Ayah 50:41(1) واستمع…: پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کی بےہودہ گوئی پر صبر اور اپنی تسبیح و تحمید کا حکم دیا، اس آیت میں آپ کی تسلی کے لئے قیامت کے دن کا ذکر فرمایا کہ تھوڑا صبر کریں ان کی جزا کے لئے قیامت کا دن آیا ہی چاہتا ہے۔ ابن عطیہ نے ”استمع“ کا معنی ”انتظر“ کیا ہے، یعنی صبر کے ساتھ اس دن کا انتظار کریں…۔ اگر اس کا لفظی معنی ”کان لگا کر سن“ کیا جائے تو اس سے مراد بھی آپ کو تسلی دینا ہے کہ قیامت اتنی قریب ہے گویا اس میں پکارنے والے کی منادی کی آواز آپ کے کانوں میں آرہی ہے۔ زمخشری نے فرمایا :”واستمع یوم یناد المناد“ کا مطلب یہ ہے کہ کان لگا کر سن قیامت کے دن کا حال جو میں تمہیں بتانے لگا ہوں۔“
(2) یوم یناد المناد : اس سے مراد صور میں دوسری دفعہ پھونکے جانے کا وقت ہے، جب فرشتہ صور میں پھونک مار کر سب لوگوں کو قبروں سے نکل کر محشر میں جمع ہوجانے کے لئے آواز دے گا۔ دیکھیے سورة قمر (6 تا 8)۔
(3) من مکان قریب : یعنی قبروں میں پڑے ہوئے ہر شخص کو وہ آواز بالکل قریب سے آتی ہوئی سنائی دے گی۔ موجودہ سائنسی ایجادات سے یہ بات سمجھنا بہت آسان ہوگیا ہے۔
Ayah 50:42(یوم یسمعون الصیحۃ بالحق…: یعنی تمام لوگ وہ ہولناک آواز سنیں گے۔“ (بالحق“ کا مطلب یہ ہے کہ یہ بات مجازاً نہیں کہی جا رہی بلکہ وہ اس ہولناک چیخ کو حقیقتاً ، فی الواقع اور یقینا سنیں گے۔ یہ بات اتنی تاکید کے ساتھ اس لئے فرمائی کہ کفار اس کا انکار کرتے تھے اور اسے ناممکن قرار دیتے تھے۔
Ayah 50:43(انا نحن نحی ونمیت …: یعنی دنیا میں مسلم زندگی اور موت کا سلسلہ صرف ہمارے ہاتھ میں ہے، کسی اور کا اس میں کوئی دخل نہیں۔ چناچہ ہم بیشمار لوگوں کو زندگی بخشتے ہیں اور موت دے دیتے ہیں، پھر اور لوگوں کو زندگی عطا کرتے ہیں اور موت بھی دیتے ہیں۔ اسی طرح لاتعداد مخلوقات پیدا ہوتی اور متری چلی جا رہی ہیں اور آخر کار ان سب کو ہماری طرف ہی واپس آنا ہے۔
Ayah 50:44(1) یوم تشقق الارض عنھم سراعاً ”سراعا“ ”سریع“ کی جمع ہے۔ ”یوم“ ”الینا المصیر“ کا ظرف ہے، یعنی ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے اس دن جب زمین ان سے پھٹے گی اور وہ اس سے نکل کر تیزی سے دوڑتے ہوئے نکلیں گے۔
(2) ذلک حشر علینا یسیر : یہ کفار کی اس بات کا جواب ہے کہ جب ہم مر کر مٹی ہوچکے تو کیا اس وقت ہمیں زندہ کر کے اٹھا کھڑا کیا جائے گا ؟ یہ تو عقل سے بعید اور ناممکن ہے۔ فرمایا یہ حشر یعنی سب اگلے پچھلے انسانوں کو ایک آواز کے ساتھ اکٹھا کرلینا ہمارے لئے بالکل آسان ہے۔
Ayah 50:45(1) نحن اعلم بما یقولون : یہ جملہ کافر کے لئے وعید اور دھمکی ہے اور رسول اللہ ﷺ کے لئے تسلی و تشفی کا باعث ہے۔
(2) وما انت علیھم بجبار : یعنی آپ کا کام یہ نہیں کہ انہیں زبردستی مسلمان بنالیں، آپ کا کام صرف پیغام پہنچانا ہے۔ جیسا کہ فرمایا :(انما انت مذکر، لست علیھم بمصیطر) (الغاشیۃ : 21، 22)”تو صرف نصیحت کرنے والا ہے۔ تو ہرگز ان پر کوئی مسلط کیا ہوا نہیں ہے۔“
(3) فذکر بالقرآن من یخاف وعید :”وعید“ اصلمیں ”وعیدی“ ہے، میری وعید۔ اس کا مططل یہ نہیں کہ آپ دوسروں کو صنیحت نہ کریں، بلکہ مطلب یہ ہے ہ آپ کی نصیحت سے فائدہ وہی اٹھائے گا جو میری وعید سے ڈرتا ہے، جیسا کہ فرمایا :(انما تنذر الذین یخشون ربھم بالغیب و اقاموا الصلوۃ) (فاطر : 18)”تو تو صرف ان لوگوں کو ڈراتا ہے۔ جو دیکھے بغیر اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں۔“