Ayah 33:12اِذْ يَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِيْنَ۔۔ :”يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا“ سے لے کر آیت (27) تک کی آیات غزوۂ احزاب اور غزوۂ بنو قریظہ کے بعد نازل ہوئیں۔ ان میں دونوں جنگوں کا تذکرہ ہوا ہے۔ پچھلی آیت تک ایمان والوں کے خوف، آزمائش اور سخت جھنجوڑے جانے کا ذکر ہوا ہے، جس کے دوران ان کے دلوں میں طرح طرح کے گمان بھی آتے رہے، مگر ان کی زبان پر کفر یا مایوسی کا کوئی لفظ نہیں آیا۔ اب اس دوران منافقین کے رویے اور ان کی منافقانہ باتوں کا ذکر ہوتا ہے، جن سے ان کا نفاق کھل کر سب کے سامنے آگیا۔
3 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کے ساتھ ان لوگوں کا ذکر فرمایا ہے جن کے دلوں میں بیماری ہے۔ سوال یہ ہے کہ منافقین کے دلوں میں بھی تو بیماری ہے، جیسا کہ سورة بقرہ میں فرمایا : (فِىْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ) [ البقرۃ : 10 ] ”ان کے دلوں میں ایک بیماری ہے۔“ تو یہاں منافقین کے بعد ”الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ“ سے کون لوگ مراد ہیں ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ یہاں منافقین سے مراد وہ لوگ ہیں جو پکے منافق تھے، جیسے عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھی۔ ان کے متعلق جو سورة بقرہ میں ”فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ“ فرمایا ہے، وہاں ”مرضٍ“ کی ”تنوین“ تعظیم و تہویل کے لیے ہے، اس لیے وہاں مراد یہ ہے کہ ان کے دلوں میں ایک بھاری بیماری ہے۔ اس آیت میں ”الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ“ سے مراد وہ لوگ ہیں جو ابھی نفاق میں پختہ نہیں ہوئے تھے، بلکہ ان کے دلوں میں شک و شبہ اور نفاق کی کچھ بیماری تھی۔ گویا یہاں ”مرض“ میں تنوین تنکیر و تبعیض کے لیے ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا ہے : (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰي حَرْفٍ) [ الحج : 11 ] ”اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو اللہ کی عبادت ایک کنارے پر کرتا ہے۔“ غرض اس موقع پر صرف پکے ایمان والے ثابت قدم رہے۔ رہے منافقین یا ڈھلمل یقین والے، تو ان سب کا نفاق کھل کر سامنے آگیا۔
مَّا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗٓ اِلَّا غُرُوْرًا : جنگ خندق کے دوران رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو کئی بشارتیں دی تھیں۔ خندق کھودنے کے دوران ایک چٹان جو کھدائی میں رکاوٹ بن گئی تھی، اس پر رسول اللہ ﷺ نے کدال ماری تو وہ تین ضربوں میں تین ٹکڑے ہوگئی اور ہر ضرب پر اس سے ایک چمک نکلی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”پہلی ضرب کے ساتھ مجھے کسریٰ کے شہر اور ان کے اردگرد کے شہر اور بہت سے شہر دکھائے گئے، جنھیں میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔“ وہاں موجود صحابہ نے کہا : ”یا رسول اللہ ! دعا کیجیے اللہ تعالیٰ ہمیں ان پر فتح عطا فرمائے، ان کے گھر ہمیں بطور غنیمت عطا کرے اور ان کے شہر ہمارے ہاتھوں برباد کرے۔“ رسول اللہ ﷺ نے یہ دعا کردی اور فرمایا : ”پھر میں نے دوسری ضرب لگائی تو قیصر کے شہر اور ان کے اردگرد کی بستیاں میرے سامنے لائی گئیں، یہاں تک کہ میں نے انھیں اپنی آنکھوں سے دیکھا۔“ لوگوں نے کہا : ”یا رسول اللہ ! اللہ سے دعا کیجیے کہ اللہ ہمیں ان پر فتح عطا فرمائے، ان کے گھر ہمیں بطور غنیمت عطا فرمائے اور ان کے شہر ہمارے ہاتھوں برباد کرے۔“ رسول اللہ ﷺ نے یہ دعا کردی اور فرمایا : ”پھر میں نے تیسری ضرب ماری تو حبشہ کے شہر اور ان کے اردگرد کی بستیاں میرے سامنے لائیں گئیں، حتیٰ کہ میں نے انھیں اپنی آنکھوں سے دیکھا۔“ اس وقت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”حبشیوں کو اپنے حال پر رہنے دو جب تک وہ تمہیں تمہارے حال پر رہنے دیں اور ترکوں کو کچھ نہ کہو جب تک وہ تمہیں کچھ نہ کہیں۔“ [ نساءي، الجہاد، باب غزوۃ الترک والحبشۃ : 3178، و قال الألباني حسن ]
جب مدینہ کو کفار نے ہر طرف سے گھیر لیا اور یہودیوں کی عہدشکنی کی وجہ سے مدینہ کے اندر سے بھی ہر وقت حملے کا خطرہ پیدا ہوگیا، تو اس وقت مسلمانوں کے لیے مزید پریشانی کا باعث یہ بات ہوئی کہ منافقین اور کچے ایمان والے لوگوں نے ایسی باتیں کہنا شروع کردیں جن سے لوگوں کے حوصلے ٹوٹ جائیں اور بددلی پھیل جائے، مثلاً یہ کہ محمد ﷺ تو ہمیں قیصرو کسریٰ کے شہر فتح ہونے کی بشارتیں سناتے تھے، جبکہ اب ہماری یہ حالت ہے کہ ہم قضائے حاجت کے لیے بھی باہر نہیں جاسکتے۔ معلوم ہوا کہ اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے جو وعدے کیے تھے سب دھوکا تھے۔ دراصل منافقین کا خیال یہ تھا کہ بس ایمان کا دعویٰ کرنے کی دیر ہے، آسمان سے فرشتے اتریں گے اور انھیں فتح حاصل ہوجائے گی، انھیں انگلی تک نہیں ہلانا پڑے گی، حالانکہ ایمان کے بعد آزمائش تو اللہ تعالیٰ کی سنت ہے، تاکہ کھرے کھوٹے الگ الگ ہوجائیں۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”بعض منافق کہنے لگے، پیغمبر کہتا ہے کہ میرا دین پہنچے گا مشرق مغرب، یہاں جائے ضرور (قضائے حاجت) کو نہیں نکل سکتے۔ مسلمان کو چاہیے اب بھی نا امیدی کے وقت بےایمانی کی باتیں نہ بولے۔“
Ayah 33:13وَاِذْ قَالَتْ طَّاۗىِٕفَةٌ مِّنْهُمْ يٰٓاَهْلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ : ”یثرب“ مدینے کا پرانا نام ہے، رسول اللہ ﷺ کی آمد کے بعد اس کا نام ”مدینۃ النبی ﷺ“ پڑگیا، جو اختصار کے ساتھ مدینہ مشہور ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (رَأَیْتُ فِي الْمَنَامِ أَنِّيْ أُہَاجِرُ مِنْ مَکَّۃَ إِلٰی أَرْضٍ بِہَا نَخْلٌ، فَذَہَبَ وَہَلِيْ إِلٰی أَنَّہَا الْیَمَامَۃُ أَوْ ہَجَرُ ، فَإِذَا ہِيَ الْمَدِیْنَۃُ یَثْرِبُ) [ بخاري، المناقب، باب علامات النبوۃ في الإسلام : 3622 ] ”میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ سے ایسی زمین کی طرف ہجرت کر رہا ہوں جو کھجوروں والی ہے، تو مجھے گمان ہوا کہ وہ جگہ یمامہ یا ہجر ہے، لیکن وہ یثرب یعنی مدینہ منورہ ہے۔“ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (أُمِرْتُ بِقَرْیَۃٍ تَأْکُلُ الْقُرٰی یَقُوْلُوْنَ یَثْرِبُ وَہِيَ الْمَدِیْنَۃُ ، تَنْفِي النَّاسَ کَمَا یَنْفِي الْکِیْرُ خَبَثَ الْحَدِیْدِ) [ بخاري، فضائل المدینۃ، باب فضل المدینۃ۔۔ : 1871 ] ”مجھے ایک بستی کے متعلق حکم دیا گیا ہے جو تمام بستیوں کو کھاجائے گی، لوگ اسے یثرب کہتے ہیں، حالانکہ وہ ”المدینہ“ ہے۔ وہ (منافق) لوگوں کو اس طرح دور کرے گی جس طرح بھٹی لوہے کی میل کو دور کردیتی ہے۔“
فَارْجِعُوْا : منافقین کے ایک گروہ نے مسلمانوں کی ہمتیں پست کرنے کے لیے یہ کہنا شروع کردیا کہ سلع پہاڑی اور خندق کے درمیان (جہاں رسول اللہ ﷺ کا معسکر تھا) اب رہنے کی کوئی صورت نہیں، اس لیے واپس لوٹ جاؤ۔ اس واپس لوٹ جاؤ کا مطلب یہ بھی ہوسکتا تھا کہ مدینہ واپس چلو اور یہ بھی کہ دوبارہ پہلے دین پر واپس ہوجاؤ اور مشرکین کے ساتھ مل جاؤ، تاکہ وہ تمہیں نقصان نہ پہنچائیں۔ یعنی وہ مسلمانوں کو ارتداد کی ترغیب دیتے، مگر ایسے الفاظ میں کہ اگر کوئی بازپرس کرے تو کہیں کہ ہمارا مطلب تو مدینہ واپس چلنا تھا۔
وَيَسْتَاْذِنُ فَرِيْقٌ مِّنْهُمُ النَّبِيَّ : ان میں سے کچھ لوگوں نے نبی کریم ﷺ سے یہ کہہ کر اپنے گھروں کو واپسی کی اجازت مانگی کہ ہمارے گھر بالکل غیر محفوظ ہیں اور ڈر ہے کہ کہیں بنو قریظہ حملہ کر کے ہمارے بچوں اور عورتوں کو ہلاک نہ کردیں، یا چور لوٹ مار نہ کریں۔
وَمَا هِىَ بِعَوْرَةٍ : حالانکہ وہ کسی طرح غیر محفوظ نہیں تھے، کیونکہ مسلمانوں نے تمام عورتوں اور بچوں کو شہر کی مضبوط حویلیوں میں رکھ کر اور ناکے لگا کر محفوظ کردیا تھا۔
اِنْ يُّرِيْدُوْنَ اِلَّا فِرَارًا : یعنی ان کی اجازت مانگنے کی اصل وجہ یہ نہیں ہے، بلکہ وہ کسی طرح میدان جنگ سے بھاگنا چاہتے ہیں۔
Ayah 33:14وَلَوْ دُخِلَتْ عَلَيْهِمْ مِّنْ اَقْطَارِهَا۔۔ : ”دُخِلَتْ“ کی ضمیر ”مدینہ“ کی طرف جا رہی ہے، یعنی ”وَلَوْ دُخِلَتْ عَلَیْھِمُ الْمَدِیْنَۃُ مِنْ جِھَاتِھَا أَيْ وَلَوْ دَخَلَ الْأَحْزَابُ عَلَیْھِمُ الْمَدِیْنَۃَ۔“ ”الفتنۃ“ سے مراد کفرو شرک اور مسلمانوں کے خلاجنگ ہے، یعنی اگر کفار شہر میں داخل ہو کر ان منافقین کو دعوت دیتے کہ آؤ دوبارہ ہمارے ساتھ کفر میں واپس آجاؤ اور ہم سے مل کر مسلمانوں کو ختم کرنے کے لیے لڑو تو وہ فوراً ان کی پیش کش قبول کرتے اور ذرا دیر نہ کرتے۔
Ayah 33:15وَلَقَدْ كَانُوْا عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ۔۔ : یہ عہد ان منافقوں نے احد کے موقع پر جنگ سے گریز اور پسپائی کے بعد کیا تھا کہ اگر آئندہ آزمائش کا کوئی موقع آیا تو ہم اپنی سابقہ کوتاہی کی تلافی کریں گے اور لڑائی سے پیٹھ نہیں پھیریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں وہ عہد یاد دلایا کہ اسے کوئی لمبی مدت نہیں گزری، بلکہ غزوۂ احزاب سے کچھ ہی پہلے انھوں نے وہ عہد کیا تھا، مگر اللہ تعالیٰ کو صرف زبانی عہد کے ساتھ دھوکا نہیں دیا جاسکتا، بلکہ وہ آزمائش کا کوئی موقع لا کر پوچھتا ضرور ہے کہ تمہارا وعدہ سچا تھا یا جھوٹا۔ اس کے علاوہ قیامت کے دن وہ ایمان کے عہد سے لے کر لڑائی سے فرار نہ کرنے تک کے ہر عہد کے متعلق بھی پوچھے گا کہ پورا کیا یا نہیں۔
Ayah 33:16قُلْ لَّنْ يَّنْفَعَكُمُ الْفِرَارُ۔۔ : یعنی فرار سے تمہاری عمر کچھ بڑھ نہیں جائے گی، نہ ہی فرار اختیار کرنے سے تم قتل سے یا موت سے بچ جاؤ گے، کیونکہ موت کا وقت تو مقرر ہوچکا ہے۔ پھر مرنا ہی ہے تو کیوں نہ اللہ کی راہ میں لڑ کر عزت کی موت مرو اور شہادت کا رتبہ پاؤ۔
وَاِذًا لَّا تُمَـتَّعُوْنَ اِلَّا قَلِيْلًا : یعنی اگر تم نے فرار اختیار کیا اور تمہاری کچھ عمر باقی ہوئی تب بھی دنیا کی لذتوں سے تم تھوڑا ہی فائدہ اٹھا سکو گے، کیونکہ ایسے بزدلوں کا مقدر دشمن کے غلبہ کی صورت میں ذلت اور غلامی ہوتا ہے اور اگر اس سے بچ بھی گئے تو کتنی دیر زندہ رہ لو گے۔
Ayah 33:17قُلْ مَنْ ذَا الَّذِيْ يَعْصِمُكُمْ مِّنَ اللّٰهِ۔۔ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة یونس (107) اور سورة زمر (38) یعنی اپنے خیال میں تم نے عرب کے مشرکین سے بچنے کے لیے فرار اختیار کیا، لیکن اگر اللہ حکم دے اور مسلمان تمہیں اب قتل کردیں تو تمہیں کون بچائے گا، یا وہ تم پر رحم کا ارادہ کرے تو کون اس کا ہاتھ پکڑ سکتا ہے ؟ بہرحال اللہ کی گرفت سے انھیں کوئی حمایتی یا مددگار نہیں بچا سکے گا۔
Ayah 33:18قَدْ يَعْلَمُ اللّٰهُ الْمُعَوِّقِيْنَ مِنْكُمْ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کو جانتا ہے جو دوسروں کو بھی جہاد سے روکتے ہیں اور اپنے یار دوست لوگوں اور کنبے قبیلے کے لوگوں سے کہتے ہیں کہ اپنے آپ کو خطرات میں ڈالنے کے بجائے ہمارے پاس چلے آؤ اور ہماری طرح آرام سے گھروں میں رہو۔ مراد اس سے منافقین ہیں۔
وَلَا يَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلَّا قَلِيْلًا : یعنی کبھی کبھار دکھاوے اور نام لکھوانے کے لیے چلے آتے ہیں۔
Ayah 33:19اَشِحَّةً عَلَيْكُمْ ښ فَاِذَا جَاۗءَ الْخَوْفُ۔۔ : ”ۙاَشِحَّةً عَلَيْكُمْ ښ فَاِذَا جَاۗءَ الْخَوْفُ“ ”شَحِیْحٌ“ کی جمع ہے، سخت حرص اور بخل کے مجموعے کو ”اَلشُّحُّ“ کہتے ہیں۔ ”حداد“ جمع ہے ”حَدِیْدٌ“ کی، تیز۔ ”سَلَقُوْكُمْ“ ”سَلَقَ یَسْلُقُ“ (ن) ”سَلَقَہُ بالسَّوْطِ“ یعنی اس نے اسے کوڑے سے اتنا مارا کہ کھال اتار دی۔ ”سَلَقَ اللَّحْمَ عَنِ الْعَظْمِ“ ہڈی سے گوشت اتار دیا۔ جب کوئی کسی کو بہت سخت بات کہے تو کہتے ہیں : ”سَلَقَہُ بالْکَلَامِ۔“ ”الْخَــيْرِ“ سے مراد مال غنیمت ہے۔ مولانا محمد جونا گڑھی ؓ نے اس مقام پر تفسیر ابن کثیر کا جو اردو ترجمہ کیا ہے وہ بہت پر لطف ہے، لکھتے ہیں : ”یہ بڑے بخیل ہیں، نہ ان سے تمہیں کوئی مدد پہنچے، نہ ان کے دل میں تمہاری کوئی ہمددری، نہ مال غنیمت میں تمہارے حصے پر یہ خوش۔ خوف کے وقت تو ان نامردوں کے ہاتھوں کے طوطے اڑ جاتے ہیں، آنکھیں چھاچھ پانی ہوجاتی ہیں، مایوسانہ نگاہوں سے تکنے لگتے ہیں، لیکن خوف دور ہوا کہ انھوں نے لمبی لمبی زبانیں نکال ڈالیں اور بڑھے چڑھے دعوے کرنے لگے اور شجاعت و مردمی کا دم بھرنے لگے اور مال غنیمت پر بےطرح گرنے لگے۔ ہمیں دو ، ہمیں دو کا غل مچا دیتے ہیں، ہم آپ کے ساتھی ہیں، ہم نے جنگی خدمات انجام دی ہیں، ہمارا حصہ ہے اور جنگ کے وقت صورتیں بھی نہیں دکھاتے، بھاگتوں کے آگے اور لڑتوں کے پیچھے رہا کرتے ہیں۔ دونوں عیب جس میں جمع ہوں اس جیسا بےخیر انسان کون ہوگا ؟ امن کے وقت عیاری، بد خلقی، بد زبانی اور لڑائی کے وقت نامردی، روباہ بازی اور زنانہ پن۔ لڑائی کے وقت حائضہ عورتوں کی طرح الگ اور یکسو اور مال لینے کے وقت گدھوں کی طرح ڈھینچو ڈھینچو۔ اللہ فرماتا ہے، بات یہ ہے کہ ان کے دل شروع ہی سے ایمان سے خالی ہیں، اس لیے ان کے اعمال بھی اکارت ہیں۔ اللہ پر یہ آسان ہے۔“
Ayah 33:20يَحْسَبُوْنَ الْاَحْزَابَ لَمْ يَذْهَبُوْا۔۔ : ”بَادُوْنَ“ ”بَدَا یَبْدَوْ“ سے اسم فاعل کی جمع ہے، یہاں مراد ”خَارِجُوْنَ إِلَی الْبَدْوِ“ ہے، یعنی بدویوں کی طرف نکلنے والے۔ ابن کثیر میں ہے : ”یعنی ان کی بزدلی اور ڈرپو کی کا یہ عالم ہے کہ اب تک انھیں اس بات کا یقین نہیں ہوا کہ لشکر کفار لوٹ گیا ہے، انھیں خطرہ ہے کہ وہ پھر کہیں نہ آپڑے۔ مشرکین کے لشکروں کو دیکھتے ہی ان کے چھکے چھوٹ جاتے ہیں اور کہتے ہیں، کاش کہ ہم مسلمانوں کے ساتھ اس شہر ہی میں نہ ہوتے، بلکہ گنواروں کے ساتھ کسی اجاڑ گاؤں یا کسی دور دراز کے جنگل میں ہوتے، کسی آتے جاتے سے پوچھ لیتے کہ کہو بھئی، لڑائی کا کیا حشر ہوا ؟ اللہ فرماتا ہے کہ یہ اگر تمہارے ساتھ بھی ہوں تو بےکار ہے۔ ان کے دل مردہ ہیں، نامردی کے گھن نے انھیں کھوکھلا کر رکھا ہے۔ یہ کیا لڑیں گے اور کون سی بہادری دکھائیں گے ؟“
Ayah 33:21لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ۔۔ :”اُسْوَةٌ“ اور ”قُدْوَۃٌ“ جس کی پیروی کی جائے، نمونہ۔ اس میں لڑائی سے پیچھے رہنے والوں پر عتاب ہے، یعنی تمہارا فرض تھا کہ جس طرح اللہ کے رسول ﷺ اس موقع پر جان لڑا رہے تھے اور تمام تکلیفوں اور مشقتوں کا مردانہ وار مقابلہ کر رہے تھے، تم بھی جان لڑاتے۔ ایسا تو نہیں تھا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے تمہیں تو خطرے میں جھونک دیا ہو اور خود کسی پناہ میں آرام کرنے بیٹھ گئے ہوں ! اگر وہ ایسا کرتے تو تمہارے لیے وجہ جواز ہوسکتی تھی، مگر وہ تو ہر کام میں پیش پیش تھے۔ خندق کھودنے میں، کدال چلانے میں، مٹی ڈھونے میں، بلکہ صحابہ کے ساتھ جنگی ترانے پڑھنے میں، بھوکے اور بیدار رہنے میں، پوری جنگ میں بہ نفس نفیس محاذ پر رہنے میں سب کے ساتھ، بلکہ آگے آگے تھے۔ ”کَان“ کا لفط استمرار کے لیے ہے، یعنی اس سے بھی پہلے مکہ اور طائف میں کفار کی طرف سے آنے والی تکلیفیں برداشت کرنے میں، ہجرت کے پرخطر سفر میں، احد میں پیش آنے والے زخم اور صدمے اٹھانے میں، غرض پوری زندگی میں ہر مشکل مرحلے پر وہ سب سے آگے اور تمہارے لیے نمونہ تھے۔ پھر تمہارا بزدلی دکھانا اور کسی کام سے بچنے کی فکر کرنا کسی بھی لحاظ سے معقول قرار نہیں دیا جاسکتا۔
3 یہ آیت گو جہاد کے بارے میں نازل ہوئی، مگر اس کے لفظ عام ہیں، اس لیے یہ ہر موقع اور محل کے لیے عام ہے۔ رسول اللہ ﷺ اپنے تمام اقوال، افعال اور احوال میں مسلمانوں کے لیے بہترین نمونہ ہیں، جن پر انھیں چلنا لازم ہے اور ان کے لیے جائز نہیں کہ اپنی انفرادی یا اجتماعی زندگی کے کسی معاملہ میں آپ ﷺ کی پیروی سے گریز کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ ۭوَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْم) [ آل عمران : 31 ] ”کہہ دے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہیں تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بیحد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔“ اور دیکھیے سورة اعراف کی آیات (156 تا 158) اور سورة حشر (7)۔
اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ : اُسوہ (نمونہ) دو طرح کا ہے، ایک اسوۂ حسنہ (اچھا نمونہ) اور دوسرا اسوۂ سیۂ (برا نمونہ)۔ اسوۂ حسنہ تو رسول اللہ ﷺ ہیں، کیونکہ آپ کی پیروی کرنے والا صراط مستقیم پر چل کر عزت و نعمت کی جنت تک پہنچ جائے گا۔ آپ ﷺ کے خلاف جو بھی ہے وہ اسوۂ سیۂ ہے، جیسا کہ کفار کو جب رسولوں نے اپنی پیروی کا حکم دیا تو انھوں نے کہا : (اِنَّا وَجَدْنَآ اٰبَاۗءَنَا عَلٰٓي اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰٓي اٰثٰرِهِمْ مُّهْتَدُوْنَ) [ الزخرف : 22 ]”بیشک ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راستے پر پایا ہے اور بیشک ہم انھی کے قدموں کے نشانوں پر راہ پانے والے ہیں۔“
لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللّٰهَ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ۔۔ : اس اسوۂ حسنہ پر وہی لوگ چلتے ہیں اور انھی کو اس کی توفیق ملتی ہے جن میں تین وصف ہوں، ایک اللہ پر ایمان، اس سے ملاقات اور اس کے دیدار کی امید، دوسرا آخرت پر ایمان اور اس کے ثواب کی امید اور تیسرا کثرت سے اللہ کو یاد کرنا۔ ان لوگوں کو یہ تینوں چیزیں رسول کی پیروی کے لیے ہر وقت آمادہ اور مستعد رکھتی ہیں، بخلاف کافر اور منافق کے جس کا نہ اللہ پر ایمان ہے، نہ آخرت پر اور نہ کبھی اس نے اپنے مالک کو یاد کیا، تو ان لوگوں کے سامنے دنیا کی زندگی اور اس کی لذتوں کے سوا کچھ ہے ہی نہیں، اس لیے وہ رسول کو نمونہ بنانے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوتے۔
Ayah 33:22وَلَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ۔۔ : کفار کے لشکروں کی کثرت تعداد، محاصرے کی سختی، سردی اور بھوک کی شدت اور بنو قریظہ کی عہد شکنی کی وجہ سے جب حالات نہایت سنگین ہوگئے تو اس وقت منافقوں کا اور شکوک و شبہات کے مریض مسلمانوں کا حال اوپر بیان ہوا کہ انھوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول کے وعدے محض فریب تھے، اب مخلص مومنوں کا حال بیان ہوتا ہے کہ انھوں نے ان سختیوں کو دیکھ کر کہا کہ یہ تو آزمائش، تنگی اور تکلیف کے وہی مرحلے ہیں جن کے آنے کی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے پہلے ہی خبر دے رکھی ہے اور جن پر صبر کے بعد اس کی نصرت کا وعدہ ہے، جیسا کہ فرمایا : اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ ۭ مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَاۗءُ وَالضَّرَّاۗءُ وَزُلْزِلُوْا حَتّٰى يَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ ۭ اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ) [ البقرۃ : 214 ] ”یا تم نے گمان کر رکھا ہے کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے، حالانکہ ابھی تک تم پر ان لوگوں جیسی حالت نہیں آئی جو تم سے پہلے تھے، انھیں تنگی اور تکلیف پہنچی اور وہ سخت ہلائے گئے، یہاں تک کہ وہ رسول اور جو لوگ اس کے ساتھ ایمان لائے تھے، کہہ اٹھے اللہ کی مدد کب ہوگی ؟ سن لو ! بیشک اللہ کی مدد قریب ہے۔“
وَصَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ : یعنی اللہ اور اس کے رسول نے آزمائش کا جو وعدہ کیا تھا وہ سچا تھا اور اس پر صبر کے بعد مسلمانوں کی فتح و نصرت اور کفار کی شکست کا وعدہ بھی سچا تھا، جو سورة بقرہ (214) میں ”اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ“ کے الفاظ کے ساتھ کیا گیا اور اس سے پہلے مکہ میں نازل ہونے والی سورة قمر (45) میں ”سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ“ کے الفاظ کے ساتھ کیا گیا تھا۔
وَمَا زَادَهُمْ اِلَّآ اِيْمَانًا وَّتَسْلِيْمًا : یعنی وہ پہلے سے بھی زیادہ ایمان میں پختہ اور رسول اللہ ﷺ کے احکام ماننے والے بن گئے۔ یہ آیت دلیل ہے کہ آدمی کے ایمان میں زیادتی اور کمی ہوتی ہے۔ امام بخاری ؓ نے صحیح بخاری میں آٹھ آیات اور متعدد احادیث سے یہ بات مدلل فرمائی ہے۔ ان لوگوں پر تعجب ہوتا ہے جو صریح آیات و احادیث کے باوجود مصر ہیں کہ ایمان میں نہ کمی ہوتی ہے، نہ زیادتی۔
Ayah 33:23ۭمِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ : پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کا دعویٰ کرنے والے کچھ لوگوں کا ذکر فرمایا، جنھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا معاہدہ توڑ دیا اور بزدلی اور نامردی سے میدان سے بھاگ گئے، جیسا کہ فرمایا : (وَلَقَدْ كَانُوْا عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ لَا يُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَ ۭ وَكَانَ عَهْدُ اللّٰهِ مَسْـُٔــوْلًا) [ الأحزاب : 15 ] ”حالانکہ بلاشبہ یقیناً اس سے پہلے انھوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ نہ پھیریں گے اور اللہ کا عہد ہمیشہ پوچھا جانے والا ہے۔“ اب ان لوگوں پر چوٹ کے لیے ان ایمان والوں کا ذکر ہوتا ہے جو فی الواقع مرد تھے اور جنھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا معاہدہ پورا کردیا۔ اس آیت میں ان تمام مخلص مسلمانوں کی تعریف ہے جو اپنی جان و مال کی پروا نہ کرتے ہوئے اتنے مشکل حالات اور اتنے کثیر دشمن کے مقابلے میں ثابت قدم رہے۔ ان میں سب سے آگے ابوبکر صدیق ؓ ہیں جو کسی جنگ اور کسی موقع میں رسول اللہ ﷺ سے پیچھے نہیں رہے اور جنھوں نے اپنا جان و مال سب کچھ رسول اللہ ﷺ پر قربان کردیا تھا، پھر عمر، عثمان، علی اور درجہ بدرجہ دوسرے صحابہ کرام ؓ ہیں۔ اس معاہدے سے مراد وہ معاہدہ ہے جو ایمان لانے کے ساتھ ہی مومن کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ خود بخود ہوجاتا ہے، اس کا ذکر اس آیت میں ہے : (اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰي مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّةَ ۭ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَيَقْتُلُوْنَ وَيُقْتَلُوْنَ ۣ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْلِ وَالْقُرْاٰنِ وَمَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ مِنَ اللّٰهِ فَاسْـتَبْشِرُوْا بِبَيْعِكُمُ الَّذِيْ بَايَعْتُمْ بِهٖ ۭ وَذٰلِكَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ) [ التوبۃ : 111 ] ”بیشک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے اموال خرید لیے ہیں، اس کے بدلے کہ ان کے لیے جنت ہے، وہ اللہ کے راستے میں لڑتے ہیں، پس قتل کرتے ہیں اور قتل کیے جاتے ہیں، یہ تورات اور انجیل اور قرآن میں اس کے ذمے پکا وعدہ ہے اور اللہ سے زیادہ اپنا وعدہ پورا کرنے والا کون ہے ؟ تو اپنے اس سودے پر خوب خوش ہوجاؤ جو تم نے اس سے کیا ہے اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔“
فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ۔۔ : ”نَحْبٌ“ کا معنی عہد، نذر اور موت ہے، یہاں ”نَحْبٌ“ سے مراد ایسا عہد ہے جو نذر کی طرح موت تک کے لیے ہوتا ہے۔ یعنی پھر ان میں سے کچھ وہ ہیں جنھوں نے شہادت پا کر وہ نذر پوری کردی کہ مرتے دم تک رسول اللہ ﷺ کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے اور کچھ اس انتظار میں ہیں اور انھوں نے اپنے عہد میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی۔ اس آیت کی تفسیر میں صحابہ کرام ؓ نے جنگ خندق سے پہلے جنگ بدر اور احد میں شہید ہونے والے صحابہ کرام ؓ کو بھی اس آیت کا مصداق قرار دیا ہے، مثلاً حمزہ، مصعب بن عمیر، عبداللہ بن جحش، سعد بن ربیع اور انس بن نضر ؓ وغیرہ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں : ”میرے چچا (انس بن نضر ؓ جن کے نام پر میرا نام رکھا گیا، وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بدر کی لڑائی میں شریک نہ ہو سکے تو یہ بات ان پر شاق گزری۔ انھوں نے کہا : ”پہلی لڑائی جس میں رسول اللہ ﷺ شریک ہوئے، میں اس سے غائب رہا، اب اگر اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کسی جنگ میں شریک ہونے کا موقع دیا تو اللہ تعالیٰ دیکھے گا کہ میں کیا کرتا ہوں۔“ اس کے سوا وہ کچھ کہنے سے ڈرے، پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ احد کی لڑائی میں شریک ہوئے تو سعد بن معاذ ؓ ان کے سامنے آئے۔ انس ؓ نے ان سے کہا : ”ابو عمرو ! کہاں جا رہے ہو ؟“ پھر کہنے لگے : ”واہ واہ ! مجھے تو احد کی طرف سے جنت کی خوشبو آرہی ہے۔“ پھر وہ لڑے یہاں تک کہ قتل ہوگئے۔ (لڑائی کے بعد دیکھا گیا) تو ان کے بدن پر اسی (80) سے زائد تلوار، نیزے اور تیر کے زخم تھے۔ ان کی بہن اور میری پھوپھی ربیّع بنت نضر ؓ نے کہا : ”میں نے اپنے بھائی کو نہیں پہچانا مگر ان کی انگلیوں کی پوریں دیکھ کر۔“ اور یہ آیت نازل ہوئی : (مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّنْتَظِرُ ڮ وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِيْلًا) [ الأحزاب : 23 ] انس ؓ کہتے ہیں : ”صحابہ ؓ سمجھتے تھے کہ یہ آیت ان کے اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔“ [ مسلم، الإمارۃ، باب ثبوت الجنۃ للشہید : 1903 ] معاویہ ؓ نے فرمایا، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا : (طَلْحَۃُ مِمَّنْ قَضَی نَحْبَہُ) [ ترمذي، التفسیر، باب و من سورة الأحزاب : 3202 ] ”طلحہ (t) ان لوگوں میں سے ہے جو اپنی نذر پوری کرچکے۔“ گویا نبی ﷺ نے ان کی زندگی ہی میں انھیں شہید قرار دے دیا۔ قیس بن حازم ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے طلحہ ؓ کا ہاتھ دیکھا کہ وہ شل تھا، جس کے ساتھ انھوں نے احد کے دن نبی ﷺ کا دفاع کیا تھا۔ [ بخاري، فضائل أصحاب النبي ﷺ ، باب ذکر طلحۃ بن عبید اللہ : 3724 ]
وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّنْتَظِرُ : اس سے مراد وہ صحابہ کرام ؓ ہیں جو منتظر تھے کہ کب کوئی موقع ملتا ہے جس میں وہ جان کی قربانی پیش کر کے اللہ تعالیٰ سے اپنا کیا ہوا عہد پورا کریں۔ ان کا ذکر خاص طور پر اس لیے فرمایا کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ عہد کے سچے صرف وہی ہیں جو شہید ہوچکے، بلکہ ”إِحْدَی الْحُسْنَیَیْنِ“ (فتح یا شہادت) کا ہر طالب اس کا مصداق ہے۔
وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِيْلًا : منافقین نے تو اپنا عہد بدل ڈالا، لیکن یہ سچے مومن اپنے عہد پر پوری طرح قائم رہے۔
Ayah 33:24لِّيَجْزِيَ اللّٰهُ الصّٰدِقِيْنَ بِصِدْقِهِمْ : جنگ احزاب کے متعلق اللہ تعالیٰ نے جو کچھ بیان فرمایا، مثلاً مشرکین کے لشکروں کی آمد، مدینہ کا محاصرہ، مسلمانوں پر شدید خوف کا طاری ہونا، منافقوں کے طعنے اور بزدلی کی باتیں، صحابہ کرام ؓ کی ثابت قدمی اور قربانی، رسول اللہ ﷺ کا بےمثال کردار۔ اب ان سب باتوں کی حکمت بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ چاہتا تو مسلمانوں کو ان پریشانیوں کے بغیر ہی نعمتوں سے نواز دیتا، مگر اس نے یہ سب کچھ اس لیے کیا کہ وہ چاہتا تھا کہ ایمان کا دعویٰ کرنے والوں کا امتحان لے اور جو لوگ اپنے امتحان میں سچے اور پکے ثابت ہوں انھیں ان کی سچائی کا بدلا دے اور یہی اللہ تعالیٰ کی سنت ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِيْنَ مِنْكُمْ وَالصّٰبِرِيْنَ ۙ وَنَبْلُوَا۟ اَخْبَارَكُمْ) [ محمد : 31 ] ”اور ہم ضرور ہی تمہیں آزمائیں گے، یہاں تک کہ تم میں سے جہاد کرنے والوں کو اور صبر کرنے والوں کو جان لیں اور تمہارے حالات جانچ لیں۔“ اور فرمایا : (مَا كَان اللّٰهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِيْنَ عَلٰي مَآ اَنْتُمْ عَلَيْهِ حَتّٰى يَمِيْزَ الْخَبِيْثَ مِنَ الطَّيِّبِ ۭ) [ آل عمران : 179 ] ”اللہ کبھی ایسا نہیں کہ ایمان والوں کو اس حال پر چھوڑ دے جس پر تم ہو، یہاں تک کہ ناپاک کو پاک سے جدا کر دے۔“
وَيُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِيْنَ اِنْ شَاۗءَ : اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو منافقین کو عذاب دے، چاہے تو نہ دے، کیونکہ کفر پر مرنے والوں کے لیے عذاب تو وہ خود طے کرچکا ہے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ چاہے تو عہد توڑنے والے منافقین کو موت سے پہلے توبہ کی توفیق نہ دے اور انھیں ان کے نفاق کی سزا دے اور چاہے تو توبہ کی توفیق دے کر ان کی توبہ قبول فرمائے۔ دلیل اس کی ”اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْهِمْ“ کے الفاظ ہیں۔
اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا : یہ اس سوال کا جواب ہے کہ منافق جو آگ کے درک اسفل کے حق دار بن چکے، وہ توبہ کیسے کریں گے ؟ فرمایا، اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے بیحد مغفرت والا، یعنی گناہوں پر پردہ ڈالنے والا اور نہایت رحم والا ہے۔ وہ جس پر چاہے مہربان ہو کر اس کے گناہوں پر پردہ ڈال دے، پھر اپنی مزید رحمت کے ساتھ نواز دے۔ اس میں عہد توڑنے والے منافقین کے لیے توبہ کی ترغیب اور ان کی توبہ کی قبولیت کی بشارت ہے۔
Ayah 33:25وَرَدَّ اللّٰهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِغَيْظِهِمْ لَمْ يَنَالُوْا خَيْرًا : ان آیات میں غزوۂ احزاب کا انجام بیان فرمایا کہ کفار اسلام اور مسلمانوں کا نام و نشان مٹا دینے کے جس ارادے سے آئے تھے اس میں انھیں کوئی کامیابی نہ ہوئی، نہ مسلمانوں کو مٹا سکے، نہ مدینہ فتح ہوا اور نہ مال غنیمت یا اسیر حاصل کرسکے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں دل کی جلن اور غصے سے بھرے ہونے کی حالت میں کوئی بھی فائدہ حاصل کیے بغیر واپس لوٹا دیا۔
وَكَفَى اللّٰهُ الْمُؤْمِنِيْنَ الْقِتَالَ : یعنی مسلمانوں کو لڑنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔ اللہ تعالیٰ نے لڑائی اپنے ذمے لے لی اور آندھی اور فرشتوں کے لشکروں کے ساتھ کفار کے لشکروں کو مار بھگایا۔ اس کی تفصیل اسی سورت کی آیت (9) کی تفسیر میں ملاحظہ کریں۔
وَكَان اللّٰهُ قَوِيًّا عَزِيْزًا : چونکہ اتنی تعداد اور تیاری کے باوجود کفار کا بھاگ جانا عقل سے بعید اور نہایت حیران کن واقعہ تھا، اس لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے بیحد قوت والا، سب پر غالب ہے، اس کے لیے یہ کچھ مشکل نہیں۔
Ayah 33:26وَاَنْزَلَ الَّذِيْنَ ظَاهَرُوْهُمْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ صَيَاصِيْهِمْ : ”صَیَاصِيْ“ ”صِیْصِیَۃٌ“ کی جمع ہے۔ جولا ہے کا تانے اور بانے کے دھاگوں کو سیدھا کرنے والا آلہ، مُرغ کا کانٹا جو اس کی ٹانگ کے ایک طرف نکلا ہوتا ہے، گائے اور ہرن وغیرہ کا سینگ، قلعہ اور ہر وہ چیز جس کے ساتھ کوئی اپنا دفاع اور حفاظت کرتا ہے۔ (قاموس) قریش، بنو غطفان اور ان کے ساتھ آنے والوں کے واپس جانے کے ساتھ ہی معرکۂ احزاب ختم ہوگیا، مگر بنو قریظہ کے ساتھ معرکہ ختم نہیں ہوا، جنھوں نے اس موقع پر رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے ساتھ کیا ہوا معاہدہ توڑ ڈالا تھا۔ جس میں یہ عہد کیا گیا تھا کہ باہر سے آنے والے حملہ آور کے مقابلے میں مسلمان اور یہودی ایک دوسرے کی مدد کریں گے، لیکن یہودیوں نے یہ عہد توڑ ڈالا اور قریش اور اتحادی لشکروں کے ساتھ اس بات پر اتفاق کرلیا کہ وہ مسلمانوں کے پیچھے سے مدینہ پر حملہ آور ہوں گے۔ جب رسول اللہ ﷺ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے سعد بن معاذ، سعد بن عبادہ اور ایک اور انصاری صحابی ؓ کو اس بات کی تحقیق کے لیے بھیجا اور فرمایا : ”اگر وہ صلح پر قائم ہوں تو سب کے سامنے بیان کردینا اور اگر معاملہ اس کے برعکس ہو تو اشارے سے سمجھا دینا۔“ وہ ان کے پاس گئے تو دیکھا کہ انھوں نے معاہدہ بری طرح توڑ ڈالا ہے۔ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کے متعلق بھی نازیبا الفاظ کہے اور کہنے لگے : ”محمد کون ہے ؟ ہمارے اور محمد کے درمیان کوئی عہد ہے نہ پیمان۔“ سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ ؓ نے آ کر رسول اللہ ﷺ کو اشارے سے حقیقت حال سے آگاہ کیا۔ بنو قریظہ کے ارادے نہایت خطرناک تھے، مگر اللہ تعالیٰ نے انھیں ناکام و نامراد کردیا۔ قریش اور ان کے درمیان بےاعتمادی پیدا ہوگئی اور ان کے قریش کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف لڑنے کی نوبت نہیں آئی۔ آخر وہ قلعوں میں بند ہو کر مقابلے پر آمادہ ہوگئے۔
وَقَذَفَ فِيْ قُلُوْبِهِمُ : جب رسول اللہ ﷺ خندق سے فارغ ہو کر مدینہ واپس آئے تو ہتھیار اتار کر ابھی غسل ہی کیا تھا کہ جبریل ؑ آئے اور کہنے لگے : ”آپ نے ہتھیار رکھ دیے، مگر ہم فرشتوں نے ابھی ہتھیار نہیں رکھے، بنوقریظہ کی طرف چلیں۔“ چناچہ آپ ﷺ نے فرمایا : (لَا یُصَلِّیَنَّ أَحَدٌ الْعَصْرَ إِلاَّ فِيْ بَنِيْ قُرَیْظَۃَ) [ بخاري، المغازي، باب مرجع النبي ﷺ من الأحزاب۔۔ : 4119، 4117 ] ”کوئی شخص عصر کی نماز نہ پڑھے، مگر بنو قریظہ کے پاس جا کر۔“ چناچہ آپ نے جا کر بنو قریظہ کا محاصرہ کرلیا۔ یہ محاصرہ ایک ماہ کے قریب جاری رہا، حتیٰ کہ وہ مقابلے سے عاجز آگئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا، آخر کار وہ اپنے آپ کو مسلمانوں کے حوالے کرنے پر آمادہ ہوگئے، اس شرط پر کہ ان کے بارے میں سعدبن معاذ ؓ جو فیصلہ کریں انھیں قبول ہوگا۔ سعد بن معاذ ؓ کو خندق کے دوران بازو کی رگ میں تیر لگا تھا، جس کے نتیجے میں آخر کار وہ شہید بھی ہوگئے۔ ان کے سامنے یہ بات بھی تھی کہ اگر بنو قریظہ قریش کے ساتھ بنائے ہوئے منصوبے کے مطابق کامیاب ہوجاتے تو مسلمانوں کا نام و نشان مٹا دیتے، یہ تو اللہ تعالیٰ کا خاص فضل تھا کہ اس نے مسلمانوں کو محفوظ رکھا۔
فَرِيْقًا تَقْتُلُوْنَ وَتَاْسِرُوْنَ فَرِيْقًا : ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ اہل قریظہ سعد بن معاذ ؓ کے فیصلے پر اتر آئے تو رسول اللہ ﷺ نے سعد کی طرف پیغام بھیجا۔ وہ ایک گدھے پر سوار ہو کر آئے، جب مسجد کے قریب آئے تو آپ ﷺ نے انصار سے فرمایا : (قُوْمُوْا إِلٰی سَیِّدِکُمْ أَوْ خَیْرِکُمْ) ”اپنے سردار یا (فرمایا) اپنے بہترین آدمی کی طرف اٹھو۔“ پھر آپ نے فرمایا : (ھٰؤُلَاءِ نَزَلُوْا عَلٰی حُکْمِکَ) ”یہ لوگ تیرے فیصلے پر اترے ہیں۔“ سعد ؓ نے کہا : (تُقْتَلُ مُقَاتِلَتَہُمْ وَ تُسْبٰی ذَرَارِیُّہُمْ) ”ان کے لڑائی کے قابل مرد قتل کردیے جائیں اور ان کی عورتوں اور بچوں کو لونڈی و غلام بنا لیا جائے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا : (قَضَیْتَ بِحُکْمِ اللّٰہِ وَرُبَّمَا قَالَ بِحُکْمِ الْمَلِکِ) ”تو نے اللہ کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔“ یا یہ فرمایا : ”بادشاہ کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کیا۔“ [ بخاري، المغازي، باب مرجع النبي ﷺ من الأحزاب۔۔ : 4121 ] بنو قریظہ کے عطیہ قرظی ؓ بیان کرتے ہیں : ”میں بنو قریظہ کے قیدیوں میں سے تھا، مسلمان دیکھتے تھے جس کے (زیر ناف) بال اگے ہوتے اسے قتل کردیتے اور جس کے نہ اگے ہوتے اسے قتل نہ کرتے، چناچہ میں ان میں سے تھا جن کے بال نہیں اگے تھے۔“ [ أبوداوٗد، الحدود، باب في الغلام یصیب الحد : 4404 ]
Ayah 33:27وَاَوْرَثَكُمْ اَرْضَهُمْ وَدِيَارَهُمْ وَاَمْوَالَهُمْ : غزوۂ بنو قریظہ میں ان کے مردوں کو قتل کرنے اور ان کی عورتوں اور بچوں کو لونڈی و غلام بنانے کے علاوہ ان کے کھیت، باغات، مکانات، قلعے، مویشی، ہتھیار اور درہم و دینار وغیرہ سب مسلمانوں کی ملکیت میں آگئے، جو خمس نکال کر مسلمانوں میں تقسیم کردیے گئے۔
وَاَرْضًا لَّمْ تَـــطَـــــُٔـوْهَا : ”وَطِئَ یَطَأُ وَطْأً“ ”اَلشَّيْءَ بِرِجْلِہِ“ کسی چیز کو پاؤں سے روندنا۔ یعنی اس زمین کا بھی مالک بنادیا جس پر تم نے قدم نہیں رکھا تھا۔ مراد اس سے بنو قریظہ کی زمین ہی ہے، یعنی ان کی وہ زمین جہاں ان کی قوت و شوکت کی وجہ سے تم قدم تک نہ رکھ سکتے تھے، اللہ تعالیٰ نے تمہاری میراث بنادی۔ بعض مفسرین نے اس سے بنو قریظہ کے بعد فتح ہونے والے علاقے، مثلاً خیبر، پھر مکہ، حنین، تبوک، فارس، روم، غرض قیامت تک مسلمانوں کی ملکیت میں آنے والے تمام علاقے مراد لیے ہیں۔ مگر اس صورت میں ”وَاَوْرَثَكُمْ اَرْضَهُمْ وَدِيَارَهُمْ وَاَمْوَالَهُمْ“ کے بعد ”وَیُوَرِّثُکُمْ أَرْضًا لَمْ تَطَءُوْھَا“ ہونا چاہیے تھا، یعنی یہ کہنا چاہیے تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں بنو قریظہ کی زمین، ان کے گھروں اور ان کے اموال کا وارث بنادیا اور وہ تمہیں ایسی زمین کا وارث بھی بنائے گا جس پر تم نے قدم نہیں رکھا۔ اگرچہ اس کا جواب دیا گیا ہے کہ قرآن میں آئندہ ہونے والے واقعات کو یقینی ہونے کی وجہ سے ماضی کے صیغے کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، مگر ایک ہی ماضی کے صیغے ”وَاَوْرَثَكُمْ“ کے ساتھ ماضی اور مستقبل دونوں مراد لینا بہرحال قابل غور ہے۔
وَكَان اللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرًا : یعنی یہ سب کچھ تمہاری بہادری یا مہارت کی وجہ سے نہیں ہوا، بلکہ محض اللہ کی مدد سے ہوا اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر ہمیشہ سے پوری طرح قادر ہے، اس کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں۔
Ayah 33:28ۧيٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ۔۔ : نبی کریم ﷺ ہمیشہ دنیا پر آخرت کو ترجیح دیتے اور مال غنیمت میں سے خمس کا اختیار رکھنے کے باوجود سب کچھ ضرورت مندوں پر خرچ کردیتے۔ نتیجہ اس کا گھر میں تنگی و ترشی کے ساتھ گزارا تھا۔ عائشہ ؓ فرماتی ہیں : (مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِیْنَۃَ مِنْ طَعَامِ بُرٍّ ثَلَاثَ لَیَالٍ تِبَاعًا حَتّٰی قُبِضَ) [ بخاري، الرقاق، باب کیف کان عیش النبي ﷺ و أصحابہ۔۔ : 6454 ] ”محمد ﷺ کے گھر والوں نے، جب سے آپ مدینہ میں آئے، تین دن پے در پے گندم کا کھانا سیر ہو کر نہیں کھایا، یہاں تک کہ آپ فوت ہوگئے۔“ عائشہ ؓ ہی نے بیان فرمایا : (مَا أَکَلَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ أَکْلَتَیْنِ فِيْ یَوْمٍ إِلَّا إِحْدَاھُمَا تَمْرٌ) [ بخاري، الرقاق، کیف کان عیش النبي ﷺ۔۔ : 6455 ] ”محمد ﷺ کے گھر والوں نے کسی دن دو دفعہ کھانا نہیں کھایا، مگر ان میں سے ایک دفعہ صرف کھجور ہوتی تھی۔“ عائشہ ؓ نے اپنے بھانجے عروہ سے فرمایا : (ابْنَ أُخْتِيْ ! إِنْ کُنَّا لَنَنْظُرُ إِلَی الْہِلاَلِ ثَلاَثَۃَ أَہِلَّۃٍ فِيْ شَہْرَیْنِ ، وَمَا أُوْقِدَتْ فِيْ أَبْیَاتِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ نَارٌ فَقُلْتُ مَا کَانَ یُعِیْشُکُمْ ؟ قَالَتِ الْأَسْوَدَان التَّمْرُ وَ الْمَاءُ إِلاَّ أَنَّہُ قَدْ کَانَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ جِیْرَانٌ مِنَ الْأَنْصَارِ کَانَ لَہُمْ مَنَاءِحُ ، وَکَانُوْا یَمْنَحُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ مِنْ أَبْیَاتِہِمْ ، فَیَسْقِیْنَاہُ) [ بخاري، الرقاق، باب کیف کان عیش النبي ﷺ۔۔ : 6459 ] ”بھانجے ! ہم چاند دیکھتے تھے، دو مہینوں میں تین چاند، اس حال میں کہ رسول اللہ ﷺ کے گھروں میں آگ نہیں جلی ہوتی تھی۔“ میں نے کہا : ”پھر تمہیں کیا چیز زندہ رکھتی تھی ؟“ کہا : ”دو سیاہ چیزیں، کھجور اور پانی، مگر رسول اللہ ﷺ کے انصار میں سے کچھ پڑوسی تھے جن کے پا س دودھ والے جانور تھے اور وہ اپنے گھروں سے (کچھ دودھ) رسول اللہ ﷺ کو بطور تحفہ دے دیا کرتے تھے اور آپ ہمیں وہ پلا دیتے۔“
ابن عباس ؓ فرماتے ہیں : (کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ یَبِیْتُ اللَّیَالِيَ الْمُتَتَابِعَۃَ طَاوِیًا وَ أَھْلُہُ لَا یَجِدُوْنَ عَشَاءً) [ ترمذي، الزھد، باب ما جاء في معیشۃ النبي ﷺ و أھلہ : 2360، وقال الألبانی حسن ] ”رسول اللہ ﷺ کئی راتیں خالی پیٹ گزار دیتے اور آپ ﷺ کے گھر والوں کو شام کا کھانا نہیں ملتا تھا۔“ عائشہ ؓ نے آپ ﷺ کے بستر کے متعلق بتایا : (کَانَ فِرَاشُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ مِنْ أَدَمٍ ، وَحَشْوُہُ مِنْ لِیْفٍ) [ بخاري، الرقاق، باب کیف کان عیش النبي ﷺ۔۔ : 6456 ] ”رسول اللہ ﷺ کا بستر چمڑے کا تھا، جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔“ لطف یہ کہ رسول اللہ ﷺ اس حال پر خوش تھے اور آپ نے اسے اللہ تعالیٰ سے مانگ کرلیا تھا۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوْتًا) [ مسلم، الزکاۃ، باب في الکفاف و القناعۃ : 1055 ] ”اے اللہ ! آل محمد کا رزق گزارے کے برابر کر دے۔“
انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اَللّٰہُمَّ أَحْیِنِيْ مِسْکِیْنًا وَ أَمِتْنِيْ مِسْکِیْنًا وَاحْشُرْنِيْ فِيْ زُمْرَۃِ الْمَسَاکِیْنِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ، فَقَالَتْ عَاءِشَۃُ لِمَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! ؟ قَالَ إِنَّھُمْ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ قَبْلَ أَغْنِیَاءِھِمْ بِأَرْبَعِیْنَ خَرِیْفًا) [ ترمذي، الزھد، باب ما جاء أن فقراء المھاجرین۔۔ : 2352 ] ”اے اللہ ! مجھے مسکین ہونے کی حالت میں زندہ رکھنا، مسکین ہونے کی حالت میں موت دے اور مسکینوں کی جماعت سے اٹھا۔“ عائشہ ؓ نے پوچھا : ”یا رسول اللہ ! یہ کیوں ؟“ آپ نے فرمایا : ”وہ جنت میں اپنے اغنیاء سے چالیس (40) سال پہلے جائیں گے۔“ ظاہر ہے زندگی کا یہ معیار نہایت صبر آزما اور مشکل ہے، اس معیار زندگی میں آپ کے ساتھ ازواج مطہرات بھی شریک تھیں۔
قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ : بنوقریظہ کے اموال اور دوسری فتوحات کے نتیجے میں جب مسلمانوں کی حالت کچھ بہتر ہوگئی تو انصار و مہاجرین کی عورتوں کو دیکھ کر آپ ﷺ کی بیویوں نے بھی نان و نفقہ میں اضافے کا مطالبہ کردیا۔ رسول اللہ ﷺ کسی صورت اپنی زہد و قناعت کی زندگی ترک کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ بیویوں کے اصرار پر آپ کو سخت رنج اور صدمہ ہوا اور آپ نے قسم کھالی کہ میں ایک ماہ تک تمہارے پاس نہیں آؤں گا۔ اسے ”ایلاء“ کہتے ہیں۔ (دیکھیے بقرہ : 226، 227) پھر آپ پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ ابوبکر ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہونے کی اجازت لینے کے لیے آئے تو دیکھا کہ لوگ آپ ﷺ کے دروازے پر بیٹھے ہیں، ان میں سے کسی کو اجازت نہیں ملی۔ خیر ابوبکر ؓ کو اجازت مل گئی، وہ اندر آگئے، پھر عمر ؓ اجازت کے لیے آئے، انھیں بھی اجازت مل گئی۔ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو پایا کہ آپ ﷺ بیٹھے ہیں اور آپ کے گرد آپ ﷺ کی بیویاں ہیں، آپ غمگین اور خاموش ہیں۔ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا : ”میں ضرور کوئی ایسی بات کروں گا جس سے رسول اللہ ﷺ کو ہنساؤں گا۔“ چناچہ وہ کہنے لگے : ”یا رسول اللہ ! کبھی آپ خارجہ کی بیٹی (میری بیوی) کو دیکھتے، اس نے مجھ سے خرچہ مانگا تو میں نے اٹھ کر اس کی گردن دبا دی۔“ رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے اور فرمانے لگے : ”یہ سب میرے اردگرد بیٹھی ہیں، جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو، یہ مجھ سے خرچہ مانگتی ہیں۔“ تو ابوبکر ؓ عائشہ ؓ کی گردن دبانے کے لیے کھڑے ہوگئے اور عمر ؓ حفصہ ؓ کی گردن دبانے کے لیے اٹھے۔ دونوں کہہ رہے تھے کہ تم رسول اللہ ﷺ سے وہ مانگتی ہو جو آپ کے پاس نہیں ہے۔ وہ دونوں کہنے لگیں : ”اللہ کی قسم ! ہم کبھی رسول اللہ ﷺ سے وہ چیز نہیں مانگیں گی جو آپ ﷺ کے پاس نہ ہو۔“ پھر آپ ﷺ ان سے ایک ماہ یا انتیس دن علیحدہ رہے، پھر آپ ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی : (یٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَهَا فَتَعَالَيْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَاُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيْلًا) [ الأحزاب : 28 ] [ مسلم، الطلاق، باب بیان أن تخییرہ امرأتہ۔۔ : 1475 ]
اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَهَا : صحیح بخاری میں عمر ؓ سے مروی ایک لمبی حدیث میں ہے کہ بیویوں سے ایک ماہ تک علیحدہ رہنے کی قسم کا ایک باعث حفصہ ؓ کا عائشہ ؓ کو رسول اللہ ﷺ کا راز بتانا بھی تھا، جس کا ذکر سورة تحریم میں ہے۔ اسی حدیث میں ہے کہ جب انتیس دن گزر گئے تو سب سے پہلے آپ ﷺ عائشہ ؓ کے پاس تشریف لائے۔ انھوں نے آپ سے کہا : ”آپ نے تو ہمارے ہاں ایک ماہ تک نہ آنے کی قسم کھائی تھی اور ابھی انتیس راتیں گزری ہیں، میں انھیں اچھی طرح گنتی رہی ہوں۔“ نبی ﷺ نے فرمایا : ”یہ مہینا انتیس دنوں کا ہے۔“ اور وہ مہینا تھا بھی انتیس دنوں کا۔ عائشہ ؓ نے کہا : ”پھر اللہ تعالیٰ نے اختیار دینے کی آیت نازل فرمائی تو سب بیویوں سے پہلے رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے پوچھا، فرمایا : ”میں تم سے ایک بات کہنے لگا ہوں، کوئی حرج نہیں کہ اس کے جواب میں جلدی نہ کرو اور اپنے ماں باپ سے مشورہ کرلو۔“ عائشہ ؓ نے کہا : ”میں خوب جانتی تھی کہ میرے ماں باپ مجھے آپ ﷺ سے جدا ہونے کی رائے کبھی نہیں دیں گے۔“ پھر آپ نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ۔۔ اجرا عظیما) [ الأحزاب : 28، 29 ] میں نے کہا : ”کیا میں اس کے متعلق اپنے ماں باپ سے مشورہ کروں گی ؟ میں تو اللہ اور اس کے رسول کو اور آخرت کے گھر کو چاہتی ہوں۔“ پھر آپ ﷺ نے اپنی باقی بیویوں کو بھی اختیار دیا، انھوں نے بھی وہی بات کہی جو عائشہ ؓ نے کہی تھی۔ [ بخاري، المظالم، باب الغرفۃ و العلیۃ۔۔ : 2468 ]
3 ابن کثیر نے عکرمہ کا قول نقل فرمایا ہے کہ اس وقت آپ کے نکاح میں نو (9) بیویاں تھیں، پانچ قریش سے تھیں : عائشہ، حفصہ، ام حبیبہ، سودہ اور ام سلمہ ؓ اور بنو نضیر سے صفیہ بنت حیی، بنو ہلال سے میمونہ بنت حارث، بنو اسد سے زینب بنت جحش اور بنو المصطلق سے جویریہ بنت الحارث ؓ۔
3 عائشہ ؓ فرماتی ہیں : ”ہمیں رسول اللہ ﷺ نے اختیار دیا، ہم نے اللہ اور اس کے رسول کو پسند کیا تو آپ ﷺ نے اسے ہم پر کچھ شمار نہیں کیا۔“ [ بخاري، الطلاق، باب من خیّر أزواجہ۔۔ : 5262 ] اس سے معلوم ہوا اختیار دینے کے بعد بیوی خاوند کے پاس رہنا پسند کرے تو اس سے کسی قسم کی طلاق واقع نہیں ہوتی۔
فَتَعَالَيْنَ اُمَتِّعْكُنَّ : ”تَعَالَیْنَ“ (آؤ) ”عَلَا یَعْلُوْ“ سے باب تفاعل میں سے جمع مؤنث امر حاضر کا صیغہ ہے۔ اصل اس کا یہ ہے کہ کوئی شخص اونچی جگہ کھڑا ہو کر کسی سے کہے اوپر آؤ، پھر کسی کو بھی بلانے کے لیے ”تَعَالَ“ (آؤ) استعمال ہونے لگا۔
اُمَتِّعْكُنَّ وَاُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيْلًا : آیت کا مطلب یہ ہے کہ اے نبی ! اپنی بیویوں سے کہہ دیجیے کہ اپنے لیے دو چیزوں میں سے ایک چیز پسند کرلو، پہلی یہ کہ اگر تم دنیا کی زندگی، اس کی زیب و زینت اور آرائش کو پسند کرتی ہو تو میرے ساتھ تمہارے رہنے کی کوئی صورت نہیں، پھر آؤ میں تمہیں کچھ سامان دے دیتا ہوں (جس کا طلاق دیتے وقت اپنی حیثیت کے مطابق دینے کا حکم ہے، جسے ”متعہ طلاق“ کہتے ہیں۔ دیکھیے سورة بقرہ : 236 تا 241) اور تمہیں اچھے طریقے سے چھوڑ دیتا ہوں، یعنی کوئی طعن و تشنیع کیے یا کوئی تکلیف دیے بغیر طلاق دے کر آزاد کردیتا ہوں۔ دوسری چیز کا ذکر اگلی آیت میں ہے۔
Ayah 33:29وَاِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ۔۔ : اور دوسری یہ کہ اگر تم اللہ کی رضا اور اس کے رسول کی رضا اور آخرت کے گھر کی طلب گار ہو اور اس کے لیے تنگی ترشی کی زندگی پر صبر کرسکتی ہو تو تم میں سے نیکی کرنے والیوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔
لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْكُنَّ : شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں : ”یہ جو فرمایا ”لِلْمُحْسِنٰتِ“ (جو نیکی پر رہیں) تو آپ ﷺ کی ازواج سب نیک ہی رہیں، مگر حق تعالیٰ صاف خوش خبری کسی کو نہیں دیتا، تاکہ نڈر نہ ہوجائے، خاتمہ کا ڈر لگا رہے۔“
اَجْرًا عَظِيْمًا : مفسر آلوسی نے فرمایا : ”جب ازواج مطہرات کو اختیار دیا گیا اور انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کو اور دار آخرت کو پسند کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے اس پر ان کی تعریف فرمائی اور فرمایا : (لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاۗءُ مِنْۢ بَعْدُ وَلَآ اَنْ تَــبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّلَوْ اَعْجَـبَكَ حُسْنُهُنَّ) [ الأحزاب : 52 ] ”تیرے لیے اس کے بعد عورتیں حلال نہیں اور نہ یہ کہ تو ان کے بدلے کوئی اور بیویاں کرلے، اگرچہ ان کا حسن تجھے اچھا لگے۔“ (روح المعانی) ان بیویوں سے مراد وہ نو بیویاں ہیں جن کا ذکر اوپر ہوا۔ اس سے بڑا اجر کیا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری اور عمل صالح کی صورت میں دوہرے اجر کی بشارت دی، پھر اس کے صلے میں انھیں زندگی بھر نبی ﷺ کی زوجیت کا شرف حاصل رہا اور جنت میں بھی وہ آپ کے ساتھ ہوں گی۔ [ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْھُنَّ وَ أَرْضَاھُنَّ ]
Ayah 33:30يٰنِسَاۗءَ النَّبِيِّ مَنْ يَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ۔۔ : قاموس میں ہے : ”اَلْفَاحِشَۃُ الزِّنَا وَمَا یَشْتَدُّ قَبْحُہُ مِنَ الذُّنُوْبِ وَ کُلُّ مَا نَھَی اللّٰہُ عَنْہُ“ یعنی ”فاحشہ کا معنی ہے زنا اور وہ گناہ جو سخت قبیح ہوں اور ہر وہ چیز جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔“ قرآن مجید میں ”اَلْفَاحِشَۃُ“ (خاص بےحیائی، معرف باللام) کا لفظ زنا کے لیے آیا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَالّٰتِيْ يَاْتِيْنَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِّسَاۗىِٕكُمْ فَاسْتَشْهِدُوْا عَلَيْهِنَّ اَرْبَعَةً مِّنْكُمْ ۚ) [ النساء : 15 ] ”اور تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کا ارتکاب کریں، ان پر اپنے میں سے چار مرد گواہ طلب کرو۔“ جبکہ ”فَاحِشَۃٌ“ (نکرہ) سے مراد کوئی بھی گناہ ہوتا ہے اور ”فَاحِشَۃٌ مُّبَیِِّنَۃٌ“ سے مراد فحش کلامی، بد خلقی، ایذا رسانی یا کوئی بھی علانیہ گناہ لیا گیا ہے، جس میں زنا بھی شامل ہے۔ دیکھیے سورة نساء (19) یہاں سے امہات المومنین کو ادب سکھانے کے لیے چند نصیحتیں کی گئیں ہیں، کیونکہ وہ امت کے لیے نمونہ ہیں۔ فرمایا، اے نبی کی بیویو ! تم میں سے جو کھلی بےحیائی عمل میں لائے گی اس کا عذاب دگنا بڑھایا جائے گا، یعنی تم میں سے جو بھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بدخلقی یا فحش کلامی یا ایذا رسانی کا معاملہ کرے گی اسے دگنا عذاب دیا جائے گا، کیونکہ جس کا مقام جتنا بلند ہوتا ہے نافرمانی کی صورت میں اسے سزا بھی اتنی سخت ملتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو کفار کی طرف مائل ہونے کی صورت میں فرمایا : (اِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَيٰوةِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ) [ بني إسرائیل : 75 ] ”اس وقت ہم ضرور تجھے زندگی کے دگنے اور موت کے دگنے (عذاب) کا مزہ چکھاتے۔“
الوسیط (للطنطاو ی) میں لکھا ہے : ”کسی نے حسین ؓ کے بیٹے علی زین العابدین سے کہا، تم اہل بیت تو بخشے بخشائے ہو۔ تو وہ غصے میں آگئے اور کہنے لگے کہ ہم پر تو وہ قانون زیادہ لاگو ہونا چاہیے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی بیویوں پر لاگو کیا کہ ہمارے برائی کرنے والے کو دگنا عذاب ہو اور ہمارے نیکی کرنے والے کو دگنا ثواب ہو۔“ نبی ﷺ کی بیویوں سے گناہ کے ارتکاب میں نبی ﷺ پر بھی حرف آتا تھا اور یہ آپ کے لیے سخت تکلیف کا باعث ہوتا، جو عام مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے سے بڑا گناہ اور اللہ تعالیٰ کی لعنت کا باعث ہے، فرمایا : (اِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِيْنًا) [ الأحزاب : 57 ] ”بیشک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچاتے ہیں اللہ نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی اور ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کیا۔“
”بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ“ کا لفظ نکرہ ہونے کی وجہ سے عام ہے، اس لیے اس سے بد خلقی، فحش کلامی کے علاوہ زنا بھی مراد ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں سوال اٹھتا ہے کہ معاذ اللہ، کیا ازواج مطہرات سے برائی کا اندیشہ تھا ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ یہ جملہ شرطیہ ہے، واقع میں ایسا ہونا ضروری نہیں، مقصود صرف ازواج مطہرات کے مرتبے کے پیش نظر ان کو گناہ کے ارتکاب کی صورت میں دگنے عذاب سے خبردار کرنا ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کو اس سے بھی بڑے، بلکہ تمام گناہوں سے بڑے گناہ کے انجام سے خبردار کرتے ہوئے فرمایا : (وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ) [ الزمر : 65 ] ”اور بلاشبہ یقیناً تیری طرف وحی کی گئی اور ان لوگوں کی طرف بھی جو تجھ سے پہلے تھے کہ بلاشبہ اگر تو نے شریک ٹھہرایا تو یقیناً تیرا عمل ضرور ضائع ہوجائے گا اور تو ضرور بالضرور خسارہ اٹھانے والوں سے ہوجائے گا۔“ اس کا یہ مطلب نہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے یا پہلے انبیاء سے شرک کے ارتکاب کا اندیشہ تھا۔
وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ يَسِيْرًا : یعنی تمہیں غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ تم نبی کی بیویاں ہو اور تم پر کوئی گرفت نہ ہوگی۔