53. Surah An-Najm

النجمThe Star · 62 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 53:1–18

وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰىۙ Open ayah 53:1 in the Quran reader

تارے کی قسم جب غائب ہونے لگے

مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا غَوٰىۚ Open ayah 53:2 in the Quran reader

کہ تمہارے رفیق (محمد ﷺ نہ راستہ بھولے ہیں نہ بھٹکے ہیں

وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰىؕ Open ayah 53:3 in the Quran reader

اور نہ خواہش نفس سے منہ سے بات نکالتے ہیں

اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰىۙ Open ayah 53:4 in the Quran reader

یہ (قرآن) تو حکم خدا ہے جو (ان کی طرف) بھیجا جاتا ہے

عَلَّمَهٗ شَدِیْدُ الْقُوٰىۙ Open ayah 53:5 in the Quran reader

ان کو نہایت قوت والے نے سکھایا

ذُوْ مِرَّةٍ١ؕ فَاسْتَوٰىۙ Open ayah 53:6 in the Quran reader

(یعنی جبرئیل) طاقتور نے پھر وہ پورے نظر آئے

وَ هُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰىؕ Open ayah 53:7 in the Quran reader

اور وہ (آسمان کے) اونچے کنارے میں تھے

ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ Open ayah 53:8 in the Quran reader

پھر قریب ہوئے اور آگے بڑھے

فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰىۚ Open ayah 53:9 in the Quran reader

تو وہ کمان کے فاصلے پر یا اس سے بھی کم

فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰىؕ Open ayah 53:10 in the Quran reader

پھر خدا نے اپنے بندے کی طرف جو بھیجا سو بھیجا

مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى Open ayah 53:11 in the Quran reader

جو کچھ انہوں نے دیکھا ان کے دل نے اس کو جھوٹ نہ جانا

اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰى مَا یَرٰى Open ayah 53:12 in the Quran reader

کیا جو کچھ وہ دیکھتے ہیں تم اس میں ان سے جھگڑتے ہو

وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 53:13 in the Quran reader

اور انہوں نے اس کو ایک اور بار بھی دیکھا ہے

عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى Open ayah 53:14 in the Quran reader

پرلی حد کی بیری کے پاس

عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰىؕ Open ayah 53:15 in the Quran reader

اسی کے پاس رہنے کی جنت ہے

اِذْ یَغْشَى السِّدْرَةَ مَا یَغْشٰىۙ Open ayah 53:16 in the Quran reader

جبکہ اس بیری پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا

مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى Open ayah 53:17 in the Quran reader

ان کی آنکھ نہ تو اور طرف مائل ہوئی اور نہ (حد سے) آگے بڑھی

لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰیٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى Open ayah 53:18 in the Quran reader

انہوں نے اپنے پروردگار (کی قدرت) کی کتنی ہی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں

اثبات عظمت نبوت و محبت اقوال رسول اللہ ﷺ وعصمت حیات طیبہ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” والنجم اذا ھوی ...... الی ....... من ایت ربہ الکبری : (ربط) گذشتہ سورت توحید خداوندی اور دلائل قدرت اور اثبات حشر ونشر کے مضامین پر مشتمل تھی اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا بیان ہے اور یہ کہ رسول خدا ﷺ کا ہر قول وعمل وحی الہی ہے پیغمبر کی ہر بات اور ان کا ہر عمل امت کے واسطے قانون اور اسوہ بنایا گیا ہے اللہ کے پیغمبر کی کوئی بات اور اس کی زبان سے نکلا ہوا کوئی لفظ خود اس کی خواہش سے نہیں ہوتا بلکہ اللہ کی وحی ہی ہوتا ہے جس طرح کہ قرآن اللہ کی وحی ہے بس فرق اتنا ہے کہ قرآن اللہ کا کلام لفظ اور معنی دونوں کا مجموعہ ہے اور حدیث رسول میں الفاظ اگر آپ ﷺ کے ہیں مگر معنی اور حکم اللہ ہی کا ہے ارشاد فرمایا۔ قسم ہے ستارہ کی جب کہ وہ غروب ہونے لگے یقیناً یہ تمہارے ساتھی جو ہمہ وقت تمہاری نظروں کے سامنے ہیں اور جن کی سیرت اور تعلیمات وہدایات قیامت تک کے واسطے امت کے ساتھ ہیں نہ تو راہ حق سے بھٹکے کہ بھول کر یا غلطی وخطاء سے راہ حق سے چوک گئے ہوں اور نہ ہی غلط راستہ اختیار کیا کہ جانتے اور دیکھتے ہوئے کسی غرض اور مقصد کی خاطر غلط راستہ اختیار کرلیا جائے اس طرح یہ ہر غلطی اور گمراہی سے محفوظ ومعصوم ہیں اور نہ بولتے ہیں کوئی لفظ اپنی زبان سے اپنی خواہش سے بلکہ ان کا تو زبان سے بولا ہوا ہر لفظ وہ اللہ کی وحی ہی ہوتا ہے جس کی وحی ان کو کی جاتی ہے جیسے کہ قرآن اپنے لفظ اور معنی کے ساتھ آپ ﷺ پر نازل ہوتا ہے اس طرح یہ الفاظ وکلمات جو آپ ﷺ کی زبان مبارک سے صادر ہوئے ہیں یہ ان ہی معانی اور احکام کی تعبیر ہیں جو احکام اور مضمون آپ ﷺ پر نازل کیا جاتا ہے تو آپ ﷺ اللہ کی مقرر کردہ راہ پر ایسی طرح قائم ہیں اور اسی پر آپ ﷺ کی زندگی کا ہر قول وفعل حتی کہ زبان سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ اور جملہ احوال و کیفیات مطابقت وموافقت کے ساتھ جاری ہیں کہ سرمو بھی اس خط مستقیم سے انحراف نہیں جس طرح کہ ستارہ طلوع سے لے کر غروب تک اپنی پوری مسافت اسی خط پر قائم رہتے ہوئے پوری کرتا ہے جو اس کے واسطے مقرر کردیا گیا نہ وہ اپنی سمت بدلتا ہے نہ منزل سے ادھر یا ادھر اپنا رخ موڑتا ہے اور جس طرح ستارے مسافروں کے لئے رہنمائی کا سامان ہیں اسی طرح آپ ﷺ کی حیات مبارکہ از ابتدا، تا انتہاء تمام عالم کے واسطے رہنما ہے۔ 1 حاشیہ (آیت ) ” والنجم اذا ھوی “۔ قسم ہے ستارہ کے غروب کی، قسم کھا کر جواب قسم کو (آیت ) ” ما ضل صاحبکم “۔ کے الفاظ میں بیان فرمایا گیا ان کلمات سے قسم اور جواب قسم میں ربط اور مناسبت انشاء اللہ بخوبی واضح ہے اصل مضمون تھا آنحضرت ﷺ کی حیات مبارکہ کے کمال استقامت کا اور یہ کہ اس میں نہ بھول چوک سے غلطی کا احتمال ہے اور نہ جان بوجھ کر وہ راہ حق سے العیاذ باللہ منحرف ہوسکتے ہیں وہ منحرف تو کیا ہوں گے ان کی زندگی کے تو ہر قول وفعل کو آسمانوں کے تاروں کی طرح رہنما اور سمت ومنزل معلوم کرنے کا ذریعہ بنایا ہے کہ آپ ﷺ کے اسوۂ مبارکہ سے تمام دنیا راہ ہدایت پاسکتی ہے اس پر چل سکتی ہے اور اس پر چل کر منزل فلاح وسعادت تک پہنچ سکتی ہے غروب کی طرح طلوع بھی قدرت خداوندی کا عظیم نمونہ ہے مگر ممکن ہے کہ غروب سے قریب وقت دیکھ کر طالبان ہدایت کو مزید توقف کرنے کی گنجائش نہیں سمجھنی چاہئے بلکہ یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اب بھی اگر حصول ہدایت میں تاخیر کی تو پھر یہ باقی ماندہ مہلت اور موقعہ بھی ختم ہوجائے گا تو اسی طرح آنحضرت ﷺ کی حیات مبارکہ اور آپ ﷺ کی تعلیمات کو غنیمت سمجھنا چاہئے پھر یہ کہ طلوع سورج سے ستاروں کا غروب ہے تو اشارہ ہوسکتا ہے آنحضرت ﷺ کے خاتم الانبیاء ہونے کہ جانب کہ وہ تمام انبیاء سابقین جو اپنی اپنی جگہ اپنی قوموں کی رہنمائی کے لیے ستاروں کی مانند تھے اب خاتم الانبیاء کے آفتاب نبوت کے طلوع ہونے پر سب غائب ہوگئے اور جس طرح سورج کا نور تمام ستاروں کو مغلوب ومستور کردیتا ہے اسی طرح یہ آفتاب نبوت بھی (آیت ) ” لیظھرہ علی الدین کلہ “ کا پیکر بنکر طلوع ہورہا ہے۔ اللہ اعلم بالصواب ) سکھایا ہے انکو ایک بڑے مضبوط قوی والے طاقت ور فرشتہ نے جو پیدائشی طور پر نہایت قوی اور زور آور ہے یہاں تک کہ اس نے قوم لوط کی بستیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا تھا نہایت ہی حسن و جمال والا ہے یعنی جبریل امین (علیہ السلام) پھر وہ سیدھا ہو بیٹھا اور حال یہ کہ وہ آسمان کے اونچے کنارہ پر تھا جب کہ آنحضرت ﷺ نے جبریئل امین (علیہ السلام) کو ابتداء وحی کے زمانہ میں آسمان کے مشرقی کنارہ پر ان کی اصلی صورت میں دیکھا کہ ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے ہیں اور آسمان کے ایک کنارے سے لے کر دوسرے کنارے تک خلا کو پر کر رکھا ہے جس سے آپ ﷺ پر ہیبت اور کپکپی طاری ہوگئی تھی اور گھر آکر فرمایا تھا کہ ” دثرونی، دثرونی “۔ اور اس پر (آیت ) ” یایھا المدثر قم فانذر “۔ آیات نازل ہوئیں پھر وہ نزدیک ہوا اور لٹک آیا پھر اس قدر نزدیک ہوا کہ آپ سے صرف دو کمانوں کے برابر رہ گیا یا اس سے بھی نزدیک اور اپنے اصلی مستقر سے تعلق رکھنے کے باوجود نیچے اترا اور انتہائی نزدیکی اور قرب اختیار کرلیا پھر حکم بھیجا اللہ نے اپنے بندہ پر جو بھی حکم بھیجا اور جو اس کی مشیت ہوئی جھوٹ۔۔۔۔۔ کہا دل نے اس چیز کو جو رسول اللہ ﷺ نے اپنی آنکھ سے دیکھی آپ ﷺ کا دل آنکھ کے مشاہدہ پر مطمئن تھا اور اس کی تصدیق کررہا تھا کہ یہ بات نہ تھی کہ آنکھ کسی چیز کو دیکھتی ہو مگر اندر سے دل مطمئن نہ ہو اور تصدیق نہ کرتا ہو۔ تو اے لوگو ! کیا تم جھگڑ رہے ہو اس چیز پر جو ہمارا بندہ دیکھ رہا ہے اس ایک مرتبہ کی رؤیت پر کفار قریش اور منکرین کیا جھگڑ رہے ہیں اور کیوں تعجب کررہے ہیں اور بیشک ہمارا اس بندہ نے اسکو ایک بار اور بھی دیکھا ہے اترتے ہوئے سدرۃ المنتہی کے پاس جس کے آرام اور راحت کی بہشت ہے جب کہ آپ ﷺ شب معراج میں ساتویں آسمان پر پہنچے اور اس سے اوپر سدرۃ المنتہی اس بیری کے درخت کو دیکھا جو لوح محفوط سے دنیا میں نازل ہونے والے احکام خداوندی اور عالم زمین کے جملہ احوال و اعمال جو بارگاہ خداوندی میں پیش ہونے والے ہوتے ہیں، میں ان کا منتہی و مرکز ہے بس اسی کے قریب جنت الخلد ہے جس کو دیکھا اور یہ بیری کا نام محض دنیا والوں کو سمجھانے کیلئے ہے یہ نہیں کہ دنیا کے بیری کے درختوں کے مشابہ ہو بلکہ اس کی شان اور عظمت وخوب صورتی اس عالم کے مناسب اور شایان شان ہوگی جس طرح جنت کے انگور، انار پھل اگرچہ دنیاوی پھلوں کے نام سے تعبیر کئے گئے مگر ظاہر ہے کہ دنیا کے پھلوں کو ان سے کوئی بھی نسبت نہیں جب کہ ڈھانک رہی تھی اس سدرۃ المنتہی کو ایک ایسی چیز جس نے اس کو چھپا رکھا تھا کہ انوار و تجلیات اس پر اس طرح برس رہی تھیں کہ ہجوم انوار اور شدت تجلیات یا انوار و تجلیات پر برسنے والے خوش رنگ سنہرے پروانوں نے اسکو ڈھانک رکھا تھا جس طرح کہ سورج کی شعاعیں سورج کے کرہ کو نگاہوں سے چھپا لیتی ہیں تو ان تجلیات وانوار کے نزول کے وقت باوجود انکی شدت و کثرت کے آپ کی نگاہ نہ بہکی اور نہ حد سے آگے بڑھی، نہ ٹیڑھی اور ترچھی ہو کر دائیں سے بائیں مڑی اور نہ نگاہ مقام نظر سے آگے بڑھی بلکہ نظر محل نظر پر پوری قوت اور تثبت کے ساتھ جمی رہی یہ نہیں کہ اچٹتی نظر سے کوئی چیز نظر کے سامنے آگئی ہو تو، جو کچھ دیکھا وثوق ویقین کے ساتھ دیکھا اور جو کچھ نظر نے دیکھا دل اس پر مطمئن ہوا اور اس کی تصدیق کی بیشک آپ نے دیکھا اپنے رب کی عظیم الشان نشانیوں سے بڑی بڑی نشانیوں کو اور قدرت کے ایسے نمونے دیکھے کہ حق تعالیٰ کی عظمت وکبریائی کا پورا پورا مشاہدہ ہوگیا۔ شب معراج میں مشاہدہ آیات قدرت : سورة النجم کی ابتدائی آیات میں آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کو ثابت کیا گیا اور اپ ﷺ کے ہر قول وعمل کو وحی الہی اور اس کا حجت اور نمونہ ہدایت ہونا ذکر کیا گیا اور یہ کہ حق تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ کو ایسا مقام عصمت و حفاظت کا عطا کیا گیا ہے، کہ باارادہ یا بلا ارادہ راہ حق سے سرموانحراف اور لغزش کا احتمال نہیں رہا اور ظاہر ہے کہ بغیر اس مقام عصمت کے وہ ذات ہادی عالم کیونکر بنائی جاسکتی تھی ظاہر ہے کہ جو خود غلطی اور گمراہی کا شکار ہوسکتا ہو وہ دوسروں کا ہادی ورہنما کیسے ہوگا اس لئے عصمت کا لازمہ نبوت ہونا عقلا بھی ثابت ہوا تو ابتداء میں آپ ﷺ کی شان رسالت بیان کرتے ہوئے اصل مقصد یعنی شب معراج میں آیات کبری اور قدرت کی عظیم نشانیوں کے مشاھدہ کا مضمون شروع فرمایا گیا پہلی اور دوسری آیت میں تو ستارے کے غروب کی قسم کھا کر یہ اعلان فرمایا گیا کہ (آیت ) ” ما ضل صاحبکم وما غوی “۔ اس ضمن میں آنحضرت ﷺ کی حیات مبارکہ کی عصمت و حفاظت ظاہر فرمائی گئی اور یہ کہ حق تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ہر لغزش اور گمراہی سے محفوظ فرمایا ہے پھر تیسری اور چوتھی آیت میں آپ ﷺ کے ہر نطق کی خواہشات نفس سے پاکی کا ذکر فرماتے ہوئے فرمایا گیا کہ وہ وحی الہی ہے اور شریعت میں جو درجہ وحی الہی اور قرآن کریم کا ہے وہی درجہ آپ ﷺ کے فرمان مبارک کا ہے اور اس سے ذرہ برابر انحراف کرنے کی کسی بھی مومن کو قطعا گنجائش نہیں جیسے کہ ارشاد فرمادیا گیا (آیت ) ” فلا وربک لا یؤمنون حتی یحکموک فیما شجر بینھم ثم لا یجدوا فی انفسھم حرجا مما قضیت ویسلموا تسلیما “۔ شان رسالت کی اس تحقیق وتثبیت اور حجیت اقوال رسول ﷺ کے بعد پانچویں آیت ” علمہ شدید القوی “۔ سے وحی الہی لانے والے قاصد فرشتہ کی قوت اور عظمت بیان کی گئی کہ وہ قاصد پیغامات خداوندی پہنچانے میں نہ مرعوب ہوسکتا ہے اور نہ کوئی طاقت اور زور اس کو مغلوب کرسکتا ہے اور نہ کوئی طاقت اور زور اس کو مغلوب کرسکتا ہے، کیونکہ وہ خود ہی ایسے مضبوط قوی اور زور والا ہے اس کے ساتھ ظاہری حسن و جمال اور وقار کا بھی پیکر ہے، جیسا کہ ابن عباس ؓ (آیت ) ” ذو مرۃ “۔ کی تفسیر میں۔ ذو منظر حسن ‘۔ فرماتے ہیں۔ 1 حاشیہ (تفسیر ابن کثیر۔ قرطبی، روح المعانی ) لہذا معلوم ہوگیا کہ رسول ﷺ خدا پر وحی لانے والا قاصد بھی کسی تقصیر وغلطی کا شکار نہیں ہوسکتا پھر اللہ کے رسول ﷺ نے اس قاصد کو خوب اچھی طرح پہچانا اس کو دیکھا اور نہایت قریب سے بھی دیکھا کہ پہلے افق اعلی پر نمایاں ہوا پھر اور قریب ہوا اور افق سماء کی بلندی سے نیچے کی طرف نزول کیا اور اتنا قریب ہوا کہ دو کمانوں یا اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا اور آنکھ کے مشاہدہ کی دل بھی تصدیق کرنے لگا تو ایسی قوتوں والے قاصد نے اس قرب کے بعد جو پیغام دیا اور پہنچا یا وہ یقیناً ہر طرح حجت ہے۔ ایک مرتبہ کی رؤیت کے بعد دوسری مرتبہ کی رؤیت (آیت ) ” ولقد راہ نزلۃ اخری “۔ سے بیان فرمائی گئی اس دوسری رؤیت کا محل اور مقام ساتواں آسمان اور سدرۃ المنتہی تھا جس کا مشاہدہ آپ ﷺ نے شب معراج میں فرمایا تو اس طرح ان ابتدائی مضامین کے بعد شب معراج کے احوال کی طرف کلام منتقل ہوا اور سدرۃ المنتہی کے قریب جنت الماوی ہونا اور سدرۃ المنتہی پر انوار و تجلیات کے برسنے کا ذکر فرمایا گیا اور یہ کہ وہاں آپ ﷺ نے اپنے رب کی آیات کبری کا مشاہدہ فرمایا۔ روایات صحیحہ سے یہ بات تو ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جبریل امین (علیہ السلام) کو ان کو اصلی صورت میں جس پر انکو پیدا کیا گیا دو مرتبہ دیکھا ہے ایک مرتبہ مکہ مکرمہ میں جب کہ غار حرا میں وحی نازل ہوچکنے کے بعد سلسلہ وحی رک گیا تھا اور وحی کے شوق وانتظار میں بےچین ہو کر باہر میدانوں اور پہاڑوں کی طرف نکل جائے تو اس زمانہ میں ایک مرتبہ جبرئیل کو دیکھا کہ آسمان و زمین کے درمیان اپنی عظیم جسامت سے افق سما کر گھیرے ہوئے ہیں اس عظیم الشان فرشتہ کو دیکھ کر آپ ﷺ پر رعب اور کپکپی طاری ہوگئی اور آپ ﷺ گھر لوٹے اور فرمایا۔ دثرونی، دثرونی ،۔ (جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا) دوسری مرتبہ جبریل امین (علیہ السلام) کو اصلی صورت میں شب معراج میں دیکھاجس کا ذکر (آیت ) ” ولقد راہ نزلۃ اخری عند سدرۃ المنتھی “۔ میں ہے اور اس رؤیت کو جبرئیل (علیہ السلام) کی رؤیت پر اور ان ہی کے قرب اور تدلی پر محمول کرنے والے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اور حضرت عائشہ ؓ ہیں اور ابوذر ؓ کی روایت کو بھی بعض ائمہ محدثین اسی کے مطابق قرار دیتے ہیں۔ تو اس طرح رؤیت جبرئیل (علیہ السلام) ایک مرتبہ زمین پر ہوئی اور ایک مرتبہ ملکوت سماوات پر سدرۃ المنتہی کے قریب، ابن جریر ؓ نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے (آیت ) ” فکان قاب قوسین “۔ کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ یہ قرب جبرئیل (علیہ السلام) کا تھا اور (آیت ) ” فاوحی الی عبدہ ما اوحی “۔ کے بھی معنی یہ بیان کئے کہ جبرئیل (علیہ السلام) نے وحی کی اللہ کے بندہ محمد ﷺ کو جو بھی وحی کی ، حضرت شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں (دوسری بار جبرئیل (علیہ السلام) کو اپنی اصلی صورت پر دیکھا ) لیکن اس کے بالمقابل ایک جماعت صحابہ میں سے اس بات کی قائل تھی کہ شب معراج میں آنحضرت ﷺ کو رؤیت خداوندی حاصل ہوئی ہے اور یہ قرب اور تدلی حق تعالیٰ کے قرب اور تدلی پر جیسے بھی اس کے شان کے لائق ہو، محمول ہے، حضرت عبداللہ بن عباس ؓ انس ؓ بن مالک اور حسن بصری (رح) اسی کے قائل تھے کہ رؤیت بصریہ ہوئی ہے اور ان کے علاوہ صحابہ اور تابعین کے طبقہ میں بھی متعدد حضرات رؤیت باری تعالیٰ کے قائل تھے، عکرمہ ؓ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے لیکن ترمذی میں عکرمہ ؓ کی روایت سے اس نسبت میں تردد معلوم ہوتا ہے عکرمہ ؓ بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا، رای محمدربہ (کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے) میں نے عرض کیا، کیا حق تعالیٰ کا یہ ارشاد نہیں ہے (آیت ) ” لا تدرکہ الابصار “ کہ نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں فرمایا ”۔ ویحک “۔ (تجھ پر افسوس) یہ تو اس صورت میں کہ حق تعالیٰ متجلی ہو اپنے اس نور کے ساتھ جو اس کا نور ذاتی ہے اور آنحضرت ﷺ نے اپنے رب کو دو مرتبہ دیکھا ہے اور عکرمہ ؓ نے یہ بھی بیان کیا کہ ابن عباس ؓ کی حضرت کعب ؓ احبار سے ملاقات ہوئی تو اس ملاقات میں کعب ؓ کہنے لگے ان اللہ تعالیٰ قسم رؤیتہ وکلامہ بین محمد وبین موسیٰ فکلم موسیٰ مرتین ورأہ محمد مرتین۔ 1 حاشیہ (جامع ترمذی ) (کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور کلام محمد ﷺ وموسی (علیہ السلام) کے درمیان تقسیم کردیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے دو مرتبہ اللہ سے کلام کیا اور محمد رسول اللہ ﷺ نے دو دفعہ اللہ رب العزت کا دیدار کیا) اور مسروق ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کیا، کیا محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے، فرمایا مسروق (رح) تو نے ایسی بات کہہ دی کہ میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے بیان کرتے ہیں میں نے عرض کیا اے ام ال مومنین ؓ ذرا ٹھہرائے (اور مجھے مہلت دیجئے) کہ کچھ عرض کروں اور میں نے یہ آیت پڑھی۔ (آیت ) ” لقد رای من ایات ربہ الکبری “۔ فرمایا تو اس آیت کو کہاں لے جارہا ہے یہ تو جبریل (علیہ السلام) کی رؤیت کا بیان ہے۔ صحیح مسلم میں ابوذر ؓ سے روایت ہے بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا ”۔ ھل رأیت ربک “۔ ارشاد فرمایا۔ نور انی اراہ۔ ایک روایت میں۔ رأیت نورا ‘۔ اور بعض شارحین نے ’۔ نورانی أراہ “۔ کو ’؛۔ نورانی اراہ “۔ پڑھا ہے یعنی وہ ذات رب جس کو میں نے دیکھا ہے وہ نور والی ذات ہے کہ میں اس کا دیدار کررہا ہوں۔ عکرمہ ؓ سے بروایت ترمذی اگرچہ ابتداء ابن عباس ؓ کی بات پر تردد اور اشکال ظاہر ہورہا ہے لیکن حافظ ابن کثیر (رح) نے۔ حاشیہ (تفسیر ابن کثیر جلد 4) بروایت ابن ابی حاتم عباد بن منصور (رح) سے یہ بیان کیا ہے کہ میں نے عکرمہ ؓ سے (آیت ) ” ماکذب الفؤاد مارای “۔ کی تفسیر دریافت کی تو عکرمہ ؓ کہنے لگے کہ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں تمہیں یہ بتاؤں کہ رسول اللہ ﷺ نے خدا کا دیدار کیا ہے میں نے کہا جی ہاں فرمایا ہاں دیکھا ہے اور ایک دفعہ کے بعد پھر ایک بار اور بھی دیکھا ہے۔ خاتم المحدثین حضرت سید انور شاہ کشمیری اور استاذی شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی (رح) کی رائے یہ ہے کہ معراج میں آنحضرت ﷺ کو رؤیت خداوندی ہوئی ہے، مشکلات القرآن میں حضرت شاہ صاحب (رح) نے ان آیات پر کلام فرمایا اور اس تحقیق کو استاذ محترم نے فتح الملہم شرح صحیح مسلم میں مدار تحقیق اور حل مسئلہ کے طور پر اختیار فرمایا حضرت شاہ صاحب (رح) نے ان آیات النجم کے مضمون کو تین حصوں پر اور تین حالتوں کے بیان پر محمول فرمایا جس کا حاصل یہ ہے کہ ابتدائی تین آیات میں اللہ نے موحی الیہ یعنی اپنے رسول کا ذکر فرمایا کہ استقامت علی الحق اور عصمت و حفاظت کا یہ مقام ہے اور ان کا ہر قول وفعل وحی الہی ہے موحی الیہ کے بیان کے بعد واسطہ وحی یعنی وحی پہنچانے والے قاصد کی عظمت وقوت کا بیان ہوا اور یہ کہ موحی الیہ کو واسطہ وحی اور قاصد سے معرفت اور قرب بھی ہے جو افق اعلی کے عنوان سے ذکر کیا گیا اس کے بعد کی آیات اس حالت کو بیان کررہی ہیں جو موحی الیہ اور رب العزت کے مابین شب معراج میں واقع ہوئی وہ قرب و دیدار ہے جس کو (آیت ) ” ما کذب الفؤاد ما رای “ ، میں بیان فرمایا گیا اور جن آیات کے دکھلانے کے لئے سفراسراء کرایا گیا جس کو فرمایا گیا۔ (آیت ) ” لنریہ من ایاتنا “۔ (تاکہ دکھائیں ہم اپنی عظیم آیات ونشانیاں) عروج سموات اور سدرۃ المنتہی پر اس وعدہ کی تکمیل کرکے فرما دیا گیا (آیت ) ” لقد رای من ایات ربہ الکبری “۔ تو اگر یہ آیت صرف رؤیۃ جبریل (علیہ السلام) ہوتی تو نہ تو اس کے وعدہ کی ضرورت تھی اور نہ ہی اسکو عظیم ترین آیات میں شمار کیا جاتا۔ کیونکہ جبریل امین (علیہ السلام) کی رؤیت تو اصلی صورت میں پہلے ہی آغاز وحی کے زمانہ میں ہوچکی تھی جو معراج سے آٹھ نو برس قبل کا زمانہ تھا تو پھر ظاہر ہے (آیت ) ” لنریہ “۔ سے جس چیز کے دکھانے کا وعدہ ہورہا ہے وہ وہی چیز ہوسکتی ہے جس کو آپ ﷺ نے پہلے نہ دیکھا ہو علاوہ ازیں جبریل (علیہ السلام) تو آپ ﷺ کے وزیر تھے جیسا کہ احادیث صحیحہ وصریحہ سے ثابت ہے تو پھر صرف انکے دیدار کے لیے معراج جیسا عظیم الشان معجزہ مقدر فرمانا قرین قیاس نہیں معلوم ہوتا تھا اس وجہ سے بھی یہی راجح معلوم ہوتا ہے کہ اس تیسرے حصہ آیات میں قرب خداوندی اور دیدار خداوندی کا بیان ہے جس کے لئے سیر ملکوت سموت کرائی گئی اور سدرۃ المنتہی سے بلند مقام تک پہنچایا گیا پھر جب کہ حضرات صحابہ ؓ کی ایک جماعت اس کی قائل تھی اور آیات کا انطباق بھی بلاتکلف وتردد ہورہا ہے تو معراج میں دیدار خداوندی ماننے میں کوئی اشکال باقی نہیں رہتا۔ آیت مبارکہ (آیت ) ” لاتدر کہ الابصار “۔ سے پیدا ہونے والے اشکال حل کرنے کے لئے استاذ محترم شیخ الاسلام (رح) اپنے فوائد میں فرماتے ہیں۔ لیکن یاد رہے کہ یہ رؤیت وہ نہیں جس کی نفی آیت ”۔ لاتدر کہ الابصار “۔ میں کی گئی ہے کیونکہ اس سے غرض احاطہ کی نفی کرنا ہے یعنی نگاہیں اس کا احاطہ نہیں کرسکتیں (جیسے کہ مادی چیزوں کی حقیقت کا احاطہ اور ماہیت کا ادراک ہوجاتا ہے) علاوہ بریں ابن عباس ؓ سے جب سوال کیا گیا کہ دعوائے رؤیت آیت ”۔ لاتدر کہ الابصار “۔ کے مخالف ہے تو فرمایا ویحک ذاک اذا تجلی بنورہ الذی ھو نورہ “۔ (رواہ الترمذی) معلوم ہوا کہ خداوندی قدوس کی تجلیات وانوار متفاوت ہیں بعض انوار قاہرہ للبصر ہیں بعض نہیں اور رؤیت فی الجملہ دونوں پر صادق آتی ہے اور اسی لئے کہا جاسکتا ہے کہ جس درجہ کی رؤیت مومنین کو آخرت میں نصیب ہوگی جب کہ نگاہ ہیں تیز کردی جائیں گی جو اس تجلی کو برداشت کرسکیں گی وہ دنیا میں کسی کو حاصل نہیں ہاں ایک خاص درجہ کی رؤیت سیدنا محمد رسول اللہ علیہ الصلوۃ والتسلیم ‘۔ کو شب معراج میں ابن عباس ؓ کی روایت کے موافق میسر ہوئی اور اس خصوصیت میں کوئی بشر آپ ﷺ کا شریک وسہیم نہیں نیز انھی انوار و تجلیات کے تفاوت اور تنوع پر نظر کرتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ (حضرت) عائشہ ؓ (حضرت) ابن عباس ؓ کے اقوال میں کوئی تعارض نہیں شاید وہ نفی ایک درجہ میں کرتی ہوں اور یہ اثبات دوسرے درجہ میں کررہے ہوں اور اسی طرح ابوذر ؓ کی روایات ”۔ رایت نورا۔ اور، نورانی اراہ، یا نور انی اراہ “۔ میں تطبیق ممکن ہے واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم انتہی کلامہ من فوائدہ۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت، راہ مرتین “۔ کی مراد بعض روایات کے الفاظ سے یہ کی جاتی ہے کہ مرۃ بقلیہ ومرۃ راہ بعینہ، لیکن یہ بھی امکان ہے کہ ایک مرتبہ کی رؤیت وہ ہو جو حالت منام میں ایک رات آپ ﷺ نے فرمائی جس کا ذکر حدیث اختصام ملاء اعلی میں ہے اور دوسری مرتبہ شب معراج میں جیسا کہ امام احمد بن حنبل (رح) نے ایک روایت میں ابن عباس ؓ سے مرفوعا یہ نقل کیا ”۔ قال رسول اللہ ﷺ رایت ربی عزوجل “۔ ان لفظوں کو روایت کرکے کہا ” فانہ حدیث اسنادہ علی شرط الصحیح۔ کہ یہ حدیث ایسی ہے کہ اس کی سند صحیح کی شرط پر ہے فرمایا لیکن یہ حدیث منام کا ایک مختصر حصہ ہے جیسا کہ احمد بن حنبل (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میرا رب میرے سامنے متجلی ہوا ایک بہترین صورت میں حالت نوم میں اور فرمایا اے محمد ! جانتے ہو کہ ؟ ملاء اعلی کس چیز میں خصومت کررہے ہیں میں نے کہا نہیں تو رب العزت نے اپنا دست بےمثال میرے دونوں شانوں کے درمیان رکھ دیا جس کی ٹھنڈک (لطافت وسکینت) میں اپنے سینہ کے درمیان محسوس کرنے لگا اس کے بعد پھر جب سوال کیا تو میں نے جواب دیا نعم فی الکفارات والدرجات الخ۔ بہرکیف ان قرائن اور دلائل سے آیات نجم کے اس تیسرے حصہ کو رؤیت خداوندی پر محمول کرنا واضح معلوم ہوتا ہے۔ مسئلہ کی اہمیت تو چاہتی تھی کہ اس کے متعلقہ پہلوؤں پر تفصیل سے کلام کیا جاتا لیکن ضیق مقام کے باعث اختصار کے ساتھ یہ نقول پیش کردیں اور ترجیح راجح کے طور پر حضرت شاہ صاحب (رح) اور استاذ محترم کی رائے ناچیز نے اپنی تعبیر میں پیش کردی میں اپنے علم وفہم کے قصور کے باعث نہیں کہہ سکتا کہ حضرت شاہ صاحب (رح) کی مراد بتمام و کمال واضح کرسکا یا نہیں حضرات قارئین سے اپنی تقصیر وکوتاہی پر عفو و درگذر کا طالب ہوں فاصفحوا الصفح الجمیل۔
Ayahs 53:19–25

اَفَرَءَیْتُمُ اللّٰتَ وَ الْعُزّٰىۙ Open ayah 53:19 in the Quran reader

بھلا تم لوگوں نے لات اور عزٰی کو دیکھا

وَ مَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى Open ayah 53:20 in the Quran reader

اور تیسرے منات کو (کہ یہ بت کہیں خدا ہوسکتے ہیں ؟ )

اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَ لَهُ الْاُنْثٰى Open ayah 53:21 in the Quran reader

(مشرکو ! ) کیا تمہارے لئے بیٹے اور خدا کے لئے بیٹیاں ؟

تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِیْزٰى Open ayah 53:22 in the Quran reader

یہ تقسیم تو بہت بےانصافی کی ہے

اِنْ هِیَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰىؕ Open ayah 53:23 in the Quran reader

وہ تو صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے گھڑ لئے ہیں خدا نے تو ان کی کوئی سند نازل نہیں کی یہ لوگ محض ظن (فاسد) اور خواہشات نفس کے پیچھے چل رہے ہیں حالانکہ ان کے پروردگار کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے

اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَنّٰى٘ۖ Open ayah 53:24 in the Quran reader

کیا جس چیز کی انسان آرزو کرتا ہے وہ اسے ضرور ملتی ہے ؟

فَلِلّٰهِ الْاٰخِرَةُ وَ الْاُوْلٰى۠ Open ayah 53:25 in the Quran reader

آخرت اور دنیا تو اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے

تنبیہ وتہدید برانکار توحید و رسالت وعدم حقیقت معبودان باطلہ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” افرء یتم اللت والعزی ...... الی ....... فللہ الاخرۃ والاولی “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کی رسالت ونبوت اور آپ کی عظمت ومنقبت کا بیان تھا اور اس کے ضمن میں معراج کے بعض خصوصی احوال کے ذکر سے حق تعالیٰ شانہ کی عظمت وکبریائی اور اس کی وحدانیت کا ذکر تھا اب ان آیات میں اس کے بالمقابل ابطال شرک اور شرک اور مشرکین کے معبودوں کی حقارت وبے بسی اور ایسے معبودوں کی پرستش کا خلاف عقل و فطرت ہونا بیان کیا جارہا ہے ارشاد فرمایا۔ تو پھر کیا اے لوگو ! تم نے حق تعالیٰ شانہ کے لامحدود عظمت و جلال اور اس کی عظیم نشانیوں کو سمجھ کر ان کے بالمقابل ان مشرکین کے معبودوں لات وعزی کو دیکھا اور ایک اور تیسرے معبود منات کو جن کی حقارت وذلت روز روشن کی طرح عیاں ہے ان حقیر معبودوں کا تو خدائے برتر کے ساتھ نام لینے میں بھی شرم کرنی چاہئے پھر ظلم یہ کہ یہ مشرکین ان کو خدا کی بیٹیاں تجویز کرتے ہیں (العیاذ باللہ) تو ایسے لوگوں سے پوچھو کیا تمہارے واسطے بیٹے ہوں اور اس کے واسطے بیٹیاں یہ تو اس صورت میں بہت ہی بھونڈی تقسیم ہے یہ تو بس صرف چند نام ہی ہیں جو تم نے رکھ لئے ہیں اور تمہارے باپ دادوں نے کہ اللہ نے جس کی کوئی دلیل نہیں اتاری حالانکہ خدا تو وہ ذات ہے جس کی وحدانیت وخالقیت کے لئے کائنات کا ایک ایک ذرہ دلیل ہوتا ہے یہ لوگ سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ محض اپنے گمان اور من گھڑت تخیلات کی پیروی کرتے ہیں اور ہر اس چیز کو جو انکے نفس کی خواہش ہو، حالانکہ ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے ہدایت آچکی ہے اور ایسا واضح اور سیدھا راستہ جس پر چل کر ہر انسان ہدایت وسعادت اور دین دنیا کی فلاح پاسکتا ہے نجات و کامیابی انسانی کے درست عقیدہ اور صحیح عمل پر موفوق ہے ایسا انسان جو عقائد ونظریات اور عمل کی گمراہیوں میں پڑا ہوا ہے اس کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ آخرت میں بھی اپنی کامیابی کے دعوے کرے جیسا کہ مشرکین مکہ کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ بت ہماری شفاعت کریں گے تو ایسے عقل وفہم کے دشمنوں سے کہ دیا جائے کہ انسان کے ہر وہ چیز ہے جس کی وہ تمنا کرے کوئی بھی صاحب عقل اسکو قبول نہیں کرسکتا یقیناً کامیابی عقائد کی درستگی اور اعمال صالحہ پر موقوف ہے جو اللہ تعالیٰ کا اتارا ہوا دین ہے پس اللہ ہی کے لئے ہے آخرت اور اس کی کامیابی اور اس سے قبل والی پہلی زندگی یعنی عالم دنیا اور اسکی سعادت و کامیابی کا یہ آرزوؤں اور تمناؤں سے کچھ ملتا ہے اور نہ اس قسم کے من گھڑت خیالات سے کہ یہ ہمارے بت ہمارے کام آئیں گے کوئی فائدہ نہ ہوگا بلکہ سوائے ہلاکت اور خسران کے کچھ حاصل نہ ہوگا لات وعزت اور مناۃ یہ مشرکین مکہ کے معبود تھے، عام اہل عرب میں سب سے زیادہ معظم اور بڑا معبود لات سمجھا جاتا تھا، پھر اس کے بعد عزی اور تیسرے درجہ کا معبود مناۃ سمجھا جاتا تھا، لات یہ ایک بت منقش قسم کی سفید چٹان پر طائف میں بنا رکھا تھا اور اس کے اردگرد ایک بت خانہ کے طور پر گھر سا بنارکھا تھا اور یہ لوگ اس کی خوبصورتی اور زیب وزینت (جو خود ان کی اپنے ہاتھوں سے بنائی ہوئی تھی) کے باعث دیگر قبائل عرب پر فخر کیا کرتے تھے ابن عباس ؓ سے منقول ہے یہ بت جاہلیت کے زمانہ کے ایک شخص کی طرف منسوب تھا جو حج کے موسم میں حاجیوں کے واسطے ستو گھولا کرتا تھا اوس اور خزرج کے لوگ اس کی زیادہ تعظیم و تکریم کرتے تھے مگر قریش اور بنوکنانہ عزی کو سب سے بڑا سمجھتے تھے جو کہ مکہ کے قریب ایک نخلستان میں تھا ابوسفیان ؓ نے یوم احد میں اسی کا نعرہ لگایا تھا، لنا العزی ولا عزی لکم، جس کے جواب میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ کہہ دو ” اللہ مولانا ولا مولی لکم “۔ تیسرا معبود مناۃ یہ مقام مشلل میں تھا جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ ہے دور جاہلیت میں قبیلہ خزاعہ اوس اور خزرج اسکی تعظیم کرتے تھے اور حج کے زمانہ میں یہاں سے احرام باندھ کر حج کا تلبیہ کہتے ہوئے کعبۃ اللہ کی طرف روانہ ہوا کرتے تھے معجم البلدان میں ذکر کیا ہے کہ مشرکین عرب بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے ان بتوں کا نام پکارا کرتے تھے اور یہی الفاظ کہا کرتے تھے ’۔ اللات والعزی ومناۃ الثالثۃ الاخری “۔ اور ان الفاظ کے ساتھ مزید یہ کہا کرتے۔ ھؤلاء الغرانیق العلی وان شفاعتھن لترتجی ‘۔ بعض کتب تفسیر میں اس موقعہ پر ایک قصہ نقل کیا ہے کہ سورة والنجم کی جب آپ ﷺ نے یہ آیت (آیت ) ” افرء یتم اللات والعزی “۔ تلاوت کی تو کسی جنی نے آپ ﷺ کی آواز میں اپنی آواز ملا کر یہ کہہ دیا۔ تلک الغرانیق العلی وان شفاعتھن لترتجی “۔ اور اس پر سب مشرکین سجدہ میں گرگئے، یہ واقعہ اصول حدیث اور اصول دین کے لحاظ سے کسی طرح صحیح نہیں یہ کیسے ممکن ہے کہ جس پیغمبر کا ہر لفظ اور اس کا ہر نطق وحی الہی ہے اور اللہ نے اس کو نمونہ ہدایت بنا کر ہر خطا وگمراہی سے محفوظ کردیا اس کی زبان سے نکلے ہوئے کلمات میں کوئی شیطان اپنی آواز ملا کر کلمات شرک جاری کردے اور سننے والے یہ گمان کریں کہ یہ کلمات آپ ﷺ نے بولے ہیں بہرکیف یہ واقعہ از روئے اسناد اور بحیثیت اصول دین ناقابل اعتبار ہے پھر یہ بات بھی ہے کہ ایک حدیث میں ہے۔ من رانی فی المنام فقد رانی فان الشیطان لا یتمثل بی ‘۔ کہ جس کسی شخص مومن نے مجھے خواب میں دیکھا تو بیشک اس نے مجھ ہی کو دیکھا ہے کیونکہ شیطان کو یہ قدرت نہیں کہ وہ میرا ہم شکل بن کر کسی کے سامنے آسکے تو جب بحالت نوم (خواب) میں کسی مسلمان کے سامنے شیطان متمثل نہیں ہوسکتا تو یہ کیونکر ممکن ہے کہ بحالت بیداری خود پیغمبر کے سامنے وہ اپنی آواز (صوت) پیغمبر کی آواز سے ملتبس کردے تو صورت کے التباس پر جس طرح اس کو قدرت نہیں دی گئی تو اسی طرح معلوم ہوتا ہے کہ صوت کے التباس پر قدرت نہ ہوگی۔ البتہ اتنا بیشک ثابت ہے صحیحین کی روایت سے کہ آنحضرت ﷺ نے سورة والنجم کی تلاوت فرمائی اور اس مجمع میں مسلمان ومشرکین موجود تھے تو ہر ایک خواہ مسلمان ہو یا مشرک سجدہ میں گر پڑا سوائے قریش کے ایک بوڑھے کے کہ اس نے سجدہ نہ کیا اور ایک مٹھی بھر مٹی لے کر اپنی پیشانی سے لگالی اور کہا کہ بس مجھے یہی کافی ہے اور یہ بوڑھا امیہ بن خلف تھا جس کو ابن سعود ؓ فرماتے ہیں ، فرأیتہ بعد قتل کافرا “۔ چناچہ یہ بوڑھا غزوہ بدر میں قتل کیا گیا، تو یہ بات تو احادیث سے ثابت ہوئی اور اس قصہ میں مشرکین کے سجدہ کا منشایا تو یہ ہوگا کہ انہوں نے جب آیت قرآنیہ میں اپنے بتوں کے نام سنے تو سجدہ میں گرپڑے قطع نظر اس کے کہ آئندہ کیا مضمون آرہا ہے یا حضرت شاہ ولی اللہ قدس اللہ سرہ کی تحقیق کی رو سے یہ وجہ ہو کہ اس وقت اس مجلس میں غیبی تجلیات کا نزول ہوا ہو تو مسلمانوں کا سجدہ تو ایمان وطاعت کا سجدہ تھا، لیکن مشرکین کا سجدہ ایک طرح کی مبہوتی اور بدحواسی کے عالم میں ہوا اگرچہ مشرکین کا یہ سجدہ صرف ظاہری تھا لیکن کیا تعجب ہے کہ اس ظاہری سجدہ کی برکت سے ان کو بعد میں ایمان لانے کی توفیق ہوگئی ہو برخلاف اس خبیث بوڑھے کے جو ظاہری سجود سے محروم رہا تو اس کو کبھی بھی سجدہ نصیب نہ ہوا ہو برخلاف اس خبیث بوڑھے کے جو ظاہری سجود سے محروم رہا تو اس کو کبھی بھی سجدہ نصیب نہ ہوا اور بحالت کفر قتل کردیا گیا تو اس توجیہ کے پیش نظر عبداللہ بن مسعود ؓ کے لفظ۔ فقد رایتہ بعد قتل کافرا، کی وجہ اور حکمت بھی کچھ ظاہر ہورہی ہے کہ اسی کو خاص طور پر کفر کی حالت میں مقتول ہونے کو بیان کرنا اس کے علاوہ دوسروں کے حق میں توفیق ایمان کی گنجائش ظاہر کرتا ہے۔
Ayahs 53:26–32

وَ كَمْ مِّنْ مَّلَكٍ فِی السَّمٰوٰتِ لَا تُغْنِیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اَنْ یَّاْذَنَ اللّٰهُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْضٰى Open ayah 53:26 in the Quran reader

اور آسمانوں میں بہت سے فرشتے ہیں جن کی سفارش کچھ بھی فائدہ نہیں دیتی مگر اس وقت کہ خدا جس کے لئے چاہے اجازت بخشے اور (سفارش) پسند کرے

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ لَیُسَمُّوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ تَسْمِیَةَ الْاُنْثٰى Open ayah 53:27 in the Quran reader

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ فرشتوں کو (خدا کی) لڑکیوں کے نام سے موسوم کرتے ہیں

وَ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ١ۚ وَ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًاۚ Open ayah 53:28 in the Quran reader

اور حالانکہ ان کو اس کی کچھ خبر نہیں وہ صرف ظن پر چلتے ہیں اور ظن یقین کے مقابلہ میں کچھ کام نہیں آتا

فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰى١ۙ۬ عَنْ ذِكْرِنَا وَ لَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 53:29 in the Quran reader

تو جو ہماری یاد سے روگردانی کرے اور صرف دنیا ہی کی زندگی کا خواہاں ہو اس سے تم بھی منہ پھیر لو

ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدٰى Open ayah 53:30 in the Quran reader

ان کے علم کی یہی انتہا ہے تمہارا پروردگار اس کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کے راستے سے بھٹک گیا اور اس سے بھی خوب واقف ہے جو راستے پر چلا

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۙ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوْا بِمَا عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰىۚ Open ayah 53:31 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے (اور اس نے خلقت کو) اس لئے (پیدا کیا ہے) کہ جن لوگوں نے برے کام کئے ان کو ان کے اعمال کا (برا) بدلہ دے اور جنہوں نے نیکیاں کیں ان کو نیک بدلہ دے

اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ اِذْ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّةٌ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠ Open ayah 53:32 in the Quran reader

جو صغیرہ گناہوں کے سوا بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کی باتوں سے اجتناب کرتے ہیں بیشک تمہارا پروردگار بڑی بخشش والا ہے وہ تم کو خوب جانتا ہے جب اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچے تھے تو اپنے آپ کو پاک صاف نہ جتاؤ جو پرہیزگار ہے وہ اس سے خوب واقف ہے

عظمت شان رب العالمین روز محشر وشناعت عقائد مشرکین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” وکم من ملک فی السموت ..... الی ...... ھو اعلم بمن اتقی “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں مشرکین کے معبودوں کا ذکر تھا اور یہ کہ ان معبودوں کی کوئی حقیقت ہی نہیں بجز اس کے کہ یہ محض نام ہیں جو ان کی عبادت اور پرستش کرنے والوں نے گھڑ لئے ہیں چہ جائیکہ ان میں کوئی قدرت و طاقت ہو اب ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ کی عظمت اور اس کی کبریائی کا بیان ہے اور یہ کہ اس کی بارگاہ میں کسی کی مجال نہیں کہ کوئی کسی کی سفارش کرنے کی اور اس کے لئے پسند کرے اول تو فرشتے یا کوئی بھی ہو بلااجازت کے شفاعت نہیں کرسکتے اور اگر سب مل کر کریں بھی تو نافع نہیں جس کو اجازت ملے گی وہی کرسکے گا اور جس کے واسطے پسند کیا جائے گا اسی کے واسطے ہوسکے گی اس وجہ سے کسی کو یہ گمان نہ کرنا چاہئے کہ فلاں فلاں میرے سفارشی ہوں گے بلاشبہ جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے وہی ہیں جو فرشتے جو اللہ کی مخلوق نوری ہیں وہ لڑکیاں ہیں اور پھر غضب یہ کہ ان کو خدا کی بیٹیاں تجویز کرنا حالانکہ ان کے پاس اس بات کی کوئی دلیل نہیں یہ لوگ محض بےبنیاد اور بےاصل خیالات اور صرف اٹکل ہی کی پیروی کرتے ہیں اور بلاشبہ ایک حقیقت واقعیہ اور ثابتہ کے مقابلہ میں اٹکل اور ادہام فاسدہ ذرہ برابر بھی کارآمد نہیں ہوسکتے۔ ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں کہتے ہیں اور ان کے مان بھی عورتوں اور لڑکیوں کے رکھتے ہیں یہ انتہائی عقل اور فطرت سے بعید بات ہے اور حق تعالیٰ کے مقابلہ میں بڑی ہی بےباکی ہے بس آپ ﷺ ایسے شخص سے بےرخی کرلیجئے اور اس سے موڑ لیجئے ایسا شخص قابل التفات ہی نہیں چہ جائیکہ اس کی باتوں پر کوئی اثر لیا جائے ہماری یہی نصیحت ہے کہ پس آپ ایسے شخص سے اعراض وبے رخی اختیار کرلیجئے جس نے ہماری نصیحت سے روگردانی کرلی اور اس کا کوئی مقصد نہیں سوائے دنیوی زندگی کے اور ظاہر ہے کہ جس کا مقصد حیات صرف دنیوی زندگی ہو وہ نہایت ہی ناعاقبت اندیش اور کم فہم ہے لیکن بس ان لوگوں کا یہی مبلغ علم اور منتہائے فکر ہے اس سے آگے انکے فہم وعقل کی پرواز نہیں بیشک آپ کا پروردگار ہی خوب جانتا ہے اس شخص کو جو راہ سے بھٹک گیا اور وہی اس سے بھی خوب واقف ہے جس نے صحیح راہ پائی اس لیے آپ ﷺ کو کہا جارہا ہے کہ ہمارے ذکر یعنی قرآن یا ایمان یا ذکر الہی سے جو بھی غافل ہے اور اس سے اعراض وبے رخی کررہا ہے آپ ﷺ اس سے اپنا رخ موڑ لیجئے کیونکہ ذکر الہی اور ایمان یا قرآن سے بےرخی دنیا کی محبت کے باعث ہے ایسے لوگوں کو کچھ تو سمجھنا چاہئے کہ جو اصل کائنات کا مالک ہے اس کو چھوڑ کر اس کی پیدا کردہ چیز سے اسکو کیا مل جائے گا اور اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے ہر چیز اسکے قبضہ اور اختیار میں ہے اللہ ہی نے یہ سارا کارخانہ عالم قائم کیا ہے اور اپنا پیغمبر بھیجا کتاب نازل کی یہ سب کچھ اس مقصد کی خاطر کہ انجام کار وہ بدلہ دے ان لوگوں کو جنہوں نے برے کام کئے ان کی برائیوں کا اور بدلہ دے نیکی کا ان لوگوں کو جنہوں نے نیکی کے کام کئے اور عمل کی مجازات عقل اور فطرت کا قانون ہے اچھا صلہ اور انعام ان لوگوں کے لیے ہوگا جو محسنین ونیکوکار ہیں جو پرہیز کرتے ہیں بڑے بڑے گناہوں سے اور بےحیائی کی باتوں سے مگر معمولی لغزش اور چھوٹے چھوٹے گناہ جو اتفاقا بھول چوک سے واقع ہوجائیں بیشک آپ کا پروردگار مغفرت و بخشش کے لحاظ سے بہت ہی وسیع ہے اس کی وسعت مغفرت کے سامنے گناہوں کی اور خطاؤں کی کوئی حقیقت نہیں وہ تم کو اس وقت سے خوب جانتا ہے جب کہ اس نے تم کو اور تمہارے باپ آدم (علیہ السلام) کو زمین سے پیدا کیا تھا اور جب کہ تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں جنین اور بصورت حمل تھے اور وہ تمہارے عمل ظاہر و باطن سے خوب واقف ہے لہذا تم اپنی پاکیزگی بیان نہ کیا کرو اور اپنی تقوی و طہارت کے دعوے مت کیا کرو وہی پروردگار خوب جانتا ہے کہ کون تقوی والا ہے۔ 1 حاشیہ (حسن بصری (رح) سے منقول ہے فرمایا کرتے تھے ”۔ علم اللہ من کل نفس ماھی صانعۃ والی ماھی صائرۃ فلاتزکوا انفسکم ولا تطھروھا من الاثام ولا تمدوھا باحسن الاعمال “۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہی ہر شخص کو جاننا ہے کہ وہ کیا کرنے والا ہے اور اسکے لیے کیا ہونے والا ہے لہذا تم اپنے آپ کو پاکباز نہ سمجھ بیٹھو اور نہ اپنے تقوی و طہارت کا دعوی کرو اور نہ اپنے نیک اعمال کی تعریفیں کیا کرو حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ کے سامنے کسی شخص کی تعریف کی گئی تو آپ ﷺ نے اس خیال سے کہ یہ شخص غرور اور دھوکہ میں نہ پڑجائے فرمایا ” ویلک قطعت عنق اخیک “۔ افسوس تو نے اپنے بھائی کی گردن توڑ ڈالی بار بار آپ ﷺ یہی فرماتے رہے اس کے بعد آپ نے فرمایا اگر کوئی شخص کسی کی نیکی کی تعریف ہی کرنا چاہتا ہے تو بس یہ کہدے کہ فلاں شخص کو میں ایسا گمان کرتا ہوں اور اصل تو خدا ہی خوب جاننے والا ہے میں خدا کے مقابلہ میں کسی کی پاکدامنی کا دعوی نہیں کرسکتا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم ) الغرض جب یہ حقیقت واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر انسان کو اس کی پیدائش سے پہلے ہی جانتا ہے اور اسکے علم سے کوئی عمل پوشیدہ نہیں تو یقیناً ہدایت وگمراہی کا عمل بھی اسکے سامنے مخفی نہیں رہ سکتا اور جب آسمان و زمین سب کچھ اس کا ہے تو بلاشبہ اسی کے در سے سب کچھ مل سکتا ہے دنیا کی محبت میں مبتلا ہو کر اسکو چھوڑنا بڑی ہی بدعقلی اور بدنصیبی ہے اور جب وہ ساری کائنات کا مالک ہے تو یقیناً نیکی اور بدی کا بدلہ بھی دے گا۔ قانون مجازات اور اعمال سیۂ کی تفصیل : آیت مبارکہ :” الذین یجتنبون کبئر الاثم “۔ بیان اور صفت ہے۔ (آیت ) ” الذین احسنوا “۔ نیکو کار لوگ کون ہوتے ہیں ان کا وصف ان کلمات میں بیان کیا گیا ہے کہ جو کبائر و فواحش سے پرہیز کرنے والے ہیں ان کو خدا کے نزدیک نیکوکار شمار کیا جاسکتا ہے، انسان کو تقوی اور محسن ہونے کے مضمون سے یا اجتناب کے مضمون سے ” اللمم “ کا استثناء فرمادیا جس سے مراد خطا اور نسیان سے چھوٹے گناہوں کا سرزد ہوجانا ہے بعض مرتبہ لاپرواہی اور عدم توجہ بھی کسی معصیت کے صدور کا باعث ہوجاتی ہے محقرات اعمال اور صغائر کو ” لمم “ کا مصداق بالعموم مفسرین فرماتے ہیں، عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے فرمایا میں ” لمم “ کے متعلق اس سے قریب تر چیز کوئی چیز نہیں سمجھتا جو ابوھریرہ ؓ نے حدیث میں ذکر فرمایا حضور اکرم ﷺ کا ارشاد بیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ابن آدم کے حصہ میں زنا کا ایک حصہ رکھ دیا ہے جس کو بہرحال پاتا ہے، آنکھ کا زنا نامحرم کا دیکھنا، زبان کا فحش باتوں کا کرنا ہے اور انسان کا نفس شوق اور ورزو کرتا ہے لیکن فرج اس کی تصدیق کرتا ہے یا تکذیب کرتا ہے تو معلوم ہوا کہ اس قسم کے گناہ جو نظر، فحش کلامی، بےحیائی کی بات سننا خیالات بےہوداہ کی طرف توجہ کرنا صغائر اور لمم ہیں اسی بناء پر بعض متکلمین کی رائے ہے کہ گناہوں کے جو مقاصد ہیں ان کو کبائر کہا جائے گا اور جو مبادی ہیں وہ صغائر ہیں۔ جیسا کہ آیت سے (آیت ) ” ان تجنبوا کبآئر ماتنھون عنہ نکفر عنکم سیئاتکم “ ، میں ظاہر فرمایا گیا بعض مفسرین ائمہ نے یہ نقل کیا کہ اتفاقی طور پر کسی گناہ کا سرزد ہوجانا لمم ہے عطاء (رح) ابن عباس ؓ سے اور حسن بصری (رح) ابوھریرہ ؓ سے بھی اسی طرح نقل کرتے ہیں بعض متکلمین کی رائے یہ ہے کہ جس گناہ پر انسان تائب ہوگیا وہ لمم ہے۔ حافظ ابن کثیر (رح) نے بروایت ابن جریر (رح) مجاہد (رح) سے متعدد اقوال نقل کئے ہیں، قانون مغفرت میں سورة نساء کی اس آیت مبارکہ کو اصولیین نے بنیاد سمجھا ہے (آیت ) ” والذین اذا فعلوا فاحشۃ اوظلموا انفسھم ذکر واللہ فاستغفروا لذنوبھم ومن یغفر الذنوب الا اللہ ولم یصروا علی ما فعلوا وھم یعلمون، اولٓئک جزآء ھم مغفرۃ من ربھم “۔ الخ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کبائر وہ گناہ ہیں جو فواحش اور ظلم کی حد میں شمار کئے جائیں اور انکی مغفرت کا قانون یہ ہے کہ انسان نادم وشرمندہ ہو کر معافی مانگے اور ندامت و شرمندگی یہ ہے کہ آئندہ پھر اس گناہ کا اعادہ نہ کرے۔ کبائر کی معافی تو بہ پر موقوف ہے اور صغائر جن کو سیات کہا جاتا ہے انکو معافی حسنات کے ذریعہ فرمائی گئی (آیت ) ” ان الحسنات یذھبن السیئات “۔ علماء متکلمین کے یہاں یہ بات بھی زیر بحث آئی ہے کہ سیئات کی معافی آیا بذریعہ حسنات اجتناب عن الکبائر کی شرط کے ساتھ مشروط ہے یا مطلقا نیکیاں انسان کے صغائر کو معاف کردیتی ہیں دونوں قول منقول ہیں امام غزالی (رح) کی تحقیق کا حاصل یہ ہے کہ معمولی گناہ بمنزلہ امراض ہیں اور طاعات و عبادات بمنزلہ علاج اور دوا ہیں اور اجتناب عن الکبائر بمنزلہ پرہیز کے ہے دوا اور علاج کی تاثیر پرہیز کے ساتھ پوری طرح باقی رہتی ہے اور بدپرہیزی کی صورت میں دوا کی تاثیر یا ختم ہوجاتی ہے یا ضعیف ہوجاتی ہے (تفصیل کے لیے مراجعت فرمائیں احیاء العلوم