55. Surah Ar-Rahmaan

الرحمنThe Beneficent · 78 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 55:1–8

اَلرَّحْمٰنُۙ Open ayah 55:1 in the Quran reader

رحمان ہی نے

عَلَّمَ الْقُرْاٰنَؕ Open ayah 55:2 in the Quran reader

قرآن سکھایا

خَلَقَ الْاِنْسَانَۙ Open ayah 55:3 in the Quran reader

(اور) اس نے انسان کو پیدا کر کے

عَلَّمَهُ الْبَیَانَ Open ayah 55:4 in the Quran reader

بولنا سکھایا (قوت ناطقہ عطا کیا)

اَلشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ۪ Open ayah 55:5 in the Quran reader

سورج اور چاند حساب پر لگے ہوئے ہیں۔

وَّ النَّجْمُ وَ الشَّجَرُ یَسْجُدٰنِ Open ayah 55:6 in the Quran reader

بوٹیاں اور درخت (اسی کے حکم سے) سربسجود ہیں

وَ السَّمَآءَ رَفَعَهَا وَ وَضَعَ الْمِیْزَانَۙ Open ayah 55:7 in the Quran reader

اور اسی نے آسمان کو بلند کیا اور ترازو قائم کی

اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِ Open ayah 55:8 in the Quran reader

تاکہ تم اندازے سے نہ بڑھو۔

ترکیب : الرحمٰن ذھب قوم الی انھا ایۃ فالمبتداء محذوف تقدیرہ اللہ الرحمن۔ وعلیٰ قول الاخرین الرحمن مبتداء ومابعدہ الخبر۔ خلق الانسان مستانف وکذا علمہ و یمکن ان یکون حالامن الانسان وقدمحذوف۔ بحسبان قال الاخفش الحسبان جماعۃ الحساب مثل شھب وشھبان۔ وقیل مصدر مفرد بمعنی الحساب کا لغفران والکفران۔ والجار یتلق بیجریان محذوف۔ والسماء منصوب بفعل محذوف یفسرہ المذکور الاتطغوا لئلاتطغوا فلا نافیہ وتطغوامنصوب بان وقبلھا الام العلۃ مقدرۃ وقیل ان مفسرۃ لان فی الوضع معنی القول۔ تفسیر : جمہور کے نزدیک یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی ہے جیسا کہ حسن و عروہ و عکرمہ و جابر و ابن عباس ؓ کا قول ہے اور ابن مسعود و مقاتل ؓ کہتے ہیں مدینہ میں نازل ہوئی ہے۔ اول قول اصح ہے کیونکہ امام احمد و ابن مردویہ نے اسماء بنت ابی بکر صدیق ؓ عنھما سے نقل کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز میں رکن 1 ؎ کی طرف منہ کئے ہوئے اس سورة کو پڑھتے سنا اور مشرکین بھی فبای آلاء ربکما تکذبان سن رہے تھے۔ یہ اس سے پہلے کا ماجرا ہے کہ حضرت ﷺ کو صاف صاف سنا دینے کا حکم ہوا تھا انتہٰی۔ اس سورة میں بھی انہیں تینوں اہم مسائل کا بڑے لطف و خوبی کے ساتھ اثبات ہے اور کن کن معانی خیز اور دل پر اثر کرنے والے پیارے پیارے الفاظ اور عرب کی میٹھی بول چال میں خاص انہیں کے مذاق کے موافق مکرر جملے لا کر ان کو دل نشین فرمایا ہے۔ شعرائے عرب بلکہ عجم چند اشعار مختلف المضامین کے بعد ایک بندبطور مسدس یا مخمس کے ایک اشتراک خاص ملحوظ رکھ کر مکرر لایا کرتے ہیں جس سے اس مضمون کی خوبی دوبالا ہوجاتی ہے اور طبیعت سامع جو کسی قدر غافل ہوجاتی ہے اس پر ایک کوڑا سا تنبیہ کرنے کے لیے پڑجایا کرتا ہے۔ اس سورت میں وہ بند 1 ؎ فبای آلاء ربکما تکذبان ہے جو ہر ایک جاں بخش مضمون کے بعد مکرر آ کر مطالب میں جان ڈال دیتا ہے۔ اس بات کا لطف انہیں کو زیادہ آتا ہے جو کچھ مذاق سخن بھی رکھتے ہیں۔ عبارت کا دلکش ہونا بھی اثر کلام میں بڑی تاکید کرتا ہے۔ پہلا مسئلہ جو منجملہ اصول کے ایک بڑی اصل ہے اثبات نبوت و قرآن کا منجانب اللہ ہونا اس لیے اس سورة میں سب سے اول کو اس لطف کے ساتھ بیان فرماتا ہے۔ فقال الرحمن علم القرآن کہ رحمان نے قرآن محمد ﷺ کو سکھایا ہے نہ اس نے اپنے جی سے بنا لیا ہے نہ کسی جن و خبیث کا شیطانی کلام ہے۔ الرحمن میں اس طرف اشارہ ہے کہ قرآن مجید کی تعلیم و نزول اس کی رحمت خاصہ کا مقتضٰی ہے کیونکہ اس وقت مشرق و مغرب تک دنیا تاریک و خراب ہو رہی تھی دنیا گمراہیوں کے دریائے بےکنار میں غوطے کھا رہی تھی اس کی رحمت کب اس ورطہ ہلاکت میں چھوڑتی اس لیے آپ نے قرآن تعلیم کیا جو ان ڈوبتوں کے لیے نجات کی کشتی اور ان اندھیروں کی قعر میں مبتلائوں کے واسطے آفتاب ہدایت ہے۔ اور الرحمن کے مقدم کرنے نے اس بات کو اور بھی واضح کردیا۔ یہ بات بھی ثابت کردی کہ آنحضرت ﷺ جو بظاہر امی تھے یعنی کسی کے شاگرد نہ تھے وہ خاص تلمیذ رحمان تھے۔ خلق الانسان علمہ البیان اس میں اپنی رحمت خاص کا اظہار کرتا ہے کہ انسان کو اس نے اپنی رحمت سے پیدا کیا اور پیدا کر کے دیگر حیوانات کی طرح گونگا نہ چھوڑا بلکہ اپنی مہربانی سے اس کو بولنا سکھایا۔ پھر جس نے انسان کو بولنا سکھایا وہ رحمان بندوں کے درست کرنے کے واسطے محمد ﷺ کو قرآن کیوں نہ سکھاتا ؟ اور تعلیم بیان ہی پر اس کی رحمت کا ظہور منحصر نہیں بلکہ اس نے انسان کے فائدے کے لیے الشمس والقمر بحسبان چاند اور سورج کو حساب میں لگا رکھا ہے یعنی وہ اس معین اور اندازے کی چال سے چلتے ہیں کہ جن سے سال اور مہینوں کا حساب درست ہوتا ہے۔ یوں ہی بےتک حرکت نہیں کرتے ہیں۔ وہ اس کے حکم جبروت کے مسخر ہیں اور یہ گردش ان کی اس معبود حقیقی کا طواف اور قربان ہونا بھی ہے۔ دیکھو یہ انسان کے حق میں بھی اس کی کیسی رحمت ہے اور عالم میں اس کا کیسا حکومت و انتظام جلوہ گر ہے۔ اور انہیں پر کیا موقوف ہے والنجم والشجر یسجدان زمین کی بیلیں اور درخت بھی اس کے آگے جھکتے ہیں۔ نجم اس پیڑ کو کہتے ہیں کہ جو اپنی ساق پر کھڑا نہ ہو بلکہ زمین یا کسی چیز پر پھیلا ہوا ہو اور شجر اس کے برخلاف جو اپنی ساق پر کھڑے رہتے ہیں۔ ان کے سجدہ کرنے سے مراد ان کا انقیاد فطری ہے۔ حسن و مجاہد کہتے ہیں نجم سے مراد آیت میں آسمان کے ستارے ہیں ان کا سجود بھی وہی انقیاد فطری اور طلوع و غروب ہے۔ والسماء و رفعہا اور آسمان کو بلند کیا۔ یہ بھی منجملہ انتظام عالم کے ایک بات ہے۔ ان سب باتوں میں علویات سے لے کر عالم سفلی تک اس کی رحمت کا ظہور و جبروت کا اعلان تھا اور یہ بات چاہتی ہے کہ ایسا قادر رحیم و کریم اپنے اشرف المخلوقات انسان کو ایسی بری حالت میں کیونکر چھوڑتا اور اس کے پاس نبی و کتاب نہ بھیجتا چناچہ ان سب بیانوں کے بعد آپ ہی اس نتیجہ کو اگلے جملے میں ظاہر فرماتا ہے۔ ووضع المیزان اور اس رحمان نے دنیا میں ترازو یعنی عدل قائم کیا۔ مجاہد و قتادہ و سدی کہتے ہیں میزان سے مراد عدل و انصاف زمین پر قائم کرنا ہے جو انبیاء (علیہم السلام) کے ہاتھ سے قائم ہوا یعنی قانون انصاف قائم کیا جو بواسطہ وحی والہام انبیاء (علیہم السلام) خدا نے دنیا میں قائم کیا اور یہی وجہ نبوت قائم کرنے کی ہے الاتطغوافی المیزان تاکہ تم اس انصاف کرنے میں حد سے نہ بڑھو ہر شخص اپنے اپنے حقوق پر قائم رہے۔ دوسرے کی حق تلفی نہ کرے۔ باہمی معاملات سے لے کر عبادات و توحید تک۔ وہ قانون الٰہی قرآن مجید ہے جس میں سب معاملات و عبادات و طہارت و نجاست ‘ بیع و شراء کے قوانین ‘ ماں باپ کے حقوق ‘ تربیت اولاد کے احکام ‘ زن و شو کا دستور العمل ‘ حسن معاشرت کے طریقے ‘ عبادت و تزکیہ نفس کے رستے ‘ دار آخرت کی بقا ‘ دنیا کی فنا ‘ انسانی جذبات کے جزرومد۔ اس کے عمرگراں مایہ کا نتیجہ۔ حاکم و محکوم بادشاہ و رعیت کے ضوابط بخوبی مندرج ہیں اور اس کے علاوہ اس کے بیان میں روحانی برکت اور تحریک دلانے والا بےانتہا اثر بھی ہے۔ 1 ؎ رکن خانہ کعبہ کے ایک گوشہ کا نام ہے۔ 12 منہ 1 ؎ یہ جملہ اس سورة میں اکتیس جگہ آیا ہے آٹھ بار اس کی نعمتیں اور عالم علوی و سفلی کے عجائبات قدرت ذکر کرنے کے بعد اور سات بار بتعداد ابواب جہنم دوزخ کے شداید ذکر کرنے کے بعد کیونکہ مومنین سے ان بلائوں کا دفع کرنا بھی بڑی نعمت ہے اور آٹھ بار دو جنت اور ان کے نعماء اور ان کے رہنے والوں کے حسن و جمال ذکر کرنے کے بعد بعدد ابواب جنت کہ وہ بھی آٹھ ہیں اور آٹھ بار ان کے سوا اور دو جنتوں کی کیفیات بیان کرنے کے بعد جس میں اشارہ ہے کہ جو کوئی ایمان لائے گا، نیک کام کرے گا وہ دوزخ کے ساتوں دروازوں سے امن میں رہے گا اور دونوں جنتوں کے نعماء حاصل کرے گا اور اس جملہ کے بعد سن کر یہ کہنا چاہیے لابشیء من نعمک ربنا لانکذب فلک الحمد۔ 12 منہ
Ayahs 55:9–18

وَ اَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ Open ayah 55:9 in the Quran reader

اور انصاف سے تولو اور تول نہ گھٹائو

وَ الْاَرْضَ وَ ضَعَهَا لِلْاَنَامِۙ Open ayah 55:10 in the Quran reader

اور اسی نے زمین کو لوگوں کے (فائدہ کے) لیے بچھایا

فِیْهَا فَاكِهَةٌ١۪ۙ وَّ النَّخْلُ ذَاتُ الْاَكْمَامِۖ Open ayah 55:11 in the Quran reader

اس میں میوے اور کھجور کے درخت ہیں جن کے پھل گابھوں میں لپٹے ہوئے ہیں

وَ الْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَ الرَّیْحَانُۚ Open ayah 55:12 in the Quran reader

اور (اس میں) بالوں میں لپٹے اناج اور خوشبو اور پھول (بھی ہیں)

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:13 in the Quran reader

پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِۙ Open ayah 55:14 in the Quran reader

اس نے انسان کو ایسی کھرکھری مٹی سے بنایا جیسا کہ ٹھیکرا

وَ خَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍۚ Open ayah 55:15 in the Quran reader

اور جن کو شعلہ مارنے والی آگ سے بنایا

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:16 in the Quran reader

پھر تم (اے جن و انس ! ) اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَ رَبُّ الْمَغْرِبَیْنِۚ Open ayah 55:17 in the Quran reader

وہ دو مشرق اور دو مغرب کا مالک ہے۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:18 in the Quran reader

پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

ترکیب : ولاتخسرو ابضم التاء ای ولا تنقصوا الموزدن وقیل التقدیر فی المیزان۔ ویقرء بفتح التاء والخاء والاول اصح۔ للانام یتعلق بوضعہا والحب بالرفع عطفاً علی النخل والریحان کذلک ویقرء بالنصب ای خلق الحب۔ کالفخار لغت لصلصال من نار لغت لمارج۔ رب المشرقین ای ھو وقیل ھذا مبتداء دخبرہ مرج الاکمام جمع کم بالکسرو ھو دعاء الثمر اصلہ یطلق علی ماستر شیئا ومنہ کم القمیص بالضم۔ تفسیر : پہلے بطور علت و سبب کے عدل قائم کرنا بیان فرمایا تھا۔ اب بصراحت حکم دیتا ہے واقیموالوزن بالقسط کہ دنیا میں انصاف کی ترازو سے تولو۔ یہ حکم بڑا وسیع المعنی ہے جس میں اشیاء کا انصاف سے تولنا بھی داخل ہے اور عموماً ہر بات میں حق بات کہنا اور حق پر عمل کرنا اور عبادت و معاملات میں حقوق العباد سے لے کر حقوق اللہ تک بلکہ اپنے نفس کے حقوق دنیاوی اور دینی سب میں انصاف کی ترازو ہاتھ میں رکھنے اور تولنے کا حکم ہے۔ بات چیت کرنے اور چلنے پھرنے سونے جاگنے میں۔ کیا جامع کلمہ ہے جس میں صدہا حکمت کے خزانے دبے ہوئے ہیں۔ پھر اس کی تائید کی جاتی ہے ولاتخسروا المیزان کہ اس ترازو میں گھٹاؤ نہیں یعنی بےانصافی نہ کرو۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اگر تم ایسا کرو گے تو قیامت میں تمہارے اعمال کی ترازو میں کمی ہوگی۔ پس تم اپنی اس میزان میں کمی کرنے کا سبب نہ بنو۔ سماویات کے بعد عالم سفلی کی ایجاد میں جو کچھ انتظام اور مصلحتیں اور رحمتیں ملحوظ رکھی ہیں ان کو بیان کر کے اپنا قادرورحیم ہونا ثابت کرتا ہے۔ فقال والارض وضعہا للانام کہ زمین کو انسان کے لیے کس طرح بچھایا اور ان کے آرام کرنے کے قابل بنایا کہ جس پر بلاکلفت و تکلف بستے اور چلتے پھرتے ہیں۔ نہ وہ ڈگمگاتی ہے، نہ ایسی گول ہے کہ جس پر یہ ٹھہر نہ سکیں اور نہ صرف یہی بات ہے بلکہ فیہا فاکہۃ والنخل ذات الاکمام۔ اس میں انواع و اقسام کے میوے ہیں اور کھجور بھی ہے جس کے پھلوں پر غلاف ہوتے ہیں یعنی میوے ہی پر موقوف نہیں ایسے بھی درخت زمین پر پیدا کئے ہیں جن کے پھل کھا کر انسان بغیر اناج کے بھی بسر کرسکتا ہے جیسا کہ کھجور اور وہ پھل کس حفاظت سے رہتے ہیں کہ گابھے میں لپٹے ہوئے ہوتے ہیں اور اس قسم کے درختوں کے سوائ۔ والحب ذوالعصف چارے والے اناج اور غلے بھی پیدا کئے جن کے تخم تو انسان کی خوراک ہیں اور ان کے پٹھے اور پتے جانوروں کی جیسا کہ گیہوں چاول جو وغیرہ۔ اور اس کے علاوہ الریحان خوشبو کی چیزیں اور عمدہ پھول بھی پیدا کئے۔ گلاب، موتیا، چنبیلی وغیرہ بلکہ خود ریحان بھی اسی قسم میں داخل ہے جس کے پتوں میں سے خوشبو آتی ہے۔ ان کے پتے اور پھول خوشبو دار اور آنکھوں میں اپنی مختلف رنگتوں سے نور اور سرور بھی پیدا کرتے ہیں۔ ایک پھول ہے کہ سرخ، کوئی گلابی، کوئی زرد، کوئی کا سنی، کوئی اُودا، کوئی سفید۔ پھر ایک پیڑ میں مختلف الوان کے پھول بلکہ ایک پھول میں مختلف رنگتیں پھر یہ گلکاری اس صانع مطلق نے تمہارے لیے کی ہے تم شکریہ ادا کرو۔ فبای آلاء ربکما تکذبان اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔ آلاء جمع ہے الی وء الی کی جس کے معنی ہیں نعمت و احسان کے۔ ربکما تکذبان میں تثنیہ کا صیغہ جن و انس کی طرف خطاب کے لیے آیا ہے جیسا کہ آگے آتا ہے سنفرغ لکم ایہا الثقلان اور حدیث شریف میں بھی آیا ہے کہ میں نے اس سورة کو جنوں کے سامنے پڑھا۔ بعض مفسرین کہتے ہیں خطاب انسان کی طرف ہے اور عرب خطاب میں صیغہ مفرد کو تثنیہ کر کے بول دیا کرتے ہیں۔ یہاں تک جس طرح مسئلہ نبوت کا اثبات تھا اسی طرح دوسرے مسئلہ توحید کا بھی کامل اثبات کردیا گیا اس طور پر کہ جس نے دنیا میں آفتاب و مہتاب کو ایک خاص اندازے پر چلایا، ستاروں اور درختوں کو جھکایا، زمین کو بسنے کے قابل بنایا پھر اس میں طرح طرح کے درخت اناج اور پھل پھول اگائے وہی تنہا خداوند خدا ہے نہ اس کا کوئی شریک ہے نہ سہیم۔ اس کے بعد انسان اور جن کی پیدائش کا ذکر کر کے دونوں مسئلوں کو قوت دیتا ہے۔ فقال خلق الانسان من صلصال کالفخار صلصال خشک مٹی کھنکھناتی۔ صلصلہ کے معنی ہیں آواز دینا، کھن کھن کی سوکھی مٹی میں سے آواز آتی ہے اس لیے اس کو صلصال کہتے ہیں۔ فخار ٹھیکری صلصال بالفتح گل باریک آمیختہ یعنی غریژن فاذا طبخ بالنار یقال الفخار (مراح) آدمی کی پیدائش متعدد آیات میں بیان ہوئی ہے۔ آل عمران میں من تراب اور حجر میں من حمائٍ مسنون اور صافات میں طین لازب آیا ہے اور ایک جگہ ماء مہین آیا ہے اور اس جگہ صلصال کالفخار آیا ہے۔ ان میں بظاہر اختلاف معلوم ہوتا ہے مگر دراصل کچھ اختلاف نہیں کیونکہ روایات اہل اسلام کے مطابق حضرت آدم (علیہ السلام) کا قالب خشک مٹی سے بنایا گیا جو کھنکھناتی اور ٹھیکرے کے مثال تھی پھر اس کو مہین کر کے پانی سے گوندھا وہ طین لازب گارا ہوگئی پھر جب خمیر اٹھ گیا تو حمائٍ مسنون ہوگئی اور اس کے بعد اس کی اولاد کا سلسلہ ماء مہین منی سے جاری ہوا۔ وخلق الجان من مارج من نار اور جان یعنی جنوں کے جدِّاعلیٰ کو آگ کے شعلہ سے بنایا۔ مارج آگ کا شعلہ جس میں دھواں نہ ہو جس طرح انسان عناصر سے بنا ہے جن بھی عناصر سے بنا ہے مگر جس طرح انسان کا زیادہ مادہ خاک ہے اسی طرح جن کا آتش۔ جس لیے وہ لطافت کی وجہ سے حسِّ بصر سے محسوس نہیں ہوتا اور سریع الحرکات و خفیف ہوتا ہے۔ پھر ان کے بہت سے اقسام ہیں جیسا کہ ہم مقدمہ تفسیر میں بیان کر آئے ہیں۔ وہ قرآن مجید کی تاویل کر کے وجودِ جن کے منکر کہاں ہیں جو بتقلید فلاسفہ حال جن کا انکار کرتے ہیں اور اس کو بھی انسانوں کی ایک جنگلی قوم بلحاظ لفظ جن قرار دیتے ہیں وہ یہاں کیا کریں گے یہاں تو انسان کے مقابلہ میں دوسری قوم بیان ہوئی اور ان کا مادہ بھی بیان فرما دیا۔ فبای الاء ربکما تکذبان۔ اے انسان و جن تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔ رب المشرقین و رب المغربین دو مشرق اور دو مغرب کا رب۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں جاڑے میں آفتاب اور جگہ سے اور گرمی میں اور جگہ سے طلوع کرتا ہے۔ اس ظاہر فرق کے لحاظ سے مشرقین یعنی دو مشرق کہتے ہیں۔ اسی طرح دونوں موسموں میں غروب بھی دو جگہ سے معلوم ہوتا ہے اسی لیے مغربین دو مغرب کہے جاتے ہیں ورنہ ہر روز آفتاب کا طلوع و غروب دوسری جگہ سے ہوتا ہے جس لیے رب المشارق و المغارب کہا جاتا ہے۔
Ayahs 55:19–25

مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیٰنِۙ Open ayah 55:19 in the Quran reader

اس نے دو دریا ملے جلے چلائے۔

بَیْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا یَبْغِیٰنِۚ Open ayah 55:20 in the Quran reader

ان میں پردہ (رکھ دیا) ہے جس سے بڑھنے نہیں پاتے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:21 in the Quran reader

پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

یَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَ الْمَرْجَانُۚ Open ayah 55:22 in the Quran reader

ان دونوں میں سے موتی اور مونگا نکلتا ہے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:23 in the Quran reader

پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے

وَ لَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَئٰتُ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِۚ Open ayah 55:24 in the Quran reader

اور دریا میں پہاڑوں جیسے کھڑے ہوئے جہاز اسی کے ہیں۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۠ Open ayah 55:25 in the Quran reader

پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

ترکیب : المرج الارسال یقال مرجت الدابۃ اذا ارسل تھا یلتقیان حال و بینہما برزخ حال من الضمیر فی یلتقیان ولایبغیان حال ایضا یخرج قالوا التقدیر من احدھما الجواری جمع جاریۃ وھی السفن وحذفت الیاء المنشئات من انشأء اذا رفعہ المرفوعات وقریٔ بکسر الشین وفی البحر یتعلق بہ کالا علام جمع علم وھو الجبل الطویل۔ حال من الضمیر فی المنشئات۔ تفسیر : ان آیات میں دوسرے مسئلہ توحید کو ثابت کر رہا ہے مگر جہاں کہیں قرآن مجید میں اپنے دلائلِ قدرت و جبروت ذکر کر کے اس مسئلہ کو ثابت کیا ہے دلائل میں وہی چیزیں بیان فرمائی ہیں کہ جو بندوں کے لیے انعام اور کارآمد چیزیں ہیں یہ اس لیے کہ انسانی جبلت انعام کی وجہ سے منعم کی طرف زیادہ راغب ہوتی ہے۔ ان آیات میں بھی وہی قاعدہ ملحوظ ہے۔ فقال مرج البحرین یلتقیان بینہما برزخ لایبغیان کہ اس قادر مطلق نے دو دریا رواں کئے جو ملے ہوئے چلتے ہیں اور باہم مختلط نہیں ہونے پاتے ان میں ایک قدرتی برزخ یعنی پردہ رکھا ہوا ہے جس سے دونوں باوجود اتصال کے خلط ملط نہیں ہونے پاتے۔ یہ دو دریا کس کے بس میں ہیں اور کس کی حکومت ان پر نافذ ہے ؟ اسی قادر مطلق کی۔ ان دو دریا سے کون سا دریا مراد ہے ؟ ابن جریج کہتے ہیں بحرشور یعنی سمندر اور زمین کی میٹھی ندیاں مراد ہیں جیسا کہ نیل ‘ جیحون ‘ دجلہ ‘ فرات گنگ وغیرہ جب یہ سمندر میں گرتے ہیں کوسوں تک دونوں پانی جدا جدا ممتاز معلوم ہوتے ہیں۔ دو دھاریں الگ معلوم ہوتی ہیں، رنگت میں بھی اور پانی کے میٹھے کھاری پنے میں بھی۔ بعض کہتے ہیں خود سمندر ہی کے مختلف ٹکڑے مراد ہیں بحر فارس و روم وغیرہ۔ بعض محققین کہتے ہیں لفظ میں تعمیم سے یہ بھی مراد ہیں اور ان کے ساتھ اور بھی دریا مراد ہیں جیسا کہ دریائے ملکیت و بہیمیت جو ایک میٹھا اور ایک کھاری ہے۔ انسان کے اندر ملے ہوئے چلتے ہیں اور مختلط ہونے نہیں پاتے اور ان سے بعد تہذیب و شائستگی حاصل کرنے کے عمدہ نتائج پیدا ہوتے ہیں جن کو موتی اور مونگا کہنا چاہیے اور اسی طرح انسان کی ہر متضاد قوتیں مراد ہوسکتی ہیں جن کے دریا اس کے اندر ملے ہوئے چلتے ہیں۔ موتی سیپ میں پیدا ہوتا ہے اور مونگا ایک قسم کا پتھر ہے جو درخت کی طرح شاخیں نمودار کرتا ہے وہ بھی سمندر سے برآمد ہوتا ہے۔ موتی سفید یہ سرخ کیا قدرت ہے ؟ یہ تو تھا ہی اور قدرت کا تماشا دیکھو ولہ الجوارالمنشئات فی البحر کالاعلام۔ کہ بڑی بڑی کشتیاں اور جہاز اور آگبوٹ پہاڑ جیسے سمندر میں کھڑے ہیں، پانی کی طبیعت تھی کہ ڈوب جائیں مگر وہ قادر مطلق نہیں ڈوبنے دیتا اس کے سامان پیدا کر کے ان کو سمندر میں ایسا دوڑاتا پھرتا ہے کہ جس طرح زمین پر گھوڑے دوڑتے پھرتے ہیں۔ یہاں تک اپنی قدرت و جبروت عناصر پر ثابت کی کہ جن کو اوہام پرستوں نے اپنا معبود بنا رکھا ہے ہنود آگ اور پانی کی پرستش کرتے ہیں اور پانی کی مایہ بتاتے ہیں۔
Ayahs 55:26–34

كُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍۚۖ Open ayah 55:26 in the Quran reader

جو کوئی زمین پر ہے فنا ہوجانے والا ہے

وَّ یَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِۚ Open ayah 55:27 in the Quran reader

اور (صرف ایک) آپ کے رب کی ذات باقی رہے گی جو جلال اور بزرگی والا ہے۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:28 in the Quran reader

پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

یَسْئَلُهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلَّ یَوْمٍ هُوَ فِیْ شَاْنٍۚ Open ayah 55:29 in the Quran reader

اسی سے مانگتے ہیں آسمانوں والے اور زمین والے۔ ہر دن اس کی (ایک) نئی شان ہے۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:30 in the Quran reader

پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

سَنَفْرُغُ لَكُمْ اَیُّهَ الثَّقَلٰنِۚ Open ayah 55:31 in the Quran reader

اے جن و انس ! ہم ابھی تمہارے کام سے فارغ ہوئے جاتے ہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:32 in the Quran reader

پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ فَانْفُذُوْا١ؕ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍۚ Open ayah 55:33 in the Quran reader

اے جنوں اور آدمیوں کے گروہ ! اگر تم آسمانوں اور زمین کی حدود سے باہر نکل سکتے ہو تو نکل جائو۔ (کچھ ایسا ہی) زور ہو تو نکل سکتے ہو (لیکن وہ ہے نہیں)

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:34 in the Quran reader

پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

ترکیب : فانٍ خبر لکل من ذوالجلال بالرفع علیٰ انہ لغت للوجہ وبالجر لغتا للمجرور۔ یسئلہ مستانف اوحال من وجہ والعامل فیہ یبقٰی۔ کل ظرف لمادل علیہ ھوفی شان لاتنفذون لانافیۃ شواظ بالضم والکسر لغتان ھو اللہب الذی لادخان معہ۔ من نار صفۃ او متعلق بالفعل۔ نحاس بالرفع عطفا علی شواظ بالجر عطفا علے نار والاول اقوی۔ تفسیر : دلائلِ توحید میں عالم اور اس کی عمدہ اور نافع چیزیں پیدا کرنے کا ذکر تھا تاکہ معلوم ہو کہ یہ عالم قدیم نہیں بلکہ اسی کا پیدا کیا ہوا ہے اس کے بعد عالم فنا کرنے کی قدرت بیان کرتا ہے اور ان کے فنا کرنے میں اپنی قدرت و جبروت ظاہر فرما کر تیسرے مسئلہ حشر کو بھی اسی کلام کے دوسرے پہلو میں ثابت فرماتا ہے کہ وہی پیدا کرنے والا ‘ وہی مٹانے والا ہے۔ فقال کل من علیہا فان کہ جو کچھ زمین پر ہے فانی ہے۔ اس تقدیر پر آیت میں جنت و دوزخ کی تخصیص کرنا بےفائدہ ہے کس لیے کہ وہ زمین ہی پر نہیں ان کا فنا کرنا یہاں مذکور نہیں۔ ویبقٰی وجہ ربک اور اے مخاطب ! تیرے رب کی ذات باقی رہے گی جو ذوالجلال والاکرام عزت و جلال والا ہے۔ وجہ سے مراد اس کی ذات اور اس کا وجود ہے جیسا کہ پہلے بیان ہوا۔ ربک میں واحد حاضر کی طرف خطاب اس رمز کے لیے ہے کہ اے محمد ﷺ ! اصلی مخاطب ہو تم ہی اس بات کو سمجھتے ہو تمہارا رب جیسا کچھ ہے تم ہی اس کو خوب جانتے ہو کہ وہ حی وقیوم ازلی ابدی ہے اور اس کے سوا ممکنات فی ذاتہا فانی ہیں ان کی حیات ان کا وجود مستعار ہے۔ دنیا کی فنا بھی انسان کے لیے اس کی بڑی نعمت ہے کیونکہ اس کے فنا ہونے کے بعد عالم باقی میں جانا میسر آئے گا جو بڑی نعمت ہے۔ عرفاء نے سچ کہا ہے موت پل ہے جو دوست کو دوست کے پاس پہنچا دیتی ہے اس کے علاوہ انسان کا رنج اور متکبروں کا جاہ و حشم فانی پر غرور اور ان کی کامرانی کی انتہا اور ایک محدود زمانہ دیکھ کر مومن کے دل میں تسکین پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ بھی ایک اس کی بڑی نعمت ہے جس لیے فرماتا ہے فبای آلاء ربکما تکذبان۔ ایجاد اور فنا کے بعد یہ بھی بتلاتا ہے کہ یہ بات نہیں کہ ہم نے ایک بار عالم کو پیدا کردیا پھر سب کچھ آپ ہی ہو رہا ہے اور ایک روز ہم فنا کردیں گے بس ہمارے کام کے یہی دو روز ہیں اور بیچ میں ہم کچھ نہیں کرتے جیسا کہ بعض اقوام کا خیال ہے بلکہ یسئلہ من فی السمٰوات والارض کل یوم ھو فی شان کہ آسمانوں اور زمین کے رہنے والے خواہ بزبان حال خواہ بزبان مقال اسی سے مانگتے ہیں اور وہ ہر روز نئی شان میں ہے اس کی شانیں بےانتہا ہیں جن کا وہ وقتاً فوقتاً اظہار کرتا ہے۔ عبداللہ بن منیب ؓ صحابی کہتے ہیں کہ ہمارے روبرو رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی۔ ہم نے پوچھا حضرت شان سے کیا مراد ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ یہ کہ وہ گناہ بخشتا ہے اور غم دور کرتا ہے اور کسی قوم کو بلند اور کسی کو پست کرتا ہے۔ روایت کیا اس کو حسن ابن سفیان نے اپنی مسند میں اور ابن جریر و طبرانی و ابوالشیخ و ابن مندہ و ابن مردویہ و ابونعیم و ابن عساکر نے اور ابودردا ؓ سے یہی حدیث اپنی تاریخ میں بخاری نے و ابن ماجہ وغیرہ نے بھی نقل کی ہے۔ حق سبحانہ کی شیون اور اس کی نئی نئی تجلیات کا عالم میں ظہور ہوتا ہے جو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے اور آیندہ ہوگا اور قیامت میں ہوگا سب اس کی ایک ایک شان کا جلوہ ہے۔ وہ بیکار اور نکما نہیں کہ دنیا کو پیدا کر کے آپ بیکار بن بیٹھا جیسا کہ بعض حکماء اور ہنود اور دیگر اہل مذاہب کا خیال ہے خصوصاً حکمائِ فرنگ کا۔ اس کے بعد پھر دارآخرت کے مسئلہ میں اپنی شان بیان فرماتا ہے سنفرغ لکم ایہا الثقلٰن۔ زجاج و کسائی و ابن الاعرابی و ابوعلی فارسی فرماتے ہیں کہ اس جملہ میں فراغ سے مراد وہ فراغ نہیں جو کام کے بعد ہوتا ہے کس لیے کہ اس کا کوئی ایسا شغل نہیں کہ جس سے فارغ ہونا کہا جائے اور نہ اس کی کوئی شان دوسری شان کو روکتی ہے بلکہ مراد ہے قصد کرنا۔ ثقلان ثقل کا تثنیہ ہے جس سے مراد جن و انس ہیں۔ ثقل بوجھ کو کہتے ہیں۔ انسان و جن احکامِ الٰہی کے بوجھ میں دبے ہوئے ہیں اس لیے ان کو ثقلان کہتے ہیں یا اس لیے کہ یہ بہ نسبت اور حیوانات کے بھاری بھرکم یعنی ذی عزت عاقل ہیں یا اس لیے کہ یہ گناہوں کے بوجھ میں دبے ہوئے ہیں۔ یہ جعفر صادق ؓ کا قول ہے۔ لکم میں جمع کا صیغہ لا کر پھر خطاب میں ایہا الثقلان تثنیہ کا صیغہ لایا اس لیے کہ وہ دو فریق ہیں اور ہر فریق جماعت ہے۔ بعض کہتے ہیں ثقلان سے مراد نیک و بد انسان ہیں۔ یا عالم ناسوت و ملکوت کے لوگ۔ یہ خلاف جمہور ہے۔ یعنی اے جن و انس ! کیوں حساب و قیامت کے بارے میں جلدی کرتے ہو ہم ابھی تمہارا کام کئے دیتے ہیں۔ یہ دیر ہمارے نزدیک کچھ بھی دیر نہیں اس میں تہدید ہے منکران قیامت کے لیے۔ یہ بھی اس کی ایک نعمت ہے کہ اس سے ڈر کر بدی سے باز آئے اور نیک نیکی میں سرگرمی کرے۔ اس لیے فرماتا ہے فبای آلاء ربکما تکذبان۔ اس کے بعد یہ بات ظاہر کرتا ہے کہ ہر ایک ہماری قدرت کے احاطہ میں ہے کوئی اس سے باہر نہیں نکل سکتا فقال یامعشر الجن والانس ان استطعتم ان تنفذوا من اقطار السمٰوات والارض فانفذوا کہ اے جن و انسان کے گروہ اگر تم آسمانوں اور زمین کے حدود سے باہر نکل سکتے ہو تو نکل جائو۔ لاتنفذون الابسلطان نکل نہ سکو گے مگر قوت کے ساتھ اور وہ قوت تم میں کہاں ہے بلکہ کسی میں بھی نہیں۔ تم سب اس کی قدرت کے احاطہ میں بند ہو وہ جو احکام چاہتا ہے دنیا میں نافذ کرتا ہے کوئی ان پیش آنے والے حوادث کو ٹال نہیں سکتا اور آخرت میں تم پر اپنے احکام جبروتی نافذکرے گا۔ یرسل علیکما شواظ من نارونحاس فلاتنتصران۔ شواظ ابن عباس ؓ کہتے ہیں شواظ آگ کے شعلہ کو کہتے ہیں نحاس۔ مجاہد کہتے ہیں اس سے مراد پگھلا ہوا تانبا جو قیامت میں دوزخیوں پر ڈالا جائے گا۔ سعید بن جبیرو ابن عباس ؓ کہتے ہیں نحاس دھواں جو جہنمیوں پر چھوڑا جائے گا۔ یعنی قیامت میں۔ اے جن و انس کے مجرمو ! تم پر شعلہ آتش اور دھواں چھوڑا جائے گا جس کو تم دفع نہ کرسکو گے۔ اس بیان میں بھی بوجہ تہدید ہونے کے جس سے انسان بدی سے بچ کر نیکی کا رستہ اختیار کرنے میں سرگرم ہوجائے بڑی نعمت و احسان ہے۔ جس لیے ان شدائد قیامت کے ذکر کرنے کے بعد بھی فبای آلاء ربکما تکذبان کا لانا ایک عمدہ مناسبت رکھتا ہے۔
Ayahs 55:35–36

یُرْسَلُ عَلَیْكُمَا شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ١ۙ۬ وَّ نُحَاسٌ فَلَا تَنْتَصِرٰنِۚ Open ayah 55:35 in the Quran reader

تم پر آگ کا شعلہ اور دھواں چھوڑا جائے گا پھر تم دفع نہ کرسکو گے 1 ؎۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:36 in the Quran reader

پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

1 ؎ پس تم بات نہ لاسکو گے۔