Ayah 31:22وَمَنْ يُّسْلِمْ وَجْهَهٗٓ اِلَى اللّٰهِ۔۔ : اس سے پہلے ان لوگوں کا ذکر ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی علم، ہدایت یا کتاب منیر کے بغیر جھگڑتے ہیں۔ اب ان کے مقابلے میں اس شخص کا ذکر ہے جو اپنے چہرے یعنی اپنے آپ کو پوری طرح اللہ تعالیٰ کے سپرد اور اس کے حوالے کردیتا ہے۔ اپنا ہر عمل صرف اس کی رضا کے لیے کرتا ہے۔ جو وہ کہے کرتا ہے، جس سے روک دے رک جاتا ہے۔ نہ اپنی خواہش پر چلتا ہے نہ کسی دوست یا رشتہ دار کے پیچھے چلتا ہے اور نہ آبا و اجداد میں سے کسی کی راہ و رسم اختیار کرتا ہے۔ اس کی نماز، قربانی، زندگی اور موت سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، فرمایا : (قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ) [ الأنعام : 162 ] ”کہہ دے بیشک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ کے لیے ہے، جو جہانوں کا رب ہے۔“ آیت میں چہرے کو اللہ کے حوالے کرنے کا ذکر ہے، مراد پورے وجود کو اللہ کے حوالے کرنا ہے۔ کیونکہ چہرہ جسم کا سب سے باشرف حصہ ہے، اس کے تابع ہونے سے پورا وجود تابع ہوجاتا ہے۔
وَهُوَ مُحْسِنٌ : اور وہ اپنا ہر عمل اس طرح کرتا ہے گویا وہ اپنے رب کو دیکھ رہا ہے۔ سو اگر وہ اسے نہیں دیکھتا تو اس کا رب اسے دیکھ رہا ہے اور وہ ہر عمل میں اللہ کے رسول کے بتائے ہوئے طریقے پر چلتا ہے۔
فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى : ”أَمْسَکَ یُمْسِکُ إِمْسَاکًا“ تھامنا، پکڑنا۔ ”استمسک“ میں حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے مبالغہ ہے، یعنی ”اچھی طرح پکڑ لیا۔“ ”اَلْعُرْوَۃُ“ کڑا یا حلقہ یا رسی کا کنارا جسے لٹکتے ہوئے گرنے سے بچنے کے لیے پکڑ لیا جائے اور ”الوثقی“ ”أَوْثَقُ“ کا مؤنث ہے ”سب سے مضبوط۔“ یعنی اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کردینے والا یہ وہ شخص ہے جس نے اسلام کی رسی کے مضبوط حلقے کو اچھی طرح تھام لیا ہے۔ اسے بلندی سے پستی میں یا جہنم میں گرنے کا کوئی خطرہ نہیں۔ شیطان اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور اسی حلقے کو تھامے ہوئے آخرکار وہ اللہ تعالیٰ تک پہنچ جائے گا اور اس کی جنت کا وارث بن جائے گا۔ بخلاف ان لوگوں کے جو کسی علم، ہدایت یا کتاب منیر کے بغیر جھگڑتے ہیں کہ انھوں نے اپنی عمارت کی بنیاد ایک گرنے والے کھوکھلے تودے کے کنارے پر رکھی ہے، جو انھیں لے کر جہنم کی آگ میں گرنے والا ہے۔ دیکھیے سورة توبہ (109)۔
وَاِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ : ”الی اللہ“ کو پہلے لانے سے کلام میں حصر پیدا ہوگیا کہ تمام کاموں کا انجام اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہے، کسی اور کی طرف نہیں، وہی ہر کام کی جزا دے گا۔
Ayah 31:23وَمَنْ كَفَرَ فَلَا يَحْزُنْكَ كُفْرُهٗ۔۔ : اس میں رسول اللہ ﷺ اور آپ کے بعد اسلام کے ہر داعی کو تسلی دی ہے کہ جو شخص ہماری دعوت اور پیغام پہنچنے کے باوجود کفر پر اصرار کرتا ہے، آپ اس کے کفر کی وجہ سے غم زدہ نہ ہوں، آپ کا کام پیغام پہنچانا تھا، وہ آپ نے پہنچا دیا، اب انھوں نے ہمارے پاس واپس آنا ہے تو ہم انھیں وہ سب کچھ بتائیں گے جو انھوں نے کیا۔ اس میں کفار کے لیے زبردست وعید ہے۔
اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ : کفار کا کفر کچھ علانیہ تھا کچھ دلوں میں پوشیدہ تھا، فرمایا، اللہ تعالیٰ کو سینوں کی بات کا پوری طرح علم ہے، وہ ان کی بھی جزا دے گا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص اسلام کا اظہار کرتا ہے مگر دل میں کفر رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو اس کا بھی خوب علم ہے، وہ خود ہی اس سے نمٹ لے گا۔
Ayah 31:24نُمَـتِّعُهُمْ قَلِيْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِيْظٍ : یہ سامعین کے ذہن میں پیدا ہونے والے اس سوال کا جواب ہے کہ اس قدر کفر کے باوجود ان پر عذاب جلدی کیوں نہیں آجاتا ؟ فرمایا، ہم انھیں دنیا میں تھوڑا سا برتنے کا سامان دیں گے، پھر انھیں مجبور اور بےبس کر کے ایک بہت سخت عذاب کی طرف لے جائیں گے، تو وہ کسی طرح ہماری گرفت سے نکل کر بھاگ نہیں سکیں گے۔ ”غَلِيْظٍ“ اصل میں بھاری اور ضخامت والے جسم کو کہتے ہیں، گویا وہ عذاب ان پر ایک ضخیم (لمبے چوڑے اور بھاری) جسم کی طرح آ گرے گا، جس کے بوجھ کے نیچے وہ ایسے دبے ہوں گے کہ کسی طرف نکل نہیں سکیں گے۔ دیکھیے سورة یونس (69، 70)۔
Ayah 31:25وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ۔۔ : اس سے پہلے مشرکین کے اللہ تعالیٰ کے متعلق مجادلہ کا ذکر فرمایا، اب ان کے مسکت جواب کا ذکر ہے کہ اگر آپ ان سے پوچھیں کہ ان آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے، تو وہ یقیناً یہی کہیں گے کہ انھیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔ اب اس اقرار کے بعد ان کے پاس جھگڑنے کی کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ ”أَلْمَرْءُ یُؤْخَذُ بِإِقْرَارِہِ“ ”آدمی اپنے اقرار کے ساتھ پکڑا جاتا ہے۔“
قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ : آپ فرمائیں کہ جب تم نے مان لیا کہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے، جس میں تمہارے بنائے معبود بھی شامل ہیں، تو تمام حمد اور ہر خوبی کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہی ٹھہرا، پھر تم ہر خوبی کے مالک کو چھوڑ کر اس کی عبادت کیوں کرتے ہو جس میں اپنی کوئی خوبی ہے ہی نہیں ؟
بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ : بلکہ ان کے اکثر نہیں جانتے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں، یا جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں اس کا مطلب اور نتیجہ کیا ہے، مثلاً جب انھوں نے اعتراف کرلیا کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، تو پھر انھیں لازماً ماننا ہوگا کہ مالک بھی وہی ہے، رب بھی وہی ہے، حاکم اور شارع بھی وہی ہے، عبادت اور بندگی کا حق دار بھی وہی ہے، دعا اور فریاد بھی اسی سے کرنی چاہیے۔ یہ علم و عقل سے کتنی بعید بات اور کتنا بڑا تناقض ہے کہ خالق تو کوئی اور ہو اور معبود اس کی مخلوق میں سے کسی کو بنا لیا جائے۔
3 یہ جو فرمایا کہ ”ان کے اکثر نہیں جانتے“ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ مشرکین میں سے کچھ ایسے بھی تھے اور ہوتے ہیں کہ بات واضح ہونے پر سمجھ لیتے اور مان جاتے ہیں۔ ان کا ذکر آگے ”فمنہم مقتصد“ میں آ رہا ہے اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو جانتے ہیں مگر ضد اور عناد کی وجہ سے مانتے نہیں۔
Ayah 31:26لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔۔ : یہ پہلی آیت ہی کا نتیجہ ہے کہ جب آسمانوں کا اور زمین کا خالق اللہ تعالیٰ ہے تو ظاہر ہے کہ ان کا مالک بھی وہی ہے، اور جب مالک وہ ہے تو ثابت ہوا کہ چیز اپنے وجود اور بقا میں اس کی محتاج ہے اور وہ سب سے غنی ہے، کسی کا محتاج نہیں اور ہر حمد کا مالک ہے۔ دیکھیے اسی سورت کی آیت (12)۔
Ayah 31:27وَلَوْ اَنَّ مَا فِي الْاَرْضِ مِنْ شَجَـرَةٍ اَقْلَامٌ۔۔ : ”کلمت“ ”کَلِمَۃٌ“ کی جمع ہے، جس کا معنی کلام ہے، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَاۗىِٕلُهَا) [ المؤمنون : 100 ] ”یہ تو ایک بات ہے جسے وہ کہنے والا ہے۔“ مراد اللہ تعالیٰ کے دوسرے کلام کے ساتھ ساتھ کلمہ ”کُنْ“ بھی ہے۔ یہ اس خیال کا رد ہے جو ذہن میں پیدا ہوسکتا ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کا مالک ہے اور وہ غنی ہے، مگر یہ سب کچھ ختم بھی تو ہوسکتا ہے اور جو غنی ہے وہ محتاج بھی تو ہوسکتا ہے۔ اس خیال کے رد میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں کبھی کمی نہیں ہوسکتی اور نہ وہ کبھی محتاج ہوسکتا ہے، کیونکہ وہ جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو وہ کلمہ ”کُنْ“ کہنے سے ہوجاتی ہے۔ اس کے علاوہ بھی وہ جو بات چاہے کرسکتا ہے اور کرتا ہے۔ جس طرح اس کی ذات کی نہ ابتدا ہے نہ انتہا، اسی طرح اس کے کلمات کی نہ ابتدا ہے نہ انتہا اور نہ ان کا شمار ہوسکتا ہے۔ پھر جو مالک ایک کلمہ ”کُنْ“ کہنے سے سارے عالم کو فنا کرسکتا ہے اور ایک ”کُنْ“ کہہ کر اس جیسے بلکہ اس سے کہیں بڑے اور اعلیٰ کروڑوں جہاں پیدا کرسکتا ہے اور جس کے کلمات کی کوئی انتہا نہیں اور نہ وہ کبھی ختم ہوسکتے ہیں، ایسے مالک کے ملک کو کبھی زوال ہوسکتا ہے ؟ یا وہ کبھی محتاج ہوسکتا ہے ؟ نہیں، وہ ہمیشہ سے غنی وحمید ہے اور عزیزو حکیم ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
3 مفسر ابن کثیر لکھتے ہیں : ”اللہ تعالیٰ اپنی عظمت، کبریائی، جلال، اپنے اسماء وصفات حسنیٰ اور اپنے کامل کلمات کے متعلق بتاتے ہوئے فرماتے ہیں، جن کا نہ کوئی احاطہ کرسکتا ہے اور نہ کسی بشر کو ان کی حقیقت اور شمار کا علم ہے، جیسا کہ سیدالبشر اور خاتم الرسل ﷺ نے فرمایا : (لَا أُحْصِيْ ثَنَاءً عَلَیْکَ ، أَنْتَ کَمَا أَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ) [ مسلم، الصلاۃ، باب ما یقال في الرکوع و السجود ؟ : 486 ] ”میں تیری ثنا کا شمار نہیں کرسکتا، تو اسی طرح ہے جیسے تو نے خود اپنی ثنا کی ہے۔“ چناچہ فرمایا : (وَلَوْ اَنَّ مَا فِي الْاَرْضِ مِنْ شَجَـرَةٍ اَقْلَامٌ۔۔) یعنی اگر زمین کے تمام درخت قلم بنا دیے جائیں اور سمندر کو سیاہی بنادیا جائے اور اس کے ساتھ سات سمندر مزید بڑھا دیے جائیں اور ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے کلمات لکھے جائیں، جو اس کی عظمت، جلال اور اس کی صفات پر دلالت کرتے ہیں، تو قلم ٹوٹ جائیں گے، سمندروں کا پانی ختم ہوجائے گا، خواہ ان جیسے جتنے بھی اور لے آئیں۔ ”سات سمندروں“ کا ذکر صرف مبالغہ کے لیے ہے، اس سے حصر مراد نہیں، نہ ہی یہ بات ہے کہ کوئی سات سمندر موجود ہیں جو عالم کو گھیرے ہوئے ہیں، جیسا کہ بعض لوگوں نے کہا ہے جو اسرائیلیات بیان کرتے ہیں، جن کی تصدیق یا تکذیب نہیں ہوسکتی، بلکہ حقیقت وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے دوسری آیت میں بیان فرمایا : (قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّيْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّيْ وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا) [ الکہف : 109 ] ”کہہ دے اگر سمندر میرے رب کی باتوں کے لیے سیاہی بن جائے تو یقیناً سمندر ختم ہوجائے گا اس سے پہلے کہ میرے رب کی باتیں ختم ہوں، اگرچہ ہم اس کے برابر اور سیاہی لے آئیں۔“ چناچہ اس کی مثل سے مراد اس جیسا ایک اور سمندر نہیں بلکہ اس جیسا، پھر اس جیسا، پھر اس جیسا، اس طرح آگے بڑھاتے جاؤ۔ جتنے بھی سمندر لے آئیں اللہ کے کلمات ختم نہ ہوں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کے کلمات کا شمار نہیں ہوسکتا۔ حسن بصری نے فرمایا : ”اگر زمین کے تمام درخت قلم بنا دیے جائیں اور سمندر سیاہی ہوجائے اور اللہ تعالیٰ فرمائے کہ ”میرا یہ حکم ہے اور میرا یہ حکم ہے“ تو سمندر کا پانی ختم ہوجائے گا اور قلم ٹوٹ جائیں گے۔“ (ابن کثیر)
اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ : یعنی اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب اور زبردست ہے، وہ جو ارادہ کرے کوئی نہ اسے روک سکتا ہے، نہ اس سے باز پرس کرسکتا ہے، اور وہ کمال حکمت والا ہے، اس کا غلبہ اندھے کی لاٹھی نہیں، بلکہ اس کا ہر کام سراسر حکمت پر مبنی ہے۔
Ayah 31:28مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ : اللہ تعالیٰ کے کمال علم و قدرت کے بیان کے بعد کفار کی اس بات کی تردید فرمائی کہ ہم دوبارہ کیسے زندہ کیے جائیں گے ؟ چناچہ فرمایا، تم سب کو پیدا کرنا اور دوبارہ زندہ کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے ایک شخص کے پیدا کرنے اور زندہ کرنے کی طرح ہی ہے، کیونکہ وہ تمام چیزوں کو کلمہ ”کُنْ“ سے موجود کردیتا ہے، پھر تمہیں دوبارہ زندہ کردینا اس کے لیے کیا مشکل ہے ؟ دیکھیے سورة یٰس (22 اور 79)۔
اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ : ان دو صفات کی مناسبت یہاں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اربوں انسانوں کی پکار بیک وقت سن لیتا ہے۔ ایک انسان کی دعا سننا اسے دوسرے کی دعا سننے سے غافل یا قاصر نہیں بنا سکتا۔ اس کے لیے ایک انسان کی ایک وقت میں دعا سننا اور اربوں انسانوں کی اسی وقت دعا سننا برابر ہے۔ پھر اس کی مخلوق صرف انسان ہی نہیں بلکہ لاکھوں انواع میں اور اربوں کھربوں کی تعداد میں ہے، وہ ان سب کی دعا اور فریاد سنتا ہے اور ایک چیونٹی کی بھی فریاد اسی طرح سنتا ہے جیسے ایک انسان کی۔ پھر معاملہ سننے تک محدود نہیں بلکہ سننے کے ساتھ وہ اپنی ساری مخلوق کو دیکھ بھی رہا ہے۔ ان کے ظاہری اور باطنی حالات سے واقف بھی ہے، انھیں رزق بھی پہنچا رہا ہے اور ان کی جملہ ضروریات بھی پوری کر رہا ہے۔ یہی حال اس کی تخلیق کا ہے، اس کا ایک انسان کو پیدا کرنا بھی ایسے ہی ہے جیسے سب انسانوں کو پیدا کرنا۔ وہ ایک ہی وقت میں لاکھوں انسانوں اور اربوں دوسری مخلوق کو اس وقت بھی پیدا کر رہا ہے اور مرنے کے بعد قیامت کے دن دوبارہ تمام انسانوں کو ایسے ہی ایک وقت میں دوبارہ اٹھا کھڑا کرے گا۔ اس کے لیے ایک انسان کے دوبارہ پیدا کرنے اور سب انسانوں کے دوبارہ پیدا کرنے میں کوئی فرق نہیں۔ (کیلانی)
Ayah 31:29اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يُوْ لِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ۔۔ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة آل عمران (27) یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے تمام انسانوں کو پیدا کرنا اور دوبارہ زندہ کرنا ایسے ہی ہے جیسے ایک جان کو پیدا کرنا اور دوبارہ زندہ کرنا۔ تم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو کہ جب دن بڑھنے لگتے ہیں تو ہر روز رات کا ایک حصہ دن میں شامل ہوجاتا ہے، پھر سردیوں کی آمد کے ساتھ دن کا وہی حصہ رات میں شامل ہوتا جاتا ہے۔ دن کو رات اور رات کو دن کا حصہ بنا دینے والے کے لیے تمہاری موت کے بعد حیات بالکل معمولی بات ہے۔ یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ وہ رات کی تاریکی کو دن کی روشنی پر اور دن کی روشنی کو رات کی تاریکی پر لے آتا ہے۔
وَسَخَّــرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۡ كُلٌّ يَّجْرِيْٓ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى حافظ صاحبان توجہ فرمائیں کہ پورے قرآن مجید میں ”كُلٌّ يَّجْرِيْٓ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى“ اسی مقام پر ہے۔ دوسرے تمام مقامات پر ”كُلٌّ يَّجْرِيْٓ لاَجَلٍ مُّسَمًّى“ ہے۔ یہ دوبارہ زندگی کے ممکن ہونے کی دوسری دلیل ہے۔ یعنی انسان سے کہیں بڑی مخلوق سورج اور چاند کا اس طرح مسخر ہونا کہ مدت ہائے دراز سے اسی طرح چل رہے ہیں اور اس وقت تک چلتے رہیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مقرر فرمایا ہے۔ ”اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى“ (ایک مقرر وقت تک) کے لفظ میں کئی چیزیں شامل ہیں، پہلی یہ کہ رات دن کی روزانہ کی گردش میں یہ دونوں صبح سے شام تک اور شام سے صبح تک چلتے ہیں، پھر اسی سفر پر روانہ ہوجاتے ہیں۔ ان کا روزانہ کا یہ سفر مشرق سے مغرب اور مغرب سے مشرق کی طرف رہٹ کی طرح جاری رہتا ہے۔ دوسری یہ کہ طلوع و غروب کے وقت کے لحاظ سے چاند ایک ماہ میں اپنا سفر پورا کر کے اسی وقت طلوع ہوتا ہے جس وقت وہ پچھلے ماہ طلوع ہوا تھا اور سورج سال کے بعد عین اسی وقت طلوع ہوتا ہے جس وقت وہ پچھلے سال طلوع ہوا تھا۔ تیسری یہ کہ سورج اور چاند اس وقت تک چل رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کی گردش ختم ہونے کے لیے مقرر فرمایا ہے اور وہ قیامت کا دن ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ وَاِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ) [ التکویر : 1، 2 ] ”جب سورج لپیٹ دیا جائے گا۔ اور جب ستارے بےنور ہوجائیں گے۔“ آیات کے سیاق کے لحاظ سے یہ معنی یہاں زیادہ مناسب ہے، اس لیے اکثر مفسرین نے یہاں ”اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى“ سے قیامت کا دن ہی مراد لیا ہے۔
3 یہاں ایک سوال یہ ہے کہ اس مقام پر ”اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى“ کا لفظ استعمال فرمایا ہے، جب کہ دوسرے مقامات پر ”لاَجَلٍ مُّسَمًّى“ استعمال فرمایا ہے، اس میں کیا حکمت ہے ؟ سلیمان الجمل نے فرمایا : ”یہاں اللہ تعالیٰ نے ”اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى“ فرمایا ہے، جب کہ سورة فاطر اور سورة زمر (اور رعد) میں ”لاَجَلٍ مُّسَمًّى“ فرمایا ہے۔ کیونکہ یہاں یہ لفظ دو ایسی آیات کے درمیان آیا ہے جن میں اس انتہا کا ذکر ہے جب مخلوق ختم ہوگی، چناچہ اس سے پہلے ”مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ“ ہے اور بعد میں ”يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَاخْشَوْا يَوْمًا“ ہے، دونوں آیات کائنات کے اس نظام کے خاتمے پر دلالت کر رہی ہیں اور سورة فاطر اور زمر میں یہ بات نہیں، کیونکہ سورة فاطر میں نہ خلق کی ابتدا کا ذکر ہے نہ انتہا کا اور سورة زمر میں ابتدا کا ذکر ہے انتہا کا نہیں، اس لیے وہاں ”لام“ کا لفظ استعمال فرمایا کہ سورج اور چاند جس طرح چلتے دکھائی دے رہے ہیں یہ ایک مقرر وقت پر پہنچنے کے لیے چل رہے ہیں۔“
وَّاَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ : اس کا عطف ”اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يُوْ لِجُ“ پر ہے۔ ”اَلَمْ تَرَ“ کا معنی تھا ”کیا تم نے نہیں جانا ؟“ یعنی تم یقیناً جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور۔۔ یہ بھی جانتے ہو کہ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔
Ayah 31:30ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ : یعنی یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے اس لیے بیان فرمایا ہے کہ تم جان لو کہ وہی حق ہے جو حقیقی فاعل و مختار ہے، کیونکہ وہ ازلی و ابدی ہے، ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، اپنے وجود میں وہ کسی کا محتاج نہیں۔
وَاَنَّ مَا يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الْبَاطِلُ : اور اس کے سوا مشرک جس کی بھی عبادت کرتے ہیں سب باطل ہیں، ان کا کہیں وجود ہی نہیں۔ یہاں نہ کوئی لات ہے، نہ منات، نہ داتا، نہ دستگیر، نہ گنج بخش، نہ غریب نواز۔ سب ان مشرکوں کے خیال اور وہم کی تخلیق ہیں اور انھوں نے اپنے پاس سے فرض کرلیا ہے کہ فلاں صاحب خدائی میں کوئی دخل رکھتے ہیں اور انھیں مشکل کشائی اور حاجت روائی کے اختیارات حاصل ہیں، حالانکہ فی الواقع ان میں سے کوئی بھی نہ خدائی اختیارات کا مالک ہے، نہ کسی کو پکارنا اور اس سے فریاد کرنا حق ہے۔ دیکھیے سورة یونس (66) اور سورة نجم (19 تا 23)۔
3 ان آیات میں دہریوں کا بھی رد ہے جو اس کائنات کو ازلی اور ابدی سمجھتے ہیں اور مشرکوں کا بھی جو فانی چیزوں کو معبود بنائے بیٹھے ہیں۔
وَاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ : یعنی کائنات کی ہر چیز سے اس کی شان بلند ہے اور بڑائی میں بھی وہ کائنات کی ہر چیز سے بڑا ہے۔ ان دونوں صفات کا مجموعہ ”ثم استوی علی العرش“ میں پایا جاتا ہے۔ اس میں ایک واضح اشارہ اس بات کی طرف بھی ہے کہ بلندی اور بڑائی جب اللہ ہی کی شان ہے تو اس کے مقابلے میں ساری مخلوق پست، عاجز اور حقیر ہے، جس کے مفہوم کو لفظ ”عبد“ ادا کرتا ہے، فرمایا : (اِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِلَّآ اٰتِي الرَّحْمٰنِ عَبْدًا) [ مریم : 93 ] ”آسمانوں اور زمین میں جو کوئی بھی ہے وہ رحمٰن کے پاس غلام بن کر آنے والا ہے۔“ اس سے بڑا ظلم کیا ہوگا کہ اس علی و کبیر کے اختیارات اس کی پیدا کردہ ہستیوں کے لیے سمجھ لیے جائیں جو اس کے عباد اور اس کے سامنے بالکل پست، عاجز اور حقیر ہیں ! ؟
Ayah 31:31اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِيْ فِي الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ۔۔ : اس سے پہلے اللہ نے ”اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ“ میں اور ”اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يُوْ لِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ۔۔“ میں اپنی بعض نعمتوں کی طرف توجہ دلائی، اب ”اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْكَ“ میں سمندر میں چلنے والے جہازوں کی نعمت کی طرف متوجہ فرمایا۔ یعنی کیا تم نے دیکھا نہیں کہ کشتیاں اور بحری جہاز سمندر میں محض اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کے احسان کی بدولت چل رہے ہیں ؟ کیونکہ اگر اس کا احسان نہ ہو تو پانی جو ایک سوئی نہیں اٹھاتا بلکہ غرق کردیتا ہے، پہاڑوں جیسے لمبے چوڑے اور اونچے جہازوں کو اپنے سینے پر نہ اٹھائے رکھے۔ یہ اسی کا احسان ہے کہ اس نے پانی میں یہ خاصیت رکھ دی ہے کہ وہ ایک خاص حجم کی چیز کو نیچے نہیں جانے دیتا، کیونکہ پانی میں ہرچیز کا وزن ہوا میں وزن کی نسبت کم ہوتا ہے اور یہ کمی کسی چیز کے حجم کے برابر پانی کے حجم کے برابر ہوتی ہے۔ (تیسیرالقرآن) اگر اللہ تعالیٰ پانی کو اس طرح پیدا نہ فرماتا، پھر انسان کو پانی کی اس خاصیت کا علم عطا نہ فرماتا اور اس کے جد امجد نوح ؑ کو کشتی بنانے کا طریقہ نہ سکھاتا تو وہ کبھی اس میں کشتیاں یا جہاز نہ چلا سکتا اور نہ ہی اتنی وزنی چیزیں نہایت آسانی کے ساتھ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرسکتا، جو خشکی کے راستے منتقل کرنا اس کے لیے بیحد مشکل تھا۔ (دیکھیے یٰس : 41 تا 44) پھر سمندر میں آندھیاں، طوفان اور تلاطم خیز موجیں انسان کو آنکھ جھپکنے میں ہلاکت سے دو چار کرسکتی ہیں اور سمندر میں اتنی عظیم الجثہ مخلوق موجود ہے جو ایک ہی ٹکر میں کشتیوں اور جہازوں کو ڈبو سکتی ہیں۔ پھر سمندر کے اندر پہاڑ ہیں جن سے ٹکرا کر جہاز پاش پاش ہوجاتے ہیں اور مقناطیسی چٹانیں ہیں جو انسان کی ساری کوششوں کے باوجود جہازوں کو کھینچ کر غرقاب کردیتی ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ ہی کی خاص مہربانی ہوتی ہے کہ انسان اکثر اوقات سمندری سفر خیروعافیت سے طے کرلیتا ہے۔
لِيُرِيَكُمْ مِّنْ اٰيٰتِهِ : یعنی ایسی نشانیاں جن سے پتا چلتا ہے کہ سارے اختیارات اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ انسان خواہ کیسے ہی مضبوط اور بحری سفر کے لیے موزوں جہاز بنالے اور جہاز رانی کے فن میں کتنا ہی کمال حاصل کرلے، سمندر میں پیش آنے والی ہولناک طاقتوں کے مقابلے میں جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل شامل نہ ہو وہ اکیلا اپنی تدابیر کے بل بوتے پر بخیریت سفر نہیں کرسکتا۔
اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ : یہ اس سوال کا جواب ہے کہ اتنی عظیم اور واضح نشانیوں کے باوجود مشرک ان سے فائدہ کیوں نہیں اٹھاتے۔ فرمایا، ان نشانیوں سے توحید کا سبق ہمیشہ وہ لوگ حاصل کرتے ہیں جن میں دو وصف ہوں، ایک یہ کہ وہ ”صبار“ (بہت بڑے صبر والے) ہوں، ان کے مزاج میں تلوّن نہ ہو، بلکہ ثابت قدمی ہو، گوارا و ناگوار، سخت اور نرم، اچھے اور برے تمام حالات میں صحیح عقیدے پر قائم رہیں۔ یہ نہیں کہ برا وقت آیا تو اللہ کے سامنے گڑگڑانے لگے اور اچھا وقت آنے پر سب کچھ بھول گئے، یا اس کے برعکس اچھے حالات میں تو اللہ تعالیٰ پر خوش رہے اور اس کی پرستش کرتے رہے اور مصیبت کی ایک چوٹ پڑتے ہی اسے گالیاں دینے لگے۔ دوسرا وصف یہ کہ وہ ”شکور“ (بہت بڑے شکر کرنے والے) ہوں، نمک حرام اور احسان فراموش نہ ہوں، بلکہ ہمیشہ نعمت دینے والے کے لیے دل میں احسان مندی اور قدردانی کا جذبہ رکھیں اور اپنے قول و عمل سے اس کا شکر ادا کرتے رہیں۔ یہ دونوں وصف صرف مومن میں پائے جاتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَہُ کُلَّہُ خَیْرٌ، وَلَیْسَ ذَاکَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْہُ سَرَّاءُ شَکَرَ ، فَکَانَ خَیْرًا لَّہُ وَإِنْ أَصَابَتْہُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَّہُ) [ مسلم، الزھد والرقائق، باب المؤمن أمرہ کلہ خیر : 2999، عن صہیب ؓ ] ”مومن کا معاملہ عجیب ہے، کیونکہ اس کا ہر معاملہ ہی خیر ہے اور یہ چیز مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں کہ اگر اسے کوئی خوشی پہنچے، وہ شکر کرتا ہے تو وہ اس کے لیے خیر ہوتی ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچے تو وہ صبر کرتا ہے، سو وہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتی ہے۔“
Ayah 31:32وَاِذَا غَشِيَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ۔۔ : پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ کی نعمت کے ساتھ سمندر میں چلنے والی کشتیوں اور جہازوں کو دیکھ کر ایمان والوں کی حالت کا ذکر فرمایا، جو بہت صبر و شکر کرنے والے ہوتے ہیں کہ ان کے لیے ان کشتیوں میں اللہ تعالیٰ کی توحید کی اور اس کے قادر و مختار ہونے کی بہت سے نشانیاں ہیں۔ اب بتایا کہ مشرکوں کی حالت اس کے برعکس ہوتی ہے، چناچہ جب سمندر میں طوفان آتا ہے اور یک لخت پانی کی موجیں سائبانوں کی طرح انھیں ڈھانپ لیتی ہیں اور وہ سمجھ لیتے ہیں کہ معاملہ ختم ہے تو تمام خداؤں، حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں کو چھوڑ کر اپنے دین یعنی عبادت کو اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے اس اکیلے کو پکارتے ہیں۔
فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ۔۔ : ”ختار“ ”خَتْرٌ“ میں سے ہے، جو بدترین عہد شکنی اور غداری کو کہتے ہیں۔ ”مقتصد“ کا لفظی معنی سیدھی راہ پر چلنے والا بھی ہے اور میانہ روی اختیار کرنے والا بھی۔ اس جملے کی تین تفسیریں ہوسکتی ہیں اور تینوں درست ہیں، ایک یہ کہ ”مقتصد“ کا معنی سیدھی راہ پر چلنے والا ہے، کیونکہ تمام راستوں میں سے درمیانہ راستہ ہی سیدھا اور درست ہوتا ہے۔ ”فمنہم“ میں ”مِنْ“ تبعیض کے لیے ہے، یعنی جب اللہ تعالیٰ انھیں سائبانوں جیسی ان موجوں سے بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو ان میں سے کچھ ہی سیدھی راہ پر رہنے والے ہوتے ہیں، جو اس عہد پر قائم رہتے ہیں جو انھوں نے طوفان کی حالت میں اپنے رب سے کیا تھا، جیسا کہ ابو جہل کے بیٹے عکرمہ ؓ تھے، ان میں سے اکثر اللہ تعالیٰ کی ان نشانیوں کا صاف انکار کردیتے ہیں جن کا مشاہدہ انھوں نے سمندر میں کیا تھا اور اس عہد کو توڑ دیتے ہیں جو انھوں نے طوفان کے وقت اپنے رب سے کیا تھا۔ پھر جو دہریے ہیں وہ اپنے بچ جانے کے لیے مادی اسباب بیان کرتے پھرتے ہیں کہ ہم فلاں وجہ سے بچ گئے اور جو مشرک ہیں وہ اپنے بچ جانے کو کسی نہ کسی داتا یا دستگیر کی کرم نوازی قرار دینے لگتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی آیات اور اس کی نعمتوں کا اس طرح صاف انکار وہی شخص کرسکتا ہے جو بدترین عہد توڑنے والا اور نہایت ناشکرا ہو۔ ”ختار“ اور ”کفور“ مشرک کی صفات ہیں، جو بالترتیب مومن کی صفات ”صبار“ اور ”شکور“ کے مقابلہ میں آئی ہیں۔
دوسری تفسیر یہ ہے کہ ”مقتصد“ سے مراد کفر میں میانہ روی اختیار کرنے والے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ انھیں بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو ان میں سے کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کفر میں اتنے شدید نہیں رہتے، بلکہ میانہ روی اختیار کرتے ہیں، جبکہ اکثر اپنے رب کی اس نعمت کا صاف انکار کر کے بدترین عہد شکنی اور ناشکری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس صورت میں ”مقتصد“ سے مراد ”مُقْتَصِدٌ فِي الْکُفْرِ“ ہوگا۔ تیسری تفسیر اس کی یہ ہے کہ ”اِقْتِصَادٌ“ سے مراد ایمان و اخلاص اور عمل میں میانہ روی ہے : ”أَيْ فَمِنْھُمْ مُقْتَصِدٌ فِي الإِْیْمَانِ وَالْعَمَلِ“ یعنی طوفان سے نجات کے بعد جب کچھ وقت گزرتا ہے تو اخلاص اور ایمان کی وہ کیفیت کسی کی بھی باقی نہیں رہتی جو طوفان کے وقت تھی۔ پھر کچھ لوگ ہوتے ہیں جو اخلاص و ایمان اور عمل کے اعلیٰ درجے سے میانہ روی پر آجاتے ہیں، البتہ اکثر کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ سارے عہد توڑ کر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا صاف انکار کردیتے ہیں اور پھر اپنے شرک کی طرف پلٹ جاتے ہیں۔ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں : ”یعنی جو حال خوف کے وقت تھا وہ تو کسی کا نہیں، مگر بالکل بھول بھی نہ جائے، ایسے بھی کم ہیں۔ نہیں تو اکثر قدرت سے منکر ہوتے ہیں، اپنے بچ نکلنے کو تدبیر پر رکھتے ہیں یا کسی ارواح وغیرہ کی مدد پر۔“ اللہ تعالیٰ کے کلام کا اعجاز ہے کہ آیت کے الفاظ میں تینوں معنوں کی گنجائش ہے اور کچھ بعید نہیں کہ تینوں مراد ہوں۔ مزید دیکھیے سورة بنی اسرائیل (67) ، عنکبوت (65) اور یونس (21 تا 23)۔
Ayah 31:33يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ۔۔ : مختلف طریقوں سے توحید اور آخرت کے دلائل بیان کرنے کے بعد اب تقویٰ کا حکم دیا، جو اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل اور اس کی نافرمانی سے بچنے کا نام ہے اور قیامت کے دن سے ڈرتے رہنے کا حکم دیا، کیونکہ اسی سے تقویٰ حاصل ہوتا ہے۔ اگر باز پرس کا خوف نہ ہو تو کوئی چیز آدمی کو تقویٰ پر آمادہ نہیں کرسکتی۔
وَاخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِيْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ : یعنی دنیا میں سب سے قریب باہمی تعلق والدین اور اولاد کا ہے، جب وہ ایک دوسرے کے کام نہ آسکے تو کوئی اور رشتے دار، دوست، لیڈر یا پیر فقیر کیا کام آسکے گا۔ دیکھیے سورة بقرہ (48) ، عبس (34 تا 37) ، اور معارج (8 تا 14) والد کے کام نہ آسکنے کی مثال نوح ؑ اور ان کا بیٹا ہیں۔
وَلَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَـيْـــــًٔا : ”جازً“ ”جَزٰی یَجْزِيْ“ سے اسم فاعل ہے۔ اولاد کے کام نہ آسکنے کی مثال ابراہیم ؑ اور ان کا باپ ہیں۔
اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ : اللہ کے وعدے سے مراد قیامت قائم ہونا ہے، وہ ہر حال میں ہو کر رہے گی۔
فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا : دنیا کی زندگی انسانوں کو کئی طرح سے دھوکے میں ڈالتی ہے۔ کوئی سمجھتا ہے کہ زندگی بس دنیا ہی کی زندگی ہے، جینا مرنا سب کچھ یہیں ہے، اس کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں، لہٰذا جو کچھ کرنا ہے یہیں پر کرلو۔ دیکھیے سورة انعام (29) ، مومنون (37) اور جاثیہ (24) کوئی کہتا ہے کہ دنیوی خوشی یا بدحالی ہی حق و باطل کا اور اللہ تعالیٰ کے راضی یا ناراض ہونے کا معیار ہے، اگر قیامت قائم ہوئی تو وہاں بھی وہی خوش حال ہوں گے جو یہاں خوش حال ہیں۔ دیکھیے سورة مریم (77) کوئی آخرت پر ایمان کے باوجود دنیا کی خواہشات کی محبت میں کھو کر اس دن کی یاد ہی بھلا بیٹھتا ہے۔ دیکھیے سورة آل عمران (14) غرض دنیا کی زندگی آدمی کو طرح طرح سے دھوکے میں ڈالتی ہے۔
وَلَا يَغُرَّنَّكُمْ باللّٰهِ الْغَرُوْر : ”الْغَرُوْر“ ”غین“ کے فتح کے ساتھ صفت مشبہ ”فَعُوْلٌ“ بمعنی فاعل ہے، دھوکا دینے والا، جیسے : (اِنَّهٗ كَانَ عَبْدًا شَكُوْرًا) [ بني إسرائیل : 3 ] اور ”غین“ کے ضمہ کے ساتھ مصدر ہے، جیسے : (زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا) [ الأنعام : 112 ] اور : (لَا نُرِيْدُ مِنْكُمْ جَزَاۗءً وَّلَا شُكُوْرًا) [ الدھر : 9 ] دھوکا دینے والے سے مراد شیطان ہے، وہ ابلیس اور اس کی اولاد سے ہو یا انسانوں میں سے۔ لفظ کو عام رکھیں تو آدمی کا نفس بھی اسے دھوکا دیتا ہے اور دنیا بھی دھوکا دیتی ہے، اس لیے کئی مفسرین نے یہاں ”الغرور“ کی تفسیر ”دنیا“ فرمائی ہے۔
3 اللہ تعالیٰ کے بارے میں شیطان کا یہ دھوکا کئی طرح سے ہوتا ہے۔ یہ کسی کو دھوکا دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہے ہی نہیں، کسی کو دھوکا دیتا ہے کہ وہ بڑا غفور و رحیم ہے، گناہ کرلو، بعد میں توبہ کرلینا۔ کسی سے کہتا ہے کہ فلاں بزرگ یا پیر کا اس پر بڑا زور ہے، وہ سفارش کر کے تمہیں اس کی پکڑ سے بچا لیں گے۔ غرض وہ مختلف طریقوں سے انسان کو دنیا کی طرف مائل کر کے اللہ تعالیٰ سے غافل کردیتا ہے۔
Ayah 31:34اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ : قیامت کے ذکر پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کب آئے گی ؟ اور یہی سوال کفار بار بار کرتے تھے۔ اس لیے فرمایا، اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور اسے مخفی رکھنا اللہ تعالیٰ کی خاص حکمت ہے، تاکہ ہر شخص اس کے لیے ہر وقت تیار رہے اور ہر شخص کو اس کے عمل کی جزا ملے۔ (دیکھیے طٰہٰ : 15) ”عِنْدَهٗ“ کو پہلے لانے سے تخصیص کا معنی پیدا ہوا کہ قیامت کا علم صرف اس کے پاس ہے، کسی اور کے پاس نہیں۔ دیکھیے سورة اعراف (187) ، احزاب (63) اور نازعات (42 تا 44) حدیث جبریل میں جبریل ؑ کے سوال ”مَتَی السَّاعَۃُ ؟“ (قیامت کب ہے ؟) کے جواب میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَا الْمَسْءُوْلُ عَنْھَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّاءِلِ) ”جس سے پوچھا گیا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔“۔۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا : (فِيْ خَمْسٍ لَا یَعْلَمُھُنَّ إِلَّا اللّٰہُ : (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ) [ بخاري، التفسیر، باب قولہ : (إن اللہ عندہ علم الساعۃ) : 4777 ] ”قیامت کا علم ان پانچ چیزوں میں سے ہے جنھیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔“ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی : (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ) [ لقمان : 34 ] ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَفَاتِیْحُ الْغَیْبِ خَمْسٌ، ثُمَّ قَرَأَ : (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ) [ بخاري، التفسیر، باب قولہ : (إن اللہ عندہ علم الساعۃ) : 4778 ]”غیب کی چابیاں پانچ ہیں۔“ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی : (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ)
[ لقمان : 34 ]
وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ : اس کا عطف ”عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ“ پر ہے، گویا عبارت یوں ہے ”وَ إِنَّ اللّٰہَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ“ یعنی اللہ تعالیٰ ہی بارش اتارتا ہے، اور جو اتارتا ہے وہی جانتا ہے کہ کہاں اتارنی ہے، کب اتارنی ہے اور کتنی اتارنی ہے، اس کے سوا کسی کو یہ بات معلوم نہیں۔ یہاں ایک سوال ہے کہ ”وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ ۭ“ دونوں جملوں میں حصر پر دلالت کرنے والا کوئی لفظ نہیں، جس کا ترجمہ یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ ہی یہ کام کرتا ہے۔ اس کا سب سے قوی جواب تو وہ ہے جو شنقیطی نے دیا ہے کہ یہ بات کہ یہاں حصر مراد ہے، رسول اللہ ﷺ کی صحیح حدیث سے ثابت ہے، جیسا کہ اوپر گزرا اور آپ ﷺ سے بڑھ کر قرآن مجید اور لغت عرب کو جاننے والا کوئی نہیں۔ ویسے علمائے عربیت نے کئی طرح سے یہاں حصر ثابت فرمایا ہے جن میں سے ایک جواب یہاں بیان کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے تو یہ دیکھیے کہ اگر کہا جاتا کہ ”إِنَّ عِلْمَ السَّاعَۃِ عِنْدَ اللّٰہِ“ تو جملہ مختصر بھی ہوتا اور بات بھی ادا ہوجاتی، مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ”ان اللہ“ اور اس کی خبر ”عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ“ بیان فرمائی۔ اس میں دو طرح سے حصر ہے، لفظ ”اللہ“ کو زیادہ صراحت کے ساتھ پہلے لانا، پھر خبر کے جملہ میں ”عندہ“ کو مقدم کرنا، جس سے تخصیص پیدا ہوئی۔ گویا جملے کی ابتدا جو حصر کے ساتھ ہوئی، وہی حصر ”وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ“ میں بھی ملحوظ ہے، کیونکہ ان دونوں کا عطف جملہ ”عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ“ پر ہے۔ بعض اوقات عامۃ الناس کی طرف سے ایک سوال آتا ہے کہ آج کل سائنس اتنی ترقی کرگئی ہے کہ محکمہ موسمیات والے پہلے ہی پیش گوئی کردیتے ہیں کہ فلاں دن بارش ہوگی، اگر یہ مفاتیح الغیب سے ہے، جن کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں، تو وہ کیسے بتا دیتے ہیں ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ علم یقین کا نام ہے، ظن وتخمین اور گمان کو علم نہیں کہتے۔ محکمہ موسمیات والے اپنے تجربے کے مطابق ہوا کے دباؤ اور فضا میں موجود نمی وغیرہ کو دیکھ کر بارش ہونے یا نہ ہونے کا اعلان کردیتے ہیں، مگر کبھی ان کی بات درست ثابت ہوتی ہے کبھی نادرست۔ بعض اوقات تجربے کے مطابق بارش ہونے کے تمام اسباب ہوتے ہیں مگر بادل ایک بوند برسائے بغیر گزر جاتے ہیں اور بعض اوقات بارش کے اسباب میں سے کچھ بھی موجود نہیں ہوتا کہ یکایک تمام اسباب پیدا ہو کر بارش شروع ہوجاتی ہے۔ اس کی دلیل کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ بارش کب، کہاں اور کتنی ہوگی محکمہ موسمیات والوں کا یہ اعلان بھی ہے کہ آج بارش کا امکان ہے۔ سوفیصد علم نہ ان کے پاس ہے نہ ان کا دعویٰ ہے۔ آیت پر اعتراض کرنے والوں کا حال ”مدعی سست گواہ چست“ والا ہے۔
وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ : اس کا عطف بھی ”عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ“ پر ہے : ”أَيْ إِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ“ یعنی اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ماؤں کے پیٹوں میں کیا ہے۔ یہاں بھی یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ آج کل الٹراساؤنڈ سے معلوم ہوجاتا ہے کہ پیدا ہونے والا لڑکا ہے یا لڑکی۔ اس کے جواب میں عموماً علمائے اسلام فرماتے ہیں کہ آیت کے الفاظ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ماؤں کے پیٹوں میں لڑکا ہے یا لڑکی، بلکہ فرمایا ”ما فِی الارحامِ“ کہ جو کچھ پیٹوں میں ہے، ضروری نہیں کہ اس سے مراد لڑکا یا لڑکی ہی لیا جائے، بلکہ مراد اس سے یہ ہے کہ جنین زندہ رہنے والا ہے یا ضائع ہوجانے والا، طویل عمر والا ہے یا تھوڑی عمر والا، خوش بخت ہے یا بدنصیب، تندرست رہے گا یا بیمار ہوگا۔ سو اگر اس کی جنس معلوم ہو بھی جائے کہ لڑکا ہے یا لڑکی، تب بھی قرآن کے بیان پر کوئی حرف نہیں آتا۔ یقیناً یہ جواب بہت عمدہ ہے، مگر ابھی تک یہ دعویٰ کہ الٹراساؤنڈ سے لڑکے یا لڑکی کی جنس معلوم ہوجاتی ہے، سوفیصد درست ثابت نہیں ہوا۔ خود ڈاکٹر حضرات کہتے ہیں کہ جنین کی وضع پیٹ میں ایسی ہوتی ہے کہ اس کے اعضائے تناسل اس کے سر کے نیچے چھپے ہوتے ہیں اور الٹراساؤنڈ کے ذریعے سے اندازے ہی کی بنیاد پر فیصلہ کیا جاتا ہے جو اکثر صحیح ہوتا ہے اور کبھی غلط بھی نکلتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا کہ الٹراساؤنڈ سے جنس معلوم ہوجاتی ہے، سوفیصد درست نہیں۔ الٹرا ساؤنڈ کی شہرت کے باوجود میں نے اپنی زندگی میں دو دفعہ الٹرا ساؤنڈ کی پیش گوئی تمام دنیا کے سامنے غلط ثابت ہوتی ہوئی دیکھی ہے، ایک دفعہ برطانیہ کے ولی عہد کی بیوی لیڈی ڈیانا کے ہاں ڈاکٹروں نے اعلان کیا کہ لڑکی پیدا ہوگی، مگر ان کے اعلان کے برعکس لڑکا پیدا ہوا۔ دوسرا پاکستان کی سابقہ وزیراعظم بےنظیر کے ڈاکٹر نے اعلان کیا کہ لڑکا پیدا ہوگا، مگر لڑکی پیدا ہوئی۔ اب آپ سوچیں کہ برطانیہ اور پاکستان کے ان اونچے مناصب پر فائز لوگوں کے پاس الٹراساؤنڈ کے ماہرین کی کیا کمی تھی ؟ حقیقت یہ ہے کہ اگر الٹراساؤنڈ کے ذریعے سے ایک ہزار بچوں کے متعلق پیش گوئی کی جائے، جن میں سے نوسو ننانوے درست اور ایک غلط نکلے تو بھی اسے علم نہیں کہہ سکتے، کیونکہ علم وہ ہے جو یقینی ہو، کبھی غلط نہ نکلے۔ البتہ اگر کوئی آپریشن کرکے آنکھوں سے بچے کی جنس دیکھ لے تو قرآن کی بات پھر بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ یہ بات کہ بچہ دانیوں میں کیا ہے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے، کیونکہ ”کیا ہے“ میں لڑکے لڑکی کی جنس کے علاوہ بیشمار باتیں داخل ہیں۔
وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا : مسروق فرماتے ہیں کہ میں نے عائشہ ؓ سے پوچھا : ”اماں جان ! کیا محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟“ انھوں نے فرمایا : ”تم نے جو بات کہی اس سے تو میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے، کیا تم ان تین باتوں سے بھی ناواقف ہو ؟ جنھیں جو بھی تمہیں بیان کرے وہ جھوٹ کہے گا۔“ پھر فرمایا : (مَنْ حَدَّثَکَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ رَأَی رَبَّہُ فَقَدْ کَذَبَ ، ثُمَّ قَرَأَتْ : (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ) [ الأنعام : 103 ] ، (وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْيًا اَوْ مِنْ وَّرَاۗئِ حِجَابٍ) [ الشورٰی : 51 ] وَ مَنْ حَدَّثَکَ أَنَّہُ یَعْلَمُ مَا فِيْ غَدٍ فَقَدْ کَذَبَ ثُمَّ قَرَأَتْ : (وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا) [ لقمان : 34 ] وَمَنْ حَدَّثَکَ أَنَّہُ کَتَمَ فَقَدْ کَذَبَ ، ثُمَّ قَرَأَتْ : (يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ۭ) [ المائدۃ : 67 ] ، وَ لٰکِنَّہُ رَأٰی جِبْرِیْلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فِيْ صُوْرَتِہِ مَرَّتَیْنِ) [ بخاري، التفسیر، باب : 4855۔ مسلم : 177 ] ”جو شخص تمہیں بیان کرے کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے تو اس نے یقیناً جھوٹ کہا، پھر ام المومنین نے یہ آیت پڑھی : (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ) [ الأنعام : 103 ] ”اسے نگاہیں نہیں پاتیں اور وہ سب نگاہوں کو پاتا ہے اور وہی نہایت باریک بین، سب خبر رکھنے والا ہے۔“ اور یہ آیت : (وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْيًا اَوْ مِنْ وَّرَاۗئِ حِجَابٍ) [ الشورٰی : 51 ] ”اور کسی بشر کے لیے ممکن نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے مگر وحی کے ذریعے، یا پردے کے پیچھے سے۔“ ”اور جو شخص تمہیں بیان کرے کہ آپ ﷺ وہ جانتے ہیں جو کل ہوگا تو اس نے یقیناً جھوٹ کہا۔“ پھر انھوں نے یہ آیت پڑھی : (وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا)[ لقمان : 34 ] ”اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائی کرے گا۔“ ”اور جو شخص تمہیں بیان کرے کہ آپ ﷺ نے (وحی کی بات کو) چھپایا ہے، اس نے یقیناً جھوٹ کہا۔“ پھر انھوں نے یہ آیت پڑھی : (يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ۭ) [ المائدۃ : 67 ] ”اے رسول ! پہنچا دے جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے۔“ ”لیکن آپ ﷺ نے جبریل ؑ کو ان کی اصل صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔“
رُبَیِّع بنت معوّذ ؓ بیان کرتی ہیں : ”جس رات میری رخصتی ہوئی اس کی صبح رسول اللہ ﷺ میرے پاس آئے اور میرے بستر پر بیٹھ گئے، جہاں تم بیٹھے ہو اور کچھ چھوٹی لڑکیاں دف بجا کر اپنے آباء کے متعلق شعر پڑھ رہی تھیں جو بدر میں شہید ہوئے، یہاں تک کہ ایک لڑکی نے کہا : (وَفِیْنَا نَبِيٌّ یَعْلَمُ مَا فِيْ غَدٍ) ”اور ہم میں وہ نبی ہے جو کل ہونے والی بات جانتا ہے۔“ تو نبی ﷺ نے فرمایا : (لاَ تَقُوْلِيْ ہٰکَذَا، وَقُوْلِيْ مَا کُنْتِ تَقُوْلِیْنَ) ”اس طرح مت کہو اور وہ کہتی جاؤ جو کہہ رہی تھی۔“ [ بخاري، المغازي، باب : 4001 ]
وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌۢ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ : یعنی کوئی انسان نہیں جانتا کہ اسے موت کہاں آئے گی، خشکی پر یا سمندر میں یا پہاڑ پر۔ جب اسے اپنی موت کی جگہ کا علم نہیں تو وقت کا علم کیسے ہوسکتا ہے۔ عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : (إِذَا کَانَ أَجَلُ أَحَدِکُمْ بِأَرْضٍ أَوْثَبَتْہُ إِلَیْہَا الْحَاجَۃُ ، فَإِذَا بَلَغَ أَقْصٰی أَثَرِہِ ، قَبَضَہُ اللّٰہُ سُبْحَانَہُ ، فَتَقُوْلُ الأَرْضُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ رَبِّ ! ہٰذَا مَا اسْتَوْدَعْتَنِيْ) [ ابن ماجہ، الزھد، باب ذکر الموت والاستعداد : 4263، وقال البوصیري و الألباني صحیح ] ”جب تم میں سے کسی شخص کی موت کسی زمین میں طے ہو، تو کوئی ضرورت اسے چھلانگ لگوا کر وہاں پہنچا دیتی ہے۔ پھر جب وہ اس جگہ پہنچتا ہے جہاں اس کے قدم کا آخری نشان ہوتا ہے، تو اللہ سبحانہ اسے قبض کرلیتے ہیں۔ چناچہ زمین قیامت کے دن کہے گی : ”اے میرے رب ! یہ ہے وہ امانت جو تو نے میرے پاس رکھی تھی۔“
اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ : یعنی اللہ تعالیٰ کا علم ان پانچ چیزوں کے ساتھ ہی خاص نہیں، بلکہ وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے اور ان کے ظاہر و باطن کی پوری خبر رکھنے والا ہے۔