Ayah 54:1اقتربت الساعۃ وانشق القمر
قیامت قریب آپہنچی اور چاند شق ہو گیا
اِقْتَرَبَتُ : قریب آگئی اور اس کے قریب آنے کی نشانیوں میں سے ایک علامت یہ ہے کہ چاند پھٹ گیا۔
Ayah 54:2وان یروا ایۃ یعرضوا و یقولوا سحر مستمر . ”
اور یہ لوگ اگر کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو ٹال دیتے ہیں اور کہتے ہیں یہ جادو ہے جو ابھی ختم ہوا جاتا ہے۔ “
َِْوان یَّرَوْا .... یعنی کفار اگر کوئی معجزہ دیکھیں جو رسول اللہ کی سچائی پر دلالت کر رہا ہو تو اس پر غور کرنے اور ایمان لانے اور ماننے سے کترا جائیں گے ‘ روگرداں ہوجائیں گے اور کہیں گے یہ تو سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ بےبنیاد ‘ بےحقیقت جادو ہے ‘ جاتا رہے گا۔ مَرَّ اور استَمَرَّ کا معنی ہے : وہ چلا گیا ‘ جاتا رہا۔ جیسے قرَّ اور استقرَّ (ہم معنی ہیں ‘ اسی طرح مرَّ کا جو معنی ہے وہی استمرَّ کا معنی ہے) ۔
مجاہد اور قتادہ نے مستمر کی یہی تفسیر کی ہے لیکن ابو العالیہ اور ضحاک کا قول ہے کہ مستمر سے مراد قوی ‘ محکم جادو ‘ جوہر جادو پر غالب ہو۔ عرب کہتے ہیں : مر الحبل واستمر ‘ الحبل رسّی مضبوط اور قوی ہوگئی۔ اقردت الحبل میں نے رسّی کو مضبوط بٹ دیا ‘ خوب مستحکم کرلیا۔ استمر الشئی : وہ چیز مضبوط اور قوی ہوگئی (یعنی چلتا جادو) بعض نے کہا : سحر مستمر سے مراد ہے مسلسل ‘ پیہم ‘ جادو۔ بعض کے نزدیک مستمر کا لفظ حرارت (تلخی) سے مشتق ہے یعنی تلخ جادو ‘ بدمزہ جادو۔
Ayah 54:3و کذبوا واتبعوا اھواء ھم و کل امر مستقر .
” اور ان لوگوں نے جھٹلایا اور اپنی نفسانی خواہشوں کی پیروی کی اور ہر بات کو قرار آجاتا ہے۔ “
وَکَذَّنُبْوا واتَّبَعُوْآ : یعنی انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی اور قرآن مجید کی اور دیکھ لینے کے باوجود قدرت خداوندی کی تکذیب کی اور وحی کی پیروی نہیں کی بلکہ اپنی خواہشات کے پیچھے پڑے رہے۔ کَذَّبُوْا اور اتَّبَعُوْا بلفظ ماضی ذکر کرنے سے اس بات پر تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ یہ کافروں کی پرانی عادت ہے (کہ وحی کو چھوڑ کر اتباع خواہشات کرتے ہیں) ۔
وَکُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ : یعنی ہر امر اپنی انتہا پر ٹھہرا ہوا ہے۔ دنیا میں ناکامی اور کامیابی اور آخرت میں بدبختی اور خوش نصیبی اپنی انتہا پر پہنچی ہوئی ہے۔ استقرار سے مراد ہے انتہا پر پہنچنا۔ ہر چیز اپنی انتہاء پر پہنچ کر ٹھہر جاتی ہے۔ مقاتل نے بھی یہ کہا ہے کہ ہر بات کا ایک منتہا ہے۔ بعض علماء نے اس جملہ کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ ہر مقدار امر ہونے والا ہے۔ ہو کر رہے گا۔ جس بات کا اللہ نے وعدہ کرلیا ہے وہ ضرور واقع ہوگی۔ کلبی نے کہا : ہر امر ایک حقیقت ہے ‘ دنیا میں لوگوں کی طرف سے جو بات ہوگی اس کا ظہور ہوجائے گا اور آخرت میں اللہ کی طرف سے جو کچھ ہوگا وہ معلوم ہوجائے گا۔ قتادہ نے کہا : جس امر کا استقرار خیر میں ہے وہ اہل خیر کے ساتھ رہے گا اور جس امر کا استقرا شر میں ہے وہ اہل شر کے ساتھ رہے گا۔ بعض نے کہا : خیر ہو یا شر ہر امر کا استقرار اس کے مقام پر ہوگا (خیر کا مقام و مستقر جنت ہے اور شر کا مقام و مستقر دوزخ ہے) پس خیر اہل خیر کو جنت میں لے جائے گی اور وہی ان کی قرار گاہ ہوگی اور شر اہل شر کو دوزخ میں لے جائے گی اور وہیں ان کا استقرار ہوگا۔ بعض نے کہا : تصدیق اور تکذیب کرنے والوں میں سے ہر ایک کا قول قائم اور برقرار رہے گا جس کی حقیقت ثواب و عذاب کی شکل میں معلوم ہوجائے گی۔
Ayah 54:4ولقد جاء ھم من الانباء ما فیہ مزدجر
” اور ان لوگوں کے پاس (گزشتہ اقوام کی) خبریں اتنی پہنچ چکی ہیں کہ ان میں کافی عبرت ہے
وَلَقَدْ جَآءَ ھُمْ : یعنی کفار مکہ کے پاس قرآن میں اقوام گزشتہ کی خبریں اور دوسری زندگی کی اطلاعات آچکی ہیں جو نافرمانیوں سے بازداشت کے لیے کافی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن میں بری باتوں سے روکا گیا ہے اور نصیحت کردی گئی ہے اور گزشتہ نافرمان امتوں کی ہلاکت کا بیان کردیا گیا ہے۔ نصیحت اندوزی اور نافرمانیوں سے بازداشت کے لیے یہ کافی ہے۔
مُزْدَجَرٌ : مصدر میمی جس کا معنی ہے ازدجار (بازداشت ‘ تنبیہ)
Ayah 54:5حکمۃ بالغۃ فما تغن النذر
یعنی اعلیٰ درجہ کی دانشمندی ہے لیکن خوف دلانے والی چیزیں ان کو کچھ فائدہ ہی نہیں دیتی ہیں۔
حِکْمَۃٌ لِغَۃٌ : انتہائی دانائی کی بات جس کے اندر کوئی کمی اور خرابی نہیں ہے۔
فَمَا تُغْنِ النُّذْرُ : میں مانافیہ ہے یعنی پیغمبر یا ڈرانا ان کے لیے کوئی مفید نہیں۔ یا مَا سوالیہ انکاریہ ہے۔ یعنی پیغمبروں کا یا ڈرانے کا ان کو کیا فائدہ ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ نُذُر ‘ نذیر کی جمع ہے اور نذیر بمعنی منذر (ڈرانے والا) یا بمعنی انذار (ڈرانا) ہے۔
Ayah 54:6فتول عنھم .
سو آپ ان کی طرف سے کچھ خیال نہ کیجئے۔ “
فَتَوَلَّ عَنْھُمْ : سو آپ ﷺ ان سے رخ پھیر لیجئے۔ آپ ﷺ کی تبلیغ سے ان کو کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ آیت قتال (آیت جہاد) سے اس آیت کا حکم منسوخ ہے۔
یوم یدع الداع الی شیء نکر
. جس دن ایک بلانے والا (فرشتہ) ایک ناگوار
یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ : یوم سے مراد ہے قیامت کا دن۔ پکارنے والے اسرافیل ہوں گے جو صخرۂ بیت المقدس پر کھڑے ہو کر پکاریں گے۔ اے کھوکھلی ‘ بوسیدہ ہڈیو ! اے پارہ پارہ کھالو ! اور اے ٹوٹے ہوئے بالو ! اللہ تم کو حکم دیتا ہے کہ آخری فیصلے کے لیے جمع (اکٹھے) ہوجاؤ۔ (رواہ ابن عساکر عن زید بن جابر الشافعی)
شَیْ ءٍ نُّکُرٍ : اتنی بری چیز کہ اس کی مثل معلوم نہ ہو۔ انتہائی مکروہ ہونے کی وجہ سے لوگ اس کو جاننا بھی گوارا نہ کریں۔
Ayah 54:7خشعا ابصارھم یخرجون من الاجداث کانھم جراد منتشر
چیز کی طرف بلائے گا ‘ ان کی آنکھیں (مارے ذلت کے) جھکی ہوئی ہوں گی۔ قبروں سے اس طرح نکل رہے ہوں گے جیسے ٹڈی پھیل جاتی ہے۔ ب
خُشَّعًا اَبْصَارُھُمْ : ان کی نگاہیں عاجزی کے ساتھ نیچی ہوں گی۔
مِنَ الْاَجْدَاثِ : قبروں سے نکلیں گے ‘ ٹڈیوں کی طرح کثیر اور منتشر ہوں گے اور اتنے ڈٹ لگے ہوں گے کہ لہروں کی طرح ایک دوسرے میں گھسا پڑتا ہوگا۔
Ayah 54:8مھطعین الی الداع یقول الکفرون ھذا یوم عسر
لانے والے (کی آواز) کی طرف دوڑے چلے جا رہے ہوں گے۔ کافر کہتے ہوں گے ‘ یہ دن بڑا سخت ہے۔
مُّھْطِعِیْنَ : پکارنے والے کی آواز کی طرف تیزی کے ساتھ جائیں گے یا مھطعین سے مراد ہے داعی کی طرف نظر جمائے ہوئے۔
یَوْمٌ عَسِرٌ : سخت دشوار دن۔
Ayah 54:9کذبت قبلھم قوم نوح فکذبوا عبدنا و قالوا مجنون وازدجر
ان لوگوں سے پہلے قوم نوح نے (نوح کو) جھوٹا قرار دیا اور ہمارے بندہ کی تکذیب کی اور کہا : یہ دیوانہ ہے اور
اس کو دھمکی دی گئی
قَبْلَھُمْ : یعنی آپ ﷺ کی امت سے پہلے۔
فَکَذَّبُوْا عَبْدَنَا : یعنی انہوں نے نوح کی متواتر تکذیب کی ‘ تکذیب کرنے والوں کی ایک نسل جب مرجاتی تھی تو آنے والی دوسری نسل تکذیب کرتی تھی اور دوسری کے بعد تیسری نسل مکذبین کی پیدا ہو کر حضرت نوح کو جھوٹا کہتی تھی اور یہ تکذیب کا سلسلہ نو سو پچاس برس جاری رہا۔
وَقَالُوْا مَجْنُوْنٌ : اور انہوں نے کہا : نوح (علیہ السلام) دیوانہ ہے۔
وَازْدُجِرَ : اس کا عطف مجنون پر ہے یعنی کافروں نے یہ بھی کہا کہ نوح جنات کی جھپٹ میں آگیا ہے۔ کسی جن نے اس کو مخبوط الحو اس اور بےعقل بنا دیا ہے۔ (کذا قال مجاہد) یا اس کا عطف قالوا پر ہے یعنی نوح کو قوم والوں نے دیوانہ کہا اور طرح طرح کی تکلیفیں اور جھڑکیاں بھی دیں اور کہنے لگے : نوح ! اگر تو باز نہ آیا تو ہم پتھر مار مار کر تجھے ہلاک کردیں گے۔
عبد بن حمید نے بروایت مجاہد بیان کیا ہے کہ بعض لوگ راستے میں حضرت نوح کو پکڑ کر آپ کا گلا گھونٹ دیتے اور آپ بیہوش ہو کر گرپڑتے تھے پھر جب ہوش آتا تو کہتے کہ اے اللہ ! میری وجہ سے میری قوم کا قصور معاف کر دے ‘ وہ ناواقف ہیں۔ امام احمد (رح) نے الزہد میں بروایت مجاہد ‘ عبید بن عمیر کا بھی یہی قول بیان کیا ہے۔
Ayah 54:10فدعا ربہ انی مغلوب فانتصر . تو نوح نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں درماندہ ہوں تو ان سے انتقام لے۔
فَدَعَارَبَّہٗ : یعنی جب اللہ کی طرف سے وحی آگئی کہ جو شخص ایمان لے آیا ‘ لے آیا آئندہ کوئی ایمان نہیں لائے گا تو تم ان لوگوں کی حرکتوں سے آزردہ نہ ہو تو اس وقت نوح نے (بددُعا کی اور) کہا : اے میرے ربّ ! یہ لوگ مجھ پر غالب آگئے ‘ میں مغلوب ہوگیا ‘ اب تو میرا انتقام لے اور ان پر عذاب نازل کر ‘ اس زمین پر کافروں کی کوئی بستی باقی نہ رکھ ‘ کوئی کافر اس زمین پر ساکن نہ رہے اگر تو نے ان کو باقی چھوڑ دیا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور ان کے بچے بھی بدکار کافر پیدا ہوں گے۔
Ayah 54:11ففتحنا ابواب السمآء بما منھمر
” سو ہم نے کثرت سے برسنے والے پانی سے آسمان کے دریچے کھول دیئے
مُّنْھَمِرٍ : سخت برسنے والا۔ چالیس روز تک مسلسل بارش ہوتی رہی ‘ کسی وقت منقطع نہیں ہوئی۔ بعض اہل تفسیر نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ آسمان و زمین کے درمیان کا خلاء پانی سے بھر گیا۔
Ayah 54:12وفجرنا الارض عیونا فالتقی الماء علی امر قد قدر .
اور زمین سے چشمے جاری کردیئے پھر (آسمان و زمین کا) پانی اس کام کے پورا ہونے کے لیے مل گیا جو (علم الٰہی میں) تجویز ہوچکا تھا۔ “
وَفَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا : یعنی ہم نے زمین کو چشمے ہی چشمے بنا دیا (اتنے چشمے زمین سے برآمد کردیئے کہ پوری زمین چشمہ ہی ہوگئی) ۔
فَاَلْتَقَی الْمَآءَ : یعنی آسمان اور زمین کا پانی آپس میں مل گیا۔ الماء کا اطلاق ایک پانی پر بھی ہوتا ہے اور ایک سے زیادہ پر بھی۔ اس جگہ یہی مؤخر معنی مراد ہے۔
عَلٰٓی اَمْرٍ قَدْ قُدِرَ : یعنی اس امر کے مطابق جو اللہ نے ازل میں مقدر کردیا تھا اور لوح محفوظ میں لکھ دیا تھا یا قُدِرَ سے مراد یہ ہے کہ دونوں پانی مقدار میں برابر کردیئے گئے۔ آسمان سے برسنے اور زمین سے نکلنے والے پانی کی مقدار برابر کردی گئی یا یہ مراد ہے کہ اللہ نے جو امر مقرر کردیا تھا یعنی طوفان سے قوم نوح کو ہلاک ہونا اس کے مطابق پانی مل گیا (اور قوم نوح غرق ہوگئی) ۔
Ayah 54:13وحملنہ علی ذات الواح و دسر
اور ہم نے نوح کو ایک تختوں اور میخوں والی کشتی پر سوار کر دیا
وَحَمَلْنٰہُ عَلٰی ... یعنی نوح کو ہم نے ایک کشتی میں سوار کردیا جس میں تختے اور میخیں (کیلیں) ٹھوک دی گئی تھیں اور کشتی ہماری نگرانی یعنی حفاظت میں چلنے لگی۔
Ayah 54:14تجری باعیننا جزاء لمن کان کفر .
جو ہماری نگرانی میں چل رہی تھی۔ یہ سب کچھ اس شخص کا بدلہ لینے کے لیے کیا گیا جس کی بےقدری کی گئی تھی۔
جَزَآءً : ہر نبی اپنی امت کے لیے اللہ کی رحمت اور نعمت ہوتا ہے۔ نوح بھی اپنی قوم کے لیے اللہ کی نعمت تھے لیکن اس نعمت کا قوم کی طرف سے کفران کیا گیا۔ پس اس نعمت کی (جو بصورت نوح اللہ نے عطا کی تھی) ناشکری کی وجہ سے اللہ نے قوم کو طوفان میں غرق کردیا اور نوح کو کشتی پر سوار کر کے بچا لیا۔
بعض اہل تفسیر نے مَنْ کو بمعنی مَا قرار ردیا ہے اور مطلب اس طرح بیان کیا ہے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی پاداش میں قوم نوح کو ہم نے غرق کردیا یا یہ مطلب ہے کہ نوح اور ان کی امت سے جو سلوک کیا گیا یعنی قوم کو عذاب میں مبتلا کیا گیا اور نوح کو مع ان کے ساتھیوں کے بچا لیا گیا۔ یہ سلوک بدلہ تھا نوح کے لیے (ان کے عمل کا) ۔
Ayah 54:15ولقد ترکناھا ایۃ فھل من مد کر .
” اور ہم نے اس واقعہ کو عبرت کے لیے رہنے دیا۔ کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے۔ “
تَرَکْنٰھَآ : یعنی اس واقعہ کو اپنی قدرت اور انبیاء کی صداقت کی نشانی بنا دیا کہ نصیحت حاصل کرنے والے اس سے نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ قتادہ نے کہا : تَرَکْنٰہَآ کی ضمیر سفینہ کی طرف راجع ہے یعنی سفینہ کو ہم نے عبرت دلانے کے لیے باقی رکھا چناچہ جزیرہ میں یاجودی پر وہ کشتی مدت دراز تک موجود رہی ‘ یہاں تک کہ اس امت کے دور اوّل کے بعض لوگوں نے بھی اس کو دیکھا تھا۔
فَھَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ : مُدَّکر نصیحت حاصل کرنے والا ‘ سوال ترغیبی ہے۔ یعنی استفہام سے (طلب خیر مقصود نہیں ہے بلکہ) عبرت اندوزی پر آمادہ کرنا اور نصیحت پذیری کی ترغیب دینا مقصود ہے۔ لفظِ مُدَّکر اصل میں مذتکر تھا (ذکر مادہ ہے) ۔
Ayah 54:16فکیف کان عذابی و نذر .
” پھر دیکھو میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا ہوا۔ استفہام ‘ عذاب کی عظمت اور ہولناکی ظاہر کرنے کے لیے ہے۔ “
نُذُرْ : نذیر کی جمع ہے۔ فراء نے کہا : نذر اور انذار دونوں مصدر ہیں (اور ہم معنی ہیں) جیسے انفاقٌ اور نفقۃٌ اور یقین و ایقان۔
Ayah 54:17ولقد یسرنا القران للذکر فھل من مد کر .
” اور ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان کردیا ہے ‘ سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے۔ “
ذکر : یعنی نصیحت پذیری کی غرض سے ہم نے قرآن کو یاد کرنے کے لیے مختصر اور شیریں بنایا ہے۔ اس میں طرح طرح سے سے نصیحتیں کی گئی ہیں۔ عبرت اندوزی کا سامان ہے ‘ عذاب کی دھمکیاں ہیں۔ امم سابقہ کے احوال کا اظہار ہے اور نافرمانوں کے انجام بد کا بیان ہے اور یہ سب کچھ عبرت اندوزی کے لیے کیا گیا ہے۔
Ayah 54:18کذبت عاد فکیف کان عذابی و نذر .
” اور عاد نے بھی (اپنے پیغمبر ہود کی) تکذیب کی۔ سو (دیکھو) میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا ہوا۔ “
یعنی عاد نے جو حضرت ہود کی قوم تھی ‘ ہود کو اور تمام انبیاء کو جھوٹا قرار دیا۔ پس دیکھ لو کہ نزول عذاب سے پہلے میں نے جو ان کو عذاب سے ڈرایا تھا وُ ہ ان کے لیے کیسا ثابت ہوا (یعنی عذاب آیا اور ان کو ہلاک کردیا گیا) یا ان کو عذاب سے ہلاک کردینا بعد کو آنے والے لوگوں کے لیے کیسا ہوا۔
Ayah 54:19انا ارسلنا علیھم ریحا صرصرا فی یوم نحسن مستمر .
” ہم نے ان پر ایک تند ہوا چھوڑ دی۔ ایک دوامی نحوست کے دن۔ “
صَرْصَرٍ : بہت تیز ‘ برفیلا ‘ گرجدار طوفان باد نحس۔ دشمنوں کے لیے منحوس۔
مُسْتَمِرٍّ : مسلسل نحوست والا یا یہ مطلب ہے کہ وہ دن اتنی مدت تک قائم رہا جب تک ان کو ہلاک نہیں کردیا گیا یا وہ چھوٹوں ‘ بڑوں ‘ بوڑھوں ‘ بچوں سب کے لیے منحوس تھا کسی کو باقی نہیں چھوڑا یا مستمر کا معنی ہے انتہائی تلخ ‘ بدمزہ۔ بغوی نے لکھا ہے کہ مہینہ کی آخری تاریخ تھی ‘ بدھ کا دن تھا۔
تنزع الناس کانھم اعجاز نخل منقعر فکیف کان عذابی و نذر ولقد یسرنا القران للذکر فھل من مد کر . وہ ہوا لوگوں کو اس طرح اکھاڑ اکھاڑ کر پھینک رہی تھی کہ گویا وہ اکھڑے ہوئے کھجور کے
درختوں کے تنے ہیں ‘ سو دیکھو میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا ہوا اور ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان کردیا ہے تو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے۔
Ayah 54:20تَنْزِعُ النَّاسَ : یعنی طوفان ان لوگوں کو ان کے گھروں سے اکھاڑ کر (باہر لا کر) سر کے بل پٹک دیتا تھا کہ گردنیں ٹوٹ جاتی تھیں۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ لوگ پہاڑوں کی گھاٹیوں میں اور غاروں میں گھس گئے اور باہم چمٹ گئے لیکن طوفان ان کو وہاں سے بھی اکھاڑ لایا اور باہر لا کر زمین پر پٹک دیا کہ سب مرگئے۔ بغوی نے لکھا ہے ‘ روایت میں آیا ہے کہ طوفان مردوں کو قبروں سے اکھاڑ لایا تھا۔
کَاَنَّھُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ : اَعجاز۔ جڑیں۔ منقَعِر : جڑوں سے اکھڑ کر زمین پر گرے ہوئے۔ نخل کا لفظ مذکر ہے اس لیے منقعر بصیغہ واحد مذکر اس کی صفت ذکر کی لیکن معنی کے لحاظ سے نخل کھجور کے درختوں کو کہتے ہیں (اور جماعت مؤنث کے حکم میں ہوتی ہے) اس لیے آیت اعجاز نخل خاویۃ اور النخل باسقات میں نخل کی صفت مؤنث ذکر کی۔
بغوی نے لکھا ہے : اعجاز وہ جڑیں جن کی شاخیں کاٹ دی گئی ہوں۔ طوفان نے عاد والوں کے سروں کو دھڑ سے جدا کردیا تھا اور جسم بغیر سر کے رہ گئے تھے۔ اس لیے ان کے بےسر کے دھڑوں کو اعجاز نخل فرمایا۔
Ayah 54:21فَکَیْفَ کَانَ عَذَابِیْ : عذاب کی عظیم ہولناکی بتانے کے لیے یہ آیت مکرر ذکر کی۔ عذاب دنیا نے ان کو گھیر لیا تھا اور آخرت میں بھی وہ عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ دوسری آیت میں انہی کے واقعہ کے سلسلے میں فرمایا ہے۔
Ayah 54:22” اور ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان کردیا ہے ‘ سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے۔ “
Ayah 54:23کذبت ثمود بالنذر . ثمود نے بھی پیغمبروں کی تکذیب کی۔
النّذر : بہت سے ڈراوے یا انبیاء جو عذاب سے ڈرانے والے تھے۔
Ayah 54:24فقالوا بشرا منا واحد نتبعہ انا اذا لفی ضلال و سعر
اور کہنے لگے کیا ہم ایسے شخص کا اتباع کرینگے جو ہماری جنس کا آدمی ہے اور اکیلا ہے
فَقَالُوْآ بَشَرًا مِّنَّا : یعنی ہم اپنی ہی جنس کے ایک آدمی کا (جو فرشتہ نہیں ہے) یا اپنی جماعت ہی کے ایک معمولی آدمی کا جس کو نہ مال میں ہم پر برتری حاصل ہے ‘ نہ مرتبہ میں۔
نَتَّبِعُہٗ : ہم اتباع کریں۔ یہ استفہام انکاری ہے اور انکار اتباع سے نہیں ہے اگر کوئی فرشتہ یا بادشاہ متبوع ہوتا تو وہ اتباع کرلیتے۔
وَاحِدًا : یعنی اکیلا تنہا جس کا کوئی تابع نہیں یا ہم میں سے ایک معمولی فرد جس کا شمار سرداروں میں نہیں ہے۔
اِنَّآ اذًا : یعنی اگر ہم نے اس کا اتباع کیا تو اس صورت میں ہم بڑی غلطی اور دیوانہ پن میں جا پڑیں گے۔
وَسُعُرٍ : وہب نے سُعُر کا ترجمہ کیا ‘ حق سے دوری۔ فراء نے کہا : سُعُر کا معنی ہے ‘ جنون۔ عرب ناقۃٌ مسعورۃٌ اس اونٹنی کو کہتے ہیں جو بےمہار خود بخود سرگرداں ادھر ادھر چکر کاٹ رہی ہو۔ قتادہ نے کہا : سعر کا معنی ہے دکھ ‘ دشواری ‘ عذاب۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : سُعُر عذاب۔ حسن نے کہا : شدت عذاب۔ بعض اہل لغت نے سُعُر کو سعیر کی جمع کہا ہے۔ گویا ان کافروں نے حضرت صالح کے قول کو الٹ دیا۔ حضرت صالح نے ان سے فرمایا تھا کہ اگر میری پیروی نہ کرو گے تو سیدھے راستے سے بھٹکتے رہو گے اور تم دھکتی آگ میں جا پڑو گے۔ انہوں نے اسی بات کو الٹ دیا اور کہا اگر ہم تمہاری پیروی کریں گے تو گمراہی اور بھڑکتی آگ میں جا پڑیں گے۔
Ayah 54:25ء القی الذکر علیہ من بیننا بل ھو کذاب اشر .
(اگر ہم نے ایسا کیا تو)
اس صورت میں ہم بڑی غلطی اور پاگل پن میں جا پڑیں گے کیا ہم سب میں سے اس پر وحی نازل ہوئی ہے بلکہ یہ بڑا جھوٹا اور بڑا شیخی باز ہے۔
ءَ اُلْقِیَ الذِّکْرُ عَلَیْہِ : ذکر سے مراد ہے کتاب (صحیفے) اور وحی یعنی کیا ہم میں سے اس پر وحی نازل کی گئی ہے باوجودیکہ ہم میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اس سے زیادہ وحی کے مستحق ہیں۔ مطلب یہ کہ ہم میں سے اس پر نزول وحی ہوا ہو ‘ ایسا نہیں ہوا۔
بَلْ ھُوَ کَذَّابٌ : بلکہ یہ بڑا جھوٹا ہے ‘ اللہ پر اس نے دروغ بافی کی ہے۔
اَشِرٌ : شیخی باز (اِترانے والا) ہے۔ نبوت کا دعویٰ کر کے ہم سے اونچا بننا چاہتا ہے۔ گویا ان لوگوں نے صالح کے اخلاق پر عیب لگایا اور ایک قبیح خصلت کو آپ کی طرف منسوب کیا۔ پہلے صالح کی برتری کا انکار کیا پھر ان کو ایک بری خصلت کا حامل قرار دیا۔
Ayah 54:26سیعلمون غدا من الکذاب الاشر .
” ان کو عنقریب کل ہی کو (مرنے کے بعد ہی یا عذاب آتے ہی) معلوم ہوجائے گا کہ جھوٹا ‘ شیخی باز کون تھا۔ “
سَیَعْلَمُوْنَ غَدًا : کل کو جان لیں گے یعنی جس وقت ان پر عذاب نازل ہوگا (غدًا سے مراد ہے یوم عذاب) ۔ کلبی نے کہا : روز قیامت مراد ہے۔
جب ثبوت نبوت کے لیے قوم والوں نے حضرت صالح سے معجزہ طلب کیا اور خود ہی اس کی صورت تجویز بھی کردی کہ پتھر کی چٹان کے اندر ایک دس ماہ کی گھابن سرخ رنگ کی اونٹنی برآمد کر دو تو اللہ نے حضرت صالح سے فرمایا :
Ayah 54:27انا مرسلوا الناقۃ فتنۃ لھم فارتقبھم واصطبر
اِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَۃِ : یعنی ہم پتھر سے اونٹنی برآمد کردیں گے ‘ اوپر کو نکال دیں گے۔
فِتْنَۃً لَّھُمْ : ان لوگوں کی جانچ کرنے کے لیے۔
فَارْتَقِبْھُمْ : پس اے صالح ! تم انتظار کرو ‘ دیکھو اونٹنی کے ساتھ یہ کیا سلوک کریں گے۔
وَاصْطَبِرْ : اور ان کی ایذاؤں پر یا ان کے انتظار میں صبر کرو۔
’ ہم اونٹنی کو نکالنے والے ہیں ‘ ان کی آزمائش کے لیے سو ان کو دیکھتے رہو اور صبر کرو
Ayah 54:28و نبءھم ان الماء قسمۃ بینھم کل شرب محتضر
اور ان لوگوں کو بتادینا کہ (کنویں کا) پانی ان میں بانٹ دیا گیا ہے ‘ ہر ایک باری پر باری والا حاضر ہوا کرے گا۔
قِسْمَۃٌ : پانی تقسیم کردیا گیا ہے ‘ ایک دن قوم کے لیے ہے اور ایک دن اونٹنی کے لیے ہے۔ ہر فریق اپنے ‘ اپنے نمبر پر پانی پر آئے گا۔ اونٹنی کی باری ہوگی ‘ وہ پانی پر آموجود ہوگی اور قوم والوں کی باری کا دن ہوگا تو وُ ہ آموجود ہوں گے۔ اختضَر اور حَضَرَ دونوں ہم معنی ہیں۔ مجاہد نے یہ مطلب بیان کیا کہ جب اونٹنی پانی پر سے چلی جائے گی تو وہ لوگ پانی پر آموجود ہوں گے اور اونٹنی پانی پر آجائے گی تو وہ لوگ دودھ کے لیے آموجود ہوں گے۔
Ayah 54:29فنادوا صاحبھم فتعاطی فعقر
سو انہوں نے اپنے رفیق کو بلایا ‘ اس نے اونٹنی پر وار کیا۔
َنَادَوْا : پس قوم ثمود نے پکارا۔
صَاحِبَھُمْ : یعنی قذار بن سالف کو۔
فَتَعَاطٰی : پس قذار نے تلوار لے کر اونٹنی کو آلیا اور اس کو قتل کردیا۔ آئندہ آیات میں عذاب کی تفصیل بیان کی ہے۔
Ayah 54:30فکیف کان عذابی و نذر .
سو دیکھو میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا ہے۔ “
Ayah 54:31انا ارسلنا علیھم صیحۃ واحدۃ فکانوا کھشیم المحتظر
ہم نے ان پر ایک ہی نعرہ مسلط کیا۔ سو وہ ایسے ہوگئے جیسے کانٹوں کی باڑھ لگانے والے کی باڑھ کا چورا
صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً : ایک چیخ جو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے نکالی تھی۔ فَکَانُوْا : پس وُ ہ ہوگئے۔
کَھَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ : حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : محتظِراُس شخص کو کہتے ہیں جو اپنی بکریوں کے لیے درختوں اور کانٹوں کی باڑھ بنا لیتا ہے تاکہ درندوں سے بکریوں کی حفاظت ہوجائے اگر کوئی حصہ اس کا گر جاتا ہے اور بکریاں اس کو پامال کردیتی اور روند ڈالتی ہیں (اور اس کا چورا ہوجاتا ہے) تو اس کو ہشیم کہتے ہیں۔ بعض نے کہا : خشک درخت جس کا خطیرہ بنایا جاتا ہے ہشیم کہلاتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ خشک بھوسہ جو موسم سرما میں چوپایوں کے کھانے کے لیے لوگ جمع کر رکھتے ہیں ‘ اس کو ہشیم کہتے ہیں۔
قتادہ نے کہا : ہشیم المتحظر کا معنی ہے : کھوکھلی ‘ بوسیدہ ‘ سوختہ ہڈیاں۔ سعید بن جبیر نے کہا : جو مٹی دیواروں سے جھڑ جاتی ہے (یعنی نونی) اس کو ہشیم کہتے ہیں۔
Ayah 54:32ولقد یسرنا القران للذکر فھل من مد کر . ”
اور ہم نے قرآن نصیحت حاصل کرنے کے واسطے آسان کردیا ہے۔ پس کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے۔ “
Ayah 54:33کذبت قوم لوط بالنذر
قوم لوط نے (بھی) پیغمبروں کی تکذیب کی۔
Ayah 54:34انا ارسلنا علیھم حاصباالا ال لوط نجینھم بسحر
ہم نے ان پر پتھروں کا مینہ
برسایا۔ بجز لوط کے متعلقین کے کہ انکو اخیر شب میں بچا لیا ‘
حَاصِبٌ : وہ تند ہوا جو چھوٹے سنگریزوں کو اڑا کرلے جاتی اور برساتی ہے۔ حصباء چھوٹے سنگریزوں کو کہتے ہیں۔ بعض نے کہا اتنے (چھوٹے) پتھر جو مٹھی بھر سے کم ہوں ‘ حصباء کہلاتے ہیں۔ حاصب کبھی (پتھر) پھینکنے والے کو کہتے ہیں۔ اس صورت میں آیت کا معنی ہوگا : پتھر برسانے والا۔
سَحَرٍ : رات کے آخری حصہ کو کہتے ہیں۔ نِعْمَۃً : یعنی انعام دینے کے لیے۔
Ayah 54:35نعمہ من عندنا کذلک نجزی من شکر . ”
اپنی جانب سے فضل کر کے۔ جو شکر کرتا ہے ہم اسکو ایسا ہی صلہ دیتے ہیں۔ “
مَنْ شَکَرَ : جو اللہ کی نعمت کا شکر کرتا ہے یعنی اللہ کی توحید کا قائل اور اطاعت گزار ہے ‘ اس کو ہم ایسی جزا دیتے ہیں جیسی لوط کے گھر والوں کو دی اور اس کو مشرکوں کے ساتھ عذاب نہیں دیتے۔ (کذا قال مقاتل)
Ayah 54:36ولقد انذرھم بطشتنا فتماروا بالنذر .
” اور (عذاب آنے سے پہلے) لوط نے ان کو ہماری پکڑ سے ڈرایا تھا لیکن انہوں نے اس ڈرانے میں جھگڑے پیدا کیے۔ “
بَطْشَتَنَا : یعنی ہماری دار و گیر اور پکڑ سے ڈرایا ‘ مراد عذاب سے ڈرایا۔
فَتَمَارَوْا بالنُّذُرِ : یعنی انہوں نے لوط کو جھوٹا قرار دیا اور تخویف عذاب میں شک کرنے لگے۔ (مترجم نے تماروا کا ترجمہ کیا ہے : جھگڑے کرنے لگے ‘ کیونکہ مراء اور مماراۃ کا معنی ہے باہم جھگڑا کرنا ‘ مقابلہ کرنا لیکن مفسر (رح) نے ترجمہ کیا : شک کرنے لگے) ۔
Ayah 54:37ولقد راودوہ عن ضیفہ فطمسنا اعینھم فذوقوا عذابی و نذر . ” اور ان لوگوں نے لوط سے انکے مہمانوں کو بری نیت سے لینا چاہا۔ سو ہم نے انکی آنکھیں چوپٹ کردیں (اور کہا) لو میرے عذاب اور ڈرانے کا مزہ چکھو۔ “
وَلَقَدْ رَاوَدُوْہُ عَنْ ضَیْفِہٖ : یعنی قوم والوں نے ان مہمانوں سے جو واقع میں فرشتے تھے اور جبرئیل بھی ان میں شامل تھے لیکن لڑکوں کی شکل میں ہو کر آئے تھے بدکاری کرنے کا ارادہ کیا تو حضرت لوط سے کہا : تم ان مہمانوں کے معاملہ میں کوئی تعرض نہ کرو ‘ ان کو ہمارے سپرد کر دو ۔ اللہ نے ان فرشتوں کو قوم لوط پر کنکریلے پتھر برسانے کیلئے بھیجا اور ہر پتھر کو ایک کافر کیلئے نامزد کردیا۔ جب قوم والوں نے نہ مانا اور لوط کے گھر میں دروازہ توڑ کر گھس جانا چاہا (اور حضرت لوط بہت پریشان ہوئے) تو فرشتوں نے حضرت لوط سے کہا : ان کو اندر آنے دیجئے۔ ہم آپ کے رب کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں۔ یہ لوگ ہم تک نہیں پہنچ پائیں گے ‘ چناچہ وہ لوگ گھرکے اندر گھس آئے۔
بغوی نے ابن اسحاق اور ابن عساکر کا بیان بطریق جریر و مقاتل حسب روایت ضحاک نقل کیا کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : لوط نے مہمانوں سے آگے بڑھ کر دروازہ بند کرلیا اور دروازہ کے اندر سے قوم والوں سے جھگڑنے لگے۔ وہ لوگ پھلانگ کر اندر آگئے۔ ملائکہ نے جب لوط کی یہ حالت دیکھی تو کہا : (آپ پریشان نہ ہوں) ہم آپ کے رب کے فرستادہ ہیں۔ آپ تک ان کی رسائی نہیں ہو پائے گی۔ چناچہ اللہ کے حکم سے حضرت جبرئیل نے اپنے ایک پَر کی جھپٹ ماری ‘ جس سے وہ اندھے ہوگئے۔ ہرچند ادھر ادھر چکر کاٹتے اور گھومتے تھے لیکن دروازے کا راستہ نہیں ملتا تھا۔ آخر حضرت لوط نے خود ان کو اسی نابینائی کی حالت میں نکال باہر کردیا۔ آیت فَطَمَسْنَآ اَعْیُنَھُمْ : سے یہی مراد ہے۔
فَطَمَسْنَآ کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان کی آنکھوں کو بھی چہرے کی طرح سپاٹ کردیا۔ آنکھ کا شگاف بھی باقی نہ رہا۔ (کذا قال اکثر المفسرین) ضحاک نے کہا : اللہ نے ان کی نگاہوں کو سلب کرلیا (آنکھوں کے شگاف باقی تھے لیکن ان سے فرشتے دکھائی نہیں دیتے تھے) کہنے لگے : ہم جس وقت گھر میں آئے تھے تو لڑکوں کو دیکھا تھا ‘ اب وہ کہاں غائب ہوگئے کہ دکھائی نہیں دیتے۔ اسی حالت میں واپس چلے گئے۔ اللہ نے فرشتوں کی زبانی فرمایا میرے عذاب اور جس بات سے میں نے لوط کی زبانی تم کو ڈرایا تھا اب اسکا مزہ چکھو۔
Ayah 54:38ولقد صبحھم بکرۃ عذاب مستقر . ” اور صبح سویرے ان پر عذاب دائمی آپہنچا۔ “
صَبَّحَھُمْ بُکْرَۃً : یعنی تڑکے کے وقت ‘ جب (رات کا اخیر وقت گزرا ہی تھا) دن شروع ہوا ‘ ان پر لازوال عذاب آگیا۔
عَذَابٌ : یعنی سنگ باری۔
مُسْتَقِرٌّ : یعنی وہ عذاب جو مرنے کے بعد بھی قائم رہا۔ دُنیوی عذاب سنگ باری۔ اسکے بعد عذاب قبر اور پھر دوامی دوزخ۔
Ayah 54:39فذوقوا عذابی و نذر
” اور (ہم نے کہا) لو ! میرے عذاب اور ڈرانے کا مزہ چکھو
Ayah 54:40ولقد یسرنا القرآن للذکر فھل من مد کر .
اور ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان کردیا ہے۔ سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے۔ “
ہر قصہ کے بعد اس آیت کی تکرار حقیقت میں از سرِ نو تنبیہ ہے ‘ نصیحت پذیری پر اور ترغیب ہے عبرت اندوزی کی۔