34. Surah Saba

سبإSheba · 54 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 34:46

قُلْ اِنَّمَاۤ اَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ١ۚ اَنْ تَقُوْمُوْا لِلّٰهِ مَثْنٰى وَ فُرَادٰى ثُمَّ تَتَفَكَّرُوْا١۫ مَا بِصَاحِبِكُمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ لَّكُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ Open ayah 34:46 in the Quran reader

کہہ دے میں تو تمہیں ایک ہی بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ اللہ کے لیے دو دو اور ایک ایک کر کے کھڑے ہوجاؤ، پھر خوب غور کرو کہ تمہارے ساتھی میں جنون کی کون سی چیز ہے۔ وہ تو ایک شدید عذاب سے پہلے محض تمہیں ڈرانے والا ہی ہے۔

قُلْ اِنَّمَآ اَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ۔۔ : ”جِنَّةٍ“ کا معنی جنون، دیوانگی اور پاگل پن ہے۔ مشرکین کے باطل اقوال کے رد کے بعد رسول اللہ ﷺ کو نہایت قوی دلائل، مؤثر اسالیب اور مختلف انداز سے حق بات سمجھانے کی تلقین فرمائی۔ وہ رسول اللہ ﷺ کو کذّاب اور ساحر کے علاوہ مجنون، یعنی دیوانہ بھی کہتے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ان سے کہو کہ میں تمہیں صرف ایک نصیحت کرتا ہوں کہ بڑی مجلسوں میں تو شوروغل، بھیڑ بھاڑ اور اجتماعی دباؤ کی وجہ سے آدمی صحیح طرح سوچ نہیں سکتا، تم ضد اور تعصّب کو نکال کر اکیلے اکیلے یا دو دو ہو کر سوچو کہ محمد ﷺ آخر تمہارا صاحب ہے، تمہارے ساتھ اس نے نبوت سے پہلے چالیس برس گزارے، جسے تم صادق اور امین کہتے تھے، جس کی معاملہ فہمی اور درست رائے کی شہادت تم بھی دیتے تھے، اب اس نے جب تمہیں اللہ کا پیغام پہنچایا تو تم نے اسے مجنون کہنا شروع کردیا، لہٰذا تم اس کی لائی ہوئی ہر بات پر پوری طرح غور کرو اور سوچ کر بتاؤ کہ آخر ان میں سے کون سی بات ہے جسے تم جنون کہہ سکو ؟ کیا اللہ کو ایک ماننا دیوانگی ہے ؟ کیا زنا، چوری، قتل نفس اور بہتان سے منع کرنا دیوانگی ہے ؟ کیا صدق، عفاف، امانت، مہمان نوازی اور ہمدردی کا حکم دینا دیوانگی ہے ؟ کسی ایک بات پر انگلی رکھ کر تو بتاؤ کہ یہ بات دیوانے کی بات ہے۔ یہ تفسیر ’ مَا“ کو استفہامیہ مان کر ہے، اگر ”مَا“ نافیہ ہو تو معنی ہوگا کہ تمہارے ساتھی میں کسی طرح کا جنون نہیں۔ یہ معنی بھی درست ہے۔ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِيْرٌ لَّكُمْ۔۔ : یعنی پیغمبر تو تمہیں ایک نہایت سخت عذاب آنے سے پہلے اس سے ڈرانے والا ہے، تو تم اچھی طرح سوچ کر فیصلہ کرو کہ اپنی قوم کو شدید عذاب آنے سے پہلے آگاہ کر کے اس سے بچانے کی کوشش کرنے والا دیوانہ ہوتا ہے یا اس کا ہمدرد اور خیر خواہ۔ بخاری نے اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث نقل فرمائی ہے، ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ ایک دن صفا پہاڑی پر چڑھے اور فرمایا : ”یَا صَبَاحَاہُ“ (جو کسی اہم خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے کہا جاتا تھا) تو قریش آپ کے پاس جمع ہوگئے اور کہنے لگے : ”تمہیں کیا ہوا ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : (أَرَأَیْتُمْ لَوْ أَخْبَرْتُکُمْ أَنَّ الْعَدُوَّ یُصَبِّحُکُمْ أَوْ یُمَسِّیْکُمْ أَمَا کُنْتُمْ تُصَدِّقُوْنِيْ ؟) ”یہ بتاؤ کہ اگر میں تمہیں اطلاع دوں کہ دشمن تم پر صبح حملہ کرے گا یا شام حملہ کرے گا تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے ؟“ انھوں نے کہا : (بَلٰی) ”کیوں نہیں !“ آپ ﷺ نے فرمایا : (فَإِنِّيْ نَذِیْرٌ لَّکُمْ بَیْنَ یَدَيْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ) ”تو پھر میں تمہیں ایک نہایت سخت عذاب سے پہلے اس سے ڈرانے والا ہوں۔“ تو ابو لہب نے کہا : (تَبًّا لَکَ أَلِہٰذَا جَمَعْتَنَا ؟) ”تیرے لیے ہلاکت ہو، کیا تو نے ہمیں اس لیے جمع کیا ہے ؟“ تو اللہ تعالیٰ نے یہ (سورت) اتاری : (تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَھَبٍ وَّ تَبَّ) [ بخاري، التفسیر، باب : (إن ھو إلا نذیر لکم۔۔) : 4801 ]
Ayah 34:47

قُلْ مَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ فَهُوَ لَكُمْ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 34:47 in the Quran reader

کہہ میں نے تم سے جو بھی اجرت مانگی ہے تو وہ تمہاری ہوئی۔ میری اجرت تو اللہ ہی پر ہے اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے۔

قُلْ مَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ فَهُوَ لَكُمْ۔۔ : یہ دوسری تلقین ہے کہ اس بات کی صراحت کردیں کہ اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے پر میں تم سے کوئی اجرت یا معاوضہ تو نہیں مانگتا، میں نے تم سے جو بھی اجرت مانگی ہے تو وہ تمہاری ہوئی۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص دوسرے سے کہے کہ اگر تم نے مجھے کچھ دیا ہے تو وہ تم لے لو، جب اسے معلوم ہو کہ اس نے اسے کچھ نہیں دیا، مطلب صرف اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ تم نے مجھے کچھ دیا ہی نہیں جو میں تمہیں واپس دوں۔ ایسے ہی یہاں فرمایا کہ اگر میں نے تم سے کوئی مزدوری مانگی ہے تو وہ تمہاری ہوئی۔ مطلب یہ کہ میں نے تم سے کوئی مزدوری مانگی ہی نہیں، میری دعوت تو محض تمہاری خیر خواہی کے لیے ہے، جیسا کہ ہود ؑ نے اپنی قوم کو فرمایا : (وَمَآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ ۚ اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلٰي رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ) [ الشعراء : 127] ”اور میں اس پر تم سے کسی اجرت کا سوال نہیں کرتا، میری اجرت تو رب العالمین ہی کے ذمے ہے۔“ دوسرا معنی یہ ہے کہ میں نے یہ پیغام پہنچا کر تم سے کسی چیز کا سوال کیا ہے تو وہ تمہارے ہی فائدے کی چیز ہے۔ میرا تم سے مطالبہ صرف یہ ہے کہ تم اپنے رب تعالیٰ کی طرف جانے والا راستہ اختیار کرو، جیسا کہ فرمایا : (قُلْ مَآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَاۗءَ اَنْ يَّتَّخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيْلًا) [ الفرقان : 57 ] ”کہہ دے میں تم سے اس پر کسی مزدوری کا سوال نہیں کرتا مگر جو چاہے کہ اپنے رب کی طرف کوئی راستہ اختیار کرے۔“ وَهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ : یعنی الزام لگانے والے جو کچھ چاہیں کہتے رہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ میری مزدوری اللہ کے ذمے ہے اور وہ سب کچھ جانتا ہے اور وہ میرے صدق اور خلوص نیت پر گواہ ہے کہ اس کا پیغام پہنچانے میں مجھے دنیا کی کسی چیز کا طمع نہیں، نہ میں اس کے سوا کسی سے کسی مزدوری یا بدلے کا طلب گار ہوں، نہ اس کی خواہش رکھتا ہوں۔
Ayah 34:48

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَقْذِفُ بِالْحَقِّ١ۚ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 34:48 in the Quran reader

کہہ بیشک میرا رب (دل میں) حق ڈالتا ہے، سب غیبوں کو بہت خوب جاننے والا ہے۔

قُلْ اِنَّ رَبِّيْ يَقْذِفُ بالْحَـقِّ : ”قَذَفَ یَقْذِفُ“ کا معنی پھینکنا ہے، یہ ڈالنے کے معنی میں بھی آتا ہے : ”أَيْ یَقْذِفُ بالْحَقِّ فِيْ قُلُوْبِ أَصْفِیَاءِ ہِ“ یعنی وہ اپنے خاص بندوں کے دلوں میں حق ڈال دیتا ہے۔ جب ثابت ہوگیا کہ یہ نبی نہ مجنون ہے، نہ دنیا کا طالب، نہ تم اس کے کسی قول یا فعل کو جھوٹ، جادو یا دیوانگی ثابت کرسکے تو ثابت ہوا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، اس لیے فرمایا، اے نبی ! جو لوگ توحید، انبیاء کی رسالت اور آخرت کے منکر ہیں ان سے کہہ دے کہ بیشک میرا رب وحی کے ذریعے سے اپنے چنے ہوئے بندوں کے دل میں حق بات ڈالتا ہے، اسی نے میرے دل میں بذریعہ وحی اس حق کا القا فرمایا ہے، جیسا کہ فرمایا : (يُلْقِي الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِيُنْذِرَ يَوْمَ التَّلَاقِ) [ المؤمن : 15 ] ”وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے وحی اتارتا ہے، تاکہ آپس کی ملاقات کے دن سے ڈرائے۔“ ”يَقْذِفُ بالْحَـقِّ“ کا دوسرا معنی ”یَقْذِفُ بالْحَقِّ عَلَی الْبَاطِلِ“ ہے، یعنی کہہ دے بیشک میرا رب حق کو باطل پر پھینک مارتا ہے تو وہ اس کا دماغ کچل دیتا ہے، پس وہ اچانک مٹنے والا ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (بَلْ نَقْذِفُ بالْحَقِّ عَلَي الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ) [ الأنبیاء : 18 ] ”بلکہ ہم حق کو باطل پر پھینک مارتے ہیں تو وہ اس کا دماغ کچل دیتا ہے، پس اچانک وہ مٹنے والا ہوتا ہے۔“ یعنی تمہارے اس حق کو جھوٹ یا جادو یا دیوانگی کہنے سے اس کا کچھ نہیں بگڑے گا، میرا رب اس حق کو باطل پر اس زور سے پھینک مارے گا کہ وہ یکایک ہی مٹ جائے گا۔ اس آیت میں تیسری بات کی تلقین ہے کہ آپ مشرکین کو صراحت سے کہہ دیجیے کہ تم لوگ نہ حق سے جھگڑے میں غالب آسکتے ہو نہ لڑائی میں، کیونکہ میرا رب میرے دل میں حق کا القا کرتا ہے، کیونکہ وہ تمام غیبوں کو خوب جاننے والا ہے۔ اب جو شخص غیب جانتا ہی نہیں، نہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے غیب کی کوئی بات بتائی جاتی ہے تو وہ حق کے ساتھ کیا جھگڑا کرے گا ؟ پھر میرا رب حق کو باطل پر مار کر اس کا دماغ کچل دیتا، تو اہل باطل اہل حق کے ساتھ کیا لڑائی کریں گے ؟ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ : وہ تمام غیبوں کو خوب جاننے والا ہے۔ غیب کی ان باتوں میں سے جو چاہے اپنے جس پیغمبر کے دل میں چاہے ڈال دیتا ہے اور وہی خوب جانتا ہے کہ غیب کی کس بات کی اطلاع کس پیغمبر کو دینی ہے۔ دیکھیے سورة جنّ (26 تا 28)۔
Ayah 34:49

قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ مَا یُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَ مَا یُعِیْدُ Open ayah 34:49 in the Quran reader

کہہ دے حق آگیا اور باطل نہ پہلی دفعہ کچھ کرتا ہے اور نہ دوبارہ کرتا ہے۔

قُلْ جَاۗءَ الْحَـقُّ : یہ چوتھی تلقین ہے کہ انھیں واضح کردیں کہ ان کا باطل بہت جلد ختم ہوجائے گا اور اس کا نام و نشان تک نہیں رہے گا۔ دوسری جگہ فرمایا : (وَقُلْ جَاۗءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۭ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا) [ بني إسرائیل : 81 ] ”اور کہہ دے حق آگیا اور باطل مٹ گیا، بیشک باطل ہمیشہ سے مٹنے والا تھا۔“ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيْدُ : ”أَبْدَأَ یُبْدِئُ إِبْدَاءً“ (افعال) کوئی کام شروع میں کرنا اور اعادہ کا معنی ہے اسے دوبارہ کرنا۔ ہر زندہ شخص ان دونوں سے خالی نہیں ہوتا، یا وہ کوئی کام ابتداءً کرتا ہے یا دوبارہ، البتہ مردہ ان میں سے کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ یہ ایک مقولہ ہے جو عرب کسی شخص یا قوم کے نیست و نابود ہونے پر استعمال کرتے ہیں : ”إِنَّہُ مَا یُبْدِئُ وَمَا یُعِیْدُ“ یعنی وہ بالکل مٹ گیا، اس کا نشان بھی باقی نہ رہا۔ 3 اس آیت کے نزول کے تھوڑا عرصہ بعد ہی یہ پیش گوئی سچی ہوگئی۔ عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ مکہ میں داخل ہوئے اور بیت اللہ کے اردگرد تین سو ساٹھ بت نصب تھے، تو آپ ہر بت کو ایک لکڑی کے ساتھ، جو آپ کے ہاتھ میں تھی، ٹھوکر مارتے جاتے اور کہتے تھے : (وَقُلْ جَاۗءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۭ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا) اور (وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيْدُ) [ بخاري، التفسیر، باب : (و قل جاء الحق و زھق الباطل) : 4720 ]
Ayah 34:50

قُلْ اِنْ ضَلَلْتُ فَاِنَّمَاۤ اَضِلُّ عَلٰى نَفْسِیْ١ۚ وَ اِنِ اهْتَدَیْتُ فَبِمَا یُوْحِیْۤ اِلَیَّ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ قَرِیْبٌ Open ayah 34:50 in the Quran reader

کہہ دے اگر میں گمراہ ہوا تو اپنی جان ہی پر گمراہ ہوں گا اور اگر میں نے ہدایت پائی تو اسی کی وجہ سے جو میرا رب میری طرف وحی بھیجتا ہے، یقینا وہ سب کچھ سننے والا، قریب ہے۔

قُلْ اِنْ ضَلَلْتُ فَاِنَّمَآ اَضِلُّ عَلٰي نَفْسِيْ : یہ پانچویں تلقین ہے کہ آپ انھیں سمجھانے کے لیے کہیں کہ اگر تمہارے بتوں کو اور تمہارے آباء کے دین کو چھوڑنے کی وجہ سے میں گمراہ ہوگیا ہوں، جیسا کہ میرے بارے میں تم کہتے پھرتے ہو تو اس گمراہی کا وبال مجھی پر پڑے گا، تم پر اس کی ذمہ داری نہیں اور اگر میں ہدایت یافتہ ہوں، جیسا کہ حقیقت ہے، تو یہ میرا کمال یا خوبی نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میری راہ نمائی ہے اور میں تمہیں صاف بتاچکا ہوں کہ میں اپنے نفس کی یا کسی اور کی پیروی کرتا ہی نہیں، بلکہ صرف وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف کی جاتی ہے، جیسا کہ فرمایا : (ۭقُلْ اِنَّمَآ اَتَّبِعُ مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ مِنْ رَّبِّيْ) [ الأعراف : 203 ] ”کہہ دے میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے رب کی جانب سے میری طرف وحی کی جاتی ہے۔“ اس آیت میں یہ ادب بھی سکھایا گیا کہ خامی اور غلطی کی نسبت اپنی طرف کرنی ہے اور ہدایت کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف، کیونکہ ساری خیر اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور ہدایت اور بھلائی صرف اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی اور اس کے بیان کردہ حق میں ہے، پھر جو گمراہ ہوتا ہے وہ اپنے نفس کی وجہ سے گمراہ ہوتا ہے اور جسے ہدایت ملتی ہے اسے اللہ کی طرف سے ملتی ہے، جیسا کہ عبداللہ بن مسعود ؓ سے ایک مسئلہ پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا : (أَقُوْلُ فِیْہَا بِرَأْیِیْ ، فَإِنْ یَّکُ خَطَأً فَمِنِّيْ وَ مِنَ الشَّیْطَانِ ، وَ إِنْ یَّکُ صَوَابًا، فَمِنَ اللّٰہِ) [ مسند أحمد : 4؍279، ح : 18489 ] ”میں اس کے بارے میں اپنی رائے سے کہتا ہوں، اگر وہ خطا ہوئی تو میری طرف سے اور شیطان کی طرف سے ہوگی اور اگر درست ہوئی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔“ اِنَّهٗ سَمِيْعٌ قَرِيْبٌ : ابو موسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، جب ہم کسی وادی کی بلندی پر پہنچتے تو ہم ”لا الٰہ الا اللہ“ اور ”اللہ اکبر“ کہتے اور ہماری آوازیں بلند ہوجاتیں۔ تو نبی ﷺ نے فرمایا : (یَا أَیُّہَا النَّاسُ ! ارْبَعُوْا عَلٰی أَنْفُسِکُمْ ، فَإِنَّکُمْ لَا تَدْعُوْنَ أَصَمَّ وَ لَا غَاءِبًا، إِنَّہُ مَعَکُمْ ، إِنَّہُ سَمِیْعٌ قَرِیْبٌ، تَبَارَکَ اسْمُہُ وَ تَعَالٰی جَدُّہُ) [ بخاري، الجہاد والسیر، باب ما یکرہ من رفع الصوت في التکبیر : 2992 ] ”لوگو ! اپنی جانوں پر رحم کرو، کیونکہ تم نہ کسی بہرے کو پکار رہے ہو نہ غائب کو، وہ تو تمہارے ساتھ ہے، بیشک وہ سب کچھ سننے والا ہے، قریب ہے۔ اس کا نام بہت برکت والا اور اس کی شان بہت بلند ہے۔“
Ayah 34:51

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ فَزِعُوْا فَلَا فَوْتَ وَ اُخِذُوْا مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍۙ Open ayah 34:51 in the Quran reader

اور کاش ! تو دیکھے جب وہ گھبرا جائیں گے، پھر بچ نکلنے کی کوئی صورت نہ ہوگی اور وہ قریب جگہ سے پکڑلیے جائیں گے۔

وَلَوْ تَرٰٓى اِذْ فَزِعُوْا فَلَا فَوْتَ : ”اِذْ فَزِعُوْا“ (جب گھبرا جائیں گے) سے دنیا کے بعد آخرت کی تمام منزلیں مراد ہیں، جن میں موت کے وقت فرشتوں کی آمد، پھر قبر میں سوال و جواب، پھر قبروں سے نکلنا اور اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا، پھر جہنم میں جانا سب کچھ شامل ہے۔ یعنی اب تو کفار بہت ڈینگیں مارتے ہیں، لیکن جب دنیا کی مہلت ختم ہوگی، اللہ تعالیٰ کی گرفت آئے گی اور ان پر گھبراہٹ طاری ہوگی، اس وقت ان کے لیے اس سے بچ کر نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔ وَاُخِذُوْا مِنْ مَّكَانٍ قَرِيْبٍ : یعنی ایسے مجرموں کو کہیں دور سے تلاش نہیں کرنا پڑے گا، وہ جہاں بھی ہوں گے وہیں گرفتار کرلیے جائیں گے۔ بچ نکلنے کی یا بھاگ کھڑے ہونے کی کوئی صورت نہ ہوگی۔
Ayah 34:52

وَّ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖ١ۚ وَ اَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍۚۖ Open ayah 34:52 in the Quran reader

اور وہ کہیں گے ہم اس پر ایمان لے آئے، اور ان کے لیے دور جگہ سے (ایمان کو) حاصل کرنا کیسے ممکن ہے۔

وَّقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖ : یعنی جب آخرت کے عذاب کو دیکھیں گے تو کہیں گے، ہم اللہ پر ایمان لے آئے جو اکیلا ہے، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا : (فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْٓا اٰمَنَّا باللّٰهِ وَحْدَهٗ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِيْنَ) [ المؤمن : 84 ] ”پھر جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھا تو انھوں نے کہا ہم اس اکیلے اللہ پر ایمان لائے اور ہم نے ان کا انکار کیا جنھیں ہم اس کے ساتھ شریک ٹھہرانے والے تھے۔“ اور فرمایا : (وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۭ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ) [ السجدۃ : 12 ] ”اور کاش ! تو دیکھے جب مجرم لوگ اپنے رب کے پاس اپنے سر جھکائے ہوں گے اے ہمارے رب ! ہم نے دیکھ لیا اور ہم نے سن لیا، پس ہمیں واپس بھیج کہ ہم نیک عمل کریں، بیشک ہم یقین کرنے والے ہیں۔“ وَاَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۢ بَعِيْدٍ : ”التَّنَاوُشُ“ آسانی سے کسی چیز کو حاصل کرلینا، لے لینا۔ یعنی ایمان لانے کی جگہ دنیا تھی جو بہت دور رہ گئی، اب اتنی دور جگہ سے ایمان کو حاصل کرنا کیسے ممکن ہے ؟ عذاب دیکھ لینے کے بعد ایمان لانے سے تو کچھ حاصل نہیں، اس کا وقت تو سکرات موت سے پہلے تھا۔ ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ اللّٰہَ یَقْبَلُ تَوْبَۃَ الْعَبْدِ مَا لَمْ یُغَرْغِرْ) [ ترمذي، الدعوات، باب إن اللّٰہ یقبل توبۃ العبد۔۔ : 3537، قال الألباني حسن ] ”اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ قبول کرتا ہے جب تک موت کے وقت اس کا گلا نہ بولنے لگے۔“
Ayah 34:53

وَّ قَدْ كَفَرُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ یَقْذِفُوْنَ بِالْغَیْبِ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 34:53 in the Quran reader

حالانکہ بلا شبہ وہ اس سے پہلے اس سے انکار کرچکے ہیں اور وہ بہت دور جگہ سے بن دیکھے (نشانے پر) پھینکتے رہے ہیں۔

وَّقَدْ كَفَرُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ : یعنی اس سے پہلے جب ایمان لانے کا وقت تھا تو اس کے ساتھ کفر کرتے رہے۔ وَيَقْذِفُوْنَ بالْغَيْبِ مِنْ مَّكَانٍۢ بَعِيْدٍ : غیب سے مراد بِن دیکھے ہے۔ دور سے پتھر یا تیر پھینکا جائے، پھر ایسے نشانے پر پھینکا جائے جسے دیکھا ہی نہ ہو تو وہ پتھر یا تیر نشانے پر کیسے پہنچ سکتا ہے۔ یعنی یہ لوگ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے رسول اور آخرت کے انکار پر اڑے رہے اور ان کے متعلق کچھ بھی جانے بغیر طرح طرح کی باتیں کرتے رہے، کبھی رسول کا مذاق اڑاتے، اسے مجنون، ساحر، کذّاب کہتے، کبھی اہل ایمان پر پھبتیاں کستے، کبھی موت کے بعد زندگی کو ناممکن قرار دیتے رہے۔ الغرض ! جو منہ میں آیا بےباکی اور بےخوفی سے بکتے رہتے اور انھیں اقرار بھی تھا کہ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں گمان کی بنا پر کہہ رہے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّمَا نَحْنُ بِمُسْتَيْقِنِيْنَ) [ الجاثیۃ : 32 ] ”ہم تو محض معمولی سا گمان کرتے ہیں اور ہم ہرگز پورا یقین کرنے والے نہیں۔“ حقیقت بھی یہی ہے کہ شرک، دہریت اور انکار آخرت کے عقائد کوئی شخص بھی یقین کی بنا پر اختیار نہیں کرتا اور نہ کرسکتا ہے۔ کفر کی پوری عمارت محض قیاس و گمان کی بنیاد پر ہے، علم و یقین پر نہیں۔
Ayah 34:54

وَ حِیْلَ بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ مَا یَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْیَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِیْ شَكٍّ مُّرِیْبٍ۠ Open ayah 34:54 in the Quran reader

اور ان کے درمیان اور ان چیزوں کے درمیان جن کی وہ خواہش کریں گے، رکاوٹ ڈال دی جائے گی، جیسا کہ اس سے پہلے ان جیسے لوگوں کے ساتھ کیا گیا۔ یقینا وہ ایسے شک میں پڑے ہوئے تھے جو بےچین رکھنے والا تھا۔

وَحِيْلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُوْنَ۔۔ : ”أَشْیَاعٌ“ ”شِیْعَۃٌ“ کی جمع ہے، ایک جیسے لوگوں کی جماعت۔ ”مَا يَشْتَهُوْنَ“ (جس کی وہ خواہش کریں گے) سے مراد توبہ اور ایمان لانا ہے۔ یعنی وہ آخرت میں چاہیں گے کہ ان کا ایمان قبول ہوجائے اور عذاب سے ان کی نجات ہوجائے، مگر ان کے درمیان اور ان کی خواہش کے درمیان رکاوٹ ڈال دی جائے گی۔ جیسا کہ ان سے پہلے توحید و رسالت اور آخرت کے منکرین کے ساتھ کیا گیا کہ عذاب دیکھنے کے بعد کسی کی توبہ قبول ہوئی نہ ایمان لانا معتبر ہوا، جیسا کہ فرمایا : (فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ اِيْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَـنَا ۭ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِيْ قَدْ خَلَتْ فِيْ عِبَادِهٖ ۚ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكٰفِرُوْنَ) [ المؤمن : 85 ] ”پھر یہ نہ تھا کہ ان کا ایمان انھیں فائدہ دیتا، جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا۔ یہ اللہ کا طریقہ ہے جو اس کے بندوں میں گزر چکا اور اس موقع پر کافر خسارے میں رہے۔“ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِيْ شَكٍّ مُّرِيْبٍ : ”مُّرِيْبٍ“ ”أَرَابَ یُرِیْبُ إِرَابَۃً“ (افعال) سے اسم فاعل ہے، بےچین رکھنے والا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی توحید، اس کے پیغمبروں کی رسالت اور آخرت سے انکار کرنے والوں کے عقائد کی بنیاد علم پر نہیں ہوتی، بلکہ محض وہم و گمان پر ہوتی ہے۔ وہ کبھی دلیل کے ساتھ ثابت نہیں کرسکتے کہ اتنی عظیم کائنات کسی بنانے والے کے بغیر خود بخود بن گئی، یا ان کے بنائے ہوئے معبود فی الواقع اللہ تعالیٰ کے اختیارات میں شریک ہیں، نہ ہی وہ یہ ثابت کرسکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی بشر کو اپنا پیغمبر نہیں بنا سکتا، نہ یہ کہ وہ دوبارہ پیدا نہیں ہوسکتے یا قیامت نہیں آسکتی، وہ خود بھی اس کے متعلق شک میں مبتلا رہتے ہیں اور شک بھی ایسا جو انھیں بےچین رکھتا ہے۔ اگرچہ وہ اپنے بعض مفادات کی بنا پر اپنے شک کا اظہار نہیں کرتے۔