Ayah 38:33رُدُّوْهَا عَلَيَّ ۭ فَطَفِقَ مَسْحًۢا : تو انھوں نے حکم دیا کہ انھیں میرے پاس واپس لاؤ۔ جب وہ واپس لائے گئے تو سلیمان ؑ محبت کے ساتھ ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے۔
گھوڑوں کی دوڑ لگوانا اور ان کے جسم پر محبت سے ہاتھ پھیرنا دونوں کام جہاد کا حصہ اور باعث اجر و ثواب ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے سلیمان ؑ کے دونوں عمل ان کے ”نِعْمَ الْعَبْدُ ۭ اِنَّهٗٓ اَوَّابٌ“ ہونے کی مثال کے طور پر ذکر فرمائے ہیں۔ ہمارے نبی ﷺ بھی گھوڑوں کی دوڑ کا مقابلہ کروایا کرتے تھے، عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں : (سَابَقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ بَیْنَ الْخَیْلِ الَّتِيْ قَدْ أُضْمِرَتْ فَأَرْسَلَہَا مِنَ الْحَفْیَاءِ ، وَکَانَ أَمَدُہَا ثَنِیَّۃَ الْوَدَاعِ فَقُلْتُ لِمُوْسٰی فَکَمْ کَانَ بَیْنَ ذٰلِکَ ؟ قَالَ سِتَّۃُ أَمْیَالٍ أَوْ سَبْعَۃٌ وَ سَابَقَ بَیْنَ الْخَیْلِ الَّتِيْ لَمْ تُضَمَّرْ ، فَأَرْسَلَہَا مِنْ ثَنِیَّۃِ الْوَدَاعِ ، وَکَانَ أَمَدُہَا مَسْجِدَ بَنِيْ زُرَیْقٍ ، قُلْتُ فَکَمْ بَیْنَ ذٰلِکَ ؟ قَالَ مِیْلٌ أَوْ نَحْوُہُ وَ کَانَ ابْنُ عُمَرَ مِمَّنْ سَابَقَ فِیْہَا) [ بخاري، الجہاد، باب غایۃ السبق للخیل المضمرۃ : 2870 ] ”رسول اللہ ﷺ نے تضمیرشدہ گھوڑوں کے درمیان دوڑ کا مقابلہ کروایا۔ چناچہ انھیں ”حفیاء“ سے دوڑایا اور ان کی آخری جگہ ”ثنیۃ الوداع“ تھی۔ (ابواسحاق کہتے ہیں کہ) میں نے موسیٰ بن عقبہ سے پوچھا : ”ان کے درمیان کتنا فاصلہ تھا ؟“ تو انھوں نے فرمایا : ”ان دونوں کے درمیان چھ یا سات میل کا فاصلہ تھا۔“ اور ان گھوڑوں کو جو تضمیرشدہ نہیں تھے ثنیۃ الوداع سے دوڑایا اور ان کی آخری جگہ مسجد بنی زریق تھی۔ میں نے پوچھا : ”ان کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟“ تو موسیٰ بن عقبہ نے فرمایا : ”ان دونوں کے درمیان ایک میل یا اس کے قریب فاصلہ ہے۔“ اور ابن عمر ؓ بھی اس مقابلے میں شامل تھے۔“ (تضمیر کا لفظی معنی لاغر کرنا ہے۔ یہ گھوڑوں کی خاص طریقے سے تیاری کو کہتے ہیں، جس میں پہلے انھیں خوب کھلا پلا کر موٹا کیا جاتا ہے، پھر آہستہ آہستہ ان کی خوراک کم کرکے کچھ وقت کے لیے بند کردی جاتی ہے۔ اس کے دوران ان کے جسم کی مالش اور تیاری کی جاتی ہے، جس سے وہ بھوک پیاس برداشت کرنے اور زیادہ دیر تک دوڑنے کے قابل ہوجاتے ہیں) اور آپ ﷺ گھوڑوں کی پیشانیوں کے بالوں پر محبت سے ہاتھ بھی پھیرا کرتے تھے، چناچہ جریر بن عبد اللہ ؓ فرماتے ہیں : (رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ یَلْوِيْ نَاصِیَۃَ فَرَسٍ بِإِصْبَعِہِ وَ ہُوَ یَقُوْلُ الْخَیْلُ مَعْقُوْدٌ بِنَوَاصِیْہَا الْخَیْرُ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ : الْأَجْرُ وَ الْغَنِیْمَۃُ) [ مسلم، الإمارۃ، باب فضیلۃ الخیل و أن الخیر معقود بنواصیھا : 1872 ] ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ ایک گھوڑے کی پیشانی کے بالوں کو اپنی انگلی کے ساتھ مروڑ رہے تھے اور فرما رہے تھے : ”گھوڑوں کی پیشانیوں کے ساتھ قیامت کے دن تک خیر باندھ دی گئی ہے، یعنی اجر اور غنیمت۔“ یہ ہے وہ تفسیر جس پر دل کو اطمینان ہوتا ہے، کیونکہ اس میں کوئی تکلّف نہیں۔ امام طبری، رازی، ابن حزم اور بہت سے ائمہ نے اسے ہی صحیح قرار دیا ہے، ترجمان القرآن ابن عباس ؓ نے بھی یہی تفسیر فرمائی ہے۔ چناچہ طبری نے علی ابن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ آیت : (فَطَفِقَ مَسْحًۢا بالسُّوْقِ وَالْاَعْنَاقِ) کے متعلق ان کا قول نقل فرمایا ہے : ”یَقُوْلُ جَعَلَ یَمْسَحُ أَعْرَافَ الْخَیْلِ وَ عَرَاقِبَھَا حُبًّا لَھَا“ یعنی آیت کا مطلب یہ ہے کہ سلیمان ؑ ان کی گردنوں کے بالوں پر اور ان کی ٹانگوں کے پچھلے حصوں پر محبت سے ہاتھ پھیرنے لگے۔
تنبیہ : بہت سے مفسرین نے ان آیات کی تفسیر ایک اور طریقے سے کی ہے۔ ان کے مطابق ترجمہ و تفسیر یہ ہے کہ سلیمان ؑ کے سامنے پچھلے پہر اصیل تیز رفتار گھوڑے پیش کیے گئے۔ (یہاں عبارت محذوف ہے کہ انھوں نے ان کی دوڑ کا مقابلہ کروایا، جس کی وجہ سے ان کی عصر کی نماز فوت ہوگئی تو) انھوں نے کہا، میں نے مال کی محبت کو اپنے رب کے ذکر پر ترجیح دی، یہاں تک سورج پردے میں چھپ گیا۔ (تو انھوں نے حکم دیا) انھیں میرے پاس واپس لاؤ، تو وہ ان کی پنڈلیاں اور گردنیں تلوار سے کاٹنے لگے۔ مگر اس تفسیر کی صورت میں کئی ایسی چیزیں محذوف ماننا پڑتی ہیں جن کی کوئی دلیل نہیں، مثلاً یہ کہ ان کی عصر کی نماز فوت ہوگئی، یا سورج پردے میں چھپ گیا، پھر تلوار کا اور اس کے ساتھ پنڈلیاں اور گردنیں کاٹنے کا یہاں نہ کوئی ذکر ہے نہ قرینہ ہے اور نہ ہی ایک پیغمبر سے جہادی گھوڑوں کو اس طرح کاٹنے کی توقع ہوسکتی ہے جن کا کوئی جرم نہ تھا۔ نہ ہی سلیمان ؑ کی ان سے محبت کا باعث مال کی محبت تھا، بلکہ اس محبت کا اصل باعث جہاد سے محبت تھا اور نہ ہی یہ تفسیر رسول اللہ ﷺ یا کسی صحابی سے منقول ہے، جب کہ پہلی تفسیر صحیح سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے مروی ہے، جیسا کہ اوپر گزرا ہے۔ مفسر رازی نے اور خصوصاً ابن حزم نے گھوڑوں کو کاٹنے والی تفسیر کی سخت تردید کی ہے۔
Ayah 38:34وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمٰنَ : روح المعانی کے مصنف آلوسی کے کہنے کے مطابق اس آزمائش سے سب سے زیادہ ظاہر مراد وہ واقعہ ہے جس کا ذکر حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (قَالَ سُلَیْمَانُ بْنُ دَاوٗدَ لَأَطُوْفَنَّ اللَّیْلَۃَ عَلٰی سَبْعِیْنَ امْرَأَۃً تَحْمِلُ کُلُّ امْرَأَۃٍ فَارِسًا یُجَاہِدُ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ، فَقَالَ لَہُ صَاحِبُہُ إِنْ شَاء اللّٰہُ فَلَمْ یَقُلْ ، وَلَمْ تَحْمِلْ شَیْءًا إِلاَّ وَاحِدًا سَاقِطًا أَحَدُ شِقَّیْہِ فَقَال النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ لَوْ قَالَہَا لَجَاہَدُوْا فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ، قَالَ شُعَیْبٌ وَ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ تِسْعِیْنَ وَ ہُوَ أَصَحُّ) [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ : (و وھبنا لداوٗد سلیمان نعم العبد۔۔) : 3424 ] ”سلیمان بن داؤد ؑ نے کہا : ”میں آج رات (اپنی) ستر (70) عورتوں کے پاس چکر لگاؤں گا اور ہر عورت ایک شہ سوار کے ساتھ حاملہ ہوگی، جو اللہ کے راستے میں جہاد کرے گا۔“ تو ان کے ساتھی (فرشتے) نے کہا : ”ان شاء اللہ (کہہ لیجیے)۔“ مگر انھوں نے نہیں کہا، چناچہ کسی کو حمل نہ ہوا سوائے ایک کے اور اس کے بھی دو پہلوؤں میں سے ایک ساقط تھا۔“ نبی ﷺ نے فرمایا : ”اگر وہ ”ان شاء اللہ“ کہہ لیتے تو وہ سب اللہ کے راستے میں جہاد کرتے۔“ شعیب اور ابن ابی الزناد نے ”نوے (90) عورتیں“ کہا اور یہی زیادہ صحیح ہے۔“
گویا سلیمان ؑ کی آزمائش یہ تھی کہ ان کی خواہش کے مطابق نوے شہسوار مجاہد بیٹوں کے بجائے ان کی کرسی کا وارث بھی ایک جسد کے سوا کوئی نہ ہوا۔ جسد سے مراد وہ بچہ ہے جس کا ایک پہلو ساقط تھا۔ اہل علم فرماتے ہیں کہ سلیمان ؑ کی تمنا مجاہد شہسوار بیٹوں کی تھی اور یہ تمنا بہت اچھی تمنا ہے، مگر ان شاء اللہ نہ کہنے کی وجہ سے ان کی آزمائش ہوئی اور ساقط پہلو والا صرف ایک بیٹا پیدا ہوا۔ یہ کوتاہی اگرچہ بھول کی وجہ سے ہوئی تھی مگر پیغمبروں کے بلند مرتبہ کی وجہ سے بھول پر بھی ان کی آزمائش ہوجاتی ہے، جس پر وہ معافی مانگتے ہیں۔ جیسا کہ آدم ؑ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے صریح الفاظ میں فرمایا کہ انھوں نے بھول کر وہ پودا چکھا : (فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا) [ طٰہٰ : 115 ] ”پھر وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں ارادے کی کچھ پختگی نہ پائی۔“ مگر ان کا لباس اتر گیا اور انھوں نے معافی مانگی : (رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا ۫وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ) [ الأعراف : 23 ] ”اے ہمارے رب ! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں نہ بخشا اور ہم پر رحم نہ کیا تو یقیناً ہم ضرور خسارہ پانے والوں سے ہوجائیں گے۔“ اسی طرح جب سلیمان ؑ کی بھول کی وجہ سے ان کی تمنا پوری نہ ہوئی تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور اس سے مغفرت کی دعا کی، فرمایا : (قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَهَبْ لِيْ مُلْكًا لَّا يَنْۢبَغِيْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِيْ ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ) [ ص : 35 ] ”اس نے کہا اے میرے رب ! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی بادشاہی عطا فرماجو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو، یقیناً تو ہی بہت عطا کرنے والا ہے۔“ میری دانست میں اس آیت کی یہ تفسیر درست ہے، کیونکہ بخاری و مسلم وغیرہ میں مذکور واقعہ اس کے مطابق ہے اور اس میں انبیاء ؑ کی شان کے خلاف بھی کوئی بات نہیں۔
بعض علماء نے فرمایا، ہوسکتا ہے کہ آیات میں جس فتنے کا ذکر ہے اس سے مراد اس حدیث میں مذکور واقعہ ہو اور جسد سے مراد ساقط پہلو والا بچہ ہو، مگر یہ صرف احتمال ہے، جو بات ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلیمان ؑ کی کوئی آزمائش تھی، جس کی وضاحت اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمائی اور نہ ہی اس نے ان کی کرسی پر ڈالے جانے والے جسد کی وضاحت فرمائی ہے۔ اس لیے اسی پر اکتفا کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے سلیمان ؑ کی کوئی آزمائش فرمائی، جس پر متنبّہ ہو کر انھوں نے اللہ تعالیٰ سے بخشش کی دعا کی۔ کسی حد تک یہ بات کہی جاسکتی ہے، مگر پہلی تفسیر صحیح حدیث سے مطابقت کی وجہ سے راجح ہے۔
ان آیات کی تفسیر میں مفسرین نے کئی ایسی باتیں لکھ دی ہیں جن کا کوئی ثبوت نہیں اور جو انبیاء کے مقام کے سراسر خلاف ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ کچھ عرصہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے صخر نامی ایک جنّ کو سلیمان ؑ کے تخت پر قابض کردیا تھا۔ اس کے مختلف اسباب میں سے ایک سبب یہ تھا کہ سلیمان ؑ کی ایک بیوی بت پرست تھی، اس کی یہ سزا ملی کہ جتنی مدت اس بیوی نے بت پرستی کی تھی اتنی مدت کے لیے سلیمان ؑ تخت سلطنت سے محروم کردیے گئے اور ان کی انگوٹھی، جس میں اسم اعظم تھا، ایک لونڈی کے واسطے سے صخر کے ہاتھ پڑگئی، پھر اس کے ہاتھ سے وہ انگوٹھی دریا میں گرگئی اور ایک مچھلی نے اسے نگل لیا، پھر وہ مچھلی شکار ہو کر سلیمان ؑ کے پاس آئی اور اس طرح انھوں نے اس کے پیٹ سے انگوٹھی کو نکال کر اپنا تخت واپس لے لیا۔ مگر یہ سارا قصّہ اہل کتاب سے لیا گیا ہے اور اہل کتاب میں سے اکثر وہ ہیں جو سلیمان ؑ کو اللہ کا نبی نہیں مانتے اور ان کا مقصد انھیں زیادہ سے زیادہ بدنام کرنا ہے۔ (ابن کثیر) اس طرح کی کئی اور فضول کہانیاں جو نہ نقل سے ثابت ہیں اور نہ عقل انھیں تسلیم کرتی ہے، بےاحتیاط لوگوں نے کتابوں میں بلا ثبوت لکھ دی ہیں اور واعظ اور قصّہ گو حضرات انھیں بیان کرتے رہتے ہیں۔
مفسر ابوحیان نے فرمایا : ”مفسرین نے اس فتنے اور اس جسد کے ڈالے جانے کے متعلق کئی ایسی باتیں نقل کی ہیں جن سے انبیاء کو پاک سمجھنا واجب ہے، وہ باتیں ان کی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہیں اور وہ ایسی ہیں جنھیں نقل کرنا جائز نہیں۔ وہ یا تو یہودیوں نے گھڑی ہیں یا زندیقوں نے۔ اللہ تعالیٰ نے بیان نہیں فرمایا کہ وہ فتنہ کیا تھا اور نہ ہی یہ کہ سلیمان ؑ کی کرسی پر جو جسد ڈالا گیا وہ کیا تھا۔ سب سے قریب بات جو اس کے متعلق کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ فتنے سے مراد حدیث میں مذکور ستر (70) عورتوں والے واقعہ میں سلیمان ؑ کا ان شاء اللہ نہ کہنا ہے اور جسد سے مراد پیدا ہونے والا ادھورا بچہ ہے۔“
Ayah 38:35قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَهَبْ لِيْ مُلْكًا : یعنی شہسواروں کی فوج پیدا ہونے کی آرزو میری کوتاہی کی وجہ سے اور تیری حکمت و مشیّت کے تحت پوری نہیں ہوئی، تو تو مجھے ایسی بااختیار بادشاہی عطا فرما دے کہ ویسی بادشاہی میرے سوا یا میرے بعد کسی کے پاس نہ ہو، تاکہ پھر اولاد کی ضرورت ہی نہ رہے۔ یہ دعا بھی اللہ کے دین کے غلبے کے لیے تھی۔
Ayah 38:36فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيْحَ تَجْرِيْ بِاَمْرِهٖ : یعنی ہم نے سلیمان ؑ کی دعا قبول کرلی اور ایسی بادشاہی عطا کی جس میں ہوا ان کے تابع کردی، وہ جہاں کا ارادہ کرتے ادھر نرم ہو کر چل پڑتی۔ سورة انبیاء (81) میں اسے ”عاصفۃ“ (تند) بیان کیا ہے۔ ان دونوں میں کوئی تضاد نہیں کہ ہوا نہایت تند و تیز ہو، مگر ایسی ہموار کہ جسے اٹھایا ہے اسے کوئی جھٹکا تک محسوس نہ ہو، جیسا کہ آج کل ہوائی جہازوں کا حال ہے۔
Ayah 38:37وَالشَّيٰطِيْنَ كُلَّ بَنَّاۗءٍ وَّغَوَّاصٍ : ”بَنَّاۗءٍ“ اور ”وَّغَوَّاصٍ“ مبالغہ کے صیغے ہیں، اس لیے ان کا ترجمہ ماہر معمار اور ماہر غوطہ خور کیا ہے۔
Ayah 38:38وَّاٰخَرِيْنَ مُقَرَّنِيْنَ فِي الْاَصْفَادِ : ”الْاَصْفَادِ“ ”صَفَدٌ“ (صاد اور فاء کے فتحہ کے ساتھ) کی جمع ہے، وہ زنجیر یا طوق جس سے کسی کو باندھا جائے۔ یعنی ان میں سے جو سرکشی یا شرارت کرتے انھیں ایک دوسرے کے ساتھ جکڑ کر قید کردیا جاتا۔ ان چاروں آیات کی مفصل تفسیر کے لیے دیکھیے سورة انبیاء (81، 82) ، سبا (12، 13) اور سورة نمل (15 تا 44) کی تفسیر۔
Ayah 38:39ھٰذَا عَطَاۗؤُنَا فَامْنُنْ : یعنی ہم نے تمہاری دعا کے مطابق تمہیں عظیم بادشاہی عطا کردی، اب تم جسے چاہو دو جسے چاہو نہ دو اور جتنا چاہو دو ، تم سے کوئی حساب بھی نہیں لیا جائے گا۔
Ayah 38:40وَاِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَحُسْنَ مَاٰبٍ : یعنی دنیوی بادشاہی کے علاوہ اسے ہمارے ہاں خاص قرب حاصل ہے اور ان کے لیے آخرت کا بہترین ٹھکانا یعنی سب سے بلند مقام جنت الفردوس تیار ہے۔
Ayahs 38:41–44وَاذْكُرْ عَبْدَنَآ اَيُّوْبَ : اس کا عطف اس سے پہلے پر ہے۔ لفظ ”عَبْدَنَآ“ میں اللہ تعالیٰ کے ان سے تعلق کا اظہار ہو رہا ہے۔ اس سورت میں مذکور قصّوں میں سے یہ تیسرا قصّہ ہے کہ داؤد اور سلیمان ؑ پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اور دونوں کی آزمائش کا ذکر فرمایا اور ایوب ؑ پر آنے والی مصیبتوں اور تکلیفوں کا اور انھیں دور کرنے کی نعمت کا ذکر فرمایا، مقصد سب سے عبرت دلانا ہے۔
اَنِّىْ مَسَّنِيَ الشَّيْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّعَذَابٍ : ”نُصْبٌ“ تھکاوٹ اور مشقت کو کہتے ہیں اور ”وَّعَذَابٍ“ شدید بدنی تکلیف کو۔ یعنی مجھے دو قسم کی تکلیف پہنچی ہے، ایک شدید دکھ جو مال و اولاد اور عافیت نہ رہنے کی وجہ سے تھا اور دوسری جسمانی تکلیف جو بیماری کی وجہ سے تھی۔
اس دعا میں ایوب ؑ کا حسن ادب دیکھیے کہ انھوں نے دکھ اور تکلیف کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں کی بلکہ شیطان کی طرف کی ہے۔ حالانکہ رنج ہو یا راحت، برائی ہو یا بھلائی، سب اللہ تعالیٰ کی مشیّت کے تحت ہے اور وہی سب کا خالق ہے، مگر چونکہ اکثر ان کا تعلق کسی قریب یا بعید وجہ سے شیطان کے ساتھ ہوتا ہے، اس لیے اللہ کے مقرّب بندے شر کی نسبت اپنی طرف کرتے ہیں یا شیطان کی طرف، اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں کرتے، جیسا کہ ابراہیم ؑ نے مرض کی نسبت اپنی طرف اور شفا کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی، فرمایا : (وَاِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِيْنِ) [ الشعرآء : 80 ] ”اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔“ اور موسیٰ اور خضر ؑ کے قصے میں یوشع بن نون ؑ نے بھلانے کی نسبت شیطان کی طرف کی، فرمایا : (وَمَآ اَنْسٰنِيْهُ اِلَّا الشَّيْطٰنُ اَنْ اَذْكُرَهٗ) [ الکہف : 63 ] ”اور مجھے وہ نہیں بھلائی مگر شیطان نے کہ میں اس کا ذکر کروں۔“ صحیح مسلم میں نماز کے شروع میں پڑھی جانے والی ایک لمبی دعا رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے، جو ”وَجَّہْتُ وَجْہِيَ لِلَّذِيْ فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضَ“ سے شروع ہوتی ہے، اس میں یہ الفاظ ہیں : (لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ وَ الْخَیْرُ کُلُّہُ فِيْ یَدَیْکَ وَالشَّرُّ لَیْسَ إِلَیْکَ) [ مسلم، صلاۃ المسافرین، باب الدعاء في صلاۃ اللیل و قیامہ : 771، عن علي بن أبي طالب ؓ ] ”حاضر ہوں اور حاضر ہوں اور خیر ساری تیرے ہاتھ میں ہے اور شر تیری طرف نہیں ہے۔“
ایوب ؑ کی اس دعا میں اور سورة انبیاء (83) میں مذکور دعا : (اَنِّىْ مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ) (بےشک میں، مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تو رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم والا ہے) میں ایوب ؑ کے دعا کے سلیقے کا اظہار ہو رہا ہے کہ انھوں نے صریح لفظوں میں اپنے مقصد کے اظہار کے بجائے اپنی حالت زار اور رب تعالیٰ کی مہربانی کا ذکر ایسے لفظوں میں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی ان پر رحم فرما کر شفا دے دی۔
ان چاروں آیات کی مفصّل تفسیر کے لیے دیکھیے سورة انبیاء کی آیت (83، 84) کی تفسیر۔
Ayah 38:45وَاذْكُرْ عِبٰدَنَآ اِبْرٰهِيْمَ وَاِسْحٰقَ : پہلے تین انبیاء کے تفصیلی ذکر کے بعد چند انبیاء کا اجمالی ذکر فرمایا۔ ”الایدی“ ”یَدٌ“ کی جمع ہے، جو عربی زبان میں نعمت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور قوت کے معنی میں بھی۔ اس لحاظ سے ان انبیاء کے ”اُولِي الْاَيْدِيْ“ (ہاتھوں والے) ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ عبادت کی اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی بڑی قوت رکھتے تھے اور یہ بھی کہ ان پر اللہ تعالیٰ کے بہت سے انعامات تھے۔ ”وَالْاَبْصَارِ“ (آنکھوں) کی تفسیر میں تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ اس سے مراد دینی بصیرت اور اللہ تعالیٰ کی معرفت ہے۔
Ayah 38:46اِنَّآ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِ : ان انبیاء میں پائی جانے والی خاص صفت کو پہلے مبہم رکھا کہ ”ہم نے انھیں ایک خاص صفت کے ساتھ چُن لیا“ تاکہ شوق اور تجسّس پیدا ہو کہ وہ خاص صفت کیا ہے، پھر بتایا کہ وہ صفت اصل گھر کی یاد ہے۔ اصل گھر سے مراد آخرت ہے، کیونکہ دنیا گھر نہیں بلکہ گزر گاہ ہے۔ ان انبیاء کا خاص وصف یہ تھا کہ وہ ہر وقت آخرت کو یاد رکھتے تھے اور ہر معاملہ میں اسی کو پیش نظر رکھتے تھے، دنیا کی ہوس کا ان میں کوئی شائبہ نہ تھا اور لوگوں کو بھی وہ ہمیشہ آخرت یاد دلاتے رہتے تھے۔
Ayahs 38:47–48وَاِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَيْنَ الْاَخْيَارِ : ”الْمُصْطَفَيْنَ“ ”مُصْطَفٰی“ کی جمع ہے، جو باب افتعال سے اسم مفعول ہے اور اصل میں ”مُصْتَفٰی“ ہے، صاد کی وجہ سے تاء کو طاء میں بدل دیا ”چُنے ہوئے۔“ ”الْاَخْيَارِ“ ”خَیْرٌ“ کی جمع ہے جو اسم تفضیل کا صیغہ ہے اور اصل میں ”أَخْیَرُ“ ہے، اس لیے اس کی جمع ”الْاَخْيَارِ“ آئی ہے ”سب سے بہتر لوگ۔“
Ayah 38:49ھٰذَا ذِكْرٌ ۭ وَاِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍ : یعنی یہ تو ایک نصیحت انبیاء کے بیان میں ہوئی، اب عام متقین کا انجام سنو ! یقیناً ان کے لیے بہت اچھا ٹھکانا ہے۔
Ayahs 38:50–51جَنّٰتِ عَدْنٍ :”مَفْتُوْحَۃٌ“ کھولے ہوئے،”مُّفَتَّحَةً“ (تفعیل) میں مبالغہ کی وجہ سے ترجمہ ”پورے کھولے ہوئے“ کیا گیا ہے۔ متعدد صحیح احادیث میں بیان ہوا ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ سورة زمر (71) میں ہے کہ جہنم کے دروازے کفار کے آنے پر کھولے جائیں گے اور آیت (73) میں ہے کہ جنت کے دروازے متقین کی آمد پر پہلے سے کھولے ہوئے ہوں گے۔ ”مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُ“ میں وہ بشارت بھی داخل ہے جو رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائی، آپ ﷺ نے فرمایا : (یَخْلُصُ الْمُؤْمِنُوْنَ مِنَ النَّارِ ، فَیُحْبَسُوْنَ عَلٰی قَنْطَرَۃٍ بَیْنَ الْجَنَّۃِ وَ النَّارِ ، فَیُقَصُّ لِبَعْضِہِمْ مِنْ بَعْضٍ مَظَالِمُ کَانَتْ بَیْنَہُمْ فِي الدُّنْیَا، حَتّٰی إِذَا ہُذِّبُوْا وَ نُقُّوْا أُذِنَ لَہُمْ فِيْ دُخُوْلِ الْجَنَّۃِ ، فَوَ الَّذِيْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ ! لَأَحَدُہُمْ أَہْدٰی بِمَنْزِلِہِ فِي الْجَنَّۃِ مِنْہُ بِمَنْزِلِہِ کَانَ فِي الدُّنْیَا) [ بخاري، الرقاق، باب القصاص یوم القیامۃ : 6535 ] ”مومن آگ سے گزر جائیں گے تو انھیں جنت اور جہنم کے درمیان ایک پل پر روک لیا جائے گا تو وہ ایک دوسرے سے ان زیادتیوں کا بدلا لیں گے جو ان کے درمیان دنیا میں ہوئیں، حتیٰ کہ جب وہ خوب پاک صاف کردیے جائیں گے، تو انھیں جنت میں داخلے کی اجازت دی جائے گی۔ تو اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے ! ان میں سے ہر ایک کو اپنے گھر کا راستہ اس سے زیادہ معلوم ہوگا جتنا اسے دنیا میں اپنے گھر کا راستہ معلوم تھا۔“
Ayahs 38:52–54وَعِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ : یعنی جن کی نظریں اپنے خاوندوں سے آگے بڑھنے والی نہیں ہوں گی۔ ”اَتْرَابٌ“ ”تِرْبٌ“ کی جمع ہے جو ”تُرَابٌ“ (مٹی) سے مشتق ہے، ہم عمر جو بچپن میں مل کر مٹی کے ساتھ کھیلتے رہے ہوں۔ یعنی وہ بیویاں خاوندوں کی ہم عمر اور ہم مزاج ہوں گی۔
Ayahs 38:55–56ھٰذَا ۭ وَاِنَّ للطّٰغِيْنَ لَـشَرَّ مَاٰبٍ : ”ھٰذَا“ یعنی یہ تو متقین کی جزا ہوئی، اب کفار کا انجام سنو جو اللہ کی حدود سے آگے بڑھنے والے اور اس کے احکام سے سرکشی کرنے والے ہیں کہ ان کے لیے ایک بدترین ٹھکانا ہے، جو جہنم ہے۔
Ayah 38:57ھٰذَا ۙ فَلْيَذُوْقُوْهُ حَمِيْمٌ وَّغَسَّاقٌ : ”ھٰذَا“ یعنی یہ ہے عذاب، سو وہ اسے چکھیں۔ ”حَمِيْمٌ“ انتہائی گرم پانی۔ ”غَسَّاقٌ“ جہنمیوں کے چمڑوں سے بہنے والی پیپ۔ (مفردات) ”غَسَقَ الْجُرْحُ (ض، س) غَسَقَانًا“ جب اس سے پیپ وغیرہ نکلے۔ قاموس اور لغت کی دوسری کتابوں میں ”غَسَّاقٌ“ کا معنی ”اَلْبَارِدُ وَ الْمُنْتِنُ“ لکھا ہے، نہایت ٹھنڈا اور بدبو دار۔ قرآن مجید میں دو مقامات پر یہ لفظ ”حَمِيْمٌ“ کے مقابلہ میں آیا ہے، ایک یہاں اور ایک سورة نبا (25) میں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اس کا معنی شدید ٹھنڈا اور بدبودار کرنا زیادہ مناسب ہے، کیونکہ جہنم میں گرمی (آگ) کا عذاب بھی ہے اور سردی (زمہریر) کا بھی۔ ابن کثیر نے فرمایا ”اَلْحَمِیْمُ“ انتہا کو پہنچا ہوا گرم اور ”غَسَّاقٌ“ ایسا ٹھنڈا جس کی ٹھنڈک برداشت نہ ہو سکے۔
Ayah 38:58وَّاٰخَرُ مِنْ شَكْلِهٖٓ اَزْوَاجٌ : ”وَّاٰخَرُ“ مبتدا ہے، ”مِنْ شَكْلِهٖٓ“ ”کَاءِنٌ“ کے متعلق ہو کر اس کی صفت ہے اور ”اَزْوَاجٌ“ خبر ہے۔ یعنی ان کا عذاب صرف حمیم و غسّاق ہی نہیں ہوگا، بلکہ حمیم و غسّاق سے ملتی جلتی کئی شکلوں کا اور عذاب بھی ہوگا، مثلاً زمہریر، سموم، زقّوم اور صعود وغیرہ۔
Ayah 38:59ھٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ : ابن کثیر نے فرمایا، یہاں اللہ تعالیٰ نے جہنمیوں کی ایک دوسرے سے کی جانے والی باتوں کا ذکر فرمایا ہے، جیسا کہ فرمایا : (ۭكُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا) [ الأعراف : 38 ] ”جب بھی کوئی جماعت داخل ہوگی اپنے ساتھ والی کو لعنت کرے گی۔“ یعنی وہ سلام کے بجائے ایک دوسرے پر لعنت کریں گے اور ایک دوسرے کو جھوٹا اور کافر کہیں گے۔ چناچہ وہ جماعت جو دوسری جماعت سے پہلے داخل ہوگی جب اس کے بعد والی جماعت جہنم کے دربان فرشتوں کے ساتھ داخل ہوگی تو پہلے والی جماعت فرشتوں سے کہے گی، یہ ایک گروہ ہے جو تمہارے ساتھ گھستا چلا آ رہا ہے، انھیں کوئی خوش آمدید نہیں، یقیناً وہ آگ میں داخل ہونے والے ہیں۔
Ayah 38:60قَالُوْا بَلْ اَنْتُمْ ۣ لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْ : بعد میں داخل ہونے والے ان سے کہیں گے، بلکہ تمہارے لیے کوئی خوش آمدید نہیں، تمھی نے ہمیں اس کام کی دعوت دی جس نے ہمیں اس انجام تک پہنچایا، سو یہ ہمارا اور تمہارا بہت برا ٹھکانا ہے۔ یہ بات وہ محض دل ٹھنڈا کرنے کے لیے کہیں گے۔
Ayah 38:61قَالُوْا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا ھٰذَا : جب اس سے دل ٹھنڈا نہ ہوگا تو اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے، اے ہمارے پروردگار ! جو بھی اس عذاب کو ہمارے آگے لایا ہے تو اسے آگ میں دگنا عذاب کر، ایک خود گمراہ ہونے کا اور دوسرا ہمیں گمراہ کرنے کا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ۙ قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ ڛ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ) [ الأعراف : 38 ] ”تو ان کی پچھلی جماعت اپنے سے پہلی جماعت کے متعلق کہے گی اے ہمارے رب ! ان لوگوں نے ہمیں گمراہ کیا، تو انھیں آگ کا دگنا عذاب دے۔ فرمائے گا سبھی کے لیے دگنا ہے اور لیکن تم نہیں جانتے۔“ اس آیت سے ملتی جلتی آیت کے لیے دیکھیے سورة احزاب (67، 68)۔
Ayah 38:62وَقَالُوْا مَا لَنَا لَا نَرٰى : ”الْاَشْرَارِ“ ”شَرٌّ“ کی جمع ہے، جو اصل میں ”أَشَرُّ“ اسم تفضیل ہے، بدترین لوگ۔ یعنی جہنمی آگ میں چاروں طرف نگاہ ڈالیں گے تو انھیں اپنے چودھری، سردار اور پیشوا تو نظر آئیں گے مگر وہ مومن نظر نہیں آئیں گے جنھیں وہ دنیا میں مذاق کیا کرتے تھے۔ اس پر وہ حسرت و افسوس اور تعجب سے کہیں گے، ہمیں کیا ہے کہ ہم جہنم میں اپنے ساتھ ان ایمان والوں کو نہیں دیکھ رہے جنھیں ہم دنیا میں بد ترین لوگوں میں شمار کرتے تھے ؟
Ayah 38:63اَتَّخَذْنٰهُمْ سِخْرِيًّا : یعنی اب دو ہی صورتیں ہیں، یا تو ہم غلطی پر تھے کہ انھیں ناحق مذاق کا نشانہ بناتے رہے، یا وہ بھی یہیں کہیں جہنم میں ہیں، مگر ہماری نگاہیں ان سے پھر گئی ہیں، جو وہ ہمیں نظر نہیں آ رہے۔
Ayah 38:64اِنَّ ذٰلِكَ لَحَــقٌّ : یعنی اگرچہ یہ بات تمہاری سمجھ میں آنا مشکل ہے کہ اتنے شدید عذاب اور نفسا نفسی میں ایک دوسرے سے جھگڑیں گے، مگر سن لو ! یہ بات بالکل حق ہے کہ آگ میں جلنے والے ایک دوسرے سے سخت جھگڑیں گے اور یہ بھی ان کے عذاب کا ایک حصہ ہوگا۔
Ayah 38:65قُلْ اِنَّمَآ اَنَا مُنْذِرٌ: سورت کی ابتدا میں رسول اللہ ﷺ کے رسول ہونے اور اللہ تعالیٰ کے ایک معبود برحق ہونے پر کفار کے تعجب اور انکار کا ذکر تھا اور ان کے یہ کہنے کا کہ کیا یہ ہمیں ہمارے اتنے معبودوں کے بجائے ایک ہی معبود کی عبادت کی دعوت دیتا ہے اور یہ کہ ہم تمام سرداروں کے ہوتے ہوئے اس پر وحی کیسے نازل ہوگئی ؟ بلکہ یہ ساحر اور کذّاب ہے۔ کفار کی ان باتوں اور ان کے قیامت کے جھٹلانے اور اس کا مذاق اڑانے پر رسول اللہ ﷺ کو صبر کا حکم دیا۔ اب سورت کے آخر میں پھر اسی مضمون کو دہرایا جا رہا ہے کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ میں تو بس ایک ڈرانے والا ہوں، نہ ساحر ہوں، نہ کذّاب، نہ کچھ اور۔ صرف ڈرانے والا اس لیے کہ بشارت ماننے والوں کے لیے ہوتی ہے، منکروں کو ڈرایا ہی جاتا ہے۔
وَّمَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ : عبادت کے لائق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ لفظ ”اللّٰهُ“ میں اگرچہ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات آجاتی ہیں، کیونکہ یہ معبود برحق کا علم (نام) ہے، مگر یہاں اس کے واحد معبود ہونے کی دلیل کے طور پر اس کی پانچ صفات کا خاص طور پر ذکر فرمایا، پہلی صفت ”الْوَاحِدُ“ ہے، یعنی اس کے علاوہ ہر چیز جوڑا ہے، اکیلا وہی ہے۔ ”الْقَهَّارُ“ بڑے دبدبے والا، کوئی اس کے قہر کے سامنے ٹھہر نہیں سکتا۔
Ayah 38:66رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا : اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی تین صفات بیان ہوئی ہیں جو اللہ کے سوا کسی میں نہیں پائی جاتیں، پھر کسی اور کی عبادت کیوں، جو نہ واحد ہے نہ قہر اور دبدبے کا مالک، نہ آسمان و زمین اور ان کے مابین کا رب ہے، نہ ہی اس کے ہاتھ میں قوت و اقتدار ہے اور نہ ہی گناہوں کو بخشنے کا اختیار ؟
Ayahs 38:67–68قُلْ هُوَ نَبَؤٌا عَظِيْمٌ : پچھلی آیت میں رسول اللہ ﷺ کو یہ کہنے کا حکم دیا کہ میں تو صرف ڈرانے والا ہوں اور معبود صرف اللہ ہے جو مذکورہ صفات کا مالک ہے۔ رسول اللہ ﷺ انھیں اللہ کے عذاب سے اور قیامت سے ڈراتے تھے، جس پر وہ فوراً مطالبہ کرتے کہ وہ عذاب لاؤ، قیامت لے آؤ، یہ وعدہ کب پورا ہوگا ؟ یہاں ان کا سوال ذکر کیے بغیر اس کا جواب دینے کا حکم دیا کہ ان سے کہہ دیجیے کہ وہ قیامت بہت بڑی خبر اور بہت بڑا واقعہ ہے جس سے تم منہ موڑنے والے ہو۔ رہا مجھ سے یہ سوال کہ وہ کب آئے گی ؟ تو یہ بتانا میرا کام نہیں، قیامت تو بہت دور کی بات ہے، مجھے تو آسمانوں پر فرشتوں کی مجلس میں ہونے والی بات چیت اور بحث کا بھی کبھی علم نہیں ہوتا، سوائے اس کے جو میری طرف وحی کی جائے۔
Ayahs 38:69–70مَا كَانَ لِيَ مِنْ عِلْمٍۢ : سب سے اونچی مجلس سے مراد آسمانوں پر فرشتوں کی مجلس ہے۔ ”كَانَ“ ہمیشگی کا معنی دیتا ہے، اس پر نفی آنے سے نفی کی ہمیشگی مراد ہوتی ہے، یعنی فرشتوں کی مجلس میں جو بحث ہوتی ہے مجھے اس کا کبھی کچھ علم نہیں ہوتا، میں عالم الغیب نہیں، اس کے متعلق میں جو کچھ تمہیں بتاتا ہوں وہ وحی الٰہی کے ذریعے سے مجھے معلوم ہوتا ہے اور وہ بھی صرف ان بحثوں کے متعلق کہ جن کا تعلق لوگوں کی ہدایت اور انھیں خبردار کرنے اور ڈرانے سے ہوتا ہے۔ یہ وحی الٰہی میری نبوت کی بھی دلیل ہے، کیونکہ اگر وحی نہ ہوتی تو میں ملأ اعلیٰ میں ہونے والی کوئی بات تمہیں نہ بتاسکتا۔
ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ملأ اعلیٰ کی ایک مجلس کی گفتگو کا ذکر فرمایا، معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک صبح رسول اللہ ﷺ ہم سے صبح کی نماز سے رکے رہے، یہاں تک کہ قریب تھا کہ ہم سورج کی ٹکیہ دیکھ لیں، پھر آپ جلدی سے نکلے، نماز کی اقامت کہی گئی اور رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی اور اس میں اختصار سے کام لیا، جب سلام پھیرا تو آواز کے ساتھ ہمیں فرمایا، اپنی اپنی جگہ اسی طرح بیٹھے رہو، پھر فرمایا : (أَمَا إِنِّيْ سَأُحَدِّثُکُمْ مَا حَبَسَنِیْ عَنْکُمُ الْغَدَاۃَ إِنِّيْ قُمْتُ مِنَ اللَّیْلِ فَتَوَضَّأْتُ فَصَلَّیْتُ مَا قُدِّرَ لِيْ فَنَعَسْتُ فِیْ صَلاَتِيْ حَتَّی اسْتَثْقَلْتُ فَإِذَا أَنَا بِرَبِّيْ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی فِيْ أَحْسَنِ صُوْرَۃٍ فَقَالَ یَا مُحَمَّدُ ! قُلْتُ لَبَّیْکَ رَبِّ قَالَ فِیْمَ یَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلٰی ؟ قُلْتُ لَا أَدْرِيْ قَالَہَا ثَلاَثًا قَالَ فَرَأَیْتُہُ وَضَعَ کَفَّہُ بَیْنَ کَتِفَيَّ حَتّٰی وَجَدْتُّ بَرْدَ أَنَامِلِہِ بَیْنَ ثَدْیَیَّ فَتَجَلّٰی لِيْ کُلُّ شَيْءٍ وَ عَرَفْتُ فَقَالَ یَا مُحَمَّدُ ! قُلْتُ لَبَّیْکَ رَبِّ قَالَ فِیْمَ یَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلٰی ؟ قُلْتُ فِي الْکَفَّارَاتِ قَالَ مَا ہُنَّ ؟ قُلْتُ مَشْيُ الْأَقْدَامِ إِلَی الْجَمَاعَاتِ وَ الْجُلُوْسُ فِي الْمَسَاجِدِ بَعْدَ الصَّلَوَاتِ وَ إِسْبَاغُ الْوُضُوْءِ فِي الْمَکْرُوْہَاتِ قَالَ ثُمَّ فِیْمَ ؟ قُلْتُ إِطْعَام الطَّعَامِ وَ لِیْنُ الْکَلاَمِ وَ الصَّلاَۃُ باللَّیْلِ وَ النَّاسُ نِیَامٌ، قَالَ سَلْ قُلْتُ اللّٰہُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُکَ فِعْلَ الْخَیْرَاتِ وَ تَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ وَ حُبَّ الْمَسَاکِیْنِ وَ أَنْ تَغْفِرَ لِيْ وَ تَرْحَمَنِيْ وَ إِذَا أَرَدْتَّ فِتْنَۃً فِيْ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِيْ غَیْرَ مَفْتُوْنٍ وَأَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَ حُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَحُبَّ عَمَلٍ یُقَرِّبُ إِلٰی حُبِّکَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ إِنَّہَا حَقٌّ فَادْرُسُوْہَا ثُمَّ تَعَلَّمُوْہَا) [ ترمذي، التفسیر، باب سورة صٓ : 3235 ] ”سنو ! میں تمہیں بتاؤں گا کہ آج صبح مجھے تم سے کس چیز نے روکے رکھا، میں رات کو اٹھا، وضو کیا اور جتنی نماز قسمت میں تھی وہ پڑھی، نماز میں مجھے نیند آگئی، حتیٰ کہ میں بوجھل ہوگیا تو اچانک میں اپنے رب کو بہترین صورت میں دیکھتا ہوں۔ اس نے فرمایا : ”اے محمد !“ میں نے کہا : ”حاضر ہوں، اے میرے رب !“ فرمایا : ”ملأ اعلیٰ کس چیز میں بحث کر رہے ہیں ؟“ میں نے کہا : ”میں نہیں جانتا۔“ اللہ تعالیٰ نے یہ بات تین دفعہ کہی، تو میں نے اسے دیکھا کہ اس نے اپنی ہتھیلی میرے کندھوں کے درمیان رکھی، یہاں تک کہ میں نے اس کے پوروں کی ٹھنڈک اپنے سینے کے درمیان محسوس کی، تو میرے لیے ہر چیز روشن ہوگئی اور میں نے پہچان لی۔ پھر فرمایا : ”اے محمد !“ میں نے کہا : ”حاضر ہوں اے میرے رب !“ فرمایا : ”ملأ اعلیٰ کس چیز میں بحث کر رہے ہیں ؟“ میں نے کہا : ”کفارات کے بارے میں۔“ فرمایا : ”وہ کیا ہیں ؟“ میں نے کہا : ”پیدل چل کر جماعت (کے ساتھ نماز) کے لیے جانا اور نمازوں کے بعد مسجدوں میں بیٹھنا اور ناپسندیدہ وقتوں میں وضو کرنا۔“ فرمایا : ”پھر کس چیز میں ؟“ میں نے کہا : ”کھانا کھلانے میں اور نرم کلام میں اور رات کو نماز کے بارے میں جب لوگ سوئے ہوئے ہوں۔“ فرمایا : ”مانگ۔“ تو میں نے یہ دعا کی : ”(اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُکَ“ سے لے کر ”یُقَرِّبُ إِلٰی حُبِّکَ“ تک) اے اللہ ! میں تجھ سے نیکیاں کرنے کا سوال کرتا ہوں اور برائیاں ترک کرنے کا اور مسکینوں کی محبت کا اور یہ کہ تو مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم کرے اور جب تو کسی قوم میں فتنے کا ارادہ کرے تو مجھے فتنے میں مبتلا ہوئے بغیر فوت کرلے، اور میں تجھ سے تیری محبت کا سوال کرتا ہوں اور اس شخص کی محبت کا جو تجھ سے محبت کرتا ہے اور اس عمل کی محبت کا جو تیری محبت کے قریب کر دے۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”یہ دعا حق ہے، اسے پڑھو، پھر اسے اچھی طرح سیکھو۔“ ترمذی نے فرمایا : ”یہ حدیث حسن صحیح ہے، میں نے محمد بن اسماعیل (بخاری) سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔“ شیخ البانی ؓ نے بھی اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔