49. Surah Al-Hujuraat

الحجراتThe Inner Apartments · 18 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 49:9

وَ اِنْ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا١ۚ فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَى الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰى تَفِیْٓءَ اِلٰۤى اَمْرِ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَ اَقْسِطُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 49:9 in the Quran reader

اور اگر ایمان والوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو دونوں کے درمیان صلح کرا دو ، پھر اگر دونوں میں سے ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو اس (گروہ) سے لڑو جو زیادتی کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے، پھر اگر وہ پلٹ آئے تو دونوں کے درمیان انصاف کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف کرو، بیشک اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

(1) وان طآئفین من المومنین اقتلوا فاصلحوا بینھما : فاسق لوگوں کی خبر پر بلاتحقیق اعتماد کرلینے سے کئی دفعہ آپ س میں لڑائی ہوجاتی ہے اور کئی دفعہ ہر قسم کی پیش بندی کے باوجود لڑائی ہوجاتی ہے۔ اس آیت میں یہ بتایا کہ مسلمانوں کی باہمی لڑائی کے موقع پر ان لوگوں پر لازم ہے جو اس لڑائی میں شریک نہیں کہ لڑنے والوں کے درمیان صلح کروا دیں۔ ان کے لئے جائز نہیں کہ مسلمانوں کو لڑتے ہوئے ان کے حال پر چھوڑ دیں اور تماشا دیکھتے رہیں۔ (2) سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے :(ان اھل قباء اقتتلوا حتی تراموا بالحجارۃ فاخبر رسول اللہ ﷺ بذلک فقال اذھبوا بنا نصلح بینھم) (بخاری، الصلح ، باب قول الامام لاصحابہ اذھبوا…: 2693)”قبا میں رہنے والے لڑ پڑے، حتیٰ کہ انہوں نے ایک دوسرے پر پتھر پھینکے۔ رسول اللہ ﷺ کو خبر لمی تو آپ ﷺ نے فرمایا۔”ہمارے ساتھ چلو، تاکہ ہم ان کے درمیان صلح کروائیں۔“ اور انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ اگر آپ عبداللہ بن ابی کے پاس جائیں تو بہتر ہے، تو آپ ﷺ گدھے پر سوار ہو کر گئے، مسلمان بھی آپ کے ساتھ پیدل چلنے لگے۔ وہ زمین شور والی تھی، جب رسول اللہ ﷺ اس کے پاس آئے تو وہ کہنے لگا :”مجھ سے دور رہو، اللہ کی قسم ! تمہارے گدھے کی بدبو سے مجھے تکلیف ہو رہی ہے۔“ ایک انصاری صحابی نے کہا :”اللہ کی قسم ! رسول اللہ ﷺ کے گدھے کی خوشبو تجھ سے اچھی ہے۔“ عبداللہ بن ابی کی طرف سے اس کی قوم کا ایک آدمی غصے میں آگیا اور دونوں نے ایک دوسرے کو برا بھلا کہا، پھر دونوں طرف سے دونوں کے حمایتی مشتعل ہوگئے اور چھڑی، ہاتھوں اور جوتوں کے ساتھ ایک دوسرے کو مارنے لگے۔ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ یہ آیت اس موقع پر نازل ہوئی :(وان طآئفتن من المومنین اقتتلوا فاصلحوا بینھا) (بخاری ، الصلح ، باب ما جاء فی الاصلاح بین الناس :2691) (3) قرطبی نے فرمایا :”طائقہ کا لفظ ایک آدمی پر، دو پر اور زیادہ پر بھی بولاجاتا ہے۔”طآئفتن“ میں لڑنے والے دو آدمی بھی شامل ہیں اور دو جماعتیں بھی، چھوٹی ہوں یا بڑی۔ آیت میں لڑنے والے فریقوں کے درمیان صلح کروانے کا حکم ہے، خواہ دو مسلمان آپس میں لڑر ہے ہوں یا زیادہ۔“ (4) بعض احادیث میں کسی مسلمان سے لڑنے کو کفر اور لڑنے والوں کو کافر کہا گیا ہے، جیسا کہ عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا :(سباب المسلم فسوق و قتالہ کفر) (بخاری، ایمان، باب خوف المومن من ان یحبط عملہ…:78)”مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے۔“ اور عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ سے سنا :(لاترجعوا یعدی کفار یضرب بعضکم رقاب بعض) (بخاری، الفتن، باب قول النبی ﷺ ”لاترجعوا بعدی کفارا…“:8088)”میرے بعد پھر کافر نہ ہوجانا کہ دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔“ امام بخاری اور دور سے ائمہ کرام نے فرمایا کہ آیت :(وان طآئفتن من المومنین) دلیل ہے کہ مسلمان ایک دوسرے سے لڑنے کے باوجود مسلمان ہی رہتے ہیں، اسلام سے خارج یا مرتد نہیں ہوجاتے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے لڑنے والے دونوں فریقوں کو مومن قرار دیا ہے اور اس سے اگلی آیت میں بھی فرمایا :(انما المومنون اخوۃ فاصلحوا بین اخویکم) (الحجرات : 10) ”مومن تو (آپس میں) بھائی ہی ہیں، سو اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرا دو۔“ اسی طرح آیت قصاص میں قاتل کو مقتول کے وارث کا بھائی قرار دیا، فرمایا :(فمن عفی لہ من اخیہ شیءاتباع بالمعروف وادآء الیہ باحسان) (البقرۃ :188)”پھر جسے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ بھی معاف کردیا جائے تو معروف طریقے سے پیچھا کرنا اور اچھے طریقے سے اس کے پاس پہنچا دینا (لازم ہے۔“ رہا حدیث میں مسلمان سے لڑائی کو کفر قرار دینا تو اس سے وہ انسان اسلام سے خارج ہوتا ہے) سے کم تردرجے کا کفر ہے، کیونکہ گناہ کے تمام کام کفر اور جاہلیت ہیں اور ایسے شخص کو کافر کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس نے کفر کے کام کا ارتکاب کیا ہے، اس کا ایمان کامل نہیں بلکہ وہ ناقص الایمان مومن ہے، یہ نہیں کہ وہ ملت اسلام سے خارج ہوگیا۔ دلیل اس کی زیر تفسیر آیت اور دوسری بہت سی آیات و احادیث ہیں جو امام بخاری نے اپنی صحیح کی ”کتاب الایمان“ میں اور دوسرے ائمہ نے اپنی تصانیف میں ب یان فرمایء ہیں۔ اس آیت سے خوارج کے عقیدے کی نفی ہوتی ہے جو کسی بھی کبیرہ گناہ کے مرتکب کو، جس نے توبہ نہ کی ہو، کافر اور ابدی جہنمی سمجھتے ہیں اور معتزلہ کے عقیدے کی بھی جو کہتے ہیں کہ کبیرہ گناہ کا مرتکب نہ مومن ہے نہ کافر۔ انجام کے لحاظ سے وہ بھی اسے ابدی جہنمی قرار دیتے ہیں۔ (5) ان فقاتلوا التی تبعی : تو اس گروہ سے لڑو جو زیادتی کرتا ہے، کیونکہ اس لڑائی کا حکم اللہ نے دیا ہے، اس لئے یہ واجب ہے اور جہاد کے حکم میں ہے۔ اس حکم کے مخطاب وہ لوگ ہیں جو طاقت استعمال کر کے زیادتی کا ازالہ کرنے پر قادر ہوں۔ (7) حتی تقی الی امر اللہ :”تقی“ ”فاء یفی فیئاً“ (ض) لوٹنا، پلٹنا، یہ واحد مونث غائب مضارع معلوم ہے۔ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آنے کا مطلب یہ ہے کہ جو بات کتاب و سنت کی رو سے حق ہے باغی گروہ اسے قبول کرنے پر آماد ہوجائے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ باغی گروہ سے لڑتے وقت یہ بات مدنظر رکھنی چاہیے کہ لڑنے سے مقصود انہیں صلح پر مجبور کرنا ہے، انہیں ختم کر نا یا ان کا نام و نشان مٹانا مقصود نہیں۔ (8) یہ آیت مسلمانوں کی باہمی جنگ کے بارے میں شرعی فیصلوں کی بنیاد ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مسلمانوں کی آپس میں کوئی بڑی لڑائی نہیں ہوئی، چند موقعوں پر جھگڑا ہوا مگر نوبت ہاتھا پائی اور چھڑی جوتے سے آگے نہیں بڑھی۔ ان آیات کی عملی تفسیر اس وقت سامنے آئی جب علی ؓ کے عہد خلافت میں مسلمانوں کی آپ س میں لڑائیاں ہوئیں۔ اس وقت چونکہ رسول اللہ ﷺ کے تربیت یافتہ صحابہ کرام کثیر تعداد میں موجود تھے، جو قرآن و سنت کا علم بعد میں آنے والے کسی بھی شخص سے زیادہ رکھتے تھے، اس لئے ان کے عمل اور ان کے بیان کردہ احکام سے قیامت تک کے مسلمانوں کے لئے ایک اسوہ اور ضابطہ مرتبہ و گیا۔ اس طرح یہ جنگیں ناگوار اور نہایت تکلیف دہ ہونے کے باوجود خیر سے خالی نہیں رہیں، کیونکہ اگر یہ نہ ہوتیں تو اللہ بہتر جانتا ہے کہ بعد میں آنے والے مسلمان آپس کی لڑائیوں میں ایک دوسرے پر کیا کیا ظلم و ستم کرتے۔ اس ضابطے کا ضروری خلاصہ یہ ہے : (1) جب لڑنے والے دو گروہ کسی مسلم حکومت کی رعایا ہوں اور عام مسلمان انہیں صلح پر آمادہ نہ کرسکیں تو ان کے درمیان صلح کرانا یا یہ فیصلہ کرنا کہ ان میں زیادتی کرنے والا گروہ کون ہے، پھر طاقتکے ذریعے سے اس کو حق پر مجبور کرنا حکومت کا فریضہ ہے۔ (2) لڑنے والے دونوں فریق بہت بڑے طاقتور گروہ ہوں، یا دو مسلمان حکومتیں ہوں اور دونوں کی لڑائی دنیا کی خاطر ہو تو اس صورت میں اہل ایمان کا کام یہ ہے کہ اس فتنے میں حصہ لینے سے قطعی اجتناب کریں اور دونوں فریقوں کو اللہ کا خوف دلا کر جنگ سے باز رکھنے کی کوشش کرتے رہیں۔ (3) مسلم حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے رعایا کا کوئی گروہ اگر اس کے خلاف خروج کرے تو اس کی کئی قسمیں ہوسکتی ہیں، ایک یہ کہ مسلمانوں کا متفقہ حکمران موجود ہو اور اس کے خلاف خروج کرنے والوں کے پاس خروج کے لئے شرعی دلیل اور حکمران کا کفر بواح یعنی کھلم کھلا کافر ہوجانا موجود نہ ہو، ایسے گروہ کے خلاف حکومت کی جنگ بالاتفاق جائز ہے اور اس کا ساتھ دینا ایمان والوں پر واجب ہے۔ قطع نظر اس سے کہ حکومت عادل ہو یا نہ ہو، کیونکہ عادل نہ ہونے کا بہانہ بنا کر کوئی بھی گروہ کسی بھی وقت حکوت کے خلاف خروج کرسکتا ہے، جس کا نتیجہ افتراق و اتنشار اور کفار کو مسلمانوں پر حملے کی جرأت دلانے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ دوسری قسم ظالم حکمران کے خلاف خروج ہے، جس کی امارت جبراً قائم ہوئی ہو اور جس کے امراء فاسق ہوں اور خروج کرنے والا گروہ عدل اور حدود اللہ کی اقامت کے لئے اٹھا ہو اور اس کا ظاہر حال یہ بتارہا ہو کہ وہ نیک لوگ ہیں۔ اہل سنت کا موقف یہ ہے کہ جس امیر کی امارت ایک دفعہ قائم ہوچکی ہو اور مملکت کا امن و امان اور نظم و نسق اس کے انتظام میں چل رہا ہو اس کے خلاف خرج کرنا حرام ہے، الایہ کہ وہ کفر بواح کا ارتکاب کرے، یعنی کھلم کھلا کافر ہوجائے۔ امام نووی نے اس پر اجماع کا ذکر فرمایا ہے۔ بعض لوگ ایسے حکمران کے خلاف خروج کو جائز قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں اور اس سلسلے میں اہل بیت کے بعض خروج کرنے والے حضرات کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں اور بعض فقہاء کا نام بیھ لیا جاتا ہے جنہوں نے مسلم حکمرانوں کے لخا تلوار اٹھانے کو جائز قرار دیا، مگر محدثین اور جمہور فقہاء ان کے اس موقف کو غلط قرار دیتے ہیں، بلکہ اسے یہ موقف رکھنے والوں کے لئے باعث طعن قرار دیتے ہیں کہ ”فلان کان بری السیف“ کہ فلاں صاحب مسلمانوں کے خلاف تلوار اٹھانے کو جائز قرار یدتے تھے۔ امام احمد ابن حنبل اور دوسرے محدثین نے حکمران کے بےحد ظلم و ستم کے باوجود ان کے لخاف نہ خر وج کیا نہ خروج کو جائز رکھا۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ پوری تاریخ اسلام پڑھ جائیں کسی خروج کے نتیجے میں مسلمانوں کو تشت و انتشار اور کفار سے جہاد کے رک جانے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا، خواہ حکمران عادل تھا یا ظالم۔ اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے حکمرانوں کے سامنے حق کہنے اور ان ک وصنیحت کرنے کی تلقین فرمائی، مگر ان کے خلاف خروج سے سختی کے ساتھ منع فرما دیا۔ چند احادیث ملاحظہ فرمائیں، ابن عباس ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(من رای من امیرہ شیئاً یکرھہ فلیصبر، فانہ لیس احد یقارق الجماعۃ شبراً فیموت الا مات میتہ جاھلیۃ) (بخاری، الاحکام، باب السمع والطاعۃ للامام مالکم تکن معصیۃ :8133)”جو شخص اپنے امیر میں کوئی چیز دیکھے جو اسے بری لگے تو وہ صبر کرے، کیونکہ جو بھی شخص جماعت سے ایک بالشت جدا ہوا پھر فوت ہو تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔“ عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں :(دعانا النبی صلیا للہ علیہ وسلم فبایعناہ فقال فیما اخذ علینا ان بابعنا علی السمع والطاعۃ فی منشطنا ومکرھنا وعسرنا ویسرنا واثرہ علینا، وان لاننازع الامر اھلہ الا ان تروا کفرا بواحاً عندکم من اللہ فیہ برھان) (بخاری، الفتن، باب قول النبی ﷺ :”سترون بعدی امور شکرونھا“:8066، 8056)”رسول اللہ ﷺ نے ہمیں دعوت دی تو ہم نے آپ سے بیعت کی۔ آپ نے ہم سے جو عہد لیا اس میں یہ تھا کہ ہم نے بیعت کی سننے اور اطاعت کرنے پر ، اپنی خوشیا ور ناخوشی میں اور اپنی تن گی اور آسانی میں اور اپنے آپ پر دوسروں کو ترجیح دیئے جانے پر بھی اور اس بات پر کہ ہم صاحب امر (حکمران) سے امارت میں جھگڑا نہیں کریں گے، الایہ کہ تم صریح کفر دیکھو، جس کے متعلق تمہارے پاس اللہ کے ہاں واضح دلیل ہو۔“ (4) علی ؓ کا عمل اپنے خلاف جنگ کرنے والوں کو باغی سمجھنے اور ان سے لڑنے کے باوجود یہ تھا کہ وہ مسلمان ہیں، ان کے زخمیوں کو ق تل نہیں کیا جائے گا، ان کے بھگانے والوں کا پیچھا نہیں کیا جائے گا، ان کے اسیروں کو قتل نہیں کیا جائے گا، ان کی عورتوں اور بچوں کو لونڈی و غلام نہیں بنایا جائے گا، بلکہ ان کی آبرو کی حفاظت ک کی جائے گی اور ان کا مال غنیمت کے طور پر تقسیم نہیں کیا جائے گا۔ جنگ جمل اور جنگ صفین میں دونوں فریقف ایک دوسرے کو مسلمان سمجھتے اور ایک دوسرے کا جنازہ پڑھتے تھے۔ احکام یک تفصیل اور دلائل کے لئے دیکھیے ”المغنی“ از ابن قدامہ میں ”کتاب قتال اھل البغی“ اور دسویر کتب فقہ۔ (9) فان فاء ت فاصلحوا بینھما بالعدل : زیادتی کرنے والے گروہ کے اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آنے پر دونوں گروہوں کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کروانے کا حکم دیا، یہ نہیں کہ کسی فریق کی بےجا رعایت کرکے اور دوسرے کو دبا کر صرف لڑائی روکنے کے لئے صلح کروئای جائے، کیونکہ ایسی صلح نہ پائیدار ہتوی ہے، نہ اس سے آئندہ کے لئے لڑائی کا دروازہ بند ہوتا ہے۔ اسلئے ایک فریق پر دوسرے کا جو حق ثابت ہوتا ہے وہ اسے دلا کر عدل کے ساتھ صلح کرواین چاہیے۔ 10۔ اقسطوا : یہاں ایک سوال ہے کہ اس سے پہلے فرمایا : دونوں کے درمیان انصاف کے ساتھ صلح کروا دو ، پھر دوبارہ ”اقسطوا“ کہنے میں کیا حکمت ہے ؟ اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ لڑائی کے موقع پر بعض لڑنے والوں کے لخاف دل میں شدید نفرت پیدا ہوجاتی ہے، جس کی وجہ سے انسان دسرت فیصلہ نہیں کرسکتا، اس لئے تاکید کے لئے دوبارہ انصاف کا حکم دیا اور انصاف کرن والوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی محبت کی نوید سنائی۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ پہلے جملے میں لڑنے والوں کے درمیان علد کے ساتھ صلح کروانے کا حکم ہے اور ”اقسطوا“ میں اپنے تمام معاملات میں اصناف سے کام لینے کا حکم ہے۔ انصاف کیا ہے ؟ اس کے لئے دیکھیے سورة نحل (90) کی تفسیر۔ (11) ان اللہ یحب المقسطین : ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(سبعۃ یظلھم اللہ تعالیٰ فی ظلہ یوم لا ظل الا ظلہ، امام عدل …) (بخاری، الزکوۃ، باب الصدقۃ بالیمین : 1323)”سات آدمی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے سائے میں جگہ دے گا جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہوگا۔ (سب سے پہلے جس کا ذکر فرمایا وہ ہے) عادل حکمران…“ عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ان المقسطین عند اللہ علی منابر من نور عن یمین الرحمن عزوجل وکلتا یدیہ یمین الذین یعدلون فی حکمھم واھلیھم وما ولوا) (مسلم، الامارۃ ، باب فضیلتۃ الامام العادل …:1828)”انصاف کرنے والے اللہ کے پاس نور کے منبروں پر رحمان عزو جل کی دائیں جابن ہوں گے اور اس کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے فیصلوں میں اور اپنے گھر والوں میں اور جس کے ذمہ دار ہیں سب میں انصاف کرتے ہیں۔“
Ayah 49:10

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۠ Open ayah 49:10 in the Quran reader

مومن تو بھائی ہی ہیں، پس اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کراؤ اور اللہ سے ڈرو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

(1) انما المومنون اخوۃ : لڑائی سے باز رکھنے کا سب سے موثر ذریعہ لڑنے والوں کو قربات کا احساس دلانا ہے کہ دیکھو تم کس سے لڑر ہے ہو ؟ اپنے ہی بھائی سے، یہ کتنی بری بات ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کی دینی قربات کا احساس دلایا، جو نسبی قربات سے بھی زیادہ مضبوط ہے۔ اسلام کی آمد سے پہلے جو لوگ نسبی قرابت کے باوجود ایک دوسرے کے شدید دشمن تھے، جیسا کہ اوس اور خزرج کا معاملہ تھا ، اللہ کی نعمت سے اسلام کی بدولت بھائی بھائی بن گئے۔ (دیکھیے آل عمران : 103) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(المسلم اخو المسلم لا یظلمہ، ولا یسلمہ) (بخاری، خ المظالم، باب لایظلم المسلم المسلم ولایسلمہ : 2332، عن ابن عمر ؓ)”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرنا ہے اور نہ اسے بےیارو مددگار چھوڑتا ہے۔“ (2) فاصلحوا بین اخویکم :”اخ“ کا تثنیہ ”اخوان“ اور ”اخوین“ ہے جو ”کم“ کی طرف مضاف ہوا تو نون اعرابی گرگیا اور ”اخوی“ باقی رہا جو ”کم“ کے ساتھ مل کر ”اخویکم“ ہوگیا ، سو اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کروا دو ، وہ دو خواہ ایک ایک فرد ہوں یا ایک ایک جماعت ہوں۔ (3) واثقوا اللہ لعلکم ترحمون : یعنی صلح کرواتے وقت اس بات کو محلوظ رکھو کہ تم اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کروا رہے ہو، جن کا تمہارے ساتھ بھی اخوت کا رشتہ ہے۔ لہٰذا اس رشتے کا خیال رکھو اور پوری طرح عدل و انصاف کے ساتھ اللہ تعالیٰ ستے ڈرتے ہوئے اس طرح صلح کرواؤ کہ نہ کسی فریق کی حق تلفی ہو اور نہ کسی پر زیادتی ہو۔ اگر تم اللہ سے ڈرتے ہوئے یہ فریضہ سر انجام دو گے تو یقینا ؓ تم پر رحم فرمائے گا۔“ لعل“ کا لفظ امید دلانے کے لئے ہوتا ہے، مگر بڑے لوگوں کے کلام میں اس سے یقین حاصل ہوتا ہے، کیونکہ امید دلا کر اسے پورا نہ کرنا ان کی شان کے لائق نہیں ہوتا۔ پھر جو شاہوں کا شاہ اور ساری کائنات کا مالک ہے وہ امید دلائے تو اس کے یقینی ہونے میں کیا شبہ ہے ؟ اس کے علاوہ ”لعل“ کا لفظ ”تاکہ“ کے معنی میں بھی آت ا ہے۔ مطلب یہ کہ ؓ کا رحم انہی لوگوں پر ہوتا ہے جو اس سے ڈرتے ہیں، اس لئے بھائیوں کے درمیان صلح کرواتے ہوئے ؓ سے ڈرو اور عدل کے ساتھ صلح کرواؤ، تاکہ تم پر اللہ کا رحم ہو۔ (4) یہ آیت دنیا بھر کے مسلمانوں ک وایک برادری میں منسلک کردیتی ہے۔ مسلمان خواہ دنیا کے کسی دوسرے کونے میں ہو، دوسرے سب مسلمان اسے بھائی سمجھتے ہیں۔ اسلام کے سوا ایسا رشتہ اور کہیں نہیں پایا جاتا۔ (کیلانی)
Ayah 49:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّ١ۚ وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ١ؕ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 49:11 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! کوئی قوم کسی قوم سے مذاق نہ کرے، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ کوئی عورتیں دوسری عورتوں سے، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ اپنے لوگوں پر عیب لگاؤ اور نہ ایک دوسرے کو برے ناموں کے ساتھ پکارو، ایمان کے بعد فاسق ہونا برا نام ہے اور جس نے توبہ نہ کی سو وہی اصل ظالم ہیں۔

(1) یایھا الذین امنوا…: گزشتہ آیات میں مسلمانوں کے آپ س میں لڑنے کی صورت میں ان کے درمیان صلح کروانے کا حکم دیا، اس سے پہلے بلاتحقیق خبر پر عمل سے منع فرمایا تھا، کیونکہ اس سے لڑائی پیدا ہوسکتی ہے اور لاعلمی میں نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتی ہے۔ یہاں سے مزید ان چیزوں سے منع فرمایا جو اسلامی اخوت کو نقصان پہنچاتی ہیں اور باہمی عداوت اور لڑائی کا باعث بنتی ہیں۔ اس آیت میں ایسی تین چیزیں ذکر فرمائیں :(1) کسی کا مذاق اڑانا۔ (2) کسی پر عیب لگانا۔ (3) کسی کو برے لقب سے پکارنا۔ (2) لایسخر قوم من قوم :”سخر یسخر سخر وسخراً و سخراً و سخرا و سخرۃ و مسخراً بہ و منہ“ (َ) استہزائ، مذاق اڑانا، ٹھٹھا کرنا، و ہنسی جس سے دوسرے کی تحقیر اور دل آزاری ہو۔ وہ ہنسی جس سے دوسرے کا دل خوش ہو وہ مزاح کہلاتی ہے، وہ جائز ہے بلکہ مسنون ہے۔ کشاف میں ہے :”قوم کا لفظ مردوں کے ساتھ خاص ہے، کیونکہ مرد عورتوں کے ”قوام“ ہوتے ہیں جیسا کہ شاعر نے کہا ہے۔ ولا اذری و سوف اخال ادری اقوم ال حصن ام نساء ”اور میں نہیں جانتا اور میرا خیال ہے کہ میں جل ہی جان لوں گا کہ آل حصن قوم (یعنی مرد) ہیں یا عورتیں۔“ یہ آیت بھی اس بات کی دلیل ہے ، کیونکہ قوم کو ٹھٹھا کرنے سے منع کرنے کے بعد عورتوں کو اس سے منع فرمایا ہے۔ رہی یہ بات کہ قرآن میں مذکور قوم فرعون اور قوم ثمود وغیرہ میں مرد اور عورتیں دونوں شامل ہیں تو اصل یہ ہے کہ وہاں مردوں کے ذکر پر اکتفا کیا گیا ہے، کیونکہ عورتیں ان کے تابع ہیں۔ (3) پہلی چیز جس سے منع فرمایا وہ کس کا مذاق اڑانا یا تمسخ رہے، کیونکہ اس سے دلوں میں شدید بغض پیدا ہوتا ہے۔ جس کا مذاق اڑایا جائے وہ اسے اپنی تذلیل سمجھ کر ہر وقت اتنقام کے موقع کی تلاش میں رہتا ہے اور ظاہر ہے انتقام میں بات کاں سے کہاں تک جا پہنچتی ہے۔ کوئی شخص کسی کا ٹھٹھا اسی وقت اڑاتا ہے جب وہ اپنے آپ کو اس سے بہتر اور اس کو اپنے سے حقیر اور کمتر سمجھتا ہے اور یہ سمجھنا تکبر ہے، جس پر شدید وعید ائٓی ہے۔ عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا : ولا یدخل الجنۃ من کان فی قلبہ مثقال ذرۃ من کبر، قال رجل ان الرجل یحب ان یکون نوبہ حسنا ونعلہ حسنۃ، قال ان اللہ جمیل یحب الجمال، الکبر بطر الحق و غمط الناس) (مسلم، الایمان ، باب تحریم الکبر و بیانہ : 91)”وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہوگا۔“ ایک آدمی نے کہا : ”آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کا کپڑا اچھا ہو اور اس کا جوتا اچھا ہو (تو کیا یہ بھی تکبر ہے) ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا :”بیشک اللہ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے۔ تکبر تو حق کے انکار اور لوگوں کو حقیر جاننے کا نام ہے۔“ یہاں قوم کو قوم کم مذاق اڑانے سے منع فرمایا، کیونکہ عموماً کسی مجلس ہی میں کسی کا مذاق اڑایا جاتا ہے ، ورنہ اکیلے کا مذاق اڑانا بھی منع ہے۔ (4) عسی ان یکونوا خیراً منھم : مذاق اڑانے سے منع کرنے کی وجہ بیان فرمائی کہ جسے تم حقیر سمجھ کر ذلیل کر رہے ہو، ہوسکتا ہے وہ اللہ کے ہاں تم سے بہتر ہو، کیونکہ اچھا یا برا ہونے کا دار وم دار ظاہری شکل و صورت پر نہیں، بلکہ دل کے تقویٰ پر ہے اور اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ پھر دار و مدار موجودہ حالت پر نہیں بلکہ خاتمے پر ہے، تمہیں کیا معلوم کہ اس کا خاتمہ تم سے اچھا ہو جسے تم حقیر سمجھ کر ذلیل کر رہے ہو۔ (5) ولا نسآء من نسآء عسی ان یکن خیراً منھن : قرآن مجید میں عموماً احکام کے لئے مردوں ہی کو مخطاب کیا گیا ہے، عورتوں کا ذکر تابع ہونے کی وجہ سے لاگ نہیں کیا گیا۔ یہاں عورتوں کو الگ بھی خطاب فرمایا، اس سے ظاہر ہے کہ عورتوں کو اس گناہ سے روکنے کی خاص ضرورت ہے۔ یہاں ایک سوال ہے کہ اس آیت میں مردوں کو مردوں سے اور عورتوں کو عورتوں سے ٹھٹھا کرنے سے منع فرمایا تو کیا مرد عورتوں سے یا عورتیں مردوں سے ٹھٹھا کرسکتی ہیں ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ مسلم معاشرہ میں مردوں اور عورتوں کے ملے جلے معاشرے کی گنجئاش ہی نہیں، جس میں وہ ایک دوسرے کا بےتکلف مذاق اڑا سکیں۔ یہاں مردوں اور عورتوں کی مجلسیں الگ الگ ہوتی ہیں، اس لئے دونوں کو الگ الگ منع فرمایا۔ (6) مذاق خواہ زبان کے ساتھ اڑایا جائے یا کسی کے نقصک ی طرف اشارہ کر کے یہ نقل اتار کر، ہر طرح کا مذاق حرام ہے۔ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے کہاک :(حسبک من صفیۃ کذا وکذا ، قال غیر مسدد تعنی فصیرۃ فقال لقد قلت کلمۃ لو مرجث بماء البحر لمرجنہ قالت و حکیت لہ انساناً فقال ما احب انی حکمت انسانًا و ان لی کذا وکذا) (ابوداؤد، الادب ، باب فی الغیۃ :3858 وقال الابانی صحیح)”آپ کو صفیہ سے یہی کچھ کافی ہے کہ وہ ایسے ایسے ہے۔“ مسدد کے علاوہ دوسرے راوی نے وضاحت کی کہ مرادان کے قد کا چھوٹا ہونا تھا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا :”یقینا تم نے ایسی بات کہی ہے کہ اگر سمندر کے پانی میں ملا دی جائے تو سارے پانی کو خراب کر دے۔”عائشہ ؓ نے بیان کیا :”اور میں نے آپ کے سامنے کسی انسان کی نقل اتاری (تو اس کا کیا حکم ہے ؟)“ آپ ﷺ نے فرمایا :”میں پسند نہیں کرتا کہ میں کسی انسان کی نقل ات اورں، خواہ مجھے یہ یہ کچھ مل جائے۔“ (7) ولا ت لمزوا انفسکم :”لمز یلمز لمزا“ (ض ، ن) کسی پر عیب لگانا ، خفی کلام کے ساتھ آنکھ کا اشار کرنا، دھکا دینا، مارنا۔ مزید دیکھیے سورة ہمزہ کی آیت (1):(ویل لکل ھمزۃ لمزۃ) کی تفسیر۔ اللہ تعالیٰ نے یہ کہنے کے بجائے کہ کسی پر عیب نہ لگاؤ، یہ فرمایا کہ اپنے آپ پر عیب نہ لاگوء جیسا کہ فرمایا :(لاتقتلوا انفسکم) (النسائ : 29)”اپنے آپ کو قتتل نہ کرو۔“ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ تمام مسلمان ”کالجسد الواحد“ (ایک جسم کی مانند) ہیں، عیب لگانے والے کو یہ یاد رکھنی چاہیے کہ جب وہ کسی مسلم بھائی پر عیب لگا رہا ہے تو درحقیقت وہ اپنے آپ ہی پر عیب لگا رہا ہے، سو اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ جب یہ دوسروں پر عیب لگائے گا تو عیب سے خالی تو یہ بھی نہیں اور دوسرں کی آنکھیں بھی ہیں اور زبان بھی، پھر اس کے عیوب بھی ظاہر کئے جائیں گے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :”اپنے آپ پر عیب مت لگائگو۔“ اس آیت میں لوگوں کے سامنے کسی کے عیب ظاہر کرنے اور ان کا طعنہ دینے سے منع فرمایا، اگلی آیت میں کسی کی عدم موجودگی میں اس کے عیب ذکر کرنے یعنی غیبت سے بھی منع کیا۔ صرف ایک بات کی اجازت ہے اور وہ ہے نصیحت کہ اپنے بھائی کو الگ لے جا کر اسے اس کی غلطی بات کر درست کرنے کی نصیحت کرے، جس طرح آئینہ غلطی بتاتا ہے مگر شور نہیں ڈالتا۔ لوگوں کے سامنے کسی مسلم کے منہ پر یا اس کی عدم موجودگی میں اس کے عیب کا اظہار کرنے کے بجائے اس پر پردہ ڈلانے کا حکم ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(المسلم اخوالمسلم، لایظلمہ ولایسلمہ، ومن کان فی حاجۃ اخیہ کان اللہ فی حاجتہ ، ومن فرج عن مسلم کر بۃ فرج اللہ عنہ کر بۃ من کر بات یوم القیامۃ و من ستر مسلما سترہ اللہ یوم القیامۃ (بخاری، المظالم، باب لا یظلم المسلم المسلم ولا بسلمہ :2332 عن ابن عمر ؓ)”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرنا ہے اور نہ اسے بےیارو مددگار چھوڑتا ہے اور جو شخص اپنے بھائی کے کام میں ہو اللہ اس کے کام میں ہوتا ہے اور جو کسی مسلم سے کوئی تکلیف دور کرے اللہ تعالیٰ قیامت کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف اس سے دور فرمائے گا اور جو کسی مسلم پر پردہ ڈلاے، ؓ اس پر پردہ ڈالے گا۔“ (8) ولا تنا بروا بالالقاب :”النبر“ (نون اور باء کے فتحہ کے ساتھ) برے لقب کو کہتے ہیں، مثلاً لنگڑا، لولا، اندھا، کالا، ٹھگنا، کبڑا، گدھا، لومڑ یا کوئی بھی نام جس سے کسی کو تکلیف ہوتی ہو، مثلاً کسی سے کوئی گناہ ہوا ہو، تائب ہونے کے بعد عار دلانے کے لئے اسے چور یا زانی یا شربای کہہ کر پکارنا۔ لقب ایسے نام کو کہتے ہیں جس سے کسی خوبی یا خامی کا اظہار ہوتا ہو، خواہ آدمی نے خود اپنے لئے رکھا لیا ہو یا کسی دوسرے نے رکھ دیا ہو۔ یہاں ”لاتنابروا“ کے قرینے سے لقب سے مراد برا نام ہے، کیونکہ اچھے القاب سے پکارنا تو قابل تعریف ہے، جیسے ابوبکر صدیق، عمر فاورق، حمزہ اسد اللہ، خالد سیف اللہ ، ابوعبیدہ امین الامت، حذیفہ صاحب سر رسول اللہ ، عبداللہ بن مسعود صاحب المطہرۃ والو سادۃ والنعلین ؓ۔ اس کے علاوہ عرب کا طریقہ اکرام کرتے ہوئے کنیت کے ساتھ پکارنے کا تھا، جس یا سلام نے برقرار رکھا۔ مومن کا حق یہ ہے کہ اسے اس نام سے پکارا جائے جو اسے اپنے لئے سب سے زیادہ پسند ہو، کیونکہ یہ محبت پیدا کرنے اور اسے قائم رکھنے کا باعث ہے۔”ولا تنا بروا بالالقاب“ یعنی کوئی شخص کسی دوسرے کا برا نام نہ رکھے جس سے وہ ناراض ہو، یا اس کی توین و تذلیل ہوتی ہو اور نہ ایسے نام کیساتھ اسے آواز دے کر پکارے۔ جاہلیت میں یہ بات عام تھی کہ ایک شخص نے دوسرے کا برا لقب رکھا تو اس نے اس کا رکھ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرما دیا۔ ابو جبیرہ بن ضحاک ؓ بیان کرتے ہیں :”آیت :(ولاتنا بزوا بالالقاب بئس الاسم الفسوق بعد الایمان) ہم بنو سلمہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ مدینہ میں آئے تو ہم میں سے ہر آدمی کے دو دو، تین تین نام تھے نبی ﷺ کسی کو کوئی نام لے کر بلاتے تو لوگ کہتے :”یا رسول اللہ ! اسے اس نام سے نہ بلائیں، کیونکہ وہ اس سے ناراض ہوتا ہے۔“ تو اس پر آیت (ولا تنا بزوا بالالقاب) اتری۔“ (ابوداؤد، الادب، باب فی الاقاب :3962) (9) اس حکم سے وہ القاب مستثنیٰ ہیں جو کسی کی پہچان بن چکے ہوں، نہ اس نام والا اسے برا سمجھتا ہو اور نہ اس سے مقصود تحقیر یا تذلیل ہو، بلکہ مقصود صرف تعارف ہو، جیسے سلیمان الاعمش (چندھیائی ہوئی آنکھوں والا): واصل الاحدب (کبڑا) ، حمید الطویل (لمبا) ، ابوہریرہ اور ذوالیدین وغیرہ۔ (10) بئس الاسم الفسوق بعد الایمان : اس سے معلوم ہوا کہ اوپر جن چیزوں سے روکا گیا ہے وہ سب فسوق ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ جو شخص ان کاموں کا ارتکاب کرے وہ مومن ہونے کے باوجود فاسق ہے اور یہ بہت بری بات ہے کہ آدمی کا نام فاسق رکھا جائے، اسکے بعد کہ اس کا نام ممنون ہے۔”بعد الایمان“ (ایمان کے بعد) اس لئے فرمایا کہ اگر تم ایمان کا شرف حاصل نہ کرچکے ہوتے تو فاسق یا بدمعشا کہلانے میں عار کی کئیو خاص بات نہ تھی، لیکن اب ایمان لے آنے کے بعد یہ نام تم پر آنا بہت بری بات ہے۔ تمہیں یہ بات مدنظر رکھنی چاہیے کہ اب تم وہ ہو جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(ولکن اللہ حبب الیکم الایمان وزینہ فی قلوبکم و کرہ الیکم الکفروا الفسوق والعصیان) (الحجرات : 8) ”اور لیکن اللہ نے تمہاریلئے ایمان کو م حبوب بنادیا اور اسے تمہارے دلوں میں مزین کردیا اور اس نے کفر اور گناہ اور نافرمانی کو تمہارے لئے ناپسندیدہ بنادیا۔“ تو تمہیں ہر ایسے کام سے اجتناب کرنا چاہیے جس سے تم پر فسق کا نام آئے (11) ومن لم یتب فاولئک ھم الظلمون :”الف لام“ کمال کا ہے، یعنی اگرچہ جو بھی گناہ کرے ظالم ہے مگر توبہ سے اس ظلم کی تلافی ہوجاتی ہے۔ اصل ظالم وہی ہیں جو گناہوں پر اصرار کرتے ہیں اور توبہ کئے بغیر فوت ہوجاتے ہیں۔
Ayah 49:12

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ١٘ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا١ؕ اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:12 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! بہت سے گمان سے بچو، یقینا بعض گمان گناہ ہیں اور نہ جاسوسی کرو اور نہ تم میں سے کوئی دوسرے کی غیبت کرے، کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ اپنے بھائی کا گوشت کھائے، جبکہ وہ مردہ ہو، سو تم اسے ناپسند کرتے ہو اور اللہ سے ڈرو، یقینا اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

(1) یا یھا الذین امنوا اجتنبوا…: پچھلی آیت میں مسلمانوں کے باہمی تعلقات خراب کرنے والی ایسی چیزوں سبے منع فرمایا تھا جو ایک دوسرے کے سامنے ظاہر ہوتی ہیں، یعنی مذاق اڑانا، عیب لگانا اور برے نام سے پکارنا، اب ان تین چیزوں سے منع فرمایا جو دوسرے بھائیوں سے تعلق رکھتی ہیں مگر انہیں ان کی خبر ہی نہیں ہوتی۔ وہ ہیں بدگمانی، جاسوسی اور غیبت۔ یہ تینوں کام انتہائی کمینگی اور بزدلی کے کام ہیں، کیونکہ انہیں کرنے والے میں جرأت ہی نہیں ہوتی کہ وہ لوگوں کے سامنے آسکے۔ یہ اس سورت کی پانچویں آیت ہے جس کا آغاز ”یایھا الذین امنوا“ سے ہوا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ یہ تینوں کا م ایمان اور اس کے دعوے کے منافی ہیں، اسلئے ان سے بچ جاؤ۔ (2) اجتنبوا کثیراً من الظن…: یہلی بات یہ فرمائی کہ اس چیز سے بچو کہ کسی کے متعق جو سنو یا دیکھو اس کے متعلق براگمان ہی قائم کرلو، بلکہ جہاں تک ہو سکے مومن کے تمام اقوال و اعمال کے متعلق اچھا گمان رکھنے کی کوشش کرو، کیونکہ بعض گمان بالکل بےبنیاد اور گناہ ہوتے ہیں۔ اس لئے زیادہ گمان سے بچو، کیونکہ اس کا نتیجہ ایسے گمانوں میں پڑجانا ہے۔ جو گنا ہ ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے بعض گمانوں کو گناہ قرار دیا ہے، سب گمانوں کو نہیں، کیونکہ ظن کی کئی قسمیں ہیں۔ ایک ظن غالب ہے، جو کسی دلیل یا مضبوط علامت کے ساتھ قوی ہوجائے، اس پر عمل کرنا دسرت ہے۔ شریعت کے اکثر احکام اس پر مبنی ہیں اور دنیا کے تقریباً تمام کام اسی پر چلتے ہیں، مثلاً عدلاتوں کے فیصلے، گواہوں کی گواہی، باہمی تجارت، ٹیلی فون اور خطوط کے ذریعے سے اطلاعات اور خبر واحد کے راویوں کی روایات۔ ان سب چیزوں میں غور و فکر، جانچ پڑتالا ور پوری کوشش سے حاصل ہونے والا علم بھی ظن غالب ہے، مگر اس پر عمل واجب ہے۔ اسے ظن اس لئے کہتے ہیں کہ اس کی مخالف جانب کا یعنی اس کے درست نہ ہونے کا نہایت ادنیٰ سا امکان رہتا ہے، مثلاً ہوسکتا ہے کہ گواہ کی گواہی درست نہ ہو، اطلاع دینے والا جھوٹ بول رہا ہو، یا راوی کو غلطی لگی ہو، مگر اس امکان کا کوئی اعتبار نہیں۔ اس مکان پر جائیں تو دنیا کا کوئی کام ہو ہی نہ سکے۔ اس لئے اپنی پوری کوشش کے بعد دلائل سے جو علم حاصل ہو اس پر بھی اگرچہ ظن کا لفظ بول لیا جاتا ہے مگر درحقیقت یہ علم ہے اور اس پر عمل واجب ہے۔ ظن کی ایک قسم یہ ہے کہ کسی وجہ سے دل میں ایک خیال آکر ٹھہغر جاتا ہے مگر اس کی کوئی دلیل نہیں ہوتی۔ دلیل نہ ہونے کی وجہ سے دل میں اس کے ہونے یا نہ ہونے کا امکان برابر ہوتا ہے، اسے شک بھی کہتے ہیں، یا اس کے ہونے کا امکان اس کے نہ ہونے کے امکان سے کم ہوتا ہے، یہ وہم کہلاتا ہے۔ ظن کی یہ صورتیں مذموم ہیں اور ان سے اجتناب واجب ہے۔”ان بعض الظن اثم“ (بےشک بعض گمان گناہ ہیں) سے یہی مراد ہے اور اللہ تعالیٰ کے فرمان :(ان الظن لا یغنی من الحق شیئاً) (یونس : 36) (بےشک گمان حق کے مقابلے میں کچھ فائدہ نہیں دیتا) اور اللہ کے فرمان :(ان یتبعون الا الظن وما تھوی الانفس) (النجم : 23) (یہ لوگ صرف اپنے گمان کی اور اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں) میں اسی ظن کا ذکر ہے اور اسی کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ایاکم والظن ، فان الظن اکذب الحدیث) (بخاری، الادب، باب :(یایھا الذین امنوا اجتنبوا کثیرا من الظن…): 6066)”گمان سے بچوچح کیونکہ گمان سب سے جھوٹی بات ہے۔“ اسے سب سے جھوٹی بات اس لئے کہاک گیا کہ جب کوئی شخص کسی کے متعلق بدگمانی کرتا ہے تو وہ دلیل کے بغیر فیصلہ کرلیتا ہے کہ وہ شخص ایسا ایسا ہے۔ چونکہ حقیقت میں وہ شخص ایسا نہیں ہوتا، اس لئے اس کے اس فیصلے کو جھوٹ کہا گیا ہے اور سب سے بڑا جھوٹ اس لئے کہ اس نے بغیر کسی قرینے یا سبب کے محض نفس یا شیطان کے کہعنے پر اسے برا قرار دے لیا، جب کہ اس کے برے ہونے کی کوئی بنیاد ہی نہیں۔ (3) آیت میں ایسے گمان سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے جو بےدل یل ہو، مثلاً ایک آدمی جو ظاہر میں صالح ہے، اس کے عیوب پر اللہ کی طرف سے پردہ پڑا ہوا ہے، عام مشاہدہ میں وہ عفیف اور امانت دار ہے اور اس کے بددیانت یا گناہ گار ہونے کی کوئی دلیل یا علامت موجود نہیں، اس کے متعلق بدگمانی کرنا حرام ہے۔ ہاں ، اگر گمان کرنے کی کوئی واقعی دلیل یا علامت موجود ہے تو اس وقت گمان منع نہیں۔ مثتاً ایک شخص کا اٹھنا بیٹھنا ہی ان لوگوں کے ساتھ ہے جو چویر یا زنا کے ساتھ معروف ہیں، یا رتا کو واں پھرتا ہے جہاں اس کا کوئی کام نہیں، اس کے متعلق گمان پیدا ہونا فطری بات ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہر گمان سے منع نہیں فرمایا : بلکہ فرمایا :(اجتنبوا کثیراً من الظن ان بعض الظن اثم)”بہت سے گمان سے بچو، کیونکہ بعض گمان گناہ ہیں۔“ امام بخاری ؒ نے اپنی صحیح بخاری میں فرمایا :”باب مایجوز من ال ظن“ ”وہ گمان جو جائز ہیں۔“ اور اس باب میں عائشہ ؓ سے حدیث ذکر کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ما اظن فلاناً و فلانا یعرفان من دیننا شیئاً قال اللیث کانا رجلبن من المنافقین) (بخاری ، الادب ، باب مایحوز من الظن…:6069)”میں فلاں اور فلاں کے متعلق گمان نہیں کرتا کہ وہ ہمارے دین میں سے کچھ بھی جانتے ہیں۔“ لیث نے فرمایا :”یہ دونوں آدمی منافق تھے۔“ اس جائز گمان سے مراد وہ گمان ہے جس کی علامات یا دلیلیں وضاح ہوں۔ (4) جس طرح دوسرے مسلمان کے حق میں بدگمانی کرنا منع ہے اسی طرح خود مسلمان کو بھی لازم ہے کہ ایسے ہر کام سے اجتباب کرے جس سے کسی کے دل میں اس کے متعلق براگمان پیدا ہو۔ علی بن حسین بیان کرتے ہیں کہ انہیں رسول اللہ ﷺ کی بیوی صفیہ ؓ نے خبر دی کہ نبی ﷺ مسجد میں تھے اور آپ ﷺ کی بیویاں بھی آپ کے پاس تھیں۔ وہ جانے لگیں تو آپ ﷺ نے صفیہ ؓ سے فرمایا :”جلدی نہ کرنا، یہاں تک کہ میں تمہارے ساتھ جاؤں۔“ ان کا مکان اسامہ کی حویلی میں تھا۔ چناچہ نبی ﷺ ان کے ساتھ نکلے تو آپ کو دو انصاری ملے، انہوں نے نبی ﷺ کو دیکھا اور آگے بڑھ گئے۔ آپ ﷺ نے ان دونوں سے فرمایا :(تعالیا انھا صفیۃ بنت حیی)”ادھر آؤ ! یہ (میری بیوی) صفیہ بنت حیی ہے۔“ انہوں نے کہا : ”سبحان اللہ ! یا رسول اللہ ! (بھلا ہم آپ کے متعلق براگمان کرسکتے ہیں۔)“ آپ ﷺ نے فرمایا :(ان الشیطان یجری من الانسان مجری الدم، وانی خشیت ان یلقی فی انفسکما شیئاً) (بخاری، الاعتکاف، باب زیارۃ المراۃ زوجھا فی اعتکافہ :2038)”شیطان انسان میں خون کے پھرنے کی طرح پھرتا ہے، تو میں ڈرا کر وہ تمہارے دلں میں کوئی بات ڈال دے۔“ (5) ولا تحبسوا :”جس یجس جساً“ (ي) کسی چیز کو معلوم کرنے کیلئے ہاتھ سے ٹٹولنا، تجسس، جاسوی کرنا، خفیہ باتیں معلوم کرنے کی کوشش کرنا۔ جاسوسی برے گمان کا لازمی نتیجہ ہے، کیونکہ آدمی جب کسی کے متعلق دل میں برا گمان قائم کرلیتا ہے تو اسے ثابت کرنے کے لئے اس کی جاسوسی کرتا ہے اور اس کے ان عیوب کی ٹوہ لگاتا رہتا ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے پردہ ڈال رکھا ہے، تاکہ یہ اپنے گمان کو سچا ثابت کرسکے۔ یہ ایمانی مودت و اخوت کے سراسر خلاف ہے۔ جب مسلمان بھائی کے ان عیوب پر بھی پردہ ڈالنے کا حکم ہے جو آدمی کو معلوم ہوں تو ان عیوب کی ٹوہ لگانا کیسے جائز ہوس کتا ہے جو محض اس کے گمان کی پیدا ار ہیں، یا جن پر اللہ نے پردہ ڈال رکھا ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث ، ولا تحسسوا، ولا تجسسوا، ولاتناجثوا، ولا تحاسدوا، ولاتباغضوا، ولاتدابروا، وکونوا عباد اللہ اخوانا) (بخاری، الفرائض، باب تعلیم الفرئاض :6863، 6066)”گمان سے بچو ! کیونکہ گمان سب سے جھوٹی بات ہے اور ٹوہ لگاؤ، نہ جاسوسی کرو، نہ دھوکے سے (خریدو فروخت میں) بولی بڑھاؤ ، نہ ایک دوسرے پر حسد کرو نہ ایک دوسرے سے دل میں کینہ رکھو، نہ ایک دوسرے سے قطع تعلق کرو اور اللہ کے بندو ! بھائی بھائی بن جاؤ۔“ ابو برزہ اسلمی ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(یا معشر من امن بلسانہ ولم یدخل الایمان قلبہ ! لاتعنابوا المسلمین ولاتتبعوا عوراتھم فانہ من اتبع عوراتھم یتبع اللہ عورتہ، ومن یتبع اللہ عورتہ یفضسحہ فی بینہ) (ابوداؤد، الادب، باب فی الغیۃ : 3880 قال الالبانی حسن صحیح)”اے ان لوگوں کی جماعت جو اپنی زبان کے ساتھ ایمان لائے ہیں اور ایمان کے دلوں میں داخل نہ ہوا ! مسلمانوں کی غیب مت کرو اور نہ ہی ان کے چھپے ہوئے عیبوں کا پیچھا کرو، کیونکہ جو شخص مسلمانوں کے عیبوں کا پیچھا کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے عیبوں کا پچیھا کرے گا اور سج کے عیبوں کا پیچھا اللہ تعالیٰ کرے وہ اسے اس کے گھر میں رسوا کر دے گا۔“ بعض اوقات آدمی اصلاح کی نیت سے جاسوسی کرتا ہے، مگر یہ اصلاح کا طریقہ نہیں، اس سے باہمی عداوت پیدا ہتوی ہے اور خرابی بڑھتی ہے، اصلاح نہیں ہوتی۔ معاوضہ ؓ نے فرمایا، میں نے رسول اللہ ؓ ﷺ سے سنا ، آپ فرماتے تھے :(انک ان اتبعت عورات الناس افسدتھم او کذت ان تفسدھم)”یقیناً جب تو لوگوں کے عیبوں کا پیچھا کرے گا تو انہیں خراب کر دے گا“ یا فرمایا :”قریب ہے تو انہیں خراب کر دے۔“ ابوالدرداء ؓ نے فرمایا :”یہ ایسی بات تھی جو معاوضہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں اس کیساتھ نفع دیا (کہ انہوں نے بیس سال شام کی امارت کی اور بیس سال پورے عالم اسلام پر خلافت کی اور رعایا کو ان سے کوئی خاص شکایت پیدا نہیں ہوئی۔)“ (ابو داؤد ، الادب، باب فی النھی عن التجسس : 3888، وقال الابانی صحیح) (6) جس طرح کوئی دلیل یا قرینہ موجود ہو تو بدگمانی کی گنجائش ہے اسی رطح اسلام کے دشمنوں کی جاسوسی یا امن و امان کی خرابی کا باعث بننے والوں کی جاسوسی بھی جائز ہے، بلکہ مسلم حکمران پر لازم ہے کہ وہ اپنی رعایا کے حلاات سے واقف رہے اور اللہ کی حدود کو پامال کرنے والوں کا سدباب کرتا رہے، مگر اس کے لئے کسی طرح جائز نہیں کہ محض گمان کی بنا پر تجسس یا کوئی کارروائی کرے۔ (7) ولا یغتب بعضکم بعضاً :(لایعتب“ (غ، ی ، ب) سے باب افتعال ہے :”اغتاب یغتاب اغتیباباً“ کسی کے غائب ہونے کی حالت میں اس کی وہ بات کرنا جس کا ذکر اسے ناپسند ہو۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(اتدرون ما الغیۃ ؟) (”کیا تم جانتے ہو غیب کیا ہے ؟“ انہوں نے کہا :”اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا :(ذکرک اخاک بما یکرہ))”تمہارا اپنے بھائی کا ذکر ایسی چیز کیساتھ کرنا جسے وہ ناپسند کرتا ہے۔“ عرض کیا گیا :”آپ یہ بتائیں کہ اگر میرے بھئای میں وہ چیز موجود ہو جو میں کہہ رہا ہوں (تو کیا پھر بھی غیب ہے)“ آپ ﷺ نے فرمایا :(ان کان فیہ ماتقول فقداغتبتہ وان لم یکن فیہ فقد بھتہ) (مسلم ، البر والصلۃ ، باب تحریم الغیۃ :2589)”اگر اس میں وہ چیز موجود ہے جو تم کہہ رہے ہو تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر وہ چیز اس میں موجود نہیں تو تم نے اس پر بہتان لگیا ا۔“ (8) ایحب احدکم ان یا کل لحم اخیہ میتاً فکرھتموہ : اس جملے میں غیبت سے کئی طریقوں سے شدید نفرت دلائی گئی ہے۔ چناچہ اس میں غیبت کے ساتھ کسی بھائی کی عزت و آبرو تار تار کرنے کو انسان کا گوشت کھانا قرار دیا، پھر کسی دوسرے انسان کا نہیں ، بلکہ اپنے بھائی کا اور وہ بھی زندہ کا نہیں ب ل کہ مردہ بھائی کا۔ پھر ایسی شدید قابل نفرت چیز سے محبت کرنے کی عار دلاتے ہوئے پوچھا کہ اتنی گندی اور مکروہ چیز سے تو شدید نفرت ہونی چاہیے تھی، تو کیا تم نفرت کے بجائے اس سے محبت کرتے ہو۔“ پھر ”احدکم“ فرمایا کہ کیا تم میں سے کوئی ایک یہ پسند کرتا ہے ؟ مطلب یہ کہ لاکھوں کروڑوں میں سے کوئی ایک بیھ یہ پسند نہیں کرے گا تو تم میں سے کوئی ایک یہ کام کیوں کرے ! ؟ (9) فکرھتموہ : یعنی اگر تمہارے سامنے یہ چیز پیش کی جائے تو یقینا تم اس سے نفرت کرو گے۔ (10) غیبت کو مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے ساتھ تشبیہ اس لئے دی ہے کہ جس طرح مردہ اپنا گوشت کھانے سے کسی کو ہٹا نہیں سکتا اسی طرح جس کی غیبت کی جا رہی ہے وہ پاس موجود نہ ہونے کی وجہ سے اپنا دفاع نہیں کرسکتا۔ (11) جس طرح غیبت کرنا حرام ہے اسے سننا بھی حرام ہے، کیونکہ سننے والا بھی غیب میں برابر کا شریک ہے، اگر وہ خاموش رہ کر تائید نہ کرے تو غیبت کرنے والے کو اس کام کی جرأت ہو ہی نہیں سکتی۔ دونوں ہی اپنے مردہ بھائی گوشت سے لذت حاصل کررہے ہیں، ایک غیبت کر کے اور دوسرا اسے سن کر۔ اس لئے غیبت سننے سے بھی بہت پرہیز کرنا چاہیے۔ بلکہ اپنے مسلم بھائی کی عزت کا دفاع کرتے ہوئے غیبت کرنے والے کو اس سے منع کرنا چاہیے۔ (12) واتقوا اللہ ان اللہ تواب رحیم : یعنی اللہ کا ڈر ہی ہے جو ان کاموں سے آدمی کو باز رکھ سکتا ہے جن سے ان آیات میں منع فرمایا گیا ہے، وہ نہ ہو تو کچھ بھی نہیں۔ اس لئے اللہ سے ڈرو اور ان تمام گناہوں سے توبہ کرو، یقینا اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا اور نہایت رحم والا ہے۔ (13) نووی نے ”الاذکار“ میں غیبت کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا :”خواہ وہ چیز اس کے بدن سے تعلق رکھتی ہو یا دین سے یا دنیا سے، اس کی شکل و صورت کے بارے میں ہو یا اخلاق کے، اس کے مال، اولاد، والدین اور بیوی بچوں کے متعلق ہو یا اس کے لباس، چال ڈھال، بول چال، خندہ پیشانی یا ترش روئی کے متعلق، غضر اس سے تعلق رکھنے والی کسی بھی چیز کا ذکر جو اسے ناپسند ہو غیبت ہے۔ پھر خواہ یہ ذکر زبان سے کیا جائے یا تحریر سے، اشارے سے ہو یا کنائے سے، تمام صورتوں میں غیبت ہے۔ اشارہ خواہ آنکھ سے ہو یا ہاتھ سے ، سر کے ساتھ ہو یا جسم کے کسی حصے کیساتھ ، غیبت میں شامل ہے۔“ بدن کی غیبت مثلاً اس کی تنقیص کیلئے اندھا، لنگڑا، کانا گنجا، ٹھگنا، لمبوترا، کالا کبڑا یا اس قسم کا کوئی اور لفظ استعمال کرے۔ دین کے بارے میں غیبت یہ ہے کہ اسے فاسق ، چور، خائن ، ظالم، نماز میں سست، پلید، ماں باپ کا نافرمان یا بدمعاش وغیرہ کہے۔ دنیا کے باے میں مثلاً اسے نکما، باتونی، پیٹو وغیرہ کہے۔ اخلاق کے متعلق مثلاً اسے بدخلق ، متکبر، ریا کار جلد باز، بزدل یا سٹریل قرار دے۔ اس کے والد کے متعلق مثلاً جولاہا، موچی، کالا حبشی وغیرہ کہہ کر اس کی تنقیص کرے۔ پھر زبان ، ہاتھ اور جسم کے ساتھ غیبت کی ایک صورت اس کی نقل اتارنا ہے، مثلاً اس کے اٹک اٹک کر بات کرنے یا ناک میں بولنے کی، لنگڑا کر چلنے کی، کبڑا ہونے کی یا چھوٹے قد کا ہونے کی نقل اتارے۔ غرض قاعدہ یہ ہے کہ کوئی بھی حرکت، جس کا مقصد کسی مسلم بھائی کی تنقیص ہو غیب ہے اور حرام ہے۔ (14) بعض اوقات کسی مسلم بھائی کی غیبت جائز بھی ہوجاتی ہے اور اس کی عدم موجودگی میں اس کا عیب بیان کیا جاسکتا ہے۔ قاعدہ اس کا یہ ہے کہ جب دین کا کوئی ضروری مقصد اس کے بغیر حاصل نہ ہوسکتا ہو تو اس وقت یہ جائز ہ۔ نووی نے اور ان سے پہلے غزالی نے غیبت کے جواز کے چھ مواقع گنوائے ہیں :(1) ظلم پر فریاد، یعنی مظلوم کو حق ہے کہ ظالم کے خلاف بات کرے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(لایحب اللہ الجھر بالسوآء من القول الا من ظلم) (النسائ :138)”اللہ بری بات کے ساتھ آواز بلند کرنا پسند نہیں کرتا سوائے اس کے جس پر ظلم کیا جائے۔ ‘ ‘ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(فان لصاحب الحق مقالاً) (بخاری، الاستقراض، باب استقراض الابل :2390)”یقیناً حق والے کو بات کرنے کی گنجائش ہے۔“ بہتر یہ ہے کہ وہ بادشاہ یا قاضی یا کسی ایسے شخص کے پاس اپنی مظلومیت کا تذکرہ کرے جو اس کی مدد کرسکتا ہ۔ (2) کسی گناہ یا برے کام سے روکنے کے لئے ایسے لوگوں کو اطلاع دینا جو اس کے ساتھ مل کر یا خود اسے روک سکیں۔ اگر مقصد صرف اس کام کرنے والے کی تذیل ہو توی ہ جائز نہیں۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی آیات و احادیث اس کی دلیل ہیں۔ (2) فتویٰ لینے کے لئے مفتی کے سامنے کسی کا نقص ذکر کرے تو یہ جائز ہے، مثلاً ہند بنت عتبہ ؓ نے اپنے خاوند ابوسفیان ؓ کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تھا :”ابوسفیان بخیل آدمی ہے (مجھے اتنا خرچ نہیں دیتا جو میرے اور میرے بچوں کے لئے کافی ہو) تو کیا مجھ پر کوئی گناہ تو نہیں اگر میں اس کے علم کے بغیر اس کے مال میں سے کچھ لے لوں ؟“ آپ نے فرمایا :(خذی انت و بنوک مایکفیک بالمعروف) (بخاری، البیوع ، باب من اجری امر الامصار…: 2211، 5363) ”تمہارے اور تمہارے بچوں کے لئے جتنا کافی ہو معروف طریقے کے ساتھ لے لیا کرو۔“ رسول اللہ ﷺ نے ہند ؓ کو اپنے خاوند کا عیب بیان کرنے پر منع نہیں فرمایا : کیونکہ اس کا مقصد مسئلہ پوچھنا تھا۔ (4) مسلمانوں کی خیر خواہی کے لئے اور انہیں شر سے بچانے کیلئے کسی کی برائی سے آگاہ کرے تو یہ جائز ہے۔ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک شخص آیا، آپ نے فرمایا، (ائذنوا لہ، بئس اخوالعشیرۃ) (بخاری، الادب، باب مایجوز من اغتیاب…6053)”اسے اجازت دے دو ، یہ خاندان کا برا آدمی ہے۔“ رسول اللہ ﷺ نے عائشہ ؓ کو اس شخص کی برائی سے آگاہ کرنا ضروری خیال کیا۔ مسلمانوں کی خیر خواہی میں اور انہیں شر سے بچانے میں بہت سی چیزیں آجاتیہیں، مثلاً حدیث کے راویوں پر اور مقدمے کے گواہوں پر جرح جائز بلکہ واجب ہے اور اس پر امت کا اتفاق ہے۔ دوسرے جب کوئی شخص کسی کے ساتھ رشتہ کرنے یا امانت رکھنے یا مشارکت کرنے یا ہمسائیگی اختیار کرنے، ک اور بار یا کوئی اور معاملہ کرنے کے متعلق مشورہ پوچھے تو صحیح صحیح بات بتادے۔ فاطمہ بنت قیس ؓ نے معاویہ اور ابوجہم ؓ میں سے کسی ایک کے ساتھ نکاح کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا :(اما ابوجھم فلا یضع عصاہ عن عاتفہ، وما معاویۃ فصعلوک لا مال لہ ، انکحی اسامۃ بن زید) (مسلم ، الطلاق، المطلقۃ البائن لا نفقۃ لھا :1380) ”ابو جہم تو عورتوں کو بہت مارتا ہے اور معاویہ کنگال آدمی ہے، اس کے پاس کچھ نہیں ہے، تم اسامہ بن زید سے نکاح کرلو۔“ اور صحیح مشروہ دینا مومن کا حق ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(واذا استنصحک فانصح لہ) (مسلم ، السلام ، باب من حق المسلم رد السام : 5/2162)”اور جب وہ تم سے مشورہ مانگے تو اس کی خیر خواہی کر۔“ (5) جو شخص کھلم کھلا اللہ کی نافرمانی کرتا ہو، لوگوں کو لوٹتا ہو، علانیہ شراب پیتا ہو تو اس کے ان گناہوں کا ذکر جائز ہے جن کو چھپانے کی وہ ضرورت ہی مں حسوس نہیں کرتا اور جن کا ذکر کیا جائے تو اسے برا محسوس ہی نہیں ہوتا۔ کیونکہ غیبت ان چیزوں کا ذکر نہ جانتا ہو تو اسے اس لقب سے ذکر کرنا جائز ہے، خواہ اس میں اس کا کوئی نقص ہی بیان ہو رہا ہو، مثلاً اعمش (جس کی آنکھیں چندھیائی ہوئی ہں) ، ا عرج (لنگڑا) اصم (بہرا) اور اعمی (نابینا) وغیرہ۔ شرط یہ ہے کہ مقصد اس کی تنقیص نہ ہ۔ (15) قرآن مجید کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(ولایغتب بعضکم بعضاً) کہ مسلمان ایک دوسرے کی غیبت نہ کریں۔ اسی طرح ”ذکرک اخاک بما یکرہ“ سے بھی ظاہر ہے کہ صرف مسلمان کی غیبت ناجائز ہے، کیونکہ کافر ہمارا دینی بھائی نہیں، اس لئے اس کی غیبت میں کوئی گناہ نہیں۔