Ayah 33:40مَا كَانَ مُحَـمَّـدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ : یعنی نبی ﷺ نے اگرچہ زید کو متبنّٰی بنایا، مگر وہ آپ کے بیٹے نہیں، نہ آپ اس کے حقیقی باپ ہیں، اس لیے انھیں زید بن محمد کے بجائے زید بن حارثہ ہی کہو۔ نبی ﷺ کا کوئی بیٹا اتنی دیر زندہ نہیں رہا کہ بلوغت کی عمر کو پہنچے۔ خدیجہ ؓ سے آپ ﷺ کے تین بیٹے قاسم، طیب اور طاہر پیدا ہوئے اور بچپن میں ہی فوت ہوگئے۔ ماریہ قبطیہ ؓ سے ابراہیم پیدا ہوئے، وہ بھی دودھ پینے ہی کی عمر میں فوت ہوگئے، بیٹیاں چار پیدا ہوئیں، جو خدیجہ ؓ کے بطن سے تھیں، یعنی زینب، رقیہ، ام کلثوم اور فاطمہ، تین آپ ﷺ کی زندگی میں فوت ہوگئیں اور فاطمہ ؓ نے آپ ﷺ کی وفات کا صدمہ دیکھا، پھر آپ ﷺ کے چھ ماہ بعد فوت ہوگئیں۔ (ابن کثیر)
مَا كَانَ مُحَـمَّـدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ۔۔ : اس ایک آیت میں ان تمام اعتراضات کی جڑ کاٹ دی گئی ہے جو مخالفین نبی کریم ﷺ پر کر رہے تھے، یا کرسکتے تھے۔ پہلا اعتراض یہ تھا کہ محمد ﷺ نے اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح کرلیا، جب کہ بیٹے کی بیوی سے نکاح کو خود ہی حرام کہتے ہیں۔ اس کے جواب میں فرمایا ”محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کا باپ نہیں“ یعنی آپ نے جس شخص (زید) کی مطلقہ سے نکاح کیا ہے وہ آپ کا بیٹا تھا ہی نہیں، تم خود جانتے ہو کہ آپ ﷺ کا کوئی بیٹا نہیں، تو وہ بہو کیسے بن گئی ؟ دوسرا اعتراض یہ ہوسکتا تھا کہ متبنّٰی حقیقی بیٹا نہ سہی، مگر اس کی بیوی سے نکاح زیادہ سے زیادہ جائز تھا، آخر اس کا کرنا ضروری تو نہیں تھا۔ اس کے جواب میں فرمایا ”اور لیکن وہ اللہ کا رسول ہے“ یعنی رسول ہونے کی وجہ سے اس کی ذمہ داری ہے کہ جن رسوم کی وجہ سے حلال چیزوں کو تم نے حرام کر رکھا ہے، ان کے باطل ہونے کا پیغام اپنی زبان کے ساتھ ہی نہیں اپنے عمل کے ساتھ بھی پہنچائے۔ پھر مزید تاکید فرمائی کہ یہ اس لیے ضروری ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا جو یہ پیغام پہنچائے۔ اس لیے آپ پر لازم ہے کہ ہر صورت میں اللہ تعالیٰ کا ہر پیغام پہنچا دیں۔ آخر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے، یعنی اسے خوب معلوم ہے کہ جاہلیت کی کس رسم کو کس طرح ختم کرنا ہے۔
وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ ۭ۔۔ : یہ آیت صریح دلیل ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں، جب آپ کے بعد کوئی نبی نہیں تو رسول بالاولیٰ نہیں ہوسکتا، کیونکہ نبی عام ہے اور رسول خاص ہے۔ ہر رسول نبی ہوتا ہے جب کہ ہر نبی رسول نہیں ہوتا۔ رسول اللہ ﷺ کے آخری نبی ہونے کے متعلق بہت سے صحابہ کرام ؓ سے متواتر احادیث آئی ہیں اور آپ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والے کو رسول اللہ ﷺ نے کذّاب قرار دیا، ثوبان ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تَلْحَقَ قَبَاءِلُ مِنْ أُمَّتِيْ بالْمُشْرِکِیْنَ وَحَتّٰی یَعْبُدُوا الْأَوْثَانَ وَ إِنَّہُ سَیَکُوْنُ فِيْ أُمَّتِيْ ثَلَاثُوْنَ کَذَّابُوْنَ کُلُّہُمْ یَزْعُمُ أَنَّہُ نَبِيٌّ وَ أَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ) [ ترمذي، الفتن، باب ما جاء لا تقوم الساعۃ حتی یخرج کذّابون : 2219، و قال الألباني صحیح ] ”قیامت قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ میری امت کے کچھ قبائل مشرکین سے جا ملیں گے اور میری امت میں تیس کذّاب ہوں گے، جن میں سے ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں نبیوں کا سلسلہ ختم کرنے والا ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“ سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے علی ؓ سے کہا : (أَنْتَ مِنِّيْ بِمَنْزِلَۃِ ھَارُوْنَ مِنْ مُّوْسٰی إِلَّا أَنَّہُ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ) [ مسلم، فضائل الصحابۃ، باب من فضائل علي بن أبي طالب۔ : 2404 ] ”تم مجھ سے اس مرتبے پر ہو جس پر ہارون (ؑ) موسیٰ (ؑ) سے تھے، مگر فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“
انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ الرِّسَالَۃَ وَ النُّبُوَّۃَ قَدِ انْقَطَعَتْ فَلَا رَسُوْلَ بَعْدِيْ وَ لَا نَبِيَّ ، قَالَ فَشَقَّ ذٰلِکَ عَلَی النَّاسِ ، فَقَالَ لٰکِنِ الْمُبَشِّرَاتُ ، فَقَالُوْا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! وَ مَا الْمُبَشِّرَاتُ ؟ قَالَ رُؤْیَا الْمُسْلِمِ وَ ہِيَ جُزْءٌ مِنْ أَجْزَاء النُّبُوَّۃِ) [ ترمذي، الرؤیا، باب ذھبت النبوۃ و بقیت المبشرات : 2272، و قال الألباني صحیح الإسناد ] ”رسالت اور نبوت ختم ہوگئی، اب میرے بعد نہ کوئی رسول ہے، نہ کوئی نبی۔“ یہ بات لوگوں پر شاق گزری تو آپ نے فرمایا : ”لیکن مبشرات باقی ہیں۔“ لوگوں نے کہا : ”یا رسول اللہ ! مبشرات کیا ہیں ؟“ آپ نے فرمایا : ”مسلمان کا خواب اور وہ نبوت کے اجزا میں سے ایک جز ہے۔“ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ مَثَلِيْ وَ مَثَلَ الْأَنْبِیَاءِ مِنْ قَبْلِيْ کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنٰی بَیْتًا فَأَحْسَنَہُ وَ أَجْمَلَہُ ، إِلاَّ مَوْضِعَ لَبِنَۃٍ مِنْ زَاوِیَۃٍ ، فَجَعَلَ النَّاسُ یَطُوْفُوْنَ بِہِ وَ یَعْجَبُوْنَ لَہُ ، وَ یَقُوْلُوْنَ ہَلَّا وُضِعَتْ ہٰذِہِ اللَّبِنَۃُ ؟ قَالَ فَأَنَا اللَّبِنَۃُ ، وَ أَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ) [ بخاري، المناقب، باب خاتم النبیین ﷺ : 3535 ] ”میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال اس آدمی کی ہے جس نے ایک مکان بنایا، اسے ہر لحاظ سے خوب صورت بنایا، مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی، لوگ اس کو چاروں طرف سے گھوم کر دیکھتے ہیں اور اس پر تعجب کرتے ہیں اور کہتے ہیں، یہ اینٹ کیوں نہیں لگائی گئی ؟ تو میں وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النّبیین ہوں۔“ یہ تمام احادیث اور دوسری بہت سی احادیث اس بات کی دلیل ہیں کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ رہا عیسیٰ ؑ کا نزول تو وہ ختم نبوت کے منافی نہیں، کیونکہ انھیں نبوت آپ سے پہلے مل چکی ہے۔ اب وہ آپ کے امتی کی حیثیت سے تشریف لائیں گے اور آپ ﷺ کی شریعت پر چلیں گے۔ آج تک پوری امت کا یہی متفق علیہ عقیدہ ہے، اس لیے ختم نبوت کا منکر قطعی کافر اور ملت اسلام سے خارج ہے۔
3 رسول اللہ ﷺ کے کسی بالغ مرد کا باپ نہ ہونے اور خاتم النّبیین رسول ہونے کے درمیان ایک اور مناسبت بھی ہے، جو صحابی رسول عبداللہ بن ابی اوفیٰ ؓ نے بیان فرمائی ہے اور وہ مناسبت اللہ تعالیٰ کے ”بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِــيْمًا“ ہونے کا نتیجہ ہے۔ اسماعیل کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی اوفیٰ ؓ سے پوچھا کہ آپ نے نبی ﷺ کے بیٹے ابراہیم کو دیکھا ہے ؟ انھوں نے فرمایا : (مَاتَ صَغِیْرًا، وَ لَوْ قُضِيَ أَنْ یَّکُوْنَ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ نَبِيٌّ عَاشَ ابْنُہُ ، وَ لٰکِنْ لَّا نَبِيَّ بَعْدَہُ) [ بخاري، الأدب، باب من سمی بأسماء الأنبیاء : 6194 ] ”وہ چھوٹی عمر ہی میں فوت ہوگئے اور اگر فیصلہ ہوتا کہ محمد ﷺ کے بعد نبی ہو تو آپ کا بیٹا زندہ رہتا، لیکن آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔“ یہ بات اگرچہ ابن ابی اوفیٰ ؓ پر موقوف ہے، مگر یہ اپنی رائے سے کہنا مشکل ہے، کیونکہ نبی کا بیٹا نبی ہونا ضروری نہیں، جیسا کہ نوح ؑ کے بیٹے تھے۔
Ayahs 33:41–42يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ۔۔ : ان آیات کی پچھلی آیات کے ساتھ مناسبت بعض اہل علم نے یہ بیان کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ جب تمہیں زینب ؓ کے نکاح جیسے معاملات میں منافقین اور اسلام کے دوسرے دشمنوں کے طعن و تشنیع کا سامنا کرنا پڑے تو ان کے ساتھ الجھنے یا انھیں برا بھلا کہنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی تسبیح کثرت سے کرو، اس سے تمہیں اطمینان عطا ہوگا، اسلام پر استقامت ملے گی اور فتنے کا دروازہ جلدی بند ہوگا۔ خصوصاً ”وسبحوہ“ کے مفہوم میں منافقین کی باتوں سے اپنے بری ہونے کا اظہار بھی شامل ہے، یعنی نبی ﷺ یا کسی مومن پر کسی طعن یا بہتان کا ذکر ہو تو اس سے اپنی براءت کا اظہار کرو، جیسا کہ عائشہ ؓ پر بہتان کے متعلق فرمایا : (وَلَوْلَآ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ قُلْتُمْ مَّا يَكُوْنُ لَنَآ اَنْ نَّتَكَلَّمَ بِھٰذَا ڰ سُبْحٰنَكَ ھٰذَا بُهْتَانٌ عَظِيْمٌ) [ النور : 16 ] ”اور کیوں نہ جب تم نے اسے سنا تو کہا ہمارا حق نہیں ہے کہ ہم اس کے ساتھ کلام کریں، تو پاک ہے، یہ بہت بڑا بہتان ہے۔“
ذِكْرًا كَثِيْرًا : طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے اس آیت اور اس کے بعد کی دو آیات کی تفسیر ذکر فرمائی ہے، انھوں نے فرمایا : ”لَا یَفْرِضُ اللّٰہُ عَلٰی عِبَادِہِ فَرِیْضَۃً إِلاَّ جَعَلَ لَہَا حَدًّا مَعْلُوْمًا، ثُمَّ عَذَرَ أَہْلَہَا فِيْ حَالِ عُذْرٍ ، غَیْرَ الذِّکْرِ ، فَإِنَّ اللّٰہَ لَمْ یَجْعَلْ لَہُ حَدًّا یَنْتَہِيْ إِلَیْہِ وَ لَمْ یَعْذُرْ أَحَدًا فِيْ تَرْکِہِ إِلَّا مَغْلُوْبًا عَلٰی عَقْلِہِ قَالَ : (فاذکروا اللہ قیاما وقعودا وعلی جنوبکم) بِاللَّیْلِ وَ النَّہَارِ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ، وَ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ ، وَالْغِنٰی وَالْفَقْرِ ، وَالسَّقَمِ وَالصِّحَّۃِ ، وَالسِّرِ وَالْعَلاَنِیَۃِ ، وعَلٰی کُلِّ حَالٍ ، وَ قَالَ : (وَّسَبِّحُــوْهُ بُكْرَةً وَّاَصِيْلًا) فَإِذَا فَعَلْتُمْ ذٰلِکَ صَلّٰی عَلَیْکُمْ ہُوَ وَ مَلاَءِکَتُہُ قَال اللّٰہُ عَزَّ وَ جَلَّ : (هُوَ الَّذِيْ يُصَلِّيْ عَلَيْكُمْ وَمَلٰۗىِٕكَتُهٗ)“ [ طبري : 28764 ] ”یعنی اللہ نے ہر فرض کی کوئی نہ کوئی حد مقرر فرمائی ہے، پھر عذر کی حالت میں وہ بھی معاف ہے، لیکن نہ اللہ کے ذکر کی کوئی حد ہے، نہ وہ کسی عذر سے معاف ہوتا ہے۔ ہاں ! عقل یا ہوش نہ رہے تو الگ بات ہے، فرمایا : ”اللہ کا ذکر کرو کھڑے، بیٹھے، لیٹے“ رات اور دن میں، خشکی اور تری میں، سفر اور حضر میں، غنا اور فقر میں، صحت اور بیماری میں، پوشیدگی اور ظاہر میں، غرض ہر حال میں اللہ کا ذکر لازم ہے اور فرمایا : ”اور اس کی تسبیح کرو پہلے پہر اور پچھلے پہر“ جب تم یہ کرو گے تو اللہ تم پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے گا اور اس کے فرشتے تمہارے لیے دعائیں کریں گے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ”وہی ہے جو تم پر صلاۃ بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے۔“ اللہ کا ذکر کثرت سے کرنے کے متعلق کئی احادیث اسی سورت کی آیت (35) : (وَالذّٰكِرِيْنَ اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّالذّٰكِرٰتِ) کی تفسیر میں ذکر ہوچکی ہیں۔ اس کے متعلق اہل علم نے بہت سی کتابیں لکھی ہیں۔ ابن قیم ؓ نے ”الو ابل الصیب“ میں ذکر کے ایک سو فوائد تفصیل سے ذکر فرمائے ہیں۔
وَّسَبِّحُــوْهُ بُكْرَةً وَّاَصِيْلًا : زمخشری نے فرمایا : ”پچھلی آیت میں ذکر کثیر کا حکم تھا، اب تسبیح کا حکم دیا۔ تسبیح بھی ذکر میں شامل ہے، اس کا خاص طور پر ذکر اسی طرح فرمایا جیسے فرشتوں کے ذکر کے بعد جبریل اور میکائیل کا ذکر فرمایا، تاکہ دوسرے اذکار پر اس کی فضیلت بیان کرے، کیونکہ اس کا معنی اللہ تعالیٰ کی ذات کو ان تمام صفات و افعال سے پاک بیان کرنا ہے جو اس کے لیے جائز نہیں۔ دوسرے اذکار پر اس کی فضیلت ایسے ہی ہے جیسے کسی آدمی کے تمام اوصاف مثلاً نماز، روزے وغیرہ کی کثرت وغیرہ پر اس بات کی فضیلت ہے کہ وہ شرک و بدعت کی نجاست اور ہر قسم کے گناہوں کی آلودگی سے پاک ہے۔ پھر پہلے اور پچھلے پہر تسبیح کا خصوصاً ذکر فرمایا، مراد تمام نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کرنا ہے، کیونکہ نماز دوسری چیزوں سے افضل ہے، یا فجر، مغرب اور عشاء کی نماز مراد ہے، کیونکہ ان کی ادائیگی میں زیادہ مشقت ہے۔“ (کشاف) بعض اہل علم نے اس سے مراد فجر اور عصر لی ہے۔ تسبیح بول کر نماز مراد لینے کے لیے دیکھیے سورة طہ (130)۔
Ayah 33:43هُوَ الَّذِيْ يُصَلِّيْ عَلَيْكُمْ وَمَلٰۗىِٕكَتُهٗ۔۔ : صلاۃ کا معنی رحمت بھی ہے، ذکر خیر بھی اور دعا بھی۔ صحیح بخاری میں ابو العالیہ سے نقل ہے کہ ”اللہ تعالیٰ کی صلاۃ کا مطلب اس کا فرشتوں کے پاس تعریف کرنا ہے اور فرشتوں کی صلاۃ کا مطلب دعا کرنا ہے۔“ قاموس میں ہے : ”اَلصَّلَاۃُ الدُّعَاءُ وَالرَّحْمَۃُ وَالْإِسْتِغْفَارُ وَ حَسَنُ الثَّنَاءِ مِنَ اللّٰہِ عزَّ وَجَلَّ عَلٰی رَسُوْلِہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَ عِبَادَۃٌ فِیْھَا رُکُوْعٌ وَ سُجُوْدٌ، اسْمٌ یُوْضَعُ مَوْضِعَ الْمَصْدَرِ“ ”صلاۃ سے مراد دعا، رحمت، استغفار، اللہ عزوجل کی طرف سے اس کے رسول ﷺ کی تعریف اور رکوع و سجود والی عبادت ہے۔ یہ اسم ہے جو مصدر کے قائم مقام ہے۔“
3 فرشتوں کی صلاۃ سے مراد مسلمانوں کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا ہے۔ اس کی دلیل ابوہریرہ ؓ سے مروی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ الْمَلاَءِکَۃَ تُصَلِّيْ عَلٰی أَحَدِکُمْ مَا دَامَ فِيْ مُصَلاَّہُ مَا لَمْ یُحْدِثْ ، اللَّہُمَّ اغْفِرْ لَہُ ، اللّٰہُمَّ ارْحَمْہُ ، لَا یَزَالُ أَحَدُکُمْ فِيْ صَلاَۃٍ مَا دَامَتِ الصَّلاَۃُ تَحْبِسُہُ ، لَا یَمْنَعُہُ أَنْ یَنْقَلِبَ إِلٰی أَہْلِہِ إِلاَّ الصَّلَاۃُ) [ بخاري، الأذان، باب من جلس في المسجد ینتظر الصلاۃ۔۔ : 659 ] ”یقیناً فرشتے تم میں سے ہر اس شخص کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں جو اپنی نماز کی جگہ میں رہے، جب تک وہ بےوضو نہ ہو کہ اے اللہ ! اسے بخش دے، اے اللہ ! اس پر رحم فرما۔ جب تک نماز نے اسے گھر جانے سے روک رکھا ہو، نماز کے سوا اسے کوئی چیز مانع نہ ہو۔“ سورة مومن کی آیات (7 تا 9) میں بھی فرشتوں کی اس دعا کا ذکر ہے جو وہ مومنوں کے لیے کرتے ہیں۔
3 اس آیت کا پچھلی آیت سے تعلق دو طرح سے ہے، ایک تو یہ کہ پچھلی آیت میں اللہ کا ذکر کثرت کے ساتھ کرنے کا حکم دیا، اس آیت میں اس کا نتیجہ بیان فرمایا کہ جب تم اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کرو گے تو وہ فرشتوں کے سامنے تمہارا ذکر خیر کرے گا، لوگوں میں تمہاری اچھی شہرت فرمائے گا، تم پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے گا اور اس کے فرشتے تمہارے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا کریں گے۔ اس رحمت و مغفرت کے ذریعے سے دنیا میں وہ تمہیں جہالت اور نافرمانی کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان اور علم و عمل کی روشنی میں لے آئے گا۔ اور قیامت کے دن عطا ہونے والی نعمت کا ذکر اگلی آیت میں ہے۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : (أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِيْ بِيْ ، وَ أَنَا مَعَہُ إِذَا ذَکَرَنِيْ ، فَإِنْ ذَکَرَنِيْ فِيْ نَفْسِہِ ذَکَرْتُہُ فِيْ نَفْسِيْ ، وَ إِنْ ذَکَرَنِيْ فِيْ مَلَأٍ ذَکَرْتُہُ فِيْ مَلَأٍ خَیْرٍ مِنْہُمْ ، وَ إِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ بِشِبْرٍ تَقَرَّبْتُ إِلَیْہِ ذِرَاعًا، وَ إِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ إِلَیْہِ بَاعًا، وَ إِنْ أَتَانِيْ یَمْشِيْ أَتَیْتُہُ ہَرْوَلَۃً) [ بخاري، التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ : (و یحذرکم اللہ نفسہ)۔۔ : 7405 ] ”میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں جو وہ میرے متعلق رکھتا ہے اور میں اس کے ساتھ ہوں جب وہ مجھے یاد کرے، سو اگر وہ مجھے اپنے نفس میں یاد کرے تو میں اسے اپنے نفس میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے کسی جماعت میں یاد کرے تو میں اسے اس سے بہتر جماعت میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ ایک بالشت میرے قریب ہو تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ ایک ہاتھ میرے قریب ہو تو میں دونوں ہاتھ پھیلانے کے برابر اس کے قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ چلتا ہوا میری طرف آئے تو میں دوڑ کر اس کی طرف آتا ہوں۔“
دوسری طرح اس کا پہلی آیات سے تعلق یہ ہے کہ اس آیت میں ذکر کثیر اور صبح و شام تسبیح کا حکم دینے کی وجہ بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ وہ ہے جو تمہارے کسی استحقاق کے بغیر محض اپنی بےپایاں رحمت کی وجہ سے تم پر صلاۃ بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے تمہارے لیے رحمت و مغفرت کی دعا کرتے ہیں، تاکہ وہ تمہیں دنیا میں اندھیروں سے روشنی میں لائے اور آخرت میں اجر کریم عطا کرے۔ سو تم پر لازم ہے کہ ایسے مہربان رب کا ذکر کثیر کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح کرو۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے دوسری جگہ فرمایا : (كَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِنَا وَيُزَكِّيْكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ فَاذْكُرُوْنِيْٓ اَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوْا لِيْ وَلَا تَكْفُرُوْنِ) [ البقرۃ : 151، 152 ] ”جس طرح ہم نے تم میں ایک رسول تمھی سے بھیجا ہے، جو تم پر ہماری آیات پڑھتا اور تمہیں پاک کرتا اور تمہیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے اور تمہیں وہ کچھ سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے۔ سو تم مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد کروں گا اور میرا شکر کرو اور میری ناشکری مت کرو۔“ یعنی ہمارے رسول بھیجنے کی نعمت کا تقاضا یہ ہے کہ تم میرا ذکر کرو اور میرا شکر کرو۔
وَكَان بالْمُؤْمِنِيْنَ رَحِيْمًا : یعنی ان تمام مہربانیوں کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ایمان والوں پر بیحد رحم کرنے والا ہے۔ ہمیشہ کا مفہوم ”کان“ کا لفظ ادا کر رہا ہے۔ دنیا میں اس کی رحمت دوسری نعمتوں کے ساتھ انھیں تاریکیوں سے روشنی کی طرف لانا ہے اور آخر ت میں اس کی رحمت کا ذکر اگلی آیت میں ہے۔
Ayah 33:44تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهٗ : یعنی جس دن اللہ تعالیٰ سے ان کی ملاقات ہوگی اللہ تعالیٰ انھیں سلام کہے گا، جیسا کہ فرمایا : (سَلٰمٌ ۣ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ) [ یٰسٓ : 58 ] ”سلام ہو، اس رب کی طرف سے کہا جائے گا جو بیحد مہربان ہے۔“ فرشتے انھیں سلام کہیں گے، جیسا کہ فرمایا : (وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ يَدْخُلُوْنَ عَلَيْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ) [ الرعد : 23، 24 ] ”اور فرشتے ہر دروازے میں سے ان پر داخل ہوں گے۔ سلام ہو تم پر اس کے بدلے جو تم نے صبر کیا۔ سو اچھا ہے اس گھر کا انجام۔“ اور ایک دوسرے کے لیے ان کی دعا بھی سلام ہوگی، جیسا کہ فرمایا : (دَعْوٰىھُمْ فِيْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَتَحِيَّتُھُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ ۚ وَاٰخِرُ دَعْوٰىھُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ) [ یونس : 10 ] ”ان کی دعا ان میں یہ ہوگی ”پاک ہے تو اے اللہ !“ اور ان کی آپس کی دعا ان (باغات) میں سلام ہوگی اور ان کی دعا کا خاتمہ یہ ہوگا کہ سب تعریف اللہ کے لیے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔“ بلکہ جنت میں ہر طرف سے سنائی دینے والی آواز بھی یہ مبارک کلمہ ہی ہوگا، فرمایا : (لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِيْمًا اِلَّا قِيْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا) [ الواقعۃ : 25، 26 ] ”وہ اس میں نہ بےہودہ گفتگو سنیں گے اور نہ گناہ میں ڈالنے والی بات۔ مگر یہ کہنا کہ سلام ہے، سلام ہے۔“
وَاَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِيْمًا : یعنی جنت کی نعمتیں تیار کر رکھی ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں، نہ کسی کان نے سنیں اور نہ کسی آدمی کے دل میں ان کا خیال تک آیا۔ مزید دیکھیے سورة سجدہ (17)۔
Ayah 33:45يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اِنَّآ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کی پانچ صفات بیان فرمائیں، جن سے وہ عظیم الشان مراتب معلوم ہوتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو فائز فرمایا اور ان ذمہ داریوں پر روشنی پڑتی ہے جو رسول کی حیثیت سے آپ پر عائد ہوتی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے آپ کو اتنے عالی مراتب عطا فرمائے ہیں کہ آپ کے مخالفین جتنے بہتان باندھ لیں اور جتنی زبان درازی کرلیں، آپ کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ اس لیے آپ اپنا فرض منصبی ادا کرتے رہیں اور ان کی باتوں کی پروا مت کریں۔ ان میں سب سے پہلی صفت ”شَاهِدًا“ ہے۔ یہ شہادت دو طرح سے ہے، ایک دنیا میں اس بات کی شہادت کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور سچا دین صرف اسلام ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۙ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ وَاُولُوا الْعِلْمِ قَاۗىِٕمًۢا بالْقِسْطِ ۭ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ) [ آل عمران : 18، 19 ] ”اللہ نے گواہی دی کہ بیشک حقیقت یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں نے اور علم والوں نے بھی، اس حال میں کہ وہ انصاف پر قائم ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ بیشک دین اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے۔“ رسول اللہ ﷺ نے پوری دنیا کے سامنے اپنے قول اور عمل کے ساتھ اس بات کی شہادت دی۔ دوسری آخرت کو شہادت، یعنی قیامت کے دن آپ ﷺ اس بات کی شہادت دیں گے کہ آپ نے اللہ تعالیٰ کے تمام پیغام امت کو پہنچا دیے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۢ بِشَهِيْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاۗءِ شَهِيْدًا) [ النساء : 41 ] ”پھر کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور تجھے ان لوگوں پر گواہ لائیں گے۔“ اور فرمایا : (وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا) [ البقرۃ : 143 ] ”اور اسی طرح ہم نے تمہیں سب سے بہتر امت بنایا، تاکہ تم لوگوں پر شہادت دینے والے بنو اور رسول تم پر شہادت دینے والا بنے۔“
3 بعض حضرات نے ”شاھداً“ کے لفظ کو یہ معنی پہنانے کی کوشش کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کے تمام اعمال دیکھ رہے ہیں اور ہر جگہ حاضر و ناظر ہیں۔ ورنہ دیکھے بغیر شہادت کیسے دے سکتے ہیں ؟ مگر یہ بات غلط ہے، کیونکہ انبیاء ؑ کا کام بندوں کے اعمال پر شہادت دینا نہیں کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں، بلکہ ان کا کام اس بات کی گواہی دینا ہے کہ بندوں تک حق پہنچا دیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے صاف فرمایا : (يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ ۭ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا ۭاِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ) [ المائدۃ : 109 ] ”جس دن اللہ رسولوں کو جمع کرے گا، پھر کہے گا تمہیں کیا جواب دیا گیا ؟ وہ کہیں گے ہمیں کچھ علم نہیں، بیشک تو ہی چھپی باتوں کو بہت خوب جاننے والا ہے۔“ اسی طرح جب اللہ تعالیٰ عیسیٰ ؑ سے پوچھیں گے کہ کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا معبود بنا لینا ؟ تو وہ عرض کریں گے : (وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ ۚ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ ۭواَنْتَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ) [ المائدۃ : 117 ] ”اور میں ان پر گواہ تھا جب تک ان میں رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان پر نگران تھا اور تو ہر چیز پر گواہ ہے۔“
یہ آیات اس بات کی صریح دلیل ہیں کہ انبیاء لوگوں کے اعمال پر گواہ نہیں ہوں گے، پھر وہ کس چیز کے گواہ ہوں گے ؟ اللہ تعالیٰ نے خود اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا : (كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا) [ البقرۃ : 143 ] ”اور اسی طرح ہم نے تمہیں سب سے بہتر امت بنایا، تاکہ تم لوگوں پر شہادت دینے والے بنو اور رسول تم پر شہادت دینے والا بنے۔“ اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ امت پر شہادت دیں گے اور آپ کی امت لوگوں پر شہادت دے گی۔ اگر یہ شہادت اعمال کی ہو تو شہادت دینے کے لیے پوری امت کا حاضر و ناظر ہونا لازم آتا ہے اور اگر امت کے لوگ صرف اس شہادت کے لیے بلائے جائیں گے کہ خالق کا پیغام اس کی مخلوق تک پہنچ گیا تو یقیناً رسول اللہ ﷺ بھی اسی بات کی شہادت دیں گے۔ مزید دلائل کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (143) اور سورة مائدہ (117) کی تفسیر۔
وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِيْرًا : یہ دوسری اور تیسری صفت ہے، یعنی آپ ایمان والوں کو یہ بشارت دینے والے ہیں کہ عنقریب ان سے مصائب کے بادل چھٹ جانے والے ہیں اور جلد ہی اللہ تعالیٰ انھیں اپنی فتح و نصرت سے سرفراز فرمائے گا اور مرنے کے بعد انھیں جنت کی ابدی نعمتیں اور اللہ کا دیدار میسر ہونے والا ہے۔ اسی طرح آپ حق کا انکار کرنے والوں کو دنیا میں ان کے برے انجام اور ذلت و خواری سے ڈرانے والے ہیں اور آخرت میں جہنم کے دائمی عذاب سے بھی۔
Ayah 33:46ۙ وَّدَاعِيًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ : یعنی آپ اللہ کی توحید اور اس کے احکام کی اطاعت کی طرف لوگوں کو دعوت دینے والے ہیں اور یہ دعوت اپنی طرف سے نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے آپ کو اس کام پر مامور کیا گیا ہے۔ اب جو اس کی مخالفت کرتا ہے وہ آپ کی نہیں بلکہ آپ کو مامور کرنے والے کی مخالفت کرتا ہے۔
وَسِرَاجًا مُّنِيْرًا : قرآن مجید میں دو جگہ سورج کو ”سراج“ کہا گیا ہے، جیسا کہ آسمانوں کو اوپر تلے پیدا کرنے کے ذکر کے بعد فرمایا : (وَّجَعَلَ الْقَمَرَ فِيْهِنَّ نُوْرًا وَّجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا) [ نوح : 16 ] ”اور اس نے ان میں چاند کو نور بنایا اور سورج کو چراغ بنادیا۔“ اور دوسری جگہ فرمایا : (وَّجَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا) [ النبا : 13 ] ”اور ہم نے ایک بہت روشن گرم چراغ بنایا۔“ یہاں رسول اللہ ﷺ کو ”سراج منیر“ فرمایا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو لوگوں کے کفر و شرک کی ظلمتوں سے نکال کر ایمان کے نور کی طرف لانے کا ذریعہ بنایا، جس طرح سورج کو رات کی تاریکی ختم کر کے روشنی کا ذریعہ بنایا۔ سراج منیر قرار دینے کی ایک وجہ یہ ہے کہ رات کی تاریکی میں چاند کے نور کے باوجود روشنی کے لیے آگ یا مشعلیں جلانے کی ضرورت باقی رہتی ہے، مگر جب آفتاب عالم تاب طلوع ہوتا ہے تو کسی چراغ کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ کی آمد کے بعد نہ کسی نبی کی پیروی باقی رہی، نہ قرآن و حدیث کے ہوتے ہوئے کسی امام، بزرگ یا پیر کی تقلید کی گنجائش ہے۔
Ayah 33:47وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَ بِاَنَّ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَضْلًا كَبِيْرًا : ”فضلا“ کا معنی زائد ہونا، یعنی برتری ہے، جیسا کہ فرمایا : (مَا ھٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ ۙ يُرِيْدُ اَنْ يَّتَفَضَّلَ عَلَيْكُمْ) [ المؤمنون : 24 ] ”یہ نہیں ہے مگر تمہارے جیسا ایک بشر، جو چاہتا ہے کہ تم پر برتری حاصل کرے۔“ یعنی اے نبی ! مومنوں کو بشارت دے دے کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑی برتری عطا ہونے والی ہے۔ کفار کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کو عطا ہونے والے فضل اور برتری کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورة شوریٰ میں فرمایا : (تَرَى الظّٰلِمِيْنَ مُشْفِقِيْنَ مِمَّا كَسَبُوْا وَهُوَ وَاقِـــعٌۢ بِهِمْ ۭ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِيْ رَوْضٰتِ الْجَـنّٰتِ ۚ لَهُمْ مَّا يَشَاۗءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۭ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيْرُ) [ الشورٰی : 22 ] ”تو ظالموں کو دیکھے گا کہ اس سے ڈرنے والے ہوں گے جو انھوں نے کمایا، حالانکہ وہ ان پر آکر رہنے والا ہے اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے وہ جنتوں کے باغوں میں ہوں گے، یہی بہت بڑا فضل ہے۔“ اور دوسری امتوں کے اہل ایمان کے مقابلے میں اس امت کی برتری کا ذکر سورة بقرہ کی آیت (143) اور آل عمران کی آیت (110) کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔
علاوہ ازیں ہماری امت کی دوسری امتوں پر برتری یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم میں وہ پیغمبر مبعوث فرمایا جو سید ولد آدم ہے اور جس طرح آپ ﷺ کو سب انبیاء سے افضل بنایا اسی طرح آپ کی امت کو دوسری امتوں پر فضیلت اور برتری عطا فرمائی۔ عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّمَا بَقَاؤُکُمْ فِیْمَا سَلَفَ قَبْلَکُمْ مِنَ الْأُمَمِ کَمَا بَیْنَ صَلاَۃِ الْعَصْرِ إِلٰی غُرُوْبِ الشَّمْسِ ، أُوْتِيَ أَہْلُ التَّوْرَاۃِ التَّوْرَاۃَ فَعَمِلُوْا حَتّٰی إِذَا انْتَصَفَ النَّہَارُ عَجَزُوْا، فَأُعْطُوْا قِیْرَاطًا قِیْرَاطًا، ثُمَّ أُوْتِيَ أَہْلُ الْإِنْجِیْلِ الْإِنْجِیْلَ فَعَمِلُوْا إِلٰی صَلاَۃِ الْعَصْرِ ، ثُمَّ عَجَزُوْا، فَأُعْطُوْا قِیْرَاطًا قِیْرَاطًا، ثُمَّ أُوْتِیْنَا الْقُرْآنَ فَعَمِلْنَا إِلٰی غُرُوْبِ الشَّمْسِ ، فَأُعْطِیْنَا قِیْرَاطَیْنِ قِیْرَاطَیْنِ ، فَقَالَ أَہْلُ الْکِتَابَیْنِ أَيْ رَبَّنَا ! أَعْطَیْتَ ہٰؤُلاَءِ قِیْرَاطَیْنِ قِیْرَاطَیْنِ ، وَأَعْطَیْتَنَا قِیْرَاطًا قِیْرَاطًا، وَ نَحْنُ کُنَّا أَکْثَرَ عَمَلاً ؟ قَالَ قَال اللّٰہُ عَزَّ وَ جَلَّ ہَلْ ظَلَمْتُکُمْ مِنْ أَجْرِکُمْ مِنْ شَيْءٍ ؟ قَالُوْا لَا، قَالَ فَہُوَ فَضْلِيْ أُوْتِیْہِ مَنْ أَشَاءُ) [ بخاري، مواقیت الصلاۃ، باب من أدرک رکعۃ من العصر قبل الغروب : 557 ] ”تم سے پہلی قوموں کے مقابلے میں تمہارا عرصہ اتنا ہے جتنا عصر سے غروب آفتاب تک۔ اہل تورات کو تورات دی گئی، انھوں نے کام کیا، جب دوپہر ہوئی تو وہ تھک کر رہ گئے تو انھیں ایک ایک قیراط دیا گیا، پھر اہل انجیل کو انجیل دی گئی، انھوں نے عصر کی نماز تک کام کیا، پھر تھک کر رہ گئے، انھیں بھی ایک ایک قیراط دیا گیا۔ پھر ہمیں قرآن دیا گیا تو ہم نے سورج غروب ہونے تک کام کیا تو ہمیں دو دو قیراط دیے گئے، تو دونوں کتابوں والے کہنے لگے : ”اے ہمارے رب ! تو نے انھیں دو دو قیراط دیے اور ہمیں ایک ایک قیراط دیا، حالانکہ ہم نے زیادہ کام کیا ؟“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :”کیا میں نے تمہاری مزدوری میں کچھ کمی کی ہے ؟“ انھوں نے کہا : ”نہیں !“ فرمایا : ”پھر یہ میرا فضل ہے، میں جسے چاہتا ہوں دیتا ہوں۔“
Ayah 33:48وَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِيْنَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ : یعنی کفار و منافقین جو آپ کو مداہنت کے لیے کہتے ہیں، لوگوں کے کفر و شرک پر خاموش رہنے کے لیے اصرار کرتے ہیں اور جاہلیت کی رسوم توڑنے سے روکتے ہیں، ان کا کہنا مت مان، بلکہ دعوت حق پر استقامت اختیار کر۔ اس سورت کے شروع میں یہی حکم دیا تھا، یعنی : (يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَلَا تُطِـعِ الْكٰفِرِيْنَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ) اب تاکید کے لیے اسے دوبارہ ذکر فرمایا ہے۔ مزید دیکھیے سورة قلم (8 تا 15) اور شوریٰ (15)۔
وَدَعْ اَذٰىهُمْ : یعنی دعوت دین کی وجہ سے وہ آپ کو جو تکلیف پہنچاتے ہیں اس کی پروا مت کریں، جیسا کہ فرمایا : (لَتُبْلَوُنَّ فِيْٓ اَمْوَالِكُمْ وَاَنْفُسِكُمْ ۣوَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْٓا اَذًى كَثِيْرًا ۭ وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ) [ آل عمران : 186 ] ”یقیناً تم اپنے مالوں اور اپنی جانوں میں ضرور آزمائے جاؤ گے اور یقیناً تم ان لوگوں سے جنھیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور ان لوگوں سے جنھوں نے شرک کیا، ضرور بہت سی ایذا سنو گے اور اگر تم صبر کرو اور متقی بنو تو بلاشبہ یہ ہمت کے کاموں سے ہے۔“
وَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ۔۔ : یعنی آپ اپنے سب کام اللہ کے سپرد کردیں، کیونکہ جو کام اللہ کے سپرد کردیا جائے، وہ اس کے
لیے کافی ہے۔
Ayah 33:49يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ۔۔ : سورت کے شروع سے متبنّٰی بنانے کی رسم توڑنے کا، رسول اللہ ﷺ کے متبنٰی زید ؓ کے اپنی بیوی زینب کو طلاق دینے کا اور رسول اللہ ﷺ کے اس کے ساتھ نکاح کا ذکر آ رہا تھا۔ اس پر منافقین کی باتوں کا تذکرہ بھی ہوا اور ان کی پروا نہ کرنے کا بھی، پھر اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کا منصب، آپ کی رفعت شان اور آپ کی ذمہ داریاں نہایت جامع انداز میں بیان فرمائیں۔ اب دوبارہ نکاح و طلاق کے کچھ مسائل کا ذکر ہوتا ہے، جن میں سے اکثر کا سابقہ رسول اللہ ﷺ کو بھی پیش آیا۔
”مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ“ میں ہاتھ لگانے سے مراد جماع ہے اور یہ قرآن مجید کے بیان کی پاکیزگی ہے کہ وہ اس کے لیے صریح الفاظ کے بجائے کنائے کا لفظ استعمال کرتا ہے، مثلاً ”مساس“ یا ”ملامسہ“ وغیرہ۔ اس میں ہمارے لیے بھی سبق ہے کہ یہ مفہوم ادا کرنے کے لیے صریح الفاظ کے بجائے کنائے کے الفاظ استعمال کیے جائیں۔
3 کسی مسلمان عورت کو اگر خاوند عقد نکاح کے بعد صحبت سے پہلے طلاق دے دے تو عورت پر کوئی عدت نہیں، جس میں خاوند رجوع کرسکتا ہو، بلکہ اگر وہ عورت چاہے تو اسی وقت دوسرا نکاح کرسکتی ہے، کیونکہ صحبت ہوئی ہی نہیں کہ یہ دیکھنے کے لیے انتظار کی ضرورت ہو کہ حمل تو نہیں ٹھہرا۔ استاذ محمد عبدہ ؓ لکھتے ہیں : ”بعض اہل علم نے خلوت صحیحہ کو بھی بمنزلہ صحبت کے شمار کیا ہے اور کہا ہے کہ خلوت صحیحہ کے بعد طلاق دینے سے مہر اور عدت لازم ہوگی، مگر یہ مسئلہ بظاہر اس آیت کے خلاف ہے۔“ (اشرف الحواشی) آیت میں اگرچہ مومن عورتوں کا ذکر ہے، مگر اس بات پر اجماع ہے کہ یہودی یا عیسائی عورت کا بھی یہی حکم ہے۔ مومن عورتوں کا ذکر اس لیے فرمایا کہ جب مومن عورت پر عدت نہیں، جسے مومن مرد کے نکاح میں رکھنے اور اسے رجوع کا موقع دینے کی ہر ممکن کوشش ہونی چاہیے، تو کتابیہ عورت پر تو بالاولیٰ عدت نہیں۔ (بقاعی)
3 یہ حکم ان عورتوں کا ہے جنھیں دخول سے پہلے طلاق دی جائے، اگر نکاح کے بعد دخول سے پہلے خاوند فوت ہوجائے تو عورت پر عدت بھی ہوگی اور وہ خاوند کی وارث بھی ہوگی۔ معقل بن سنان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بروع بنت واشق ؓ کے بارے میں یہ فیصلہ فرمایا تھا۔ [ أبوداوٗد، النکاح، باب فیمن تزوج و لم یسم لھا صداقًا حتی مات : 2114، و قال الألباني صحیح ]
فَمَتِّعُوْهُنَّ : جس عورت کو دخول سے پہلے طلاق دی گئی ہو وہ دو حال سے خالی نہیں، یا تو نکاح کے وقت اس کے لیے مہر مقرر کیا گیا ہوگا، یا نہیں۔ اگر مہر مقرر نہیں کیا گیا تو اسے مہر نہیں ملے گا اور اگر مقرر کیا گیا ہے تو نصف مہر دیا جائے گا۔ دونوں صورتوں میں عورت کو اپنی حیثیت کے مطابق کچھ سامان مثلاً کپڑوں کا جوڑا وغیرہ دینا ضروری ہے، اسے ”متعہ طلاق“ کہا جاتا ہے۔ مقصد اس کا طلاق سے ہونے والی دل شکنی کا کچھ نہ کچھ مداوا ہے۔ سورة بقرہ کی آیات (236، 237) میں اس کا ذکر گزر چکا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے عمل سے اس کی مقدار کا اندازہ ہوتا ہے۔ چناچہ سہل بن سعد اور ابو اسید ؓ بیان کرتے ہیں : ”رسول اللہ ﷺ نے امیمہ بنت شراحیل سے نکاح کیا، جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لائی گئی اور آپ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا تو جیسے اس نے ناپسند کیا، تو آپ ﷺ نے ابو اسید سے کہا کہ وہ اس کا سامان تیار کریں اور اسے دو رازقیہ (کتان سے بنے ہوئے سفید لمبے) کپڑے بھی دے دیں۔“ [ بخاري، الطلاق، باب من طلق وھل یواجہ الرجل امرأ تہ بالطلاق ؟: 5256، 5257 ]
ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ۔۔ : لفظ ”ثم“ سے دو مسئلے ثابت ہوتے ہیں، ایک یہ کہ طلاق وہ معتبر ہے جو نکاح کے بعد دی جائے، نکاح سے پہلے دی ہوئی طلاق کا کوئی اعتبار نہیں، مثلاً اگر کوئی یہ کہے کہ میں جس عورت سے نکاح کروں اسے طلاق ہے، تو طلاق نہیں ہوگی، کیونکہ یہ نکاح کے بعد نہیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ ابن عباس ؓ نے (اس آیت کے حوالے سے) فرمایا : ”اللہ تعالیٰ نے طلاق کو نکاح کے بعد رکھا ہے۔“ اور علی، سعید بن مسیب، عروہ بن زبیر، ابوبکر بن عبدالرحمان، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ، ابان بن عثمان، علی بن حسین، شریح، سعید بن جبیر، قاسم، سالم، طاؤس، حسن، عکرمہ، عطاء، عامر بن سعد، جابر بن زید، نافع بن جبیر، محمد بن کعب، سلیمان بن یسار، مجاہد، قاسم بن عبدالرحمان، عمرو بن ہرم اور شعبی ؓ سے مروی ہے کہ ایسی عورت کو طلاق نہیں ہوگی۔ [ بخاري، الطلاق، باب لا طلاق قبل النکاح، بعد الحدیث : 5268 ] دوسرا مسئلہ یہ کہ نکاح کے بعد اگر دخول نہیں ہوا تو خواہ کتنی مدت کے بعد طلاق ہوئی ہو، عدت نہیں ہے۔
وَسَرِّحُوْهُنَّ سَرَاحًا جَمِيْلًا : اچھے طریقے سے چھوڑنے کا مطلب یہ ہے کہ کسی لڑائی جھگڑے کے بغیر اچھے طریقے سے اسے طلاق دے کر رخصت کر دے۔ لوگوں کے سامنے اس کے عیوب یا شکایات کے دفتر نہ کھولے کہ کوئی اور بھی اسے قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔ قرآن کے اس حکم سے ظاہر ہے کہ طلاق کو کسی پنچایت یا عدالت کی اجازت کے ساتھ مشروط کرنا درست نہیں، کیونکہ اس سے مرد نہ بھی چاہے تو اسے کوئی نہ کوئی شکوہ یا عیب بیان کرنا پڑے گا، جس سے عورت کی رسوائی ہوگی، جو اسے اچھے طریقے سے چھوڑنے کے خلاف ہے۔
Ayah 33:50يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اِنَّآ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ۔۔ : اس آیت میں ان لوگوں کے اعتراض کا جواب ہے جو کہتے تھے کہ محمد ﷺ دوسرے لوگوں کے لیے چار سے زیادہ بیویاں ممنوع قرار دیتے ہیں تو خود انھوں نے چار سے زیادہ شادیاں کیسے کرلیں ؟ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب یہ دیا کہ اے نبی ! ہم نے آپ کے لیے آپ کی وہ تمام بیویاں حلال کی ہیں جن کا آپ نے مہر دیا ہے۔ مراد وہ بیویاں ہیں جو آیت کے نزول کے وقت آپ کے نکاح میں تھیں۔ مطلب یہ کہ عام مسلمانوں کے لیے چار کی قید لگانے والے ہم ہیں اور آپ کے لیے اس شرط کو ختم کرنے والے بھی ہم ہیں۔ جن عورتوں سے آپ نے نکاح فرمایا ان کی تعداد گیارہ تھی، جن میں سے نو بیویاں آپ کی وفات کے وقت زندہ تھیں۔ دو بیویاں خدیجہ اور زینب بنت خزیمہ ام المساکین ؓ وفات پاچکی تھیں۔ ان کے علاوہ چند عورتوں کے متعلق اختلاف ہے کہ آپ کا ان سے عقد نکاح ہوا یا نہیں، مگر اس پر اتفاق ہے کہ وہ رخصت ہو کر آپ کے گھر نہیں آئیں۔ آپ ﷺ کی وفات کے وقت یہ نو امہات المومنین حیات تھیں : 1 عائشہ بنت ابی بکر ؓ 2 سودہ بنت زمعہ ؓ 3 حفصہ بنت عمر ؓ 4 ام سلمہ بنت ابی امیہ ؓ 5 زینب بنت جحش ؓ 6 جویریہ بنت الحارث ؓ 7 ام حبیبہ بنت ابی سفیان ؓ 8 صفیہ بنت حیی ؓ 9 اور میمونہ بنت حارث ؓ۔
3 ابن کثیر لکھتے ہیں : ”آپ ﷺ کی تمام بیویوں کا مہر ساڑھے بارہ اوقیہ تھا، جو پانچ سو درہم ہوتے ہیں۔ ہاں ام حبیبہ بنت ابی سفیان ؓ کا مہر نجاشی ؓ نے اپنے پاس سے چار سو دینار دیا تھا۔ صفیہ ؓ کا مہر انھیں آزاد کرنا تھا، وہ خیبر کے قیدیوں میں سے تھیں، پھر آپ ﷺ نے انھیں آزاد کردیا اور اسی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا اور نکاح کرلیا۔ جویریہ بنت حارث ؓ بنو المصطلق سے گرفتار ہو کر آئی تھیں، انھوں نے ثابت بن قیس بن شماس ؓ سے جتنی رقم پر مکاتبت کی تھی آپ ﷺ نے انھیں اتنی رقم ادا کر کے ان سے عقد کرلیا تھا۔“ (ابن کثیر)
وَمَا مَلَكَتْ يَمِيْنُكَ مِمَّآ اَفَاۗءَ اللّٰهُ عَلَيْكَ : ”أَفَاءَ یُفِيْءُ“ کا معنی ”لوٹا کر لانا“ ہے۔ ”فے“ عموماً ان اموال کو کہا جاتا ہے جو جنگ کے بغیر دشمن سے حاصل ہوں۔ بعض اوقات جنگ کے ساتھ ملنے والی غنیمت کو بھی ”فے“ کہہ لیتے ہیں۔ ان اموال کو ”فے“ اس لیے کہتے ہیں کہ دنیا کے تمام اموال حقیقت میں مسلمان کی ملکیت ہیں جو عارضی طور پر کفار کے قبضے میں ہیں، جب مسلمان انھیں حاصل کرتے ہیں تو وہ اپنا ہی مال واپس لیتے ہیں۔ ان عورتوں کے آپ کے لیے حلال کرنے کے ذکر کے بعد جن کے ساتھ آپ نے مہر دے کر نکاح کیا تھا، تین قسم کی عورتیں حلال کرنے کا ذکر فرمایا۔ ان میں سے پہلی قسم لونڈیاں ہیں، جو بطور فے آپ کو حاصل ہوئیں اور آپ نے لونڈی کی حیثیت سے ان سے فائدہ اٹھایا۔ یہ ماریہ قبطیہ تھیں، جنھیں مقوقس مصر نے آپ کے لیے بطور ہدیہ بھیجا تھا۔ اس لیے وہ فے کے حکم میں تھیں، ان سے آپ کے بیٹے ابراہیم پیدا ہوئے۔ ”مِمَّآ اَفَاۗءَ اللّٰهُ عَلَيْكَ“ کا یہ معنی نہیں کہ جو لونڈیاں بطور فے آپ کے پاس نہ آئیں وہ آپ کے لیے حلال نہیں، بلکہ ”سراری“ (لونڈیوں) کی تو آپ کے لیے اور آپ کی امت کے لیے عام اجازت ہے۔ (قرطبی)
وَبَنٰتِ عَمِّكَ وَبَنٰتِ عَمّٰتِكَ۔۔ : پہلی بیویوں کے بعد آپ کے لیے حلال کی جانے والی عورتوں کی یہ دوسری قسم ہے، یعنی وہ عورتیں جو باپ یا ماں کی طرف سے آپ کی قریبی رشتہ دار ہیں اور انھوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی ہے۔ ان کے ساتھ نکاح آپ کے لیے حلال ہے۔ یہ تفسیر اس لیے کی گئی ہے کہ آپ کے ماموں یا خالہ کی کوئی بیٹی تھی ہی نہیں۔ آپ کی والدہ کے خاندان بنو زہرہ کو آپ ﷺ کے ماموں کہا جاتا تھا۔
وَامْرَاَةً مُّؤْمِنَةً اِنْ وَّهَبَتْ نَفْسَهَا للنَّبِيِّ۔۔ : یہ تیسری قسم ہے، یعنی مندرجہ بالا عورتوں کے علاوہ کوئی مومن عورت اگر اپنا آپ نبی ﷺ کو ہبہ کر دے، یعنی مہر کے بغیر نکاح میں دینے کی پیش کش کرے اور نبی ﷺ اس سے نکاح کرنا چاہیں تو آپ کے لیے ولی اور مہر کے بغیر اس سے نکاح حلال ہے۔ ثابت بنانی ؓ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے انس ؓ کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی، وہ اپنے آپ کو آپ ﷺ کے لیے پیش کر رہی تھی، تو انس ؓ کی بیٹی نے کہا : ”اس کی حیا کتنی کم تھی ؟“ تو انس ؓ نے فرمایا : ”وہ تجھ سے بہتر تھی، اس نے اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کے لیے پیش کیا تھا۔“ [ بخاري، الأدب، باب ما لا یستحیا من الحق للتفقہ في الدین : 6123 ]
خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ : یعنی یہ اجازت صرف آپ کے ساتھ خاص ہے، دوسرے مسلمانوں کے لیے وہی حکم ہے جو سورة نساء (24) میں فرمایا : (ان تبتغوا باموالکم) یعنی بن مہر نکاح جائز نہیں۔ (موضح) اسی طرح چار سے زیادہ بیویوں کی اجازت صرف آپ کے لیے ہے، دوسرے مسلمانوں کے لیے نہیں۔
قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْهِمْ فِيْٓ اَزْوَاجِهِمْ وَمَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُمْ : یعنی عام مسلمانوں کو نکاح کے لیے جن شرائط کا پابند کیا گیا ہے، ان کا پابند رہنا ان کے لیے ضروری ہے اور وہ یہ کہ مہر، ولی اور گواہوں کے بغیر نکاح کرنا جائز نہیں، اس کے علاوہ وہ ایک وقت میں چار سے زیادہ عورتیں نکاح میں نہیں رکھ سکتے۔ یہ مسائل سورة نساء (3، 4 اور 24، 25) میں گزر چکے ہیں۔
لِكَيْلَا يَكُوْنَ عَلَيْكَ حَرَجٌ : یعنی دعوت دین کی مصلحت کے لیے آپ کو ایک وقت میں چار سے زیادہ عورتوں کے ساتھ نکاح کی اجازت اس لیے دی گئی ہے کہ آپ پر زیادہ نکاح کرنے میں کوئی تنگی نہ رہے۔ کیونکہ بہت سی مصلحتوں کی وجہ سے آپ کو زیادہ نکاح کرنے ہوں گے۔ اہل علم نے رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے ہر ایک کے ساتھ نکاح میں جو مصلحتیں مدنظر تھیں ان کا تفصیل کے ساتھ ذکر فرمایا ہے اور اسلام کے مخالفین رسول اللہ ﷺ کے تعدد ازواج پر جو جو اعتراض کرتے ہیں ان کا مدلل جواب دیا ہے۔ اس مقصد کے لیے مولانا ثناء اللہ امرتسری ؓ کی تصنیف ”مقدس رسول“ لاجواب کتاب ہے۔ الرحیق المختوم میں بھی یہ مصلحتیں اختصار کے ساتھ بیان کی گئی ہیں۔
وَكَان اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا : یعنی ہم نے رفع حرج کے لیے آپ کو جو اجازتیں عطا فرمائی ہیں ان کا باعث ہماری مغفرت و رحمت کی صفت ہے۔ (ابن عاشور)
Ayah 33:51تُرْجِيْ مَنْ تَشَاۗءُ مِنْهُنَّ۔۔ : اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کے لیے بیویوں کے بارے میں مزید رعایتوں کا بیان ہے۔ ان میں سے ایک رعایت یہ ہے کہ جو عورتیں اپنے نفس آپ کے لیے ہبہ کریں، ان میں سے آپ جسے چاہیں مؤخر رکھیں اور جسے چاہیں اپنے پاس جگہ دیں، آپ پر ان کی پیش کش قبول کرنا لازم نہیں اور ایک رعایت یہ ہے کہ جو عورتیں آپ کے نکاح میں ہیں، آپ پر ان کے پاس باری باری جانے کی پابندی نہیں، آپ جس کے پاس چاہیں رات بسر کریں، جسے چاہیں مؤخر رکھیں۔
وَ تُـــــْٔوِيْٓ اِلَيْكَ مَنْ تَشَاۗءُ ۭ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ : تیسری رعایت یہ ہے کہ اگر ان میں سے کسی کی باری آپ نے ختم کی ہو اور دوبارہ اسے طلب کرنا چاہیں، تو اس میں بھی آپ پر کوئی مضائقہ نہیں۔
ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَنْ تَقَرَّ اَعْيُنُهُنَّ۔۔ : بیویوں کا حق ساقط کرنے سے رسول اللہ ﷺ اور آپ کی بیویوں دونوں سے تنگی دور کرنا مقصود تھا۔ نبی ﷺ کی تنگی دور کرنا تو ظاہر ہی ہے، بیویوں کی تنگی دور کرنا اس لحاظ سے ہے کہ جب ان میں سے ہر ایک کو معلوم ہوجائے گا کہ فلاں باری کے دن نبی ﷺ کا اس کے ہاں رات بسر کرنا اس کا حق نہیں تو آپ کے ساتھ اور آپس میں ایک دوسری کے ساتھ بھی ان کی چپقلش اور تنازعات ازخود ختم ہوجائیں گے، کیونکہ تنازعات کی بنیاد ہی حقوق کا دعویٰ ہے۔ جب حق ہی نہ رہا تو جھگڑا کیسا۔ پھر جب آپ کسی بیوی کے پاس جائیں گے تو اس احساس سے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کے لیے اس کے پاس جانا ضروری نہیں تھا، اسے آپ کے آنے سے خوشی ہوگی اور اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی اور انھیں یہ جان کر آپ کے نہ آنے سے غم بھی نہیں ہوگا کہ آپ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی اجازت سے کر رہے ہیں اور آپ اپنی بیویوں کو جتنا وقت یا جتنی توجہ دیں گے، سب اسی پر خوش رہیں گی اور شکر گزار ہوں گی۔
3 واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان رعایتوں کے باوجود آپ نے ان سے فائدہ اٹھایا نہ اپنا نفس ہبہ کرنے والی کسی خاتون سے آپ نے نکاح کیا، نہ کسی بیوی کی باری ختم کی، صرف سودہ ؓ نے اپنی باری عائشہ ؓ کو دی تو آپ نے اس کی اجازت دی، آپ ﷺ دوسری تمام بیویوں کے پاس باری باری جاتے تھے۔ آپ اس کا کس قدر اہتمام کرتے تھے وہ ان احادیث سے ظاہر ہے :
1 معاذہ عدویہ نے عائشہ ؓ سے بیان کیا کہ اس آیت : (تُرْجِيْ مَنْ تَشَاۗءُ مِنْهُنَّ وَ تُـــــْٔوِيْٓ اِلَيْكَ مَنْ تَشَاۗءُ) (ان میں سے جسے تو چاہے مؤخر کر دے اور جسے چاہے اپنے پاس جگہ دے دے) کے نازل ہونے کے بعد بھی جب آپ ہم میں سے کسی عورت کی باری کے دن میں ہوتے تو ہم سے اجازت مانگتے۔ [ بخاري، التفسیر، باب قولہ : (ترجي من تشاء منھن۔۔) : 4789 ] فتح الباری میں ہے، یعنی آپ جس بیوی کی باری کے دن میں ہوتے دوسری کے پاس جانا چاہتے تو اس سے اجازت مانگتے۔
2 عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں : ”رسول اللہ ﷺ جب سفر پر جانا چاہتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ ڈالتے، پھر جس کا قرعہ نکلتا اسے ساتھ لے جاتے اور ہر بیوی کے پاس باری باری ایک دن رات رہتے، سوائے سودہ بنت زمعہ ؓ کے کہ اس نے اپنی باری عائشہ ؓ کے لیے ہبہ کردی تھی، اس سے وہ رسول اللہ ﷺ کی خوشی حاصل کرنا چاہتی تھیں۔“ [ بخاري، الھبۃ، باب ھبۃ المرأۃ لغیر زوجھا۔۔ : 2593 ]
3 عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں : ”جب رسول اللہ ﷺ (بیماری کی وجہ سے) بوجھل ہوگئے اور آپ کی بیماری سخت ہوگئی تو آپ ﷺ نے دوسری بیویوں سے بیماری کے ایام میرے گھر میں گزارنے کی اجازت مانگی تو انھوں نے آپ کو اجازت دے دی۔“ [ بخاري، الھبۃ، باب ہبۃ الرجل لامرأتہ والمرأۃ لزوجھا : 2588 ]
4 عروہ ؓ فرماتے ہیں کہ عائشہ ؓ نے ان سے کہا : ”میرے بھانجے ! رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس ٹھہرنے کی تقسیم میں کسی کو دوسری پر فضیلت نہیں دیتے تھے اور کم ہی کوئی دن ہوگا، ورنہ آپ ہر روز ہم سب کے پاس چکر لگاتے اور بغیر مساس (بغیر صحبت) ہر ایک کے پاس ٹھہرتے، یہاں تک کہ اس بیوی کے پاس پہنچتے جس کی باری ہوتی اور اس کے پاس رات گزارتے۔ سودہ ؓ جب عمر رسیدہ ہوگئیں اور انھیں اندیشہ ہوا کہ رسول اللہ ﷺ ان سے علیحدگی اختیار کریں گے تو انھوں نے کہا : ”یا رسول اللہ ! میں نے اپنی باری عائشہ کو دی۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے اسے ان سے قبول کرلیا۔“ فرماتی ہیں : ”ہم کہا کرتی تھیں کہ اس اور اس جیسی عورتوں ہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے : (وَاِنِ امْرَاَةٌ خَافَتْ مِنْۢ بَعْلِھَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَآ اَنْ يُّصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا ۭ وَالصُّلْحُ خَيْرٌ ۭوَاُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ ۭوَاِنْ تُحْسِنُوْا وَتَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًا) [ النساء : 128 ] ”اور اگر کوئی عورت اپنے خاوند سے کسی قسم کی زیادتی یا بےرخی سے ڈرے تو دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ آپس میں کسی طرح کی صلح کرلیں اور صلح بہتر ہے، اور تمام طبیعتوں میں حرص (حاضر) رکھی گئی ہے اور اگر تم نیکی کرو اور ڈرتے رہو تو بیشک اللہ اس سے جو تم کرتے ہو، ہمیشہ سے پورا باخبر ہے۔“
[ أبو داوٗد، النکاح، باب في القسم بین النساء : 2135، و قال الألباني حسن صحیح ]
وَاللّٰهُ يَعْلَمُ مَا فِيْ قُلُوْبِكُمْ : اس میں نبی ﷺ کی بیویوں سے بھی خطاب ہے اور تمام مومنوں سے بھی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو ان کی عظیم ذمہ داریوں کے پیش نظر جو رعایتیں دی ہیں، تاکہ وہ گھریلو پریشانیوں سے آزاد رہ کر اطمینان سے دعوت کا فریضہ سر انجام دے سکیں، اس کے متعلق اگر تمہارے دلوں میں تسلیم و رضا ہوگی یا کراہت و انکار تو اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے۔ اس لیے اہل ایمان کو جناب رسالت میں معمولی سوئے ظن سے بھی سخت اجتناب لازم ہے۔
وَكَان اللّٰهُ عَلِــيْمًا حَلِــيْمًا : یعنی اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر چیز کا پورا علم رکھتا ہے، مگر اس کے حلم کی بھی انتہا نہیں، اس لیے وہ تمہاری کسی خطا پر فوری گرفت نہیں کرتا، بلکہ تمہیں اپنی اصلاح کا موقع دیتا ہے۔
Ayah 33:52لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاۗءُ مِنْۢ بَعْدُ۔۔ : پچھلی آیات میں گزر چکا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ازواج مطہرات کو اختیار دیا کہ اگر وہ چاہیں تو آپ ﷺ کی زوجیت میں رہیں اور اگر چاہیں تو آپ سے علیحدہ ہوجائیں، لیکن جب انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو چھوڑنا پسند نہ کیا اور آخرت کو دنیا پر ترجیح دی تو انھیں اللہ کی طرف سے ایک دنیاوی بدلا یہ ملا کہ رسول اللہ ﷺ کو حکم ہوا کہ اب آپ ان کے سوا کسی اور عورت سے نکاح نہیں کرسکتے، نہ ہی ان میں سے کسی کو چھوڑ کر اس کے بدلے دوسری لاسکتے ہیں، گو اس کا حسن آپ کو کتنا ہی پسند ہو۔ یہ صراحت اس لیے فرمائی کہ آپ یہ نہ سمجھیں کہ بیویوں کی تعداد نو (9) سے زیادہ کرنا جائز نہیں، ان میں سے کسی کو طلاق دے کر اس کے بدلے میں بیوی لا کر نو کا عدد پورا کرلیں تو اجازت ہے۔ فرمایا، انھیں طلاق دے کر ان کی جگہ بھی اور بیویاں لانے کی اجازت نہیں، خواہ نو سے زیادہ نہ بھی ہوں۔ ہاں، لونڈیوں کی بات دوسری ہے، ان پر کوئی پابندی نہیں۔
3 ابن جریر طبری نے اس آیت کی دوسری تفسیر اختیار کی ہے کہ پچھلی آیت (50) : (اِنَّآ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ۔۔) میں چار قسم کی جو عورتیں آپ کے لیے حلال کی گئی ہیں، ان کے بعد یعنی ان کے سوا کسی اور عورت سے نکاح جائز نہیں۔ نہ موجود بیویوں کو طلاق دے کر ان کی جگہ اور بیوی لانا جائز ہے۔ اس آیت سے اللہ تعالیٰ کے ہاں امہات المومنین کے بلند مرتبے کا اظہار ہو رہا ہے۔
”وَّلَوْ اَعْجَـبَكَ حُسْنُهُنَّ“ سے یہ بات نکلتی ہے کہ جس عورت سے نکاح کا ارادہ ہو آدمی اسے دیکھ سکتا ہے۔
وَكَان اللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ رَّقِيْبًا : یعنی اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ہر چیز پر پوری طرح نگران ہے، اس لیے کوئی بھی کام کرتے ہوئے ذہن میں حاضر رکھو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (أَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَأَنَّکَ تََرَاہُ فَإِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَإِنَّہُ یَرَاکَ) [ بخاري، الإیمان، باب سؤال جبریل النبي ﷺ۔۔ : 50 ] ”اللہ کی عبادت (اس طرح) کرو گویا کہ اسے دیکھ رہے ہو، سو اگر تم اسے نہیں دیکھتے تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔“