Ayah 33:70يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِيْدًا : ”سَدَّ یَسُدُّ“ (ن) بند کرنا، پر کرنا اور ”سَدَّ یَسَدُّ“ (س، ض) سیدھا ہونا۔ ”سَدِيْدًا“ سیدھا، درست۔ ”سَدَّدَ یُسَدِّدُ“ (تفعیل) سیدھا کرنا۔ علی ؓ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (قُلِ اللّٰھُمَّ اھْدِنِیْ وَسَدِّدْنِیْ وَاذْکُرْ بالْھُدٰی ھِدَایَتَکَ الطَّرِیْقَ وَالسَّدَادِ سَدَاد السَّھْمِ) [ مسلم، الذکر والدعاء، باب في الأدعیۃ : 2725 ] ”یوں کہو کہ اے اللہ ! مجھے ہدایت دے اور سیدھا کر دے اور ہدایت کی دعا کرتے ہوئے صحیح راستے پر جانے کو دل میں رکھو اور سیدھا کرنے کی دعا کرتے ہوئے تیر کے سیدھا کرنے کو دل میں رکھو۔“
3 گزشتہ آیت میں مسلمانوں کو نبی ﷺ کی ایذا دہی سے منع فرمایا۔ ایذا تبھی ہوتی ہے جب کوئی شخص غلط بات کرے اور الزام لگائے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ پر مال کی تقسیم میں ناانصافی کا الزام لگایا گیا۔ ظاہر ہے کہ کوئی شخص اسی وقت غلط بیانی اور الزام تراشی کرسکتا ہے جب وہ اللہ سے نہ ڈرے۔ اس لیے ایذا دہی سے منع کرنے کے بعد اب اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا اور سیدھی بات کہنے کا حکم دیا۔
Ayah 33:71يُّصْلِحْ لَكُمْ اَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ : اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور سیدھی صاف بات کہنے کے دو فائدے بیان فرمائے، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور دوسرا یہ کہ گناہوں پر پردہ ڈال دے گا۔ عام طور پر لوگ بگڑے ہوئے کاموں کو درست کرنے کے لیے جھوٹ بولتے اور چالاکی و ہوشیاری سے کام لیتے ہیں۔ ان کے ایچ پیچ اور غلط بیانی کی وجہ سے سننے والے مزید بھڑکتے اور بدگمان ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ کام مزید بگڑتے ہیں اور کبھی درست نہیں ہوتے، مگر جب آدمی اللہ سے ڈرے اور سیدھی صاف بات کہے تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ سارے کام درست بھی ہوجائیں گے اور گزشتہ گناہوں کی مغفرت بھی ہوجائے گی۔ کیونکہ سیدھی بات دلوں سے کدورت ختم کرنے اور باہمی صلح صفائی کا باعث بن جاتی ہے اور سیدھا ہوجانے پر اللہ تعالیٰ بھی درگزر فرماتا ہے۔
3 رسول اللہ ﷺ نے نکاح اور دوسری حاجات کے موقع پر پڑھے جانے والے جس خطبہ کی تعلیم دی اس میں آپ ﷺ چار آیات پڑھتے تھے، جن میں سے دو یہ ہیں۔ کیونکہ اللہ سے ڈرنا اور سیدھی بات کہنا ہر معاملے میں ضروری ہے، خصوصاً میاں بیوی کے معاملے میں تو اس کی ضرورت اور بھی زیادہ ہے، کیونکہ ان کے درمیان معاملات کا کوئی گواہ نہیں ہوتا، صرف اللہ کا خوف اور سیدھی بات ان کے معاملات کو درست رکھ سکتی ہے اور معمولی سی چالاکی اور غلط بیانی باہمی اعتماد کو ختم کر کے گھر برباد کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔
وَمَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ۔۔ : کیونکہ اصل کامیابی جنت کا حصول اور جہنم سے نجات ہے، جو صرف اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے حاصل ہوسکتی ہیں۔ دیکھیے سورة نساء (13، 14) اور آل عمران (185)۔
Ayah 33:72اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَي السَّمٰوٰتِ۔۔ : کائنات میں اللہ تعالیٰ کے دو قسم کے احکام جاری و ساری ہیں، ایک اس کا حکم ”کُنْ“ (ہو جا) ہے، جب وہ کسی چیز کو یہ حکم دیتا ہے تو وہ ہوجاتی ہے، ممکن نہیں کہ وہ اس کے حکم کے مطابق نہ ہو۔ اسے کونی حکم کہتے ہیں۔ دوسرا حکم وہ ہے جس میں اس نے اختیار دے دیا ہے کہ جسے حکم دیا گیا ہے چاہے تو کرے اور چاہے تو نہ کرے۔ ساتھ ہی تعمیل پر ثواب کا وعدہ اور عمل نہ کرنے پر عذاب کی وعید ہے، اسے شرعی حکم کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ان شرعی احکام و فرائض کا نام ”امانت“ ہے۔ جنّ و انس کو چھوڑ کر باقی پوری کائنات اللہ تعالیٰ کے کونی احکام کی پابند ہے۔ ان میں سے کسی کو اللہ کی نافرمانی کا اختیار ہی نہیں۔ نہ وہ نافرمانی کرتے ہیں، نہ کرسکتے ہیں۔ انسان بعض چیزوں میں دوسری مخلوقات کی طرح کونی احکام کا پابند ہے، مثلاً اس کا پیدا ہونا، اس کے جسم کے تمام نظام، سانس کی آمدورفت، دل کی دھڑکن، جوانی، بڑھاپے، صحت، بیماری، زندگی اور موت کے مراحل اس کے اختیار میں نہیں، البتہ بعض چیزوں یعنی شرعی احکام میں اسے اختیار دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں اس کے لیے ثواب یا عذاب رکھا گیا ہے۔ اس آیت میں امانت سے مراد شرعی احکام، یعنی فرائض و محرمات ہیں جو انسان پر عائد کیے گئے ہیں۔
ترجمان القرآن ابن عباس ؓ نے اس کی یہی تفسیر فرمائی ہے، چناچہ طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ان کا قول نقل کیا ہے : ”اَلْأَمَانَۃُ الْفَرَاءِضُ (اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ) إِنْ أَدَّوْہَا أَثَابَہُمْ ، وَ إِنْ ضَیَّعُوْہَا عَذَّبَہُمْ ، فَکَرِہُوْا ذٰلِکَ ، وَ أَشْفَقُوْا مِنْ غَیْرِ مَعْصِیَۃٍ ، وَ لٰکِنْ تَعْظِیْمًا لِّدِیْنِ اللّٰہِ أَنْ لَّا یَقُوْمُوْا بِہَا، ثُمَّ عَرَضَہَا عَلٰی آدَمَ ، فَقَبِلَہَا بِمَا فِیْہَا، وَ ہُوَ قَوْلُہُ : (وَحَمَلَهَا الْاِنْسَانُ ۭ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًا) غُرًّا بِأَمْرِ اللّٰہِ“ [ طبري : 28919، 28917 ] ”امانت سے مراد فرائض ہیں، اللہ تعالیٰ نے انھیں آسمانوں، زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا کہ اگر وہ انھیں ادا کریں گے تو وہ انھیں ثواب دے گا اور اگر انھوں نے وہ ضائع کیے تو انھیں عذاب دے گا۔ تو انھوں نے اسے ناپسند کیا اور اس سے ڈر گئے، کسی نافرمانی کی وجہ سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے دین پر عمل کو بہت بڑا سمجھتے ہوئے کہ وہ اس پر قائم نہیں رہ سکیں گے، پھر ان (فرائض) کو آدم (یعنی انسان) پر پیش کیا تو اس نے ان کو اس (ثواب و عذاب) سمیت قبول کرلیا جو ان میں تھا۔ اللہ تعالیٰ کے اس قول کا یہی مطلب ہے : (وَحَمَلَهَا الْاِنْسَانُ ۭ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًا)”اور انسان نے اسے اٹھا لیا، بیشک وہ ہمیشہ سے بہت ظالم بہت جاہل ہے۔“ یعنی وہ اللہ کے حکم سے غافل ہے۔“
صحابہ اور تابعین سے جتنی تفسیریں آئی ہیں وہ سب اس میں آجاتی ہیں، جو ابن عباس ؓ نے فرمایا، مثلاً ابن کثیر میں ہے کہ ابی بن کعب ؓ نے فرمایا : ”عورت کو اس کی شرم گاہ کا امانت دار بنایا گا۔“ بعض نے کہا : ”اس سے مراد غسل جنابت ہے۔“ زید بن اسلم نے فرمایا : ”مراد نماز، روزہ اور غسل جنابت ہے۔“ خلاصہ یہ کہ تمام اوامرو نواہی، فرائض و محرمات انسان کے لیے اللہ کی طرف سے امانت ہیں اور یہ امانت اتنی عظیم اور بھاری چیز ہے کہ آسمان و زمین اور پہاڑوں نے اتنی بڑی مخلوقات ہونے کے باوجود اسے قبول کرنے سے انکار کردیا اور اس سے ڈر گئے۔
3 بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ بات تمثیلی طور پر بیان کی گئی ہے، یعنی اتنی بڑی مخلوقات میں یہ ذمہ داری اٹھانے کی استعداد نہیں جو انسان میں موجود ہے، ورنہ ایسا نہیں کہ واقعی اللہ تعالیٰ نے آسمانوں، زمین اور پہاڑ کے سامنے امانت پیش کی ہو اور انھوں نے اسے قبول نہ کیا ہو۔ مگر یہ بات درست نہیں، کیونکہ تاویل کی ضرورت تب ہوتی ہے جب ظاہری معنی مراد لینا ممکن نہ ہو، جب کہ زمین و آسمان اور پہاڑوں میں ادراک اور سمجھ کا ہونا، ان کا اللہ کی تسبیح کرنا، ان کا رونا اور خوش ہونا متعدد آیات و احادیث سے ثابت ہے۔ دیکھیے سورة بقرہ (73) ، بنی اسرائیل (44) ، نور (41) ، حشر (21) ، نحل (48) ، دخان (29) اور سورة حم السجدہ (21)۔
3 شاہ عبدالقادر نے ”ظَلُوْماً جَھُوْلاً“ کا ترجمہ ”بےترس نادان“ کیا ہے اور پھر لکھتے ہیں : ”یعنی اپنی جان پر ترس نہ کھایا۔ امانت کیا ؟ پرائی چیز رکھنی اپنی خواہش کو روک کر، زمین و آسمان میں اپنی خواہش کچھ نہیں، یا ہے تو وہی ہے جس پر قائم ہیں۔ آسمان کی خواہش پھرنا، زمین کی خواہش ٹھہرنا۔ انسان میں خواہش اور ہے اور حکم خلاف اس کے۔ اس پرائی چیز کو برخلاف اپنے جی کے تھامنا بڑا زور چاہتا ہے۔ اس کا انجام یہ کہ منکروں کو قصور پر پکڑنا اور ماننے والوں کا قصور معاف کرنا۔ اب بھی یہی حکم ہے کہ کسی کی امانت کوئی جان کر ضائع کرے تو بدلا ہے اور بےاختیار ضائع ہو تو بدلا نہیں۔“ (موضح) شاہ صاحب کے کلام کا آخری حصہ (اس کا انجام یہ۔۔) اگلی آیت ”ۙ لِّيُعَذِّبَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِيْنَ“ کی تفسیر ہے۔
3 لفظ امانت جس طرح ان فرائض اور اوامرو نواہی پر بولا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان پر عائد ہوئے اور اس نے انھیں قبول کیا، اسی طرح اس صفت پر بھی بولا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں رکھی ہے، جس کی بدولت وہ ہر حق والے کو اس کا حق ادا کرتا اور ان فرائض کو ادا کرتا ہے جو حق تعالیٰ نے اس پر عائد کیے ہیں۔ چناچہ حذیفہ ؓ فرماتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے دو حدیثیں بیان کیں، ان میں سے ایک میں نے دیکھ لی ہے اور دوسری کا انتظار کر رہا ہوں۔ آپ ﷺ نے ہمیں بیان فرمایا : (أَنَّ الْأَمَانَۃَ نَزَلَتْ فِيْ جَذْرِ قُلُوْبِ الرِّجَالِ ، ثُمَّ عَلِمُوْا مِنَ الْقُرْآنِ ، ثُمَّ عَلِمُوْا مِنَ السُّنَّۃِ) ”یعنی امانت لوگوں کے دلوں کی جڑ میں اتری، پھر انھوں نے اسے قرآن سے سیکھا، پھر انھوں نے سنت سے سیکھا۔“ حذیفہ ؓ نے فرمایا، پھر آپ ﷺ نے ہمیں اس کے اٹھائے جانے کے متعلق بتایا، فرمایا : (یَنَام الرَّجُلُ النَّوْمَۃَ فَتُقْبَضُ الْأَمَانَۃُ مِنْ قَلْبِہِ ، فَیَظَلُّ أَثَرُہَا مِثْلَ أَثَرِ الْوَکْتِ ، ثُمَّ یَنَام النَّوْمَۃَ فَتُقْبَضُ فَیَبْقٰی أَثَرُہَا مِثْلَ الْمَجْلِ ، کَجَمْرٍ دَحْرَجْتَہُ عَلٰی رِجْلِکَ فَنَفِطَ ، فَتَرَاہُ مُنْتَبِرًا، وَ لَیْسَ فِیْہِ شَيْءٌ، فَیُصْبِحُ النَّاسُ یَتَبَایَعُوْنَ فَلَا یَکَادُ أَحَدٌ یُؤَدِّي الْأَمَانَۃَ ، فَیُقَالُ إِنَّ فِيْ بَنِيْ فُلاَنٍ رَجُلاً أَمِیْنًا وَ یُقَال للرَّجُلِ مَا أَعْقَلَہُ وَ مَا أَظْرَفَہُ وَ مَا أَجْلَدَہُ وَ مَا فِيْ قَلْبِہِ مِثْقَالُ حَبَّۃِ خَرْدَلٍ مِنْ إِیْمَانٍ) [ بخاري، الرقاق، باب رفع الأمانۃ : 6497 ] ”آدمی سوئے گا تو اس کے دل سے امانت اٹھا لی جائے گی اور اس کا نشان ہلکے سے داغ کی طرح رہ جائے گا۔ پھر ایک اور دفعہ سوئے گا تو (مزید) اٹھا لی جائے گی، تو اس کا نشان ایک چھالے کی طرح رہ جائے گا، جیسے تو کوئی انگارا اپنے پاؤں پر لڑھکائے تو ایک چھالا پھول آتا ہے، تم اسے ابھرا ہوا دیکھتے ہو، حالانکہ اس میں کچھ بھی نہیں ہوتا۔ حال یہ ہوجائے گا کہ صبح اٹھ کر لوگ خریدو فروخت کریں گے اور قریب نہیں ہوگا کہ کوئی بھی امانت ادا کرے، حتیٰ کہ کہا جائے گا کہ فلاں قبیلے میں ایک امانت دار آدمی ہے اور کہا جائے گا کہ فلاں آدمی کس قدر عقل مند، کس قدر ذہین اور کتنا مضبوط ہے، حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان نہیں ہوگا۔“
3 لفظ ”امانت“ کا ایک اور مفہوم بھی ہے، بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَنْ حَلَفَ بالْأَمَانَۃِ فَلَیْسَ مِنَّا) [ أبو داوٗد، الإیمان والنذور، باب کراھیۃ الحلف بالأمانۃ : 3253، و قال الألباني صحیح ] ”جس نے امانت کی قسم اٹھائی وہ ہم میں سے نہیں۔“ اس حدیث میں امانت سے کیا مراد ہے، اکثر شارحین حدیث نے فرمایا کہ آدمی کی طرح اس کی امانت بھی چونکہ مخلوق ہے اور مخلوق کی قسم کھانا جائز نہیں، اس لیے اس پر یہ سخت حکم لگایا گیا ہے۔ مگر میری دانست میں اس کا مصداق عیسائیوں کی شریعت کے عقائد و احکام پر مشتمل وہ کتاب ہے جو ان کے بادشاہ قسطنطین کے زمانہ میں اس کے حکم سے تین سو اٹھارہ پادریوں نے تصنیف کی تھی اور اس کا نام ”اَلْأَمَانَۃُ الْکَبِیْرَۃُ“ رکھا تھا۔ جس میں بہت سی حلال چیزوں کو حرام اور حرام کو حلال کردیا گیا۔ حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں : ”انھوں نے اس کا نام ”اَلْأَمَانَۃُ الْکَبِیْرَۃُ“ رکھا، حالانکہ درحقیقت وہ ”اَلْخِیَانَۃُ الْحَقِیْرَۃُ“ ہے۔“ تفسیر ابن کثیر میں اس کی تفصیل سورة آل عمران کی آیات (55 تا 58) اور سورة روم کی ابتدائی آیات اور کئی اور مقامات کی تفسیر میں موجود ہے۔
رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق کہ ”امت مسلمہ بھی یہود و نصاریٰ کے نقش قدم پر چل پڑے گی“ ہماری امت کے بعض بادشاہوں نے بھی اپنے زمانے کے علماء کے ذمے یہ ذمہ داری لگائی کہ وہ شریعت کے احکام کے لیے کتاب تصنیف کریں، مگر ان علماء نے کتاب و سنت کے بجائے اقوال جمع کر کے اسے شریعت کے قوانین قرار دیا اور شاید ہی کوئی اللہ کی حد باقی رہی ہو جسے انھوں نے حیلے بہانے سے ختم نہ کیا ہو۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا اس امت پر احسان عظیم ہے کہ آسمانی ہدایت قرآن و سنت کی صورت میں محفوظ ہے۔ اس لیے لوگوں کے اقوال کو شریعت اسلام قرار دینے والے اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکے اور ان شاء اللہ کامیاب ہو بھی نہیں سکیں گے۔ مختصر یہ کہ امانت نامی کتاب، جسے عیسائی مقدس کتاب سمجھتے اور اس کی قسم اٹھاتے تھے، مسلمانوں کو نہایت سختی کے ساتھ اس کی قسم کھانے سے منع کردیا گیا۔
Ayah 33:73لِّيُعَذِّبَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِيْنَ۔۔ : اس آیت میں انسان کے امانت کی ذمہ داری کو اٹھانے کا نتیجہ بیان ہوا ہے۔ سورت کی ابتدا اس حکم کے ساتھ ہوتی ہے کہ ”اے نبی ! اللہ سے ڈر اور کفار و منافقین کی اطاعت مت کر“ پھر سورت کے درمیان میں منافقوں کی خیانتوں کا اور ان کے اللہ تعالیٰ اور مسلمانوں سے لیے ہوئے تمام عہد توڑنے کا ذکر فرمایا۔ سورت کے آخر میں امانت کی اہمیت اور اس میں خیانت کرنے والے منافق اور مشرک لوگوں کے عذاب اور امانت کا حق ادا کرنے والے مومنوں کا ثواب ذکر فرمایا۔ کچھ تفسیر اس کی پچھلی آیت کے فائدہ (3) میں شاہ عبدالقادر کے کلام میں گزر چکی ہے۔