہیے کہ عزت سب کی سب اللہ کے ہاتھ میں ہے، جیسا کہ فرمایا : (قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاۗءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاۗءُ ۡ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاۗءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاۗءُ ۭبِيَدِكَ الْخَيْرُ ۭ اِنَّكَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ) [ آل عمران : 26 ] ”کہہ دے اے اللہ ! بادشاہی کے مالک ! تو جسے چاہے بادشاہی دیتا ہے اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لیتا ہے اور جسے چاہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلیل کردیتا ہے، تیرے ہی ہاتھ میں ہر بھلائی ہے، بیشک تو ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔“ اس میں ان کفار و مشرکین اور بعض نام نہاد مسلمانوں کا رد ہے جو غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں، تاکہ وہ ان کے لیے عزت اور غلبے کا باعث بنیں، فرمایا : (وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّيَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّا كَلَّا ۭ سَيَكْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُوْنُوْنَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا) [ مریم : 81، 82 ] ”اور انھوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنا لیے، تاکہ وہ ان کے لیے باعث عزت ہوں۔ ہرگز ایسا نہ ہوگا، عنقریب وہ ان کی عبادت کا انکار کردیں گے اور ان کے خلاف مد مقابل ہوں گے۔“ اور ان ضعیف الایمان اور منافق قسم کے لوگوں کا بھی رد ہے جو کفار سے دوستی کرتے ہیں، تاکہ دنیا میں باعزت اور غالب ہو کر زندگی بسر کرسکیں، جیسا کہ فرمایا : (بَشِّرِ الْمُنٰفِقِيْنَ بِاَنَّ لَھُمْ عَذَابًا اَلِيْـمَۨا الَّذِيْنَ يَتَّخِذُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۭ اَيَبْتَغُوْنَ عِنْدَھُمُ الْعِزَّةَ فَاِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِيْعًا) [ النساء : 138، 139 ] ”منافقوں کو خوش خبری دے دے کہ ان کے لیے ایک درد ناک عذاب ہے۔ وہ جو کافروں کو مومنوں کے سوا دوست بناتے ہیں، کیا وہ ان کے پاس عزت ڈھونڈتے ہیں ؟ تو بیشک عزت سب اللہ کے لیے ہے۔“ یعنی جو شخص جاننا چاہتا ہے کہ عزت و غلبے کا مالک کون ہے، وہ جان لے کہ عزت و غلبہ سب اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ اب جو بھی عزت و غلبہ چاہتا ہو وہ اس سے طلب کرے، کیونکہ جس کسی کو بھی عزت ملی ہے یا ملے گی اسی سے ملی ہے اور اسی سے ملے گی۔
الیہ یصعد الکلم الطیب : ”الکلم“ ”کَلِمَۃٌ“ کی جمع نہیں، ورنہ ”یصعد“ کے بجائے ”تَصْعَدُ“ کا لفظ آتا اور اس کی صفت مؤنث آتی، بلکہ یہ اسم جنس ہے جو واحد و جمع سب پر بولا جاتا ہے۔ جب اس کا ایک فرد بیان کرنا مقصود ہو تو اس کے ساتھ ”تاء“ لگا دیتے ہیں، جیسے ”تَمْرٌ“ کھجور، ایک ہو یا بہت سی ہوں، لیکن اگر ایک کھجور کہنا ہو تو ”تَمْرَۃٌ“ کہا جائے گا۔
3 اس میں ان چیزوں کا بیان ہے جن کے ذریعے سے عزت حاصل ہوتی ہے اور وہ ہیں ایمان اور عمل صالح۔
4 ”الکلم الطیب“ (پاکیزہ بات) سے مراد بعض نے کلمہ توحید ”لا الٰہ الا اللہ“ لیا ہے، مگر لفظ عام ہے، اس میں کلمہ اسلام کے ساتھ ذکر، دعا، تلاوت قرآن، تعلیم، تربیت اور دعوت سبھی شامل ہیں، یعنی ہر پاکیزہ بات اسی کی طرف چڑھتی ہے اور وہی اسے قبول کرتا اور بلندی عطا کرتا ہے۔ ناپاک اور خبیث باتیں عروج حاصل کر ہی نہیں سکتیں۔
5 والعمل الصالح یرفعہ : اس کی تفسیر میں بھی تین احتمال ہیں، پہلا یہ کہ ”ہٗ“ ضمیر سے مراد کلم الطیب ہے، یعنی عمل صالح کلم الطیب (پاکیزہ بات) کو بلند کرتا ہے۔ کوئی کلمہ اپنی جگہ کتنا پاکیزہ ہو قبول اسی وقت ہوتا ہے جب اس کے ساتھ عمل بھی نیک ہو، یعنی عمل کا نیک ہونا کلم الطیب کی قبولیت کے لیے شرط ہے۔ نیک عمل وہ ہے جو خالص اللہ کے لیے ہو اور سنت کے مطابق ہو۔ دیکھیے سورة کہف کی آخری آیت۔ دوسرا یہ کہ ”یَرْفَعُ“ کا فاعل ”الکلم الطیب“ کی ضمیر ہو اور ”ہٗ“ کی ضمیر سے مراد عمل صالح ہو، یعنی پاکیزہ بات عمل صالح کو بلند کرتی ہے۔ یہ اس صورت میں ہے کہ کلم الطیب سے مراد ”لا الہ الا اللہ“ ہو، یعنی ایمان اور کلمہ توحید کے بغیر کوئی عمل قبول نہیں، جیسا کہ فرمایا : (من عمل صالحامن ذکر او انثی و ھو مومن فلنحیینہ حیاۃ طیبۃ) [ النحل : 97 ] ”جو بھی نیک عمل کرے، مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو تو یقیناً ہم اسے ضرور زندگی بخشیں گے، پاکیزہ زندگی۔“ اور تیسرا احتمال یہ ہے کہ ”یَرْفَعُ“ میں فاعل کی ضمیر سے مراد اللہ تعالیٰ ہے۔ مطلب یہ ہوگا کہ جو بھی عمل صالح ہے اللہ اس کو بلند کرتا ہے، یعنی اسے قبول کرتا اور اس کی جزا عطا کرتا ہے۔ یہ تینوں معنی یہاں مراد ہوسکتے ہیں اور تینوں درست ہیں۔ شاہ عبد القادر ؒ نے ارادۂ عزت، صعود کلم طیب اور رفع عمل صالح کی باہمی مناسبت بیان کرتے ہوئے لکھا ہے : ”یعنی عزت اللہ کے ہاتھ میں ہے، تمہارے ذکر اور بھلے کام چڑھتے جاتے ہیں جب اپنی حد کو پہنچیں گے تب بدی پر غلبہ (حاصل) کریں گے، کفر دفع ہوگا (اور) اسلام کو عزت (نصیب) ہوگی۔“
6 والذین یمکرون السیئات لھم عذاب شدید : مکر کا معنی ہے خفیہ تدبیر، وہ اچھی ہو یا بری، اکثر مذموم تدبیر کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ”یمکرون السیئات“ سے مراد وہ لوگ ہیں جو کلم الطیب کے بجائے باطل اور خبیث باتیں لے کر اٹھتے ہیں اور مکاریوں اور چالاکیوں سے انھیں غالب کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کے لیے بہت سخت عذاب ہے اس کے اولین مصداق وہ لوگ ہیں جنھوں نے دار الندوہ میں رسول اللہ ﷺ کو قید یا قتل یا جلا وطن کرنے کا منصوبہ بنایا۔ دیکھیے سورة انفال (30) ان کے علاوہ وہ سب لوگ اس میں داخل ہیں جو اسلام کے خلاف سازشیں کر کے اس پر غلبے کی کوشش کرتے ہیں۔
6 ومکر اولٰئک ھو یبور : یعنی انھی کی تدبیر ناکام و نامراد ہوگی، اللہ کی تدبیر کبھی ناکام نہیں ہوگی، جیسا کہ فرمایا : (و مکروا و مکر اللہ واللہ خیر الماکرین) [ آل عمران : 54 ] ”اور انھوں نے خفیہ تدبیر کی اور اللہ نے بھی خفیہ تدبیر کی اور اللہ سب خفیہ تدبیر کرنے والوں سے بہتر ہے۔“ چناچہ آپ ﷺ کو قتل کرنے کی سازش کرنے والے اس میں کامیاب نہ ہوئے، بلکہ بدر میں ہلاک ہوئے، پھر باقی فتح مکہ میں مغلوب ہوئے۔ مزید دیکھیے سورة فاطر (43) ، طور (42) ، رعد (42) اور سورة انعام (124، 125)۔
Ayah 35:11وَاللّٰهُ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ۔۔ : اس سے پہلے بارش سے زمین کے زندہ ہونے کو موت کے بعد زندگی کی دلیل کے طور پر پیش فرمایا، اب اس آیت میں موت کے بعد زندگی کی تین دلیلیں پیش فرمائیں جو تینوں عقلی ہیں، پہلی انسان کا مٹی سے پیدا ہو کر مختلف مراحل سے گزر کر موت کی آغوش میں جا بسنا ہے، جیسا کہ فرمایا : (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ رَيْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَيِّنَ لَكُمْ ۭ وَنُقِرُّ فِي الْاَرْحَامِ مَا نَشَاۗءُ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْٓا اَشُدَّكُمْ ۚ وَمِنْكُمْ مَّنْ يُّتَوَفّٰى وَمِنْكُمْ مَّنْ يُّرَدُّ اِلٰٓى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَيْــــًٔا ۭ وَتَرَى الْاَرْضَ هَامِدَةً فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاۗءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَاَنْۢبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍۢ بَهِيْجٍ) [ الحج : 5 ] ”اے لوگو ! اگر تم اٹھائے جانے کے بارے میں کسی شک میں ہو تو بیشک ہم نے تمہیں حقیر مٹی سے پیدا کیا، پھر ایک قطرے سے، پھر کچھ جمے ہوئے خون سے، پھر گوشت کی ایک بوٹی سے، جس کی پوری شکل بنائی ہوئی ہے اور جس کی پوری شکل نہیں بنائی ہوئی، تاکہ ہم تمہارے لیے واضح کریں اور ہم جسے چاہتے ہیں ایک مقررہ مدت تک رحموں میں ٹھہرائے رکھتے ہیں، پھر ہم تمہیں ایک بچے کی صورت میں نکالتے ہیں، پھر تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچو اور تم میں سے کوئی وہ ہے جو قبض کرلیا جاتا ہے اور تم میں سے کوئی وہ ہے جو سب سے نکمّی عمر کی طرف لوٹایا جاتا ہے، تاکہ وہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے۔“ یعنی جس اللہ نے پہلے مٹی سے پیدا فرمایا وہ انسان کے مٹی ہونے کے بعد دوبارہ بھی اسے پیدا فرما سکتا ہے۔
وَمَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْـثٰى وَلَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ : یعنی کسی بھی مادہ کے حمل سے لے کر وضع تک کے تمام مراحل جس ہستی کے علم میں ہیں اور اسی کے کمال قدرت سے سر انجام پا رہے ہیں، اس کے لیے اس انسان کو مرنے کے بعد دوبارہ بنادینا کیا مشکل ہے ؟ اس کی ہم معنی آیت کے لیے دیکھیے سورة حج کی آیت (8)۔
وَمَا يُعَمَّرُ مِنْ مُّعَمَّرٍ۔۔ : یہ بعث بعد الموت کی تیسری دلیل ہے، یعنی کسی زیادہ عمر والے کو زیادہ عمر دی جاتی ہے، یا کم عمر والے کو کم عمر دی جاتی ہے، تو یہ سب کچھ ایک کتاب میں درج ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے پہلے ہی طے فرما دیا ہے۔ تو جس ہستی نے ہر زیادہ عمر والے کی عمر اور کم عمر والے کی عمر پہلے ہی لکھ دی ہے اور جو ہر شخص کی زندگی کے ایک ایک لمحے سے واقف ہے اس کے لیے انھیں دوبارہ بنانے میں کیا دشواری ہوسکتی ہے ؟
یعنی اگرچہ تمہارے لیے اور پوری مخلوق کے لیے ناممکن ہے کہ تم پہلے ہی ان باتوں کو جان لو یا ان کا فیصلہ کرلو، مگر اللہ تعالیٰ کے لیے یہ بالکل آسان ہے، کیونکہ اسے پہلے ہی ان سب باتوں کا علم ہے اور وہ ہمیشہ سے یہ سب کچھ کرنے پر پوری طرح قادر ہے۔
Ayah 35:12وَمَا يَسْتَوِي الْبَحْرٰنِ۔۔ : موت کے بعد زندگی کے لیے بارش کے ساتھ مردہ زمین کو زندہ کرنے کی مثال اور دوسری مثالوں کے بعد دوبارہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور کمال قدرت کے مزید دلائل کا بیان فرمایا۔ ان میں سے ایک دلیل میٹھے دریاؤں اور نمکین سمندروں کا بظاہر ایک ہونے اور کئی منافع میں ایک جیسا ہونے کے باوجود کئی چیزوں میں ایک دوسرے سے مختلف ہونا ہے۔ عذب فرات کی مفصل تفسیر کے لیے دیکھیے سورة فرقان (53) اور باقی آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة نحل (14)۔
Ayah 35:13يُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ۔۔ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة آل عمران (27) ، حج (61) اور سورة لقمان (29)۔
كُلٌّ يَّجْرِيْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى : یعنی یہ سب قیامت کے دن تک چل رہے ہیں، جب قیامت آئے گی تو ان کا چلنا موقوف ہوجائے گا اور یہ نظام باقی نہیں رہے گا۔
وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مَا يَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِيْرٍ۔۔ :”قِطْمِيْرٍ“ کھجور کی گٹھلی پر باریک سے چھلکے کو کہتے ہیں، یعنی جس کی صفات اوپر بیان ہوئی ہیں حقیقت میں یہ ہے تمہارا سچا پروردگار، جو اکیلا زمین و آسمان کا بادشاہ ہے اور جنھیں تم حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر پکارتے ہو وہ بےچارے بادشاہ تو کیا ہوں گے، کھجور کی گٹھلی پر باریک سی جھلی کے مالک بھی نہیں۔ بعض مفسرین نے ”مِنْ دُوْنِهٖ“ سے مراد بت قرار دیے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کے سوا جو بھی ہے سب شامل ہیں، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے سید الاولین و الآخرین ﷺ کو حکم دیا کہ برملا اعلان کردیں کہ وہ نہ اپنے لیے کسی نفع یا نقصان کے مالک ہیں، نہ کسی دوسرے کے لیے، پھر کسی اور پیر فقیر کی کیا حیثیت ہے ؟ دیکھیے سورة اعراف (188) اور سورة جنّ (21) اس کی ایک دلیل اگلی آیت کے یہ الفاظ ہیں : (وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ) [ فاطر : 14 ] ”اور قیامت کے دن وہ تمہارے شرک کا انکار کریں گے۔“ ظاہر ہے قیامت کے دن ان کے شرک کا انکار بت نہیں، بلکہ وہ فرشتے، انبیاء اور صالحین کریں گے جن کے وہ بت بناتے تھے اور جنھیں وہ پکارتے رہے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ ؑ کا قول نقل فرمایا ہے۔ دیکھیے سورة مائدہ (116)۔
Ayah 35:14اِنْ تَدْعُوْهُمْ لَا يَسْمَعُوْا دُعَاۗءَكُمْ : جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا : (وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَاۗىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ) [ الأحقاف : 5 ] ”اور اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو اللہ کے سوا انھیں پکارتا ہے جو قیامت کے دن تک اس کی دعا قبول نہیں کریں گے اور وہ ان کے پکارنے سے بیخبر ہیں۔“
وَلَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ : اگر وہ سن بھی لیں تو تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے، کیونکہ ان کے پاس کوئی اختیار ہی نہیں، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ) [ الأعراف : 194 ] ”بیشک جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمہارے جیسے بندے ہیں، پس انھیں پکارو تو لازم ہے کہ وہ تمہاری دعا قبول کریں، اگر تم سچے ہو۔“ اور فرمایا : (
لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ ۭ وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَجِيْبُوْنَ لَهُمْ بِشَيْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّيْهِ اِلَى الْمَاۗءِ لِيَبْلُغَ فَاهُ وَمَا هُوَ بِبَالِغِهٖ ۭ وَمَا دُعَاۗءُ الْكٰفِرِيْنَ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ) [ الرعد : 14 ] ”برحق پکارنا صرف اسی کے لیے ہے اور جن کو وہ اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کی دعا کچھ بھی قبول نہیں کرتے، مگر اس شخص کی طرح جو اپنی دونوں ہتھیلیاں پانی کی طرف پھیلانے والا ہے، تاکہ وہ اس کے منہ تک پہنچ جائے، حالانکہ وہ اس تک ہرگز پہنچنے والا نہیں اور نہیں ہے کافروں کا پکارنا مگر سراسر بےسود۔“
وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ : اس کی مفصل تفسیر کے لیے دیکھیے سورة مریم (82) اور سورة قصص (62، 63)۔
وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيْرٍ : عرب میں یہ کلمہ ضرب المثل ہے کہ جب کسی نادان کو کسی دانا مجرب نے انجام کار سے آگاہ کیا تو وہ تنبیہ کردیتا ہے کہ اس نصیحت کو گرہ میں باندھ لے اور کہتا ہے : ”لَا یُنَبِّءُکَ مِثْلُ خَبِیْرٍ“ یعنی جو شخص خبردار ہے، جس طرح اس نے تجھے بتادیا ویسا کوئی نہیں بتائے گا، پھر ظاہر ہے اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کون علیم وخبیر ہوسکتا ہے۔ (مواہب) ”خَبِیْرٍ“ کا معنی پوری خبر رکھنے والا ہے اور پوری خبر رکھنے والا خود اللہ تعالیٰ ہے، اس کے سوا سب کا علم ناقص ہے اور پوری خبر رکھنے والے کی طرح کوئی بھی خبر نہیں دے سکتا اور اس نے تمہیں بتادیا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی پکار نہیں سنتا، بالفرض سن بھی لے تو درخواست قبول نہیں کرسکتا اور قیامت کے دن وہ سب تمہارے شرک کا انکار کردیں گے۔
Ayah 35:15يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَاۗءُ اِلَى اللّٰهِ ۚ۔۔ : خبر ”الْفُقَرَاۗءُ“ پر الف لام آنے سے حصر اور تاکید کا معنی پیدا ہوگیا کہ لوگو ! تم ہی اللہ کی طرف محتاج ہو۔ اسی طرح ”وَاللّٰهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ“ میں ضمیر فصل ”هُوَ“ اور خبر ”الْغَنِيُّ“ پر الف لام سے حصر کا معنی پیدا ہوا کہ صرف اللہ ہی ہے جو سب سے بےپروا، تمام تعریفوں کے لائق ہے۔
یہ بیان کرنے کے بعد کہ آسمان و زمین کا مالک اللہ تعالیٰ ہے اور اس کے سوا جنھیں پکارا جاتا ہے وہ نہ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان سے بچا سکتے ہیں، حتیٰ کہ وہ ایک قطمیر (کھجور کی گٹھلی پر باریک چھلکا) کے مالک بھی نہیں۔ اب پچھلے سارے بیان کے خلاصے اور نتیجے کے طور پر فرمایا، لوگو ! تم ہی اللہ تعالیٰ کے ہر طرح سے محتاج ہو، اپنے وجود میں، اپنی بقا اور اپنی ہر ضرورت کے لیے، لہٰذا اسی سے مانگو اور اسی کی عبادت کرو۔
وَاللّٰهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ : یعنی دوسرے سب محتاج ہیں، ایک اللہ تعالیٰ ہے جو غنی ہے، کسی کا محتاج نہیں۔ غنی کے ساتھ حمید اس لیے فرمایا کہ غنی ایسا بھی ہوسکتا ہے جو کسی کا محتاج تو نہ ہو مگر نہ اس میں کوئی خوبی ہو نہ کسی کو کوئی فائدہ پہنچاتا ہو۔ فرمایا، اللہ ایسا غنی ہے کہ وہ تمام کمالات اور خوبیوں کا مالک ہے، تمہیں اور تمام مخلوق کو حاصل ہر نعمت اسی کی عطا کردہ ہے، اس لیے وہی تمام تعریفوں اور تمام شکر کا مستحق ہے۔
Ayahs 35:16–17اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ۔۔ : زمخشری نے فرمایا : ”اس آیت میں شریک بنانے کی وجہ سے ان پر غضب کا اظہار ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَاِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ۙ ثُمَّ لَا يَكُوْنُوْٓا اَمْثَالَكُمْ) [ محمد : 38 ] ”اور اگر تم پھر جاؤ گے تو وہ تمہاری جگہ تمہارے سوا اور لوگوں کو لے آئے گا، پھر وہ تمہاری طرح نہیں ہوں گے۔“
غضب کے اظہار کے ساتھ اپنے غنی ہونے کا بھی بیان ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہیں ہلاک کرنا چاہے تو کرسکتا ہے، کیونکہ اس نے تمہیں اپنی کوئی محتاجی دور کرنے کے لیے پیدا نہیں فرمایا۔ نہ تمہارے نہ ہونے سے اس کے ملک میں کوئی کمی واقع ہوگی، نہ یہ کہ وہ تمہارے جیسے اور پیدا نہیں کرسکتا، وہ چاہے تو تمہیں ختم کرکے نئی مخلوق پیدا کرلے، جو تم سے ہر طرح بہتر ہو اور یہ بات اللہ کے لیے کچھ مشکل نہیں۔
Ayah 35:18وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى : اس آیت میں مشرکین کے اس غلط خیال کا رد فرمایا کہ قیامت کے دن کچھ لوگ ان کے گناہ اپنے ذمے لے کر انھیں چھڑا لیں گے، جیسا کہ نصرانیوں کا کہنا ہے کہ مسیح ؑ ان کے گناہوں کی پاداش میں سولی پر چڑھ گئے اور بعض کلمہ گو حضرات کا کہنا ہے کہ حسین ؓ کی محبت کی وجہ سے انھیں قیامت کے دن کوئی نہیں پوچھے گا، کیونکہ انھوں نے شہید ہو کر اپنے ساتھ محبت کرنے والوں کے گناہوں کا بوجھ خود اٹھا لیا ہے۔ آیت میں ”وَازِرَةٌ“ محذوف لفظ ”نَفْسٌ“ کی صفت ہے، جو مؤنث ہے، اس لیے صفت بھی مؤنث آئی ہے اور یہ لفظ اس لیے اختیار فرمایا کہ اس میں مرد عورتیں سب آجاتے ہیں۔ یعنی کوئی بوجھ اٹھانے والی جان کسی دوسری جان کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔
وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا۔۔ : یعنی نہ یہ ہوگا کہ کوئی اپنے آپ کسی کے گناہوں کا بوجھ اٹھا لے اور نہ یہ ہوگا کہ کسی کے پکارنے اور درخواست کرنے سے کوئی کسی کا بوجھ اٹھالے، بلکہ اگر کوئی قرابت دار اپنے قریبی رشتہ دار کو اس مقصد کے لیے بلائے گا، حتیٰ کہ باپ ہو یا بیٹا تو وہ بھی اس کے بوجھ سے ذرہ برابر اپنے ذمے نہیں لے گا۔ ہر ایک کو اپنی پڑی ہوگی اور ہر ایک دوسرے سے بھاگے گا۔ بلانے پر بھی بوجھ نہ اٹھانے کا ذکر الگ اس لیے فرمایا کہ عرب کے ہاں معروف تھا کہ جب کوئی تمہیں مدد کے لیے بلائے تو ہر صورت اس کی مدد کرو۔ فرمایا، وہاں بلانے پر بھی کوئی مدد نہیں کرے گا۔ دیکھیے سورة لقمان (33) اور عبس (33 تا 37) مزید دیکھیے سورة انعام (164) ، بنی اسرائیل (15) اور عنکبوت (12، 13)۔
اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ۔۔ : اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ آپ ان لوگوں کے رویے سے دلبرداشتہ اور غم زدہ نہ ہوں جو آپ کی دعوت سن کر ایمان نہیں لاتے، کیونکہ آپ صرف ان لوگوں کو ڈرا سکتے ہیں جو اپنے رب کو دیکھے بغیر اس سے ڈرتے ہیں اور جب کوئی بھی نہیں دیکھ رہا ہوتا اس وقت بھی اس سے ڈرتے ہیں (”بِالْغَيْبِ“ کے دونوں معنی ہوسکتے ہیں) اور نماز قائم کرتے ہیں۔ مطلب یہ کہ آپ کے ڈرانے سے وہی لوگ فائدہ حاصل کرسکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو دیکھے بغیر اس پر ایمان رکھتے، اس سے ڈرتے اور اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں اور جو ان دیکھے رب کو مانتا ہی نہیں اور ہٹ دھرمی اختیار کرتا ہے، اسے آپ کے ڈرانے سے کچھ حاصل نہ ہوگا، نہ آپ اس کے لیے فکر مند ہوں۔ دیکھیے سورة یٰس (11) اور سورة قٓ (45)۔
وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ : یعنی آپ کی نصیحت سن کر جو شخص کفر و شرک اور فسق و فجور کی نجاست سے پاک ہوتا ہے، اس کا آپ پر یا اللہ تعالیٰ پر کچھ احسان نہیں، اس کے پاک ہونے کا فائدہ خود اسی کو ہے۔
وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ : یعنی کفر و فسوق کی نجاست میں آلودہ رہنے کا یا اس سے پاک ہونے کا نتیجہ پوری طرح قیامت کے دن ظاہر ہوگا اور ضرور ظاہر ہوگا، کیونکہ سب کو دوبارہ اللہ ہی کی طرف واپس پلٹنا ہے۔
Ayah 35:19وَمَا يَسْتَوِي الْاَعْمٰى وَالْبَصِيْرُ : یہ کافر اور مومن کی مثال ہے کہ کافر اندھا ہے اور مومن آنکھوں والا۔
Ayah 35:20وَلَا الظُّلُمٰتُ وَلَا النُّوْرُ : یہ کفر و ایمان کی مثال ہے کہ کفر نام ہے اندھیروں کا اور ایمان نور ہے۔ باطل اور کفر کی صورتیں اور اس کی راہیں بیشمار ہیں، اس لیے اس کے لیے جمع کا لفظ ”الظُّلُمٰتُ“ استعمال فرمایا، جب کہ حق ایک ہے اور ایمان کا راستہ بھی ایک ہی ہے، اس لیے اس کے لیے لفظ ”النُّوْرُ“ واحد استعمال فرمایا۔ حرف نفی ”لَا“ دو بار تاکید کے لیے استعمال فرمایا ہے۔
Ayah 35:21وَلَا الظِّلُّ وَلَا الْحَــرُوْرُ : ”الْحَــرُوْرُ“ سخت گرم ہوا، لُو۔ یہ ثواب اور عذاب یعنی جنت و جہنم کی مثال ہے کہ جنت سایہ ہے اور جہنم لُو۔
Ayah 35:22وَمَا يَسْتَوِي الْاَحْيَاۗءُ وَلَا الْاَمْوَاتُ ۭ : یہ ایمان لانے والوں کی اور ایمان نہ لانے والوں کی مثال ہے کہ ایمان لانے والے زندوں کی طرح ہیں اور ایمان نہ لانے والے مردوں کی طرح۔ ابن کثیر ؓ نے فرمایا، جس طرح یہ باہم متضاد اور مختلف چیزیں برابر نہیں ہیں کہ اندھا اور دیکھنے والا برابر نہیں، بلکہ دونوں کے درمیان بہت سا فرق اور بعد ہے اور جس طرح اندھیرے اور روشنی برابر نہیں اور سایہ اور لو برابر نہیں، اسی طرح زندہ اور مردے برابر نہیں۔ یہ مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے لیے بیان فرمائی ہے کہ وہ زندہ ہیں اور کافروں کے لیے کہ وہ مردہ ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَاَحْيَيْنٰهُ وَجَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا يَّمْشِيْ بِهٖ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِي الظُّلُمٰتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا ۭ) [ الأنعام : 122 ] ”اور کیا وہ شخص جو مردہ تھا، پھر ہم نے اسے زندہ کیا اور اس کے لیے ایسی روشنی بنادی جس کی مدد سے وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے، اس شخص کی طرح ہے جس کا حال یہ ہے کہ وہ اندھیروں میں ہے، ان سے کسی صورت نکلنے والا نہیں۔“ اور فرمایا : (مَثَلُ الْفَرِيْقَيْنِ كَالْاَعْمٰى وَالْاَصَمِّ وَالْبَصِيْرِ وَالسَّمِيْعِ ۭ هَلْ يَسْتَوِيٰنِ) [ ھود : 24 ] ”دونوں گروہوں کی مثال اندھے اور بہرے اور دیکھنے والے اور سننے والے کی طرح ہے، کیا یہ دونوں مثال میں برابر ہیں ؟“ چناچہ مومن سننے اور دیکھنے والا ہے، دنیا اور آخرت کے اندر روشنی میں صراط مستقیم پر چلتا ہے، یہاں تک کہ یہ سفر اسے سایوں اور چشموں والی جنتوں کے ٹھکانے میں پہنچا دیتا ہے اور کافر اندھا اور بہرا ہے، اندھیروں میں چلتا ہے، ان سے کسی طرح نہیں نکلتا۔ دنیا اور آخرت میں اپنی سرکشی اور گمراہی میں بھٹکتا پھرتا ہے، یہاں تک کہ یہ سفر اسے جہنم کی لو اور گرم پانی تک پہنچا دیتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَّظِلٍّ مِّنْ يَّحْمُوْمٍ لَّا بَارِدٍ وَّلَا كَرِيْمٍ) [ الواقعۃ : 43، 44 ] ”اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں ہوں گے۔ جو نہ ٹھنڈا ہے اور نہ باعزت۔“
اِنَّ اللّٰهَ يُسْمِعُ مَنْ يَّشَاۗءُ ۚ : سنانے کا مطلب سوچنے، سمجھنے اور قبول کرنے کی توفیق کے ساتھ سنانا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی مشیّت اور چاہنے کی تو بات ہی دوسری ہے، وہ جسے چاہے سنا دے، چاہے تو بےجان پتھروں کو سنا دے، کسی اور میں یہ قدرت نہیں، نہ یہ رسول کے بس کا کام ہے کہ جن لوگوں کے دل مردہ ہوچکے ہوں ان کے دلوں میں اپنی بات اتار سکے اور جو بات سننا ہی نہ چاہتے ہوں ان کے بہرے کانوں کو حق کی آواز سنا سکے، وہ تو انھی کو سنا سکتا ہے جو معقول بات سننے اور اس پر غور کے لیے آمادہ ہوں۔
وَمَآ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِي الْقُبُوْرِ : یہ مشرکین کی مثال ہے کہ وہ مردوں کی طرح ہیں جو سنتے نہیں، یعنی جس طرح تیرے بس میں یہ بات نہیں کہ تو قبروں میں دفن مردوں کو اپنی بات سنا سکے اسی طرح جن لوگوں کے دل مردہ ہوچکے ہیں تو انھیں بھی اللہ کی آیات نہیں سنا سکتا، نہ انھیں راہ راست پر لاسکتا ہے۔
یہ آیت مردوں کے نہ سننے کی بھی واضح دلیل ہے۔ دیکھیے سورة نمل (80، 81)۔
Ayah 35:23اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِيْرٌ : یعنی تیرا کام لوگوں کو خبردار کرنے اور اللہ کے عذاب سے ڈرانے سے زیادہ کچھ نہیں، انھیں ہدایت دینا اور ان کے دل میں ایمان اتار دینا تیرا کام نہیں، یہ صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، اس لیے تو ان کے ایمان نہ لانے پر اس قدر دلبرداشتہ اور غم زدہ نہ ہو۔
Ayah 35:24اِنَّآ اَرْسَلْنٰكَ بالْحَقِّ بَشِيْرًا وَّنَذِيْرًا : حق سے مراد اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت ہے۔ یعنی اے رسول ! ہم نے تجھے حق دے کر بھیجا ہے، تاکہ جو تجھ پر ایمان لائیں انھیں جنت کی بشارت دے اور جو تجھے جھٹلائیں انھیں اللہ کے عذاب سے ڈرائے۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کے لیے بشارت اور تسلی ہے۔
وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ : اس میں اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر اپنی رحمت کا اور اپنے فضل کا بیان فرمایا ہے کہ اس نے لوگوں کو اندھیروں میں بھٹکتا ہوا نہیں چھوڑا کہ ان کے لیے سیدھے اور غلط راستے کی نشان دہی نہ کرے، بلکہ اس سے پہلے جو قوم بھی گزری اس نے اس کی طرف کوئی نہ کوئی ڈرانے والا ضرور بھیجا، خواہ وہ نبی یا رسول ہو، خواہ اس کا نائب دین کا کوئی عالم اور مبلغ ہو جس کے ذریعے سے رسول کی لائی ہوئی شریعت لوگوں تک پہنچ جائے۔