54. Surah Al-Qamar

القمرThe Moon · 55 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 54:1–8

اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ Open ayah 54:1 in the Quran reader

قیامت قریب آپہنچی اور چاند شق ہوگیا

وَ اِنْ یَّرَوْا اٰیَةً یُّعْرِضُوْا وَ یَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ Open ayah 54:2 in the Quran reader

اور اگر (کافر) کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں یہ ایک ہمیشہ کا جادو ہے

وَ كَذَّبُوْا وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ وَ كُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ Open ayah 54:3 in the Quran reader

اور انہوں نے جھٹلایا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی اور ہر کام کا وقت مقرر ہے

وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنَ الْاَنْۢبَآءِ مَا فِیْهِ مُزْدَجَرٌۙ Open ayah 54:4 in the Quran reader

اور ان کو ایسے حالات (سابقین) پہنچ چکے ہیں جن میں عبرت ہے

حِكْمَةٌۢ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُۙ Open ayah 54:5 in the Quran reader

اور کامل دانائی (کی کتاب بھی) لیکن ڈرانا ان کو کچھ فائدہ نہیں دیتا

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ١ۘ یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰى شَیْءٍ نُّكُرٍۙ Open ayah 54:6 in the Quran reader

تو تم بھی ان کی پروا نہ کرو جس دن بلانے والا ان کو ایک ناخوش چیز کی طرف بلائے گا

خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌۙ Open ayah 54:7 in the Quran reader

تو آنکھیں نیچی کئے ہوئے قبروں سے نکل پڑیں گے گویا بکھری ہوئی ٹڈیاں ہیں

مُّهْطِعِیْنَ اِلَى الدَّاعِ١ؕ یَقُوْلُ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ Open ayah 54:8 in the Quran reader

اس بلانے والے کی طرف دوڑتے جاتے ہوں گے ؟ کافر کہیں گے یہ دن بڑا سخت ہے

اعلان قرب قیامت مع ذکر دلائل قدرت خداوند جلیل و رسالت نبی کریم ﷺ وتہدید وتنبیہ بر اعراض منکرین ومجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اقتربت الساعۃ ...... الی ...... ھذا یوم عسر “۔ (ربط) گذشتہ سورت کا مضمون جناب رسول اللہ ﷺ کی رسالت ونبوت کا اثبات اور اس کی عظمت شان ظاہر کرتا تھا اب اس سورة قمر میں آپ ﷺ کی نبوت کا اثبات اور اسکی عظمت شان ظاہر کرتا تھا اب اس سورة قمر میں آپ ﷺ کی نبوت کی دلائل قاطعہ اور براہین واضحہ بیان کیے جارہے ہیں اور ظاہر ہے کہ دلائل ومعجزات میں شق قمر کا واقعہ ایک طرف اللہ کی قدرت کی عظیم ترین نشانی ہے تو دوسری جانب رسول اللہ ﷺ کی رسالت ثابت کرنے کے لئے ایک ایسی دلیل ہے جس کا کوئی صاحب عقل انسان انکار نہیں کرسکتا اور حتی کہ وہ ایک تاریخی حقیقت بن گئی جس میں کسی طرح تردد اور تامل کا امکان نہ رہا، تو ارشاد فرمایا۔ قریب آگئی ہے قیامت اور دو ٹکڑے ہوگیا چاند جب کہ مقام منی میں کفار مکہ نے آپ ﷺ سے مطالبہ کیا کہ اگر آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں تو ہمیں کوئی نشانی دکھائیں اور اس چاند کو دو ٹکڑے کردکھائیں تو ہم آپ ﷺ پر ایمان لے آئیں گے تو آپ ﷺ کے آسمان کی طرف نظر اٹھا کر انگلی کا اشارہ کرتے ہوئے چاند پھٹ گیا اور اس کے ٹکڑے ہوگئے ایک مغرب کی سمت نظر آرہا تھا اور دوسرا مشرق کی طرف ایسی عظیم الشان دلیل اور معجزہ ظاہر ہونے پر چاہئے تھا کہ فورا ایمان لے آتے مگر حالت یہ ہوئی کہ اور اگر دیکھ لیں کوئی نشانی تو بےرخی کریں اور اسکو تسلیم کرنے کے واسطے تیار نہ ہوں اور کہیں کہ یہ تو جادو ہے جو پہلے سے چلا آرہا ہے تو اسی طرح اس وقت بھی انہوں نے کہا کہ ہماری آنکھوں پر جادو کردیا ہے کہ یہ چاند دو ٹکڑے ہو کر ہمیں نظر آیا اور جھٹلایا ان لوگوں نے خدا کے اس معجزہ کو اور پیغمبر کی نشانی کو اور پیروی کی اپنی خواہشات کی ان کا یہ جرم تو اس بات کا موجب تھا کہ اس وقت عذاب خداوندی سے ہلاک کردیئے جاتے مگر انکو مہلت دی گئی اور ہر کام اللہ کی طرف سے ایک وقت مقرر کے ساتھ ٹھہرا ہوا ہے اسی وقت عذاب وقہر کی کیا ضرورت تھی عبرت ونصیحت کے واسطے تو یہ بھی بہت کافی ہے اور بیشک ان کے پاس بہت سے واقعات واحوال آچکے ہیں جن میں بہت کچھ نصیحت وتنبیہ ہے یہ قرآن کریم یا اللہ کی وحی ہے ایک ایسی حکمت و دانائی کی بات ہے جو دل کی گہرائیوں میں اتر جانے والی ہے اور ہدایت ومعرفت کی انتہا تک پہنچ جانے والی ہے تو پھر اس کے بعد کیا کام دیں گی ڈرانے والی چیزیں۔ 1 حاشیہ (یہ ترجمہ ان مفسرین کی رائے کے مطابق ہے جنہوں نے اس جگہ لفظ ” ما “ کو استفہامیہ لیا ہے اور اگر ” ما “ نافیہ ہو تو پھر ترجمہ اس طرح ہوگا ،” بس نہیں کام دیتیں انکو ڈرانے والی چیزیں “۔ اور ایسے عبرت ناک واقعات سے انکو کوئی اثر نہیں ہوتا۔ 12) ایسے سخت دل لوگ جن پر نہ کوئی نصیحت کام دے اور نہ تنبیہ وتہدید سے کوئی اثر ہو اس قابل نہیں کہ ان کی طرف توجہ کی جائے تو بس آپ ﷺ روگردانی کرلیجئے ان سے، ایسے بدبختوں سے اب کیا توقع ہوسکتی ہے کہ وہ ہدایت قبول کریں گے بس انتظار کیجئے اس دن کا جس میں پکارنے والا پکارے گا ایک نہایت ہی ناگوار چیز کی طرف وہ میدان حشر میں حساب کے واسطے پکارا جانا ہوگا جو ہر کافر ومجرم کے واسطے شدید ناگوار چیز ہے حالت یہ ہوگی انکی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی قبروں سے نکلتے ہوں گے اس طرح کہ گویا وہ بکھری ہوئی ٹڈیوں کا غول ہیں دوڑتے ہوں گے اپنی گردنوں کو دراز کیے ہوئے پکارنے والے کی جانب یہ ایسا منظر ہوگا کہ ہر کافر کہتا ہوگا کہ یہ دن تو بہت سخت ہے ظاہر ہے کہ بارگاہ خداوندی کی حاضری اور حساب کے لیے پیشی کافر کے لیے کوئی آسان کام نہیں یہ شدت اور ہیبت تو اس کے واسطے ہر آنے والے عذاب سے زیادہ شدید ہوگی، لیکن جس کسی کا حساب پاک وصاف ہو اس کو اعلان حساب اور پیشی کی کوئی فکر نہیں ہوتی اسی طرح اہل ایمان وتقوی بےفکر اور مطمئن ہوں گے اور بڑے ہی انبساط و خوشی سے میزان اعمال کی طرف جاتے ہوں گے حتی کہ ان پر یوم الحساب کی پیشی کسی فرض نماز کی رکعت کے قیام سے زیادہ دشوار محسوس نہ ہوگی جب کہ کافروں اور مجرموں کے پیسنے چھوٹ رہے ہوں گے اور ہر کوئی پسینہ میں غرق ہوگا کسی کے منہ تک اور کسی کے سینہ تک اور کسی کے گھٹنوں اور پاؤں تک پہنچا ہوگا۔ (کما ورد فی الاحادیث ) مشاہدہ اور تواتر سے معجزہ شق القمر کا ثبوت : معجزہ شق القمر کا وقوع قرآن کریم، احادیث متواترہ اور اجماع امت سے ثابت ہے اور علاوہ ازیں تاریخی نقول سے اس کا مشاہدہ بھی ثابت ہے ظاہر ہے کہ جس چیز کا ثبوت کلام خداوندی، احادیث رسول اللہ ﷺ اور مشاہدہ سے ہوچکا ہو اس کا انکار یا اس کی تاویل خلاف عقل ہے اس پر بلاتردد ایمان لانا لازم ہے جس طرح قرآن کریم کی تصریحات کی وجہ سے جنت و جہنم پر ایمان لائے بغیر کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا اسی طرح قرآن کریم کی ہر بیان کردہ چیز پر ایمان لائے بغیر ایمان کا تصور نہیں کیا جاسکتا اگر قرآنی تصریحات اور قطعیات میں تاویل کا دروازہ کھول دیا جائے تو پھر نہ تو ایمان بالآخرۃ رہے گا اور نہ جنت و جہنم کی حقیقت کا کوئی مسئلہ باقی رہ سکتا ہے جس قرآن حکیم نے ہم کو قیامت جیسے عظیم الشان واقعہ کی خبر دی اور ہمارا اس پر ایمان ہے تو اسی قرآن نے ہمیں شق القمر کے واقعہ کی بھی خبر دی تو جب قیامت پر ایمان ہے تو پھر شق قمر جو قیامت سے زیادہ کوئی عجیب یا عظیم شے نہیں اس پر ایمان لانے میں کیا تامل کیا جاسکتا ہے امام طحاوی (رح) اور حافظ ابن کثیر (رح) نے اس واقعہ کے متعلق تو اتر کا دعوی کیا ہے اور یہ دعوی دلائل قویہ سے ثابت ہے۔ فلاسفہ اور ملحدین نے شق القمر کو محال قرار دیتے ہوئے انکار کیا اور بعض لوگوں نے اس کی تاویل کی کہ یہ قیامت کے روز پیش آنے والے شق قمر کا ذکر ہے کہ جب قیامت آئے گی اس وقت چاند پھٹ جائے گا۔ فلاسفہ اور ملحدین کا شق قمر کو محال قرار دینا خود خلاف عقل ہے یہ ایک محض دعوی ہے جس پر ان کے پاس کوئی ثبوت اور برہان قطعی نہیں اولا تو یہ چیز قابل لحاظ ہے کہ چاند ہو یا سورج اور کوئی ستارہ وسیارہ یہ سب اجسام ہیں اور دلیل عقلی سے یہ بات لازم ہے کہ ہر جسم کا اجزاء کی طرف منقسم ہونا اور پھر اس کے اجزاء کو جوڑ کر جسم مستنیر بنایا ہے وہ انکو تقسیم کرنے اور ٹکڑے کرنے پر قادر ہے حکماء کے نزدیک جسم متصل کا منفصل اور منفصل کا متصل ہونا ممکنات میں سے ہے اس دلیل سے جہاں شق قمر کا ثبوت مل رہا ہے اسی کے ساتھ وقوف شمس اور رد شمس کا معجزہ بھی ثابت ہوتا ہے اور اس پر بھی فلسفیانہ قسم کا کوئی اشکال نہیں رہتا۔ حضرت یوشع بن نون (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے ہمراہ جبارین سے جہاد کررہے تھے بحکم خداوندی آفتاب ٹھہر گیا یہاں تک کہ جس روز اللہ کا پیغمبر فتح کا مامور تھا فتح واقع ہوگئی اسی طرح آنحضرت ﷺ کے معجزات میں رد شمس کا واقعہ بھی ہے کہ آپ ﷺ کی دعا سے سورج غروب ہونے کے بعد واپس ہوگیا اس میں کوئی شبہ نہیں کہ چاند کے ٹکڑے ہوجانا یا آفتاب کا ٹھہر جانا اور لوٹ جانا فی نفسہ عظیم الشان امر ہے اور امر معتاد بھی یہ نہیں ہے لیکن عقلا اسکو تسلیم کرنے میں کوئی وجہ تأم نہیں کیونکہ آفتاب وماہتاب کی حرکت طلوعی اور غروبی سب اللہ کے حکم اور اس کی قدرت سے ہے تو محرک اصل اللہ رب العزت ہے وہ جب چاہے ان اجرام کی حرکت کو روک دے اجرام علویہ ہوں یا اجرام سفلیہ، آسمان ہو، یا زمین، بروبحر سب کی حرکت و سکون اسی کے قبضہ قدرت میں ہے زمین کو متحرک مانو یا آسمان کو بہرکیف اس امر پر مجبور ہونا پڑے گا کہ ہر شئی اور اس کی حرکت خدا کے ہاتھ میں ہے الغرض جو چیز وحی الہی، اخبار متواترہ، نیز مشاہدہ سے ثابت ہو اس کا انکار یا اس میں تردد خلاف عقل ہے صحیح بخاری ومسلم میں انس بن مالک ؓ سے ہے کہ اہل مکہ نے آپ سے سوال کیا کہ آپ کوئی نشانی دکھائیں، تاکہ ہم آپ ﷺ کی نبوت مان لیں اس پر آپ ﷺ نے چاند کے دو ٹکڑے کرکے ان سے فرمایا دیکھ لو گواہ رہو اور جبیر بن مطعم ؓ کی روایت میں ہے کہ شق قمر پر قریش کے لوگ کہنے لگے کہ محمد ﷺ نے تو ہماری آنکھوں پر جادو کردیا ہے اس کو سن کر بعض لوگ کہنے لگے کہ اگر ہماری آنکھوں پر جادو کردیا تو یہ ممکن نہیں ہے کہ سب کی آنکھوں پر جادو کردیں اس کے بعد ان لوگوں نے مکہ سے باہر سے آنے آوالے قافلوں سے پوچھنا شروع کیا تو ہر قافلہ یہ بتاتا کہ ہاں ہم نے بھی یہ عجیب واقعہ دیکھا ہے، الغرض یہ احادیث صحیحہ اور قرآن کریم کا واضح بیان بھی بتا رہا ہے کہ شق قمر کا واقعہ حقیقتا ہوچکا ہے۔ آیت مبارکہ : ” اقتربت الساعۃ “۔ کی تفسیر میں علامہ آلوسی (رح) نے تفسیر روح المعانی۔ 1 حاشیہ ( روح المعانی ج 27) میں یہ روایت بیان فرمائی ہے کہ ہجرت مدینہ سے تقریبا پانچ سال قبل ایک مرتبہ کچھ مشرکین مکہ جمع ہو کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آئے جن میں ولید بن مغیرہ، ابوجہل، عاص بن وائل، عاص بن ہشام، اسود بن عبد یغوث، اسود بن عبد المطلب، ربعیۃ بن الاسود، نضر بن حارث وغیرہ وغیرہ بھی تھے آپ ﷺ سے یہ درخواست کی کہ اگر آپ ﷺ سچے نبی ہیں تو اپنی نبوت کا کوئی خاص نشان دکھلائیں اور ایک روایت میں ہے کہ یہ کہا کہ چاند کے دو ٹکڑے کے کر دکھلاؤ رات کا وقت تھا اور چودھویں رات کا چاند طلوع کیے ہوئے تھا آپ ﷺ نے فرمایا اچھا اگر یہ معجزہ دکھلادوں تو ایمان بھی لے آؤ گے لوگوں نے کہا ہاں ہم ایمان لے آئیں گے حضور ﷺ نے حق جل شانہ سے دعا کی اور انگشت مبارک سے چاند کی طرف اشارہ کیا اسی وقت چاند کے دو ٹکڑے ہوگے ایک ٹکڑا جبل ابی قبیس پر تھا اور دوسرا ٹکڑا جبل ابی قعیقعان پر تھا دیر تک لوگ حیرت سے دیکھ رہے تھے حیرت کا یہ عالم تھا کہ اپنی آنکھوں کو کپڑوں سے پونچھتے تھے اور چاند کی طرف دیکھتے تھے تو صاف دو ٹکڑے نظر آتے تھے اور حضور ﷺ اس وقت یہ فرما رہے تھے ”۔ اشھدوا، اشھدوا “۔ اے لوگو ! گواہ رہو اے لوگو گواہ رہو۔ عصر اور مغرب کے درمیان جتنا وقت ہوتا ہے اتنی دیر تک چاند اسی طرح رہا اور اس کے بعد پھر ویسا ہی ہوگیا، مشرکین مکہ نے کہا کہ محمد ﷺ نے تم پر جادو کردیا ہے بہتر یہ ہے کہ تم باہر سے آنے والے مسافروں کا انتظار کرو اور ان سے دریافت کرو کیونکہ یہ ناممکن ہے کہ محمد ﷺ تمام لوگوں پر جادو کردیں اگر وہ بھی اسی طرح اپنا مشاہدہ بیان کریں توسچ ہے اور اگر یہ کہیں کہ ہم نے نہیں دیکھا تو سمجھنا کہ محمد ﷺ نے تم پر سحر کیا ہے چناچہ مسافروں سے دریافت کیا گیا ہر طرف سے آنے والے مسافروں نے اپنا مشاہدہ بیان کیا کہ ہم نے شق قمر دیکھا ہے مگر ان شہادتوں کے باوجودبھی معاندین ایمان نہ لائے اور یہ کہا کہ یہ سحر مستمر ہے یعنی عنقریب اس کا اثر زائل ہوجائے گا اس پر یہاں آیت نازل ہوئی (آیت ) ” اقتربت الساعۃ وانشق القمر وان یروا ایۃ یعرضوا ویقولو سحر مستمر “۔ جیسا کہ بیان کیا گیا معجزہ شق قمر کا رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں واقع ہونا قرآن کریم اور احادیث متواترہ اور اسانید صحیحہ اور جیدہ سے ثابت ہے اور اسی پر تمام سلف اور خلف کا اجماع ہے اور صریحہ اور صحیحہ اور تصریحات سلف وخلف کے خلاف ہے قابل اعتبار نہیں اور اس صورت میں آگے کا مضمون (آیت ) ” وان یروا ایۃ یعرضو “۔ بےمعنی ہوجائے گا اس لئے کہ قیامت کے واقع ہونے پر تو کسی کے اعراض اور بےرخی کا امکان ہی نہیں رہتا، واقعہ شق القمر کی جو تفصیل ہم نے ذکر کی ہے وہ البدایہ والنہایۃ للحافظ ابن کثیر ص 118 ج 3 تا ص 120 ج 3 اور فتح الباری ص 138 ج 7 باب انشقاق القمر سے لی ہے حضرات اہل علم اصل کی مراجعت فرمائیں۔ مخالفین اسلام کا معجزہ شق القمر پر اعتراض اور اس کا جواب : مخالفین اسلام اس معجزہ پر اعتراض کرتے ہیں کہ اول تو یہ بات محال اور ناممکن الوقوع ہے کہ چاند کے دو ٹکڑے ہوجائیں دوسرے یہ کہ اس واقعہ کا کسی تاریخ میں ذکر نہیں جواب یہ ہے کہ آج تک کسی دلیل عقلی سے اس قسم کے واقعہ کا محال اور ناممکن ہونا ثابت نہیں ہوا اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے جس طرح اجسام سفلیہ میں کون و فساد عقلا محال اور ناممکن نہیں اسی طرح اللہ کی قدرت اور مشیت سے اجسام علویہ میں بھی کون و فساد محال نہیں خداوند ذوالجلال کی قدرت کے اعتبار سے آسمان اور زمین شمس اور قمر، شجر اور حجر سب برابر ہیں جس خدا نے شمس وقمر کو بنایا ہے وہ خدا ان کو توڑ بھی سکتا ہے اور جوڑ بھی سکتا ہے بہرحال اس قسم کی خوارق کا ظہور قطعا محال نہیں ہاں مستبعد اور مستغرب ضرور ہے اور ہر معجزہ کے لئے مستبعد ہونا ضروری ہے جو لوگ محض استبعاد کی بناء پر محال قرار دیتے ہیں انکو محال اور مستبعد کا فرق بھی معلوم نہیں رہا یہ امر کہ اس واقعہ کا ذکر تاریخوں میں نہیں تو صدہا اور ہزار ہا ایسے عجیب و غریب واقعات ہیں جو وقوع میں آئے مگر تاریخوں میں انکا ذکر نہیں تورات اور انجیل میں بہت سے ایسے واقعات ہیں جن کا کسی تاریخ میں کہیں نام ونشان نہیں نیز شق قمر کا واقعہ رات کا واقعہ ہے جو عموما لوگوں کے آرام کا وقت ہے جو صرف تھوڑی دیر کے لئے رہا اس لئے اگر عام طور پر لوگوں کو علم بھی نہیں ہوتا نیز اختلاف مطالع کی وجہ سے بہت سے مقامات پر اس وقت دن ہوگا اور کسی جگہ آدھی رات ہوگی عموما لوگ سوئے ہوں گے اور کھلے آسمان کے نیچے بھی ہوں تو عادۃ یہ ضروری نہیں ہے کہ سب لوگ آسمان کی طرف نظریں اٹھائے تک رہے ہوں اور زمین پر پھیلی ہوئی چاندنی پر کوئی فرق چاند کے ٹکڑے ہونے سے نہیں آسکتا بار ہا چاند گہن لوگوں کو نظر نہیں آتا بایں ہمہ تاریخ فرشتہ میں اس کا ذکر موجود ہے اور شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی (رح) نے اس کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا ہے ہندوستان میں مہاراجہ مالبیار کے اسلام کا سبب مؤرخین اسی واقعہ کو کہتے ہیں اگر عام تاریخوں میں یہ واقعہ مذکور نہیں تو اس سے اس واقعہ کی تکذیب کیسے ہوسکتی ہے یوں تو عام تاریخوں میں قوم عاد وثمود کے بھی واقعات نہیں ملتے نیز اس معجزہ سے مقصود فقط اہل مکہ کو دکھلانا اور ان پر حجت تمام کرنا تھا وہ مقصود حاصل ہوگیا اور تمام عالم کو تو دکھلانا مقصود بھی نہ تھا نیز کسی شی کا دیکھنا اللہ کے دکھلانے پر موقوف ہے اگر کوئی شے نظروں کے سامنے بھی ہو اور اللہ تعالیٰ نہ دکھلانا چاہیں تب بھی وہ شے نظر نہیں آتی پھر یہ کہ اس زمانہ میں رصد گا ہیں نہیں تھیں کہ پہلے سے بذریعہ اخبار اطلاع ہوتی۔ معجزہ رد شمس : حضور اکرم ﷺ کے مشہور معجزات میں سے معجزہ رد شمس بھی ہے یعنی آفتاب کا غروب ہو کر پھر نکل آنا اسماء بنت عمیس ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ خیبر کے قریب مقام صہباء میں تھے اور سر مبارک حضرت علی ؓ کرم اللہ وجہہ کی کو گود میں تھا اور ہنوز حضرت علی ؓ نے عصر کی نماز نہیں پڑھی تھی کہ اسی حالت میں وحی کا نزول شروع ہوگیا یہاں تک کہ آفتاب غروب ہوگیا، حضور اکرم ﷺ نے پوچھا کہ تم نے عصر کی نماز پڑھی، عرض کیا نہیں حضور ﷺ اسی وقت دست بدعا ہوئے اور عرض کیا کہ اے اللہ علی ؓ تیرے رسول کی اطاعت میں تھا آفتاب کو واپس بھیج دیں تاکہ نماز عصر اپنے وقت پر ادا کرسکے اسماء بنت عمیس ؓ کہتی ہیں کہ آفتاب غروب کے بعد لوٹ آیا اور اس کی شعاعیں زمین اور پہاڑوں پڑیں امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں ابن جوزی (رح) اور ابن تیمیہ (رح) نے اس حدیث کو موضوع اور بےاصل بتلایا ہے اور شیخ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہنے اس حدیث کے بارے میں ایک مستقل رسالہ لکھا اور اس کا نام ” کشف اللبس عن حدیث رد شمس “۔ رکھا جس میں حد یث کے طرق اور اسانید پر کلام پر کلام فرمایا اور اس حدیث کا صحیح ہونا ثابت کیا اور علامہ زرقانی (رح) نے بھی شرح مواہب میں اس حدیث کا صحیح اور مستند ہونا ثابت کیا ہے، نسیم الریاض شرح شفاء قاضی از ص 10 جلد 3 ص 13 جلد 3 زرقانی ص 113 ج 5 تا ص 116 ج 5 ملاحظہ فرمائیں۔ معجزہ حبس شمس : بعض ضعیف روایتوں میں ہے کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ کے لیے تھوڑی دیر کے واسطے آفتاب کی حرکت روک دی گئی یہ روایت محدثین کے نزدیک معتبر نہیں زرقانی ص 118 ج 5 ونسیم الریاض ص 14 جلد 3 وشرح شفاء للعلامۃ القاری ص 591 ج 1۔ چونکہ شق قمر اور رد شمس اور حبس شمس یہ تینوں معجزے متقارب تھے اس لئے ہم نے انکو بھی شق قمر کے سلسلہ میں ذکر کردیا یہ معجزہ مکہ مکرمہ میں واقع ہوا۔ آنحضرت ﷺ نے جب معراج سے واپسی پر قریش کے سامنے اسراء ومعراج کی کیفیت بیان کی تو قریش نے بیت المقدس کی علامتیں دریافت کیں اور آپ ﷺ سے ایک قافلہ کا حال پوچھا جو بغرض تجارت شام کی طرف گیا ہوا تھا کہ وہ قافلہ کب واپس آئے گا آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ قافلہ بدھ کا دن اخیر ہونے لگا تو کفار نے شور مچایا اس وقت آنحضرت ﷺ نے دعا فرمائی اللہ تعالیٰ نے آفتاب کو اسی جگہ ٹھہرا دیا جہاں تھا یہاں تک کہ قافلہ آگیا اس طرح اللہ تعالیٰ نے آپکی تصدیق ظاہر فرمائی۔ 1 حاشیہ (ماخوذ از سیرت المصطفی ج اول۔ حضرت مولانا محمد ادریس کا ندہلوی (رح)