Ayahs 54:1–5ترکیب : وانشق عطف علی اقترب وان شرطیۃ یعرضوا ویقولوا جوا بہ سحر خبرمبتداء محذوف ای ھذا وکل امر مبتداء مستقر خبرہ و یقرء بالجر صفۃ لامر من الانباء بیان لمزد جر ھو اسم مکان او مصدر میمی یقال از دجرتہ اذانہیۃ عن السوء ووعظتہ بغلظ واصلہ فرتجر فتاء الافتعال قلبت والاً لوقوعہا بعد الزاء وماموصولۃ اوموصوفۃ حکمۃ خبرمبتداء محذوف اوبدل من ما اومن مزدجر فما استفہامیۃ اونافۃ تغن اصلہ تغنی لم یکتب الیاء بعد النون اتباعاً لرسم المصحف والنذر جمع نذیر بمعنی المنذر ای الامور المنذرۃ لھم کا خبار الماضیۃ والامور الھائلۃ۔
تفسیر : یہ سورة جمہور کے نزدیک مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ ابن الزبیر بھی یہی فرماتے ہیں۔ آیات کے فواصل رائِ ساکنہ ہیں رسول خدا ﷺ سورة قاف اور سورة قمر عیدالاضحی اور عیدالفطر کی نماز میں اور بڑی مجالس میں پڑھا کرتے تھے کیونکہ ان میں وعد و عید و بدئِ خلق وحشر و توحید و اثبات النبوت وغیرہا اعظم المقاصد مذکور ہیں (تفسیر ابن کثیر) ۔
اس سے پہلے سورة النجم کے خاتمہ میں قیامت کے برپا ہونے کا ذکر تھا ازفت الآزفۃ الآیہ کہ قیامت قریب آ لگی اس لیے اس سورة میں بھی سب سے اول قیامت ہی کے قریب ہونے کا ذکر کرتا ہے اور اس کا ذکر منصب نبوت کے لیے بڑی ضروری بات ہے کس لیے کہ انسان کو جب تک اس بات کا پورا یقین نہ ہوجائے کہ مر کر زندہ ہونا اور اپنے اعمال کا حساب دینا اور ان کے بھلے برے پھل کھانا پڑے گا تب تک وہ سعادت کے راستے کو جو کہ بڑا دشوار گزار راستہ ہے کبھی اختیار نہیں کرسکتا۔ اس لیے فرماتا ہے اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ کہ وہ گھڑی یعنی قیامت کی ساعت (بمعنی وقت) قریب آ لگی آنے والی چیز کا جوں جوں زمانہ گزرتا جاتا ہے وہ قریب ہوتی جاتی ہے خصوصاً جبکہ اس کے آثار و علامات نمودار ہونے لگتے ہیں پھر تو اور بھی اس کا قریب ہونا ثابت ہوتا ہے۔ معجزہ شق القمر قیامت کے آثار و علامات میں سے جس طرح آنحضرت ﷺ کا مبعوث 1 ؎ ہونا ہے اسی طرح چاند کا پھٹنا بھی اس کی ایک بڑی علامت ہے جس کا اشارہ پہلے انبیاء (علیہم السلام) نے کیا ہے اس لیے اس کے بعد فرماتا ہے وانْشَقَّ الْقَمَرُ اور چاند پھٹ گیا۔ جمہور مفسرین اور تمام اہل سنت والجماعت کا یہ قول ہے کہ آیت کے ظاہری معنی مراد ہیں کس لیے کہ جب آپ مکہ میں تھے تو کفار نے آپ سے کوئی معجزہ طلب کیا تھا تب آپ نے چاند کی طرف اشارہ کیا اور اس کے دو ٹکڑے لوگوں کو دکھائے۔ ایک ابوقبیس پہاڑ اور دوسرا اس کے قریب قعیقعان پہاڑ پر نظر آیا اور لوگوں نے دیر تک دیکھا۔ اس بات کو محدثین نے بسند صحیح نقل کیا ہے۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم و مسند امام احمد وغیرہ میں مذکور ہے۔ اس معجزہ کو دیکھ کر کفار نے یہ کہہ دیا کہ محمد ﷺ نے جادو کردیا ہے۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ وَاِنْ یَّرَوْا اٰیَۃً یُّعْرِضُوْا وَیَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌ کہ اگر وہ نشانی دیکھتے ہیں تو قوی یا قدیم جادو کہتے ہیں۔ (طبرانی) اور آیات کا سیاق وسباق بھی یہی کہہ رہا ہے کس لیے کہ اول اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ فرمایا اور بعد نشانی دیکھ کر اس کو جادو کہنا اور اس سے انکار کرنے کا ذکر آیا۔
بعض نے یہ کہہ دیا ہے کہ انشق گو ماضی کا صیغہ ہے مگر مراد مستقبل ہے یعنی پھٹے گا قیامت میں۔ اس قول کو محققین مفسرین نے رد کردیا ہے۔ امام رازی (رح) وغیرہ کی تفاسیر ملاحظہ کرو۔ بعض کہتے ہیں انْشَقَّ الْقَمَرُ عرب کی زبان میں کسی بات کے ظاہر ہونے پر بطورمثل کے بولا جاتا ہے۔ قمر سے روشن چیز کو تشبیہ دیا کرتے ہیں اور انشق کے معنی واضح یعنی یہ بات بالکل چاند کی طرح سے واضح ہوگئی کہ قیامت قریب آ لگی ہے عقلمندوں کے نزدیک۔
یہ قول بھی مردود ہے مگر صحیح وہی ہے جو جمہور کا قول ہے مگر اس پر مخالفین اسلام نے بعض شبہات وارد کئے ہیں۔
(1) یہ کہ چاند اس قدر بڑا جسم ہے جو زمین کے کرہ سے بہت زیادہ ہے باوجود اس کے اجرام علویات میں حکماء نے کون و فساد ممتنع ثابت کیا ہے۔
(2) اگر یہ واقعی ممکن بھی مان لیا جائے تو پھر اس کا وقوع ایسا نہیں جو کسی پر مخفی رہتا حالانکہ اس وقت مختلف ممالک میں مؤرخ تھے کسی نے بھی اس کو ذکر نہیں کیا۔
جواب (1): اول شبہ کا یہ جواب ہے کہ خواہ کسی قدر عظیم القدر جسم کیوں نہ ہو سب اس قادرمطلق کے احاطہ قدرت میں ہیں اور کون و فساد جن حکماء نے ممتنع ثابت کیا ہے ان کے دلائل کی بنیاد محض توہمات باطلہ پر ہے جن کا بطلان علم کلام میں بدرجہ اتم ہوچکا ہے۔ جواب (2) دوسرے شبہ کا یہ جواب ہے کہ چاند اس وقت باعتبار کرویت زمین کے تمام ملکوں پر تو طلوع کیا ہوا تھا ہی نہیں خصوصاً آفاق بعیدہ میں تو وہ اس وقت دکھلائی بھی نہیں دیتا تھا پھر ان پر اس کا پھٹنا اور پھر مل جانا کیونکر ظاہر ہوتا ؟ پھر اس کو کیونکر لکھتے ؟ اب رہے آفاق قریبہ کے لوگ سو اول تو یہ رات کا معاملہ تھا جبکہ سینکڑوں بلکہ نصف سے زیادہ لوگ سوتے ہوں گے اور ایک حصہ کثیر اپنے کاروبار میں مصروف ہوگا، ان کو آسمان کی طرف خیال بھی نہ ہوگا اور اس کے سوا یہ معاملہ پہر دوپہر بھر نہیں رہا تھا صرف چند منٹ میں ہوگیا جو بہت کو بغیر متنبہ کئے خبر بھی نہیں ہوئی ہوگی اور نہ پہلے سے اس کا اعلان ہوچکا تھا کہ آج رات کو فلاں وقت یہ ماجرا گزرے گا۔ ان وجوہ سے یا حضرت ﷺ کے مخاطب متوجہ تھے یا آفاق بعیدہ کے چند اور اشخاص کہ جن کو اتفاقاً یہ معاملہ دکھائی دیا اس پر بھی عرب میں اس کا ایسا چرچا پھیلا تھا کہ اس وقت کے شعراء نے اس کو نظم کیا اور یہی اشعار ان کی تواریخ کا محفوظ دفتر تھا جس سے صدہا واقعات گزشتہ کا صحیح حال واضح ہوتا ہے۔ اس کے سوا جو کسی نے تاریخ میں بھی لکھا ہو تو کیا تعجب ہے۔ ہاں اس وقت کے مؤرخوں کی تمام تواریخ محفوظ ہمارے پاس موجود ہوں اور ان میں سے کسی میں بھی یہ واقعہ مندرج نہ ہو تو البتہ تعجب کی بات ہے اور جس حالت میں کہ اس وقت کی کوئی صحیح تاریخ بھی ہمارے پاس نہ ہو اور جو کوئی ہے بھی تو کسی یونانی وغیرہ کی جس میں بجز شاہان ملک کے ایسے واقعات درج کرنے کا کم التزام کیا تھا تو پھر ہم کس اعتماد پر کہہ سکتے ہیں کہ کسی مؤرخ نے اس کو نہیں لکھا ؟ ہندوستان کے راجہ بھوج کی ایک متواتر نقل یہاں کے باشندوں میں مشہور ہے اور غالباً کسی ہندو کی تاریخ میں بھی ہو جو راجہ بھوج کے عہد میں ان کی حکومت کے حالات میں لکھی گئی ہو کہ راجہ نے جو اس وقت اپنے بام کی چھت پر بیٹھا تھا یہ واقعہ دیکھ کر حیرت زدہ ہو کر اپنے علماء سے پوچھا۔ انہوں نے آنحضرت ﷺ کی بعثت اور آپ ﷺ سے یہ معجزہ سرزد ہونا بحوالہ اپنے علوم متوارث کے بیان کیا جس سے وہ راجہ حضرت ﷺ پر ایمان لایا۔
اہل مذاہب میں سے ہر شخص تھوڑی دیر کے لیے اپنی مذہبی کتابیں بھی خیال میں رکھے تو کبھی اس واقعہ پر اعتراض نہ کریں۔ ہنود کے وید اور، پوران تو اس سے بھی بڑھ بڑھ کر واقعات سے بھرے پڑے ہیں۔ یہودونصاریٰ کتاب یشوع کو دیکھیں جس میں لکھا ہے کہ اس روز آفتاب ٹھہرا رہا اور عیسائی انجیل کو دیکھیں جس میں لکھا ہے کہ مسیح کو صلیب دینے کے وقت ہیکل کے پردے پھٹ گئے اور تمام زمین پر بڑی دیر تک تاریکی چھا گئی اور قبریں کھلیں اور ان میں سے مردے نکلے اور بعض لوگوں کو دکھائی بھی دیے حالانکہ یہود میں اس وقت ایسے واقعات لکھنے کا دستور تھا پھر یہ کس مؤرخ نے لکھا اور کس نے اس کو دیکھا ؟ یہود تو معجزے کے طالب تھے ان کو ایسا معجزہ دکھایا جاتا۔ سب نہیں تو بہت سے ایمان لے آتے۔ حضرات عیسائی ان توہمات آمیز روایتوں کا پہلے جواب دے لیں پھر ہم سے شق القمر کے معجزے میں گفتگو کریں۔
مُّسْتَمِرٌ کے معنی بعض کہتے ہیں قوی کے ہیں۔ ابوالعالیہ وضحاک و نحاس کا یہی قول ہے۔ اخفش کہتا ہے کہ یہ امرار الحبل سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں مضبوطی سے بٹنا۔ فراء و کسائی و ابوعبیدہ کہتے ہیں کہ اس کے معنی ہیں فنا ہونے والے کے کہ اس جادو کا کوئی اثر باقی نہ رہے گا۔ بعض کہتے ہیں اس کے معنی ہیں ہمیشہ کے یعنی ایسے جادو ہمیشہ سے چلے آتے ہیں۔
اس کے بعد ان کی تکذیب اور حال بیان فرماتا ہے وَکَذَّبُوْا وَاتَّبَعُوْٓ اَھْوَآئَ ھُمْ کہ انہوں نے نبی ﷺ کو جھٹلا دیا اور اپنی خواہشوں کا کہنا کیا۔ اب چاہیے تھا کہ ایسے معجزے کے انکار پر عذاب الٰہی آتا اور فوراً ہلاک کئے جاتے مگر کل اَمْرٍمُّسْتَقِرٌ ہر بات کا ایک وقت معین ہے کسی مصلحت کی وجہ سے اس نے ان کو چھوڑ رکھا ہے۔ اور اس کے یہ بھی معنی ہیں کہ ہر ایک بات کی ایک انتہا ہوتی ہے ان کے کفر کی بھی انتہا ہے اسلام کے دبنے کی بھی انتہا ہے۔ اس انتہا کے بعد ان کا کفر زائل ہوگا، اسلام ظہور پکڑے گا۔ چناچہ ایسا ہی ہوا اور اس معجزے ہی پر کیا موقوف ہے۔ وَلَقَدْ جَآئَ ھُمْ مِّنَ الْاَنْبَآمئِ مَافِیْہِ مُزْدَجَرٌ ان کے پاس بہت سی خبریں پہلی امتوں کے ہلاک و برباد ہونے کی آچکی ہیں جن میں اہل بصیرت کے لیے نصیحت و عبرت حاصل ہوسکتی ہے۔ حِکْمَۃٌ بَالِغَۃٌ کامل دانائی حاصل ہوسکتی ہے۔ فَمَاتُغْنِ النَّذُرُ مگر ان جنم کے اندھوں اور ازلی بدنصیبوں کو پندونصائح اور خوفناک عبرت انگیز باتوں اور ڈرانے والوں بیدار کرنے والوں واعظوں کی نصیحت نے کچھ بھی فائدہ نہ دیا۔ وہ ان کے کچھ بھی کام نہ آئے۔ یہ ویسے کے ویسے گمراہ اور اندھے ہی رہے۔ پھر جب ان کو ان سے کچھ فائدہ نہیں ہوا تو اس معجزے سے کیا ہوتا اس کو بھی جادو کہہ دیا۔
فائدہ : جیسا یہ معجزہ ہمارے رسول کریم ﷺ سے صادر ہوا ہے ایسا معجزہ کبھی کسی نبی سے صادر نہیں ہوا اور انبیا کی روحانی قوت کا اثر زمین کی چیزوں پر ہوا۔ پتھر سے پانی نکلا، قلزم جیسے سمندر کو چیر کر رستہ لیا، لاٹھی کا اژدھا بنایا، ہاتھ میں روشنی دکھائی، ان کی بددعائوں سے سرکش ہلاک ہوئے، دعائوں سے مردے بھی جی اٹھے، دریا کو ڈانٹا، ہوا پر حکومت کی، مگر آسمانی چیزوں پر خاص اسی خاتم المرسلین ﷺ کا اثر پہنچا اور ایک اشارے سے چاند کے دو ٹکڑے کردیے۔ اس سے آنحضرت ﷺ کی تمام انبیاء پر فضیلت و فوقیت ثابت کی گئی۔
1 ؎ امام احمد (رح) نے مسند میں اور دیگر محدثین نے اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے کہ حضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں اور قیامت اس طرح سے ہیں اور اپنی دو انگلیوں کو ملا کر دکھایا کہ اس طرح سے یکے بعد دیگر ہیں اور اسی لیے آپ کا ایک نام حاشر بھی ہے۔ 12 منہ
Ayahs 54:6–17ترکیب : یوم ناصبہ یخرجون یدع سقطت الواو من یدع اتباعا للفظ حذفت الیاء من الداع مبالغۃ فی التخفیف واکتفاء بالکسرۃ نکر بضم النون والکاف وباسکان الکاف ھوصفۃ بمعنی منکر و یقرء بضم النون وکسرالکاف وفتح الراء علی انہ فعل مالم سیم فاعلہ خشعا جمع خاشع وقرئ خاشعا علی الافراد وھوحال والعامل یدعوا ابصارھم مرفوع بخشعاً کانہم حال من الضمیر فی یخرجون مہطعین الاھطاع الاسراع فی المشیء حال من الضمیر فی یخرجون وازدجر الدال بدل من التاء انی بالفتح ای بانی علی امرحال اوظرف والھاء فی حملناہ لنوح تجری فی موضع جر صفۃ باعیننا حال من الضمیر فی تجری اے محفوظۃ جزاء مفعول لہ کفر ای بہ ونذر قال الفراء الانذار والنذر مصدران۔
تفسیر : منکرین نے جب ایسا بڑا معجزہ دیکھ کر اس کا انکار کیا اور اس کو جادو بتا دیا تو اب ان سے حق قبول کرنے کی کیا توقع باقی رہ گئی مگر نبی ﷺ کو ان ازلی بدنصیبوں کو جہنم سے بچانے کی ازحد حرص تھی اس لیے آپ کو حکم ہوا فَتَوَلَّ عَنْہُمْ کہ آپ ان سے منہ پھیر لیں یعنی گفتگو نہ کریں کچھ فائدہ نہیں۔ اس آیت سے یہ مراد نہیں کہ جنگ کے موقع پر آپ ان سے جنگ نہ کریں اور سزا کے موقع پر سزا نہ دیں پھر اس کو آیت السیف سے منسوخ قرار دینا زائد بات ہے۔ یہاں تک کلام تمام ہوگیا اور اسی لیے یہاں قراء کے نزدیک وقف لازم ہے۔
یوم الداع الخ سے دوسری بات شروع ہوتی ہے یعنی حشر کا ہولناک واقعہ اور قبروں سے نکل کر حساب دینے کے لیے عدالت میں آنے کی کیفیت بیان کرتا ہے تاکہ اس بات کو سن کر منکرین حشر کے دلوں میں خوف پیدا ہو پس فرماتا ہے اس دن کو یاد دلا کر جس دن پکارنے والا فرشتہ اسرافیل (علیہ السلام) یا جبرئیل (علیہ السلام) یا اور کوئی فرشتہ ایک مکروہ چیز کے لیے بلائے گا اور ناپسند چیز حساب ہے۔ اس کی آواز دیتے ہی ٹڈیوں کی طرح سے اپنی اپنی قبروں سے نکل کر عدالت کی طرف مجبور دوڑتے چلے آئیں گے اور خوف اور شرم کے مارے آنکھیں نیچی ہوں گی۔ پھیلی ہوئی ٹڈیوں سے تشبیہ اس بات میں ہے کہ جس طرح وہ بکثرت ہر طرف سے دوڑتی ہوئی جاتی ہیں اسی طرح لوگوں کا بھی ایک بڑا ٹڈی دل ہوگا کس لیے کہ تمام انسان اگلے پچھلے سب ہی قبروں سے اٹھیں گے اور سب خداوندی حکم کی ہیبت اسے عدالت کی طرف دوڑے چلے آئیں گے کسی کو مجال نہ ہوگی کہ حاضر ہونے میں دیر و تامل کرے اور ان میں سے منکروں پر بڑی سختی ہوگی جس لیے وہ کہیں گے کہ یہ دن سخت ہے۔
قوم نوح کی ہلاکت : اس کے بعد ان کفار کو دنیاوی مصائب سے بھی ڈراتا ہے۔ اول تو آخرت کی دردناک مصیبت سے ڈرایا مگر آخرت کا ان کو باور نہ تھا وہ تو دنیا ہی پر غش تھے۔ اس لیے چند انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی نافرمان قوموں کی تباہی و بربادی کے تذکرے سنا کر دنیاوی مصائب سے ڈراتا ہے اور وَلَقَدْ جَآئُ ھُمْ مِّنَ الْاَنْبَآمئِ الخ کی تفصیل کرتا ہے اور سب سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم کا حال سناتا ہے فقال کَذَّبَتْ قَبْلَہُمْ قَوْمُ نُوْحٍ کہ ان سے پہلے نوح کی قوم نے بھی نوح کو جھٹلایا تھا پھر اس جھٹلانے کی مفصل کیفیت بیان فرماتا ہے فَکَذَّبُوْاعَبْدَنَا وَقَالُوْا مَجْنُوْنُ وَّاُزدُجِرَکہ ہمارے بندے نوح کو جھٹلایا اور کہہ دیا کہ یہ دیوانہ مبتذل ہے ہر کوئی اس کو جھڑکتا ہے ‘ مارتا ہے۔ سینکڑوں برس یہ پاک بندے حق عبودیت ادا کرنے کے لیے ان کو سمجھاتے رہے اور بجائے اس کے کہ وہ اپنے ناصح مشفق کی قدرومنزلت کرتے مارتے پیٹتے ‘ برا بھلا ہی کہتے رہے (وہ ہمارے زمانے کے واعظ یا ریفارمر نہ تھے جو بغیر منظوری خدا تعالیٰ کے یہ عہدہ جلیلہ آپ لینے کا قصد کرتے ہیں صرف چرب زبانی ہوتی ہے مگر ان کی اندرونی خباثتیں اور نفسانی خواہشیں اور نمودوشہرت کی آرزوئیں ان کی چرب زبانی کو صابن بن کر دھو ڈالتی ہیں جس پر یہ جلد ہزیمت کھا کر اس فرضی عہدے کو خیرباد کہہ بیٹھتے ہیں) آخر غضب الٰہی جوش میں آیا اور نوح (علیہ السلام) کے عرق عبودیت کو جنبش ہوئی تو دعا کی فَدَعَارَبَّہٗ اَنِّیْ مَغْلُوْبُ فَانْتَصِرْ کہ الٰہی میں دب گیا میری مدد کر۔ خاصان خدا کو کبھی ایسے گستاخوں کے مقابلے میں جوش بھی آجاتا ہے جو انتقامِ الٰہی کا پیغام ہوتا ہے ؎
نہ توڑو ہمیں تم کھلونا سمجھ کر
کہ ہم بھی کسی کے بنائے ہوئے ہیں
پھر کیا تھا فَفَتَحْنَآَ اَبْوَاب السَّمَآئِ بِمَآئٍ مُّنْہَمِرٍ وَّفَجَّرْنَا الْاَرْضِ عُیُوْنًا فَالْتَقَی الْمَآئُ عَلٰٓی اَمْرٍقَدْ قُدِرَ کہ ہم نے آسمانوں کے دروازے کھول دیے، پانی کے ریلے گرنے لگے اور زمین سے بھی پھوٹ نکلا۔ پھر جہاں تک کہ خدا نے مقرر کر رکھا تھا پانی چڑھ گیا زمین کے رہنے والے اور درخت اور پہاڑ بھی ڈوب گئے۔ مگر نوح (علیہ السلام) اور اس کے ساتھ والوں کو کشتی پر سوار کیا جو ہماری مدد سے چلتی تھی۔ یہ غرق اور نوح کی نجات بدلہ ہے اس کا کہ جس کا انکار کیا تھا اور اسی کشتی کو یا اس قسم کی کشتیوں کو ہم نے دنیا میں یادگار کے لیے باقی رکھا پھر کوئی ہے کہ اس بات کو سمجھے۔ پھر دیکھا میرا عذاب اور میرا ڈر کیسا ہوا ؟
فائدہ : اجداث جمع جدث کی جس کے معنی ہیں قبر۔ مُّہْطِعِیْنَ الاھطاع دوڑنا۔ اَبْوَاب السَّمَآئِ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ آسمانوں کے دروازے ہیں۔ بعض کہتے ہیں یہ استعارہ ہے بےحد پانی برسنے کے وقت کہہ دیا کرتے ہیں کہ آسمان کے دروازے کھل گئے کیونکہ پانی تو بادلوں سے برسا کرتا ہے اور بادلوں کو آسمان بھی کہہ دیا کرتے ہیں۔ مُنْہَمِرٍ ہمر پانی اوپر سے گرنا اور بہت گرنا ذات اَْلَوَاحٍ کشتی۔ الواح جمع لوح تختے۔ دُسُرٍ جمع دسارمیخیں اور کیلیں کہ جن سے تختے جوڑے جائیں۔ تَرَکْنٰھا قتادہ کہتے ہیں کہ اس کشتی کو مدتوں خدا نے باقی رکھا تھا۔ یہاں تک کہ اس امت کے لوگوں نے بھی اس کو دیکھا۔ چند برس ہوئے کہ ترکی سیاحوں نے اس پہاڑ کی برف پگھلنے سے ایک عظیم الشان کشتی دریافت کی تھی جس کا تذکرہ اخباروں میں بھی رہا۔ اکثر کا گمان تھا یہ وہی کشتی ہے ورنہ پہاڑ پر چڑھنے کا کوئی سبب معلوم نہیں ہوتا۔ بعض کہتے ہیں ہاضمیر جنس کشتی کی طرف راجع ہے۔ بعض کہتے ہیں فعلۃ کی طرف کہ اس کام کو ہم نے عبرت کردیا۔ تَرَکْنٰھَا بمعنی جعلنا۔
Ayahs 54:18–22ترکیب : اِنَّااَرْسَلْنَا جملۃ مسانفہ مبینۃ لما اجملہ قبلہ فی یوم الظرف متعلق بارسلنا تَنْزِعُ النَّاس الجملۃ صفۃ لریح اوحال منہا۔ کَآنَّہُمْ حال من الناس النخل والنخیل یذکرویونث ولذایوصف بالمذکرکمافی قولہ تعالیٰ نَخْلٍ مُنْقَعِرٍ وبالمونث کمافی قولہ تعالیٰ اَعْجَازُ نَخْلٍ خاویہ وقیل التذکیر رعمایۃ والتانیث رعایۃ للمعنی وَنُذُرِ اصلہ نذری۔ حذف الیاء رعایۃ للفواصل وبقیت الکسرۃ عوضاً عنھا۔
تفسیر … قوم عاد کی بربادی : یہ دوسرا تذکرہ قوم عاد کا ہے کہ انہوں نے بھی پیغمبر کا انکار کیا۔ پھر دیکھا ہمارا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا ؟ پھر اس کی مجملاً کیفیت بیان فرماتا ہے کہ اِنَّااَرْسَلْنَا ہم نے اس قوم پر سخت آندھی بھیجی نامبارک دن میں جو لوگوں کو اکھاڑ کر پھینکتی تھی اور لوگ کھجور کے اکھڑے ہوئے پیڑوں کی طرح زمین پر مردے پڑے ہوئے تھے۔ پھر فرماتا ہے کہ دیکھو میرا عذاب اور میری تنبیہ کیسی تھی ؟ اس کلمہ فَکَیْفَ کَانَ عَذَابِیْ وَنُذُرِ کو اسی قصہ میں دوبارہ ذکر کیا۔ اول بار انکار و کفر ذکر کر کے دوسری بار سزا بیان کر کے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اول بار کے ذکر میں دنیاوی بربادی و ہلاکت کی طرف اشارہ ہوا اور باردگر میں اخروی عذاب کی طرف ایماء ہو۔ ان کے اعمالِ بد کے نتیجہ بد کو ذکر فرما کر ارشاد فرماتا ہے وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنُ لِلّذِکْرِ کہ ہم نے قرآن میں ہر قسم کے پندونصائح ذکر کردیے ہیں صاف صاف طور پر نہ جن میں کوئی ابہام ہے نہ معمہ نہ ایسے رموز و ارشادات ہیں کہ جن کی طرف ذہن نہ جاسکتا ہو (جیسا کہ مکاشفات یوحنا اور بعض پیشین گوئیاں بائبل میں ہیں) نہ شاعرانہ خیال کی بلند پروازیاں ہیں بلکہ بہت صاف اور آسان۔ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ پھر کوئی ہے کہ سمجھے ؟ اس پر بھی جو کوئی نہ سمجھے تو جان لو کہ اس کی تقدیر میں سعادت ازلی کا حصہ ہی نہیں۔
فائدہ (1): قرآن کے آسان کرنے کے یہ معنی تھے جو ہم نے بیان کئے۔ اب اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ جو لغات عرب سے واقفیت نہ رکھتا ہو اور قواعد صرف و نحو و معانی و بلاغت کے رموز سے واقف نہ ہو۔ احکام کے علل و اسرار تک رسائی نہ ہو۔ حقائقِ غامضہ و لطائفِ روحانیہ تک ذہن اڑ نہ کرجاتا ہو۔ الہام ربانی و اساس نوامیہ سے آشنا نہ ہو۔ وہ بھی قرآن مجید کو ویسا ہی سمجھتا ہے جیسا کہ یہ شخص سمجھتا ہے کہ جس میں یہ سب باتیں ہوں حاشا و کلا۔ اسی لیے نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ قرآن کے لیے ظہروبطن ہے اس کے عجائب کی انتہا نہیں۔ یہ دریائے بےکنار ہے۔ اس سے ہر شخص بقدر فہمِ خود حصہ پاتا ہے۔ پھر اس پر ایک ایسے جاہل کا کہ جس کو بجز ترجمے کے بارگاہ قرآنیہ تک رسائی نہیں یہ کہہ دینا (کہ جو کچھ آئمہ مجتہدین وعلمائِ مستنبطین نے قرآن سے مسائلِ شرعیہ و معارف حکمیہ ثابت کیے ہیں ہم کو ان کی کچھ پروا نہیں) محض یا وہ گوئی اور دریدہ دہنی ہے جو آج کل ظاہر بینوں اور سرسری نظروالوں میں انگریزی الحاد کی بابت ازحد بڑھی ہوئی ہے۔
فائدہ (2): فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ یوم سے مراد مطلق وقت ہے جیسا کہ کلام عرب میں دستور ہے۔ پس یہ آیت سورة سجدہ کی اس آیت کے منافی نہیں فی ایام نحسات اور نہ الحاقہ کی اس آیت کے مخالف ہے سبع لیال وثمانیۃ ایام حسوما۔ مستمر غالباً نحس کی صفت نہیں بلکہ یوم کی جیسا کہ قرأت اضافہ یوم نحس کی طرف اس کی مؤید ہے یوم کے مستمر ہونے سے کئی روز تک پے در پے آندھی کا چلنا مراد ہے یا مستمر کے معنی قوی کے ہیں۔ بعض مؤرخوں اور مفسرین نے لکھا ہے کہ آندھی جس روز شروع ہوئی تھی وہ آخری چہارشنبہ تھا اور ہر مہینے کا آخری بدھ منحوس ہوتا ہے۔ یہ خیال صحیح نہیں کیونکہ ایام کافی ذاتہا انسان کی سعاوت و شقاوت میں کوئی دخل نہیں اسی کے اعمال کا نیک وبدثمرہ ایام میں ظہور کرتا ہے جس لیے وہ اس دن کو منحوس یا سعید کہتے ہیں۔ ورنہ وہی ایک دن ہے جو سینکڑوں کے لیے نحس اور سینکڑوں کے لیے سعد ہے اگر دن میں کوئی اثر ہوتا تو سب کے لیے برابر ہوتا۔ ایسے خیالات اور توہمات ہنود اور دیگر بت پرست اور اوہام پرست قوموں میں مدت سے چلے آتے ہیں جن سے ان کے تمدن میں بڑی دقتیں پیش آتی ہیں۔
Ayahs 54:23–30ترکیب : بَشَرًا ھو منصوب بفعل یفسرہ المذکور ای اتبع بَشَرًامِّنَّا نعت ویقرء بالرفع فھومبتداء ومنانعت لہ واحِدًا حال من الھاء فی نَتَّبِعُہٓٗ من بیننا حال من الھاء الْاَشِرٌ بکسرالشین وضمہا لغتان مثل فرح و فرح ویقرأ بتشدیدا لراء ھو فعل من الشر فِتْنَۃً مفعول لہ۔
تفسیر … قوم ثمود کی بربادی : یہ تیسرا قصہ ثمود کا ہے کہ انہوں نے بھی نذر یعنی ڈر سنانے والے رسولوں کو جھٹلایا (اگرچہ بظاہر انہوں نے اپنے رسول صالح (علیہ السلام) کو جھٹلایا تھا مگر جو بات صالح کہتے تھے وہی سب اگلے انبیاء کہتے آئے تھے پس ایک کا جھٹلانا گویا سب کا جھٹلانا 2 ؎ ہے۔ یا یوں کہو خدا کی طرف کے انسان کو ڈر سنانے والے انسانی انقلابات اور حوادث دہر بھی ہیں ان سے پند پذیر نہ ہونا اور ان کو پس پشت ڈال دینا ان کی تکذیب ہے) ۔ اور یہ بھی کہہ دیا کہ کیا ہم اپنے میں سے ایک شخص کے جو ہمارے برابر ہے تابع ہوجائیں ؟ اس میں کیا فوقیت ہے جو اسی پر خدا کی طرف سے نصیحت نازل ہوئی ہے۔ اس کے تابع ہونا گمراہی اور مصیبت میں پڑجانا ہے بلکہ یہ جھوٹا شیخی خورا ہے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے سَیَعْلَمُوْنَ غَدًا کہ کل ان کو معلوم ہوجائے گا کہ کون جھوٹا شیخی خورا ہے ؟ اب ہم ان کی آزمائش کو اونٹنی بھیجتے ہیں اس کو دیکھو اور صبر کرو اور کہہ دو کہ پانی پینے کو ہر ایک اپنی باری سے گھاٹ پر آئے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا اور قوم نے ایک بدکردار کو آمادہ کیا اس نے ہاتھ بڑھایا اور اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ پھر ان پر عذاب آیا۔ ایک ہیبتناک آواز رات میں آئی، پھر سخت زلزلہ آیا جس سے سب چورا چور ہو کر رہ گئے اس کا مفصل بیان سورة ہود میں ہوچکا ہے۔
اس قصہ کو تمام کر کے فرماتا ہے کہ قرآن مجید میں ایسے ایسے عبرت انگیز واقعات ہیں سمجھو قرآن کو آسان کردیا ہے کوئی ہے کہ سمجھے ؟
فائدہ (3): سعر آگ کا شعلہ ‘ جنون جمع سعیر کی۔ (ابوعبیدہ) ۔ فرّاء کہتے ہیں اس کے معنی ہیں سختی اور مشقت کے (2) اَشِرٌ بروزن فعل صفت مشبہ کا صیغہ ہے اس کے معنی ہیں خوشی کرنے والا اور اترانے والا۔ جس کا ٹھیک ترجمہ ہے شیخی مارنے والا۔ (3) شِرْبٍ بکسر شین پانی کا حصہ۔
فائدہ (4): ھَشِیْمِایندھن۔ مْخْتَظِرِ جمہور نے بکسر ظاپڑھا ہے یعنی اسم فاعل جس کے معنی ہیں کانٹوں کی باڑ بنانے والا جو کھیت یا مواشی کی حفاظت کے لیے بنایا کرتا ہے۔ بعض نے بفتح ظاء پڑھا ہے جس کے معنی ہیں خطیرہ کے جس کو احاطہ یا گھیر یا باڑ کہتے ہیں مراد ہے چورا چورا اور شکستہ ہونا۔
فائدہ : (1) أبشرا مناواحد نتبعہ ‘ نتبع کے اول بشر کو مقدم کیا جس میں ان کفار کے وجوہ انکار و اسباب عدم اتباع رسول (علیہ السلام) کی طرف چند اشارات ہیں۔ اول یہ کہ بشر یعنی انسان ہونا ان کے نزدیک اتباع کے مناسب نہ تھا وہ سمجھتے تھے کہ انسان سب برابر پھر ہم میں کیا بات نہیں جو اس میں ہے۔ پھر کس لیے ہم اس کے کہنے پر چلیں۔ دوم بشرًا کو نکرہ بیان کیا جس سے اس کی تحقیر مقصود تھی یعنی بشر بھی کوئی نامور و معزز اور معروف شخص نہیں جس کے پاس دنیاوی عزت کا کوئی سامان نہیں۔ نہ مال و اسباب ہے نہ اور کوئی تجمل کی بات ہے۔ ایک فقیر آدمی ہے۔ سوم بشر بھی منا ہم لوگوں میں کا ایک آدمی۔ عقلا کے نزدیک مجانست انسان کا اصلی حال دریافت کر کے اس پر اعتقاد لانے کا عمدہ ذریعہ ہوتا ہے کیونکہ آپس کے لوگوں سے اس کی کوئی بات مخفی نہیں رہتی مگر ان حمقاء کے نزدیک یہ بھی ایک عیب کی بات تھی۔ سچ ہے آپس کے لوگ اور ہم زمانہ اور ہم وطن اپنے آدمی کے کمالات پر بہت کم اعتقاد لایا کرتے ہیں۔ اسی لیے حکماء اور عرفاء کا قول ہے کہ آدمی کی اس کے وطن میں قدر نہیں ہوتی۔ باغ میں پھول کی اور کان میں جواہر کی قدر نہیں جب وہ اپنے وطن سے نکل کر جو ہریوں کے ہاتھ میں آتا ہے تو بڑی قدرومنزلت پاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ کاملین کو قضاء و قدر نے بےوطن کیا ہے اور اسی سبب سے جناب رسول کریم محمد ﷺ وطن چھوڑنے اور ہجرت کر کے مدینہ منورہ میں تشریف لانے پر مجبور کئے گئے۔ چہارم واحدًا یعنی اکیلا ہونا اس کے ساتھ جماعت کثیر نہ ہونا۔ یہ بھی اس کی کسر شان کا باعث عام دلوں میں سمجھا گیا اور یہی بات عموماً قوموں کی جبلی ہوگئی ہے اسی لیے ہر جگہ کے لوگوں نے اپنے ہم وطن اور ہم قوم اور دنیاوی تجمل و حشمت نہ رکھنے والے نبی کا انکار ہی کردیا ہے اور اب تک بنی آدم اسی گمراہی میں مبتلا ہیں۔ ہم قوم اور ہم وطن اہل کمال کو حقارت کی نگاہوں سے دیکھا کرتے ہیں اور اسی طرح جس کے پاس سامان و اسباب دنیاوی اور ظاہری حشمت و عزت اور جماعت و اعوان و انصار نہیں ہوتے خواہ وہ کیسا ہی باکمال ہو اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ آج کل تو کمالات انسانیہ کا دارومدار حشمت و مال و اعوان و انصار پر ٹھہر گیا ہے۔ یہ دلیل ہے اس بات کی کہ اس زمانے میں حسیات میں انسان نے ترقی کی ہے مگر روحانی کمالات میں بہت پستی ہوگئی ہے اور یہی سبب ہے کہ فواحش اور ریاکاری و عیاری و نفس پرستی نے بہت رواج پایا ہے اور پانا بھی چاہیے تھا کس لیے کہ جس قدر ہادی برحق سے لوگوں کو زمانہ دور کھینچے جا رہا ہے اسی قدر ان کی روحانی قوت میں سستی اور ضعف آتا جا رہا ہے اور یہی سبب ہے کہ اس زمانے میں نفوس قدسیہ حضرات اولیائِ کرام بہت کم نظر آتے ہیں۔
خدا تعالیٰ نے اس ایک چھوٹے سے فقرے میں انسانی جبلت اور اس کے آثار بتلا کر ایمانداروں کو کس لطیف پیرایہ میں اسباب ظاہریہ پر کمالات کی قدردانی کو منحصر جاننے کو منع فرمایا اور یہ بات بتلا دی کہ ان باتوں کی طرف نظر نہ کیا کرو اصلی بات کو دیکھو۔ ان اسباب کے مفقود ہونے پر کفار اپنے نبی کی اتباع کرنے کو گمراہی اور جنون سمجھتے تھے۔ انا اذالفی ضلال وسعر اور ہم جنس اور ہم وطن ہونے کے سبب سے ان کو اس بات کا کمال تعجب تھا کہ ہم میں ہے یہ کیونکر خدا کا نبی ہوگیا القی الذکر علیہ من بیننا آخر جب فہم نے رسائی نہ کی تو یہی کہہ دیا بل ھو کذاب اشر کہ یہ تو جھوٹا شیخی خورا ہے چونکہ وہ اس قابل نہ رہے تھے کہ دلائل ان کے سامنے پیش کئے جاتے اور وہ ان میں غور کر کے نتیجہ نکالتے اسی لیے سزا ہی کے تازیانے کی ان کو خبر دی گئی جیسا کہ بہایم اور بےعقلوں کو سمجھایا جاتا ہے فقال سیعلمون غدا من الکذاب الاشر۔
2 ؎ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ ان کے نبی وہ بات لائے جس پر پہلے انبیا قائم تھے کوئی نئی بات نہ تھی نہ بےسند بات۔ 12 منہ
Ayahs 54:31–321 ؎ کہ جیسی چورا ہوئی باڑ۔
Ayahs 54:33–35ترکیب : الحاصب اسم الفاعل من حصب اذارمی الحصباء ھی الحصاب ومنہ المحصب موضع بالحجاز قال ابوعبیدۃ الحاصب الحجارۃ الریح وقال فی الصحاح الحاصب الریح الشدیدۃ التی تثیر الحصباء تذکیر الحاصب مع انہ مسندالی الریح وھی مونث سماعی لکونھا فی تاویل العذاب الاآل لوط استثناء متصل بسحر الباء بمعنی فی اوللملابستہ ای حال کو نھم متلبسین بسحر نعمۃ منصوب علی العلۃ اوعلی المصدریۃ تماروا تفاعلوامن المریۃ وھی الشک والمجادلۃ راودوہ المرادو الطلب مرۃ بعد مرۃ۔
تفسیر … حضرت لوط (علیہ السلام) کا واقعہ : چوتھا قصہ قوم لوط کا ہے کہ انہوں نے بھی نبیوں اور ان کی باتوں کو جھٹلایا تھا جس سے ان پر بلائے عظیم نازل ہوئی۔ یہ قصہ کئی ایک جگہ ہم مفصل بیان کر آئے ہیں۔ مختصراً یہ ہے کہ لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے سفر مصر میں ساتھ تھے۔ دونوں کے مواشی بکثرت تھے اس لیے دونوں کو جدا ہونا پڑا۔ حضرت ابراہیم علہل السلام کنعان میں آرہے اور حضرت لوط (علیہ السلام) یرون ندی کی ترائی میں جہاں سدوم اور عمورہ شہر آباد تھے۔ یہاں کے لوگ بڑے بدکار اور بت پرست تھے۔ مردوں سے مباثرت کیا کرتے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے بہت کچھ وعظ و پند کیا مگر وہ بدبخت اپنی ناجائز شہوت کے نشے میں اندھے تھے، نہ مانا اور جھٹلا دیا۔ اب انتقامِ الٰہی کا وقت قریب آیا۔
دو فرشتے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے مل کر آئے تھے۔ لڑکوں کی شکل میں شام کے وقت حضرت لوط (علیہ السلام) کو جو سدوم کے پھاٹک پر بیٹھے تھے نظر آئے۔ حضرت ان مہمانوں کو گھر لے گئے۔ سدوم کے مردوں نے جو ان سے لے کر بوڑھے تک سب لوگوں نے ہر طرف سے ان کا گھر گھیر لیا اور انہوں نے پکار کر لوط (علیہ السلام) کو کہا کہ وہ مرد جو آج کی رات تیرے یہاں مہمان آئے ہیں کہاں ہیں۔ انہیں ہمارے پاس باہر لا کہ ہم ان سے صحبت کریں۔ تب لوط (علیہ السلام) دروازے سے ان کے پاس باہر گیا اور کواڑ اپنے پیچھے بند کیا اور کہا اے بھائیو ! برا کام نہ کرو۔ تب انہوں نے کہا ہٹ جا۔ تو گزران کرنے آیا ہے یا حاکمی کرنا چاہتا ہے۔ اب تیرے ساتھ ہم ان سے زیادہ بدسلوکی کریں گے۔ پھر وہ لوط (علیہ السلام) پر حملہ کر کے آئے اور کواڑ توڑنے لگے تب ان فرشتوں نے اپنا ہاتھ بڑھا کر لوط (علیہ السلام) کو اپنے پاس گھر میں کھینچ لیا اور دروازہ بند کرلیا اور ان مردوں کو جو گھر کے دروازے پر تھے کیا چھوٹے کیا بڑے اندھا کردیا۔ سو وہ دروازہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک گئے۔ تب فرشتوں نے لوط (علیہ السلام) سے کہا کہ اپنے لوگوں کو لے کر اس مقام سے نکل جا کیونکہ ہم اس کو غارت کریں گے۔ صبح کو لوط (علیہ السلام) اپنی بیوی اور دونوں بیٹیوں کو لے کر نکل گئے اور شہر ضغر میں پہنچے اور جب ضغر میں داخل ہوئے سورج کی روشنی زمین پر پھیلی تب خداوند نے سدوم اور عمورہ پر گندھک اور آگ 1 ؎ آسمان سے برسائی اور ان شہروں کو غارت کردیا مگر ان کی بیوی نے باوجود منع کردینے کے پے چھک پھر کے دیکھا سو وہ نمک کا کھنبا بن گئی اور ابراہیم (علیہ السلام) نے فجر کو اٹھ کر اس زمین کے میدان کی طرف نظر کی اور کیا دیکھا کہ زمین پر بھٹی کا سا دھواں اٹھ رہا ہے۔ (تورات سفر الخلیقہ باب 19)