Ayahs 54:36–45ترکیب : النذر جمع نذیر ومصدر بمعنی الانذار۔ اخذ منصوب علی المصدریۃ اکفارکم الاستفہام انکاری فی الزبر صفت البراءۃ ای براءۃ مکتوبۃ فی ال اوراق او الکتب السماویۃ المنزلۃ علی الانبیاء السابقین۔ الدبرو المراد الادبار لارادۃ الجنس اولان کل واحد یولی دبرہ وقلب لاجل دبرہ وقیل لاجل رئوس الائی وقیل فی الافراد اشارۃ الی انھم فی التولیۃ والھزیمۃ کشخص واحد فلایقدرون علی المقابلۃ۔
تفسیر … فرعونیوں کا حال : پانچواں قصہ فرعونیوں کا ہے۔ آل فرعون سے صرف اس کا خاندان ہی مراد نہیں بلکہ اس کی ساری قوم۔ ان کے پاس خدا کی طرف سے موسیٰ (علیہ السلام) کی معرفت خوف اور دہشت دلانے والی باتیں پہنچیں مگر وہ بدبخت ازلی جو جاہ و حشم کے نشے میں بدمست ہو رہے تھے کب ڈرنے والے تھے اور اپنی بدکاریوں سے باز آنے والے تھے ؟ خدا تعالیٰ کی کسی نشانی کو بھی نہیں مانا۔ خدا تعالیٰ کی نو نشانیاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا ہوئی تھیں جو انہوں نے فرعونیوں کو وقتاً فوقتاً دکھائیں۔ یدِبیضا ‘ عصاء وغیرہ اس کے سوا اور بھی صدہا خداوند تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے حالات کا تغیر ‘ عالم کا تبدل اور ارضی و سماوی حوادث اور اس کے عجائبات پہاڑوں اور دریائوں اور زمین و آسمان کے بےانتہا قدرت کے کارخانے خداوند تعالیٰ کی نشانیاں ہیں ان میں غوروفکر کرنے والے کو ہدایت کے صدہا نمونے ہیں پھر جو کسی میں بھی غور نہیں کرتا تو پھر وہ ان سب کو جھوٹا جان رہا ہے پھر اس پر ہدایت کے دروازے بند نہ ہوں تو اور کیا ہو ؟
جب فرعونیوں کی یہ حالت ہوئی تو ان کو ہم نے خوب پکڑ کر قابو کیا۔ ان پر ہر طرح کی بلائیں آئیں۔ فرعون اور اس کا لشکر بحر قلزم میں غرق ہوا۔ یہ قصے سنا کر آنحضرت ﷺ کے مقابل لوگوں سے خطاب کرتا ہے کہ اکفارکم خیراے عرب ! یا اے اہل مکہ ! کیا تمہارے کافر ان پہلے کافروں سے جو ہلاک ہوئے اور جن کے تذکرے تم سے آئے بہتر ہیں کہ ان کو وہ ہلاکی و بربادی پیش نہ آئے گی ؟ اگر بہتر نہیں تو دوسری صورت بچنے کی یہ ہے کہ تمہارے لیے پہلی کتابوں میں کوئی برأت لکھ دی گئی ہو ؟ کیا تم کو کوئی پروانہ مل گیا ہے کہ تم پر عذاب نہ آئے گا ؟ تیسری بات دنیا میں عذاب سے مامون ہونے کی اپنی ذاتی قوت ہے اپنی جماعت کے زوروشوکت سے خدا تعالیٰ کے قہروجبروت کو مقابلہ کر کے ٹلا سکتے ہو سو یہ بھی نہیں۔ کیونکہ سیہزم الجمع ویولون الدبر۔ یہ پسپا ہوجائیں گے اور مسلمانوں سے پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔ بخاری و نسائی نے روایت کی ہے کہ جنگ بدر کے دن نبی ﷺ زرہ پہن کر مقابلے میں نکلے اور یہ آیت پڑھتے تھے۔ ابن ابی حاتم نے نقل کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو عمر ؓ کہتے تھے کہ کون سی جماعت غالب ہوگی کون سی مغلوب ؟ پھر جب بدر کے روز آپ یہ آیت پڑھتے ہوئے برآمد ہوئے تو اس کا مطلب معلوم ہوا۔
1 ؎ قرآن مجید میں آندھی اور پتھر برسانا آیا ہے اور تورات میں گندھک اور آگ گندھک کے دہکتے ہوئے ڈھیلے سخت ہوا میں گرنا قرار دیا جاوے تو تو کوئی مخالفت باقی نہیں رہتی جو اعجاز اور خدا تعالیٰ کی بےانتہا قدرتوں کے قائل ہیں ان کے نزدیک یہ سب کچھ ممکن ہے اب بھی آسمان سے مختلف چیزیں لوگوں پر برسی ہیں اور جو فلسفہ کی تاریکیوں میں مبتلا ہیں کہتے ہیں کہ آسمان سے بسا اوقات ابخرات دادخنہ مختلف صورتیں حاصل کرکے زمین پر گرا کرتے ہیں ہم کہتے ہیں مختلف صورتیں بنا کر حسب وقت کسی خاص قوم پر ان کی بربادی کے لیے گرانا طبیعت اجسام کا کام نہیں بلکہ فاعل مختار اور واحد قہار کا۔ 12 منہ
Ayahs 54:46–55ترکیب : ادھیٰ اسم تقضیل من الداھیۃ وھی الامر المنکرا انقطیع الشدید وامراشدمرارۃ من عذاب الدنیا کل شیئٍ والجمہور علی نصب کل بالاشتغال ای عاملہ فعل یفسرہ مابعدہ وقریٔ بالرفع علی الابتداء کلمح اللمح النظر علی السرعۃ وفی الصحاح لمحہ و لحمہ اذلابصرہ ببنظر خففا والاسم اللمحۃ۔ کل شیء مبتداء فی الزبر خبرہ مقعد صدق من اضافۃ الموصوف الی الصفۃ ای فی مجلس حق و مکان مرضی وھو الجنۃ اوموضع لہ فرنیۃ علی سائرالاماکن فی مقعد صدق بدل من قولہ فی جنت و قولہ عند ملیک بدل منہ و یحتمل ان یکون صفۃ مقعد صدق۔
تفسیر : کفار کے حق میں پہلے بطور پیشین گوئی کے فرمایا تھا کہ ان کی جماعت ہزیمت کھا کر بھاگے گی۔ (ایسا ہی ہوا بھی) ۔ اب یہاں یہ بتلاتا ہے کہ اس بھاگنے پر ہی ان کی سزاء و سرزنش موقوف نہیں۔ بل الساعۃ موعدھم بلکہ ان کے عذاب کامل کا وقت ساعت یعنی قیامت ہے وہ سخت مصیبت کی گھڑی اور بڑی تلخ ہے وہاں کی مصیبت دنیا کی مصیبت سے بہت ہی سخت ہے یعنی ان کو دنیا میں بھی سزا ملے گی اور آخرت میں اس سے بھی بڑھ کر۔ اس کے بعد وہاں کے عذاب کا قانون بتاتا ہے کہ وہ کس کو ہوگا اور کیونکر ہوگا ؟ فقال ان المجرمین فی ضلال وسعر کہ مجرمین یعنی گنہگار اللہ اور رسول کے نافرمان کفار اور مشرکین (تعمیم ہے ضعیف روایتوں سے قدریہ وغیرہ کے ساتھ مخصوص کرنا تکلف ہے) دنیا میں گمراہی میں ہیں نجات کا رستہ بھولے ہوئے ہیں ان کی یہ گمراہی اور جرم آتش جہنم ہوجائے گی۔ یا یوں کہو جنت کا رستہ بھولے ہوئے ہیں اور جہنم میں ہوں گے۔ یوم یسحبون اس دن وہ اپنے تکبر کے بدلے میں منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے اور ان کو کہا جائے گا کہ آگ لگنے کا مزہ چکھو۔
قیامت کے قائم ہونے اور وہاں مجرموں کے عذاب پانے کا ذکر کیا تھا لیکن یہ بات دوامر کے ثبوت پر موقوف تھی۔ اول یہ کہ ہر چیز کا خدا خالق ہے اور ہر چیز اس نے اندازے سے پیدا کی ہے۔ فقال اناکل شیئٍ خلقناہ بقدر کہ ہر چیز کو ہم نے ایک اندازے سے پیدا کیا ہے۔ منجملہ ہر شے کے عالم دنیا بھی ہے اس کی بھی ایک حد معین ہے آخر ایک روز یہ تمام ہوگا اور یہی قیامت کا دن ہے۔
ع ہر ایک بات کی آخر کچھ انتہا بھی ہے
دوسری بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی مخلوقات پر ہر طرح سے حکمران ہے اس کے حکم کے نافذ ہونے میں کوئی بھی دیر نہیں لگتی۔ پس جب وہ قیامت قائم کرنا چاہے گا اور وہاں مجرموں کو سزا دینا چاہے گا تو فوراً کر دے گا۔ اس بات کو اس آیت میں بیان فرمایا ہے وما امرناالا واحدۃ کلمح بالبصر کہ ہمارا حکم ایک ہی کلمہ ہے وہ کن اور جب ہم ہونے کا حکم کرتے ہیں تو وہ بہت جلد ہوجاتا ہے جس طرح آنکھ جھپکنے میں دیر نہیں لگتی اسی طرح قیامت برپا ہونے میں اس کے حکم کے بعد دیر نہ ہوگی۔ اور نیز عالم خلق کو انا کل شیئٍ خلقناہ بقدر میں ذکر کیا تھا پس مناسب تھا کہ عالم امر کو بھی ذکر کرتے اس لیے وما امرنا الاواحدۃ ذکر کیا۔
فائدہ : خلقناہ بقدر صاف دلالت کر رہا ہے کہ ہر چیز کا خالق اللہ ہے نافع ہو خواہ ضار ہو اور اس نے ہر چیز کا اندازہ اور پورا پیمانہ اور حد بھی پیدا کرنے میں ملحوظ رکھی ہے۔ اذہان بنی آدم میں مختلف مضامین جانشین ہوتے آئے ہیں۔ مشرکین تمام حوادث کو ستاروں کی تاثیرات اور ان کے اتصالات سے پیدا ہونا خیال کرتے تھے اور خدا تعالیٰ کے سوا اور میں بھی قدرت ثابت کرتے تھے اس لیے ان کو بھی قدریہ کہا جاتا ہے اور بعض لوگ اپنے افعال میں اپنے آپ کو مستقل قادر سمجھتے ہیں۔ کہتے ہیں بندہ ہی خالق و مختار اپنے نیک وبد اعمال کا ہے۔ علم ازلی سے ان کو کچھ بھی تعلق نہیں۔ یہ عقیدہ آج کل کے مشنریوں اور بعض ہنود کا ہے اور مسلمانوں میں بھی ایک فریق تھا جس کو قدریہ کہتے تھے بہ ایں لحاظ کہ قضاء و قدر کے منکر ہیں انہیں کی مذمت میں احادیث صحیحہ وارد ہیں۔ اور فرقہ معتزلہ بھی انہیں کے قریب قریب ہے بلکہ شیعہ بھی ان کے مقابلے میں ایک دوسرا فریق تھا جس کو جبریہ کہتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ بندہ محض بےبس ہے جو کچھ ہم سے سرزد ہوتا ہے اس طرح سے ہوتا ہے کہ جیسا مرتعش کا ہاتھ ہلنے میں بیخود اور مجبور ہو کر حرکت کرتا ہے۔ پہلا فریق اس جبریہ فریق کو قدری کہتا تھا کہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ نے زنا پر ہم کو قادر کیا تو ہم نے زنا کیا۔ بایں معنٰی کہ یہ اثبات قدر کرتے ہیں مگر سنت والجماعت کا فریق نہ قدر کا قائل ہے نہ جبر کا۔ وہ کہتے ہیں جو کچھ ہو رہا ہے اور ہوگا یہاں تک کہ ہمارے افعال و حرکات ان کا بھی خدا تعالیٰ کو ازل میں علم تھا بندے کو اختیار ہے مگر اس اختیار میں مستقل نہیں اس کے جمیع افعال کا بھی اللہ ہی خالق ہے بندہ کا سب ہے اس کسب پر اس کو ثواب و عذاب ملتا ہے اور مدح و ذم کا مستحق ٹھہرتا ہے۔
پھر جب اپنا خالق اور عالم امر کا مالک ہونا ثابت کیا گیا تو اس کے بعد اپنی قدرت کاملہ (جزاء و سزا دینے کے پیرائے میں) ثابت کرتا ہے فقال ولقد اھلکنا اشیا عکم فہل من مد کر کہ ہم نے اپنی قدرت و جبروت سے اے کفار قریش ! تم جیسے بہت لوگ غارت کردیے پھر کوئی سمجھنے والا ہے۔ یعنی پھر تم کو کیا امن ہے اور کون سی بات حاصل ہے جو ہلاکی سے مانع آئے گی ؟
اس کے بعد اپنا بےانتہا علم ثابت کرتا ہے جو عدالت و جزاء و سزاء اعمال کے لیے اور وہ بھی دوسرے عالم میں پر ضرور ہے۔ فقال وکل شیئٍ فعلوہ فی الزبر کہ جو کچھ انہوں نے کیا ہے وہ سب دفتر اعمال میں موجود ہے اور ہر بات لکھی ہوئی ہے۔ اس لکھنے اور دفتر اعمال کی کتہ ہم کئی بار بیان کر آئے ہیں کہ وہ لکھنا اس دوات قلم سے نہیں نہ وہ دفتر دنیا کے کاغذوں پر ہے۔
پہلے مجرموں کی کیفیت سزا بیان کی تھی اب فرماں برداروں کا انجام نیک بیان فرماتا ہے۔ فقال ان المتقین فی جنات و نہر کہ پرہیز گار جو زیور ایمان و اعمال صالحہ سے مزین ہیں مرنے کے بعد باغوں اور نہروں میں ہوں گے۔ یہ جنت جسمانی ہے فی مقعد صدق عندملیک مقتدر عمدہ موقع میں خدا تعالیٰ کے پاس رہیں گے۔ یہ جنت روحانی ہے جو متقین میں سے خاص ابرارواحرار کا حصہ ہے۔ مرنے کے بعد ان کی روح حظیرۃ القدس کی طرف عالم بالا میں محبوب اصلی کے پاس جا کر آرام پاتی ہے۔ تخت رب العالمین کے دہنی طرف بیٹھنے سے یہی مراد ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم کو بھی اس بارگاہ قدس میں کاش اپنے ابرار کی صف ِ فعال ہی میں جگہ دے۔ وماذٰلک علی اللہ بعزیز۔