33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 33:53

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰىهُ١ۙ وَ لٰكِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَ لَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ١٘ وَ اللّٰهُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ١ؕ وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ١ؕ ذٰلِكُمْ اَطْهَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَ قُلُوْبِهِنَّ١ؕ وَ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَنْ تَنْكِحُوْۤا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمًا Open ayah 33:53 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! نبی کے گھروں میں مت داخل ہو مگر یہ کہ تمہیں کھانے کی طرف اجازت دی جائے، اس حال میں کہ اس کے پکنے کا انتظار کرنے والے نہ ہو اور لیکن جب تمہیں بلایا جائے تو داخل ہوجاؤ، پھر جب کھا چکو تو منتشر ہوجاؤ اور نہ (بیٹھے رہو) اس حال میں کہ بات میں دل لگانے والے ہو۔ بیشک یہ بات ہمیشہ سے نبی کو تکلیف دیتی ہے، تو وہ تم سے شرم کرتا ہے اور اللہ حق سے شرم نہیں کرتا اور جب تم ان سے کوئی سامان مانگو تو ان سے پردے کے پیچھے سے مانگو، یہ تمہارے دلوں اور ان کے دلوں کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے اور تمہارا کبھی بھی حق نہیں کہ تم اللہ کے رسول کو تکلیف دو اور نہ یہ کہ اس کے بعد کبھی اس کی بیویوں سے نکاح کرو۔ بیشک یہ بات ہمیشہ سے اللہ کے نزدیک بہت بڑی ہے۔

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُيُوْتَ النَّبِيِّ۔۔ : گزشتہ آیات میں نبی ﷺ اور آپ کی ازواج مطہرات کے باہمی معاملات کے متعلق راہ نمائی فرمائی گئی، اب امت کو امہات المومنین کے چند آداب بتائے جاتے ہیں اور آپ ﷺ کے گھروں میں داخلے کے متعلق چند احکام بیان ہوتے ہیں، جو کچھ عرصہ بعد سورة نور میں تمام مسلمانوں کے گھروں میں داخلے کے لیے بھی نافذ کردیے گئے۔ دور جاہلیت میں عرب لوگ بلا تکلف ایک دوسرے کے گھروں میں چلے جاتے تھے، کسی سے ملنے کے لیے اس کے دروازے پر کھڑے ہو کر اجازت لینے یا انتظار کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی تھی، بلکہ ہر شخص گھر کے اندر جا کر عورتوں سے بات کرلیتا اور صاحب خانہ کے متعلق پوچھ لیتا اور عورتیں بھی پردہ نہیں کرتی تھیں۔ بعض اوقات اس سے بہت سی اخلاقی خرابیوں کا آغاز ہوتا تھا، اس لیے پہلے نبی ﷺ کے گھروں کے لیے یہ قاعدہ مقرر کیا گیا کہ کوئی دوست ہو یا رشتہ دار اجازت کے بغیر آپ کے گھروں میں داخل نہ ہو، پھر سورة نور (27) میں تمام گھروں میں داخلے کے لیے اس قاعدے کا اعلان کردیا گیا۔ اِلٰى طَعَامٍ غَيْرَ نٰظِرِيْنَ اِنٰىهُ۔۔ : ”اِنٰىهُ“ میں ”إِنًی“ ”أَنٰی یَأْنِیْ“ (ض) کا مصدر ہے، اس کا معنی ہے ”کسی چیز کا وقت ہوجانا۔“ جیسا کہ فرمایا : (اَلَمْ يَاْنِ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ) [ الحدید : 16 ] ”کیا ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے، وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی یاد کے لیے جھک جائیں۔“ یہ لفظ کھانا پک جانے کے معنی میں بھی آتا ہے، کیونکہ پکنے پر اس کے کھانے کا وقت ہوجاتا ہے۔ اہل عرب میں جو غیر مہذب عادات پھیلی ہوئی تھیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ وہ کھانے کے وقت کا اندازہ کر کے کسی کے گھر پہنچ جاتے، یا اس کے گھر آکر بیٹھے رہتے، یہاں تک کہ کھانے کا وقت ہوجاتا۔ اس سے صاحب خانہ مشکل میں پڑجاتا، نہ یہ کہہ سکتا کہ میرے کھانے کا وقت ہے، آپ تشریف لے جائیں، نہ اس کے بس میں ہوتا کہ اپنے کھانے کے ساتھ آنے والوں کے لیے بھی کھانا تیار کرے۔ بعض اوقات کھانے کے لیے دعوت دی جاتی، مگر مدعو حضرات وقت سے پہلے ہی آکر بیٹھ جاتے، جس سے گھر والے سخت کوفت میں مبتلا ہوجاتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بےہودہ عادت سے منع فرمایا اور حکم دیا کہ کھانا تیار ہونے کے انتظار میں پہلے ہی جا کر نہ بیٹھ جاؤ، بلکہ جب گھر والا کھانے کے لیے بلائے اس وقت جاؤ۔ یہ حکم بھی نمونے کے لیے رسول اللہ ﷺ کے گھر سے شروع ہوا، ورنہ ساری امت کے گھروں کے لیے یہی حکم ہے۔ وَلَا مُسْـتَاْنِسِيْنَ لِحَدِيْثٍ ۭ : یہ ایک اور بےہودہ عادت کی اصلاح ہے۔ بعض لوگ کھانے کی دعوت میں بلائے جاتے ہیں تو کھانے سے فارغ ہو کر وہیں باتوں کا سلسلہ شروع کردیتے ہیں، جو ختم ہونے میں نہیں آتا۔ انھیں پروا نہیں ہوتی کہ اس سے گھر والوں کو کس قدر کوفت ہو رہی ہے کہ نہ وہ حیا کی وجہ سے انھیں جانے کو کہہ سکتے ہیں اور نہ آزادی سے اپنا کوئی کام کرسکتے ہیں۔ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيٖ مِنْكُمْ : یعنی کھانے پینے سے فارغ ہو کر تمہارا باتوں میں دل لگا کر بیٹھے رہنا نبی ﷺ کو ہمیشہ تکلیف دیتا ہے۔ ہمیشہ کا مفہوم ”کان“ سے ظاہر ہو رہا ہے۔ پھر وہ تم سے حیا کرتے ہوئے یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ اب اٹھ جاؤ۔ مگر اللہ تعالیٰ حق کہنے سے نہیں شرماتا، اس لیے اس نے یہ احکام دیے ہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے طفیلیوں (بن بلائے مہمانوں) اور بوجھ بن جانے والوں کو اپنے نبی کے لیے برداشت نہیں فرمایا، پھر عام آدمی انھیں کیسے برداشت کرسکتا ہے۔ 3 اس آیت میں امہات المومنین کے حجاب کا حکم نازل ہوا، اس لیے اسے آیت حجاب بھی کہا جاتا ہے۔ یہ عمر بن خطاب ؓ کی موافقات، یعنی ان باتوں میں سے ہے جن میں ان کی بات کے مطابق قرآن نازل ہوا، مگر ان کا حسن ادب یہ ہے کہ انھوں نے یہ کہنے کے بجائے کہ قرآن نے میری بات کی موافقت کی، یہ کہا کہ میں نے تین باتوں میں اپنے رب کی موافقت کی۔ چناچہ ان میں سے ایک یہ ہے : (قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! لَوْ أَمَرْتَ نِسَاءَ کَ أَنْ یَحْتَجِبْنَ ، فَإِنَّہُ یُکَلِّمُہُنَّ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ ، فَنَزَلَتْ آیَۃُ الْحِجَابِ) [ بخاري، الصلاۃ، باب ما جاء في القبلۃ۔۔ : 402 ] ”میں نے کہا، یا رسول اللہ ! آپ کی بیویوں کے پاس اچھے اور برے ہر قسم کے لوگ (دینی یا دنیوی مسائل کے لیے) آتے ہیں کاش ! آپ انھیں حجاب کا حکم دے دیں، تو اللہ تعالیٰ نے آیت حجاب کو نازل فرمایا۔“ 3 اس آیت کا نزول جس موقع پر ہوا اسے انس ؓ نے بیان فرمایا ہے، وہ فرماتے ہیں : ”جب رسول اللہ ﷺ کی شادی زینب ؓ سے ہوئی تو (ولیمے میں) گوشت اور روٹی کھلائی گئی۔ مجھے لوگوں کو دعوت دینے کے لیے بھیجا گیا، لوگ آتے اور کھا کر چلے جاتے، پھر اور لوگ آتے اور کھا کر چلے جاتے۔ میں نے سب کو دعوت دی، حتیٰ کہ کوئی شخص باقی نہ رہا۔ آخر میں میں نے عرض کیا : ”یا رسول اللہ ! اب کوئی شخص نہیں ملتا جسے میں دعوت دوں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”اچھا اب کھانا اٹھا دو۔“ (سب لوگ کھانا کھا کر چلے گئے) اور تین شخص گھر میں بیٹھے باتیں کرتے رہے، رسول اللہ ﷺ نکلے اور عائشہ ؓ کے حجرے کی طرف چلے گئے اور کہا : ”اے اہل بیت (گھر والو) ! اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ“ انھوں نے کہا : (وَ عَلَیْکَ السَّلَامُ وَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ، کَیْفَ وَجَدْتَ أَہْلَکَ بَارَکَ اللّٰہُ لَکَ) ”آپ پر بھی سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو، آپ نے اپنے اہل کو کیسا پایا، اللہ آپ کے لیے برکت کرے۔“ اسی طرح آپ اپنی تمام بیویوں کے گھروں میں گئے اور سب کو عائشہ ؓ کی طرح سلام کیا، سب نے عائشہ ؓ کی طرح جواب دیا۔ پھر جب لوٹ کر آئے تو دیکھا کہ وہ تین آدمی (ابھی تک) گھر میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ نبی ﷺ سخت حیا والے تھے، آپ پھر عائشہ ؓ کے حجرے کی طرف چلے گئے۔ مجھے معلوم نہیں کہ میں نے آپ کو جا کر بتایا یا کسی اور نے بتایا کہ وہ لوگ چلے گئے ہیں۔ چناچہ آپ واپس آئے اور اس حالت میں کہ دروازے کی دہلیز میں آپ کا ایک پاؤں اندر تھا اور دوسرا باہر تھا، آپ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا دیا اور حجاب کی آیت نازل ہوگئی۔“ [ بخاري، التفسیر، باب قولہ : (لا تدخلوا بیوت النبي۔۔) : 4793 ] وَاِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا۔۔ : اس آیت کے نزول کے ساتھ حکم ہوا کہ محرم مردوں کے سوا کوئی آپ ﷺ کے گھر نہ آئے اور جسے بھی خواتین سے کوئی کام ہو وہ پردے کے پیچھے سے بات کرے، خواہ کوئی چیز مانگنے کی ضرورت ہو، یا کوئی بات یا دینی مسئلہ پوچھنے کی۔ ذٰلِكُمْ اَطْهَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَقُلُوْبِهِنَّ : اس جملے پر تھوڑی سی توجہ سے بھی یہ بات سمجھ میں آسکتی ہے کہ جب امہات المومنین، جو دنیا کی پاک باز ترین خواتین تھیں اور صحابہ کرام، جو دنیا کے پاک باز ترین مرد تھے، انھیں دلوں کو پاک رکھنے کے لیے ایک دوسرے سے کوئی بات کرتے وقت حجاب کا حکم ہے تو عام لوگوں کو بلاحجاب ایک دوسرے سے ملنے کی، یعنی گھروں، ہسپتالوں، سکولوں، کالجوں، پارکوں، عدالتوں اور اسمبلیوں میں مردوں اور عورتوں کے بلا تکلف میل جول اور مخلوط معاشرے کی اسلام میں کیا گنجائش ہوسکتی ہے اور ان کے دلوں کی طہارت و پاکیزگی کی کیا ضمانت ہوسکتی ہے۔ اب جو لوگ مسلمان ہونے کے باوجود کہتے ہیں کہ اصل پردہ دل کا ہے، کیونکہ شرم و حیا کا اور برے خیالات کا تعلق دل سے ہے، یہ ظاہر پردہ کچھ ضروری نہیں، ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کے احکام کو دل سے مانا ہی نہیں۔ وَمَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُــؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ : یعنی رسول اللہ ﷺ کو ایذا دینا، خواہ وہ آپ ﷺ کے گھر میں بلا اجازت داخل ہونا ہو، یا آپ کی خواہش کے بغیر آپ کے گھر میں بیٹھے رہنا ہو، یا حجاب کے بغیر ازواج مطہرات سے گفتگو کرنا ہو، یا منافقین کی طرح کسی قسم کی دل آزار باتیں کرنا ہو، غرض کسی بھی طریقے سے ہو، تمہارے لیے جائز نہیں، نہ ہی یہ تمہیں کبھی زیب دیتا ہے۔ وَلَآ اَنْ تَنْكِحُوْٓا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖٓ اَبَدًا : یہ گناہ عظیم اس لحاظ سے ہے کہ نبی ﷺ کی بیویاں مسلمانوں کی مائیں ہیں۔ اگر کوئی آدمی ان سے نکاح کرے تو گویا اس نے اپنی ماں سے نکاح کیا، پھر جو احترام اللہ نے انھیں بخشا ہے وہ کبھی ملحوظ نہ رکھ سکے گا، بلکہ اپنی عاقبت برباد کرے گا۔
Ayah 33:54

اِنْ تُبْدُوْا شَیْئًا اَوْ تُخْفُوْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 33:54 in the Quran reader

اگر تم کسی چیز کو ظاہر کرو، یا اسے چھپاؤ تو بیشک اللہ ہمیشہ سے ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

اِنْ تُبْدُوْا شَـيْـــــًٔا اَوْ تُخْفُوْهُ۔۔ : یعنی زبان سے تو کجا، کسی مومن کے دل میں ایسا خیال بھی نہیں آنا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے تو ظاہر و باطن اور دل کے خیالات یکساں روشن ہیں، کوئی بات اس سے چھپی نہیں رہ سکتی۔
Ayah 33:55

لَا جُنَاحَ عَلَیْهِنَّ فِیْۤ اٰبَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اَخَوٰتِهِنَّ وَ لَا نِسَآئِهِنَّ وَ لَا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ١ۚ وَ اتَّقِیْنَ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا Open ayah 33:55 in the Quran reader

ان (عورتوں) پر کوئی گناہ نہیں اپنے باپوں (کے سامنے آنے) میں اور نہ اپنے بیٹوں کے اور نہ اپنے بھائیوں کے اور نہ اپنے بھتیجوں کے اور نہ اپنے بھانجوں کے اور نہ اپنی عورتوں کے اور نہ ان (کے سامنے آنے) میں جن کے مالک ان کے دائیں ہاتھ ہیں اور (اے عورتو !) اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ ہمیشہ سے ہر چیز پر پوری طرح شاہد ہے۔

لَا جُنَاحَ عَلَيْهِنَّ فِيْٓ اٰبَاۗىِٕـهِنَّ۔۔ : یعنی ان رشتہ داروں کے سامنے آنے اور حجاب کے بغیر بات کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ ان کے علاوہ دوسرے محرم رشتہ داروں کا بھی یہی حکم ہے، خواہ نسبی ہوں یا رضاعی۔ پردے کے متعلق امہات المومنین کا حکم بھی وہی ہے جو عام مسلمان عورتوں کا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة نور کی آیت (31) کی تفسیر۔
Ayah 33:56

اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓئِكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا Open ayah 33:56 in the Quran reader

بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر صلوٰۃ بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اس پر صلوٰۃ بھیجو اور سلام بھیجو، خوب سلام بھیجنا۔

اِنَّ اللّٰهَ وَمَلٰۗىِٕكَتَهٗ يُصَلُّوْنَ عَلَي النَّبِيِّ۔۔ : لفظ ”صلاۃ“ کی تفسیر اس سے پہلے آیت (43) میں گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نسبت سے اور فرشتوں اور مومنوں کی نسبت سے ”صلاۃ“ کا کیا معنی ہے۔ اس سورت میں رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حاصل ہونے والی کئی خصوصیات کا ذکر فرمایا، مثلاً آپ کا مومنوں پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھنا، آپ کے لیے چار سے زیادہ بیویوں کا حلال ہونا، آپ کا خاتم النّبیین ہونا، آپ کی بیویوں کا امہات المومنین ہونا، ان کے حجاب و احترام کا خصوصی اہتمام اور آپ ﷺ کے بعد آپ کی ازواج سے نکاح کی حرمت وغیرہ۔ ”اِنَّ“ کا لفظ عموماً تعلیل کے لیے، یعنی پہلی باتوں کی علت بیان کرنے کے لیے آتا ہے۔ زیر تفسیر آیت میں مسلمانوں کو رسول اللہ ﷺ کے ان بلند مراتب کا خاص خیال رکھنے اور ان کے تحفظ و احترام کا حکم دینے کی وجہ ذکر فرمائی۔ ابن کثیر فرماتے ہیں : ”مقصود اس آیت سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ”ملأ اعلیٰ“ یعنی آسمانوں کی بلند مجلس میں اپنے بندے اور نبی کے مرتبہ و منزلت کی بلندی کی خبر دے رہا ہے کہ خود اللہ تعالیٰ آپ کی تعریف و ثنا کرتا اور آپ پر رحمتیں اور برکتیں نازل فرماتا ہے اور اس کے فرشتے بھی آپ کے لیے رحمت و مغفرت اور بلندی درجات کی دعا کرتے ہیں۔ آسمانوں والوں کی خبر دے کر اب زمین والوں کو حکم دیتا ہے کہ تم بھی آپ پر صلاۃ وسلام بھیجو، تاکہ آپ کی تعریف و ثنا پر اور آپ کے لیے مغفرت و رحمت اور برکت کی دعا پر عالم علوی (آسمانوں والے) اور عالم سفلی (زمین والے) سب متحد ہوجائیں۔“ 3 آیت کے آخری الفاظ سے ظاہر ہے کہ کلام میں کچھ الفاظ حذف ہیں، جو خود بخود معلوم ہو رہے ہیں، یعنی ”وَسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا“ سے ظاہر ہے کہ آیت کی ابتدا اس طرح ہے : ”إِنَّ اللّٰہَ وَ مَلَاءِکَتَہُ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِيِّ وَ یُسَلِّمُوْنَ“ اسے احتباک کہتے ہیں اور یہ کلام الٰہی کے حسن کا ایک مظہر ہے۔ (بقاعی) انبیاء ؑ پر اللہ تعالیٰ کے سلام کا ذکر قرآن میں الگ الگ بھی آیا ہے، جیسے : (سلم علی نوح فی العلمین) ، (سلم علی ابراھیم) وغیرہ اور اکٹھا بھی آیا ہے، جیسے : (سلم علی المرسلین) [ دیکھیے الصافات : 79، 109، 181 ] 3 رسول اللہ ﷺ سے آپ پر صلاۃ کے لیے کئی الفاظ مروی ہیں، جو سبھی اس مقصد کے لیے پڑھے جاسکتے ہیں۔ ان میں زیادہ مشہور کعب بن عجرہ ؓ کی حدیث ہے، وہ فرماتے ہیں : (سَأَلْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ فَقُلْنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! کَیْفَ الصَّلَاۃُ عَلَیْکُمْ أَھْلَ الْبَیْتِ ؟ فَإِنَّ اللّٰہَ قَدْ عَلَّمَنَا کَیْفَ نُسَلِّمُ ، قَالَ قُوْلُوْا اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَ عَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ، اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ) [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب : 3370 ] ”ہم نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا : ”ہم نے کہا : ”آپ اہل بیت (گھر والوں) پر صلاۃ کس طرح ہے ؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ تو سکھا دیا ہے کہ ہم آپ پر سلام کیسے بھیجیں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”تم یوں کہو کہ اے اللہ ! محمد اور آل محمد پر صلاۃ بھیج، جیسے تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر صلاۃ بھیجی، بیشک تو تعریف کیا ہوا بزرگی والا ہے اور اے اللہ ! محمد اور آل محمد پر برکتیں نازل فرما، جس طرح تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر برکتیں نازل فرمائیں، بیشک تو تعریف کیا ہوا ہے، بزرگی والا ہے۔“ اس حدیث اور دوسری احادیث میں صحابہ کا یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ سکھا دیا ہے کہ ہم آپ پر سلام کیسے بھیجیں، اس سلام سے مراد نماز کے تشہد میں سلام کی تعلیم ہے۔ عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں : (عَلَّمَنِيْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ ، وَ کَفِّيْ بَیْنَ کَفَّیْہِ ، التَّشَھُّدَ کَمَا یُعَلِّمُنِي السُّوْرَۃَ مِنَ الْقُرْآنِ : اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِيُّ وَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُہُ ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَ عَلٰی عِبَاد اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ ، أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَ رَسُوْلُہُ) [ بخاري، الاستئذان، باب الأخذ بالیدین : 6265 ] ”مجھے رسول اللہ ﷺ نے تشہد اس طرح سکھایا جس طرح مجھے قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے، اس وقت میری ہتھیلی آپ کی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان تھی : ”تمام قولی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں اور تمام بدنی عبادتیں اور تمام مالی عبادتیں، سلام ہو تجھ پر اے نبی ! اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں، سلام ہو ہم پر اور اللہ کے صالح بندوں پر، میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد اس کا بندہ اور اس کا رسول ہے۔“ جس طرح اس حدیث سے ظاہر ہے کہ آیت میں ”وَسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا“ پر عمل کی تعلیم رسول اللہ ﷺ نے نماز میں تشہد کے اندر سلام کے الفاظ کے ساتھ دی ہے، اسی طرح صحابہ نے آپ ﷺ سے صلاۃ کے بھی وہی الفاظ سیکھنے کی درخواست کی جو نماز میں پڑھے جائیں۔ چناچہ ابو مسعود عقبہ بن عمرو ؓ فرماتے ہیں : (أَقْبَلَ رَجُلٌ حَتّٰی جَلَسَ بَیْنَ یَدَيْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ وَ نَحْنُ عِنْدَہُ فَقَالَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! اَمَّا السَّلَامُ عَلَیْکَ فَقَدْ عَرَفْنَاہُ فَکَیْفَ نُصَلِّيْ عَلَیْکَ إِذَا نَحْنُ صَلَّیْنَا فِيْ صَلَاتِنَا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْکَ ؟ قَالَ فَصَمَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ حَتّٰی أَحْبَبْنَا أَنَّ الرَّجُلَ لَمْ یَسْأَلْہُ فَقَالَ إِذَا أَنْتُمْ صَلَّیْتُمْ عَلَيَّ فَقُوْلُوْا اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ وَ عَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَ آلِ إِبْرَاھِیْمَ وَ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ) [ مسند أحمد : 4؍119، ح : 17076، مسند احمد کے محقق نے بارہ کتب حدیث سے اس حدیث کا حوالہ نقل کر کے اس کی صحت بیان فرمائی ہے ] ”ایک آدمی آیا اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے بیٹھ گیا اور ہم آپ ﷺ کے پاس موجود تھے، اس نے کہا : ”یا رسول اللہ ! آپ پر سلام کو تو ہم جان چکے، اب ہم آپ پر صلاۃ کیسے بھیجیں، جب ہم اپنی نماز میں صلاۃ بھیجیں، اللہ تعالیٰ آپ پر صلاۃ نازل فرمائے ؟“ تو رسول اللہ ﷺ کچھ دیر خاموش رہے، حتیٰ کہ ہم نے چاہا کہ یہ شخص یہ سوال نہ کرتا کہ اتنے میں آپ ﷺ نے فرمایا : ”جب تم مجھ پر صلاۃ بھیجو تو اس طرح کہو۔“ چناچہ آپ ﷺ نے صلاۃ کے ان الفاظ کی تعلیم دی جو اوپر حدیث میں مذکور ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کے حکم ”صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا“ سے اور رسول اللہ ﷺ کی اس پر عمل کے لیے تشہد میں سلام اور صلاۃ کے الفاظ کی بہ نفس نفیس تعلیم سے ظاہر ہے کہ کم از کم نماز میں یہ صلاۃ وسلام پڑھنا ضروری ہے۔ بعض حضرات کی اس بات پر تعجب ہوتا ہے کہ صلاۃ وسلام زندگی میں صرف ایک دفعہ فرض ہے۔ بلکہ ان کا کہنا یہ ہے کہ کلمۂ شہادت بھی زندگی میں صرف ایک دفعہ قبول اسلام کے وقت پڑھنا فرض ہے۔ حالانکہ صلاۃ کے علاوہ کلمہ شہادت پڑھنے کا حکم بھی ہر تشہد میں، اذان کا جواب دینے میں اور دوسرے کئی مقامات پر آیا ہے۔ اس سے بھی عجیب بات یہ ہے کہ یہ لوگ زندگی میں صرف ایک دفعہ کلمہ اور درود پڑھنا فرض ہونے پر امت کے اجماع کا دعویٰ کرتے ہیں، حالانکہ انھیں خوب معلوم ہے کہ کتنے جلیل القدر ائمہ نے نماز میں درود وسلام کو فرض تسلیم کیا ہے، پھر بھی اپنے غلط دعوئ اجماع پر اصرار کرتے چلے جاتے ہیں۔ تفسیر ابن کثیر میں ایسے کئی مواقع مذکور ہیں جہاں درود پڑھنے کا حکم ہے۔ 3 بہت سی احادیث میں رسول اللہ ﷺ کا ذکر آنے پر صلاۃ بھیجنے کی تاکید آئی ہے۔ علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اَلْبَخِیْلُ الَّذِيْ مَنْ ذُکِرْتُ عِنْدَہُ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَيَّ) [ ترمذي، الدعوات، باب رغم أنف رجل ذکرت عندہ۔۔ : 3546 ] ”بخیل وہ ہے جس کے پاس میرا ذکر کیا جائے تو وہ مجھ پر صلاۃ نہ پڑھے۔“ ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ ذُکِرْتُ عِنْدَہُ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَيَّ وَ رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ دَخَلَ عَلَیْہِ رَمَضَانُ ثُمَّ انْسَلَخَ قَبْلَ أَنْ یُغْفَرَ لَہُ وَ رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ أَدْرَکَ عِنْدَہُ أَبَوَاہُ الْکِبَرَ فَلَمْ یُدْخِلاَہُ الْجَنَّۃَ) [ ترمذي، الدعوات، باب رغم أنف رجل ذکرت عندہ۔۔ : 3545، و قال الألباني حسن صحیح ] ”اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے پاس میرا ذکر کیا جائے تو وہ مجھ پر صلاۃ نہ بھیجے اور اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس پر ماہ رمضان آئے، پھر وہ اس کی بخشش ہونے سے پہلے گزر جائے اور اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے والدین اس کے پاس بڑھاپے کو پائیں پھر وہ اسے جنت میں داخل نہ کروائیں۔“ ان احادیث کی رو سے رسول اللہ ﷺ کے ذکر پر صلاۃ پڑھنا لازم ہے، اگرچہ آپ کا نام آنے پر ہر مرتبہ صلاۃ پڑھنی چاہیے اور محدثین کا یہی قول ہے، تاہم کسی مجلس میں آپ کا نام آنے پر اگر ایک مرتبہ صلاۃ پڑھ لے تو امید ہے کہ صلاۃ نہ پڑھنے کی وعید سے بچ جائے گا۔ جیسا کہ امام ترمذی نے بعض اہل علم سے نقل فرمایا ہے، کیونکہ حدیث کے الفاظ میں اس کی گنجائش موجود ہے اور آگے فائدہ (6) میں مذکور دوسری حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ 3 نماز میں نبی ﷺ پر جن الفاظ میں صلاۃ پڑھی جاتی ہے نماز کے علاوہ بھی انھی الفاظ میں پڑھی جائے گی، مگر اس کے علاوہ مختصر الفاظ میں بھی پڑھی جاسکتی ہے، جیسا کہ تمام صحابہ کرام جب رسول اللہ ﷺ سے حدیث بیان کرتے یا آپ کا نام لیتے تھے تو ”صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ“ کے الفاظ ادا کرتے تھے، جیسا کہ تمام کتب احادیث کی تمام احادیث سے ثابت ہے۔ اگر ہر محدث نے اپنے استاذ سے حتیٰ کہ تابعی نے صحابی سے یہ الفاظ نہ سنے ہوتے تو وہ نقل نہ فرماتے، کیونکہ وہ نقل میں نہایت امین تھے، بلکہ ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام ؓ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ گزرے ہوئے کسی وقت کو یاد کرتے تو یہی مختصر صلاۃ پڑھتے تھے۔ چناچہ بخاری میں ہے کہ اسماء بنت ابی بکر ؓ کے مولیٰ عبداللہ نے بیان کیا : (أَنَّہُ کَانَ یَسْمَعُ أَسْمَاءَ تَقُوْلُ کُلَّمَا مَرَّتْ بالْحَجُوْنِ : صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہِ مُحَمَّدٍ لَقَدْ نَزَلْنَا مَعَہُ ہَاہُنَا، وَ نَحْنُ یَوْمَءِذٍ خِفَافٌ) [ بخاري، العمرۃ، باب متی یحل المعتمر ؟ : 1796 ] ”اسماء ؓ جب بھی حجون کے پاس سے گزرتیں تو یہ کہتیں ”صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہِ مُحَمَّدٍ“ ہم آپ کے ساتھ یہاں اترے تھے، ان دنوں ہم ہلکی پھلکی تھیں۔“ اس سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ کے ذکر خیر کے وقت ”صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ“ کے الفاظ پر صحابہ کرام کا اجماع ہے۔ البتہ رسول اللہ ﷺ سے خطاب کے صیغے کے ساتھ ”الصلاۃ“ کا لفظ، مثلاً ”اَلصَّلَاۃُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ !“ رسول اللہ ﷺ سے یا کسی صحابی سے ثابت نہیں، کیونکہ مخلوق کے پاس صلاۃ (رحمت و برکت) ہے ہی نہیں، اس لیے وہ اللہ تعالیٰ ہی سے اسے نازل کرنے کی دعا کرسکتے ہیں۔ 3 نبی ﷺ پر صلاۃ کی فضیلت اور نہ پڑھنے کی وعید میں بہت سی احادیث مروی ہیں، یہاں دو حدیثیں نقل کی جاتی ہیں : 1 عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُوْلُوْا مِثْلَ مَا یَقُوْلُ ثُمَّ صَلُّوْا عَلَيَّ فَإِنَّہُ مَنْ صَلّٰی عَلَيَّ صَلَاۃً صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ بِہَا عَشْرًا) [ مسلم، الصلاۃ، باب استحباب القول مثل قول المؤذن۔۔ : 384 ] ”جب تم مؤذن کو سنو تو اسی طرح کہو جیسے وہ کہتا ہے، پھر مجھ پر صلاۃ پڑھو، کیونکہ جو مجھ پر ایک بار صلاۃ پڑھے اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس پر دس دفعہ صلاۃ بھیجتا ہے۔“ 2 ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا لَمْ یَذْکُرُوا اللّٰہَ فِیْہِ وَ لَمْ یُصَلُّوْا عَلٰی نَبِیِّہِمْ إِلاَّ کَانَ عَلَیْہِمْ تِرَۃً فَإِنْ شَاءَ عَذَّبَہُمْ وَ إِنْ شَاءَ غَفَرَ لَہُمْ) [ ترمذي، الدعوات، باب ما جاء في القوم یجلسون۔۔ : 3380، و قال الألباني صحیح ] ”کوئی قوم کسی مجلس میں نہیں بیٹھی جس میں انھوں نے نہ اللہ کا ذکر کیا اور نہ اپنے نبی پر صلاۃ بھیجی، مگر وہ (مجلس) قیامت کے دن ان کے لیے باعث حسرت ہوگی، پھر اگر اس نے چاہا تو انھیں سزا دے گا اور اگر چاہا تو انھیں بخش دے گا۔“
Ayah 33:57

اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 33:57 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچاتے ہیں اللہ نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی اور ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کیا۔

اِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ۔۔ : قرآن مجید میں وعدہ و وعید اور ترغیب و ترہیب دونوں کا تذکرہ ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں کے ہاں رسول اللہ ﷺ کی عظمت، شان اور ان کے پاس آپ کی مدح و ثنا کے حوالے کے ساتھ ایمان والوں کو آپ کی مدح و ثنا اور آپ پر صلاۃ وسلام کا حکم دینے کے ساتھ ہی ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو مدح و ثنا کے بجائے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ایذا دیتے ہیں۔ فرمایا ان پر اللہ تعالیٰ نے دنیا اور آخرت میں لعنت فرمائی ہے اور ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ مراد ان لوگوں سے منافقین ہیں، جنھوں نے اسلام کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا، مگر رسول اللہ ﷺ کو ایذا دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔ کیونکہ کسی مومن سے اس بات کا تصور ہی نہیں ہوسکتا کہ وہ جان بوجھ کر آپ ﷺ کو ایذا دے۔ 3 اللہ تعالیٰ کو ایذا دینے سے مراد اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، اس کی شان میں گستاخی کرنا اور ان کاموں کا ارتکاب ہے جو اس نے حرام قرار دیے ہیں، مثلاً یہود کا کہنا : (ید اللہ مغلولۃ) [ المائدۃ : 64 ] ، نصاریٰ کا کہنا : (المسیح ابن اللہ) [ التوبۃ : 30 ] اور مشرکین کا فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں اور بتوں کو اور اللہ کی مخلوق کو اس کا شریک قرار دینا ہے۔ ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَا أَحَدٌ أَصْبَرُ عَلٰی أَذًی سَمِعَہُ مِنَ اللّٰہِ ، یَدَّعُوْنَ لَہُ الْوَلَدَ ، ثُمَّ یُعَافِیْہِمْ وَ یَرْزُقُہُمْ) [ بخاري، التوحید، باب قول اللّٰہ تعالیٰ : (إن اللّٰہ ھو الرزاق۔۔) : 7378 ] ”اللہ تعالیٰ سے زیادہ تکلیف دہ بات سن کر صبر کرنے والا کوئی نہیں، لوگ اس کے لیے اولاد قرار دیتے ہیں، پھر بھی وہ انھیں عافیت دیتا ہے اور رزق دیتا ہے۔“ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، اللہ عزوجل نے فرمایا : (یُؤْذِیْنِي ابْنُ آدَمَ یَسُبُّ الدَّہْرَ وَ أَنَا الدَّہْرُ أُقَلِّبُ اللَّیْلَ وَ النَّہَارَ) [ مسلم، الألفاظ من الأدب وغیرھا، باب النہي عن سب الدھر : 2؍2246 ] ”ابن آدم مجھے ایذا دیتا ہے، (اس طرح کہ) وہ زمانے کو گالی دیتا ہے، حالانکہ زمانہ تو میں ہوں، رات دن کو میں بدلتا ہوں۔“ اس کے علاوہ رسول اللہ ﷺ کو اور اہل ایمان کو ایذا بھی اللہ تعالیٰ کو ایذا ہے، جیسا کہ کعب بن اشرف کے رسول اللہ ﷺ اور مومنوں کی ہجو کرنے پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَنْ لِکَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ ؟ فَإِنَّہُ قَدْ آذَی اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہُ) [ بخاري، الرھن، باب رھن السلاح : 2510 ] ”کعب بن اشرف (کے قتل) کے لیے کون تیار ہے ؟ کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دی ہے۔“ 3 رسول اللہ ﷺ کو ایذا سے مراد کسی بھی طرح کی ایذا ہے، جسمانی ہو یا روحانی، آپ کو جھٹلانا ہو یا مخالفت کرنا۔ رسول اللہ ﷺ کو ہر طرح کی تکلیف پہنچائی گئی، انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَقَدْ أُخِفْتُ فِي اللّٰہِ وَ مَا یُخَافُ أَحَدٌ وَ لَقَدْ أُوْذِیْتُ فِي اللّٰہِ وَمَا یُؤْذٰی أَحَدٌ) [ ترمذي، صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، باب : 2472 ] ”مجھے اللہ تعالیٰ کے بارے میں ڈرایا گیا اتنا کہ کسی کو اتنا نہیں ڈرایا جاتا اور مجھے اللہ کی خاطر ایذا دی گئی اتنی کہ کسی کو اتنی نہیں دی جاتی۔“ ان ایذاؤں میں مکہ مکرمہ میں شاعر، کاہن، ساحر کہنا، مذاق اڑانا، سجدے کی حالت میں اونٹنی کی اوجھڑی اور آلائش لا کر اوپر ڈال دینا، چادر کے ساتھ گلا گھونٹ دینا، شعب ابی طالب میں تین سال محصور رکھنا، اہل طائف کا زبانی بدسلوکی کے علاوہ سنگ باری کرنا وغیرہ شامل ہیں اور مدینہ میں منافقوں کی بد زبانی اور طعنہ زنی بھی، مثلاً ”لیخرجن الاعز منہا الاذل“ اور ”ویقولون ھو اذن“ جیسی باتیں آپ کے لیے شدید ایذا کا باعث تھیں۔ پچھلی آیات میں آپ ﷺ کو ایذا دینے والی بعض ایسی چیزوں سے بھی منع کیا گیا ہے جن کا ایذا ہونا عام طور پر معلوم نہیں تھا، خصوصاً آیت (53) میں بیان کردہ چیزیں۔ 3 رسول اللہ ﷺ کی ایذا میں آپ کی تکذیب اور مخالفت کے علاوہ یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ کی ازواج مطہرات پر طعن و تشنیع کی جائے، یا آپ کے پیاروں کے متعلق بدزبانی کی جائے۔
Ayah 33:58

وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 33:58 in the Quran reader

اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیف دیتے ہیں، بغیر کسی گناہ کے جو انھوں نے کمایا ہو تو یقینا انھوں نے بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اٹھایا۔

وَالَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوْا۔۔ : یعنی انھیں بدنام کرنے کے لیے ان کی طرف ایسے کاموں کی نسبت کرتے ہیں جو انھوں نے کیے ہی نہیں۔ یہ بہتان ہے اور بہت بڑا گناہ ہے۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا : ”اے اللہ کے رسول ! غیبت کیا ہے ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : (ذِکْرُکَ أَخَاکَ بِمَا یَکْرَہُ) ”تمہارا اپنے بھائی کا ذکر اس چیز کے ساتھ کرنا جسے وہ ناپسند کرتا ہے۔“ کہا گیا : ”یہ بتائیں اگر میرے بھائی میں وہ چیز موجود ہو جو میں کہہ رہا ہوں ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : (فَإِنْ کَانَ فِیْہِ مَا تَقُوْلُ فَقَدِ اغْتَبْتَہُ وَ إِنْ لَمْ یَکُنْ فِیْہِ مَا تَقُوْلُ فَقَدْ بَہَتَّہُ) [ أبوداوٗد، الأدب، باب في الغیبۃ : 4874، قال الألباني صحیح ] ”اگر اس میں وہ چیز موجود ہے جو تم کہہ رہے ہو تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر اس میں وہ چیز نہیں تو تم نے اس پر بہتان باندھا۔“ رسول اللہ ﷺ بیعت لیتے وقت شرک، چوری، زنا اور قتل نہ کرنے کا عہد لینے کے ساتھ بہتان نہ باندھنے کا بھی عہد لیتے تھے۔ دیکھیے سورة ممتحنہ (12)۔ سعید بن زید ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ مِنْ أَرْبَی الرِّبَا الْاِسْتِطَالَۃَ فِيْ عِرْضِ الْمُسْلِمِ بِغَیْرِ حَقٍّ) [ أبوداوٗد، الأدب، باب في الغیبۃ : 4876، قال الألباني صحیح ] ”سود کی سب سے بڑی قسموں میں سے ایک کسی مسلمان کی عزت پر دست درازی یا زبان درازی ہے۔“ ابن کثیر نے فرمایا : ”آیت : (وَالَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ۔۔) اس وعید میں سب سے پہلے تو کفار داخل ہیں، پھر رافضی شیعہ جو صحابہ کے نقص بیان کرتے اور ان کے ذمے وہ عیب لگاتے ہیں جن سے انھیں اللہ تعالیٰ نے بری قرار دیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی جو تعریف فرمائی یہ صاف اس کے الٹ کہتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مہاجرین و انصار کی تعریف کی اور ان کے متعلق بتایا کہ وہ ان سے راضی ہوگیا اور یہ جاہل اور غبی انھیں برا بھلا کہتے، ان کے نقص نکالتے اور ان کے ذمے وہ چیزیں لگاتے ہیں جو حقیقت میں انھوں نے کبھی کی ہی نہیں، یہ الٹے دلوں والے ہیں کہ جو لوگ تعریف کے لائق ہیں ان کی مذمت کرتے ہیں اور جو مذمت کے لائق ہیں ان کی تعریف کرتے ہیں۔“ (ابن کثیر) 3 قاسمی نے فرمایا : ”اکلیل میں ہے کہ اس آیت سے مسلمان کو ایذا دینا حرام ثابت ہوا۔ ہاں کسی شرعی وجہ سے ہو تو الگ بات ہے، جیسے کسی گناہ کی سزا اور اس میں وہ تمام چیزیں آجاتی ہیں جو مسلمان کو ایذا کی وجہ سے حرام کی گئی ہیں، مثلاً دوسرے کی بیع پر بیع یا اس کے خطبہ (منگنی) پر خطبہ اور امام شافعی نے صراحت فرمائی کہ کسی شخص کے آگے سے کھانا جب اسے اس سے تکلیف ہوتی ہو، حرام ہے۔“
Ayah 33:59

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:59 in the Quran reader

اے نبی ! اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دے کہ وہ اپنی چادروں کا کچھ حصہ اپنے آپ پر لٹکا لیا کریں۔ یہ زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچانی جائیں تو انھیں تکلیف نہ پہنچائی جائے اور اللہ ہمیشہ سے بےحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَبَنٰتِكَ۔۔ : مسلمانوں کو ایذا دینے والوں کے لیے وعید کے بیان کے بعد مسلم عورتوں کو ایذا سے بچنے کے لیے پردے کی تاکید فرمائی۔ اس آیت سے ظاہر ہے کہ نبی ﷺ کی بیٹیاں ایک سے زیادہ تھیں۔ بعض لوگ فاطمہ ؓ کے علاوہ دوسری بیٹیوں کو آپ کی بیٹیاں تسلیم نہیں کرتے۔ ان کے کہنے کے مطابق نبی ﷺ کی بیٹیوں سے مراد امت کی عورتیں ہیں، مگر یہ بات درست نہیں، کیونکہ آیت میں نبی ﷺ کی بیویوں اور آپ کی بیٹیوں کے بعد مومنوں کی عورتوں کا الگ ذکر فرمایا ہے۔ حدیث اور سیرت کی کتابوں میں آپ ﷺ کی چار بیٹیاں مذکور ہیں، زینب، ام کلثوم، رقیہ اور فاطمہ۔ ”وَنِسَاۗءِ الْمُؤْمِنِيْنَ“ میں مومنوں کی بیویوں کے علاوہ ان سے تعلق رکھنے والی تمام عورتیں، مثلاً ان کی مائیں، بہنیں، بیٹیاں، بھتیجیاں اور بھانجیاں وغیرہ سب شامل ہیں۔ ”جَلَابِیْبُ“ ”جِلْبَابٌ“ کی جمع ہے، بڑی چادر جو جسم کو ڈھانپ لے۔ ”من“ کا لفظ تبعیض کے لیے ہے، یعنی اپنی چادروں کا کچھ حصہ۔ ”يُدْنِيْنَ عَلَيْهِنَّ“ ، ”أَدْنٰی یُدْنِيْ“ کا معنی قریب کرنا ہے، ”علیھن“ کے لفظ سے اس میں لٹکانے کا مفہوم پیدا ہوگیا۔ عرب کی عورتیں تمام جاہل معاشروں کی طرح سب لوگوں کے سامنے کھلے منہ پھرتی تھیں، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ”اے نبی ! اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور ایمان والوں کی عورتوں سے کہہ دے کہ اپنی چادروں کا کچھ حصہ اپنے آپ پر لٹکا لیا کریں۔“ اس لٹکانے سے مراد کیا ہے ؟ طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ترجمان القرآن عبداللہ بن عباس ؓ سے نقل فرمایا : ”أَمَرَ اللّٰہُ نِسَاءَ الْمُؤْمِنِیْنَ إِذَا خَرَجْنَ مِنْ بُیُوْتِہِنَّ فِیْ حَاجَۃٍ أَنْ یُغَطِّیْنَ وُجُوْہَہُنَّ مِنْ فَوْقِ رُؤُوْسِہِنَّ بالْجَلاَبِیْبِ ، وَ یُبْدِیْنَ عَیْنًا وَاحِدَۃً“ [ طبري : 28880 ] ”اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی عورتوں کو حکم دیا کہ جب وہ کسی ضرورت کے لیے گھر سے نکلیں تو اپنے چہرے کو اپنے سروں کے اوپر سے پڑی چادروں کے ساتھ ڈھانپ لیں اور ایک آنکھ کھلی رکھیں۔“ ام سلمہ ؓ نے فرمایا : (لَمَّا نَزَلَتْ : (يُدْنِيْنَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيْبِهِنَّ ۭ) خَرَجَ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ کَأَنَّ عَلٰی رُءُ وْسِہِنَّ الْغِرْبَانَ مِنَ الْأَکْسِیَۃِ) [ أبو داوٗد، اللباس، باب في قول اللّٰہ تعالیٰ : (یدنین علیھن من جلا بیبھن) : 4101، قال الألباني صحیح ] ”جب آیت ”يُدْنِيْنَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيْبِهِنَّ ۭ“ نازل ہوئی تو انصار کی عورتیں اس طرح نکلیں جیسے ان کے سروں پر (سیاہ) چادروں کی وجہ سے کوے ہوں۔“ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَنْ يُّعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ : یہاں ایک سوال ہے کہ اگر اپنے آپ پر چادروں کا کچھ حصہ اس طرح لٹکایا جائے کہ صرف ایک آنکھ کھلی رہے، چہرہ نظر ہی نہ آئے تو اس طرح تو عورت کی پہچان ہو ہی نہیں سکتی، پھر یہ فرمانے کا کیا مطلب ہے کہ ”یہ زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچانی جائیں تو انھیں تکلیف نہ پہنچائی جائے۔“ جواب اس کا یہ ہے کہ پہچانی جائیں سے یہ مراد نہیں کہ یہ فلاں عورت ہے، بلکہ مراد یہ ہے کہ پردہ کرنے کی وجہ سے ان کی پہچان ہوجائے کہ یہ شریف اور باحیا عورتیں ہیں، پھر کوئی انھیں چھیڑنے کی جرأت نہیں کرے گا، نہ کسی کے دل میں انھیں اپنی طرف مائل کرنے کا لالچ پیدا ہو سکے گا۔ اس کے برعکس بےپردہ عورت کی کیا پہچان ہوسکتی ہے کہ وہ شریف ہے یا بازار میں پیش ہونے والا سامان، جسے کوئی بھی حاصل کرسکتا ہے۔ پردہ اتارنے کے بعد اسے ایذا سے محفوظ رہنے کے بجائے فاسق و فاجر لوگوں کی چھیڑ چھاڑ، زبردستی اور بعض اوقات اغوا کا منتظر رہنا چاہیے۔ 3 بعض لوگ کہتے ہیں کہ چہرے کا پردہ نہیں، مگر یہ آیت ان کا رد کرتی ہے، اس کے علاوہ سورة نور کی آیت (31 اور 60) سے اور سورة احزاب کی آیت (53 اور 55) سے بھی واضح طور پر پردے کا حکم ثابت ہو رہا ہے۔ زیر تفسیر آیت کے ساتھ ایک مرتبہ ان آیات کا ترجمہ و تفسیر بھی دیکھ لیں۔ واقعۂ افک میں عائشہ ؓ کا کہنا کہ صفوان نے مجھے پردے کی آیات اترنے سے پہلے دیکھا تھا، بھی چہرے کے پردے کی واضح دلیل ہے۔ وَكَان اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا : ”ۭغَفُوْرًا“ پردہ ڈالنے والا، ”رَّحِيْمًا“ بیحد مہربان۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے مومن عورتوں کے لیے پردے کا جو حکم دیا ہے اس کی وجہ اس کی صفت مغفرت و رحمت ہے۔ وہ تم پر پردہ ڈالنا چاہتا ہے اور تم پر رحم کرنا چاہتا ہے اور اس کے حکم کی تعمیل ہی سے تم اس کی پردہ پوشی اور رحمت کے حق دار بنو گے، اگر تم نے اس کی اطاعت نہ کی تو اپنی کوتاہیوں پر اس کی پردہ پوشی کی اور رحمت کی امید نہ رکھو۔
Ayah 33:60

لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَةِ لَنُغْرِیَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوْنَكَ فِیْهَاۤ اِلَّا قَلِیْلًا٤ۖۛۚ Open ayah 33:60 in the Quran reader

یقینا اگر یہ منافق لوگ اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور مدینہ میں جھوٹی خبریں اڑانے والے لوگ باز نہ آئے تو ہم تجھے ضرور ہی ان پر مسلط کردیں گے، پھر وہ اس میں تیرے پڑوس میں نہیں رہیں گے مگر کم۔

لَىِٕنْ لَّمْ يَنْتَهِ الْمُنٰفِقُوْنَ۔۔ : ”لَــنُغْرِيَنَّكَ بِهِمْ“ ”أَغْرٰی یُغْرِیْ“ کا معنی ہے ابھارنا، اکسانا، بھڑکا دینا، مسلط کردینا۔ گزشتہ اور زیر تفسیر آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مدینہ سے بعض منافقین اور دل میں فسق و فجور کا روگ رکھنے والے لوگ راستے میں عورتوں کو چھیڑتے تھے اور جھوٹی خبریں پھیلا کر مسلمانوں کو پریشان کرتے تھے، جیسا کہ انھوں نے عائشہ ؓ پر بہتان کے معاملے میں کیا۔ ان آیات میں پہلے تو عورتوں کو پردے کا حکم دیا، تاکہ ایسے بدطینت لوگوں کو دست درازی کی جرأت نہ ہو سکے۔ پھر اس آیت میں دھمکی دی کہ اگر یہ منافق لوگ اور جن کے دلوں میں بدکاری کی بیماری ہے اس چھیڑ چھاڑ اور دست درازی سے اور افواہ بازی سے باز نہ آئے تو ہم آپ کو ان کا قلع قمع کرنے کے لیے ان پر مسلط کردیں گے، پھر یہ لوگ مدینہ میں آپ کے ساتھ کم ہی رہ سکیں گے، پھر یا تو انھیں جلاوطن کردیا جائے گا، یا ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ پوشیدہ زنا اور دوسرے گناہ معاشرے کے لیے اتنے نقصان دہ نہیں، جس قدر دیدہ دلیری سے راہ چلتی خواتین کو چھیڑنا اور ان پر دست درازی کی کوشش کرنا، یا جرأت اور دلیری کے ساتھ علانیہ برائی کا ارتکاب نقصان دہ ہے۔ اس لیے اس کی روک تھام کے لیے نہایت سخت دھمکی دی۔
Ayah 33:61

مَّلْعُوْنِیْنَ١ۛۚ اَیْنَمَا ثُقِفُوْۤا اُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا Open ayah 33:61 in the Quran reader

اس حال میں کہ لعنت کیے ہوئے ہوں گے، جہاں کہیں پائے جائیں گے پکڑے جائیں گے اور ٹکڑے ٹکڑے کیے جائیں گے، بری طرح ٹکڑے کیا جانا۔

مَّلْعُوْنِيْنَ ڔ اَيْنَـمَا ثُــقِفُوْٓا اُخِذُوْا وَقُتِّلُوْا تَــقْتِيْلًا : یعنی ایسے لوگ ملعون ہیں، جہاں پائے جائیں گے انھیں گرفتار کر کے ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ان آیات میں مذکورہ احکام وقتی اور عارضی نہیں، بلکہ قرآن مجید کے دوسرے احکام کی طرح قیامت تک کے لیے ہیں۔ اب بھی حکومت پر لازم ہے کہ ایسے لوگوں کا یہی علاج کرے، جو لوگ بھرے بازار سے لڑکیاں اٹھا لیں، لڑکے اٹھا کر ان سے قوم لوط کا عمل کریں، پورے معاشرے کے سامنے نکاح کے بغیر بدکار مرد عورت اکٹھے رہ کر اللہ کی حدود کو للکارتے رہیں۔ ان کا علاج یہی ہے کہ انھیں گرفتار کر کے ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے، تاکہ دوبارہ کسی کو ایسا کرنے کی جرأت نہ ہو۔ اغوا اور ایسے دوسرے معاملات سادہ زنا کے کیس نہیں ہیں، بلکہ زنا کے علاوہ یہ فساد فی الارض کے تحت بھی آتے ہیں، جن کی سزا ایسے لوگوں کا صفایا ہے۔ براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں : (لَقِیْتُ عَمِّيْ وَ مَعَہُ رَایَۃٌ فَقُلْتُ لَہُ أَیْنَ تُرِیْدُ ؟ قَالَ بَعَثَنِيْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلٰی رَجُلٍ نَکَحَ امْرَأَۃَ أَبِیْہِ فَأَمَرَنِيْ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَہُ وَآخُذَ مَالَہُ) [ أبو داوٗد، الحدود، باب في الرجل یزني بحریمہ : 4457، قال الألباني صحیح ] ”میں اپنے چچا سے ملا، اس کے پاس جھنڈا تھا، میں نے اس سے کہا : ”کہاں جانے کا ارادہ ہے ؟“ اس نے کہا : ”مجھے رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کیا ہے کہ میں اس کی گردن اتاردوں اور اس کا مال لے لوں۔“ مزید دیکھیے سورة مائدہ (33)۔
Ayah 33:62

سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 33:62 in the Quran reader

اللہ کے طریقے کی طرح ان لوگوں میں جو پہلے گزرے اور تو اللہ کے طریقے میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں پائے گا۔

سُـنَّةَ اللّٰهِ فِي الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ۔۔ : یعنی معاشرے کو پاک رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ کا ہمیشہ سے یہی دستور رہا ہے کہ عورتوں کو چھیڑنے والے اور خوف و ہراس پھیلانے والوں کو گرفتار کیا جاتا تھا اور انھیں ٹکڑے ٹکڑے کردیا جاتا تھا۔ یہ سزا کوئی نئی نہیں، بلکہ پہلی تمام آسمانی شریعتوں میں ہمیشہ یہی سزا دی جاتی رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی اور نہ آئندہ اس میں تبدیلی ہوگی۔ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں : ”تورات میں بھی یہ نقل ہے کہ مفسدوں کو اپنے بیچ سے باہر کر دو۔“ (موضح)
Ayah 33:63

یَسْئَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَرِیْبًا Open ayah 33:63 in the Quran reader

لوگ تجھ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں، تو کہہ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے اور تجھے کیا چیزمعلوم کرواتی ہے، شاید قیامت قریب ہو۔

يَسْـَٔـــلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ : قرطبی نے فرمایا : ”ان سوال کرنے والوں سے مراد وہی پیغمبر کو ایذا دینے والے، دل کے بیمار، منافق اور جھوٹی خبریں اڑانے والے لوگ ہیں، جن کا پیچھے ذکر ہوا، جب ان کو عذاب مہین سے ڈرایا جاتا تو وہ کہتے ”اَلسَّاعَۃُ“ عذاب کی وہ گھڑی، یعنی قیامت کب ہے ؟ مقصد ان کا پوچھنا نہیں تھا، بلکہ اس کا انکار اور مذاق اڑانا اور پیغمبر کو لاجواب کرنا تھا کہ انھیں اتنا بھی علم نہیں کہ قیامت کب ہوگی۔“ دیکھیے سورة اعراف (187) ، طٰہٰ (15) ، نمل (66) ، نازعات (42 تا 44) اور سورة ملک (25 تا 27) وغیرہ۔rnۭ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ : یعنی اس کا علم صرف اللہ کے پاس ہے اور اگر اللہ تعالیٰ نے اس کا علم دوسرے تمام لوگوں کی طرح مجھ سے بھی مخفی رکھا ہے تو اس سے میرے صدق پر کچھ اثر نہیں پڑتا اور نہ نبی ہونے کی یہ شرط ہے کہ وہ غیب دان ہو اور ان باتوں کو بھی جانتا ہو جو اللہ تعالیٰ نے اسے نہیں بتائیں۔rnۭ وَمَا يُدْرِيْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَرِيْبًا : یعنی اگرچہ اس کے متعین وقت کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، پھر بھی یہ جان لو کہ وہ بہت نزدیک ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اقتربت الساعۃ وانشق القمر) [ القمر : 1 ] ”قیامت بہت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔“ اور فرمایا : (اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ) [ الأنبیاء : 1 ] ”لوگوں کے لیے ان کا حساب بہت قریب آگیا اور وہ بڑی غفلت میں منہ موڑنے والے ہیں۔“ اور فرمایا : (اتی امر اللہ فلا تستعجلوہ) [ النحل : 1 ] ”اللہ کا حکم آگیا، سو اس کے جلد آنے کا مطالبہ نہ کرو۔“ اور سہل بن سعد ؓ فرماتے ہیں : (رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ قَالَ بِإِصْبَعَیْہِ ھٰکَذَا بالْوُسْطٰی وَالَّتِیْ تَلِي الْإِبْھَامَ بُعِثْتُ وَالسَّاعَۃُ کَھَاتَیْنِ) [ بخاري، التفسیر، باب سورة : (والنازعات) : 4936 ] ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، آپ نے اپنی دو انگلیوں درمیانی اور انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی کی طرف اشارہ کر کے فرمایا : ”مجھے اور قیامت کو اس طرح (ساتھ ساتھ) بھیجا گیا ہے۔“ 3 یہاں ایک سوال ہے کہ ”الساعۃ“ مؤنث کی خبر ”قریبا“ مذکر کیوں ہے ؟ جواب کے لیے دیکھیے سورة اعراف کی آیت (56) : (ان رحمت اللہ قریب من المحسنین) کی تفسیر۔
Ayah 33:64

اِنَّ اللّٰهَ لَعَنَ الْكٰفِرِیْنَ وَ اَعَدَّ لَهُمْ سَعِیْرًاۙ Open ayah 33:64 in the Quran reader

بیشک اللہ نے کافروں پر لعنت کی اور ان کے لیے بھڑکتی آگ تیار کی ہے۔

اِنَّ اللّٰهَ لَعَنَ الْكٰفِرِيْنَ۔۔ : مفردات راغب میں ہے ”لَعَنَ“ کا معنی ناراض ہو کر دور دفع کرنا ہے، اللہ تعالیٰ کی لعنت سے مراد آخرت میں سزا دینا ہے اور دنیا میں اپنی رحمت اور توفیق سے محروم رکھنا ہے اور انسان کی لعنت کسی کے لیے بددعا کرنا ہے۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کو ایذا دینے والے یہ کافر، خواہ علانیہ منکر ہیں یا منافق، اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی رحمت اور توفیق سے دور کردیا ہے اور ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔
Ayah 33:65

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ۚ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۚ Open ayah 33:65 in the Quran reader

اس میں ہمیشہ رہنے والے ہمیشہ، نہ کوئی دوست پائیں گے اور نہ کوئی مدد گار۔

خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا : پھر یہ نہیں کہ کچھ دیر رہ کر اس سے نکل آئیں گے کہ اس خیال سے بھی تکلیف کچھ کم ہوجاتی ہے، بلکہ ”خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا“ وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں اور یہ نہ سمجھو کہ ”خٰلِدِيْنَ“ کا لفظ صرف لمبی مدت کے لیے ہے، بلکہ ”اَبَدًا“ یعنی یہ ہمیشگی ابدی ہے، کبھی اس سے نکلنے والے نہیں۔ لَا يَجِدُوْنَ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيْرًا : عذاب کی ہمیشگی کی مزید تاکید کے لیے فرمایا کہ عذاب میں مبتلا آدمی کو یا تو کوئی دوست سفارش کر کے چھڑوا سکتا ہے، یا مددگار جو زبردستی چھڑوالے، مگر کفار کو وہاں کوئی دوست ملے گا نہ مددگار۔ دیکھیے سورة بقرہ (48)۔
Ayah 33:66

یَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ یَقُوْلُوْنَ یٰلَیْتَنَاۤ اَطَعْنَا اللّٰهَ وَ اَطَعْنَا الرَّسُوْلَا Open ayah 33:66 in the Quran reader

جس دن ان کے چہرے آگ میں الٹ پلٹ کیے جائیں گے، کہیں گے اے کاش کہ ہم نے اللہ کا کہنا مانا ہوتا اور ہم نے رسول کا کہنامانا ہوتا۔

يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْهُهُمْ فِي النَّارِ : یہ بیان کرنے کے بعد کہ کوئی سفارش کرنے والا یا مددگار ان سے عذاب نہیں ہٹا سکے گا، اب بیان فرمایا کہ ان کے جسم کے اعضا میں سے کوئی عضو بھی دوسرے عضو کو آگ سے نہیں بچا سکے گا۔ دنیا میں چہرے پر آنے والی کسی ضرب یا آگ کی لپٹ سے ہاتھ ڈھال بن جاتا ہے، یا آدمی سرجھکا لیتا ہے، مگر وہاں چہرے اور آگ کے درمیان کوئی چیز رکاوٹ نہیں بن سکے گی۔ دیکھیے سورة انبیاء (39) ، زمر (24) اور سورة قمر (48) پھر جب چہرے کا یہ حال ہوگا، جو جسم کا سب سے باشرف حصہ ہے تو ددسرے اعضا کا کیا حال ہوگا ! ؟ 3 آگ میں چہرے الٹ پلٹ کیے جانے کے ذکر سے مقصود ان کی بری حالت کی منظر کشی ہے کہ اگرچہ چہروں کو چاروں طرف سے آگ نے گھیر رکھا ہوگا، اس کے باوجود انھیں الٹ پلٹ بھی کیا جائے گا، تاکہ نئی سے نئی آگ کے سامنے آتے رہیں اور ایک جگہ سے اگر تکلیف میں کوئی کمی ممکن ہو تو وہ بھی نہ ہو سکے۔ (دیکھیے توبہ : 35) نئے سے نئے عذاب کے لیے چہروں کے الٹ پلٹ کیے جانے کے ساتھ چمڑوں کی مسلسل تبدیلی کا عمل بھی جاری رہے گا۔ دیکھیے سورة نساء (56) [ اَللّٰھُمَّ إِنَّا نَعُوْذُ بِکَ مِنَ النَّارِ وَ مِنْ حَالِ أَھْلِ النَّارِ ] يَقُوْلُوْنَ يٰلَيْتَنَآ اَطَعْنَا اللّٰهَ وَاَطَعْنَا الرَّسُوْلَا : ”لَیْتَ“ (کاش) کا لفظ تمنی کے لیے ہوتا ہے، یعنی ایسی چیز کی خواہش جو ممکن نہ ہو۔ ابن کثیر نے فرمایا، اس حال میں جب کہ ان کے چہرے آگ میں الٹ پلٹ کیے جا رہے ہوں گے، وہ تمنا کریں گے کہ کاش ! دنیا میں انھوں نے اللہ کی اطاعت کی ہوتی اور رسول کی اطاعت کی ہوتی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے میدان حشر میں ان کا حال بیان فرمایا : (وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰي يَدَيْهِ يَقُوْلُ يٰلَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِيْلًا يٰوَيْلَتٰى لَيْتَنِيْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيْلًا لَقَدْ اَضَلَّنِيْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَاۗءَنِيْ ۭ وَكَان الشَّيْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا) [ الفرقان : 27 تا 29 ] ”اور جس دن ظالم اپنے دونوں ہاتھ دانتوں سے کاٹے گا، کہے گا اے کاش ! میں رسول کے ساتھ کچھ راستہ اختیار کرتا۔ ہائے میری بربادی ! کاش کہ میں فلاں کو دلی دوست نہ بناتا۔ بیشک اس نے تو مجھے نصیحت سے گمراہ کردیا، اس کے بعد کہ میرے پاس آئی اور شیطان ہمیشہ انسان کو چھوڑ جانے والا ہے۔“ اور فرمایا : (رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ) [ الحجر : 2 ] ”بہت بار چاہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کاش ! وہ کسی طرح کے مسلم ہوتے۔“
Ayah 33:67

وَ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَ كُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا Open ayah 33:67 in the Quran reader

اور کہیں گے اے ہمارے رب ! بیشک ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کا کہنامانا تو انھوں نے ہمیں اصل راہ سے گمراہ کردیا۔

وَقَالُوْا رَبَّنَآ اِنَّآ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاۗءَنَا۔۔ : ”سَادَۃٌ“ ”سَیِّدٌ“ کی جمع ہے اور ”کُبَرَاءُ“ ”کَبِیْرٌ“ کی جمع ہے۔ ابن کثیر میں ہے : ”طاؤس نے فرمایا ”سَادَتَنَا“ سے مراد سردار اور چودھری ہیں اور ”وَكُبَرَاۗءَنَا“ سے مراد عالم ہیں۔“ قرآن مجید میں لوگوں کی گمراہی کا باعث بننے والے طبقے تین بتائے گئے ہیں، مستکبرین (چودھری، سردار) ، احبار (علماء) اور رہبان (درویش)۔ عبداللہ بن مبارک نے فرمایا ؂ وَ ھَلْ أَفْسَدَ الدِّیْنَ إِلَّا الْمُلُوْکُ وَ أَحْبَارُ سَوْءٍ وَ رُْھْبَانُھَا ”دین کو بادشاہوں، برے علماء اور درویشوں ہی نے خراب کیا ہے۔“ یعنی جہنمی کہیں گے کہ ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے بجائے اپنے سرداروں، عالموں اور درویشوں کی اطاعت کی اور سمجھتے رہے کہ وہ صحیح کہہ رہے ہیں۔ اب معلوم ہوا کہ انھوں نے ہمیں سیدھے راستے پر لے جانے کے بجائے اصل راستے سے گمراہ کردیا۔ ان آیات سے معلوم ہوا کہ جو شخص قرآن مجید کی آیت یا رسول اللہ ﷺ کی حدیث معلوم ہونے کے باوجود اس کے خلاف اپنے سادات و اکابر، یعنی کسی بادشاہ، عالم یا پیر کی اطاعت کرتا ہے، وہ قیامت کے دن یہی تمنا کرے گا جو اس آیت میں بیان ہوئی ہے۔ مزید دیکھیے سورة بقرہ (165 تا 167)۔
Ayah 33:68

رَبَّنَاۤ اٰتِهِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَ الْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 33:68 in the Quran reader

اے ہمارے رب ! انھیں دوگنا عذاب دے اور ان پر لعنت کر، بہت بڑی لعنت۔

رَبَّنَآ اٰتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِيْرًا۔۔ : اپنی لاحاصل تمناؤں اور حسرتوں کے اظہار کے ساتھ ہی دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے اپنے سادات و اکابر کو دگنا عذاب دینے کی دعا کریں گے، مگر اس سے بھی انھیں کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة اعراف (38، 39) اور سورة ص (55 تا 61)۔
Ayah 33:69

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا١ؕ وَ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِیْهًاؕ Open ayah 33:69 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنھوں نے موسیٰ کو تکلیف پہنچائی تو اللہ نے اسے اس سے پاک ثابت کردیا جو انھوں نے کہا تھا اور وہ اللہ کے ہاں بہت مرتبے والا تھا۔

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى : اوپر بتایا کہ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دینے والوں پر لعنت اور ان کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔ سورت کے شروع ہی سے منافقین کے رسول اللہ ﷺ کو ایذا دینے کا ذکر چلا آرہا ہے، جو کبھی جنگ احزاب میں یہ کہنے کی صورت میں تھی کہ اللہ اور اس کے رسول نے محض دھوکا دینے کے لیے ہم سے فتح و نصرت کا وعدہ کیا تھا، کبھی میدان چھوڑ کر گھروں کو جانے کی اجازت مانگنے کی صورت میں اور کبھی یہ کہہ کر کہ اب مسلمانوں کی مدینہ میں رہنے کی کوئی صورت نہیں۔ اس کے علاوہ ان کی یہود اور دوسرے کفار کے ساتھ دوستی اور ان کی فتح کی خواہش رسول اللہ ﷺ کے لیے سخت تکلیف دہ تھی۔ آپ کی ذاتی زندگی کے متعلق تکلیف دہ باتیں اس پر مزید تھیں۔ مثلاً آپ کی چار سے زائد بیویوں پر اعتراض، اپنے متبنٰی زید ؓ کی بیوی زینب ؓ سے نکاح وغیرہ۔ سورت کے آخر میں پھر اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو رسول اللہ ﷺ کی ایذا سے یہ کہہ کر منع فرما رہے ہیں کہ تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنھوں نے موسیٰ ؑ کو ایذا دی۔ 3 موسیٰ ؑ کو ایذا دینے والوں کی باتوں کا قرآن میں متعدد مقامات پر ذکر آیا ہے۔ ظاہر ہے تمام بنی اسرائیل ایسے نہیں تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی طرح ہونے سے منع فرمایا جنھوں نے موسیٰ ؑ کو ایذا دی۔ ان لوگوں کا یہ رویہ موسیٰ ؑ کے لیے سخت تکلیف دہ تھا کہ عموماً وہ حکم ماننے سے صاف انکار کردیتے تھے اور اس کے لیے لفظ بھی ”لَنْ“ (ہر گز نہیں) کا استعمال کرتے جو نفی کی تاکید کے لیے آتا ہے، مثلاً : (لن نصبر علی طعام واحد) [ البقرۃ : 61 ] ، (لن نومن لک حتی نری اللہ جھرۃ) [ البقرۃ : 55 ] اور : (لن ندخلھا ابدا ما داموا فیھا) [ المائدۃ : 24 ] ہارون ؑ کے بچھڑے کی عبادت سے منع کرنے پر کہنے لگے : (لن نبرح علیہ عکفین حتی یرجع الینا موسی) [ طٰہٰ : 91 ] ”ہم اسی پر مجاور بن کر بیٹھے رہیں گے، یہاں تک کہ موسیٰ ہماری طرف واپس آئے۔“ کبھی حکم کی تعمیل میں ٹال مٹول سے کام لیتے تھے، جیسا کہ گائے ذبح کرنے کا حکم دیا تو پہلے ”اتتخذنا ھزوا“ کہا، پھر گائے کی کیفیت کے متعلق سوال پر سوال داغتے رہے۔ ان کا یہ رویہ ان کے اس محسن کے ساتھ تھا جس نے ان کی خاطر لمبی مدت تک فرعون سے تکلیفیں جھیلیں، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے انھیں فرعون کی غلامی سے نجات اور آزادی کی نعمت عطا فرمائی۔ جس کی دعا سے انھیں من وسلویٰ ملتا تھا، بادلوں کا سایہ میسر تھا اور ان کے لیے پانی کے بارہ چشمے جاری تھے۔ فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا : ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی ایذا موسیٰ ؑ کی ذات گرامی پر الزام اور دھبے لگانے تک پہنچ گئی تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا ان کے تمام الزامات سے پاک ہونا روز روشن کی طرح ظاہر فرما دیا، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت مرتبے والے تھے۔ ممکن نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ ان پر کوئی داغ لگنے دیتا۔ 3 بنی اسرائیل کی جانب سے موسیٰ ؑ کی ایذا کا ایک نمونہ اس حدیث میں بیان ہوا ہے جو ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”موسیٰ ؑ بہت حیا والے، بہت پردے والے تھے۔ شدید حیا کی وجہ سے ان کی جلد کا کوئی حصہ دکھائی نہیں دیتا تھا۔ بنی اسرائیل کے ایذا دینے والوں میں سے بعض نے انھیں ایذا دی اور کہنے لگے : ”موسیٰ اپنا جسم اتنا سخت چھپاتے ہیں تو ضرور اس میں کوئی عیب ہے، یا برص ہے، یا خصیہ پھولا ہوا ہے، یا کوئی اور بیماری ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ موسیٰ ؑ کا ان چیزوں سے پاک ہونا ظاہر کرے، جو وہ ان کے متعلق کہتے تھے۔ ایک دن ایسا ہوا کہ وہ اکیلے ہوئے تو اپنے کپڑے پتھر پر رکھ کر غسل کرنے لگے، جب فارغ ہوئے تو کپڑے لینے کے لیے بڑھے تو پتھر ان کے کپڑے لے کر بھاگ اٹھا۔ موسیٰ ؑ نے اپنی لاٹھی لی اور پتھر کے پیچھے یہ کہتے ہوئے دوڑے کہ اے پتھر ! میرے کپڑے، اے پتھر ! میرے کپڑے۔ یہاں تک کہ وہ پتھر بنی اسرائیل کی ایک مجلس کے پاس جا پہنچا اور انھوں نے انھیں ننگا دیکھ لیا۔ انھوں نے دیکھا کہ وہ اللہ کی پیدا کردہ مخلوق میں سب سے خوب صورت اور ان عیبوں سے بالکل بری تھے جو وہ کہتے تھے۔ الغرض ! پتھر رک گیا، تو موسیٰ ؑ نے اپنے کپڑے لے کر پہن لیے اور پتھر کو اپنی لاٹھی سے مارنے لگے۔ اللہ کی قسم ! پتھر پر ان کے مارنے کی وجہ سے لاٹھی کے تین یا چار یا پانچ نشان پڑگئے۔ یہ مراد ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی : (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا ۭ وَكَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِيْهًا) [ الأحزاب : 69 ] [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب : 3404 ] 3 رسول اللہ ﷺ کو بعض اوقات کسی بظاہر مسلمان کی طرف سے ایذا دی گئی تو آپ ﷺ نے موسیٰ ؑ کو دی جانے والی ایذا اور اس پر ان کے صبر کا ذکر فرمایا۔ عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے کچھ مال تقسیم کیا تو ایک آدمی کہنے لگا : ”اس تقسیم میں اللہ کی رضا مقصود نہیں رکھی گئی۔“ میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو یہ بات بتائی تو آپ غصے میں آگئے، یہاں تک کہ میں نے آپ کے چہرے میں غصے کو دیکھا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا : (یَرْحَمُ اللّٰہُ مُوْسٰی قَدْ أُوْذِيَ بِأَکْثَرَ مِنْ ہٰذَا فَصَبَرَ) [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب : 3405 ]”اللہ تعالیٰ موسیٰ پر رحم فرمائے، انھیں اس سے زیادہ ایذا دی گئی تو انھوں نے صبر کیا۔“ 3 بعض تفاسیر میں اس ایذا کے ضمن میں مذکور ہے کہ بنی اسرائیل نے موسیٰ ؑ پر ہارون ؑ کے قتل کا الزام لگا دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتے بھیجے، جنھوں نے ہارون ؑ کی میت اٹھا کر دکھا دی اور اس میں ایسا کوئی نشان نہیں تھا، اس طرح اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کی براءت فرما دی۔ مگر یہ قصہ رسول اللہ ﷺ سے مروی نہیں، ظاہر ہے یہ اسرائیلی روایت ہے جسے ہم نہ سچا کہہ سکتے ہیں نہ جھوٹا۔