Ayah 34:1اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ۔۔ : حمد کا معنی کسی کی خوبی کی وجہ سے تعریف ہے۔ یہ سورت ان پانچ سورتوں میں سے ایک ہے جن کی ابتدا ”اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ“ سے ہوتی ہے اور وہ ہیں سورة فاتحہ، انعام، کہف، سبا اور فاطر۔ پانچوں میں سب تعریف اللہ کے لیے ہونے کی الگ الگ دلیل بیان کی گئی ہے، اگرچہ ان سب کا ایک دوسری کے ساتھ بھی تعلق ہے۔ ”اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ“ کہنے میں صرف یہی بات نہیں آتی کہ ساری تعریف اللہ کے لیے ہے، بلکہ یہ بات بھی آتی ہے کہ تمام خوبیوں کا مالک بھی وہی ہے، کیونکہ خوبی نہ ہو تو تعریف کیسی ؟ اور سب تعریف اور تمام خوبیاں اللہ کے لیے ہونے کی دلیل یہ ہے کہ آسمانوں میں جو کچھ ہے، یا زمین میں جو کچھ ہے، مراد پوری کائنات میں جو بھی چیز ہے اس کا مالک وہی ہے۔ اسی نے سب کچھ پیدا کیا، وہی انھیں قائم رکھے ہوئے ہے اور وہی ان کی تدبیر فرما رہا ہے۔ کسی بھی چیز میں اگر کوئی خوبی ہے تو اس کی عطا کردہ، پھر ہر خوبی اور ہر تعریف کا مالک اس کے سوا کون ہوسکتا ہے ؟
3 اس آیت کی تفسیر دو طرح ہے، ایک یہ کہ پہلے جملے ”اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ“ سے مراد یہ ہے کہ دنیا میں سب تعریف اللہ کے لیے ہے، کیونکہ دوسرے جملے ”وَلَهُ الْحَمْدُ فِي الْاٰخِرَةِ“ میں آخرت میں سب تعریف اس کے لیے ہونے کا ذکر ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ پہلے جملے ”اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ“ سے مراد یہ ہے کہ دنیا اور آخرت دونوں میں حمد اللہ کے لیے ہے۔ پھر آخرت میں حمد کا اللہ ہی کے لیے ہونا خاص طور پر دوبارہ ذکر فرمایا، کیونکہ دنیا میں تو بظاہر کسی اور کی بھی تعریف ہوجاتی ہے، مگر آخرت میں صرف اللہ تعالیٰ ہی کی حمد ہوگی اور ہر ایک کی زبان پر ”اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ“ کا کلمہ جاری ہوگا۔ دیکھیے سورة زمر (74) ، اعراف (43) اور فاطر (34، 35) یہ ایسے ہی جیسے سورة بقرہ کی آیت (98) : (مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَمَلٰۗىِٕكَتِهٖ وَرُسُلِهٖ وَجِبْرِيْلَ وَمِيْكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِيْنَ) میں لفظ ”وَمَلٰۗىِٕكَتِهٖ“ میں سب فرشتے شامل ہونے کے باوجود جبریل و میکال کا الگ ذکر بھی فرمایا۔ ”الحمد للہ“ کے مزید فوائد کے لیے سورة فاتحہ کے فوائد ملاحظہ فرمائیں۔
وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ : یعنی صرف وہ ایک ہے جس کا ہر کام محکم و مضبوط ہے اور جسے کائنات کے ذرّے ذرّے کی پوری خبر ہے، اس لیے اس کے کسی کام میں کوئی نقص ہے نہ عیب، جبکہ کوئی اور نہ پوری خبر رکھتا ہے نہ حکمت، اس لیے اس کے پاس عجز و فقر کے سوا کچھ نہیں، پھر حمد کس بات پر ؟
Ayah 34:2يَعْلَمُ مَا يَـلِجُ فِي الْاَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا۔۔ : اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے علم کی کچھ تفصیل بیان فرمائی۔ وہ ان تمام چیزوں کو جانتا ہے جو زمین میں داخل ہوتی ہیں اور جو اس سے نکلتی ہیں اور جو آسمان سے اترتی ہیں اور اس میں چڑھتی ہیں، جو شمار سے باہر ہیں اور جنھیں صرف وہی جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ کمال علم بھی اس کے اکیلے مستحق حمد ہونے کی دلیل ہے، کسی اور کو دوسری چیزیں تو ایک طرف رہیں خود اپنی ذات کا بھی پورا علم نہیں، پھر وہ ”الحمد“ کے لائق کیسے ہوگیا۔
وَهُوَ الرَّحِيْمُ الْغَفُوْر : یعنی ہر چیز کا مالک ہونے، حکیم وخبیر ہونے اور ذرّے ذرّے کا علم رکھنے کے باوجود بندوں کی نافرمانی پر فوری گرفت نہیں کرتا، کیونکہ وہی ہے جس کی نہ رحمت کی کوئی حد ہے، نہ مغفرت کی۔ اس لیے اس نے بندوں کو مہلت دے رکھی ہے اور بڑی سے بڑی سرکشی پر بھی مقرر کردہ وقت سے پہلے گرفت نہیں فرماتا۔
Ayah 34:3وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَاْتِيْنَا السَّاعَةُ : یہ بیان کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر جو بےحساب نعمتیں کی ہیں، ان پر دنیا کے علاوہ آخرت میں بھی حمد اور شکر اسی کے لیے ہے، یہ بیان فرمایا کہ کفار اپنے خالق ومالک کی حمد کے بجائے دوبارہ زندہ ہو کر اس کے سامنے پیش ہونے کو تسلیم ہی نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہیں آئے گی۔
قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتَاْتِيَنَّكُمْ : قسم اٹھا کر بات کرنے سے اس بات کی اہمیت اور اس کے واقع ہونے کی تاکید مقصود ہوتی ہے، جس پر قسم اٹھائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی بات جتنی شدت سے کی گئی ہو اس کا رد اتنی ہی یا اس سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ کفار قیامت کا انکار قسمیں اٹھا اٹھا کر کرتے تھے، جیسا کہ اللہ نے ذکر فرمایا : (واقسموا باللہ جہد ایمانھم لایبعث اللہ من یموت) [ النحل : 38 ] ”اور انھوں نے اپنی پکی قسمیں کھاتے ہوئے اللہ کی قسم کھائی کہ اللہ اسے نہیں اٹھائے گا جو مرجائے۔“ وہ قیامت کا مذاق بھی اڑاتے تھے اور اسے جلد از جلد لانے کا مطالبہ بھی کرتے تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ وہ اپنے رب کی قسم کھا کر انھیں بتائیں کہ وہ تم پر ضرور بالضرور آئے گی۔ حافظ ابن کثیر نے فرمایا کہ یہ آیت ان تین آیات میں سے ایک ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا کہ وہ اپنے رب کی قسم کھا کر بتائیں کہ قیامت ضرور قائم ہوگی۔ ان میں سے ایک سورة یونس کی آیت ہے : (ویستنبئونک احق ھو قل سای) [ یونس : 53 ] ”اور وہ تجھ سے پوچھتے ہیں کیا یہ سچ ہی ہے ؟ تو کہہ ہاں ! مجھے اپنے رب کی قسم ! یقیناً یہ ضرور سچ ہے اور تم ہرگز عاجز کرنے والے نہیں ہو۔“ دوسری یہ آیت اور تیسری سورة تغابن میں ہے : (زعم الذین کفروا ان لن یبعثوا قل بلی وربی لتبعثن ثم لتنبئن بما عملتم) [ التغابن : 7 ] ”وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا انھوں نے گمان کیا کہ وہ ہرگز اٹھائے نہیں جائیں گے۔ کہہ دے کیوں نہیں ؟ میرے رب کی قسم ! تم ضرور بالضرور اٹھائے جاؤ گے۔“
عٰلِمِ الْغَيْبِ ۚ لَا يَعْزُبُ عَنْهُ۔۔ : ”عٰلِمِ الْغَيْبِ“ ”ربی“ کی صفت ہے۔ ”عَزَبَ یَعْزُبُ“ (ن، ض) غائب ہونا، چھپا رہنا۔ ”وَلَآ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَلَآ اَكْبَرُ۔۔“ میں ”اصغر“ اور ”اکبر“ پر رفع مبتدا ہونے کی وجہ سے ہے۔ ”الا“ حرف استثنا ہے اور ”فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ“ خبر ہے۔ ”كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ“ سے مراد لوح محفوظ ہے۔ کتاب کو واضح کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کتابوں میں لکھی ہوئی بات ڈھونڈنا پڑتی ہے، مگر وہ ایسی کتاب ہے جو ہر چیز کو خود ہی واضح کردیتی ہے۔
3 قیامت کے منکروں کی سب سے بڑی دلیل یہ تھی اور ہے کہ جب ہم مر کر مٹی ہوگئے اور ہماری خاک کے ذرّات بھی کہاں سے کہاں منتشر ہوگئے تو ہم دوبارہ کیسے زندہ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان سے کہو، مجھے اپنے اس رب کی قسم ہے جو غیب کو جاننے والا ہے ! جس سے ذرہ برابر کوئی چیز بھی چھپی ہوئی نہیں، نہ اس سے کوئی چھوٹی چیز ہے اور نہ بڑی، مگر اس کے علم میں ہے اور لوح محفوظ میں درج ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مرنے والوں کے ذرّات جہاں بھی ہوں وہ سب سے واقف بھی ہے اور انھیں جمع کرنے اور دوبارہ جوڑنے اور زندہ کرنے پر قادر بھی ہے۔ دیکھیے سورة ق (3، 4) اور قیامہ (3، 4)۔
”ذرةٍ“ غبار کے اس چھوٹے سے چھوٹے حصے کو کہتے ہیں جو روشنی میں چمکتا ہوا نظر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ”کہ اس سے چھوٹی ہر چیز بھی کتاب مبین میں ہے“ اس حقیقت کا بیان ہے جو ان آیات کے نزول کے سیکڑوں برس بعد تجربے سے ثابت ہوئی کہ ذرہ (ایٹم) بھی قابل تقسیم ہے اور اس سے چھوٹی بھی بہت سے چیزیں موجود ہیں۔
ولا اکبر : یہاں ایک سوال ہے کہ یہ کہنے کے بعد کہ ”ذرے سے چھوٹی چیزیں بھی کتاب مبین میں ہیں“ یہ کہنے کی کیا ضرورت ہے کہ ”اس سے بڑی چیزیں بھی کتاب مبین میں ہیں۔“ جواب اس کا یہ ہے کہ اس کی ضرورت یہ ہے کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ لوح محفوظ میں صرف باریک چیزوں کا علم ہی محفوظ کیا گیا ہے۔
Ayah 34:4لِّيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ۔۔ : ان آیات میں قیامت کا مقصد اور اس کی حکمت بیان کی گئی ہے، یعنی قیامت اس لیے برپا ہوگی کہ اللہ تعالیٰ ایمان اور عمل صالح والوں کو ان کی جزا دے، کیونکہ دنیا کی محدود مدت میں نہ نیکوں کو ان کی پوری جزا ملتی ہے، نہ بدوں کو ان کی پوری سزا۔ اب اگر جزا و سزا کا کوئی دن ہی نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ نیک و بد یکساں ہیں، جب کہ یہ بات عقل کے خلاف ہے۔ دیکھیے سورة ص (28) ، سجدہ (18 تا 20) اور حشر (20) اور اللہ تعالیٰ کے عدل کے بھی خلاف ہے۔ (دیکھیے انبیاء : 47) بلکہ یہ ان لوگوں پر ظلم ہوگا جن پر دنیا میں ظلم ہوتا رہا، جب کہ اللہ تعالیٰ بندوں پر ذرہ برابر ظلم کا روا دار نہیں، جیسا کہ فرمایا : (وما ربک بظلام للعبید) [ حٰآ السجدۃ : 46 ] ”اور تیرا رب اپنے بندوں پر ہرگز کوئی ظلم کرنے والا نہیں۔“ بھلا وہ کون سا مالک ہے جس کے غلاموں میں سے کوئی اس کا حکم مانے، کوئی نہ مانے اور وہ سب سے یکساں سلوک کرے، اور اس کے غلاموں میں سے بعض بعض پر ظلم کرتا رہے اور وہ ظالم سے باز پرس ہی نہ کرے، پھر جب انسان اپنے غلاموں میں یہ برداشت نہیں کرتا تو اس بادشاہوں کے بادشاہ، ملک الملوک کے متعلق یہ گمان کیسے کیا جاسکتا ہے ؟ ”مغفرۃ“ پر تنوین تعظیم کی ہے اور ”رزق“ سے مراد جنت کی نعمتیں ہیں۔ دیکھیے سورة سجدہ (17)۔
Ayah 34:5وَالَّذِيْنَ سَعَوْ فِيْٓ اٰيٰتِنَا مُعٰجِزِيْنَ۔۔ : ”رجز“ کا معنی ہے ”أَسْوَأُ الْعَذَابِ“ (بد ترین عذاب) یعنی جن لوگوں کی کوشش ہے کہ ہماری آیات کا مقابلہ کرتے ہوئے عاجز کردیں اور نیچا دکھا دیں، کبھی انھیں جادو کہتے ہیں، کبھی شعر اور کبھی پہلے لوگوں کے افسانے، تاکہ لوگوں کو ان پر ایمان لانے سے روکیں، ان کے لیے بدترین قسم کے عذاب کی سزا ہے، جو نہایت المناک ہے۔ مراد جہنم ہے، جس سے زیادہ بری اور درد ناک سزا کوئی نہیں۔
Ayah 34:6وَيَرَى الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ۔۔ : ”یری“ میں رُؤیت (دیکھنے) سے مراد یہاں دل کے ساتھ دیکھنا یعنی جاننا ہے۔”3 وَيَرَى الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ ‘ کا پہلا مفعول ”الَّذِيْٓ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ“ ہے اور دوسرا مفعول ”الحق“ ہے۔ ”ھو“ ضمیر فصل ہے۔ خبر ”الحق“ پر الف لام کی وجہ سے اور ضمیر فصل کی وجہ سے کلام میں حصر اور تاکید پیدا ہوگئی، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے کہ ”وہی حق ہے۔“ ”الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ“ سے مراد سب سے پہلے صحابہ کرام ہیں، پھر تمام مسلمان جو فکرو دانش اور علم نافع سے بہرہ مند ہوئے، یا اہل کتاب میں سے جو لوگ ایمان لائے، جیسے عبداللہ بن سلام ؓ۔ اس آیت اور اس سے اگلی آیت میں رسول، وحی الٰہی اور قیامت کے متعلق اہل علم و دانش کا یقین و ایمان اور کفار کا عقیدہ و اعلان بیان فرمایا ہے۔ چناچہ فرمایا، جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے وہ تو جانتے اور یقین رکھتے ہیں کہ جو کچھ آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے وہی حق ہے اور وہ اس ذات پاک کا راستہ دکھاتا ہے جو سب پر غالب اور تمام خوبیوں کا مالک ہے۔ کفار اور شیطان لاکھ کوشش کرلیں، وہ اس کے سب پر غالب ہونے اور تمام خوبیوں کا مالک ہونے کے یقین کی وجہ سے اس کے راستے کے سوا کسی اور راستے پر چلنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس لیے وہ اس کے بتانے کے مطابق قیامت قائم ہونے پر یقین رکھتے ہیں اور اس کی تیاری کرتے ہیں۔
3 بعض مفسرین نے ”وَيَرَى الَّذِيْنَ“ کا عطف ”لِّيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا“ پر بیان کیا ہے، مگر بہتر یہی ہے کہ اسے نیا کلام قرار دیا جائے۔
Ayah 34:7وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا هَلْ نَدُلُّكُمْ۔۔ : اہل علم کے بعد کفار کا قول ذکر فرمایا کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ جیسی شخصیت کا ذکر، جن کی شہرت محتاج بیان نہیں، حقارت کے انداز سے ”ایک آدمی“ کہہ کر کیا، یعنی لوگوں سے کہا، کیا ہم تمہیں ”ایک آدمی“ بتائیں جو تمہیں یہ بتاتا ہے کہ جب تم ریزہ ریزہ کر کے منتشر کردیے جاؤ گے تو پھر ایک نئی پیدائش کے ساتھ زندہ کردیے جاؤ گے۔
Ayah 34:8اَفْتَرٰى عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا اَمْ بِهٖ جِنَّةٌ۔۔ : یعنی اس کا یہ کہنا کہ ریزہ ریزہ کردیے جانے کے بعد تم نئے سرے سے پھر زندہ کیے جاؤ گے، دو حال سے خالی نہیں، یا تو ہوش و حواس کی درستی میں وہ جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھ رہا ہے اور اس کی طرف نسبت کر کے وہ بات کہہ رہا ہے جو اس نے نہیں فرمائی، یا اسے جنون ہے، اس کا دماغ خراب ہے، بےسوچے سمجھے جو جی میں آئے کہہ دیتا ہے۔ [ نَعُوْذُ باللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ ]
بَلِ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ۔۔ : رسول اللہ ﷺ کی پوری عمر قریش مکہ کے سامنے گزری تھی۔ (دیکھیے یونس : 16) آپ کے متعلق یہ دونوں باتیں اتنی بےکار تھیں کہ ان کی تردید کی ضرورت ہی نہیں تھی، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا صادق اور امین ہونا سب کے ہاں مسلّم تھا۔ (دیکھیے انعام : 33) جیسا کہ ابوسفیان کے اس اعتراف پر کہ انھیں رسول اللہ ﷺ کے متعلق جھوٹ بولنے کا کوئی واقعہ معلوم نہیں، ہرقل نے کہا تھا : ”یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ لوگوں پر تو جھوٹ نہ بولے، مگر اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے لگے۔“ [ دیکھیے بخاري : 7 ] رہی دیوانہ یا پاگل ہونے کی بات تو آپ کی عقل کا کمال دوست و دشمن سب کے سامنے تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ان دونوں باتوں میں سے ایک بھی نہیں، اصل بات یہ ہے کہ جو لوگ آخرت کے منکر ہیں وہ جہالت اور نادانی سے کام لے رہے ہیں اور غور و فکر سے بات کی تہ تک پہنچنے کی کوشش ہی نہیں کرتے، جس کی وجہ سے وہ حق بات اور سیدھی راہ سے بہت دور نکل گئے ہیں اور اس راستے پر چل رہے ہیں جو انھیں سیدھا جہنم کے عذاب میں لے جانے والا ہے۔ الٹا سیدھی راہ پر چلنے والے کو جھوٹا یا دیوانہ بتا رہے ہیں۔
Ayah 34:9اَفَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ مِ۔۔ : فرمایا، آخرت کا انکار زمین و آسمان کی پیدائش میں غور و فکر نہ کرنے کا نتیجہ ہے، ورنہ اگر یہ اپنے آگے اور پیچھے چاروں طرف پھیلے ہوئے آسمان اور زمین کے پیدا کرنے پر غور کرتے، جن کی وسعت ان کے خیال سے بھی زیادہ ہے تو زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کے لیے انسان کو دوبارہ پیدا کرنے پر نہ تعجب کرتے، نہ اس کا انکار کرتے، کیونکہ آسمان و زمین کی پیدائش کے مقابلے میں ان کی تخلیق تو کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتی، جیسا کہ فرمایا : (ءانتم اشد خلقا ام السماء بنھا) [ النازعات : 27 ] ”کیا پیدا کرنے میں تم زیادہ مشکل ہو یا آسمان ؟ اس نے اسے بنایا۔“ اور فرمایا : (لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ) [ المؤمن : 57 ] ”یقیناً آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے سے زیادہ بڑا (کام) ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔“
اِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْاَرْضَ۔۔ : ”کسفا“ ”کِسْفَۃٌ“ کی جمع ہے، ٹکڑے۔ اس میں کفار کو ڈرایا ہے کہ یہی آسمان و زمین جن کو تم اپنے لیے نفع بخش اور زندگی کا سبب سمجھتے ہو، اللہ تعالیٰ چاہے تو انھی چیزوں کو تمہاری ہلاکت کا موجب بنا سکتا ہے۔ پھر وہ چاہے تو تمہیں اس زمین میں دھنسا دے، جیسے اس نے قارون کو دھنسا دیا، یا آسمان سے عذاب کے کچھ ٹکڑے گرا دے، جیسے اس نے اصحاب الایکہ کے ساتھ کیا۔
اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيْبٍ : یعنی جو شخص کسی قسم کا تعصّب یا ہٹ دھرمی نہ رکھتا ہو، بلکہ اخلاص کے ساتھ اپنے رب سے ہدایت کا طالب ہو اور اس کی طرف رجوع رکھتا ہو، اس کے لیے تو آسمان و زمین کے اس عظیم الشّان نظام میں بہت بڑا سبق موجود ہے کہ جس نے اتنا بڑا حکمت سے بھرا ہوا نظام بنایا ہے، وہ دوبارہ زندہ بھی کرسکتا ہے اور یہ بھی سبق ہے کہ اس کی عنایت اور اس کے فضل ہی سے ہم بچے ہوئے ہیں، ورنہ وہ ایک ہی لمحہ میں ہمیں ہلاک کرسکتا ہے۔ یہ زمین اس کی ہے اور آسمان بھی اسی کا ہے، پھر ہم بھاگ کر کہاں جاسکتے ہیں ؟ مگر جو اپنے رب کی طرف رجوع کے بجائے اس سے بغاوت اختیار کرچکا ہو، اس کے لیے یہ سب کچھ دیکھنے کے باوجود اس میں کوئی سبق نہیں۔
Ayah 34:10وَلَقَدْ اٰتَيْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا : ”فضلا“ پر تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”بڑا فضل“ کیا گیا ہے۔ پچھلی آیات کے ساتھ داؤد ؑ کے ذکر کی مناسبت یہ ہے کہ پچھلی آیت میں فرمایا کہ زمین و آسمان میں ہر اس بندے کے لیے عظیم نشانی اور عبرت ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا ہو۔ اب اپنے رجوع کرنے والے کچھ بندوں کا اور ان کے چند واقعات کا ذکر فرمایا، ان میں سے ایک داؤد ؑ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر بہت سی عنایات فرمائیں اور انھیں متعدّد قسم کی نعمتیں بخشیں۔ ان پر اللہ تعالیٰ کی چند عنایات کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے جو قرآن یا حدیث میں آئی ہیں۔
وہ بکریاں چرانے والے ایک عام نوجوان تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں کفار کے بادشاہ جالوت جیسے گراں ڈیل دشمن کو قتل کروا کر بنی اسرائیل کا محبوب بنادیا اور پھر ایسا عروج عطا فرمایا کہ وہ طالوت کی وفات کے بعد بنی اسرائیل کے بادشاہ بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے انھیں سلطنت کے ساتھ علم و حکمت بھی عطا فرمایا۔ (بقرہ : 251) انھیں نبوت بخشی اور زبور عطا فرمائی۔ (نساء : 163) انھیں زبردست قوت عطا فرمائی۔ (سورۂ ص : 17) انھیں اور ان کے بیٹے سلیمان ؑ کو خاص علم عطا فرمایا۔ (نمل : 15) انھیں پرندوں کی بولی سکھائی۔ (نمل : 16) انھیں توبہ وانابت کا وصف عطا فرمایا اور ان کی مغفرت فرمائی۔ (سورۂ ص : 24، 25) انھیں صحیح فیصلہ کرنے کی استعداد اور عدل کرنے کی توفیق بخشی۔ (انبیاء : 79۔ ص : 26) ان کے لیے لوہا نرم کردیا اور انھیں زرہیں بنانا سکھایا۔ (انبیاء : 80۔ سبا : 10، 11) انھیں نہایت خوب صورت آواز عطا فرمائی اور پہاڑوں اور پرندوں کو ان کے ساتھ تسبیح دہرانے کا حکم دیا۔ (انبیاء : 79۔ سبا : 10) ان کے لیے (زبور) پڑھنا ہلکا کردیا گیا تھا، چناچہ وہ گھوڑوں پر زین ڈالنے کا حکم دیتے اور ان پر زین ڈالنے سے پہلے اسے پڑھ لیتے تھے۔ [ دیکھیے بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ : (و آتینا داوٗد زبورا) : 3417 ] انھیں صوم و صلاۃ کی اور اس کے ساتھ جہاد فی سبیل اللہ میں استقامت کی وہ توفیق بخشی جس کی تفصیل رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائی کہ ”وہ رات کا نصف سو جاتے، پھر ایک ثلث قیام کرتے اور ایک سدس پھر سو جاتے تھے اور ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔“ [ أبوداوٗد، الصیام، باب في صوم یوم و فطر یوم : 2448، و قال الألباني صحیح ] اور آپ ﷺ نے فرمایا : ”جب دشمن سے مڈبھیڑ ہوتی تو (داؤد ؑ بھاگتے نہیں تھے۔“ [ بخاري، الصوم، باب صوم داوٗد ؑ : 1979، عن عبداللہ بن عمرو ؓ ] اور وہ صرف اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتے تھے۔ [ دیکھیے بخاري، البیوع، باب کسب الرجل و عملہ بیدہ : 2072 ] تلاش کرنے سے ان پر اللہ تعالیٰ کی مزید عنایات بھی مل سکتی ہیں۔
يٰجِبَالُ اَوِّبِيْ مَعَهٗ وَالطَّيْرَ : اس سے پہلے لفظ ”قُلْنَا“ (ہم نے کہا) محذوف ہے، جو خود بخود سمجھ میں آرہا ہے۔ ”اوبی“ ”آبَ یَؤُبُ أَوْبًا“ (ن) لوٹنا اور ”أَوَّبَ یُأَوِّبُ“ (تفعیل) لوٹانا، دہرانا۔ یعنی ہم نے پہاڑوں سے کہا کہ اے پہاڑو ! ان کے ساتھ تسبیح اور تلاوت کے کلمات دہراؤ اور اے پرندو ! تم بھی۔ گویا ”والطیر“ کا عطف ”جِبَالٌ“ کے محل پر ہے، اس لیے منصوب ہے، یا یہ ”سَخَّرْنَا لَہُ“ محذوف کا مفعول ہے، یعنی ہم نے ان کے لیے پرندے بھی تسبیح کرنے کے لیے مسخّر کردیے، جیسا کہ سورة ص میں فرمایا : (والطیر محشورۃً) [ ص : 19 ] ”اور پرندوں کو بھی (مسخّر کردیا) جب کہ وہ اکٹھے کیے ہوئے سب اس کے لیے بہت رجوع کرنے والے تھے۔“ پہاڑوں اور پرندوں کی تسبیح کا بیان سورة انبیاء (79) میں گزر چکا ہے۔
وَاَلَنَّا لَهُ الْحَدِيْدَ : داؤد ؑ کے لیے لوہا نرم کرنے کی کیفیت اکثر مفسرین نے یہ لکھی ہے کہ وہ اللہ کے حکم سے آگ میں پگھلائے بغیر ان کے ہاتھ میں موم یا گندھے ہوئے آٹے کی طرح ہوتا تھا۔ اگر ایسا ہو تو اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں، مگر یہ صرف قتادہ کا قول ہے، رسول اللہ ﷺ سے یہ بات ثابت نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے انھیں لوہا پگھلا کر نرم کرنے کا سلیقہ سکھا دیا ہو تو یہ بھی ”وَاَلَنَّا لَهُ الْحَدِيْدَ“ ہی ہے۔ آج کل کسی معجزے یا کرامت کے بغیر ہنر کی بدولت لوہا لوگوں کے ہاتھوں میں نرم ہوچکا ہے۔ داؤد ؑ کے لیے سب سے پہلے لوہے کی بھٹی ایجاد کرنے، اسے اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے اور سب سے پہلے زرہیں بنانے کا اور اس بات کا شرف بھی کچھ کم نہیں کہ بعد میں آنے والوں نے انھی سے یہ ہنر حاصل کیے۔ نیز دیکھیے سورة انبیاء (80)۔
Ayah 34:11اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ : ”سبغت“ کامل اور وسیع، یہ ”دُرُوْعٌ“ محذوف کی صفت ہے، یعنی ہم نے اس سے کہا کہ مکمل اور کشادہ زرہیں تیار کر، جو لڑنے والے کے پورے جسم کو صحیح طریقے سے ڈھانپ لیں اور اسے دشمن کے وار سے محفوظ رکھیں۔
وَّقَدِّرْ فِي السَّرْدِ : ”السرد“ کسی موٹی چیز کو سینا، پرونا، جیسے زرہ بننا، چمڑے کو سینا، یہاں لوہے کی کڑیوں کو ترتیب سے جوڑنا مراد ہے۔ (مفردات) کڑیاں جوڑنے میں اندازہ رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ چھوٹی بڑی نہ ہوں، نہ ایسی کھلی ہوں کہ جوڑ زیادہ حرکت کرتے رہیں، نہ اتنی تنگ ہوں یا کیل اتنے موٹے ہوں کہ آدمی انھیں پہن کر حرکت ہی نہ کرسکے۔ بلکہ ہر کڑی اور ہر جوڑ جسم میں اس کی جگہ درست بیٹھے اور آپس میں صحیح طریقے سے مرتب ہو۔
وَاعْمَلُوْا صَالِحًا : اس خطاب میں داؤد ؑ کی آل کو بھی شامل فرما لیا ہے، اس لیے ”اِعْمَلْ“ کے بجائے ”اعملوا“ فرمایا۔
انی بما تعملون بصیر : اس میں وعدہ بھی ہے اور وعید بھی، یعنی تم جو کچھ کر رہے ہو میں اسے خوب دیکھ رہا ہوں، صالح اعمال پر جزا دوں گا اور برے اعمال پر سزا دوں گا۔
Ayah 34:12وَلِسُلَيْمٰنَ الرِّيْحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ۔۔ : اللہ تعالیٰ کی طرف انابت کرنے والے بندوں میں سے داؤد ؑ کے بعد ان کے فرزند ارجمند سلیمان ؑ کا ذکر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ہوا کو مسخر کردیا۔ وہ ایک مہینے کی راہ دن کے پہلے پہر اور ایک مہینے کی راہ دن کے پچھلے پہر طے کرلیتی تھی۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اس زمانے میں بحری جہاز موافق ہواؤں کے ساتھ سفر کرتے تھے۔ آیت میں ”غُدُوٌّ“ سے مراد جانا ہے اور ”رَوَاحٌ“ سے مراد واپسی ہے اور مطلب یہ ہے کہ ایک ماہ تک موافق ہوا سلیمان ؑ کے پایۂ تخت سے مشرق کی طرف چلتی تھی، جس کے ذریعے سے ان کے بحری جہاز تجارتی اور دوسرے مقاصد کے لیے مشرق کی طرف روانہ ہوتے تھے، پھر ایک ماہ کے لیے واپسی کے سفر کے لیے مغرب کی طرف چلتی تھی جس سے وہ جہاز واپس فلسطین کی طرف آجاتے اور یہ مطلب ہے اس آیت کا : (تَجْرِيْ بِاَمْرِهٖٓ اِلَى الْاَرْضِ الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا ۭ وَكُنَّا بِكُلِّ شَيْءٍ عٰلِمِيْنَ) [ الأنبیاء : 81 ] ”اس کے حکم سے اس زمین کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے برکت رکھی اور ہم ہر چیز کو جاننے والے تھے۔“ یہ اور اس جیسی تفسیروں کی حقیقت کے لیے دیکھیے سورة انبیاء (81)۔
ان آیات کی تفسیر کرتے ہوئے یہ بات ذہن میں رہنا ضروری ہے کہ ان میں اس شخصیت کو عطا ہونے والی چیزوں کا ذکر ہے، جس نے یہ دعا کی تھی : (قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَهَبْ لِيْ مُلْكًا لَّا يَنْۢبَغِيْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِيْ ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ) [ صٓ : 35 ] ”اے میرے رب ! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی بادشاہی عطا فرماجو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو۔“ اور جس کی فوجوں کے ایک صاحب علم نے یمن سے آنکھ جھپکنے میں ملکہ سبا کا تخت لا حاضر کیا تھا۔ موجودہ زمانے میں جتنی ترقی ہوئی ہے، یا آئندہ ہوگی سلیمان ؑ کو عطا کردہ قوتوں کے مقابلے میں کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتی، پھر اگر ہوا ان کے حکم سے انھیں ایک ماہ کا سفر پہلے پہر اور ایک ماہ کا سفر پچھلے پہر میں طے کروا دے تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔ رہی اس کی کیفیت کہ ہوا انھیں یہ فاصلہ کیسے طے کرواتی تھی تو وہ اللہ تعالیٰ نے بیان نہیں فرمائی اور جو بات معلوم نہ ہو اس کے متعلق تکلّف نہیں کرنا چاہیے۔ سورة ص میں فرمایا : (قُلْ مَآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِيْنَ) [ ص : 86 ] ”کہہ دے میں تم سے اس پر کوئی اجرت نہیں مانگتا اور نہ میں بناوٹ کرنے والوں سے ہوں۔“ مزید دیکھیے سورة انبیاء (81)۔
وَاَسَلْنَا لَهٗ عَيْنَ الْقِطْرِ : ”سَالَ یَسِیْلُ سَیْلًا“ (ض) بہنا۔ ”أَسَالَ یُسِیْلُ إِسَالَۃً“ (افعال) بہانا، جاری کرنا۔ ”اَسَلْنَا“ باب افعال کے ماضی معلوم سے جمع متکلم کا صیغہ ہے۔ داؤد ؑ کے لیے لوہا نرم کردیا، سلیمان ؑ کو وہ نعمت وراثت میں ملی، مزید ان کے لیے تانبے کا چشمہ جاری کردیا، تاکہ وہ انھیں وافر مقدار میں دستیاب رہے اور ان کے زیر فرمان انسان اور جنّ اس سے ان کی اور ان کی افواج کی ضرورت کی ہر چیز، مثلاً ہر قسم کے چھوٹے بڑے برتن اور گھروں کے اندر اور باہر استعمال ہونے والا سامان تیار کرتے رہیں۔ ایک اخبار کے مطابق اب بھی اسرائیل میں یہودی تانبے کے اس مقام کی تلاش میں ہیں۔
وَمِنَ الْجِنِّ مَنْ يَّعْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ بِاِذْنِ رَبِّهٖ : سورة انبیاء میں ان جنّات کا تذکرہ ”شیاطین“ کے لفظ سے کیا گیا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ سورة انبیاء میں مذکورہ شیاطین سے مراد انسانی شیاطین نہیں، بلکہ جنّی شیاطین ہیں۔ وہ جنّات جو کام کرتے تھے ان کا تذکرہ اس مقام کے علاوہ سورة انبیاء (82) اور سورة ص (37، 38) میں ملاحظہ کریں۔
وَمَنْ يَّزِغْ مِنْهُمْ عَنْ اَمْرِنَا۔۔ : اس کی تفسیر سورة انبیاء (82) میں ملاحظہ کریں۔
Ayah 34:13يَعْمَلُوْنَ لَهٗ مَا يَشَاۗءُ مِنْ مَّحَارِيْبَ :”مَّحَارِيْبَ“ ”مِحْرَابٌ“ کی جمع ہے، یہ ”حَرْبٌ“ سے ”مِفْعَالٌ“ کے وزن پر ہے، جو آلہ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اصل معنی اس کا جنگ کا آلہ یا ہتھیار ہے، پھر یہ لفظ کئی معانی میں استعمال ہونے لگا، جن سب معانی میں کسی نہ کسی طرح جنگ کا مفہوم شامل ہے۔ چناچہ قلعہ اور بڑی عالی شان عمارت کو بھی ”محراب“ کہتے ہیں، کیونکہ اس میں رہ کر دشمن سے جنگ کی جاتی ہے۔ عبادت کے لیے خاص کمرے کو بھی ”محراب“ کہتے ہیں، کیونکہ وہ شیطان سے جنگ میں مددگار ہے، جیسا کہ زکریا ؑ کے متعلق فرمایا : (فَنَادَتْهُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ وَھُوَ قَاۗىِٕمٌ يُّصَلِّيْ فِي الْمِحْرَابِ) [ آل عمران : 39 ] ”تو فرشتوں نے اسے آواز دی، جب کہ وہ عبادت خانے میں کھڑا نماز پڑھ رہا تھا۔“ داؤد ؑ کی عبادت کے لیے مخصوص جگہ کو بھی ”محراب“ کہا گیا ہے، فرمایا : (وَهَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِ ۘ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَ) [ ص : 21 ] ”اور کیا تیرے پاس جھگڑنے والوں کی خبر آئی ہے، جب وہ دیوار پھاند کر عبادت خانے میں آگئے۔“
سلیمان ؑ کی سیرت میں سب سے نمایاں وصف جہاد ہے، اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے انھیں انسانوں، جنوں اور پرندوں کی فوجیں عطا فرما رکھی تھیں۔ جنگی ضروریات کی تیاری اور فراہمی سے انھیں خاص دلچسپی تھی، چناچہ گھوڑوں کی دوڑ کروانے کے بعد ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر محبت سے ہاتھ پھیرنے کا ذکر سورة ص (30 تا 33) میں ہے۔ یہ سن کر کہ زمین کے کسی خطے پر شرک کا غلبہ اور مشرک عورت کی حکومت ہے، فوراً جہاد کے لیے تیار ہوجانے کا ذکر ملکہ سبا کے قصے میں ہے۔ (دیکھیے سورة نمل) ظاہر ہے اس کے لیے ہر قسم کا جنگی سازو سامان تیار کرنا ضروری تھا، اسے ذخیرہ کرنے کے لیے بڑی بڑی عمارتوں کی ضرورت تھی، دشمن کے علاقے میں پیش قدمی، اس پر حملے اور جنگ کے لیے ان شہروں کے نقشے اور اہم عمارتوں کے ماڈل بہم پہنچانا ضروری تھا۔ بڑی تعداد میں فوجوں کے لیے کھانا پکانے، تقسیم کرنے اور اس کے لیے برتن مہیا کرنے کا کام بہت بڑا کام تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام کاموں کے لیے انسانوں اور پرندوں کے علاوہ جنوں کو بھی سلیمان ؑ کے تابع کردیا۔ اگر ان میں سے کوئی ان کے حکم سے سرتابی کرتا، تو اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آگ کے شعلوں کے ساتھ سزا دی جاتی تھی۔ چناچہ وہ ان کی جنگی ضروریات کے لیے دور دراز سے ہر قسم کا عمارتی سامان پتھر، مرمر، لکڑی اور لوہا وغیرہ مہیا کرتے اور ان کے ساتھ بڑی بڑی عمارتیں تعمیر کرتے۔ ان عمارتوں میں مسجد اقصیٰ کی عمارت بھی شامل تھی۔
وَتَمَاثِيْلَ : یہ ”تِمْثَالٌ“ کی جمع ہے، کسی دوسری چیز کی مثل جو چیز بنائی جائے، خواہ جان دار کی ہو یا بےجان کی، ماڈل اور مجسّمہ کی شکل میں ہو، یا کاغذ پر تصویر کی شکل میں ہو۔ جنّات سلیمان ؑ کے لیے کس قسم کی تماثیل بناتے تھے، رسول اللہ ﷺ سے اس کی تفصیل نہیں آئی، بعض مفسرین نے اس کی تفصیل میں جو جان دار اشیاء، مثلاً شیر، چیتے وغیرہ کی تصاویر یا مجسّمے بنانے کا ذکر کیا ہے، وہ ان کی سنی سنائی بات ہے، کیونکہ نہ انھوں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے نقل کی ہے، نہ وہ سلیمان ؑ کے ساتھ رہے ہیں اور نہ اپنی معلومات کا ذریعہ بتاتے ہیں، جو سلیمان ؑ تک پہنچتا ہو۔
آیت کے الفاظ یہ ہیں کہ جنات سلیمان ؑ کے حکم سے وہ محاریب اور تماثیل بناتے تھے جو وہ چاہتے تھے۔ ظاہر ہے اللہ کا اتنا جلیل القدر پیغمبر شیروں، ہاتھیوں اور چیتوں یا انسانوں کے لاحاصل مجسّمے بنوائے، ممکن ہی نہیں، خصوصاً اس لیے کہ وہ جس تورات کے احکام پر عامل تھے اس میں جان دار اشیاء کی مورتیاں بنانا حرام تھا۔ حرمت کا یہ حکم اب بھی تورات میں متعدد مقامات پر موجود ہے : ”تو اپنے لیے کوئی تراشی ہوئی مورت نہ بنانا، نہ کسی چیز کی صورت بنانا جو اوپر آسمان میں یا نیچے زمین پر یا زمین کے نیچے پانی میں ہے۔“ (خروج، باب : 20، آیت : 4) اور ایک جگہ ہے : ”تم اپنے لیے بت نہ بنانا اور نہ کوئی تراشی ہوئی مورت یا لاٹ اپنے لیے کھڑی کرنا اور نہ ملک میں کوئی شبیہ دار پتھر رکھنا کہ اسے سجدہ کرو، اس لیے کہ میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔“ (احبار، باب : 26، آیت 1) ایک اور جگہ ہے : ”تانہ ہو کہ تم بگڑ کر کسی شکل یا صورت کی کھودی ہوئی مورت اپنے لیے بنا لو، جس کی شبیہ کسی مرد یا عورت یا زمین کے کسی حیوان یا ہوا میں اڑنے والے پرندے یا زمین کے رینگنے والے جان دار یا مچھلی سے جو زمین کے نیچے پانی میں رہتی ہو، ملتی ہو۔“ (استثناء، باب : 4، آیت : 16 تا 18)۔
تورات کی ان صریح آیات سے واضح ہے کہ سلیمان ؑ کی طرف جان دار اشیاء کے مجسّمے بنانے کی نسبت ان پر بہتان ہے، جو اسی طرح ان پر لگایا گیا ہے جیسے ان پر جادوگر ہونے کا یا بیویوں کے عشق میں مبتلا ہو کر بت پرستی کا بہتان لگایا گیا ہے، حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمبر تھے اور تورات کے احکام پر پوری طرح عامل تھے۔ اس لیے آیت کا مطلب یہی ہے کہ سلیمان ؑ جو عمارت بنوانا چاہتے یا جن علاقوں کے نقشے یا عمارتوں کے ماڈل بنوانا چاہتے تھے، جنّات ان کے حکم سے تیار کردیتے تھے۔ اس آیت سے جان دار اشیاء کی تصاویر یا مجسّموں کا جواز نکالنا ہرگز درست نہیں، کیونکہ ان کی حرمت متفق علیہ مسئلہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے جان دار اشیاء کی تصاویر کی صریح حرمت اور ان پر وعید کے لیے صحیح بخاری اور دوسری کتب احادیث کا مطالعہ فرمائیں۔ اختصار کے پیش نظر انھیں یہاں نقل نہیں کیا گیا۔
وَجِفَانٍ كَالْجَــوَابِ وَقُدُوْرٍ رّٰسِيٰتٍ : ”وَجِفَانٍ“ ”جَفْنَۃٌ“ کی جمع ہے، کھانے کا بڑا برتن، لگن، تھال۔ ”اَلْجَوَابِ“ اصل میں ”اَلْجَوَابِيْ“ ہے جو ”جَابِیَۃٌ“ کی جمع ہے ”حوض“۔ ”قُدُوْرٍ“ ”قِدْرٌ“ کی جمع ہے، ہانڈی، دیگ۔ ”رّٰسِيٰتٍ“ ”رَسَا یَرْسُوْ“ سے اسم فاعل مؤنث ”رَاسِیَۃٌ“ کی جمع ہے۔ قرآن میں پہاڑوں کو ”رّٰسِيٰتٍ“ کہا گیا ہے، زمین میں گڑے ہوئے۔ سلیمان ؑ کی فوجوں کی کثرت کے پیش نظر عام دیگیں جتنی بھی ہوں کافی نہیں تھیں، نہ چھوٹے چھوٹے برتن کھانا کھلانے کے لیے کافی تھے، اس لیے جنّات سلیمان ؑ کے لیے ان کی خواہش کے مطابق پکانے کے لیے تانبے وغیرہ کی یا پہاڑوں کو تراش کر پتھر کی اتنی بڑی بڑی دیگیں تیار کرتے تھے جو ایک ہی جگہ جمی رہتیں۔ انھیں اٹھا کر دوسری جگہ لے جایا نہیں جاسکتا تھا۔ ان میں سے ہر دیگ میں ہزاروں آدمیوں کا کھانا پکتا تھا اور مجاہدین کو اجتماعی طور پر کھانا کھلانے کے لیے جنّات سلیمان ؑ کی حسب منشا اتنے بڑے بڑے لگن یا تھال بناتے تھے جو حوضوں کی طرح لمبے چوڑے ہوتے، جن پر ایک وقت میں بہت سے آدمی کھانا کھالیتے تھے۔
ایک ہی برتن میں بہت سے آدمیوں کے کھانا کھانے کا یہ معمول ہمارے نبی کریم ﷺ کے ہاں بھی موجود تھا۔ عبداللہ بن بسر ؓ بیان کرتے ہیں : (کَان للنَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَصْعَۃٌ یَحْمِلُہَا أَرْبَعَۃُ رِجَالٍ یُقَالُ لَہَا الْغَرَّاءُ فَلَمَّا أَضْحَوْا وَسَجَدُوا الضُّحٰی أُتِيَ بِتِلْکَ الْقَصْعَۃِ یَعْنِيْ وَقَدْ ثُرِدَ فِیْہَا فَالْتَفُّوْا عَلَیْہَا فَلَمَّا کَثُرُوْا جَثَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ مَا ہٰذِہِ الْجِلْسَۃُ ؟ قَال النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی جَعَلَنِيْ عَبْدًا کَرِیْمًا وَلَمْ یَجْعَلْنِيْ جَبَّارًا عَنِیْدًا ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ کُلُوْا مِنْ حَوَالَیْہَا وَ دَعُوْا ذِرْوَتَہَا یُبَارَکْ فِیْہَا) [ أبو داوٗد، الأطعمۃ، باب ما جاء في الأکل من أعلی الصحفۃ : 3773، قال الألباني صحیح ] ”رسول اللہ ﷺ کا ایک لگن یا تھال تھا، جسے چار آدمی اٹھاتے تھے، اسے ”غراء“ کہتے تھے۔ جب ضحی ہوئی اور لوگوں نے ضحی کی نماز پڑھ لی تو وہ لگن لایا گیا، اس میں گوشت کے سالن میں روٹی بھگو کر ثرید بنایا گیا تھا۔ لوگ اس کے گرد بیٹھ گئے، جب لوگ زیادہ ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ گھٹنوں کے بل ہوگئے، ایک اعرابی نے کہا : ”یہ کیا بیٹھنے کا طریقہ ہے ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ نے مجھے کریم بندہ بنایا ہے، بدبخت و سرکش نہیں بنایا۔“ پھر فرمایا : ”اس کے اردگرد سے کھاؤ، درمیان کو چھوڑے رکھو کہ اس میں برکت ہو۔“ ظاہر ہے جس برتن کو چار آدمی اٹھائیں، اس میں سو دو سو آدمیوں کا کھانا تو ضرور ہوگا اور جو برتن حوض جیسا کھلا ہو، اس میں سے کھانے والوں کا اندازہ آپ خود لگا لیں۔ سلیمان ؑ کے لیے جنوں کے ان کاموں کے بیان کا مقصد ان کی سلطنت کی وسعت، جہاد کے لیے ان کی افواج کی کثرت، ان کی وسعت قلب، سخاوت اور انسانوں کے علاوہ جنّات پر ان کی ہیبت کا بیان ہے کہ یہ سب کچھ ان پر اللہ تعالیٰ کا خاص انعام تھا۔
اِعْمَلُوْٓا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًا : ”اِعْمَلُوْٓا“ سے پہلے ”قُلْنَا“ اور ”اٰلَ دَاوٗدَ“ سے پہلے حرف ندا ”یَا“ محذوف ہے، جس کی وجہ سے ”ال“ کا لفظ منصوب ہے۔ ”اِعْمَلُوْٓا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًا“ مفعول لہ ہے۔ آل داؤد میں ان کے گھر والوں کے ساتھ وہ خود بھی شامل ہیں، یعنی ہم نے کہا، اے داؤد کے گھر والو ! شکر ادا کرنے کے لیے عمل کرو۔ معلوم ہوا آدمی پر اللہ تعالیٰ کے انعام جتنے زیادہ ہوں، اسے اتنی ہی زیادہ اعمال صالحہ کی کوشش کرنی چاہیے۔ مغیرہ بن شعبہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ یقیناً نماز کے لیے اتنا قیام کرتے کہ آپ کے دونوں پاؤں، یا (یہ کہا کہ) آپ کی دونوں پنڈلیوں پر ورم آجاتا، جب آپ ﷺ سے (اس بارے میں) کہا جاتا تو فرماتے : (أَفَلَا أَکُوْنُ عَبْدًا شَکُوْرًا ؟) ”تو کیا میں پورا شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟“ [ بخاري، التہجد، باب قیام النبي ﷺ اللیل : 1130 ] داؤد ؑ کی نماز، ان کے روزوں اور جہاد کا تذکرہ اس سورت کی آیت (10) میں گزر چکا ہے۔
وَقَلِيْلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُوْرُ : ”الشَّكُوْرُ“ مبالغے کا صیغہ ہے، اس لیے ترجمہ ”پورے شکر گزار“ کیا ہے۔ اس میں ترغیب ہے کہ تم بھی میرے ان قلیل بندوں میں شامل ہونے کی کوشش کرو جو پورے شکر گزار ہیں۔
Ayah 34:14فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ۔۔ : ”دَاۗبَّةُ الْاَرْضِ“ دیمک۔ ”تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ“ ”تَبَیَّنَ یَتَبَیَّنُ“ (تفعّل) کا معنی واضح طور پر جان لینا بھی ہے اور کسی چیز کا واضح ہوجانا اور کھل کر سامنے آجانا بھی ہے، جیسا کہ شاعر نے کہا ہے
إِذَا اشْتَبَکَتْ دُمُوْعٌ فِيْ خُدُوْدٍ
تَبَیَّنَ مَنْ بَکٰی مِمَّنْ تَبَاکٰی
”جب رخساروں میں آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی تو وہ لوگ صاف ظاہر ہوگئے جو رو رہے تھے، ان لوگوں سے جو رونے کی نمائش کر رہے تھے۔“
3 اللہ تعالیٰ نے سلیمان ؑ کو عطا کردہ عظیم سلطنت، علمی کمالات اور ہوا اور جنوں کی تسخیر وغیرہ کے بیان کے بعد ان کی موت کا تذکرہ فرمایا ہے، یہ بتانے کے لیے کہ موت سے کوئی نہیں بچ سکتا، اگر اس سے کوئی بچتا تو سلیمان ؑ ضرور بچ جاتے، جن کے پاس اتنی عظیم قوتیں تھیں۔
3 سلیمان ؑ کے زمانے میں بہت سے لوگ سمجھتے تھے کہ جنّات غیب جانتے ہیں، جیسا کہ آج کل بھی اکثر لوگوں کا یہی حال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جنوں کے علم غیب کی حقیقت واضح کرنے کے لیے ایک عجیب طریقہ اختیار فرمایا، وہ یہ کہ سلیمان ؑ کی وفات اس حال میں ہوئی کہ وہ اپنی لاٹھی پر ٹیک لگا کر کھڑے تھے۔ جنّات ان کاموں میں مصروف تھے جن کا حکم انھیں سلیمان ؑ نے دے رکھا تھا، انھیں معلوم نہیں ہوسکا کہ سلیمان ؑ فوت ہوچکے ہیں اور وہ بدستور کام میں جتے رہے۔ دیمک ان کی لاٹھی کو اندر سے کھاتی رہی، جب لاٹھی اندر سے کھوکھلی ہوگئی اور سلیمان ؑ کا بوجھ برداشت نہ کرسکی تو وہ گرپڑے۔ تب جا کر لوگوں اور جنوں کو ان کی وفات کا پتا چلا۔ اس واقعہ سے تمام لوگوں کے سامنے جنوں کی حقیقت کھل گئی کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو ذلیل کرنے والے عذاب میں مبتلا نہ رہتے۔
3 اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ سلیمان ؑ کے تابع جنوں اور شیاطین سے سرکش انسانی قبائل مراد نہیں، کیونکہ ان کے متعلق کوئی بھی علم غیب کا قائل نہیں، نہ خود انھیں اس کا دعویٰ ہوسکتا ہے، بلکہ یہ حقیقی جنّ و شیاطین تھے۔
3 اکثر تفاسیر میں لکھا ہے کہ سلیمان ؑ وفات کے بعد لاٹھی کے سہارے ایک سال تک کھڑے رہے۔ بعض حضرات نے یہ بیان کیا ہے کہ سلیمان ؑ نے جنوں کو حکم دے کر شیشے کا ایک مکان بنوایا اور اس میں لاٹھی کے سہارے کھڑے ہوگئے۔ اسی حالت میں ان کی وفات ہوگئی۔ جنّات ان کو ایک سال تک لاٹھی کے سہارے کھڑے دیکھتے رہے اور انھیں زندہ سمجھ کر ان کی ہیبت کی وجہ سے ان کی بتائی ہوئی تعمیرات اور دوسرے کام کرتے رہے۔ مگر ایک سال تک اس طرح کھڑے رہنے پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ سلیمان ؑ نے پورا سال نہ کچھ کھایا، نہ پیا، نہ لباس بدلا، نہ نماز پڑھی یا جماعت کروائی، نہ کسی خدمت گار کے دل میں کوئی فکر پیدا ہوئی، جو ہر روز ان کے لیے ان کاموں کا اہتمام کرتے تھے، نہ امور سلطنت کے متعلق کسی نے ان سے پوچھنے کی ضرورت محسوس کی۔ آیا یہ ممکن بھی ہے ؟ میں نے بہت سی تفسیروں کا مطالعہ کیا، مگر انھوں نے اس سوال کی طرف توجہ نہیں فرمائی۔ بعض مفسرین نے اسے استعارہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ لاٹھی کو دیمک کے کھانے کا مطلب ان کی سلطنت کا اندرونی طور پر آہستہ آہستہ کمزور ہونا ہے وغیرہ، مگر آیت کے الفاظ اس کا ساتھ نہیں دیتے۔
علامہ مراغی نے اس کا اچھا حل بیان کیا ہے، وہ فرماتے ہیں : ”وَالْکِتَابُ الْکَرِیْمُ لَمْ یُحَدِّدِ الْمُدَّۃَ الَّتِيْ قَضَاھَا سُلَیْمَانُ وَھُوَ مُتَوَکِّئٌ عَلٰی عَصَاہُ حَتّٰی عَلِمَ الْجِنُّ بِمَوْتِہِ ، وَقَدْ رَوَی الْقَصَّاصُوْنَ أَنَّھَا کَانَتْ سَنَۃً ، وَ مِثْلُ ھٰذَا لَا یَنْبَغِي الرُّکُوْنُ إِلَیْہِ ، فَلَیْسَ مِنَ الْجَاءِزِ أَنَّ خَدَمَ سُلَیْمَانَ لَا یَتَنَبَّھُوْنَ إِلَی الْقِیَامِ بِوَاجِبَاتِہِ الْمَعِیْشِیَّۃِ مِنْ مَأْکَلٍ وَ مَشْرَبٍ وَ مَلْبَسٍ وَ نَحْوِھَا یَوْمًا کَامِلًا دُوْنَ أَنْ یُّحَادِثُوْہُ فِيْ ذٰلِکَ وَ یَطَّلِبُوْا إِلَیْہِ الْقِیَامَ بِخِدْمَتِہِ ، فَالْمَعْقُوْلُ أَنَّ الْأَرْضَۃَ بَدَأَتِ الْعَصَا وَ سُلَیْمَانُ لَمْ یَتَنَبَّہْ لِذٰلِکَ ، وَ بَیْنَمَا ھُوَ مُتَوَکِّئٌ عَلَیْھَا حَانَتْ مَنِیَّتُہُ ، وَکَانَتِ الْأَرَضَۃُ قَدْ فَعَلَتْ فِعْلَھَا فِي الْعَصَا فَانْکَسَرَتْ فَخَرَّ عَلَی الْأَرْضِ فَعَلِمَتِ الْجِنُّ کِذْبَھَا، إِذْ کَانَتْ تَدَّعِيْ أَنَّھَا تَعْلَمُ الْغَیْبَ ، إِذْ لَوْ عَلِمَتْہُ مَا لَبِثَتْ تُرْھِقُ نَفْسَھَا فِيْ شَاقِّ الْأَعْمَالِ الَّتِيْ کُلِّفَتْ بِھَا“ ”قرآن کریم نے اس مدت کی تعیین نہیں فرمائی جو سلیمان ؑ نے جنوّں کو ان کی موت کا علم ہونے تک لاٹھی پر ٹیک لگانے کی حالت میں گزاری۔ قصہ گو حضرات نے بیان کیا ہے کہ وہ ایک سال تھی مگر ایسی بات قابل توجہ نہیں ہے، کیونکہ یہ نہیں ہوسکتا کہ سلیمان ؑ کی خدمت کرنے والوں کا پورا ایک دن ان کی معاشی ضروریات یعنی کھانے پینے اور لباس وغیرہ کی طرف خیال ہی نہ جائے، نہ وہ ان سے اس کے بارے میں بات کریں، نہ ان کی خدمت سرانجام دینے کا تقاضا کریں (سال تو بہت دور کی بات ہے)۔ اس لیے معقول بات یہ ہے کہ دیمک پہلے ہی لاٹھی میں لگ چکی تھی، سلیمان ؑ کو اس کی خبر نہیں ہوئی۔ وہ اس پر ٹیک لگائے ہوئے تھے کہ ان کی موت کا وقت آگیا، جب کہ دیمک لاٹھی کے اندر اپنا کام کرچکی تھی۔ چناچہ وہ ٹوٹ گئی اور سلیمان ؑ زمین پر گرگئے تو جنوّں کو اپنا جھوٹ معلوم ہوگیا، کیونکہ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ غیب جانتے ہیں، اس لیے کہ اگر وہ اسے جانتے ہوتے تو ان مشقت والے کاموں میں اپنی جان نہ مارتے رہتے جن کی انھیں تکلیف دی گئی تھی۔“
مراغی کی رائے اس لیے بھی مضبوط ہے کہ ایک سال کی مدت کی کوئی روایت رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہیں، محض اسرائیلی روایات ہیں، جن کا یہ درجہ بھی نہیں کہ انھیں ”لَا نُصَدِّقُ وَلَا نُکَذِّبُ“ کہا جاسکے، بلکہ سب صریح عقل کے خلاف ہونے کی وجہ سے مردود ہیں۔ ابن کثیر ؓ نے ایک سال مدت بیان کرنے کے باوجود ان روایات کو اسرائیلیات قرار دیا ہے اور مرفوع روایت کو غریب اور ”فِيْ صِحَّتِہِ نَظْرٌ“ فرمایا ہے اور فی الواقع وہ روایت غیر ثابت ہے۔
Ayah 34:15لَقَدْ كَانَ لِسَـبَاٍ فِيْ مَسْكَنِهِمْ اٰيَةٌ : اللہ تعالیٰ نے داؤد اور سلیمان ؑ کے ذکر کے بعد، جو انابت و رجوع والے شکر گزار بندے تھے، قوم سبا کا ذکر فرمایا، جنھیں اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کی نعمتیں دیں، مگر انھوں نے ان نعمتوں کی ناشکری کی، انابت کے بجائے اعراض اور سرکشی اختیار کی، اپنے رسولوں کو اور آخرت کو جھٹلا دیا، جس کے نتیجے میں ان پر عذاب آیا اور ساری خوش حالی ختم ہوگئی۔ اس میں قریش کے لیے بھی نصیحت تھی، جنھیں بیت اللہ کی وجہ سے ہر طرح کی نعمت و راحت میسر تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول کو جھٹلایا تو قوم سبا کی طرح ان کی وہ خوش حالی اور امن و سکون ختم ہوگیا، جیسا کہ فرمایا : (وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَىِٕنَّةً يَّاْتِيْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ وَلَقَدْ جَاۗءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْهُمْ فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَهُمْ ظٰلِمُوْنَ) [ النحل : 112، 113 ] ”اور اللہ نے ایک بستی کی مثال بیان کی جو امن والی، اطمینان والی تھی، اس کے پاس اس کا رزق کھلا ہر جگہ سے آتا تھا، تو اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے اسے بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا، اس کے بدلے جو وہ کیا کرتے تھے۔ اور بلاشبہ یقیناً ان کے پاس انھی میں سے ایک رسول آیا تو انھوں نے اسے جھٹلا دیا، تو انھیں عذاب نے اس حال میں پکڑ لیا کہ وہ ظالم تھے۔“ سلیمان ؑ کے ذکر کے ساتھ سبا کے ذکر کا ایک اور تعلق بھی ہے جو سورة نمل میں مذکور سلیمان ؑ اور ملکہ سبا کے قصے سے ظاہر ہے۔
3 سبا سے مراد قوم ہے جس کا باپ سبا نامی شخص تھا۔ (دیکھیے سورة نمل : 22) پھر ملک کا نام بھی یہی پڑگیا۔
فِيْ مَسْكَنِهِمْ : یہ علاقہ آج کل یمن کے نام سے معروف ہے۔
اٰيَةٌ : یعنی ان کے لیے ان کے ملک میں بہت بڑی نشانی تھی، جس سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، اس کی قدرت اور کاری گری کا اظہار ہوتا تھا اور جسے دیکھ کر معلوم ہوتا تھا کہ ایسے مالک کا شکر اور اس کی اطاعت واجب ہے اور اس کی ناشکری اور نافرمانی سے پرہیز لازم ہے۔
جَنَّتٰنِ عَنْ يَّمِيْنٍ وَّ شِمَالٍ : یہ اس نشانی کی تفصیل ہے۔ سبا کی عمارتوں کا ذکر کرتے ہوئے ”ارض القرآن“ کے مصنف نے لکھا ہے : ”اسی سلسلۂ عمارت میں ایک چیز ”بند مآرب“ ہے، جس کو عرب حجاز ”سد“ اور عرب یمن ”عرم“ کہتے ہیں۔ عرب کے ملک میں کوئی دائمی دریا نہیں، پانی پہاڑوں سے بہ کر ریگستانوں میں خشک اور ضائع ہوجاتا ہے، زراعت کے مصرف میں نہیں آتا۔ ”سبا“ مختلف مناسب موقعوں پر پہاڑوں اور وادیوں کے بیچ میں بڑے بڑے بند باندھ دیتے تھے کہ پانی رک جائے اور بقدر ضرورت زراعت کے کام میں آئے۔ مملکت سبا میں اس طرح کے سیکڑوں بند تھے، ان میں سب سے زیادہ مشہور ”سد مآرب“ ہے، جو ان کے دار الحکومت ”مارب“ میں واقع تھا۔ شہر مارب کے جنوب میں دائیں بائیں دو پہاڑ ہیں، سبا نے ان دو پہاڑوں کے بیچ میں تقریباً 800 ق م میں ”سد مارب“ کی تعمیر کی تھی۔ یہ بند تقریباً ایک سو پچاس فٹ لمبی اور پچاس فٹ چوڑی ایک دیوار ہے۔ اس کا اکثر حصہ تو اب افتادہ ہے، تاہم ایک ثلث دیوار اب بھی باقی ہے۔ ”ارناڈ“ ایک یورپی سیاح نے اس کے موجودہ حالات پر ایک مضمون فرنچ ایشیا ٹک سوسائٹی کے جرنل (رسالے) میں لکھا ہے، اس کا موجودہ نقشہ نہایت عمدگی سے تیار کیا ہے، اس دیوار پر جا بجا کتبات ہیں، وہ بھی پڑھے گئے۔ اس سد میں اوپر نیچے بہت سی کھڑکیاں تھیں جو حسب ضرورت کھولی اور بند کی جاسکتی تھیں۔ ”سد“ کے دائیں بائیں، مشرق و مغرب میں دو بڑے بڑے دروازے تھے، جن سے پانی تقسیم ہو کر چپ و راست کی زمینوں کو سیراب کرتا تھا۔ اس نظام آب رسانی سے چپ و راست دونوں جانب اس ریگستانی اور شور ملک کے اندر سیکڑوں کوس تک بہشت زار تیار ہوگئی تھی، جس میں انواع و اقسام کے میوے اور خوشبودار درخت تھے۔ قرآن کریم ”ۚ جَنَّتٰنِ عَنْ يَّمِيْنٍ وَّ شِمَالٍ“ کہہ کر انھی باغوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔“ (ارض القرآن) دائیں اور بائیں دو باغوں کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ ہر گھر اور ہر گلی کے دائیں بائیں، یعنی ہر طرف باغ ہی باغ تھے۔
كُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَاشْكُرُوْا لَهٗ : یعنی ہم نے اپنے رسولوں اور صالح بندوں کی زبانی ان سے یہ بات کہی، یا اللہ تعالیٰ کی بیشمار نعمتوں اور دائیں بائیں کے ان باغات اور کھیتوں کا ان سے تقاضا یہ تھا۔
بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ : ”طیب“ ہر چیز میں سے اعلیٰ کو کہتے ہیں۔ ”بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ“ سے مراد زرخیز اور عمدہ آب و ہوا والی زمین ہے، اس کے مقابلے میں بنجر، شور اور خراب آب و ہوا والی زمین کے لیے ”خبیث“ کا لفظ استعمال ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَالْبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖ ۚ وَالَّذِيْ خَبُثَ لَا يَخْرُجُ اِلَّا نَكِدًا) [ الأعراف : 58 ] ”اور جو شہر پاکیزہ ہے اس کی کھیتی اس کے رب کے حکم سے نکلتی ہے اور جو خراب ہے (اس کی کھیتی) ناقص کے سوا نہیں نکلتی۔“
وَّرَبٌّ غَفُوْرٌ : یعنی اگر توحید پر قائم رہو گے، انبیاء کی اطاعت کرو گے اور انابت و رجوع کو اپنا شیوہ بناؤ گے تو اس خوش حالی کے ساتھ اپنے رب کو بھی اپنے لیے مہربان پاؤ گے، جو تمہاری کوتاہیوں پر پردہ ڈالے گا، اس طرح دنیا و آخرت دونوں تمہاری ہوں گی۔
Ayah 34:16فَاَعْرَضُوْا : یعنی انھوں نے انابت و رجوع کے بجائے اعراض اور سرکشی کو اور بندگی اور شکرگزاری کے بجائے کفر اور ناشکری کو اختیار کیا اور پیغمبروں اور نیکی کا حکم کرنے والوں کی نصیحتوں سے منہ موڑ لیا۔
فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ سَيْلَ الْعَرِمِ : ”الْعَرِمِ“ ”عَرِمَۃٌ“ کی جمع ہے، تہ بہ تہ پتھر، مراد پتھروں کا بنا ہوا بند ہے۔ یعنی ان کی سرکشی اور اعراض کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان پر بند کا سیلاب بھیجا۔ زور دار مسلسل بارشوں سے اتنا پانی جمع ہوا کہ اس کے سامنے بند ٹھہر نہ سکا اور ٹوٹ پھوٹ گیا۔ پانی کی شدت اتنی تھی کہ باقی بند بھی ٹوٹتے چلے گئے اور سارا قابل کاشت علاقہ زیر آب آگیا۔ پانی کے ریلے سے باغ اور کھیت ہی تباہ نہیں ہوئے بلکہ زمین بھی کٹاؤ کا شکار ہوگئی اور اس کی زرخیز تہ اتر گئی۔ بند اور نہریں ختم ہونے سے آئندہ کے لیے زمین کی سیرابی کا ذریعہ ختم ہوگیا۔ جہاں کبھی پانی کی فراوانی تھی وہاں لوگ پینے کے پانی کو بھی ترسنے لگے۔ سیلاب میں اکثر لوگ اور ان کے مال مویشی غرق ہوگئے، جو بچے وہ جان بچا کر مختلف ملکوں کی طرف نکل گئے اور ایسے بکھرے کہ ان کا بکھرنا عربی زبان کا ایک محاورہ بن گیا، چناچہ کہا جانے لگا کہ فلاں قوم ”سبا“ کی طرح بکھر گئی۔
وَبَدَّلْنٰهُمْ بِجَنَّتَيْهِمْ جَنَّتَيْنِ۔۔ : ”ذَوَاتَىْ“ یہ ”ذَاتٌ“ کا تثنیہ ہے، والے۔ ”اُكُلٍ“ پھل۔ ”خَمْطٍ“ بکھٹا، گلے میں اٹکنے والا، بدمزہ۔ ”وَّاَثْلٍ“ جھاؤ۔ یعنی میلوں پھیلی ہوئی وادیوں کی دونوں جانب بہترین پھلوں والے باغوں کی جگہ ہم نے ان کے لیے ایسے دو رویہ باغ اگا دیے جن میں یا تو بکھٹے، کسیلے اور بدمزہ پھلوں والے درخت تھے، یا جھاؤ کے درخت یا تھوڑی سی بیریوں کا کچھ حصہ۔ بکھٹے اور بدمزہ پھلوں اور جھاؤ پر مشتمل قطعوں کو باغ نہیں کہا جاسکتا، بطور تہکم اور مذاق صرف لفظی طور پر باغ کے مقابلے میں باغ کا لفظ استعمال فرمایا ہے، البتہ بیری میں لذت ہوتی ہے۔ اس کی قلت بیان کرنے کے لیے دو لفظ استعمال فرمائے، ایک ”قَلِيْلٍ“ اور دوسرا اس میں سے بھی کچھ تھوڑا سا حصہ یعنی ”وَّشَيْءٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِيْلٍ“ کا لفظ استعمال فرمایا۔
Ayah 34:17ذٰلِكَ جَزَيْنٰهُمْ بِمَا كَفَرُوْا۔۔ : ”الْكَفُوْرَ“ مبالغے کا صیغہ ہے، بہت کفر کرنے والا، بہت ناشکرا۔ یعنی ہم نے انھیں اس کا بدلا دیا جو انھوں نے ناشکری کی اور ایسی سخت سزا ہم اسی کو دیتے ہیں جو بہت ناشکرا ہو، یعنی کافر و مشرک ہو، کیونکہ بڑی ناشکری اور بڑا ظلم شرک ہی ہے۔ تھوڑی بہت ناشکری والے سے ہمارا معاملہ درگزر کا ہوتا ہے۔ ”وَهَلْ نُجٰزِيْٓ اِلَّا الْكَفُوْرَ“ کے الفاظ سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہاں کچھ الفاظ جو آگے قوسین میں ہیں، محذوف ہیں، یعنی ہم نے انھیں یہ جزا اس کے بدلے میں دی جو انھوں نے ناشکری کی (اور ناشکری میں حد سے بڑھ گئے) اور ہم ایسے بڑے ناشکرے ہی کو یہ سخت بدلا دیا کرتے ہیں۔
Ayah 34:18وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْقُرَى الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا۔۔ : برکت والی بستیوں سے مراد شام کا علاقہ ہے۔ قرآن مجید میں اکثر برکت والی زمین شام کی سر زمین کو کہا گیا ہے۔ دیکھیے سورة اعراف (137) ، بنی اسرائیل (1) اور سورة انبیاء (71 اور 81) یعنی یمن سے شام تک سڑک کے کنارے مسلسل بستیاں تھیں، جو پہاڑیوں یا اونچی جگہوں پر بنائی گئی تھیں اور ایک دوسری سے اتنی قریب تھیں کہ ایک بستی سے دوسری بستی نظر آتی تھی اور ایسے اندازے اور تناسب سے آباد تھیں کہ مسافر کو ہر منزل پر کھانا، پانی اور آرام کا موقع ملتا تھا۔ آبادیوں کے قریب ہونے اور نظر آتے رہنے کی وجہ سے نہ مسافروں کا دل گھبراتا تھا، نہ چوروں ڈاکوؤں کا خوف تھا اور نہ زاد راہ ساتھ لینے کی مشقت تھی۔
سِيْرُوْا فِيْهَا لَيَالِيَ وَاَيَّامًا اٰمِنِيْنَ : یعنی رات دن کی جس گھڑی میں سفر کرنا چاہو کرو، نہ جان و مال کا کوئی اندیشہ، نہ راستے کے لیے سامان سفر ساتھ لینے کی کوئی ضرورت۔