Ayahs 55:37–45ترکیب : فاذا شرط فکانت جواب الشرط وقیل جو ابہ فیومئذ الخ فکانت علیٰ ھذاعطف۔ وقیل جو ابہ محذوف اے رأیت امرمھولا۔ کالدھان جمع دھن کقرط وقیراط ورمح و رماح۔ وقیل اسم مفرد کالخرام والادام۔ خبرتان علی کان الناقصۃ وحال علیٰ تقدیر کو نھا تا مۃ عن ذنبہ والضمیر للانس باعتبار اللفظ وان تاخر لفظاً تقدم رتبۃً ۔ والاخذ یستعمل بالباء تارۃً بغیر ھاتارۃً یقال اخذت الخطام واخذت بالخطام قالہ الکرخی یطوفون حال من المجرمون ویجوز ان یکون مستانفاً ان اسم فاعل منقوص کقاص۔ قال الزجاج انی یانی فھوآن اذا انتہٰی فی النضج والحرارۃ۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا یرسل علیکما شواظ من نار کہ تم پر آگ کا شعلہ چھوڑا جائے گا۔ اب یہاں اس کا وقت بیان فرماتا ہے کہ یہ کب ہوگا ؟ یعنی قیامت میں اس لیے قیامت کی تشریح کرتا ہے کہ وہ کب ہوگی اور کیوں کر ؟ اور تیسرے مسئلہ معاد کا بھی ذکر کرنا مقصود تھا مگر اسی سلسلہ میں فقال اذا انشقت السماء کہ جس دن آسمان پھٹ جائیں گے پھر وہ گلابی ہوجائیں گے جیسا کہ سرخ چمڑا۔ فکانت وردۃ کالدھان کے معنی میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں وردۃ سرخی مائل گھوڑے کی طرح ان کا رنگ ہوجائے گا۔ صراح میں ہے ورد بالفتح گل وردۃ یکے وقیل للاسدورد للونہ و للفرس ایضا وھو بین الکمیت والاشقر و للانثیٰ وردۃ والجمع وردمثل جون و جُون و ورادُٗایضاً وردۃ گلگوں شدن۔ دھن بالضم روغن و باران ضعیف۔ دھان جمع۔ دھان بالکسر ایضاً ادیم سرخ۔ صراح
یہ اختلاف دھان کے لفظی معنی پر مبنی ہے۔ فراء ابوعبیدہ کہتے ہیں اس وقت شدت حرارت کی وجہ سے آسمان سرخ ہوجائے گا اور حسن کہتے ہیں کہ جس طرح تیل کو پانی میں ڈال دیتے ہیں اور اس میں سرخی مائل مختلف ٹکڑے نظر آیا کرتے ہیں قیامت کے دن آسمانوں کا یہی حال ہوجائے گا۔ پہلے قول کی علت گا زرونی و عمادی وغیرہ علماء نے یہ بیان کی ہے کہ اصلی رنگت آسمان کی قدماء کے نزدیک سرخ ہے لیکن بعد مسافت اور کثرت حوائل و حواجز اور ہمارے اور اس کے بیچ میں ہوا آجانے کی وجہ سے نیلگوں دکھائی دیتا ہے جیسا کہ عروق میں خون باوجود سرخ ہونے کے نیلگوں دکھائی دیا کرتا ہے۔
ایسا ہو مگر فلسفہ جدید یا قدیم کے مطابق کرنے میں ہم کو اس قدر موشگافی کرنے کی حاجت ہی کیا ہے۔ خواہ آسمانوں کی اصلی رنگت سرخ ہو یا نیلگوں یا کوئی بھی رنگت نہ ہو بوجہ شفاف ہونے کے اور یہ نیلی چھتری صرف کرہ ہوا کے سبب ہم کو نظر آیا کرتی ہے اور چونکہ آسمانوں کے تلے یہ چھت گیری ہم کو دکھائی دیتی ہے اور اسی لیے ہم اسی کو آسمان کہتے ہیں یا جو کچھ ہو قرآن مجید کا صاف مطلب اسی قدر سے متعلق ہے کہ قیامت کے روز آسمان پھٹ جائیں گے یعنی خراب ہوجائیں گے اور اس صدمہ عظیم کے وقت سرخی نمودار ہوگی۔ یہ آسمان سرخ ہوجائے گا اس کے قہروجبروت کے آثار اس پر ظاہر ہوں گے اور وہ خونی لباس سے ملبوس ہوگا۔
یہ بھی اس کی بڑی نعمت ہے کیونکہ یہ آسمان فنا نہ ہوں تو عالم قدس آباد نہ ہو اس لیے فرماتا ہے فبای آلاء ربکما تکذبان کہ تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟ پھر اس روز مجرموں کے ساتھ کیا ہوگا۔ فقال فیومئذ لایسئل عن ذنبہ انس ولاجان کہ اس روز کسی انسان اور کسی جن سے اس کے گناہ کی بابت کچھ نہ پوچھا جائے گا۔ یہ بڑی تہدید ہے جس سے عاقل گناہ سے بچنے میں بڑی کوشش کرسکتا ہے اس لیے یہ بھی اس کی ایک نعمت ہے فبای آلاء ربکما تکذبان اس کے بعد اس پوچھے جانے کا سبب بیان فرماتا ہے۔ فقال یعرف المجرمون بسیماھم فیؤخذبالنواصی والاقدام کہ گنہگار ان کے چہروں سے خود پہچانے جائیں گے۔ گناہوں کا داغ اور اس کی سیاہی ان کے منہ پر خودبخود کہہ دے گی کہ یہ گنہگار ہے، پھر پوچھنے کی کیا حاجت ؟ پھر ان کے سر کے بال اور ٹانگیں پکڑ پکڑ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا النواصی جمع ناصیہ ماتھے کے بال۔
فائدہ : اس قسم کی آیات کے کہ جہاں نہ پوچھے جانے کا ذکر ہے وہ آیات مخالف نہیں کہ جہاں سوال کرنے کا ذکر آیا ہے (جیسا کہ یہ آیت فوربک لنسئلنہم اجمعین کہ تیرے رب کی یعنی اپنی قسم کہ ہم ہر ایک سے ضرور ہی پرسش کریں گے) کس لیے کہ یہ سوال کرنا ایک مقام خاص پر مراد ہے اور نہ سوال کرنا دوسری جگہ ہوگا۔ یا یہ کہ وہ سوال کرنا بطور دریافت کرنے کے نہ ہوگا بلکہ سرزنش اور تہدید کے طور پر اور یہاں بھی سوال نہ کئے جانے سے یہی مراد ہے کہ بطور دریافت کے سوال نہ ہوگا کس لیے کہ ان کے چہروں سے معلوم ہوجائے گا اور ان کے ہاتھ پائوں گواہی دیں گے۔ یہ کلام بھی بڑی تہدید کا ہے جو انسان کو سعادت کے رستہ پر کھینچ کر لانے والا ہے۔ اس لیے یہ بھی ایک نعمت ہے فقال فبای آلاء ربکما تکذبان۔ پھر ان دوزخیوں سے کہا جائے گا ھذہ جہنم التی یکذب بہا الجرمون۔ کہ یہ وہی تو جہنم ہے کہ جس کو یہ گنہگار دنیا میں جھٹلایا کرتے تھے۔ یطوفون بینہاوبین حمیم آن۔ اب یہ حال ہے کہ وہ گنہگار اس دوزخ میں اور اس کے اندر جو گرم اور کھولتا ہوا پانی ہے اس میں پھر رہے ہیں جس کا انکار تھا وہ آنکھوں کے سامنے آگیا۔
احادیث صحیحہ میں جہنم کے عذابوں کا مفصل طور پر بیان آیا ہے۔ نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جہنم میں سب سے کم عذاب یہ ہوگا کہ اس کی جوتیاں اور ان کے تسمے آگ کے ہوں گے جس سے اس کا دماغ ہانڈی کی طرح پکے گا وہ سمجھے گا کہ مجھ سے زیادہ کسی کو عذاب نہیں حالانکہ اس کو سب سے کم ہے۔ (متفق علیہ)
اس مصیبت دردناک سے خدا نے اس کی تدبیر بتلا کر بچنے کا سامان کیا۔ یہ اس کی کیسی نعمت ہے ؟ اس لیے اس کے بعد فرماتا ہے فبای آلاء ربکما تکذبان۔ انسان جو ان باتوں پر کان نہیں دھرتا تو اس نعمت کا انکار کرنا اور جھٹلانا ہے۔ یہاں تک مجرموں کی سزا کا بیان تھا۔
Ayahs 55:46–61ترکیب : جنتان مبتداء لمن خاف خبرہ مقام ربہ المقام اما اسم منان ای خاف الموقف الذی یقف فیہ العباد للحساب کمافی قولہ تعالیٰ یوم یقوم الناس لرب العالمین و اما مصدر رففیہ احتمالان امابمعنی قیامہ تعالیٰ علی احوال العباد من قام علیہ اذارقبہ کمافی قولہ تعالیٰ فمن ھو قائم علیٰ کل نفس بماکسبت و امابمعنی قیام العباد بین یدیہ۔ فعلی الاول اضافۃ الی الرب تفخیماً و تھویلاً ۔ وقیل لفظ المقام مقحم ای ولمن خاف ربہ والمعنٰی لکل خائفین منکما اولکل واحد جنتان۔ ذواتا تثنیہ ذوات علی الاصل ولامھاتاء (الجلال المحلی) قال ابن الصائغ الالف قبل التاء بدل من یاء وقیل من واوقال الخطیب فی تثنیہ ذات لغتان الاولیٰ الردالی الاصل فان اصلھا ذویہ فالعین واو واللام یاء لانھا مؤنثۃ ذوی والثانیۃ التثنیۃ علی اللفظ فیقال ذاتان۔ وھو صفۃ الجنتان اوخبر مبتداء محذوف۔ افنان جمع فنن وہی الغصنۃ 1 ؎ التی تنشعب من فرع الشجر۔ وقال الزجاج جمع فن 2 ؎ کدن وھوالضرب والنوع من کل شیء والمراد بھا الالوان وبہ قال عطاء و سعید بن جبیرو جمع عطاء بین القولین فقال فی کل غصن فنون من الفاکھۃ۔ وقیل ذواتا انواعٍ واشکالٍ من الثماروقیل الافنان ظل الاغصان علی الحیطان متکئین انتصابہ علی المدح للخائفین اوحال منھم لان من خاف فی معنی الجمع وجنا الجنتین مبتداء و دان خبرہ اصلہ دانو مثل غازفاعل اعلالہ وجنی فعل بمعنی مفعول الجنی مایجتنی 3 ؎ من الثمار۔ قاصرات الطرف من اضافۃ اسم الفاعل الیٰ مفعولہ تخفیفا۔ لم یطمثہن الضمیر راجع الی الازواج المدلول علیھن بقاصرات الطرف۔ الطمث الجماع وقال ابوعمروالطمث المس۔
تفسیر : یہاں سے اہل سعادت کے منازل بیان فرماتا ہے۔ فقال ولمن خاف مقام ربہ جنتان کہ جو دنیا میں اس بات سے ڈرا کہ مجھے خدا تعالیٰ کے سامنے جانا اور حساب دینا ہے (اور یہی اصول حسنات میں سب سے بڑھ کر ہے یہی نظری اور عملی حسنات پر آمادہ کرتی ہے اور برائیوں سے باز رکھتی ہے) اس کے لیے آخرت میں دو بہشت ہوں گے۔ ایک روحانی دوسری جسمانی اور دو اس لیے کہ ہمیشہ ایک مقام میں رہنے سے طبیعت بھر جاتی ہے کبھی یہاں کبھی وہاں سیروتفریح کے لیے ایک گھر دوسرے سیر کا باغ۔ ایک جنت معصیت ترک کرنے کے بدلے میں، دوسری اطاعت کے بدلے میں۔ یا کہو ایک عقیدہ پاک کے سبب دوسری اعمال کے سبب یا ایک محض فضلِ الٰہی کے سبب۔
آگے ان دونوں باغوں کا وصف بیان فرماتا ہے۔ ذواتا افنان شاخوں والے یعنی پھلے پھولے ‘ ہرے بھرے جن پر خزاں و باد صرصر و گرمی و سردی کا کبھی اثر نہ ہو۔ فبای آلاء ربکما تکذبان۔ فیہما عینان 4 ؎ تجریان۔ یہ دوسری صفت ہے کہ ان دونوں میں دو نہر جاری ہوں گی نہایت صاف اور فرحت خیز پانی بلوریں چھپر اور ان میں منبت کے کام کئے ہوئے اور پھر کہیں فواروں میں سے پانی کا گرنا کہیں چادریں چھٹنا عجب فرحت بخشتا ہے۔ فبای آلاء الخ فیہما من کل فاکھۃ زوجان۔ یہ تیسری صفت ہے صرف بہار ہی نہیں بلکہ ہر ایک قسم کے میوے بھی ان میں ہوں گے جو نہ موسم کے تمام ہونے سے تمام ہوں اور نہ فصلوں کے خراب ہونے سے خراب ہوں۔ زوجان الصفنان والنوعان والمعنٰی فی الجنۃ من کل نوع من ثمار الدنیا نوعان۔ یعنی دنیا میں جس قسم کے میوے ہیں ان کی وہاں دو قسمیں ہوں گی رنگت اور ذائقہ اور خوشبو اور چھوٹے بڑے ہوتے ہیں فبای آلاء الخ متکئین علی فرش بطائنہا من استبرق۔ تکیہ لگا کر ایسے عمدہ فرشوں پر بیٹھے ہوں گے کہ جن کے استر مخمل کے ہوں گے۔ یہ چوتھی صفت ہے کہ پتوں اور گھانس اور پتھروں پر بیٹھنا نہ پڑے گا بلکہ ایسے عمدہ مقامات بنگلے اور بارہ دریاں اور کوٹھیاں ان باغوں میں ان نہروں کے اوپر نہایت صنعت کے ساتھ جواہرات سے بنی ہوں گی کہ جن میں ایسے فرش ہوں گے کہ جن کے استر عمدہ ریشمی مخمل کے ہوں گے پھر ان کے اوپر کے رخ کے تو کیا کہنے ہیں۔ دست قدرت نے کیا کیا اس میں گلکاری کی ہوگی اور کیسا عمدہ کپڑا لگایا ہوگا۔ بطائن جمع بطانۃ وہ رخ جو زمین سے ملا ہو۔ استبرق۔ موٹی دیبا یعنی ریشمی مخمل۔ اور یہ بھی نہیں کہ باوجود اس خوبی کے جنت کے میوے ایسے بلند اور مشکل چڑھائی کے درختوں پر اور شاخوں میں ہوں کہ جن کے لیے محنت اٹھانی پڑے۔
پانچویں صفت ہے۔ عمدہ باغ اور نفیس مکانات اور آراستہ فروش اور عمدہ کھانوں کے بعد انسان کی طبع حسین عورتوں کی طرف مائل ہوتی بلکہ وجنا الجنتین دان۔ ان کے میوے جھکے ہوئے ہوں گے، ہاتھ بڑھاؤ اور توڑ لو۔ کیسی ہی بلند شاخ ہے جھکی چلی آتی ہے۔ یہ ہے
1 ؎ شاخ۔ 12 2 ؎ قسم۔ 12
3 ؎ چنے ہوئے میوے۔ 12
4 ؎ ابوبکر دراق (رح) فرماتے ہیں عینان تجریان میں اس طرف اشارہ ہے کہ دنیا میں جو آنکھیں اللہ کی محبت یا خوف میں روتی تھیں وہی جنت میں ہوں گی ان کے آنسو وہاں دو جاری نہر کی صورت میں متشکل ہوں گے۔ ابراہیم خواص فرماتے ہیں اسلام کی جزا دارالسلام ہے۔ دارالسلام جنت کا ایک نام ہے۔
اور یہ جلسہ ان سے دوبالا ہوجاتا ہے۔ ایسے عمدہ مقامات پر یہ نہ ہوں تو حظ نہیں اس لیے فرماتا ہے فیہن قاصرات الطرف لم یطمثہن انس قبلہم ولاجان۔ یہ چھٹی صفت ہے کہ وہاں ایسی نیک سیرت عورتیں ہوں گی کہ جن کی نیچی نگاہیں ہوں گی۔ شوخ چشم غیروں کی گھورنے والیاں نہ ہوں گی اور یہ وصف ان میں پیدائشی ہوگا یہ نہیں کہ پہلے بدکار تھیں پھر توبہ کر کے نیک ہوگئی ہوں۔ ایسی عورتوں سے بھی غیرت مند طبائع نفرت کیا کرتی ہیں بلکہ لم یطمثہن ان کو کسی نے ان سے پہلے ہاتھ ہی نہیں لگایا ہوگا نہ جن نے نہ انسان نے۔ یہ ان کی سیرت کی خوبی بیان ہوئی کس لیے کہ سیرت صورت پر مقدم ہے بدسیرت ہے تو سب حسن صورت ہیچ۔ اس کے بعد حسن صورت بیان فرماتا ہے کانہن الیاقوت والمرجان گویا وہ یاقوت اور مونگا ہیں۔ یہ ان کے صفائے رنگ میں تشبیہ ہے جو کمال حسن کو متضمن ہے۔ فبای آلاء ربکما تکذبان۔ انسان کا جہاں تک خیال جاسکتا ہے اور جن چیزوں پر اس کی رغبت ہے وہ یہی چیزیں ہیں جن کا بہ ترتیب بیان ہوا مگر وہاں اس کے خیال سے بھی بڑھ کر نعمتیں ہیں ھل جزاء الاحسان الا الاحسان دنیا میں جو کوئی نیکی کرتا ہے پھر اس کا وہاں نیک ہی بدلہ ہے گویا یہاں تک نیک بدلہ کی تشریح تھی۔ یہ آیت منجملہ ان چار آیتوں کے ہے کہ جن کے سو سو معنی سے زائد ہیں۔ ان کے کلمات جامع بیشمار معانی کو حاوی ہیں۔ فبای آلاء ربکما تکذبان۔