Ayahs 52:1–16تہدید وتوبیخ منکرین معاد وعید عذاب برائے اہل عناد :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والطور وکتب مسطور ....... الی ....... ما کنتم تعملون “۔
(ربط) سورة والذاریات کا اختتامی مضمون جن وانس کی تخلیق بغرض عبادت خداوندی تھا اسی کے ساتھ جو قومیں اللہ تعالیٰ کی خالقیت اور وحدانیت کو نہیں تسلیم کرتیں اور بلاحجت و دلیل نافرمانی اور بغاوت پر قائم ہیں ان کو عذاب خداوندی کی دھمکی دی گئی ارشاد فرمایا۔
قسم ہے طور (پہاڑ) کی اور اس کتاب کی جو کھلے ورق میں لکھی ہوئی ہے اور قسم ہے بیت معمور کی اور قسم ہے ایک بلند چھت کی اور قسم ہے ابلتے ہوئے سمندر کی یقیناً آپ کے رب کا عذاب ضرور واقع ہو کر رہے گا جس کا کوئی ٹلانے والا نہیں اور یہ عذاب اس روز واقع ہوگا جس دن کہ آسمان تھر تھرانے لگے گا لرزے کے ساتھ اور ہٹ جائیں گے پہاڑ اپنی جگہ سے حرکت کرتے ہوئے پس ہلاکت و بربادی ہے ان لوگوں کے واسطے جو جھٹلانے والے ہیں اس عذاب خدواندی، روز قیامت، حساب و کتاب اور جزاء وسزا کو جو اپنی اس بیہودگی میں منہمک لہو ولعب میں پڑے ہوئے ہیں اور باوجود ان حقائق اور دلائل کے نہ ان کو خدا پر یقین آتا ہے اور نہ وہ خدا کی باتوں کو مانتے ہیں، انسانی عقل اور فطرت سے یہ بات بہت بعید ہے کہ اس طرح ان حقائق و دلیل سے غفلت چشم پوشی برتے یہ بدنصیب اپنی بدبختی کے باعث اسی غفلت میں پڑے رہیں گے یہاں تک کہ وہ دن آجائے جب کہ انکو دھکے دے دیکر جہنم کی آگ کی طرف دھکیلا جارہا ہوگا اس وقت کہا جائے گا یہی ہے وہ جہنم جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے، اب بتاؤ کیا یہ جادو ہے جیسا کہ تم دنیاوی زندگی میں ان باتوں کو گھڑ لیا کرتے تھے یا یہ کہ اب بھی تم کو نظر نہیں آرہا ہے۔
اب بھی بتاؤ کیا تمہیں یہ عذاب جہنم نظر آرہا ہے یا نہیں اگر ہمت ہے تو اب انکار کرو اچھا اب اس میں داخل ہوجاؤ پھر تم صبر کرو یا نہ کرو برابر ہے تم پر دونوں نہ تو تمہارے واویلا سے جہنم سے چھٹکار امل سکے گا اور نہ ہو یہ ہوگا کہ اگر تم سکوت وانقیاد اختیار کرلو تو تم پر کچھ رحم کردیا جائے نہیں بلکہ عذاب جہنم ہر طرح برقرار رہے گا اصل بات یہ ہے کہ تم کو بدلہ اسی چیز کا دیا جائے گا جو تم کیا کرتے تھے تم دنیا کی زندگی میں اپنے ہوش و حواس اور اپنے کسب واختیار سے کفر کرتے رہے جو اللہ کی سب سے بڑی معصیت ہے اور کبھی تم کو اس کا احساس نہ ہوا کہ اب بہت ہوچکا اس بغاوت ونافرمانی کو چھوڑ دیا جائے تو جب تم دنیا میں کبھی کفر سے باز نہ آئے اور اللہ کی بغاوت ومعصیت کو نہ چھوڑا تو پھر اب اس کی سزا بھی یہی ہے کہ بس تم ہمیشہ عذاب جہنم میں رہو جس طرح کہ ہمیشہ کفر کیا اس کی سزا بھی دوام وہمیشگی کی صورت میں ہوگی اس وجہ سے آہ وواولا سے بھی کوئی کام نہ چلے گا اور سکوت وخاموشی بھی کوئی مفید نہ ہوگی ،
کلمات قسم اور جواب قسم میں ربط ومناسبت :
اس موقعہ پر حق تعالیٰ نے ایک عظیم الشان مضمون یعنی (آیت ) ” ان عذاب ربک لواقع “۔ کہ اے مخاطب تیرے رب کا عذاب یقیناً واقع ہونے والا ہے اور قیامت ضرور آئے گی حساب اور جزاء وسزا کا مرحلہ انسان سے ٹل نہیں سکتا تو اس مضمون کی اہمیت کے پیش نظر اس خبر اور بیان کے لئے پانچ عظیم الشان چیزوں یعنی (1) کوہ طور، (2) کتاب مسطور، (3) بیت معمور، (4) سقف مرفوع اور (5) بحرمسجور، کی قسم کھائی کہ ان عظیم الشان مخلوقات کی عظمت کا مخاطب اپنے ذہن میں استحضار کرتے ہوئے آئندہ بیان کی جانے والی خبر پر نہ حیرت کرے نہ اس میں تردد کرے بلکہ بلاجھجک اور تامل اس پر ایمان لائے یہ دیکھتے ہوئے کہ جس خدا نے اس عظیم الشان اور فکر انسانی کی پرواز سے بڑھ کر چیزوں کو پیدا کردیا وہ قادر مطلق قیامت اور حشرونشر پر بلاشبہ قادر ہے پھر چونکہ قیامت جزاء وسزا کا دن ہے جس کا دارومدار ایمان وکفر سعادت وشقاوت اور حیات انسانی کے خیر وشر میں مضمر ہے اس وجہ سے قسموں میں پہلے کوہ طور کی قسم کھائی جو وادی مقدس اور وہ جگہ ہے جہاں حق تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مناجات فرمائی ان کو اس خطاب دلنواز سے سرفراز فرمایا (آیت ) ” یموسی اننی انا اللہ لا الہ الاانا فاعبدنی واقم الصلوۃ لذکری ان الساعۃ اتیۃ اکاد اخفیھا کل نفس بما تسعی “۔ یہ وہی مبارک جگہ ہے جس میں الواح تورات عطا کی گئیں جس میں ہدایت کے علوم تھے یہ وہ جگہ ہے جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے (آیت ) ” واکتب لنا فی ھذہ الدنیا حسنۃ “ کی درخواست کی تو جواب دیا گیا۔ (آیت ) ” فساکتبھا للذین یتقون ویؤتون الزکوۃ والذین ھم بایتنا یؤمنون، الذین یتبعون الرسول النبی الامی الذی یجدونہ مکتوبا عندھم فی التورۃ والانجیل “۔ اور اس جواب میں یہ ظاہر فرما دیا گیا تھا کہ یہ رحمت عامہ اور حسنہ تامہ تو میں نے اس نبی امی آخر الزمان ﷺ کے واسطے لکھ دی اور طے کردی ہے جس کو اہل کتاب تورات وانجیل میں لکھا ہوا پائیں گے جس نبی امی کی یہ شان ہوگی۔
پھر دوسری قسم کتاب مسطور کی کھائی کتاب مسطور کی تفسیر میں بعض ائمہ مفسرین انسان کا نامہ اعمال لیتے ہیں اور ہر انسان کی زندگی کا عمل ایک کھلے ورق کی صورت میں موجود ہوگا اور وہ اس کی گردن میں لٹکا ہوگا جیسے کہ ارشاد ہے (آیت ) ” وکل انسان الزمناہ طآئرہ فی عنقہ ونخرج لہ یوم القیامۃ کتابا یلقاہ منشورا “۔ جس کے متعلق ہر انسان کو مبعوث ہونے پر حکم ہوگا کہ (آیت ) ” اقرا کتابک کفی بنفسک الیوم علیک حسیبا ‘۔ یا بعض کی رائے کے مطابق کتاب مسطور قرآن کریم ہے جو ایک کھلے ورق کی طرح واضح اور روشن ہے یا بقول بعض کتاب مسطور لوح محفوظ ہے۔
تیسری قسم بیت معمور جو کہ ساتویں آسمان پر ملائکہ کے لئے کعبہ ہے اور عرش الہی کے محاذات میں ہے اور اسکے محاذات میں زمین پر خانہ کعبہ قائم ہے چوتھی قسم سقف مرفوع یعنی آسمان کی ہے کہ آسمان اور آسمان پر نظر آنے والے ستارے، چاند، سورج، جو ایسی عظیم الشان مخلوقات ہیں کہ سارے عالم کی عقلیں ان چیزوں کی عظمت کے سامنے حیران اور مبہوت ہیں پانچویں قسم بحر مسجور۔
حاشیہ (بعض مفسرین کا یہ خیال ہے کہ یہ سمندر قیامت کے روز آگ بنادیا جائے گا اس آیت کے پیش نظر (آیت ) ” واذا البحار سجرت “۔ یعنی جب کہ سمندر دہکائے جائیں گے ربیع بن انس ؓ سے منقول ہے کہ یہ بحر مسجور آسمانوں سے اوپر عرش الہی کے نیچے ہے۔
علاء بن بدر (رح) فرماتے تھے کہ بحر مسجور سمندر کو اس وجہ سے بھی کہا جاتا ہے کہ اس کا پانی نہ پیا جاسکتا ہے اور نہ اس سے کھیتی ہوسکتی ہے حضرت علی ؓ اور ابن عباس ؓ کی تفاسیر میں بھی یہی نقل کیا گیا حضرت ابن عباس ؓ کے دوسرے ایک قول میں یہ نقل کیا گیا کہ مسجور کے معنی معکوف یعنی روکا گیا کے ہیں اور اس کی تائید عمر بن الخطاب ؓ کی اس حدیث سے ہوتی ہے جس کو امام احمد بن حنبل (رح) نے نقل کیا کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کوئی رات ایسی نہیں ہوتی کہ سمندر تین مرتبہ اپنی گردن بلند کرکے اللہ رب العزت سے پھیل جانے کی اجازت نہ طلب کرتا ہو لیکن اللہ تعالیٰ اس کو روکتا ہے اور اپنی حد سے تجاوز کرنے کی اجازت نہیں دیتا (رواہ احمد ابن حنبل فی المسند، بحوالہ ابن کثیر)
یعنی ابلتے ہوئے اور طوفانی تھپیڑوں اور موجوں سے امنڈتے ہوئے سمندر کی ہے ان قسموں کے ساتھ (آیت ) ” ان عذاب ربک لواقع “۔ کا ربط اور مناسبت واضح ہے کہ قیامت کی اصل وجہ مجازات اور اعمال کا بدلہ ہے اور ظاہر ہے کہ مجازات میں احکام ہدایت و شریعت اصل ہیں جن کی بحیثیت مکان اور محل کے نسبت طور کی طرف ہے اور وہ سامان ہدایت وحی الہی قرآن حکیم یا لوح محفوظ سے انسانی حیات کیلئے ہادی ورہنما ہے اور ان پر عمل محفوظ رہنے والا نامہ اعمال ہے جو کھلے ورق کی مانند ظاہر و روشن ہے اور جزاء وسزاکا مدار عبادت وطاعت اور ترک طاعت پر ہے جس کا مرکز آسمانوں پر بیت معمور اور زمین پر کعبۃ اللہ ہے اور اعمال صالحہ وسیۂ کی جزاء وسزا جنت و جہنم ہے جو عالم سموت میں ہے اور جنت و جہنم کی وسعت و عظمت کو انسان ستاروں اور چاند وسورج کی عظمت کے مشاہدہ سے بخوبی سمجھ سکتا ہے اور سمندر کی موجوں کی دیکھ کر انسان جہنم کی آگ کے شعلوں اور موجوں کو پہچان سکتا ہے تو اس طرح ان قسموں کی اصل مضمون قیامت اور مجازات سے لطیف مناسبت سمجھی جاسکتی ہے۔
بعض روایات کی رو سے یہ بھی خیال کیا گیا کہ بعید نہیں کہ اسی سمندر کو قیامت برپا ہونے پر جہنم کی آگ اور اس کی موجیں بنا دیا جائے جس خدا نے یہ سمندر پانی کے بنائے وہی خدا اس پانی کو آگ بھی بنا سکتا ہے۔
حافظ ابن ابی الدنیا (رح) نے ایک روایت بیان کی ہے کہ ایک رات عمر فاروق ؓ مدینہ کی آبادی میں کسی طرف گشت فرما رہے تھے (جیسا کہ ان کا اکثر معمول تھا کہ راتوں کو گشت کرکے معلوم کریں کہ لوگ کس حال میں زندگی گزار رہے ہیں) تو ایک شخص کے مکان کے سامنے سے جب گزرے تو وہ شخص تہجد میں قرآن شریف کی تلاوت کررہا تھا تو ٹھیڑ گئے اور سننے لگے تو اس شخص نے سورة والطور پڑھی پہلے ہی سے اسکی تلاوت وقرأت اور تہجد کے آثار وانوار سے طبیعت پر ایک خاص اثر اور کیفیت طاری تھی کہ مزید اسکی پرسوز آواز سے جب یہ سنا (آیت ) ” ان عذاب ربک لواقع “۔ تو ایک چیخ نکلی اور فرمایا قسم ہے رب کعبہ کی اور ایسا معلوم ہوا کہ کمر ٹوٹ گئی، سواری سے اترے دیوار کی ٹیک لگا کر دیر تک بیٹھے رہے اور پھر گھر لوٹے اس وقت کی رقت اور طبعی تأثر نے بیمار کرڈالا ایک ماہ مریض کی طرف صاحب فراش رہے لوگ عیادت کیلئے آئے مگر کسی کو حقیقت معلوم نہ ہوئی کہ کیا مرض ہے، ؓ (تفسیر ابن کثیر )
Ayahs 52:17–28وعدہ انعام واکرام برائے اہل ایمان وایقان :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ان المتقین فی جنت ونعیم ...... الی ...... انہ ھو البر الرحیم “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں قدرت خداوندی کے عظیم مناظر اور شواہد کو بیان کرتے ہوئے مجرمین ومنکرین کو عذاب آخرت سے متنبہ کیا گیا تھا اور ان پر وعید اور عذاب کی شدت کا ذکر تھا اب ان آیات میں مجرمین ومنکرین کے بالمقابل مومنین ومطیعین پر انعامات خداوندی کا ذکر ہے اور یہ کہ ان کا رب العالمین کے یہاں کس قدر اعزاز واکرام ہوگا۔ ارشاد فرمایا۔
بیشک تقوی والے لوگ بہشت کے باغات میں ہوں گے اور ہر طرح سامان عیش و راحت میں لطف اندوز اور مسرور ہوتے ہوں گے اس عیش و راحت کے سامان سے جو انکے رب نے ان کو دیا اور اس پر کہ انکے پروردگار نے انکو جہنم کے عذاب سے بچایا عذاب خداوندی سے نجات اور جنت کی تمام نعمتوں اور کرامتوں کے ساتھ اہل تقوی اور ایمان والوں کو کہا جاتا ہوگا۔ کھاؤ پیوخوب مزے سے جتنا چاہو ان اعمال کی وجہ سے جو تم دنیا میں کرتے تھے ان جملہ انعامات اور عزت واکرام کے ساتھ سکون و اطمینان کا یہ عالم ہوگا، تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے ایسی مسندوں پر (تختوں پر) جو ترتیب سے بچھے ہوں گے اور اس لئے کہ انسان اپنی فطری اور طبعی تقاضوں کے باعث کسی مونس کا بھی خواہاں ہوتا ہے تو ہم ان کو بیاہ دیں گے ایسی حوروں کے ساتھ جو کشادہ چشم ہوں گی اہل ایمان اور اہل تقوی کی عزت واکرام کا تو یہ عالم ہوگا کہ جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد ایمان کے ساتھ انکی پیروی کرنے والی ہوئی تو اگرچہ ان کی اولاد ان کے رتبہ کی نہ ہوگی اور ان کے اعمال اپنے بزرگوں کے جیسے اعمال نہ سہی، مگر اس وجہ سے کہ وہ بھی ایمان لا چکے ان کے ماں باپ کی خوشنودی کے لئے ہم ان کو بھی انہی کے ساتھ کردیں گے تاکہ ان بزرگوں کو اپنی اولاد کی معیت اور مرافقت سے مزید خوشی حاصل ہو اور ہم ان اہل جنت کے عمل میں سے کچھ کم نہیں کریں گے اس طریقہ سے کہ انکی نیکیاں کچھ ان کے نامہ سے گھٹا کر ان کی اولاد کے حساب میں جمع کردیں اور اس طرح دونوں کے درجے برابر کردیئے جائیں، بلکہ اولاد کو ان کے استحقاق سے بڑھا کر ان کے ماں باپ کے برابر کردیا جائے گا ہر شخص اپنے اعمال کے دائرہ میں گھرا ہوا ہے اس لئے یہ نہیں ہوسکتا کہ کسی کا عمل گھٹا کر ضائع کردیا جائے خواہ عمل خیر ہو خواہ عمل شر ہو (آیت ) ” فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ ومن یعمل مثقال ذرۃ شرا یرہ “۔ اور اضافہ کریں گے ہم ان اہل جنت کی نعمتوں میں ہر قسم کے پھل اور گوشت سے جو ان کو مرغوب ہو جو انکی اصل غذاء سے زائد ہوگا اور اہل جنت اللہ رب العزت کے انعامات اور وہاں کی راحتوں سے اس قدر مسرور ہوں گے کہ لطف اندوز ہونے کے لئے ایک دوسرے سے شراب طہور کے جام کی چھینا جھپٹی کرتے ہوں گے جس میں نہ کوئی لغو اور بےہودہ بات ہوگی اور نہ گناہ کی جیسے کہ دنیا کی شراب میں بدمست لوگ بےہودہ بکواس اور معصیت و گناہ کے کام کرتے ہیں جنت کی شراب طہور ان بےہودہ اور گندے اثرات سے پاک صاف ہوگی اس کا نام شراب ہوگا لیکن لطافت و طہارت میں وہ اپنی خود مثال ہوگی (آیت ) ” لا فیھا غول ولا ھم عنھا ینزفون “۔ اور گشت کرتے ہوں گے ان کے سامنے خدمت کے لئے اور فواکہ وغیرہ لانے کے لئے ایسے لڑکے جو خاص انہی کے واسطے ہوں گے گویا وہ محفوظ رکھے ہوئے موتی ہیں اپنی لطافت اور چمک میں ایسا محسوس ہوتا ہوگا یہ بند جگہ میں محفوظ رکھے ہوئے وہ موتی ہیں کہ جن پر نہ گردوغبار پڑا اور نہ ہی باہر کی ہوا یا دھوپ نے انکی رونق، آب وتاب اور چمک میں کوئی تغیر وتبدل پیدا کیا اور وہ اہل جنت غایب فرح ونشاط میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے پوچھتے ہوں گے اور جب ہر ایک دوسرے کو اپنے انعامات اور راحتوں سے مطلع کرے گا تو کہیں گے بیشک ہم تو اس سے پہلے دنیوی زندگی میں اپنے گھر میں رہتے ہوئے ڈرا کرتے تھے کہ نامعلوم ہمارا انجام کیا ہوگا اور ہم پر کیا گزرے گی لیکن اللہ نے ہم پر بڑا ہی احسان کیا اور ہم کو جہنم کے عذاب سے بچا لیا جس کا ہم کو ڈر تھا اور اپنی کوتاہیوں کے باعث خیال یہی کرتے تھے کہ نہ معلوم کس کس قسم کا عذاب اور گرفت ہمارے اعمال پر ہوا، اول تو یہی بڑا انعام تھا کہ اس نے عذاب سے بچایا لیکن اس کی نعمتوں کا کیا ٹھکانا کہ اس نے تو جنت کی راحتوں سے بھی نوازدیا بیشک ہم اس سے پہلے بھی اس کو پکارا کرتے تھے اور دعا کرتے تھے کہ اے اللہ عذاب جہنم سے بچا اور مغفرت سے سرفراز فرما اور اس نے ہماری دعائیں قبول کیں واقعی وہ تو بڑا ہی محسن اور مہربان ہے۔
مسروق ؓ سے منقول ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے ایک روز یہ آیت ”۔ فمن اللہ علینا ووقانا عذاب السموم “۔ الخ۔ تلاوت کی اور پھر اسی طرح دعائیہ کلمات فرمانے لگیں اے اللہ تو ہم پر احسان فرما اور ہم کو دہکتی ہوئی دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔