Ayah 46:33(1) اولم یروان اللہ الذی…:”اولم یروا“ سے مراد ”اولم یعلموا“ ہے، یعنی ”کیا انہیں معلوم نہیں ؟“ کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کو آسمان و زمین کو پیدا کرتے ہوئے دیکھا نہیں تھا، بلکہ یہ بات وہ جانتے تھے۔ یہ اسلئے فرمایا کہ یہ بات ان کے ہاں مسلم تھی کہ آسمان و زمین کو پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ سورت کے شروع میں اللہ تعالیٰ کی توحید کے ساتھ قیامت کا ذکر بھی یہ کہہ کر فرمایا :(ماخلقنا السموت والارض وما بینھما الا بالحق واجل مسمی والذین کفروا عما انذروا معرضون) (الاحقاف : 3)”ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو ان دونوں کے درمیان ہے حق اور مقررہ میعاد ہی کے ساتھ پیدا کیا ہیا ور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اس چیز سے جس سے وہ ڈرائے گئے، منہ پھیرنے والے ہیں۔ ”سورت کے درمیان میں بھی یہ مضمون ذکر فرمایا :(والذی قال لوالدیہ اف لکما اتعدننی ان اخرج و قد خلت الفرون من قبلی وھما یستغیثن اللہ ویلک امن ان وعد اللہ حق فیقول ماھذا الا اساطیر الاولین) (الاحقاف :18)”اور وہ جس نے اپنے ماں باپ سے کہا اف ہے تم دونوں کے لئے ! کیا تم مجھے دھمکی دیتے ہو کہ مجھے (قبر سے) نکالا جائے گا، حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی قومیں گزر چکیں۔ جب کہ وہ دونوں اللہ سے فریاد کرتے (ہوئے کہتے) ہیں تجھے ہلاکت ہو، ایمان لے آئ، بیشک اللہ کا وعدہ حق ہے۔ تو وہ کہتا ہے یہ پہلے لوگوں کی فرضی کہانیوں کے سوا کچھ نہیں۔“ توحید کے ساتھ رسالت کے دلائل، منکرین پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کے نزول اور جنوں کے ایمان لان کے ذکر کے بعد آخر میں پھر قیامت کے حق ہونے کا اور اس کی ایک زبردست دلیل کا ذکر فرمایا۔ یعنی یہ کفار جو انسان کے دوبارہ زندہ ہونے کو محال سمجھ رہے ہیں، کیا انہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ جس نے آسمان و زمین پیدا فرمائے وہ مردوں کو زندہ کرنے پر بھی قادر ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش کو انسان کے دوبارہ پیدا کرنے کی دلیل کے طور پر متعدد مقامات پر ذکر فرمایا ہے، چناچہ فرمایا :(ء انتم اشذ خلقاً ام السمآء بینھا رفع سمکھا فسوھا واغطش لیلھا واخرج ضحبھا والارض بعد ذلک دحھا اخرج منھا مآء ھا ومرعھا واجلابل ارسھا متاعاً لکم ولا نعامکم ((النازعات :28 تا 33)”کیا پیدا کرنے میں تم زیادہ مشکل ہو یا آسمان ؟ اس نے اسے بنایا۔ اس کی چھت کو بلند کیا، پھر اسے برابر کیا اور سا کی رات کو تاریک کردیا اور سا کے دن کی روشنی کو ظاہر کردیا اور زمین ، اس کے بعد اسے بچھا دیا۔ اس سے اس کا پانی اور اس کا چارا نکالا۔ اور پہاڑ، اس نے انہیں گاڑ دیا۔ تمہاری اور تمہارے چوپاؤں کی زندگی کے سامان کے لئے۔ ‘ اور فرمایا :(لخلق السموت والارض اکبر من خلق الناس ولکن اکثر الناس لایعلمون) (المومن :58)”یقینا آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے سے زیادہ بڑا (کام) ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔“
(2) ولم یغی بحلفقھن : یہود نصاریٰ کی الہامی کتاب تورات کی دوسری کتاب ”خروج“ میں مذکور ہے :”چھ دن میں خداوند نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور ساتویں دن آرام کیا اور تازہ دم ہوا۔“ (خروج، باب : 31، فقرہ :18) تازہ دم وہ ہوتا ہے جو تھکے اور تھکنا نقصان قدرت پر بمین ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ میں کسی قسم کا نقصان نہیں، اس لئے تورات کی اس عبارت کی اصلاح اور یہودیوں عیسائیوں کے عقیدے کی غلطی کا اظہار کرنے کو قرآن مجید کس اس آیت میں فرمائی :(ولم یعی بحلقھن) اللہ آسمان و زمین کو پیدا کر کے تھکا نہیں، یہ تمہارا خیال غلط ہے۔ (تفسیر ثنائی) دوسری جگہ فرمایا :(ولقد خلقنا السموت والارض وما بینھما فی ستۃ ایام وما مسنا من لغوب) (ق :38)”اور بلاشبہ یقیناً ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے چھ دنوں میں پیدا کیا اور ہمیں کسی قسم کی تھکاوٹ نے نہیں چھوا۔“
(3)”بقدر“ میں ”بائ“ لانے کی توجیہ ابن ہشام نے بہت عمدہ فرمائی ہے، وہ فرماتے ہیں :”بعض اوقات کسی چیز کو اس کے معنی یا لفظ میں یا دونوں میں مشابہ چیز کا حکم دے دیا جاتا ہے۔ پہلی کی کئی صورتیں ہیں، جن میں سے ایک اللہ تعالیٰ کے فرمان معنی بالفظ میں یا دونوں میں مشابہ چیز کا حکم دے دیا جاتا ہے۔ پہلی کی کئی صورتیں ہیں، جن میں سے ایک اللہ تعالیٰ کے فرمان ”اولم یروان اللہ الذی خلق السموت والارض ولم یغی بخلقھن بقدر“ میں ”ان“ کی خبر ”قادر“ پر باء کا داخل ہونا ہے، کیونکہ یہ ”اولیس اللہ بقادر ‘ کے معنی میں ہے۔ یہ ”بائ“ اس لئے ائٓی ہے کہ ”ان“ کے اسم اور خبر میں بہت فاصلہ ہے۔ اسی لئے دوسری آیت :(اولم یروا ان اللہ الذی خلق السموت والارض قادر علی ان یخلق مثلھم) (بنی اسرائیل : 99) میں ”قادر“ پر باء نہیں آئی۔ اسی کی ایک مثال ”کفی باللہ شھیداً“ ہے، کیونکہ اس میں ”اکتف باللہ شھیداً“ کا معنی پایا جا رہا ہے۔“ (اعراب القرآن از درویش)
”اولم یروان ان اللہ…“ کے جواب میں ”بلی“ آنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ یہ ”اولیس اللہ بقادر“ کے معنی میں ہے، کیونکہ ”بلی“ سابقہ نفی کی تردید کے لئے لایا جاتا ہے، جب کہ ”نعم“ پہلی نفی کی تاکید کے لئے لایا جاتا ہے۔
Ayah 46:34(1) ویوم یعرض الذین کفروا علی النار …: قیامت کے حق ہونے کو دلیل کے ساتھ ذکر کرنے کے بعد اس دن کا ایک منظر پیش فرمایا، یعنی وہ دن یاد کرو جب ان لوگوں کو جو قیامت اور جہنم کا انکار کرتے تھے آگ پر پیش کیا جائے گا (اور کہا جائے گا) کیا یہ حق نہیں ؟ سوال کا مقصد پوچھنا نہیں ہوگا بلکہ انہیں ذلیل کرنا اور وہ دنیا میں جہنم اور قیامت کا جو مذاق اڑاتے رہے اس کے بدلے میں ان کا مذاق اڑانا ہوگا۔ جہنم کے عذاب کے ساتھ ملامت، ڈانٹ ڈپٹ اور طنز و تہکم کا یہ عذاب بجائے خود بہت بڑی سزا ہوگی، دوسری جگہ فرمایا :(یوم یدعون الی نار جھنم دغا ھذہ النار التی کنتم بھا تکبذون افسخر ھذا ام انتم لاتبصرون) (الطور :13 تا 15)”جس دن انہیں جہنم کی آگ کی طرف دھکیلا جائے گا ، سخت دھکیلا جانا۔ یہی ہے وہ آگ جسے تم جھٹلاتے تھے۔ تو کیا یہ جادو ہے، یا تم نہیں دیکھ رہے ؟“
(2) قالوا بلی و ربنا : دنیا میں جس جہنم کا انکار کرتے تھے اور اس کا مذاق اڑاتے تھے اب اس کا اقرار ہی نہیں کریں گے بلکہ اس کے حق ہونے پر قسم کھائیں گے، کیونکہ اس کے سوا ان کے پاس کوئی چارہ ہی نہیں ہوگا۔
(3) فذرقوا العذاب بما کنتم تکفرون : مگر اس وقت کا اقرار و اعتراف انہیں کچھ فائدہ نہیں دے گا، بلکہ ان سے کہا جائے گا کہ اگر یہ حق ہے تو پھر اس حق کو نہ ماننے کی وجہ سے اس کی سزا کا مزہ چکھو۔
Ayah 46:35(1) فاصبر کما صبراولوا العزم من الرسل : توحید و رسالت اور قیامت کو دلائل سے ثابت کرنے اور کفار کے شہادت کا جواب دینے کے بعد رسول اللہ ﷺ کو صبر و استقامت کی نصیحت فرمائی، کیونکہ آپ کو دعوت الی اللہ کے جواب میں کفار کی بد زبانی، استہزاء اور اذیت رسانی سے شدید قلق اور سخت تکلیف ہوتی تھی، اس لئے فرمایا کہ اے نبی ! جس طرح پختہ ارادے اور مضبوط عزم و ہمت والے رسولوں نے صبر کای، آپ بھی صبر کریں۔ رہی یہ بات کہ ان اولو العزم رسولوں، سے مراد کون ہیں ؟ تو عموماً پانچ رسولوں کو اولوالعزم کہا اجتا ہے جن میں نوح ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ ؑ کیساتھ پانچویں خود رسول اللہ ﷺ ہیں، کیونکہ ان کا اکٹھا ذکر قرآن مجید میں دو مقامات پر آیا ہے، ایک سورة احزاب میں ہے، فرمایا :(واذ اخذنا من النبین میثاقھم ومثک ومن نوح و ابراہیم و موسیٰ و عیسیٰ ابن مریم ، واخذنا منھم میثاقاً غلیظاً) (الاحزاب :8)”اور جب ہم نے تمام نبیوں سے ان کا پختہ عہد لیا اور تجھ سے اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ ابن مریم سے بھی اور ہم نے ان سے بہت پختہ عہد لیا۔“ اور دوسری ایٓت سورة شوریٰ کی ہے، فرمایا :(شرع لکم من الدین ما وصی بہ نوحاً و الذی او حیناً الیک وما وضینا بہ ابراہیم و موسیٰ و عیسیٰ ٰ ان اقیموا الذین ولا تتفرقوا فیہ) (الشوری : 13)”اس نے تمہارے لئے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا جس کا تاکیدی حکم اس نے نوح کو دیا اور جس کی وحی ہم نے تیری طرف کی اور جس کا تاکیدی حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا، یہ کہ اس دین کو قائم رکھو اور اس میں جدا جدا نہ ہوجاؤ۔“ مگر ان آیات میں نہ ان پیغمبروں کے اولوالعزم ہونے کا ذکر ہے اور نہ دوسرے پیغمبروں کے اولوالعزم نہ ہونے کا اس لئے اسے عام رکھا جائے اور ”من“ کو بیانہ قرار دیا جائے تو بہتر ہے۔ معنی یہ ہوگا کہ اس طرح صبر کر جس طرح پختہ ارادے والوں نے کیا، جو رسول تھے، جیسا کہ فرمایا :(فاحبتنبوا الرجس من الاوثان) (الحج : 30) ”پس گندگی سے بچو، جو بت ہیں۔ ‘ مطلب یہ ہے کہ آپ سے پہلے پیغمبر اپنی قوم کی بےرخی، مخالفت اور ایذا رسانیوں کا جس طرح عزم و ہمت اور صبر وا ستقامت کے ساتھ مقبالہ کرتے رہے اسی طرح آپ بھی کریں۔
بعض مفسرین نے فرمایا کہ اولو العزم سے تمام سول مراد لینا دسرت نہیں، کیونکہ بعض رسولوں کے متعلق عزم کی نفی آئی ہے۔ جیسا کہ آدم ؑ کے متعلق فرمایا :(فنسی ولم تجدلہ عزماً) (طہ : 115)”پھر وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں ارادے کی کچھ پختگی نہ پائی۔“ اور یونس ؑ کے متعلق فرمایا :(ولاتکن کصاحب الحوت) (القلم :348)”اور تو مچھلی والے کی طرح نہ ہو۔“ اس لئے اولو العزم سے اونچے درجے کے صاحب عزم رسول مراد ہیں، اگرچہ ان کی تعیین مشکل ہے۔ مگر ان مفسرین کی یہ بات اس لئے درست نہیں کہ اگرچہ آدم علیہ اسللام سے یہ فعل سر زد ہوگیا مگر بعد میں ان کا درجہ پہلے سے بھی اونچا ہوگیا ، جیسا کہ فرمایا :(ثم اجتبہ ربہ فتاب علیہ وھدی) (طہ : 122)”پھر اس کے رب نے پہلے سے بھی اونچا ہوگیا جیسا کہ فرمایا :(ثم اجتیبہ ربہ فتاب علیہ وھدی) (طہ : 122)”پھر اس کے رب نے اسے چن لیا تو اس پر مہربانی فرمائی اور ہدایت دی۔“ اور یونس ؑ کے متعلق فرمایا :(فاجتبنہ ربہ فجعلہ من الصلحین) (القلم : 50)”پھر اس کے رب نے اسے چن لیا، پس اسے نیکوں میں شامل کردیا۔“ اس لئے توبہ کیب عد ان دونوں پیغمبروں کے بھی اولو العزم ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔
(2) ولا تستعجل لھم : صبر کے حکم کے ساتھ ہی جلد بازی سے منع فرمایا، یعنی ان کے لئے جلدی کا مطالبہ نہ کریں کہ یہ لوگ جلدی ایمان کیوں نہیں لاتے، یا ایمان نہ لانے کی وجہ سے ان پر جلدی عذاب کیوں نہیں آجاتا۔
(3) کانھم یوم یرون مایوعدون…: یعنی جب وہ اللہ کا عذاب دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تو انہیں ایسا معلوم ہوگا کہ وہ دنیا میں ایک ساعت سے زیادہ نہیں رہے، کیونکہ عذاب کی شدت انہیں سال و ماہ کی وہ مدت فراموش کروا دے گی جو انہوں نے دنیا میں بسر کی، جیسا کہ فرمایا :(قل کم لبثم فی الارض عدد سنین قالوا لبثنا یوما او بعض یوم فتل العاذین قل ان لیثم الا قلیلاً لو انکم کنتم تعلمون) (المومنون : 112 تا 113)”فرمائے گا تم زمین میں سالوں کی گنتی میں کتنی مدت رہے ؟ وہ کہیں گے ہم ایک دن یا دن کا کچھ حصہ رہے، سو شمار کرنے والوں سے پوچھ لے۔ فرمائے گا تم نہیں رہے مگر تھوڑا ہی، کاش کہ واقعی تم جانتے ہوتے۔“ کبھی انہیں وہ مدت ایک پہر معلوم ہوگی (دیکھیے نازعات : 46) اور کبھی وہ قسمیں کھا کر کہیں گے کہ وہ دنیا میں صرف ایک گھڑی رہے ہیں۔ دیکھیے سورة روم (55)۔
(4) بلغ : یہ ”ھذا“ کی خبر ہے، یعنی یہ قرآن تو پیغام کا پہنچا دینا ہے، جیسا کہ فرمایا :(ھذا بلغ للناس و لینذروابہ) (ابراہیم : 52)”یہ لوگوں کے لئے ایک پیغام ہے اور تاکہ انہیں اس کے ساتھ ڈرایا جائے۔“
(5) فھل یھلک الا القوم الفسقون : یعنی قرآن کے پہنچ جانے کے بعد حجت تمام ہوگئی، اب بھی اگر کوئی فسق اور نافرمانی میں پ ڑا رہتا ہے تو وہ اپنی شامت کو خود دچوت دے رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی کو بےقصور نہیں پکڑا جاتا، وہاں وہی لوگ ہلاک کئے جاتے ہیں جو فاسق اور نافرمان ہوں۔