47. Surah Muhammad

محمدMuhammad · 38 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 47:18

فَهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً١ۚ فَقَدْ جَآءَ اَشْرَاطُهَا١ۚ فَاَنّٰى لَهُمْ اِذَا جَآءَتْهُمْ ذِكْرٰىهُمْ Open ayah 47:18 in the Quran reader

تو وہ کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں سوائے قیامت کے کہ وہ ان پر اچانک آجائے، پس یقینا اس کی نشانیاں آچکیں، پھر ان کے لیے ان کی نصیحت کیسے ممکن ہوگی، جب وہ ان کے پاس آجائے گی۔

(1) فھل ینظرون الا الساعۃ ان تاتیھم بغتتہ : یعنی کون سی نصیحت اور کون سی وعید ہے جو انہیں نہیں سنائی گئی اور کون سی دلیل ہے جو ان کے سامنے پیش نہیں کی گئی، مگر وہ اتنے بدبخت ہیں کہ جب تک قیامت کو پانی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں ایمان لانے کے لئے تیار نہیں۔ اس لئے گویا اسی کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ اچانک ان کے سامنے آکھڑی ہو، نہ پہلے علم ہونے کی وجہ سے اس پر ایمان لاسکیں نہ اس کی تیاری کرسکیں۔ (2) فقد جآء اشراطھا : یعنی جس قیامت کا اتنظار کر رہے ہیں اس کے آنے میں دیر بھی کیا رہ گئی ہے، اس کی نشانیاں تو آہی چکی ہیں، اب اس کے آنے میں کیا شبہ باقی ہے ؟ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں :”بڑی نشانی قیامت کی ہمارے نبی ﷺ کا پیدا ہوتا ہے۔ سب نبی خاتم النبین کی راہ دیکھتے تھے، جب وہ آچکے تو قیامت ہی آنی رہ گئی ہے۔“ (موضح) ابوہریرہ ؓ بیان کتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(بعثت انا والساعۃ کھاتین) (بخاری، الرقاق، باب قول النبی ﷺ ”بعث انا والساعۃ کھاتیں…“: 6056)”میں اور قیامت اس طرح بھیجے گئے ہیں جس طرح یہ دو انگلیاں ہیں۔“ یعنی جس طرح شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی ایک دوسری سے ملی ہوئی ہیں اسی طرح قیامت میرے بعد متصل آرہی ہے۔ قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے شق قمر کی نشانی بھی رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں ظاہر ہوچکی تھی، جیسا کہ فرمایا :(اقتربت الساعۃ وانشق القمر) (القمر : 1)”قیامت بہت قیرب آگئیا ور چاد پھٹ گیا۔“ آلوسی نے فرمایا :”ظاہر یہ ہے کہ ان نشانیوں سے وہی نشانیاں مراد ہیں جو اس آیت کے نزول کے وقت نمودار ہوچکی تھیں۔“ (3) فانی لہم اذا جآئتھم ذکرتھم :”ذکرتھم ”مبتدا ہے اور ”فانی لہم“ اس استفہام خبر مقدم ہے۔”فانی لہم اذا جائتھم ذکرتھم“ (پھر جب وہ ان کے پاس آگئی تو ان کے لئے ان کی نصیحت کیسے ممکن ہوگی) ،”اذا جآء تھم“ میں ”جاء ت کا فاعل ”الساعۃ“ کی ضمیر ہے۔ (التسہیل) یعنی جب ان کے پاس قیامت آگئی تو نصیحت قبول کرنے یا مان لینے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ یہی بات اس آیت میں بیان ہوئی ہے :(یومئذ یتذکر الانسان وانی لہ الذکری) (الفجر : 23) ”اس دن انسانیت نصیحت حاصل کرے گا اور (اس وقت) اس کے لئے نصیحت کہاں۔“ مزید دیکھیے سورة سبا (51، 52) اور سورة مومن (84، 85)۔
Ayah 47:19

فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوٰىكُمْ۠ Open ayah 47:19 in the Quran reader

پس جان لے کہ بیشک حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنے گناہ کی معافی مانگ اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے بھی اور اللہ تمہارے چلنے پھرنے اور تمہارے ٹھہرنے کو جانتا ہے۔

(1) فاعلم انہ لا الہ الا اللہ : اس فائک و فصیحہ (اظہار کرنے والی) کہتے ہیں، یعنی اس سے اس شرط کا اظہار ہوتا ہے جو گزشتہ کلام سے معلوم ہوتی ہے، اس آیت کا تعلق سورت کی گزشتہ تمام آیات کے ساتھ ہے، یعنی جب تم کفار اور ایمان والوں کا حال جان چکے اور یہ بھی کہ بھلائی اور کامیابی کا دار و مدار توحید اور اطاعت پر ہے اور برائی اور ناکامی کا دار و مدار شرک اور نافرمانی پر ہے تو یہ بات بھی جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ (ابو السعود) ابو العالیہ اور ابن عینیہ نے فرمایا کہ اس کا تعلق اس سے پہلی آیت کے ساتھ ہے، یعنی جب ان کے پاس قیامت آگئی تو جان لو کہ اس کے قائم ہونے پر اللہ کے سوا بھاگنے یا پناہ حاصل کرنے کی کوئی جگہ نہیں (کیونکہ معبود برحق وہی ہے۔) (بغوی) (2) یہاں ایک سوال ہے کہ رسول اللہ ﷺ تو اس حقیقت کو پہلے ہی جانتے تھے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا :(ان اتفاکم واعلمکم باللہ انا) (بخاری، الایمان، باب قول النبی ﷺ“ انا علمکم باللہ …20)”یقیناً میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا اور تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا علم رکھنے والا ہوں۔“ پھر یہ کہنے کا کیا مطلب ہے کہ ”جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی م عبود نہیں۔“ اہل علم نے اس کے متعدد جوابات دیئے ہیں اور وہ سب درست ہیں۔ ایک یہ کہ ”فاعلم“ کے مخاطب اگرچہ بظاہر رسول اللہ ﷺ ہیں مگر خطاب امت کے ہر فرد کو ہے۔ دلیل اس کی آیت کے آخری الفاظ ہیں جن میں صراحتاً سب کو مخاطب فرمایا ہے :(واللہ یعلم متقلبکم ومثولکم)”اور اللہ تمہارے چلنے پھرنے کو اور تمہارے ٹھہرنے کو جانتا ہے۔“ جیسا کہ طورہ طلاق کے شروع میں فرمایا :(یایھا النبی اذا طلقتم النسآء فطلقوھن لعدتھن و احصوا العذۃ و اتقوا اللہ ربکم لاتخرجوھن من بیوتھن ولا یخرجن الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ (الطلاق : 1)”اے نبی ! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت کے وقت طلاق دو اور عدت کو گنوا اور اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے، نہ تم انہیں ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ نکلیں مگر یہ ہ کوئی کھلی بےحیائی میں) لائیں۔“ دوسرا جواب یہ ہے کہ ”فاعلم“ کا معنی یہ ہے کہ ”لا الہ الا اللہ“ کے علم پر ثابت اور قائم رہو، جیسا کہ فرمایا : یایھا الذین امنوا امنوا باللہ ورسولہ، والکتب الذی نزل علی رسولہ و الکتب الذی انزل من قبل (النبیائ : 136)”اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول پر نازل کی اور اس کتاب پر جو اس نے اس سے پہلے نازل کی۔“ اکثر مفسرین نے یہاں ”فاعلم“ کا یہی معنی بیان فرمایا ہے۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ کسی حقیقت کے علم کی ابتداء اس کی معرفت سے ہوتی ہے کہ دل اسے جان لے، پھر اس کے یقین کا مرتبہ آتا ہے اور اس علم کی تکمیل اس سے ہوتی ہے کہ اس کے تقاضے کے مطابق عمل کرے۔ مطلب یہ ہے کہ ”لا الہ الا اللہ“ کی معرفت اور اس کا یقین حاصل کرو اور اس کے تقاضوں پر عمل کرو۔ ظاہر ہے کہ علم اور بقین کے بیشمار درجے ہیں اور عمل کے لحاظ سے درجنوں کا بھی کوئی شمار نہیں۔ ابراہیم کا قول :(ولکن لیطبین قلبی) (البقرہ : 260) ”وقل رب زدنی علماً) (طہ : 113)”اور تو کہہ اے میرے رب ! مجھے علم میں زیادہ کر۔“ اور کہنے والے نے کیا خوب کہا ہے۔ چوں می گویم مسلمانم بلرزم کہ دانم مشکلات لا الہ الہ را ”جب میں کہتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں تو لرز جاتا ہوں، کیونکہ میں ”لا الہ ‘ ‘ کی مشکلات کو جانتا ہوں۔“ سورة نساء کی آیت (136) (یایھا الذین امنوا امنوا و رسولہ) کا ایک معنی یعہ بھی کیا گیا ہے کہ اپنے ایمان کے تاقضے کے مطابق عمل کرو۔ خلاصہ یہ ہے کہ ہر لمحے ”لا الہ الا اللہ“ کی معفرت، اس کے معرفت، اس کے یقین اور اس پر عمل میں اضافے کی کوشش کرتے رہو۔ چوتھا یہ کہ ہر وقت اس حقیقت کو یاد اور نظر کے سامنے رکھو کہ اللہ کے سوا کوئی عبارت کے لائق نہیں گویا ”اعلم“ بمعنی ”ادکر“ ہے۔ (ہ) اس اس آیت سے علم کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، کیونکہ ہر قول اور عمل سے پہلے علم کا حصول لازم ہے، جیسا کہ فرمایا (اعلموا لما الحیوۃ) الدنیا العب و لھم) (الحمد : 20)”جان لو کہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل ہے۔“ اس کے بعد فرمایا :(سابقوا الی مغفرۃ من ر ربکم وجنۃ عرضھا کعرض السمآء والارض) (الحدید : 21)”اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف ایک دوسرے سے آگے بڑھو جس کی چوڑائی آسمان اور زمین کی چوڑائی کی طرح ہے۔“ اور امام بخاری رحمتہ اللہ نے صحیح بخاری میں فرمایا : ”باب العلم قبل القول والعمل لقول اللہ تعالیٰ : فاملم انہ لا الہ الا اللہ) (فبداء بالعلم“ (بخاری ، العلیہ ، قبلہ ح : 68)”علم مقدم ہے قول اور عمل پر ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے (سورة محمد میں) فرمایا :”پس تو جان لے کہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔“ اس آیت میں اللہ نے علم کو پہلے بیان کیا ہے۔“ (4) واستغفر لدنبک : قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے استغفار کا حکم دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر عمل کرتے رہے اور امت کو بھی اس کی تاکید فرماتے رہے۔ چناچہ اس سے متعلق یہاں وہ احادیث نقل کی جاتی ہیں، ابو موسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے :(اللھم اغفرلی خطیتنی وجھلن و اسرافی فی امری وما انت اعلم بہ منی، اللھم اغفر لی جدی وھزلی وخطئی، وعمدی و کل ذلک عندی، اللھم اغفرلی ماقدمت وما اخرت وما اسررت وما اعلنت وما انت اعلم بہ منی، انت المقدم وانت الموخر وانت علی کل شیء قدیر) (مسلم، الذکر والدعا، باب فی الادعیۃ :2819)”اے اللہ ! میری خطا کو میرے جہل کو، میرے کام میں میری زیادتی کو اور ان تمام گناہوں کو میرے لئے بخش دے جنہیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔ اے اللہ ! میرے سنجیدگی سے کئے ہوئے کاموں کو، میرے مذاق سے کئے ہوئے کاموں کو میرے بھول کر کئے ہوئے اور جان بوجھ کر کئے ہوئے گناہوں کو میرے لئے بخش دے اور یہ سب میرے پاس موجود ہیں۔ اے اللہ ! تو مجھے وہ سب گناہ بخش دے جو میں نے پہلے کئے اور جو میں نے بعد میں کئے اور جو چھپا کر کئے اور جو چھپا کر کئے اور جو علانیہ کئے اور جنہیں تو مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے۔ تو ہی آگے کرنے والا ہے اور توہ ہی پیچھے کرنے والا ہے اور تو ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔“ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا :(واللہ ! انی لاستغفر اللہ واتوب الیہ فی الیوم اکنز من سبعین مرۃ) (بخاری، الدعوات، باب استغفار النبی ﷺ فی الیوم واللیلۃ 6308)”اللہ کی قسم ! میں دن میں ستر (70) بار سے زیادہ اللہ سے استغفار کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں۔ ‘ (5) وللمومنین والمومنت : یہ حکم نبی ﷺ کو بھی ہے اور امت کے تمام افراد کو بھی کہ وہ اپنے علاوہ دوسرے تمام ممون مردوں اور عورتوں کے لئے بھی استغفار کریں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان والوں پر اپنے مومن بھائیوں کے لئے استغفار واجب ہے۔ پہلے جلیل القدر انبیاء ؑ کا بھی یہی عمل رہا ہے، جیسا کہ نوح ؑ نے دعا کی :(رب اغفرلی ولوالدی ولمن دخل بیتی مومنا وللمومنین و المومنت ، ولا تزد الظلمین الاتباراً) (نوح :28)”اے میرے رب ! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور اس کو جو مومن بن کر میرے گھر میں داخل ہو اور ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو اور ظالموں کو ہلاکت کے سوا کسی چیز میں نہ بڑھا۔“ اور ابراہیم ؑ نے دعا کی :(ربنا اغفرلی ولوالدی واللمومنین یوم یقوم الحساب) (ابراہیم :31)”اے ہمارے رب ! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور ایمان والوں کو، جس دن حساب قائم ہوگا۔“ (6) اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور تمام ایمان والوں کو مومن مردوں اور عورتوں کے لئے استغفار کا جب خود حکم دیا تو یہ دلیل ہے کہ وہ اسے قبول بھی فرمائے گا۔ ظاہر ہے کہ ہر مومن، مرد ہو یا عورت، زندہ ہو یا فوت شدہ، استغفار کی ان دعاؤں میں شامل ہے جو رسول اللہ ﷺ سے لے کر امت کے آخری آدمی نے ایمان والوں کے حق میں کی ہیں اور جس کے حق میں نبی کریم ﷺ اور اللہ تعالیٰ کے بیشمار مقبول بندوں کی مغفرت کی دعائیں ہوتی ہوں اس کی مغفرت سے ناامید ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ اس لئے کسی بھی مومن کے متعق یہ کہنا درست نہیں کہ وہ جہنمی ہے، یا اللہ تعالیٰ اسے معاف نہیں کرے گا، خواہ وہ کتنا زیادہ گناہگار ہو۔ شرط یہ ہے کہ وہ ایمان کی دولت اپنے دامن میں رکھتا ہو اور شرک کی نجاست سے آلودہ نہ ہو۔ (7) واللہ یعلم متقلبکم مثولکم :”متقلب“ اور مثوی“ ”تقلب یتقلب“ (تفعل) اور ”توی یثوی“ (ض) سے مصدر میمی بھی ہوسکتے ہیں اور ظرف مکان بھی۔ پہلی صورت میں معنی ہے تمہارا چلنا پھرنا اور تمہارا ٹھہرنا اور دوسری صورت میں معنی ہے ”تمہارے چلنے پھرنے کی جگہ اور تمہارے ٹھہرے کے مقامات کو خوب جانتا ہے۔ اس میں کفار اور نافرمانوں کے لئے وعید ہے اور اللہ کے فرماں بردار بندوں کے لئے بشارت ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری جائز یا ناجائز ہر حرکت و سکون سے واقف ہے اور واقف ہونے کا مطلب ہی یہ ہے کہ وہ فرماں بر داروں کو انعام دے گا اور نافرمانوں کو سزا دے گا۔
Ayah 47:20

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ لَا نُزِّلَتْ سُوْرَةٌ١ۚ فَاِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَّ ذُكِرَ فِیْهَا الْقِتَالُ١ۙ رَاَیْتَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یَّنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ؕ فَاَوْلٰى لَهُمْۚ Open ayah 47:20 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو ایمان لائے کہتے ہیں کوئی سورت کیوں نازل نہیں کی گئی ؟ پھر جب کوئی محکم سورت نازل کی جاتی ہے اور اس میں لڑائی کا ذکر کیا جاتا ہے تو تو ان لوگوں کو دیکھے گا جن کے دلوں میں بیماری ہے، وہ تیری طرف اس طرح دیکھیں گے جیسے اس شخص کا دیکھنا ہوتا ہے جس پر موت کی غشی ڈالی گئی ہو۔ پس ان کے لیے بہتر ہے۔

(1) ویقول الذین امنوا لو لانزلت سورة : اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے منافقوں اور ایمان والوں کا حال ان آیات کو سننے کے وقت فرمایا جو توحید، قیامت اور دوسرے اعتقادی معاملات سے تعلق رکھتی ہیں۔ چناچہ ”ومنھم من یستمع الیک“ میں منافقین کا حال بیان فرمایا اور ”والذین اھتدوا زادھم ھدی“ میں ایمان والوں کا حال بیان فرمایا۔ اب عمل سے تعلق رکھنے والی آیات مثلاً جہاد، نماز اور زکوۃ وغیرہ کے متعلق ان کا طرز عمل بیان فرمایا۔ وہ یہ کہ مخلص مومن ہمیشہ ایسے کاموں کے بارے میں وحی کے نزول کے منتظر اور امیدوار رہتے، تاکہ ان پر عمل کر کے زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرسکوں، جب اس کے نزول میں تاخیر ہوتی تو کہتے کہ ایسی کوئی آیت یا سورت کیوں نازل نہیں کی گئی اور منافقین کا یہ حال تھا کہ جب مشقت والی ایسی کوئی سورت یا آیت اترتی تو ان پر بہت شاق گزرتی، خصوصاً جہاد کا ذکر آنے پر تو خوف اور دہشت کے مارے ان کی آنکھیں کھلی رہ جاتیں۔ (2) ویقول الذین امنوا لولا نزلت سورة : ہجرت کے بعد اگرچہ سورة حج کی آیت (39) (اذن للذین یفتلون بانھم ظلموا) ان لوگوں کو جن سے لڑائی کی جاتی ہے، اجازت دے دی گئی ہے، اس لئے کہ ان پر ظلم کیا گیا) کے ساتھ کفار سے قتال کی اجازت ہوچکی تھی، مگر اس کی فرضیت کا واضح حکم ابھی نہیں آیا تھا۔ مخلص مومن جو کفار کے ظلم و ستم سے شدید تنگ دل تھے اور فتح یا شہادت کے متمنی تھے، کہتے رہتے تھے کہ جہاد کے حکم والی کوئی سورت کیوں نازل نہیں کرگئی۔ (3) فاذا انزلت سورة محکمۃ وذکر فیھا القتال : محکم سورت سے مراد ایسی سورت ہے جس میں دیا جانے والا حکم واضح ہو، جس میں کوئی تاویل نہ کی جاسکے اور نہ وہ منسوخ ہو۔ مراد اس سے یہی سورة محمد (ﷺ) ہے جس کا نام سورة قتال بھی ہے۔ کیونکہ اس میں ”جاھدوا“ (جہاد کرو) یا ”قاتلوا“ (لڑو) کے بجائے قتال کا حکم ”فضرب الرقاب“ کے بالکل صریح الفاظ کے ساتھ دیا گیا کہ کفار سے مڈ بھیڑ ہو تو ان کی گردنیں اڑا دو اور خوب خون ریزی کے بعد انہیں قیدی بناؤ وغیرہ۔ (4) رایت الذین فی قلوبھم مرض …: یعنی جب قتال کے واضح حکم والی سورت نازل کی گئی تو منافقین کا یہ حال ہوا۔ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں :”مسلمان سورت مانگتے تھے، یعنی کافروں کی ایذا سے عاجز ہو کر آرزو کرتے کہ اللہ جہاد کا حکم دے تو جو ہم سے ہو سکے کر گزیرں۔ جب جہاد کا حکم آیا تو منافقا ور کچے لوگوں پر بھای روہا، خوف زدہ اور بےرونق آنکھوں سے پیغمبر کی طرف دیکھنے لگے کہ کاش ! ہم کو اس حکم سے معاف رکھیں۔ بےحد خوف میں بھی آنکھ کی رونق نہیں رہتی، جیسے مرتے وقت آنکھوں کا نور جاتا رہتا ہے۔“ (موضح) اس مضمون کی آیات کے لئے دیکھیے سورة نسائ (77) اور سورة احزاب (19)۔ (5) فاولی لھم : مفسرین نے اس لفظ کی مختلف تفسریں کی ہیں جن میں سب سے وضاح اور تکلف سے خالی یہ ہے کہ یہ ”ولی یلی ولیا“ (س) سے اسم تفصیل ہے، جس کا معنی ہے زیادہ لائق ، زیادہ قریب، بہتر ہے۔ اب اس کی ترکیب دو طرح سے ہوسکتی ہے، ایک یہ کہ یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے جو اس سے پہلے جملے سے معلوم ہو رہا ہے، یعنی ”فالموت اولی لھم“ ”پس موت ہی ان کے لئے بہتر ہے، یا موت ہی ان کے لائق ہے۔“ دوسری تفسیر حافظ ابن کثیر نے فرمائی ہے کہ ”فاولی لھم“ خیر مقدم ہے اور اگلی آیت میں ”طاعۃ وقول معروف“ مبتداء موخر ہے۔ ان کے الفاظ میں عبارت یوں ہے :”طاعۃ و قول معروف اولی لھم ، ای و کان الاولی لھم ان یسمعوا ویطیعوا“ یعنی ان کے لئے بہتر تھا کہ وہ سنتے اور طا اعت کرتے۔
Ayah 47:21

طَاعَةٌ وَّ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ١۫ فَاِذَا عَزَمَ الْاَمْرُ١۫ فَلَوْ صَدَقُوا اللّٰهَ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْۚ Open ayah 47:21 in the Quran reader

حکم ماننا اور اچھی بات کہنا، پھر جب حکم لازم ہوجائے تو اگر وہ اللہ سے سچے رہیں تو یقینا ان کے لیے بہتر ہو۔

(1) طاعۃ وقول معروف : اس کا تعلق یا تو پچھلی آیت کے آخری لفظ ”فاولی لھم“ کے ساتھ ہے، جیسا کہ گزرا اور اگر اسے نیا جملہ سمجھا جائے تو اس کی ترکیب دو طرح سے ہوسکتی ہے، ایک یہ کہ یہ مبتدا ہے اور اس کی خبر ”خیر لھم“ محذوف ہے، یعنی حکم ماننا اور اچھی بات کہنا ان کے لئے بہتر ہے۔ دوسرا یہ کہ یہ مبتدا محذوف ”امرنا“ کی خبر ہے، یعنی وہ کہتے ہیں کہ ہمارا کام تو اطاعت کرنا اور اچھی بات کہنا ہے۔ (2) فاذا عزم الامر قلو صدقوا اللہ…: یعنی کہتے تو وہ یہی ہے کہ ہمارا کام ”سمعنا واطعنا یعنی حکم ماننا اور اچھی بات کہنا ہے، مگر جب جہاد کا قطعی اور لازمی حکم آجائے تو وہ اپنی بات میں جھوٹے نکلتے ہیں، اگر وہ اس وقت اپنی بات میں اللہ سے سچے رہیں تو یقیناً ان کے لئے بہتر ہے۔
Ayah 47:22

فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ Open ayah 47:22 in the Quran reader

پھر یقینا تم قریب ہو اگر تم حاکم بن جاؤ کہ زمین میں فساد کرو اور اپنے رشتوں کو بالکل ہی قطع کردو۔

فھل عسیتم ان تولیتم …:”ھل“ کے معنی کی تحقیق کے لئے دیکھیے سورة دہر کی پہلی آیت :(ھل اتی علی الانسان حین من الدھر) کی تفسیر۔ یہاں یہ ”قد“ (یقیناً) کے معنی میں ہے۔”عسیتم“ تم قریب ہو، تم سے امید ہے۔ ”تولیتم“ یا تو ”تولی الولایۃ“ سے ہے، حاکم یا صاحب اقتدار ہونا، یا ”تولی عنہ“ سے ہے، منہ موڑنا، اعراض کرنا۔ اگر حاکم ہونے سے ہو تو آیت کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے لئے بہتر یہی ہے کہ طاعت اور قول معروف اختیار کرو، کیونکہ اگر تم اسی نفاق کی حالت میں حکومت پر متمکن ہوجاؤ تو یقینا تم قریب ہو کہ ایمان سے خالی ہونے کی وجہ سے اسلام سے پہلے والی حالت کی طرف پلٹ جاؤ گے، اپنی خواہشات نفس پوری کرنے کے لئے زمین میں فساد کرو گے اور اپنی رشتہ داریاں بری طرح قطع کر دو گے۔ اور اگر ”تولیتم“ کا معنی اعراض اور منہ موڑنا ہو تو مطلب یہ ہے کہ تمہارے لئے بہتر یہی ہے کہ جب جہاد کا حکم قطعی اور لازمی ہوجائے تو اپنا صدق ثابت کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں جہاد کرو ، کیونکہ اگر تم نے جہاد سے منہ موڑا تو ہرگز امن و امان سے نہیں رہو گے، بلکہ نافرمانی اور قطع رحمی کرو گے، جس کے نتیجے میں خانہ جنگی ، نافرمانی اور لوٹ مار کی وہی حالت لوٹ آئے گی جو سالام سے پہلے تھی۔ تقطعوا“ (تفعیل) میں مبالغہ ہے، یعنی تم اپنی رشتہ داریاں بری طرح قطع کرو گے، یا بالکل قطع کر دو گے۔
Ayah 47:23

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَ اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ Open ayah 47:23 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی۔ پس انھیں بہرا کردیا اور ان کی آنکھیں اندھی کردیں۔

اولئک الذین لعنھم اللہ …: یعنی یہ لوگ جو قریب تھے کہ حکومت میں آجائیں تو اندھے بہرے ہو کر ظلم و فساد پھیلائیں اورق طع رحمی کرنے لگیں، یا قریب تھے کہ اطاعت اور جہاد سے منہ موڑیں تو زمین میں فساد پھیلائیں اور رشتہ داریوں کو بری طرح قطع کردیں، اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کی اور انہیں ایسا بہرا، اندھا اور سنگ دل بنادیا کہ وہ جہاد کی برکات سمجھ ہی نہ سکے کہ اس کی بدولت مسلمانوں کی پریشانیاں اور مصیبتیں ختم ہوتی ہیں، انہیں عزت اور سربلندی ملتی ہے، فتنہ و فساد اور شرک و کفر ختم ہوتا ہے اور زمین امن کا گہوارہ بن جاتی ہے۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(ذلک بانھم امنوا ثم کفروا فطیع علی قلوبھم فھم لایفقھون) (المنافقون : 3)”یہ اس لئے کہ وہ ایمان لائے، پھر انہوں نے کفر کیا تو ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی، سو وہ نہیں سمجھتے۔“
Ayah 47:24

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا Open ayah 47:24 in the Quran reader

تو کیا وہ قرآن میں غور نہیں کرتے، یا کچھ دلوں پر ان کے قفل پڑے ہوئے ہیں ؟

افلا یتدبرون القرآن …: اوپر کی آیت کے سیاق کو ملحوظ رکھ اجائے تو مطلب یہ ہوگا کہ یہ لوگ ملعون ہونے کی وجہ سے یا تو قرآن پر غور و تدبر ہی نہیں کرتے، یا کرتے ہیں تو اس کے معانی و مطالب ان کی سمجھ میں نہیں آتے، کیونکہ ان کے دلوں پر کفر و نفاق کے قفل چڑھے ہوتے ہیں۔ ہاں، اگر صدق نیت سے غور کرتے تو ضرور سمجھ لیتے کہ جہاں میں کس قدر دنیوی اور اخروی فوائد ہیں۔
Ayah 47:25

اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدَى١ۙ الشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَهُمْ١ؕ وَ اَمْلٰى لَهُمْ Open ayah 47:25 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جو اپنی پیٹھوں پر پھرگئے، اس کے بعد کہ ان کے لیے سیدھا راستہ واضح ہوچکا، شیطان نے ان کے لیے (ان کا عمل) مزین کردیا اور ان کے لیے مہلت لمبی بتائی۔

(1) ان الذین ارتدوا علی ادبارھم …: ان سے مراد منافقین ہی ہیں جنہوں نے راہ حق واضح ہونے اور سالام کا اقرار کرنے کے بعد جہاد سے گریز کرتے ہوئے کفر و ارتداد کی راہ اختیار کی۔ (2) الشیطن سول لھم و املی لھم : یعنی شیطان نے ان کے لئے ان کے کفر و ارتداد اور جہاد سے فرار کو خوش نما بنادیا اور ان کے لئے مہلت لمبی بتائی، یعنی ان کے دلوں میں ڈال دیا کہ اگر جہاد نہ کرو گے تو لمبی مدت تک زندہ رہو گے اور دنیا کے عیش و آرام سے فائدہ اٹھاؤ گے۔ شیطان کا کام ہی خواہش اور آرزوئیں دلا کر گمراہ کرنا ہے۔ (دیکھیے نسائ :120119) حالانکہ انہیں سمجھنا چاہیے تھا کہ موت اپنے وقت آتی ہے، اس میں لمحہ بھر تقدیم و تاخیر نہیں وہتی، پھر جہاد سے بھاگنے کا کیا فائدہ ؟
Ayah 47:26

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ سَنُطِیْعُكُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِسْرَارَهُمْ Open ayah 47:26 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ بیشک انھوں نے ان لوگوں سے کہا جنھوں نے اس چیز کو ناپسند کیا جو اللہ نے نازل کی، عنقریب ہم بعض کا موں میں تمہارا کہا مانیں گے اور اللہ ان کے چھپانے کو جانتا ہے۔

(1) ذلک بانھم قالوا اللذین کرھوا مانزل اللہ :”للذین کرھوا مانزل اللہ“ سے مراد کفار ہیں، جیسا کہ اسی سورت کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے متعلق فرمایا :(ذلک بانھم کرھوا ما انزل اللہ فاحبط اعمالھم) (محمد : 9)”یہ اس لئے کہ انہوں نے اس چیز کو ناپسند کیا جو اللہ نے نازل کی تو اس نے ان کے اعمال ضائع کردیئے۔“ (2) سنطیعکم فی بعض الامر : بعض کاموں سے مراد رسول اللہ ﷺ کی مخالفتا ور عداوت ہے اور یہ کہ جب جنگ کا موقع آئے مسلمانوں کو دھوکا دیا جائے اور ہر طریقے سے ان کے دشمنوں کی مدد کی جائے۔ یعنی ان کے ایمان قبول کرنے کے بعد کفر و ارتداد کی طرف پلٹنے، جہاد سے فرار اور منافقت اختیار کرنے کی وجہ یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ دوسرے مخلص مسلمانوں کی طرح وہ تمام کاموں میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرتے، انہوں نے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ دین کو نپاسناد کرنے والے کفار سے کہا کہ ہم اسلام قبول کرنے اور مسلمانوں میں رہنے کی وجہ سیت مہاری ہر بات نہیں مان سکتے، نہ کھلم کھلا اپنے کفر کا اظہار کرسکتے ہیں، مگر ہم کچھ کاموں میں تمہاری اطاعت ضرور کریں گے۔ وہ اس طرح کہ جنگ کے موقع پر تمہاری مدد کریں گے، جیسا کہ رئیس المنافین عبداللہ بن ابی احد کے موقع پر عین میدان جنگ سے تین سو آدمیوں کو واپس لے گیا اور جس طرح منافقین نے بنو نضیر کے یہودیوں کو ہلا شیری دی کہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف ڈٹے رہو، اگر تمہیں نکالا گیا تو ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے اور اگر تم سے جنگ کی گئی تو ہم تمہارے ساتھ مل کر لڑیں گے۔ دیکھیے سورة حشر (11)۔ (3) واللہ یعلم اسرارھم : اور اللہ تعالیٰ ان کی سرگوشیوں اور سازشوں کو جو وہ چھپ کر کرتے ہیں خوب جانتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ انہیں اس کی سزا ضرور دے گا۔ اس آیت کا مضمون سورة نساء کی آیت (81) میں بھی بیان ہوا ہے۔
Ayahs 47:27–28

فَكَیْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ Open ayah 47:27 in the Quran reader

تو کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کی روح قبض کرینگے، ان کے چہروں اور ان کی پیٹھوں پر مارتے ہوں گے۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوْا مَاۤ اَسْخَطَ اللّٰهَ وَ كَرِهُوْا رِضْوَانَهٗ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ۠ Open ayah 47:28 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ بیشک انھوں نے اس چیز کی پیروی کی جس نے اللہ کو ناراض کردیا اور اس کی خوشنودی کو برا جانا تو اس نے ان کے اعمال ضائع کردیے۔

(1) فکیف اذا توقنھم الملئکۃ …: یعنی دنیا میں تو انہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد کفار کا ساتھ اس لئے دیا کہ کفر و اسلام کی جنگ میں دونوں جانب سے مفادات حاصل کرسکیں ، اپنے آپ ک جنگ کے نقصانات اور خطرات سے بچائیں اور اپنے چہروں اور پیٹھوں کو تیر و تلوار کی مار سے بچائے رکھیں، مگر مترے وقت ان کے چہروں اور پیٹھوں کو فرشتوں کی مار سے کون بچائے گا ؟ (2) فاحبط اعمالھم : یعنی وہ تمام اعمال جو مسلمان بن کر وہ انجام دیتے رہے، مثلاً ان کی نماز، ان کے روزے، زکواۃ اور تمام عبادتیں جو بظاہر نیکیاں تھیں، اللہ تعالیٰ نے برباد کردیئے، کیونا کہ یہ سب کچھ تب قبول ہوتا جب وہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے ہوتا۔ جب اسلام اور مسلمانوں سے بےوفائی اور غداری کر کے وہ چل ہی اسے راستے پر پڑے جو اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والا ہے اور انہیں اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا ہی پسند نہ رہا تو ان کے نماز روزے، صدقات اور دوسری نیکیوں سے کیا حاصل۔
Ayah 47:29

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَنْ لَّنْ یُّخْرِجَ اللّٰهُ اَضْغَانَهُمْ Open ayah 47:29 in the Quran reader

یا ان لوگوں نے جن کے دلوں میں کوئی بیماری ہے، یہ خیال کرلیا ہے کہ اللہ ان کے کینے کبھی ظاہر نہیں کرے گا۔

ام حسب الذین فی قلوبھم مرض …:”اضغان“ ”ضغن“ کی جمع ہے، شدید کینہ، مراد اس سے وہ شدید حسد اور عداوت ہے جو منافقین رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے خلاف دلوں میں رکھتے تھے۔ یعنی کیا ان منافقین نے گمان کر رکھا ہے کہ انہوں نے اپنے دل میں مسلمانوں کے خلاف جو شدید حسد اور بغض کی بیشمار باتیں چ ھپا رکھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں ظاہر نہیں کرے گا اور ان پر پردہ ہی پڑا رہے گا ؟ نہیں، ایسا نہیں ہوگا، بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے خبث باطن کو ضرور ظاہر کرے گا۔ چناچہ سورة توبہ میں م نافقین کی سازشوں، عداوتوں اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ان کی زہریلی باتوں کو ”ومنھم“ ”ومنھم“ کہہ کر اس طرح کھول کر رکھ دیا کہ ان کی پہچان میں کوئی مشکل باقی نہ رہی۔ اس لئے سورة توبہ کا نام سورة فاضحہ یعنی منافقین کو رسوا کرنے والی سورت بھی ہے۔
Ayah 47:30

وَ لَوْ نَشَآءُ لَاَرَیْنٰكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ؕ وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:30 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو ضرور تجھے وہ لوگ دکھادیں، پھر یقینا تو انھیں ان کی نشانی سے پہچان لے گا اور تو انھیں بات کے انداز سے ضرور ہی پہچان لے گا اور اللہ تمہارے اعمال جانتا ہے۔

(1) ولو شآء لارینکھم فلعوفتھم بسیمھم :”سیما“ علامت۔ پچھلی آیت سے ظاہر ہوتا تھا کہ اللہ تعالیٰ منافقین کی دلی عداتوں اور ان کے نفاق کو ظاہر کر دے گا۔ اس پر سوال پیدا ہوا کہ پھر اس نے منافقین کا نا م لے کر یا ان کا کوئی علامت لگا کر انہیں کیوں ظاہر نہیں کیا ؟ اس کے جواب میں فرمایا کہ اس کی وجہ منافین کا خوف یا کوئی اور خطرہ نہیں بلکہ محض ہماری مشیت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات لفظ ”لو“ کے ساتھ بیان فرمائی ہے، جس کا استعمال ایسی شرط کے لئے ہوتا ہے جو واقع نیں ہوتی، اس لئے اس کی جزا بھی واقع نہیں ہوتی۔ یعنی اگر ہم چاہتے تو ہر منافق کا نام لے کر یا اس پر خاص نشانی لگا کر اسے شخصی طور پر آپ کو دکھا دیتے ، جس کے ساتھ آپ ان سب کو صاف پہچان لیتے، مگر ہم نے یہ چاہا نہ کوئی ایسی علامت مقرر کر کے شخصی طور پر آپ کو ان کی پہچان کروائی، کیونکہ ہماری مصلحت و حکمت اور ہمارے ستر و حلم کا تقاضا یہی تھا کہ ان کو اس طرح رسوا نہ کیا جائے کہ کوئی توبہ کرنا چاہے تو نہ کرسکے، کیونکہ ہمارے ہاں منافقین کے لئے بھی توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ جیسا کہ فرمایا :(لیجزی اللہ الصدقین بصدقھم ویعذب المنفقین ان شآء او یتوب علیھم ، ان اللہ کان غفور رحیماً) الاحزاب : 23)”تاکہ اللہ سچوں کو ان کے سچ کا بدلا دے اور منافقوں کو عذاب دے اگر چاہے، یا ان کی توبہ قبول فرمائے۔ بلا شبہ اللہ ہمیشے سے بےحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔“ اور اس میں اللہ تعالیٰ کی یہ بھی حکمت تھی کہ لوگ ظاہر کے مطابق فیصلہ کریں اور باطن کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیں۔ (2) ولتغرفنھم فی الحن القول :”ولتعرفنھم“ تاکید کا لام اور نون ثقیلہ قسم کے جواب میں آتا ہے، یعنی اگرچہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو منافقین کا نام لے کر یا ان کے چہروں پر کوئی نشانی لگا کر ان کی اطلاع نہیں دی مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ انہیں بالکل نہیں پہچانتے تھے، اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر فرمایا کہ آپ ان کی بات کے لہجے اور انداز سے یقینا انہیں پہچان لیں گے۔ سورة توبہ میں منافقین کے بہت سے اقوال و احوال اور افعال ذکر فرماتے ہیں جن سے ان کی شناخت میں کچھ مشکل پیش نہیں آتی۔ ایسی ہی باتوں کا حوالہ دے کر عمر بن خطاب ؓ نے آپ ﷺ کو عبداللہ بن ابی کا جنازہ پڑھنے سے روکنے کی کوشش کی تھی، جس کے بعد اللہ تعالیٰ نے منافقین کا جنازہ پڑھنے یا ان کی قبر پر کھڑے ہونے سے صراحت کے ساتھ منع فرما دیا۔ منافقین کی یہ پہچان بھی اللہ تعالیٰ نے ان کا نام لے کر یا ان پر نشانی لگا کر نہیں کروائی بلکہ بلا عذر جنگ تبوک سے پیچھے رہنے کو ان کی شناخت بنادیا۔ چناچہ جہاں ان پر جنازہ پڑھنے یا ان کی قبر پر کھڑا ہونے سے منع فرمایا ہے اس سے پہلے ان کا جرم بیان فرمایا ہے :(فرح المخلفون بمقعدھم خلاف رسول اللہ وکرھوا ان یجاھدوا باموالھم وانفسم فی سبیل اللہ وقالوا لاتنفروا فی الحر) (التوب 1: 81)”وہ لوگ جو پیچھے چھوڑ دیئے گئے وہ اللہ کے رسول کے پیچھے اپنے بیٹھ رہنے پر خوش ہوئے اور انہوں نے ناپسند کیا کہ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کریں اور انہوں نے کہا اس گرمی میں مت نکلو۔“ پھر فرمایا :(فان رجعک اللہ الی طآئفۃ منھم فاستاذنوک للخروج فقل لن تنخرجوا معی ابداً ولن تقاتلوا، معی عدواً ط انکم رضیتم بالقعود اول مرۃ فاقعدوامع الخلفین ولاتصل علی احد منھم مات ابداً ولا تقم علی قبرہ انھم کفروا باللہ و رسولہ وما توا وھم فسقون (التوبہ : 83، 83)”پس اگر اللہ تجھے ان میں سے کسی گروہ کی طرف واپس لے آئے، پھر وہ تجھ سے (جنگ کے لئے) نکلنے کی اجازت طلب کریں تو کہہ دے تم میرے ساتھ کبھی نہیں ن کلو گے اور میرے ساتھ مل کر کبھی کسی دشمن سے نہیں لڑو گے۔ بیشک تم پہلی مرتبہ بیٹھ رہنے پر خوش ہوئے، سو پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو اور ان میں سے جو کوئی مرجائے اس کا کبھی جنازہ نہپ ڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا، بیشک انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور اس حال میں مرے کہ وہ نافرمان تھے۔“ منافقین کی ایسی ہی حرکتوں اور باتوں سے رسول اللہ ﷺ کو ان کی پہچان ہوجاتی تھی اور کئی مواقع پر آپ نے صحابہ کرام ؓ کو بعض منافقین کے بارے میں آگاہ بھی فرمایا۔ صحیح مسلم کی ”کتاب صفات المنافقین و احکامھم“ میں مذکور احادیث میں ایسے کئی منافقین کا ذکر ہے۔ (3) رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کو بعض منافقوں کے بارے میں جو آگاہ فرمایا مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمتہ اللہ نے اس کی اور توجیہ فرمائی ہے، وہ لکھتے ہیں :”اس آیت کے نزول تک آنحضرت ﷺ کو منافقین کی تشخیص کا علم نہ تھا، بعد اس کے کرایا گیا، جیسا کہ حدیثوں سے ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت حذیفہ صحابی کو بتادیا تھا۔“ (تفسیر ثنائی) (4) واللہ یعلم اعمالکم : یعنی ممکن ہے بندوں کو کسی کے نفاق کا علم نہ ہو سکے مگر اللہ تعالیٰ تمہارے سب کام جانتا ہے اس سے کوئی بات مخفی نہیں رہ سکتی۔
Ayah 47:31

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِیْنَ مِنْكُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ١ۙ وَ نَبْلُوَاۡ اَخْبَارَكُمْ Open ayah 47:31 in the Quran reader

اور ہم ضرور ہی تمہیں آزمائیں گے، یہاں تک کہ تم میں سے جہاد کرنے والوں کو اور صبر کرنے والوں کو جان لیں اور تمہارے حالات جانچ لیں۔

(1) ولنبلونکم حتی نعلم المھدین منکم…: یہ مسلمانوں سے عام خطاب ہے کہ منافقوں کے ذکر سے یہ خیال نہ کرنا کہ تم امتحان سے مستثنیٰ ہو۔ ہرگز نہیں، بلکہ ہم ہر حال میں مختلف احکام کے ساتھ تمہاری آزمائش کریں گے حتیٰ کہ تم میں سے جہاد کرنیو الوں اور صبر کرنے والوں کو جان لیں اور تمہارے حالات کی خوب جانچ پڑتال کرلیں۔ (2) یہاں ایک سوال ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو جس طرح گزشتہ اور موجودہ کاموں کا علم ہے، وہ ان کاموں کو بھی جانتا ہے جو آئندہ ہونے والے ہیں، پھر سا بات کا کیا مطلب کہ یہاں تک کہ ہم تم میں سے جہاد کرنے والوں اور صبر کرنے والوں کو جان لیں ؟ حافظ ابن کثیر نے فرمایا :”مراد یہ ہے کہ ہم اس بات کا واقع ہونا جان لیں۔ اس لئے ابن عباس ؓ نے اس جیسے الفاظ کے بارے میں فرمایا کہ ”نعلم“ کا معنی ”نری“ ہے، یعنی حتی کہ ہم دیکھ لیں۔“ (ابن کثیر) یعنی بیشک اللہ تعالیٰ پہلے جانتا ہے کہ آئندہ کیا ہوگا، مگر یہ بات کہ وہ کام واقع ہوچکا ہے اس کے علم میں اسی وقت آتی ہے جب وہ کام واقع ہو اور اس وقت ہی وہ اس کے واقع ہونے کو جانتا اور دیکھتا ہے۔ جو کام واقع ہی نہیں ہوا اس کے متعلق کیسے کہا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ واقع ہوچکا ہے۔ مزید دیکھیے سورة آل عمران (142)۔
Ayah 47:32

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ شَآقُّوا الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدٰى١ۙ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیُحْبِطُ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:32 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا اور رسول کی مخالفت کی، اس کے بعد کہ ان کے لیے سیدھا راستہ صاف ظاہر ہوگیا، وہ ہرگز اللہ کا کوئی نقصان نہ کریں گے اور عنقریب وہ ان کے اعمال ضائع کر دے گا۔

(ان الذین کفروا و صدوا عن سبیل اللہ …: یعنی منافقین اور یہود جنہیں یہ معلوم ہوچکا کہ آپ ﷺ واقعی اللہ کے رسول ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ پہلی کتابوں میں آپ ﷺ کی بشارتیں موجود ہیں مگر انہوں نے ضد اور عناد کی وجہ سے آپ کی مخالفت کی، وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، نہ اللہ کے رسول اور اللہ کے بندوں کا کچھ نقصان کرسکوں گے، بلکہ وہ سراسر اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں، کیونکہ اپنے خیال میں وہ جو اچھے کام کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں برباد کر دے گا اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے اور لوگوں کو اللہ کے دین سے روکنے کے لئے وہ جو سازشیں اور منصوبے تیار کرتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں ناکام بنا دے گا۔ مزید دیکھیے اسی سورت کی پہلی آیت میں ”اضل اعمالھم“ کی تفسیر۔
Ayah 47:33

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:33 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ کا حکم مانو اور اس رسول کا حکم مانو اور اپنے اعمال باطل مت کرو۔

یایھا الذین امنوا اطیعوا اللہ واطیعوالرسول…: یعنی اعمال کے قبول ہونے کی شرط یہ ہے کہ آدمی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا پابند رہے۔ اگر کوئی شخص اطاعت سے نکل کر مخالفت پر اتر آئے اور دشمنوں کے ساتھ ساز باز شروع کر دے تو اس کے سارے اعمال باططل ہیں، خواہ وہ اپنے خیال میں کتنے اچھے عمل کرتا رہے، جیسا کہم نافقین تھے کہ انہوں نے ایمان لانے کے بعد کفر اور عہد اطاعت کے بعد مخالفت کا راستہ اختیار کیا۔ یہاں آیت سے یہی مراد ہے، کیونکہ اس سے پہلے بھی منافقین کا ذکر ہے اور بعد میں بھی۔ گویا آیت کا مطلب یہ ہوا :”اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور ان لوگوں کی طرح اپنے اعمال باطل مت کرو جن کے اعمال ان کے کفر اور اللہ کے راستے سے روکنے اور رسول کی مخالفت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے برباد کردیئے۔“ آیت کا یہ مطلب نہیں کہ اگر آدمی کسی نافرمانی یا کبیرہ گناہ کا ارتکاب کر بیٹھے تو اس کے پہلے تمام اعمال باطل ہوگئے، کیونکہ یہ اس آیت کے خلاف ہے :(ان اللہ لایعفر ان یشرک بہ و یغفر ما دون ذلک لمن یشآء ومن یشرک باللہ فقد افتری اثما عظیماً) (النسائ :83)”بیشک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک بنایا جائے اور وہ بخش دے گا جوا س کے علاوہ ہے، جسے چاہے گا اور جو اللہ کا شریک بنائے تو یقینا اس نے بہت بڑا گناہ گھڑا۔“ ہاں، آیت کا یہ مطلب ضرور ہوسکتا ہے کہ ہر عمل جس میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت نہ ہو اور وہ ان کے بتائے ہوئے طریقے پر نہ ہو وہ باطل ہے، کیونکہ عمل کی قبولیت کے لئے اخلاص اور اتباع سنت شرط ہے، جیسا کہ عائشہ ؓ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(من عمل عملاً لیس علیہ امرنا فھو ود) (مسلم ، الافضیۃ ، باب نقض الاحکام الباطلۃ و رد محمد ثات الامور :1818/18)”جو شخص وہ عمل کرے جس پر ہمارا عمل نہیں وہ مردود ہے۔“ بعض لوگوں نے اس آیت سے یہ بات نکالی ہے کہ کوئی نفلی عمل، نماز ہو یا روزہ یا کوئی اور اگر شروع کرے، تو اسے پورا کرنا واجب ہے، کیونکہ اگر اسے پہلے چھوڑ دے گا تو اس نے عمل باطل کردیا مگر یہ بات درست نہیں نہ آیت ہے اس کا کوئی تعلق ہے۔ نفل پہلے بھی نفل ہوتا ہے بعد میں بھی۔ جس کا شروع کرنا واجب نہیں اسے پورا کرنا بھی واجب نہیں۔ تفصیل امہات الکتب میں دیکھیں۔
Ayah 47:34

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ Open ayah 47:34 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا، پھر اس حال میں مر گئے کہ وہ کافر تھے تو انھیں اللہ کبھی معاف نہیں کرے گا۔

ان الذین کفروا و صدوا عن سبیل اللہ …: اس آیت میں کافر و منافقین کیلئے ترغیب ہے کہ کفر و نفاق اور اسلام کی مخالفت سے مرنے سے پہلے پہلے توبہ کرلو تو اللہ تعالیٰ تمہارے گزشتہ گناہ معاف کر دے گا۔ ورنہ اگر اسی حالت میں موت آگئی تو تمہاری بخشش کی کوئی صورت نہیں۔ یہ بات اللہ تعالیٰ نے متعدد آیات میں دہرائی ہے۔ دیکھیے سورة آل عمران (91) ، بقرہ (161، 162، 217) اور سورة نساء (18)
Ayah 47:35

فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ١ۖۗ وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ١ۖۗ وَ اللّٰهُ مَعَكُمْ وَ لَنْ یَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:35 in the Quran reader

پس نہ کمزور بنو اور نہ صلح کی طرف بلاؤ اور تم ہی سب سے اونچے ہو اور اللہ تمہارے ساتھ ہے اور وہ ہرگز تم سے تمہارے اعمال کم نہ کرے گا۔

(1) فلاتھنوا :”فلاتھوا“ کی فاء فصیحہ کہلاتی ہے۔ دیکھیے اسی سورت کی آیت (19) :(فاعلم انہ لا الہ الا اللہ) کی تفسیر۔ یعنی جب تم منافقین کا جہاد سے فرار اختیار کرنا اور دوسروں کو بھی اسے روکنا، کفار کے ساتھ دوستی اور اسلام اور مسلمانوں سے بےوفائی کرنا، رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کرنا، اس کے نتیجے میں ان پر لعنت ہونا اور ان کے اعمال برباد ہونا جان چکے تو تم وہ کام نہ کرنا جن کے نتیجے میں ان کا یہ انجام ہوا۔ (2) فلا تھوا وتدعوا الی السلم : منافقین چونکہ بزدلی اور موت کے خوف کی وجہ سے جنگ کا حوصلہ نہیں رکھتے تھے، اس لئے صلح اور سمجھوتے کی باتیں بہت کرتے تھے، وہ مسلمانوں کو بھی مشورہ دیتے رہتے تھے کہ جنگ کے بجائے صلح سے معاملات طے کرنے چاہئیں۔ حالانکہ ان کی صلح جوئی کے پیچھے ان کی بےہمتی، بزدلی اور کمزوری کے سوا کچھ نہیں تھا، اس لئے اس لئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کی راہ اختیار کرنے سے منع فرما دیا۔ یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ یہ آیات اس زمانے میں نازل ہوئیں جب مدینہ ایک چھوٹی سی بستی تھی، جس میں مہاجرین و انصار کی مٹھی بھر جماعت اسلام کا جھنڈا اٹھائے ہوئے تھی اور اس کا مقابلہ صرف عرب کے سب سے طاقتور قبیلے قریش کے ساتھ نہیں تھا بلکہ سر دھڑ کی بازی لگا دینے کے لئے تیار ہوجاؤ۔ چناچہ تاریخ گواہ ہے کہ بدر واحد اور خندق میں تعداد کی کمی، بےحد کمزوری اور بےسروسامانی کے باوجود مسلمانوں نے ہمت ہاری، نہ کمزوری دکھائی، نہ صلح کی پیشکش کی، بلکہ ڈٹ کر لڑے، یہاں تک کہ جب جنگ خندق کی گرد چھٹی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(الان نعزوھم ولا یعزوننا، نحن نسیر الیھم) (بخاری، المغازی، باب غروۃ الخندق و ھی الاحزاب : 3100)”اب ہم ان پر حملے کے لئے جائیں گے، وہ ہم پر حملے کے لئے نہیں آئیں گے، ہم ہی ان پر فوج کشی کیا کریں گے۔“ طالوت و جلاوت کی جنگ بھی اس کی واضح مثال ہے۔ (3) ”فلاتھنوا“ کے بعد ”تدعوآ“ بھی نہی کے اس ”لا“ کی وجہ سے مجزوم ہے جو ”تھوا“ پر آیا ہے اور اسی کی وجہ سے اس سے نون اعرابی گرا ہے، کیونکہ یہ اصل میں ”تدعون“ تھا، لائے نہی کی وجہ سے نون گرگیا تو ”تدعوا“ رہ گیا۔ گویا اصل کلام ”فلاتھنوا ولا تدعوا الی السلم“ ہے، واؤ عطف کی وجہ سے ”لا“ کو دوبارہ لانے کی ضرورت نہ رہی، اس لئے ترجمہ ہوگا :”پس تم نہ کمزور بنو (نہ ہمت ہ اور) اور نہ صلح کی طرف دعوت دو۔“ اس کی ایک مثال یہ آیت ہے :(ولا تلبسوا الحق بالباطل و تکتموا الحق وانتم تعلمون) (البقرۃ :32)”اور حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط نہ کرو اور نہ حق کو چھپاؤ ، جب کہ تم جانتے ہے۔“ مطلب یہ ہے کہ دشمن سے جنگ میں ہمت نہ ہ اور اور نہ ان کا خوف تم پر مسلط ہو بلکہ صبر کرو، ثابت قدم رہو، اپنے آپ کو لڑائی اور مقابلے پر جمائے رکھو اور صلح اور جنگ بندی کے سمجھوتے کی دعوت مت دو۔ (4) وانتم الاعلون واللہ معکم …:”لن یترکم“”وتریثر“ (وعد یعد) وترا وترہ“ کسی کا حق مارنا، اس میں کمی کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمت نہ ہارنے اور دشمن کو صلح کی دعوت نہ دینے کی تین وجہیں بیان فرمائی ہیں، جن میں سے پہلی وجہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اگر تم نے ہمت نہ ہاری تو تم ہی غالب رہو گے، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا :(ولا تھنوا ولا تحزنوا وانتم الاعلون ان کنتم مومنین) (آل عمران : 139)”اور نہ کمزور بنو اور نہ غم کرو اور تم ہی غالب ہو، اگر تم مومن ہو۔“ دوسری وجہ ”واللہ معکم“ ہے کہ اللہ تمہارے ساتھ ہے اور جس کے ساتھ اللہ ہو کوئی وجہ نہیں کہ وہ ہمت ہارے اور صلح کی پیشکش کرے۔ اسی حوصلے پر رسول اللہ ﷺ نے کفار مکہ کے مقابلے میں اس وقت بھی ہمت نہیں ہاری جب آپ ﷺ دو میں سے دوسرے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(الا تنصروہ فقد نصرہ اللہ اذا اخرجہ الذین کفروا ثانی اثنین اذھما فی الغار اذیقول لصاحبہ لاتحزن ان اللہ معنا، فانزل اللہ سکینت ہ علیہ وایدہ بجنود لم تروھا و جعل کلمۃ الذین کفروا السفلی ، وکلمۃ اللہ ہی العلیا، واللہ عزیز حکیم) (التوب 1:30) ”اگر تم اس کی مدد نہ کرو تو بلا شبہ اللہ نے اس کی مدد کی، جب اسے ان لوگوں نے نکال دیا جنہوں نے کفر کیا، جب کہ وہ دو میں دوسرا تھا جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا غم نہ کر، بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ تو اللہ نے اپنی سکینت اس پر اتار دی اور اسے ان لشکروں کے ساتھ قوت دی جو تم نے نہیں دیکھے اور ان لوگوں کی بات نیچی کردی جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی بات ہی سب سے اونچی ہے اور اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔“ تیسری وجہ ”ولن یترکم اعمالکم“ ہے کہ وہ ہرگز تم سے تمہارے اعمال کم نہیں کرے گا۔ مطلب یہ ہے کہ جہاد میں تم جو عمل بھی سر انجام دو گے تمہیں اس کا پورا پورا اجر ملے گا، اس میں کسی قسم کی کمی نہیں کی جائے گی۔ تمہارے اور تمہارے دشمن کے درمیان یہ بنیادی فرق ہے کہ تمہیں اس پر اللہ تعالیٰ سے اجر و ثواب ، شہادت اور جنت کی امید ہے جب کہ کفار اس سے محروم ہیں۔ پھر ہمت ہارنے یا صلح کی پیشکش کا کیا مطلب ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(ولا تھنوا فی ابتغآء القوم ان تکونوا تالمون فانھم یالمون کما تالمون و ترجون من اللہ مالا یرجون) (النسائ :103)”اور اس قوم کا پیچھا کرنے میں ہمت نہ ہ اور، اگر تم تکلیف اٹھاتے ہو تو یقیناً وہ بھی تکلیف اٹھاتے ہیں، جیسے تم تکلیف اٹھاتے ہو اور تم اللہ سے وہ امید رکھتے ہو جو وہ امید نہیں رکھتے۔“ اور فرمایا : (ما کان لاھل المدینۃ ومن حولھم من الاعراب ان یتخلفوا عن رسول اللہ ولا یرعبوا بانفسھم عن نفسہ ذلک بانھم لایصیبھم ظما ولا نصب ولا محمصۃ فی سبیل اللہ ولا یطنون موطنا یغظ الکفار ولا ینالون من عدو میلاً الا کتب لھم بہ عمل صالح، ان اللہ لا یصیع اجر المحسنین ولا ینفقون نفقۃ صغیرۃ ولا کبیرۃ ولا یقطعون وادیا الا کتب لھم لیجزیھم اللہ احسن ماکانوا یعملون) (التوبۃ : 12، 121)”مدینہ والوں کا اور ان کے اردگرد جو بدوی ہیں، ان کا حق نہ تھا کہ وہ رسول اللہ سے پیھے رہتے اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو اس جان سے زیادہ عزیز رکھتے۔ یہ اس لئے کہ وہ، اللہ کے راستے میں انہیں نہ کوئی پیاس پہنچتی ہے اور نہ کوی تکان اور نہ کوئی بھوک اور نہ کسی ایسی جگہ پر قدم رکھتے ہیں جو کافروں کو غصہ دلائے اور نہ کسی دشمن سے کوئی کامیابی حاصل کرتے ہیں، مگر اس کے بدلے ان کے لئے ایک نیک عمل لکھ دیا جاتا ہے۔ یقینا اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا اور نہ وہ خرچ کرتے ہیں کوئی چھوٹا خرچ اور نہ کوئی بڑا اور نہ کوئی وادی طے کرتے ہیں، مگر وہ ان کے لئے لکھ لیا جاتا ہے تاکہ اللہ انہیں اس عمل کی بہترین جزا دے جو وہ کیا ک رتے تھے۔“ (5) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دشمن کو صلح کی دعوت دینے سے منع فرمایا ہے، جبکہ دوسری جگہ فرمایا :(وان جنجوا للساء فاجنح لھا و توکل علی اللہ) (الانفال : 61)”اور اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تو بھی اس کی طرف مائل ہوجاؤ اور اللہ پر بھروسہ کر۔“ ان دونوں آیات میں کوئی تعارض نہیں، اللہ تعالیٰ نے ہمت ہار کر دشمن کو صلح کی پیشکش کرنے سے منع فرمایا ہے اور اگر دشمن کی طرف مائل ہوں تو اس کی طرف مائل ہوجانے کا حکم دیا ہے، کیونکہ یہ پیشکش دشمن کی طرف سے ہے۔ (6) ابن کثیر ؒ نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے :”پھر اللہ تعالیٰ ن اپنے مومن بندوں کو حکم دیا۔ (فلا تھنوا) یعنی دشمن کے مقبالے میں کمزور مت بنو اور :”وتدعوا الی السلم) یعنی کفار کو صلح کی اور ایک دوسرے سے جنگ ترک کرنے کی دعوت مت بنو اور :(وتد عوا الی السلم) یعنی کفار کو صلح کی اور ایک دوسرے سے جنگ ترک کرنے کی دعوت مت دو ، اس حال میں کہ تمہاری قوت، تعداد اور تیاری دشمن سے زیادہ ہو۔ اسی لئے فرمایا :(فلا تھنوا وتدعوا الی السلم وانتم الاعلون) یعنی دشمن پر تمہارے غلبے کی حالت میں انہیں صلح کی دعوت مت دو۔ لیکن جب کفار تمام مسلمانوں کے مقابلے میں قوت و کثرت میں زیادہ ہوں اور امام صلح اور جنگ بندی میں مصلحت دیکھے تو وہ ایسا کرسکتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس وقت کیا جب کفار قریش نے آپ کو مکہ جانے سے روک دیا اور انہوں نے آپ ﷺ کو صلح کی اور آپس میں دس سال تک جنگ ختم کرنے کی دعوت دی تو آپ ﷺ نے ان کی دعوت قبول فرمائی۔“ (ابن کثیر) مفسر شنقیطی نے اضواء البیان میں وہ تفسیر جو پہلے ذکر ہوئی ہے، بیان کرنے کے بعد فرمایا :”یہ معنی جو ہم نے اس آیت کا بیان کیا ہے اس تفسیر سے بہتر اور زیادہ دسرت ہے جو ابن کثیر نے کی ہے کہ اس وقت صلح اور سمجھوتے کی دعوت مت دو جب تم غالب ہو یعنی تم جہاد کی قوت و طاقت رکھتے ہو۔ یعنی اگر تم کمزور ہو اور طاقت نہیں رکھتے تو اس بات سے کوئی مانع نہیں کہ تم صلح اور سمجھوتے کی دعوت دو۔“ شنقیطی کے ابن کثیر سے اتفاق نہ کرنے کی کئی وجہیں ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ابن کثیر نے صرف ”وانتم الاعلون کو حال بنایا ہے، حالانکہ یہاں تین چیزیں بیان ہوئی ہیں :(وانتم الاعلون ، واللہ معکم ولن یترکم اعمالکم) دوسری یہ ہے کہ حدیبہ کے زمانے میں مسلمان قوت میں کفار پر غالب تھے، جیسا کہ پیچھے صحیح بخاری کی حدیث ”الان نخروھم۔“ گزری۔ آپ نے انہیں صلح کی پیشکش اپنے کمزور ہونے کی وجہ سے نہیں کی تھی، ورنہ آپ اس سے بہت پہلے بدر و احد اور خندق میں صلح کی پیشکش کرتے۔ رسول اللہ ﷺ کا انہیں صلح کی پیشکش کا مطلب یہ تھا کہ آپس کے میل جول سے اسلام کی تعلیم پھیلے گی تو یہ لوگ اسلام لے آئیں گے۔ کفار پہلے لڑائی پر آمادہ تھے مگر جب انہوں نے بیعت رضوان کے متعلق سنا تو ڈر گئیا ور صلح پر آمادہ ہوگئے، جیساک ہ صحیح بخاری کی مفصل حدیث میں ہے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ ابن کثیر نے فرمایا کہ صلح کی دعوت کفار کی طرف سے تھی جو رسول اللہ ﷺ نے قبول فرمائی۔ اگر ایسا ہو تو پھر یہو اقعہ اس مقصد کی دلیل کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا کہ مسلمان کمزور ہوں تو ان کا امام صلح کی دعوت دے سکتا ہے، کیونکہ ابن کثیر کے اس وقل کے مطابق تو صلح کی دعوت کفار کی طرف سے تھی، رسول اللہ ﷺ نے صرف اسے قبول فرمایا تھا، حالانکہ حقیقت یہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خود صلح کا پیغام بھیجا تھا۔ تفصیل کے لئے دیکھیے صیحیح بخاری کی ”کتاب الشروط، یاب الشروط فی الجھاد والمصالحۃ مع اھل المحرب و کتابۃ الشروط“ کی حدیث (2731، 2732) (7) یہاں ایک سوال ہے کہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ ”تم صلح کے لئے دعوت مت دو“ تو رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے موقع پر صلح کی دعوت کیوں دی ؟ جو اب اس کا یہ ہے کہ صلح کی دعوت دینے کی ممانعت اس وقت ہے جب مسلمان ہمت ہارتے ہوئے اور بزدلی اور ذلت اختیار کرتے ہوئے صلح کی دعوت دیں، جیسا کہ ”فلا تھنوا وتدعوا الی السلم“ (پس ہمت نہ ہ اور اور نہ صلح کی طرف دعوت دو) کے الفاظ سے ظاہر ہے۔ حدیبیہ کی صلح کی دعوت دشمن کی طاقت توڑنے کے بعد اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت کی خاطر دی گئی اور اللہ تعالیٰ نے اسے فتح مبین قرار دیا، جیسا کہ آگے سورة فتح میں آرہا ہے۔ بھلا جو صلح دشمن کے غالب اور مسلمانوں کے مغلوب ہونے کی صورت میں کی جائے اسے فتح مبین کہا جاسکتا ہے ؟ اگر ایسا کرنا فتح مبین ہوتا تو یہ کام رسول اللہ ﷺ بدر و احد سے بہت پہلے کرلیتے۔ پھر نہ ہجرت کی نوبت آتی، نہ جنگیں لڑنا پڑتیں اور نہ ہی اتنی شہادتیں ہوتیں، مگر یاد رکھیں ! پھر مشرق سے مغرب تک اسلام کا پھر یرا بھی نہیں لہرا سکتا تھا۔ (8) ان آیات میں ان مسلمانوں کا ذکر ہے جو میدان قتال میں اتر چکے ہیں، جو مسلمان کفار کے نرغے سے نکل ہی نہ سکیں کہ ہجرت کے بعد جہاد کرسکیں ، اللہ تعالیٰ نے انہیں مستصنعفین کہہ کر معذور قرار دیا ہے۔ (دیکھیے نساء :97 تا 99) اور ایسے مستصعفین کو آزادی دلانے کے لئے تمام مسلمانوں کو لڑنے کا حکم دیا ہے۔ دیکھیے سورة نسائ (75)۔
Ayah 47:36

اِنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا یُؤْتِكُمْ اُجُوْرَكُمْ وَ لَا یَسْئَلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ Open ayah 47:36 in the Quran reader

دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور دل لگی کے سوا کچھ نہیں اور اگر تم ایمان لاؤ اور بچے رہو، تو وہ تمہیں تمہارے اجر دے گا اور تم سے تمہارے اموال نہیں مانگے گا۔

(1) انما الحیوۃ الدنیا لعب و لھو …: اس کی تفصیل کیلئے دیکھیے سورة عنکبوت کی آیت (64) کی تفسیر۔ جہاد سے روکنے والی سب سے بڑی چیز دنیا کی زندگی ، اس کے مال و دولت اور اس کی دل فریبیوں سے محبت ہے، کیونکہ جہاد میں جان و مال دونوں کی قربانی دینا پڑتی ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آخرت کے مقابیل میں دنیا کی حقیقت اس سے زیادہ نہیں کہ یہ چند دن کا کھیل اور دل لگی ہے، اس کی محبت میں پھنس کر اللہ کی راہ میں جان و مال کی قربانی سے دریغ نہ کرو اور یقین رکھو کہ اگر تم ایمان اور تقویٰ اختیار کرو گے، جس میں جان و مال پیش کردینا بھی شامل ہے تو اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے اجر پورے پورے دے گا اور تم سے تمہارے سارے اموال کا مطالبہ نہیں کرے گا بلکہ ان میں سے معمولی حصے پر اکتفا کرے گا، مثلاً سال کے بعد اموال میں سے چالیسواں حصہ، کھیتی میں سے بیسواں یا دسواں حصہ، جنگ کے بعد غنیمت میں سے پانچواں حصہ اور دوسرے پیش آنے والے مواقع پر ضرورت کے مطابق مال کا کچھ حصہ۔ لیکن اگر تم نے ایمان و تقویٰ کے بجائے کفر و عناد پر اصرار کیا تو وہ اپنے مجاہد بندوں کے ذریعے سے تم سے تمہارے سارے اموال چھین لے گا۔ ایمان و تقویٰ کے تقاضے کے مطابق وہ معلولی حصہ جو تم نے خرچ کیا ہے اس کا بھی پورا پورا بدلا وہ تمہیں دنیا اور آخرت میں دے دے گا۔ شاہ عبدالقادر کے مطابق وہ معلولی حصہ جو تم نے خرچ کیا ہے اس کا بھی پورا پورا بدلا وہ تمہیں دنیا اور آخرت میں دے دے گا۔ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں :”حق تعالیٰ نے ملک فتح کردیے، مسلمانوں کو تھوڑے ہی دن مال خرچ کرنا پڑا، سو جتنا خرچ کیا تھا اس سے سو سو گنا لکھتے ہیں :”حق تعالیٰ نے ملک فتح کردیئے، مسلمانوں کو تھوڑے ہی دن مال خرچ کرنا پڑا، سو جتنا خرچ کیا تھا اس سے سو سو گنا ہاتھ لگا۔ اسی لئے (قرآن کریم میں کئی جگہ) فرمایا ہے کہ اللہ کو قرض دو۔“ (2) ولا یسئلکم اموالکم :”اور تم سے تمہارے اموال نہیں مانگے گا“ کا مطلب یہ ہے کہ وہ تم سے تمہارے اموال پر وے کے پورے نہیں مانگے گا۔ ہاں، وہ تمہارے اموال میں سے ایک حصہ خرچ کرنے کی دعوت ضرور دیتا ہے۔ اس مطلب کے کئی قرینے ان آیات میں موجود ہیں جن میں سے ایک قرینہ ”اموال“ کی اضافت ضمیر ”کم“ کی طرف ہے۔ ظاہر ہے ”تمہارے اموال“ میں وہ تمام اموال آجاتے ہیں جو تمہارے ملکیت ہیں۔ دوسرا قرینہ ”یوتکم اجورکم ‘ ہے، کیونکہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ تمہیں تمہارے اجر پورے پورے دے گا۔ تو جس طرح ”اجورکم“ سے پر وے اجر مراد ہیں اسی طرح ”اموالکم“ سے بھی پورے اموال مراد ہیں۔ تیسرا قرینہ اس آیت سے اگلی آیت میں لفظ ”فیحفکم“ ہے، جس سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں سے ان کے اموال کا ”احفائ“ نہیں چاہتا، یعنی پر وے نہیں مانگنا، ان تمام قرائن کی وجہ سے ”لا یسلکم اموالکم“ کا واضح مطلب ہے کہ وہ تم سے تمہارے سارے اموال نہیں مانگے گا۔
Ayah 47:37

اِنْ یَّسْئَلْكُمُوْهَا فَیُحْفِكُمْ تَبْخَلُوْا وَ یُخْرِجْ اَضْغَانَكُمْ Open ayah 47:37 in the Quran reader

اگر وہ تم سے ان کا مطالبہ کرے، پھر تم سے اصرار کرے تو تم بخل کرو گے اور وہ تمہارے کینے ظاہر کر دے گا۔

ان یسئلکموھا فیحفکم تبغلوا…:”فیحفکم“”اخفی یحفی احفاء“ (افعال) کا معنی کسی چیز کو سمیٹ کر پوری کی پوری لے لینا، یا کسی چیز کا اصرار کے ساتھ مطالبہ کرنا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے سارے اموال مانگ لے تو یہ اس کا حق ہے، کیونکہ وہ سب اسی کے دیے ہوئے ہیں مگر یہ اس کا کرم ہے کہ وہ تم سے تمہارے اموال پورے کے پر وے نہیں مانگتا ، کیونکہ اگر وہ سب کے سب اصرار کے ساتھ مانگ لے تو بخل کرو گے اور تمہارا بخل تمہارے دل میں پیدا ہونے والے تمام تمام کینے ظاہر کر دے گا۔ جو سارا مال ماگننے کی وجہ سے تمہارے دل میں پیدا ہوں گے، کیونکہ مال تمہارا محبوب ہے اور جس کے محبوب کو اس سے مانگا جائے اس کے دل میں مانگنے والے کے خلاف کینہ پید ا ہوجاتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے تم سے مطالبہ ہی اتنا کیا ہے جس سے تم اتنی سخت آزمائش میں نہ پڑو اور اگر کسی دل میں نفاق یا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کینے کی کوئی بات ہو بھی تو اس پر پردہ پڑا رہے۔ آیات کا مقصد اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب اور یہ حوصلہ دلانا ہے کہ تم سے کوئی مشکل مطالبہ نہیں کیا جا رہا جو تم پورا نہ کرسکو، اس لئے خوش دلی کے ساتھ جہاد میں اپنے اموال خرچ کرو۔
Ayah 47:38

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ فَمِنْكُمْ مَّنْ یَّبْخَلُ١ۚ وَ مَنْ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ الْغَنِیُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۙ ثُمَّ لَا یَكُوْنُوْۤا اَمْثَالَكُمْ۠ Open ayah 47:38 in the Quran reader

سنو ! تم وہ لوگ ہو کہ تم بلائے جاتے ہو، تاکہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو، تو تم میں سے کچھ وہ ہیں جو بخل کرتے ہیں اور جو بخل کرتا ہے تو وہ در حقیقت اپنے آپ ہی سے بخل کرتا ہے اور اللہ ہی بےپروا ہے اور تم ہی محتاج ہو اور اگر تم پھر جاؤ گے تو وہ تمہاری جگہ تمہارے سوا اور لوگوں کو لے آئے گا، پھر وہ تمہاری طرح نہیں ہوں گے۔

(1) ھانتم ھولآء تدعون لتنفقوا…:”ھا“ حرف تنبیہ ہے، خبردار یاد رکھو، سن لو۔”انتم“ مبتدا اور ”ھولآئ“ اس کی خبر ہے جو ”الذین“ کے معنی میں ہے اور ”تدعون لتنفقوا فی سبیل اللہ ”ھولآئ“ کا صلہ ہے۔ یعنی یاد رکھو تم وہ لوگ ہو کہ تمہیں دعوت دی جاتی ہے کہ اللہ کے راستے میں خرچ کرو تو تم میں سے کچھ وہ ہیں جو بخل کرتے ہیں۔ (2) ومن یبخل فلما یبخل عن نفسہ : یعنی جو شخص اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے بخل کرتا ہے وہ اپنے خیال میں سمجھتا ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے بخل کیا ہے اور اسے مال نہیں دیا، حالانکہ درحقیقت وہ اپنے آپ ہی سے بخل کر رہا ہے اور اپنے آپ پر وہ مال خرچ نہیں کر رہا، کیونکہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کے کہنے پر خرچ کرتا تو اس کا سارا فائدہ اسی کو ہونا تھا۔ اب اس نے بخل کیا تو اپنی ذات سے بخل کیا اور خود ہی محروم رہا۔ (3) واللہ الغنی وانتم الفقرآئ :”الغنی“ اور ”الفقرآئ“ پر الف لام آنے سے حصر پیدا ہوگیا ، یعنی اللہ ہی غنی ہے اور کوئی غنی نہیں اور تم ہی محتاج ہو اللہ تعالیٰ کو کوئی محتاجی نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں خرچ کرنے کا حکم اپنی کسی ضرورت کے لئے نہیں دیا، وہ تو غنی ہے، محتاج تم ہی ہو اور تم جو کچھ خرچ کرو گے وہ بےحساب اضافے کے ساتھ تمہی کو لوٹا دے گا، جیسا کہ فرمایا :(من ذا الذی یقرض اللہ قرضاً حسناً فیضعفہ لہ اضعافاً کثیرۃ واللہ یقبض و یبصط والیہ ترجعون) (البقرۃ : 235)”کون ہے وہ جو اللہ کو قرض دے، اچھا قرض، پس وہ اسے اس کے لئے بہت زیادہ گنا بڑھا دے اور اللہ بند کرتا اور کھولتا ہے اور تم اسی کی طرف لوٹا جاؤ گے۔“ (4) وان تتولوا یستبدل قوماً غیر کم، ثم لایکونوا امثالکم : اس کی تفصیل کیلئے دیکھیے سورة مائدہ کی آیت (54) کی تفسیر۔