32. Surah As-Sajda

السجدةThe Prostration · 30 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayahs 32:1–2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 32:2 in the Quran reader

اس کتاب کا نازل کرنا جس میں کوئی شک نہیں، جہانوں کے رب کی طرف سے ہے۔

الۗمّۗ ۝ۚتَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ لَا رَيْبَ فِيْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ :”الم“ کے متعلق دیکھیے سورة بقرہ کی پہلی آیت۔ ”الکتب“ میں الف لام عہد کا ہے، اس لیے ترجمہ ”اس کتاب“ کیا گیا ہے۔ ”مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ“ ”تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ“ کی خبر ہے۔ جملہ ”لَا رَيْبَ فِيْهِ“ معترضہ ہے یا ”الْكِتٰبِ“ کی صفت، یا اس سے حال ہے۔ آیت میں قرآن مجید کے متعلق دو باتیں بیان کی گئی ہیں، ایک یہ کہ یہ کتاب رب العالمین کی طرف سے نازل کی گئی ہے، دوسری یہ کہ اس میں کوئی شک نہیں۔ کوئی شک نہ ہونے سے مراد یہ بھی ہے کہ اس میں بیان کردہ ہر بات یقینی ہے، کسی بات میں شک کی گنجائش نہیں اور یہ بھی مراد ہے کہ اس کے رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہونے میں کوئی شک نہیں۔ اگر کسی کو شک ہے تو اللہ تعالیٰ نے اسے دور کرنے کا طریقہ بھی بتایا ہے، فرمایا : (وَاِنْ كُنْتُمْ فِىْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰي عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ ۠ وَادْعُوْا شُهَدَاۗءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ) [ البقرۃ : 23 ] ”اور اگر تم اس کے بارے میں کسی شک میں ہو جو ہم نے اپنے بندے پر اتارا ہے تو اس کی مثل ایک سورت لے آؤ اور اللہ کے سوا اپنے حمایتی بلا لو، اگر تم سچے ہو۔“ حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید سب سے بڑا معجزہ ہے جو رسول اللہ ﷺ کو دیا گیا، جس کے مقابلے سے پوری مخلوق عاجز ہے۔
Ayah 32:3

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ۚ بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 32:3 in the Quran reader

یا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑ لیا ہے۔ بلکہ وہی تیرے رب کی طرف سے حق ہے، تاکہ تو ان لوگوں کو ڈرائے جن کے پاس تجھ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا، تاکہ وہ راہ پائیں۔

اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ : ”اَم“ سے پہلے عموماً ایسا جملہ موجود یا مقدر ہوتا ہے جو ہمزہ استفہام سے شروع ہوتا ہے۔ یہاں مقدر جملہ ظاہر کریں تو عبارت یہ ہوگی : ”أَھُمْ یُؤْمِنُوْنَ بِہِ أَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرَاہُ“ یعنی ”کیا یہ لوگ اللہ کی نازل کردہ کتاب پر ہر قسم کے شک و شبہ سے پاک ہو کر ایمان لاتے ہیں، یا یہ کہہ کر جھٹلا دیتے ہیں کہ اس پیغمبر نے اسے اپنے پاس سے گھڑ لیا ہے ؟“ کئی مفسرین نے اس ”ام“ کو منقطعہ قرار دے کر ”بَلْ“ کے معنی میں قرار دیا ہے۔ اس صورت میں معنی یہ ہوگا : ”بلکہ وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے۔“ اس ”بَلْ“ سے پہلے بھی ایک عبارت محذوف ہے کہ یہ لوگ اس پر ایمان لانے کے بجائے یہی کہتے ہیں کہ اس نے اسے اپنے پاس سے گھڑ لیا ہے۔ دیکھیے سورة فرقان (4، 5) اور مدثر (18 تا 25)۔ بَلْ هُوَ الْحَـقُّ مِنْ رَّبِّكَ : فرمایا، ان کا یہ کہنا درست نہیں، بلکہ یہ تیرے رب کی طرف سے حق ہے اور یہ لوگ محمد ﷺ کے صدق و امانت کو پوری طرح جاننے کے باوجود صریح غلط اور لغو بات کہہ رہے ہیں۔ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِيْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ : مراد قوم عرب ہے، جنھیں اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کے ساتھ سب سے پہلے خطاب فرمایا اور ان کے ذریعے سے تمام دنیا تک یہ پیغام پہنچانے کا اہتمام فرمایا۔ اس سے پہلے اگرچہ عرب میں اسماعیل، ہود، صالح اور شعیب ؑ مبعوث ہوچکے تھے، مگر ان کی بعثت کو مدتیں گزر چکی تھیں۔ ان کے بعد تورات و انجیل نازل ہوئیں، مگر عرب میں کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا۔ اس لیے اللہ عزوجل نے آخری نبی ان میں مبعوث فرمایا، جیسا کہ ارشاد ہے : (وَھٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَاتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ اَنْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰي طَاۗىِٕفَتَيْنِ مِنْ قَبْلِنَا ۠ وَاِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِيْنَ اَوْ تَقُوْلُوْا لَوْ اَنَّآ اُنْزِلَ عَلَيْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّآ اَهْدٰي مِنْهُمْ ۚ فَقَدْ جَاۗءَكُمْ بَيِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَّبَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَصَدَفَ عَنْهَا ۭ سَنَجْزِي الَّذِيْنَ يَصْدِفُوْنَ عَنْ اٰيٰتِنَا سُوْۗءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا يَصْدِفُوْنَ) [ الأنعام : 155 تا 157 ] ”اور یہ عظیم کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے، بڑی برکت والی، پس اس کی پیروی کرو اور بچ جاؤ، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ ایسا نہ ہو کہ تم کہو کہ کتاب تو صرف ان دو گروہوں پر اتاری گئی جو ہم سے پہلے تھے اور بیشک ہم ان کے پڑھنے پڑھانے سے یقیناً بیخبر تھے۔ یا یہ کہو کہ اگر ہم پر کتاب اتاری جاتی تو ہم ان سے زیادہ ہدایت والے ہوتے۔ پس بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل اور ہدایت اور رحمت آچکی، پھر اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ کی آیات کو جھٹلائے اور ان سے کنارا کرے۔ عنقریب ہم ان لوگوں کو جو ہماری آیات سے کنارا کرتے ہیں، برے عذاب کی جزا دیں گے، اس کے بدلے جو وہ کنارا کرتے تھے۔“ مزید تفصیل مذکورہ بالا آیات کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔ 3 اس مقام پر کئی مفسرین نے اسماعیل ؑ اور نبی کریم ﷺ کے درمیان دو ہزار یا اڑھائی ہزار سال کا عرصہ بیان کیا ہے، مگر اس کا کوئی قابل اعتماد حوالہ نہیں دیا، اس لیے ہمارے پاس اس لمبی مدت کی تعیین کا کوئی ذریعہ نہیں۔ لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُوْنَ : یہاں ”لَعَلَّ“ ”کَيْ“ کے معنی میں ہے ”تاکہ وہ ہدایت پائیں“ اور اگر ”ترجی“ کے معنی میں ہو، یعنی ”امید ہے، یا شاید“ تو وہ رسول اللہ ﷺ کے اعتبار سے ہے کہ تاکہ آپ اس قوم کو ڈرائیں، اس امید پر کہ وہ ہدایت پاجائیں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کو تو ہر بات کا علم ہے کہ وہ ہدایت پائیں گے یا نہیں، تو اسے ”شاید“ ‘ یا ”امید ہے“ کہنے کی کیا ضرورت ہے۔
Ayah 32:4

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا شَفِیْعٍ١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 32:4 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان کی ہر چیز کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر وہ عرش پر بلند ہوا، اس کے سواتمھارا نہ کوئی دوست ہے اور نہ کوئی سفارش کرنے والا۔ تو کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے۔

اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِيْ سِـتَّةِ اَيَّامٍ : قرآن کریم اور رسول کریم ﷺ کی رسالت کے حق ہونے کے بیان کے بعد اس اہم ترین مسئلے کا ذکر فرمایا جس کی طرف دعوت دینے کے لیے آپ ﷺ کو اور تمام رسولوں کو بھیجا گیا اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے دلائل کا بیان۔ چناچہ فرمایا : ”اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں کو، زمین کو اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کو چھ دنوں میں پیدا فرمایا۔“ ان دنوں سے مراد معروف دن نہیں، کیونکہ آسمان و زمین کی پیدائش سے پہلے ان کا وجود ہی نہیں تھا، ہوسکتا ہے وہ دن ہزاروں یا لاکھوں سال کے ہوں۔ دیکھیے سورة اعراف (54) اور حٰم السجدہ (9 تا 12)۔ ثُمَّ اسْتَوٰي عَلَي الْعَرْشِ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة اعراف (54) ، یونس (3) اور طٰہٰ (5)۔ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِيٍّ وَّلَا شَفِيْعٍ : یہ اس باطل خیال کا رد ہے کہ بیشک آسمان و زمین اور ہر چیز کا مالک اللہ تعالیٰ ہے، مگر کچھ ہستیاں ایسی زبردست یا اللہ کی محبوب ہیں جو سفارش کر کے اس کی گرفت سے چھڑا لیں گی۔ فرمایا، یاد رکھو ! اگر وہ تمہیں عذاب دینا چاہے تو اس کے مقابلے میں تمہارا کوئی دوست نہیں ہوگا جو اس کے عذاب سے تمہیں چھڑا سکے اور نہ کوئی سفارشی، جو اس کی اجازت کے بغیر سفارش کی جرأت کرسکے۔ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ : یعنی کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے کہ عرش سے فرش تک اس کی حکومت ہے، اس کے پیغام اور پیغمبر کو جھٹلا کر کہاں جاؤ گے ؟
Ayah 32:5

یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 32:5 in the Quran reader

وہ آسمان سے زمین تک (ہر) معاملے کی تدبیر کرتا ہے، پھر وہ (معاملہ) اس کی طرف ایسے دن میں اوپر جاتا ہے جس کی مقدار ہزار سال ہے، اس (حساب) سے جو تم شمار کرتے ہو۔

يُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَاۗءِ اِلَى الْاَرْضِ۔۔ : اس آیت کی تفسیر میں اہل علم کا بہت اختلاف ہے، حتیٰ کہ بعض نے اس کی تفصیل اللہ کے علم کے سپرد کرتے ہوئے خاموشی اختیار فرمائی ہے، کیونکہ ہر تفسیر میں ایک طرح کی کمی اور اعتراض کی گنجائش باقی رہتی ہے۔ یہاں ان میں سے دو تفسیریں نقل کی جاتی ہیں، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ جو فیصلہ فرماتا ہے اسے آسمان سے زمین کی طرف نافذ فرماتا ہے، پھر اس کے نافذ ہونے کی خبر اوپر اس کی طرف ایک ایسے دن میں جاتی ہے جس کی مقدار آسمان سے زمین پر اترنے اور پھر اس کی طرف چڑھنے میں دنیا کے ہزار سال کے برابر ہے، کیونکہ آسمان و زمین کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے، چناچہ اترنے اور اوپر جانے کا فاصلہ ہزار سال ہے۔ ابن جریر طبری نے فرمایا : ”یہ سب اقوال سے بہتر ہے، کیونکہ یہ اس کے معانی میں سب سے ظاہر اور قرآن کے ظاہر الفاظ سے زیادہ ملتا ہے۔“ ابن کثیر ؓ نے اس کے ساتھ مجاہد، قتادہ اور ضحاک کا قول نقل فرمایا ہے : ”(اللہ تعالیٰ کا حکم لے کر) فرشتے کا اترنا پانچ سو سال کے فاصلے میں ہوتا ہے اور اس کا چڑھنا بھی پانچ سو سال کے فاصلے میں ہوتا ہے، لیکن وہ اسے آنکھ جھپکنے میں طے کرلیتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (فِيْ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗٓ اَلْفَ سَـنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ) [ السجدۃ : 5 ] ”ایک ایسے دن میں جس کی مقدار ہزار سال ہے، اس (حساب) سے جو تم شمار کرتے ہو۔“ (ابن کثیر) قاسمی، ابن جزی صاحب التسہیل، بغوی، سعدی اور بہت سے مفسرین نے یہی معنی بیان فرمایا ہے، یا اس کو ترجیح دی ہے۔ واضح رہے کہ قرآن مجید میں ”یَومٍ“ کا لفظ پچاس ہزار سال کی مدت کے لیے بھی آیا ہے اور ہزار سال کے لیے بھی، دنیا کے عام دنوں کے لیے بھی اور وقت کے چھوٹے سے چھوٹے جز کے لیے بھی، جیسا کہ فرمایا : (يَسْـَٔـلُهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِيْ شَاْنٍ) [ الرحمٰن : 29 ] ”اس سے مانگتا ہے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے، ہر دن وہ ایک نئی شان میں ہے۔“ یہاں ”ہر دن“ سے مراد ہر لمحہ ہے۔ مقصد اس آیت کا یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا فرمانے کے بعد اللہ تعالیٰ ان سے لاتعلق نہیں ہوگیا کہ اس کے چلانے کا کام کوئی اور کر رہا ہو، بلکہ آسمان سے لے کر زمین تک، بڑے سے لے کر چھوٹے تک، ہر کام کی تدبیر وہ خود کرتا ہے۔ وہ اپنے ہر حکم پر عمل کی بھی مکمل خبر رکھتا ہے اور زمین و آسمان کے درمیان ہزار برس کے فاصلے کے باوجود اس کے حکم سے یہ سب کچھ لمحوں میں ہوجاتا ہے۔ اس آیت میں ان جاہل صوفیوں اور مشرکین کا رد ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عالم کا نظام اپنے پیاروں کو دے کر فارغ ہوچکا ہے اور اب سارا نظام وہی چلا رہے ہیں۔ پھر ان حضرات نے اس کے لیے باقاعدہ عہدے بنا رکھے ہیں، جن کے مطابق ان کا کوئی ولی قیّوم کے مرتبے پر ہے، کوئی قطب ہے، کوئی غوث ہے، کچھ ابدال ہیں اور کچھ اوتاد، اور یہی حضرات دنیا کا نظام چلا رہے ہیں۔ اس کے مطابق انھوں نے شیخ عبدالقادر جیلانی کو غوث اعظم (سب سے بڑا مددگار) کا عہدہ دے رکھا ہے۔ ایک اللہ کو پکارنے کے بجائے یہ لوگ کبھی کسی کو مدد کے لیے پکارتے ہیں اور کبھی کسی کو۔ دراصل ان کی گمراہی کے پیچھے وہی فاسد عقیدہ ہے جس کی تردید اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمائی ہے کہ جو مالک لمحوں میں ہزار سال کے فاصلے سے ہر معاملے کی تدبیر کرتا اور اس کی پوری خبر رکھتا ہے، اس اکیلے کی عبادت اور اسی سے مانگنے کے بجائے کسی ایسے کی عبادت اور اس سے فریاد کیوں کی جائے جس کا کسی کام کی تدبیر میں کوئی دخل ہی نہیں۔ 3 دوسری تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کو پیدا کرنے کے وقت سے لے کر آسمان سے اپنی مخلوق اور زمین کے ہر معاملے کی تدبیر کر رہا ہے اور یہ سلسلہ ان کے فنا ہونے تک جاری رہے گا۔ پھر یہ تمام معاملات اس کی طرف اوپر جاتے ہیں، تاکہ وہ ان کے بارے میں ایک ایسے دن کے اندر فیصلہ فرمائے جس کی مقدار ہزار برس ہے، ان دنوں سے جو تم شمار کرتے ہو۔ مفسر المراغی، ابن عاشور، ابوبکر الجزائری صاحب ایسر التفاسیر، ابراہیم القطان صاحب تیسیر التفسیر اور دوسرے کئی مفسرین نے یہی معنی بیان کرنے پر اکتفا فرمایا ہے اور کئی دوسرے مفسرین نے اسے ترجیح دی ہے۔ اس معنی کو ترجیح دینے کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ہر معاملے کے اور ہر انسان کے اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنے کا ذکر فرمایا ہے، فرمایا : (وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ) [ آل عمران : 28 ] ، (ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ) [ البقرۃ : 28 ] ، (وَاِلَيْهِ يُرْجَعُ الْاَمْرُ كُلُّهٗ) [ ھود : 123 ] ، (ثُمَّ اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ) [ الأنعام : 60 ] اور فرمایا : (اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا ۭوَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا ۭ اِنَّهٗ يَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ) [ یونس : 4 ] اس تفسیر میں ایک اشکال ہے کہ سورة معارج (4) میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کی مقدار پچاس ہزار سال بتائی ہے، جب کہ یہاں ایک ہزار سال کا ذکر ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ ہزار سال سے مراد محض کثرت ہے، کیونکہ عربی زبان میں سب سے بڑا عدد ”أَلْفٌ“ (ہزار) ہی ہے۔ اس سے زیادہ عدد کی ضرورت ہو تو دوسرے عدد ساتھ ملائے جاتے ہیں، مثلاً ”خَمْسُوْنَ أَلْفًا“ یا ”مِاءَۃُ أَلْفٍ“ اور بعض اوقات کثرت کے اظہار کے لیے ”أَلْفٌ“ ہی پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ اس لیے ”خمْسِیْنَ اَلْفَ سَـنَةٍ“ اور ”اَلْفَ سَـنَةٍ“ دونوں سے قیامت ہی کا دن مراد ہے اور دونوں عددوں سے کثرت کا اظہار مقصود ہے۔ ہوسکتا ہے اصل مدت اس سے کہیں زیادہ ہو جسے اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ (واللہ اعلم) بعض مفسرین نے یہ حل بیان فرمایا ہے کہ مصیبت کے ایام لمبے ہوتے ہیں، چناچہ پچاس ہزار سال کی لمبائی کفار کے لیے ہوگی، جیسے فرمایا : (فَذٰلِكَ يَوْمَىِٕذٍ يَّوْمٌ عَسِيْرٌ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ غَيْرُ يَسِيْرٍ) [ المدثر : 9، 10 ] ”تو وہ اس دن، ایک مشکل دن ہے۔ کافروں پر آسان نہیں۔“
Ayah 32:6

ذٰلِكَ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 32:6 in the Quran reader

وہی غائب اور حاضر کو جاننے والا، سب پر غالب، نہایت رحم والا ہے۔

ذٰلِكَ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ۔۔ : یعنی وہ پروردگار جو خلق و تدبیر کا یہ سارا سلسلہ چلا رہا ہے، اس کا علم اتنا وسیع ہے کہ جو کچھ تم سے غائب ہے یا حاضر، ماضی ہے یا حال یا مستقبل، سب کچھ اس کے علم میں ہے، قدرت اس کی اتنی بےپایاں ہے کہ وہ ہر ایک پر غالب ہے اور رحمت اتنی کہ ہر چیز کو اپنے دامن میں سمائے ہوئے ہے۔ اس کے سوا نہ کسی کے پاس یہ علم ہے، نہ قدرت اور نہ رحمت، خواہ وہ انسان ہو یا جن یا فرشتہ یا کوئی اور مخلوق، تو پھر کسی اور کی عبادت کیوں کی جائے ؟
Ayah 32:7

الَّذِیْۤ اَحْسَنَ كُلَّ شَیْءٍ خَلَقَهٗ وَ بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍۚ Open ayah 32:7 in the Quran reader

جس نے اچھا بنایا ہر چیز کو جو اس نے پیدا کی اور انسان کی پیدائش تھوڑی سی مٹی سے شروع کی۔

ۙالَّذِيْٓ اَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهٗ : یعنی اللہ تعالیٰ نے اس عظیم الشان کائنات میں بیحد و حساب جتنی چیزیں پیدا فرمائی ہیں اور جس مقصد کے لیے بنائی ہیں، انھیں اس کے لیے ایسی شکل و صورت عطا فرمائی ہے جس سے زیادہ خوب صورت اور عمدہ صورت کا تصور میں آنا محال ہے۔ وَبَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِيْنٍ : اپنی پیدا کردہ ہر چیز کے حسن کے مشاہدے کے لیے انسان کو خود اس کی ذات میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی کہ اس کے لیے تمہیں کہیں اور جانے کی ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ نے تمہاری پیدائش کی ابتدا حقیر مٹی سے کی، جس میں زندگی کا نام و نشان نہ تھا۔ پوری زمین سے ایک مٹھی لے کر اپنے ہاتھوں سے ُ پتلا بنا کر پہلا انسان پیدا فرما دیا۔ ”طِيْنٍ“ میں تنوین تحقیر کی ہے۔
Ayah 32:8

ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۚ Open ayah 32:8 in the Quran reader

پھر اس کی نسل ایک حقیر پانی کے خلاصے سے بنائی۔

ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّاۗءٍ مَّهِيْنٍ : اس کے لیے دیکھیے سورة مومنون (12 تا 14) اور سورة حج (5) یعنی پھر اس کی نسل کو نطفہ اور توالد و تناسل سے آگے چلا دیا، جس سے لاتعداد انسان آگے پیدا ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ نطفہ کو خلاصہ اس لیے فرمایا کہ اطباء کے مطابق یہ غذا کے چوتھے ہضم کے نتیجے میں وجود میں آتا ہے، جب کہ خون تیسرے ہضم کے بعد پیدا ہوتا ہے اور اعضائے بول سے نکلنے کی وجہ سے اسے ”مَّهِيْنٍ“ قرار دیا۔ پھر منی کے اس قطرے میں لاکھوں جرثومے ہوتے ہیں جو طاقت ور خوردبین کے بغیر نظر نہیں آتے، جن میں سے ہر جرثومہ رحم میں مکمل انسان بننے کی استعداد رکھتا ہے۔
Ayah 32:9

ثُمَّ سَوّٰىهُ وَ نَفَخَ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 32:9 in the Quran reader

پھر اسے درست کیا اور اس میں اپنی ایک روح پھونکی اور تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے۔ تم بہت کم شکر کرتے ہو۔

ثُمَّ سَوّٰىهُ : ”سَوّٰی یُسَوِّيْ تَسْوِیَۃً“ برابر کرنا، درست کرنا۔ پھر اس انتہائی چھوٹے سے جرثومے کو ماں کے رحم میں پیوست کیا اور علقہ اور مضغہ کی منزلوں سے بڑھاتے ہوئے ہڈیوں کا ڈھانچہ بنا کر، اسے گوشت پوست پہنا کر، ہر عضو کو اس کی بہتر سے بہتر جگہ رکھ کر ہر طرح سے درست اور مکمل کردیا۔ وَنَفَخَ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ : ”مِنْ“ تبعیض کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”اور اس میں اپنی ایک روح پھونکی۔“ مراد اس سے اپنی پیدا کردہ روح ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تو ”لَمْ يَلِدْ ڏ وَلَمْ يُوْلَدْ“ ہے، انسان کا شرف بیان کرنے کے لیے اس میں پھونکی جانے والی روح کو اپنی روح قرار دیا۔ کیونکہ ارواح جتنی بھی ہیں سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں، مگر انسان کی خصوصیت کے اظہار کے لیے اس کی روح کی نسبت اپنی طرف فرمائی، جیسا کہ تمام اونٹنیوں کا مالک اللہ ہے مگر صالح ؑ کی اونٹنی کو ”نَاقَۃُ اللّٰہِ“ فرمایا، تمام مساجد اللہ تعالیٰ ہی کی ہیں، مگر کعبہ کو ”بیت اللہ“ کہا جاتا ہے اور بندے سب کے سب اللہ کے ہیں، مگر رسول اللہ ﷺ کے خاص شرف کے اظہار کے لیے فرمایا : (سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ) [ بني إسرائیل : 1 ] اور فرمایا : (وَّاَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ يَدْعُوْهُ) [ الجن : 19 ] اور دوسرے مقامات پر انھیں اپنا بندہ قرار دیا۔ مزید دیکھیے سورة حجر کی آیت (29) کی تفسیر۔ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْـــِٕدَةَ : اس سے پہلے انسان کی پیدائش کا ذکر غائب کے صیغے کے ساتھ کیا، روح پھونکنے سے جیتا جاگتا انسان وجود میں آگیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے مخاطب کر کے فرمایا کہ جب تم پیدا ہوئے تو کچھ نہ جانتے تھے، اللہ تعالیٰ نے تمہیں علم حاصل کرنے کے ذرائع عطا فرمائے، جیسا کہ فرمایا : (وَاللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَـيْـــًٔـا ۙ وَّجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْــِٕدَةَ ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ) [ النحل : 78 ] ”اور اللہ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے اس حال میں نکالا کہ تم کچھ نہ جانتے تھے اور اس نے تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنا دیے، تاکہ تم شکر کرو۔“ علم حاصل کرنے کے ذرائع میں سب سے پہلے سننے کی نعمت کا ذکر فرمایا، کیونکہ پیدا ہونے کے بعد سب سے پہلے کان ہی اپنا کام شروع کرتے ہیں، اس کے بعد آنکھیں اپنا کام شروع کرتی ہیں، اور اس لیے بھی کانوں کا ذکر پہلے فرمایا کہ کانوں پر کوئی پردہ نہیں، وہ ہر وقت اپنا کام سرانجام دیتے ہیں، حتیٰ کہ سونے کی حالت میں بھی سخت آواز جگانے کا باعث ہوتی ہے، جب کہ آنکھیں بند کرلینے سے یا سوجانے سے دیکھنے کا عمل رک جاتا ہے۔ سوچنے سمجھنے کا عمل ان دونوں کے بعد شروع ہوتا ہے، اس لیے ”الافئدۃ“ کا ذکر دونوں کے بعد فرمایا۔ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ : یہ سب باتیں ایسی واضح ہیں کہ تم میں سے ہر ایک کے مشاہدہ میں آتی رہتی ہیں، مگر تم بہت کم شکر کرتے ہو۔
Ayah 32:10

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ بَلْ هُمْ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 32:10 in the Quran reader

اور انھوں نے کہا کیا جب ہم زمین میں گم ہوگئے، کیا واقعی ہم ضرور نئی پیدائش میں ہوں گے ؟ بلکہ وہ اپنے رب کی ملاقات سے منکر ہیں۔

وَقَالُوْٓا ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِي الْاَرْضِ۔۔ : رسول کریم ﷺ اور قرآن کریم کے حق ہونے اور توحید اور اس کے چند دلائل بیان کرنے کے بعد اب اسلام کے تیسرے بنیادی عقیدے قیامت اور اس پر کفار کے اعتراض اور اس کے جواب کا ذکر ہوتا ہے۔ ”وَقَالُوْٓا“ میں ”واؤ“ کے ساتھ ان کے اس قول پر عطف ہے جو پہلی آیات سے ظاہر ہو رہا ہے، گویا کلام یوں ہوگا : ”قَالُوْا مُحَمَّدٌ لَیْسَ بِرَسُوْلٍ وَالإِْلٰہُ لَیْسَ بِوَاحِدٍ وَقَالُوْا ءَ إِذَا ضَلَلْنَا فِي الْأَرْضِ۔۔“ یعنی انھوں نے کہا کہ محمد رسول نہیں ہے اور معبود ایک نہیں ہے اور انھوں نے کہا کہ کیا جب ہم زمین میں گم ہوگئے۔۔“ زمخشری اور طبری نے فرمایا : ”ضَلَّ الْمَاءُ فِي اللَّبَنِ“ اس وقت کہا جاتا ہے جب پانی دودھ میں اچھی طرح مل جائے اور غائب ہوجائے۔ یعنی کیا جب ہم مٹی میں مل کر مٹی ہوجائیں گے تو کیا واقعی ہم ایک نئی پیدائش میں زندہ کردیے جائیں گے ؟ ہمزہ استفہام کے بعد پھر ہمزہ استفہام دوسری زندگی پر تعجب اور اس سے انکار کے لیے ہے، یعنی یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔ بَلْ هُمْ بِلِقَاۗئِ رَبِّهِمْ كٰفِرُوْنَ : اس سے پہلے انسان کی مٹی اور پھر نطفے سے پیدائش کا ذکر کرنے کے بعد کفار کے اس اعتراض کے جواب کی ضرورت ہی نہیں سمجھی کہ ہم مٹی میں مٹی ہوگئے تو دوبارہ کیسے پیدا ہوں گے، جواب ظاہر تھا کہ جس طرح پہلی مرتبہ اس مٹی سے پیدا ہوئے جب تمہارا نام و نشان نہ تھا، اب اسی مٹی میں مل گئے تو دوبارہ کیوں پیدا نہیں ہوسکتے۔ دیکھیے سورة یٰس (79 تا 81 اور 12) اس لیے فرمایا، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے رب کی ملاقات تسلیم نہیں کرنا چاہتے، کیونکہ وہ اپنی خواہش پرستی اور فسق و فجور کو چھوڑنا نہیں چاہتے، جو انھیں رب تعالیٰ کی ملاقات تسلیم کرنے کے بعد چھوڑنا پڑیں گے، جیسا کہ فرمایا : (لَآ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَلَآ اُقْسِمُ بالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗ بَلٰى قٰدِرِيْنَ عَلٰٓي اَنْ نُّسَوِّيَ بَنَانَهٗ بَلْ يُرِيْدُ الْاِنْسَانُ لِيَفْجُرَ اَمَامَهٗ) [ القیامۃ : 1 تا 5 ] ”نہیں، میں قیامت کے دن کی قسم کھاتا ہوں ! اور نہیں، میں بہت ملامت کرنے والے نفس کی قسم کھاتا ہوں ! کیا انسان گمان کرتا ہے کہ ہم کبھی اس کی ہڈیاں اکٹھی نہیں کریں گے۔ کیوں نہیں ؟ (ہم انھیں اکٹھا کریں گے) اس حال میں کہ ہم قادر ہیں کہ اس (کی انگلیوں) کے پورے درست کر (کے بنا) دیں۔ بلکہ انسان چاہتا ہے کہ اپنے آگے (آنے والے دنوں میں بھی) نافرمانی کرتا رہے۔“
Ayah 32:11

قُلْ یَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 32:11 in the Quran reader

کہہ دے تمہیں موت کا فرشتہ قبض کرے گا، جو تم پر مقرر کیا گیا ہے، پھر تم اپنے رب ہی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔

قُلْ يَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِيْ وُكِّلَ بِكُمْ : یعنی تم اپنے آپ کو محض بدن اور دھڑ سمجھتے ہو کہ خاک میں رل مل کر برابر ہوگئے۔ ایسا نہیں، بلکہ تم اصل میں ”جان“ (روح) ہو، جسے فرشتہ لے جاتا ہے، بالکل فنا نہیں ہوتے۔ (موضح) ”وُكِّلَ بِكُمْ“ کے لفظ سے معلوم ہوا کہ فرشتہ وہی جان نکالتا ہے جس کا اسے حکم ہو، خود اس کا اختیار کچھ نہیں۔ :”ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ“ پاِلٰى رَبِّكُمْ ہلے لانے کی وجہ سے ترجمہ کیا گیا ہے : ”پھر تم اپنے رب ہی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔“ 3 ملک الموت کا نام عام طور پر عزرائیل مشہور ہے، مگر کتاب و سنت میں یہ بات کہیں مذکور نہیں، محض اسرائیلی روایت ہے۔ دوسری آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ لوگوں کو ایک فرشتہ نہیں بلکہ کئی فرشتے فوت کرتے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (حَتّٰٓي اِذَا جَاۗءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُوْنَ) [ الأنعام : 61 ] ”یہاں تک کہ جب تمہارے کسی ایک کو موت آتی ہے اسے ہمارے بھیجے ہوئے قبض کرلیتے ہیں اور وہ کوتاہی نہیں کرتے۔“ مزید دیکھیے سورة نساء (97) ، انعام (93) اور سورة محمد (27) اہل علم نے اس کی توجیہ یہ فرمائی ہے کہ روحیں قبض کرنے پر مقرر فرشتہ ایک ہی ہے جس کا یہاں ذکر ہے، لیکن اس کے ساتھ مدد کرنے والے فرشتے بھی ہیں جو مختلف طرح سے اس کی مدد کرتے ہیں، جیسا کہ براء بن عازب ؓ کی طویل حدیث میں مومن اور کافر کی جان نکلنے کا ذکر ہے کہ ملک الموت جب میت کی روح نکالتا ہے تو دوسرے فرشتے اس کے ہاتھ سے تیزی کے ساتھ لے کر آسمان کی طرف چڑھتے ہیں۔ [ دیکھیے مسند أحمد : 4؍287، ح : 18561 ]
Ayah 32:12

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:12 in the Quran reader

اور کاش ! تو دیکھے جب مجرم لوگ اپنے رب کے پاس اپنے سر جھکائے ہوں گے اے ہمارے رب ! ہم نے دیکھ لیا اور ہم نے سن لیا، پس ہمیں واپس بھیج، ہم نیک عمل کرینگے، بیشک ہم یقین کرنے والے ہیں۔

وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ : پچھلی آیت میں جو فرمایا ”ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ“ (پھر تم اپنے رب ہی کی طرف لوٹائے جاؤ گے) اب اس حالت کا نقشہ پیش کیا جاتا ہے۔ ”نَکَسَ یَنْکُسُ“ (ن) کا معنی کسی چیز کو سر کے بل الٹا کرنا ہے، مراد ذلت، شرمندگی اور غم کے ساتھ سروں کو جھکانا ہے۔ ”المجرمون“ کے لفظ کے ساتھ ان کے اس انجام کا سبب صراحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا : یہاں ”یَقُوْلُوْنَ“ کا لفظ مقدر ہے، یعنی وہ سر جھکائے ہوئے یہ بات کہہ رہے ہوں گے۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اگر انھیں دوبارہ واپس بھیج بھی دیا جائے تو اپنی پرانی روش ہی پر چلیں گے، فرمایا : (وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُوْا يُخْفُوْنَ مِنْ قَبْلُ ۭ وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ) [ الأنعام : 27، 28 ] ”اور کاش ! تو دیکھے جب وہ آگ پر کھڑے کیے جائیں گے تو کہیں گے اے کاش ! ہم واپس بھیجے جائیں اور اپنے رب کی آیات کو نہ جھٹلائیں اور ایمان والوں میں سے ہوجائیں۔ بلکہ ان کے لیے ظاہر ہوگیا جو وہ اس سے پہلے چھپاتے تھے اور اگر انھیں واپس بھیج دیا جائے تو ضرور پھر وہی کریں گے جس سے انھیں منع کیا گیا تھا اور بلاشبہ وہ یقیناً جھوٹے ہیں۔“ کفار کے اس اظہار حسرت و ندامت کا ذکر متعدد آیات میں آیا ہے۔ دیکھیے سورة اعراف (53) اور مومنون (99، 100)۔ اِنَّا مُوْقِنُوْنَ : مگر اس وقت یقین ہوجانے کا کیا فائدہ ؟ جو وقت یقین کے فائدہ دینے کا تھا (یعنی دنیا میں) وہ تو انھوں نے گنوا دیا۔ دیکھیے سورة مومن (85)۔
Ayah 32:13

وَ لَوْ شِئْنَا لَاٰتَیْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَ لٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 32:13 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ہر نفس کو اس کی ہدایت دے دیتے اور لیکن میری طرف سے بات پکی ہوچکی کہ یقینا میں جہنم کو جنوں اور انسانوں، سب سے ضرور بھروں گا۔

وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا۔۔ : یعنی یہ کیا بات ہوئی کہ اب تم حقیقت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر ایمان لے آؤ اور ہم تمہاری سزا موقوف کردیں، یا تمہیں دوبارہ دنیا میں بھیج دیں۔ اس طرح کی جبری ہدایت تو ہم تمہیں پہلے ہی دے سکتے تھے، مگر اس سے قیامت کی جزا و سزا بےنتیجہ ہو کر رہ جاتی اور امتحان کا مقصد فوت ہوجاتا۔ اب تو ضروری ہے کہ میرا وہ قول پورا ہو جو میں نے ابلیس کے آدم کو سجدے سے انکار کے وقت اسے مخاطب کر کے فرمایا تھا : (قَالَ فَالْحَقُّ ۡ وَالْحَقَّ اَقُوْلُ لَاَمْلَــــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ اَجْمَعِيْنَ) [ ص : 84، 85 ] ”فرمایا پھر حق یہی ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں کہ میں ضرور بالضرور جہنم کو تجھ سے اور ان سب لوگوں سے بھر دوں گا جو ان میں سے تیری پیروی کریں گے۔“
Ayah 32:14

فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ۚ اِنَّا نَسِیْنٰكُمْ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:14 in the Quran reader

سوچکھو، اس وجہ سے کہ تم نے اپنے اس دن کی ملاقات کو بھلا دیا، بیشک ہم نے تمہیں بھلا دیا اور ہمیشگی کا عذاب چکھو، اس کی وجہ سے جو تم کیا کرتے تھے۔

فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِيْتُمْ لِقَاۗءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا : یعنی ان مجرموں سے کہا جائے گا کہ دنیا کے عیش میں گم ہو کر تم نے اس بات کو بالکل بھلا دیا کہ کبھی اپنے رب سے ملاقات بھی ہونی ہے، اب اس بھولنے کا مزا چکھو۔ آیت کے آخر میں اس مزے کی صراحت فرما دی کہ اپنے عمل کی وجہ سے ہمیشگی کا عذاب چکھو۔ اِنَّا نَسِيْنٰكُمْ : یعنی جس طرح تم نے ہمیں بھلائے رکھا، آج ہم نے بھی تمہیں بھلا دیا۔ انھیں ہمیشہ عذاب میں چھوڑے رکھنے کو نسیان کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ ورنہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا بھولنا ممکن ہی نہیں، جیسا کہ فرمایا : (لا یضل ربی ولا ینسی) [ طٰہٰ : 52 ] ”میرا رب نہ بھٹکتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔“ اور دیکھیے سورة طٰہٰ (124 تا 126)۔
Ayah 32:15

اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۩ Open ayah 32:15 in the Quran reader

ہماری آیات پر تو وہی لوگ ایمان لاتے ہیں کہ جب انھیں ان کے ساتھ نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ کرتے ہوئے گر پڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔

اِنَّمَا يُؤْمِنُ بِاٰيٰتِنَا الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا۔۔ : یعنی وہ لوگ جو تکبر کرتے ہوئے ہماری ملاقات ہی کو بھول گئے، وہ ہماری آیات پر کبھی ایمان نہیں لاتے۔ ہماری آیات پر تو صرف وہ لوگ ایمان لاتے ہیں جن کی صفات اپنے رب کی ملاقات کو بھول جانے والوں سے بالکل جدا ہوتی ہیں۔ ان کے دلوں میں ضد، ہٹ دھرمی اور عناد نہیں ہوتا۔ ان کی طبیعت اتنی سلیم ہوتی ہے کہ جب انھیں آیات الٰہی کے ساتھ نصیحت کی جاتی ہے تو وہ فوراً حق قبول کرتے اور اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتے ہیں۔ وہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔ ان کے نفس کی کبریائی انھیں حق قبول کرنے اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے مانع نہیں ہوتی۔ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے رکوع اور سجود میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے : (سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَ بِحَمْدِکَ ، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِيْ) ”پاک ہے تو اے اللہ ! اے ہمارے پروردگار ! اور تیری حمد کے ساتھ، اے اللہ ! مجھے بخش دے۔“ [ بخاري، الأذان، باب الدعاء في الرکوع : 794 ]
Ayah 32:16

تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١٘ وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 32:16 in the Quran reader

ان کے پہلو بستروں سے جدا رہتے ہیں، وہ اپنے رب کو ڈرتے ہوئے اور طمع کرتے ہوئے پکارتے ہیں اور ہم نے انھیں جو کچھ دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔

تَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ۔۔ : یعنی وہ نماز اور ذکر الٰہی کی خاطر اپنے آرام دہ بستر اور لذیذ نیند چھوڑ دیتے ہیں۔ اس کا اعلیٰ درجہ تہجد ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ جَنّٰتٍ وَّعُيُوْنٍ اٰخِذِيْنَ مَآ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ ۭ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُحْسِنِيْنَ كَانُوْا قَلِيْلًا مِّنَ الَّيْلِ مَا يَهْجَعُوْنَ وَبِالْاَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ) [ الذاریات : 15 تا 18 ] ”بیشک متقی لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔ لینے والے ہوں گے جو ان کا رب انھیں دے گا، یقیناً وہ اس سے پہلے نیکی کرنے والے تھے۔ وہ رات کے بہت تھوڑے حصے میں سوتے تھے۔ اور رات کی آخری گھڑیوں میں وہ بخشش مانگتے تھے۔“ اس کے علاوہ بھی قیام اللیل کی فضیلت میں بہت سی آیات و احادیث آئی ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی تعریف میں عبداللہ بن رواحہ ؓ نے کہا ہے ؂ یَبِیْتُ یُجَافِيْ جَنْبَہُ عَنْ فِرَاشِہِ إِذَا اسْتَثْقَلَتْ بالْمُشْرِکِیْنَ الْمَضَاجِعُ ”وہ رات اس حال میں گزارتا ہے کہ اپنا پہلو اپنے بستر سے الگ رکھتا ہے، جب مشرکین کے بستر انھیں نہایت بوجھل کیے ہوتے ہیں۔“ [ بخاري، التھجد، باب فضل من تعار من اللیل فصلّی : 1155 ] مگر یہاں ایک سوال ہے کہ یہ جو فرمایا کہ ہماری آیات پر ایمان صرف وہی لوگ لاتے ہیں جن میں یہ صفات پائی جائیں، تو کیا جو شخص تہجد نہ پڑھے اس کا اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان نہیں ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ بیشک ایمان کا اعلیٰ مرتبہ انھی لوگوں کا ہے جو فرائض کے علاوہ نفل قیام اللیل کا اہتمام کرتے ہیں، مگر یہ اللہ تعالیٰ کا خاص کرم ہے کہ جو شخص مغرب کے بعد عشاء کے انتظار میں نہیں سوتا بلکہ عشاء جماعت کے ساتھ ادا کرتا ہے، پھر فجر کے وقت آرام دہ بستر اور میٹھی نیند چھوڑ کر جماعت کے ساتھ نماز ادا کرتا ہے، وہ بھی اس فضیلت سے محروم نہیں رہتا۔ کیونکہ اس کا پہلو بھی نماز کی خاطر بستر سے جدا رہا ہے اور وہ سویا ہے تب بھی اس کے انتظار میں سویا ہے۔ عبدالرحمن بن ابی عمرہ کہتے ہیں کہ عثمان بن عفان ؓ مغرب کی نماز کے بعد مسجد میں داخل ہوئے اور اکیلے بیٹھ گئے، میں ان کے پاس جا بیٹھا تو انھوں نے کہا، بھتیجے ! میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، آپ فرماتے تھے : (مَنْ صَلَّی الْعِشَاءَ فِيْ جَمَاعَۃٍ فَکَأَنَّمَا قَامَ نِصْفَ اللَّیْلِ وَمَنْ صَلَّی الصُّبْحَ فِيْ جَمَاعَۃٍ فَکَأَنَّمَا صَلَّی اللَّیْلَ کُلَّہُ) [ مسلم، المساجد و مواضع الصلاۃ، باب فضل صلاۃ العشاء و الصبح في جماعۃ : 656 ] ”جو شخص عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھے تو گویا اس نے نصف رات قیام کیا اور جو شخص صبح کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھے تو گویا اس نے ساری رات قیام کیا۔“ انس بن مالک ؓ زیر تفسیر آیت : (۞تَـتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ) کے بارے میں فرماتے ہیں : (نَزَلَتْ فِي انْتِظَارِ ھٰذِہِ الصَّلَاۃِ الَّتِيْ تُدْعَی الْعَتَمَۃَ) [ ترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورة السجدۃ : 3196، و صححہ الألباني ]”یہ آیت اس نماز کے بارے میں اتری جسے عتمہ (عشاء) کہا جاتا ہے۔“ اور ابو برزہ ؓ بیان کرتے ہیں : (أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ کَانَ یَکْرَہُ النَّوْمَ قَبْلَ الْعِشَاءِ وَالْحَدِیْثَ بَعْدَھَا) [ بخاري، مواقیت الصلاۃ، باب ما یکرہ من النوم قبل العشاء : 568 ] ”رسول اللہ ﷺ عشاء سے پہلے سونے کو اور اس کے بعد باتیں کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔“ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا : یعنی وہ اپنے رب کی گرفت کے خوف اور اس کی رحمت کی امید کے ساتھ اسے پکارتے ہیں۔ انھیں خوف ہے کہ ان کے اعمال رد نہ کردیے جائیں اور امید بھی کہ وہ قبولیت کا شرف حاصل کرلیں گے۔ (دیکھیے مومنون : 57 تا 61) نہ بےجا امید، جو بےعمل یا بد عمل بنا دیتی ہے اور نہ اتنا خوف جو اللہ کی رحمت سے مایوس کر دے اور آدمی کو کفر تک پہنچا دے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض صوفیوں نے جو کہا : ”میرا دل چاہتا ہے کہ میں جہنم کو بجھادوں اور جنت کو جلا دوں، تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت کسی ڈر یا لالچ سے نہ کریں بلکہ محض اس کی رضا کے لیے کریں۔“ اور بعض نے کہا : ”میں چاہتا ہوں کہ میرا رب مجھ سے راضی ہوجائے، پھر خواہ مجھے جنت میں بھیج دے خواہ جہنم میں پھینک دے۔“ یہ فضول باتیں ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کی صفت ہی یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ اپنے رب کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے ہیں، پھر یہ بھی ان لوگوں کی جہالت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو جنت اور جہنم سے الگ کردیا، حالانکہ جنت اسے ملے گی جس پر وہ راضی ہوگا اور جہنم میں وہ جائے گا جس پر وہ ناراض ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی سے کہا : (کَیْفَ تَقُوْلُ فِي الصَّلاَۃِ ؟) ”تم نماز میں کیا کہتے ہو ؟“ اس نے کہا : (أَ تَشَھَّدُ وَ أَقُوْلُ ، أَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُکَ الْجَنَّۃَ وَ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ النَّارِ ، أَمَا إِنِّيْ لَا أُحْسِنُ دَنْدَنَتَکَ وَلَا دَنْدَنَۃَ مُعَاذٍ) ”میں تشہد پڑھتا ہوں اور یہ کہتا ہوں کہ اے اللہ ! میں تجھ سے جنت مانگتا ہوں اور آگ سے تیری پناہ مانگتا ہوں، ہاں ! میں آپ جیسی اچھی گنگناہٹ نہیں کرسکتا اور نہ معاذ جیسی گنگناہٹ کرسکتا ہوں۔“ تو نبی ﷺ نے فرمایا : (حَوْلَھَا نُدَنْدِنُ) [ أبوداوٗد، الصلاۃ، باب تخفیف الصلاۃ : 792، و صححہ الألباني ] ”ہم بھی اسی کے گرد گنگنا رہے ہیں۔“ تو جب رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کی ساری تگ و دو جہنم سے بچنے اور جنت کے حصول کے لیے ہے، تو پھر ان سے بڑھ کر اللہ کی رضا چاہنے والا کون ہوگا۔ ہمارے ایک شاعر نے جو کہا ہے ؂ واعظ کمال ترک سے ملتی ہے یاں مراد سوداگری نہیں یہ عبادت خدا کی ہے دنیا جو چھوڑ دی ہے تو عقبیٰ بھی چھوڑ دے او بیخبر ، جزا کی تمنا بھی چھوڑ دے تو یہ اسی تصوف سے متاثر ہونے کا نتیجہ ہے جس کی تعلیمات بنیادی طور پر اسلام ہی کے خلاف ہیں۔ اسلام نے تو ”رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِي الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَاب النَّارِ“ کہنے کی تعلیم دی ہے۔ مسلمانوں نے جہاد چھوڑ کر دنیا کفار کے سپرد کردی اور غلامی پر قانع ہوگئے، پھر عیش و عشرت میں پڑ کر عقبیٰ سے بھی گئے اور کچھ بےچارے راہبوں کی طرح رب کو راضی کرنے کے لیے دنیا کو چھوڑ کر خانقاہوں، جنگلوں اور کٹیاؤں میں ہُو، حق کے ورد کرتے رہے اور کفر کی یلغار اسلام اور مسلمانوں کو محکوم بناتی چلی گئی۔ [ إِنَّا لِلّٰہِ وَ إِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ] وَّمِـمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة بقرہ کی آیت (3) کی تفسیر۔
Ayah 32:17

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:17 in the Quran reader

پس کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک میں سے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے، اس عمل کی جزا کے لیے جو وہ کیا کرتے تھے۔

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُن۔۔ : لفظ ”نَفْسٌ“ نکرہ ہے، جو عموم کا فائدہ دیتا ہے، یعنی کوئی نفس نہیں جانتا، خواہ انسان ہو یا جن یا فرشتہ، پھر خواہ ملک مقرب ہو یا نبی مرسل، غرض اللہ کے سوا کوئی ان نعمتوں کو نہیں جانتا جو اس نے مذکور اہل ایمان کے لیے چھپا کر رکھی ہیں، جن سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی، ان کے ان اعمال کی جزا کے لیے جو وہ کیا کرتے تھے۔ ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : (قَال اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِیْنَ مَا لَا عَیْنٌ رَأَتْ ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ ، وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ ، قَالَ أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ اقْرَؤُوْا إِنْ شِءْتُمْ : (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُن) [ بخاري، التفسیر، باب قولہ : (فلا تعلم نفس ما أخفي۔۔) : 4779۔ مسلم : 2824 ] ”اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے، میں نے اپنے صالح بندوں کے لیے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی بشر کے دل میں اس کا خیال آیا۔“ ابوہریرہ ؓ نے فرمایا، اگر چاہو تو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پڑھ لو : (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُن) [ السجدۃ : 17 ] اس مقام پر ابن کثیر ؓ نے جنت کی نعمتوں کے بیان میں کئی احادیث ذکر کی ہیں۔
Ayah 32:18

اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا١ؔؕ لَا یَسْتَوٗنَؐ Open ayah 32:18 in the Quran reader

تو کیا وہ شخص جو مومن ہو وہ اس کی طرح ہے جو نافرمان ہو ؟ برابر نہیں ہوتے۔

اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا۔۔ : ”فِسْقٌ“ کا لفظ ”فَسَقَتِ الثَّمَرَۃُ“ سے نکلا ہے، جب پھل پھٹ کر چھلکے سے نکل جائے، پھر اطاعت سے نکل جانے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ یہ لفظ نافرمان مومن پر بھی بولا جاتا ہے اور کافر پر بھی، جیسا کہ فرمایا : (وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ) [ النور : 55 ] ”جس نے اس کے بعد کفر کیا تو یہی لوگ نافرمان ہیں۔“ اس آیت میں فاسق سے مراد کافر و مشرک ہے، کیونکہ مومن کے مقابلے میں آ رہا ہے۔ کفار کے لیے عذاب کی وعید اور مومنوں کے لیے نعمتوں کی نوید کا ذکر آیا تو اس پر کوئی کج بحث کہہ سکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے خزانوں میں کیا کمی ہے، وہ چاہے تو جس طرح دنیا میں اس نے مومن و کافر سبھی کو اپنی نعمتیں دے رکھی ہیں، آخرت میں بھی دونوں کو نواز دے۔ فرمایا، یہ تو عدل و حکمت ہی کے خلاف ہے، بھلا ایک ماننے والا اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو نہ ماننے والا ہے ؟ ایک مطیع و فرماں بردار شخص اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو نافرمان اور باغی ہے ؟ دونوں کبھی برابر نہیں ہوسکتے، نہ دنیا میں ان کی زندگی کا انداز ایک ہے، نہ موت کے وقت اور نہ آخر ت میں ایک ہوگا۔ اس مضمون کی آیات کے لیے دیکھیے سورة صٓ (28) ، حشر (20) اور جاثیہ (21) یہ آخرت کے ثواب و عقاب کی نہایت عمدہ دلیل ہے، کیونکہ اگر اس دنیا کے بعد کوئی دوسری زندگی نہ ہو تو نیک و بد سب یکساں ہوجائیں اور نیک و بد کا یکساں ہوجانا پروردگار عالم کی حکمت کے بالکل خلاف ہے۔
Ayah 32:19

اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰى١٘ نُزُلًۢا بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:19 in the Quran reader

لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے تو ان کے لیے رہنے کے باغات ہیں، مہمانی اس کے بدلے جو وہ کیا کرتے تھے۔

اَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰي : ”الماوی“ ”أَوٰی یَأْوِيْ“ (ض) (جگہ پکڑنا، پناہ لینا، رہنا) سے ظرف یا مصدر میمی ہے، رہنے کی جگہ یا رہائش۔ یعنی جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے صالح عمل کیے ان کے لیے ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں، دنیا کی طرح نہیں جو دار زوال ہے اور نہ ہی جہنم کی طرح جو جائے فرار ہے۔ نُزُلًۢا بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ : ”نُزُلًۢا“ مہمان کی آمد پر اس کی خاطر تواضع کے لیے جو کچھ پیش کیا جائے۔ جب مہمانی کا یہ عالم ہے تو مزید عنایتوں کا کیا حال ہوگا۔ ان کا کچھ اندازہ اس سے پہلی آیت : (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ) اور حدیث رسول : (مَا لَا عَیْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ) [ مسلم : 2824 ] سے ہوسکتا ہے۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ وہ کسی کے نیک اعمال کو اس کے لیے جنت کی مہمانی کا سبب بنا دے، ورنہ کسی کا عمل اسے جنت میں داخل نہیں کرے گا، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (سَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا وَأَبْشِرُوْا، فَإِنَّہُ لَا یُدْخِلُ أَحَدًا الْجَنَّۃَ عَمَلُہُ ، قَالُوْا وَلَا أَنْتَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! ؟ قَالَ وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ یَّتَغَمَّدَنِيَ اللّٰہُ بِمَغْفِرَۃٍ وَ رَحْمَۃٍ) [ بخاري، الرقاق، باب القصد و المداومۃ علی العمل : 6467 ]”سیدھے رہو، قریب رہو اور خوش خبری سنو، کیونکہ کسی کو بھی اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا۔“ لوگوں نے کہا : ”یا رسول اللہ ! کیا آپ کو بھی نہیں ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”مجھے بھی نہیں، الا یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے مغفرت اور رحمت کے ساتھ ڈھانپ لے۔“
Ayah 32:20

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَاۤ اُعِیْدُوْا فِیْهَا وَ قِیْلَ لَهُمْ ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 32:20 in the Quran reader

اور رہے وہ لوگ جنھوں نے نافرمانی کی تو ان کا ٹھکانا آگ ہی ہے، جب کبھی چاہیں گے کہ اس سے نکلیں اس میں لوٹا دیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا آگ کا وہ عذاب چکھو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔

وَاَمَّا الَّذِيْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰىهُمُ النَّارُ :”الَّذِيْنَ فَسَقُوْا“ سے مراد کفار ہیں، جیسا کہ پیچھے گزرا۔ ”مَاْوَاھُمْ“ کی خبر ”النار“ معرف باللّام آنے کی وجہ سے کلام میں حصر پید اہو گیا کہ ”ان کا ٹھکانا آگ ہی ہے۔“ یعنی کفار کی جہنم سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں۔ كُلَّمَآ اَرَادُوْٓا اَنْ يَّخْـرُجُوْا مِنْهَآ اُعِيْدُوْا فِيْهَا۔۔ : ظاہر ہے جہنم سے کفار کے نکلنے کی تو کوئی صورت ہی نہیں، تو وہ آگ سے نکلنے کا ارادہ کیسے کریں گے۔ اس کا اندازہ سمرہ بن جندب ؓ سے مروی ایک لمبی حدیث سے ہوتا ہے، جس میں رسول اللہ ﷺ نے کئی چیزوں کا ذکر فرمایا، جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو خواب میں دکھائیں۔ ان میں سے ایک چیز یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : (فَانْطَلَقْنَا إِلٰی ثَقْبٍ مِثْلِ التَّنُّوْرِ أَعْلَاہُ ضَیِّقٌ وَ أَسْفَلُہُ وَاسِعٌ یَتَوَقَّدُ تَحْتَہُ نَارًا فَإِذَا اقْتَرَبَ ارْتَفَعُوْا حَتّٰی کَادَ أَنْ یَخْرُجُوْا، فَإِذَا خَمَدَتْ رَجَعُوْا فِیْھَا، وَ فِیْھَا رِجَالٌ وَنِسَاءٌ عُرَاۃٌ، فَقُلْتُ مَنْ ھٰذَا ؟ قَالَا انْطَلِقْ۔۔ وَالَّذِيْ رَأَیْتَہُ فِي الثَّقْبِ فَھُمُ الزُّنَاۃُ) [ بخاري، الجنائز، باب : 1386 ] ”پھر ہم ایک سوراخ کی طرف چلے جو تنور کی طرح تھا، اس کا اوپر کا حصہ تنگ اور نیچے کا کھلا تھا۔ اس کے نیچے سے آگ بھڑک رہی تھی، جب وہ اوپر قریب آتی تو وہ اوپر اٹھ آتے، یہاں تک کہ نکلنے کے قریب ہوجاتے، جب وہ ماند پڑتی تو واپس اسی میں لوٹ جاتے۔ میں نے کہا : ”یہ کون ہیں ؟“ تو دونوں فرشتوں نے کہا : ”آگے چلو۔“۔۔ (تمام مشاہدات کے بعد ان فرشتوں نے بتایا) ”تم نے اس سوراخ میں جو کچھ دیکھا وہ زانی لوگ تھے۔“ واضح رہے کہ ایک ہی حال میں رہنے میں تکلیف کی وہ شدت نہیں ہوتی جو بار بار اس کے دہرانے سے ہوتی ہے۔ جہنمیوں کے لیے آگ کے ماند ہونے پر ہر مرتبہ اس کی تیزی اور بڑھا دی جائے گی، جیسا کہ فرمایا : (كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِيْرًا) [ بني إسرائیل : 97 ] ”ان کا ٹھکانا جہنم ہے، جب کبھی بجھنے لگے گی ہم ان پر بھڑکانا زیادہ کردیں گے۔“ اور فرمایا : (كُلَّمَآ اَرَادُوْٓا اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ اُعِيْدُوْا فِيْهَا) [ الحج : 22 ] ”جب کبھی ارادہ کریں گے کہ سخت گھٹن کی وجہ سے اس سے نکلیں، اس میں لوٹا دیے جائیں گے۔“
Ayah 32:21

وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 32:21 in the Quran reader

اور یقینا ہم انھیں قریب ترین عذاب کا کچھ حصہ سب سے بڑے عذاب سے پہلے ضرور چکھائیں گے، تاکہ وہ پلٹ آئیں۔

وَلَنُذِيْـقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى۔۔ : یعنی ہم اس بڑے عذاب سے پہلے، جس کا ابھی ذکر ہوا انھیں ایک ادنیٰ عذاب ضرور چکھائیں گے، تاکہ وہ باز آجائیں۔ مراد آخرت کے عذاب سے پہلے دنیا کا عذاب ہے، جیسا کہ طبری نے معتبر سند کے ساتھ عبداللہ بن عباس ؓ سے نقل کیا ہے : ”اس سے مراد دنیا کی مصیبتیں، بیماریاں اور آزمائشیں ہیں، جن میں اللہ تعالیٰ بندوں کو مبتلا کرتا ہے، تاکہ وہ توبہ کرلیں۔“ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اَوَلَا يَرَوْنَ اَنَّھُمْ يُفْتَنُوْنَ فِيْ كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً اَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ لَا يَتُوْبُوْنَ وَلَا ھُمْ يَذَّكَّرُوْنَ) [ التوبۃ : 126 ] ”اور کیا وہ نہیں دیکھتے کہ بیشک وہ ہر سال ایک یا دو مرتبہ آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں، پھر بھی وہ نہ توبہ کرتے ہیں اور نہ ہی وہ نصیحت پکڑتے ہیں۔“ اور فرمایا : (ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِيْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ) [ الروم : 41 ]”خشکی اور سمندر میں فساد ظاہر ہوگیا، اس کی وجہ سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمایا، تاکہ وہ انھیں اس کا کچھ مزہ چکھائے جو انھوں نے کیا ہے، تاکہ وہ باز آجائیں۔“ کفار مکہ کے لیے اس سے مراد وہ قتل بھی ہے جس سے وہ جنگ بدر میں دو چار ہوئے اور وہ قحط سالی بھی جو نبی کریم ﷺ کی بددعا سے ان پر مسلط ہوئی۔ بعض مفسرین نے ”العذاب الادنی“ سے مراد عذاب قبر لیا ہے، مگر آیت کے آخری الفاظ ”لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ“ (تاکہ وہ پلٹ آئیں) سے ظاہ رہے کہ یہ تفسیر درست نہیں، کیونکہ عذاب قبر کے بعد توبہ اور واپس پلٹنے کا کوئی موقع نہیں۔
Ayah 32:22

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْهَا١ؕ اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَ۠ Open ayah 32:22 in the Quran reader

اور اس سے بڑا ظالم کون ہے جسے اس کے رب کی آیات کے ساتھ نصیحت کی گئی، پھر اس نے ان سے منہ پھیرلیا۔ یقینا ہم مجرموں سے انتقام لینے والے ہیں۔

وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰيٰتِ رَبِّهٖ۔۔ : یہ استفہام انکاری ہے کہ ”اس سے بڑا ظالم کون ہے ؟“ یعنی کوئی نہیں، وہی بڑا ظالم ہے جسے اس کے رب کی آیات کے ساتھ نصیحت کی گئی، پھر اس نے ان سے منہ پھیرلیا۔ ”ثم“ (پھر) کا مطلب یہ ہے کہ یہ بات بہت بعید اور تعجب والی ہے کہ آیات الٰہی کے ساتھ نصیحت کے بعد بھی اس نے ان سے منہ پھیرلیا۔ وہ آیات (نشانیاں) جن کے ساتھ آدمی کو نصیحت ہوتی ہے، کئی طرح کی ہیں، ایک آفاقی نشانیاں، جو کائنات میں ہر طرف بکھری ہوئی ہیں، مثلاً سورج، چاند، ستارے، دن رات، ہوا، بارش، سمندر، کشتیاں اور زمین کی نباتات وغیرہ۔ دوسری وہ جو خود انسان کے نفس میں موجود ہیں، یعنی اس کی ساخت، اس میں رکھی گئی عجیب و غریب قوتیں اور استعدادیں اور اس کے اعضا کا حیران کن خود کار نظام۔ ان دونوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِي الْاٰفَاقِ وَفِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ) [ حٰآ السجدۃ : 53] ”عنقریب ہم انھیں اپنی نشانیاں دنیا کے کناروں میں اور ان کے نفسوں میں دکھلائیں گے، یہاں تک کہ ان کے لیے واضح ہوجائے کہ یہی حق ہے۔“ تیسری وہ تاریخی واقعات جن سے ہمیشہ ایک ہی نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ جس قوم نے بھی اللہ کے مقابلے میں سرکشی اختیار کی اور اس کے رسولوں اور اس کی آیات کو جھٹلایا، تو اللہ نے اسے تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔ سورة ابراہیم کی آیت (5) : (وَذَكِّرْهُمْ ڏ بِاَيّٰىمِ اللّٰهِ) اور سورة یوسف کی آیت (111) : (لَقَدْ كَانَ فِيْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ) میں ایسے ہی واقعات کے ساتھ نصیحت اور عبرت مراد ہے۔ چوتھی جو آزمائشوں اور مصیبتوں کی شکل میں ہر شخص اور ہر قوم کے سامنے آتی ہیں، تاکہ وہ پلٹ آئیں، جن کا ذکر اس سے پہلی آیت میں ہے۔ پانچویں قسم اللہ تعالیٰ کی وہ آیات ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے اپنے انبیاء پر نازل فرمائیں۔ ان آیات میں بھی گزشتہ چاروں قسم کی آیات پر غور و فکر کی طرف توجہ دلا کر اللہ تعالیٰ ، اس کے رسولوں اور اس کے احکام پر عمل کی دعوت دی جاتی ہے۔ اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِيْنَ مُنْتَقِمُوْنَ : ”المجرمین“ میں الف لام عہد کا ہے، اس لیے ترجمہ ”ان مجرموں سے“ کیا گیا ہے، یعنی آیات الٰہی کے ساتھ نصیحت کے بعد منہ موڑ لینے والے ان مجرموں سے ہم یقیناً انتقام لینے والے ہیں، دنیا میں عذاب ادنیٰ اور آخرت میں عذاب اکبر کے ساتھ۔
Ayah 32:23

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَلَا تَكُنْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآئِهٖ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 32:23 in the Quran reader

اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو کتاب دی، پس تو اس کی ملاقات سے شک میں نہ ہو اور ہم نے اسے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنایا۔

وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَلَا تَكُنْ فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْ لِّــقَاۗىِٕهٖ : ”لِّــقَاۗىِٕهٖ“ کی ضمیر ”الکتب“ کی طرف بھی لوٹ سکتی ہے اور لفظ ”موسیٰ“ کی طرف بھی۔ پہلی صورت میں وہی بات دہرائی ہے جو سورت کے شروع میں فرمائی تھی کہ اس لاریب کتاب کا نازل کرنا رب العالمین کی طرف سے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس سے پہلے ہم نے موسیٰ ؑ کو کتاب دی، اب آپ کو کتاب ملی ہے، تو آپ اس کتاب کے ملنے میں کسی قسم کے شک میں مبتلا نہ ہوں۔ ہماری طرف سے کتاب کا عطا کیا جانا کوئی نئی بات نہیں، ہم پہلے بھی رسولوں کو کتابیں عطا کرتے رہے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ ۭ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ وَمَآ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ) [ الأحقاف : 9 ] ”کہہ دے میں رسولوں میں سے کوئی انوکھا نہیں ہوں اور نہ میں یہ جانتا ہوں کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور نہ (یہ کہ) تمھارے ساتھ (کیا) ، میں تو بس اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کیا جاتا ہے اور میں تو بس واضح ڈرانے والا ہوں۔“ اس میں اگرچہ اول مخاطب رسول اللہ ﷺ ہیں، مگر مراد ہر سننے والا ہے کہ کوئی بھی سننے والا رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتاب ملنے میں کسی قسم کے شک میں نہ رہے، آپ کو کتاب ملنا ایسے ہی ہے جیسے ہم نے موسیٰ ؑ کو کتاب دی، یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔ اس تفسیر کے مطابق ”الکتب“ سے مراد خاص تورات نہیں، جنس کتاب ہے، یعنی ہم نے موسیٰ ؑ کو کتاب دی تو آپ بھی کتاب ملتے ہی کوئی شک نہ کریں۔ اور ”لِقَاءٌ“ سے مراد کتاب کا ملنا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَاِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ عَلِيْمٍ) [ النمل : 6 ] ”اور بلاشبہ یقیناً تجھے قرآن ایک کمال حکمت والے، سب کچھ جاننے والے کے پاس سے عطا کیا جاتا ہے۔“ رسول اللہ ﷺ سے پہلے قریب ترین پیغمبر اگرچہ عیسیٰ ؑ ہیں، مگر ایک تو تمام بنی اسرائیل ان پر ایمان نہیں لائے اور ایک یہ کہ وہ بھی تورات ہی کے احکام پر عمل کرتے تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے بجائے موسیٰ ؑ کو کتاب دینے کا ذکر فرمایا۔ بعض مفسرین نے ”الکتب“ کی طرف ضمیر لوٹانے کی صورت میں یہ معنی کیا ہے کہ آپ موسیٰ ؑ کو کتاب ملنے کے بارے میں شک نہ کریں۔ دوسری صورت میں یعنی جب ”لقائه“ کی ضمیر موسیٰ ؑ کی طرف جا رہی ہو تو معنی یہ ہوگا کہ آپ موسیٰ ؑ کے ساتھ اپنی ملاقات کے بارے میں کسی قسم کے شک میں نہ رہیں، جو معراج کی رات بیت المقدس میں اور چھٹے آسمان پر ہوئی، جیسا کہ صحیح بخاری اور دوسری کتب احادیث میں مذکور ہے۔ ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (رَأَیْتُ لَیْلَۃَ أُسْرِيَ بِيْ مُوْسٰی رَجُلاً آدَمَ طُوَالاً جَعْدًا، کَأَنَّہُ مِنْ رِجَالِ شَنُوْءَۃَ ، وَ رَأَیْتُ عِیْسٰی رَجُلاً مَرْبُوْعًا مَرْبُوْعَ الْخَلْقِ إِلَی الْحُمْرَۃِ وَ الْبَیَاضِ ، سَبْطَ الرَّأْسِ ، وَرَأَیْتُ مَالِکًا خَازِنَ النَّارِ وَ الدَّجَّالَ فِيْ آیَاتٍ أَرَاہُنَّ اللّٰہُ إِیَّاہُ ، فَلاَ تَکُنْ فِيْ مِرْیَۃٍ مِنْ لِّقَاءِہِ) [ بخاري، بدء الخلق، باب إذا قال أحدکم آمین و الملائکۃ في السماء۔۔ : 3239 ] ”میں نے اس رات جب مجھے رات کو لے جایا گیا، موسیٰ (ؑ) کو دیکھا، بہت لمبے گٹھے ہوئے جسم یا گھونگریالے بالوں والے، گویا وہ شنوءہ قبیلے کے آدمیوں سے ہیں اور میں نے عیسیٰ (ؑ) کو دیکھا، میانہ قد، سرخی اور سفیدی کی طرف مائل سیدھے بالوں والے اور میں نے جہنم کے دربان مالک اور دجال کو دیکھا، من جملہ ان کئی اور نشانیوں کے جو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو دکھائیں۔ (سورۂ سجدہ میں اسی کا ذکر ہے کہ) پس تو اس کی ملاقات کے بارے میں کسی شک میں نہ رہ۔“ وَجَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ : ”جعلنہ“ میں ”ہٗ“ کی ضمیر کتاب کے لیے ہے، یعنی ہم نے موسیٰ ؑ کو دی جانے والی کتاب کو بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنادیا۔ پہلے اسی مضمون کی آیت سورة بنی اسرائیل (2) میں گزر چکی ہے۔
Ayah 32:24

وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا١ؕ۫ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:24 in the Quran reader

اور ہم نے ان میں سے کئی پیشوا بنائے، جو ہمارے حکم سے ہدایت دیتے تھے، جب انھوں نے صبر کیا اور وہ ہماری آیات پر یقین کیا کرتے تھے۔

ۚوَجَعَلْنَا مِنْهُمْ اَىِٕمَّةً يَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا : اور ہم نے بنی اسرائیل میں سے کچھ ایسے امام اور پیشوا بنائے جو لوگوں کی رہنمائی ہمارے حکم کے ساتھ کرتے تھے۔ ظاہر ہے اللہ کے حکم کے ساتھ رہنمائی وہی لوگ کرسکتے ہیں جو اس کا علم رکھتے ہوں، اس میں بنی اسرائیل کے انبیاء بھی شامل ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے پہلے ابراہیم، اسحاق اور یعقوب ؑ کے متعلق فرمایا : (وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَاَوْحَيْنَآ اِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرٰتِ وَاِقَام الصَّلٰوةِ وَاِيْتَاۗءَ الزَّكٰوةِ ۚ وَكَانُوْا لَنَا عٰبِدِيْنَ) [ الأنبیاء : 73 ] ”اور ہم نے انھیں ایسے پیشوا بنایا جو ہمارے حکم کے ساتھ رہنمائی کرتے تھے اور ہم نے ان کی طرف نیکیاں کرنے اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کی وحی بھیجی اور وہ صرف ہماری عبادت کرنے والے تھے۔“ اور بنی اسرائیل کے وہ علماء بھی جو ہدایت پر قائم تھے اور لوگوں کو اللہ کے حکم کے مطابق اس ہدایت کی طرف دعوت دیتے تھے۔ یہ ہدایت اللہ کی کتاب تھی اور اس پر ایمان لانے والے دو طرح کے لوگ تھے، ایک وہ ائمہ جو اللہ کے حکم کے مطابق رہنمائی کرتے تھے اور دوسرے ان کے وہ پیروکار جو اس رہنمائی پر عمل کرتے تھے۔ پہلی قسم کے لوگوں کا مقام نبوت کے بعد سب سے بلند ہے، فرمایا : (يَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ ۙ وَالَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ) [ المجادلۃ : 11 ] ”اللہ ان لوگوں کو درجوں میں بلند کرے گا جو تم میں سے ایمان لائے اور جنھیں علم دیا گیا۔“ لَمَّا صَبَرُوْا ڜ وَكَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يُوْقِنُوْنَ : یعنی ان ائمہ کو پیشوائی کا یہ مقام دو وجہ سے حاصل ہوا، ایک صبر کی وجہ سے کہ انھوں نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری پر باندھ کر اور اس کی منع کردہ چیزوں سے روک کر رکھا۔ وہ اللہ کے دین کی دعوت دیتے رہے اور اس کے لیے جہاد کرتے رہے اور انھوں نے اس راستے میں پیش آنے والی ہر مصیبت پر صبر کیا۔ دوسرے اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین کی وجہ سے کہ وہ دنیاوی فائدوں اور لذتوں میں پھسل جانے والے نہیں تھے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کے وعدوں پر یقین رکھنے والے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ امامت کا مقام وہی لوگ حاصل کرسکتے ہیں جو صبر اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین کے وصف سے آراستہ ہوں۔