Ayah 34:19فَقَالُوْا رَبَّنَا بٰعِدْ بَيْنَ اَسْفَارِنَا۔۔ : اس کی تفسیر تین طرح سے کی گئی ہے، ایک یہ کہ انھیں یہ نعمتیں راس نہ آئیں، وہ امن و عافیت کی قدر کرنا بھول گئے اور کبرو غرور میں آکر کہنے لگے کہ یہ بھی کوئی سفر ہے کہ ہر تھوڑی مسافت کے بعد بستی پائی جاتی ہے۔ مزا تو جب آتا کہ دور دراز علاقوں، چٹیل میدانوں، دشوار گزار جنگلوں اور پرخطر وادیوں سے گزر ہوتا۔ شاہ عبدالقادر ؓ لکھتے ہیں : ”آرام میں مستی یہ آئی، لگے تکلیف مانگنے کہ جیسے اور ملکوں کی خبر سنتے ہیں کہ سفروں میں پانی نہیں ملتا، آبادی نہیں ملتی، ویسا ہم کو بھی ہو، یہ بڑی ناشکری ہوئی۔“ (موضح) ان کی یہ دعا اسی طرح کی ہے جیسے بنی اسرائیل نے من وسلویٰ اور دوسری سہولتوں کے مقابلے میں دالوں اور سبزیوں وغیرہ کا مطالبہ کیا تھا۔
دوسری تفسیر ابن عاشور کی ہے، وہ فرماتے ہیں : ”میرے نزدیک زیادہ ظاہر بات یہ ہے کہ انھوں نے یہ بات اپنے انبیاء اور صالح لوگوں کے جواب میں کہی، جب وہ انھیں شرک سے منع کرتے تھے، کیونکہ وہ انھیں نصیحت کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر اتنی نعمتیں کی ہیں، سفر اتنا آسان بنادیا اور اس قدر خوش حالی عطا فرمائی ہے، سو تم پر اس کا شکر کرنا اور اس اکیلے کی عبادت کرنا واجب ہے، تو انھوں نے آگے سے یہ بات کہی جو آیت میں مذکور ہے، جیسا کہ کفار قریش نے کہا تھا : (اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ) [ الأنفال : 32 ] ”اے اللہ ! اگر صرف یہی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا، یا ہم پر کوئی دردناک عذاب لے آ۔“ دلیل اس کی یہ ہے کہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (فَاَعْرَضُوْا) ”انھوں نے منہ موڑ لیا“ ظاہر ہے منہ کسی دعوت ہی سے موڑا جاتا ہے۔ اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ ان کی اس بات کے بعد فرمایا : (وَظَلَمُوْٓا اَنْفُسَهُمْ)”اور انھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا“ یعنی انھوں نے نا شکری اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا، قرآن میں ظلم کا لفظ اکثر شرک کے لیے آیا ہے، کیونکہ اس سے بڑا ظلم کوئی نہیں۔“
تیسری تفسیر وہ ہے جس کی طرف تقریباً تمام مفسرین نے اشارہ فرمایا ہے کہ یہ ان کی زبان حال کی بات ہے۔ جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے وہ گویا زبان حال سے کہتا ہے کہ پروردگار ! میں ان نعمتوں کا مستحق نہیں ہوں۔ اسی طرح جو قوم اللہ کی نعمتوں کی قدر نہیں کرتی اور سرکشی کا رویہ اختیار کرتی ہے، وہ گویا اپنے رب سے دعا کرتی ہے کہ اے پروردگار ! یہ نعمتیں ہم سے واپس لے لے، کیونکہ ہم اس قابل نہیں ہیں۔
وَظَلَمُوْٓا اَنْفُسَهُمْ : یعنی انھوں نے کفر و شرک پر اصرار کیا۔
فَجَعَلْنٰهُمْ اَحَادِيْثَ۔۔ : یعنی ہم نے انھیں اس طرح برباد اور منتشر کیا کہ وہ بکھرنے کے لیے کہاوت اور ضرب المثل بن گئے۔ مختلف قبائل کے سیلاب سے بچ نکلنے والے لوگ اپنا وطن چھوڑ کر عرب کے مختلف علاقوں میں چلے گئے۔ غسانیوں نے اردن اور شام کا رخ کیا، اوس اور خزرج کے قبیلے یثرب میں جا بسے، خزاعہ نے جدہ کے قریب تہامہ کے علاقہ میں سکونت اختیار کی۔ ازد کا قبیلہ عمان میں جا کر آباد ہوا، لخم اور کندہ بھی نکلنے پر مجبور ہوئے، حتیٰ کہ سبا نام کی کوئی قوم دنیا میں موجود نہ رہی، صرف کہاوتوں اور افسانوں میں اس کا ذکر باقی رہ گیا۔
اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْر : قوم سبا پر لازم تھا کہ ان بےحساب نعمتوں کی قدر کرتے اور ان کا شکر ادا کرتے جن کا ان آیات میں ذکر ہوا، پھر جب عذاب آیا تو لازم تھا کہ گناہوں سے توبہ کرتے اور مصیبت پر صبر کرتے۔ ان کے سردار ملک کے نظام کو دوبارہ درست کرنے کی کوشش کرتے، امن بحال کرتے، پہلے کی طرح زرعی ضرورتوں اور سفری سہولتوں کا بندوبست کرتے، مگر وہ صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ کر مختلف علاقوں میں بکھر گئے اور انھوں نے نہ اللہ کے انعامات کا شکر کیا، نہ مصیبت آنے پر تائب ہوئے اور نہ صبر سے وہاں رہ کر ان کے سرداروں نے ملک کی اصلاح کی کوشش کی، بلکہ جس کا جدھر منہ آیا نکل گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر اور شکر لازم و ملزوم ہیں۔ شکر وہی کرتا ہے جو تقدیر میں سے اپنے حصے پر صابر ہو اور صبر وہی کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کی قدر جانتا اور ان کا شکر ادا کرتا ہو جو اسے حاصل ہیں۔ سبا کے واقعات میں نشانیاں تو ہر شخص کے لیے ہیں، مگر ہر صبّار و شکور کے لیے بہت سی نشانیاں اور عبرتیں اس لیے بتائیں کہ وہی ہیں جو اپنی مصیبتوں پر بہت صبر اور نعمتوں پر بہت شکر کرتے ہیں اور دوسروں پر آنے والی مصیبتوں اور انھیں ملنے والی نعمتوں پر ان کے رویے اور اس کے انجام سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ دوسرے لوگ نہ صبر کرتے ہیں، نہ شکر اور نہ ہی دوسروں کے حال سے انھیں عبرت ہوتی ہے۔
Ayah 34:20وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ اِبْلِيْسُ ظَنَّهٗ۔۔ : یعنی ابلیس نے آدم ؑ کو سجدے سے انکار کے بعد جس گمان کا اظہار کیا تھا کہ تو ان کے اکثر کو شکر کرنے والے نہیں پائے گا۔ (دیکھیے اعراف : 17) اس ظالم نے قوم سبا کو گمراہ کر کے ان کے بارے میں اپنے اس گمان کو سچا کر دکھایا، چناچہ وہ سب اس کے پیچھے لگ گئے، صرف مومنوں کا ایک گروہ اس سے محفوظ رہا۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ سبا میں بھی ہمیشہ کچھ لوگ ایسے موجود رہے جو اللہ واحد کی عبادت پر قائم رہے اور شیطان ان پر اپنا تسلّط قائم نہ کرسکا۔
Ayah 34:21وَمَا كَانَ لَهٗ عَلَيْهِمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ : یعنی ابلیس کو یہ طاقت حاصل نہ تھی کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کرنا چاہے اسے زبردستی ڈنڈے کے زور سے نافرمانی کی راہ پر کھینچ کرلے جائے۔ اسے صرف یہ اختیار تھا کہ انسان کے دل میں وسوسہ ڈال سکے، اسے سبز باغ دکھا کر دھوکے میں مبتلا کرے اور اس کے سامنے گناہوں کو خوش نما کر کے پیش کرے۔
اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يُّؤْمِنُ بالْاٰخِرَةِ : یعنی ابلیس کو یہ اختیار دینے میں اللہ تعالیٰ کی حکمت یہ تھی کہ معلوم ہوجائے کہ کون آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور کون ہے جسے اس میں شک ہے اور سب دیکھ لیں کہ رحمٰن کی بات ماننے والا کون ہے اور شیطان کی پیروی کرنے والا کون، جنتی کون ہے اور جہنمی کون۔
مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِيْ شَكٍّ : معلوم ہوا آخرت میں شک کرنا بھی کفر ہے اور سبا والوں کی ناشکری اور سرکشی کا اصل سبب یہ تھا کہ انھیں آخرت پر یقین نہیں تھا۔ قرآن کریم نے متعدد مقامات پر اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ صحیح عقیدہ ہی انسان کو راہ راست پر قائم رکھ سکتا ہے اور آخرت پر یقین ہی ایسی چیز ہے جو انسان کو سیدھے راستے پر چلنے کا پابند رکھتی ہے۔
وَرَبُّكَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ حَفِيْظٌ تیرا رب ہر چیز پر پوری طرح نگران اور نگہبان ہے، کوئی چیز اس کی حفاظت اور نگرانی سے باہر نہیں، نہ ہی شیطان اس سے زبردست ہو کر کسی کو گمراہ کرسکتا ہے، اس نے خود ہی اپنی حکمت کے تحت اسے آزمائش کے لیے اور حجت تمام کرنے کے لیے انسانوں کے دل میں وسوسہ ڈالنے کا اختیار دے رکھا ہے۔
Ayah 34:22قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ۔۔ : سورت کی ابتدا اس بات سے ہوئی کہ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے اس کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے اور دنیا اور آخرت میں حمد کا سزا وار بھی وہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ذکر فرمایا کہ کفار آخرت کا انکار کرتے ہیں، جب کہ وہ ضرور آئے گی۔ اس کے بعد آخرت پر ایمان رکھنے والوں اور اس کے منکروں کی اور ان کے اچھے اور برے انجام کی مثال کے طور پر داؤد و سلیمان ؑ کا اور قوم سبا کا ذکر فرمایا۔ آخرت کے بیان کے بعد یہاں سے پھر اسی توحید کا بیان شروع ہوتا ہے جس سے سورت کا آغاز ہوا تھا۔
لَا يَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ تو جسے چاہتا ہے داؤد و سلیمان ؑ کی طرح نواز دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے قوم سبا کی طرح برباد کردیتا ہے، کیونکہ وہ آسمان و زمین کی ہر چیز کا مالک ہے، اب تم اپنے بناوٹی معبودوں کو پکارو، بھلا وہ تمہاری کوئی مدد کرسکتے ہیں ؟ نہیں، ہرگز نہیں، کیونکہ مدد وہ تب کریں جب ان کے پاس کوئی چیز ہو، وہ تو آسمان و زمین میں موجود ایک ذرے کے مالک بھی نہیں۔ دیکھیے سورة فاطر (13) ، مومنون (88، 89) ، نحل (73) ، یونس (106) اور سورة جنّ (21، 22)۔
وَمَا لَهُمْ فِيْهِمَا مِنْ شِرْكٍ : یہ اس بات کا رد ہے کہ چلیے پورے مالک نہ سہی، ملکیت و اختیار میں ان کا کچھ حصہ ضرور ہے۔ دیکھیے سورة فاطر (40) اور سورة احقاف (4)۔
وَّمَا لَهٗ مِنْهُمْ مِّنْ ظَهِيْرٍ : نہ ہی ان میں سے کوئی اللہ تعالیٰ کا مددگار ہے جس سے کبھی اللہ تعالیٰ نے مدد لی ہو، یا اب مدد لیتا ہو۔ دیکھیے سورة بنی اسرائیل (111) اور سورة کہف (51)۔
Ayah 34:23وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ : مشرکین کہتے تھے کہ ہم اپنے معبودوں کو اس لیے پکارتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے سفارش کر کے ہماری حاجت روائی اور مشکل کشائی کروا دیتے ہیں۔ (دیکھیے یونس : 18۔ زمر : 3) یہ اس کا رد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی کی سفارش کام نہیں آتی، ہاں، جسے وہ خود اجازت دے اور جس کے حق میں اجازت دے۔”لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ“ (جس کے لیے وہ اجازت دے) میں یہ دونوں باتیں شامل ہیں۔ ظاہر ہے مشرک کو تو شفاعت کرنے کی جرأت ہی نہ ہوگی، اجازت تو دور کی بات ہے اور نہ ہی کسی کو مشرک کے حق میں سفارش کی اجازت ہوگی، کیونکہ اس پر اللہ تعالیٰ نے جنت حرام کردی ہے۔ (دیکھیے مائدہ : 73) صرف ایمان والوں کے حق میں سفارش ہوگی، مگر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بعد، حتیٰ کہ فرشتے اور رسول بھی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کرسکیں گے۔ (دیکھیے نجم : 26) سفارش تو دور کی بات ہے، وہاں اجازت کے بغیر کوئی بول بھی نہیں سکے گا۔ (دیکھیے طٰہٰ : 109) حتیٰ کہ سید الانبیاء والرسل ﷺ بھی سفارش کے لیے جائیں گے تو سجدے میں گرجائیں گے، لمبی مدت تک تسبیح و تحمید کے بعد سر اٹھانے اور سفارش کرنے کی اجازت ملے گی تو سفارش کریں گے، جیسا کہ حدیث شفاعت میں معروف ہے۔
حَتّىٰٓ اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ۔۔ : ”فَزِعَ یَفْزَعُ“ (س) گھبرا جانا۔ ”فَزَّعَ یُفَزِّعُ“ (تفعیل) گھبراہٹ دور کرنا، خصوصاً جب اس کے ساتھ حرف ”عَنْ“ ہو۔ یہاں ایک سوال ہے کہ اس سے پہلے جملے ”وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ“ کے ساتھ اس جملے کا کیا تعلق ہے ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ تم جن ہستیوں کو اپنا سفارشی سمجھتے ہو اور کہتے ہو کہ وہ اپنے زور یا دبدبے یا اللہ کا محبوب ہونے کی وجہ سے اپنی بات منوا لیتے ہیں، ان کی کیا بساط ہے کہ اجازت کے بغیر سفارش کی جرأت کرسکیں۔ وہاں تو اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کے سامنے عرش معلی کے فرشتے اور ان کے نیچے آسمان دنیا تک کے فرشتے، جو برابر احکام الٰہی سنتے ہیں، ان کا یہ حال ہے کہ جب رب العزت کوئی وحی فرماتا ہے تو وہ سب اس کی ہیبت سے تھر تھرا اٹھتے ہیں، پھر جب اللہ تعالیٰ اس ہیبت کو ان کے دلوں سے ہٹا لیتا ہے تو ہر گروہ اپنے سے اوپر والے سے پوچھتا ہے کہ رب تعالیٰ نے کیا فرمایا ہے ؟ ”ۭ قَالُوا الْحَقَّ“ وہ کہتے ہیں، اس نے حق فرمایا ہے۔ ”وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ“ اور وہی سب سے بلند اور بہت بڑا ہے۔ چناچہ وہ فرشتے اپنے نیچے والے فرشتوں کو حق تعالیٰ کی وحی کسی کمی بیشی کے بغیر پہنچاتے ہیں۔ پھر جب مقربین ملائکہ کی یہ حالت ہے، جو وحی کے عادی بنا دیے گئے ہیں، تو مشرکین کسی اور سے کیا توقع رکھتے ہیں ؟ بخاری نے اس آیت کی تفسیر میں ابوہریرہ ؓ سے یہ حدیث روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِذَا قَضَی اللّٰہُ الْأَمْرَ فِي السَّمَاءِ ضَرَبَتِ الْمَلاَءِکَۃُ بِأَجْنِحَتِہَا خُضْعَانًا لِقَوْلِہِ کَالسِّلْسِلَۃِ عَلٰی صَفْوَانٍ ، قَالَ عَلِيٌّ وَ قَالَ غَیْرُہُ صَفْوَانٍ یَنْفُذُہُمْ ذٰلِکَ ، فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِہِمْ قَالُوْا مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ ؟ قَالُوْا لِلَّذِیْ قَالَ الْحَقَّ وَہُوَ الْعَلِيُّ الْکَبِیْرُ ، فَیَسْمَعُہَا مُسْتَرِقُو السَّمْعِ ، وَ مُسْتَرِقُو السَّمْعِ ہٰکَذَا، وَاحِدٌ فَوْقَ آخَرَ وَ وَصَفَ سُفْیَانُ بِیَدِہِ ، وَ فَرَّجَ بَیْنَ أَصَابِعِ یَدِہِ الْیُمْنٰی، نَصَبَہَا بَعْضَہَا فَوْقَ بَعْضٍ فَرُبَّمَا أَدْرَکَ الشِّہَابُ الْمُسْتَمِعَ ، قَبْلَ أَنْ یَرْمِيَ بِہَا إِلٰی صَاحِبِہِ ، فَیُحْرِقُہُ وَ رُبَّمَا لَمْ یُدْرِکْہُ حَتّٰی یَرْمِيَ بِہَا إِلَی الَّذِيْ یَلِیْہِ إِلَی الَّذِيْ ہُوَ أَسْفَلُ مِنْہُ حَتّٰی یُلْقُوْہَا إِلَی الْأَرْضِ ، وَ رُبَّمَا قَالَ سُفْیَانُ حَتّٰی تَنْتَہِيَ إِلَی الْأَرْضِ فَتُلْقٰی عَلٰی فَمِ السَّاحِرِ ، فَیَکْذِبُ مَعَہَا ماءَۃَ کَذْبَۃٍ فَیُصَدَّقُ ، فَیَقُوْلُوْنَ أَلَمْ یُخْبِرْنَا یَوْمَ کَذَا وَکَذَا یَکُوْنُ کَذَا وَکَذَا ؟ فَوَجَدْنَاہُ حَقًّا، لِلْکَلِمَۃِ الَّتِيْ سُمِعَتْ مِنَ السَّمَاءِ) [ بخاري، التفسیر، باب قولہ : (إلا من استرق السمع۔۔) : 4701 ] ”جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو فرشتے اس کے فرمان کے سامنے عاجزی اختیار کرتے ہوئے اپنے پر پھڑ پھڑاتے ہیں۔ (انھیں اللہ کا فرمان اس طرح سنائی دیتا ہے) جیسے وہ صاف چکنے پتھر پر زنجیر کی آواز ہو، تو جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کی جاتی ہے تو وہ (آپس میں) پوچھتے ہیں : ”تمہارے رب نے کیا فرمایا ؟“ وہ کہتے ہیں : ”اس نے حق فرمایا اور وہی سب سے بلند، بہت بڑا ہے۔“ اس گفتگو کو چوری سننے والے شیاطین بھی سن لیتے ہیں، جو اس طرح ایک دوسرے کے اوپر ہوتے ہیں۔“ حدیث کے راوی سفیان نے اس کیفیت کو بیان کرنے کے لیے اپنے ہاتھ کو کنارے کے رخ کیا اور انگلیوں کو کھول دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ”تو وہ شیطان وہ بات سن لیتا ہے اور اپنے سے نیچے والے شیطان کو بتادیتا ہے (یہ سلسلہ نیچے تک چلتا ہے) ، یہاں تک کہ سب سے نیچے والا وہ بات کسی جادوگر یا کاہن کو پہنچا دیتا ہے، پھر کبھی اس سے پہلے کہ وہ نیچے والے کو بات پہنچائے اسے آگ کا انگارا آ دبوچتا ہے اور اسے جلا دیتا ہے اور کبھی اس کے لگنے سے پہلے وہ اس بات کو آگے پہنچا دیتا ہے، تو وہ (جادوگر یا کاہن) اس کے ساتھ سو جھوٹ ملا دیتا ہے، تو (جب آسمان سے سنی ہوئی بات صحیح ہوجاتی ہے تو اس کے ماننے والوں کی طرف سے) کہا جاتا ہے کہ کیا فلاں فلاں دن اس (جادو گر یا کاہن) نے ہمیں اس طرح نہیں کہا تھا ؟ تو اس ایک بات کی وجہ سے جو شیطان نے آسمان سے سنی تھی کاہن یا ساحر کی بات کو سچا سمجھ لیا جاتا ہے۔“
Ayah 34:24قُلْ مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : پچھلی آیت میں بیان کرنے کے بعد کہ مشرکین کے بنائے ہوئے شرکاء کائنات میں ایک ذرے کے مالک نہیں، بلکہ سب کا مالک ایک اللہ تعالیٰ ہے، اب نبی ﷺ کو حکم دیا کہ ان سے اس بات کا اقرار کروائیں کہ کائنات میں ہر ایک کو رزق بھی وہ اکیلا ہی دے رہا ہے۔ چناچہ فرمایا، ان سے کہو آسمان سے بارش برسا کر، سورج، چاند اور ستاروں سے گرمی، توانائی اور روشنی بہم پہنچا کر اور تمہارے فائدے کے لیے ہر چیز مسخر کر کے زمین سے تمہارے لیے اور تمہارے چوپاؤں کے لیے خوراک اور زندگی کی ہر ضرورت کون مہیا کرتا ہے ؟ یہ سب دل سے مانتے ہیں کہ وہ اللہ ہی ہے، اس لیے اس کا انکار نہیں کرسکتے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہے، مگر ان کے لیے اقرار بھی مشکل ہے، کیونکہ اس سے ان کے شرک کی عمارت ڈھے جاتی ہے، کیونکہ وہ اس کا جواز پیش نہیں کرسکتے کہ رزق تو اللہ دے اور عبادت کسی اور کی ہو، اس لیے لامحالہ وہ خاموشی اختیار کریں گے۔ تو اس موقع پر آپ خود اعلان کریں کہ وہ تو صرف اللہ تعالیٰ ہے۔
وَاِنَّآ اَوْ اِيَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى۔۔ : یعنی ہم دو فریق بن چکے ہیں، ایک وہ جو آسمان و زمین میں ایک اللہ ہی کو رزاق مانتے ہیں اور اسی کی عبادت کرتے ہیں۔ دوسرے وہ جو اس کے ساتھ ایسی ہستیوں کو شریک بناتے ہیں جو نہ کائنات کے ایک ذرے کے مالک ہیں، نہ کسی کا نفع و نقصان یا رزق ان کے اختیار میں ہے، اور ہم دونوں میں سے ایک گروہ یا ہدایت پر ہے یا واضح گمراہی میں مبتلا ہے، تم خود فیصلہ کرلو کہ ہدایت پر کون ہے اور گمراہ کون ؟ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس بات میں کوئی شک ہے کہ ایک رب کو رزاق مان کر اسی کی عبادت کرنے والے حق پر ہیں اور ان کے مخالف باطل پر، بلکہ نہایت حکیمانہ طریقے سے دونوں چیزیں مخاطب کے سامنے رکھ کر خود اس سے انصاف طلب کیا گیا ہے، کیونکہ اس کے پاس کوئی چارہ نہیں کہ وہ کہے دونوں گمراہ ہیں، نہ یہ کہ دونوں حق پر ہیں۔ لا محالہ اسے ماننا پڑے گا کہ ہدایت پر وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کو زمین و آسمان کا خالق و رازق ماننے کے بعد عبادت بھی اسی کی کرتا ہے اور وہ شخص یقیناً کھلی گمراہی میں ہوگا جو اللہ تعالیٰ کو خالق و رازق تو مانتا ہے، مگر عبادت دوسروں کی کرتا ہے، لہٰذا آپ اپنے منہ سے کہنے کے بجائے کہ مشرک باطل پر ہے، اسے فیصلے کا موقع دے کر اس مقام پر لے آئیں کہ وہ خود کہے کہ ایک اللہ کی عبادت کرنے والا حق پر ہے اور اس کے ساتھ شریک ٹھہرانے والا باطل پر ہے۔
3 اس آیت سے معلوم ہوا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ جو جہاں لگا ہوا ہے ٹھیک ہے، یا اپنی جگہ سب لوگ ہی درست ہیں، بلکہ حق ایک ہے اور جو حق پر نہیں وہ باطل پر ہے۔ باہم متضاد باتیں دونوں حق نہیں ہوسکتیں، مثلاً یہ نہیں ہوسکتا کہ یہ بھی حق ہو کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور یہ بھی حق ہو کہ ہر نشہ آور چیز حرام نہیں۔ نہ ایک مسئلے میں چار متضاد مذہب حق ہوسکتے ہیں۔
Ayah 34:25قُلْ لَّا تُسْـَٔــلُوْنَ عَمَّآ اَجْرَمْنَا۔۔ : یہ بھی بحث و مناظرہ میں حکمت و شائستگی برتنے کی تعلیم ہے، یعنی باوجود یہ کہ مسلمان حق پر ہیں اور ان کے اعمال نیک ہیں، مگر انھیں چاہیے کہ مخاطب کو یوں کہہ کر غور و فکر کی دعوت دیں کہ اپنے صغیرہ گناہوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے لیے جرم کا لفظ استعمال کریں اور ان کے کفرو شرک اور کبیرہ گناہوں کے لیے لفظ ”عمل“ استعمال کریں کہ تم سے اس کے بارے میں سوال نہیں ہوگا جو ہم نے جرم کیے اور ہم سے اس کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا جو عمل تم کر رہے ہو۔ اپنے لیے ماضی کا لفظ ”اَجْرَمْنَا“ استعمال کرنے کا حکم دیا اور ان کے لیے مضارع کا لفظ ”تَعْمَلُوْنَ“ استعمال کرنے کا حکم دیا، یعنی فرض کرو ہم مجرم ہیں تو اس کا خمیازہ ہم بھگتیں گے، تم سے اس کی باز پرس نہیں ہوگی اور تمہارا کوئی عمل گرفت کے قابل ہوا تو اس کی بازپرس تم سے ہوگی، ہم سے نہیں۔ لہٰذا ہم میں سے ہر ایک کو اپنا فائدہ مدنظر رکھنا چاہیے کہ کہیں ہم غلط راستے پر تو نہیں جا رہے۔ ابن کثیر ؓ نے فرمایا، اس کا مطلب ان سے براءت کا اظہار ہے، یعنی نہ تم ہمارے ہو نہ ہم تمھارے، بلکہ ہم تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف، اس کی توحید اور اس اکیلے کی عبادت کی طرف دعوت دیتے ہیں، اگر تم قبول کرلو تو تم ہمارے اور ہم تمہارے ہوگئے اور اگر نہ مانو تو ہم تم سے بری ہیں اور تم ہم سے بری ہو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ لِّيْ عَمَلِيْ وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ ۚ اَنْتُمْ بَرِيْۗـــــُٔوْنَ مِمَّآ اَعْمَلُ وَاَنَا بَرِيْۗءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ) [ یونس : 41 ] ”اور اگر وہ تجھے جھٹلائیں تو کہہ دے میرے لیے میرا عمل ہے اور تمہارے لیے تمہارا عمل، تم اس سے بری ہو جو میں کرتا ہوں اور میں اس سے بری ہوں جو تم کر رہے ہو۔“ اور فرمایا : (قُلْ يٰٓاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ لَآ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ وَلَآ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَآ اَعْبُدُ وَلَآ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْ وَلَآ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَآ اَعْبُدُ لَكُمْ دِيْنُكُمْ وَلِيَ دِيْنِ) [ الکافرون : 1 تا 6 ] ”کہہ دے اے کافرو ! میں اس کی عبادت نہیں کرتا جس کی تم عبادت کرتے ہو۔ اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔ اور نہ میں اس کی عبادت کرنے والا ہوں جس کی عبادت تم نے کی۔ اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں۔ تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین ہے۔“
Ayah 34:26قُلْ يَجْمَعُ بَيْـنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَـحُ بَيْـنَنَا بالْحَقِّ۔۔ : عبد الرحمان کیلانی ؓ لکھتے ہیں : ”اور اگر تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ آخرت کا اور جواب دہی کا تصور ہی غلط ہے تو یقین جانو کہ جو اللہ ہم سب کو عدم سے وجود میں لایا ہے، پھر ہم سب کو دوبارہ مرنے کے بعد زندہ کر کے اکٹھا کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہے، آج تم اپنے آپ کو درست سمجھتے ہو اور ہم اپنے آپ کو درست سمجھتے ہیں، لیکن اس دن اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان اس طرح انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دے گا جس کی تمہیں بھی ٹھیک سمجھ آجائے گی اور اس کا فیصلہ اس لحاظ سے درست ہوگا کہ وہ ہم سب کا خالق ہے اور خالق کو اپنی بنائی ہوئی چیز کی جس قدر سمجھ ہوسکتی ہے دوسروں کو نہیں ہوسکتی۔ وہ تو تمہارے اور ہمارے ارادوں اور نیتوں تک سے واقف ہے، لہٰذا اس کے فیصلے پر کسی غلطی یا زیادتی کا امکان نہیں ہوسکتا۔“
Ayah 34:27قُلْ اَرُوْنِيَ الَّذِيْنَ اَلْحَــقْتُمْ بِهٖ شُرَكَاۗءَ : یعنی اس سے پہلے کہ آخرت میں پہنچ کر ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ ہو، تم مجھے یہیں بتاؤ کہ تمہارے ان معبودوں میں کون سی ایسی بات ہے جس کی وجہ سے تم انھیں اللہ کا شریک یا اپنا معبود سمجھ رہے ہو اور ان کی حمایت پر بھروسا کر کے اللہ کے عذاب سے بےخوف ہو رہے ہو۔
بَلْ هُوَ اللّٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ : نہیں، یہ ہرگز اس کے شریک نہیں ہوسکتے، بلکہ عبادت کا حق دار صرف اللہ تعالیٰ ہے، جو سب پر غالب اور کمال حکمت والا ہے، جب کہ یہ بےچارے نہ عزیز ہیں نہ حکیم، ان کے پاس بندگی و بےچارگی کے سوا کچھ ہے ہی نہیں۔
Ayah 34:28وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَاۗفَّةً لِّلنَّاسِ : ”كَاۗفَّةً“ بمعنی ”عَامَّۃً“ ہے، یہ ”اَلنَّاسُ“ سے حال ہے، یعنی ہم نے تجھے نہیں بھیجا، مگر تمام لوگوں کی طرف۔ آخرت اور توحید کے بیان کے بعد نبی کریم ﷺ کی رسالت کا بیان فرمایا۔ داؤد و سلیمان ؑ کو نبوت کے ساتھ ایسی بادشاہت عطا ہوئی جو ان کا خاصہ تھی اور نبی کریم ﷺ کو ایسی رسالت عطا ہوئی جو آپ ﷺ کے سوا کسی نبی کو عطا نہیں ہوئی۔ وہ یہ کہ پہلے تمام انبیاء صرف اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوتے تھے اور ان کی دعوت محدود وقت تک کے لوگوں کے لیے ہوتی تھی، جبکہ آپ ﷺ کو روئے زمین کی تمام اقوام اور سب لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا اور آپ ﷺ کی دعوت قیامت تک کے لوگوں کے لیے ہے۔ مزید دیکھیے سورة اعراف (158) ، انبیاء (107) اور سورة فرقان (1) کی تفسیر۔
”كَاۗفَّةً“ کا ایک اور معنی بھی کیا گیا ہے کہ ”کَفَّ یَکُفُّ کَفًّا“ (ن) کا معنی روکنا ہے اور ”كَاۗفَّةً“ میں تاء تانیث کی نہیں، بلکہ مبالغہ کی ہے، جیسا کہ ”عَلَّامَۃٌ“ اور ”رَاوِیَۃٌ“ میں ہے، بہت روکنے والا، یعنی ہم نے تجھے لوگوں کو (ضلالت سے) بہت روکنے والا ہی بنا کر بھیجا ہے۔ یہ معنی بھی درست ہے۔
بَشِيْرًا وَّنَذِيْرًا : یعنی آپ کی دعوت میں بشارت و نذارت دونوں جمع ہیں، اطاعت کرنے والوں کے لیے خوش خبری دینا اور نہ ماننے والوں کو عذاب الٰہی سے ڈرانا۔
وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ : یعنی اکثر لوگ آپ کی قدرو منزلت نہیں جانتے، انھیں احساس نہیں کہ کیسی عظیم الشّان ہستی کی بعثت سے انھیں نوازا گیا ہے، اس لیے جہل کی وجہ سے وہ آپ کی مخالفت اور عدوات پر کمر بستہ ہیں۔
Ayah 34:29وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى ھٰذَا الْوَعْدُ۔۔ : یعنی جس وقت کے متعلق تم نے ابھی کہا ہے کہ ”ہم سب کو ہمارا رب جمع کرے گا، پھر ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرے گا“ وہ وقت آخر کب آئے گا ؟ ان کے پوچھنے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ اس وقت کا علم ہونے پر وہ اس کے لیے تیاری کرنا چاہتے تھے، بلکہ یہ کہہ کر وہ قیامت کو جھٹلا رہے تھے اور اس کا مذاق اڑا رہے تھے، کیونکہ آخرت پر ایمان رکھنے والے اس کے جلدی لانے کا مطالبہ نہیں کیا کرتے، بلکہ اس سے خوف زدہ رہتے ہیں۔ دیکھیے سورة شوریٰ (18)۔
Ayah 34:30قُلْ لَّكُمْ مِّيْعَادُ يَوْمٍ لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ عَنْهُ سَاعَةً۔۔ : یعنی تمہارے لیے اس کا ایک وقت مقرر کیا گیا ہے جس سے تم نہ ایک گھڑی پیچھے رہو گے کہ تمہیں توبہ اور رجوع کی مہلت ملے، نہ ایک گھڑی آگے ہو گے کہ مقرر وقت سے پہلے عذاب آجائے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے جتنی مہلت طے کر رکھی ہے وہ پوری ہونے کے بعد ہی عذاب آئے گا، خواہ تم کتنی ہی جلدی مچاتے رہو۔ خلاصہ یہ کہ یہ مت پوچھو کہ وہ وقت کب آئے گا، بلکہ اس کے لیے تیاری کرو۔ مزید دیکھیے سورة یونس (49)۔
Ayah 34:31وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِھٰذَا الْقُرْاٰنِ۔۔ : نبی ﷺ کفار مکہ سے توحید، رسالت اور آخرت پر بات کرتے ہوئے کبھی اپنی وحی کی تائید کے طور پر تورات و انجیل کا ذکر فرماتے کہ قرآن کی طرح ان میں بھی توحید اور آخرت کا ذکر ہے، تو کفار مکہ کبر و عناد میں آکر کہتے کہ نہ ہم اس قرآن کو مانیں گے، نہ اس سے پہلی کسی کتاب کو۔ قرآن مجید نے ان کی اس بات کے جواب یا اس کی تردید کی ضرورت محسوس نہیں فرمائی، کیونکہ انھوں نے بات ہی ایسی کی جس کا نتیجہ پہلے تمام پیغمبروں کا انکار تھا، جو واضح طور پر غلط تھا اور انھوں نے یہ بات محض ضد میں آکر کہی تھی، ورنہ وہ پہلے پیغمبروں اور ان کی کتابوں کو جانتے تھے۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ انھوں نے کبھی نبی ﷺ سے موسیٰ ؑ جیسے معجزے لانے کا مطالبہ کیا، جیسا کہ سورة قصص میں ہے : (لَوْلَآ اُوْتِيَ مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ مُوْسٰي) [ القصص : 48 ]”اسے اس جیسی چیزیں کیوں نہ دی گئیں جو موسیٰ کو دی گئیں ؟“ کبھی تورات کی طرح لکھی ہوئی کتاب لانے کا مطالبہ کیا، جیسا کہ سورة بنی اسرائیل میں ہے : (وَلَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ) [ بني إسرائیل : 93 ] ”اور ہم تیرے چڑھنے کا ہرگز یقین نہ کریں گے، یہاں تک کہ تو ہم پر کوئی کتاب اتار لائے جسے ہم پڑھیں۔“ اگر پہلے کسی نبی یا اس کی شریعت یا کتاب کو مانتے ہی نہ تھے تو ان مطالبوں کا کیا مطلب ؟ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کی تردید کے بجائے قیامت کے دن ان کے ہونے والے برے حال کا ذکر فرمایا، جس قیامت کا وہ شدت سے انکار کرتے اور مذاق اڑاتے تھے۔
وَلَوْ تَرٰٓى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ۔۔ : ”رَجَعَ یَرْجِعُ“ (ض) لازم بھی آتا ہے اور متعدی بھی، لوٹنا اور لوٹانا۔ یہاں لوٹانا مراد ہے۔ ”الظّٰلِمُوْنَ“ ظالم سے مراد مشرک ہیں، کیونکہ شرک ظلم عظیم ہے، الف لام کی وجہ سے ”یہ ظالم“ ترجمہ کیا گیا ہے۔ یعنی ان میں سے ہر ایک اپنی گمراہی کا الزام دوسروں پر دھر رہا ہوگا، جیسا کہ عموماً ناکامی کی صورت میں ہوتا ہے۔ یہ مکالمہ جہنم میں داخلے سے پہلے ہوگا، تاہم جہنم میں داخلے کے بعد بھی ان کا یہ جھگڑا جاری رہے گا۔ دیکھیے سورة اعراف (38، 39) ، ابراہیم (21) ، قصص (63) ، احزاب (66 تا 68) ، مومن (47، 48) ، ص (55 تا 61) بقرہ (165 تا 167) اور حمٰ السجدہ (29)۔
Ayah 34:32بَلْ كُنْتُمْ مُّجْرِمِيْنَ : بلکہ تم خود مجرم تھے جو عقل اور سمجھ رکھنے کے باوجود محض دنیا کے لالچ میں ہمارے پیچھے چلتے رہے اور ہدایت قبول کرنے سے انکار کرتے رہے۔
Ayah 34:33بَلْ مَكْرُ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ۔۔ : ”أَيْ بَلْ صَدَّنَا عَنِ الْھُدٰی مَکْرُکُمْ فِي اللَّیْلِ وَالنَّھَارِ“ یعنی کمزور لوگ ان بڑوں سے کہیں گے کہ صرف یہی نہیں کہ ہم مجرم تھے اور تمہارا ہمیں ہدایت سے روکنے میں کوئی دخل نہ تھا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تمہاری دن رات کی تدبیروں اور سازشوں نے ہمیں راہ راست سے روکے رکھا۔ جب تم ہمیں اللہ کے ساتھ کفر کرنے اور اس کے ساتھ شریک بنانے کا حکم دیا کرتے تھے۔
وَاَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ : یعنی دونوں فریق ایک دوسرے پر الزام تراشی کریں گے، مگر دونوں ہی اپنے اپنے کفر پر نادم ہوں گے، لیکن اپنی پشیمانی اور ندامت کو چھپانے کی کوشش کریں گے۔
وَجَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِيْٓ اَعْنَاقِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا : آپس کی بحث سے دونوں فریقوں کو معلوم ہوجائے گا کہ دونوں ہی مجرم ہیں اور ان کی یہ بحث لاحاصل ہے۔ لہٰذا ہم دونوں کو ایک جیسی سزا دیں گے، ان کے گلوں میں طوق اور پاؤں میں لوہے کی زنجیریں ڈال کر انھیں جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔
هَلْ يُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ : یعنی یہ عذاب ان کے اپنے اعمال ہی کی جزا ہوگی۔
Ayah 34:34وَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْ قَرْيَةٍ مِّنْ نَّذِيْرٍ۔۔ : ”تَرَفٌ“ خوش حالی۔ ”مُتْرَفُوْنَ“ اسم مفعول ہے، وہ لوگ جنھیں خوش حالی عطا کی گئی۔ خوش حالی عطا فرمانے والا اللہ تعالیٰ تھا، جیسا کہ سورة مومنون میں فرمایا : (وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِلِقَاۗءِ الْاٰخِرَةِ وَاَتْرَفْنٰهُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۙ مَا ھٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ ۙ يَاْكُلُ مِمَّا تَاْكُلُوْنَ مِنْهُ وَيَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَ) [ المؤمنون : 33 ] ”اور اس کی قوم میں سے ان سرداروں نے جنھوں نے کفر کیا اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا اور ہم نے انھیں دنیا کی زندگی میں خوش حال رکھا تھا، کہا یہ نہیں ہے مگر تمہارے جیسا ایک بشر، جو اس میں سے کھاتا ہے جس میں سے تم کھاتے ہو اور اس میں سے پیتا ہے جو تم پیتے ہو۔“ اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ آپ ان کی مخالفت پر مغموم نہ ہوں، آپ سے پہلے ہر نبی کی مخالفت اور اس کا مقابلہ مال و ثروت اور جاہ و حشمت والے لوگوں ہی نے کیا اور شروع میں اس کا ساتھ مستضعفین، یعنی کمزور اور غریب لوگوں ہی نے دیا۔ یہی بات ہرقل نے ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں سے اس وقت کہی جب اس کے دریافت کرنے پر ابو سفیان نے بتایا کہ آپ ﷺ کی پیروی کرنے والے غریب اور معمولی قسم کے لوگ ہیں۔ [ دیکھیے بخاري : 7 ] قرآن مجید میں یہ بات بہت سے مقامات پر بیان کی گئی ہے کہ انبیاء ؑ کی دعوت کی مخالفت سب سے پہلے اور سب سے زیادہ خوش حال اور متکبّر لوگوں ہی نے کی ہے۔ مثلاً دیکھیے سورة انعام (123) ، اعراف (60، 66، 75، 88، 90) ، ہود (27) ، بنی اسرائیل (16) اور سورة مومنون (24، 33 تا 38، 46، 47)۔
Ayah 34:35وَقَالُوْا نَحْنُ اَكْثَرُ اَمْوَالًا وَّاَوْلَادًا۔۔ : یعنی انھوں نے ایک تو اپنے اموال و اولاد کی کثرت پر فخر کیا اور انبیاء اور ان کے متبعین کی تحقیر کی، جیسا کہ فرعون نے اپنے آپ کو مصر کا بادشاہ ہونے کی وجہ سے بہتر اور موسیٰ ؑ کو مہین (حقیر) کہا تھا۔ دیکھیے سورة زخرف (51 تا 54) ”ۙ وَّمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِيْنَ“ دوسرے انھوں نے اپنی خوش حالی کو اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی دلیل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ ہم پر ناراض ہوتا تو ہمیں تم سے زیادہ مال و اولاد کیوں دیتا، یہ دلیل ہے کہ ہم پر عذاب ہرگز نہیں آئے گا۔ (بِمُعَذَّبِيْنَ میں باء نفی کی تاکید کے لیے ہے) بلکہ اگر قیامت قائم ہوئی تو وہاں بھی ہم ہی کو یہ نعمتیں ملیں گی۔ دیکھیے سورة مریم (77 تا 80) اور سورة مدثر (11)۔
Ayah 34:36قُلْ اِنَّ رَبِّيْ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيَــقْدِرُ۔۔ : یعنی دنیا کی آسودگی اور خوش حالی اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی دلیل نہیں ہے، بلکہ اس کی حکمت و مشیّت یعنی بندوں کی آزمائش ہے۔ وہ بعض اوقات ناراض ہونے کے باوجود آزمائش کے لیے اور حجت تمام کرنے کے لیے کافر و فاسق کا رزق فراخ کردیتا ہے اور کبھی آزمائش کے لیے اور گناہوں کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے مومن کا رزق تنگ کردیتا ہے اور کبھی اپنی حکمت و مصلحت کی بنا پر کافر کا رزق تنگ اور مومن کا فراخ کردیتا ہے، تاکہ آزمائش قائم رہے اور دنیا کی خوش حالی دیکھ کر سب لوگ کفر ہی کی طرف مائل نہ ہوجائیں۔ (دیکھیے زخرف : 33 تا 35) لیکن اکثر لوگ یہ بات نہیں جانتے اور مال و اولاد کی کثرت کو اللہ تعالیٰ کے خوش ہونے کی دلیل سمجھ لیتے ہیں۔
Ayah 34:37وَمَآ اَمْوَالُكُمْ وَلَآ اَوْلَادُكُمْ۔۔ : اس جملے کے دو مطلب ہیں، ایک یہ کہ مال و اولاد ایسی چیزیں نہیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ہاں تقرب کا ذریعہ بن سکیں، بلکہ یہی چیزیں اکثر انسانوں کے لیے تقرب کے بجائے الٹا اس کے غضب اور غصے کا سبب بن جاتی ہیں اور اسے لے ڈوبتی ہیں۔ اس کے بجائے اللہ تعالیٰ کے ہاں تقرب کا معیار ایمان اور اعمال صالحہ ہیں۔ ”اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا“ کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ایمان لائے اور اعمال صالحہ بھی لائے تو یہی مال اور اولاد اس کے لیے اللہ کے ہاں تقرب کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ وہ یوں کہ اپنے مال و دولت کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتا رہے اور اولاد کی صحیح تعلیم و تربیت کر کے اسے اللہ کا فرماں بردار بنا دے۔ (تیسیرالقرآن)
فَاُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ جَزَاۗءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا : ”الضِّعْفِ“ ”نِصْفٌ“ کی ضد ہے، یعنی کسی چیز کی مثل اتنا ہی اور، پھر یہی لفظ کئی گنا کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے، جو دس گنا بھی ہوسکتا ہے، سات سو گنا بھی، بلکہ اس سے زیادہ بھی۔ دیکھیے سورة بقرہ (261)۔
وَهُمْ فِي الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ : ”اَلْغُرْفَۃُ“ بلند و بالا عمارت، بالا خانہ۔ ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ أَہْلَ الْجَنَّۃِ یَتَرَاءَ وْنَ أَہْلَ الْغُرَفِ مِنْ فَوْقِہِمْ کَمَا یَتَرَاءَ وْنَ الْکَوْکَبَ الدُّرِّيَّ الْغَابِرَ فِي الْأُفُقِ مِنَ الْمَشْرِقِ أَوِ الْمَغْرِبِ ، لِتَفَاضُلِ مَا بَیْنَہُمْ ، قَالُوْا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! تِلْکَ مَنَازِلُ الْأَنْبِیَاءِ لَا یَبْلُغُہَا غَیْرُہُمْ ، قَالَ بَلٰی، وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِیَدِہِ ! رِجَالٌ آمَنُوْا باللّٰہِ وَ صَدَّقُوا الْمُرْسَلِیْنَ) [ بخاري، بدء الخلق، باب ما جاء في صفۃ الجنۃ۔۔ : 3256 ] ”جنتی لوگ اپنے سے اوپر بالا خانوں میں رہنے والوں کو اس طرح دیکھیں گے جیسے وہ اس ستارے کو دیکھتے ہیں جو آسمان کے کنارے پر مشرق یا مغرب میں گزر رہا ہوتا ہے، کیونکہ ان میں سے بعض بعض سے افضل ہوگا۔“ لوگوں نے کہا : ”اے اللہ کے رسول ! یہ تو انبیاء کے گھر ہوں گے، جہاں ان کے سوا کوئی نہیں پہنچ سکے گا ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”کیوں نہیں ! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! وہ لوگ (وہاں پہنچیں گے) جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انھوں نے رسولوں کی تصدیق کی۔“
وَالَّذِيْنَ يَسْعَوْنَ فِيْٓ اٰيٰتِنَا : بےخوف اس لیے ہوں گے کہ جنت کی نعمتیں ابدی اور دائمی ہوں گی اور ان کا دنیا والا خوف دور ہوجائے گا۔
Ayah 34:38وَالَّذِيْنَ يَسْعَوْنَ فِيْٓ اٰيٰتِنَا۔۔ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة حج (51) اور سورة سبا (5) ”مُحْضَرُوْنَ“ یعنی کبھی تھوڑی دیر کے لیے بھی اس سے غائب نہیں ہو سکیں گے، ہمیشہ اس میں حاضر رکھے جائیں گے۔
Ayah 34:39قُلْ اِنَّ رَبِّيْ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَيَقْدِرُ لَهٗ : یہ الفاظ دوبارہ لانے کی وجہ یہ ہے کہ دونوں جگہ مقصد مختلف ہے۔ پہلی آیت میں کفار کی بات کا رد مقصود ہے اور یہاں اہل ایمان کو خرچ کرنے کی ترغیب مقصود ہے۔ اس کے علاوہ یہاں ”يَقْدِرُ“ کے ساتھ ”لَهٗ“ کا اضافہ ہے، یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کا رزق چاہتا ہے فراخ کردیتا ہے اور اسی کا رزق جب چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔ اس لیے کوئی شخص اگر یہ سمجھ کر بخل کرے اور اللہ کے راستے میں خرچ نہ کرے کہ خرچ کرنے سے میرا رزق تنگ ہوجائے گا تو یہ اس کی بھول ہے، رزق کی تنگی یا فراخی کا تعلق اس کے بخل یا سخاوت سے نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی مشیّت سے ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے بلال ؓ سے فرمایا : (أَنْفِقْ بلاَلُ ! وَلاَ تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالًا) [ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ : 6؍160، ح : 2661۔ مسند البزار : 4؍204، ح : 1366 ] ”بلال ! خرچ کر اور عرش والے کی طرف سے فقیری سے مت ڈر۔“
”يَقْدِرُ لَهٗ“ (اس کے لیے تنگ کردیتا ہے) میں ”عَلَیْہِ“ کے بجائے ”لَہ“ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مومن کا رزق تنگ بھی اس کے فائدے ہی کے لیے کرتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ پر قناعت کرنا اور اس پر راضی ہوجانا بہت بڑی سعادت ہے اور اس میں حساب بھی کم ہے۔ عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ وَ رُزِقَ کَفَافًا وَ قَنَّعَہُ اللّٰہُ بِمَا آتَاہُ) [ مسلم، الزکاۃ، باب في الکفاف والقناعۃ : 1054 ] ”یقیناً وہ شخص کامیاب ہوگیا جو اسلام لایا اور اسے گزارے کے مطابق رزق دیا گیا اور اللہ نے اسے جو کچھ دیا اس پر قانع کردیا۔“
وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ : یعنی اللہ کی راہ میں اس کے حکم کے مطابق زیادہ سے زیادہ یا کم سے کم جو چیز بھی خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دنیا میں اور عطا فرمائے گا اور آخرت کے اجر کا تو کوئی اندازہ نہیں کرسکتا۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَا مِنْ یَوْمٍ یُصْبِحُ الْعِبَادُ فِیْہِ إِلَّا مَلَکَانِ یَنْزِلَانِ فَیَقُوْلُ أَحَدُہُمَا اللّٰہُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا، وَ یَقُوْلُ الْآخَرُ اللّٰہُمَّ أَعْطِ مُمْسِکًا تَلَفًا) [ بخاري، الزکاۃ، باب قول اللّٰہ تعالیٰ : (فأما من أعطی۔۔) : 1442 ] ”جس دن بھی بندے صبح کرتے ہیں، اس میں دو فرشتے اترتے ہیں، ان میں سے ایک کہتا ہے، اے اللہ ! خرچ کرنے والے کو اس کی جگہ اور دے اور دوسرا کہتا ہے، اے اللہ ! روک کر رکھنے والے کے مال کو تباہ کر۔“ ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (یَا ابْنَ آدَمَ ! أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَیْکَ ، وَ قَالَ یَمِیْنُ اللّٰہِ مَلْأَی سَحَّاءُ لَا یَغِیْضُہَا شَيْءٌ، اللَّیْلَ وَ النَّہَارَ) [ مسلم، الزکاۃ، باب الحث علی النفقۃ۔۔ : 993۔ بخاري : 4684 ] ”اے آدم کے بیٹے ! تو خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا۔“ اور فرمایا : ”اللہ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے، بہت برسنے والا ہے، دن رات خرچ کرنے سے اس میں کوئی چیز کمی نہیں لاتی۔“ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَا نَقَصَتْ صَدَقَۃٌ مِنْ مَّالٍ وَ مَا زَاد اللّٰہُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلّٰہِ إِلَّا رَفَعَہُ اللّٰہُ) [ مسلم، البر والصلۃ، باب استحباب العفو والتواضع : 2588 ] ”کوئی صدقہ مال میں کمی نہیں لاتا اور معاف کرنے سے اللہ تعالیٰ بندے کی عزت ہی میں اضافہ فرماتا ہے اور اللہ کے لیے کوئی نیچا نہیں ہوتا، مگر اللہ تعالیٰ اسے اونچا کردیتا ہے۔“
وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ : اس لیے کہ دوسرے تمام دینے والے اسی کے دیے میں سے دیتے ہیں، وہ اکیلا ہے جو ہر چیز اپنے پاس سے دیتا ہے۔
Ayah 34:40وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيْعًا ثُمَّ يَقُوْلُ لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ۔۔ : اس کا عطف ”وَلَوْ تَرٰٓى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ“ پر ہے۔ پہلے مستکبرین کے مستضعفین سے بری ہونے کا ذکر فرما کر اس دن ان کی بری حالت کا نقشہ کھینچا ہے، اب فرشتوں کے ان سے بری ہونے کا ذکر فرما کر اس دن ان کے ذلیل و خوار اور بےیارو مددگار ہونے کا ذکر فرمایا۔
3 مفسر عبدالرحمان کیلانی ؓ لکھتے ہیں : ”مشرکین خواہ دور نبوی کے ہوں یا اس سے پہلے دور کے یا مابعد کے دور کے، وہ یہ نہیں کہتے تھے کہ ہم ان بتوں کو پوجتے ہیں، یا ان قبروں کو پوجتے ہیں، بلکہ ان کے اعتقاد کے پیچھے ان کا ایک پورا گھڑا ہوا فلسفہ ہوتا ہے۔ مثلاً سورج کی پوجا کرنے والے پہلے سورج کی روح کا ایک خیالی نقشہ یا تصویر قائم کرتے ہیں، پھر اس خیالی تصویر کے مطابق اس کا مجسّمہ بناتے ہیں، پھر یہ سمجھتے ہیں کہ اس مجسّمے کے ساتھ سورج کی روح کا ہر وقت تعلق قائم رہتا ہے اور ہم جو سورج کے مجسّمے کو پوجتے ہیں تو دراصل یہ اس بت کی نہیں بلکہ ہم سورج دیوتا کی عبادت کرتے ہیں۔ مشرکین نے اس طرح کی کئی دیویاں اور دیوتا بنا رکھے تھے، پھر یہ مجسّمے مظاہر قدرت ہی کے نہیں بلکہ بعض صفات کے بھی ہوتے تھے اور ان صفات کو بھی سیاروں سے منسوب کردیا جاتا تھا۔ مثلاً فلاں علم کی دیوی، فلاں دولت کی دیوی ہے وغیرہ وغیرہ، پھر کچھ مشرک فرشتوں کے خیالی مجسّمے بنا کر ان کی پوجا کرتے تھے۔ مشرکین عرب کی ایک کثیر تعداد ایسی ہی تھی جو فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے اور لات، منات اور عزیٰ کے مجسّمے بنا کر ان کی عبادت کرتے، تو سمجھتے یہی تھے کہ ہم ان بتوں کی نہیں بلکہ ان فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں جن کی ارواح ان مجسّموں یا بتوں سے وابستہ رہتی ہیں۔ اسی طرح قبر پرست بھی یہ سمجھتے تھے کہ ہم اس قبر کے پرستار نہیں، بلکہ ہماری سب نیاز مندیاں اور نذریں نیازیں تو صاحب قبر کے لیے ہیں، جس کی روح اس کی قبر کے ساتھ وابستہ رہتی ہے۔ ان تمام معبودوں سے چونکہ فرشتے ہی برتر مخلوق ہیں، لہٰذا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مشرکوں کو شرمندہ کرنے اور انھیں حسرت دلانے کے لیے انھی سے سوال کرے گا کہ یہ لوگ تمہاری ہی عبادت کرتے تھے ؟ کیا تم نے انھیں ایسا کہا تھا کہ تمہاری عبادت کیا کریں، یا کچھ اس قسم کی آرزو تم نے کی تھی ؟ اور یہ سوال اگرچہ فرشتوں سے ہوگا مگر مقصد ان کی پوجا کرنے والوں کو رسوا اور لاجواب کرنا ہوگا۔“
3 قیامت کے روز یہ سوال فرشتوں ہی سے نہیں ہوگا بلکہ ان تمام ہستیوں سے کیا جائے گا جن کی دنیا میں عبادت ہوتی تھی۔ سورة فرقان میں ہے : (وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ وَمَا يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَيَقُوْلُ ءَ اَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِيْ هٰٓؤُلَاۗءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِيْلَ) [ الفرقان : 17 ] ”اور جس دن وہ انھیں اور جن کو وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے، اکٹھا کرے گا، پھر کہے گا کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا، یا وہ خود راستے سے بھٹک گئے تھے ؟“ اور سورة مائدہ میں ہے : (وَاِذْ قَال اللّٰهُ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ للنَّاسِ اتَّخِذُوْنِيْ وَاُمِّيَ اِلٰــهَيْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۭ) [ المائدۃ : 116 ] ”اور جب اللہ فرمائے گا، اے عیسیٰ ابن مریم ! کیا تو نے لوگوں سے یہ کہا کہ اللہ کے سوا مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لو ؟“
Ayah 34:41قَالُوْا سُبْحٰنَكَ اَنْتَ وَلِيُّنَا مِنْ دُوْنِهِمْ : یعنی فرشتے بھی عیسیٰ ؑ کی طرح اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی بیان کر کے اپنی صفائی پیش کریں گے اور کہیں گے، تو اس سے پاک ہے کہ تیرا کوئی شریک ہو، ہم تو تیرے بندے ہیں اور تو ہی ہمارا ولی ہے، تجھ ہی سے ہماری دوستی ہے، ان سے ہماری کوئی دوستی ہے نہ کوئی تعلق۔
بَلْ كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ الْجِنَّ۔۔ : یعنی گو یہ بظاہر ہمارے بت بنا کر ہماری عبادت کرتے تھے، لیکن حقیقت میں یہ شیاطین کی بندگی کرتے تھے، کیونکہ انھوں نے ہی ان کو یہ راستہ دکھایا تھا کہ تجھے چھوڑ کر دوسروں کو اپنا معبود سمجھیں، ان کے آگے نذر و نیاز پیش کریں اور اپنی حاجت روائی کے لیے انھیں پکاریں۔ ”الْجِنَّ“ سے مراد شیاطین ہیں، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا : (اِنْ يَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اِنَاثًا ۚ وَاِنْ يَّدْعُوْنَ اِلَّا شَيْطٰنًا مَّرِيْدًا) [ النساء : 117 ] ”وہ اس کے سوا نہیں پکارتے مگر مؤنثوں کو اور نہیں پکارتے مگر سرکش شیطان کو۔“
Ayah 34:42فَالْيَوْمَ لَا يَمْلِكُ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ نَّفْعًا وَّلَا ضَرًّا : یہ فرشتوں اور ان کی عبادت کرنے والوں دونوں سے خطاب ہے۔ یعنی دنیا میں یہ لوگ یہ سمجھ کر تمہاری عبادت کرتے تھے کہ تم انھیں کوئی فائدہ پہنچاؤ گے، یا نقصان سے بچا لو گے اور اللہ کے عذاب سے محفوظ رکھو گے، جیسے آج کل پیر پرستوں اور قبر پرستوں کا حال ہے، مگر آج تم میں سے کوئی نہ کسی کو فائدہ پہنچانے کا اختیار رکھتا ہے نہ نقصان سے بچانے کا۔ عابد و معبود دونوں عاجز ہیں، جیسا کہ فرمایا : (ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوْبُ) [ الحج : 73 ]”کمزور ہے مانگنے والا اور وہ بھی جس سے مانگا گیا۔“
وَنَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَاب النَّارِ۔۔ : ظالموں سے مراد مشرک ہیں، کیونکہ شرک ظلم عظیم ہے اور مشرک سب سے بڑے ظالم ہیں۔ دیکھیے سورة انعام (82) اور سورة لقمان (13)۔
Ayah 34:43وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا۔۔ : یہ ذکر کرنے کے بعد کہ قیامت کے دن مشرکین جہنم میں جائیں گے اور ان کے بنائے ہوئے معبود ان کے کچھ کام نہ آئیں گے، اب ان کے اس عذاب کا حق دار ہونے کی وجہ بیان فرمائی، جو یہ تھی کہ جب رسول اللہ ﷺ نے یا اسلام کے کسی داعی نے ان کے سامنے ہماری واضح آیات پڑھیں تو انھوں نے وہ الفاظ کہے جو اس آیت میں ذکر ہوئے ہیں۔
قَالُوْا مَا ھٰذَآ اِلَّا رَجُلٌ۔۔ : یعنی یہ شخص تمہیں ان ہستیوں کی عبادت سے روکنا چاہتا ہے جن کی عبادت تمہارے آبا و اجداد مدت سے کرتے چلے آئے ہیں۔ مقصد ان کا لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے والے کے خلاف بھڑکانا تھا، یہ کہہ کر کہ یہ شخص تمہیں تمہارے آباء کے دین سے روکنا چاہتا ہے، تو کیا تمہارے آبا و اجداد کوئی پاگل تھے جو ان کی عبادت کرتے تھے۔ پھر یہ نہیں کہ انھوں نے ایک آدھ دفعہ یہ کام کیا ہو، بلکہ ”كَانَ يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُكُمْ“ وہ مدت سے ان کی عبادت کرتے چلے آئے ہیں۔ گویا ان کے نزدیک ان کے شرک کے حق ہونے کی واحد دلیل آبا و اجداد کی تقلید تھی، جو سراسر جہل ہے، جس کا علم سے کوئی تعلق نہیں۔
وَقَالُوْا مَا ھٰذَآ اِلَّآ اِفْكٌ مُّفْتَرًى : یہاں ”اِفْكٌ مُّفْتَرًى“ سے مراد قرآن ہے۔ لفظ ”اِفْكٌ مُّفْتَرًى“ میں قرآن کے متعلق انھوں نے دو باتیں کہیں، ایک تو یہ کہ فی نفسہ یہ جھوٹ ہے، دوسری یہ کہ اسے گھڑ کر اللہ کے ذمے لگا دیا گیا ہے۔
وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ۔۔ : کفار کی پریشان گوئی دیکھیے کہ کبھی اسے جھوٹ کہتے ہیں اور کبھی اسے واضح جادو کہتے ہیں، اور یہ جو فرمایا کہ جب ان کے پاس حق آگیا تو انھوں نے اسے واضح جادو کہا، تو مراد اس سے یہ ہے کہ اگر انھیں حق کا علم نہ ہوتا اور وہ اس قسم کی باتیں کرتے تو شاید معذور ہوتے، اب حق واضح ہوجانے کے بعد انکار کی صورت میں جہنم کے سوا ان کا انجام کیا ہوسکتا ہے ؟
Ayah 34:44وَمَآ اٰتَيْنٰهُمْ مِّنْ كُتُبٍ يَّدْرُسُوْنَهَا۔۔ : اس آیت کی تفسیر دو طرح سے ہوسکتی ہے، ایک یہ کہ ہم نے انھیں ان کے مشرکانہ اقوال و افعال کی اجازت پر مشتمل کوئی کتاب نہیں دی جو ان کے پاس موجود ہو اور وہ اسے پڑھتے پڑھاتے ہوں اور نہ ہی ہم نے آپ سے پہلے ان کی طرف ایسا کوئی آگاہ کرنے والا بھیجا ہے جو ان کے مشرکانہ اقوال و افعال کی تائید کرتا ہو۔ دیکھیے سورة روم (35) ، فاطر (40) ، زخرف (21) اور سورة احقاف (4) اس کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ ہماری طرف سے خاص ان کے لیے کوئی کتابیں نازل نہیں ہوئیں، نہ ہی آپ سے پہلے ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آیا، اس لیے ضروری تھا کہ ان پر کتاب نازل ہو اور ان کی طرف پیغمبر مبعوث ہو، اسی لیے ہم نے آپ کو یہ قرآن دے کر ان کی طرف مبعوث فرمایا۔ دیکھیے سورة سجدہ (3)۔
Ayah 34:45وَكَذَّبَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ۔۔ : ”مِعْشَارَ“ اور ”عُشْرٌ“ دونوں کا معنی دسواں حصہ ہے۔ یعنی پہلی اقوام جو تباہ کی گئیں، انھیں جو قد و قامت، قوت و دولت اور شان و شوکت عطا کی گئی تھی، ان عرب کے کافروں کے پاس تو اس کا دسواں حصہ بھی نہیں۔ دیکھیے سورة روم (9) ، مومن (21) اور سورة احقاف (26)۔
فَكَذَّبُوْا رُسُلِيْ ۣ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيْرِ :”نَكِيْرِ“ اصل میں ”نَکِیْرِيْ“ ہے، آیات کے فواصل (آخری حروف) کی موافقت کے لیے یاء حذف کردی اور کسرہ یہ بتانے کے لیے باقی رکھا کہ یہاں یاء محذوف ہے، یعنی میرا انکار، میرا عذاب۔ انھوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا تو دیکھ لو اس پر میں نے انھیں کیسی سخت سزا دی اور کس طرح برباد کیا کہ ان کا نشان تک نہیں ملتا، تو ان بےچاروں کی کیا حیثیت ہے کہ یہ ہماری گرفت سے بچ سکیں گے۔