Ayah 49:13(1) یایھا الناس انا خلقنکم من ذکر و انثی : پچھلی آیت میں جن چھ گناہوں سے منع فرمایا ان کا بنیادی سبب اپنے آپ کو اونچا اور دوسروں کو نیچا سمجھنا ہے۔ جاہلیت میں اپنے قبیلے کی خوبیوں پر فخر اور دوسروں کو حقیر سمجھنے کی بیماری عام تھی۔ اس کی وجہ سے ہر قبیلے کے شاعر اور خطیب اپنے قبیلے کی برتری ثابت کرنے کے لئے دوسرے قبیلے کو استہزاء تمسخر اور طعن و تشنیع کا نشانہ بناتے ، اس کے لئے وہ ان کے عیب تلاش کرتے، جاسوسی کرتے، غیبت، بہتان اور ہجو کا بازار گرم رکھتے تھے، حتیٰ کہ انہوں نے کئی قبیلوں کو بالکل ہی لوگوں کی نگاہوں سے گرا دیا۔ دنیا میں اپنی برتری پر فخر کا باعث کسی خاص قبیلے یا قوم میں پیدا ہونا ہی نہیں رہا، اس کے علاوہ بھی کئی چیزوں کو اپنے لئے باعث فخر اور دوسروں پر برتری کی دلیل قرار دیا گیا۔ چناچہ رنگ و نسل، وطن اور زبان کی بنا پر نوع انسان تقسیم ہوئی اور ہر طبقے نے اپنے آپ کو دوسروں سے برتر اور دوسروں کو حقیر قرار دیا، جس کے نتیجے میں بیشمار جنگیں ہوئیں اور لاکھوں کروڑوں لوگ ہلاک یا زخمی ہوئے۔ وطن سے بےوطن ہوئے، غربت، بیماری اور بےآبروئی کا نشانہ بنے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے پانچ آیات میں ”یایھا الذین امنوا“ کے ساتھ خطاب کے بعد یہاں تمام انسانوں کو مخاطب کر کے فرمایا ”یایھا الناس“ کہ اے لوگو ! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت (آدم و حوا علیہما السلام) سے پیدا کیا ہے، اس لئے انسان ہونے میں تم سب برابر ہ۔ کسی خاص قوم، قبیلے یا ملک میں پیدا ہونے کی وجہ سے، یا کسی رنگ یا زبان کی وجہ سے کسی کو کسی پر کوئی برتری حاصل نہیں، کیونکہ اصل سب کی ایک ہے۔ پھر کسی قوم، ملک یا قیبلے میں پیدا ہونے یا کسی رنگ یا زبان والاہونے میں کسی کا اپنا کوئی دخل یا اختیار نہیں، یہ سب کچھ صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ اس لئے ان میں سے کوئی چیز اللہ تعالیٰ کی نعمت یا عطیہ تو ہوسکتی ہے، جس پر اسے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے ، مگر دوسروں پر برتری کا باعث نہیں ہوسکتی، کیونکہ برتری اس چیز میں کامیابی کی بدولت حاصل ہوتی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اسے اختیار دے کر دنیا میں بھیجا ہے اور وہ ہے اللہ کا تقویٰ۔ اس لئے سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے ہاں عزت والا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے۔ اس کے بغیر کسی عربی کو عجمی پر یا گورے کو کالے پر یا آزاد کو غلام پر کوئی برتری حاصل نہیں۔ ہاں تقویٰ کے ساتھ فضیلت کی کوئی اور جہ بھی جمع ہوجائے تو اسے برتری حاصل ہوگی، جیسے کسی کو متقی ہونے کیساتھ قریشی یا ہاشمی ہونے کا شرف بھی حاصل ہو، یا ایسی قوم کا فرد ہونے کا جو شجاعت یا ذہانت یا کسی اور خبوی میں معروف ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے دو آدمی قرآن کی قرأت میں برابر ہوں تو امامت کے وقت ان میں سے بڑی عمر والے کو جوان پر مقدم کیا جائے گا۔
(2) وجعلنکم شعوباً و قبآئل :”شعوباً“ ”شعب“ (شین کے فتحہ کے ستاھ) کی جمع ہے، بہت بڑا قبیلہ ، جیسے ربیعہ مضر، اوس اور خزرج وغیرہ۔ یہ ان چھ طبقوں میں سب سے پہلا طبقہ ہے جن میں عرب تقسیم ہوتے ہیں۔ وہ چھ طبقے یہ ہیں۔ (1) شعب (2) قبیلہ (3) عمارہ (4) بطن (5) فخذ (6) فصیلہ۔ شعب میں کئی قبائل ہوتے ہیں، قبیلہ میں کئی عمائر، عمارہ میں کئی بطون، بطن میں کئی افخاذ، اور فخذ میں کئی فصائل ہوتے ہیں۔ چناچہ عرب میں خزیمہ شعب، کنانہ قبیلہ، قریش عمارہ، قصی بطن، ہاشم فخذ اور عباس فصلیہ ہیں۔ بعض اوقات ان میں سے ایک لفظ دوسرے کی جگہ بھی استعمال کرلیا جاتا ہے۔ شعب کا معنی شاخ ہے، اسے شعب اس لئے کہا جاتا ہے کہ ان سے قبائل کی شاخیں نلکتی ہیں۔ قرآن مجید میں ان چھ طبقوں میں سے تین کا ذکر آیا ہے، دو کا اس آیت میں اور ایک کا سورة معارج میں، فرمایا :(وفصیلتہ التی تسویہ) (المعارج : 13)”اور اپنے خاندان کو جو اسے جگہ دیا کرتا تھا۔“ (قرطبی و شنقیطی)
(3) لتعارفوا : یعنی قوموں، قبیلوں یا خاندانوں میں تقسیم کا مطلب کسی کی برتری نہیں، بلکہ ہم نے یہ تقسیم تمہاری ایک دوسرے سے پہچان کے لئے بنائی ہے۔ مثلاً عبداللہ نا مکہ کئی آدمی ہیں، ان میں سے ایک کی تعیین قریشی، اس کے بعد ہاشمی اور اس کے بعد عباسیکے ساتھ ہوسکتی ہے۔ اس پہچان ہی کے ذریعے سے آدمی اپنی رشتہ داری سے آگاہ ہوتا ہے اور رشتہ داروں کے حقوق ادا کرتا اور صلہ رحمی کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(تعلموا من انسابکم ماتصلون بہ ارحامکم ، فان صلہ الرحیم مجۃ فی الاھل مثراۃ فی المال ، منساہ“ فی الائر) (ترمذی، البروالصلہۃ باب ماجاء فی تعلیم النسب :1989 ء عن ابی ہریرہ ؓ وقال الالبانی صحیح) (”اپنے نسب سیکھو، جن کے ذریعے سے تم اپنی رشتہ داریاں ملاؤ ، کیونکہ رشتہ داری کو ملانا رشتہ داروں میں محبت، خ مال میں ثروت اور زندگی میں اضافے کا باعث ہے۔“
(4) ان اکرمکم عند اللہ ا تقکم : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ان اللہ قد اذھب عنکم عیبۃ الجاھلیۃ وفخر ھا بالاباء مومن تقی وفاجر شقی انتم بنو آدم و آدم من تراب لیدعن رجال فخرھم ب اقوام انما ھم فحم من فحم جھنم، اولیکونن اھون علی اللہ من الجعلان التی تدفع بانفھا النن) (ابو داؤد، الادب، باب فی التفاخر بالاحساب :5116، عن ابی ھریۃ ؓ وقال الالبانی صحیح)”اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کی نخوت اور اس کے آباؤ اجداد پر فخر کو ختم کردیا ہے۔ (آدمی دو ہی قسم کے ہیں) متوقی مومن ہے یا بدبخت فاجر۔ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے تھے۔ کچھ آدمی ایسے لوگوں پر اپنا فخر ترک کردیں گے جو جہنم کے کوئلوں میں سے محض ایک کوئلہ ہیں، یا پھر وہ (فخر کرنے والے) اللہ تعالیٰ کے سامنے پاخانے کے کیڑوں سے بھی زیادہ ذلیل ہوں گے، جو گندگی کو اپنی ناک کے ساتھ دھکیلتے رہتے ہیں۔“ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا :(ای الناس اکرم ؟)”لوگوں میں سب سے عزت والا کون ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :(اکرمھم عند اللہ اتقاھم)”ان میں سب سے زیادہ عزت والا اللہ کے نزدیک وہ فرمایا :(فاکرم الناس یوسف نبی اللہ ابن نبی اللہ ابن نبی اللہ ابن خلیل اللہ)”تو سب سے زیادہ عزت والے یوسف ؑ ہیں جو اللہ کے نبی ہیں، نبی کے بیٹے ہیں، دادا بھی نبی ہے اور پردادا اللہ کا خلیل ہے۔“ انہوں نے کہا :”ہم آپ سے اس کے متعلق بھی نہیں پوچھ رہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا :(فعن معادن العرب تسالونی ؟)”تو پھر تم مجھ سے عرب کے خاندانوں کے متعلق پوچھ رہے ہو ؟ ‘ ‘ انہوں نے کہا :”جی ہاں !“ آپ ﷺ نے فرمایا :(فخیار کم فی الجھلیۃ خیرکم فی الاسلام اذا فقھوا) (بخاری، التفسیر، باب قولہ :(لقد کان فی یوسف واخوتہ…): 7289)”تو جاہلیت میں جو تم میں سب سے بہتر تھے وہی اسلام میں تم سب سے بہتر ہیں، جب وہ (دین کی) سمجھ حاصل کرلیں۔“ ابو نضرہ کہتے ہیں کہ مجھے اس صحابی نے بیان کیا جس نے ایام تشریق کے درمیان والے دن میں رسول اللہ ں کا خطبہ سنا، آپ ﷺ نے فرمایا :(یا ایھا الناس ! الا ان ربکم واحد، وان اباکم واحد، الا لافضل لعربی علی اعجمی، ولا لعجمی علی عربی ، ولا لاحمر علی اسود، ولا اسود علی احمر الا بالتقویٰ) (مسند احمد : 5/711، ح : 23389، قال شعیب الارنوط اسنادہ صحیح)”اے لوگو ! سن لو ! تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ ایک ہے۔ سن لو ! نہ کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی برتری حاصل ہے اور نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر، نہ کسی سرخ کو کسی کالے پر اور نہ کسی کالے کو کسی سرخ پر ، مگر تقویٰ کی بنا پر۔“ ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ان اللہ لاینظر الی صورکم واموالکم ولکن ینظر الی قلوبکم واعمالکم) (مسلم البر والصلۃ، باب تحریم ظلم المسلم…: 33/2563)”اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہاری مالوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمہارے دلوں اور تمہارے عملوں کو دیکھتا ہے۔“ عیاض بن حمار مجاشعی ؓ نے ایک لمبی حدیث میں بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(وان اللہ اوخی الی ان تواضعوا حتی لا یفخر احد علی احد ولا یبغی احد علی احد) (مسلم، الجنۃ وصفۃ تعیمھا، باب ال صفات التی یعرف بھا…: 63/2865)”اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی کہ آپس میں تواضح اختیار کرو، حتی کہ نہ کوئی کسی پر فخر کرے اور نہ کوئی کسی پر زیادتی کرے۔
(5) اہل علم نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ نکاح میں کفو (جوڑ) ہونے کے لئے اسلام کے علاوہ کوئی شرط معتبر نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی پھوپھی کی بیٹی زینب بنت حجش ؓ کا نکاح اپنے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ ؓ سے کردیا۔ اس لیء یہ جو مشہور ہے کہ سید لڑکی کا نکاح غیر سید سے نہیں ہوسکتا، درست نہیں۔ ویسے فاطمہ ؓ کی اولاد کو لفظ ”سید“ کے ساتھ خاص کرنا بھی محض رواج ہے۔ یہاں رسول اللہ ﷺ کا چچا ہونے کے باوجود ابولہب جہنمی ہے اور غلام ہونے کے باوجود بلال ؓ کے جوتوں کی آواز جنت میں رسول اللہ ﷺ کے آگے (بطور خادم) سنائی دے رہی ہے اور جابر ؓ نے بیان کیا کہ عمر ؓ فرمایا کرتے تھے :(ابوبکر سیدنا، واعتق سیدنا یعنی بلالاً) (بخاری، فضائل، اصحاب النبی ﷺ باب مناقب بلال بن رباح…: 3853)”ابوبکر ہمارا سید ہے اور اس نے ہمارے سید بلال کو آزاد کیا۔“
(6) ان الہر علیم خبیر : یعنی اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا، پوری خبر رکھنے اولا ہے۔ وہی جانتا ہے کہ کس کے دل میں تقویٰ زیادہ ہے، جس کی وجہ سے اسے سب سے زیادہ معزز ہونے کا شرف حاصل ہے۔ تو جب کسی کو دلوں کا حال معلوم ہی نہیں تو کوئی کسی پر فخر کیسے کرسکتا ہے اور کسی کو حقیر کیوں جانتا ہے ! ؟
Ayah 49:14(1) قالت الاعراب :”الاعراب“ کی تشریح کیلئے دیکھیں سورة توبہ (97) کی تفسیر۔ یہاں ”الاعراب“ پر الف لام جنس کا نہیں عہد کا ہے اور اس سے مراد تمام اعراب نہیں، کیونکہ ان میں کئی مخلص مومن بھی تھے۔ (دیکھیے توبہ : 99) بلکہ مراد وہ بعض اعراب ہیں جو مدینہ کے گرد رہتے تھے اور اسلام کی قوت کو دیکھ کر مسلمان ہوگئے تھے، دل میں تکذیب بھی نہیں تھی کہ انہیں منافق کہا جاسکے، مگر ابھی تک کچھ تردد باقی تھا اور ایمان و یقین پوری طرح دل میں داخل نہیں ہوا تھا، اس لئے یہ عمرہ حدیبیہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نہیں گئے۔ ان کا ذکر اس سے پہلے سورة فتح کی آیت (11):(سیقول لک المخلقون من الاعراب) میں بھی گزرا ہے۔
(2) امنا : سورت کی ابتدا میں ان اعراب کا ذکر ہے کہ نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اور ابھی تک رسول اللہ ﷺ کے آداب اور اسلام کے دوسرے احکام سے پوری طرح واقف نہیں تھے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان آداب و احکام کی تلقین فرمائی اور جاہلیت کے فخر و غرور اور اس سے پیدا ہونے والی قباحتوں سے منع فرمایا۔ اس سلسلے میں واضح فرمایا کہ آدمی کو دوسروں پر فخر کا حق ہی نہیں، کیونکہ وہ عزت جو دوسروں پر برتری دلاتی ہے وہ صرف تقویٰ سے حاصل ہتوی ہے، جس کا تعلق دل سے ہے اور دل کا حال صرف علیم وخبیر جانتا ہے۔ یہاں سے ان اعربا کے کچھ دعوے ذکر فرما کر، جن سے ان کے فخر کا اظہار ہوتا تھا۔ ان کی تردید فرمائی۔ سب سے پہلے ان کے اس دعوے کا ذکر فرما کر کہ ہم ایمان لے ائٓے ہیں، اس کی نفی فرمائی۔
(3) قل لم یومنوا ولکن قولوا اسلمنا : اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ان سے کہو کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ یوں کہو کہ ہم اسلام لے آئے۔ واضح رہے کہ قرآن و حدیث میں عام طور پر ایمان اور اسلام ایک ہی معنی میں استعمال ہوئے ہیں، جس میں دل کا یقین اور ظاہری فرماں برداری دونوں شامل ہیں، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو عبدالقیس کو ایمان کی تشریح کرتے ہؤے بتایا کہ ایمان کلمہ شہادت ، نماز، روزے، زکوۃ، حج اور غنیمت میں سے خمس ادا کرنے کا نام ہے اور اللہ تعالیٰ نے ”ان الذین عند اللہ الاسلام“ کہہ کر اپنی جناب میں معتبر دین اسلام کو قرار دیا اور ظاہر ہے وہاں وہی دین معتبر ہے جو دل کے یقین سے ہو صرف ظاہری امال تو وہاں کچھ حیثیت نہیں رکھتے۔ بعض اوقات اسلام سے مراد ظاہری احکام کی پابندی اور ایم ان سے مراد قلبی یقین ہوتا ہے، جیسا کہ حدیث جبریل میں ہے۔ یہاں بیھ ایسا ہی ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمیشہ ایمان سے مراد دلی یقین اور اسلام سے مراد ظاہری اعمال ہوتے ہیں، بلکہ بعض اوقات اسلام سے مراد دل سے مان لینا ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا (فمن یرد اللہ ان یھدیہ یشرح صدرہ للاسلام) (الانعام : 125)”تو وہ شخص جسے اللہ چاہتا ہے کہ اسے ہدیات دے، اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے۔“ جس طرح بعض اوقات ایمان سے مراد صرف زبانی کلمہ پڑھنا ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا :(یایھا الذین امنوا امنوا باللہ و رسولہ) (النسائ : 136)”اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! (یعنی جنہوں نے ایمان کا اقرار کیا ہے) ایمان لے آؤ (یعنی دل سے مان لو۔)“ یہاں فرمایا : ان سے کہو کہ تم ایمان نہیں لائے ہو ! (یعنی جنہوں نے ایمان کا اقرار کیا ہے) ایمان لے آؤ (یعنی دل سے مان لو۔)“ یہاں فرمایا، ان سے کہو کہ تم ایمان نہیں لائے، بلکہ یوں کہ وہ کہ ہم اسلام لے آئے ہیں۔ یعنی ہم کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہوگئے ہیں اور اس کے ظاہری احکام پر عمل شروع کردیا ہے۔ یہاں الفاظ پر غور فرمائیں، اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ”قل لم یومنوا ولکن اسلمتم“ ”ان سے کہو کہ تم ایمان نہیں لائے، بلکہ تم مسلم ہوگئے ہو۔“ بلکہ فرمایا :(لم تومنوا ولکن قولوا اسلمنا)”تم ایمان نہیں لائے، بلکہ یوں کہو کہ ہم اسلام لے آئے ہیں۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے مومن ہونے کی نفی کے بعد ان کے مسلم ہونے کو تسلیم نہیں کیا، بلکہ یہ فرمایا
کہ تم مسلم ہونے کا دعویٰ کرسکتے ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مسلم وہی تسلیم ہوسکتا ہے جو مومن بھی ہو۔ اس کے ہاں اگر کسی کے دل میں یقین نہیں تو ظاہری اعماال کا بھی کچھ اعتبار نہیں۔ ہاں، ظاہری طور پر سالامی احکام کی پابندی کرنے والے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسلام کا دعویٰ کرنے کی اجازت ہے۔
(4) ولما یدخل الایمان فی قلوبکم :”اور ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا،“ اس جملے سے ظاہر ہے کہ یہ لوگ اگرچہ پکے مومن نہیں تھے مگر منافق بھی تھے، کیونکہ وہ دل سے رسول اللہ ﷺ کو جھوٹا نہیں جانتے تھے۔ ان کے شک کی وجہ سے ان کے ایمان کی نفی کی گئی اور اگلی آیت میں مومن ان لوگوں کو قرار دیا جو ایمان لائے پھر انہوں نے شک نہیں نہیں کیا۔ ”لما“ کے لفظ سے ظاہر ہے ہ اگرچہ وہ ابھی تک ایمان نہیں لائے تھے، مگر آئندہ ان کے دلوں کے اندر ایمان داخل ہونے کی امید تھی۔
(5) وان تطیعوا اللہ و رسولہ لایلتکم…:”لایلث“ اصل میں ”لایلث“ تھا،”ان تطیعوا“ شرط کا جواب ہونے کی وجہ سے تاء پر جزم آگئی، تویاء اور تاء دو ساکن جمع ہونے کی وجہ سے یاء گرگئی۔ ”لاٹ یلیت“ کسی کے حق میں کمی کرنا۔ یعنی اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال میں کچھ کمی نہیں کرے گا۔ ظاہر ہے ان دونوں کی اطاعت کی شرط اول ان پر سچے دل سے ایمان و یقین رکھنا ہے۔ اس میں انہیں اخلاص و یقین کی ترغیب دلائی ہے، یعنی اسلام کے احکام پر ثواب کی امید بھی اس وقت ہوسکتی ہے جب ظاہر و باطن سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہو۔ یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے بعد اعمال کا پورا ثواب دینا اور اس میں کمی نہ کرنا صرف اللہ کا کام ہے، رسول کا نہیں۔ اس لئے ”لایلث“ واح کا صیغہ استعمال فرمایا۔
(6) ان اللہ غفور رحیم : یعنی اطاعت کے بعد پہلی کوتاہیوں کو اللہ معاف کر دے گا، کیونکہ وہ گناہوں پر بےحد پردہ ڈالنے والا اور نہایت رحم والا ہے۔
Ayah 49:15انما المومنون الذین امنوا باللہ و رسولہ …:”لم یرتابوا“ ”ریب“ سے باب افتعال ہے۔ اعراب (بدویوں) کے ایمان کے دعوے کی نفی کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایمان کی ایک باطنی اور ایک ظاہری شرط بیان فرمائی۔ چناچہ فرمایا مومن تو صرف وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے، پھر شک میں مبتلا نہیں ہوئے انہوں نے اپنے ایمان و یقین کا ثبوت مال و جان کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے کے ساتھ دیا۔ یہی لوگ ہیں جو ایمان کے دعوے میں سچے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو دعویٰ کرتے ہیں مگر جب جہاد کا موقع آتا ہے تو اس سے جان بچاتے ہیں، وہ اپنے دعویٰ میں جھوٹے ہیں۔
Ayah 49:16قل اتعلمون اللہ بدینکم…:”تعلمون“ ”علم یعلم تعلیماً“ (تفعیل) کا معنی سکھانا پڑھانا ہے۔ تعلیم کسی کو کوئی بات بتانے کا سب سے مضبوط اور پختہ طریقہ ہوتا ہے۔ چونکہ وہ بار بار اپنے ایمان کا اور دین دار ہونے کا دعویٰ کرتے تھے ، ان کے بار بار دعوے کو اللہ تعالیٰ نے سکھانا پڑھانا قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ کیا تم اللہ تعالیٰ کو سکھانے چلے ہو کہ تم پکے مومن اور دین دار ہو اور یہ سمجھے بیٹھے ہو کہ اسے تمہارے دل کا حال معلوم نہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ تو آسمانوں کی ہر چیز کو اور زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے اور اللہ ہر چیز کو پوری طرح جاننے والا ہے۔ اس آیت میں قابل توجہ بات لفظ ”اللہ“ کا بار بار ذکر ہے :(اتعلمون اللہ بدینکم، واللہ یعلم ما فی السموت وما فی الارض ، واللہ بکل شیء علیم) اپنا نام بار بار ذکر کرنے سے مقصود اپنی ہیبت اور عظمت کا احساس دلانا ہے کہ سوچو تم بار بار ایمان کا دعویٰ کر کے کسی عام ہستی کو نہیں بلکہ کائنات کے خالق ومالک کو سکھانے جا رہے ہو، جس کا نام ”اللہ“ ہے اور جس سے کوئی چیز مخفی نہیں۔
Ayah 49:17(1) یمنون علیک ان اسلموا : اعراب یہ کہتے ہیں کہ ”امنا“ (ہم ایمان لے آئے) دراصل رسول اللہ ﷺ پر اپنے مسلمان ہونے کا احسان جتلا رہے تھے۔ ان کے خیال میں یہ ان کا رسول اللہ ﷺ پر احسان تھا جس کا آپ ﷺ کو خیال رکھنا چاہیے تھا اور اس کے بدلے میں ان کے تقاضے اور فرمائشیں پوری کرنی چاہیے تھیں، جیسے چودھری اور سردار کسی سیاسی پارٹی میں شامل ہو کر اس پر احسان رکھتے ہیں اور پارٹی کے سربراہ سے اپنے مفادات حاصل کرتے ہیں۔
(2) قل لا تمنوا علی اسلامک : اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ان سے کہہ دیجیے کہ اپنے اسلام کا مجھ پر احسان مت رکھو، کیونکہ کوئی مسلمان ہوتا ہے تو اس کا فائدہ اسی کو ہے، اگر نہیں ہوتا تو اس کا نقصان بھی اسی کو ہے، جیسا کہ فرمایا :(من عمل صالحاً فلنفسہ ومن آساء فعلیھا) (حم السجدہ : 36)”جس نے کوئی نیک عمل کیا تو وہ اس کے لئے ہے اور جس نے برائی کی تو وہ اسی پر ہے۔“ تمہارے اسلام لا نے یا نہ لانے سے میرا کوئی مفاد وابستہ نہیں۔
(2) بل اللہ یمن علیکم ان ھدیکم : یہاں بظاہر یہ کہ کہنا چاہیے تھا کہ تم مجھ پر اپنے اسلام کا احسان مت رکھو، بلکہ میرا تم پر احسان ہے کہ میری وجہ سے تم اسلام لائے، مگر اللہ تعالیٰ نے یہ کہنے کی تعلیم دی کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنا احسان جتلاتا اور یاد کرواتا ہے ہ اس نے تمہیں ایمان لانے کی ہدایت دی، یعنی اس کی توفیق بخشی، کیونکہ رسول اللہ ﷺ بھی اگرچہ ہدایت دیتے ہیں۔ جیسا کہ فرمایا :(وانک لتھدی الی فراط مستقیم) (الشوری : 52)”اور بلاشبہ تو یقینا سیدھے راستے کی طرف رہنمائیک رتا ہے۔“ مگر آپ صرف صراط مستقیم کی راہنمائی کرسکتے ہیں، وہ ہدایت جو صراط مستقیم پر چلنے کا نام ہے اس کی توفیق صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، اس لئے فرمایا :(انک لاتھدی من احبیت ولکن اللہ یھدی من یشآئ) (القصص : 56)”بیشک تو ہدیات نہیں دیتا جسے تو دوست رکھے اور لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے۔“ اور اگر اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایمان کی توفیق دی تو اس میں سر اسر تمہارا فائدہ ہے، اللہ تعالیٰ کو تم کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے، نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ تم ہی کیا، اگر ساری مخلوق بھی جمع ہوجائے تو نہ اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہے اور نہ اسے کوئی نقصان پہنچا سکتی ہے، پھر اس پر یا اس کے رسول پر احسان رکھنے کا کیا مطلب ؟
(4) ان کنتم صدقین : یعنی اللہ تعالیٰ کا ایمان کی ہدایت دینے کا احسان بھی تم پر اسی صورت میں ہے اگر تم اپنے ایمان کے دعوے میں سچے ہو، ورنہ ابھی تک تمہارے دعوے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
Ayah 49:18(ان اللہ یعلم غیب السموت والارض…: اس سے پہلے یہ ذکر ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ وہ تمام چیزیں جانتا ہے جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو پوری طرح جاننے والا ہے۔ اس آیت میں اسی کی مزید تاکید فرمائی کہ یہ نہ سمجھنا کہ وہ آسمان و زمین کی انھی اشیاء کو جانتا ہے جو ظاہر ہیں، بلکہ وہ ان اشیاء کو بھی جانتا ہے جو نگاہوں سے غائب ہیں، خواہ پہلے گزر چکی ہیں یا اب موجود ہیں یا آئندہ ہوں گی اور تم جو کچھ کر رہے ہو یا آئندہ کرو گے اللہ تعالیٰ اسے خوب دیکھنے والا ہے۔ نظم الدرر میں ہے، قشیری نے کہا :”جو شخص یہاں ٹھہر کر تھوڑا سا غور و فکر کرے گا اس کا عیش مکدر ہوجائے گا، کیونکہ کسی کو خبر نہیں کہ اس کے غیب میں کیا لکھا ہے اور اس کا انجام کیا ہونے والا ہے اور ایمان کی نعمت اس کے پاس موت تک رہے گی یا نہیں۔ پھر دعویٰ کس بات کا اور احسان کیسا ؟ یہی معنی اس شعر میں ادا ہوا ہے۔
ابکی و ھل تدرین ما یبکینی ابکی حذراً ان تفارقینی
و تقطعی حبلی و تھجرینی
”میں روتا ہوں اور کیا تو جانتی ہے کہ مجھے کیا چیز رلاتی ہے ؟ میں اس ڈر سے روتا ہوں کہ تو مجھ سے جدا نہ ہوجائے۔ مجھ سے قطع تعلق نہ کرلے اور مجھجے چھوڑ نہ دے۔“
ابن کثیر ؒ نے فرمایا :’ رسول اللہ ﷺ بڑے مجمعوں کے مواقع پر عموماً اس سورت کی تلاوت فرمایا کرتے تھے، مثلاً عید اور جمعہ۔ اس کے علاوہ فجر کی نماز میں بھی اس کی قرأت فرمایا کرتے تھے، کیونکہ یہ ابتدائے خلق، بعث، نشور، معاد، قیام، حساب، جنت، جہنم، ثواب، عقاب اور ترغیب و ترہیب پر مشتمل ہے۔“ (ابن کثیر) عبید اللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب ؓ نے ابو واقد لیثی ؓ سے پوچھا :”رسول اللہ ﷺ عید الاضحی اور عید الفطر میں کیا پ ڑھا کرتے تھے ؟“ تو انہوں نے کہا : ”آپ ﷺ دونوں نمازوں میں ”ق والقرآن المجید“ اور ”اقتربت الساعۃ“ پڑھا کرتے تھے۔“ (مسلم، الجمعۃ، باب تخفیف الصلاۃ و الخطبۃ : 883) جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں :(ان النبی ﷺ کان یقرا فی الفجرب (ق والقرآن المجید) وکان صلاتہ بعد تخفیفا) (مسلم، الصلاۃ ، باب القراء ۃ فی الصبح : 358)”رسول اللہ ﷺ فجر کی نماز میں سورة ق پڑھا کرتے تھے، اس کے باوجود آپ ﷺ کی نماز ہلکی ہوتی تھی۔“ بعض علماء نے ”وکان صلاتہ بعد تخفیفا“ کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ اس کے بعد کی باقی نمازیں ہلکی ہوتی تھیں۔