35. Surah Faatir

فاطرThe Originator · 45 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 35:25

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالزُّبُرِ وَ بِالْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ Open ayah 35:25 in the Quran reader

اور اگر وہ تجھے جھٹلائیں توبلا شبہ ان لوگوں نے (بھی) جھٹلایا جو ان سے پہلے تھے، ان کے پاس ان کے رسول واضح دلیلوں کے ساتھ اور صحیفوں کے ساتھ اور روشنی کرنے والی کتاب کے ساتھ آئے۔

وَاِنْ يُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ : اس میں رسول اللہ ﷺ کو مزید تسلی دی ہے۔ یعنی اگر یہ لوگ تجھے جھٹلا دیں تو غم یا افسوس کی ضرورت نہیں، یہ کوئی نئی بات نہیں، نہ آپ پہلے رسول ہیں جسے جھٹلایا گیا ہو، بلکہ آپ سے پہلے لوگوں کے پاس بھی کئی رسول آئے اور آپ سے پہلے لوگوں نے بھی اپنے رسولوں کو جھٹلایا۔ جَاۗءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بالْبَيِّنٰتِ وَبِالزُّبُرِ وَبِالْكِتٰبِ الْمُنِيْرِ : یہاں ایک سوال ہے کہ ”اَلْکِتَابُ الْمُنِیْرُ“ ”اَلزُّبُرُ“ میں بھی داخل ہے اور ”اَلْبَیِّنَاتُ“ میں بھی، تو پھر عطف ڈال کر اسے الگ کیوں ذکر کیا گیا ؟ بعض اہل علم نے اس کا جواب دیا کہ تینوں الفاظ اگرچہ ایک چیز پر صادق آتے ہیں مگر عطف اس لیے ڈالا گیا ہے کہ تینوں سے الگ الگ مفہوم مراد لیا گیا ہے، چناچہ ”اَلْبَیِّنَاتُ“ سے مراد معجزات ہیں، ”اَلزُّبُرُ“ سے مراد وہ کتابیں ہیں جو وعظ و نصیحت پر مشتمل ہیں اور ”اَلْکِتَابُ الْمُنِیْرُ“ سے مراد وہ کتابیں ہیں جن میں شریعت کے احکام تھے، جیسا کہ تورات وغیرہ۔ (شوکانی)
Ayah 35:26

ثُمَّ اَخَذْتُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ۠ Open ayah 35:26 in the Quran reader

پھر میں نے ان لوگوں کو پکڑ لیا جنھوں نے کفر کیا، تو میرا عذاب کیسا تھا ؟

ثُمَّ اَخَذْتُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا۔۔ : نبی ﷺ کو تسلی دینے کے بعد آپ کی نافرمانی کرنے والوں اور ایمان نہ لانے والوں کو دھمکی اور ڈانٹ کے لیے فرمایا کہ پھر ان رسولوں پر ایمان نہ لانے والوں کو میں نے پکڑ لیا، تو میرا عذاب کیسا تھا ؟ اسی طرح اگر یہ لوگ آپ پر ایمان نہ لائے تو میرا عذاب ان سے بھی کچھ دور نہیں۔
Ayah 35:27

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ ثَمَرٰتٍ مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهَا١ؕ وَ مِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌۢ بِیْضٌ وَّ حُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهَا وَ غَرَابِیْبُ سُوْدٌ Open ayah 35:27 in the Quran reader

کیا تو نے نہیں دیکھا کہ بیشک اللہ نے آسمان سے کچھ پانی اتارا، پھر ہم نے اس کے ساتھ کئی پھل نکالے، جن کے رنگ مختلف ہیں اور پہاڑوں میں سے کچھ سفید اور سرخ قطعے ہیں، جن کے رنگ مختلف ہیں اور کچھ سخت کالے سیاہ ہیں۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ۔۔ : یعنی اس کائنات میں اشیاء کا اختلاف اللہ تعالیٰ کی قدرت کی دلیل ہے، جیسا کہ میٹھے دریا اور نمکین سمندر، نابینا اور بینا لوگ، اندھیرے اور روشنی، سایہ اور لُو، مردہ اور زندہ، مومن اور کافر کی مثالیں گزر چکی ہیں۔ اب نباتات و جمادات کی بوقلمونی اور رنگا رنگی پر غور کرو، اگر ایک صانع حکیم کی کاریگری نہ ہوتی تو کائنات میں یہ رنگا رنگی کبھی نہ ہوتی۔ یہ اندھے، بہرے اور شعور سے عاری مادے کا کام نہیں، بلکہ اس قادر مطلق کا کام ہے جس نے اس اختلاف کو اپنی وحدانیت اور کمال قدرت کی دلیل کے طور پر پیش فرمایا ہے۔ ”اَلَمْ تَرَ“ کا لفظی معنی ہے ”کیا تو نے نہیں دیکھا ؟“ یہ کلمہ بعض اوقات ایسے شخص سے کہا جاتا ہے جسے پہلے اس بات کا علم ہو، اس وقت یہ تعجب کے اظہار کے لیے ہوتا ہے اور بعض اوقات ایسے شخص سے کہا جاتا ہے جسے پہلے علم نہیں ہوتا۔ اس وقت مقصود اسے بتانا اور اسے تعجب میں ڈالنا ہوتا ہے۔ یہ کلمہ اس دوسرے مفہوم میں ضرب المثل کے طور پر مشہور ہے، گویا جس شخص نے ایک چیز نہیں دیکھی اسے دیکھنے والے شخص کی طرح قرار دے کر اس سے بات کی جاتی ہے، اس لحاظ سے کہ یہ ایسی چیز ہے جس سے تمہارا لاعلم ہونا مناسب ہی نہیں، پھر اس سے اس شخص کی طرح بات کی جاتی ہے جس نے اسے دیکھا ہو اور اسے اچھی طرح جانتا ہو۔ آیت میں ”اَلَمْ تَرَ“ کا معنی ”أَلَمْ تَعْلَمْ“ ہے، کیا تو نے نہیں جانا، یعنی یقیناً تم جانتے ہو۔ (ملخص از آلوسی) یعنی اے مرد عاقل ! یقیناً تو جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے بہت سا پانی اتارا (”مَاۗءً“ کی تنوین تکثیر کے لیے ہے) پھر اس کے ساتھ زمین سے بہت سے پھل اگائے، جن کے رنگ، شکلیں، اقسام اور ذائقے مختلف ہیں۔ کوئی سرخ ہے، کوئی زرد، کوئی سبز، کوئی میٹھا، کوئی کھٹا اور کوئی اس کے علاوہ، حالانکہ سب ایک ہی زمین سے پیدا ہوئے اور ایک ہی پانی سے سیراب ہوئے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَفِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّنَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّغَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَاۗءٍ وَّاحِدٍ ۣ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰي بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ) [ الرعد : 4 ] ”اور زمین میں ایک دوسرے سے ملے ہوئے مختلف ٹکڑے ہیں اور انگوروں کے باغ اور کھیتی اور کھجور کے درخت کئی تنوں والے اور ایک تنے والے، جنھیں ایک ہی پانی سے سیراب کیا جاتا ہے اور ہم ان میں سے بعض کو پھل میں بعض پر فوقیت دیتے ہیں۔ بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے یقیناً بہت سی نشانیاں ہیں جو سمجھتے ہیں۔“ ”اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً“ میں اللہ تعالیٰ نے پانی اتارنے میں اپنا ذکر غائب کے صیغے کے ساتھ فرمایا، پھر ”فَاَخْرَجْنَا بِهٖ“ میں اپنا ذکر جمع متکلم کے صیغے کے ساتھ کیا ہے، اسے ”التفات“ کہتے ہیں۔ اس سے مقصود زمین سے اتنی مختلف چیزیں اگانے میں اپنی کمال قدرت کو نمایاں کرنا ہے کہ یہ سب کچھ ہم نے سرانجام دیا ہے۔ وَمِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌۢ۔۔ : ”جُدَدٌۢ“ ”جُدَّۃٌ“ کی جمع ہے، اس کا معنی راستہ اور لکیر ہے۔ مراد پہاڑوں میں مختلف رنگوں کی دھاریاں اور قطعے ہیں۔ ”سُوْدٌ“ ”أَسْوَدُ“ کی جمع ہے۔ ”غَرَابِيْبُ“ جمع ہے ”غِرْبِیْبٌ“ کی۔ جب کسی چیز کو زیادہ سیاہ کہنا ہو تو ”أَسْوَدُ“ کی تاکید کے طور پر یہ لفظ آتا ہے، یعنی ”أَسْوَدُ غِرْبِیْبٌ“ جیسا کہ اردو میں ”کالا سیاہ“ یا ”کالا بھجنگا“ کہا جاتا ہے۔ یہاں آیات کے فواصل کی مناسبت سے ”غرَابِیْبُ“ کو پہلے کردیا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے نمونوں میں سے ایک اور نمونے کا ذکر ہے، فرمایا ہماری قدرت ہی کا کرشمہ ہے کہ پہاڑوں میں مختلف رنگوں کے قطعے ہیں، کوئی سفید ہیں، کوئی سرخ اور کوئی کالے سیاہ اور کوئی کسی اور رنگ کے، کسی کی کوئی شکل ہے کسی کی کوئی اور، کوئی چھوٹا ہے کوئی بڑا، کوئی پتھر کا ہے کوئی مٹی کا، کوئی سنگ مرمر کا ہے کوئی نمک کا اور کوئی کسی اور چیز کا۔ ”غَرَابِيْبُ سُوْدٌ“ میں ایک مزید اہم نکتے کی طرف توجہ دلائی ہے کہ پہلے تو نباتات و جمادات کے رنگ مختلف ہیں، پھر ہر رنگ میں مزید اختلاف ہے، کوئی کالا ہے، کوئی اس سے زیادہ کالا اور کوئی کالا سیاہ۔ انسانوں کے سروں کے بالوں کی سیاہی کو ہی دیکھ لو کہ ایک شخص کے سر کے بالوں کی سیاہی دوسرے کے سر کے بالوں کی سیاہی سے مختلف ہے۔ دیکھتے جاؤ اور تعجب کرتے جاؤ کہ اس قادر مطلق کے کارخانۂ حکمت کی رنگا رنگی کی کوئی حد ہے کہ اس نے آدم ؑ سے لے کر آخری انسان کے سر کے بالوں کی سیاہی کو دوسرے انسان کے سر کے بالوں کی سیاہی سے الگ بنایا ہے اور اس کے ہاتھوں کی لکیروں اور آنکھ کی پتلی بلکہ جسم کی ہر چیز کو دوسرے سے مختلف بنایا ہے۔ ہر درخت کے سبز رنگ کو دوسرے کے سبز رنگ سے الگ بنایا ہے، اس کے ہر پتے کی لکیریں دوسرے پتے سے الگ ہیں۔ ہر پھل مثلاً آم، جامن اور کھجور کو دوسرے سے الگ تو بنایا ہی ہے، پھر ہر پھل کے اندر اتنا تنوع رکھ دیا ہے کہ آم اور کھجور وغیرہ کی گٹھلی سے پیدا ہونے والا پھل پہلے درخت کے پھل سے الگ قسم کا ہے، جس کی گٹھلی سے وہ پیدا ہوا ہے، جیسا کہ ہر انسان اپنے ماں باپ سے الگ رنگ اور الگ شکل و صورت کا ہے۔ غرض ہر چیز کا رنگ الگ ہے اور اس رنگ مثلاً سفید یا سرخ یا زرد یا سیاہ میں سے ہر سفید، سرخ، زرد اور سیاہ کی سفیدی، سرخی، زردی اور سیاہی دوسرے سے مختلف ہے، یہی حال اس کے ذائقے کا ہے۔ (فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْن) [ المؤمنون : 14 ] ”سو بہت برکت والا ہے اللہ جو بنانے والوں میں سب سے اچھا ہے۔“
Ayah 35:28

وَ مِنَ النَّاسِ وَ الدَّوَآبِّ وَ الْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ كَذٰلِكَ١ؕ اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ غَفُوْرٌ Open ayah 35:28 in the Quran reader

اور کچھ لوگوں اور جانوروں اور چوپاؤں میں سے بھی ہیں جن کے رنگ اسی طرح مختلف ہیں، اللہ سے تو اس کے بندوں میں سے صرف جاننے والے ہی ڈرتے ہیں، بیشک اللہ سب پر غالب، بےحد بخشنے والا ہے۔

وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَاۗبِّ وَالْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ كَذٰلِكَ : یعنی صرف نباتات اور جمادات ہی میں نہیں بلکہ دوسری تمام مخلوقات میں رنگا رنگی کا یہی عالم ہے۔ انسان، جانور اور چوپائے سب ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور ان میں ہر جنس کی مختلف قسمیں ہیں اور ہر قسم کا ہر فرد دوسرے سے مختلف ہے۔ اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰۗؤُا : یہاں علم سے مراد دنیوی علوم نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کی صفات کا علم ہے، جس کو اللہ کی عظمت وصفات کا جتنا علم ہوگا اتنا ہی وہ اس کی نافرمانی سے ڈرے گا۔ علاوہ ازیں آیت میں ”علماء“ سے مراد وہ اصطلاحی علماء بھی نہیں جو قرآن و حدیث اور فقہ کا علم رکھنے کی بنا پر علمائے دین کہے جاتے ہیں۔ وہ اس آیت کے مصداق اسی صورت میں ہوں گے جب ان کے اندر اللہ کا ڈر بھی ہوگا۔ اسی طرح وہ مسلمان سائنس دان بھی اس کے مصداق ہیں جن کے دل میں کائنات کے عجائب سامنے آنے پر اللہ کی عظمت کے یقین اور اس سے ہیبت و خشیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ طبری نے معتبر سند کے ساتھ ابن عباس ؓ کا قول نقل فرمایا ہے کہ علماء وہ ہیں جو جانتے ہیں : (اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ) ”یقیناً اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔“ تفسیر قاسمی میں ہے : ”اس سے پہلے فرمایا تھا : (اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ) [ فاطر : 18 ] ”تو صرف ان لوگوں کو ڈراتا ہے جو دیکھے بغیر اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔“ یہ جملہ اسی کی تکمیل ہے، لوگوں کے مختلف طبقات اور مراتب بیان کرنے کے بعد بتایا کہ رب تعالیٰ کو دیکھے بغیر اس سے کون ڈرتے ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کو دیکھے بغیر اس سے وہی ڈرتے ہیں جو اس کا اور اس کی صفات جلیلہ و افعال جمیلہ کا علم رکھتے ہیں، کیونکہ بندہ اسی سے ڈرتا ہے جس کا اسے علم ہو اور جس کی قوت و عظمت اور صفات کمال کو وہ جانتا ہو۔ پھر جسے اس کا جتنا زیادہ علم ہوگا اتنا ہی وہ اس سے ڈرے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (وَاللّٰہِ ! لَأَنَا أَعْلَمُکُمْ باللّٰہِ وَ أَخْشَاکُمْ لَہُ) [ منتخب مسند عبد بن حمید، ح : 1502 ] ”اللہ کی قسم ! میں تم سب سے زیادہ اللہ کا علم رکھنے والا اور تم سب سے زیادہ اس سے ڈرنے والا ہوں۔“ صحیح بخاری کے الفاظ یہ ہیں : (إِنَّ أَتْقَاکُمْ وَ أَعْلَمَکُمْ باللّٰہِ أَنَا) [ بخاري، الإیمان، باب قول النبي ﷺ أنا أعلمکم باللہ : 20 ] ”بیشک تم سب سے زیادہ ڈرنے والا اور اللہ کا سب سے زیادہ علم رکھنے والا میں ہوں۔“ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت پر دلالت کرنے والے کاموں کے ذکر کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے اس کے بندوں میں سے صرف علم والے ڈرتے ہیں۔ کافر چونکہ اللہ تعالیٰ کی اس پہچان سے بالکل بیخبر ہیں، اس لیے انھیں ڈرانا بالکل بےسود ہے۔“ (افادہ از ابو السعود) قاسمی ہی نے قاشانی سے نقل فرمایا ہے : ”یعنی اللہ تعالیٰ سے وہی لوگ ڈرتے ہیں جو اس کے عالم و عارف ہیں (اسے جاننے پہچاننے والے ہیں) ، کیونکہ یہاں خشیّت اور ڈرنے سے مراد عذاب کا ڈر نہیں ہے، بلکہ خشیّت دل میں خشوع و انکسار کی اس حالت کا نام ہے جو اس کی عظمت کے تصور اور اسے دل میں حاضر کرنے سے پیدا ہوتی ہے، کیونکہ جو اس کی عظمت کا تصور نہ کرے، ممکن نہیں اس سے ڈرے اور اللہ تعالیٰ اپنی عظمت کے ساتھ جس شخص کے دل کی آنکھوں کے سامنے حاضر ہو وہ اس سے اس طرح ڈرے گا جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور اللہ تعالیٰ کا کامل علم و معرفت رکھنے والے کے درمیان اور اس کا ناقص علم و معرفت رکھنے والے کے درمیان اس کی حاضری کے تصور میں بہت زیادہ فرق ہے اور دونوں کے درمیان علم و معرفت کی کمی بیشی کے لحاظ سے اتنے مرتبے ہیں جن کا شمار نہیں ہوسکتا۔“ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ غَفُوْرٌ : یعنی اللہ تعالیٰ سب پر غالب ہے، چاہے تو نافرمان اور سرکش لوگوں کو فوراً پکڑے، مگر وہ بیحد بخشنے والا ہے، اس لیے انھیں مہلت دیے جاتا ہے، تاکہ وہ کسی وقت بھی پلٹ آئیں۔
Ayah 35:29

اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً یَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَۙ Open ayah 35:29 in the Quran reader

بیشک جو لوگ اللہ کی کتاب پڑھتے ہیں اور انھوں نے نماز قائم کی اور جو کچھ ہم نے انھیں دیا اس میں سے انھوں نے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کیا، وہ ایسی تجارت کی امید رکھتے ہیں جو کبھی برباد نہ ہوگی۔

اِنَّ الَّذِيْنَ يَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ۔۔ : یہ بات ذکر کرنے کے بعد کہ علماء ہی وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں، ان کے تین اوصاف ذکر فرمائے، پھر انھیں ملنے والے اجر کا ذکر فرمایا۔ ان تین اوصاف میں سے پہلا وصف اللہ تعالیٰ کی کتاب کی تلاوت ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کے علم کا سرچشمہ وہی ہے اور اسی سے اللہ کی خشیت پیدا کرنے والا علم حاصل ہوتا ہے۔ دوسری اور تیسری صفت اس علم کے تقاضے پر عمل کرتے ہوئے نماز قائم کرنا اور اس کے دیے ہوئے میں سے خفیہ اور علانیہ ہر طرح سے خرچ کرنا ہے۔ یہ تینوں چیزیں علم و عمل کی بنیاد ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہود کا حال بیان کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے اللہ کی کتاب کو پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا : (ۡ فَنَبَذُوْهُ وَرَاۗءَ ظُهُوْرِھِمْ) [ آل عمران : 187 ] ”تو انھوں نے اسے اپنی پیٹھوں کے پیچھے پھینک دیا۔“ اور نماز قائم کرنے کے بجائے اسے ضائع کردیا اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے بجائے خواہش پرستی، سود خوری اور شدید بخل کو اپنا شیوہ بنا لیا، فرمایا : (فَخَــلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَاتَّـبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا) [ مریم : 59 ] ”پھر ان کے بعد ایسے نالائق جانشین ان کی جگہ آئے جنھوں نے نماز کو ضائع کردیا اور خواہشات کے پیچھے لگ گئے تو وہ عنقریب گمراہی کو ملیں گے۔“ جس کے نتیجے میں وہ اس علم سے محروم ہوگئے جس سے خشیّتِ الٰہی پیدا ہوتی ہے۔ يَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَـبُوْرَ : علم و ایمان والوں کے عمل کو تجارت کے ساتھ تشبیہ اس لیے دی گئی ہے کہ آدمی دنیا میں جو بھی تجارت کرتا ہے، اس میں اپنا سرمایہ اور محنت و قابلیت اس امید پر صرف کرتا ہے کہ اسے اصل کے ساتھ ساتھ نفع بھی حاصل ہوگا، اس کے باوجود اسے نفع کی امید کے ساتھ خسارے کا بلکہ اصل سرمایہ برباد ہونے کا ڈر بھی رہتا ہے، مگر اللہ کے بندے جو اپنے اوقات عزیزہ کو، جو ان کی زندگی کا سرمایہ ہیں، اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کے سودے میں صرف کرتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جنھیں اپنے سودے میں نفع ہی نفع کی امید ہے، خسارے کا یا اصل سرمایہ برباد ہونے کا کوئی خوف نہیں۔
Ayah 35:30

لِیُوَفِّیَهُمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ Open ayah 35:30 in the Quran reader

تاکہ وہ انھیں ان کے اجر پورے پورے دے اور اپنے فضل سے انھیں زیادہ بھی دے، بلا شبہ وہ بےحد بخشنے والا، نہایت قدردان ہے۔

لِيُوَفِّيَهُمْ اُجُوْرَهُمْ وَيَزِيْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ ۭ :”لِيُوَفِّيَهُمْ“ میں لام عاقبت کا ہے، یعنی اہل علم کی تلاوت کتاب، اقامت صلاۃ اور خرچ کرنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ انھیں ان کے اجر پورے دے گا اور اپنے فضل سے مزید بھی دے گا۔ یہ لام علت اور وجہ بیان کرنے کے لیے بھی ہوسکتا ہے، یعنی علم والے لوگ قرآن کی تلاوت، اقامت صلاۃ اور اللہ کے عطا کردہ میں سے خرچ کرتے ہیں، تاکہ وہ انھیں ان کے اجر پورے دے اور اپنے فضل سے مزید بھی عطا فرمائے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَيُوَفِّيْهِمْ اُجُوْرَهُمْ وَيَزِيْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ ۚ) [ النساء : 173 ] ”پھر جو لوگ تو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے سو وہ انھیں ان کے اجر پورے دے گا اور انھیں اپنے فضل سے زیادہ بھی دے گا۔“ اپنے فضل سے مزید عطا کرنے میں ایک نیکی کو سات سو نیکیوں تک یا اس سے بھی زیادہ بڑھانا ہے، پھر چند روزہ زندگی کے عمل پر ہمیشہ کی جنت عطا کرنا ہے، پھر جنت کی تمام نعمتوں سے بڑی نعمت اپنا دیدار عطا فرمانا ہے، جیسا کہ فرمایا : (لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ) [ یونس : 26 ] ”جن لوگوں نے نیکی کی انھی کے لیے نہایت اچھا بدلا اور کچھ زیادہ ہے۔“ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان خوش نصیبوں میں شامل فرمائے۔ (آمین) اِنَّهٗ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ : یعنی اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اہل ایمان کے گناہوں پر بیحد پردہ ڈالنے والا اور ان کے نیک اعمال کی بیحد قدر کرنے والا ہے۔
Ayah 35:31

وَ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِعِبَادِهٖ لَخَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 35:31 in the Quran reader

اور وہ جو ہم نے تیری طرف کتاب میں سے وحی کی ہے وہی حق ہے، اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے ہے۔ بیشک اللہ اپنے بندوں کی یقینا پوری خبر رکھنے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔

وَالَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ مِنَ الْكِتٰبِ : اس کا عطف ”اِنَّ الَّذِيْنَ يَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ“ پر ہے۔ کتاب اللہ کی تلاوت کرنے والے علماء کی فضیلت بیان کرنے کے بعد فرمایا : ”اور یہ کتاب جو ہم نے آپ کی طرف وحی فرمائی ہے، کامل حق یہی ہے۔“ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات اور اس کے احکام پر مشتمل جتنی کتابیں ہیں ان میں سے جو لوگوں کی تصنیف کردہ ہیں ان میں حق کا کچھ حصہ ہے بھی تو اکثر حصہ باطل ہے اور جو اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی ہیں، مثلاً تورات و انجیل تو ان کے اندر بعد میں تحریف اور کمی بیشی کی وجہ سے کچھ باطل چیزیں بھی شامل ہوگئی ہیں، ان کی جو باتیں حق ہیں یہ کتاب ان کی تصدیق کرتی ہے اور جو باطل ہیں ان کی تردید کرتی ہے، اس لیے یہ ان کے اصل اور صحیح مضامین کی محافظ ہے۔ اب کامل حق چونکہ صرف اسی کتاب میں ہے، اس لیے آپ کو اور آپ کی امت کو صرف اس پر عمل کرنا چاہیے۔ اِنَّ اللّٰهَ بِعِبَادِهٖ لَخَبِيْرٌۢ بَصِيْرٌ : یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی ضروریات کی پوری خبر رکھنے والا اور ان کے اعمال کو پوری طرح دیکھنے والا ہے۔ اس نے آپ پر یہ کتاب ان کی اور ان کے زمانے کی تمام ضروریات کو مدنظر رکھ کر نازل فرمائی ہے۔
Ayah 35:32

ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا١ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ۚ وَ مِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَیْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُؕ Open ayah 35:32 in the Quran reader

پھر ہم نے اس کتاب کے وارث اپنے وہ بندے بنائے جنھیں ہم نے چن لیا، پھر ان میں سے کوئی اپنے آپ پر ظلم کرنے والا ہے اور ان میں سے کوئی میانہ رو ہے اور ان میں سے کوئی نیکیوں میں آگے نکل جانے والا ہے، اللہ کے حکم سے۔ یہی بہت بڑا فضل ہے۔

ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا : یعنی ہم نے یہ کتاب آپ کی طرف وحی کی، پھر اس کتاب کا وارث ان لوگوں کو بنایا جنھیں ہم نے اس کتاب کا وارث بننے کے لیے، یعنی امت مسلمہ میں شامل ہونے کے لیے چن لیا اور یہ ہماری مرضی ہے کہ ہم جسے چاہتے ہیں چن لیتے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (اَللّٰهُ يَجْتَبِيْٓ اِلَيْهِ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَهْدِيْٓ اِلَيْهِ مَنْ يُّنِيْبُ) [ الشورٰی : 13 ] ”اللہ اپنی طرف چن لیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اپنی طرف راستہ اسے دیتا ہے جو رجوع کرے۔“ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ ۚ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ : کتاب اللہ کے وارث بننے والے افراد کی، یعنی امت مسلمہ کی تین قسمیں ہیں، کچھ وہ جو اپنی جان پر ظلم کرنے والے ہیں کہ ان کی نیکیاں گناہوں کے مقابلے میں کم ہیں، کچھ میانہ رو ہیں کہ جن کے نیک و بد اعمال قریباً برابر ہیں اور کچھ وہ جو اللہ کے حکم سے نیکیوں میں آگے نکل جانے والے ہیں۔ ان تینوں گروہوں کو حاصل ہونے والی نعمت، یعنی کتاب اللہ کی وراثت اور امت مسلمہ میں شمولیت بہت ہی بڑا فضل ہے۔
Ayah 35:33

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ۚ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ Open ayah 35:33 in the Quran reader

ہمیشگی کے باغات، جن میں وہ داخل ہوں گے، ان میں انھیں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور ان کا لباس ان میں ریشم ہوگا۔

جَنّٰتُ عَدْنٍ يَّدْخُلُوْنَهَا : یعنی یہ تینوں گروہ آخر کار جنات عدن میں داخل ہوجائیں گے۔ طبری اور بیہقی نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے نقل فرمایا ہے : (ہُمْ أُمَّۃُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ ، وَرَّثَہُمُ اللّٰہُ کُلَّ کِتَابٍ أَنْزَلَہُ ، فَظَالِمُہُمْ یُغْفَرُ لَہُ ، وَ مُقْتَصِدُہُمْ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًا، وَ سَابِقُہُمْ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ بِغَیْرِ حِسَابٍ) [ طبري : 29236۔ البعث والنشور للبیھقي : 1؍68، ح : 64 ] ”یہ (کتاب کے وارث) امت محمد ﷺ کے لوگ ہیں، اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی نازل کردہ تمام کتابوں کا وارث بنایا۔ ان میں سے ظالم کو بخش دیا جائے گا، ان کے میانہ رو کا آسان حساب ہوگا اور ان کے سبقت لے جانے والے جنت میں بغیر حساب داخل ہوں گے۔“ یعنی امت مسلمہ میں سے اپنی جان پر ظلم کرنے والے لوگ اگر جہنم میں گئے بھی تو ہمیشہ وہاں نہیں رہیں گے، بلکہ ایمان کی برکت سے انھیں شفاعت کے ذریعے سے یا ایمان والوں پر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت کے نتیجے میں جہنم سے نکال لیا جائے گا اور وہ جنات عدن میں داخل ہوجائیں گے اور یہ بہت ہی بڑا فضل ہے جو ان لوگوں کو کبھی حاصل نہیں ہوگا جو امت مسلمہ میں داخل ہو کر کتاب اللہ کے وارث نہیں بنے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان پر جنت کی نعمتیں ہمیشہ کے لیے حرام کردی ہیں، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَي الْكٰفِرِيْنَ) [ الأعراف : 50 ] ”اللہ تعالیٰ نے جنت کا پانی اور اس کا رزق کافروں پر حرام کردیا ہے۔“ بعض مفسرین نے ان تینوں گروہوں میں سے ”ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ“ کفار کو قرار دیا ہے اور تینوں گروہوں کی تفصیل ان تین گروہوں کے مطابق کی ہے جن کا ذکر سورة واقعہ میں ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کی تین قسمیں ہوجائیں گی، اصحاب الیمین، اصحاب الشمال اور سابقون۔ ان میں سے سابقون اور اصحاب الیمین جنتی ہوں گے اور اصحاب الشمال جہنمی ہوں گے۔ مگر پہلی تفسیر راجح ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تینوں گروہوں کا ذکر کرکے تینوں کے متعلق فرمایا کہ وہ جنات عدن میں داخل ہوں گے۔ اس پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب امت مسلمہ کا ہر فرد ہی جنت میں داخل ہوگا تو ایمان لانے کے بعد جہنم سے ڈرانے اور ڈرنے کی کیا ضرورت ہے ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اس میں یہ نہیں فرمایا کہ ان میں سے کوئی جہنم میں نہیں جائے گا، بلکہ اگر کوئی شخص جہنم میں مدتوں رہنے کے بعد آخر کار جنت میں داخل ہوجائے تو یہ بھی فضل کبیر ہے۔ کیونکہ جب ایسے لوگ جنت میں جائیں گے تو کافر اس وقت تمنا کریں گے کہ کاش ! وہ کسی درجے کے بھی مسلمان ہوتے تو ہمیشہ جہنم میں نہ رہتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ) [ الحجر : 2 ] ”بہت بار چاہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کاش ! وہ کسی طرح کے مسلم ہوتے۔“ مزید سورة حجر کی آیت (2) کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ : اس کی مفصل تفسیر کے لیے دیکھیے سورة حج کی آیت (23)۔
Ayah 35:34

وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ١ؕ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَكُوْرُۙ Open ayah 35:34 in the Quran reader

اور وہ کہیں گے سب تعریف اس اللہ کی ہے جس نے ہم سے غم دور کردیا، بیشک ہمارا رب یقینا بےحد بخشنے والا، نہایت قدر دان ہے۔

وَقَالُوا الْحـَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْٓ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ : حزن کسی چیز کے ہاتھ سے نکلنے کی وجہ سے پیدا ہونے والی دل کی کیفیت کا نام ہے، یعنی غم، جیسا کہ فرمایا : (لِّكَيْلَا تَاْسَوْا عَلٰي مَا فَاتَكُمْ) [ الحدید : 23 ] ”تاکہ تم اس پر غم نہ کرو جو تمہارے ہاتھ سے نکل جائے۔“ دنیا میں انسان کو جو بھی ملا ہے وہ اس کے ہاتھ سے نکل جانے والا ہے، اس لیے دنیا میں جب تک کوئی نعمت انسان کے پاس رہتی ہے وہ اس خوف میں رہتا ہے کہ یہ نعمت مجھ سے چھن نہ جائے اور جب چھنتی ہے تو اسے غم ہوتا ہے۔ جنت میں داخلے اور موت کے ذبح کردیے جانے کے بعد اہل جنت کو نہ کوئی نعمت چھننے کا خوف ہوگا، یعنی ”لا خوف علیھم“ اور نہ کسی نعمت کے ہاتھ سے نکل جانے کا غم، یعنی ”ولاھم یحزنون“ کیونکہ نہ ان کے جمال میں کمی ہوگی، نہ کھانے پینے میں، نہ ان کی قوت اور جوانی میں، نہ ان کی لذتوں میں اور نہ ہمیشہ رہائش میں تو پھر غم کس بات کا، اس لیے وہ اللہ کا شکر ادا کریں گے، جس نے ان سے ہر قسم کا غم دور کردیا۔ دنیا کی ہر نعمت تو ختم ہونے کی وجہ سے غم کا باعث بنتی تھی، یہ جنت ہی ہے جس کی کوئی نعمت غم کا باعث نہیں بنے گی۔ ابن الرومی نے کہا ہے ؂ وَ مَنْ سَرَّہُ أَلَّا یَرٰی مَا یَسُوْءُہُ فَلَا یَتَّخِذْ شَیْءًا یُبَالِيْ لَہُ فَقْدًا ”جسے پسند ہو کہ وہ غمگین کرنے والی کوئی چیز نہ دیکھے تو وہ ایسی کوئی چیز نہ پکڑے جس کے گم ہونے کی اسے فکر ہو۔“ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَكُوْرُۨ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے اسی سورت کی آیت (30)۔
Ayah 35:35

اِ۟لَّذِیْۤ اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا نَصَبٌ وَّ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا لُغُوْبٌ Open ayah 35:35 in the Quran reader

جس نے ہمیں اپنے فضل سے ہمیشہ رہنے کے گھر میں اتارا، نہ ہمیں اس میں کوئی تکلیف پہنچتی ہے اور نہ ہمیں اس میں کوئی تھکاوٹ پہنچتی ہے۔

الَّذِيْٓ اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ : ”دَارَ الْمُقَامَةِ“ ہمیشہ رہنے کا گھر، جس سے کبھی نکالا نہیں جائے گا۔ مِنْ فَضْلِهٖ : یعنی جنت میں داخلہ اور ہمیشہ اس میں رہنا محض اللہ کے فضل سے ہے، کیونکہ آدمی کے اعمال تو ان نعمتوں کے شکر کے لیے بھی کافی نہیں جو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں اسے عطا کی ہیں، پھر اگر کوئی نیکی کی ہے تو محدود وقت میں کی ہے، اس پر ہمیشہ ہمیشہ کی جنت محض اللہ کا فضل ہے۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فرماتے تھے : (لَنْ یُّدْخِلَ أَحَدًا عَمَلُہُ الْجَنَّۃَ) ”کسی شخص کا عمل بھی اسے جنت میں داخل نہیں کرے گا۔“ صحابہ نے کہا : ”تو کیا آپ کو بھی نہیں اے اللہ کے رسول ! ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : (لَا، وَ لَا أَنَا إِلَّا أَنْ یَّتَغَمَّدَنِيَ اللّٰہُ بِفَضْلٍ وَ رَحْمَۃٍ) [ بخاري، المرضٰی، باب تمنی المریض الموت : 5673 ]”نہیں، مجھے بھی نہیں، مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے فضل و رحمت کے ساتھ ڈھانپ لے۔“ لَا يَمَسُّنَا فِيْهَا نَصَبٌ وَّلَا يَمَسُّنَا فِيْهَا لُغُوْبٌ : یعنی ہماری تمام محنتوں اور تکلیفوں کا خاتمہ ہوگیا۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں : ”رہنے کا گھر اس سے پہلے کوئی نہ تھا، ہر جگہ چل چلاؤ اور روزی کا غم، دشمنوں کا ڈر اور رنج اور مشقت، وہاں پہنچ کر سب گئے۔“ (موضح)
Ayah 35:36

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ١ۚ لَا یُقْضٰى عَلَیْهِمْ فَیَمُوْتُوْا وَ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ كُلَّ كَفُوْرٍۚ Open ayah 35:36 in the Quran reader

اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ان کے لیے جہنم کی آگ ہے، نہ ان کا کام تمام کیا جائے گا کہ وہ مر جائیں اور نہ ان سے اس کا کچھ عذاب ہی ہلکا کیا جائے گا۔ ہم ایسے ہی ہر ناشکرے کو بدلہ دیا کرتے ہیں۔

وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ ۚ : جنت میں جانے والے خوش نصیبوں کے بعد جہنم میں جانے والے بدنصیبوں کا ذکر فرمایا، یعنی جن لوگوں نے اس کتاب کو ماننے سے انکار کردیا جو ہم نے محمد ﷺ پر نازل فرمائی اور جس کے وارث ہمارے چنے ہوئے بندے ہیں، ان کے لیے جہنم کی آگ ہے۔ لَا يُقْضٰى عَلَيْهِمْ فَيَمُوْتُوْا : جہنمی موت کو راحت خیال کریں گے اور اس کی تمنا کریں گے، مگر ان کی یہ تمنا کبھی پوری نہیں ہوگی۔ قرآن مجید کی کئی آیات میں یہ ذکر فرمایا ہے کہ جہنمیوں پر موت نہیں آئے گی کہ وہ عذاب سے رہائی پاجائیں، نہ ہی ان کی زندگی کوئی زندگی ہوگی، جیسا کہ فرمایا : (] يَحْيٰي : حیات، حیات جاوداں، موت و حیات۔]) [ الأعلٰی : 13 ] ”پھر وہ نہ اس میں مرے گا اور نہ زندہ رہے گا۔“ اور دیکھیے سورة ابراہیم (15 تا 17) اور سورة زخرف (77) ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (یُؤْتٰی بالْمَوْتِ کَہَیْءَۃِ کَبْشٍ أَمْلَحَ فَیُنَادِيْ مُنَادٍ یَا أَہْلَ الْجَنَّۃِ ! فَیَشْرَءِبُّوْنَ وَ یَنْظُرُوْنَ فَیَقُوْلُ ہَلْ تَعْرِفُوْنَ ہٰذَا ؟ فَیَقُوْلُوْنَ نَعَمْ ہٰذَا الْمَوْتُ ، وَ کُلُّہُمْ قَدْ رَآہُ ، ثُمَّ یُنَادِيْ یَا أَہْلَ النَّارِ ! فَیَشْرَءِبُّوْنَ وَ یَنْظُرُوْنَ ، فَیَقُوْلُ ہَلْ تَعْرِفُوْنَ ہٰذَا ؟ فَیَقُوْلُوْنَ نَعَمْ ہٰذَا الْمَوْتُ ، وَ کُلُّہُمْ قَدْ رَآہُ ، فَیُذْبَحُ ثُمَّ یَقُوْلُ یَا أَہْلَ الْجَنَّۃِ ! خُلُوْدٌ فَلَا مَوْتَ ، وَ یَا أَہْلَ النَّارِ ! خُلُوْدٌ فَلَا مَوْتَ ، ثُمَّ قَرَأَ : وَ ہٰؤُلَاَءِ فِيْ غَفْلَۃٍ أَہْلُ الدُّنْیَا [ بخاري، التفسیر، سورة کھیعص، باب قولہ عزوجل : (و أنذرھم یوم الحسرۃ) : 4730 ] ”موت کو ایک چتکبرے مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا، پھر ایک آواز دینے والا آواز دے گا : ”اے جنت والو !“ وہ گردنیں اٹھا کر دیکھیں گے، وہ کہے گا : ”کیا تم اسے پہچانتے ہو ؟“ وہ کہیں گے : ”ہاں، یہ موت ہے۔“ اور ان سب نے اسے دیکھا ہوگا، پھر وہ آواز دے گا : ”اے آگ والو !“ وہ گردنیں اٹھا کر دیکھیں گے، وہ کہے گا : ”کیا تم اسے پہچانتے ہو ؟“ وہ کہیں گے : ”ہاں، یہ موت ہے۔“ اور ان سب نے اسے دیکھا ہوگا، پھر اسے ذبح کردیا جائے گا، پھر وہ کہے گا : ”اے جنت والو ! (اب) ہمیشگی ہے اور کوئی موت نہیں اور اے آگ والو ! (اب) ہمیشگی ہے اور کوئی موت نہیں۔“ پھر یہ آیت پڑھی : (وَاَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِيَ الْاَمْرُ ۘ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ وَّهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ) [ مریم : 39 ] ”اور انھیں پچھتاوے کے دن سے ڈرا جب (ہر) کام کا فیصلہ کردیا جائے گا اور وہ سراسر غفلت میں ہیں (یعنی دنیا دار لوگ) اور وہ ایمان نہیں لاتے۔“rnۭ كَذٰلِكَ نَجْزِيْ كُلَّ كَفُوْر : کفار کی ایک سزا تو یہ ہوگی کہ ان کی موت کی تمنا کبھی پوری نہیں ہوگی، اس پر مزید سزا یہ ہوگی کہ کبھی عذاب میں وقفہ نہیں ہوگا، نہ عذاب کی شدت میں کمی ہوگی، بلکہ لمحہ بہ لمحہ ان کے عذاب میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ دیکھیے سورة بقرہ (161، 162) ، زخرف (74) ، بنی اسرائیل (97) اور سورة نبا (30)۔ وَلَا يُخَـفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا : ہم ہر ناشکرے کو ایسے ہی جزا دیتے ہیں جو ہماری نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہوئے ایمان لانے کے بجائے کفر پر اصرار کرتا ہے۔
Ayah 35:37

وَ هُمْ یَصْطَرِخُوْنَ فِیْهَا١ۚ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ اَوَ لَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا یَتَذَكَّرُ فِیْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَ جَآءَكُمُ النَّذِیْرُ١ؕ فَذُوْقُوْا فَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ۠ Open ayah 35:37 in the Quran reader

اور وہ اس میں چلائیں گے، اے ہمارے رب ! ہمیں نکال لے، ہم نیک عمل کریں گے، اس کے خلاف جو ہم کیا کرتے تھے۔ اور کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی کہ اس میں جو نصیحت حاصل کرنا چاہتا حاصل کرلیتا اور تمہارے پاس خاص ڈرانے والا بھی آیا۔ پس چکھو کہ ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔

ۚ وَهُمْ يَصْطَرِخُوْنَ فِيْهَا ۚ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا۔۔ : ”يَصْطَرِخُوْنَ ‘ ”صَرَخَ یَصْرُخُ صُرَاخًا“ (ن) (سخت چیخنا) سے باب افتعال ہے، جس میں مزید مبالغہ ہے، اصل میں ”یَصْتَرِخُوْنَ“ تھا، ”صاد“ کی مناسبت سے ”تاء“ کو ”طاء“ سے بدل دیا، یعنی بہت چیخیں چلائیں گے۔ جہنمیوں کی تمنا کہ انھیں ایک دفعہ جہنم سے نکال کر دنیا میں بھیج دیا جائے اور وہ پہلے کے برعکس نیک عمل کریں گے، قرآن مجید میں کئی جگہ ذکر ہوئی ہے، مگر ان کی یہ تمنا پوری نہیں کی جائے گی۔ دیکھیے سورة اعراف (53) ، سجدہ (12) ، مؤمن (11) اور سورة شوریٰ (44) ایک مقام پر فرمایا کہ اگر انھیں واپس بھیج بھی دیا جائے تو دوبارہ وہی کچھ کریں گے جو پہلے کرتے رہے ہیں۔ دیکھیے سورة انعام (28)۔ اَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا يَتَذَكَّرُ فِيْهِ۔۔ : اس آیت کی تفسیر میں امام بخاری ؓ نے ابوہریرہ ؓ سے مروی حدیث بیان فرمائی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (أَعْذَرَ اللّٰہُ إِلَی امْرِئٍ أَخَّرَ أَجَلَہُ حَتّٰی بَلَّغَہُ سِتِّیْنَ سَنَۃً) [ بخاري، الرقاق، باب من بلغ ستین سنۃ۔۔ : 6419 ]”اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کا عذر ختم کردیا جس کی موت میں اتنی دیر کی کہ وہ ساٹھ برس ہی کو پہنچ گیا۔“ مگر اس حدیث سے مراد یہ نہیں کہ اس سے کم عمر والے کو یہ بات نہیں کہی جائے گی، بلکہ مراد یہ ہے کہ سب سے زیادہ ڈانٹ اس عمر کے لوگوں کو پڑے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ بات ہر اس شخص کو کہی جائے گی جو بلوغت کی عمر کو پہنچا، اللہ تعالیٰ نے اسے اچھے برے کی تمیز عطا فرمائی، اگر وہ چاہتا تو ایمان لاسکتا تھا، مگر وہ جان بوجھ کر کفر پر اڑا رہا۔ کیونکہ اس بات پر سب متفق ہیں کہ ساٹھ سال سے کم عمر والے کفار کو اس عذر کی وجہ سے جہنم سے چھٹکارا نہیں ملے گا کہ انھیں ساٹھ برس کی عمر نہیں ملی اور رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں کتنے ہی کافر جہنم واصل ہوئے، جن کی عمریں ساٹھ سال سے کم تھیں۔ وَجَاۗءَكُمُ النَّذِيْرُ : اس سے مراد رسول اللہ ﷺ اور آپ کے بعد ہر وہ شخص ہے جس کے ذریعے سے کسی کو حق کا پیغام پہنچے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا قاعدہ ہے : (وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا) [ بني إسرائیل : 15 ] ”اور ہم کبھی عذاب دینے والے نہیں یہاں تک کہ کوئی پیغام پہنچانے والا بھیجیں۔“ ”النذیر“ کا لفظ عام ہے، جس میں رسول اور اس کے نائب کے علاوہ وقتاً فوقتاً پیش آنے والے حوادث بھی شامل ہیں، جن سے بندہ عبرت حاصل کرسکتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (اَوَلَا يَرَوْنَ اَنَّھُمْ يُفْتَنُوْنَ فِيْ كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً اَوْ مَرَّتَيْنِ) [ التوبۃ : 126 ] ”اور کیا وہ نہیں دیکھتے کہ وہ ہر سال ایک یا دو مرتبہ آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں، پھر بھی وہ نہ توبہ کرتے ہیں اور نہ ہی وہ نصیحت پکڑتے ہیں۔“ بعض سلف نے سفید بالوں کو بھی النذیر“ میں شامل کیا ہے، کیونکہ وہ زندگی کی مہلت ختم ہونے سے خبردار کرتے ہیں۔ فَذُوْقُوْا فَمَا للظّٰلِمِيْنَ مِنْ نَّصِيْرٍ : یہاں ظالموں سے مراد مشرک ہیں، کیونکہ جہنم میں ہمیشہ وہی رہیں گے۔
Ayah 35:38

اِنَّ اللّٰهَ عٰلِمُ غَیْبِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 35:38 in the Quran reader

بیشک اللہ آسمانوں اور زمین کی چھپی چیزیں جاننے والا ہے، بیشک وہ سینوں کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔

اِنَّ اللّٰهَ عٰلِمُ غَيْبِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔ : اللہ تعالیٰ آسمان و زمین میں ہر غائب چیز کو جاننے والا ہے، اس کے علم سے کوئی چیز مخفی نہیں، وہ سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کو بھی خوب جانتا ہے اور تمہارے دلوں میں چھپے ہوئے کفر پر اصرار سے بھی خوب واقف ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اتنی مدت تک عمر دینے پر جب تم کفر پر قائم رہے تو مزید عمر دینے پر بھی تم یہی کچھ کرتے اور اسے خوب معلوم ہے کہ اگر وہ تمہاری درخواست قبول کرکے تمہیں دوبارہ دنیا میں بھیج دے تو تم پھر وہی کچھ کرو گے جو پہلے کرتے رہے، جیسا کہ فرمایا : (وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ) [ الأنعام : 28 ] ”اور اگر انھیں دوبارہ بھیج دیا جائے تو دوبارہ وہی کام کریں گے جس سے انھیں منع کیا گیا تھا اور یقیناً وہ جھوٹے ہیں۔“
Ayah 35:39

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ١ؕ فَمَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ؕ وَ لَا یَزِیْدُ الْكٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ اِلَّا مَقْتًا١ۚ وَ لَا یَزِیْدُ الْكٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ اِلَّا خَسَارًا Open ayah 35:39 in the Quran reader

وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں جانشین بنایا، پھر جس نے کفر کیا تو اس کا کفر اسی پر ہے اور کافروں کو ان کا کفر ان کے رب کے ہاں ناراضی کے سوا کچھ زیادہ نہیں کرتا اور کافروں کو ان کا کفر ان کے رب کے ہاں خسارے کے سوا کچھ زیادہ نہیں کرتا۔

هُوَ الَّذِيْ جَعَلَكُمْ خَلٰۗىِٕفَ فِي الْاَرْضِ ۭ : اس کے انعام اور اپنے کفر اور ناشکری پر غور کرو، اس کا احسان دیکھو کہ اس نے پہلی نسل کو فوت کرکے تمہیں اس کی جگہ زمین اور اس میں موجود تمام چیزوں کا مالک بنادیا۔ (خلیفہ کا مطلب سمجھنے کے لیے سورة بقرہ کی آیت (30) ”اِنِّىْ جَاعِلٌ فِى الْاَرْضِ خَلِيْفَةً“ کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں) اگر ہر آنے والی نسل کے ساتھ پہلی تمام نسلیں بھی موجود رہتیں تو زمین میں نہ رہنے کی گنجائش رہتی، نہ ان کی ضروریات پوری ہوتیں۔ اس احسان کا بدلا تم نے یہ دیا کہ اس کی ناشکری کی، اس کا احسان ماننے سے انکار کیا اور اس کے ساتھ شریک بنا لیے، جنھوں نے نہ کچھ پیدا کیا، نہ ان کا زمین کی پیدائش یا ملکیت میں کوئی حصہ ہے اور تم نے انھیں پکارنا شروع کردیا۔ فَمَنْ كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهٗ : تو جو اس نعمت کی ناشکری کرے اور اس کا احسان ماننے اور اس کے احکام تسلیم کرنے سے انکار کر دے تو اس کی ناشکری اور انکار کا وبال اسی پر پڑے گا، کسی دوسرے کو اس کا کچھ نقصان نہیں۔ وَلَا يَزِيْدُ الْكٰفِرِيْنَ كُفْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ اِلَّا مَقْتًا۔ : یعنی اگر کفار کو ان کے کفر کے باوجود زمین کی خلافت ملی ہوئی ہے اور مال و اولاد اور دوسری نعمتوں کے ساتھ لمبی عمر ملی ہوئی ہے اور ان کی رسی دراز ہے، تو یہ نہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ ان پر خوش ہے، اس لیے انھیں نعمتیں دیے جا رہا ہے اور نہ یہ سمجھیں کہ وہ اس طرح نفع کا سودا کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کافروں کے کفر سے ان پر اللہ تعالیٰ کے شدید غضب میں اضافہ ہی ہو رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے کفر سے ان کا خسارا ہی بڑھ رہا ہے، کیونکہ اس سے ان پر حجت تمام ہو رہی ہے اور ان کے عذر ختم ہو رہے ہیں۔
Ayah 35:40

قُلْ اَرَءَیْتُمْ شُرَكَآءَكُمُ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ۚ اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا فَهُمْ عَلٰى بَیِّنَتٍ مِّنْهُ١ۚ بَلْ اِنْ یَّعِدُ الظّٰلِمُوْنَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 35:40 in the Quran reader

کہہ دے کیا تم نے اپنے شریکوں کو دیکھا، جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ؟ مجھے دکھاؤ زمین میں سے انھوں نے کون سی چیز پیدا کی ہے، یا آسمانوں میں ان کا کوئی حصہ ہے، یا ہم نے انھیں کوئی کتاب دی ہے کہ وہ اس کی کسی دلیل پر قائم ہیں ؟ بلکہ ظالم لوگ، ان کے بعض بعض کو دھوکے کے سوا کچھ وعدہ نہیں دیتے۔

قُلْ اَرَءَيْتُمْ شُرَكَاۗءَكُمُ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہیں زمین کی خلافت بخشی، تو تم نے اس کی عبادت میں کچھ اوروں کو شریک بنا لیا اور انھیں پکارنا اور ان سے مانگنا شروع کردیا، تو یہ بتاؤ کہ تمہارے پاس اس کی کیا دلیل ہے ؟ کیا تمہارے بنائے ہوئے ان شریکوں نے، جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، زمین یا زمین کی کوئی چیز پیدا کی ہے ؟ اگر کی ہے تو مجھے بھی دکھاؤ وہ کون سی چیز ہے ؟ (دیکھیے حج : 73۔ رعد : 16) یا آسمانوں میں ان کا کوئی حصہ ہے تو اس کی نشان دہی کرو، یا ہم نے انھیں کوئی تحریر دی ہے، جو اس بات کی دلیل ہو کہ فلاں فلاں کو ہم نے بیماروں کو تندرست کرنے یا بےروزگاروں کو روزگار عطا کرنے یا حاجت مندوں کو ان کی حاجتیں پوری کرنے کے اختیارات دیے ہیں، اس لیے تمہیں یہ سب کچھ ان سے مانگنا چاہیے اور ان کا احسان مند ہونا چاہیے، اگر ایسی کوئی تحریر ہے تو لاؤ پیش کرو اور اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو خود ہی سوچو کہ آخر تم اپنی جانوں پر اتنا بڑا ظلم کیوں کر رہے ہو۔ یہی بات اللہ تعالیٰ نے سورة احقاف (4) میں بھی بیان فرمائی ہے۔ بَلْ اِنْ يَّعِدُ الظّٰلِمُوْنَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا اِلَّا غُرُوْرًا : یعنی بات یہ نہیں کہ ان شریکوں میں سے کسی کے پاس کوئی اختیار ہے، بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ شرک کا کاروبار کرنے والے یہ تمام ظالم، یہ جھوٹے پیشوا اور پیر، یہ پنڈت، پروہت، یہ کاہن اور عراف، یہ مجاور اور ان کے ایجنٹ ایک دوسرے کو محض جھوٹے وعدے دلا رہے ہیں کہ فلاں آستانے پر جاؤ گے تو اولاد ملے گی، فلاں بزرگوں سے مدد مانگو گے تو سنگ دل محبوب موم ہوجائے گا، فلاں درگاہ سے ہر مراد پوری ہوتی ہے۔ غرض یہ سارا کاروبار دھوکے پر اور جھوٹے وعدوں پر چل رہا ہے، جیسا کہ فرمایا : (يَعِدُھُمْ وَيُمَنِّيْهِمْ ۭ وَمَا يَعِدُھُمُ الشَّيْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا) [ النساء : 120 ] ”وہ انھیں وعدے دیتا ہے اور انھیں آرزوئیں دلاتا ہے اور شیطان انھیں دھوکے کے سوا کچھ وعدہ نہیں دیتا۔“ اور قیامت کے دن شیطان صاف کہہ دے گا : (اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ) [ إبراہیم : 22 ] ”بیشک اللہ نے تم سے وعدہ کیا، سچا وعدہ اور میں نے تم سے وعدہ کیا تو میں نے تم سے خلاف ورزی کی۔“
Ayah 35:41

اِنَّ اللّٰهَ یُمْسِكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا١ۚ۬ وَ لَئِنْ زَالَتَاۤ اِنْ اَمْسَكَهُمَا مِنْ اَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا Open ayah 35:41 in the Quran reader

بیشک اللہ ہی آسمانوں کو اور زمین کو تھامے رکھتا ہے، اس سے کہ وہ اپنی جگہ سے ہٹیں اور یقینا اگر وہ ہٹ جائیں تو اس کے بعد کوئی ان دونوں کو نہیں تھامے گا، بیشک وہ ہمیشہ سے نہایت برد بار، بےحد بخشنے والا ہے۔

اِنَّ اللّٰهَ يُمْسِكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا ڬ۔۔ : یعنی تمہارے بنائے ہوئے شریکوں کا تو یہ حال ہے کہ نہ انھوں نے زمین یا اس کی کوئی چیز پیدا کی، نہ آسمانوں میں ان کا کوئی حصہ ہے، وہ بےچارے تو اپنا آپ بھی نہیں سنبھال سکتے، جب کہ اللہ جل شانہ وہ ہے جس نے ساری کائنات پیدا فرمائی اور وہی اس کا نظام چلا رہا ہے۔ اسی نے اتنے عظیم آسمانوں کو اور زمین کو ان کی اپنی اپنی جگہ تھام رکھا ہے کہ کسی زلزلے یا حادثے سے اپنی جگہ سے ادھر ادھر نہیں ہوتے اور اگر یہ اپنی جگہ سے ہٹ جائیں تو اس کے سوا کوئی نہیں جو انھیں تھام سکے۔ اگر تم کہتے ہو کہ تمہارے شریک پیدا تو نہیں کرسکتے، نہ آسمانوں میں ان کا کوئی حصہ ہے مگر وہ گرتے ہوؤں کو تھام لیتے ہیں تو تمہارا یہ خیال بھی غلط ہے۔ گرتے ہوؤں کو تھامنا بھی اسی کا کام ہے جس نے ہر چیز کو اس کی جگہ تھام رکھا ہے۔ ۭاِنَّهٗ كَانَ حَلِــيْمًا غَفُوْرًا : یعنی تمہارے مشرکانہ اقوال و افعال تو اتنے خوفناک عذاب کے طالب ہیں کہ ان کی وجہ سے آسمان پھٹ جائیں، زمین شق ہوجائے اور پہاڑ تم پر ڈھے کر گرپڑیں، جیسا کہ فرمایا : (تَكَاد السَّمٰوٰتُ يَــتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا اَنْ دَعَوْا للرَّحْمٰنِ وَلَدًا) [ مریم : 90، 91 ] ”آسمان قریب ہیں کہ اس سے پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ ڈھے کر گرپڑیں کہ انھوں نے رحمٰن کے لیے کسی اولاد کا دعویٰ کیا۔“ مگر اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین کو گرنے سے روک رکھا ہے، کیونکہ وہ بیحد بردبار ہے، اس لیے مہلت پر مہلت دیے جا رہا ہے، بیحد بخشنے والا ہے، جو اس کے حلم سے فائدہ اٹھا کر توبہ کرے اس کے تمام گناہ بخش دیتا ہے۔ آیت کا ایک معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ مشرک اپنے شرک اور نافرمانی کی وجہ سے اس کے مستحق ہوچکے ہیں کہ ان پر آسمان گرا کر اور زمین شق کرکے انھیں تباہ و برباد کردیا جائے، مگر اللہ تعالیٰ اپنے حلم و مغفرت کی وجہ سے آسمانوں کو اور زمین کو تھامے ہوئے ہے اور اگر یہ اپنی جگہ سے ٹل جائیں تو اس کے سوا کوئی طاقت نہیں جو انھیں تھام سکے۔
Ayah 35:42

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ جَآءَهُمْ نَذِیْرٌ لَّیَكُوْنُنَّ اَهْدٰى مِنْ اِحْدَى الْاُمَمِ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُمْ نَذِیْرٌ مَّا زَادَهُمْ اِلَّا نُفُوْرَاۙ Open ayah 35:42 in the Quran reader

اور انھوں نے اپنی پختہ قسمیں کھاتے ہوئے اللہ کی قسم کھائی کہ واقعی اگر کوئی ڈرانے والا ان کے پاس آیا تو ضرور بالضرور وہ امتوں میں سے کسی بھی امت سے زیادہ ہدایت پانے والے ہوں گے، پھر جب ان کے پاس ایک ڈرانے والا آیا تو اس نے ان کو دور بھاگنے کے سوا کچھ زیادہ نہیں کیا۔

وَاَقْسَمُوْا باللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ۔۔ : مشرکین کے کفر اور ناشکری کا اظہار شرک کی صورت میں بھی ہوتا تھا اور پیغمبر کو جھٹلانے کی صورت میں بھی، چناچہ شرک کی تردید کے بعد پیغمبر کو جھٹلانے کی صورت میں ان کی ناشکری کا ذکر فرمایا۔ رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے مشرکین مکہ کی سفر کے دوران میں عرب کے دوسرے شہروں مثلاً یثرب اور خیبر وغیرہ میں یا دوسرے ملکوں مثلاً شام وغیرہ میں اہل کتاب سے ملاقات ہوتی تو وہ ان کی بت پرستی اور دوسری جہالتوں پر طعن کرتے، تو یہ اس کے جواب میں کہتے کہ تم لوگوں کے پاس تو اللہ کے رسول اور اس کی کتابیں آئیں، اگر ہمارے پاس کوئی پیغمبر آیا تو ہم کسی بھی امت سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوں گے، اور اپنی اس بات پر پکی سے پکی جو قسم وہ کھا سکتے تھے کھاتے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا : (اَنْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰي طَاۗىِٕفَتَيْنِ مِنْ قَبْلِنَا ۠ وَاِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِيْنَ اَوْ تَقُوْلُوْا لَوْ اَنَّآ اُنْزِلَ عَلَيْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّآ اَهْدٰي مِنْهُمْ ۚ فَقَدْ جَاۗءَكُمْ بَيِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَّبَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَصَدَفَ عَنْهَا ۭ سَنَجْزِي الَّذِيْنَ يَصْدِفُوْنَ عَنْ اٰيٰتِنَا سُوْۗءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا يَصْدِفُوْنَ) [ الأنعام : 156، 157 ] ”ایسا نہ ہو کہ تم کہو کہ کتاب تو صرف ان دو گروہوں پر اتاری گئی جو ہم سے پہلے تھے اور بیشک ہم ان کے پڑھنے پڑھانے سے یقیناً بیخبر تھے۔ یا یہ کہو کہ اگر ہم پر کتاب اتاری جاتی تو ہم ان سے زیادہ ہدایت والے ہوتے۔ پس بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل اور ہدایت اور رحمت آچکی، پھر اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ کی آیات کو جھٹلائے اور ان سے کنارا کرے۔“ اور جیسا کہ فرمایا : (وَاِنْ كَانُوْا لَيَقُوْلُوْنَ لَوْ اَنَّ عِنْدَنَا ذِكْرًا مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ لَكُنَّا عِبَاد اللّٰهِ الْمُخْلَصِيْنَ فَكَفَرُوْا بِهٖ فَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَ) [ الصافات : 167 تا 170 ] ”اور بیشک وہ (کافر) تو کہا کرتے تھے۔ اگر ہمارے پاس پہلے لوگوں کی کوئی نصیحت ہوتی۔ تو ہم ضرور اللہ کے چنے ہوئے بندے ہوتے۔ تو انھوں نے اس کا انکار کردیا، سو جلد ہی جان لیں گے۔“rnۚ فَلَمَّا جَاۗءَهُمْ نَذِيْرٌ مَّا زَادَهُمْ اِلَّا نُفُوْرَۨا : تو جب ان کے پاس ڈرانے والا آیا تو بجائے اس کے کہ وہ کسی بھی امت سے زیادہ ہدایت قبول کرتے، وہ اپنے کفر و شرک پر اڑے رہے، بلکہ رسول کی آمد نے ان کے بدکنے اور دور بھاگنے میں اضافہ ہی کیا اور وہ پہلے سے بھی زیادہ ہدایت سے دور ہوگئے۔
Ayah 35:43

اِ۟سْتِكْبَارًا فِی الْاَرْضِ وَ مَكْرَ السَّیِّئِ١ؕ وَ لَا یَحِیْقُ الْمَكْرُ السَّیِّئُ اِلَّا بِاَهْلِهٖ١ؕ فَهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا سُنَّتَ الْاَوَّلِیْنَ١ۚ فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا١ۚ۬ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰهِ تَحْوِیْلًا Open ayah 35:43 in the Quran reader

زمین میں تکبر کی وجہ سے اور بری تدبیر کی وجہ سے اور بری تدبیر اپنے کرنے والے کے سوا کسی کو نہیں گھیرتی۔ اب یہ پہلے لوگوں سے ہونے والے طریقے کے سوا کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں ؟ پس تو نہ کبھی اللہ کے طریقے کو بدل دینے کی کوئی صورت پائے گا اور نہ کبھی اللہ کے طریقے کو پھیر دینے کی کوئی صورت پائے گا۔

اسْـتِكْبَارًا فِي الْاَرْضِ وَمَكْرَ السَّــﮧ ۭ وَلَا يَحِيْقُ الْمَكْرُ السَّيِّ : یعنی ان کی رسول اللہ ﷺ کو جھٹلانے اور ہدایت سے بدکنے اور دور بھاگنے کی وجہ یہ نہ تھی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو جھوٹا سمجھتے تھے، بلکہ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ زمین پر رہ کر، جو اللہ تعالیٰ کی کائنات میں پستی کی انتہا ہے، اونچے اور بڑے بن کر رہنا چاہتے تھے، جو پیغمبر کی اطاعت قبول کرنے کی صورت میں ممکن نہ تھا، کیونکہ اس وقت انھیں اپنی مرضی چھوڑ کر اللہ کے حکم کے تابع ہونا پڑتا تھا، جو انھیں منظور نہ تھا۔ وَمَكْرَ السَّــی : اور حق سے زیادہ دور ہونے کی دوسری وجہ یہ تھی کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کے صدق و امانت کو جاننے کے باوجود آپ پر ایمان لانے کے بجائے حق کا راستہ روکنے اور آپ ﷺ کو نقصان پہنچانے کے لیے بہت بری تدبیریں اور خوف ناک سازشیں اختیار کیں، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حق قبول کرنے کے بجائے ضد میں آ کر وہ اس سے بہت دور ہوگئے، جیسا کہ سورة انفال (30) میں کفار مکہ کی رسول اللہ ﷺ کے خلاف قید، جلاوطنی یا قتل کی تدبیروں کا ذکر ہے۔ وَلَا يَحِيْقُ الْمَكْرُ ”حَاقَ یَحِیْقُ“ اور ”أَحَاطَ یُحِیْطُ“ دونوں کا معنی گھیرنا ہے، یعنی بری تدبیر جس کے متعلق کی جائے ہوسکتا ہے اسے تھوڑا بہت نقصان پہنچ جائے، مگر وہ پوری طرح گھیرا اور احاطہ بری تدیبر کرنے والے ہی کا کرتی ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف سازشوں سے آپ ﷺ کا کچھ نہیں بگڑا، بلکہ ان سازشوں نے غزوۂ بدر، احد، خندق اور فتح مکہ میں کفار ہی کو گھیرے میں لے کر انھیں ناکام و نامراد کردیا۔ فَهَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّا سُنَّتَ الْاَوَّلِيْنَ یعنی اگر یہ اپنی روش نہ بد لیں گے اور اپنی سرکشی میں بڑھتے جائیں گے تو پہلے کافروں کی طرح ان پر عذاب نازل ہو کر رہے گا۔ فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰهِ تَبْدِيْلًا : یعنی اللہ تعالیٰ کا دستور جو پہلے سے چلا آ رہا ہے کہ وہ مجرموں کو مہلت دیتا ہے، پھر پکڑ لیتا ہے، تم اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں پاؤ گے کہ ان مجرموں کی رسی ہمیشہ دراز رہے، یا انھیں عذاب کے بجائے انعام سے نوازا جائے۔ اس میں کفار کے لیے وعید ہے اور رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کے لیے تسلی اور بشارت ہے۔ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰهِ تَحْوِيْلًا : نہ ہی یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کوئی کام ہونے کا حکم دے یا کسی قوم پر عذاب نازل کرنے کا ارادہ کرے اور عذاب نازل نہ ہو، یا کسی قوم پر عذاب کا ارادہ کرے اور وہ اس سے پھیر کر کسی اور قوم پر نازل کردیا جائے، جیسا کہ فرمایا : (وَاِذَآ اَرَاد اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْۗءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ ۚ) [ الرعد : 11 ] ”اور جب اللہ کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ کرلے تو اسے ہٹانے کی کوئی صورت نہیں۔“
Ayah 35:44

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعْجِزَهٗ مِنْ شَیْءٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَلِیْمًا قَدِیْرًا Open ayah 35:44 in the Quran reader

اور کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے، حالانکہ وہ قوت میں ان سے زیادہ سخت تھے اور اللہ کبھی ایسا نہیں کہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں کوئی چیز اسے بےبس کردے، بیشک وہ ہمیشہ سے سب کچھ جاننے والا، ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔

اَوَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْض۔۔ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة روم کی آیت (9) کی تفسیر۔ وَمَا كَان اللّٰهُ لِيُعْجِزَهٗ مِنْ شَيْءٍ۔۔ : یعنی آسمان و زمین یعنی ساری کائنات میں کوئی چیز اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکتی کہ وہ اسے پکڑ نہ سکے، یا پکڑنے کے بعد وہ اس کی گرفت سے نکل کر بھاگ جائے۔ اِنَّهٗ كَانَ عَلِــيْمًا قَدِيْرًا : کیونکہ وہ ہمیشہ سے سب کچھ جاننے والا ہے اور ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے، یعنی یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی چیز اسے عاجز کر دے، وہ اسے اس لیے نہ پکڑ سکے کہ اسے پتا ہی نہ چلے کہ وہ کہاں ہے، یا اسے معلوم تو ہو مگر وہ اسے پکڑنے کی طاقت نہ رکھے۔ ہمیشہ کا معنی ”کَانَ“ کا لفظ ادا کر رہا ہے۔
Ayah 35:45

وَ لَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰى ظَهْرِهَا مِنْ دَآبَّةٍ وَّ لٰكِنْ یُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِیْرًا۠ Open ayah 35:45 in the Quran reader

اور اگر اللہ لوگوں کو اس کی وجہ سے پکڑے جو انھوں نے کمایا تو اس کی پشت پر کوئی چلنے والا نہ چھوڑے اور لیکن وہ انھیں ایک مقرر مدت تک مہلت دیتا ہے، پھر جب ان کا مقرر وقت آجائے تو بیشک اللہ اپنے بندوں کو ہمیشہ سے خوب دیکھنے والا ہے۔

وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا۔۔ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة نحل کی آیت (61) کی تفسیر۔ فَاِذَا جَاۗءَ اَجَلُهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِيْرًا : یعنی جب ان کا مقرر وقت آگیا تو اللہ ہمیشہ سے اپنے بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے، اسے خوب معلوم ہے کہ کون کہاں ہے۔ لہٰذا اس وقت نہ کوئی اس سے چھپا رہ سکے گا، نہ اس کی گرفت سے بچ سکے گا، پھر کسی کا حال اس سے پوشیدہ نہیں، وہ ہر ایک کو اس کے اچھے یا برے عمل کا ٹھیک ٹھیک بدلا دے گا۔