Ayah 33:31وَمَنْ يَّقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کی بیویوں سے فرمایا کہ جس طرح تمہارے لیے گناہ پر عذاب دگنا ہے اسی طرح اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی فرماں برداری اور عمل صالح پر ثواب بھی دگنا ہے، کیونکہ جس طرح تمہارے گناہ میں اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کے ساتھ ان کی ایذا بھی ہے، اسی طرح ان کی فرماں برداری پر اطاعت کے ساتھ ان کی خاص خوشی بھی ہے۔ دوہرے گناہ اور دوہرے ثواب کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ازواج مطہرات امت کے لیے نمونہ ہیں۔ انھیں دیکھ کر اگر کسی نے گناہ کیا تو اس کا وبال ان پر بھی ہوگا اور اگر انھیں دیکھ کر کسی نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت اختیار کی تو اس کا ثواب انھیں بھی ملے گا۔
وَاَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِيْمًا : ازواج مطہرات کو اختیار دینے کے حکم کا باعث ان کا خرچے میں اضافے کا مطالبہ تھا۔ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کو ترجیح دی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں بشارت دیتے ہوئے فرمایا کہ تم میں سے جو آخرت کی طلب میں اللہ اور اس کے رسول کی فرماں بردار رہے اور عمل صالح کرے، ہم نے اس کے لیے بہت عزت والا رزق تیار کر رکھا ہے۔ مفسرین نے اس رزق کریم سے مراد جنت کا رزق بیان فرمایا ہے۔ یقیناً اس سے زیادہ عزت والا رزق کوئی نہیں، مگر اس میں جنت کے علاوہ آئندہ ہونے والی فتوحات کے حوالے سے رزق کی فراخی کی بشارت بھی ہے، کیونکہ مال غنیمت بھی رزق کریم ہے، جس کے حصول میں رزق کے ساتھ فتح کی عزت بھی ہوتی ہے۔ چناچہ عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں : ”جب خیبر فتح ہوا تو رسول اللہ ﷺ اس کے خمس میں سے ہر بیوی کو اسّی (80) وسق (دو سو چالیس من) کھجوریں اور بیس (20) وسق (ساٹھ من) جو دیا کرتے تھے (اور یہ وظیفہ آپ کی وفات کے بعد بھی جاری رہا)۔“ [ أبو داوٗد، الخراج، باب ما جاء في حکم أرض خیبر : 3006، و قال الألباني حسن الإسناد ] یہ الگ بات ہے کہ امہات المومنین رسول اللہ ﷺ کی تربیت کے نتیجے میں آپ ﷺ ہی کی طرح اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتیں اور اسی زندگی پر قناعت کرتیں جو انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو دنیا پر ترجیح دیتے ہوئے اختیار کی تھی۔
Ayah 33:32يٰنِسَاۗءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَاۗءِ۔ : یعنی تمہاری حیثیت اور مرتبہ عام عورتوں جیسا نہیں، بلکہ تمہیں نبی کی بیویاں ہونے کا جو شرف عطا ہوا ہے اس کی وجہ سے تمہارا مقام دوسری عورتوں سے بلند ہے اور تم ان کے لیے نمونہ ہو۔ اس آیت سے بعض اہل علم نے استدلال کیا ہے کہ ازواج مطہرات دوسری عورتوں سے افضل ہیں، البتہ آسیہ زوجہ فرعون، مریم بنت عمران اور فاطمہ بنت رسول اللہ ﷺ اس سے مستثنیٰ ہیں، کیونکہ ان کی فضیلت صحیح نصوص سے ثابت ہے۔ دیکھیے سورة آل عمران (42) زمخشری نے فرمایا : ”أَحَدٍ“ کا لفظ مذکر، مؤنث، واحد، تثنیہ اور جمع سب کے لیے آتا ہے اور مطلب یہ ہے کہ تم عورتوں کی جماعتوں میں سے کسی ایک جماعت جیسی نہیں ہو۔ یعنی جب عورتوں کی قوم کو ایک ایک جماعت کر کے دیکھا جائے تو ان میں سے کوئی جماعت ایسی نہیں جو فضیلت اور پیش قدمی میں تمہارے برابر ہو۔“
اِنِ اتَّــقَيْتُنَّ : اس کا تعلق پہلے جملے سے ہے، یعنی دوسری عورتوں سے افضل ہونے کے لیے شرط تقویٰ ہے۔ یہ اس لیے فرمایا کہ وہ بےخوف نہ ہوجائیں، بلکہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتی رہیں اور ان کاموں سے بچتی رہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔ ازواج مطہرات کا آخر دم تک تقویٰ پر قائم رہنا ایک ثابت شدہ حقیقت ہے، لہٰذا ان کی فضیلت بھی مسلّم ہے۔ ”اِنِ اتَّــقَيْتُنَّ“ کا تعلق بعد والے جملے سے بھی ہوسکتا ہے، یعنی اگر تم تقویٰ اختیار کرو تو بات کرنے میں لوچ اور نرمی اختیار نہ کرو۔
فَلَا تَخْـضَعْنَ بالْقَوْلِ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے جس طرح عورت کے وجود میں مرد کے لیے جنسی کشش رکھی ہے، جس کی حفاظت کے لیے پردے کا اور آنکھ نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے، اسی طرح عورت کی آواز میں بھی فطری طور پر دل کشی، نرمی اور نزاکت رکھی ہے، جو مرد کو اپنی طرف کھینچتی ہے، اس لیے نبی ﷺ کی بیویوں کو حکم دیا گیا کہ مردوں سے بات کرتے وقت ایسا لہجہ اختیار کریں جس میں نرمی اور دل کشی کے بجائے قدرے سختی اور مضبوطی ہو، تاکہ دل کا کوئی بیمار کسی غلط خیال میں مبتلا ہو کر آگے بڑھنے کی جرأت نہ کرے۔ اس سے معلوم ہوا کہ امہات المومنین کو ایسے لہجے میں غیر محرم مردوں سے بات کرنے کی اجازت تھی جو لوچ اور ملائمت سے خالی ہو۔ خصوصاً اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ کی گھریلو زندگی اور عورتوں کے مسائل کے متعلق امت کو وہی بہتر اور پوری طرح آگاہ کرسکتی تھیں اور فی الواقع انھوں نے یہ فریضہ بہترین طریقے سے ادا کیا۔ عام طور پر جو کہا جاتا ہے کہ عورت کی آواز غیر محرم کو سننا جائز نہیں، یہ بات درست نہیں۔ واضح رہے کہ یہ حکم امہات المومنین کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ امت کی تمام عورتوں کے لیے ہے، کیونکہ ازواج مطہرات امت کی عورتوں کے لیے نمونہ ہیں۔ اگلی آیت میں مذکور احکام بھی اس بات کی دلیل ہیں کہ اگرچہ ان کی اولین مخاطب امہات المومنین ہیں، مگر یہ حکم سب کے لیے ہے، ورنہ دوسری عورتوں کے لیے جاہلیت کے زمانے کی عورتوں کی طرح زیب و زینت کے عام اظہار کی اجازت ہوگی، جب کہ انھیں زور سے زمین پر پاؤں مار کر مخفی زینت کے اظہار کی بھی اجازت نہیں۔ دیکھیے سورة نور (31)۔
وَّقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا : نرمی سے بات کرنے کی ممانعت کا یہ مطلب نہیں کہ ایسی بات کرو جو اخلاق کے منافی ہو اور اس میں مخاطب کی بےعزتی ہو، بلکہ صرف لہجے میں مضبوطی ہونی چاہیے، بات بہرصورت اچھی اور دستور کے مطابق ہونی لازم ہے۔
Ayah 33:33وَقَرْنَ فِيْ بُيُوْتِكُنَّ : ”قَرْنَ“ باب ”قَرَّ یَقَرُّ قَرَارًا“ (سمع) (کسی جگہ ٹھہرنا) سے جمع مؤنث امر حاضر کا صیغہ ہے، جو اصل میں ”اِقْرَرْنَ“ تھا۔ پہلی راء کو تخفیف کے لیے حذف کردیا اور اس کا فتحہ قاف کو دے دیا، ہمزہ وصلی کی ضرورت نہ رہی، اس لیے اسے حذف کردیا گیا، جیسا کہ ”ظَلِلْتَ“ کو پہلا لام حذف کر کے ”ظَلْتَ“ کردیا جاتا ہے۔ بعض مفسرین نے اسے ”وَقَرَ یَقِرُ وَقَارًا“ (ض) سے مشتق قرار دیا ہے، مگر یہ صرف اس قراءت کی صورت میں ہوسکتا ہے جس میں ”قَرْنَ“ کو قاف کے کسرہ کے ساتھ ”قِرْنَ“ پڑھا گیا ہے۔ اس صورت میں یہ ”وَعَدَ یَعِدُ“ میں سے ”عِدْنَ“ کے وزن پر ہوگا۔ قاف کے فتحہ کی صورت میں اسے ”وَقَارٌ“ سے مشتق قرار دینا مشکل ہے۔ اس آیت میں ازواج مطہرات کو گھروں کے اندر ٹھہرے رہنے کا حکم دیا، کیونکہ اس میں ان کی زیادہ حفاظت اور سلامتی پائی جاتی ہے۔ یہی حکم دوسری عورتوں کے لیے بھی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اَلْمَرْأَۃُ عَوْرَۃٌ وَ إِنَّھَا إِذَا خَرَجَتِ اسْتَشْرَفَھَا الشَّیْطَانُ وَ إِنَّھَا لَا تَکُوْنُ أَقْرَبَ إِلَی اللّٰہِ مِنْھَا فِيْ قَعْرِ بَیْتِھَا) [ طبراني في الأوسط : 3؍189، ح : 2890، عن ابن عمر۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ : 6؍187، ح : 2688 ] ”عورت پردے کی چیز ہے، وہ جب نکلتی ہے تو شیطان اسے گردن اٹھا کر دیکھتا ہے اور وہ اللہ کے اس سے زیادہ کبھی قریب نہیں ہوتی جس قدر وہ اپنے گھر کے اندر (رہ کر قریب) ہوتی ہے۔“
وَلَا تَبَرَّجْنَ تَــبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْاُوْلٰى : ”تَــبَرُّجَ“ کا معنی ہے عورت کا غیر محرم مردوں کے سامنے اپنی اس زینت کا اظہار کرنا جسے چھپانا واجب ہے، یعنی اسلام سے پہلے جاہلیت کے دور میں عورتیں جس طرح بن سنور کر اور زینت لگا کر مردوں کے سامنے آتی تھیں تم ایسا مت کرو۔ یہاں ”الْاُوْلٰى“ کا لفظ احتراز کے لیے نہیں بلکہ جاہلیت جہلا کی طرح یا تو ایک محاورہ ہے، یا اسلام سے پہلے کی حالت کے اعتبار سے ”الْاُوْلٰى“ فرما دیا ہے۔ جاہلیت میں رواج تھا کہ عورتیں بناؤ سنگار کر کے بےپردہ باہر نکلا کرتی تھیں۔ افسوس ! اب یہی رواج ثقافت اور دوسرے خوش نما ناموں سے مسلمانوں میں رائج ہوگیا ہے۔ اس جملے سے معلوم ہوا کہ عورت زینت چھپا کر ضرورت کے لیے گھر سے نکل سکتی ہے۔ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ حجاب کا حکم نازل ہونے کے بعد سودہ ؓ اپنی حاجت کے لیے نکلیں، وہ جسیم عورت تھیں، پہچاننے والے پر مخفی نہیں رہتی تھیں۔ عمر بن خطاب ؓ نے انھیں دیکھا تو کہا : ”اے سودہ ! اللہ کی قسم ! تم ہم پر مخفی نہیں رہتیں، اس لیے دیکھا کرو کیسے نکلتی ہو ؟“ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ وہ واپس پلٹ آئیں، رسول اللہ ﷺ میرے گھر میں تھے، آپ شام کا کھانا کھا رہے تھے، آپ کے ہاتھ میں گوشت کی بوٹی تھی کہ انھوں (سودہ ؓ نے آ کر کہا : ”اے اللہ کے رسول ! میں اپنی کسی ضرورت کے لیے نکلی تو عمر (t) نے مجھے ایسے ایسے کہا۔“ فرماتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسی حال میں آپ پر وحی فرمائی کہ وہ بوٹی آپ کے ہاتھ میں تھی، آپ نے رکھی نہ تھی، آپ نے فرمایا : (إِنَّہُ قَدْ أُذِنَ لَکُنَّ أَنْ تَخْرُجْنَ لِحَاجَتِکُنَّ) [ بخاري، التفسیر، باب قولہ : (لا تدخلوا بیوت النبي۔۔) : 4795 ] ”تم عورتوں کو اجازت دے دی گئی ہے کہ اپنی حاجت کے لیے باہر نکلو۔“ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عمر بن خطاب ؓ عورتوں کے باہر نکلنے پر مکمل پابندی لگانے کے خواہش مند تھے، مگر اللہ تعالیٰ نے ضرورت کے لیے انھیں نکلنے کی اجازت عطا فرمائی۔ مگر اس کے لیے پردے کی پابندی لگائی، حتیٰ کہ وہ نماز باجماعت ادا کرنے کے لیے مسجد میں جانا چاہیں تو بھی حکم ہے کہ زینت کا اظہار کرتی ہوئی نہ نکلیں اور خوشبو لگائے ہوئے نہ ہوں۔
وَاَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَاٰتِيْنَ الزَّكٰوةَ۔۔ : ازواج مطہرات کے لیے عار بننے والی چیزوں سے اجتناب کے حکم کے بعد انھیں فرائض کی ادائیگی کا حکم دیا۔ چناچہ بدنی عبادتوں میں سب سے افضل عبادت نماز کا اور مالی عبادتوں میں سب سے افضل عبادت زکوٰۃ کا حکم دیا۔ اس کے بعد جامع حکم دیا کہ اللہ اور اس کے رسول کی ہر بات کی اطاعت کریں۔ اس میں ازواج مطہرات کے لیے بشارت بھی ہے کہ ان پر خوش حالی کا وقت آنے والا ہے، جس میں وہ زکوٰۃ ادا کریں گی، چناچہ خیبر کی فتح کے بعد تنگی کا وقت ختم ہوگیا، جیسا کہ پیچھے گزرا ہے، پھر خلفائے راشدین کے زمانے میں روم و شام، مصر اور فارس فتح ہوئے، تو امہات المومنین میں سے ہر ایک کا سالانہ وظیفہ بارہ ہزار درہم مقرر ہوگیا، جو تقریباً ایک ہزار دینار (ساڑھے چار کلو سونے) کے برابر تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی صحبت کی برکت سے ان کی ایسی تربیت ہوئی تھی کہ وہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کردیتی تھیں۔
اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ۔۔ : یعنی تمہیں لوچ دار آواز کے ساتھ بات کرنے اور جاہلیت کے اظہار زینت کی طرح زینت کے اظہار سے منع کرنے کا مقصد تمہاری تذلیل یا تم سے ناراضی کا اظہار نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم سے ظاہری اور باطنی ہر قسم کی گندگی دور کرے اور تمہیں ہر قسم کے عیب سے خوب اچھی طرح پاک صاف رکھے۔ واضح رہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ نعوذ باللہ پہلے ان میں ایسی کوئی گندگی موجود تھی، بلکہ قرآن مجید میں کسی چیز سے بچے رہنے کے لیے بھی اسے چھوڑ دینے کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں، جیسا کہ یوسف ؑ نے فرمایا : (اِنِّىْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَهُمْ بالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ) [ یوسف : 37 ] ”بیشک میں نے اس قوم کا دین چھوڑ دیا ہے جو اللہ پر ایمان نہیں لائے اور وہ آخرت کے ساتھ بھی کفر کرنے والے ہیں۔“
اَهْلَ الْبَيْتِ : اس سے پہلے ”یَا“ کا لفظ محذوف ہے، جس کی وجہ سے یہ منصوب ہے، یعنی ”اے گھر والو !“ اس آیت سے پہلی اور اس کے بعد والی آیات سے صاف ظاہر ہے کہ اس سے مراد رسول اللہ ﷺ کی بیویاں ہیں۔ پہلی آیات میں ”وَقَرْنَ فِيْ بُيُوْتِكُنَّ“ اور بعد والی آیات میں ”وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلٰى فِيْ بُيُوْتِكُنَّ“ صریح دلیل ہے کہ گھر والیاں نبی ﷺ کی بیویاں ہیں۔ بعض لوگوں نے سیاق وسباق کی واضح شہادت کے باوجود صرف اس لیے نبی ﷺ کی بیویوں کو اہل بیت ماننے سے انکار کردیا ہے کہ ”لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ“ میں ضمیر ”کُمْ“ مذکر استعمال ہوئی ہے، حالانکہ اہل عرب خواتین سے خطاب کے وقت ضمیر ”کُمْ“ عام استعمال کرتے ہیں، بلکہ قرآن مجید میں ابراہیم ؑ کی بیوی کو ان کے اہل بیت کہا گیا ہے اور ان سے ضمیر ”کُمْ“ کے ساتھ خطاب کیا گیا ہے۔ چناچہ جب فرشتوں نے انھیں بیٹے اور پوتے کی بشارت دی اور انھوں نے اس بڑھاپے میں اولاد ہونے پر تعجب کا اظہار کیا تو فرشتوں نے ان سے کہا : (اَتَعْجَبِيْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَبَرَكٰتُهٗ عَلَيْكُمْ اَهْلَ الْبَيْتِ) [ ہود : 73 ] ”کیا تو اللہ کے حکم سے تعجب کرتی ہے ؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر اے گھر والو !“ یہ آیت صریح نص ہے کہ بیوی اہل بیت ہوتی ہے اور عورت کو ضمیر ”کُمْ“ کے ساتھ خطاب کیا جاتا ہے۔ مشہور اسلامی شاعر عمر بن ابی ربیعہ نے کہا ہے
فَإِنْ شِءْتُ حَرَّمْتُ النِّسَاءَ سِوَاکُمْ
وَ إِنْ شِءْتُ لَمْ أَطْعَمْ نُقَاخاً وَلَا بَرْدًا
صحیح احادیث بھی اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ آپ ﷺ کی بیویاں آپ ﷺ کے اہل بیت ہیں۔ چناچہ جب ام المومنین عائشہ ؓ پر تہمت لگائی گئی تو ایک دن رسول اللہ ﷺ نے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا : (یَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِیْنَ ! مَنْ یَّعْذِرُنِيْ مِنْ رَجُلٍ قَدْ بَلَغَنِيْ أَذَاہُ فِيْ أَھْلِ بَیْتِيْ ؟) [ بخاري، التفسیر، باب : (لو لا إذ سمعتموہ۔۔) : 4750 ] ”اے مسلمانوں کی جماعت ! ایک ایسے شخص کے بارے میں کون میری مدد کرتا ہے جس کی اذیت رسانی اب میرے اہل بیت (یعنی میرے گھر والوں) تک پہنچ گئی ہے ؟“
اگرچہ قرآن مجید اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اہل بیت سے مراد رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات ہیں، مگر احادیث سے یہ بھی ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین ؓ کو بھی اہل بیت میں شمار فرمایا ہے۔ حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کر کے انھیں اپنے اہل بیت میں شامل کروایا ہے۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ کے ربیب عمر بن ابی سلمہ ؓ بیان کرتے ہیں : (نَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ : (اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا) [ الأحزاب : 33 ] فِيْ بَیْتِ أُمِّ سَلَمَۃَ فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاطِمَۃَ وَحَسَنًا وَحُسَیْنًا فَجَلَّلَہُمْ بِکِسَاءٍ وَعَلِيٌّ خَلْفَ ظَہْرِہِ فَجَلَّلَہُ بِکِسَاءٍ ثُمَّ قَالَ اَللّٰہُمَّ ہَؤُلاَءِ أَہْلُ بَیْتِيْ فَأَذْہِبْ عَنْہُمُ الرِّجْسَ وَ طَہِّرْہُمْ تَطْہِیْرًا قَالَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ وَ أَنَا مَعَہُمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! ؟ قَالَ ، أَنْتِ عَلٰی مَکَانِکِ وَ أَنْتِ إِلٰی خَیْرٍ) [ ترمذي، المناقب، باب في مناقب أھل بیت النبي ﷺ : 3787، و قال الألباني صحیح ] ”جب یہ آیت : (اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا) نبی ﷺ پر ام سلمہ ؓ کے گھر میں اتری تو آپ ﷺ نے فاطمہ، حسن اور حسین کو بلایا اور انھیں ایک چادر کے اندر کرلیا اور علی ؓ آپ ﷺ کی پیٹھ کے پیچھے تھے، تو انھیں ایک چادر کے اندر کرلیا، پھر کہا : ”اے اللہ ! یہ میرے اہل بیت (گھر والے) ہیں، سو ان سے گندگی دور کر دے اور انھیں پاک کر دے، خوب پاک کرنا۔“ ام سلمہ ؓ نے کہا : ”اے اللہ کے رسول ! کیا میں بھی ان کے ساتھ ہوں ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”تو اپنی جگہ پر ہے اور تو بھلائی کی طرف ہے۔“ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے علی، فاطمہ اور حسن و حسین ؓ کو دعا کر کے اہل بیت میں شامل کروایا اور ان کے لیے گندگی دور کرنے اور انھیں پاک کرنے کی دعا فرمائی۔ یہ آیت اس سے پہلے اتر چکی تھی، جس سے صاف ظاہر ہے کہ اس سے پہلے آیت سے مراد صرف ازواج مطہرات تھیں۔ رہا ام سلمہ ؓ کا سوال اور آپ کا انھیں جواب، تو بعض حضرات نے اس سے یہ بات نکالنے کی کوشش کی ہے کہ آپ ﷺ نے انھیں اہل بیت میں شامل نہیں فرمایا، حالانکہ آپ ﷺ نے انھیں اطمینان دلایا کہ تمہیں یہ پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں، کیونکہ تم پہلے ہی اس مقام پر ہو اور خیر پر ہو۔ ان لوگوں پر تعجب ہے جو آیت کے اصل مصداق کو اہل بیت ماننے کے لیے تیار نہیں اور جنھیں رسول اللہ ﷺ کی دعا سے اہل بیت میں شامل کیا گیا، صرف ان کے اہل بیت ہونے پر اصرار کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ سمجھ عطا فرمائے۔
Ayah 33:34وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلٰى فِيْ بُيُوْتِكُنَّ۔۔ : پچھلی آیات میں امہات المومنین کو عمل کا حکم دیا تھا، جس میں کچھ چیزوں سے اجتناب اور کچھ چیزوں کے ادا کرنے کا حکم تھا، اب انھیں علم حاصل کرنے اور اسے آگے پہنچانے کا حکم دیا۔ ”اذْكُرْنَ“ ”ذِکْرٌ“ سے مشتق ہے، جس کا معنی دل میں یاد کرنا اور یاد رکھنا بھی ہے اور کسی کلام کو زبان پر لانا بھی۔ یعنی تمہارے گھروں میں اللہ کی آیات اور حکمت کی جو تلاوت کی جاتی ہے، اسے یاد کرو اور یاد رکھو، کبھی اس سے غفلت نہ کرو اور اسے دوسرے لوگوں کے سامنے بھی ذکر کرو اور ان تک پہنچاؤ۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی ذمہ داری یہ تھی کہ اللہ کے احکام امت تک پہنچا دیں۔ آپ ﷺ کے ایک مرد یا ایک عورت تک کوئی حکم پہنچا دینے سے آپ کا فریضہ ادا ہوجاتا تھا، پھر اس مرد یا عورت کا فرض ہوتا کہ اسے آگے پہنچائے، جیسا کہ عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : (بَلِّغُوْا عَنِّيْ وَلَوْ آیَۃً) [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب ما ذکر عن بني إسرائیل : 3461 ] ”میری طرف سے آگے پہنچا دو ، خواہ ایک آیت ہو۔“ امت کے ہر فرد کو ہر حکم بہ نفس نفیس پہنچانا نہ آپ کے ذمے تھا، نہ آپ کے لیے ممکن تھا۔ چونکہ رسول اللہ ﷺ کے بہت سے اقوال و افعال اور احوال ایسے تھے جن کا تعلق گھریلو زندگی سے تھا اور جن کا علم صرف ازواج مطہرات کو ہوتا تھا، اس لیے انھیں آیات و حکمت کو یاد کرنے، انھیں یاد رکھنے اور لوگوں کے سامنے ذکر کرنے کا حکم دیا اور امہات المومنین نے یہ فریضہ نہایت خوش اسلوبی اور پوری ذمہ داری کے ساتھ ادا کیا۔ چناچہ دینی مسائل کا بہت بڑا حصہ انھی کے ذریعے سے امت تک پہنچا ہے۔ صحابہ کرام ؓ کو جب بھی کوئی مشکل پیش آتی وہ ان سے پوچھتے اور انھیں ان کے پاس سے، خصوصاً عائشہ ؓ کے پاس سے اس کا تسلی بخش حل مل جاتا۔
3 یہ آیت عورتوں کو دین کی تعلیم دلانے کی واضح دلیل ہے، مردوں کی طرح ان پر بھی لازم ہے کہ قرآن و حدیث کا علم حاصل کریں اور اسے آگے پہنچائیں۔
”اٰيٰتِ اللّٰهِ“ سے مراد قرآن کریم کی آیات ہیں۔ ”وَالْحِكْمَةِ“ کا لفظی معنی دانائی اور عقل کی بات ہے، مراد اس سے قرآن مجید کے علوم اور معانی ہیں جو رسول اللہ ﷺ بیان فرماتے تھے۔ اسی طرح اس میں رسول اللہ ﷺ کے جملہ اقوال و افعال اور احوال بھی شامل ہیں، کیونکہ وہ بھی قرآن کی عملی تفسیر تھے، جیسا کہ عائشہ ؓ نے فرمایا : (کَانَ خُلُقُہُ الْقُرْآنَ) [ مسند أحمد : 6؍91، ح : 24655 ] ”قرآن آپ کا خلق تھا۔“ یعنی قرآن آپ کی طبعی عادت بن چکا تھا کہ آپ کا ہر کام خود بخود قرآن مجید کے مطابق ہوتا تھا۔ اس لیے امام شافعی اور دوسرے ائمہ نے بہت سے دلائل سے ثابت کیا ہے کہ ”وَالْحِكْمَةِ“ سے مراد سنت ہے۔ بعض لوگ اس پر یہ شبہ پیش کرتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کی طرح سنت کی بھی تلاوت ہوتی تھی، مگر یہ شبہ بےکار ہے، کیونکہ تلاوت کے لفظ کو صرف قرآن کی تلاوت کے لیے خاص کرنا بعد کی اصطلاح ہے۔ قرآن میں اس لفظ کو اصطلاح کے طور پر استعمال نہیں کیا گیا۔ سورة بقرہ میں یہی لفظ جادو کے ان الفاظ کے متعلق استعمال کیا گیا ہے جو شیاطین سلیمان ؑ کی طرف منسوب کر کے لوگوں کو سناتے تھے، فرمایا : (وَاتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّيٰطِيْنُ عَلٰي مُلْكِ سُلَيْمٰنَ) [ البقرۃ : 102 ] ”اور وہ اس چیز کے پیچھے لگ گئے جو شیاطین سلیمان کے عہد حکومت میں پڑھتے تھے۔“ ظاہر ہے وہاں تلاوت سے مراد یہ ہے کہ لوگوں کو سناتے تھے۔ ویسے یاد کرنے کرانے کے لیے حدیث رسول پڑھنا بھی کار ثواب ہے اور حدیث حفظ کرنے والے کو اسے بار بار پڑھنا پڑتا ہے۔ ہاں، پڑھنے پڑھنے میں فرق ضرور ہے۔
3 یہ آیت ازواج مطہرات کے اہل بیت ہونے کی بھی واضح دلیل ہے، کیونکہ ”فی بیوتکن“ میں رسول اللہ ﷺ کے گھروں کو ان کے گھر کہا گیا ہے۔
اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِيْفًا خَبِيْرً : ”لَطِيْفًا“ کے لفظ میں بیحد مہربانی کے ساتھ باریک بینی اور خفیہ طریقے سے کسی کام کے ادا کرنے کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔ یہاں یہ دونوں صفات ذکر کرنے میں کئی باتوں کی طرف اشارہ ہے، مثلاً اللہ تعالیٰ کا تمام عورتوں میں سے ازواج مطہرات کو نبی ﷺ کی صحبت کے لیے چننا، ان کی طہارت کا اہتمام کرنا، انھیں علم و عمل کا کمال حاصل کرنے کا موقع عطا کرنا، اس کے مخفی سے مخفی امور سے واقف ہونے، اس کے نہایت مہربان ہونے اور ہر چیز سے پوری طرح باخبر ہونے کا نتیجہ ہے۔ اسی لیے اس نے انھیں اس کا اہل سمجھ کر اس مرتبے کے لیے منتخب فرمایا۔ ایک اشارہ اس طرف بھی ہے کہ چونکہ یہ آیات ازواج مطہرات کے خرچے میں اضافے کے مطالبے پر نازل ہوئیں، لہٰذا مطلب یہ ہے کہ حالات بظاہر تمہارے لیے مشکل ہیں، لیکن اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کو ترجیح دو گی تو آخرت کی نعمتوں کے ساتھ دنیا کی خوش حالی بھی کچھ دور نہیں، اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے ایسے باریک طریقوں سے وجود میں لے آتا ہے جو کسی کی سوچ میں بھی نہیں آسکتے۔ وہ لطیف بھی ہے اور پوری طرح باخبر بھی، اس نے ان لوگوں کو جو دنیا کی زیب و زینت سے بےنیاز تھے، زمین کے مشرق و مغرب کا مالک بنادیا اور جو دنیا کے طلب گار تھے اور جن کی ساری تگ و دو ہی دنیا کے لیے تھی انھیں غلام بنادیا۔
Ayah 33:35اِنَّ الْمُسْلِمِيْنَ وَالْمُسْلِمٰتِ۔۔ : امہات المومنین کو پاکیزہ اعمال و اخلاق کی ترغیب، برے اطوار سے اجتناب کی تلقین اور کتاب و حکمت کے سیکھنے اور سکھانے کی تاکید کے بعد ان دس صفات کمال کا ذکر فرمایا جن پر کاربند ہونے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے بہت بڑی مغفرت اور اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔ مگر ان صفات والوں کو عام الفاظ کے ساتھ ذکر فرمایا اور تمام مردوں اور عورتوں دونوں کو الگ الگ صراحت کے ساتھ ذکر فرمایا، تاکہ کوئی اسے امہات المومنین کے ساتھ خاص نہ سمجھ لے، نہ ان فضائل کو اور ان کے اجرو ثواب کو صرف مردوں کا حصہ سمجھ لے۔
3 ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا : ”اے اللہ کے رسول ! قرآن میں جس طرح مردوں کا ذکر ہوتا ہے ہم عورتوں کا نہیں ہوتا۔“ تو اچانک ایک دن میں نے منبر پر آپ کی آواز سنی، میں نے دروازے کے قریب ہو کر کان لگایا تو آپ فرما رہے تھے : ”اے لوگو ! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (اِنَّ الْمُسْلِمِيْنَ وَالْمُسْلِمٰتِ وَالْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ وَالْقٰنِتِيْنَ وَالْقٰنِتٰتِ وَالصّٰدِقِيْنَ وَالصّٰدِقٰتِ وَالصّٰبِرِيْنَ وَالصّٰبِرٰتِ وَالْخٰشِعِيْنَ وَالْخٰشِعٰتِ وَالْمُتَصَدِّقِيْنَ وَالْمُتَصَدِّقٰتِ وَالصَّاۗىِٕـمِيْنَ وَالـﮩـىِٕمٰتِ وَالْحٰفِظِيْنَ فُرُوْجَهُمْ وَالْحٰفِظٰتِ وَالذّٰكِرِيْنَ اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّالذّٰكِرٰتِ ۙ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّاَجْرًا عَظِيْمًا [ الأحزاب : 35 ] [ مسند أحمد : 6؍301، ح : 26575، و قال المحقق صحیح ]
الْمُسْلِمِيْنَ وَالْمُسْلِمٰتِ : اسلام کا معنی انقیاد (تابع ہوجانا) ہے اور ایمان کا معنی تصدیق ہے۔ پھر ان کا استعمال تین طرح ہوتا ہے، کبھی دونوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں، جیسے فرمایا : (فَاَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِيْهَا مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ 35ۚفَمَا وَجَدْنَا فِيْهَا غَيْرَ بَيْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِيْنَ) [ الذاریات : 35، 36 ] ”سو ہم نے اس (بستی) میں ایمان والوں سے جو بھی تھا نکال لیا۔ تو ہم نے اس میں مسلمانوں کے ایک گھر کے سوا کوئی نہ پایا۔“ کبھی الگ الگ معنوں میں استعمال ہوتے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا ۭ قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلٰكِنْ قُوْلُوْٓا اَسْلَمْنَا) [ الحجرات : 14] ”بدویوں نے کہا ہم ایمان لے آئے، کہہ دے تم ایمان نہیں لائے اور لیکن یہ کہو کہ ہم مطیع ہوگئے۔“ اور کبھی مسلم کا لفظ عام ہوتا ہے، یعنی وہ شخص جو اسلام کے ظاہری اعمال بجا لائے، عام اس سے کہ اس کے سچا ہونے کا یقین رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو اور مومن کا لفظ خاص ہوتا ہے، یعنی وہ شخص جو ظاہری اعمال بجا لانے کے ساتھ دل سے بھی اللہ اور اس کے سچا ہونے کا یقین رکھتا ہو۔ ظاہر یہ ہے کہ اس آیت میں ”المسلمین“ سے مراد تمام مسلم ہیں، خواہ صرف ظاہر میں اعمال بجا لانے والے ہوں یا دل سے بھی یقین رکھنے والے ہوں۔ (ابن جزیّ)
وَالْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ : چونکہ ”المسملین وا لمسلمت“ میں مخلص اور منافق دونوں آسکتے تھے، اس لیے مومنین اور مومنات کا ذکر فرمایا، یعنی جو ظاہری انقیاد کے ساتھ دل میں بھی ایمان رکھتے ہیں، کیونکہ جب تک دل میں یقین نہ ہو ظاہر میں تابع ہونے کا کچھ فائدہ نہیں۔
وَالْقٰنِتِيْنَ وَالْقٰنِتٰتِ : ہمیشہ کے لیے اطاعت کرنے والے۔ اسلام کے بعد ایمان کا مرتبہ ہے، ان دونوں کے نتیجے میں قنوت، یعنی اطاعت اور فرماں برداری پیدا ہوتی ہے۔
وَالصّٰدِقِيْنَ وَالصّٰدِقٰتِ : اس کی تفصیل سورة توبہ کی آیت (119) : (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَكُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ) کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔
وَالصّٰبِرِيْنَ وَالصّٰبِرٰتِ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (45 اور 153)۔
وَالْخٰشِعِيْنَ وَالْخٰشِعٰتِ۔۔ : یعنی وہ تکبر اور غرور سے پاک ہیں، ہر وقت اللہ کے سامنے عاجز اور دل و زبان اور جسم و جان سے اس کے آگے جھکے رہتے ہیں، حق سامنے آنے پر اس سے نہ سر پھیرتے ہیں، نہ انکار کرتے ہیں۔ خشوع اور عاجزی کی تمام کیفیتیں نماز میں جمع ہیں، اس لیے خشوع کا اعلیٰ درجہ نماز میں خشوع ہے، جیسا کہ فرمایا : (قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ ۙالَّذِيْنَ هُمْ فِيْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَ) [ المؤمنون : 1، 2 ] ”یقیناً کامیاب ہوگئے مومن۔ وہی جو اپنی نماز میں عاجزی کرنے والے ہیں۔“ ممکن ہے یہاں عام حالات میں خشوع کے ساتھ خاص طور پر یہ مراد ہو، کیونکہ اس کے بعد صدقے اور روزے کا ذکر ہے اور نماز، صدقہ اور روزہ تینوں اسلام کے بنیادی ارکان ہیں۔ خشوع، صدقہ اور صیام کے الفاظ میں فرض اور نفل دونوں شامل ہیں۔
وَالْحٰفِظِيْنَ فُرُوْجَهُمْ وَالْحٰفِظٰتِ : اس میں زنا سے اجتناب کے علاوہ ننگا ہونے سے اجتناب بھی شامل ہے اور ایسا لباس پہننے سے بھی جس سے جسم کا وہ حصہ نمایاں ہوتا ہو جسے چھپانا لازم ہے۔ دیکھیے سورة مومنون (5 تا 7) اور معارج (29 تا 31)۔
وَالذّٰكِرِيْنَ اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّالذّٰكِرٰتِ۔۔ : ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مکہ کے راستے میں چل رہے تھے تو ایک پہاڑ پر گزرے، جسے جمدان کہا جاتا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا : (سِیْرُوْا ھٰذَا جُمْدَانُ سَبَقَ الْمُفَرَّدُوْنَ) ”چلتے رہو، یہ جمدان ہے، ”مفرد“ لوگ (اپنے کام میں اکیلے رہ جانے والے) سبقت لے گئے۔“ لوگوں نے کہا : ”یا رسول اللہ ! مفرد لوگوں سے کیا مراد ہے ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : (اَلذَّاکِرُوْنَ اللّٰہَ کَثِیْرًا وَّالذَّاکِرَاتُ) [ مسلم، الذکر و الدعاء، باب الحث علی ذکر اللہ تعالیٰ : 2676 ] ”اللہ تعالیٰ کو بہت زیادہ یاد کرنے والے مرد اور بہت زیادہ یاد کرنے والی عورتیں۔“ ابو درداء ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (أَلاَ أُنَبِّءُکُمْ بِخَیْرِ أَعْمَالِکُمْ وَ أَزْکَاہَا عِنْدَ مَلِیْکِکُمْ وَأَرْفَعِہَا فِیْ دَرَجَاتِکُمْ وَ خَیْرٍ لَّکُمْ مِنْ إِنْفَاق الذَّہَبِ وَ الْوَرِقِ وَ خَیْرٍ لَّکُمْ مِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّکُمْ فَتَضْرِبُوْا أَعْنَاقَہُمْ وَ یَضْرِبُوْا أَعْنَاقَکُمْ ؟ قَالُوْا بَلٰی قَالَ ذِکْرُ اللّٰہِ تَعَالٰی) [ ترمذي، الدعوات، باب منہ : 3377، و قال الألباني صحیح ] ”کیا میں تمہیں وہ عمل نہ بتاؤں جو تمہارے اعمال میں سے سب سے بہتر ہے اور تمہارے مالک کے ہاں سب سے پاکیزہ ہے اور تمہارے درجات میں سب سے بلند ہے اور تمہارے لیے سونا اور چاندی خرچ کرنے سے بہتر ہے اور اس سے بھی بہتر ہے کہ تم اپنے دشمن سے ملو، پھر وہ تمہاری گردنیں اڑائیں اور تم ان کی گردنیں اڑاؤ ؟“ صحابہ نے عرض کیا : ”کیوں نہیں (یا رسول اللہ !)“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”وہ اللہ کا ذکر ہے۔“ عبداللہ بن بسر ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا : ”یا رسول اللہ ! اسلام کے احکام مجھ پر بہت زیادہ ہوگئے ہیں، اس لیے آپ مجھے کوئی ایک چیز بتادیں جسے میں مضبوطی سے پکڑ لوں ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : (لاَ یَزَالُ لِسَانُکَ رَطْبًا مِنْ ذِکْرِ اللّٰہِ) [ ترمذي، الدعوات، باب ما جاء في فضل الذکر : 3375، و قال الألباني صحیح ] ”تیری زبان ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تر رہے۔“
یاد رہے زبانی ذکر ہی کافی نہیں، بلکہ اس کے لیے اللہ تعالیٰ کو دل میں یاد رکھنا اور ہر وقت اس بات کا احساس ضروری ہے کہ میرا مالک مجھے دیکھ رہا ہے۔ جس کے نتیجے میں آدمی اللہ کی نافرمانی سے بچتا ہے اور اگر نافرمانی کر بیٹھے تو اللہ کی یاد اسے اپنے رب کے ساتھ معاملہ درست کرنے پر مجبور کردیتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے متقی بندوں کی صفت بیان فرمائی : (وَالَّذِيْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْ ۠ وَ مَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ ڞ وَلَمْ يُصِرُّوْا عَلٰي مَا فَعَلُوْا وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ) [ آل عمران : 135 ] ”اور وہ لوگ کہ جب کوئی بےحیائی کرتے ہیں، یا اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں تو اللہ کو یاد کرتے ہیں، پس اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں اور اللہ کے سوا اور کون گناہ بخشتا ہے ؟ اور انھوں نے جو کیا اس پر اصرار نہیں کرتے جب کہ وہ جانتے ہوں۔“ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عرش کا سایہ حاصل کرنے والے سات خوش نصیبوں میں سے ایک وہ ہے جس کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (وَ رَجُلٌ ذَکَرَ اللّٰہَ خَالِیًا فَفَاضَتْ عَیْنَاہُ) [ بخاري، الأذان، باب من جلس في المسجد۔۔ : 660 ] ”وہ آدمی جس نے اللہ کو خلوت میں یاد کیا تو اس کی آنکھیں بہ پڑیں۔“ اللہ کی نافرمانی پر اصرار کے ساتھ محض زبان سے ذکر کو اللہ کی یاد کہنا ”یاد“ کے مفہوم سے غفلت کا نتیجہ ہے۔
Ayah 33:36وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَةٍ۔۔ : ”الْخِـيَرَةُ“ ”تَخَیَّرَ یَتَخَیَّرُ“ (تفعّل) کا مصدر ہے، جیسا کہ ”تَطَیَّرَ“ کا مصدر ”اَلطِّیَرَۃُ“ ہے۔ اہل علم فرماتے ہیں، اس وزن پر اس باب سے یہی دو مصدر آتے ہیں۔ پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ آپ اپنی بیویوں کو اپنے ساتھ رہنے کا یا اپنے سے الگ ہونے کا اختیار دیں، تاکہ واضح ہوجائے کہ آپ ﷺ اپنی ذات کے لیے کسی کو تکلیف نہیں دینا چاہتے۔ اب فرمایا، اس کا مطلب یہ نہیں کہ جس طرح بیویوں کو ساتھ رہنے یا جدا ہونے کا اختیار دیا گیا، اس طرح ہر آدمی کو ہر کام میں آپ ﷺ کا حکم ماننے یا نہ ماننے کا اختیار ہے۔ بلکہ کچھ کام ایسے ہیں جن میں کسی مومن مرد یا مومن عورت کو اپنی مرضی کا اختیار نہیں، یہ وہ کام ہیں جن کا اللہ تعالیٰ یا اس کے رسول واضح حکم دے دیں اور اسے کرنے یا نہ کرنے کی گنجائش نہ دیں۔ اگر وہ خود ہی گنجائش دے دیں تو الگ بات ہے، جیسا کہ بریرہ ؓ لونڈی تھیں تو مغیث ؓ کے نکاح میں تھیں، جب وہ آزاد ہوئیں تو خاوند کے غلام ہونے کی وجہ سے انھیں اس کی زوجیت میں رہنے یا نہ رہنے کا اختیار حاصل ہوگیا۔ بریرہ ؓ نے اس سے علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عباس ؓ سے فرمایا : (یَا عَبَّاسُ ! أَلَا تَعْجَبُ مِنْ حُبِّ مُغِیْثٍ بَرِیْرَۃَ ، وَ مِنْ بُغْضِ بَرِیْرَۃَ مُغِیْثًا)”اے عباس ! کیا تمہیں مغیث کی بریرہ سے محبت اور بریرہ کی مغیث سے نفرت پر تعجب نہیں ہوتا ؟“ نبی ﷺ نے اس سے فرمایا : (لَوْ رَاجَعْتِہِ ؟) ”کاش ! تو اس سے رجوع کرلیتی ؟“ اس نے کہا : ”یا رسول اللہ ! کیا آپ مجھے حکم دے رہے ہیں ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّمَا أَنَا أَشْفَعُ) ”میں تو صرف سفارش کر رہا ہوں۔“ اس نے کہا : (فَلَا حَاجَۃَ لِيْ فِیْہِ) [ بخاري، الطلاق، باب شفاعۃ النبي ﷺ في زوج بریرۃ : 5283 ] ”مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔“
”اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗٓ اَمْرًا“ کا یہی مطلب ہے کہ جب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے فیصلہ کن حکم آجائے تو کسی مسلمان کو اپنا اختیار استعمال کرنے کی کسی صورت میں گنجائش باقی نہیں رہتی۔ ”کَان“ کے ساتھ ”مَا“ نافیہ کی مزید تاکید ہو رہی ہے، کیونکہ ”کَان“ کے ساتھ نفی کا استمرار اور اس کی ہمیشگی مقصود ہے۔ یعنی کسی مومن مرد یا مومن عورت کو کبھی بھی یہ حق نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول۔۔
3 اکثر مفسرین نے اس آیت کی شان نزول یہ لکھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی پھوپھی امیمہ بنت عبد المطلب کی بیٹی زینت بنت جحش ؓ کو اپنے متبنٰی اور آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ ؓ کے ساتھ نکاح کے لیے کہا تو انھوں نے یہ کہہ کر کہ میں حسب میں اس سے بہتر ہوں، انکار کردیا۔ اس پر یہ آیت اتری تو وہ نکاح پر رضا مند ہوگئیں اور رسول اللہ ﷺ نے زید ؓ کے ساتھ ان کا نکاح کردیا۔ ابن کثیر ؓ نے اس شان نزول کی دو روایتیں ذکر فرمائی ہیں، پہلی عوفی عن ابن عباس ؓ ہے، جو طبری نے روایت کی ہے، اس کی سند ضعیف ہے۔ دوسری ابن لہیعہ عن ابن ابی عمرہ عن عکرمہ عن ابن عباس ؓ ہے، اسے بھی طبری نے روایت کیا ہے اور یہ بھی ابن لہیعہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔ علاوہ ازیں یہ بات بھی یقینی نہیں کہ زینب ؓ کا نکاح زید ؓ سے ہجرت کے بعد ہوا تھا، جب کہ یہ سورت مدنی ہے۔ ابن عاشور نے اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ یہ نکاح ہجرت سے پہلے مکہ میں ہوچکا تھا اور ابن کثیر نے مقاتل بن حیان کا جو قول نقل کیا ہے کہ زینب ؓ زید ؓ کے پاس ایک سال کے قریب رہیں، ثابت نہیں، کیونکہ مقاتل تبع تابعی ہیں، انھوں نے اس بات کو نقل کرنے والے تابعی کا ذکر کیا ہے نہ صحابی کا۔ مولانا ثناء اللہ امرتسری ؓ لکھتے ہیں : ”اصول شریعت کی رو سے دیکھا جائے تو گو نکاح کرنا ایک شرعی حکم ہے، مگر یہ بات کہ نبی کسی خاص عورت کو کسی خاص مرد، یا کسی خاص مرد کو کسی خاص عورت سے نکاح کرنے پر شرعی طور پر مامور کرے صحیح نہیں، یعنی نبی یہ نہیں کہہ سکتا کہ تو فلاں مرد سے شادی کر اور اگر وہ عورت نہ مانے تو نافرمان قرار پائے۔ ہمارے اس دعویٰ پر بریرہ ؓ کی حدیث قوی شہادت ہے (جو اسی آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہے)۔“ (تفسیر ثنائی) اس لیے بہتر یہی ہے کہ یہ کہنے کے بجائے کہ زینب ؓ نے اس آیت کے نزول سے پہلے رسول اللہ ﷺ کا حکم ماننے سے انکار کردیا تھا، اس آیت کو اسی طرح اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی اطاعت کی تاکید سمجھا جائے، جس طرح یہ تاکید اسی سورت کے شروع میں اس سے بھی جامع الفاظ میں گزر چکی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ) [ الأحزاب : 6 ] ”یہ نبی مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتا ہے۔“
3 ابن کثیر ؓ فرماتے ہیں : ”یہ آیت تمام احکام کے لیے عام ہے کہ اللہ اور اس کا رسول جب کسی چیز کا فیصلہ فرما دیں تو نہ کسی کے لیے اس کی ممانعت جائز ہے، نہ اسے ماننے یا نہ ماننے کا اختیار کسی کو باقی رہتا ہے، نہ اس کے مقابلے میں کسی قیاس یا رائے یا قول اقوال کی کوئی حیثیت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا) [ النساء : 65 ] ”پس نہیں ! تیرے رب کی قسم ہے ! وہ مومن نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ تجھے اس میں فیصلہ کرنے والا مان لیں جو ان کے درمیان جھگڑا پڑجائے، پھر اپنے دلوں میں اس سے کوئی تنگی محسوس نہ کریں جو تو فیصلہ کرے اور تسلیم کرلیں، پوری طرح تسلیم کرنا۔“
وَمَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ۔۔ : اس میں اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی شدید وعید ہے۔ دوسری جگہ فرمایا : (ۚ فَلْيَحْذَرِ الَّذِيْنَ يُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖٓ اَنْ تُصِيْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ يُصِيْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ) [ النور : 63 ] ”سو لازم ہے کہ وہ لوگ ڈریں جو اس کا حکم ماننے سے پیچھے رہتے ہیں کہ انھیں کوئی فتنہ آپہنچے، یا انھیں دردناک عذاب آپہنچے۔“
Ayah 33:37وَاِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِيْٓ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ۔۔ : ان آیات کے نزول کا سبب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے جب یہ حکم نازل کرنے کا ارادہ فرمایا کہ منہ بولے بیٹے حقیقی بیٹوں کے حکم میں کسی طرح بھی نہیں ہیں اور یہ کہ اگر وہ اپنی بیویوں کو طلاق دے دیں، تو انھیں یعنی منہ بولے بیٹے بنانے والوں کے لیے ان سے نکاح جائز ہے، کیونکہ وہ عورتیں حقیقی بیٹوں کی بیویوں کی طرح ان کی بہو نہیں ہیں۔ تو اس وقت متبنّٰی کی رسم معاشرے میں اس قدر پختہ اور مستحکم ہوچکی تھی کہ بہت بڑے اقدام کے بغیر اس کی اصلاح ممکن نہ تھی اور ضروری تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے قول کے علاوہ آپ کے عمل کے ساتھ اس پر کاری ضرب لگائی جائے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے اسباب پیدا فرما دیتا ہے۔ چناچہ ایسا ہوا کہ زید بن حارثہ ؓ ، جنھیں زید بن محمد کہا جاتا تھا (کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے انھیں متبنّٰی بنایا تھا، جب آیت ”اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَاۗىِٕهِمْ“ اتری تو انھیں زید بن حارثہ ؓ کہا جانے لگا) رسول اللہ ﷺ نے ان کا نکاح زینب بنت جحش ؓ کے ساتھ کیا تھا۔ مزاج کے اختلاف کی وجہ سے ان دونوں میاں بیوی میں موافقت نہ رہ سکی، اس لیے زید ؓ بار بار رسول اللہ ﷺ سے ان کے رویے کی شکایت کرتے اور طلاق دینے کی اجازت مانگتے۔ رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے معلوم ہوچکا تھا کہ زید اسے طلاق دیں گے اور وہ آپ کے نکاح میں آئیں گی۔ مگر اس ڈر سے کہ لوگ کہیں گے کہ محمد ﷺ نے اپنی بہو سے نکاح کرلیا اور منافقین، یہودی اور مشرکین اسے آپ کی عصمت پر طعن کا ذریعہ بنائیں گے، آپ ﷺ زید ؓ کو طلاق سے منع کرتے اور یہی فرماتے کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو اور اللہ سے ڈرو۔
”لِلَّذِيْٓ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَاَنْعَمْتَ عَلَيْهِ“ سے مراد زید بن حارثہ ؓ ہیں۔ انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں : ”یہ آیت : (وَتُخْــفِيْ فِيْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِيْهِ) زینب بنت جحش اور زید بن حارثہ ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔“ [ بخاري، التفسیر، باب قولہ : (و تخفي في نفسک۔۔) : 4787 ] اللہ تعالیٰ کا اس پر دوسرے بیشمار انعامات کے ساتھ یہ انعام بھی تھا کہ اسے اس کے مشرک خاندان سے نکال کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچایا، پھر غلامی سے آزادی عطا فرمائی۔ اسلام قبول کرنے اور اس میں سبقت کرنے والے چار افراد میں شامل ہونے کی سعادت بخشی۔ قرآن مجید میں تمام صحابہ میں سے صرف اس کا نام صراحت کے ساتھ ذکر فرمایا اور رسول اللہ ﷺ کا اس پر دوسرے کئی انعامات کے ساتھ یہ انعام بھی تھا کہ اسے آزاد کیا، اپنا بیٹا بنایا، اپنی پھوپھی زاد کے ساتھ نکاح کیا اور اسے اپنی خاص محبت سے نوازا، چناچہ اسے اور اس کے بیٹے اسامہ کو حِبّ رسول ﷺ (رسول اللہ ﷺ کے محبوب) کہا جاتا تھا۔
وَتُخْــفِيْ فِيْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِيْهِ : وہ بات کیا تھی جسے رسول اللہ ﷺ چھپاتے تھے اور اللہ تعالیٰ اسے ظاہر کرنے والا تھا، اس کے متعلق تفاسیر میں متعدد اقوال مذکور ہیں۔ بعض اقوال ایسے بھی ہیں جو شان نبوت کے سراسر منافی ہیں، عقل کے بھی صاف خلاف ہیں اور صحیح سند کے ساتھ ثابت بھی نہیں، بعد کے لوگوں کی فضول باتیں ہیں۔ اس لیے حافظ ابن حجر فتح الباری میں فرماتے ہیں : ”ان کا بیان مناسب نہیں۔“ اور حافظ ابن کثیر نے فرمایا : ”ابن جریر اور ابن ابی حاتم وغیرہ نے یہاں بعض سلف سے کچھ آثار نقل کیے ہیں، جنھیں ذکر کرنے سے ہم نے پہلو تہی اختیار کی ہے، کیونکہ وہ ثابت نہیں ہیں۔“ مگر چونکہ ان اقوال کو لے کر مستشرقین اور اسلام کے مخالفین نے رسول اللہ ﷺ پر زبان طعن دراز کی ہے، اس لیے انھیں بیان کرنا اور ان کی حقیقت کھولنا لازم ہے۔ چناچہ قتادہ اور ابن زید نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ زید ؓ کی عدم موجودگی میں ان کے گھر گئے، تو زینب ؓ کو اس کی زینت میں دیکھا۔ ایک روایت میں ہے کہ ہوا سے اس کے گھر کا پردہ ہٹ گیا اور آپ نے اس کے حسن و جمال کو دیکھا تو آپ کے دل میں اس کی محبت جاگزین ہوگئی اور آپ نے فرمایا : ”سبحان ہی ہے جو دلوں کو پھیرنے والا ہے۔“ جب زید آئے تو زینب نے انھیں رسول اللہ ﷺ کے منہ سے نکلنے والے الفاظ بتائے، تو زید رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے اور کہا : ”مجھے معلوم ہوا کہ آپ میرے گھر آئے، لیکن آپ اندر کیوں تشریف نہیں لائے ؟ شاید آپ کو زینب پسند آئی ہے تو کیا میں اسے چھوڑ دوں ؟“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اپنی بیوی اپنے پاس رکھو اور اللہ سے ڈرو۔“ تو یہ آیت اتری۔ تفسیر جلالین میں آیت کا سبب نزول یہی بیان کیا گیا ہے اور مفسر جلال نے اسی کے مطابق تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے : ”تو اپنے دل میں اس کی محبت چھپانے والا تھا، جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور یہ کہ اگر زید اسے طلاق دے دے تو میں اس سے نکاح کرلوں۔“ یہی تفسیر زمخشری، نسفی، ابن جریر اور ثعلبی وغیرہ نے کی ہے۔ ہاں، ابن جریر نے اس باطل تفسیر کے ساتھ وہ تفسیر بھی لکھی ہے جس میں یہ فضول باتیں نہیں ہیں اور یہ باطل روایات بھی نقل کردی ہیں، اگرچہ سند بیان کرنے کی وجہ سے ان کا نقصان کم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان آثار میں سے کسی کی سند صحیح نہیں، نہ ہی قتادہ یا ابن زید اس واقعہ کے وقت موجود تھے، وہ تابعی ہیں اور اپنی بات کا حوالہ بھی ذکر نہیں کرتے کہ انھوں نے کس سے یہ روایت سنی ہے اور پھر یہ صریح عقل کے بھی خلاف ہے۔ زینب کوئی اجنبی خاتون نہ تھی، جسے رسول اللہ ﷺ نے اچانک دیکھا ہو۔ وہ آپ کی پھوپھی کی بیٹی تھی، آپ کے سامنے جوان ہوئی، آپ نے اپنے (منہ بولے) بیٹے کے لیے اس کا رشتہ مانگا، اس کے ساتھ نکاح کیا، آپ کے ساتھ اس نے ہجرت کی، اس وقت تک پردے کا نہ رواج تھا، نہ اس کا حکم اترا تھا کہ اتنے سالوں تک آپ نے اسے نہ دیکھا ہو۔ غرض اس قسم کی روایات ہر لحاظ سے باطل اور جھوٹ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کفار کے سامنے رسول اللہ ﷺ کی پاک بازی اور عفت کو بطور چیلنج ذکر کرنے کا حکم دیا ہے، رسول اللہ ﷺ نے کفار کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : (فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ) [ یونس : 16 ] ”پس بیشک میں تم میں اس سے پہلے ایک عمر رہ چکا ہوں، تو کیا تم نہیں سمجھتے ؟“
3 رہی یہ بات کہ پھر حقیقت میں بات کیا تھی جسے رسول اللہ ﷺ اپنے دل میں چھپا رہے تھے اور اللہ تعالیٰ اسے ظاہر کرنے والا تھا، تو اس میں راجح قول وہی ہے جو اس آیت کے پہلے فائدے میں ذکر کیا گیا ہے اور جسے اکثر محقق مفسرین، مثلاً حافظ ابن کثیر اور حافظ ابن حجر وغیرہ نے اختیار کیا ہے اور ہمارے شیخ استاذ محمد عبدہ نے بھی اسی کو صحیح قرار دیا ہے، چناچہ وہ لکھتے ہیں : ”اصل بات یہ ہے کہ آپ ﷺ کو بذریعہ وحی پہلے سے خبردار کردیا گیا تھا کہ زینب آپ کی بیوی ہونے والی ہے، مگر آپ اس کے اظہار سے شرماتے تھے کہ مخالفین الزام لگائیں گے کہ دیکھیے اپنی بہو سے نکاح کرلیا۔ اس لیے جب زید نے آکر شکایت کی تو آپ نے فرمایا : (اَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللّٰهَ) اس پر اللہ تعالیٰ نے عتاب آمیز لہجے میں فرمایا کہ جب میں نے آپ کو پہلے بتادیا ہے کہ زینب کا نکاح آپ سے ہونے والا ہے تو آپ زید سے یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں، یعنی آپ کی شان کے لائق نہیں، بلکہ بہتر یہ تھا کہ آپ خاموش رہتے، یا زید سے کہہ دیتے کہ تم جو کرنا چاہتے ہو کرو۔ علامہ آلوسی لکھتے ہیں، یہ عتاب ترک اولیٰ پر ہے۔“ (اشرف الحواشی) واضح رہے کہ یہ بات صراحت کے ساتھ کسی حدیث سے ثابت نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی رسول اللہ ﷺ کو اس بات سے آگاہ کردیا تھا کہ آپ کا نکاح زینب سے ہوگا، یہ صرف سدی کا قول ہے، یا علی بن حسین (زین العابدین) سے کمزور سند کے ساتھ مروی قول ہے۔ البتہ قرآن مجید کے الفاظ : ”وَكَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا“ اور ”مَا كَانَ عَلَي النَّبِيِّ مِنْ حَرَجٍ فِيْمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗ“ اور ”وَكَانَ اَمْرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَۨا“ سے اس قول کی تائید ہوتی ہے۔
فَلَمَّا قَضٰى زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا : ”وَطَراً“ کا معنی حاجت ہے، یعنی جب زید نے کچھ مدت تک اپنے نکاح میں رکھنے کے بعد اسے طلاق دے دی اور اس کی عدت بھی پوری ہوگئی، جس میں انھوں نے رجوع نہیں کیا اور ثابت ہوگیا کہ ان کے دل میں زینب کے متعلق جو خواہش تھی پوری ہوچکی اور اب ان کی کوئی خواہش یا حاجت نہیں رہی، تو ہم نے اے نبی ! اس کا نکاح آپ سے کردیا۔ ابن کثیر فرماتے ہیں : ”زینب کا آپ سے نکاح کرنے والا ولی خود اللہ تعالیٰ تھا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی فرمائی کہ آپ انسانوں میں سے کسی ولی یا عقد یا مہر یا گواہوں کے بغیر (اس کے خاوند ہیں) اس کے پاس چلے جائیں۔“ (ابن کثیر) انس ؓ فرماتے ہیں : ”جب زینب ؓ کی عدت پوری ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ نے زید ؓ سے کہا : ”ان سے میرا ذکر کرو۔“ زید جب ان کے پاس گئے تو وہ آٹے میں خمیر ملا رہی تھیں، کہتے ہیں کہ جب میں نے انھیں دیکھا تو میرے سینے میں ان کی اتنی عظمت چھا گئی کہ میں ان کی طرف نظر بھر کر نہ دیکھ سکا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ان کا ذکر کیا تھا۔ غرض میں نے ان کی طرف پیٹھ کرلی اور ایڑیوں پر پھر گیا اور کہا : ”اے زینب ! مجھے رسول اللہ ﷺ نے بھیجا ہے، وہ آپ کو یاد کر رہے ہیں (یعنی نبی ﷺ نے آپ کی طرف پیغام نکاح بھیجا ہے)۔“ زینب ؓ نے کہا : ”میں اس وقت تک کوئی کام نہیں کرتی جب تک اپنے رب سے مشورہ نہ کرلوں (یعنی استخارہ نہ کرلوں)۔“ پھر وہ اپنی جائے نماز پر کھڑی ہوگئیں اور قرآن نازل ہوا اور رسول اللہ ﷺ ان کے پاس اجازت کے بغیر تشریف لے آئے۔“ [ مسلم، النکاح، باب زواج زینب
بنت جحش۔۔۔ : 1428 ]
انس ؓ فرماتے ہیں : (جَاءَ زَیْدُ بْنُ حَارِثَۃَ یَشْکُوْ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ یَقُوْلُ اتَّقِ اللّٰہَ ، وَ أَمْسِکْ عَلَیْکَ زَوْجَکَ ، قَالَ أَنَسٌ لَوْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ کَاتِمًا شَیْءًا لَکَتَمَ ہٰذِہِ ، قَالَ فَکَانَتْ زَیْنَبُ تَفْخَرُ عَلٰی أَزْوَاج النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ تَقُوْلُ زَوَّجَکُنَّ أَہَالِیْکُنَّ ، وَ زَوَّجَنِيَ اللّٰہُ تَعَالٰی مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمٰوَاتٍ) [ بخاري، التوحید، باب : (و کان عرشہ علی الماء)۔۔ : 7420 ] ”زید بن حارثہ ؓ آ کر شکایت کرنے لگے تو نبی ﷺ انھیں یہی کہتے رہے : ”اللہ سے ڈر اور اپنی بیوی کو اپنے پاس روکے رکھ۔“ انس ؓ نے فرمایا : ”اگر رسول اللہ ﷺ کوئی چیز چھپانے والے ہوتے تو اس بات کو ضرور چھپالیتے۔“ انس ؓ فرماتے ہیں کہ پھر زینب ؓ نبی ﷺ کی دوسری بیویوں پر فخر کرتے ہوئے کہتی تھیں : ”تمہارا نکاح تمہارے گھر والوں نے کیا اور میرا نکاح اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر سے کیا۔“
لِكَيْ لَا يَكُوْنَ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ حَرَجٌ۔۔ : یعنی ہم نے زینب ؓ کا نکاح آپ سے اس لیے کردیا کہ جاہلی رسم کے مطابق اپنے منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے نکاح کو جو حرام سمجھا جاتا تھا، آپ کے عملی اقدام سے یہ رسم ختم کی جائے اور ایمان والوں کو اپنے منہ بولے بیٹوں کی مطلقہ عورتوں کے ساتھ نکاح میں کوئی تنگی نہ رہے اور وہ کسی گناہ یا عار کے احساس کے بغیر ان سے نکاح کرسکیں۔
وَكَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا : یعنی اللہ کا یہ فیصلہ پورا ہو کر رہنے والا تھا کہ متبنّٰی حقیقی بیٹا نہیں ہوتا، نہ اسے متبنّٰی بنانے والے کے لیے اس کی مطلقہ سے نکاح حرام ہے اور یہ فیصلہ بھی پورا ہو کر رہنا تھا کہ زینب ؓ رسول اللہ ﷺ کے نکاح میں آئیں گی۔
Ayah 33:38مَا كَانَ عَلَي النَّبِيِّ مِنْ حَرَجٍ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لیے جو کام طے کردیا اور اس کا حکم دے دیا اس کے ادا کرنے میں اس پر کوئی تنگی نہ پہلے تھی، نہ اب ہے، نہ آئندہ ہونی چاہیے۔ ”کان“ نفی کے استمرار کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”کبھی کوئی تنگی نہیں۔“ اس لیے اسے وہ بات بتانے میں یا اس پر عمل کرنے میں کسی طعن و تشنیع یا ملامت کی پروا نہیں کرنی چاہیے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے یہ طے فرمایا کہ منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹا نہیں، اسی طرح یہ بھی طے فرما دیا کہ نبی ﷺ اپنے متبنّٰی کی مطلقہ سے نکاح کریں گے۔ اس لیے آپ ﷺ کو اس کے اظہار یا اس پر عمل کے سلسلے میں منافقین یا یہود کے طعن کی پروا نہیں کرنی چاہیے تھی۔ یہ وہی بات ہے جو سدی اور زین العابدین نے فرمائی ہے۔ اس آیت سے یہ بھی ظاہر ہے کہ عام مسلمانوں کے لیے اپنے متبنّٰی کی مطلقہ سے نکاح محض مباح ہے، مگر بہت سی مصلحتوں کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے طے کرنے کی وجہ سے آپ ﷺ پر فرض تھا۔
سُـنَّةَ اللّٰهِ فِي الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ : لفظ ”سُـنَّةَ“ پر نصب یا تو اس لیے ہے کہ اس سے پہلے حرف جر ”کاف“ محذوف ہے، جس کے حذف ہونے کی وجہ سے یہ منصوب ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کے لیے جو کچھ طے فرمایا اسے ادا کرنے میں اس پر اسی طرح کوئی حرج نہیں جیسے اللہ تعالیٰ کا پہلے انبیاء کے بارے میں طریقہ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے لیے جو طے کردیتا وہ اس کی ادائیگی میں کوئی تنگی محسوس نہیں کرتے تھے۔ یا یہ فعل محذوف کا مصدر ہے، یعنی ”سَنَّ اللّٰہُ ھٰذَا سُنَّۃً فِي الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ“ مطلب ایک ہی ہے کہ گزشتہ انبیاء بھی ایسے کاموں کے کرنے میں حرج محسوس نہیں کرتے تھے جو اللہ کی طرف سے ان پر فرض کردیے جاتے تھے، چاہے ان کی اقوام اور زمانے کے رسم و رواج ان کے خلاف ہوتے تھے۔
وَكَانَ اَمْرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَۨا : یعنی اللہ تعالیٰ کے احکام خاص طور پر حکمت اور مصلحت پر مبنی ہوتے ہیں، دنیاوی حکمرانوں کی طرح وقتی اور فوری ضرورت پر مشتمل نہیں ہوتے، اسی طرح ان کا وقت بھی مقرر ہوتا ہے جس کے مطابق وہ وقوع پذیر ہوتے ہیں۔
Ayah 33:39الَّذِيْنَ يُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ۔۔ : پچھلی آیت میں فرمایا تھا کہ اللہ کا یہی طریقہ ان لوگوں میں رہا ہے جو اس سے پہلے تھے۔ اب ان کی تعریف فرمائی کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے پیغام پہنچاتے ہیں اور اس سے ڈرتے ہیں اور اللہ کا پیغام پہنچانے میں اس کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کو ان کی طرح اللہ تعالیٰ کے پیغام پہنچانے اور اس کے سوا کسی سے نہ ڈرنے کی تلقین ہے، جیسا کہ فرمایا : (اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ) [ الأنعام : 90 ] ”یہی وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ نے ہدایت دی، سو تو ان کی ہدایت کی پیروی کر۔“
وَكَفٰى باللّٰهِ حَسِيْبًا : ”حَسِيْبًا“ کا معنی حساب لینے والا بھی ہے اور کفایت کرنے والا بھی، جیسا کہ فرمایا : (حَسْبِيَ اللّٰهُ) [ التوبۃ : 129 ] ”مجھے اللہ ہی کافی ہے۔“ پہلی صورت میں مطلب یہ ہے کہ اس اکیلے سے ڈرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہر چھوٹے بڑے عمل پر محاسبہ کرنے والا ہے اور اس محاسبے کے لیے وہ اکیلا ہی کافی ہے، اسے کسی معاون کی ضرورت نہیں۔ دوسری صورت میں مطلب یہ ہے کہ اس کے بندے جب اس کا پیغام پہنچاتے ہیں تو دشمنوں اور مخالفوں کے مقابلے میں کفایت اور مدد کرنے کے لیے انھیں اللہ تعالیٰ ہی کافی ہے۔
3 ان آیات میں تقیہ کا رد ہے، اس لیے کہ اللہ کے پیغمبر اس کا پیغام صراحت کے ساتھ لوگوں تک پہنچا دیتے ہیں، اس میں کسی کے خوف کو خاطر میں نہیں لاتے، نہ کسی سے ڈر کر اسے چھپاتے ہیں۔ اس معاملے میں ہمارے نبی کریم ﷺ سب کے سردار ہیں۔ آپ ﷺ نے اللہ کا پیغام مشرق و مغرب میں تمام بنی آدم تک پہنچایا، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے دین کو تمام دینوں پر غالب کردیا۔ پھر آپ کے صحابہ یہ پیغام پہنچانے میں آپ کے بہترین وارث بنے، انھوں نے اپنی زبان، اپنے ہاتھ اور اپنی تلوار کے ساتھ آپ کا دین کل عالم تک پہنچا دیا۔ آپ کے رات دن، سفرو حضر، گھر اور باہر کے تمام اقوال و افعال اور احوال امت تک پہنچا دیے۔ اس کے بعد ہر زمانے کے لوگ یہ پیغام آگے پہنچاتے رہے، اگر ان میں سے کوئی خوف کے مارے تقیہ اختیار کرتا تو اللہ کا دین ہم تک کیسے پہنچتا اور اس کے قیامت تک باقی رہنے کی کیا صورت ہوتی۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں بھی ان میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔