48. Surah Al-Fath

الفتحThe Victory · 29 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 48:16

قُلْ لِّلْمُخَلَّفِیْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِلٰى قَوْمٍ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ تُقَاتِلُوْنَهُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ١ۚ فَاِنْ تُطِیْعُوْا یُؤْتِكُمُ اللّٰهُ اَجْرًا حَسَنًا١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّیْتُمْ مِّنْ قَبْلُ یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 48:16 in the Quran reader

بدویوں میں سے پیچھے چھوڑے جانے والوں سے کہہ دے عنقریب تم ایک سخت لڑنے والی قوم کی طرف بلائے جاؤ گے، تم ان سے لڑو گے، یا وہ مسلمان ہوجائیں گے، پھر اگر تم حکم مانو گے تو اللہ تمہیں اچھا اجر دے گا اور اگر پھر جاؤ گے، جیسے تم اس سے پہلے پھرگئے تو وہ تمہیں سزا دے گا، درد ناک سزا۔

(1) قل للمخلفین من الاعراب…: اس آیت میں پیچھے رہنے والے اعراب کو تسلی دلائی ہے کہ آئندہ غزوات میں انہیں شرکت کا اور غنیمتیں حاصل کرنے کا پورا پورا موقع دیا جائے گا، تاکہ انہیں اطمینان ہوجائے کہ انہیں اسلامی لشکر کیساتھ خیبر میں جانے سے اس لئے منع نہیں کیا گیا کہ وہ اسلام سے نکل گئے ہیں، بلکہ اس کا ایک خصا سبب ہے جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے۔ چناچہ آئندہ جس طرح دوسرے مسلمانوں کو کفار سے لڑنے کی دعوت دی جائے گی انہیں بھی دی جائے گی۔ اس آیت میں ان کی اس دل شکنی کا مداوا فرمایا ہے جو خیبر میں شریک نہ کئے جانے سے ہوئی اور ان کے حی میں یہ عظیم خوش خبری بھی دی کہ وہ خیبر سے پیچھے رہ جانے کی کوتاہی کی تلافی کرسکتے ہیں اور تاریخ شاہد ہے کہ حدیبیہ سے پیچھے رہنے والے اعراب کے یہ قبائل آئندہ جنگوں مثلاً فتح مکہ، جنگ حنین، جنگ تبوک اور جنگ یمامہ میں شرکیہ وئے، ان میں سے کم ہی کوئی شخص ان جنگوں سے پیچھے رہا۔ یہ آیت اس بات کی بھی دلیل ہے کہ یہ لوگ ایمان سے محروم نہیں ہوئے تھے، کیونکہ اس کے بعد جنگ تبوک سے پیچھے رہنے والے منافقین، جو دل میں کفر چھپائے ہوئے تھے، ان کے ساتھ یہ معاملہ نہیں کیا گیا، نہ انہیں آئندہ کسی جنگ میں شرکت کی دعوت دی گئی اور نہ ان کے حق میں یہ اجازت ملی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(فان لجع اللہ الی طائفۃ منھم فاستاذنوک للخروج فقل لن تخرجوا معی ابداً ولن تقاتلوا معی عدواً انکم رضیتم بالقعود اول مرۃ فاقعدوا مع الخلفین ولا تصل علی احدمنھم مات ابداً ولا تقم علی قیرہ انھم کفروا باللہ و رسولہ وما توا وھم فسقون) (التوبۃ :83, 83)”آپ اگر اللہ تجھے ان میں سے کسی گروہ کی طرف واپس لے آئے، پھر وہ تجھ سے (جنگ کے لئے) نکلنے کی اجازت طلب کریں تو کہہ دے تم میرے ساتھ کبھی نہیں نکلو گے اور میرے ساتھ مل کر کبھی کسی دشمن سے نہیں لڑو گے۔ بیشک تم پہلی مرتبہ بیٹھ رہنے پر خوش ہوئے، سو پیچھے رہنے والوں کیساتھ بیٹھے رہو۔ اور ان میں سے جو کوئی مرجائے اس کا کبھی جنازہ نہ پھڑنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا بیشک انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور اس حال میں مرے کہ وہ نافرمان تھے۔“ (2) ستدعون الی قوم اولی باس شدید : جنگ تبوک سے پیچھے رہنے والے منافقین کے برعکس غزوہ حدیبیہ سے پیچھے رہنے والے اعراب کے متعلق فرمایا کہ آئندہ تمہیں سخت لڑائی والے لوگوں سے جنگ کے لئے بلایا جائے گا۔”ستدعون“ (عنقریب تمہیں بلایا جائے گا) کا لفظ عام ہے، تاکہ اس میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آپ ﷺ کے خلفاء کا جنگ کے لئے دعوت دینا بھی شامل ہوجائے۔ ان سخت لڑائی والے لوگوں کے بارے میں مفسرین کے چار اقوال ہیں، ایک یہ کہ اس سے مراد ثقیف و ہوا زن ہیں جن کے ساتھ جنگ حنین ہوئی۔ دوسرا یہ کہ اس سے مراد رومی ہیں جن سے جنگ کے لئے رسول اللہ ﷺ نے غزوہ تبوک میں سب لوگوں کو ساتھ جانے کی دعوت دی اور بعد میں ابوبعمر و عمر ؓ کے زمانے میں بھی ان سے جنگ مراد اہل فارس ہیں جن کے ساتھ ابوبکر صدیق اور عمر فاورق ؓ کے زمانے میں جنگ ہوئی امام طبری رحمتہ اللہ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اعراب کے ان مخلفین کے متعلق فرمایا کہ انہیں سخت لڑائی والے اور بہادر لوگوں سے لڑنے کی دعوت دی جائے گی اور کسی عقلی یا نقلی دلیل سے ثابت نہیں ہوتا کہ اس سے مراد خاص، ہوا زن ہیں یا بنو حنیفہ یا فارس یا روم۔ ہوسکتا ہے ان سے مراد ان میں سے بعض ہوں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے علاوہ کوئی اور لوگ ہوں۔ اور اس قول سے زیادہ کوئی قول صحیح نہیں ہوسکتا جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ انہیں ایک سخت لڑنے والی قوم کی طرف بلایا جائے گا، سو اسی پر اکتفا ہونا چاہیے۔“ (3) تقاتلونھم او یسلمون : یعنی تم ان سے لڑو گے یا وہ لڑائی کے نتیجے میں یا لڑائی کے بغیر ہی تابع فرمان ہوجائیں گے۔ یا جزیہ دینا قبول کرلیں گے۔ بعض مفسرین نے ”اویسلمون“ کا معنی کیا ہے ”یا وہ مسلمان ہوجائیں گے۔“ ان کے مطابق اس آیت میں ان لوگوں سے جنگ کی پیشگوئی ہے جن سے جزیہ لینے کی اجازت نہیں تھی، بلکہ ان کے لئے دو ہی راستے تھے کہ یا مسلمان ہو جایں یا جنگ کے لئے تیار رہیں۔ یہود و نصاریٰ سے بالاتفاق جزیہ لینا درست ہے، ہجر کے مجوس سے بھی رسول اللہ ﷺ کا جزیہ لینا ثابت ہے۔ البتہ مشرکین عرب کے متعلق سورة توبہ (5) میں یہ حکم اترا کہ ان سے اس وقت تک جنگ کی جائے جب تک وہ مسلمان نہ ہوجائیں، ان میں سے کسی سے رسول اللہ ﷺ نے جزیہ نہیں لیا۔ ان مفسرین کے قول کے مطابق اس ایٓ سے مراد ثقیف و ہوا زن ہوسکتے ہیں جو جنگ حنین میں ق تل ہوگئے یا گرفتار ہونے کے بعد سب کے سب مسلمان ہوگئے، یا بنو حنیفہ کے مرتدین ہیں جن سے اس وقت تک جنگ کی گئی جب تک وہ دوبارہ مسلمان نہیں ہوگئے۔ البتہ پہلے قول کے مطابق ”تقاتلونھم او یسلمون“ (تم ان سے لڑو گے یا وہ تابع فرمان ہوجائیں گے) سے مراد ہوا زن، روم و فارس، مرتدین اور وہ تمام کفار ہوسکتے ہیں جن سے مسلمان آئندہ جنگ کرنے والے تھے اور یہ قول زیادہ جامع ہے۔ (4) فان تطیعوا یوتکم اللہ اجراً حسناً : یعنی اگر تم ان جنگجو لوگوں سے لڑنے کے حکم کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں بہت اچھا بدلا دے گا، دنیا میں فتح و نصرت اور عزت و غنیمت سے نوازے گا اور آخرت میں جنت عطا کرے گا۔ (5) وان تتولوا کما تولیتم من قبل یعذبکم عذاباً الیماً : اور اگر اطاعت سے پھر جاؤ گے، جیسا کہ اس سے پہلے حدیبیہ کے موقع پر پھرگئے تھے تو تمہیں درد ناک سزا دے گا کہ دنیا میں ذلت کی زندگی بسر کرو گے اور آخرت میں جہنم میں جاؤ گے۔
Ayah 48:17

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ یُعَذِّبْهُ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 48:17 in the Quran reader

نہیں ہے اندھے پر کوئی تنگی اور نہ لنگڑے پر کوئی تنگی اور نہ بیمار پر کوئی تنگی اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے گا وہ اسے ان باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں اور جو پھر جائے گا وہ اسے سزا دے گا، دردناک سزا۔

(1) لیس علی الاعمی حرج …: ان تینوں میں سے اندھے اور لنگڑے کا عذر دائمی ہے اور بیمار کا عارضی، جو بیماری ختم ہونے پر ختم ہوجاتا ہے۔ جہاد سے پیچھے رہنے والوں پر عتاب کے بعد فرمایا کہ نابینا، لنگڑا اور بیمار اگر جہاد کے لئے نہ نکلیں تو ان پر کوئی حرج نہیں۔ (2) ومن یطع اللہ ورسولہ…: جو شخص واقعی عذر کی وجہ سے جہاد کے لئے نہ نکل سکے مگر خلوص دل کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کا مطیع اور خیر خواہ ہو تو اللہ تعالیٰ اسے بھی ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے تلے نہریں بہتی ہیں۔ ایسے لوگ پیچھے رہنے کے باوجود جہاد میں شریک ہی سمجھے جائیں گے۔ مزید دیکھیے سورة توبہ کی آیت (91):(ما علی المحسنین من سبیل) کی تفسیر میں مذکور حدیث۔ (3) ومن یطع اللہ و رسولہ…: بقاعی نے اس کی فسیر یہ فرمائی ہے کہ واؤ عطف کا مطلب یہ ہے کہ اس سے پہلے ایک جملہ محذوف ہے :”ای فمن تخلف من الضعفاء فلا حرج علیہ ومن یطع اللہ ورسولہ…“ یعنی پھر اندھے، لنگڑے اور میرض میں سے جو شخ پیچھے رہ جائے اس پر کوئی حرج نہیں اور جوپ یچھے نہ رہے بلکہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہوئے عذر کے باوجود نکل پڑے تو اللہ تعالیٰ اسے ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے تلے نہریں بہتی ہیں اور جو عذر کی وجہ سے نہیں بلکہ اطاعت سے جی چراتے ہوئے جہاد سے منہ پھیرے گا اللہ تعالیٰ اسے عذاب الیم دے گا۔ جہاد کے لئے نہ نکلنے کے بعض مقبول عذر اس سے پہلے سورة توبہ (91، 92) میں بیان ہوچکے ہیں۔
Ayah 48:18

لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ عَلَیْهِمْ وَ اَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِیْبًاۙ Open ayah 48:18 in the Quran reader

بلاشبہ یقینا اللہ ایمان والوں سے راضی ہوگیا، جب وہ اس درخت کے نیچے تجھ سے بیعت کر رہے تھے، تو اس نے جان لیا جو ان کے دلوں میں تھا، پس ان پر سکینت نازل کردی اور انھیں بدلے میں ایک قریب فتح عطا فرمائی۔

(1) لقد ؓ عن المومنین…: اس سے پہلے ”ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ“ میں حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کو اللہ تعالیٰ سے بیعت قرار دینے کے بعد اس سے پیچھے رہنے والوں کا حال بیان فرمایا، اب دوبارہ بیعت کرنے والوں پر اپنی رضا کا اور دوسری بشارتوں کا ذکر فرمایا۔ (2) اس درخت کے نیچے بیعت کرنے والے صحابہ کرام کو بیعت کے وقت ہی کائنات کی سب سے بڑی نعمت مل گئی اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی، کیونکہ اس سے بڑی نعمت کوئی نہیں، جیسا کہ فرمایا :(ورضوان من اللہ اکبر) (التوبۃ : 82)”اور اللہ کی طرف سے تھوڑی سی خوشنوید سب سے بڑی ہے۔“ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(لقد ؓ المومنین اذیبا یعونک تحت الشجرۃ)”بلاشبہ یقینا اللہ ایمان والوں سے اس وقت راضی ہوگیا جب وہ اس درخت کے نیچے تجھ سے بیعت کر رہے تھے۔“ اس رضا ہی کی وجہ سے اس کا نام بیعت رضوان ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کا داخلہ لازم و ملزوم ہیں۔ (دیکھیے مجادلہ : 22۔ توبہ : 72) جب ان صحابہ کرام ؓ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے شہادت دے دی کہ وہ ان پر راضی ہوگیا تو کس قدر بدنصیب ہے وہ گروہ جو ان مقبول بندوں سے ناراض اور ان سے بغض و عداوت رکھے اور کہے کہ وہ بعد میں نعوذ باللہ مرتد ہوگئے۔ کیا اللہ تعالیٰ کو آئندہ کا علم نہیں تھا اور وہ رضا کیسی ہے جس کے باوجود وہ بندے مرتد ہوجائیں جن پر وہ راضی ہے ؟ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے علاوہ مزید حاصل ہونے والی نعمتوں کا بیان آگے آرہا ہے۔ قرآن مجید کے علاوہ صحیح احادیث میں بھی بیعت رضوان میں شریک صحابہ کی بہت زیادہ فضیلت آئی ہے۔ عمرہ بن دینار کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبد اللہ ؓ سے سنا سے سنا، وہ بیان کرتے ہیں :”حدیبیہ کے دن رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا (انتم خیر اھل الارض)”تم زمین والوں میں سب سے بہتر ہ۔“ اور (اس وقت) ہم چودہ سو تھے اور اگر آج مجھے دکھائی دیتا ہوتا تو میں تمہیں اس درخت کی جگہ دکھاتا۔“ (بخاری، المغازی، باب غزوۃ الحدیبۃ :3153 ام مبشر ؓ بیان کرتیہیں کہ انہوں نے حفصہ ؓ کے پاس رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا :(لا یدخل النار، ان شاء اللہ من اصحاب الشجرۃ اخد الذین یایعوا تحتھا) (مسلم، فضائل الصحابۃ باب من فضائل اصحاب الشجرۃ…؟ 2396”ان شاء اللہ اس درختوں والوں میں سے کوئی بھی آگ میں داخل نہیں ہوگا جنہوں نحے اس کے نیچے بیعت کی۔ ذذ جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ حاطب ؓ کا ایک غلام حاطب ؓ کی شکایت لے کر آیا اور کہنے لگا :”یا رسول اللہ ! حاطب ضرور آگ میں داخل ہوگا۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(کذبت لایدخلھا فانہ شھد بدرا و الحدیبیۃ) (مسلم ، فضائل الصحابۃ، باب من فضائل حاطب بن ابی بلتعۃ …: 2395)”ہم حدیبیہ کے دن چودہ سو تھے، ہم نے آپ ﷺ سے بیعت کی اور عمر ؓ درخت کے نیچے ﷺ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے اور وہ کیکر کا درخت تھا۔“ (4) طارق بن عبداللہ نے بیان کیا کہ میں حج کرنے کے لئے گیا تو میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ نماز پڑھ رہے ہیں، میں نے پوچھا :”کیا یہ نماز کی جگہ ہے ؟“ انہوں نے کہا :”یہ وہ درخت ہے جہاں رسول اللہ ﷺ نے بیعت رضوان لی تھی۔“ میں سعید ابن مسیب کے پاس آیا اور انہیں بتایا تو سعید نے فرمایا :”میرے والد نے مجھے بتایا کہ وہ بھی ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے درخت کے نیچے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی، تو جب ہم اگلے سال آئے تو ہمیں وہ درخت بھلا دیا گیا، مہ اسے پاہی نہ سکے۔“ سعید نے فرمایا :”اصحاب محمد ﷺ کو تو وہ معلوم نہ ہوا اور تم نے اسے جان لیا، پھر تم زیادہ جاننے والے ہوئے ؟“ (بخاری ، المغازی، باب غزوۃ الحدییۃ :3163) عبدا للہ بن عمر ؓ نے فرمایا (رجعنا من العام المقبل فما اجتمع منا اثنان علی الشجرۃ التی یایعنا تحتھا، کانت رحمۃ من اللہ) (بخاری، الجھاد و السری، باب البیعۃ فی الحرب ان لایفروا :2958)”ہم آئندہ سال دوبارہ آئے تو ہم میں سے دو شخص بھی اس درخت پر متفق نہ ہو سکے جس کے نیچے ہم نے بیعت کی تھی، یہ اللہ کی طرف سے رحمت تھی۔“ فتح الباری میں اس کی شرح کرتے ہوئے حافظ ابن حجر ؒ نے فرمایا :”اس میں حکمت یہ تھی کہ اس درخت کے نیچے خیر کے اس کام کی وجہ سے لوگ فتنے میں مبتلا نہ ہوجائیں، کیونکہ اگر اس کی پہچان باقی رہتی تو بعض جاہل لوگوں سے اس کی تعظیم کا خطرہ تھا، حتیٰ کہ ممکن تھا کہ وہ یہ عقیدہ رکھ لیتے کہ اس درخت میں نفع اور نقصان پہنچانے کی طاقت ہے، جیسا کہ اب اس سے بھی معمولی چیزوں میں اس کا مشاہدہ ہو رہا ہے۔“ ابن حجرنے اپنے زمانے کی بات کی ہے، ہمارے دور میں تو آثار پرستی کا معاملہ اس سے بھی کہیں دور پہنچ چکا ہے۔ آج کل جو لوگ پیروں فقیروں کے آستانوں کے درختوں، پتھروں اور قبروں کو پوجنے سے نہیں چوکتے اگر انھیں وہ درخت مل جاتا تو وہ کیا کچھ نہ کرتے۔ (5) فعلم ما فی قلوبھم فانزل ال کسی نۃ علیھم : یعنی اللہ تعالیٰ نے اس صدق، اخلاص اور سمع و طاعت کو جان لیا جس کی وجہ سے انہوں نے دشمن کے اعتبار سے تعداد میں بہت کم ہونے اور تقریباً نہتے ہونے کے باوجود آخر دم تک میدان میں جمے رہنے کی بیعت کی اور اس سخت اضطراب اور بےقراری کو بھی جو ان کے دل میں صلح کی ناگوار شرطوں پر پیدا ہوئی ، جس کا باعث کوئی نافرمانی نہ تھی بلکہ اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول ﷺ اور اسلام کی محبت اور ان کی عزت اور سربلندی کا جذبہ تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے صدق و اخلاص کی بدولت ان کے دل پر سکینت نازل فرمائی، جس کی بدولت انہیں رسول اللہ ﷺ کے ہر حکم پر دلی اطمینان اور سکون حاصل ہوگیا اور وہ جس طرح موت تک لڑنے کے لئے تیار تھے۔ رسول اللہ ﷺ کی قبول کردہ شرطوں پر صلح کے لئے بھی تیار ہوگئے۔ (6) یہ آیت بیعت رضوان والے صحابہ کے مخلص مومن ہونے کی واضح دلیل ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود ان کے دلوں کے اخلاص کی شہادت دی ہے۔ نہایت بدنصیب ہیں وہ لوگ جو ایسے مخلص ایمان والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ منافق تھے۔ (نعوذ باللہ من ذلک) (7) واثا بھم فتحاً قریباً : عام مفسرین اس ”فتح قریب“ سے مراد فتح خیبر لیتے ہیں اور یہ کچھ بعید بھی نہیں، مگر اہل علم کا ایک قول اس کے بارے میں یہ بھی ہے کہ اس سے مراد صلح حدیبیہ ہے، کیونکہ بیعت رضوان کے بعد یہی وہ بنیادی اور اہم فتح تھی جس سے مسلمانوں کے لئے دوسری تمام فتوحات کے راستے کھل گئے اور اس کے کھچ ہی عرصہ بعد خیبر فتح ہوا، پھر مکہ مکرمہ کی فتح ہوئی، حتیٰ کہ پورا جزیرہ عرب رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں اسلام کے زیر نگیں آگیا۔ اس سورت کی ابتدا میں اس صلح ہی کو فتح مبین فرمایا ہے۔
Ayah 48:19

وَّ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً یَّاْخُذُوْنَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 48:19 in the Quran reader

اور بہت سی غنیمتیں، جنھیں وہ حاصل کرینگے اور اللہ ہمیشہ سے سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

(1) ومغانم کثیرۃ یاخذونھا : اس سے مراد خیبر اور یہود کی دوسری بستیاں ہیں جو کسی خاص مزاحمت کے بغیر مسلمانوں کو حاصل ہوئیں۔ صفی الرحمٰن مبارک پوری لکھتے ہیں :”خیبر مدینہ سے شمال کی طرف اسی (80) میل کے فاصلے پر ایک بہت بڑا شہر تھا ، جس میں کئی قلعے اور بہت سے باغات تھے۔ ابن اسحاق نے فرمایا، رسول اللہ ﷺ حدیبیہ سے واپس آکر مدینہ میں ذوالحجہ اور محرم کا کچھ حصہ ٹھہرے، پھر محرم کے باقی دنوں میں خیبر کی طرف نکلے۔“ (الرحیق المختوم) ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں :(افتحنا خبیر ولم نعنم ذھبا ولا فضۃ ، انما غنمنا البقر و الابل والمتاع والحوائط) (بخاری المغازی، باب غزوۃ خبیر، 2323)”ہم نے خیبر فتح کیا اور ہمیں سونا چاندی غنیمت میں نہیں ملا ہمیں صرف گائے بیل، اونٹ، سامان اور باغات غنیمت میں ملے۔“ خیبر کی فتح کے نتیجے میں مسلمانوں کو حاصل ہونے والی غنیمتوں کا اندازہ ابن عمر ؓ کی ایک روایت سے ہوتا ہے، انہوں نے فرمایا :(ماشبعنا حتی فتحنا خبیر) (بخاری، المغازی، باب غزوۃ خیر :2323)”ہم نے سیر ہو کر نہیں کھایا حتیٰ کہ خیبر فتح کیا۔“ اور عائشہ ؓ نے فرمایا :(لما فتحت خیبر فلنا الا ن تشع من التمر) (بخاری، المغازی، باب غزوۃ خبیر :2323)”جب خیبر فتح ہوا تو ہم نے کہا، اب ہم کھجوریں پیٹ بھر کر کھائیں گے۔“ الرحیق المختوم میں ہے :”اس فتح کے نتیجے میں مہاجرین کے حصے میں اتنی زمین اور باغات آئے کہا نہوں نے کھجوروں کے وہ درخت انصار کو واپس کردیئے جو انصار نے مدینہ میں انہیں دے رکھے تھے۔ (2) وکان اللہ عزیزاً حکیماً : چونکہ کافر کی تعداد اور ساز و سامان کی کثرت اور مسلمانوں کی قلت کے پیش نظر یہ بات ممکن نظر نہیں آتی تھی، اس جملے کے ساتھ اس فتح و غنیمت کا سبب بیان فرمایا۔ بقاعی نے فرمایا :”اس واؤ کے ساتھ مقدر جملے پر عطف ہے : ای بعزۃ اللہ و حکمۃ و کان اللہ عزیاً حکیماً“ یعنی یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی عزت و حکمت کی بدولت ہوا اور اللہ تعالیٰ مہیشہ سے سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ نہ اس پر کوئی غالب آسکتا ہے، نہ اس کی تدبیر میں کسی خطا کی نشاندہی کرسکتا ہے۔
Ayah 48:20

وَعَدَكُمُ اللّٰهُ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً تَاْخُذُوْنَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هٰذِهٖ وَ كَفَّ اَیْدِیَ النَّاسِ عَنْكُمْ١ۚ وَ لِتَكُوْنَ اٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَ یَهْدِیَكُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ Open ayah 48:20 in the Quran reader

اللہ نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کیا جنھیں تم حاصل کرو گے، پھر اس نے تمہیں یہ جلدی عطا کردی اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیے اور تاکہ یہ ایمان والوں کے لیے ایک نشانی بنے اور (تاکہ) وہ تمہیں سیدھے راستے پر چلائے۔

(1) وعدکم اللہ مغانم کثیرۃ تاخذونھا : ان بہت سی غنیمتوں سے مراد صلح حدیبیہ، خیبر اور اس کے اردگرد کے علاقوں اور بستیوں کی فتح ہے، کیونکہ اس سے پہلے گزر چکا ہے :(سقول المخلقون اذا انطلقتم الی مغانم لتاخذوھا ذرونا تبعکم یریدون ان یبدلوا کلم اللہ ، قل لن تثبعونا کذلکم قال اللہ من قبل فسیقولون بل تحسدوننا، بل کانوا لایفقھون الا قلیلاً (الفتح : 15)”عنقریب پیچھے چھوڑ دیئے جانے والے لوگ کہیں گے جب تم کچھ غنیمتوں کی طرف چلو گے، تاکہ انہیں لے لو، ہمیں چھوڑو کہ ہم تمہارے ساتھ چلیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے کلام کو بدل دیں۔ کہہ دے تم ہمارے ساتھ کبھی نہیں جاؤ گے، اسی طرح اللہ نے پہلے سے کہہ دیا ہے۔ تو وہ ضرور کہیں گے بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو۔ بلکہ وہ نہیں سمجھتے تھے مگر بہت تھوڑا۔“ (2) فعجل لکم ھذہ : تو اس نے تمہیں ان غنیمتوں میں سے یہ صلح حدیبیہ جلدی عطا فرما دی جس میں تمہارے اور قریش کے درمیان معاہدہ ہوگیا کہ دس سال تک جنگ بند رہے گی اور سملمان آئندہ سال اسی ماہ آکر عمرہ ادا کریں گے۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں اور قریش کا ایک دوسرے کے پاس آنا جانا، ملنا جلنا شروع ہوگیا اور بیشمار لوگ مسلمان ہوئے، خیبر اور دوسرے علاقوں کی فتح کا دروازہ کھل گیا، غضر یہ صلح فتح بھی تھی اور اپنے بیشمار فوائد کے لحاظ سے غنیمت بھی۔ بعض مفسرین نے اس سے مراد فتح خیبر لی ہے، یہ بھی ممکن ہے، مگر پہلی تفسیر زیادہ واضح ہے، کیونکہ یہ آیات حدیبیہ سے واپسی پر اتری ہیں۔ (3) وکف ایدی الناس عنکم : مسلمانوں سے لوگوں کے ہاتھ روک دینے میں مسلمانوں کی قلت کے باوجود قریش مکہ کو لڑائی سے روک دینا بھی شامل ہے اور خیبر اور دوسرے علاقوں کے یہود کو مدینہ پر حملہ آور ہونے سے روک دینا بھی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ رعب تھا کہ جب مسلمانوں کی پوری جنگی قوت مدینہ سے باہر تھی، اگر اس وقت یہود اپنے حلیفوں اور منافقین کیساتھ مل کر مدینہ پر حملہ آور ہوتے تو ان کے لئے میدان خالی تھا، کیونکہ وہاں عورتوں، بچوں اور معذوروں کے سوا کوئی موجود نہ تھا، مگر یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ تھا کہ کسی کو یہ جرأت ہی نہیں ہونے دی۔ (4) ولتکون ایۃ للمومنین : اس جملے کا واؤ کے ساتھ مقدر جملے پر عطف ہے اور اسے مقدر اس لئے رکھا گیا ہے کہ وہ کئی جملوں میں سے کوئی ایک جملہ ہوسکتا ہے، مثلاً :”فعجل لکم ھذہ وکف ایدی الناس عنکم لتشکروہ ولتکون المعجلۃ و کف ایدی الناس عنکم ایۃ للمومنین“ ”یعنی اس نے یہ غنیمت تمہیں جلدی دے دی اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیئے، تاکہ تم اس کا شکر ادا کرو اور تاکہ جلد عطا کی جانے والی یہ غنیمت اور لوگوں کے ہاتھوں کا تم سے روک دیا جانا ایمان والوں کے لئے ایک نشانی بن جائے (کہ آئندہ بھی اللہ تعالیٰ اسی طرح ہماری مدد فرمائے گا۔)”لتشکروہ“ کے بجائے مقدر جملہ ”لیحصل لھم ال کسی نۃ“ یا ”لیزدادوا ایماناً“ وغیرہ بھی ہوسکتا ہے اور اسے حذف اسی لئے کیا گیا ہے کہ اگر ذکر کیا جاتا تو ایک آدھ بات ذکر ہوسکتی تھی، حالانکہ وہ بہت سی چیزیں ہیں جن کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ غنیمت پہلے عطا کردی۔ (5) ویھدیکم صراط مستقیماً : یہ جملہ بھی قرآن مجید کے معجزات میں سے ایک معجزہ ہے، کیونکہ اہل حدیبیہ میں سے کوئی ایک شخص بھی صراط مستقیم سے ادھر ادھر نہیں ہوا، بلکہ سب کے سب آخر دم تک اسلام پر قائم رہے۔
Ayah 48:21

وَّ اُخْرٰى لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهَا قَدْ اَحَاطَ اللّٰهُ بِهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا Open ayah 48:21 in the Quran reader

اور کئی اور (غنیمتوں کا بھی) ، جن پر تم قادر نہیں ہوئے۔ یقینا اللہ نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے اور اللہ ہمیشہ سے ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔

(1) واخری لم تقدروا علیھا…:”اخری“ ”مغانم“ کی صفت ہے جو یہاں محذوف ہے اور اس کا عطف ”مغانم کثیرۃ“ پر ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان غنیمتوں کے علاوہ جن کا اوپر ذکر ہوا، کئی اور غنیمتوں کا بھی وعدہ فرمایا ہے جن پر تم قادر نہیں ہوئے، مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں گھیرے میں لے لیا ہے۔ اس سے مراد سب سے پہلے فتح مکہ ہے جو فتح الفتوح تھی۔ مسلمان حدیبیہ والے سال اور اس سے اگلے سال اسے حاصل نہیں کرسکے مگر اللہ تعالیٰ کے علم میں اس کا فیصلہ ہوچکا تھا، چناچہ صلح حدیبیہ ہی اس کا پیش خیمہ بنی۔ اس صلح کی ایک شرط یہ تھی کہ جو قبیلہ چاہے مسلمانوں کا حلیف بن جائے اور جو چاہے قریش مکہ کا حلیف بن جائے اور کوئی کسی کے خلاف یا اس کے حلیف کے خلاف جنگ نہ کرے۔ اس موقع پر بنو خزاعہ رسول اللہ ﷺ کے حلفی اور بنو بکر قریش مکہ کے حلفی بن گئے۔ مشرکین صلح کے بعد صرف دو سال تک معاہدہ پر قائم رہے، پھر ان کے حلیف قبیلہ بنو بکر نے رسول اللہ ﷺ کے حلیف بنو خزاعہ پر حملہ کردیا، جس میں قریش نے اسلحے اور آدمیوں کے ساتھ ان کی مدد کی اور کعبہ میں پناہ لینے کے باوجود انہیں قتل کیا۔ رسول اللہ ﷺ کو ان کے معاہدہ توڑنے کی اطلاع ملی تو آپ نے نہایت اخفا کے ساتھ دس ہزار صحابہ کرام کے ساتھ مکہ کی طرف کوچ فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے مکہ فتح فرما دیا۔ لفظ عام ہونے کی وجہ سیف تح مکہ کے علاوہ وہ تمام فتوحات ”واخری لم تقدروا علیھا“ میں داخل ہیں جو اس کے بعد مسلمانوں کو حاصل ہوئیں، جن میں ثقیف و ہوازن کی فتح اور تبوک وغیرہ کی فتح بھی شامل ہیں۔ روم و فارس، مصر و شام ، ہندو سندھ اور زمین کے مشرق و مغرب کے وہ تمام ممالک بھی جو قیامت تک مسلمانوں کے قبضے میں آنے والے تھے۔ (2) قد احاط اللہ بھا، وکان اللہ علی کل شیء قدیراً : یہ اس سوال کا جواب ہے جو یہاں پیدا ہوسکتا تھا کہ مدینہ کی بستی کے یہ چودہ پندرہ سو آدمی، جن کے پاس اسلحہ اور دوسری ضروری ات حتیٰ کہ سامان خوردو نوش کی بھی کمی ہے، اتنی کثیر فتوحات اور غنیمتیں کیسے حاصل کرسکتے ہیں، جب کہ پورا عرب ان کے خلاف ہے، جن کے پاس آدمیوں، اسلحے اور ساز و سامان کی فراوانی ہے ؟ فرمایا یہ لوگ واقعی وہ فتوحات اور غنیمتیں حاصل نہیں کرسکتے، مگر جب اللہ تعالیٰ نے ان کا گھیرا کرلیا ہو اور انہیں مسلمانوں کو عطا فرمانا چاہتا ہو تو پھر کون ہے جو اسے روک سکے ؟ اور اللہ تعالیٰ تو ہمیشہ سے ہر چیز پر پوری طرح قدرت رکھنے والا ہے۔
Ayah 48:22

وَ لَوْ قٰتَلَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 48:22 in the Quran reader

اور اگر وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تم سے لڑتے تو یقینا پیٹھ پھیر جاتے، پھر وہ نہ کوئی حمایتی پائیں گے اور نہ کوئی مددگار۔

(1) ولو قتلکم الذین کفروا لولوا الادبار : اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے کفار کے ہاتھ تم سے روک دیئے کہ وہ لڑائی سے باز رہے، اب فرمایا کہ حدیبیہ کے مقام پر بظاہر دب کر جو صلح کی جا رہی تھی وہ بزدلی کے بنا پر یا اس خطرے کے پیش نظر نہیں تھی کہ مسلمانوں کو شکست ہو جائیگی، بلکہا س میں ب ہت سی حکمتیں محلوظ تھیں، جن میں بعض کا ذکر گزر چکا اور کچھ آگے بیان ہو رہی ہیں۔ چناچہ فرمایا کہ اگر اس موقع پر کفار تم سے لڑ پڑتے تو یقینا بیٹھیں پھیر کر بھاگ جاتے اور مکہ اسی وقت فتح ہوجاتا مگر یہ مصلحت کے خلفا تھا۔ (2) ثم لا یجدون ولیا و لا نصیراً :”ثم“ (پھر) کے لفظ کا مطلب یہ ہے کہ اس کے بعد خواہ کتنی مدت گزر جائے اور خواہ ان مشرکین کی تعداد کتنی ہوجائے کسی وقت بھی انہیں کوئی حمایتی ملے گا نہ کوئی مددگار۔
Ayah 48:23

سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ١ۖۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 48:23 in the Quran reader

اللہ کے اس طریقے کے مطابق جو پہلے سے گزر چکا ہے اور تو اللہ کے طریقے میں ہرگز کوئی تبدیلی نہیں پائے گا۔

(سنۃ اللہ التی قد خلت من قبل …: مراد اللہ تعالیٰ کی وہ سنت ہے جو اس کے انبیاء کو جھٹلانے والی اقوام کے بارے میں ہمیشہ سے جاری ہے کہ جب وہ حد سے گزر جاتی ہیں تو انہیں ایسی سزا دی جاتی ہے کہ انہیں کوئی حمایتی ملتا ہے نہ مددگار اور اللہ تعالیٰ کی اس سنت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ ہاں عذاب کئی سرح سے آسکتا ہے، قدرتی آفات کے ساتھ بھی جیسا کہ قوم نوح، عاد وثمود اور آل فرعون پر آیا اور مومن بندوں کے ہاتھوں بھی ، جیسا کہ فرمایا :(قاتلوھم یعذنھم اللہ بایدیکم) (التوبۃ : 13)”ان سے لڑو، اللہ انہیں تمہارے ہاتھوں سے عذاب دے گا۔“
Ayah 48:24

وَ هُوَ الَّذِیْ كَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًا Open ayah 48:24 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے مکہ کی وادی میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیے، اس کے بعد کہ تمہیں ان پر فتح دے دی اور اللہ اس کو جو تم کرتے ہو، ہمیشہ سے خوب دیکھنے والا ہے۔

(1) وھو الذی کف ایدیھم عنکم و ایدیکم عنھم …: جب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ حدیبیہ میں تھے تو صلح کی بات چیت کے دوران اور صلح ہوجانے کے بعد بھی مشرکین نے کوششیں کیں کہ کسی طرح لڑائی چھڑ جائے اور صلح نہ ہو سکے۔ ان کے متعدد گروہ چھپ کر رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کے خلاف کارروائی کے لئے آئے، مگر کوئی نقصان نہ پہنچا سکے، بلکہ ہر مرتبہ مسلمانوں کے ہاتھوں گرفتار ہوئے۔ انہیں قتل بھی کیا جاسکتا تھا مگر رسول اللہ ﷺ نے انہیں چھوڑ دیا، کیونکہ سزا دینے کی صورت میں جنگ ناگزیر ہوجاتی جب کہ مسلمانوں کی مصلحت صلح میں تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے اس احسان کی یاد دہانی کروائی ہے۔ یہاں کفار کی ان کوششوں کے تین واقعات درج کئے جاتے ہیں۔ (1) سلمہ بن اکوع ؓ کہتے ہیں، میں طلحہ بن عبید اللہ ؓ کے ساتھ رہتا تھا، ان کے گھوڑے کو پانی پلاتا ، اس کی مالش کرتا، ان کی خدمت کرتا اور انھی کے ہاں کھانا کھایا کرتا تھا اور اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرتے ہوئے اپنا اہل و مال چھوڑ آیا تھا۔ پھر جب ہماری اور اہل مکہ کی صلح ہوگئی اور ہم ایک دوسرے سے ملنے جلنے لگے تو میں ایک درخت کے نیچے کانٹے وغیرہ صاف کر کے اس کے سائے میں لیٹ گیا۔ اہل مکہ میں چار مشرک میرے پاس آئے اور رسول اللہ ﷺ کے متعلق بد زبانی کرنے لگے۔ میں ان سے نفرت کی وجہ سے ایک اور درخت کے نیچے چلا گیا اور وہ اپنا اسلحہ درخت کے ساتھ لٹکا کر لیٹ گئے۔ اسی دوران وادی کے نیچے سے کسی نے آواز دی :”او مہاجرو ! ابن زینم کو ق تل کردیا گیا۔“ میں نے اپنی تلوار لی اور انچ اورں پر حملہ کردیا، وہ سوئے ہوئے تھے، میں نے ان کا اسلحہ لے کر اپنی مٹھی میں اکٹھا کرلیا اور ان سے کہا :”قسم اس ذات کی جس نے محمد ﷺ کے چہرے کو عزت بخشی ہے ! تم میں سے جو بھی سر اٹھائے گا میں اس کا سر اڑا دوں گا جس میں اس کی آنکھیں ہیں۔“ خیر میں انہیں ہانکتا ہوا رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آیا اور میرا چچا عامر عبلات میں سے ”مکرز“ نامی ایک مشرک کو کھینچتا ہوا لایا۔ یہاں تک ہم نے انہیں ستر (70) مشرکین سمیت رسول اللہ ﷺ کے سامنے لا کھڑا کیا۔ آپ ﷺ نے ان کی طسرف دیکھا اور فرمایا :(دعوھم یکن لھم بدء الفجور و ثناہ)”انہیں چھوڑ دو ، تاکہ عہد شکنی کی ابتدا اور دہرائی انھی کے ذمے رہے۔“ غرض رسول اللہ ﷺ نے انہیں معاف کردیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری :(وھو الذی کف ایدیھم عنکم و ایدیکم عنھم ببطن مکۃ من بعد ان اظفر کم علیھم) (الفتح : 23)”اور وہی ہے جس نے مکہ کی وادی میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیے، اس کے بعد کہ تمہیں ان پر فتح دے دی۔“ (مسلم الجھاد، باب غزوۃ ذی فرد وغیرھا :1808) (2) انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ اہل مکہ میں سے اسی (80) مسلح آدمی جبل تنعیم سے اتر کر آئے۔ وہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کی غفلت سے فائدہ اٹھانا چاہتے تھے، مگر آپ نے انہیں زندہ سلامت گرفتار کرلیا۔ پھر انہیں زندہ ہی رہنے دیا تو اللہ عزو جل نے یہ آیت اتاری :(وھو الذی کف ایدیھم عنکم وایدیکم عنھم ببطن مکۃ من بعد ان اظفرکم علیھم) (الفتح : 23)”اور وہی ہے جس نے مکہ کی وادی میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیئے، اس کے بعد کہ تمہیں ان پر فتح دے دی۔“ (مسلم، الجھاد، باب قول اللہ تعالیٰ :(وھو الذی کف ایدیھم عنکم):1808 (3) عبداللہ بن مغفل مزنی ؓ بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حدیبیہ میں اس درخت کے نیچے موجود تھے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے۔ اس کی ٹہنیاں رسول اللہ ﷺ کی کمر سے لگ رہی تھیں اور علی بن ابی طالب ؓ اور سہیل بن عمرو آپ کے سامنے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے علی ؓ نے علی ؓ سے فرمایا :”لکھو، بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔“ تو سہیل نے ملان کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا :”ہم نہیں جانتے رحمان کیا ہوتا ہے، ہمارے معاملے میں وہی لکھو جو ہمارے ہاں معروف ہے۔“ اس نے کہا : ”یہ لکھو :”باسمک اللھم۔“ پھر انہوں نے لکھا :”یہ وہ ہے جس پر محمد رسول اللہ ﷺ نے اہل مکہ سے صلح کی ہے۔“ تو سہیل بن عمرو نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا :”اللہ کی قسم ! اگر آپ اللہ کے رسول ہوں تو ہم نے آپ پر ظلم کیا، ہمارے معاملے میں وہ لکھو جو ہمارے ہاں معروف ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا :”لکھو، یہ وہ ہے جس پر محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب نے صلح کی ہے اور میں اللہ کا رسول بھی ہوں۔“ یہ معاملہ ہو رہا تھا کہ تیس مسلح نوجوان نکل کر ہمارے سامنے آگئیا ور ہمارے سامنے آکر مشتعل ہوگئے۔“ رسول اللہ ﷺ نے ان پر بد دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اندھا کردیا، ہم نے بڑھ کر انہیں گرفتار کرلیا۔ آپ ﷺ نے ان سے پوچھا :”کیا تم کسی کے عہد میں آئے ہو یا کسی نے تمہیں امان دی ہے ؟“ انہوں نے کہا :”نہیں !“ تو آپ ﷺ نے انہیں رہا کردیا، اس پر اللہ عزو جل نے یہ آیت نازل فرمائی :(وھو الذی کف ایدیھم عنکم وایدیکم عنھم بب طن مکۃ من بعد ان اظفر کم علیھم وکان اللہ بما تعملون بصیراً) (الفتح : 23)”اور وہی ہے جس نے مکہ کی وادی میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیئے، اس کے بعد کہ تمہیں ان پرف تح دے دی اور اللہ اس کو جو تم کرتے ہو ، ہمیشہ سے خوب دیکھنے والا ہے۔“ (مسند احمد : 3/86، 88، ح : 16805) مسند احمد کے محققین نے اسے صحیح کہا ہے۔ (2) یہاں بیت اللہ والے شہر کا نام ”مکہ“ بیان فرمایا ہے، جب کہ سورة آل عمران (96) میں اس کا نام ”بکہ“ قرار دیا ہے، معلوم ہوا اس شہر کے دونوں نام ہیں۔ (3) وکان اللہ بما تعملون بصیراً : یعنی اللہ تعالیٰ کفار کی سرا سر زیادتی اور تمہارے صبر اور اطاعت کو خوب دیکھ رہا تھا، اس کے باوجود اس نے بہت سی مصلحتوں کے پیش نظر ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیئے۔
Ayah 48:25

هُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ الْهَدْیَ مَعْكُوْفًا اَنْ یَّبْلُغَ مَحِلَّهٗ١ؕ وَ لَوْ لَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَ نِسَآءٌ مُّؤْمِنٰتٌ لَّمْ تَعْلَمُوْهُمْ اَنْ تَطَئُوْهُمْ فَتُصِیْبَكُمْ مِّنْهُمْ مَّعَرَّةٌۢ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ لِیُدْخِلَ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ لَوْ تَزَیَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 48:25 in the Quran reader

یہ وہی لوگ ہیں جنھوں نے کفر کیا اور تمہیں مسجد حرام سے روکا اور قربانی کے جانوروں کو بھی، اس حال میں کہ وہ اس سے روکے ہوئے تھے کہ اپنی جگہ تک پہنچیں۔ اور اگر کچھ مومن مرد اور مومن عورتیں نہ ہوتیں جنھیں تم نہیں جانتے تھے (اگر یہ نہ ہوتا) کہ تم انھیں روند ڈالو گے تو تم پر لا علمی میں ان کی وجہ سے عیب لگ جائے گا (تو ان پر حملہ کردیا جاتا) تاکہ اللہ اپنی رحمت میں جسے چاہے داخل کرلے، اگر وہ (مومن اور کافر) الگ الگ ہوگئے ہوتے تو ہم ضرور ان لوگوں کو جنھوں نے ان میں سے کفر کیا تھا، سزا دیتے، دردناک سزا۔

(1) ھم الذین کفروا و صدوکم عن المسجد الحرام : اس سے اہل مکہ کی اس زیادتی کا بیان مقصود ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے عار قرار دیا اور وہ یہ کہ اللہ کے رسول پر ایمان لانے کے بجائے کفر پر اڑ گئے اور انہوں نے مسلمانوں کو مسجد حرام میں داخلے اور اس کے طواف سے اور عمرہ کے دوسرے ارکان ادا کرنے سے روک دیا اور لڑائی پر آمادہ ہوگئے، حالانکہ رسول اللہ ﷺ اور مسلمان لڑنے کی نیت سے نہیں آئے تھے، نہ وہ پوری طرح ہتھیار لائے تھے، بلکہ وہ حالت احرام میں تھے لڑنا تو ایک طرف رہا وہ اس حالت میں کسی کو ایذا بھی نہیں دے سکتے تھے۔ (2) والھدی معکوفاً ان یبلغ محلہ :”الھدی“ مصدر بمعنی اسم مفعول : ”ای الانعام المھدیۃ“ وہ چاپائے جو کعبہ میں قربانی کے لئے لائے جاتے ہیں۔ یہ لفظ مصدر ہونے کی وجہ سے واحد جمع اور مذکر و ومونث سب پر استعمال ہوتا ہے۔ ”معوفاً“ ”عکف یعکف“ (ن) سے اسم مفعول ہے۔”عکف“ لازم بھی آتا ہے جس کا معنی ”ایک جگہ ٹھہرنے کو لازم کرلینا“ ہے، جیسا کہ فرمایا :(وانتم عکفون ، فی المسجد) (البقرۃ :188)”جب کہ تم مسجدوں میں معتکف ہو۔“ یہاں متعدی استعمال ہوا ہے :”عکفہ ای حبسہ“”معکوفاً“ جسے ایک جگہ روک کر رکھا گیا ہو۔”الھدی“ پر نصب اس لئے آیا کہ اس کا عطف ”صدورکم“ میں ضمیر مخطاب پر ہے اور ”معکوفاً“ ”الھدی“ سے حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے، یعنی یہ وہ لوگ ہیں جن ہوں نے کفر کیا اور تمہیں مسجد حرام سے روکا اور قربانی کے جانوروں کو بھی روک دیا، اس حال میں کہ وہ اپنے حلال ہونے کی جگہ پہنچنے سے روکی ہوئی تھیں۔ یعنی قربانیوں کو بھی مکہ میں داخل نہیں ہونے دیا جو عمرہ اور حج کی قربانیوں کے حلال ہونے کی اصل جگہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ اپنے ساتھ ہدی یعنی قربانی کے اونٹ لے کر آئے تھے جب کفار نے اس سال مکہمیں داخلے اور عمرہ کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا اور اسے آئندہ اسل کے لئے موخر کردیا تو رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے مقام پر وہ جانور قربان کردیئے اور سرمنڈا کر احرام کھو دیا۔ (3) ولا لارجال مومنون و نسآء مومنت …:”تطوھم“”وطی یطا وطاً“ (س) روندنا، پاما کرنا۔ یہ مضارع معلوم سے جمع مذکر حاضر ہے۔ ”معزۃ“ عیب، گناہ ، نقصان۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس موقع پر جنگ نہ ہونے دینے کی دو وجہیں بیان فرمائی ہیں۔ ایک یہ کہ مکہ میں مشرکین کے ساتھ کئی مومن مرد اور مومن عورتیں بھی موجود تھیں، جن کا مسلمانوں کو علم نہیں تھا۔ ان میں سے کچھ وہ تھے جو مسلمان ہوچکے تھے مگر انہوں نے اپنا ایمان چھپا رکھا تھا اور کچھ دو ر تھے جو کھلم کھلا مسلمان ہوچکے تھے مگر بےبسی کی وجہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت نہیں کرسکتے تھے اور کفار کے ظلم و ستمک ا نشانہ بنے ہوئے تھے۔ اگر مکہ پر حملہ ہوتا تو مشرکین کے ساتھ وہ مومن مرد اور مومن عورتیں بھی روند دیئے جاتے جو مسلمانوں کے لئے عیب کا باعث ہو تاکہ انہوں نے اپنے ہی بھائی بہنوں کو قتل کردیا، حالانکہ ان کا یہ قتل لاعلمی کی بنا پر ہوتا۔ عیب کا باعث ہونے سے مراد کفار ک طرف سے عیب لگانا ہے کہ مسلمانوں نے اپنے ہی بھائی مار دیئے اور وہ رنج و الم بھی جو اپنے بھائیوں کو ق تل کرنے سے مسلمانوں کے دلوں میں پیدا ہوتا، ورنہ جنگ کے دوران کفار میں رہنے والے کسی مسلمان کو قتل کرنے پر نہ دیت ہے نہ کفارہ اور نہ ہی ملامت۔ اللہ تعالیٰ نے جنگ روک کر یہ نوبت ہی نہ آنے دی کہ مسلمانوں پر کوئی الزام آسکے۔ واض رہے کہ ”ولولا رجال مومنون“ سے ”بغیر علم“ تک جملہ شرط ہے، جزا اس کی محذوف ہے ، کیونکہ وہ خود واضح ہو رہی ہے، یعنی اگر یہ مانع نہ ہوتا ”تو تمہارے ہاتھ نہ روکے جاتے، بلکہ اہل مکہ پر حملہ کردیا جاتا۔“ (4) لیدخل اللہ فی رحمتہ من یشآء : یہ اس وقت جنگ سے مسلمانوں کے ہاتھ روک دینے کی دوسری وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مشرکین میں سے بہت سے لوگوں کو ایمان کی توفیق عطا فرما کر اپنی رحمت میں داخل کرنا چاہتا تھا، جو کفار اور مسلمانوں کی صلح اور باہمی میل جول ہی سے ممکن تھا۔ اگر لڑائی ہوجاتی تو انہیں سوچنے سمجھنے اور اسلام قبول کرنے کا موقع ہی نہ ملتا اور نہ معلوم کتنے ہی کفر کی حالت میں مارے جاتے۔ پھر واقعی اس صلح کی بدولت بیشمار لوگ اسلام میں دناخل ہوئے۔ سنہ 6 ہجری میں آنے والے مسلمان صرف چودہ سو تھے، دو سال کے قلیل عرصے میں مکہ فتح کرنے کے لئے آنے والوں کی تعداد دس ہزار تھی اور مکہ فتح ہونے اور مشرکین کو عام معافی کے اعلان پر پورا مکہ مسلمان ہوگیا۔ (والحمد اللہ) (5) لوتزیلوا لعذبنا الذین کفروا …:”تزیلوا“ ”تزیل یتزیل تزیلا“ (تفغل) ایک دوسرے سے جدا ہونا۔ یعنی اگر اس موقع پر مکہ میں رہنے والے مسلم و کافر کی پوری طرح تمیز ہوتی اور وہ لوگ جو مسلمان ہوچکے تھے یا آئندہ ان کی قسمت میں مسلمان ہونا لکھا تھا، کفار سے الگ اور نمایاں ہوتے تو ہم اہل مکہ کے کافر کو ایسی درد ناک سزا دیتے کہ یا تو لڑائی میں مارے جاتے یا قید ہو کر ذلیل و خوار ہوتے۔ (6) اس آیت سے ظاہر ہے کہ ایمان والوں کا وجود دنیا میں کفار کے لئے بھی باعث رحمت ہے، اسی طرح کہ ان کی موجودگی کی وجہ سے بعض اوقات کفار بھی عذاب سے بچ جاتے ہیں۔ (مزید دیکھیے سورة انفال (33)
Ayah 48:26

اِذْ جَعَلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْحَمِیَّةَ حَمِیَّةَ الْجَاهِلِیَّةِ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى وَ كَانُوْۤا اَحَقَّ بِهَا وَ اَهْلَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ Open ayah 48:26 in the Quran reader

جب ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، اپنے دلوں میں ضد رکھ لی، جو جاہلیت کی ضد تھی تو اللہ نے اپنی سکینت اپنے رسول پر اور ایمان والوں پر اتار دی اور انھیں تقویٰ کی بات پر قائم رکھا اور وہ اس کے زیادہ حق دار اور اس کے لائق تھے اور اللہ ہمیشہ سے ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

(1) اذ جعل الذین کفروا فی قلوبھم الحمیۃ : لفظ ”اذ“ پچھلی آیت کے آخر میں ”لعذبنا“ کا ظرف ہے، یعنی اگر وہ مومن مرد اور مومن عورتیں کفار سے الگ ہوگئے ہوتے ”تو ہم ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کای، درد ناک سزا دیتے، جب ان کفر کرنے والوں نے اپنے دل میں ضد رکھ لی تھی۔ …“ اور فعل محذوف ”اذکر“ کا مفعول بہ بھی ہوسکتا ہے، یعنی اس وقت کو یاد کر جب …۔ (2) حمیۃ الجاھلیۃ : جاہلیت کی ضد سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے وہ بات ماننے سے بھی انکار کردیا جو تمام عرب کے ہاں مسلم تھی کہ اللہ کے گھر سے کسی طواف یا عمرہ یا حج ادا کرنے والے کو روکا نہیں جاسکتا اور حرمت والے مہینوں میں لڑنے کی اجازت نہیں۔ بلکہ وہ لڑنے پر تیار ہوگئے اور کہنے لگے، ہم یہ عار برداشت نہیں کرسکتے کہ ہم سے زبردستی کوئی مکہمیں داخل ہو، اس لئے اس سال مسلمان واپس چلے جائیں، آئندہ سال آکر عمرہ ادا کرلیں، وہ بھی صرف تین دن ٹھہریں اور اسلحہ میں صرف تلوار لاسکتے ہیں جو نیام میں ہو۔ اس کے علاوہ ان کا بات بات پر رسول اللہ ﷺ سے الجھنا اور صلح کے لئے ن اورا شرطیں لگانا بھی جاہلیت کی ضد تھی، مثلاً یہ کہنا کہ ”بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ‘ ‘ کے بجائے ”باسمک اللھم“ لکھو اور ”محمد رسول اللہ“ کی بجائے ”محمد بن عبداللہ“ لکھو اور کوئی شخص مسلمان ہو کر تمہارے پاس جائے تو اسے واپس کرو، لیکن اگر کوئی م رتد ہو کر ہمار پاس آئے تو ہم اسے واپس نہیں کریں گے۔ اسی طرح سہیل بن عمرو کا اپنے مسلمان ہوجانے والے بیٹے ابو جندل کو عین معاہدے کے درمیان آکر اپنی حالت زار دکھانے کے باوجود مسلمانوں کے ساتھ جانے کی اجازت دینے سے انکار اور سب کے سامنے اس پر تشدد بھی جاہلیت کی ضد تھی۔ (3) فانزل اللہ سکینت ہ علی رسولہ و علی المومنین، سکینت سے مراد وہ تحمل و حوصلہ اور صبر و وقار ہے جس کے ساتھ نبی ﷺ اور مسلمانوں نے کفار مکہ کی جاہلانہ حمیت کا مقابلہ کیا کہ نہ مشتعل ہوئے، نہ کوئی ناحق بات زبان سے کہی اور نہ اپنے کسی عمل سے کفار کو لڑائی چھیڑنے کا موقع دیا۔ (4) اس آیت کے الفاظ پر غور کریں تو کفار اور مسلمانوں کے طرز عمل کے درمیان اور اللہ تعالیٰ کے ان کے ساتھ معاملے کے درمیان فرق کا انداز ہوتا ہے :(1) کفار نے اپنے دلوں میں حمیت یعنی ضد رکھ لی، سوچے سمجھے بغیر یہ ضد رکھنے والے وہ خود تھے۔ اس کے مقابلے میں رسول اللہ ﷺ اور مومنوں کے دلوں میں سکنیت تھی، جو اپنے خزانے سے نازل کرنے والا اللہ تعالیٰ تھا۔ (2) کفار کے دلوں میں موجود ضد جاہلیت کی ضد تھی، جبکہ رسول اللہ ﷺ اور مومنوں کے دلوں میں سکینت ربانی سکینت تھی۔ (6) والزمھم کلمۃ التقویٰ : وہ تقویٰ کی بات یہ تھی کہ مسلمان تنگی ترشی، جوش، غضب، غرض ہر طرح کے حالات میں اپنے آپ کو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا پابند بنائے رکھیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل تھا کہ اس نے اپنے رسول ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کے مشتعل جذبات کو سکون بخش کر اور اپنے حکم کی پابندی پر قائم رکھ کر صلح کا کام پایہ تکمیل تک پہنچا دیا۔ (6) وکانوا احق بھا واھلھا : اور وہ اس کے زیادہ حق دار اور اس کے اہل تھے، کیونکہ وہ اللہ اور سا کے رسول پر ایمان رکھتے تھے اور انہیں رسول اللہ ﷺ کی صحبت اور آپ کی تربیت پانے کا شرف حاصل تھا۔ (7) وکان اللہ بکل شیء علیماً : اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ہر چیز کو پوری طرح جاننے والا ہے۔ اس علم ہی کے ساتھ اس نے ان پاکیزہ ہستیوں کو تقویٰ کے سب سے زیادہ حق کے سب سے زیادہ حق دار اور اہل جان کر اپنے رسول کی صحبت کے لئے چنا، اس کی اطاعت کی توفیق بخشی اور انہیں تقویٰ کی بات پر قائم رکھا۔
Ayah 48:27

لَقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْیَا بِالْحَقِّ١ۚ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَ١ۙ مُحَلِّقِیْنَ رُءُوْسَكُمْ وَ مُقَصِّرِیْنَ١ۙ لَا تَخَافُوْنَ١ؕ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا فَجَعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِكَ فَتْحًا قَرِیْبًا Open ayah 48:27 in the Quran reader

بلا شبہ یقینا اللہ نے اپنے رسول کو خواب میں حق کے ساتھ سچی خبر دی کہ تم مسجد حرام میں ضرور بالضرور داخل ہو گے، اگر اللہ نے چاہا، امن کی حالت میں، اپنے سر منڈاتے ہوئے اور کتراتے ہوئے، ڈرتے نہیں ہوگے، تو اس نے جانا جو تم نے نہیں جانا تو اس نے اس سے پہلے ایک قریب فتح رکھ دی۔

(1) لقد صدق اللہ رسولہ الرء یا بالحق : اس کی ترکیب دو طرح سے کی جاتی ہے، ایک یہ کہ ”صدق اللہ“ فعل اور فاعل ہے،”رسولہ“ اس کا مفعول بہ ہے اور ”الرء یا“ سے پہلے حرف جار ”فی“ محذوف ہے، جس کے حذف کی وجہ سے ”الرء یا“ منصوب ہے، اسے منصوب بنزع الخافض کہتے ہیں :”ای فی الرویا“ ترجمہ اسی ترکیب کے مطابق کیا گیا ہے کہ بلا شبہ یقینا اللہ نے اپنے رسول کو خواب میں حق کے ساتھ سچی خبر دی یا سچ کہا۔ اس کی مثال یہ آیت ہے :(من المومنین رجال صدقوا ما ماھدوا اللہ علیہ) (الاحزاب : 23)”ای فی ماعاھدوا اللہ علیہ“ ”مومنوں میں سے کچھ مرد ایسے ہیں جنہوں نے اس بات میں سچ کہا جس پر انہوں نے اللہ سے عہد کیا۔“ دوسری ترکیب یہ ہے کہ ”صدق اللہ“ فعل و فاعل ہے، ”رسولہ“ پہلا مفعول ہے اور ”الرء یا“ دوسرا مفعول ہے۔ یعنی بلاشبہ یقینا اللہ نے اپنے رسول کو حق کے ساتھ سچا خواب دکھایا۔ اس صورت میں ”صدق“ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوگا۔ ”بالحق“ کا مطلب ہے واقعہ کے عین مطابق۔ (2) لتدخلن المجسد الحرام…: حدیبیہ روانہ ہونے سے پہلے مدینہ منورہ میں رسول اللہ ﷺ نے خواب دیکھا کہ آپ ﷺ اپنے صحابہ سمیت امن و اطمینان کے ساتھ کسی خوف کے بغیر مکہ میں داخل ہوتے ہیں، بیت اللہ کا طواف اور عمرہ کے دوسرے ارکان ادا کر رہے ہیں، پھر کوئی سر منڈوا رہا ہے اور کوئی کتروا رہا ہے۔ پیغمبر کا خواب چو کہ وحی ہوتا ہے اور کسی صورت جھوٹا نہیں ہوسکتا، اس لئے مسلمان بہت خشو ہوئے اور عوماً انہوں نے سمجھا کہ اسی سال مکہ میں داخلہ ہوگا، مگر جب مکہ میں داخل ہوئے بغیر حدیبیہ سے واپس پلٹے تو بعض صحابہ کے دلوں میں اس کے متعلق کچھ تردد پیدا ہوا کہ خواب پورا نہیں ہوا۔ تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر کے واضح فرمایا کہ پیغمبر ﷺ کو یہ خواب ہم نے دکھایا اور یہ بالکل سچ ہے جو یقیناً پورا ہوگا۔ چناچہ اس کے مطابق آپ ﷺ اگلے سال مکہ معظمہ میں داخل ہوئے اور امن و اطمینان کے ساتھ عمرہ ادا کر کے واپس آئے۔ حقیقت یہ ہے کہ خود خواب میں اس کے پورا ہونے کا وقت نہیں بتایا گیا تھا، جب کہ خواب کی تعبیر بعض اوقات کئی سال بعد جا کر ظاہر ہوتی ہے، جیسا کہ یوسف ؑ نے خواب دیکھنے کے کئی سال بعد والدین اور بھائیوں کے مصر میں آنے پر کہا (یابت ھذا تاویل ریای من قبل قد جعلھا ربی حقا) (یوسف : 100) ”اے میرے باپ ! یہ میرے پہلے کے خواب کی تعبیر ہے، بیشک میرے رب نے اسے سچا کردیا۔“ یہاں بعض مسلمانوں نے اپنے طور پر سمجھ لیا تھا کہ اسی سال مکہ معظمہ میں داخلہ ہوگا۔ چناچہ صحیح بخاری کی ایک لمبی حدیث میں ہے کہ جب صلح طے ہوچکی، تو عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں (فاتبت نبی اللہ ﷺ فقلت الست نبی اللہ حقا ؟ قال بلی، قلت السنا علی الحق وعلونا علی الباطل ؟ قال بلی، قلت فلم نعطی الدنیۃ فی دیننا اذا ؟ قال انی رسول اللہ ، ولست اغصہ وھو ناصری، قلت اولیس کنت تحدننا انا سناتی البیت فنطوف بہ ؟ قال بلی، فاخبر تک انا ناتیہ العام ؟ قال قلت لاء قال فانک آتیہ و مطوف بہ قال فاتیت ابابکر ففلت یا اببکرچ الیس ھذا نبی اللہ حقاً 1 قال بلی ، قلت السنا علی الحق و عدونا علی الباطل ؟ قال بلی قلت فلم نعطی الدنیۃ فی دیننا اذا ؟ قال ایھا الرجل ! انہ لرسول اللہ ﷺ ولیس یعصی ربہ و ھو ناصرہ، فاستمسک بغرہ، فو اللہ ! بانہ لعی الحق فلت الیس کان یحدتنا انا سناتی البیت و نطوف بہ ؟ قال بلی، افاخبرک الک ناتیہ الغام ؟ قلت لا، قال فانک آتیہ و مطوف بہ قال الزھری قال عمر فعمک لذلک اعمالاً) (بخاری، الشروط، باب الشروط فی الجھاد…: 2831، 2832)”تو میں نبی ﷺ کے پاس آیا، میں نے کہا، کیا آپ اللہ کے سچے نبی نہیں ہیں ؟“ آپ نے فرمایا :”کیوں نہیں ! میں نے کہا :”کیا ہم حق پر اور ہمارے دشمن باطل پر نہیں ؟“ فرمایا :”کیوں نہیں !“ میں نے کہا :”تو ایسے میں ہمیں اپنے دین میں ذلت کی بات کیوں قبول کروائی جاتی ہے ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”یقیناً میں اللہ کا رسول ہوں اور میں اس کی نافرمانی نہیں کرتا اور وہ میری مدد کرنیو الا ہے۔“ میں نے کہا : ”کیا آپ ہمیں بیان نہیں کیا کرتے تھے کہ ہم بیت اللہ میں جائیں گے اور اس کا طواف کریں گے ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا :”تو کیا میں نے والے اور اس کا طواف کرنے والے ہو۔“ عمر ؓ نے کہاک، پھر میں ابوبکر ؓ کے پاس گیا، میں نے کہا :”اے ابوبکر ! کیا یہ اللہ کے سچے نبی نہیں ہیں ؟“ انہوں نے کہا :”کیوں نہیں !“ میں نے کہا :”کیا ہم حق پر اور ہمارے دشمن باطل پر نہیں ؟“ کہا ”کیوں نہیں !“ میں نے کہا :”تو پھر ہمیں اپنے دین میں ذلت کی بات کیوں قبول کروائی جاتی ہے ؟“ انہوں نے کہا :”اے (اللہ کے) بندے ! آپ ﷺ یقیناً اللہ کے رسول ہیں اور آپ اپنے رب کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہ آپ کی مدد کرنے والا ہے، اس لئے آپ ﷺ کی رکاب کو مضبوط سے تھامے رکھو۔“ میں نے کہا :”کیا آپ ہمیں بیان نہیں کیا ک رتے تھے کہ ہم بیت اللہ میں جائیں گے اور اس کا طواف کریں گے ؟“ انہوں نے کہا :”تو کیا آپ ﷺ نے تمہیں بتایا تھا کہ تم اسی سال وہاں جاؤ گے ؟“ میں نے کہا :”نہیں !“ انہوں نے کہا :”تو تم یقیناً اس میں جاؤ گے اور اس کا طواف کرو گے۔“ زہری کہتے ہیں کہ عمر ؓ نے کہا :”پھر میں نے اس (جلد بازی کے کفارے) کے لئے کئی اعمال کئے۔“ صحیح بخاری میں ایک اور جگہ سہل بن حنیف ؓ سے عمر ؓ کی رسول ﷺ اور ابوبکر ؓ کے ساتھ یہ گفتگو اور ان کا یہی جواب مروی ہے، اس کے آخر میں ہے : فنزلت سورة الفتح فقراھا رسول اللہ ﷺ علی عمر الی اخرھا، فقال عمر یا رسول اللہ ! او فتح ہو ؟ قال نعم !) (بخاری، الجزیۃ و الموادعۃ ، باب انم من عاھدثم غدر : 3182)”اس موقع پر سورة فتح اتری تو رسول اللہ ﷺ نے عمر ؓ کو یہ سورت آخر تک پڑھ کر سنائی۔ عمر ؓ نے کہا :”اے اللہ کے رسول !ٖ کیا یہ فتح ہے ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا :”ہاں (یہ فتح ہے۔)“ (3) ان شآء اللہ : یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ ”ان شاء اللہ“ تو استثنا کے لئے کہا جاتا ہے کہ اگر اللہ نے چاہا تو یہ کام ہوجائے گا ورنہ نہیں، حتی کہ قسم کے بعد اگر ”ان شاء اللہ“ کہہ لیا جائے تو قسم بھی واقع نہیں ہوتی، کیونکہ اس میں جزم اور پختگی نہیں ہوئی، جبکہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں شک یا استثناء کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تو یہاں ”ان شآء اللہ“ کہنے کا کیا مطلب ہے ؟ اہل لم نے اس کے کئی جواب دیے ہیں۔ ابن کثیر ؒ نے فرمایا :”یہ ”ان شآء اللہ“ اس خبر کی تاکید اور اس کا یقین دلانے کے لئے ہے، استثنا کے لئے کس طرح بھی نہیں۔“ (ابن کثیر) ابن تیمیہ ؒ نے تاتاریوں کے مقابلے پر مسلمانوں کو ان کی فتح کا یقین دلاتے ہوئے اللہ کی قسم کھائی اور ان شاء اللہ کہا ساتھ ہی فرمایا ا :”ان شاء اللہ تحقیقاً لاتعلیقا“ ابن عاشور نے فرمایا :”ان شاء اللہ“ کا ایک استعمال یہ ہے کہ یہ کسی چیز کے متعلق اس وقت بولا جاتا ہے جب وہ ائٓندہ دیر سے واقع ہونے والی ہو، جیسے کسی سے کہا جائے کہ یہ کام کردو تو جیہوں میں سے تین توج ہیں ہیں ہیں، ایک یہ کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کو ادب سکھانے کے لئے ہے کہ وہ اپنے آئندہ ہر کام کے لئے ”ان شاء اللہ“ کہا کریں۔ (جیسا کہ سورة کہف (23، 24) میں فرمایا :(ولا تقولن لشای انی فاعل ذلک غدا الا ان یشآء اللہ) دوسری یہ کہ یہ استثناء ہر انسان کو الگ الگ پیش نظر رکھ کر کیا گیا ہے، کیونکہ ممکن ہے ان میں سے کوئی شخص اس داخلے سے پہلے فوت ہوجائے، یا بیمار ہونے کی وجہ سے نہ جاسکے۔ تیسری یہ کہ یہاں ”ان شآء اللہ“ ”اذا شاء اللہ“ کے معنی میں ہے کہ یقیناً تم مسجد حرام میں داخل ہوگے جب اللہ چاہے گا۔ آلوسی نے اس کی ایک مثال ”انا ان شاء اللہ بکم للاحقون“ دی ہے۔ یہ تمام جواب ہی درست، پختہ اور مضبوط ہیں۔ (4) امنین مخلقین : حج اور عمرہ میں احرام کھولنے پر سر منڈوایا یا کتروایا جاتا ہے۔ ”مخلقین“ کو پ ہلے لانے میں اس کے حق میں ایک دفعہ دعا کی۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(اللھم اغفر للمحلفین، قالوا وللمقصرین ، قال اللھم اغفر للمحلفین … قالھا ثلاثاً قال وللمقصرین) (بخاری، الحج، باب الحق و التفصیر عندالاحال :1828)”اے اللہ ! منڈوانے والوں کو بخش دے۔“ صحابہ نے کہا :”اور کتروانے والوں کو بھی۔“ آپ نے فرمایا : ”اے اللہ ! منڈوانے والوں کو بخش دے۔“ آپ ﷺ نے (صحابہ کے بار بار سوال پر) تین دفعہ پہلی دعا ہی کی، پھر فرمایا :”اور کتروانے والوں کو بھی بخش دے۔“ (5) مخلقین رء و سکو و مقصرین : اپنے سروں کو منڈوانے والے اور کتروانے والے۔ رؤ و سکم“ کا لفظ دلیل ہے کہ سر کو منڈوانا یا کتروانا ہے، ڈاڑھی کو نہیں۔ (6) لا تخافون : یہاں ایک سوال ہے کہ ”امنین“ ان لوگوں کو کہتے ہیں جنہیں کوئی خوف نہ ہو، پھر ”لاتخافون“ دوبارہ لانے کی کیا ضرورت تھی ؟ جواب یہ ہے کہ ”امنین“ ”لتدخلن“ کی ضمیر سے حال ہے، یعنی تم داخلے کے وقت امن کی حالت میں ہوگے اور ”لاتخاقون“ آئندہ کے لئے وعدہ ہے کہ آئندہ بھی تمہیں دشمن کے حملے یا اس کی کسی شاز کا خوف نہیں ہوگا۔ (7) فعلم مالم تعلموا : یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو خواب میں جو دھکایا تھا کہ تم ضرور مسجد حرام میں داخل ہوگے وغیرہ وہ بالکل سچ فرمایا تھا۔ تمہارے خیال میں یہ داخلہ اسی سال ہونا چاہیے تھا، مگر اسے تمہارے اس سال مکہ میں داخل نہ ہونے میں وہ حکمتیں معلوم تھیں جو تم نہیں جانتے تھے۔ ان حکمتوں سے مراد کچھ وہ حکت میں ہیں جن کا پیھچے ذکر ہوا، مثلاً صلح کی بدولت بیشمار لوگوں کا مسلمان ہونا، مکہ میں م وجود ان مومن مردوں اور مومن عورتوں کو نقصان سے محفوظ رکھنا، جن کا مسلمانوں کو علم نہیں تھا، مکہ میں داخلے سے پہلے پہلے فتوحات اور غنائم کے ذریعے سے مسلمانوں کی مالی اور عدی حالت کو مستحکم کرنا وغیرہ اور کچھ وہ حکمتیں مراد ہیں جنہیں علیم و حکیم ہی جانتا ہے۔ (8) فجعل من دون ذلک فتحاً قریباً : تو اس نے تمہارے مکہ میں داخل ہونے اور بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے ایک قریب فتح رکھ دی۔ اس فتح قریب سے مراد بعض نے فتح خیبر لی ہے اور بعض نے صلح حدیبیہ۔ زیادہ درست یہی ہے کہ مراد صلح حدیبیہ ہے، کیونکہ عمر ؓ نے آپ ﷺ سے اس کے متعق پوچھا :(یا رسول اللہ ! او فتح ھو ؟)”یا رسول اللہ ! کیا وہ فتح ہے ؟“ تو آپ ﷺ نے فرمایا :(نعم)”ہاں !“) (مسلم، الجھاد والسیر، باب صلح الحدیبیۃ :1885) جیسا کہ اس سے پہلے گزر چکا ہے اور ”انا فتحنا لک فتحامبیناً سے مراد بھی یہی ہے۔ دونوں بھی مراد ہوسکتی ہیں، البتہ فتح مکہ مراد نہیں ہوسکتی، کیو کہ مکہ میں داخلہ اس فتح سے پہلے بھی ہونے والا تھا۔
Ayah 48:28

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ Open ayah 48:28 in the Quran reader

وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا، تاکہ اسے ہر دین پر غالب کر دے اور اللہ گواہ کے طور پر کافی ہے۔

ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی …: اس سے پہلی آیت :(لقد صدق اللہ رسولہ الرء یا بالحق) اور یہ آیت :(ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق) دونوں آیتوں میں ”رسولہ“ کا لفظ واضح کر رہا ہے کہ یہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو مسجد حرام میں امن و اطمینان کے ساتھ داخل ہونے کا خواب سچا دکھایا ہے، بلکہ اس نے اپنے رسول کو ہدیات اور دین حق دے کر بھیجا ہی اس لئے ہے کہ وہ صرف مکہ نہیں بلکہ دین کو پوری زمین پر اور صرف جزیرہ عرب کے ادیان یہودیت، نصرانیت اور بت پرستی پر نہیں بلکہ دنیا کے تمام دینوں پر غالب کر دے اور یقیناً آپ امن و اطمینان کے ساتھ مسجد حرام میں داخل ہوں گے، مکہ اور جزیرہ عرب فتح ہوگا، پھر زمین کے مشرق و مغرب پر اللہ کا یہ دین چھا جائے گا۔ تفسیر قاسمی میں ہے، ابن تیمیہ نے فرمایا :”بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے اس دین کو علم، حجت اور بیان کے ساتھ ہر دین پر غالب فرما دیا، جیسا کہ اسے وقت، نصرت اور تائید کے ساتھ غالب فرمایا اور پوری زمین اس دین سے اور آپ ﷺ کی امت سے مشرق و مغرب تک بھر گئی۔ اہل اسلام کی سلطنت دائمی ہے، کوئی اسے اس طرح ختم نہیں کرسکتا جس طرح یہود کی سلطنت ختم ہوگئی اور ان کے بعد کتنی ہی قوموں کا اقتدار زمین کے بہترین علاقوں سے مٹ گیا۔“ یہ آیت اس سے پہلے سورة توبہ (33) میں گزر چکی ہے، وہاں اس کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ تیسری بار سورة صف (9) میں آئے گی۔