Ayah 33:1يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ۔۔ : سورت کا آغاز رسول اللہ ﷺ کو ”يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ“ کے خطاب سے ہوتا ہے۔ اس میں آپ ﷺ کی تکریم و تشریف مقصود ہے، کیونکہ قرآن مجید میں دوسرے انبیاء کو ان کے ناموں کے ساتھ مخاطب کیا گیا ہے، جیسا کہ ”یَاٰدَم، ینوح، یابراھیم، یعیسیٰ“ وغیرہ، مگر آپ ﷺ کو ”يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ“ اور ”يٰٓاَيُّهَا الرسول“ کے ساتھ ہی مخاطب کیا گیا ہے۔
3 اس سورت میں آپ ﷺ کو پانچ دفعہ ”يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ“ کے ساتھ مخاطب فرمایا ہے، ایک یہ آیت، دوسری آیت (28) : (ۧيٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا) ، تیسری آیت (45) : (يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اِنَّآ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِيْرًا) ، چوتھی آیت (50) : (يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَبَنٰتِكَ) اور پانچویں آیت (59) : (يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اِنَّآ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ) اس سے ظاہر ہے کہ اس سورت میں رسول اللہ ﷺ کے ذاتی معاملات کا خاص طور پر ذکر ہے۔ اگرچہ مقصود امت کی تعلیم بھی ہے۔
اتَّقِ اللّٰهَ وَلَا تُطِـعِ الْكٰفِرِيْنَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ : یہ سورت سن پانچ ہجری کے آخر میں غزوۂ احزاب کے زمانے میں نازل ہوئی۔ یہ وقت رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں پر نہایت مشکل اور آزمائش کا تھا، کیونکہ قریش، غطفان، ہذیل اور پورے عرب کے مشرکین مل کر اسلام کو مٹانے کی آخری کوشش کے لیے دس ہزار کا لشکر لے کر مدینہ منورہ پر حملہ آور ہوئے تھے۔ ان کی مدد مدینہ کے یہود اور منافقین بھی کر رہے تھے، جیسا کہ آگے آرہا ہے۔ اسی زمانے میں آپ ﷺ کو زمانۂ جاہلیت کی کچھ ایسی رسوم کو توڑنے کا حکم ہوا جو اس وقت سب لوگوں کے ہاں مسلّمہ تھیں، مثلاً بیوی کو ماں کہہ دیا جائے تو اسے ماں ہی کی طرح حرام سمجھنا، منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹے کا مقام دے کر وارث بنانا، اس کی بیوی کے ساتھ بہو کی طرح نکاح حرام سمجھنا وغیرہ۔ متبنٰی (منہ بولا بیٹا) بنانے کی یہ رسم اتنی مستحکم تھی کہ جب تک رسول اللہ ﷺ خود اپنے عمل سے اسے نہ توڑتے اس کا ختم ہونا مشکل تھا۔ آپ ﷺ نے نبوت سے پہلے اپنے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ کو اپنا منہ بولا بیٹا بنایا تھا۔ جاہلیت کی رسوم میں سے ایک رسم یہ بھی تھی کہ غلام آزاد بھی ہوجائے تو وہ اسے حقیر ہی سمجھتے اور آزاد لوگوں کا درجہ دینے کے لیے تیار نہ تھے۔
رسول اللہ ﷺ نے پہلے اس رسم کو توڑا اور اپنی پھوپھی کی بیٹی زینب بنت جحش ؓ کا نکاح، جو نہایت عالی خاندان سے تھیں، اپنے آزاد کردہ غلام زید ؓ کے ساتھ کردیا، مگر دونوں میں موافقت نہ ہوسکی، تو زید ؓ نے اسے طلاق دے دی۔ اب آپ ﷺ کی خواہش تھی کہ زینب ؓ سے نکاح کرلیں، کیونکہ اس نے زید سے نکاح کرکے بہت بڑی قربانی دی تھی اور اس کی دل جوئی بھی مقصود تھی۔ مگر ڈر یہ تھا کہ پورے عرب کے مشرکین اور منافقین اس پر طعن و تشنیع کا طوفان برپا کردیں گے کہ محمد ﷺ بہو سے نکاح کو حرام کہتے ہیں اور خود بہو سے نکاح کرلیا ہے۔ اس کے علاوہ مسلمانوں کے لیے زیادہ سے زیادہ چار بیویوں سے نکاح جائز تھا، اگر آپ ﷺ زینب سے نکاح کرتے تو یہ پانچویں بیوی ہوتی، کیونکہ اس سے پہلے سودہ، عائشہ، حفصہ اور ام سلمہ آپ کے نکاح میں تھیں۔ اس پر بھی کفار و منافقین کو طعن کا موقع ملتا، اس معاملے میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو ”يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اِنَّآ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ۔۔“ کہہ کر زیادہ بیویاں رکھنے کی خصوصی اجازت عطا فرمائی۔ غرض اس قسم کی کئی باتوں کی اصلاح کرنا تھی، مگر آپ ﷺ کفار و منافقین کے طوفان اٹھانے کے خوف سے انقباض محسوس کرتے تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے سورت کا آغاز ہی اس بات سے کیا : ”اے نبی ! اللہ سے ڈر اور کافروں اور منافقوں کا کہنا مت مان۔“ یہ لمبی بات کو مختصر کرنے کی ایک خوب صورت مثال ہے، جو یہ تھی کہ اللہ سے ڈر، کفار و منافقین یا کسی اور سے مت ڈر اور اللہ کا حکم مان اور کفار و منافقین کا کہنا مت مان۔
اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا :”اِنَّ“ عموماً تعلیل کے لیے ہوتا ہے، یعنی یہ کسی بات کی وجہ بیان کرتا ہے۔ ”بیشک اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ہر چیز کا علم رکھنے والا، کمال حکمت والا ہے“ یعنی اس کے احکام، علم و حکمت پر مبنی ہیں، جب کہ کفار کے رسوم و رواج اور ضابطوں کی بنیاد وہم و گمان، جہل اور بےوقوفی پر ہے۔ آگے اس کی تفصیل بیان فرمائی کہ منہ سے کہہ دینے سے کوئی عورت ماں نہیں بن جاتی، نہ کوئی شخص منہ سے کہہ دینے سے بیٹا بن جاتا ہے۔ وہ تقدیس جو حقیقی ماں، بہن، بیٹی اور بہو کے رشتے میں ہوتی ہے، مصنوعی رشتے میں کبھی نہیں ہوسکتی، بلکہ یہ رشتے عام میل ملاپ کی وجہ سے برائی پھیلنے کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس لیے کسی کافر یا منافق سے ڈرنے کی ضرورت نہیں، ایک اللہ سے ڈریں اور اسی کا حکم مان کر جاہلیت کی ان تمام رسوم کا خاتمہ کردیں۔
3 اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کر کے امت کو تنبیہ کی مؤثر ترین صورت اختیار فرمائی گئی ہے کہ جب یہ حکم سب سے بڑے شخص کو ہے تو دوسروں کے لیے تو اس کی تاکید اس سے بھی زیادہ ہے۔
Ayah 33:2وَّاتَّبِعْ مَا يُوْحٰٓى اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ : یعنی منہ بولے بیٹوں کے متعلق، جاہلیت کی کسی رسم کے متعلق، یا دنیا و آخرت کی کسی بھی بات کے متعلق آپ کسی کافر یا منافق کی بات ماننے کے بجائے اس حکم کی پیروی کریں جو آپ کو آپ کے پروردگار کی طرف سے وحی کیا جاتا ہے۔
اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًا : تم اللہ کی وحی یعنی قرآن و سنت کی پیروی کے بارے میں جو کچھ بھی کرتے ہو، وہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔ تم اس کے احکام پر خوش دلی سے عمل کرو یا تنگ دلی سے، یا عمل نہ کرو، وہ تمہیں تمہارے عمل کے مطابق جزا دے گا۔
3 یہاں جمع کے ساتھ خطاب ہے، اس سے معلوم ہوا کہ پہلے تمام خطاب بھی دراصل پوری امت کے لیے ہیں۔
Ayah 33:3ۙوَّتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ۔۔ : یعنی اللہ کے احکام پر عمل کرنے کے نتیجے میں کفار و منافقین کی طرف سے جو کچھ کہا جائے یا کیا جائے، اس کی پروا مت کریں، اپنا ہر کام اللہ کے سپرد کردیں، کیونکہ اس کے سپرد جو کام کر دیاجائے وہ اس کے لیے کافی ہے۔
Ayah 33:4مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَيْنِ فِيْ جَوْفِهٖ۔۔ : ”أَدْعِیَاءُ“ ”دَعِیٌّ“ (فَعِیْلٌبمعنی مفعول) کی جمع ہے۔ اصل مقصود کو بیان کرنے سے پہلے تمہید کے طور پر یہ بات بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے کسی آدمی کے سینے میں دو دل نہیں رکھے کہ ایک میں ایمان ہو اور ایک میں کفر۔ سینے میں دل ایک ہی ہے، وہ یا مومن ہوگا یا منافق یا کافر۔ اسی طرح ہر شخص کی ماں ایک ہی ہے، جس کے پیٹ میں سے وہ پیدا ہوا ہے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ اس کے بعد کسی کو ماں کہہ دینے سے وہ اس کی ماں بن جائے، نہ تمہارے اپنی بیویوں کو ماں کی طرح حرام کہنے سے وہ ماں بن جاتی ہیں، اور ہر شخص کا باپ بھی ایک ہی ہے، یہ نہیں ہوسکتا کہ پہلے تو اس کا باپ ایک تھا، پھر کسی نے اس کو بیٹا کہہ دیا تو وہ اس کا باپ بن گیا۔ یہ صرف تمہارے منہ کی باتیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان میں سے کسی بات کو نہیں مانتا، وہ تو وہی بات کہتا ہے جو حقیقت اور سچ ہے اور وہ اصل سیدھے راستے ہی کی طرف راہ نمائی کرتا ہے۔ ظہار کا لفظ ”ظَہْرٌ“ سے مشتق ہے، جس کا معنی پیٹھ ہے، یعنی اپنی بیوی کو یہ کہہ دینا کہ تم مجھ پر ماں کی پیٹھ کی طرح حرام ہو۔ اس کے تفصیلی احکام سورة مجادلہ میں آئیں گے۔ منہ بولے بیٹے کے متعلق تفصیل یہاں بیان ہو رہی ہے، اس کی مطلقہ سے نکاح کی تفصیل چند آیات کے بعد آئے گی۔
3 ان آیات میں کسی کو منہ بولا بیٹا بنانے سے منع کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں اسے حقیقی بیٹے کی طرح سمجھا جاتا تھا، وہ بیٹا بنانے والے کی ولدیت کے ساتھ مشہور ہوتا اور اس کا وارث قرار پاتا تھا، البتہ محبت اور شفقت کے اظہار کے لیے کسی کو بیٹا کہہ کر پکارا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے انس ؓ کو ”یَا بُنَيَّ“ کہہ کر پکارا۔ [ دیکھیے مسلم، الآداب، باب جواز قولہ لغیر ابنہ یا بنيّ۔۔ : 2151 ] اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مزدلفہ کی رات ہم بنی عبد المطلب کے چھوٹے لڑکوں کو گدھیوں پر سوار کرکے آگے بھیج دیا تھا، تو اس موقع پر نبی ﷺ ہماری رانوں پر تھپکیاں دے کر فرمانے لگے : (أُبَیْنِيَّ ! لاَ تَرْمُوا الْجَمْرَۃَ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ) [ أبوداوٗد، المناسک، باب التعجیل من جمع : 1940 ] ”میرے پیارے بیٹو ! جب تک سورج طلوع نہ ہو جمرات کو کنکر نہ مارو۔“
Ayah 33:5اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَاۗىِٕهِمْ : یعنی جو متبنٰی بنائے جا چکے ہیں اب انھیں ان کے باپوں ہی کی نسبت سے پکارو۔ ان آیات کے نزول کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اصل باپ کے سوا کسی دوسرے باپ کی طرف منسوب کرنے سے منع کردیا اور اس کی سخت وعید بیان فرمائی، چناچہ زید ؓ کو بھی زید بن محمد کے بجائے زید بن حارثہ کہا جانے لگا۔ عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں : (أَنَّ زَیْدَ بْنَ حَارِثَۃَ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ مَا کُنَّا نَدْعُوْہُ إِلاَّ زَیْدَ بْنَ مُحَمَّدٍ حَتّٰی نَزَلَ الْقُرْآنُ : (اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَاۗىِٕهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ) [ بخاري، التفسیر، باب : (أدعوھم لآباءھم۔۔) : 4782 ] ”رسول اللہ ﷺ کے مولیٰ (آزاد کردہ غلام) زید بن حارثہ کو ہم زید بن محمد ہی کہا کرتے تھے، یہاں تک کہ قرآن اترا : (اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَاۗىِٕهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ) ”انھیں ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو، یہ اللہ کے ہاں زیادہ انصاف کی بات ہے۔“ سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَنِ ادَّعٰی إِلٰی غَیْرِ أَبِیْہِ وَھُوَ یَعْلَمُ أَنَّہُ غَیْرُ أَبِیْہِ فَالْجَنَّۃُ عَلَیْہِ حَرَامٌ) [ بخاري، الفرائض، باب من ادعٰی إلیٰ غیر أبیہ : 6766 ] ”جس شخص نے اپنے باپ کے غیر کی طرف اپنی نسبت کی اور وہ جانتا ہو کہ وہ اس کا باپ نہیں، تو اس پر جنت حرام ہے۔“ ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : (لَا تَرْغَبُوْا عَنْ آبَاءِ کُمْ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ أَبِیْہِ فَھُوَ کُفْرٌ) [ بخاري، الفرائض، باب من ادعی إلی غیر أبیہ : 6768] ”اپنے باپوں سے بےرغبتی مت کرو، کیونکہ جس نے اپنے باپ سے بےرغبتی کی تو یہ کام کفر ہے۔“
واثلہ بن اسقع ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الْفِرٰی أَنْ یَّدَّعِيَ الرَّجُلُ إِلٰی غَیْرِ أَبِیْہِ ، أَوْ یُرِيَ عَیْنَہُ مَا لَمْ تَرَ ، أَوْ یَقُوْلَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ مَا لَمْ یَقُلْ) [ بخاري، المناقب، باب : 3509 ] ”سب سے بڑے بہتانوں میں سے یہ بات ہے کہ آدمی اپنی نسبت اپنے باپ کے غیر کی طرف کرے، یا اپنی آنکھوں کو وہ دکھائے جو انھوں نے نہیں دیکھا (خواب گھڑ کر سنائے) یا اللہ کے رسول ﷺ کے متعلق وہ بات کہے جو آپ ﷺ نے نہیں فرمائی۔“
هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ :”اَقْسَطُ“ اسم تفضیل کا صیغہ ہے۔ یہاں ایک سوال ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ منہ بولا بیٹا بنانے والے کی طرف باپ ہونے کی نسبت کرنا بھی قسط (انصاف) ہے، ہاں، اصل باپ کی طرف نسبت زیادہ انصاف ہے۔ اس کا جواب شعراوی نے یہ دیا ہے کہ زید ؓ نے رسول اللہ ﷺ کا غلام ہوتے ہوئے آپ ﷺ کو اپنے باپ پر ترجیح دے کر آپ کے پاس رہنا پسند کیا اور آپ ﷺ نے اس میں بیٹے جیسی سعادت دیکھ کر اسے بیٹا بنا لیا، تو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے شرف کو ملحوظ رکھتے ہوئے ناراضی کا اظہار نہیں فرمایا۔ ہاں، اصل باپ کی طرف نسبت کو ”اقسط“ کہہ کر دوسرے کی طرف نسبت سے منع فرما دیا، کیونکہ حق یہی ہے اور اللہ تعالیٰ حق بات ہی فرماتا ہے۔
فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْٓا اٰبَاۗءَهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ وَمَوَالِيْكُمْ : ”مَوَالِیْ“ ”مَوْلٰی“ کی جمع ہے، یہاں اس سے مراد دوست ہیں۔ یعنی اگر ان کے باپ معلوم نہ ہوں تو وہ دین میں تمہارے بھائی اور دوست ہیں۔ کسی کی طرف نسبت کے بجائے انھیں ”یَا أَخِيْ ، یَا مَوْلَايَ“ (اے میرے بھائی، اے میرے دوست) کہہ کر پکارو۔
وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيْمَآ اَخْطَاْتُمْ بِهٖ۔۔ : یعنی ممانعت سے پہلے تم منہ بولے بیٹوں کو ان کے پرورش کرنے والوں کا بیٹا کہتے رہے، یا کسی کو علم نہ ہونے کی وجہ سے کسی دوسرے کا بیٹا کہہ دیا، یا بلا ارادہ زبان سے کسی دوسرے کا بیٹا کہہ بیٹھے تو اس میں کوئی گناہ نہیں۔ گناہ تو اس میں ہے کہ ممانعت کے بعد دیدہ و دانستہ کسی کو اس کے باپ کے سوا دوسرے کا بیٹا کہو۔ تمہاری خطا پر گناہ اس لیے نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے بیحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ اس نے خطا اور نسیان کو معاف فرما دیا ہے۔ واضح رہے کہ بعض لوگ منہ بولے بیٹے بنانے کو ان آیات کے ساتھ منسوخ قرار دیتے ہیں، مگر یہ درست نہیں، کیونکہ منسوخ تو تب ہوتا جب وہ پہلے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا۔ وہ تو اسلام سے پہلے کی ایک رسم تھی جسے اللہ تعالیٰ نے ختم فرمایا، اسے منسوخ نہیں کہا جاسکتا۔
Ayah 33:6اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ : پچھلی آیات میں منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کے نام کے ساتھ پکارنے کا حکم دیا، جس میں زید ؓ کو زید بن محمد کے بجائے زید بن حارثہ کہنا بھی شامل تھا، تو ضروری تھا کہ نبی کریم ﷺ کا مسلمانوں سے تعلق واضح کیا جائے کہ باپ کی طرف نسبت کی تاکید کو دیکھ کر باپ کے تعلق کو نبی کے تعلق سے زیادہ اہم نہ سمجھ لینا، کیونکہ نبی ﷺ کے ساتھ تمہارا جو تعلق ہے وہ باپ ہی نہیں تمہاری جان سے بھی زیادہ قرب کا ہے۔
اَلنَّبِيُّ ‘ میں الف لام عہد کا ہے، اس لیے اس کا ترجمہ ”یہ نبی“ کیا گیا ہے۔
”اَوْلٰى“ کا معنی ”أَقْرَبُ“ (زیادہ قریب) بھی ہے اور ”أَحَقُّ“ (زیادہ حق رکھنے والا) بھی۔ یہاں اگر معنی ”أَقْرَبُ“ کیا جائے تو مطلب یہ ہے کہ کسی قرابت دار کا قرب آدمی کے ساتھ اتنا نہیں جتنا قرب نبی ﷺ کا ایمان والوں کے ساتھ ہے۔ اس قرب سے مراد تعلق کا قرب ہے نہ کہ جسمانی قرب کہ رسول اللہ ﷺ ہر وقت ہر مومن کے ساتھ اس کی جان سے بھی زیادہ قریب رہتے ہوں۔ بلکہ جس طرح تمام قرابت دار جہاں بھی ہوں ان کا آپس میں نسبی قرب اور تعلق قائم رہتا ہے، اسی طرح مومن جہاں بھی ہو اس کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی قرابت تمام رشتہ داروں حتیٰ کہ اس کی اپنی جان کی قرابت سے بھی زیادہ ہے۔ کیونکہ اس کے رشتہ دار، حتیٰ کہ اس کا نفس بھی بعض اوقات اسے نقصان پہنچا سکتا ہے، جبکہ رسول اللہ ﷺ مومنوں کے لیے خیر ہی خیر کا باعث ہیں۔ مگر یہاں ”أَحَقُّ“ کا معنی زیادہ مناسب ہے، بلکہ ”أَقْرَبُ“ سے مراد بھی ”أَحَقُّ“ (زیادہ حق دار) ہی ہے، یعنی اس قرب کی وجہ سے آپ ﷺ زیادہ حق رکھنے والے ہیں، کیونکہ اس کے متصل بعد رشتہ داروں کے بارے میں یہی لفظ فرمایا : (وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ) یعنی رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ آدمی پر رسول اللہ ﷺ کا حق اس کے تمام رشتہ داروں سے، حتیٰ کہ اس کی اپنی جان سے بھی زیادہ ہے۔ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں : ”نبی نائب ہے اللہ کا، اپنی جان مال میں اپنا تصرف (اتنا) نہیں چلتا جتنا نبی ﷺ کا۔ اپنی جان دہکتی آگ میں ڈالنی روا نہیں اور نبی حکم کرے تو فرض ہے۔“ (موضح) آگے اسی سورت میں فرمایا : (وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗٓ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِـيَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ ۭ وَمَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًا) [ الأحزاب : 36 ] ”اور کبھی بھی نہ کسی مومن مرد کا حق ہے اور نہ کسی مومن عورت کا کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ کردیں کہ ان کے لیے ان کے معاملے میں اختیار ہو اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے تو یقیناً وہ گمراہ ہوگیا، واضح گمراہ ہونا۔“
اپنی جان سے بھی زیادہ حق رکھنے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اپنی ذات سے بھی بڑھ کر آپ کا حکم مانا جائے۔ ایک طرف دنیا جہاں کے کسی بھی شخص، حتیٰ کہ اپنی ذات کا تقاضا ہو، دوسری طرف رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہو تو آپ کے فرمان کو ترجیح دی جائے، اور یہ بات بھی کہ آپ ﷺ کے ساتھ اپنی جان سے بھی زیادہ محبت کی جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِیَدِہِ ! لاَ یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی أَکُوْنَ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِنْ وَالِدِہِ وَ وَلَدِہِ وَ النَّاسِ أَجْمَعِیْنَ) [ بخاري، الإیمان، باب حب الرسول ﷺ من الإیمان : 14، 15، عن أبي ہریرہ ؓ ] ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوتا یہاں تک کہ میں اس کے لیے اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔“ ایک دفعہ عمر ؓ نے کہا : ”یا رسول اللہ ! آپ مجھے میری جان کے سوا ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں۔“ تو آپ ﷺ نے فرمایا : (لاَ وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِیَدِہِ ! حَتّٰی أَکُوْنَ أَحَبَّ إِلَیْکَ مِنْ نَفْسِکَ) ”نہیں (اے عمر !) اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! جب تک میں تیرے لیے تیری جان سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔“ تو عمر ؓ نے کہا : (فَإِنَّہُ الْآنَ ، وَاللّٰہِ ! لَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِيْ) ”اب اللہ کی قسم ! آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔“ تو آپ ﷺ نے فرمایا : (اَلْآنَ یَا عُمَرُ !) ”اب، اے عمر !“ [ بخاري، الأیمان والنذور، باب کیف کانت یمین النبي ﷺ ؟ : 6632 ] امام بخاری ؓ نے اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث بیان فرمائی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَا مِنْ مُؤْمِنٍ إِلاَّ وَأَنَا أَوْلٰی بِہِ فِي الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ ، اقْرَءُ وْا إِنْ شِءْتُمْ : (اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ) [ الأحزاب : 6 ] فَأَیُّمَا مُؤْمِنٍ مَاتَ وَتَرَکَ مَالاً فَلْیَرِثْہُ عَصَبَتُہُ مَنْ کَانُوْا، وَمَنْ تَرَکَ دَیْنًا أَوْ ضَیَاعًا فَلْیَأْتِنِيْ فَأَنَا مَوْلاَہُ) [ بخاري، الاستقراض، باب الصلاۃ علی من ترک دینا : 2399، عن أبي ہریرۃ ؓ ] ”جو بھی مومن ہے، میں دنیا اور آخرت میں اس پر زیادہ حق رکھنے والا، یا سب سے زیادہ اس سے قرب رکھنے والا ہوں، چاہو تو یہ آیت پڑھ لو : (اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ) تو جو مومن کوئی مال چھوڑ جائے اس کے وارث اس کے عصبہ ہوں گے، جو بھی ہوں اور جو کوئی قرض یا بال بچے چھوڑ جائے تو (اس کا وارث) میرے پاس آئے، میں اس کا ولی ہوں۔“
وَاَزْوَاجُهٗٓ اُمَّهٰتُهُمْ : نبی ﷺ کی اس خصوصیت کی بنا پر جو اوپر ذکر ہوئی، ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کی اپنی منہ بولی مائیں تو کسی معنی میں بھی ان کی مائیں نہیں، مگر نبی ﷺ کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔ مائیں ہونے سے مراد ان کی تعظیم و تکریم ہے اور یہ کہ آپ ﷺ کی وفات کے بعد ان سے نکاح جائز نہیں۔ دوسرے احکام مثلاً ، خلوت، پردہ، ان کی اولاد سے شادی وغیرہ میں وہ ان کی ماں کی طرح نہیں۔
وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ۔۔ : رسول اللہ ﷺ جب ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے مہاجرین کی آبادکاری اور معاشی ضرورتوں کے لیے ایک مہاجر اور ایک انصاری کو آپس میں ایک دوسرے کا بھائی بنادیا، اسے مؤاخات کہتے ہیں۔ یہ بھائی چارہ اتنا بڑھا کہ وہ ایک دوسرے کے وارث اور ولی قرار پا گئے۔ فوت ہونے پر مہاجر کی میراث رشتہ داروں کے بجائے اس کے انصاری بھائی کو ملتی اور انصاری کی میراث مہاجر کو ملتی۔ سورة احزاب کی اس آیت میں اس کے منسوخ ہونے کا حوالہ دیا گیا۔ دیکھیے سورة انفال (72 تا 74) یہاں ذکر کرنے کی مناسبت یہ ہے کہ منہ کے ساتھ کہنے سے نہ کوئی ماں بنتی ہے، نہ بیٹا، نہ ہی بھائی، اس لیے اب وراثت کے زیادہ حق دار رشتے کے بھائی ہیں، نہ کہ حلیف ہونے یا عقد مؤاخات کی وجہ سے بننے والے بھائی۔
اِلَّآ اَنْ تَفْعَلُوْٓا اِلٰٓى اَوْلِيٰۗىِٕكُمْ مَّعْرُوْفًا : یعنی اپنے مومن یا مہاجر بھائیوں کے ساتھ میراث کے سوا کوئی نیکی کرو تو درست ہے، مثلاً زندگی میں ان سے احسان والا سلوک کرو، انھیں ہدیہ وغیرہ دو ، مرنے کے بعد ان کے حق میں ثلث تک وصیت کر جاؤ، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
كَانَ ذٰلِكَ فِي الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا : یعنی لوح محفوظ میں اصل حکم یہی ہے، گو لوگوں نے دوسروں کو وارث بنانے کا رواج بنا لیا تھا، مگر اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ یہ منسوخ ہوگا، اس لیے اسے منسوخ کر کے اصل حکم بحال کردیا ہے۔ یا مطلب یہ ہے کہ یہ حکم کتاب اللہ، یعنی قرآن مجید میں پہلے لکھا جا چکا ہے، کیونکہ یہ حکم سورة انفال (72 تا 74) میں نازل ہوا جو سورة احزاب سے پہلے نازل ہوئی۔ (ابن عاشور)
Ayah 33:7وَاِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّـبِيّٖنَ مِيْثَاقَهُمْ۔۔ : جاہلی معاشرے میں منہ بولے بیٹوں کی ان کے باپ کی طرف نسبت کرنے کے حکم، پھر آپ ﷺ کے متبنٰی زید ؓ کی طلاق کے بعد اس کی بیوی سے نکاح کے حکم پر عمل نہایت مشکل تھا، کیونکہ متبنٰی کا مسئلہ ان کے دینی عقیدے کی شکل اختیار کرچکا تھا اور ان کے رگ و پے میں رچ چکا تھا۔ پھر زینب ؓ سے نکاح میں طرح طرح کی باتوں کا اندیشہ بھی تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اس عہد کی طرف توجہ دلائی جو اس نے تمام انبیاء سے اور خود رسول اللہ ﷺ سے لیا، جس میں ان پر یہ فریضہ عائد کیا کہ وہ ہر حال میں احکام پر عمل کرنے میں اور انھیں لوگوں تک پہنچانے میں کوئی تنگی محسوس نہیں کریں گے، نہ ہی اس معاملے میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور سے ڈریں گے۔ یہی بات اس سورة احزاب میں دوبارہ زیادہ تفصیل کے ساتھ آیت (38، 39) میں آرہی ہے۔ انبیاء سے لیے جانے والے میثاق کا ذکر سورة احزاب کی اس آیت اور آیت (38، 39) کے علاوہ سورة آل عمران کی آیت (81) اور سورة شوریٰ کی آیت (13) میں بھی آیا ہے کہ ہر پیغمبر دوسرے تمام پیغمبروں کی تصدیق کرے گا، اپنے آپ پر اور لوگوں پر دین قائم کرے گا۔ دین میں تفرقے سے بچے گا۔ مشرکین پر گراں گزرنے کے باوجود اللہ کے دین کی دعوت میں کوتاہی نہیں کرے گا۔
وَمِنْكَ وَمِنْ نُّوْحٍ۔۔ : تمام انبیاء سے عہد لینے کے بعد پانچ پیغمبروں کا نام لے کر عہد لینے کی صراحت فرمائی۔ اس سے ان پیغمبروں کی شان کی عظمت ظاہر ہوتی ہے۔ ان میں سے ہر پیغمبر کی دعوت مدت دراز تک جاری رہی، پھر سب سے آخر میں آنے کے باوجود ہمارے نبی کریم ﷺ کا نام پہلے ذکر فرمایا۔ آپ کے بعد باقی انبیاء کا نام ان کے تشریف لانے کی ترتیب کے ساتھ ذکر فرمایا۔ اس میں آپ ﷺ کی رفعت کا اظہار مقصود ہے اور یہ بھی کہ یہاں اس عہد کا ذکر خاص آپ کے لیے کیا گیا ہے۔ بعض مفسرین نے اس مقام پر لکھا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ اگرچہ دنیا میں سب سے آخر میں تشریف لائے، مگر وجود میں سب سے پہلے آئے، یعنی سب سے پہلے پیدا ہوئے، مگر یہ بات بالکل بےدلیل ہے۔ جس حدیث میں ذکر ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ آپ کب سے نبی ہیں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : (کُنْتُ نَبِیًّا وَ آدَمُ بَیْنَ الرُّوْحِ وَ الْجَسَدِ) [ مستدرک حاکم : 2؍608، ح : 4209 ] (میں اس وقت نبی تھا جب آدم ؑ روح اور جسم کے درمیان تھے) اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں آپ ﷺ کے نبی طے ہونے کا بیان ہے۔ یہ معنی نہیں کہ آپ اس وقت پیدا ہوچکے تھے، کیونکہ آپ ﷺ کا سب سے آخر میں پیدا ہونا سب کو معلوم ہے۔
3 خصوصاً نبی ﷺ کو اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچا دینے کی تاکید کا ذکر سورة مائدہ (67) میں ہے اور اہل کتاب کو اس تاکید کا ذکر سورة آل عمران (187) اور اعراف (169) میں ہے۔
3 اس مقام پر اس عہد کو یاد دلانے اور بالخصوص ”مِنک“ کہنے سے مراد یہ ہے کہ آپ جو منہ بولے رشتوں کے معاملے میں جاہلیت کی رسم توڑنے سے جھجک رہے ہیں اور دشمنوں کے طعن و تشنیع سے ڈر رہے ہیں، تو آپ لوگوں کے طعن و تشنیع کی قطعاً پروا نہ کریں، دوسرے پیغمبروں کی طرح آپ سے بھی ہمارا پختہ معاہدہ ہے کہ جو کچھ بھی ہم آپ کو حکم دیں گے اسے بجا لاؤ گے اور دوسروں کو اس کی پیروی کا حکم دو گے، لہٰذا جو فریضہ ہم نے آپ پر عائد کیا ہے اسے بلا تامل سرانجام دیں اور کفار و منافقین کی باتوں کی پروا مت کریں، ان سے آپ کو محفوظ رکھنا ہماری ذمہ داری ہے، فرمایا : (وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ) [ المائدۃ : 67 ] ”اور اللہ تجھے لوگوں سے بچائے گا۔“
Ayah 33:8لِّيَسْـَٔـلَ الصّٰدِقِيْنَ عَنْ صِدْقِهِمْ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ عہد محض قول و قرار کے لیے نہیں لیا، بلکہ اس لیے لیا ہے کہ وہ قیامت کے دن پیغمبروں سے سوال کرے گا کہ کیا تم نے قوم کو میرا پیغام پہنچایا ؟ پھر قوم نے تمہیں کیا جواب دیا اور دعوت کا نتیجہ کیا ہوا ؟ پیغمبروں سے جو عہد لیا، وہ ان کی امت کے لوگوں کے لیے بھی ہے اور ”صادقین“ کا لفظ بھی عام ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہر مومن سے بھی اس عہد کے متعلق سوال ہوگا، پھر جن لوگوں نے اللہ کے ساتھ کیے ہوئے اس عہد کو پورا کیا وہی صادق قرار پائیں گے اور اجر کے مستحق ہوں گے اور جنھوں نے اس کا انکار کیا، ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے عذاب الیم تیار کر رکھا ہے۔
Ayah 33:9يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ۔۔ : سورت کے شروع میں رسول اللہ ﷺ کو اللہ کے تقویٰ کا حکم دیا اور اس کا ہر حکم علی الاعلان سنا دینے اور کفار و منافقین کی پروا نہ کرتے ہوئے اس پر عمل کرنے کی تاکید فرمائی اور اس معاملے اور ہر کام میں اللہ تعالیٰ پر توکل کا حکم دیا۔ اب اللہ تعالیٰ کے تقویٰ اور اس پر توکل کی صورت میں اس کے کافی ہوجانے کی دلیل کے طور پر جنگ احزاب میں مسلمانوں کو اپنی نصرت کی نعمت یاد دلائی، یہ جنگ مسلمانوں کو پیش آنے والی تمام جنگوں سے زیادہ خوف ناک تھی۔ اس میں بتایا ہے کہ جب اللہ کے فرماں بردار بندے صرف اللہ پر توکل کرتے ہیں تو وہ ایسے لشکروں کے ساتھ ان کی مدد کرتا ہے جو نظر بھی نہیں آتے۔ اس آیت میں ”يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا“ کے ساتھ مسلمانوں کو مخاطب فرمایا، معلوم ہوا کہ اس سے پہلے نبی ﷺ کو خطاب بھی تمام مسلمانوں کے لیے ہے۔ آپ ﷺ کا ذکر اس لیے ہے کہ جب نبی اس حکم کی تعمیل کا پابند ہے تو امت تو بدرجۂ اولیٰ اس کی تعمیل کی پابند ہوگی۔ (بقاعی)
3 ہمارے استاذ محمد عبدہ ؓ لکھتے ہیں : ”یہ غزوۂ خندق کا ذکر ہے، جسے غزوۂ احزاب بھی کہا جاتا ہے، جو صحیح اور مشہور روایات کے مطابق شوال سن پانچ ہجری میں واقع ہوا۔ اس کی مختصر روداد یہ ہے کہ سن چار (4) ہجری میں نبی ﷺ نے مدینہ کے یہودی قبیلہ بنو نضیر کو مدینہ کی سرزمین سے جلا وطن کردیا تھا۔ اس کے کچھ اشراف (سرکردہ لوگ) مکہ گئے اور سرداران قریش سے ملاقات کر کے انھیں نبی ﷺ اور مسلمانوں کے خلاف بھڑکاتے رہے اور ان سے وعدہ کیا کہ اگر تم مدینہ پر حملہ کرو تو ہم تمہارا ساتھ دیں گے اور ہر طریقے سے تمہاری مدد کریں گے۔ جب قریش نے آمادگی کا اظہار کیا تو وہ نجد کے قبائل غطفان اور ہذیل وغیرہ کی طرف گئے اور انھیں بھی مدینہ پر حملے کے لیے اکسایا اور ہر ممکن طریقے سے امداد کرنے کا وعدہ کیا، یہاں تک کہ وہ بھی آمادہ ہوگئے۔ چناچہ سن پانچ (5) ہجری میں ایک طرف ابو سفیان کی سرکردگی میں قریش اور ان کے حلیف قبائل کا لشکر اور دوسری طرف غطفان، ہذیل اور ان کے حلیف قبائل کا لشکر عیینہ بن حصن کی سرکردگی میں مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے پہنچ گئے اور جنوب اور مشرق سے مدینہ کا محاصرہ کرلیا۔ شمال کی طرف سے بنو نضیر اور بنو قینقاع کے وہ یہودی آئے جو مدینہ سے جلا وطن ہونے کے بعد خیبر اور وادی القریٰ میں آباد ہوگئے تھے۔ مجموعی طور پر ان سب کی تعداد دس ہزار تھی۔ نبی ﷺ نے حالات کا اندازہ کرکے سلمان فارسی ؓ کے مشورے سے ان سمتوں میں خندق کھدوائی اور عام مسلمانوں کے ساتھ خود بھی زمین کھودنے اور مٹی اٹھانے کا کام کرتے رہے۔ پیچھے یعنی مغرب کی سمت میں قبیلہ بنو قریظہ کے یہودی آباد تھے، جو مسلمانوں کے حلیف تھے، اس لیے مسلمان ان کی طرف سے بےفکر تھے، بلکہ انھوں نے اپنے بال بچے ان گڑھیوں میں بھیج دیے تھے جو ان کی جانب تھیں۔ لیکن بنو نضیر کا سردار حیی بن اخطب ان کے پاس پہنچا اور انھیں حالات کی سازگاری کا واسطہ دے کر مسلمانوں سے بد عہدی پر آمادہ کرلیا۔ اس طرح گویا مدینہ منورہ ہر طرف سے مشرکوں اور یہودیوں کے نرغہ میں آگیا۔ ان آیات میں انھی نازک حالات کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر اپنا احسان و انعام بیان کیا ہے۔“ (اشرف الحواشی) واضح رہے کہ قرآن مجید میں اس غزوہ کی تفصیل مؤرخین کے طریقے والی ترتیب پر نہیں، بلکہ نصیحت و عبرت کے اعتبار سے بیان ہوئی ہے، اس لیے واقع ہونے کے لحاظ سے کئی بعد والی باتیں پہلے بیان ہوئی ہیں اور کئی پہلے والی بعد میں۔
3 غزوۂ احزاب میں کفار کی تعداد دس ہزار تھی، جب کہ مشہور قول کے مطابق مسلمان تین ہزار تھے۔ ایک قول یہ ہے کہ نو سو تھے۔ ابن حزم نے ”جوامع السیرۃ“ میں فرمایا : ”یہی بات صحیح ہے بلاشک اور پہلی وہم ہے۔“ اس وقت مسلمانوں کی حالت کا نقشہ پیش کرنے کے لیے چند احادیث ذکر کی جاتی ہیں۔ انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ خندق کی طرف نکلے تو مہاجرین و انصار سردی میں صبح صبح خندق کھود رہے تھے، ان کے پاس کوئی غلام نہ تھے، جو ان کے بجائے یہ کام سرانجام دیتے، تو جب آپ ﷺ نے ان کی مشقت اور بھوک کو دیکھا تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا
اَللّٰہُمَّ إِنَّ الْعَیْشَ عَیْشُ الْآخِرَہْ
فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَ الْمُہَاجِرَہْ
”اے اللہ ! زندگی تو بس آخرت کی زندگی ہے، سو تو انصار اور مہاجرین کو بخش دے۔“
صحابہ نے آپ ﷺ کے جواب میں کہا
نَحْنُ الَّذِیْنَ بَایَعُوْا مُحَمَّدًا
عَلَی الْجِہَادِ مَا بَقِیْنَا أَبَدَا
”ہم وہ ہیں جنھوں نے محمد ﷺ کی جہاد پر بیعت کی ہے، ہمیشہ کے لیے، جب تک ہمارے جسم میں جان باقی ہے۔“
انس ؓ کہتے ہیں، آپ ﷺ ان کے جواب میں کہتے
اَللّٰہُمَّ إِنَّہُ لَا خَیْرَ إِلاَّ خَیْرُ الْآخِرَہْ
فَبَارِکْ فِي الْأَنْصَارِ وَ الْمُہَاجِرَہْ
”اے اللہ ! خیر تو بس آخرت ہی کی خیر ہے، سو تو انصار و مہاجرین میں برکت فرما۔“
انس ؓ نے فرمایا : (یُؤْتَوْنَ بِمِلْءِ کَفَّيَّ مِنَ الشَّعِیْرِ فَیُصْنَعُ لَہُمْ بِإِہَالَۃٍ سَنِخَۃٍ تُوْضَعُ بَیْنَ یَدَيِ الْقَوْمِ ، وَالْقَوْمُ جِیَاعٌ، وَہِيَ بَشِعَۃٌ فِي الْحَلْقِ وَلَہَا رِیْحٌ مُنْتِنٌ) [ بخاري، المغازي، باب غزوۃ الخندق وھي الأحزاب : 4099، 4100 ] ”صحابہ کرام کو دو ہتھیلیاں بھرنے کے برابر جو دیے جاتے، ان کے لیے اس سے بدلی ہوئی بو والی چربی کے ساتھ کھانا تیار کیا جاتا، جو لوگوں کے سامنے رکھا جاتا، وہ بھوکے ہوتے، یہ کھانا ان کے گلوں میں اٹکتا جس میں ناگوار بو ہوتی۔“ جابر ؓ نے فرمایا : (إِنَّا یَوْمَ الْخَنْدَقِ نَحْفِرُ فَعَرَضَتْ کُدْیَۃٌ شَدِیْدَۃٌ، فَجَاءُوا النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ فَقَالُوْا ہٰذِہِ کُدْیَۃٌ عَرَضَتْ فِي الْخَنْدَقِ ، فَقَالَ أَنَا نَازِلٌ ثُمَّ قَامَ وَ بَطْنُہُ مَعْصُوْبٌ بِحَجَرٍ ، وَ لَبِثْنَا ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ لاَ نَذُوْقُ ذَوَاقًا، فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ الْمِعْوَلَ فَضَرَبَ فِي الْکُدْیَۃِ ، فَعَادَ کَثِیْبًا أَہْیَلَ أَوْ أَہْیَمَ ، فَقُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! اءْذَنْ لِيْ إِلَی الْبَیْتِ فَقُلْتُ لاِمْرَأَتِيْ رَأَیْتُ بالنَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ شَیْءًا، مَا کَانَ فِيْ ذٰلِکَ صَبْرٌ، فَعِنْدَکِ شَيْءٌ ؟ قَالَتْ عِنْدِيْ شَعِیْرٌ وَعَنَاقٌ، فَذَبَحْتُ الْعَنَاقَ وَطَحَنَتِ الشَّعِیْرَ ، حَتّٰی جَعَلْنَا اللَّحْمَ فِي الْبُرْمَۃِ ، ثُمَّ جِءْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ وَالْعَجِیْنُ قَدِ انْکَسَرَ ، وَالْبُرْمَۃُ بَیْنَ الْأَثَافِيِّ قَدْ کَادَتْ أَنْ تَنْضَجَ فَقُلْتُ طُعَیِّمٌ لِيْ ، فَقُمْ أَنْتَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! وَ رَجُلٌ أَوْ رَجُلاَنِ ، قَالَ کَمْ ہُوَ ؟ فَذَکَرْتُ لَہُ ، قَالَ کَثِیْرٌ طَیِّبٌ قَالَ قُلْ لَّہَا لاَ تَنْزِعِ الْبُرْمَۃَ وَ لاَ الْخُبْزَ مِنَ التَّنُّوْرِ حَتّٰی آتِيَ فَقَالَ قُوْمُوْا، فَقَامَ الْمُہَاجِرُوْنَ وَ الْأَنْصَارُ ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَی امْرَأَتِہِ قَالَ وَیْحَکِ ، جَاء النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ بالْمُہَاجِرِیْنَ وَالْأَنْصَارِ وَمَنْ مَعَہُمْ ، قَالَتْ ہَلْ سَأَلَکَ ؟ قُلْتُ نَعَمْ ، فَقَالَ ادْخُلُوْا وَلاَ تَضَاغَطُوْا فَجَعَلَ یَکْسِرُ الْخُبْزَ وَ یَجْعَلُ عَلَیْہِ اللَّحْمَ ، وَیُخَمِّرُ الْبُرْمَۃَ وَالتَّنُّوْرَ إِذَا أَخَذَ مِنْہُ ، وَیُقَرِّبُ إِلٰی أَصْحَابِہِ ثُمَّ یَنْزِعُ ، فَلَمْ یَزَلْ یَکْسِرُ الْخُبْزَ وَ یَغْرِفُ حَتّٰی شَبِعُوْا وَ بَقِيَ بَقِیَّۃٌ قَالَ کُلِيْ ہٰذَا وَ أَہْدِيْ ، فَإِنَّ النَّاسَ أَصَابَتْہُمْ مَجَاعَۃٌ) [ بخاري، المغازي، باب غزوۃ الخندق و ھي الأحزاب : 4101 ] ”خندق کے دن ہم کھدائی کر رہے تھے، تو ایک سخت چٹان پیش آگئی۔ صحابہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور بتایا کہ یہ ایک سخت چٹان پیش آگئی ہے۔ آپ نے فرمایا : ”میں اترتا ہوں۔“ چناچہ آپ ﷺ اٹھے، آپ کے پیٹ پر پتھر بندھا ہوا تھا۔ ہمیں تین دن گزر چکے تھے کہ ہم نے کوئی چیز چکھی تک نہ تھی۔ نبی ﷺ نے کدال پکڑی، چٹان پر ماری تو وہ بھر بھرے تودے کی طرح ہوگئی۔ میں نے کہا : ”یا رسول اللہ ! مجھے گھر جانے کی اجازت دیں۔“ گھر جا کر میں نے بیوی سے کہا : ”میں نے نبی ﷺ کی ایسی حالت دیکھی ہے جس پر مجھ سے صبر نہیں ہوسکتا، تو تیرے پاس کچھ (کھانے کے لیے) ہے ؟“ اس نے کہا : ”میرے پاس کچھ جو اور ایک بکری کی پٹھوری ہے۔“ میں نے پٹھوری ذبح کی، اس نے جو پیسے اور ہم نے گوشت ہانڈی میں ڈال دیا۔ پھر میں نبی ﷺ کے پاس آیا، اتنے میں آٹا پکنے کے لیے تیار ہوگیا تھا اور ہانڈی چولھے پر پکنے کے قریب تھی۔ میں نے جا کر کہا : ”تھوڑا سا کھانا ہے یا رسول اللہ ! آپ اور آپ کے ساتھ ایک یا دو آدمی چلیں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”کتنا ہے ؟“ میں نے بتایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”بہت ہے اور عمدہ ہے، بیوی سے کہو کہ میرے آنے تک نہ ہانڈی اتارے اور نہ تنور سے روٹی نکالے۔“ آپ نے صحابہ سے فرمایا : ”چلو۔“ مہاجرین و انصار اٹھ کھڑے ہوئے۔ جابر ؓ بیوی کے پاس گئے اور اسے کہنے لگے : ”تجھ پر افسوس ہو ! نبی ﷺ مہاجرین و انصار اور جو بھی ان کے ساتھ ہیں انھیں لے کر آ رہے ہیں۔“ اس نے کہا : ”آپ ﷺ نے تم سے پوچھا تھا ؟“ میں نے کہا : ”ہاں !“ خیر آپ ﷺ نے فرمایا : ”اندر آجاؤ اور بھیڑ نہ کرو۔“ آپ روٹی توڑ توڑ کر اس پر گوشت ڈالتے رہے۔ ہانڈی اور تنور سے سالن اور روٹی نکالنے کے بعد اسے ڈھانک دیتے اور صحابہ کے سامنے رکھ دیتے، پھر دوبارہ اسی طرح کرتے، آپ روٹی اور سالن ڈالتے رہے، یہاں تک کہ سب سیر ہوگئے اور کھانا بچ بھی گیا تو جابر کی بیوی سے فرمایا : ”کھاؤ اور ہدیہ بھی دو ، لوگوں کو بھوک آپہنچی ہے۔“ اس سے اگلی روایت میں جابر ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اُدْعُ خَابِزَۃً فَلْتَخْبِزْ مَعَکِ) ”اپنے ساتھ روٹیاں پکانے والی ایک اور عورت بلا لو۔“ اور جابر ؓ نے فرمایا : ”وہ ایک ہزار تھے اور اللہ کی قسم ! وہ کھا کر کھانا چھوڑ گئے، ہانڈی اسی طرح ابل رہی تھی اور آٹا پکایا جا رہا تھا۔“ [ بخاري، المغازي، باب غزوۃ الخندق و ھي الأحزاب : 4102 ] اس حدیث سے ابن حزم کی بات کی تائید ہوتی ہے کہ مسلمانوں کا لشکر تین ہزار نہیں بلکہ ایک ہزار کے قریب تھا۔
کفار کا خندق کو عبور کرنے کے لیے اتنا زبردست دباؤ تھا کہ مسلسل دفاع کی وجہ سے بعض اوقات آپ کی نماز بھی رہ جاتی اور آپ بعد میں ادا کرتے۔ جابر ؓ فرماتے ہیں : ”عمر ؓ خندق کے موقع پر سورج غروب ہونے کے بعد آئے اور قریش کو برا بھلا کہتے ہوئے کہنے لگے : ”اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! میں نماز کے قریب بھی نہیں جاسکا، حتیٰ کہ سورج ڈوبنے کے قریب پہنچ گیا۔“ نبی ﷺ نے فرمایا : (وَاللّٰہِ ! مَا صَلَّیْتُہَا) ”اللہ کی قسم ! میں نے بھی (عصر) نہیں پڑھی۔“ تو ہم نبی ﷺ کے ساتھ بطحان میں اترے، آپ نے اور ہم نے نماز کے لیے وضو کیا، تو آپ نے سورج غروب ہونے کے بعد عصر پڑھی، پھر مغرب پڑھی۔“ [ بخاري، المغازي، باب غزوۃ الخندق وھي الأحزاب : 4112 ] عبداللہ بن ابی اوفی ؓ فرماتے ہیں : ”رسول اللہ ﷺ نے احزاب (اتحادی لشکروں) کے خلاف بد دعا کی اور عرض کیا : (اَللّٰہُمَّ مُنْزِلَ الْکِتَابِ ! سَرِیْعَ الْحِسَابِ ! اِہْزِمِ الْأَحْزَابَ ، اَللّٰہُمَّ اہْزِمْہُمْ وَ زَلْزِلْہُمْ) [ بخاري، المغازي، باب غزوۃ الخندق وھي الأحزاب : 4115 ] ”اے اللہ ! اے کتاب نازل کرنے والے ! بہت جلد حساب لینے والے ! ان لشکروں کو شکست دے۔ اے اللہ ! انھیں شکست دے اور انھیں سخت ہلا کر رکھ دے۔“ اللہ تعالیٰ نے ”َّجُنُوْدًا“ کا لفظ ارشاد فرمایا، حالانکہ اس کا واحد ”جُنْدٌ“ (لشکر) بھی بڑی تعداد کے اظہار کے لیے کافی تھا، لیکن کیونکہ یہ مختلف گروہ تھے، قریش مکہ، بنو غطفان وغیرہ، اس لیے ”َّجُنُوْدًا“ کا لفظ استعمال فرمایا۔
فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيْحًا : الرحیق المختوم میں ہے : ”مشرکین نے مدینہ کا محاصرہ ایک ماہ یا ایک ماہ کے قریب جاری رکھا تھا۔“ آزمائش کے یہ ایام بہت سخت تھے۔ اس دوران مسلمانوں کی حالت اس کے بعد والی آیات میں بیان ہوئی ہے۔ کفار اس ارادے سے آئے تھے کہ مسلمانوں کا نام و نشان مٹا کر دم لیں گے اور جاتے ہی مردوں کو قتل کرکے عورتوں اور بچوں کو باندھ کر ساتھ لے آئیں گے۔ دس ہزار کے مقابلے میں ایک ہزار کی حیثیت ہی کیا تھی، مگر اللہ کی توفیق سے خندق کی وجہ سے وہ نہ مدینہ میں داخل ہو سکے، نہ انھیں کوئی کامیابی حاصل ہوسکی۔ وہ تو ایک ہلّے میں فتح کا منصوبہ لے کر آئے تھے، لیکن یہاں انھیں محاصرے کے لیے ایک ماہ رکنا پڑا، جس کے لیے وہ تیار ہو کر نہیں آئے تھے، نہ ہی ان کے پاس اتنے دن رہنے کے لیے درکار خور و نوش کی اور دوسری اشیاء موجود تھیں، اس لیے وہ ہر لمحے زیادہ سے زیادہ قوت سے حملہ آور ہو رہے تھے۔ مسلمانوں نے اگرچہ اپنی حد تک مدافعت کی، مگر ان کی تعداد، ان کی تیاری اور تدابیر ہرگز ایسی نہ تھیں کہ ان لشکروں کا مقابلہ کرسکتیں، لیکن ان کی حالت زار دیکھ کر اور ان کی فریاد سن کر اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور غیب سے ان کی مدد فرمائی۔ یہ مدد دو چیزوں پر مشتمل تھی، ایک سخت آندھی اور دوسرے ایسے لشکر جو مسلمانوں کی نگاہ سے اوجھل تھے۔ ”ریحاً“ سے مراد وہ نہایت سرد اور سخت آندھی ہے جس سے کفار کے خیمے اکھڑ گئے، ان کے چولھوں کی آگ بجھ گئی، دیگیں الٹ گئیں، گھوڑے اور اونٹ رسیاں تڑوا کر بھاگ گئے اور ان پر ایسا شدید خوف طاری ہوا کہ وہ راتوں رات محاصرہ چھوڑ کر بھاگ گئے۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (نُصِرْتُ بالصَّبَا وَأُہْلِکَتْ عَادٌ بالدَّبُوْرِ) [ بخاري، المغازي، باب غزوۃ الخندق و ھي الأحزاب : 4105 ] ”میری مدد صبا (مشرق سے آنے والی ہوا) کے ساتھ کی گئی اور عاد کو دبور (مغرب سے آنے والی ہوا) کے ساتھ ہلاک کیا گیا۔“
وَّجُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا : ان لشکروں سے مراد فرشتوں کے لشکر ہیں، جنھوں نے کفار کے دلوں میں رعب ڈال کر ان کی ہمتیں توڑ دیں اور انھیں تتر بتر کردیا۔ بعض حضرات نے لکھ دیا کہ غزوۂ خندق میں فرشتوں کا اترنا صحیح احادیث سے صراحت کے ساتھ ثابت نہیں، مگر یہ بات درست نہیں۔ عائشہ ؓ سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں : (لَمَّا رَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ مِنَ الْخَنْدَقِ وَ وَضَعَ السِّلاَحَ وَاغْتَسَلَ ، أَتَاہُ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَقَالَ قَدْ وَضَعْتَ السِّلاَحَ وَاللّٰہِ ! مَا وَضَعْنَاہُ ، فَاخْرُجْ إِلَیْہِمْ قَالَ فَإِلٰی أَیْنَ ؟ قَالَ ہَاہُنَا، وَأَشَارَ إِلٰی بَنِيْ قُرَیْظَۃَ ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ إِلَیْہِمْ) [ بخاري، المغازي، باب مرجع النبي ﷺ من الأحزاب۔۔ : 4117 ] ”جب رسول اللہ ﷺ خندق سے واپس آئے، ہتھیار اتار دیے اور غسل کیا تو جبریل ؑ آپ ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے : ”آپ نے ہتھیار اتار دیے، اللہ کی قسم ! ہم نے تو نہیں اتارے، سو آپ ان کی طرف نکلیے۔“ آپ نے فرمایا : ”کس طرف ؟“ انھوں نے بنو قریظہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : ”اس طرف۔“ تو نبی ﷺ ان کی طرف نکل پڑے۔“ انس ؓ فرماتے ہیں : (کَأَنِّيْ أَنْظُرُ إِلَی الْغُبَارِ سَاطِعًا فِيْ زُقَاقِ بَنِيْ غَنْمٍ مَوْکِبِ جِبْرِیْلَ حِیْنَ سَارَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ إِلٰی بَنِيْ قُرَیْظَۃَ) [ بخاري، المغازي، باب مرجع النبي ﷺ من الأحزاب۔۔ : 4118 ]”گویا کہ میں وہ غبار چمکتا ہوا دیکھ رہا ہوں جو جبریل ؑ کی سواری سے بنو غنم کی گلی میں اٹھ رہا تھا، جب رسول اللہ ﷺ بنی قریظہ کی طرف گئے۔“
رسول اللہ ﷺ کے غزوات میں فرشتوں کے نزول اور اس کے جنود کی آمد کا ذکر قرآن میں کئی جگہ آیا ہے، جنگ حنین میں فرمایا : (ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلٰي رَسُوْلِهٖ وَعَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ وَاَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا) [ التوبۃ : 26 ] ”پھر اللہ نے اپنی سکینت اپنے رسول پر اور ایمان والوں پر نازل فرمائی اور وہ لشکر اتارے جو تم نے نہیں دیکھے۔“ یہ ”جنود“ فرشتے تھے، اس کی وضاحت غزوۂ بدر کے بیان میں سورة انفال میں آئی ہے، فرمایا : (اِذْ يُوْحِيْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰۗىِٕكَةِ اَنِّىْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۭسَاُلْقِيْ فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَاضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ) [ الأنفال : 12 ] ”جب تیرا رب فرشتوں کی طرف وحی کر رہا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں، پس تم ان لوگوں کو جمائے رکھو جو ایمان لائے ہیں، عنقریب میں ان لوگوں کے دلوں میں جنھوں نے کفر کیا، رعب ڈال دوں گا۔ پس ان کی گردنوں کے اوپر ضرب لگاؤ اور ان کے ہر ہر پور پر ضرب لگاؤ۔“ سورة توبہ میں غار کے اندر رسول اللہ ﷺ کی مدد نظر نہ آنے والے انھی لشکروں کے ساتھ کرنے کا ذکر فرمایا : (اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَــصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ثَانِيَ اثْنَيْنِ اِذْ هُمَا فِي الْغَارِ اِذْ يَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا ۚ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلَيْهِ وَاَيَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى ۭوَكَلِمَةُ اللّٰهِ ھِىَ الْعُلْيَا ۭوَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ) [ التوبۃ : 40 ] ”اگر تم اس کی مدد نہ کرو تو بلاشبہ اللہ نے اس کی مدد کی، جب اسے ان لوگوں نے نکال دیا جنھوں نے کفر کیا، جب کہ وہ دو میں دوسرا تھا، جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا غم نہ کر، بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ تو اللہ نے اپنی سکینت اس پر اتار دی اور اسے ان لشکروں کے ساتھ قوت دی جو تم نے نہیں دیکھے اور ان لوگوں کی بات نیچی کردی جنھوں نے کفر کیا اور اللہ کی بات ہی سب سے اونچی ہے اور اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔“ رسول اللہ ﷺ کے بعد بھی کفار کے ساتھ مسلمانوں کی جنگوں میں بارہا فرشتوں کے نزول کا مشاہدہ ہوا ہے۔ ہمارے زمانے میں بھی ایسے کئی واقعات پیش آئے ہیں، شرط اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے جہاد اور اس پر استقامت ہے۔ مزید دیکھیے سورة انفال کی آیت (10) کی تفسیر۔
3 یہ جنگ کفار کی طرف سے مسلمانوں پر حملہ آور ہونے کی سب سے بڑی مہم تھی۔ اس کا انجام یہ ہوا کہ وہ اس کے بعد اتنے لشکر کبھی جمع نہ کرسکے، نہ پھر انھیں مدینہ پر حملہ آور ہونے کی جرأت ہوسکی۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی پیش گوئی پہلے ہی فرما دی۔ سلیمان بن صرد ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ لشکر آپ کو چھوڑ کر چلے گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا : (اَلْآنَ نَغْزُوْہُمْ وَلاَ یَغْزُوْنَنَا، نَحْنُ نَسِیْرُ إِلَیْہِمْ) [ بخاري، المغازي، باب غزوۃ الخندق وھي الأحزاب : 4110 ] ”اب ہم ان پر حملہ آور ہوں گے، وہ ہم پر حملہ آور نہیں ہوں گے، ہم ان کی طرف پیش قدمی کریں گے۔“
3 رسول اللہ ﷺ کسی قسم کے فخر یا غرور کے بجائے ان لشکروں کی شکست کو ہمیشہ اپنے اکیلے رب کا کام قرار دیتے تھے۔ چناچہ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کہا کرتے تھے : (لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ ، أَعَزَّ جُنْدَہُ ، وَنَصَرَ عَبْدَہُ وَ غَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَہُ ، فَلاَ شَيْءَ بَعْدَہُ) [ بخاري، المغازي، باب غزوۃ الخندق وھي الأحزاب : 4114 ] ”اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس نے اپنے لشکر کو غلبہ عطا فرمایا اور اپنے بندے کی مدد کی اور اکیلا تمام جماعتوں پر غالب آیا، سو اس کے بعد کوئی چیز نہیں۔“
وَكَان اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرًا : یعنی تم دشمن کے مقابلے میں جو کچھ کر رہے تھے، خندق کھود رہے تھے، بھوک پیاس اور خوف کی سختیاں برداشت کر رہے تھے اور استقامت اختیار کیے ہوئے تھے، اللہ تعالیٰ سب کچھ خوب دیکھ رہا تھا، سو اس نے تمہاری حالت دیکھ کر غیب سے تمہاری مدد فرمائی۔
Ayah 33:10اِذْ جَاۗءُوْكُمْ مِّنْ فَوْقِكُمْ : اس سے مراد مدینہ کا بالائی حصہ، یعنی مشرقی جانب ہے۔ اس طرف سے عیینہ بن حصن کی قیادت میں قبیلہ غطفان، عوف بن مالک کی قیادت میں قبیلہ ہوازن اور طلیحہ بن خویلد اسدی کی قیادت میں نجد کے قبائل آئے اور ان کے ساتھ بنو نضیر کے یہودی بھی مل گئے۔
وَمِنْ اَسْفَلَ مِنْكُمْ : نیچے کی جانب سے مراد مدینے کا مغربی حصہ ہے۔ اس طرف سے ابوسفیان بن حرب کی قیادت میں کفار مکہ اور کچھ دوسرے لوگ آئے۔ عین حالت جنگ میں بنو قریظہ نے بھی صلح توڑ دی اور دشمن کے ساتھ مل گئے۔
وَاِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ : ”زَاغَ یَزِیْغُ زَیْغًا“ (ض) کا معنی ہے ”مَالَ“ یعنی جھکنا، ٹیڑھا ہونا۔ سورة نجم میں ہے : (مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰى) [ النجم : 17 ] ”نہ نگاہ ادھر ادھر ہوئی اور نہ حد سے آگے بڑھی۔“ اللہ تعالیٰ نے آنکھ کے اوپر نیچے اور دائیں بائیں کی جہتوں میں حرکت کرنے کی خاص کیفیت رکھی ہے، جب زیادہ خوف یا گھبراہٹ آپڑے تو نگاہ ان جہتوں سے پھرجاتی ہے، پھر کبھی وہ کھلی کی کھلی رہ جاتی ہے، جیسا کہ فرمایا : (فَاِذَا هِىَ شَاخِصَةٌ اَبْصَارُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا) [ الأنبیاء : 97 ] ”تو اچانک یہ ہوگا کہ ان لوگوں کی آنکھیں کھلی رہ جائیں گی جنھوں نے کفر کیا۔“ کبھی ایک ہی طرف پھری ہوئی رہ جاتی ہے، جیسا کہ اس آیت میں ہے اور کبھی بےاختیار گھومنے لگتی ہے، جیسا کہ آگے آ رہا ہے : (تَدُوْرُ اَعْيُنُهُمْ كَالَّذِيْ يُغْشٰى عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ) [ الأحزاب : 19 ] ”ایسے دیکھتے ہیں کہ ان کی آنکھیں اس شخص کی طرح گھومتی ہیں جس پر موت کی غشی طاری کی جا رہی ہو۔“ مراد خوف کی شدت ہے۔
وَبَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَـنَاجِرَ : ”الحناجر“ ”حَنْجَرَۃٌ“ کی جمع ہے، حلق کا آخری حصہ۔ خوف کی شدت کی تصویر کھینچی ہے، جیسے دل شدید دکھڑکن اور گھبراہٹ کی وجہ سے اپنی جگہ چھوڑ کر حلق تک آپہنچا ہو۔ بقاعی نے کہا، ہوسکتا ہے یہ تشبیہ کے بجائے حقیقت ہو کہ طحال اور پھیپھڑا پھول کر دل کو گلے کی طرف دھکیل دیں، اس لیے بزدل کو کہتے ہیں : ”اِنْتَفَخَ مَنْخِرُہُ أَيْ رِءَتُہُ“ یعنی اس کا پھیپھڑا پھول گیا۔ خوف کی وجہ سے دل گلے کی طرف جانے کی وجہ سے بعض اوقات سانس بند ہو کر آدمی کی موت بھی واقع ہوجاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (شَرُّ مَا فِيْ رَجُلٍ شُحٌّ ہَالِعٌ، وَجُبْنٌ خَالِعٌ) [ مسند أحمد : 2؍320، ح : 8283، عن أبي ہریرۃ ؓ ، صحیح ] ”بد ترین چیز جو آدمی میں ہے، وہ شدید حرص ہے جو بےحوصلہ بنا دینے والی ہے اور بزدلی ہے جو دل نکال دینے والی ہے۔“
وَتَظُنُّوْنَ باللّٰهِ الظُّنُوْنَا : اس سے مراد یا تو کمزور ایمان والے لوگ ہیں، کیونکہ پختہ ایمان والوں کا ذکر آگے آ رہا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَلَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ ۙ قَالُوْا ھٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَصَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ ۡ وَمَا زَادَهُمْ اِلَّآ اِيْمَانًا وَّتَسْلِيْمًا) [ الأحزاب : 22 ] ”اور جب مومنوں نے لشکروں کو دیکھا تو انھوں نے کہا یہ وہی ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا، اور اس چیز نے ان کو ایمان اور فرماں برداری ہی میں زیادہ کیا۔“ ایسے کمزور ایمان والے لوگ یہ گمان کر رہے تھے کہ اب کے بار نہیں بچیں گے۔ یا سبھی مومن مراد ہیں اور کئی طرح کے گمانوں سے مراد وہ گمان ہیں جو بےاختیار اس موقع پر دل میں آجاتے ہیں، جیسا کہ سورة بقرہ (214) اور سورة یوسف (110) میں ہے۔
Ayah 33:11هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُوْنَ : یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ امتحان ہوجائے کہ ایسے سخت حالات میں کون ایمان پر قائم رہتا ہے اور کس کے قدم ڈگمگا جاتے ہیں۔
وَزُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِيْدًا : چاروں طرف سے لشکروں کے ہجوم اور شہر کے اندر سے بنو قریظہ کی عہد شکنی کی خبر سے مسلمانوں کی یہ حالت ہوئی جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے۔ اس وقت خوف کی حالت کا اور مسلمانوں کی جانفشانی کا اندازہ زبیر اور
حذیفہ ؓ کے بیانات سے ہوتا ہے۔ جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے احزاب کے دن فرمایا : (مَنْ یَأْتِیْنَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ ؟) ”کون ہے جو ہمارے پاس ان (بنو قریظہ کے یہودی) لوگوں کی خبر لائے ؟“ زبیر ؓ نے کہا : ”میں ہوں۔“ آپ نے پھر فرمایا : ”کون ہے جو ہمارے پاس ان لوگوں کی خبر لائے ؟“ زبیر ؓ نے کہا : ”میں ہوں۔“ پھر فرمایا : ”کون ہے جو ہمارے پاس ان لوگوں کی خبر لائے ؟“ زبیر ؓ نے کہا : ”میں ہوں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ لِکُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِیًّا، وَ إِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَیْرُ) [ بخاري، المغازي، باب غزوۃ الخندق و ھي الأحزاب : 4113 ]”ہر نبی کا ایک حواری (خاص مددگار) ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے۔“ ابراہیم تیمی کے والد بیان کرتے ہیں کہ ہم حذیفہ ؓ کے پاس تھے، ایک آدمی کہنے لگا : ”اگر میں رسول اللہ ﷺ کو پا لیتا تو آپ کے ساتھ مل کر لڑتا اور پوری کوشش لگا دیتا۔“ تو حذیفہ ؓ نے کہا : ”تو ایسا کرتا ؟ حالانکہ میں نے اپنے آپ کو اور اپنے ساتھیوں کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ احزاب کی رات دیکھا اور ہمیں سخت آندھی اور سردی نے گھیرا ہوا تھا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (أَلَا رَجُلٌ یَأْتِیْنِيْ بِخَبَرِ الْقَوْمِ جَعَلَہُ اللّٰہُ عَزَّ وَ جَلَّ مَعِيَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ؟) ”کیا کوئی آدمی ہے جو میرے پاس ان لوگوں کی خبر لائے، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن میرے ساتھ کر دے گا ؟“ ہم خاموش رہے، کسی نے آپ کو جواب نہیں دیا، پھر فرمایا : ”کیا کوئی آدمی ہے جو میرے پاس ان لوگوں کی خبر لائے، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن میرے ساتھ کر دے گا ؟“ ہم خاموش رہے اور کسی نے آپ ﷺ کو جواب نہیں دیا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا : (قُمْ یَا حُذَیْفَۃُ ! فَأْتِنَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ) ”حذیفہ ! اٹھو اور ہمارے پاس ان لوگوں کی خبر لے کر آؤ۔“ اب میرے پاس کوئی چارہ نہ تھا، کیونکہ آپ نے میرا نام لے کر مجھے اٹھنے کا کہا تھا۔ آپ نے فرمایا : (اِذْہَبْ فَأْتِنِيْ بِخَبَرِ الْقَوْمِ وَلَا تَذْعَرْہُمْ عَلَيَّ) ”جاؤ، میرے پاس ان لوگوں کی خبر لے کر آؤ اور انھیں مجھ پر اکسا نہ دینا (یعنی ایسا کوئی کام نہ کرنا جس کی وجہ سے وہ بھڑک اٹھیں)۔“ جب میں آپ کے پاس سے نکلا تو ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے میں حمام میں چل رہا ہوں، یہاں تک کہ میں ان کے پاس پہنچ گیا۔ میں نے دیکھا کہ ابوسفیان آگ کے ساتھ اپنی پیٹھ سینک رہا تھا۔ میں نے تیر کمان پر چڑھایا اور ارادہ کیا کہ اسے نشانہ بناؤں، تو مجھے رسول اللہ ﷺ کی بات یاد آگئی کہ انھیں مجھ پر اکسا نہ دینا اور اگر میں تیر مار دیتا تو سیدھا اسے لگتا، پھر میں واپس آیا تو ایسے ہی محسوس ہوتا تھا جیسے میں حمام میں چل رہا ہوں۔ جب میں آپ ﷺ کے پاس پہنچا تو میں نے آپ کو ان لوگوں کی خبر بیان کی اور فارغ ہوا تو مجھے سردی نے آلیا۔ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنا ایک زائد کمبل اوڑھا دیا، جسے آپ اوڑھ کر نماز ادا کیا کرتے تھے۔ میں صبح تک سویا رہا، جب صبح ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا : (قُمْ یَا نَوْمَانُ !) ”بہت زیادہ سونے والے ! اٹھ جاؤ۔“ [ مسلم، الجھاد والسیر، باب غزوۃ الأحزاب : 1788 ]