Ayahs 31:1–2الۗمّۗ ۚتِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِيْمِ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة یونس کی پہلی آیت کی تفسیر۔
Ayahs 31:3–5هُدًى وَّرَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِيْنَ۔۔ : ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة بقرہ کی آیات (2 تا 5) کی تفسیر۔
Ayahs 31:6–7وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْتَرِيْ لَهْوَ الْحَدِيْثِ۔۔ : محسنین کے اوصاف اور ان کے حسن انجام کے ذکر کے بعد ان بدنصیبوں کا ذکر فرمایا جن کے لیے ”عَذَابٌ مُّهِيْنٌ“ یعنی ذلیل کرنے والا عذاب تیار ہے۔ ”لَهْوَ“ کا لفظی معنی ”غافل کردینا“ ہے، جیسا کہ فرمایا : (لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَلَآ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ) [ المنافقون : 9 ] ”تمہارے اموال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کردیں۔“ ”لَهْوَ“ ہر اس بات یا کام کو کہتے ہیں جو انسان کو اس کے مقصد کی چیز سے غافل کر دے۔ شیخ عبدالرحمان السعدی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ”وَمِنَ النَّاسِ“ لوگوں میں سے کوئی ایسا بدنصیب اور بےتوفیق بھی ہے، ”مَنْ يَّشْتَرِيْ“ جو اس طرح رغبت رکھتا اور پسند کرتا ہے جیسے قیمت خرچ کر کے حاصل کرنے والا پسند کرتا ہے، ”لَهْوَ الْحَدِيْثِ“ ان باتوں کو جو دلوں کو غافل کردینے والی اور عظیم مقصد سے روک دینے والی ہوتی ہیں۔ چناچہ اس میں ہر حرام کلام، ہر باطل اور ایسے اقوال پر مشتمل ہر ہذیان داخل ہے جو کفر، فسق اور معصیت کی رغبت پیدا کرے، وہ اقوال حق کو رد کرنے والے لوگوں کے ہوں، جو باطل کے ساتھ بحث کر کے حق کو زیر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، غیبت، چغلی، جھوٹ اور گالی گلوچ کی صورت میں ہوں یا گانے بجانے، شیطان کے باجوں اور غافل کردینے والی داستانوں اور افسانوں کی صورت میں ہوں، جن کا نہ دنیا میں کوئی فائدہ ہو نہ آخرت میں۔ تو لوگوں کی یہ قسم وہ ہے جو ہدایت والی بات چھوڑ کر ”لَهْوَ“ والی بات خریدتی ہے۔“
3 میں نے شیخ عبد الرحمن السعدی کا کلام اس لیے نقل کیا ہے کہ عام طور پر اس آیت میں ”لَهْوَ الْحَدِيْثِ“ سے مراد صرف گانا بجانا لیا جاتا ہے، جب کہ آیت کا مفہوم اس سے بہت وسیع ہے، اگرچہ حرام غنا (ناجائز گانا) بھی اس میں شامل ہے۔ طبری میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے جو حسن سند کے ساتھ ثابت ہے کہ انھوں نے قسم کھا کر فرمایا کہ اس سے مراد غنا (گانا) ہے، تو یہ ”لَهْوَ الْحَدِيْثِ“ کی ایک جزئی کا بیان ہے۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ اس کا مصداق ایسے گانے بجانے والے ہوں گے جو دین سے روکنے والے، اللہ تعالیٰ کی آیات کو مذاق بنانے والے اور انھیں سن کر تکبر سے منہ پھیرنے والے ہوں، کیونکہ ان اوصاف کی ان آیات میں صراحت ہے، اور یہ اوصاف کفار کے ہیں مسلمانوں کے نہیں اور انھی کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ مسلمان کو ہونے والا عذاب تو اسے گناہوں سے پاک کرنے کے لیے ہوگا۔ البتہ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ مسلمان کہلانے والے لوگ جو حرام عشقیہ گانے بجانے کو اپنا پیشہ یا شغل بنا لیتے ہیں، اس کے نتیجے میں ان کے دلوں میں بدترین نفاق پیدا ہوجاتا ہے اور اللہ کی آیات کو سن کر ان کے ساتھ ان کا رویہ بھی بعینہٖ وہی ہوتا ہے جو ان آیات میں مذکور ہے۔ یہ لوگ اللہ کی آیات کا مذاق اڑانے کے لیے مولوی کا مذاق اڑاتے اور اسے گالی دیتے ہیں، جب کہ ظاہر ہے کہ مولوی بےچارے کا قصور یہ ہے کہ وہ اللہ کی آیات سناتا ہے۔ ایسی صورت میں صرف نام کے مسلمان ہونے کا اللہ تعالیٰ کے ہاں کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ اللہ کی آیات کے انکار، ان سے استکبار اور ان کو مذاق بنانے کے ساتھ مسلمانی کے دعوے پر اصرار قیامت کے دن ان کے کسی کام نہ آئے گا۔ افسوس ! اس وقت یہ بیماری بری طرح امت مسلمہ میں پھیل چکی ہے۔ ریڈیو، ٹیلی ویژن، موبائل فون، انٹرنیٹ، غرض ہر ذریعے سے کفار اور ان کے نام نہاد مسلم گماشتوں نے اسے اس قدر پھیلا دیا ہے کہ کم ہی کوئی خوش نصیب اس سے بچا ہوگا۔ حالانکہ دین کے کمال و زوال کے علاوہ دنیوی عروج و زوال میں بھی اس کا بہت بڑا حصہ ہے۔ اقبال نے چند لفظوں میں اس کا نقشہ کھینچا ہے
میں تجھ کو بتاتا ہوں تقدیر امم کیا ہے
شمشیر و سناں اول، طاؤس و رباب آخر
کوئی شخص اگر حرام گانے بجانے کا عمل گناہ سمجھ کر کرے، اس پر نادم ہو تو پھر بھی معافی کی امید ہے، مگر جب کوئی قوم فنون لطیفہ یا روح کی غذا کا نام دے کر اسے حلال ہی کرلے، تو اس کے لیے اللہ کے عذاب کے کوڑے سے بچنا بہت ہی مشکل ہے۔ ابو عامر یا ابو مالک اشعری ؓ نے نبی ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا : (لَیَکُوْنَنَّ مِنْ أُمَّتِيْ أَقْوَامٌ یَسْتَحِلُّوْنَ الْحِرَ وَالْحَرِیْرَ وَالْخَمْرَ وَالْمَعَازِفَ ، وَلَیَنْزِلَنَّ أَقْوَامٌ إِلٰی جَنْبِ عَلَمٍ یَرُوْحُ عَلَیْہِمْ بِسَارِحَۃٍ لَّہُمْ ، یَأْتِیْہِمْ ، یَعْنِي الْفَقِیْرَ ، لِحَاجَۃٍ فَیَقُوْلُوْا ارْجِعْ إِلَیْنَا غَدًا فَیُبَیِّتُہُمُ اللّٰہُ وَیَضَعُ الْعَلَمَ ، وَیَمْسَخُ آخَرِیْنَ قِرَدَۃً وَخَنَازِیْرَ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ) [ بخاري، الأشربۃ، باب ما جاء فیمن یستحل الخمر۔۔ : 5590 ] ”میری امت میں کئی لوگ ہوں گے جو شرم گاہ (زنا) اور ریشم اور شراب اور باجوں کو حلال کرلیں گے اور کئی لوگ ایک پہاڑ کے پہلو میں اتریں گے، ان کے چرواہے شام کو ان کے چرنے والے مویشی لایا کریں گے، ان کے پاس فقیر اپنی حاجت کے لیے آئے گا، وہ کہیں گے کل آنا۔ تورات ہی کو اللہ تعالیٰ ان پر اپنا عذاب بھیجے گا اور وہ پہاڑ ان پر گرا دے گا اور کئی دوسروں کی شکلیں قیامت تک کے لیے بندروں اور خنزیروں کی شکل میں بدل دے گا۔“ ابو مالک اشعری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَیَشْرَبَنَّ نَاسٌ مِّنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ یُسَمُّوْنَھَا بِغَیْرِ اسْمِھَا، یُعْزَفُ عَلٰی رُؤُوْسِھِمْ بالْمَعَازِفِ وَالْمُغَنِّیَاتِ یَخْسِفُ اللّٰہُ بِھِمُ الْأَرْضَ وَیَجْعَلُ مِنْھُمُ الْقِرَدَۃَ وَالْخَنَازِیْرَ) [ ابن ماجہ، الفتن، باب العقوبات : 4020، و قال الألباني صحیح ] ”میری امت کے کچھ لوگ شراب پییں گے، اس کا نام اصل نام کے بجائے اور رکھ لیں گے، ان کے سامنے باجے بجائے جائیں گے اور گانے والیاں گائیں گی۔ اللہ تعالیٰ انھیں زمین میں دھنسا دے گا اور ان میں سے بعض کو بندر اور خنزیر بنا دے گا۔“
Ayah 31:8اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ۔۔ : لہو الحدیث کے خریدار بدنصیبوں اور ان کی جزا کے ذکر کے بعد ایمان اور عمل صالح والے خوش نصیبوں کا ذکر فرمایا کہ ان کے لیے نعمت کے باغات ہیں، جن میں نعمت ہی نعمت ہوگی، کسی قسم کی زحمت یا تکلیف یا رنج و غم نہیں ہوگا، جب کہ دنیا کا کوئی باغ یا کوئی نعمت ایسی نہیں جس کے ساتھ کوئی زحمت یا رنج و غم نہ ہو۔
Ayah 31:9خٰلِدِيْنَ فِيْهَا : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة کہف (107، 108)۔
وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا : جنت کے وعدے کی ضمانت کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنا نام ذکر فرمایا کہ یہ کسی ایرے غیرے کا وعدہ نہیں، بلکہ ساری کائنات کے مالک اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے جو سب سے بڑا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ”حَقًّا“ کے ساتھ مزید یقین دلایا ہو کہ وعدہ بھی ایسا ہے جو بالکل سچا ہے، جس سے زیادہ سچا کوئی وعدہ ہو ہی نہیں سکتا۔
وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ : اس میں مزید یقین دہانی ہے کہ یہ وعدہ کرنے والا وہ ہے جو سب پر غالب ہے، کوئی قوت اسے وعدہ پورا کرنے سے روک نہیں سکتی اور وہ کمال حکمت والا ہے۔ اس نے یہ وعدہ اندھا دھند اور بےموقع نہیں فرمایا، بلکہ حکمت کے مطابق فرمایا ہے۔
Ayah 31:10خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا۔۔ : اس میں اللہ تعالیٰ کی عزت و حکمت کی چند نشانیوں کا ذکر فرما کر اس کی توحید کو اجاگر فرمایا، جو قرآن مجید کا سب سے بڑا اور اصل موضوع ہے۔ ”بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا“ کی تفسیر سورة رعد (2) میں اور ”وَاَلْقٰى فِي الْاَرْضِ رَوَاسِيَ اَنْ تَمِيْدَ بِكُمْ“ کی تفسیر سورة حجر (19) اور سورة انبیاء (31) میں دیکھیے۔
Ayah 31:11ھٰذَا خَلْقُ اللّٰهِ فَاَرُوْنِيْ مَاذَا خَلَقَ الَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖ۔۔ : یعنی یہ ستونوں کے بغیر بلند آسمان، زمین میں گڑے ہوئے پہاڑ اور اس میں پھیلے ہوئے جانور، آسمان سے اترنے والا پانی اور اس کے ساتھ زمین سے پیدا ہونے والی ہر عمدہ اور نفیس قسم کی چیز، یہ سب کچھ تو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے۔ اب مجھے دکھاؤ کہ وہ کون سی چیز ہے جو اس کے سوا کسی اور نے پیدا فرمائی ہے ؟ ظاہر ہے ایک بھی نہیں۔ تو پھر مشرکین اس کے سوا کسی اور کی عبادت کیوں کرتے ہیں، کیا ان کے پاس کوئی دلیل ہے ؟ فرمایا نہیں، بلکہ اصل یہ ہے کہ مشرک ظالم ہیں اور ظالم بھی ایسے جو واضح گمراہی میں مبتلا ہیں، شرک کی ظلمت اور اندھیرے میں انھیں سیدھا راستہ سوجھتا ہی نہیں، اس لیے وہ اس راستے پر چل رہے ہیں جو واضح طور پر غلط اور گمراہی کا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بار بار اس بات کو اپنی توحید کی دلیل کے طور پر بیان فرمایا ہے کہ پیدا کرنے والا صرف وہ ہے، تو پھر عبادت کسی اور کی کیوں ہو ؟ دیکھیے سورة بقرہ (21، 22) ، رعد (16) ، نحل (17 تا 21) ، حج (73، 74) ، فاطر (40) اور احقاف (4، 5)۔
Ayah 31:12وَلَقَدْ اٰتَيْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَةَ : تفاسیر میں لقمان کے متعلق جو کچھ لکھا ہے ملاحظہ فرمائیں، روح المعانی میں ہے : ”وہب نے کہا، وہ ایوب ؑ کے بھانجے تھے۔ مقاتل نے کہا، ان کے خالہ زاد تھے۔ عبدالرحمن سہیلی نے کہا، وہ عنقا بن سرون کے بیٹے تھے۔ بعض نے کہا، وہ آزر کی اولاد سے تھے، ہزار برس زندہ رہے اور داؤد ؑ کو پایا اور ان سے علم حاصل کیا۔
ان کے مبعوث ہونے سے پہلے فتویٰ دیتے تھے، جب وہ مبعوث ہوئے تو فتویٰ دینا چھوڑ دیا۔ ان سے پوچھا گیا تو فرمانے لگے، جب مجھ سے کفایت کی گئی تو کیا میں اکتفا نہ کروں۔ بعض نے کہا، وہ بنی اسرائیل کے ایک قاضی تھے۔ یہ بات واقدی سے نقل کی گئی ہے، مگر انھوں نے کہا، ان کا زمانہ محمد ﷺ اور عیسیٰ ؑ کے درمیان تھا۔ عکرمہ اور شعبی نے کہا، وہ نبی تھے۔ اکثر کا کہنا ہے کہ وہ داؤد ؑ کے زمانہ میں تھے، نبی نہیں تھے اور ان کے بارے میں اختلاف ہے کہ وہ آزاد تھے یا غلام۔ اکثر کا کہنا ہے کہ وہ غلام تھے۔ ایک اختلاف اور ہے، بعض نے کہا، حبشی تھے، یہ ابن عباس اور مجاہد سے مروی ہے اور ابن مردویہ نے یہ ابوہریرہ ؓ سے مرفوعاً روایت کی ہے۔ مجاہد نے ان کے بارے میں بیان کیا کہ وہ موٹے ہونٹوں اور پاؤں کے سیدھے تلوے والے تھے۔ بعض نے کہا، وہ نوبی تھے، پھٹے ہوئے پاؤں اور موٹے ہونٹوں والے تھے۔ یہ ابن عباس، ابن مسیب اور مجاہد سے منقول ہے۔ ابن ابی حاتم نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا، میں نے جابر بن عبداللہ ؓ سے کہا، آپ کو لقمان کے بارے میں کیا خبر پہنچی ہے ؟ انھوں نے فرمایا، وہ چھوٹے قد، چپٹی ناک والے نوبی (حبشی) تھے۔ ابن ابی حاتم، ابن جریر اور ابن المنذر نے ابن المسیّب سے بیان کیا ہے، انھوں نے فرمایا کہ لقمان مصر کے سیاہ فام لوگوں میں سے کالے رنگ والے اور بڑے ہونٹوں والے تھے، اللہ تعالیٰ نے انھیں حکمت عطا کی، مگر نبوت نہیں دی۔ اس میں بھی اختلاف ہے کہ ان کا پیشہ کیا تھا۔ چناچہ خالد بن ربیع نے کہا، وہ نجار (راء کے ساتھ) یعنی ترکھان تھے اور معانی الزجاج میں ہے، وہ نجاد تھے (دال کے ساتھ، بروزن کتاب، جو بچھونے اور گدے وغیرہ بناتے اور سیتے ہیں)۔ ابن ابی شیبہ نے اور احمد نے ”الزہد“ میں اور ابن المنذر نے ابن المسیّب سے روایت کی ہے کہ وہ خیاط (کپڑے سینے والے) تھے، جو نجاد سے عام ہے۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ وہ چرواہے تھے۔ بعض نے کہا، وہ ہر روز اپنے مالک کے لیے ایندھن کا گٹھا لاتے تھے۔“ مفسر آلوسی صاحب روح المعانی یہ سب کچھ نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں : ”وَلَا وُثُوْقَ لِيْ بِشَيْءٍ مِنْ ھٰذِہِ الْأَخْبَارِ وَإِنَّمَا نَقَلْتُھَا تَأْسِیًا بِمَنْ نَقَلَھَا مِنَ الْمُفَسِّرِیْنَ الْأَخْیَارِ غَیْرَ أَنِّيْ أَخْتَارُ أَنَّہُ کَانَ رَجُلًا صَالِحًا حَکِیْمًا وَلَمْ یَکُنْ نَبِیًّا“ ”یعنی مجھے ان خبروں میں سے کسی پر کوئی اعتبار نہیں ہے، میں نے تو انھیں صرف اس لیے نقل کیا ہے کہ جید مفسرین نے انھیں نقل کیا ہے۔ میں تو صرف اس بات کو ترجیح دیتا ہوں کہ وہ صالح اور حکیم (و دانا) آدمی تھے، نبی نہیں تھے۔“
میں نے بھی یہ سارا کلام یہ دکھانے کے لیے نقل کیا ہے کہ بعض مفسرین کس طرح بلاثبوت باتیں نقل کرتے جاتے ہیں اور یہ سوچنے کی زحمت ہی نہیں کرتے کہ مجاہد، قتادہ، ابن المسیّب وغیرہ حضرات کا ہزاروں برس پہلے گزرے ہوئے لقمان کے ساتھ کوئی میل جول رہا ہے، یا انھوں نے ان تک کوئی سند بیان کی ہے۔ نہ رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب روایت نقل کرتے ہوئے یہ اہتمام کرتے ہیں کہ ثابت شدہ روایت ہی نقل کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں ان کے متعلق اس سے زیادہ کچھ معلوم نہیں جو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان فرمایا اور جسے صاحب روح المعانی نے ترجیح دی ہے۔ ان کے غلام یا حبشی وغیرہ ہونے کی کوئی روایت پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچتی۔ البتہ نبی ﷺ کی بعثت سے پہلے بھی ان کی حکمت اور دانائی کے واقعات عرب میں مشہور تھے اور جاہلی شعراء اور خطباء اپنے کلام میں ان کا ذکر کرتے تھے، جیسا کہ ابن ہشام نے اپنی سیرت میں نقل کیا ہے۔
3 شرک کی تردید میں ایک پر زور عقلی دلیل پیش کرنے کے بعد اب عرب کے لوگوں کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ توحید کی بات صرف پیغمبروں ہی کے ذریعے سے نہیں آئی، بلکہ عقل و حکمت کا تقاضا بھی یہی ہے اور پہلے عاقل اور دانا لوگ بھی یہی بات کہتے چلے آئے ہیں، چناچہ تمہارا اپنا مشہور حکیم لقمان بھی اب سے بہت پہلے یہی کچھ کہہ گیا ہے۔
اَنِ اشْكُرْ لِلّٰهِ : تفسیر قاسمی میں ہے : ”قَالَ فِي الْبَصَاءِرِ الشُّکْرُ مَبْنِيٌّ عَلٰی خَمْسَۃِ قَوَاعِدَ ، خُضُوْعُ الشَّاکِرِ لِلْمَشْکُوْرِ وَ حُبُّہُ لَہُ وَاعْتِرَافُہُ بِنِعْمَتِہِ وَالثَّنَاءُ عَلَیْہِ بِھَا وَ أَنْ لَّا یَسْتَعْمِلَھَا فِیْمَا یَکْرَہُ ، ھٰذَا الْخَمْسَۃُ ھِيَ أَسَاس الشُّکْرِ وَبَنَاءُ ہُ عَلَیْھَا فَإِنْ عُدِمَ مِنْھَا وَاحِدَۃٌ اخْتَلَّتْ قَاعِدَۃٌ مِّنْ قَوَاعِدِ الشُّکْرِ وَکُلُ مَنْ تَکَلَّمَ فِي الشُّکْرِ فَإِنَّ کَلَامَہُ إِلَیْھَا یَرْجِعُ وَ عَلَیْھَا یَدُوْرُ“ ”البصائر میں فرمایا کہ شکر کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے، شکر کرنے والے کا اس کے سامنے عاجز ہونا جس کا وہ شکر ادا کر رہا ہے، اس کے ساتھ محبت کرنا، اس کی نعمت کا اعتراف کرنا، اس پر اس کی تعریف کرنا اور یہ کہ اس نعمت کو اس جگہ استعمال نہ کرے جہاں نعمت دینے والا پسند نہ کرتا ہو۔ یہ پانچوں چیزیں ہی شکر کی اساس ہیں اور انھی پر اس کی بنیاد ہے۔ اگر ان میں سے کوئی ایک کم ہو تو شکر کی بنیادوں میں سے ایک بنیاد کم ہوجائے گی۔ جس نے بھی شکر کے بارے میں گفتگو کی ہے اس کی گفتگو کا نتیجہ یہی ہے اور وہ اسی پر گھومتی ہے۔“
وَمَنْ يَّشْكُرْ فَاِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة ابراہیم (7) اور سورة نمل (40)۔
وَمَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ حَمِيْدٌ : یعنی کسی کے کفر کا اللہ تعالیٰ کو کچھ نقصان نہیں، کیونکہ وہ بےنیاز ہے اور وہ کسی کے شکر کا محتاج نہیں، کوئی شکر کرے یا نہ کرے، کائنات کا ذرہ ذرہ گواہی دے رہا ہے کہ اس کی ذات محمود ہے اور تمام خوبیوں کا مالک وہی ہے، کسی میں کوئی خوبی ہے تو اس کی اپنی نہیں بلکہ اسی کی عطا کردہ ہے۔
Ayah 31:13وَاِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لابْنِهٖ وَهُوَ يَعِظُهٗ۔۔ : ”وَعَظَ“ کا معنی کسی چیز سے روکنا ہے، جس میں ترغیب کے ساتھ ڈرانا بھی ہو، جیسا کہ اللہ نے نوح ؑ کو بیٹے کے لیے سفارش پر فرمایا : (فَلَا تَسْـــَٔـلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ ۭ اِنِّىْٓ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ) [ ھود : 46 ] ”پس مجھ سے اس بات کا سوال نہ کر جس کا تجھے کچھ علم نہیں۔ بیشک میں تجھے اس سے نصیحت کرتا ہوں کہ تو جاہلوں میں سے ہوجائے۔“ اور جیسا کہ فرمایا : (فَاَعْرِضْ عَنْھُمْ وَعِظْھُمْ وَقُلْ لَّھُمْ فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِيْغًا) [ النساء : 63 ] ”سو تو ان سے دھیان ہٹا لے اور انھیں نصیحت کر اور ان سے ایسی بات کہہ جو ان کے دلوں میں بہت اثر کرنے والی ہو۔“
يٰبُنَيَّ :”اِبْنٌ“ اصل میں ”بَنْوٌ“ ہے، اس کی تصغیر ”بُنَیْوٌ“ ہے۔ یائے متکلم کی طرف مضاف کرنے سے ”بُنَیْوِيَ“ ہوگیا۔ واؤ کو یاء کرنے سے ”بُنَیْیِيَ“ ہوگیا۔ پھر ایک یاء حذف کرنے اور ادغام سے ”بُنَيَّ“ ہوگیا۔ معنی اس کا ہے ”اے میرے چھوٹے بیٹے۔“ چھوٹے سے مراد پیارا ہے۔ بیٹے پر شفقت اور محبت کے اظہار کے لیے تصغیر اور یائے متکلم کی طرف مضاف کر کے مخاطب فرمایا۔
3 اس سے معلوم ہوا کہ وعظ کرتے وقت مخاطب کو نہایت محبت اور شفقت بھرے الفاظ کے ساتھ خطاب کرنا چاہیے، جیسا کہ لقمان ؑ نے اپنے بیٹے کو ”يٰبُنَيَّ“ کہہ کر اور ابراہیم ؑ نے اپنے والد کو ”یَااَبَتِ“ کہہ کر مخاطب فرمایا اور رسول اللہ ﷺ نے ابو طالب کو ”یَا عَمِّ ! قُلْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ“ کہہ کر وعظ فرمایا۔ بلکہ عام گفتگو میں بھی اس ادب کو ملحوظ رکھنا چاہیے، جیسا کہ یوسف ؑ نے والد کو ”یا ابت انی رایت احد عشر کوکبا“ اور والد نے انھیں ”یبنی لا تقصص رویاک علی اخوتک“ کے ساتھ مخاطب کیا۔
لَا تُشْرِكْ باللّٰهِ : حکمت عطا ہونے کے بعد یہ پہلی نصیحت ہے جو لقمان ؑ نے اپنے بیٹے کو کی اور یہی وہ اصل الاصول ہے جس کی وحی اللہ تعالیٰ نے اپنے ہر رسول کو فرمائی، فرمایا : (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ) [ الأنبیاء : 25 ] ”اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کرو۔“ اس سے معلوم ہوا کہ ہر والد کے لیے ضروری ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنی اولاد کو شرک سے بچانے کی کوشش کرے۔ اس کوشش میں وعظ کے ساتھ ان کے لیے اللہ سے دعا بھی شامل ہے، جیسا کہ ابراہیم ؑ نے جب اسماعیل ؑ اور ان کی والدہ کو وادی غیر ذی زرع میں چھوڑا، تو ان کے نگاہوں سے اوجھل ہونے پر اللہ تعالیٰ سے دعا کی : (وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهِيْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّاجْنُبْنِيْ وَبَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ) [ إبراہیم : 35 ] ”اور جب ابراہیم نے کہا اے میرے رب ! اس شہر کو امن والا بنادے اور مجھے اور میرے بیٹوں کو بچا کہ ہم بتوں کی عبادت کریں۔“
اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ : ”اِنَّ“ کا لفظ تعلیل کے لیے آتا ہے، یعنی اس کے ساتھ پہلی بات کی علت بیان کی جاتی ہے، فرمایا : ”اللہ کے ساتھ شرک مت کر، کیونکہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔“ ظلم کا معنی ہے ”وَضْعُ الشَّيْءِ فِيْ غَیْرِ مَحَلِّہِ“ کسی چیز کو اس کی جگہ کے بجائے دوسری جگہ رکھ دینا، کسی کا حق دوسرے کو دے دینا۔ کیونکہ ظلم کا اصل معنی اندھیرا ہے اور اندھیرے میں آدمی کسی چیز کو اس کی اصل جگہ نہیں رکھ سکتا۔ موحّد آدمی اپنی پوری زندگی توحید کی روشنی میں بصیرت کے ساتھ گزارتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (قُلْ هٰذِهٖ سَبِيْلِيْٓ اَدْعُوْٓا اِلَى اللّٰهِ 7 عَلٰي بَصِيْرَةٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِيْ) [ یوسف : 108 ] ”کہہ دے یہی میرا راستہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں، پوری بصیرت پر، میں اور وہ بھی جنھوں نے میری پیروی کی ہے۔“ جب کہ مشرک ساری عمر شرک کی ظلمتوں میں بھٹکتا رہتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (ۻ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ) [ البقرۃ : 171 ] ”بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں، پس وہ نہیں سمجھتے۔“ شرک بہت بڑا ظلم اس لیے ہے کہ اس سے بڑھ کر بےانصافی ہو نہیں سکتی کہ بےبس اور عاجز مخلوق کو خالق ومالک اور مختار رب تعالیٰ کے اختیارات کا مالک بنادیا جائے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حق تلفی ہے اور آدمی کا اپنی جان پر بھی بہت بڑا ظلم کہ وہ اپنے آپ کو توحید کے بلند آسمان سے گرا کر شرک کی پستی میں گرا دے اور ہمیشہ کی نعمتوں والی جنت کے بجائے ابد الآباد جہنم کے عذاب کا سزاوار ٹھہرے۔ دیکھیے سورة حج (31) اور مائدہ (72) مزید دیکھیے سورة انعام کی آیت (82) : (اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ) کی تفسیر۔
Ayah 31:14 وَوَصَّيْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ : اللہ عزوجل نے لقمان ؑ کی اپنے بیٹے کو وصیت ذکر فرمائی، جس میں انھوں نے اسے اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے کی تاکید فرمائی، تو ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے انسان کو ماں باپ کا حق ادا کرنے کی وصیت فرما دی، کیونکہ وہ دنیا میں اس کے آنے اور اس کی پرورش کا ذریعہ بنے۔ قرآن مجید میں کئی جگہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کا ذکر اکٹھا آیا ہے۔ دیکھیے بنی اسرائیل (23، 24) ، عنکبوت (8) اور انعام (151) یہاں ”وَوَصَّيْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ“ کے بعد اس وصیت کی تفسیر ”ان اشکر لی والدیک“ کے ساتھ فرمائی ہے، یعنی ہم نے انسان کو اس کے والدین کے متعلق وصیت کی کہ میرا اور اپنے والدین کا شکر ادا کر۔ درمیان میں جملہ معترضہ کے طور پر ماں کا حق زیادہ ہونے کی طرف توجہ دلائی کہ اس نے باپ سے کہیں زیادہ بچے کی مشقت اٹھائی ہے۔ معاویہ بن حیدہ ؓ (دادا بہز بن حکیم) بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا : (یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! مَنْ أَبَرُّ) ”یا رسول اللہ ! میں کس کے ساتھ نیکی اور احسان و سلوک کروں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا : (أُمَّکَ ثُمَّ أُمَّکَ ثُمَّ أُمَّکَ ثُمَّ أَبَاکَ ثُمَّ الْأَقْرَبَ فَالْأَقْرَبَ) [ أبوداوٗد، الأدب، باب في بر الوالدین، : 5139، و قال الألباني حسن صحیح ] ”اپنی ماں کے ساتھ، پھر اپنی ماں کے ساتھ، پھر اپنی ماں کے ساتھ، پھر اپنے باپ کے ساتھ، پھر اپنے سب سے قریب کے ساتھ، پھر اس کے بعد زیادہ قریب کے ساتھ۔“ بعض اہل علم نے اس تاکید کی ایک وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ والدہ کی کمزوری اور طبعی نرمی اور شفقت کی وجہ سے اولاد اس کی پروا نہیں کرتی اور اس کا حق ادا کرنے میں کوتاہی کرتی ہے، جب کہ باپ کی طبیعت کی وجہ سے اس کا خیال کرنا پڑتا ہے، لہٰذا تاکید کے لیے ماں کا ذکر تین دفعہ فرمایا۔ یہ مطلب نہیں کہ ماں کو تین روپے دو اور باپ کو ایک روپیہ، بلکہ اولاد کو دونوں ہی کا خیال رکھنا چاہیے۔ (واللہ اعلم)
حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰي وَهْنٍ :”وھناً“ کی ترکیب کئی طرح سے ہوسکتی ہے، ایک یہ کہ یہ ”اُمّهٗ“ سے حال بمعنی اسم فاعل ہے۔”أَيْ حَمَلَتْہُ أُمُّہُ ذَاتَ وَھْنٍ عَلٰی وَھْنٍ“ یعنی اس کی ماں نے اسے اس حالت میں اٹھائے رکھا کہ وہ کمزوری پر کمزوری والی تھی۔ زمخشری نے فرمایا : ”وھناً“ فعل محذوف ”تَھِنُ“ کا مفعول مطلق ہے، یعنی اس کی ماں نے اسے اس حال میں اٹھایا کہ وہ کمزور پر کمزور ہوتی جاتی تھی، دن بدن اس کا ضعف بڑھتا جاتا تھا، کیونکہ جیسے جیسے اس کا حمل بڑھتا، اس کا بوجھ اور ضعف بڑھتا جاتا تھا۔“ ایک صورت یہ ہے کہ اس سے پہلے حرف جار ”باء“ محذوف ہے، جس کے حذف کرنے سے اس پر نصب آئی ہے : ”أَيْ حَمَلَتْہُ بِضُعْفٍ عَلٰی ضُعْفٍ“ یعنی اس نے اسے کمزوری پر کمزوری کے ساتھ اٹھائے رکھا۔
”وَهْنًا عَلٰي وَهْنٍ“ (کمزوری پر کمزوری) میں دوران حمل دن بدن بڑھنے والی کمزوری کے بعد ”وَّفِصٰلُهٗ فِيْ عَامَيْنِ“ (اس کا دودھ چھڑانا دو سال میں ہے) کے درمیان کمزوری اور مشقت کے کئی مرحلے ذکر نہیں فرمائے، کیونکہ وہ خود بخود سمجھ میں آ رہے ہیں۔ جن میں ولادت کا جاں گسل مرحلہ، پھر نفاس کی کمزوری، پھر دن رات بچے کی پرورش، نگہداشت، اسے دودھ پلانا اور اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھنا وغیرہ شامل ہیں۔
وَّفِصٰلُهٗ فِيْ عَامَيْنِ 3 : حافظ ابن کثیر ؓ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ کا فرمان ”وَّفِصٰلُهٗ فِيْ عَامَيْنِ“ (اور اس کا دودھ چھڑانا دو سال میں ہے) اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا ہم معنی ہے : (وَالْوَالِدٰتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّـتِمَّ الرَّضَاعَةَ) [ البقرۃ : 233 ] ”اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں، اس کے لیے جو چاہے کہ دودھ کی مدت پوری کرے۔“ اسی سے ابن عباس ؓ وغیرہ ائمہ نے استنباط فرمایا ہے کہ حمل کی کم از کم مدت چھ ماہ ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دوسری آیت میں فرمایا ہے : (وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا) [ الأحقاف : 15 ] ”اور اس کے حمل اور اس کے دودھ چھڑانے کی مدت تیس مہینے ہے۔“ اور اللہ تعالیٰ نے ماں کی پرورش کا، اس کمزوری، تکان اور دن رات بیداری اور مشقت کا ذکر اس لیے فرمایا کہ بچے کو اس کا احسان یاد دلائے جو اس نے اس پر کیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِيْ صَغِيْرًا) [ بني إسرائیل : 24 ] ”اور کہہ اے میرے رب ! ان دونوں پر رحم کر جیسے انھوں نے چھوٹا ہونے کی حالت میں مجھے پالا۔“
3 زمخشری نے فرمایا : ”اگر تم کہو کہ دودھ چھڑانے کی مدت دو سال مقرر کرنے کا کیا مطلب ہے، تو میں کہوں گا کہ یہ مدت مقرر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ حد ہے جس سے تجاوز درست نہیں۔ دو سال سے کم میں دودھ چھڑانے کا معاملہ ماں کے اجتہاد پر موقوف ہے۔ اگر وہ سمجھے کہ وہ اس سے پہلے دودھ چھڑانا برداشت کرسکتا ہے تو وہ چھڑا سکتی ہے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : (وَالْوَالِدٰتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّـتِمَّ الرَّضَاعَةَ) [ البقرۃ : 233 ] ”اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں، اس کے لیے جو چاہے کہ دودھ کی مدت پوری کرے۔“
3 اس آیت سے معلوم ہوا کہ دودھ پلانے کی کامل مدت دو سال ہے۔ اس عرصے میں دودھ پینے سے رضاعت کی حرمت ثابت ہوگی، اس کے بعد نہیں۔ بعض لوگوں نے مدت رضاعت اڑھائی سال قرار دی ہے اور اسے احتیاط کا تقاضا قرار دیا ہے۔ مگر صریح آیت کے بعد کسی کو احتیاط یا کسی اور وجہ سے اس کی مخالفت کا کوئی اختیار نہیں۔ مزید دیکھیے سورة احقاف (15)۔
اِلَيَّ الْمَصِيْرُ : ”الی“ کو پہلے لانے سے کلام میں حصر پیدا ہوگیا، یعنی میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے کسی اور کی طرف نہیں۔ یہاں ایک سوال ہے کہ یہ نہیں بتایا کہ کس کا لوٹ کر آنا مراد ہے ؟ جواب یہ ہے کہ اسے عام رکھا ہے، تاکہ اس میں سب لوگ شامل ہوجائیں۔ یعنی ہر ایک کو، جن میں تم بھی شامل ہو، میری ہی طرف واپس آنا ہے۔ اس میں ازسر نو اللہ عزوجل اور والدین کے شکر کی وصیت ہے اور وعدہ بھی اور وعید بھی کہ اگر میرے متعلق اور اپنے والدین کے متعلق میری وصیت پر عمل کرو گے تو جزائے خیر پاؤ گے، ورنہ سزا کے لیے تیار رہو۔
Ayah 31:15وَاِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰٓي اَنْ تُشْرِكَ بِيْ۔۔ : والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کے بعد اس میں سے ایک چیز کا استثنا فرمایا کہ اگر وہ تجھ پر اس بات کا زور دیں کہ تو میرے ساتھ شرک کرے، تو خواہ جتنا زور لگا لیں ان کی بات مت ماننا۔ سورة عنکبوت کی آٹھویں آیت میں بھی یہی بات بیان ہوئی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہاں ”وَاِنْ جَاهَدٰكَ لتُشْرِكَ بِيْ“ ہے اور یہاں ”عَلٰٓي اَنْ تُشْرِكَ بِيْ“ ہے۔ ”علی“ کے لفظ میں ”لام“ کی بہ نسبت زیادہ قوت پائی جاتی ہے، اس لیے تفسیر میں اس بات کی طرف ”خواہ جتنا زور لگا لیں“ کے الفاظ کے ساتھ اشارہ کیا گیا ہے۔ سورة عنکبوت میں فتنے کا ذکر ہے، جو والدین کی طرف سے منت و سماجت اور نرمی سے بھی ہوسکتا ہے اور سختی سے بھی، بہلانے پھسلانے یا بےرخی کی صورت میں بھی ہوسکتا ہے اور طاقت، قوت اور زبردستی کے ساتھ بھی۔ والدین کی طرف سے شرک پر آمادہ کرنے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کے باوجود ان کی اطاعت نہ کرنے کا حکم دیا، خواہ معاملہ تلوار یا بندوق تک پہنچ جائے۔ معمولی کوششیں خودبخود اس کے ضمن میں آگئیں۔ پھر جب اللہ تعالیٰ کے بعد آدمی کے سب سے بڑے محسنوں کی بات ماننا اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں جائز نہیں، تو پھر کسی اور کی کیا حیثیت ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے ؟ خواہ کوئی رشتہ دار ہو یا دوست، پیر ہو یا فقیر، امام ہو یا حاکم، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِيْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ) [ المعجم الکبیر للطبراني : 13؍60، ح : 14795 ] ”خالق کی نافرمانی کے معاملہ میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔“ مزید دیکھیے سورة عنکبوت (8) کی تفسیر۔
وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوْفًا : ممکن تھا کہ کوئی شخص اس سے یہ سمجھ لیتا کہ والدین کے مشرک ہونے یا شرک پر آمادہ کرنے کی کوشش کی صورت میں ان سے سرے ہی سے قطع تعلق کرلینا چاہیے۔ اس لیے فرمایا کہ جب تک وہ زندہ ہیں، ان معاملات میں جو دین کے ساتھ تعلق نہیں رکھتے، ان کے ساتھ اچھے طریقے کے ساتھ رہو۔ مثلاً ان کے کھانے پینے، پہننے، رہنے اور علاج وغیرہ کی ضروریات کا خیال رکھو، ان کے ساتھ نرمی اور محبت کے ساتھ بات کرو، ان کے غصے اور تلخی کو برداشت کرتے رہو۔ جب مشرک والدین کے متعلق یہ حکم ہے، تو مومن والدین کا حق کس قدر ہوگا !
وَّاتَّبِعْ سَبِيْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَيَّ : اس جملے میں دوبارہ تاکید فرمائی کہ دنیاوی معاملات میں ان کے ساتھ معروف طریقے سے رہنے کی صورت میں اس بات کا خیال رکھو کہ تم میں مداہنت نہ پیدا ہوجائے کہ دینی معاملات میں بھی تم ان کے پیچھے چل پڑو۔ نہیں، چلنا انھی لوگوں کے راستے پر ہے جن کا رجوع میری طرف ہے اور جو صرف میری ہدایت اور رہنمائی پر چلتے ہیں۔ یہ راستہ صرف ان لوگوں کا ہے جو قرآن و حدیث پر چلتے ہیں، کیونکہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ یہی دو چیزیں ہیں۔ کسی ایسے شخص کی رائے یا قیاس پر چلنا، جس پر اللہ کی طرف سے وحی نہیں ہوتی ”سَبِيْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَيَّ“ پر چلنا نہیں، کیونکہ ہدایت حاصل کرنے کے لیے اس کی طرف رجوع اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں بلکہ غیر اللہ کی طرف ہے، جیسا کہ فرمایا : (اِتَّبِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖٓ اَوْلِيَاۗءَ) [ الأعراف : 3 ] ”اس کے پیچھے چلو جو تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے اور اس کے سوا اور دوستوں کے پیچھے مت چلو۔“
ثُمَّ اِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ : ”میں تمہیں بتاؤں گا“ میں ڈانٹنے کا جو زور ہے وہ ”میں تمہیں جزا دوں گا“ میں نہیں۔
Ayah 31:16يٰبُنَيَّ اِنَّهَآ اِنْ تَكُ۔۔ : لقمان ؑ کی پہلی وصیت کے بعد دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے والدین کے بارے میں وصیت فرمائی۔ اب دوبارہ لقمان ؑ کی وصیتوں کا بیان شروع ہوتا ہے۔ پہلی وصیت میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کا رد اور اس کی توحید کا بیان تھا، اس وصیت میں اللہ تعالیٰ کے علم اور قدرت کے کمال کا بیان ہے۔
3 اکثر مفسرین کے مطابق ”اِنَّهَآ“ میں ضمیر ”ھَا“ نیکی اور بدی کے اس عمل کی طرف جا رہی ہے جس کا ذکر پچھلی آیت ”بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ“ میں ہے : ”أَيْ إِنَّ الْفِعْلَۃَ الْحَسَنَۃَ أَوِ السَّیِّءَۃَ إِنْ تَکُ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ“ یعنی ”اچھا یا برا عمل اگر رائی کے ایک دانے کے برابر ہوگا۔۔“ ابن عاشور نے فرمایا کہ ”تَک“ کا اسم مؤنث مقام کی دلالت کے مطابق مقدر مانا جائے گا : ”أَيْ إِنْ تَکُ الْکَاءِنَۃُ“ یعنی اگر ہونے والی کوئی بھی چیز رائی کے دانے کے برابر ہوگی۔ یہ عام ہے، جس میں نیکی اور بدی بھی شامل ہے۔
مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ : مراد چھوٹی سے چھوٹی چیز ہے، کیونکہ عرب اس کے لیے ”مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ“ کا لفظ استعمال کرتے ہیں، یا ”مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ“ کا۔ ”مِثْقَالَ“ ”ثَقُلَ“ میں سے آلہ کا وزن ہے، بروزن ”مِفْعَالٌ۔“
فَتَكُنْ فِيْ صَخْـرَةٍ اَوْ فِي السَّمٰوٰتِ اَوْ فِي الْاَرْضِ : یہ بیان کسی بھی ایسی چیز کی مثال کے طور پر ہے جو زیادہ سے زیادہ مخفی ہو اور جس کا حصول زیادہ سے زیادہ مشکل ہو۔
يَاْتِ بِهَا اللّٰهُ : اس میں اللہ تعالیٰ کے کمال علم اور قدرت کا بیان ہے کہ کوئی چیز کہیں بھی ہو، کتنی پوشیدہ سے پوشیدہ اور کتنی بعید سے بعید ہو، اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ وہ کہاں ہے اور وہ اسے حاضر کرنے پر پوری طرح قادر ہے۔ جب چاہے گا اسے اپنے پاس لے آئے گا۔ اس میں یہ بھی شامل ہے کہ کوئی عمل نیک ہو یا بد، جتنا بھی چھپ کر کیا جائے اور اس کا کرنے والا کہیں بھی چلا جائے، اللہ تعالیٰ اسے اور اس کے کرنے والے کو اپنے پاس لے آئے گا اور اس کی جزا دے گا۔ (دیکھیے سورة انبیاء : 47) جب اتنی مخفی اور عام رسائی سے باہر چیزوں کے متعلق اس کے علم و قدرت کا یہ عالم ہے، تو ان چیزوں کے بارے میں اس کے علم اور قدرت کا خود ہی اندازہ لگا لو جو اتنی مشکل اور دشوار نہیں ہیں۔ اس وصیت میں حدیث جبریل میں مذکور ”احسان“ کی تاکید ہے کہ آدمی ہر وقت یہ خیال رکھے کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں میرا مالک مجھے دیکھ رہا ہے اور وہ مجھ پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ اس سے انسان اللہ تعالیٰ کی معصیت سے بچ جاتا ہے۔
اِنَّ اللّٰهَ لَطِيْفٌ خَبِيْرٌ : ”لُطْفٌ“ میں باریک بینی اور نرمی دونوں مفہوم پائے جاتے ہیں۔ ابن عاشور نے فرمایا : ”اَللَّطِیْفُ مَنْ یَّعْلَمُ دَقَاءِقَ الْأَشْیَاءِ وَیَسْلُکُ فِيْ إِیْصَالِھَا إِلٰی مَنْ تَصْلُحُ لَہُ مَسْلَکَ الرِّفْقِ“ ”لطیف وہ ہے جو نہایت باریک اشیاء کو جانتا ہو اور جن کے لائق وہ چیزیں ہیں ان تک انھیں پہنچانے میں نرمی کا طریقہ اختیار کرے۔“ مثلاً اس کے لطیف ہونے کا اظہار اس کیڑے کے وجود سے ہوتا ہے جو کسی بہت بڑی چٹان کے اندر ہے، جس تک پہنچنے کا یا خوراک پہنچانے کا کوئی راستہ نہیں۔ اب یہ اس لطیف وخبیر کا کام ہے کہ اس نے اسے وہاں کس طرح پیدا فرمایا، پھر ہر لمحے اس کی ہر ضرورت اسے پہنچائی، پھر جب چاہے چٹان کو توڑ کر یا توڑے بغیر اور اسے ذرہ بھر خراش پہنچائے بغیر جہاں چاہے لے آئے۔ جو رائی کے دانے کے برابر اشیاء کا اتنا علم اور ان پر اتنی دسترس رکھتا ہے، بڑی اشیاء کے متعلق اس کے علم و قدرت کا کیا حال ہوگا ! ؟ یہاں تک بنیادی صحیح عقیدے کا بیان مکمل ہوگیا۔
Ayah 31:17يٰبُنَيَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَاْمُرْ بالْمَعْرُوْفِ۔۔ : لقمان ؑ نے بنیادی عقائد کی وصیت کے بعد بیٹے کو بنیادی احکام کی وصیت فرمائی۔ جن میں سب سے اول اور سب سے اہم نماز کی اقامت ہے، جس میں اس کو وقت پر صحیح طریقے اور خشوع و اطمینان کے ساتھ باجماعت ادا کرنا سب کچھ شامل ہے۔ دوسری چیز لوگوں کو نیکی کا حکم دینا اور تیسری چیز برائی سے منع کرنا ہے، کیونکہ سب لوگ دنیا میں آخرت کے سفر پر ہیں۔ اگر کوئی شخص ساتھیوں کا خیال نہیں رکھے گا اور انھیں ساتھ لے کر چلنے کی کوشش نہیں کرے گا تو وہ اسے بھی لے بیٹھیں گے اور وہ منزل پر پہنچنے سے محروم رہے گا۔ اسی طرح اس سفر میں سب لوگ ایک جہاز پر سوار ہیں، اگر اس میں سوراخ کرنے والوں کو روکا نہیں جائے گا تو جہاز کے ڈوبنے کے ساتھ سب ڈوب جائیں گے۔ واضح رہے کہ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا دو الگ الگ حکم ہیں اور دونوں پر عمل ضروری ہے۔ جس کا بلند ترین درجہ جہاد فی سبیل اللہ ہے، جسے رسول اللہ ﷺ نے اسلام کے کوہان کی چوٹی قرار دیا ہے۔
3 اقامت صلاۃ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے حکم میں ان تینوں کا علم حاصل کرنا خود بخود شامل ہے، کیونکہ یہ مسلّم قاعدہ ہے : ”مَا لَا یَتِمُّ الْوَاجِبُ إِلَّا بِہِ فَھُوَ وَاجِبٌ“ ”جن چیزوں کے بغیر واجب پوری طرح ادا نہیں ہوتا وہ بھی واجب ہیں۔“ معروف و منکر کے صحیح علم کے بغیر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے ہوئے عین ممکن ہے کہ کوئی شخص کتاب و سنت اور معروف کی دعوت کے بجائے شرک و بدعت اور خرافات و منکرات کی اشاعت کرتا پھرے، جیسا کہ آج کل بہت سے لوگوں کا یہی حال ہے۔ اس طرح امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے دعوت کا اسلوب، اس کے لیے ضروری حکمت، موعظہ حسنہ، نرمی اور برداشت سیکھنا اور اختیار کرنا بھی لازم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ برائی کو روکنے کے لیے جہاد فی سبیل اللہ کی تیاری اور اس کے لیے مطلوب قوت، گھوڑے اور سواریاں تیار رکھنا بھی لازم ہے۔ غرض لقمان ؑ کی اس نصیحت میں اگرچہ نمایاں طور پر نماز کا ذکر آیا ہے، کیونکہ ایمان کے بعد وہ سب سے اہم فریضہ ہے، مگر معروف اور منکر کے ضمن میں پورا اسلام، اس کا علم حاصل کرنا اور اسے آگے پہنچانا سب کچھ آگیا ہے۔
وَاصْبِرْ عَلٰي مَآ اَصَابَكَ : اگرچہ معروف کے ضمن میں اس کا ذکر آچکا ہے، تاہم اس کی اہمیت کے پیش نظر اسے الگ بھی ذکر فرمایا۔ اس میں دو چیزیں شامل ہیں، پہلی یہ کہ اقامت صلاۃ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فرائض کی ادائیگی میں پیش آنے والی ہر مصیبت پر صبر کرنا۔ اس میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جو شخص بھی یہ کام کرے گا اس پر مصیبتوں نے آنا ہی آنا ہے۔ جنّ و انس کے شیاطین ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پڑجائیں گے اور اسے ہر قسم کی اذیتوں سے سابقہ پیش آئے گا۔ سو اس پر لازم ہے کہ صبر سے کام لے۔ دوسری چیز یہ کہ دنیا کی زندگی آزمائشوں اور مصیبتوں سے بھری ہوئی ہے، راحت اور آرام صرف جنت میں حاصل ہوگا۔ اس لیے مومن پر لازم ہے کہ اس قید خانے کی ہر تکلیف اور آزمائش پر صبر کرے اور اپنے رب کا شکوہ کرنے کے بجائے اس پر راضی رہے۔
اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْر : ”عَزْم“ مصدر بمعنی اسم مفعول ہے، جو اپنے موصوف کی طرف مضاف ہے : ”أَيْ الْأُمُوْرُ الْمَعْزُوْمَۃُ“ اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ ”عزم“ کا معنی ”واجب کرنا“ ہے، یعنی یہ چاروں ایسے کاموں میں سے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے واجب اور فرض کیے گئے ہیں، جیسا کہ حدیث میں ہے : (إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ أَنْ تُؤْتَی رُخَصُہُ ، کَمَا یُحِبُّ أَنْ تُؤْتَی عَزَاءِمُہُ) [ صحیح ابن حبان : 354، عن ابن عباس ؓ و صححہ شعیب الأرنؤوط ] ”اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے کہ اس کی رخصتوں پر عمل کیا جائے، جس طرح وہ پسند کرتا ہے کہ اس کے فرائض پر عمل کیا جائے۔“ اشرف الحواشی میں ہے : ”دوسرا مطلب اس کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا یہ کام بڑے عزم و ہمت کا کام ہے، کم ہمت لوگوں کے بس میں نہیں کہ اس کی سختیاں جھیل سکیں۔ اس لیے اپنے اندر عزم و ہمت پیدا کر۔“
Ayah 31:18وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ للنَّاسِ : ”صَعَرٌ“ اونٹ کو لگنے والی ایک بیماری، جس سے وہ اپنی گردن ایک طرف پھیرے رکھتا ہے۔ اس سے باب ”تفعیل“ تکلف کے لیے ہے۔ یعنی تکلف سے ایک طرف منہ پھیرے رکھنا۔ یہ انداز حقارت کے اظہار کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ عمرو بن حُنَیّ تغلبی نے اپنے بعض بادشاہوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
وَ کُنَّا إِذَا الْجَبَّارُ صَعَّرَ خَدَّہُ
أَقَمْنَا لَہُ مِنْ مَیْلِہِ فَتَقَوَّمَا
”اور ہم ایسے تھے کہ جب کسی جبار نے اپنا رخسار ٹیڑھا کیا، تو ہم نے اس کی ٹیڑھ سیدھی کردی، سو تو بھی سیدھا ہوجا۔“ [ فَتَقَوَّمَا امر کا صیغہ ہے (ابوعبید) اور آخر میں الف اشباع کے لیے ہے ]
3 احکام کی وصیت کے بعد لقمان ؑ نے چند آداب و اخلاق کی وصیت فرمائی، فرمایا لوگوں کے لیے اپنا رخسار ٹیڑھا نہ رکھ، یعنی انھیں حقیر سمجھ کر ایسا نہ کر جیسے متکبر اور مغرور لوگ کرتے ہیں، بلکہ تواضع اور نرمی اختیار کر، جیسا کہ عقل مند لوگوں کا شیوہ ہے۔ تحقیر کے اس انداز سے منع کرنے میں زبان یا ہاتھ کے ساتھ کسی کی تحقیر سے منع کرنا بالاولیٰ شامل ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے فرمایا : (فَلَا تَـقُلْ لَّهُمَآ اُفٍّ) [ بني إسرائیل : 23 ] ”ماں باپ کو ”اُف“ نہ کہو۔“ مراد کسی بھی طرح تکلیف پہنچانے سے منع کرنا ہے۔
وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا : یہاں ایک سوال ہے کہ چلا زمین ہی پر جاتا ہے، پھر خاص طور پر اس کا ذکر کرنے میں کیا حکمت ہے ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ تمام لوگوں کی طرح اس زمین سے تمہاری پیدائش ہے، اسی میں تم نے دفن ہونا ہے اور دوسرے تمام لوگ بھی اسی زمین پر چل رہے ہیں، پھر تمہارا دوسروں کو حقیر اور اپنے آپ کو ان سے برتر سمجھنا اور اکڑ کر چلنا تمہیں کس طرح زیب دیتا ہے ؟ (واللہ اعلم) سورة بنی اسرائیل (37) میں یہ مضمون زیادہ وضاحت کے ساتھ بیان ہوا ہے۔
اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْـتَالٍ فَخُــوْرٍ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة نساء (36)۔
Ayah 31:19وَاقْصِدْ فِيْ مَشْيِكَ : اکڑ کر چلنے سے منع کیا تو ممکن تھا کہ اس پر عمل کرتے ہوئے کوئی انتہائی کمزور اور مریل چال اختیار کرتا، اس لیے چال میں میانہ روی کا حکم دیا، جس سے نہ تکبر کا اظہار ہوتا ہو نہ کمزوری کا۔ مزید دیکھیے سورة فرقان (63)۔
وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ : ”مِنْ“ تبعیض کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”اور اپنی آواز کچھ نیچی رکھ۔“ اس سے معلوم ہوا کہ بلا ضرورت اونچی آواز سے نہیں بولنا چاہیے، کیونکہ یہ وقار کے خلاف ہے اور چلا کر بولنے سے سننے والے کو تکلیف ہوتی ہے۔ بولتے وقت اپنی آواز کسی قدر پست رکھنی چاہیے، نہ اتنی کہ سننے والے سن یا سمجھ ہی نہ سکیں۔
اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيْر : یعنی بلا ضرورت اونچی آواز سے بولنے اور چیخنے کی مثال گدھے کی آواز جیسی ہے اور تمام آوازوں سے بری آواز گدھے کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جہنمیوں کے چیخنے چلانے کی آوازوں کو ”زَفِیْر“ اور ”شَھِیْقٌ“ (گدھے کی آواز) کہا ہے۔ (دیکھیے ہود : 106) کفار جب جہنم میں پھینکے جائیں گے تو اس کی خوف ناک آواز جو انھیں سنائی دے گی، اللہ تعالیٰ نے اسے بھی ”شَھِیْقاً“ فرمایا ہے۔ (دیکھیے ملک : 7) اس سے گدھے کی آواز کا شدید مکروہ ہونا ظاہر ہوتا ہے۔ رازی نے یہاں ایک نکتہ بیان کیا ہے کہ ہر جانور جب بولتا ہے تو اس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ وہ تکان کی وجہ سے بول رہا ہے یا بوجھ سے یا خوف یا مار کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے، صرف گدھا ایسا جانور ہے جو کسی ضرورت کی وجہ سے نہیں بولتا، وہ نہ بوجھ کی وجہ سے بولتا ہے نہ مارنے سے، حتیٰ کہ اگر اسے جان سے مار دیا جائے تو بھی نہیں بولتا اور بولتا ہے تو بلاضرورت ہی بولتا چلا جاتا ہے۔ اس لیے اس کی آواز سب سے زیادہ بری لگنے کی ایک وجہ اس کی کرختگی اور شدت کے علاوہ یہ بھی ہے۔“ (الکبیر) رسول اللہ ﷺ نے گدھے کے رینکنے کی وجہ اس کا شیطان کو دیکھنا بیان فرمایا ہے۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِذَا سَمِعْتُمْ صِیَاح الدِّیَکَۃِ فَاسْأَلُوا اللّٰہَ مِنْ فَضْلِہِ فَإِنَّہَا رَأَتْ مَلَکًا، وَإِذَا سَمِعْتُمْ نَہِیْقَ الْحِمَارِ فَتَعَوَّذُوْا باللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ فَإِنَّہُ رَأَی شَیْطَانًا) [ بخاري، بدء الخلق، باب خیر مال المسلم غنم۔۔ : 3303 ] ”جب تم مرغوں کے چیخنے کی آواز سنو تو اللہ سے اس کے فضل کا سوال کرو، کیونکہ انھوں نے کوئی فرشتہ دیکھا ہے اور جب تم گدھے کے رینکنے کی آواز سنو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو، کیونکہ اس نے کوئی شیطان دیکھا ہے۔“ یہ مثال دینے کا مطلب یہ ہے کہ تم گدھے کی مشابہت اختیار مت کرو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَیْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ ، الَّذِيْ یَعُوْدُ فِيْ ہِبَتِہِ کَالْکَلْبِ یَرْجِعُ فِيْ قَیْءِہِ) [ بخاري، الھبۃ، باب لا یحل لأحد أن یرجع في ھبتہ و صدقتہ : 2622، عن ابن عباس ]”بری مثال ہمارے لیے نہیں ہے (ہمیں اس کا مصداق نہیں بننا چاہیے) وہ شخص جو اپنے ہبہ کو واپس لیتا ہے، وہ کتے کی طرح ہے، جو اپنی قے چاٹ لیتا ہے۔“
”الْحَمِيْر“ ”حِمَارٌ“ کی جمع ہے۔ ابن عاشور لکھتے ہیں : ”قرآن مجید میں گدھے کے لیے جمع کا لفظ ”الْحَمِيْر“ آیا ہے، حالانکہ لفظ ”صَوْتٌ“ مفرد ہے۔ ”حِمَارٌ“ کا لفظ نہیں فرمایا، کیونکہ جس جمع پر جنس کا الف لام آجائے وہ مفرد و جمع کے لیے یکساں ہوتا ہے۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ جمع پر جنس کا الف لام آجائے تو وہ اس سے جمع ہونے کا مفہوم ختم کردیتا ہے۔ یہاں ”حِمَارٌ“ کے بجائے ”الْحَمِيْر“ کے لفظ کو اس لیے ترجیح دی گئی ہے، کیونکہ ”الْحَمِيْر“ کا لفظ آیات کے فواصل سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے، جیسا کہ اس سے پہلی اور بعد والی آیات کے فواصل کو دیکھنے سے ظاہر ہے، جو ”خبیر، الامور، فخور، منیر“ اور ”السعیر“ وغیرہ ہیں۔“ (التحریر والتنویر) ہمارے بھائی حافظ عبداللہ رفیق صاحب (دار العلوم المحمدیہ لاہور) نے اس کی ایک اور دلچسپ توجیہ فرمائی ہے کہ گدھے اکٹھے مل کر رینکنا شروع کردیں تو ماحول بہت زیادہ خراب ہوجاتا ہے۔ یہاں لقمان ؑ کی وصیتیں ختم ہوگئیں، آگے پھر توحید کے دلائل اور مشرکین کو ڈانٹ ڈپٹ کا سلسلہ شروع ہوتا ہے، جس کے ساتھ سورت کی ابتدا ہوئی تھی۔
Ayah 31:20اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ : ”اَلَمْ تَرَوْا“ کا معنی ”اَلَمْ تَعْلَمُوْا“ (کیا تم نے جانا) ہے، کیونکہ انسان نے آسمان و زمین کی ہر چیز کو اپنی آنکھوں سے اپنی خاطر مسخر شدہ نہیں دیکھا، مگر اس کے لیے دیکھنے کا لفظ اس لیے استعمال فرمایا کہ یہ بات اتنی واضح ہے جیسے آنکھوں سے دیکھی ہوئی بات ہوتی ہے۔ (بقاعی) ”سخر لکم“ میں لام انتفاع کا ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”تمہاری خاطر مسخر کردیا“ کیونکہ چند چیزیں اگر انسان کے کسی حد تک تابع فرمان ہیں، جیسے چوپائے وغیرہ کہ انسان ان سے جس طرح چاہے فائدہ اٹھا سکتا ہے، تو بیشمار چیزیں ایسی ہیں جن پر انسان کا کوئی اختیار نہیں۔ انھیں انسان کی خاطر مسخر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں پابند کردیا ہے کہ وہ سب اس کے فائدے اور خدمت کے لیے کام کریں، جیسے سورج، چاند، ستارے بلکہ فرشتے بھی جو اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ موذی جانور بھی آخر کار کسی نہ کسی طرح انسان کے فائدے کے لیے ہیں، حتیٰ کہ ابلیس بھی کہ وہ نہ ہوتا تو نہ آزمائش کا سلسلہ ہوتا، نہ اس میں کامیاب ہو کر انسان ہمیشہ کی جنت کا وارث بن سکتا۔ وہ لوگ اپنی حیثیت سے بہت بڑھ کر بولتے ہیں جو کہتے ہیں کہ آدمی سائنس کے ساتھ کائنات کو مسخر کرسکتا ہے۔ کائنات تو بہت دور کی بات ہے، یہ حضرات اپنے دل کی دھڑکن ہی کو مسخر کر کے دکھائیں، یا بچپن سے جوانی، پھر بڑھاپے کی منزلوں کو تابع فرمان بنا کردکھائیں، چلیں موت ہی کو مسخر کرلیں۔ : (كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ ۭ اِنْ يَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا) [ الکہف : 5 ] ”(یہ بات) بولنے میں بڑی ہے، جو ان کے مونہوں سے نکلتی ہے، وہ سراسر جھوٹ کے سوا کچھ نہیں کہتے۔“ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کی دلیل ”خلق السموات بغیر عمد ترونھا :۔۔“ بیان فرمائی تھی، اب زمین و آسمان کی ہر چیز کو انسان کے فائدے کے لیے مسخر کرنے کو اپنی توحید کی دلیل کے طور پر بیان فرمایا کہ سوچو ! اس خلق یا تسخیر میں تمہارے کسی معبود کا ذرہ برابر بھی دخل ہے ؟
وَاَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّبَاطِنَةً کھلی نعمتوں سے مراد وہ نعمتیں ہیں جن کا انسان اپنے حواس سے مشاہدہ کرتا ہے، یا وہ عقل سے معلوم ہوتی ہیں، یا اسے کسی کے بتانے سے معلوم ہوتی ہیں اور چھپی نعمتوں سے مراد وہ نعمتیں ہیں جو انسان کے جسم کے اندر یا باہر اس کے مفاد کے لیے کام کر رہی ہیں، جن کا اسے شعور تک نہیں کہ اس کے پروردگار نے اس کے رزق، اس کی نشو و نما اور حفاظت کے لیے کیا کچھ سامان فراہم کر رکھا ہے۔ مثلاً انسان کھانا کھا کر فارغ ہوجاتا ہے، اسے کچھ خبر نہیں کہ اس کے اندر کتنی مشینیں اسے ہضم کرنے، جزو بدن بنانے اور اس کے فضلے کو خارج کرنے کے لیے پوری مستعدی کے ساتھ مصروف عمل ہوجاتی ہیں۔ سائنس کے مختلف شعبوں میں جیسے جیسے تحقیق آگے بڑھتی جا رہی ہے اللہ تعالیٰ کی بیشمار نعمتیں انسان کے سامنے بےنقاب ہوتی جا رہی ہیں۔ یہ تو ہوئیں دنیوی اور مادی نعمتیں، دینی اور روحانی نعمتیں جو ظاہر اور پوشیدہ ہیں، وہ ان کے علاوہ ہیں اور ان سے کہیں زیادہ ہیں، جیسا کہ اسلام، قرآن، نبی کریم ﷺ اور اللہ تعالیٰ کی بےپایاں رحمت وغیرہ۔ رازی نے ”ظَاهِرَةً وَّبَاطِنَةً“ کی ایک سادہ سی پُر لطف توجیہ کی ہے، وہ فرماتے ہیں : ”ظاہری نعمتوں سے مراد اعضائے انسانی کا سلامت ہونا ہے اور باطنی نعمتوں سے مراد وہ قوتیں ہیں جو ان اعضا میں ودیعت کی گئی ہیں۔ دیکھیے آنکھ، کان، ناک اور زبان سب چربی، گوشت، ہڈی اور پٹھوں سے بنے ہیں، جو صاف نظر آتے ہیں، مگر ان میں دیکھنے، سننے، سونگھنے، چکھنے اور بولنے کی قوتیں باطنی نعمتیں ہیں۔ بعض اوقات باطنی نعمت مثلاً بینائی، شنوائی ختم ہوجاتی ہے، جب کہ ظاہری عضو، مثلاً آنکھ یا کان سلامت رہتا ہے۔ یہی حال ہر عضو کا ہے۔“rnۭ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُّجَادِلُ فِي اللّٰهِ۔۔ : یعنی کچھ لوگ ایسے ہیں جو خلق، تسخیر اور دوسری بیشمار ظاہری و باطنی نعمتوں کے دلائل سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ثابت ہو چکنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی صفات میں جھگڑتے اور بحثیں کرتے ہیں، مثلاً اللہ تعالیٰ موجود بھی ہے یا نہیں ؟ اور ہے تو ایک ہے یا اس کے ساتھ دوسرے بھی خدائی میں شریک ہیں ؟ اور اس کی صفات کیا ہیں ؟
بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّلَا هُدًى وَّلَا كِتٰبٍ مُّنِيْرٍ : علم حاصل کرنے کے تین مراتب ہیں، پہلا اپنی جدوجہد اور غور و فکر سے معلوم کرنا، دوسرا کسی علم والے سے رہنمائی حاصل کرلینا اور تیسرا کسی درست کتاب کے مطالعہ سے علم حاصل کرلینا۔ مشرکین کا حال یہ ہے کہ نہ ان کے پاس خود کوئی علم یا سمجھ بوجھ ہے جس کی بنا پر وہ حقیقت کو سمجھ سکیں، نہ انھیں کسی سچے راہ نما کی راہ نمائی حاصل ہے اور نہ ان کے پاس خود اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی کوئی کتاب موجود ہے جس سے انھوں نے یہ عقیدہ اخذ کیا ہو۔ بلکہ علم کے تینوں ذرائع سے محرومی کے بعد ان کی کل کائنات تقلید آباء ہے اور وہ اندھا دھند ان کے پیچھے چلے جا رہے ہیں۔
حافظ صاحبان یاد رکھیں کہ ”الم تروا“ قرآن مجید میں صرف دو جگہ آیا ہے، ایک اس آیت میں اور دوسرا سورة نوح میں : (اَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا) [ نوح : 15 ] ان کے علاوہ ہر جگہ واحد کے صیغے کے ساتھ ”“ ہی آیا ہے۔
Ayah 31:21وَاِذَا قِيْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ۔۔ : یعنی کتاب اللہ اور پیغمبر ﷺ کی ہدایت کے مقابلے میں اپنے جاہل اسلاف کو پیش کرتے ہیں، پھر اس سے بڑھ کر گمراہی اور کیا ہوسکتی ہے ؟ مزید دیکھیے سورة بقرہ (170)۔
اَوَلَوْ كَان الشَّيْطٰنُ يَدْعُوْهُمْ اِلٰى عَذَاب السَّعِيْرِ : یعنی کیا اگر شیطان انھیں بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب کی طرف دعوت دے رہا ہو تب بھی یہ ان کے ساتھ دوزخ کی آگ میں جا کو دیں گے اور یہ سوچنے کی زحمت ہی نہ کریں گے کہ وہ انھیں کدھرلے جا رہا ہے ؟