Ayahs 53:1–18ترکیب : الواو للقسم اذا ھویٰ والعامل فی الظرف فعل القسم المحذوف ای اقسم بالنجم وقت ھو یہ وقیل النجم نزول القرآن فیکون العامل نفس النجم۔ ماضل الخ جواب القسم وماینطق الخ جملۃ مستانفۃ وقعت موقع الدلیل تقدیر الکلام کیف یضل ویغوی وھولا ینطق عن الہوی ان ھوای الذی ینطق بہ من القرآن۔ وحی موصوف یوٰحی صفۃ ترفع احتمال المجاز و تفید الاستمرار التجددی علمہ صفۃ للوحی ای علمہ ایاہ فاستوٰی عطف علی علمہ بطریق التفسیر فانہ الیٰ قولہ اوحٰی بیان لکیفیتہ التعلیم و ھو بالافق حال من فاعل استوٰی فکان مقدار ما بینھما قاب قوسین خبرکان نزلۃ منصوب علی الظرفیۃ لان النزلۃ علی وزن الفعلۃ اسم للمرۃ وقیل نصبھا علی المصدر تفسیرہ ولقدرآہ ناز لانزلۃ اخرٰی۔ اذ یغشٰی ظرف زمان لراہ لا لمابعدہ من الجملۃ المنفیۃ۔
تفسیر : یہ سورة بھی جمہور کے نزدیک مکیہ ہے۔ بعض کہتے ہیں مدینہ میں نازل ہوئی ہے، مگر یہ قول صحیح نہیں۔ بخاری و مسلم وغیرہما نے ابن مسعود ؓ سے نقل کیا ہے کہ سب سے پہلی سورة کہ جن میں سجدہ ہے۔ سورة نجم ہے۔ پس رسول اللہ ﷺ نے سجدہ کیا اور سب لوگوں نے سجدہ کیا مگر ایک شخص نے مٹھی میں مٹی لے کر اس پر سجدہ کیا۔ میں نے اس کے بعد اس کو دیکھا کہ وہ کفر کی حالت میں قتل کیا گیا اور وہ امیہ بن خلف تھا اور یہی احادیث سے ثابت ہے کہ اس سورة میں سجدہ ہے اور صحیح بخاری و ابودائود و ترمذی و نسائی و طبرانی و طیالسی و ابن ابی شیبہ اور ابن مردویہ نے زید بن ثابت ؓ سے نقل کیا ہے کہ میں نے یہ سورة نبی ﷺ کے سامنے پڑھی، پس سجدہ نہ کیا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ سورة نجم میں مکہ میں تو سجدہ کیا کرتے تھے اور جب ہجرت کرکے مدینہ پہنچے تو ترک کردیا، اسی لیے امام شافعی و احمد ; فرماتے ہیں کہ سورة کے اخیر میں جو فاسجدواللہ واعبدو آیا ہے۔ وہاں سجدہ کرنا واجب نہیں۔ ہاں جو کوئی کرے تو بہتر ہے مگر پہلی روایات کے لحاظ سے امام ابوحنیفہ و سفیان ثوری وغیر ہما علماء (رح) فرماتے ہیں کہ سجدہ کرنا واجب ہے۔ اس آیت کے پڑھنے والے پر بھی اور سننے والے پر بھی اور یہی قوی ہے۔ سورة طور کے اخیر میں فرمایا تھا کہ ستاروں کے ڈوبنے کے بعد بھی اے محمد ﷺ ! اللہ کی تسبیح وتحمید کیا کرو۔ اب اس سورة کے اول ہی میں ان ڈوبتے ہوئے ستاروں کی قسم کھاکر خدا تعالیٰ کی عزت و عظمت پر گواہی دیتے ہیں، یہ بات بتلاتا ہے کہ محمد ﷺ گمراہ اور بہکے ہوئے نہیں ہیں، جیسا کہ اے کفار ! تم کہتے ہو یہ مناسبت ہے۔ اس سورة کو اس سے پہلے سورة سے۔
جن سورتوں کے شروع میں خدا تعالیٰ نے حرفوں کے سوا اور چیزوں کی قسم کھائی ہے، وہ چار سورتیں ہیں۔ اول والصافات ‘ دوم والذاریات، سوم والطور ‘ چہارم والنجم، پہلی میں قسم کھاکر وحدانیت ثابت کی ہے۔ جیسا کہ فرمایا ان الہکم لواحد دوسری میں جزاء و حشر کا کو واقع ہونا ثابت کیا ہے، چناچہ فرمایا۔ انما تو عدون لصادق وان الدین لواقع تیسری میں عذاب کا واقع ہونا کسی کے ٹلانے سے اس کا نہ ٹلنا جیسا کہ فرمایا۔ ان عذاب ربک لواقع مالہ من دافع اس سورة میں قسم کھاکر آنحضرت ﷺ کی نبوت ثابت کی، جیسا کہ فرمایا۔ ماضل صاحبکم وماغویٰ الخ تاکہ تینوں اصل الاصول مسائل توحید و حشر و نبوت کا کامل ثبوت ہوجائے اور حشر کے اثبات میں اس لیے قسمیں کھائیں کہ یہ مسئلہ صرف دلیل 1 ؎ نقلی سے ثابت ہوتا ہے۔ والنجم مفسرین کے نجم کے معنی میں کئی قول ہیں۔ جمہور کا قول ہے کہ اس سے مراد ستارہ ہے کوئی خاص ستارہ نہیں بلکہ جنس یعنی ہر ایک ستارہ اور بعض کہتے ہیں۔ ثریا 2 ؎ کیونکہ النجم بول کر یہی مراد ہوا کرتے ہیں۔ کلام عرب میں بعض کہتے ہیں شعری ستارہ بعض کہتے ہیں۔ زہرہ، خیر ایک ستارہ خاص ہو یا عام مگر ستارہ مراد لینا ایک قول ہے۔ دوسرا قول ہے کہ اس سے مراد زمین پر پھیلنے والی بیلیں ہیں، کیونکہ ایک جگہ آیا ہے۔ والنجم والشجر یسجدان یہ اخفش کا قول ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ النجم سے مراد قرآن شریف کس لیے کہ تنجیم کے معنی ہیں، تفریق اور قرآن پارہ پارہ یعنی ٹکڑے ٹکڑے ہو کر نازل ہوا ہے۔ چوتھا قول یہ ہے کہ اس سے مراد آں حضرت ﷺ ہیں جن کو ظلمات عالم میں روشنی دینے کے سبب بطور استعارہ کے ستارہ کہنا بہت ہی ٹھیک ہے۔ اب نجم کے کوئی معنی لو مگر اذا ھویٰ (جبکہ جھکے) سے اسی کے مناسب معنی مراد لیے جائیں گے۔ ستاروں کا جھکنا طلوع غروب جو خدا کی شان جبروت بتلاتا ہے۔ زمین کی وہ بوٹیاں کہ جن کو درخت نہیں کہتے۔ ان کا جھکنا وہی جھکنا ہے جو ہوا سے سربسجود ہو کر اس کی شان یکتائی بتایا کرتی ہیں۔ ؎
سرومی جنبد بصحن بوستان
در ہوائے قامت دلجوئے تو
قرآن کا جھکنا اس کا اوپر سے نازل ہونا ہے۔ آنحضرت ﷺ کا جھکنا رکوع و سجود کرنا ہے جو خدائے تعالیٰ کے نزدیک ایک عمدہ حالت ہے اور آنحضرت ﷺ کا جھکنا ذات باری تعالیٰ کی طرف حضرت کا منازل قربت طے کرنا ہے۔
پانچویں معنی النجم کے بعض عرفاء کے نزدیک بندہ کا دل ہے جو ظلمات ہیولانیہ میں خدا تعالیٰ کا چمکتا ستارہ ہے اور جب وہ اللہ تعالیٰ کی طرف جھکتا ہے تو اس میں اور بھی روشنی آجاتی ہے جس سے وہ حق و باطل میں تمیز کرنے پر بخوبی قادر ہوجاتا ہے، اس لیے قسم کھاکر فرماتا ہے۔ ماضل صاحبکم وماغوٰی۔ صاحبکم سے مراد آں حضرت ﷺ ہیں اور جگہ بھی اس لفظ سے حضرت ﷺ کو تعبیر کیا گیا ہے۔ وما صاحبکم بمجنون صاحب صحبت رکھنے والا اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ تم شب و روز حضرت ﷺ کے حالات سے بخوبی واقف ہو، کوئی اجنبی شخص نہیں، پھر کہو کیا وہ گمراہ اور بہکا ہوا ہے ؟ ہرگز نہیں۔ آنحضرت ﷺ جو توحید و مکارم اخلاق بیان فرماتے تھے، بت پرستی اور ناپاک باتوں سے منع کرتے تھے۔ کفار اپنی کجروی کو سیدھا رستہ جانتے تھے، اس لیے وہ الٹا حضرت ﷺ ہی کو گمراہ اور بہکا ہوا کہتے تھے اور یہ انسان کی جبلی عادت ہے، بعض کہتے ہیں۔ ضل وغوٰی دونوں لفظوں سے ایک بات مراد ہے۔ بعض کہتے ہیں دو باتیں ضلالت رستہ بھولنا اور غوایت عام ہے، بھولنا بھی اور رستہ کے چلنے میں بےقاعدگی و افراط وتفریط۔ فائدہ : بندہ اور خدا تعالیٰ میں جو حجابات حاجز ہیں، ان کا قطع کرنا اس کا رستہ طے کرنا ہے، جن کو تدلیات کہتے ہیں، اس رستہ میں بہت سے بھول گئے ہیں اور بہت سے غوایت میں پڑگئے ہیں، انسانی جذبات پر جن کو واقفیت ہے۔ وہ ہر روز اس بات کو معائنہ کرتے ہیں، مگر یہ دنیا کا ستارہ اور جہان کا آفتاب (محمد) اس رستہ میں بھولے نہ چوکے۔
اب ماضل و ما غویٰ کی وجہ بیان کرتا ہے۔ فقال وما ینطق عن الہوٰی کہ آپ اپنی خواہش سے بات نہیں کرتے بلکہ آپ کی زبان خدا کی زبان ہے، جو کچھ وہ بلواتا ہے وہی آپ بولتے ہیں۔ عارف کامل جب اپنے ارادات اور اپنی ہستی کو اس کی ہستی میں محو کردیتا ہے تو اب اس کا کلام اور اس کی حرکات و سکنات اسی کے حکم سے ہوتے ہیں۔ جب انسان مرجاتا ہے، اس کے اپنے حرکات و ارادات مفقود ہوجاتے ہیں تو اب جو کوئی اس کو ہلاتا جلاتا ہے وہ آپ نہیں ہلتا جلتا۔ کسی اور کا شمار ہوتا ہے، یعنی اس کی طرف منسوب ہوتا ہے جس نے ہلایا۔ صحیح بخاری میں ایک حدیث ہے کہ جب بندہ مجھ سے قریب ہوتا ہے تو میں اس کا ہاتھ ہوجاتا ہوں۔ مجھ سے پکڑتا ہے۔ الخ، دین کے بارے میں جو کچھ آپ فرماتے تھے اگر اس کے الفاظ بھی منجانب اللہ ہوتے تھے تو وہ وحی متلو ورنہ وحی غیر متلو ہوتی تھی۔ اول کو قرآن دوسرے کو سنت کہتے ہیں۔ جیسا کہ آپ ہی فرماتا ہے۔ ان ھو الاوحی یوحٰی، امام احمد نے روایت کی ہے کہ آپ فرماتے ہیں میں جو کچھ کہتا ہوں حق کہتا ہوں۔ اس کے بعد اس ناموس اکبر کا حال بیان فرماتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کے پاس وحی لاتا ہے۔ فقال علمہ شدید القوٰی ذومرہ کہ اس کو یعنی محمد ﷺ کو اس نے تعلیم کیا ہے جو بڑا طاقت ور اور نہایت قوی ہے۔ یعنی جبرئیل امین جیسا کہ ایک جگہ آیا ہے۔ انہ لقول رسول کریم ذی قوۃ عند ذی العرش مکین مطاع ثم امین جبرئیل کی قوت وہ قوت مؤثرہ ہے کہ جہاں شیطان و جن و دگر صور خیالیہ کی گنجائش نہیں۔ یہ اوصاف ان کے اس لیے بیان فرمائے تاکہ اس کو کوئی جن و شیطان یا صورت خیالی نہ سمجھے، کیونکہ ان میں یہ اوصاف نہیں ہوتے۔ پھر اس جملہ کی تشریح کرتا ہے اور جبرئیل کے وحی لانے اور دوبارہ اپنی اصلی صورت میں نظر آنے کا حال بیان فرماتا ہے۔ فاستویٰ پس جبرئیل اپنے اس کام پر کہ جس کے لیے اللہ نے اس کو مقرر کیا ہے۔ تیار و آمادہ ہوئے۔ وھو بالافق الاعلٰی اُفق بضمتین و سکون کر انہ آفاق جمع (صراح) اُفق اعلیٰ آسمان کا کنارہ جو زمین سے ملا ہوا ایک بڑا گول دائرہ سا نظر آیا کرتا ہے، جہاں سے آفتاب طلوع و غروب ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے، یعنی جبرئیل آسمان کے کنارہ پر ایک بار محمد ﷺ کو نظر آئے۔ اپنی اصلی صورت میں ثم دنٰی فتدلٰی، پھر آنحضرت ﷺ کے یہاں تک قریب ہوتے گئے کہ فکان قاب قوسین 1 ؎ او ادنیٰ قاب اور قیب اور قاد اور قید قیس کے معنی مقدار کے ہیں۔ زمخشری کہتے ہیں۔ کمان اور نیزہ اور کوڑے اور گز اور ہاتھ کے ساتھ عرب میں اندازہ بیان کیا جاتا ہے کہ وہ کمان کے فاصلہ پر یا تیر کے یا ہاتھ کے فاصلہ پر ہے۔ قاب کمان کی موٹھ کو بھی کہتے ہیں۔ یہ معنی ہوئے کہ وہ دونوں اس قدر قریب ہوگئے کہ جس طرح دو کمانوں کو ملادینے سے ان کی موٹھ باہم مل جاتی ہے۔ کچھ فاصلہ نہیں رہتا۔ یہ قرب جسمانی کی طرف اشارہ ہے۔ او ادنٰی بلکہ اس سے بھی قریب ہوگئے، یعنی حضرت ﷺ کے قلب تک پہنچے۔ یہ روحانی قرب ہے۔ فاوحٰی الی عبدہ ما اوحٰی تب اللہ کے بندہ محمد ﷺ کی طرف جو چاہا وحی کیا۔ یہ ہے پیغمبر کی وحی بواسطہ ٔ جبرئیل، ماکذب الفؤاد ماراٰی محمد ﷺ کے دل نے جھوٹا نہیں سمجھا، جس کو دیکھا یعنی دل نے یقین کرلیا۔ افتمارونہ علٰی مایرٰی کیا تم اے کفار محمد ﷺ سے اس کی دیکھی ہوئی اور یقینی چیز پر جھگڑتے ہو ؟ یہ ایک بار ہی دیکھنا نہیں ہوا، بلکہ ولقد راہ نزلۃ اخرٰی عند سدرۃ المنتہٰی کہ محمد ﷺ نے جبرئیل کو شب معراج میں اس کی اصلی صورت پر سدرہ منتہٰی کے پاس بھی دوسری بار دیکھا ہے۔ سدرہ ایک درخت ہے۔ ساتویں آسمانوں کے اوپر اور منتہٰی جہاں تک بلندی کی انتہا ہے، کیونکہ اس کے اوپر عرش رحمان ہے اور سدرہ کو ڈھانک رکھا تھا۔ اس چیز 2 ؎ نے کہ ڈھانک رکھا تھا اور وہاں جنت الماویٰ ہے۔ ماز اغ البصر و ماطغٰی، حضرت کی آنکھ نے خطا نہیں کی کہ دراصل کچھ اور تھا اور نظر آیا کچھ اور بلکہ اصلی اور حقیقی حالت پر دیکھا۔ لقدر ای من آیات ربہ الکبرٰی اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں۔
یہ تفسیر ہے جمہور علمائِ محدثین کے طور پر اور اسی کے اکثر اہل سنت والجماعت قائل ہیں اور یہی مذہب ہے ام المومنین حضرت عائشہ و ابن مسعود ابی ذر وابی ہریرہ کا ؓ اجمعین۔
ا ؎ او بمعنی اولووقیل بمعنی بل۔ 12 منہ
2 ؎ انوار و تجلیات نے۔ 12 منہ
1 ؎ برخلاد توحید و نبوت کے کیونکہ توحید پر بیشمار دلائل عقلیہ موجود ہیں اور نبوت کے لیے معجزات اور نبی کا باطنی اثر بھی ثابت کرتا ہے۔ 12 منہ
2 ؎ آپ نے صبح کو مشرق کی طرف دیکھا ہوگا کہ ستاروں کا ایک گچھا سا معلوم ہوا کرتا ہے اسی کا نام ثریا ہے وہ ایسا ہوتا ہے جیسا انگور کا خوشہ۔ 12 منہ
Ayahs 53:19–25تفسیر : لیکن صحابہ کی ایک جماعت کہ جن میں عبداللہ بن عباس ؓ ہیں اور اخیر عبداللہ بن عمر ؓ نے بھی اسی طرف رجوع کیا اور سلف و خلف میں سے اہل علم کی ایک جماعت ان کے تابع ہوئی ہے، خصوصاً صوفیہ کرام اس طرف ہیں۔ وہ یہ کہ فاستوی سے لے کر اخیر تک محمد ﷺ اور اللہ تعالیٰ کا باہم قریب ہونا اور دیکھنا مراد ہے اس تقدیر پر آیات کے یہ معنی ہوں گے۔ پس محمد ﷺ اپنی قوت یا رسالت میں حدِّ کمال کو پہنچے، یعنی ملکیت اور روحانیت کا ان پر غلبہ ہوا۔ یہ ہیں فاستوٰی کے معنی حالانکہ آپ اس وقت بشریت کے افق اعلیٰ پر تھے۔ بشریت کے دائرہ سے نکلنے کو تھے کہ روحانیت محضہ میں داخل ہوجائیں، پھر آپ اللہ تعالیٰ سے یہاں تک قریب ہوگئے کہ دونوں میں صرف دو قوسوں کا ہی فرق رہ گیا تھا، یعنی آپ میں قوس حدوث و امکان اور اللہ تعالیٰ میں قوس و جوب و قدم اتصال حقیقی اور اتحاد ذاتی سے مانع تھی، جب یہ تقرب ہوگیا تو اللہ نے اپنے بندے کو جو چاہا بتادیا۔ یہ ہے وحی کی حقیقت یعنی بندے میں اور خدا میں ایسا تقرب ہوتا ہے جس کی کیفیت بیان نہیں ہوسکتی۔ اس وقت اللہ ہمکلام ہو کر اپنے بندے کو جو چاہتا ہے بتا دیتا ہے۔ علمہ شدید القوٰی سے اگر جبرئیل مراد لیے جائیں تو وہ وحی کی دوسری قسم تھی اور یہ وحی کی اول قسم ہے، پھر اے لوگو ! تم محمد ﷺ سے اس کی دیکھی ہوئی اس بات میں جھگڑتے ہو کہ جو اس کی آنکھ نے دیکھی جو نور الٰہی سے شرمگین تھی اور جو دل کا حکم رکھتی تھی۔
پھر ولقد راہ نزلۃ اخرٰی سے شب معراج میں آسمانوں پر اللہ تعالیٰ کے دیدار سے مشرف ہونا بیان فرماتا ہے کہ محمد ﷺ نے اللہ کو باردیگر سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا۔ سدرہ جو جنت الماویٰ میں ہے وہ کوئی دنیا کا درخت نہیں، بیری وغیرہ کا وہ صوفیہ کرام کے نزدیک عبارت ہے روح اعظم سے کہ جس کے اوپر کوئی تعین اور مرتبہ نہیں اور اس کے اوپر بجز ہویت محضہ کے اور کچھ نہیں اور اس لیے اس کے پاس رویت واقع ہوئی، کیونکہ یہاں فنائِ محض سے بقاء کی طرف رجوع ہوا اور جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے وادی مبارکہ میں ایک درخت پر تجلی ہوئی تھی، اسی طرح آنحضرت ﷺ کو جنت الماویٰ میں جو وادی مبارکہ سے بدرجہا بڑھ کر ہے اس درخت کی صورت میں تجلی ہوئی جو تمام ارواح کی جڑ ہے۔ آپ نے وجود حقانی میں متحقق ہو کر چشم حقیقت میں سے جس کے آگے کوئی چیز حاجب نہیں، خدا تعالیٰ کو عیاناً دیکھا۔ مازاغ البصر و ماطغٰی کے یہ معنی ہیں۔ مسلم و ترمذی وغیرہ نے روایت کی کہ محمد ﷺ نے اللہ کو دو بار دیکھا۔ احمد وغیرہ محدثین نے بسند صحیح اس بات کو ثابت کیا ہے اور اس کے خلاف میں بھی احادیث وارد ہیں۔
اثبات نبوت کے بعد توحید کے مسئلہ میں کلام کرتا ہے اور مشرکین عرب کی بت پرستی کی تحقیر کرتا ہے جو نبوت کا پہلا کام ہے۔ فقال افرایتم اللات والعزٰی الخ یہ تین بت عرب میں زیادہ پوجے جایا کرتے تھے۔ لات ایک شخص عرب میں حاجیوں کو ستو کھول کر پلایا کرتا تھا، اس کے مرنے کے بعد اس کی شکل پر ایک بت پوجنے لگے۔ یہ بت طائف میں تھا۔ بعض کہتے ہیں عکاظ میں، بعض کہتے ہیں نخلہ میں اور عزیٰ ایک درخت تھا جس کو غطفان کا قبیلہ پوجتا تھا۔ نبی ﷺ نے خالد بن ولید ؓ کو اس کے کاٹنے کو بھیجا تھا جو کاٹ ہی کر آئے، لوگوں میں اس کی بڑی ہیبت تھی اور منات ایک پتھر تھا۔ مکہ و مدینہ کے درمیان۔ فرماتا ہے بتاؤ یہ کیا چیز ہے ؟ اس کے سوا فرشتوں کو بھی خدا تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دے کر پوجتے تھے، ان کی نسبت فرماتا ہے تم کو خدا بیٹے دے اور آپ بیٹیاں لے، یہ کیا بھونڈی تقسیم ہے۔ پھر فرماتا ہے کچھ ان کی اصل نہیں تم نے نام گھڑ لیے ہیں۔ محض توہمات ہیں اور ان سے امید شفاعت رکھنا خام خیالی ہے۔ دنیا و آخرت اللہ ہی کے لیے ہے، کوئی وہاں اس کو سوا کام نہیں آتا۔
Ayahs 53:26–32ترکیب : کم خبریۃ فی محل الرفع ولا تغنی الخبر لیجزی اللام متعلقۃ بما دل علیہ الکلام کانہ قال ھو مالک ذلک یضل من یشا ویھدی من یشا لیجزی وقیلھی لام العاقبۃ لا التعلیل ای عاقبۃ الخلق الذین فیھم المحسن والمسیئ ان یجزی اللہ الذین فی موضع نصب نعت الذین احسنوا وفی موضع نصب علی تقدیرھم۔ الا اللمم قیل استثناء متصل لان اللمم من الکبائر والفواحش وقیل منقطع لان اللمم دونھا۔
تفسیر : لات و عزی منات بتوں کی تحقیر کے بعد یہ بتایا تھا کہ ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں 1؎ سمجھنا اور ان کی شفاعت کو کافی سمجھنا بھی غلط خیال ہے اب اس کی وجہ بیان فرماتا ہے۔ فقال :
بروز قیامت فرشتوں کی سفارش بھی کام نہ آئے گی
وکم من ملک فی السموات الخ۔ کہ آسمانوں میں جو ملائکہ ہیں حالانکہ وہ ان ملائکہ سے جو زمین کے کاروبار پر متعین ہیں بدرجہا بڑھ کر ہیں ان کی شفاعت بھی کسی کے کچھ کام نہیں آتی خدا تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے ہاں جس کے لیے خدا ان کو دعا کرنے کی اجازت دیتا ہے (اور وہ کس کے لیے اس کے لیے جس سے اللہ راضی ہوتا ہے اور موحد و نیک ہی سے راضی بھی ہوتا ہے) تو وہ دعا کرتے ہیں۔ یہی ان کی شفاعت ہے پھر اے مشرکین تم کس امید پر ان کی عبادت کرتے ہو 2؎
ایک باطل عقیدہ کا رد کہ ملائکہ عورتیں :۔۔ اب اس بات کو بھی رد کرتا ہے کہ ملائکہ عورتیں۔ فقال :۔ ان الذین لا یومنون الخ۔ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے کسی نبی یا رسول کے کہنے پر نہیں چلتے وہی لوگ اپنے توہمات فاسدہ سے ان کے زنانے نام دھرتے اور ان کو خدا تعالیٰ کی بیٹیاں کہتے ہیں محض جہالت و وہم سے اور وہم حق بات کے مقابلہ میں کچھ کام نہیں آتا 3؎ اس کے بعد نبی ﷺ کو ان کور باطنوں کی ہٹ دھرمی کرنے پر تسلی دیتا ہے فقال : فاعرض عن من تولی الخ۔ کہ جو نہ مانے اور ہماری یاد سے پھرے اور اس کو بجز زندگی دنیا کے اور کچھ مقصود نہ ہو اور اس کے فہم کی رسائی اس عالم فانی کے تجملات چند روزہ تک ہو آپ بھی اس سے علیحدہ ہوجائیے۔ کیوں کہ ایسے ازلی گمراہوں کو آپ کی نصیحت سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ خدا کو خوب معلوم ہو جو اس کے راستے سے بہکے ہوئے ہیں، اور وہ جو ہدایت پر ہیں۔ پھر فرماتا ہے :۔ وللہ ما فی السموات وما فی الارض : کہ اس کو کسی کی ہدایت و گمراہی سے نہ نفع پہنچ سکتا ہے، نہ نقصان، وہ بےپروا ہے آسمانوں اور زمین پر اس کی بادشاہت ہے اور سب اس کی ملک و قبضہ میں ہیں۔ ہاں تمہارے ہی نفع کے لیے اس نے دنیا میں قانون آسمانی یعنی شریعت نازل کردی۔ لیجزی الذین الخ تاکہ جو اس کے اوپر نہ چلیں اور نیک بختی نہ اختیار کریں ان کو دنیا و آخرت میں ان کی بدی کا بدلہ دے اور جو نیکی کریں ان کو نیک بدلہ دیں۔ پھر نیکیوں کی شرح کرتا ہے فقال : الذین یجتنبون کبائر الاثم والفواحش کہ نیک وہ ہیں جو کبائر الاثم والفواحش سے بچتے ہیں۔ کبائر کبیرہ کی جمع ہے جس کے معنی ہیں بڑا گناہ۔ اس کی تفصیل میں مختلف احادیث و مختلف علماء کے اقوال ہیں۔ شرک کرنا، قتل ناحق، چوری، زنا، ماں باپ کی نافرمانی، جادو کرنا، جہاد میں سے بھاگ آنا، کسی کو زنا کی تہمت لگانا، غیبت کرنا، فحش کرنا، فرائض و واجبات ترک کرنا وغیرہ وغیرہ۔ فواحش فاحشہ کی جمع ہے انہیں کبائر میں خاص وہ گناہ جو فحش سے متعلق ہیں جیسا کہ زنا، لواطت، عام ہے کہ انسان سے ہو یا چوپایوں سے یہ فعل شنیع کیا جائے یا ایک عورت دوسری سے سحق (ہم جنس پرستی) کرے سب فواحش میں داخل ہیں۔
بظاہر ایک گناہ سے بچنے پر محسن ہونا ثابت ہوتا تھا، جو ایک بہت بڑی بھاری بات تھی اس لیے کہ بشریت کے جامہ میں رہ کر ذرا ذرا سے گناہ سے بچنا مشکل بات ہے، اس لیے اس رحیم وکریم نے استثنا کردیا کہ الا اللمم۔ مبرک کہتے ہیں کہ لمم کسی بد بات کا قصد کرنا اور ارتکاب نہ کرنا۔ اس سے چھوٹے گناہ مراد ہیں جیسا کہ کسی اجنبیہ پر نظر کرنا، یا ہاتھ لگانا، یا بوسہ لینا، بیہودہ بکواس کرنا، ہنسی تمسخر کرنا۔ ان گناہوں کی بھی اجازت نہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ اگر یہ گناہ احیانا سرزد ہوجائیں بشرطیکہ ان پر اصرار و مداومت نہ ہو معاف ہیں کیونکہ ان ربک واسع المغفرۃ۔ میرے رب کی مغفرت وسیع ہے۔ کسی گناہگار کو بھی اس سے ناامید نہیں ہونا چاہیے توبہ و استغفار پر وہ سب کو معاف کردیتا ہے۔
اے بنی آدم وہ تمہاری سرشت سے بخوبی واقف ہے۔ یہ ہیں اس آیت کے معنی ھو اعلم بکم اذ انشاکم من الارض قوت بہیمیہ تم میں خمیر کی گئی ہے اور اس کے بعد ماں کے پیٹ میں پڑ کر اور بھی بشریت کے خصائص تم سے چسپاں ہوگئے ہیں۔
و اذ انتم اجنۃ فی بطون امھتکم کے یہ معنی تھے اجنہ جنین کی جمع۔ جو ماں کے پیٹ میں بچہ ہوتا ہے اس کو جنین کہتے ہیں۔ جب یہ تو فلا تزکوا انفسکم اپنی پاکیزگی نہ جتلاؤ۔ تقوی کرنے والے اس کو خوب معلوم ہیں، وہ جو خصائص بشریہ ان کی ملکیت میں دب گئے ہیں اور وہ روحانیت ان پر غالب آگئی ہے اس معنی میں جناب سید المرسلین محمد ﷺ نے کیا خوب فرمایا ہے :۔
ای عبد لک لا اثما کہ تیرا کون سا بندہ ہے کہ جس نے چھوٹا گناہ بھی نہیں کیا ؟ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے بھی ایسا ہی فرمایا ہے۔
مسیح نے کہا : تو کیوں مجھے نیک کہتا ہے، نیک تو کوئی نہیں مگر ایک یعنی خدا۔ انجیل متی 19 باب 17 ورس
1؎ : قال الرازی (رح) تعالیٰ التاء فی الملائکۃ لتاکید معنی الجمع لا للتانیث کما فھم المشرکون کما فی صیاقلۃ لان فی المشھورھی جمع ملک والملک اختصار من الملائک بحذف الھمزۃ فھی مفاعلۃ والاصل مفاعل ورد ای ملائکۃ فی الجمع فی تشبہ فعائل وفعائلۃ
2؎ کفار مکہ آخرت کے تو قائل ہی نہ تھے پھر ملائکہ یا اصنام کی شفاعت کی امید دنیاوی کارخانوں میں رکھتے تھے اور جانتے تھے کہ قضا و قدر کے کارخانے میں ان کو بھی دخل ہے۔ یہ سفارش کر کے بیٹا دلوا سکتے ہیں۔ تندرستی و فتح ظفر اور ہر قسم کی مرد حاصل کرا سکتے ہیں۔ ہندوستان کے بت پرستوں کا بھی اپنے بتوں سے یہی اعتقاد۔ مہا دیو، ہنومان اور دیگر بتوں کو اسی امید پر پوجا کرتے ہیں۔ بنی آدم میں یہ تو ہم باطل ایک عرصہ دراز سے چلا آتا ہے اور یہی سبب ہے۔ شرک و بت پرستی کے مروج ہونے کا اس کے مٹانے کے لیے انبیا (علیہم السلام) لگاتار دنیا میں آئے اور خاتم المرسلین اولیاء کرام وعلماء عظام کو اس کام پر اپنا کارکن بنا کر چھوڑ گئے ہیں۔
3؎ علماء فرماتے ہیں ظن کو جو ناکار آمد بتلاتا ہے اس سے یہ بات سمجھنی چاہیے کہ اعتقادات میں ظن کام نہیں دیتا۔ ہاں اعمال میں جہاں ظن وتخمین سے بھی کام چل سکتا ہے جیسا کہ خبر احاد، قیاس ائمہ دین بیشک وہاں ظن معتبر ہے۔ جمہور مفسرین اس کے قائل ہیں۔ بلکہ جن کو قیاس ائمہ مجتہدین کا منکر سمجھا جاتا ہے وہ بھی یہی کہہ گئے ہیں۔ دیکھو نواب صدیق خاں صاحب مرحوم اپنی تفسیر فتح البیان میں جو قاضی شوکانی کی تفسیر کا خلاصہ سمجھنا چاہیے اس آیت کی تفسیر میں یہ تحریر فرماتے ہیں۔ قولہ ولا بد من ھذا التخصیص فان دلالۃ العموم والقیاس وخبر الواحد ونحو ذلک ظنیۃ فالعمل بالظن وقد وجب علینا العمل فی ھذا الامور النھی (کہ یہ تخصیص ضوری ہے کس لیے کہ دلالت عموم و قیاس و خبر واحد وغیرہ کی ظنی ہے اور ان پر عمل کرنا ظن پر عمل کرنا ہے، حالانکہ باتوں میں ہم پر عمل کرنا واجب ہے، من جملہ ان باتوں کے ایک قیاس کو بھی گنوایا ہے اس پر عمل کرنا تقلید ہے اس کو بھی نواب صاحب مرحوم واجب کہتے ہیں۔ )