53. Surah An-Najm

النجمThe Star · 62 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 53:26

وَ كَمْ مِّنْ مَّلَكٍ فِی السَّمٰوٰتِ لَا تُغْنِیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اَنْ یَّاْذَنَ اللّٰهُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْضٰى Open ayah 53:26 in the Quran reader

اور آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے ہیں کہ ان کی سفارش کچھ کام نہیں آتی مگر اس کے بعد کہ اللہ اجازت دے جس کے لیے چاہے اور (جسے) پسند کرے۔

(وکم من ملک فی السموت لاتغنی شفاعتھم شیاً …: یعنی تمہارے یہ حاجت روا اور مشکل شکا اور فرشتوں کے ناموں پر بنائے ہوئے دیوی دیوتا تو محض تمہارے وہم و گمان کی پیداوار ہیں، حقیقت میں ان کا کہیں وجود ہی نہیں۔ یہاں تو حقیقی فرشتے جو آسمانوں میں رہتے ہیں اور انہیں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہے، ان کا بھی یہ حال ہے کہ ان میں سے کسی کی سفارش کام نہیں آتی، سوائے اس کے جسے نص اجازت دے اور اسیک وف ائدہ دیتی ہے جس کے حق میں سفارش کو اللہ تعالیٰ پسند فرمائے اور اس کے حق میں سفارش کی اجازت دے۔ غرض سفاشر کا اختیار بھی اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے، فرمایا :(قل للہ الشفاعۃ جمیعاً) (الزمر : 33)”کہہ دے سفارش ساری کی ساری اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔“ پھر اسے چھوڑ کر تم کسی اور کو کیوں پکارتے اور پوجتے ہو ؟ شفاعت کے متعلق مزید دیکھیے سورة بقرہ (255):(من ذا الذی یشفع عندہ الا باذنہ) (آیت الکرسی) اور سورة نبا (38) کی تفسیر۔
Ayah 53:27

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ لَیُسَمُّوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ تَسْمِیَةَ الْاُنْثٰى Open ayah 53:27 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے یقینا وہ فرشتوں کے نام عورتوں کے ناموں کی طرح رکھتے ہیں۔

(1) ان الذین لایومنون بالاخرۃ …: اس کی وضاحت کے لئے دیکھیے سورة زخرف (19) کی تفسیر۔
Ayah 53:28

وَ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ١ۚ وَ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًاۚ Open ayah 53:28 in the Quran reader

حالانکہ انھیں اس کے متعلق کوئی علم نہیں، وہ صرف گمان کے پیچھے چل رہے ہیں اور بیشک گمان حق کے مقابلے میں کسی کام نہیں آتا۔

(2) ان یتبعون الا الظن : اس کی تفصیل کیلئے دیکھیے سورة یونس (36، 66) کی تفسیر۔
Ayah 53:29

فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰى١ۙ۬ عَنْ ذِكْرِنَا وَ لَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 53:29 in the Quran reader

سو اس سے منہ پھیرلے جس نے ہماری نصیحت سے منہ موڑا اور جس نے دنیا کی زندگی کے سوا کچھ نہ چاہا۔

(فاعرض عن من تولی عن ذکرنا : یہاں یہ کہنے کے بجائے کہ ”فاغرض عنھم“ (سو ان سے منہ پھیر لے) یہ فرمایا :(فاعرض عن من تولی عن ذکرنا) (سو اس سے منہ پھیر لے جس نے ہماری نصیحت سے منہ موڑا) تاکہ ان مشرکین سے اعراض کی وجہ بھی سامنے آجائے کہ جو شخص ہماری وحی کے ذریعے سے آنے والی نصیحت کی طرف وتجہ دینے کے لئے تیار ہی نہیں، بلکہ جان بوجھ کر اس سے منہ موڑے ہوئے ہے اور دنیا کی زندگی کے سوا اس نے کچھ جاہا ہی نہیں ہے، آپ بھی اس کے پیچھے نہ پڑیں اور نہ ہی اس کی خاطر وقت ضائع کریں۔
Ayah 53:30

ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدٰى Open ayah 53:30 in the Quran reader

یہ علم میں ان کی انتہا ہے، یقینا تیرا رب ہی زیادہ جاننے والا ہے اسے جو اس کے راستے سے بھٹک گیا اور وہی زیادہ جاننے والا ہے اسے جو راستے پر چلا۔

(1) ذلک مبلغھم من العلم : ”مبلغ“ ”بلغ یبلغ“ (ن) سے ظرف ہے پہنچنے کی جگہ۔”ذلک“ کا لفظ تحقیر کیلئے ہے کہ ان لوگوں کے علم کی پہنچ اور اتنہا اس حقیر حیات دنیا تک ہی ہے، جو آخرت کے مقابلے میں قلیل بھی ہے اور ناپائیدار بھی، اس سے آگے نہ انہیں کچھ علم ہے نہ وہ اس سے آگے جاننے یا سوچنے کے لئے تیار ہیں۔ رسول اللہ ﷺ سے مروی ایک دعا میں آپ ﷺ کے یہ الفاظ آئے ہیں :(ولاتجعل الدنیا اکبر ھمنا ولا مبلغ علمنا) (ترمذی، الدعوات، باب دعاء ”اللھم اقسم لنا…“ ، 3502، قال الالبانی حسن)”اور دنیا کو ہماری سب سے بڑی فکر نہ بنانا اور نہ اسے ہمارے علم کی انتہا بنانا۔“ (2) ان ربک ھو اعلم بمن ضل عن سبیلہ …: اس سے اللہ تعالیٰ کا کمال علم ثابت ہوتا ہے کہ اسے ان تمام لوگوں کا علم ہے جو اس کی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں اور ان کا بھی جو اس کی راہ پر قائم ہیں۔
Ayah 53:31

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۙ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوْا بِمَا عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰىۚ Open ayah 53:31 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اللہ ہی کا ہے، تاکہ وہ ان لوگوں کو جنھوں نے برائی کی، اس کا بدلہ دے جو انھوں نے کیا اور ان لوگوں کو جنھوں نے بھلائی کی، بھلائی کے ساتھ بدلہ دے۔

(1) وللہ ما فی السموت وما فی الارض : لفظ ”للہ“ پہلے لانے سے حصر پیدا ہو رہا ہے۔ اس جملے میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کے اختیار کے کمال کا ذکر ہے کہ ساری کائنات کی ہر چیز کا وہی مالک ہے۔ (2) لیجزی الذین آساء وبما عملوا : تو جب وہ علم اور قدرت دونوں میں کامل ہے تو اس کا نتیجہ یہی ہے کہ وہ برائی کرنے والوں کو ان کے عمل کا بدلا دے گا اور بھلائی کرنے والوں کو بھلائی کے ساتھ بدلا دے گا، ان میں سے کوئی بھی نہ کے علم سے اوجھل ہے نہ اس کی قدرت سے باہر ہے۔ اس میں برائی کرنے والوں کے لئے وعید اور بھلائی کرنے والوں کے لئے وعدہ ہے۔
Ayah 53:32

اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ اِذْ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّةٌ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠ Open ayah 53:32 in the Quran reader

وہ لوگ جو بڑے گناہوں اور بےحیائیوں سے بچتے ہیں مگر صغیرہ گناہ، یقینا تیرا رب وسیع بخشش والا ہے، وہ تمہیں زیادہ جاننے والا ہے جب اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹوں میں بچے تھے۔ سو اپنی پاکیزگی کا دعویٰ نہ کرو، وہ زیادہ جاننے والا ہے کہ کون بچا۔

(1) الذین یجتنبون کبیر الاثم و الفواحشن …: اس کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة شوریٰ (37) کی تفسیر۔ (2) الا اللم :”الالمام“ اور ”اللم“ کا اصل معنی ”کسیج گہ تھوڑی دیر کے لئے اترنا“ ہے۔ ”الم فلان بالمکان“ جب کبیرہ و گناہوں اور فواحش سے بچتے ہیں، مگر کبھی کسی وقت ان سے کوئی گناہ ہوجائے تو وہ اس پر اصرار نہیں کرتے بلکہ فوراً توبہ کر کے اس سے نکل جاتے ہیں۔ گناہ سیا ن کی آلودگی تھوڑی دیر کے لئے ہوتی ہے۔ (دیکھیے نسائ : 17، 18) طبری نے صحیح سند کے ساتھ ابن عباس ؓ کا قول نقل فرمایا :”اس سے مراد وہ شخص ہے جو کسی فاحشہ کا ارتکاب کرتا ہے پھر توبہ کر لیات ہے۔“”اللم“ کا معنی ”قریب ہونا“ بھی ہے، ”الم بالشیء اذا قاربہ ولم یخالطہ“ جب کوئی شخص کسی کام کے قریب ہوا ہو، مگر اس نے وہ کام نہ کیا ہو۔ اس لئے اکثر سلف نے ”اللمم“ سے مراد صغیرہ گناہ لئے ہیں۔ چناچہ ابن عباس ؓ نے فرمایا :”میں نے ”اللم ‘ کے مشابہ اس سے زیادہ کوئی یچز نہیں دیکھی جو ابوہریرہ ؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا :(ان اللہ تکب علی ابن آدم حظہ من الزنا ، ادرک ذلک لا محالۃ ، فرنا العین النظر و زنا اللسان المنطق و النفس تمنی وتشتھی والفرج یصدق ذلک کلہ و یکدبہ) (بخاری، الاستذان، باب زنا الجوارح دون الفرج : 6233)”اللہ تعالیٰ نے ابن آدم پر زنا میں سے اس کا حصہ لکھ دیا ہے، جسے لامحالہ اس نے پانا ہی پانا ہے۔ سو آنکھ کا زنا دیکھنا ہے اور زبان کا زنا بولنا ہے اور نفس تمنا کرتا اور خواہش کرتا ہے اور شرم گاہ اس سب کو سچا کر دکھاتی ہے یا جھوٹا۔“ مزید دیکھیے سورة نسائ (31) کی تفسیر۔ (3) ان ربک واسع المغفرۃ : اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ”رب“ کا ذکر کر کے فرمایا کہ تیرا رب وسیع بخشش والا ہے، یعنی اس کی ربوبنیت کا نتیجہ ہے کہ وہ بندوں کے گناہں پر پردہ ڈلاتا ہے اور انہیں معاف فرماتا ہے ، ورنہ اگر وہ ہر چھوٹے بڑے گناہ پر گرفت فرمائے تو زمین پر کوئی متنفس باقی نہ چھوڑے۔ اس کی مغفرت اتنی وسیع ہے کہ وہ توبہ کرنے والوں کا ہر گناہ حتی کہ کفر و شرک بھی معاف کردیتا ہے اور جسے چاہے کفر و شرک کے سوا توبہ کے بغیر بھی سب کچھ معاف کردیتا ہے۔ (4) ھوا اعلم بکم اذا نشآ کم من الارض …:”اجنۃ“ ”خنبین“ کی جمع ہے، بچہ جب تک ماں کے پیٹ میں رہے کیونکہ وہ وہاں چھپا ہوا ہوتا ہے۔ یعنی اس کی مغفرت کی یہ وسعت اس کے علم کی وسعت کی وجہ سے ہے، وہ تم سے بھی زیادہ تمہارا علم رکھتا ہے، اسے تمہارا اس وقت کا حال بھی معلوم ہے جب تم اس قابل ہی نہیں تھے کہ کچھ جان سکو۔ چناچہ وہ تمہارے اس وقت کا بھی علم رکھتا ہے جب اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور سا وقت کا بھی جب تم اپنی ماؤں کے پیٹوں میں جنین کی حالت میں تھے۔ اسے تمہاری کمزوری اور گناہ کی طرف رغبت خوب معلوم ہے، اس لئے وہ چھوٹے موٹے گناہوں کو ویسے ہی معاف کردیتا ہے۔ (5) فلا تزکوا انفسکم ھو اعلم بمن اتقی : اس لئے اگر تمہیں کسی اچھے کام کی توفیق مل جائے تو نہ اس پر فخر کرو اور نہ اپنے آپ جکو پاک قرار دو۔ ہمیشہ اپنی ابتدا پر نظر رکھو اور اپنی انتہا پر بھی، کیونکہ تمہارا انجام اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ اچھا ہے یا برا۔ وہی جانتا ہے کہ حقیقی متقی کون ہے، جس کا خاتمہ تقویٰ پر ہوگا، تو جب تمہیں اپنا انجام ہی معلوم نہیں تو اپنے آپ ہونے کا دعویٰ کیسے کرسکتے ہو ؟ مزید تفصیل کے لئے دیکھیے سورة نساء کی آیت (49) کی تفسیر۔ (6) اس حکم کی دھڑلے کے ساتھ مخالفت سب سے زیادہ بعض صوفی حضرات نے کی۔ اس کی واضح دلیل ان کا ”وحدت الوجود“ کا عقیدہ ہے ، بھلا جو شخص مردہ مٹی سے بنا، پھر رحم کی تین ظلموتوں میں غلیظ خون کے ساتھ پرورش پاتا رہا اور پیشاب کے راستوں سے دو دفعہ گزر کر وجود میں آیا، جسے اپنے انجام تک کا علم نہیں کہ جنت ہے یا جہنم، اسے خدائی کا دعویٰ کرتے ہوئے حیا نہیں آتی۔ ان لوگوں نے اپنی ”انا ربکم الاعلی“ کی فرعونیت کی زہد و تقدس کے پردے میں چھپا رکھا ہے۔ ان میں سے کوئی کہتا ہے ::”سبحانی، ما اعظم شانی“”میں پاک ہوں، میری شان کس قدر عظیمہے۔“ کوئی کہتا ہے :”ملکی اعظم من ملک اللہ“ میرا ملک اللہ کے ملک سے بڑا ہے۔“ کوئی کہتا ہے :”میرا دل چاہتا ہے دوزخ کو بجھا دوں، جنت کو جلا دوں۔“ غرض اپنی پاکبازی کے دعوے کے ساتھ جو لاف زنی اور بےہودہ گوئی یہ لوگ کرتے ہیں آپ کو اور کسی جگہ مشکل سے ملے گی۔
Ayahs 53:33–34

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ تَوَلّٰىۙ Open ayah 53:33 in the Quran reader

پھر کیا تو نے دیکھا اسے جس نے منہ موڑ لیا۔

وَ اَعْطٰى قَلِیْلًا وَّ اَكْدٰى Open ayah 53:34 in the Quran reader

اور تھوڑا سا دیا اور رک گیا۔

1۔ افرء یت الذی تولی :۔ اس سورت کا مضمون رسالت کا اثبات ، شرک اور بت پرستی کی تردید اور مشرکین مکہ کی مذمت ہے۔ پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے پاک ہونے کے گمان اور دعویٰ سے منع فرمایا۔ قریش مکہ اپنے بارے میں کئی طرح کے گمان اور دعوے رکھتے تھے ، جنہوں نے انہیں دھوکے میں مبتلا کر رکھا تھا۔ قرآن مجید میں مختلف مقامات پر ان کے وہ گمان ذکر فرمائے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک ابراہیم ؑ کی اولاد ہونے کی وجہ سے اپنی برتری کا گمان تھا ، اللہ تعالیٰ کے تمام لوگوں کو مٹی سے ، پھر ماں کے شکم سے پیدا کرنے کا ذکر فرما کر تقویٰ کو معیار فضیلت قرار دیا۔ ایک کام ان کا یہ تھا کہ انہوں نے عین کعبہ کے اندر ابراہیم ، اسماعیل ؑ اور دوسرے بزرگوں کی صورتیں رکھ کر ان کی عبادت کر کے یہ سمجھ رکھا تھا کہ ہمارے یہ وکیل اور سفارشی بڑے زبردست ہیں کہ وہ اپنے نام لیواؤں کو ، خواہ وہ کچھ بھی کرتے رہیں، اپنے دامن میں پناہ دیں گے۔ (دیکھئے : یونس : 18) ایک گمان ان کا یہ تھا کہ کفر کے باوجود انہیں جس طرح دنیا میں نعمتیں ملی ہوئی ہیں اسی طرح آخرت میں بھی ملیں گی۔ (دیکھئے مریم : 77) اسی طرح وہ دوسروں کو یہ کہہ کر اسلام قبول کرنے سے روکنے تھے کہ تم ہماری راہ پر چلتے رہو، تمہارے گناہ ہم اٹھا لیں گے۔ (دیکھئے عنکبوت : 12) ان سارے دعوؤں اور گمانوں کا نتیجہ یہ تھا کہ آخرت کے عذاب سے بےخوف ہونے کی وجہ سے ان میں دنیا کی شدید ہوس ، بخل اور کمینگی آچکی تھی۔ وہ کچھ خرچ کرتے بھی تھے تو نام و نمود کی خاطر ، وہ بھی بس اتنا کہ نام ہوجائے ، اس سے آگے ان کے ہاتھ کھلنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے اور اتنا خرچ کر کے بھی وہ اپنی سخاوت اور دریا دلی کی لاف زنی کرتے کہ میں نے یہ کردیا اور وہ کردیا ، جیسا کہ سورة ٔ بلد میں ہے ”یقول اھلکت ما لا لبدا“ (البلد : 6) ”کہتا ہے کہ میں نے ڈھیروں مال برباد کر ڈالا“۔ اپنے آباؤ و اجداد، پیشواؤں ، وکیلوں اور سفارشیوں کے بل بوتے پر یہ کہہ کر گناہ کیے جاتے ہیں کہ ہمارے گناہ وہ اٹھا لیں گے ، جیسے نصرانیوں کا کہنا ہے کہ ہمارے تمام گناہوں کے کفارہ میں مسیح ؑ سولی پر چڑھ گئے ہیں ، ہم ان کے نام لیواء ہیں ، ہمارے سارے گناہ انہوں نے اپنے ذمے لے کر بخشوا لیے ہیں اور جیسا کہ آج کل مسلمانوں میں سے کچھ لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ حسین ؓ نے شہادت پا کر اپنے نام لیواؤں کے سارے گناہ بخشوا لیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ایسے تمام گمانوں اور دعوؤں کی تردید فرمائی ہے۔ 2۔ واعطی قلیلاً واکذی :”اکدی“ کذیۃ سے ہے جس کا معنی چٹان ہے۔ کوئی شخص کنواں وغیرہ کھودنے لگے اور آگے چٹان یا پتھر آجانے کی وجہ سے کھودنے سے رک جائے تو کہا جاتا ہے :”اکدی الرجل“ یہاں ”الذی“ سے کوئی خاص شخص مراد نہیں ، بلکہ مقصود مشرک آدمی کی نفسیات اور طرز عمل کا تذکرہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کی راہ میں دینے کا حوصلہ نہیں رکھتے ، اگر کبھی دیتے بھی ہیں تو نام کے لیے ، وہ بھی تھوڑا سا ، پھر ان کے سامنے کنجوسی کی چٹان آجاتی ہے اور وہ رک جاتے ہیں۔ خصوصاً جب انہیں اس سے شہرت یا دنیوی مفاد حاصل ہوتا دکھائی نہ دیتا ہو۔ فرمایا : کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جس نے قبول کرنے سے منہ موڑ لیا کچھ تھوڑا سا مال خرچ کیا اور رک گیا۔ شاہ عبد القادر نے فرمایا :”یعنی تھوڑا سا ایمان لانے لگا ، پھر رک گیا“ (موضح) اس معنی میں مراد وہ مشرک ہیں جنہوں نے کبھی رسول اللہ ﷺ یا قرآن کی تعریف کی ، مگر اس کے بعد ایمان لانے سے رک گئے۔
Ayah 53:35

اَعِنْدَهٗ عِلْمُ الْغَیْبِ فَهُوَ یَرٰى Open ayah 53:35 in the Quran reader

کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے ؟ پس وہ دیکھ رہا ہے۔

اعندہ علم الغیب فھویری“ یعنی یہ شخص ایمان سے منہ موڑنے اور اس تمام تر بخل اور کنجوسی کے باوجود جو اپنے آپ کو پاک قرار دے رہا ہے اور آخرت کے عذاب سے محفوظ رہنے اور وہاں کی نعمتوں کے حق دار ہونے کا جو گمان اس نے کر رکھا ہے ، کیا اس کے پاس علم الغیب کی دور بین (آلہ) ہے جس کے ساتھ وہ یہ سب کچھ دیکھ رہا ہے ؟
Ayahs 53:36–37

اَمْ لَمْ یُنَبَّاْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوْسٰىۙ Open ayah 53:36 in the Quran reader

یا اسے اس بات کی خبر نہیں دی گئی جو موسیٰ کے صحیفوں میں ہے۔

وَ اِبْرٰهِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰۤىۙ Open ayah 53:37 in the Quran reader

اور ابراہیم کے (صحیفوں میں) جس نے (عہد) پورا کیا۔

1۔ الم لم ینبا بما فی صحف موسیٰ۔۔۔۔۔ یعنی اگر وہ رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں اور اس کے پاس علم غیب بھی نہیں تو کیا پہلے انبیاء کی کتابوں میں جو بنیادی اصول کھلے ہیں وہ بھی کسی نے اسے نہیں بتائے ؟ ان انبیاء میں سے ابراہیم اور موسیٰ ؑ کا خاص طور پر ذکر اس لیے فرمایا کہ ابراہیم ؑ کے دین پر چلنے کا وہ دعویٰ رکھتے تھے اور ابراہیم ؑ کے بعد احکام کی بنیادی کتاب موسیٰ ؑ پر نازل ہونے والی تورات ہی تھی جس پر بعد کے تمام انبیاء عمل کرتے تھے اور جو اس وقت بھی موجود تھی اور قریش یہودیوں سے اس کے متعلق پوچھتے رہتے تھے۔ 2۔ و ابراہیم الذی وفی :”فی“ جس نے پورا کیا ، یہ ذکر نہیں فرمایا کہ کیا پورا کیا ، تا کہ وہ عام رہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے اور بندوں سے کیا ہوا ہر عہد پورا کیا (دیکھئے توبہ : 114) اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا اسے پورا کیا اور جن باتوں کے ساتھ امتحان لیا سب پوری کردکھائیں۔ (دیکھئے بقرہ : 124)”الذی وفی“ (جس نے پورا کیا) پر مفسر ثناء اللہ امرتسری لکھتے ہیں : ”میرے خیال میں ”الذی“ موصول دونوں میں سے ہر ایک کی صفت ہے۔ (واللہ اعلم) ”ای کل واحد منھما“ یعنی ابراہیم اور موسیٰ (علیہما السلام) میں سے ہر ایک نے عہد پورا کیا۔
Ayah 53:38

اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىۙ Open ayah 53:38 in the Quran reader

کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی (جان) کسی دوسری کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔

الا تزر وازرۃ وزر اخری :”الاتزر“ اصل میں ”ان لا تزر“ ہے : ”ان“ تفسیر یہ ہے یا ”انہ“ کی تخفیف ہے۔ یہاں سے ابراہیم اور موسیٰ (علیہما السلام) کے صحیفوں میں سے چند احکام نقل فرمائے ہیں ، ان میں سے پہلا یہ ہے کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی (جان) کسی دوسری (جان) کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔ تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ انعام (164) بنی اسرائیل (15) اور فاطر (18)۔
Ayah 53:39

وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ Open ayah 53:39 in the Quran reader

اور یہ کہ انسان کے لیے صرف وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی۔

وان لیس للانسان الا ما سعی : یعنی جس طرح کسی دوسرے کے گناہوں کا بوجھ اس پر نہیں ڈالا جائے گا اسی طرح اسے اجر و ثواب بھی انہی اعمال کا ملے گا جو اس نے خود کیے ہیں۔ یہاں ایک سوال ہے کہ قرآن و حدی سے ثابت ہے کہ آدمی کو دوسروں کے نیک اعمال سے فائدہ پہنچتا ہے ، مثلاً گناہ گاروں کے لیے انبیاء ، فرشتوں اور صالحین کی شفاعت ، مردوں کے لیے زندوں کی دعا دیکھئے (مومن 8، حشر : 1) اور باپ کے عمل سے اولاد کے درجوں کا بلند ہونا تو قرآن سے ثابت ہے (دیکھئے طور : 21) اور میت کی طرف سے صدقہ ، صیام اور حج وغیرہ کا نافع ہونا حدیث سے ثابت ہے ، تو اس آیت کے ساتھ اس کی مطابقت کیسے ہوگی ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ یہ سب کچھ اسی شخص کے لیے نافع ہوگا جو ایمان لے آیا ، کافر کو ان میں سے کوئی چیز نفع نہیں دے گی۔ ایمان کے بعد ان چیزوں کا نافع ہونا اس کی اپنی سعی یعنی ایمان ہی کی برکت اور اسی کا نتیجہ ہے ، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے ابو طالب سے کہا تھا :(ای علم ! قل لا الہ الا اللہ ، کلمۃ احاج لک بھا عند اللہ) (بخاری ، مناقب الانصار ، باب قصۃ ابی طالب : 3884)”اے چچا ! تو ”لا الٰہ الا اللہ“ کہہ لے ، میں اس کلمے کے ساتھ تیری خاطر اللہ تعالیٰ کے پاس جھگڑوں گا“۔ اور ابراہیم ؑ نے کہا تھا :(یوم لا ینفع مال ولا بنون الا من اتی اللہ بقلب سلیم) (الشعرائ : 88، 89) ”جس دن نہ کوئی مال فائدہ دے گا اور نہ بیٹے۔ مگر جو اللہ کے پاس سلامتی و الا دل لے کر آیا“۔ کفر و شرک سے سلامت دلے والے کو وہاں اس کے بیٹے بھی کام آئیں گے جو اس کے بعد اعمال صالحہ کرتے رہے اور اس کے لیے دعا کرتے رہے اور اس کا مال بھی جو صدقہ جاریہ کی صورت میں اس کے نامہ ٔ اعمال میں ثبت ہوتا رہا۔ بلند درجے والے مومن والدین کے ساتھ ان کی اسی اولاد کو ملایا جائے گا جو ایمان کی نعمت رکھتے ہوں گے ، خواہ کسی بھی درجے کا ہو۔ دیکھئے سورة ٔ طور (21) کی تفسیر۔
Ayah 53:40

وَ اَنَّ سَعْیَهٗ سَوْفَ یُرٰى۪ Open ayah 53:40 in the Quran reader

اور یہ کہ یقینا اس کی کوشش جلد ہی اسے دکھائی جائے گی۔

وان سعیہٗ سوف یریٰ :”یرٰی“ ”رای یریٰ رویۃ“ (ف) سے بھی فعل مجہول ہوسکتا ہے (اسی کی کوشش دیکھی جائے گی) اور ”اری یری اراء ۃ“ (افعال) سے بھی (اس کی کوشش اس کی دکھائی جائے گی)۔ تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ بنی اسرائیل (13، 14) اور سورة ٔ کہف (9 4)
Ayah 53:41

ثُمَّ یُجْزٰىهُ الْجَزَآءَ الْاَوْفٰىۙ Open ayah 53:41 in the Quran reader

پھر اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا، پورا بدلہ۔

ثم یحزہٗ الجزاء الاوفی : اس کی تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ نحل (111) اور سورة ٔ آل عمران (25) کی تفسیر۔
Ayah 53:42

وَ اَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الْمُنْتَهٰىۙ Open ayah 53:42 in the Quran reader

اور یہ کہ بیشک تیرے رب ہی کی طرف آخر پہنچنا ہے۔

وان الی ربک المنتھی : یعنی ہر شخص نے آخر کام اپنے رب ہی کے پاس پہنچنا ہے ، جیسا کہ فرمایا :”کل الینا راجعون“ (الانبیائ : 93) ”سب ہماری ہی طرف لوٹنے والے ہیں“۔ ایک مطلب اس کا یہ بھی ہے کہ تمام علوم و افکار کا سلسلہ اللہ تعالیٰ پر جا کر ختم ہوجاتا ہے ، جیسا کہ فرمایا :(یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ السَّاعَۃِ اَیَّانَ مُرْسٰہَا فِیْمَ اَنْتَ مِنْ ذِکْرٰہَا اِلٰی رَبِّکَ مُنْتَہٰہَا) (النازعات : 42۔ 44) ”وہ تجھ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں کہ اس کا قیام کب ہے ؟ اس کے ذکر سے تو کس خیال میں ہے ؟ تیرے رب ہی کی طرف اس (کے علم) کی انتہاء ہے“۔
Ayahs 53:43–49

وَ اَنَّهٗ هُوَ اَضْحَكَ وَ اَبْكٰىۙ Open ayah 53:43 in the Quran reader

اور یہ کہ بیشک حقیقت یہ ہے کہ اسی نے ہنسایا اور رلایا۔

وَ اَنَّهٗ هُوَ اَمَاتَ وَ اَحْیَاۙ Open ayah 53:44 in the Quran reader

اور یہ کہ بیشک حقیقت یہ ہے کہ اسی نے موت دی اور زندگی بخشی۔

وَ اَنَّهٗ خَلَقَ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىۙ Open ayah 53:45 in the Quran reader

اور یہ کہ بیشک اسی نے دو قسمیں نر اور مادہ پیدا کیں۔

مِنْ نُّطْفَةٍ اِذَا تُمْنٰى۪ Open ayah 53:46 in the Quran reader

ایک قطرے سے، جب وہ ٹپکا یا جاتا ہے۔

وَ اَنَّ عَلَیْهِ النَّشْاَةَ الْاُخْرٰىۙ Open ayah 53:47 in the Quran reader

اور یہ کہ بیشک اسی کے ذمہ دوسری دفعہ پیدا کرنا ہے۔

وَ اَنَّهٗ هُوَ اَغْنٰى وَ اَقْنٰىۙ Open ayah 53:48 in the Quran reader

اور یہ کہ بیشک اسی نے غنی کیا اور خزانہ بخشا۔

وَ اَنَّهٗ هُوَ رَبُّ الشِّعْرٰىۙ Open ayah 53:49 in the Quran reader

اور یہ کہ بیشک وہی شعریٰ (ستارے) کا رب ہے۔

1۔ وانہ ھو اضحک وابکی۔۔۔۔۔ اس سے پچھلی آیات میں ان معاملات کا ذکر تھا جو انسان کے اختیار میں ہیں ، اختیار کے باوجود ان میں انسان کی کوتاہی ایک مسلم امر ہے ، جیسا کہ فرمایا (کَلاَّ لَمَّا یَقْضِ مَآ اَمَرَہٗ) (عبس : 23)”ہرگز نہیں ، ابھی تک اس نے وہ کام پورا نہیں کیا جس کا اس نے اسے حکم دیا۔“ پھر کسی کے پاس اپنے تزکیے کی کیا گنجائش ہے ؟ اب ان معاملات کا ذکر ہے جن میں انسان کا کچھ اختیار نہیں ، مثلاً ہنسنانا ، رلانا ، مارنا ، جلانا (زندہ کرنا) ایک نطفہ سے کسی کو مرد اور کسی کو عورت بنادینا ، مارنے کے بعد دوبارہ زندہ کردینا، غنی کردینا ، خزانے بخش دینا ، مشرکین جن ستاروں کو پوجتے ہیں ان سب کا ، خصوصاً ”شعریٰ“ کا رب ہونا اور بڑی بڑی قوت والی قوموں کو نافرمانی پر ہلاک کردینا ، یہ سب کچھ صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ پھر جب انسان اس قادر مطلق کے سامنے اتنا بےبس ہے کہ اس کا رونا ، ہنسنا اور مرنا جینا بھی اس کے اختیار میں نہیں اور نہ اسے اگلے لمحے تک خبر ہے کہ اسے ہنسنا یا رونا ، جینا ہے یا مرنا ، تو وہ اپنا تزکیہ کس منہ سے کرتا ہے ؟ 2۔ وانہ ھو اغنی واقنی۔۔۔۔ اقنی ”قنیۃ“ سے ہے جس کا معنی خزانہ ہے۔ یعنی اس نے جمع کرنے اور خزانہ بنانے کے لیے مال عطا فرمایا۔ آیت :(وانہ ھو اضحک وابکی) اور یہ آیت (وانہٗ ھو اغنی و اقنی) دونوں میں ”انہ“ کے بعد ”ھو“ ضمیر سے حصر پیدا ہو رہا ہے ، یعنی وہی ہے جس نے ہنسایا اور رلایا۔۔۔۔۔ 3۔ وانہٗ ھو رب الشعری : ہر چیز کا رب ہونے کے باوجود اس ستارے کا رب ہونے کا خاص طور پر ذکر اس لیے فرمایا کہ بعض عرب مثلاً خزاعہ وغیرہ اس کی پرستش کرتے تھے ، اس لیے فرمایا کہ تم جس ستارے کی پرست کرتے ہو تمہاری قسمتیں اس کے اختیار میں نہیں ، وہ تو خود اپنی قسمت کا مالک نہیں ، بلکہ اس کا رب بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
Ayahs 53:50–51

وَ اَنَّهٗۤ اَهْلَكَ عَادَا اِ۟لْاُوْلٰىۙ Open ayah 53:50 in the Quran reader

اور یہ کہ بیشک اسی نے پہلی قوم عاد کو ہلاک کیا۔

وَ ثَمُوْدَاۡ فَمَاۤ اَبْقٰىۙ Open ayah 53:51 in the Quran reader

اور ثمود کو، پس (کسی کو) باقی نہیں چھوڑا۔

وانہ اھلک عاد الاولی۔۔۔۔۔۔ ”عاد اولیٰ“ وہ قدیم قوم جس کی طرف ہو د ؑ بھیجے گئے تھے۔ انہیں ”اولیٰ“ یا تو ان کے قدیم ہونے کی وجہ سے کہا گیا ، جیسے فرمایا :(الا تبرجن تبرج الجاھلیۃ الاولیٰ) (الاحزاب : 22)”پہلی جاہلیت کے زینت ظاہر کرنے کی طرح زینت ظاہر نہ کرو“۔ یا اس وجہ سے کہ ان پر عذاب آنے کے وت جو لوگ بچ گئے ان کی نسل کو عاد اخری ٰ یا عاد ثانیہ کہا گیا۔ اکثر کے مطابق ہود ؑ کی قوم کو عاد اولیٰ اور صالح ؑ کی قوم ثمود کو عاد اخری کہا جاتا ہے۔ قوم عاد کی ہلاکت کی تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ اعراف (72) حاقہ (6 تا 8) حم سجدہ (15، 16) قمر (18 تا 20) ذاریات (41، 42) اور احقاف (21 تا 25) اور قوم ثمود کے تعارف کے لیے دیکھئے سورة ٔ اعراف (73 تا 79)۔
Ayah 53:52

وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا هُمْ اَظْلَمَ وَ اَطْغٰىؕ Open ayah 53:52 in the Quran reader

اور ان سے پہلے نوح کی قوم کو، یقینا وہی زیادہ ظالم اور زیادہ حد سے بڑھے ہوئے تھے۔

1۔ وقوم نوح من قبل : یہاں عاد وثمود کا ذکر قوم نوح سے پہلے اس لیے فرمایا کہ یہ لوگ عرب کے رہنے والے تھے اور قریش انہیں اچھی طرح جانتے تھے۔ 2۔ انھم گانو ھم اظلم واطغی : ضمیر ”ھم“ حصر کا فائدہ دے رہی ہے۔ ظلم اور سرکشی میں قوم نوح ہی کو سب سے بڑھ کر اس لیے قرار دیا کہ اور کوئی قوم ایسی نہیں گزری جس کے پیغمبر نے انہیں ساڑھے نو سو سال نصیحت کی ہو اور اس کے باوجود وہ سرکشی پر اڑی رہی ہو۔
Ayah 53:53

وَ الْمُؤْتَفِكَةَ اَهْوٰىۙ Open ayah 53:53 in the Quran reader

اور الٹ جانے والی بستی کو گرا مارا۔

والموتفکۃ اھویٰ :”المواتفکۃ“”ائتفک“ (افتعال) سے اسم فاعل ہے ، الٹنے والی۔ مراد قوم لوط ہے۔ سورة ٔ حاقہ (9) میں ”الموتفکت“ جمع کے ساتھ آیا ہے ، مراد الٹ جانے والی بستیاں ہے۔ ’ ’ اھویٰ“ ”ھوی ھوی“ (ض) گرنا۔”اھوی یھوی“ (افعال) گرانا۔ ان کے اس نام کی وجہ کے لیے دیکھئے سورة ٔ ہود (82) اور سورة ٔ حجر (74)
Ayah 53:54

فَغَشّٰىهَا مَا غَشّٰىۚ Open ayah 53:54 in the Quran reader

پس ڈھانپ دیا اسے جس سے ڈھانپا۔

فَغَشّٰہَا مَا غَشّٰی ”غشی یغشی“ (ع) کسی چیز کا دوسری کو ڈھانپ لینا۔ ”غنشی یغنشی“ (تفعیل) کسی چیز پر ڈھانپنے والی چیز ڈال دینا ، کسی چیز کو دوسری سے ڈھانپ دینا۔ یہ اندازِ بیاں اس عذاب کی ہولناکی کے بیان کے لیے ہے۔ مزید دیکھئے سورة ٔ طہٰ :(78)
Ayah 53:55

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكَ تَتَمَارٰى Open ayah 53:55 in the Quran reader

پس تو اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس میں شک کرے گا ؟

فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکَ تَتَمَارٰی ”تمری یتماری تماریا“ (تفاعل) شک کرنا۔ ”الائ“”الی“ (جو اصل میں ”الی“ تھا) کی جمع ہے ، نعمتیں ، جیسا کہ ”معی“ کی جمع ”امعائ“ ہے ، انتڑیاں۔ یہاں سوال ہے کہ ان اقوام کی ہلاکت کے ذکر میں کون سی نعمت بیان ہوئی ہے جس میں شک کی گنجائش ہی نہیں۔ استاد محمد عبدہٗ لکھتے ہیں : ”سیاق کلام کی بناء پر یہاں نعمت سے مراد ظالم و سرکش قوم کی تباہی ہے ، معلوم ہوا کہ کسی ظالم و سرکش قوم کو تباہ کرنا بھی انسانیت پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے“ (اشرف الحوشی) ایک جواب اس کا یہ ہے کہ ظلم اور سرکشی کے انجام سے آگاہ کردینا بھی بہت بڑا انعام ہے، جیسا کہ سورة ٔ رحمن میں مجرموں کے لیے جہنم کا عذاب بیان کرنے کے بعد فرمایا :(فبای الاء ربکما تکذبن) (الرحمن : 45) ”تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے“۔
Ayah 53:56

هٰذَا نَذِیْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰى Open ayah 53:56 in the Quran reader

یہ پہلے ڈرانے والوں میں سے ایک ڈرانے والا ہے۔

ہٰذَا نَذِیْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰی : یعنی یہ رسول بھی ان ہلاک کی جانے والی قوموں کو ڈرانے والے پہلے رسولوں کی جماعت کا ایک فرد ہے ، جو تمہیں ڈرانے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ اس کا آنا کوئی انوکھی بات نہیں جو تمہاری سمجھ میں نہ آرہی ہو، جیسا کہ فرمایا :”قل ما کنت بدعا من الرسل“ (الاحقاف : 9) ”کہہ دے میں رسولوں میں سے کوئی انوکھا نہیں ہوں“۔
Ayah 53:57

اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُۚ Open ayah 53:57 in the Quran reader

قریب آگئی وہ قریب آنے والی۔

اَزِفَتِ الْاٰزِفَۃُ ”الازفۃ“ کے معنی کے لیے دیکھئے سورة ٔ مومن (18) کی تفسیر۔ یعنی یہ رسول تمہیں جس آنے والی قیامت سے ڈراتا ہے وہ بالکل قریب آچکی ہے ، اس لیے ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر سنبھل جاؤ ، یہ مت سوچو کہ ابھی بہت وقت پڑا ہے ، کیونکہ کسی کو خبر نہیں کہ اگلا سانس آئے گا یا نہیں اور جس کی موت آگئی اس کی قیامت تو قائم ہوگئی، کیونکہ اس کے ساتھ ہی عمل کی مہلت ختم ہے۔
Ayah 53:58

لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ كَاشِفَةٌؕ Open ayah 53:58 in the Quran reader

جسے اللہ کے سوا کوئی ہٹانے والا نہیں۔

لَیْسَ لَہَا مِنْ دُوْنِ اللہ ِ کَاشِفَۃٌ ”کاشفۃ“ میں ”تائ“ مبالغہ کی بھی ہوسکتی ہے اور تانیث کی بھی ، تانیث کی ہو تو یہ ”نفس“ کی صفت ہے۔ اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں ، ایک یہ کہ اللہ کے سوا کوئی اسے ہٹانے والا نہیں ، جیسے فرمایا :”وَ اِنْ یَّمْسَسْکَ اللہ ُ بِضُرٍّ فَـلَا کَاشِفَ لَـہٗٓ اِلَّا ھُو“ (الانعام : 17) ’ ’ اور اگر اللہ تجھے کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اسے دور کرنے والا نہیں۔“ دوسرا یہ کہ کر اللہ کے سوا اسے کوئی کھولنے والا نہیں اس کا وقت جاننے اور بتانے والا نہیں جیسا کہ فرمایا :”قُلْ اِنَّمَا عِلْمُھَا عِنْدَ رَبِّیْج لاَ یُجَلِّیْھَا لِوَقْتِھَآ اِلاَّ ھُوَط (الاعراف : 187)”کہہ دے اس کا علم تو میرے رب ہی کے پاس ہے ، اسے اس کے وقت پر اس کے سوا کوئی ظاہر نہیں کرے گا“۔
Ayah 53:59

اَفَمِنْ هٰذَا الْحَدِیْثِ تَعْجَبُوْنَۙ Open ayah 53:59 in the Quran reader

تو کیا اس بات سے تم تعجب کرتے ہو ؟

اَفَمِنْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ تَعْجَبُوْنَ :”ھذا الحدیث“ سے مراد رسولوں کو جھٹلانے والی اقوام کے عبرتناک انجام کی اور قیامت قریب ہونے کی بات ہے جو ابھی بیان ہوئی ہے۔ فرمایا بھلا یہ کوئی انوکھی اور ناقابل یقین بات ہے جس پر تم تعجب کر رہے ہو ؟
Ayah 53:60

وَ تَضْحَكُوْنَ وَ لَا تَبْكُوْنَۙ Open ayah 53:60 in the Quran reader

اور ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو۔

وَتَضْحَکُوْنَ وَلَاتَبْکُوْنَ یعنی بجائے اس کے کہ تم یہ سن کر ڈر جاتے کہ کہیں ہم پر بھی ایسا عذاب نہ آجائے اور رونے لگتے ، الٹا اس کا مذاق اڑاتے اور ہنستے ہو۔
Ayah 53:61

وَ اَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ Open ayah 53:61 in the Quran reader

وَتَضْحَکُوْنَ وَلَاتَبْکُوْنَ یعنی بجائے اس کے کہ تم یہ سن کر ڈر جاتے کہ کہیں ہم پر بھی ایسا عذاب نہ آجائے اور رونے لگتے ، الٹا اس کا مذاق اڑاتے اور ہنستے ہو۔

وَ اَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ ”سمد یسمد سمودا“ (ن) کھیل کود میں مشغول ہونا ، غافل ہونا ، گانا ، تکبر سے سر اٹھا کر چلنا ، یعنی بجائے رونے کے تم کھیل کود ، گانے بجانے اور اپنے تکبر میں غافل رہ کر ہنستے پھرتے ہو۔
Ayah 53:62

فَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ وَ اعْبُدُوْا۠۩ Open ayah 53:62 in the Quran reader

تو اللہ کو سجدہ کرو اور (اس کی) بندگی کرو۔

1۔ فَاسْجُدُوْا ِﷲِ وَاعْبُدُوْا : یعنی رسول کے اس ڈرانے کا حق یہ ہے کہ تم اپنا تمام تر تکبر اور غفلت ترک کر کے اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجاؤ اور اپنے بنائے ہوئے تمام شریکوں کو چھوڑ کر ایک اللہ کی عبادت کور۔ 2۔ یہ سورت مکہ میں نازل ہونے والی ابتدائی سورتوں میں سے ہے اور پہلی سورت ہے جس میں سجدہ کی آیت نازل ہوئی۔ اس کی تاثیر اور زور بیان کا یہ عالم ہے کہ جب آپ ﷺ نے اسے عام مجمع میں پڑھا ، جس میں مسلمانوں کے ساتھ مشرکین بھی موجود تھے تو مسلمانوں کے ساتھ مشرکین بھی بےاختیار سجدے میں گرگئے۔ صحیح بخاری میں اس کے متعلق دو احادیث آئی ہیں۔ عبد اللہ بن مسعود ﷺ بیان کرتے ہیں :(ال سورة انزلت فیھا سجدۃ والنجم قال فسجد رسول اللہ ﷺ و سجدہ من خلفہ ٗ الا رجلاً رایتہٗ اخذ کفا میں تراب سجدہ علیہ قرایتہٗ بعد ذک قتل کافرا و ھو امیۃ بن خلف) (بخاری ، التفسیر ، سورة النجم ، باب :(فاسجد واللہ واعبدوا : 4863)”پہلی سورت جس میں سجدہ کی آیت نازئی ہو ”والنجم“ تھی، تو رسول اللہ ﷺ نے سجدہ کیا اور آپ کے پیچھے جتنے لوگ تھے سب نے سجدہ کیا ، سوائے ایک آدمی کے۔ میں نے اسے دیکھا کہ اس نے مٹی کی ایک مٹھی پکڑی اور اس پر سجدہ کرلیا۔ پھر میں نے بعد میں دیکھا کہ وہ کافر ہونے کی حالت میں قتل ہوا اور وہ امیہ بنی خلف تھا“۔ عبد اللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں :”سجد النبی ﷺ بالنجم وسجد معہٗ المسلمون والمشرکون والجن الانس“ (بخاری ، التفسیر ، سورة لحم ، باب (فاسجدواللہ واعبدوا : 4862)”رسول اللہ ﷺ نے سورة ٔ نجم میں سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ مسلمانوں ، مشرکوں اور جن و انس نے سجدہ کیا۔“ عبید اللہ بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب ؓ نے ابو واقد لیثی ؓ سے پوچھا :”رسول اللہ ﷺ عید الاضحی اور عید الفطر میں کیا قرأت کرتے تھے ؟“ انہوں نے کہا : ”آپ ﷺ ان دونوں میں ”ق والقرآن المجید“ اور ”اقتریت الساعۃ واشق القمر“ کی قرأت کیا کرتے تھے۔“ (مسلم ، صلاۃ العیدین ، باب ما یقرأ بہ فی صلاۃ العیدین : 891)