46. Surah Al-Ahqaf

الأحقافThe Dunes · 35 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 46:15

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ اِحْسٰنًا١ؕ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ كُرْهًا وَّ وَضَعَتْهُ كُرْهًا١ؕ وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ بَلَغَ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۙ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕۚ اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 46:15 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے کی تاکید کی، اس کی ماں نے اسے ناگواری کی حالت میں اٹھائے رکھا اور اسے ناگواری کی حالت میں جنا اور اس کے حمل اور اس کے دودھ چھڑانے کی مدت تیس مہینے ہے، یہاں تک کہ جب وہ اپنی پوری قوت کو پہنچا اور چالیس برس کو پہنچ گیا تو اس نے کہا اے میرے رب ! مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام کی ہے اور یہ کہ میں وہ نیک عمل کروں جسے تو پسند کرتا ہے اور میرے لیے میری اولاد میں اصلاح فرما دے، بیشک میں نے تیری طرف توبہ کی اور بیشک میں حکم ماننے والوں سے ہوں۔

وَوَصَّيْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ اِحْسٰـنًا : سورت کے شروع سے یہاں تک اللہ تعالیٰ کی توحید اس کی نازل کردہ کتاب کے حق ہونے اور اس کی عبادت پر استقامت کا بیان فرمایا، اب ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کا بیان ہے۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ کے حق توحید اور اخلاص عبادت کے ساتھ ماں باپ کے حق کا ذکر فرمایا ہے۔ اس جملے کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة بقرہ (83) بنی اسرائیل (23، 24) ، عنکبوت (8) اور سورة لقمان (14، 15)۔ (2) حملتہ امہ کرھاً و و ضعتہ کرھا :”کرہ یکرہ کرھا و کرھا و کراھۃ و کراھیۃ“ (ع)”الشی ،“ یہ ”احب الشیئ“ کی ضد ہے، ناپسند کرنا۔ ”الکرہ“ اور ”الکرہ“ کا معنی انکار اور مشقت بھی ہے۔ ”کرھا“ حال ہے ”ای حملتہ امہ ذات کرہ“ یعنی اس کی ماں نے اسے اس حالت میں اٹھا رکھا کہ وہ ناگواری یا مشقت والی تھی۔ یا اس سے پہلے حرف جا رباء محذوف ہے، جس کے حذف کرنے سے اس پر نصب آیا ہے :”ای حملتہ امہ بکرہ“ یعنی اس کی ماں نے اسے ناگواری یا مشقت کیساتھ اٹھایا،”ووضعتہ کرھا“ اور اسے ناگواری اور مشقت کے ساتھ جنا۔ (3) آیت میں اگرچہ ماں اور باپ دونوں کے ساتھ احسان کی تاکید کی گئی ہے، مگر ماں کی تین قربانیوں کا ذکر خاص طور پر کیا گیا ہے۔ پہلی یہ کہ وہ حمل کی پوری مدت اسے اپنے پیٹ میں اٹھائے پھرتی ہے، اس دوران اس پر کئی ناگوار حالتیں گزرتی ہیں، مثلاً متلی، بےچینی، تھکاوٹ، بیماری کی سی حالت، دن بدن بڑھتی ہوئی کمزوری، جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا :(حملتہ امہ وھنا علی ومھن) (لقمان : 13)”اس کی ماں نے اسے کمزوری پر کمزوری کی حالت میں اٹھائے رکھا۔”خصوصاً حمل کے آخری ایام میں تو یہ بوجھ اس کی جان کا روگ بنا ہوتا ہے۔ حقیقت ہے کہ کوئی شخص اگر اپنی ماں کا حق ادا کرنے کے لئے اسے کمزوری کی حلات میں اٹھا کر لئے پھرے تب بھی وہ اس کا حق ادا نہیں کرسکتا۔ کہاں پوری مدت حمل مسلسل اپنے شکم میں اٹھائے پھرنا اور کہاں کسی وقت کچھ دیر کے لئے اٹھا لینا۔ پھر ماں ان سب ناگوار کیفیتوں کو آنے والے فرزند کی امید پر خوشی سے برداشت کرتی ہے، جب کہ اولاد اسے بوجھ سمجھ کر یا صرف اللہ کا حکم سمجھ کر اٹھاتی ہے، دونوں میں کوئی نسبت ہی نہیں۔ دوسری قربانی وضع حمل کا نہایت تکلیف دہ مرحلہ ہے جس میں اس کی جان داؤ پر لگی ہوتی ہے، کتنی مائیں اس مرحلے میں جان سے گزر جاتی ہیں، وہ اپنے فرزند کی امید پر اس ناگوار مرحلے کو بھی برداشت کرتی ہے۔ تیسری قربانی دو سال تک اس کی پرورش ، اپنے آرام کی قربانی دے کر اس کے لئے ہر آسائش مہیا کرنا اور اپنا خون دودھ کی صورت میں دو سال تک پلاتے جانا ہے۔ ان تین قربانیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ماں کا حق باپ سے تین گنا زیادہ رکھا ہے۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، کہنے لگا :(یا رسول اللہ ! من احق الناس بحس صحابتی ؟ قال امک، قال ثم من ؟ قال ثم امک، قال ثم من ؟ قال ثم امک، قال ثم من ؟ قال ثم ابوک) (بخاری، الادب، باب میں احق الناس بحسن الصحبہ :5981)”یا رسول اللہ ! لوگوں میں سے میرے حسن محبت کا زیادہ حق دار کون ہے ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا :”تمہاری ماں۔“ اس نے کہا :”پھر کون ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا :”پھر تمہاری ماں۔“ اس نے کہا : ”پھر کون ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا :”پھر تمہاری ماں۔“ اس نے کہا :”پھر کون ؟“ آپ ﷺ نے (چوتھی مرتبہ) فرمایا :”پھر تمہارا باپ۔“ (4) وحملہ و فصلہ ثلثون شھراً : اس آیت کو اور سورة لقمان کی آیت (14):(وفصلہ فی عامین) (اور اس کا دودھ چھڑانا دو سال میں ہے) اور سورة بقرہ کی آیت (233): (والو ا لدت یرضعن اولادھن حولین کاملین لمن ارد ان یتم الرضاعۃ) (اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں، اس کے لئے جو چاہے کہ دودھ کی مدت پوری کرے) ان تینوں آیتوں کو ملانے سے ثابت ہوتا ہے کہ حمل کی کم از کم مدت چھ ماہ ہے، کیونکہ تیس ماہ میں سے دودھ پلانے کی مدت دو سال نکالی جائے تو باقی چھ ماہ بچتے ہیں۔ اب نکثیر نے سورة زخرف کی آیت (81) :(قل ان کان للرحمن ولد فانا اول العبدین) کی تفسیر میں ابن جریر طبری سے نقل فرمایا ہے :(عن بعجۃ بن زید الجھنی، ان امراۃ منھم دخلت علی زوجھا، وھو رجل منھم ایضاً ، فولدت لہ فی ستۃ اشھر، فذکر ذلک زوجھا لعمان بن عفان ؓ فامر، بھا ان ترجم فدخل علیہ علی بن ابی طالب ؓ فقفال ان اللہ تبارک و تعالیٰ یقول فی کتابہ :(وحملہ و فضلہ ثلثون شھراً) وقال :(وفضلہ فی عامین) فال ھو اللہ ! ما عبد عثمان ان بعث الیھا تردد) (الطبری : 20/685 ح :31280)”بعجہ بن یزید جہنمی کہتے ہیں کہ ان کے قبیلے کی ایک عورت اپنے خاوند کے پاس آئی، وہ آدمی بھی اسی قبیلے کا تھا، تو اس عورت نے چھ مہینے میں بچے کو جنم دیا۔ اس کے خاوند نے عثمان بن عفان ؓ سے اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا۔ اس پر علی بن ابی طالب ؓ ان کے پاس آئے اور کہا :”اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں :(وحملہ وفصلہ ثلثون شعراً) (کہ اس کے حمل اور اس کے دودھ چھڑانے کی مدت تیس ماہ ہے) اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :(وفصلہ فی عامین) (اور اس کا دودھ چھڑانا دو سال میں ہے۔““ بعجہ بن زیدی کہتے ہیں :”تو اللہ کی قسم ! عثمان ؓ نے ان کی بات کا کوئی انکار نہیں کیا اور فوراً آدمی بھیجا کہ اسے واپس لایا جائے۔“ ابن کثیر کے محقق حکمت بن بشیر نے فرمایا، اس کی سند صحیح ہے۔ یہ استدلال نہایت مضبوط ہے، علی اور عثمان ؓ کے علاوہ صحابہ کی ایک جماعت نے ان کی موافقت کی ہے۔ (ابن کثیر) ابن عباس ؓ نے فرمایا :”عورت جب نو (9) ماہ میں بچہ جنے تو اسے اکیس (21) ماہ دودھ پلانا کافی ہے، جب سات (7) ماہ میں جنے تو اسے تئیس (23) ماہ دودھ پلانا کافی ہے اور جب چھ (6) ماہ میں جنے تو پورے دو سال دودھ پلائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :(وحملہ و فصلہ ثلثون شھراً)”اس کے حمل اور دودھ چھڑانے کی مدت تیس ماہ ہے۔“ (ابن ابی حاتم :18568، ابن کثیر وقال المحقق سندہ حسن) (5) حقی اذا بلغ اشدہ وبلغ اربعین سنۃ…: یہاں سے اللہ تعالیٰ نے والدین کا حق پہچاننے کے اعتبار سے دوق سم کے آدمیوں کا ذکر فرمایا ہے۔ اس آیت میں اس آدمی کا ذکر ہے جو اپنی جوانی کو پہنچتا ہے تو اپنے والدین کا حق پہچانتا ہے اور یہ پہچان اسے اپنے اصل مالک اور مری کی پہچان اور سا کا شکر ادا کرنے تک پہنچا دیتی ہے۔”بلغ اشدہ“ کی تشریح کیلئے دیکھیے سورة یوسف (22) کی تفسیر۔ اس سلسلے میں چالیس سال کی عمر کا ذکر بلوغت کی آخری حد کے طور پر فرمایا ہے، کیونکہ اس عمر میں آدمی کی قوتیں اپنے کمال کو پہنچ جاتی ہیں۔ اس کے بعد انحطاط کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ اس آیت میں ہر جوان کو عموماً اور چالیس برس والے آدمی کو خصوصاً خبردار کیا گیا ہے کہ اسے چاہیے کہ اپنی پرورش کرنے والے والدین کا اور اپنے اور اپنے والدین کے اصل مربی اور مالک کا حق پہچان اور اپنے اور اپنے والدین پر اپنے رب کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے لئے اس سے توفیق مانگتا رہے، کیونکہ اس کی توفیق کے بغیر کوئی نیکی نہیں ہوسکتی اور ساتھ ہی اپنی اولاد کی اصلاح کی دعا بھی کرتا رہے۔ اس طرح والدین کے حقوق کی پہچان اور ان کی ادائیگی کے لئے اپنے رب کے حقوق کی پہچان، اس کی توحید پر استقامت اس کی عبادت میں اخلاص اور اس کی نعمتوں پر شکر کا ذریعہ بن جائے گی، جو انسان کی زندگی کا اصل مقصود ہے۔ (6) وان اعمل صالحاً ترضہ : عمل اگرچہ وہی صالح ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہو اور اخلاص کے ساتھ ہو، مگر اخلاص نیت اور ریا سے پاک ہونے کی اہمیت ظاہر کرنے کیلئے اس کا الگ بھی ذکر فرمایا۔ یعنی مجھے ایسے عمل کی توفیق دے جو ظاہر میں درست یعنی تیری کتاب اور تیرے نبی ﷺ کی سنت کے مطابق ہو اور حقیقت میں بھی تیری رضا کے مطابق اور تیری جناب میں قبول ہونے کے لائق ہو ، یعنی اخلاص نیت پر مبنی اور ریا سے پاک ہو۔ (7) واصلح لی فی ذریتی : اس دعا میں دو الفاظ قابل غور ہیں، ایک ”لی“ اور دوسرا ”فی“۔ ”اصلح لی“ (میرے لئے اصلاح فرما دے) کا مطلب یہ ہے کہ ان کی ایسی اصلاح فرما جس کا فائدہ مجھے بھی حاصل ہو۔”فی ذریتی“ یہاں بظاہر ”اصلح لی ذرینی“ (میرے لئے میری اولاد کی اصلاح فرما دے) کافی تھا، جیسا کہ فرمایا :(واصلحنا لہ زوجہ) (الانبیائ : 90)”اور ہم نے اس کے لئے اس کی بیوی کی اصلاح فرما دی۔“ مگر ”فی“ لانے کا مطلب یہ ہے کہ میری اولاد میں اصلاح کا عمل جاری و ساری فرما دے جو آگے تک چلتا رہے، جیسا کہ ابراہیم ؑ کے متعلق فرمایا :(وجعلھا کلمۃ باقیہ فی عقبہ) (الزخرف : 28)”اور اس نے اس (توحید کی بات) کو اپنے پچھلوں میں باقی رہنے والی بات بنادیا۔“ (8) انی تبت الیک و انی من المسلمین : یعنی میں اپنی جوانی کی سرکشی اور جہالت سے اور تیری ہر قسم کی نافرمانی سے باز آیا اور میں تیرے مکمل فرماں بر داروں سے ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ خصوصی اہتمام کے ساتھ چالیس (40) برس کی عمر میں اور اس کے بعد توبہ کی تجدید کرتے رہنا چاہیے۔ (9) یہ دعا اولاد کی اصلاح کے لئے اکسیر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود اس کی تعلیم دی ہے اور یہ مقبول دعاؤں میں سے ہے، کیونکہ اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس کے قبول ہونے کی بشارت دی ہے، فرمایا :(نتقبل عنھم)”ہم ان سے قبول کرتے ہیں۔“ جیسا کہ سورة فاتحہ ہے اور سورة بقرہ کی آخری آیات والی دعائیں ہیں۔ اس لئے کسی صاحب اولاد کو، خصوصاً جو چالیس سال یا اس سے اوپر ہوا سے اس دعا سے غافل نہیں رہنا چاہیے۔ تفسیر قرطبی میں ہے کہ مالک بن مغول نے طلحہ بن مصرف کے پاس اپنے بیٹے کی شکایت کی تو انہوں نے فرمایا :”اس کے لئے اس دعا سے مدد حاصل کرو۔“ (قرطبی :195/16)
Ayah 46:16

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ نَتَجَاوَزُ عَنْ سَیِّاٰتِهِمْ فِیْۤ اَصْحٰبِ الْجَنَّةِ١ؕ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ Open ayah 46:16 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں کہ ہم ان سے وہ سب سے اچھے عمل قبول کرتے ہیں جو انھوں نے کیے اور ان کی برائیوں سے در گزر کرتے ہیں، جنت والوں میں، سچے وعدے کے مطابق جو ان سے وعدہ کیا جاتا تھا۔

(1) اولئک الذین نتقبل عنھم احسن ما عملوا…: آیت کے ضمن میں یہ مفہوم موجود ہے کہ ماں باپ کے ساتھ احسان ، ان کے لئے دعا، اللہ تعالیٰ سے شکر اور عمل صالح کی توفیق مانگنا اور اولاد کے لئے اصلاح کی دعا انسان کے سب سے اچھے اعمال میں سے ہے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جو لوگ یہ عمل کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے اس بہترین عمل کو قبول فرمائے گا اور ان کی برائیوں سے درگزر فرمائے گا۔ (2) فی اصحب الجنۃ : یہ ”اولئک“ سے حالی کی جگہ میں ہے :”ای کائنین فی اصحاب الجنۃ ‘ بہترین اعمال کی قبولیت اور گناہوں سے درگزر کے ساتھ یہ تیسرا انعام ہے کہ انہیں اصحاب الجنہ میں شامل کیا جائے گا جو بہترین ساتھی ہیں۔ کیونکہ ان میں شامل ہونا بجائے خود بہت بڑا اعزاز ہے، جس کی دعا انبیاء (علیہم السلام) کرتے رہے ہیں، جیسا کہ سلیمان ؑ کی دعا ہے :(واد خلنی برحمتک فی عبادک الصلحین) (النمل :19)”اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے نیک بندوں میں داخل فرما۔“ یوسف ؑ کی دعا ہے :(توفنی مسلماً والحقنی بالصلحین) (یوسف : 101) مجھے مسلم ہونے کی حالت میں فوت کر اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملا دے۔“ اور ہمارے نبی کریم ﷺ کے آخری وقت کے الفاظ میں :(فی الرفیق فوت کر اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملادے۔“ اور ہمارے نبی کریم ﷺ کے آخری وقت کے الفاظ ہیں :(فی الرفیق الاعلیٓ) (بخاری : المغازی، باب مرض النبی ﷺ و وفاتہ :3336)”مجھے بلند ترین ساتھیوں میں شامل فرما۔“ (اللھم اجعلنا منھم بفضلک و رحمتک) (3) وعد الصدق الذی کانوا یوعدون : یعنی اس سچے وعدے کے مطابق جو قرآن و حدیث میں والدین سے احسان کرنے والوں کے ساتھ کیا جانا تھا اور اللہ تعالیٰ کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا۔
Ayah 46:17

وَ الَّذِیْ قَالَ لِوَالِدَیْهِ اُفٍّ لَّكُمَاۤ اَتَعِدٰنِنِیْۤ اَنْ اُخْرَجَ وَ قَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ مِنْ قَبْلِیْ١ۚ وَ هُمَا یَسْتَغِیْثٰنِ اللّٰهَ وَیْلَكَ اٰمِنْ١ۖۗ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۖۚ فَیَقُوْلُ مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 46:17 in the Quran reader

اور وہ جس نے اپنے ماں باپ سے کہا اف ہے تم دونوں کے لیے ! کیا تم مجھے دھمکی دیتے ہو کہ مجھے (قبر سے) نکالا جائے گا، حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی قومیں گزر چکیں۔ جب کہ وہ دونوں اللہ سے فریاد کرتے (ہوئے کہتے) ہیں تجھے ہلاکت ہو ! ایمان لے آ، بیشک اللہ کا وعدہ حق ہے۔ تو وہ کہتا ہے یہ پہلے لوگوں کی فرضی کہانیوں کے سوا کچھ نہیں۔

(1) والذین قال لو الدیہ اف لکما :”اف“ کا لفظ اکتاہٹ اور تنگ پڑجانے کے موقع پر بولا جاتا ہے۔ پچھلی آیت میں ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے والی سعادت مند مومن اولاد کا اور ان کے حسن انجام کا ذکر تھا، اس آیت میں ان کے مقابلے میں اس بدبخت اور نافرمان اولاد کا اور ان کے برے انجام کا ذکر ہے جس کے والدین مومن ہیں اور وہ اس کی کوشش میں ہیں کہ ان کی اولاد ایمان لے آئے، مگر ان کی اولاد اس دعوت پر شدید اکتاہٹ کا اظہار کرتے ہئے انہیں کہتی ہے، تم دونوں کے لئے ’ اف“ ہے، تم نے مجھے تنگ کردیا۔ مکہ میں ایسے بہت سے خاندان تھے جن میں والدین ایمان لے ائٓے تھے مگر اولاد مشرک اور قیامت کی منکر تھی، یا اولاد ایمان لے آئی تھی اور والدین مشرک تھے۔ (2) اتعدنی ان اخرج و قد خلت القرون من قبلی : کیا تم مجھے ڈراتے ہو کہ مجھے دوبارہ قبر سے زندہ کرکے نکالا جائے گا جب میں مٹی اور ہڈیوں کی صورت ہوچکا ہوں گا ؟ حالانکہ مجھ سے پہلے صدیاں گزر چکیں، آج تک کوئی واپس نہیں آیا۔ یہاں اس بدبخت کی اس بات کا جواب ذکر نہیں فرمایا : کیونکہ قرآن مجید میں بہت سے مقامات پر اس کا جواب آچکا ہے۔ (3) وھما یستغیثن اللہ : اور وہ دونوں اس کی اتنی گستاخانہ اور کفریہ بات کے شر سے پناہ مانگنے کے لئے فریاد کرتے ہیں کہ یا اللہ چ ہمیں اس کے شر سے بچا اور اسے ہدایت دے۔ (4) ویلک امن ، ان وعد اللہ حق :’ ویلک“ کا لفظ اگرچہ بد دعا ہے، مگر بعض دفعہ اسے نہایت محبت و شفقت اور درد مندی کے اظہار کے لئے بولا جاتا ہے، جیسے ”ثکلتک الثواکل“ (تجھے گم کرنے والیاں گم پائیں۔) یعنی ماں باپ اسے سمجھاتے ہوئے کہتے ہیں، ت یرا ستیاناس ہو، ایمان لے آ اور آخرت کا انکار نہ کر، کیونکہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، مگر وہ نہایت نفرت کے ساتھ انہیں جھڑک دیتا ہے۔ (5) فیقول ماھذا الا اساطیر الاولین : اس کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة انفال (31) ، مومنون (83) اور نمل (68)۔
Ayah 46:18

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 46:18 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جن پر بات ثابت ہوگئی ان امتوں سمیت جو جن و انس میں سے ان سے پہلے گزر چکیں، یقینا وہ خسارہ پانے والے تھے۔

(1) اولئک الذین حق علیھم القول : یعنی والدین کے گستاخ اور آخرت کے منکر ہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی بات ثابت ہوچکی، جو اس نے پہلے فرما دی تھی :(لا ملن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین) (ھود : 119) ”کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے ضروری ہی بھروں گا۔“ مزید دیکھیے سورة اعراف (18) (2) فی ام قدخلت من قبلھم من الجن والانس : یعنی جنوں اور انسانوں کے ان گروہوں میں شامل ہو کر جو اہل جہنم میں سے ان سے پہلے گزرے۔ ان بدترین لوگوں کا ساتھ خود بدترین سزا ہے۔ (3) انھم کانوا خسرین :”ان“ تعلیل کے لئے ہے، یعنی ان کا یہ انجام اس لئے ہوا کہ انھیں جو سرمایہ حیات دنیا میں آخرت کی تیاری کے لئے دیا گیا تھا انہوں نے اس سے نفع حاصل کرنے کے بجائے اصل راس المال بھی گنوا دیا اور یہی حقیقی خسارہ ہے جو انہوں نے اٹھایا۔
Ayah 46:19

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ۚ وَ لِیُوَفِّیَهُمْ اَعْمَالَهُمْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 46:19 in the Quran reader

اور ہر ایک کے لیے الگ الگ درجے ہیں، ان اعمال کی وجہ سے جو انھوں نے کیے اور تاکہ اللہ انھیں ان کے اعمال کا پورا بدلہ دے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

ولکل درجت مما عملوا…: اس آیت سے پہلے مضمون کی تاکید مقصود ہے، یعنی ہر ایک کو وہ مومن ہو یا کافر، اس کے اعمال کے مطابق جزا یا سزا ملے گی۔ یہ نہیں ہوگا کہ بروں پر ایسے گناہ لا د دیئے جائیں جو انہوں نے کئے ہوں، یا نیکوں کو ان کی نیکی سے محروم کردیا جائے۔ واضح رہے یہاں مومن و کافر سب کے لئے ”جرجت“ کا لفظ غلیبا استعمال ہوا ہے ، ورنہ تو اصل میں منازل جنت کو ”’ رجات“ اور منازل جہنم کو ””رکات“ کہا جاتا ہے، جس طرح منافقوں کے بارے میں ”فی الدرک الاسفل من النار“ آیا ہے۔ (روح المعانی)
Ayah 46:20

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا١ۚ فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ۠ Open ayah 46:20 in the Quran reader

اور جس دن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، آگ پر پیش کیے جائیں گے، تم اپنی نیکیاں اپنی دنیا کی زندگی میں لے جا چکے اور تم ان سے فائدہ اٹھا چکے، سو آج تمہیں ذلت کے عذاب کا بدلہ دیا جائے گا، اس لیے کہ تم زمین میں کسی حق کے بغیر تکبر کرتے تھے اور اس لیے کہ تم نافرمانی کیا کرتے تھے۔

(1) ویوم یعرض الذین کفروا علی النار : پچھلی آیات سے اس کا ربط دو طرح سے ہے، ایک یہ کہ والدین سے بدسلوکی کرنے والے قیامت کے منکر کے انجام کے ذکر کے بعد تمام کفار کا انجام بیان فرمایا۔ دو سرا یہ کہ پچھلی آیت میں ذکرہوا کہ مومن ہوں یا کافر سب کو ان کے اعمال کے مطابق جزا ملے گی اور کسی پر ظلم نہیں کیا جائے گا، تو اب اس سوال کا جواب دیا کہ کفار دنیا میں جو نیکیاں کرتے رہے ان کا کیا بنے گا ؟ کم از کم ان کا بدلا تو ضرور ملنا چاہیے، اگر انہیں ان کی جزا نہ دی گئی تو یہ ظلم ہے۔ فرمایا اس وقت کو یاد کرو جب وہ لوگ جنہوں نے حق قبول کرنے سے انکار کیا، آگ پر پیش کئے جائیں گے۔ (2) اذھبتم طیبتکم فی حیاتکم الدنیا واستمتعتم بھا : کفار چونکہ اپنے تکبر اور فسق کی وجہ سے ایمان قبول کرنے اور اپنے آپ کو مکمل طور پر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا پابند کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے اور نہ ہی آخرت ان کا مقصود ہوئی ہے، اس لئے انہیں ان کے نیک اعمال کا بدلا دنیا ہی میں دے دیا جاتا ہے۔ ان میں سے جو اعمال انہوں نے دنیا کے کسی مفاد مثلاً شہرت وغیرہ کے لئے کئے تھے ان کا تو آخرت سے کوئی تعلق ہی نہیں، البتہ جو اعمال انہوں نے اللہ کے لئے کئے ہوتے ہیں ان کا بدلا بھی انہیں یہیں دنیا میں دے دیا جاتا ہے، جو اور کچھ نہ ہو تو اتنا ہی بہت زیادہ ہے کہ ان کے کفر و شریک پر فوری گرفت نہیں ہوتی، بلکہ انہیں مہلت دی جاتی ہے اور اس کے ساتھ یہ کہ انہیں دنیا کی کئی نعمتیں بھی دی جاتی ہیں۔ دیکھیے ہود : 15، 16) اسن ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ان اللہ لایظلم مومنا حسنۃ یعطی بھا فی الدنیا و یجزی بھا فی الاخرۃ واما الکافر فیطعم بحسنات ما عمل بھا للہ فی الدنیا حتی اذا اقصی الی الاخرہ لم تکن لہ خسنۃ یجزی بھا) (مسلم ، صفات المنافقین، باب جزاء المومن بحسناتہ فی الدنیا والاخرۃ…“ 2808)”اللہ تعالیٰ کسی مومن کی کسی ایک نیکی میں بھی کمی نہیں کرے گا، اسے اس کے عوض دنیا میں بھی دیا جائے گا اور آخرت میں بھی اس کی جزا دی جائے گی۔ رہا کافر تو اسے ان نیکیوں کے عوض جو اس نے اللہ کے لئے کی ہوتی ہیں دنیا میں کھلایا جاتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ آخرت میں پہنچے گا تو اس کے پاس کوئی نیکی نہیں ہوگی جس کی اسے جزا دی جائے۔“ (3) فالیوم تجرون عذاب الھون بما کنتم تشکئرون…: اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا اس نیکی یا بدی کی مناسبت سے دی جائے گی، جیسا کہ روزہ داروں کے لئے ”باب الریان“ سے داخلہ ہوگا۔ تو کافر کو ذلیل کرنے والا عذاب اس تکبر کی مناسبت سے ہوگا جو انہوں نے کیا، وہ اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے تھے، ان کی عزت انہیں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے کی اجازت نہیں دیتی تھی، لا محالہ انہیں ایسا عذاب دیا جائے گا جو ان کے تکبر کا بدلا ہو۔ قیامت کے بعض مواقع میں ان کی ذلت کا نقشہ اس حدیث میں بیان ہوا جو عبداللہ بن عمرو ؓ نے بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : الی سجن فی جھنم یسمی بولس تعلوھم نار الانیار یسقون من عصارۃ اھل النار طیۃ الخیال) (ترمذی، صفۃ القیامۃ ، باب ما جاء فی شدۃ الوعید للمتکبرین :2392، قال الالبانی حسن)”متکبر لوگ قیامت کے دن آدمیوں کی شکل میں چیونٹیوں کی طرح اٹھائی جائیں گے، ہر جگہ سے ذلت انہیں ڈھانپ رہی ہوگی۔ پھر انہیں ہانک کر جہنم کے ایک قید خانے ک طرف لے جایا جائے گا جس کا نام ”بولس“ ہے۔ ان پر آگوں کی آگ چڑھ رہی ہوگی۔ انہیں جہنمیوں کا نچوڑ پلایا جائے گا، جو تباہ کن کیچڑ ہوگا۔“ رہی یہ بات کہ تکبر کیا ہے ؟ تو اس کی تفصیل عبداللہ بن مسعود ؓ نے نبی ﷺ سے بیان کی ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :(لایدخل الجنۃ من کان فی قلبہ مثقال ذرۃ من کبر، قال رجل ان الرجل یحب ان یکون ثوبہ حسناً ونعلہ حسنۃ ، ق ال ان اللہ جمیل یحب الجمال، الکبر بطر، الحق و غمط الناس) (مسلم، الایمان، باب تحریم الکبر و بیانہ :91)”وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہوگا۔“ ایک آدمی نے کہا : ”آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہوں اور اس کا جوتا اچھا وہ (تو کیا یہ تکبر ہے) ؟“ تو آپ ﷺ نے فرمایا :”بیشک اللہ جمیل ہے ، جمال کو پسند کرتا ہے، تکبر تو حق کو ٹھکرا دینے اور لوگوں کو حقیر سمجھنے کا نام ہے۔“ (4) تستکبرون فی الارض :”تم زمین میں بڑے بنتے تھے“ اگرچہ بڑائی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا حق نہیں خواہ وہ زمین میں ہو یا آسمانوں میں، مگر زمین کے رہنے والوں کو تو بدرجہ اولیٰ اپنی حیثیت مدنظر رکھنی چاہیے۔ پستی کے مکین کو بلندی کی ہو س کسی طرح بھی زیب نہیں دیتی، فرمایا :(ولا تمش فی الارض مرحاً ، انک لن تخرق الارض ولن تبلغ الجبال طولاً) (بنی اسرائیل :38)”اور زمین میں اکڑ کر نہ چل، بیشک تو نہ کبھی زمین کو پھاڑے گا اور نہ کبھی لمبائی میں پہاڑوں تک پہنچے گا۔ (5) بغیر الحق : کے دو مطلب ہیں، ایک یہ کہ اس کی صراحت اس لئے فرمائی کہ تکبر اللہ کے سوا کسی کا حق ہے ہی نہیں جو بھی تکبر کرتا ہے ناحق کرتا ہے۔ دوسرا یہ کہ ناحق تکبر حرام ہے، جس کا ذکر اوپر گزرا، البتہ جہاد فی سبیل اللہ کرتے ہوئے کفار کے مقابلے میں تکبر حق ہے اور اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔ (6) وبما کنتم تفسقون : استکبار سے مراد ایمان سے انکار اور فسق سے مراد دوسرے گناہ ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ذلت کے عذاب کے دو سبب ہوں گے۔ ایک زمین میں ناحق تکبر، یعنی ایمان لانے سے انکار اور دوسرا فسق، یعنی معاصی اور نافرمانیاں اور یہ دونوں کفار کا شیوہ ہیں، مسلمانوں کا و اس سے پناہم انگنی چاہیے۔ (7) واضح رہے کہ اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے لکھا ہے کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کو دنیا کی نعمتیں کم از کم استعمال کرنی چاہئیں، تاکہ اس کی آخرت کی نعمتوں میں کمی نہ ہو اور یہاں عمر بن خطاب ؓ اور دوسرے صحابہ کے زہد اور سادہ زندگی اور دنیا کی لذتوں سے اجتناب کے واقعات لکھے ہیں۔ مگر حق یہ ہے کہ یہ آیت مسلمانوں کے بارے میں ہے ہی نہیں۔ اس کا تعلق کفار سے ہے۔ کفار کے لئے صرف دنیا کی نعمتیں ہیں جبکہ ایمان والوں کے لئے دنیا اور آخرت دونوں کی نعمتیں ہیں، جیسا کہ فرمایا :(قل من حرم زینۃ اللہ التی اخرج لعبادہ والطیبت من الرزق، قلھی للذین امنوا فی الحیوۃ الدنیا خالصۃ یوم القیمۃ) (الاعراف : 22)”تو کہہ کس نے حرام کی اللہ کی زینت جو اس نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کی اور کھانے پینے کی پاکیزہ چیزیں ؟ کہہ دے یہ چیزیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے دنیا کی زندگی میں (بھی) ہیں، جبکہ قیامت کے دن (ان کے لئے) خالص ہوں گی۔“ مومن کو اس کی نیکیوں کا بدلا دنیا اور آخرت دونوں جگہ ملتا ہے، جیسا کہ اس آیت کے فائدہ (2) میں حدیث گزری ہے۔ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کا دنیا کی لذتوں سے اجتناب اس آیت کی بنا پر نہ تھا، کیونکہ یہ کفار کے لئے ہے، ان کا اجتناب اس لئے تھا کہ وہ دنیا کی لذتوں میں منہمک ہو کر آخرت سے غافل نہ ہوجائیں اور اس صبر و زہد پر انہیں زیادہ ثواب حاصل ہو۔ (خلاصہ اضواء لبیان)
Ayah 46:21

وَ اذْكُرْ اَخَا عَادٍ١ؕ اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَهٗ بِالْاَحْقَافِ وَ قَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖۤ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 46:21 in the Quran reader

اور عاد کے بھائی کو یاد کر جب اس نے اپنی قوم کو احقاف میں ڈرایا، جب کہ اس سے پہلے اور اس کے بعد کئی ڈرانے والے گزر چکے کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو، بیشک میں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔

(1) واذکرا اخاعاد :”اذکر“ ”ذکر“ سے ہو تو مطلب یہ ہے کہ اپنی قوم کے سامنے اس کا ذکر کرو، تاکہ انہیں نصیحت ہو اور اگر ”ذکر“ سے ہو تو مطلب یہ ہے کہ اسے یاد کرو، تاکہ تمہیں اس سے تسلی حاصل ہو۔ دونوں باتیں بیک وقت بھی مراد ہوسکتی ہیں، کیونکہ ”اذکر“ دونوں سے فعل امر ہے۔ قیامت کے دن تکبر کرنے والوں کا حال بیان کرنے کے بعد دنیا میں چند متکبر اقوام کا ذکر فرمایا، جن میں سے عاد کا ذکر کچھ تفصیل کے ساتھ اور دوسری اقوام کا حال آیت (27) (ولقد اھلکنا ماحولکم من القری) میں اجمال کے ساتھ بیان فرمایا۔ عاد کے بھائی سے مراد ہود ؑ ہیں، جیسا کہ فرمایا :(والی عاد اخاھم ھوداً (الاعراف : 65)”اور عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو (بھیجا۔)“ تفصیل کے لئے دیکھیے سورة اعراف (65) کی تفسیر۔ ہود ؑ کو قوم عاد کا بھائی اس لئے فرمایا کہ وہ ان کے ایک فرد تھے۔ عاد کا تفصیلی ذکر اس لئے فرمایا کہ عرب اقوام میں سے یہ پہلی قوم ہے جس کے پاس نوح ؑ کی عام رسالت کے بعد کوئی رسول آیا۔ ہود اور صالح علیہ اسلام کا زمانہ ابراہیم ؑ سے پہلے کا ہے۔ سرداران قریش جو اپنی بڑائی کا زعم کا زعم رکھتے تھے، انہیں قوم عاد کا قصہ سنایا جو ان کی سر زمین کی سب سے طاقتور قوم تھی۔ (2) اذا نذر قومہ بالاحقاف :”الاخقاف“ ”حفق“ کی جمع ہے، ریت کے بلند اور مستطیل ٹیلے کو ”حقف“ کہتے ہیں، جو کچھ ٹیڑھا ہو۔”احقوقف الشی“ جب کوئی چیز ٹیڑھی ہو۔ یہاں ”احقاف“ سے مراد یمن کے مشرق میں حضر موت کا وہ علاقہ ہے جو عرب کے صحرائے اعظم (ربع خالی) کا حصہ ہے۔ ہود ؑ کی قوم وہاں آباد تھی اور اس زمانے میں وہ نہایت نرخیز اور ترقی یافتہ علاقہ تھا، جس میں چشمے ، باغات اور مال مویشی کثرت کے ساتھ موجود تھے، جیسا کہ سورة شعراء (132 تا 134) میں مذکور ہے۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے بعد وہ علاقہ ایسا برپا ہوا کہ اب تک وہاں آبادی کا نام و نشان نہیں، ہر طرف ریگستان ہے اور ریت کے لمبے چوڑے ٹیلے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس علاقے کو ”احقاف“ اس کی موجودہ حالت کے اعتبار سے کہا گیا ہے۔ تفہیم القرآن میں ہے :”احقاف کی موجودہ حالت دیھک کر کوئی شخص یہ گمان بھی نہیں کرسکتا کہ کبھی یہاں ایک شاندار تمدن رکھنے والی ایک طاقتور قوم آباد ہوگی۔ اغلب یہ ہے کہ ہز اورں برس پہلے یہ ایک شاداب علاقہ ہوگا اور بعد میں آب و ہوا کی تبدیلی نے اسے ریگزار بنادیا ہوگا۔ آج اس کی یہ حالت ہے کہ وہ ایک لق و دق ریگستان ہے، جس کے اندرونی حصوں میں جانے کی بھی کوئی ہمت نہیں رکھتا۔ 1843 ء میں بویریا کا ایک فوجی آدمی اس کے جنوبی کنارے پر پہنچ گیا تھا، وہ کہتا ہے کہ حضر موت کی شمالی سطح مرتفع پر سے کھڑا ہو کر دیکھا جائے تو یہ صحرا ایک ہزار فٹ نشیب میں نظر آتا ہے، اس میں جگہ جگہ ایسے سفید خطے ہیں جن میں اگر کوئی چیز گرجائے تو ریت میں غرق ہوتی چلی جاتی ہے اور بالکل بوسیدہ ہوجاتی ہے۔ عرب کے بدو اس علاقے سے بہت ڈرتے ہیں اور کسی قیمت پر وہاں جانے پر راضی نہیں ہوتے۔ ایک موقع پر جب بدو اسے وہاں لے جانے پر راضی نہ ہوئے تو وہ اکیلا وہاں گیا۔ اس کا بیان ہے کہ یہاں کی ریت بالکل باریک سفوف کی طرح ہے، میں نے دور سے ایک شاقول اس میں پھینکا تو وہ پانچ منٹ کے اندر اس میں غرق ہوگیا اور اس رسی کا سرا گل گیا جس کے ساتھ وہ بندھا ہوا تھا۔ مفصل معلومات کے لئے ملاحظہ ہو : Arabia and the Isles by Harold Ingrams, Land in 1946. the Unveiling of Arabia. By Reginald Hugh Kie an, Land in 1937. the Empty Quarter By st. john philby. London 1933. (3) وقد خلت النذر من بین یدیہ ومن خلفۃ…:”اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ ہود ؑ سے پہلے بھی کئی ڈرانے والے گزرے اور ان کے بعد بھی اپنی اپنی قوم کو ڈرانے والے کئی پیغمبر گزر چکے، سب کی تعلیم یہی تھی کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ ڈرانے والوں کا ذکر اس لئے فرمایا کہ بشارت ماننے والوں کو دی جاتی ہے۔ اس سورت کی ابتدا بھی اسی بات سے ہوئی ہے، فرمایا :(والذین کفروا عما انذوا تعرضون) (الاحقاف : 3)”اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اس چیز سے جس سے وہ ڈرائے گئے ، منہ پھیرنے والے ہیں۔“ (4) انی اخاف علیکم عذاب یوم عظیم :”عظیم“”یوم“ کی صفت ہے۔ اس عظیم دن سے مراد آخرت کا دن بھی واقعات کی وجہ سے عظیم کہا ہے جو اس میں واقع ہوں گے۔
Ayah 46:22

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَاْفِكَنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 46:22 in the Quran reader

انھوں نے کہا کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ ہمیں ہمارے معبودوں سے ہٹا دے، سو ہم پر وہ (عذاب) لے آ جس کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے، اگر تو سچوں سے ہے۔

قالوا اجنتنا لتا فکنا عن الھتنا…: اس آیت کی وضاحت کے لئے دیکھیے سورة ہود (32) کی تفسیر۔
Ayah 46:23

قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۖ٘ وَ اُبَلِّغُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 46:23 in the Quran reader

اس نے کہا یہ علم تو اللہ ہی کے پاس ہے اور میں تمہیں وہ پیغام پہنچاتا ہوں جو مجھے دے کر بھیجا گیا ہے اور لیکن میں تمہیں ایسے لوگ دیکھتا ہوں کہ تم جہالت برتتے ہو۔

(1) قال انما العلم عند اللہ : ہود ؑ نے ان کے اس گستاخانہ مطالبے پر کسی تلخی کے اظہار کے بجائے وہی جانتا ہے کہ تم پر دنیا میں عذاب آئے گا یا آخرت میں اور یہ بھی وہی جانتا ہے کہ تمہیں کب تک مہلت دی جائے گی۔ میرے پاس نہ اس کا اختیار ہے کہ جب چاہوں تم پر عذاب لے آؤں اور نہ ہی مجھے اس کے وقت کا علم ہے۔ (2) وا ابلغم ما ارسلت بہ : میرا کام وہ پیغام تم تک پہنچا دینا ہے جو دے کر مجھے بھیجا گیا ہے، جیسا کہ فرمایا :(فان اعرضوا فما ارسلنک علیھم حفظاً ، ان علیک الا البلغ) (الشوری :38)”پھر اگر وہ منہ پھیر لیں تو ہم نے تجھے ان پر کوئی نگران بنا کر نہیں بھیجا، تیرے ذمے پہنچا دینے کے سوا کچھ نہیں۔“ (3) ولکتی اربکم قوماً تجھلون :”جہل“ اکھڑ پن کو بھی کہتے ہیں اور لا علمی کو بھی۔ اگر پہلا معنی ہو تو جہالت پر برتنے کا مطلب یہ ہوگا کہ ایک تم کفر پر اصرار کر رہے ہو، اچھی بات قبول کرنے کے بجائے عذاب مانگ رہے ہو اور دوسرے مجھ سے ایسی چیز کا مطالبہ کر رہے ہو جو میرے اختیار میں نہیں ہے اور اگر یہ جہل علم کے مقابلے میں ہو تو مطلب یہ ہے کہ تمہیں علم ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب کیا ہوتا ہے اور وہ تمہارے کس قدر قریب آچکا ہے اور نہ یہ علم ہے کہ رسول پیغام پہنچانے کے لئے آتے ہیں : عذاب لانا ان کے اختیار میں نہیں ہوتا۔
Ayah 46:24

فَلَمَّا رَاَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِهِمْ١ۙ قَالُوْا هٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا١ؕ بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهٖ١ؕ رِیْحٌ فِیْهَا عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ Open ayah 46:24 in the Quran reader

تو جب انھوں نے اسے ایک بادل کی صورت میں اپنی وادیوں کا رخ کیے ہوئے دیکھا تو انھوں نے کہا یہ بادل ہے جو ہم پر مینہ برسانے والا ہے۔ بلکہ یہ وہ (عذاب) ہے جو تم نے جلدی مانگا تھا، آندھی ہے، جس میں دردناک عذاب ہے۔

(1) فلما راہ عارضاً …:”راہ“ کی ضمیر عذاب کی طرف لوٹ رہی ہے جس کا وہ مطالبہ کرتے آتے تھے۔ ”عرض یعرض“ سامنے آنا۔”عارض ‘ عظیم بادل جو پہاڑوں کی طرح افق پر سامنے آیا ہوا ہے۔ قوم کے ہود ؑ کو جھٹلانے اور ان پر عذاب کے درمیان کا لمبا قصہ مختصر کر کے نتیجہ بیان فرمایا ہے۔ اس ایٓت میں ان کے الفاظ ”ھذا عارض مبطرنا“ (یہ بادل ہے جو ہم پر مینہ برسانے والا ہے) سے ظاہر ہے کہ اس عذاب سے پہلے مدت تک بارش بند رہی ہود ؑ نے کفر و شرک سے توبہ اور اللہ تعالیٰ سے استغفار پر انہیں بارش کی بشارتھی دی۔ چناچہ فرمایا :(ویقوم استغفروا ربکم ثم توبوا الیہ یرسل السمآء علیکم مدراراً ویزدکم قوۃ الی قوتکم ولاتتولوا مجرمین) (ھود : 52)”اور اے میری قوم ! اپنے رب سے بخشش مانگو، پھر اس کی طرف پلٹ آؤ، وہ تم پر بادل بھیجے گا، جو خوب برسنے والا ہوگا اور تمہیں تمہاری قوت کے ساتھ اور قوت زیادہ دے گا اور مجرم بنتے ہوئے منہ نہ موڑو۔“ اس سے ظاہر ہے کہ انہیں بارش کی شدید ضرورت تھی، لیکن اس کے باوجود وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور یہ کہہ کر عذاب لانے کا مطالبہ کرتے رہے کہ اگر سچے ہو تو عذاب لے آؤ، یعنی اگر فوراً عذاب نہیں لاتے تو تم جھوٹے وہ۔ ہود ؑ کا جواب پیچھے گزر چکا ہے۔ آخر عذاب کا وقت آپہنچا اور اس نے بادل کی صورت میں ان کی وادیوں کی طرف بڑھنا شروع کیا، جب انہوں نے اس عذاب کو بادل کی صورت میں اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے دیکھا تو بہت خوش ہوئے کہ یہ بادل ہم پر بارش برسائے گا۔ (2) بل ھوما استعجلتم بہ : ممکن ہے کہ انہیں یہ جواب ہود ؑ نے دیا ہو یا صورت حال انہیں پکار کر کہہ رہی ہو۔ (3) ریح فیھا عذاب الیم :”ریح“ میں تنوین تہویل کے لئے ہے، بلکہ یہ وہ ہے جسے تم نے جلدی طلب کیا ہے، یہ خوفناک آندھی ہے جس میں عذاب الیم ہے۔ اس کی کیفیت سورة قمر (19، 20) اور سورة حاقہ (6 تا 8) میں تفصیل سیب یان ہوئی ہے۔ قوم عاد آندھی والے بادلوں کو بارش برسانے والے سمجھتے رہے، حالانکہ وہ ان پر آنے والا عذاب تھا۔ اس لئے رسول اللہ ﷺ جب بادل اٹھتے یا ہوا تیز چلتی تو پریشان ہوجاتے تھے۔ عائشہ ؓ نے فرمایا :(مارایت رسول اللہ ﷺ ضا احکا حتی اری منہ لھواتہ، انما کان یتبسم ، قالت وکان اذا رای غیماً اور یحاً عرف فی وجھہ، قالت یا رسول اللہ ! ان الناس اذا راؤ الغیم فرحوا، رجاء ان یکون فیہ المطر، واراک اذا زایتہ عرف فی وجھلک الکراھیۃ فقال یا عائشۃ ! ما یومنی ان یکون فی ہ عذاب ، عدت قوم بالریح وقدر ای قوم العذاب فقاوال :(ھذا عارض منطرنا) (بخاری، التفسیر، تفسیر سورة ۃالاحقاف :3828: 3829)”میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس طرح ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ مجھے آپ کا تالو میں لٹکا ہوا گوشت کا ٹکڑا نظر آجائے، آپ صرف مسکراتے تھے۔“ فرماتی ہیں :”اور آپ ﷺ جب بادل یا ہوا دیکھتے تو وہ آپ کے چہرے میں پہچانی جاتی۔“ انہوں نے کہاک : یا رسول اللہ ! لوگ جب بادل دیکھتے ہیں تو خوش ہوجاتے ہیں، اس امید پر کہ اس میں بارش ہوگی اور میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ جب اسے دیکھتے ہیں تو آپ کے چہرے میں ناگواری پہچانی جاتی ہے ؟“ تو آپ ﷺ نے فرمایا :”اے عائشہ ! مجھے اس سے کیا چیز بےخوفی کرتی ہے کہ اس میں کوئی عذاب ہو ؟ ایک قوم کو آندھی کے ساتھ عذاب دیا گیا اور ایک قوم نے عذاب دیکھا تو کہنے لگے :”یہ بادل ہم پر بارش برسانے والا ہے۔“ عائشہ ؓ ہی بیان کرتی ہیں : (کان رسول اللہ صلی اللہ لعیہ وسلم اذا کان یوم الریح والغیم عرف ذلک فی وجھہ واقبل واذبر، فاذا مطرت سربہ وذھب عنہ ذلک فالت غائشۃ فسالتہ فقال انی خشیت ان یکون عذاباً سلط علی امنی ویقول اذا رای المطر، رحمۃ) (مسلم ، صلاۃ الاستسقائ، باب التعوذ عند رویۃ الریح …: 899)”جب ہوا اور بادل والا دن ہوتا تو وہ رسول اللہ ﷺ کے چہرے میں پہچانا جاتا اور آپ (بےچینی کے عالم میں) کبھی اندر آتے کبھی باہر جاتے، جب بارش سے برسنے لگتی تو خوش ہوجاتے اور آپ کی وہ کیفیت ختم ہوجاتی۔“ عائشہ ؓ نے فرمایا، میں نے آپ سے اس بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا :”میں ڈرتا ہوں کہیں وہ عذاب نہ ہو جو میری امت پر مسلط کیا گیا ہو۔“ اور جب آپ ﷺ بارش کو دیکھتے تو کہتے :”(یا اللہ ! اسے) رحمت (بنا)۔“
Ayah 46:25

تُدَمِّرُ كُلَّ شَیْءٍۭ بِاَمْرِ رَبِّهَا فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 46:25 in the Quran reader

جو ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے برباد کر دے گی، پس وہ اس طرح ہوگئے کہ ان کے رہنے کی جگہوں کے سوا کوئی چیز دیکھائی نہ دیتی تھی، اسی طرح ہم مجرم لوگوں کو بدلہ دیتے ہیں۔

(1) تدمر کل شیء بامرربھا : یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”وہ ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے برباد کر دے گی“ حالانکہ کئی چیزیں اس کے بعد بھی موجود رہیں، جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ نے سورة ہود (58) میں فرمایا ہے کہ ہود ؑ اور ان پر ایمان لانے والے اس عذاب سے محفوظ رہے۔ اہل علم نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ لفظ ”کل“ سے کائنات کی ہر چیز مراد نہیں ہوتی، بلکہ ہر مقام پر اس کی مناسبت سے کل چیزیں مراد ہوتی ہیں، جیسا کہ ہد ہد نے ملک سبا کے متعلق کہا تھا :(واوتیت من کلی شی) (النمل : 23)”اور اسے ہر چیز میں سے حصہ دیا گیا ہے۔“ ظاہر ہے اس سے مراد تمام چیزیں ہیں جن کی حکومت کے لئے ضرورت ہوتی ہے، ورنہ ہر چیز میں سے تو اسے حصہ نہیں دیا گیا تھا۔ اسی طرح یہاں ہر چیز کو برباد کرنے سے مراد ہر اس چیز کو برباد کرنا ہے جسے برباد کرنے کا اسے حکم دیا گیا تھا، جیسا کہ ”بامر ربھا“ (اپنے رب کے حکم کے ساتھ) کے الفاظ سے ظاہر ہے۔ چناچہ ہود ؑ اور ان پر ایمان لانے والوں کو اس آندھی نے کوئی نقصان نہیں پہنچایا، کیونکہ اسے یہی حکم تھا، جیسا کہ سورة ہود (58) میں ہے۔ (2) فاصبحوا لایری الا مسکنھم …:”فاصبحوا“ سے مراد یہاں ”انہوں نے صبح کی“ نہیں، بلکہ یہاں ”اصبح“ ”صار“ کے معنی میں ہے، یعنی ”وہ اس طرح ہوگئے“ کیونکہ وہ ہوا صرف ایک رات نہیں چلی کہ صبح ان کی یہ حلات ہوئی ہو، بلکہ سات راتیں اور آٹھ دن چلتی رہی اور ایسی تندو تیز اور غضب ناک ہو کر چلی کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(ماتذرمن شیء انت علیہ الا جعلتہ کالزمیم) (الذاریات : 32)”جو کسی چیز کو نہ چھوڑتی تھی جس پر سے گزرتی مگر اسے بوسیدہ ہڈی کی طرح کردیتی تھی۔“ درخت، آدمی، جانور، مکان، غرض ہر چیز ہوا نے اکھاڑ پھینکی۔ آخر مکانوں کے کھنڈروں یا گری ہوئی کھوکھلی کھجوروں کے تنوں جیسے لاشوں کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا، جو نشان عبرت بنے ہوئے تھے کہ اللہ کے مجرموں کا یہ حال ہوتا ہے۔ مراد کفار مکہ کو سمجھانا ہے کہ کفر پر اصرار کے نتیجے میں تمہارا بھی یہ حال ہوسکتا ہے۔
Ayah 46:26

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِیْمَاۤ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِیْهِ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّ اَبْصَارًا وَّ اَفْئِدَةً١ۖ٘ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُهُمْ وَ لَاۤ اَفْئِدَتُهُمْ مِّنْ شَیْءٍ اِذْ كَانُوْا یَجْحَدُوْنَ١ۙ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 46:26 in the Quran reader

اور بلاشبہ یقینا ہم نے انھیں ان چیزوں میں قدرت دی جن میں ہم نے تمہیں قدرت نہیں دی اور ہم نے ان کے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے تو نہ ان کے کان ان کے کسی کام آئے اور نہ ان کی آنکھیں اور نہ ان کے دل، کیونکہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے اور انھیں اس چیز نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔

(1) ولقد مکنھم فیمآ ان مکنکم فیہ :”مکن یمکن تمکینا“ کسی چیز پر قدرت دینا۔ ”ان رہی ہے کہ جسمانی ڈیل ڈول، مال، اولاد، قوت، سلطن ، غرض وہ دنیوی اسباب جن پر ہم نے قوم عاد کو قدرت عطا کی تھی حسین ان پر قدرت عطا نہیں کی، جب اللہ کے عذاب کے سامنے ان کی تمام تر قوت و شوکت تنکوں کی طرح اڑ گئی تو تمہاری کیا بساط ہے ؟ یہ بات اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر فرمائی ہے، دیکھیے سورة روم (9) اور سورة مومن (21)۔ (2) وجعلنا لھم سمعاً وابصاراً و افدۃ…: دوسری جگہ ان کے متعلق فرمایا :(وکانوا مستبصرین) (العنکبوت : 38)”حالانکہ وہ بہت سمجھ دار تھے۔“ یعنی ہم نے انہیں سننے کے لئے کان، دیکھنے کے لئے آنکھیں اور سوچ بچار کے لئے دل دیے تھے، مگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو سننے، اس کی نشانیوں کو عبرت کے لئے دیکھنے اور آخرت کی زندگی کے متعلق غور و فکر کے بجائے اسے اتنا ہی کام لیا جو دنیا کے مال و متاع کے حصول کیلئے مفید ہو۔ دنیا کے کام میں عقل مند تھے، لیکن وہ عقل نہ ائٓی جس سے آخرت درست ہو، آیات الٰہی سنتے وقت ان کے کان بہرے ہوجاتے تھے اور آیات الٰہی دیکھنے کیلئے ان کی آنکھیں ب ند ہی رہتی تھیں۔ پھر جب ان پر اللہ کا عذاب آیا تو ان کی عقل مندی ان کے کسی کام نہ آکسی ، کیونکہ وہ اللہ کی آیات تسلیم کرنے سے صاف انکار کیا کرتے تھے۔ (3) وحاق بھم ما کانوا بہ یستھزون : یعنی وہ عذاب جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ جس عذاب سے ہمیں ڈراتے ہو وہ کب آرہا ہے، اسی عذاب نے انہیں گھیر لیا اور ایسا گھیرا کہ پھر اس سے نکل نہ سکے۔
Ayah 46:27

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَ صَرَّفْنَا الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 46:27 in the Quran reader

اور بلاشبہ یقینا ہم نے تمہارے اردگرد کی بستیوں کو ہلاک کردیا اور ہم نے پھیر پھیر کر آیات بیان کیں، شاید وہ لوٹ آئیں۔

(1) ولقد اھلکنا ماحولکم من القریٰ : انسان کی فطرت ہے کہ وہ دوسروں کو دیکھ کر عبرت حاصل کرنا ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کو مخطاب کر کے فرمایا کہ تم اپنے اردگرد کی بستیوں پر نظر ڈالو اور دیکھو کس قدر قومیں نیست و نابود کردی گئیں اور کس طرح انہوں نے اپنے کرتوتوں کے بدلے پائے ہیں۔ اردگرد سے مراد احقاف ہے جو یمن کے حضر موت کے علاقے میں ہے، واں کے بسنے والے عادیوں کے انجام پر نظر ڈالو۔ تمہارے اور شام کے درمیان مقام حجر میں ثمود کا جو حشر ہوا اسے دیکھو، یمن کی قوم سبا کے انجام پر غور کرو، مدین جو تمہارے اور غزہ کے درمیان ہے، تم وہاں آتے جاتے رہتے ہو اور قوم لوط کی بستیاں بھی تمہارے راستے میں پڑتی ہیں، ان سب کے واقعات عرب میں مشہور و معروف تھے۔ (ابن کثیر) (2) وصرفنا الایت لعلھم یرجعون : اس کی تفسیر دو طرح سے ہوسکتی ہے، ایک یہ کہ ہم نے ان بستیوں کے رہنے والوں کے لئے آیات کو پھیر پھیر کر اور کئی طرح سے کھول کر بیان کیا، تاکہ وہ پلٹ آئیں۔ دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ کفار مکہ کے متعلق فرما رہے ہیں کہ ہم نے ان کے لئے آیات کو پھیر پھیر کر بیان کیا، تاکہ وہ کفر و شرک سے پلٹ آئیں۔ اس صورت میں کلام میں التفا ہے کہ پچھلے جملے ”ولقد اھلکنا ماحولکم من القریٰ“ میں کفار مکہ کو مخاطب فرمایا، پھر ”وصرفنا الیت لعلم یرجعون“ میں ناراضی کے اظہار کے لئے ان کا ذکر غائب کے صیغے کے ساتھ فرمایا۔
Ayah 46:28

فَلَوْ لَا نَصَرَهُمُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ قُرْبَانًا اٰلِهَةً١ؕ بَلْ ضَلُّوْا عَنْهُمْ١ۚ وَ ذٰلِكَ اِفْكُهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 46:28 in the Quran reader

پھر ان لوگوں نے ان کی مدد کیوں نہ کی جنھیں انھوں نے قرب حاصل کرنے کے لیے اللہ کے سوا معبود بنایا ؟ بلکہ وہ ان سے گم ہوگئے اور یہ ان کا جھوٹ تھا اور جو وہ بہتان باندھتے تھے۔

(1) فلولا نصرھم الذین اتخذوا …:”قرباناً“ حال ہے یا مفعول لہ ہے، ترجمہ مفعول لہ کے مطابق کیا گیا ہے، اہل مکہ اور ان کے اردگرد کی قوموں کا سب سے بڑا اور مشترکہ جرم یہ تھا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا کئی ایسے الہ بنا رکھے تھے جن کے متعلق وہ سمجھتے تھے کہ وہ مصیبت کے وقت ان کے کام آتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی سفارش کرتے ہیں، اس کے پاس ان کی فریادیں پہنچاتے ہیں اور انہیں اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ سورة زمر میں گزر چکا ہے کہ مشرکین مکہ بھی اپنے پیش رو لوگوں کی طرح کہا کرتے تھے :(مانعبدھم الا لیقربونا الی اللہ زلفی) (الزمر : 3) ”ہم ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ سے قریب کردیں۔“ اور سورة یونس میں ہے :(ھولآء شفعاً ؤنا عنداللہ) (یونس :18)”یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔“ پھر چاہیے تو یہ تھا کہ جب اس جرم کی پاداش میں ان پر عذاب آیا تو وہ ان کی مدد کو پہنچتے، مگر کوئی ان کی مدد کو نہ پہنچا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پھر ان کے ان داتاؤں، حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں نے ان کی مدد کیوں نہ کی جنہیں ان لوگوں نے قرب حاصل کرنے کے لئے اللہ کے سوا معبود بنایا ہوا تھا ؟ (2) بل ضلوا عنھم : یعنی جب وہ وقت آیا جس کے لئے ان کی پوجا کی جاتی تھی اور ان کے سامنے نذرانے پیش کئے جاتے تھے، تو وہ معبودیوں غائب ہوگئے کہ کہیں ان کا سراغ نہ ملا۔ (3) وذلک افکھم وما کانوا یفترون : معلوم ہوا کہ ان کی وہ باتیں جو انہوں نے اپنے معبودوں کی دھاک بٹھانے کے لئے گھڑ رکھی تھیں سب جھوٹ تھیں اور وہ سراسر بہتان تھیں جو وہ باندھتے رہتے تھے۔
Ayah 46:29

وَ اِذْ صَرَفْنَاۤ اِلَیْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ۚ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْۤا اَنْصِتُوْا١ۚ فَلَمَّا قُضِیَ وَ لَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِیْنَ Open ayah 46:29 in the Quran reader

اور جب ہم نے جنوں کے ایک گروہ کو تیری طرف پھیرا، جو قرآن غور سے سنتے تھے تو جب وہ اس کے پاس پہنچے تو انھوں نے کہا خاموش ہوجاؤ، پھر جب وہ پورا کیا گیا تو اپنی قوم کی طرف ڈرانے والے بن کر واپس لوٹے۔

(1) واذ صرفنا الیک نفراً من الجن…:”اذ“ سے پہلے ”اذکر“ محذوف ہے جس کا عطف اس سے پہلے مذکور آیت ”واذکر احاعاد“ پر ہے۔ یعنی کفار مکہ کے لئے ہود ؑ اور ان کی قوم عاد کا ذکر کیجیے جو ان سے کہیں زیادہ قوت و شوکت والے تھے کہ اپنے رسول کو جھٹلانے پر ان کا کیا حال ہوا، اسی طرح اہل مکہ کے اردگرد کی بستیوں کے کفر پر اصرار کا انجام کیا ہوا، تاکہ اہل مکہ کو ان کے انجام سے عبرت ہو اور وہ کفر و شرک سے باز آجائیں۔”واذ صرفنا الیک نفراً من الجن یستعون القرآن“ اور ان کفار کے لئے اس وقت کا ذکر کیجیے جب ہم نے جنوں کے ایک گروہ کا رخ آپ کی طرف پھیرا اور انہوں نے آپ سے قرآن سنا۔ مقصد کفار مکہ کو شرم دلانا ہے کہ اپنی جنس انسان، اپنی نسل عرب، اپنی قوم قریش اور اپنے شہر مکہ میں مبعوث رسول کی زبان سے ان پر نازل شدہ قرآن جیسی فصیح و بلیغ اور معجز کتاب مدت سے سننے کے باوجود نہ تم پر قرآن کا کچھ اثر ہوا، نہ تم رسول پر ایمان لائے اور نہ شرک کی نجاست سے پاک ہو سکے، ذرا جنوں کے اس گروہ کو بھی دیکھو جو اچانک اس موقع پر پہنچا جب رسول اللہ ﷺ قرآن پڑھ رہے تھے، وہ رسول اللہ ﷺ کی جنس یا قوم کے فرد نہیں تھے بلکہ ایک الگ جنس سے تھے، شہر بھی ان کا کوئی اور تھا، راستے میں انہیں قرآن سننے کا اتفاق ہوا۔ رسول اللہ ﷺ کو علم بھی نہ تھا کہ جنوں کا کوئی گروہ میرا قرآن سن رہا ہے ، اس کے باوجود ان کے طرز عمل اور اپنے طرز عمل کا موازنہ کرلو۔ (2) فلما حضروہ قالوا انصبوا : جب وہ اس موقع پر حاضر ہوئے تو ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ خاموش ہوجاؤ، تاکہ ہم غور سے قرآن سن سکتیں۔ ان جنوں کو دیکھو کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ توفیق سے خود ہی اس حکم پر عمل کر رہے ہیں جو سورة اعراف میں ہے :(واذا قری القرآن فاستمعوا لہ و انصتوا لعلکم ترحمون) (الاعراف :203)”اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور چپ رہو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔“ اور اپنے آپ کو دیکھو، تمہاری روش وہ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے حم السجدہ میں فرمایا ہے :(وقال الذین کفروا لاتسمعوا لھذا القرآن والغوا فیہ لعلکم تعلمون) (حم السجدہ : 26)”اور ان لوگوں نے کہا جنہوں نے کفر کیا، اس قرآن ک ومت سنو اور اس میں شور کرو، تاکہ تم غالب رہو۔“ وہ ایک دوسرے کو خاموش رہ کر سننے کی تلقین کر رہے ہیں اور تم ایک دوسرے کو سننے سے روک رہے ہو۔ کم از کم سن تو لو، تاکہ ان کی طرح رحم کا دروازہ تمہارے لئے بھی کھل سکے، صرف تکبر اور غلبے کی ہوس میں نہ پڑے رہو۔ ایسا نہ ہو کہ یہ ہوس قوم عاد کی طرح تمہیں بھی برباد کر دے۔ (3) فلما قضی ولوا الی قومھم منذرین : جب قرآن کی قرأت پوری ہوچکی تو وہ نہ صرف یہ کہ خود ایمان لے آئے بلکہ اپنی قوم کو بھی کفر کے انجام سے خبردار کرنے کے لئے ان کی طرف واپس پلٹ گئے، کیونکہ ایمان کی تکمیل اسی سے ہوتی ہے۔ ابوہریرہ ؓ کو رسول اللہ ﷺ نے چند نصیحتیں فرمائیں، ان میں سے ایک یہ تھی :(واحب للناس ماتحب لنفسک تکن مومنا) (ابن ماجہ، الزھد، باب الورع والتفوی :3218)”لوگوں کے لئے وہی پسند کرو جو اپنے لئے پسند کرتے ہو ، ممن بن جاؤ گے۔“ (4) طبری نے ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے ’ و اذ صرفنا الیک نفراً من الجن“ کے بارے میں فرمایا : ”یہ اہل نصیین میں سے سات (مرد جن) تھے، رسول اللہ ﷺ نے انہیں اپنی قوم کی طرف پیغام پہنچانے والا بناک ر بھیجا۔“ (الطبری :31583 ابن کثیر کے محقق نے اس کی سند کو حسن کہا ہے۔ (5) جنوں کا یہ گروہ کس موقع پر آیا ؟ اس کی تفصیل کیلئے دیکھیے سورة جن کی شان نزول اور اس کی ابتدائی آیات کی تفسیر۔
Ayah 46:30

قَالُوْا یٰقَوْمَنَاۤ اِنَّا سَمِعْنَا كِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ یَهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ وَ اِلٰى طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 46:30 in the Quran reader

انھوں نے کہا اے ہماری قوم ! بیشک ہم نے ایک ایسی کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد نازل کی گئی ہے، اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے ہے، وہ حق کی طرف اور سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔

(1) قالوا یقومنآ انا سمعنا کتباً انزل من بعد موسیٰ : جنوں نے نازل کردہ کتابوں میں سے آخری کتاب الخیل کا نام لینے کے بجائے تو رات کا نام لیا۔ بعض مفسرین کے مطابق اس کی وجہ یا تو یہ ہے کہ وہ یہود کے دین پر تھے۔ یا انہیں انجیل کے نزول کا علم نہیں تھا، مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ قرآن سے پہلے آخری کتاب جو شریعت کے احکام پر مشتمل تھی وہ تورات تھی۔ داؤد ؑ کی زبور اور عیسیٰ ؑ کی انجیل اس کی تکمیل یا تفسیر و تبیین کرنے والی کتابیں تھیں۔ موسیٰ ؑ کے بعد آنے والے تمام انبیاء حتیٰ کہ عیسیٰ ؑ بھی تورات ہی پر عمل کے پابند تھے۔ (دیکھیے مائدہ : 44) اسی سورة احقاف میں بھی قرآن سے پہلے موسیٰ ؑ کی کتاب کا ذکر ہے، فرمایا :(ومن قبلہ کتب موسیٰ اماماً و رحمۃ) (الاحقاف : 12)”اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب پیشوا اور رحمت تھی۔“ رسول اللہ ﷺ پر غار حرا میں پہلی وحی کے نزول پر جب ام المومنین خدیجہ ؓ آپ ﷺ کو لے کر ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں تو انہوں نے آپ ﷺ سے سارا معاملہ سن کر کہا تھا :(ھذا الناموس الذی انزل علی موسی) (بخاری، العبیر ، باب اول مایدی بہ رسول اللہ ﷺ …:6982)”یہ وہی صاحب راز فرشتہ ہے جو موسیٰ ؑ پر نازل کیا گیا۔“ حالانکہ ورقہ بن نوفل اس سے پہلے عیسیٰ ؑ کا دین قبول کرچکے تھے اور انجیل کے عالم تھے۔ (2) مصدقا لما بین یدیہ : یعنی یہ کتاب اسے پہلی تمام آسمانی کتابوں کو سچا ثابت کرنے والی ہے کہ اس کتاب کے ذریعے سے وہ تمام باتیں اور پیش گوئیاں سچ ثابت ہوئیں جو ان کتابوں میں کی گئی ہیں، جن میں نبی کریم ﷺ کی آمد کی پیش گوئی بھی شامل ہے۔ (3) یھدی الی الحق و الی طریق مستقیم : ابن کثیر ؒ نے فرمایا :”یعنی عقائد و اخبار میں حق اور اعمال میں سیھے راستے کی طرف راہنمائی کرتیہے، کیونکہ قرآن خبر اور طلب دو چیزوں پر مشتمل ہے۔ اس کی خبر صدیق اور طلب عدل ہے، جیسا کہ فرمایا :(وتمت کلمت ربک صدقاً وعدلاً) (الانعام : 115)”اور تیرے رب کی کتاب صدق اور عدل کے اعتبار سے پوری ہوگئی۔ ‘ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق) (التوبۃ : 33) ”وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا۔“ چناچہ ہدایت علم نافع ہے اور دین حق عمل صالح ہے اور جنوں نے بھی یہی بات کہی کہ ”یھدی الی الحق“ (اعتقادات میں حق کی راہنمائی کرتی ہے)”والی طریق مستقیم“ (اور عملیات میں سیدھے راستے کی۔)“
Ayah 46:31

یٰقَوْمَنَاۤ اَجِیْبُوْا دَاعِیَ اللّٰهِ وَ اٰمِنُوْا بِهٖ یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُجِرْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 46:31 in the Quran reader

اے ہماری قوم ! اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت قبول کرو اور اس پر ایمان لے آؤ، وہ تمہیں تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور تمہیں دردناک عذاب سے پناہ دے گا۔

(1) یقومنآ…:”یقومنآ“ کے ساتھ دوبارہ مخاطب کرنے کا مقصد اس بات کے اہم ہونے کی طرف متوجہ کرنا ہے جو اس آیت میں بیان کی گئی ہے۔ جس طرح خطیب کسی اہم بات کی طرف متوجہ کرنے کے لئے اثنائے کلام میں ”ایھا الناس کہتا ہے۔۔ (ابن عاشور) (2) اجینوا داعی اللہ :”’ اعی اللہ“ سے مراد رسول اللہ ﷺ ہیں، کیونکہ آپ ﷺ کی دعوت اپنی ذات یا کسی بھی مخلوق کے بجائے صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اسی کی اطاعت کی طرف تھی، جیسا کہ فرمایا :(قل ھذہ سبیلی ادعوا الی اللہ و علی بصیرۃ اناومن اثبعنی وسبحن اللہ وما انا من المشرکین) (یوسف :108)”کہہ دے یہی میرا راستہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں، پوری بصیرت پر ، میں اور وہ بھی جنہوں نے میری پیروی کی ہے اور اللہ پاک ہے اور میں شریک بنانے والوں سے نہیں ہوں۔“ یہاں ایک سوال ہے کہ جنوں نے نبی ﷺ کی صبح کی نماز کے دوران قرآن مجید کی جو تلاوت سنی آپ نے اس میں کون سی آیات پڑھیں، جن میں وہ باتیں موجود تھیں جن کی تلقین جنوں نے اپنی قوم کو کی ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اگر ہمیں اور کوئی آیات معلوم نہ ہو سکیں تو سورة فاتحہ کی قرأت تو یقینی ہے جو قرآن مجید کے تمام مضامین کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔ (3) یغفرلکم من ذنوبکم“ میں ”من“ لانے کا کیا فائدہ ہے ؟ اس کے لئے دیکھیے سورة نوح (4) کی تفسیر۔ (5) اللہ کے داعی کی دعوت قبول کرنے اور سا پر ایمان لانے پر دو بشارتیں دیں، ایک اس فائدے کے حصول کی بشارت جو تمہیں ایمان لانے سے حاصل ہوگا کہ وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور دوسری ناقابل تلافی نقصان سے بچنے کی بشارت کہ وہ تمہیں عذاب الیم سے پناہ دے گا۔
Ayah 46:32

وَ مَنْ لَّا یُجِبْ دَاعِیَ اللّٰهِ فَلَیْسَ بِمُعْجِزٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَیْسَ لَهٗ مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءُ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 46:32 in the Quran reader

اور جو اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت قبول نہ کرے گا تو نہ وہ زمین میں کسی طرح عاجز کرنے والا ہے اور نہ ہی اس کے سوا اس کے کوئی مددگار ہوں گے، یہ لوگ کھلی گمراہی میں ہیں۔

(1) ومن لایحب داعی اللہ …: بشارت کے بعد یہ نذارت ہے، جس میں اس کتاب پر ایمان نہ لانے والوں کو ڈرایا گیا ہے۔ یہ وہی بات ہے جو سورة جن میں ان الفاظ کے ساتھ بیان ہوئی ہے :(وانا ظننا ان لن نعجز اللہ فی الارض ولن نعجزہ ہرباً) (الجن : 12)”اور یہ کہ ہم نے یقین کرلیا کہ بیشک ہم کبھی اللہ کو زمین میں عاجز نہیں کرسکیں گے اور نہ ہی بھاگ کر کبھی اسے عاجز کرسکیں گے۔“ (2) ولیس لہ من دونہ اولیآء : یعنی اللہ تعالیٰ کی دعوت قبول نہ کرنے والا نہ خود دنیا یا آخرت میں اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بھاگ کر کہیں جاسکتا ہے اور نہ ہی کسی طرح کے مددگار اس کی مدد کو پہنچ سکتے ہیں۔