Ayah 44:41(1) یوم لایغنی ملوی عن مولی شیائً : ”مولی“ کا معنی دوست بھی ہے، قریبی رشتہ دار بھی ، غلام بھی اور غلام کا مالک بھی۔ یعنی قیامت کے دن کوئی شخص کسی ایسے شخص کے کام نہیں آسکے گا جس سے اس کی دوستی یا رشتہ داری یا اس کی حمایت حاصل کرنے کا کوئی تعلق ہو۔ دیکھیے سورة مومنون (101) اور سورة معارج (10، 11)
(2) ولا ھم ینصرون : اور نہ کسی اور طرف سے مدد مل سکے گی۔
Ayah 44:42(1) الا من رحم اللہ : یعنی جس پر اللہ نے رحم فرما دیا وہی بچے گا، جیسا کہ ابوہریرہ ؓ عنہب یان کرتے ہیں کیہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(لن ینجی احداً منکم عملہ، قالوا ولاا نت یا رسول اللہ ؟ قال ولا انا، الا ان یتعمدنی اللہ برحمۃ) (بخاری، الرقاق، باب القصد والمداومۃ علی العمل :6363)”تم میں کسی کو اس کا عمل نجات نہیں دلائے گا۔“ صحابہ نے کہا :”یا رسول اللہ ! کیا آپ کو بھی نہیں ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا :”مجھے بھی نہیں، الا یہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت کے ساتھ ڈھانپ لے۔“
(2) انہ ھو العزیز الرحیم : یہ اس بات کا جواب ہے کہ کوئی کسی کی مدد کیوں نہیں کرسکے گا ؟ فرمایا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ہی سب پر غالب ہے، وہ جو فیصلہ کر دے گا وہ نافذ ہو کر رہے گا۔ کسی میں اسے رد کرنے یا بدلنے کی یا اس کی مرضی کے بغیر سفارش کرنے کی جرأت نہیں ہوگی،۔ ”الرحیم“ کا مطلب یہ ہے کہ وہ سب پر غالب ہونے کے باوجود بےحد مہربان ہے، کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ وہ چاہے تو قصور وار کی سزا معاف کر دے یا اس میں کمی کر دے یا کسی کو اس عمل سے بہت زیادہ جزا دے دے، مگر وہ جرم کے بغیر کسی کو سزا نہیں دیتا۔
Ayah 44:43ان شجرت الزقوم :”الزقوم“ کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة صافات (62 تا 65)
Ayah 44:44طعام الاثیم :”الاثیم“ سے مراد یہاں کافر و مشرک اور قیامت کا منکر ہے، کیونکہ پیچھے انھی کا ذکر آرہا ہے اور آگے آیت (50) (ان ھذا ما کنتم بہ تمترون) (یہ ہے جس میں تم شک کیا کرتے تھے) سے بھی ظاہر ہے کہ یہ لوگ مومن نہیں ہوں گے، کیونکہ ایمان تو یقین کا نام ہے۔ سورة قلم میں بھی ”اثیم“ کا لفظ کافر کے متعلق آیا ہے، فرمایا :(مناع للخیر معتد اثیم) (اقلم : 12)”خیر کو بہت روکنے والا، حد سے بڑھنے والا، سخت گناہگار ہے۔“ سورة جاثیہ میں فرمایا :(ویل لکل افاک اثیم) (الجاثیۃ :8)”بڑی ہلاکت ہے ہر سخت جھوٹے، گناہگار کے لئے۔“
Ayah 44:45کالمھل یغلی فی البطون :”المھل“ کے کئی معنی ہیں، پگھلا ہوا تانبا، لوہا یا کوئی دھات، گرم تیل کی تلچھٹ، پیپ اور لہو، مزید دیکھیے سورة کہف (29)۔
Ayah 44:46کغلی الحمیم :”الحمیم“ نہایت گرم پانی۔
Ayah 44:47خذوہ فاعتلوہ الی سوآء الجحیم :”عتل یعتل“ (ض، ن) سختی سے گھسیٹ کرلے جانا۔”سوآئ“ کا معنی درمیان ہے، کیونکہ درمیان کی چیز ہر طرف سے برابر ہوتی ہے۔
Ayah 44:48ثم صبوا فوق راسہ من عذاب الحمیم : اس آیت کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة حج کی آیت (19، 20) کی تفسیر۔
Ayah 44:49ذق انک انت العزیز الکریم :”ذق“ ذاق یذوق ذوقا“ (ن) سے امر ہے، چکھو۔ یہ بات ان سے طنز اور مذاق کے طور پر کہی جائے گی، کیونکہ وہ دنیا میں اپنے آپ کو ایسا ہی سمجھتے اور باور کرواتے تھے۔ جملے کی خبر ”العزیز الکریم“ پر الف لام اور ضمیر فصل ”انت“ سے حصر کا مفہوم پیدا ہو رہا ہے کہ تو ہی وہ شخص ہے جو عزیز و کریم ہے۔
Ayah 44:50ان ھذا ما کنتم بہ تمترون : یعنی یہ ہے وہ جہنم جس کا تمہیں یقین نہیں تھا۔ فرشتے انھیں جہنم کی مار دے دے کر جتلائیں گے کہ یہ وہ آگ ہے جس میں تم شک کرتے تھے اور جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ دیکھیے سورة طور (13 تا 15)۔
Ayah 44:51ان المتقین فی مقام امین : کفار کے برے انجام کے ذکر کے بعد متقین کے حسن انجام کا ذکر فرمایا۔ ”مقام امین“ (امن والی جگہ) سے مراد وہ جگہ جہاں نہ موت کا کھٹکا ہے نہ نکالے جانے کی فکر، نہ کوئی غم نہ پریشانی اور نہ محنت نہ مشقت۔ ابو سعید خدری اور ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ینادی مناد ان لکم ان تصحوا فلاتسفموا ابداً و ان لکم ان تحیوا فلا تموتوا ابداً وان لکم ان تشبوا فلا تھرموا ابداً وان لکم ان تنعموا فلا تباً سوا ابداً) (مسلم الجنۃ وصفۃ نعیمھا، باب فی دوام نعیم اھل الجنۃ…:2838)”اہل جنت کو) ایک آواز دینے والا آواز دے گا کہ تمہیں یہ نعمت حاصل ہے کہ تم تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ ہوگے اور تمہیں یہ نعمت حاصل ہے کہ زندہ رہو گے کبھی نہیں مرو گے اور تمہیں یہ نعمت حاصل ہے کہ جو ان رہو گے کبھی بوڑھے نہیں ہوگے اور تمہیں یہ نعمت حاصل ہے کہ خوش حال رہو گے کبھی خستہ حال نہیں ہوگے۔“
Ayah 44:52فی جنت وعیون : یہ امن والی جگہ کا بیان ہے۔ تفسیر کے لئے دیکھیے سورة حجر (45)
Ayah 44:53یلبسون من سندس واستبرق متقبلین :”سندس“ باریک ریشمی کپاڑ۔”استبرق“ گاڑھے دبیز ریشم کا کپڑا۔“ متقبلین“ آمنے سامنے، کسی کی پشت دوسرے کی طرف نہیں ہوگی،۔
Ayah 44:54(1) کذلک :”ای الامر کذلک“ یا ”یکون کذلک“ یعنی ایسے ہی ہوگا، نہ ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
(2) وزوجنھم یحورعین :”حور“ ”حورائ“ کی جمع ہے۔ نہایت گوری عورت جس کی آنکھوں کی سیاہی بہت سیاہ اور سفیدی بہت سفید ہو، جسے دیکھتے ہی بندہ حیران رہ جائے۔ بعض نے معنی کیا، سیاہ آنکھ والی عورت جس کی آنکھ میں سفیدی کا حصہ بہت کم ہو۔”عین“ ”عینآئ“ کی جمع ہے، بڑی آنکھوں والی عورت۔
Ayah 44:55یدعون فیھا بکل فاکھۃ امنین : بےخوف ہو کر منگوانے کا مطلب یہ ہے کہ نہ انھیں یہ فکر ہوگا کہ وہ چیز موجود نہ ہو نہ یہ کہ قیمت کہاں سے ادا کریں گے، نہ یہ کہ ختم ہوجائے گی، نہ یہ کہ کھانے سے بدہضمی نہ ہوجائے، پھر نہ قبض کا خوف نہ اسہال۔ غرض جو چاہیں گے بےفکر ہو کر جنت کے خادموں کو لانے کا حکم دیں گے۔
Ayah 44:56(1) لایذوقون فیھا الموت الا الموتہ الاولی : ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(یوتی بالموت کھیئۃ کبش املح فینا دی مناد یا اھل الجنۃ ! فیشرثبون و ینظرون فیقول ھل تعرفون ھذا ؟ فیقولون نعم، ھذا الموت و کلھم قد راہ، ثم ینادی یا اھل النار ! فیشرثبون و ینظرون فیقول ھل تعرفون ھذا ؟ فیقولون، نعم ھذا الموت و کلھم قدراہ فیدبح ثم یقول با اھل الجنۃ ! خلود فلا موت و ابا ھل النار ! خلود فلا موت ثم قراً :(وانذر ھم یوم الحسرۃ اذ قضی الامر وھم فی غفلۃ) وھولاء فی عملہ اھل الدنیا (وھم لا یومنون) (بخاری التفسیر، باب قولہ عزوجل :(واندرھم یوم الحسرۃ):8330)”موت کو ایک چتکبرے مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا، پھر ایک آواز دینے والا آواز دے گا :”اے جنت والو !“ تو وہ سر اٹھائیں گی اور دیکھیں گے۔ وہ کہے گا :”کیا تم اسے پہچانتے ہو ؟“ وہ کہیں گے؍”ہاں ! یہ موت ہے۔“ اور وہ سب اسے دیکھ چکے ہوں گے، پھر وہ آواز دے گا :”اے آگ والو !“ تو وہ سر اٹھائیں گے اور دیکھیں گے، وہ کہے گا :”کیا تم اسے پہچانتے ہو ؟“ وہ کہیں گے ”ہاں ! یہ موت ہے۔“ اور وہ سب اسے دیکھ چکے ہوں گے، تو اسے ذبح کردیا جائے گا۔ پھر وہ کہے گا :”اے جنت والو ! (اب) ہمیشگی ہے، کوئی موت نہیں اور اے آگ والو ! (اب) ہمیشگی ہے، کوئی موت نہیں۔“ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی :(وانذرھم یوم الحسرۃ اذ قضی الامر وھم فی غفلۃ) (مریم : 39)”اور انھیں پچھتاوے کے دن سے ڈرا جب فیصلہ کردیا جائے گا اور وہ سراسر غفلت میں ہیں۔“ یعنی وہ سراسر دنیا کی غفلت میں ہیں ”اور وہ ایمان نہیں لاتے۔“ مزید دیکھیے سورة مریم (39)۔
(2) وو قھم عذاب الجحیم، یہاں ایک سوال ہے کہ جو شخص جنت میں داخل ہوگیا اس کا جہنم سے بچنا تو خود بخود ظاہر ہے، پھر یہ کہنے کی کیا ضرورت ہے کہ وہ انھیں بھڑکتی آگ سے بچا لے گا۔ جواب اس کا یہ ہے کہ جنت کی قدر پوری طرح اس وقت معلوم ہوتی ہے جب اس کے پیش نظر یہ بات بھی ہو کہ اگر میں جہنم میں وہ تا تو میرا کیا ل حال ہوتا ہے۔
Ayah 44:57فضلاً من ربک ذلک ھو الفوز العظیم، یعنی جنت میں داخلہ کسی کے استحقاق یا اعمال کی وجہ سے نہیں ہوگا بلکہ محض اللہ کے فضل سے ہوگا، کیونکہ آدمی جتنے اعمال بھی کرے وہ اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت کا بدل نہیں ہوسکتے۔ اس سے پہلے آیت (42) کی تفسیر میں رسول اللہ ﷺ کی حدیث گئزر چکی ہے کہ کسی بھی شخص کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ وہاں ملاحظہ فرمائیں۔
Ayah 44:58فانما یسرنہ بلسانک لعلھم یتذکرون : سورت کی ابتدا قرآن کریم کی عظمت و اہمیت کے بیان سے ہوئی تھی، آخر میں پھر اسی کی طرف توجہ دلائی کہ ہم نے یہ قرآن آپ کی زبان عربی میں آسان کردیا ہے، تاکہ عرب لوگ اسے اپنی زبان میں ہونے کی وجہ سے آسانی کے ساتھ سمجھ لیں اور غیر عرب لوگوں کو سمجھائیں۔ مزید دیکھیے سورة مریم کی آیت (97) کی تفسیر۔
Ayah 44:59فار تقب انھم مرتقبون : یعنی اگر قرآن آسان ہونے کے باوجود یہ لوگ نصیحت حاصل نہیں کرتے تو آپ انتظار کیجیے کہ کب اللہ کی پکڑ ان پر آتی ہے۔ یہ لوگ بھی اتنظار کر رہے ہیں کہ آپ کب زمانے کی کسی گردش میں آتے ہیں اور کب ان کی جان چھوٹتی ہے، جیسا کہ فرمایا :(ام یقولون شاعر نتربص بہ ریب المنون قل تربصوا فانی معکم من المتربصین) (الطور : 30، 31)”یا وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک شاعر ہے جس پر ہم زمانے کے حوادث کا انتظار کرتے ہیں ؟ کہہ دے انتظار کرو پس بیشک میں (بھی) تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں سے ہوں۔“