Ayah 52:41(ام عندھم الغیب فہم یکتبون :)”عندھم“ پہلے لانے سے حصر پیدا ہوگیا ہے، اس لئے ترجمہ ”یا انھی کے پاس غیب ہے“ کیا گیا ہے۔ یعنی یا پھر انہیں آپ کے اتباع کی ضرورت اس لئے نہیں کہ سارا غیب انھی کے پاس ہے اور وہ اپنے معاملتا کے فیصلے خود ہی وہاں سے لکھ لیتے ہیں، اسلئے انہیں اس کتاب کی ضرورت ہی نہیں جو آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لے کر آئے ہیں۔ یہاں بھی سوال ہی پر اکتفا فرمایا ہے، کیونکہ اس کا جواب ظاہر ہے کہ سارے غیب کا بلاشرکت کغیرے مالک ہونا تو بہت ہی دور ہے۔ یہ تو غیب کے ایک ذرے سے بھی آگاہ نہیں۔ پھر یہ اللہ کی کتابا ور اس کے رسول سے کس طرح مستغنی ہوسکتے ہیں۔
Ayah 52:42(ام یریدون کیداً ، فالذین کفروا …:”المکیدون“ کاد یکید کیدا“ سے اسم مفعول ہے، جو کسی کی چال میں آچکے ہوں۔ یعنی یا وہ آپ کے خلاف کوئی چال چلنا چاہتے ہیں تو سن لیں کہ وہ لوگ جو حق کا انکار کر رہے ہیں، یا اس کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں اور کئی طرح کی چالیں چل رہے ہیں وہ خود ہی چال میں آنے والے ہیں۔ چناچہ کفار نے آپ ﷺ کی ہجرت کے وقت یا کسی بھی موقع پر آپ ﷺ کے خلاف جو بھی سازش کی وہ ناکام ہوئی اور ان کی ہر چال انھی پر الٹی پڑی اور کفر پر اڑنے والے بدر اور دوسرے مواقع پر بری طرح قتل ہوئے۔ سعید روحوں نے اسلام قبول کرلیا اور پورا جزیرہ عرب اسلام کے زیر نگیں آگیا۔
Ayah 52:43(1) ام لہم الہ غیر اللہ : یا پھر اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی اور معبود ہے جو عبادت کا مستحق ہے اور نفع و نقصان کا اختیار رکھتا ہے۔
(2) سبحن اللہ عما یشرکون :”ما“ موصولہ بھی ہوسکتا ہے اور مصدریہ بھی۔ موصولہ ہو تو معنی ہے ”پاک ہے اللہ اس سے جو وہ شریک بناتے ہیں۔“ مصدر یہ ہو تو معنی ہے ”پاک ہے اللہ ان کے شریک بنانے سے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے اور بنائے ہوئے شریکوں سے پاک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ ان لوگوں کے بنائے ہوئے معبودوں کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں، یہ محض اپنے وہم و گمان کی پوجا کر رہے ہیں۔
Ayah 52:44(وان یروا کسفاً من السمآء ساقطاً…:”کسافاً“ سین کی جزم کے ساتھ واحد ہے، ٹکڑا۔ بعض کہتے ہیں جمع ہے، جیسا کہ ”سدرۃ“ کی جمع ”سدر“ ہے، ٹکڑے۔ (اعراب القرآن از درویش) یعنی ان لوگوں نے ہر قیمت پر انکار کیا ت ہیہ کر رکھا ہے اور ایمان لانے کی شرط کے طور پر جن معجزات کا مطالبہ کرتے ہیں وہ صرف لا جواب کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ اگر ان کے تمام طلب کردہ معجزات بھی دکھا دیئے جائیں پھر بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ (دیکھیے انعام : 11 یونس 96، 97) پھر یا تو اسے آنکھوں پر جادو کہہ کر رد کردیں گے (دیکھیے حجر : 15) یا کوئی اور بہانہ بنا کر ایمان لانے سے انکار کردیں گے۔ مثلاً ان کا مطالبہ ہے کہ ہم پر آسمان کو ٹکڑے کر کے گرا دے (دیکھیے بنی اسرائیل : 92) اگر ہم ان کا یہ مطالبہ بھی پورا کردیں اور آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دیں تو اسے تہ ہبہ تہ بادل کہہ کر ایمان لانے سے انکار کردیں گے، حالانکہ وہ دیکھ رہے ہوں گے اور انہیں یقین ہوگا کہ وہ تہ بہ تہ بادل نہیں ہے۔
Ayah 52:45(فذرھم حتی یلقوا یومھم الذی فیہ یصعقون…: اس دن سے مراد قیامت کا دن ہے جب صورت میں پھونک کے ساتھ سب لوگ بےہوش ہو کر مرجائیں گے۔ (دیکھیے سورة زمر : 68) میزید دیکھیے سورة زخرف (83) اور سورة معارج (42، 43)۔
Ayahs 52:46–47(1) وان للذین ظلموا عذاباً دون ذلک : یعنی کفار کے لئے قیامت سے پہلے بھی ایک عذاب ہے۔ اس سے مراد دنیا میں آنے والے عذاب ہیں۔ دیکھیے سورة توبہ (126) اور سورة سجدہ (21) کی تفسیر۔
(2) ولکن اکثرھم لایعلمون : یعنی دنیا میں ان پر مختلف مصیبتیں اور عذب آتے ہیں، جن کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ پلٹ آئیں اور توبہ کرلیں، مگر ان میں سے زیادہ تر لوگ نہیں جانتے کہ ہم پر یہ مصیبتیں کیوں آئیں۔ اس لئے جیسے ہی گرفت ڈھیلی ہوتی ہے پہلے کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ نافرمان بن جاتے ہیں اور عذاب کو نہ عذاب سمجھتے ہیں نہ تنبیہ، بلکہ وہ عذاب کا کوئی سائنسی سبب اور نافرمانی پر جمے رہنے کا کوئی نہ کوئی بہانہ ڈھونڈ لیتے ہیں۔ بعض اہل علم نے یہاں ””ون ذلک“ (قیامت سے پہلے) کے الفاظ میں دنیا کے عذابوں کے علاوہ موت کے فرشتوں کی مار کو اور عذاب قبر کو بھی شامل فرمایا ہے۔
Ayah 52:48(1) واصبر لحکم ربک : یہاں ”لام“ ”علی“ کے معنی میں ہو تو مطلب یہ ہے کہ اپنے رب کے حکم پر عمل کرنے میں صبر و استقامت اختیار کرو اور دعوت کا کام جاری رکھو، جیسے فرمایا :(واصبر علی مایقولون) المزمل : 10) ”اور اس پر صبر کر جو وہ کہتے ہیں۔“ اور اگر ”الی“ کے معنی میں ہو تو مطلب یہ ہے کہ ان ظالموں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ آنے تک صبر کرو، جیسا کہ فرمایا :(واصبر حتی یحکم اللہ) (یونس : 109)”اور صبر کر یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کر دے۔“ اس مقام پر حرف ”لام“ لانے سے ایسا جامع مفہوم پیدا ہو رہا ہے جو کوئی اور حرف لانے سے پیدا نہیں ہوتا۔”واصبر لحکمنا“ (اور ہمارے حکم پر صبر کر) کے بجائے فرمایا :(واصبر لحکم ربک) (اور اپنے رب کے حکم پر صبر کر) مطل یہ ہے کہ اس کے رب ہونے کا تقاضا ہے کہ وہ تیری نگہداشت اور حفاظت کرے۔
(2) فانک باعینا : کیونکہ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے، ہم ہر وقت تھے دیھک رہے ہیں اور تیری نگراین اور حفاظت کر رہے ہیں، کسی کی مجال نہیں کہ تجھے نقصان پہنچا سکے۔ مزید دیکھیے سورة ہود (37)۔
(2) وسبح بحمد ربک : صبر کے ساتھ تسبیح و تحمید یعنی نماز کی تاکید فرمائی، کیونکہ ان دونوں کے ساتھ آدمی کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد حاصل ہوتی ہے، جیسا کہ فرمایا :(واستعینوا بالصبر وا لصلوۃ) (البقرہ : 35)”اور صبر اور نماز کے ساتھ مدد طلب کرو۔“
(4) ”سبح بحمد ربک“ کا لفظی معنی اگرچہ یہ ہے کہ ”اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر“ مگر اس سے مراد نماز ہے۔ دلیل اور تفصیل کے لئے دیکھیے سورة طہ (130) کی تفسیر۔
(5) حین تقوم : اکثر مفسرین نے ”سبح بحمد ربک“ سے ”سبحان اللہ“ اور ”الحمد للہ“ کہنا مراد لیا ہے اور ”حین تقوم“ سے مراد بعض نے یہ لیا ہے کہ نیند کے بعد بستر سے اٹھتے وقت ”سبحان اللہ ، الحمد للہ“ کہو۔ بعض نے اس سے مجلس سے اٹھتے وقت کفارہ مجلس کی دعا ”سبحانک اللھم وبحمدک اشھد ان لا الہ انت استغفرک و اثوب الیک مراد لی ہے اور بعض نے فرمایا کہ اس سے مراد نماز شروع کرتے وقت ”سبحانک اللھم وبحمدک“ (دعائے استفاح) ہے۔ بعض نے کہا کہ ہر خطاب کے لئے کھڑے ہوتے وقت تسبیح و تحمید کرنا مراد ہے۔ مگر انھی مفسرین نے اگلی آیت ”ومن الیل فسبحہ“ میں تسبیح سے مراد نماز تہجد اور ”ادبار النجوم“ سے مراد نماز فجر لی ہے۔ حق یہ ہے کہ ”سبح“ کا جو معنی ”من الیل“ اور ”ادبار النجوم“ کے ساتھ کیا گیا ہے وہی معنی ”حین تقوم“ کے ساتھ ہونا چاہیے۔ طبری نے یہاں پہلے دو قول ذکر فرمائے ہیں، ایک یہ کہ نیند سے اٹھ کر تسبیح و تحمید کرے، دوسرا یہ کہ جب فرض نماز کے لئے کھڑا ہو تو ”سبحانک اللھم و بحمدک…“ دعا پڑھے۔ پھر فرمایا :”صواب کے سب سے زیادہ قریب ان کا قول ہے جو کہتے ہیں کہ ”سبح بحمد ربک کا معنی ہے ”صل بحمد ربک حین تقوم من منامک و ذلک نوم القائلۃ وانما عنی صلاۃ الظھر“ یعنی اپنے رب کی حمد کے ساتھ نماز پڑھ جب تو اپنی نیند سے اٹھے۔ نیند سے مراد دوپہر کی نیند ہے اور نماز سے مراد ظہر کی نماز ہے۔“ فرماتے ہیں :”ہم نے اس قول کو اس لئے ترجیح دی ہے کہ نماز شروع کرتے وقت ”سبحانک اللھم“ پڑھنا کسی کے نزدیک بھی فرض نہیں اور ہم نے دوپہر کی نیند سے اٹھنا اسلئے مراد لیا ہے کہ لوگوں کا معروف نیند سے اٹھنا یا تورات کی نیند کے بعد ہوتا ہے اور وہ نماز فجر کا وقت ہے یا دوپہر کی نیند کے بعد ہوتا ہے اور وہ نماز ظہر کا وقت ہے۔ تو جب ”سبح بحمد ربک حین تقوم“ کے بعد ”ادبار النجوم“ کے وقت تسبیح کا حکم دیا جو رتا کی نیند سے اٹھ کر نماز فجر کی دو رکعتیں ہیں، تو معلوم ہوا کہ ”حین تقوم“ سے مراد وہ نماز ہے جو رات کی نیند سے اٹھنے کے علاوہ ہے او وہ نماز ظہر ہے۔“ (طبری) بعض حضرت ا نے لکھا ہے کہ طبری نے اس قول کو ترجیح دی ہے کہ ’ حین تقوم“ سے مراد نیند سے اٹھ کر تسبیح و تحمید ہے، لیکن اوپر کی تفصیل سے معلوم ہوا کہ طبری کی ترجیح یہ نہیں ہے۔
Ayah 52:49(1) ومن الیل فسبحہ : اس سے مراد مغرب اور عشاء ہے۔
(2) وادبار النجوم : اس سے مراد فجر کی فرض نماز ہے۔ بعض حضرات نے اس سے مراد فجر کی نماز سے پہلے کی دو رکعتیں لی ہیں، مگر امام طبری فرماتے ہیں کہ یہاں ”فسبحہ“ امر کا صیغہ ہے جو فرض کے لئے ہے، اس لئے اس سے مراد فرض رکعتیں ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ ان آیات میں پانچوں نمازوں کا حکم ہے، اس طرح کہ ”حین تقوم“ میں ظہر و عصر کا، ”من الیل“ میں مغرب و عشاء کا اور ”ادبار النجوم“ میں فجر کی نماز کا ذکر ہے۔ (واللہ اعلم)