51. Surah Adh-Dhaariyat

الذارياتThe Winnowing Winds · 60 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 51:1–14

وَ الذّٰرِیٰتِ ذَرْوًاۙ Open ayah 51:1 in the Quran reader

بکھیرنے والیوں کی قسم جو اڑا کر بکھیر دیتی ہیں

فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًاۙ Open ayah 51:2 in the Quran reader

پھر (پانی کا) بوجھ اٹھاتی ہیں

فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًاۙ Open ayah 51:3 in the Quran reader

پھر آہستہ آہستہ چلتی ہیں

فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًاۙ Open ayah 51:4 in the Quran reader

پھر چیزیں تقسیم کرتی ہیں

اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌۙ Open ayah 51:5 in the Quran reader

کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ سچا ہے

وَّ اِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌؕ Open ayah 51:6 in the Quran reader

اور انصاف (کا دن) ضرور واقع ہوگا

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْحُبُكِۙ Open ayah 51:7 in the Quran reader

اور آسمان کی قسم جس میں راستے ہیں

اِنَّكُمْ لَفِیْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍۙ Open ayah 51:8 in the Quran reader

کہ (اے اہل مکہ) تم ایک متناقض بات میں (پڑے ہوئے) ہو

یُّؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ اُفِكَؕ Open ayah 51:9 in the Quran reader

اس سے وہی پھرتا ہے جو (خدا کی طرف سے) پھیرا جائے

قُتِلَ الْخَرّٰصُوْنَۙ Open ayah 51:10 in the Quran reader

اٹکل دوڑانے والے ہلاک ہوں

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ غَمْرَةٍ سَاهُوْنَۙ Open ayah 51:11 in the Quran reader

جو بیخبر ی میں بھولے ہوئے ہیں

یَسْئَلُوْنَ اَیَّانَ یَوْمُ الدِّیْنِؕ Open ayah 51:12 in the Quran reader

پوچھتے ہیں کہ جزا کا دن کب ہوگا ؟

یَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ یُفْتَنُوْنَ Open ayah 51:13 in the Quran reader

اس دن (ہوگا) جب ان کو آگ میں عذاب دیا جائے گا

ذُوْقُوْا فِتْنَتَكُمْ١ؕ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 51:14 in the Quran reader

اب اپنی شرارت کا مزا چکھو یہ وہی ہے جس کے لئے تم جلدی مچایا کرتے تھے

اعلان وقوع قیامت وتنبیہ وتوبیخ برتردد و انکار حشرونشر : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والذریت ذروا ...... الی ...... کنتم بہ تستعجلون “۔ (ربط) سورة ق کا مضمون قیامت اور حشر ونشر کے ثابت کرنے پر مشتمل تھا اور اسی ضمن میں کچھ احوال قیامت حساب و کتاب کی پیشی مجرمین کی سزا اور مطیعین پر انعامات کا ذکر تھا اب اس سورة پاک میں وقوع قیامت کا اعلان فرمایا جارہا ہے اور ہواؤں، بادلوں ستاروں اور وہ فرشتے جو نظام کائنات پر مامور ہیں ان کی قسم کھا کر ایک طرف اس اعلان کے گویا دلائل پیش کئے جارہے ہیں کہ جس ذات کے قبضہ قدرت میں یہ عظیم کارخانہ چل رہا ہے وہی ذات قادر مطلق جب چاہے، اس نظام عالم کو درہم برہم کرکے قیامت برپا کر دے تو دوسری جانب احوال قیامت کی ہیبت و عظمت بھی مخاطبین کے ذہن میں قائم کی جارہی ہے اور ان کی غفلت و لاپرواہی پر توبیخ وملامت بھی ہے، ارشاد فرمایا۔ قسم ہے ان ہواؤں کی جو بکھیرتی ہیں اڑا کر پھر قسم ہے ان کی جو اٹھانے والی ہیں بوجھ کو پھر قسم ہے ان کی جو چلنے والی ہیں نرمی سے پھر قسم ہے ان کی تو تقسیم کرنے والی ہیں از روئے حکم بیشک بس یہی ہے کہ جو وعدہ تم سے کیا جارہا ہے وہ یقیناً سچا ہو کر رہے گا کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے اور اس حیات دنیوی کے بعد دوبارہ قیامت میں اللہ جل شانہ کے روبرو حاضر ہونا ہے اور بیشک انصاف ہونا ہے کہ نہ کسی کی کوئی نیکی ضائع ہوگی اور نہ بدی کی سزا سے بچ سکے گا اور ہر ظالم خواہ اس نے دوسرے پر ظلم کیا ہو یا اپنی ذات پر ظلم کا بدلہ بہرحال اس پر ہوگا قسم ہے آسمان کی جو جال والا ہے کہ ستاروں کا جال اس پر گھرا ہوا ہے جو آسمان پر رونق کا باعث ہونے کے علاوہ خداوند عالم کی عظیم قدرت کی بہترین نشانی بھی ہے ان دلائل اور نشانیوں کے باوجود بھی حق سے انحراف و انکار کرنے والے لوگو ! بیشک تم تو ایک جھگڑے کی بات میں پڑے ہوئے ہو اس سے وہی باز رہے گا جو اس سے پھیر دیا گیا اور اپنی بدنصیبی کی وجہ سے اس خیر وسعادت کی راہ کو قبول کرنے سے محروم رہا، تو ظاہر ہے جو سعادت وخیر سے دھتکار دیا گیا اس کے حصہ میں اب کہاں سے ہدایت وسعادت حاصل ہوسکتی ہے ہلاک ہوں اٹکل وتخمین لگانے والے لوگ جو اپنی غفلت وجہالت میں بھٹک رہے ہیں پوچھتے ہیں تمسخر اور مذاق کے انداز میں بتائیے تو کب ہے وہ جزاء کا دن ایسے احمقانہ سوال کرنے والوں کو جواب دے دو جزاء کا دن وہ ہوگا جس دن وہ جہنم کی آگ پر آزمائے جائیں گے اور اوندھے منہ آگ پر ان کو ڈالا جارہا ہوگا۔ (آیت) ” یوم یسحبون فی النار علی وجوھھم ذوقوا مس سقر “۔ اس وقت کہا جاتا ہوگا چکھ لو مزہ اپنی شرارت وخباثت کا یہی تو ہے وہ عذاب یا جزاء کا دن جس کی تم جلدی کررہے تھے اور پوچھ رہے تھے کہ کب آئے گا وہ انصاف کا دن جیسا کہ ان کو اس دن کا بہت انتظار ہے اور اس کی تاخیر انکو بھاری معلوم ہورہی ہے تو جب عذاب ان پر مسلط ہوگا تو کہا جاتا ہوگا کہ بس اب دیکھ لو اور یقین کرلو بلاشبہ ان کے استہزاء و تمسخر کا ایسا ہی جواب قدرت کی طرف سے ہونا چاہئے سو ایسے منکرین اور گستاخ لوگوں کو ہماری طرف سے سب کچھ سنا دیا جائے۔ کلمات قسم کی تشریح : (آیت) ” والذریت “۔ الخ۔ میں واؤ قسمیہ ہے جیسے (آیت) ” والصآفات “۔ وغیرہ میں قسم کے معنی ہیں لفظ ذاریات جمع ذاریۃ کی ہے ذروا کے معنی بکھیرنے کے ہیں تو ذاریات اہل عرب کے یہاں ان ہواؤں کو کہا جاتا ہے جو غبار اور ذرات بکھیرتی ہیں گویا تیز ہوائیں اور آندھیاں اس کا مصداق ہوئیں پھر ان سے بادل بنتے ہیں جن میں اللہ کی قدرت سے پانی کے ذخائر جمع ہوتے ہیں اور طرح یہ ہوائیں ان بادلوں کو لئے پھرتی ہیں اور بوجھ اٹھائے ہوتی ہیں جب پانی برسنے کا وقت قریب آتا ہے تو ان ہواؤں میں نرمی آجاتی ہے پھر اللہ کے حکم سے جہاں جس قدر بارش کا حصہ ہوتا ہے تو وہ زمین کے اس حصہ کو تقسیم ہوجاتا ہے تو اس لحاظ سے یہ ہوائیں جن کی تحریک سے یہ بادل حرکت میں آئے اور برسے گویا تقسیم کرنے والی ہوئیں۔ یہ تفسیر ان ائمہ مفسرین کے قول پر ہے جن کی رائے یہ ہے کہ یہ چاروں یعنی ذاریات، حاملات، جاریات اور مقسمات ہواؤں ہی کی صفات ہیں لیکن بعض ائمہ مفسرین ذاریات سے ہوائیں مراد لیتے ہیں اور حاملات سے بادل جاریات سے کشتیاں اور بعض ستارے اور مقسمات سے فرشتے مراد لیتے ہیں۔ سعید بن المسیب (رح) بیان کرتے ہیں ایک شخص حضرت عمرفاروق ؓ کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا اے امیر ال مومنین مجھے بتائیے کہ (آیت) ” والذریت ذروا “۔ کیا ہے ؟ فرمایا یہ ہوائیں ہیں اور اگر میں رسول اللہ ﷺ سے یہ نہ سنتا کبھی نہ کہتا پھر پوچھا فرمائیے (آیت) ” حاملات وقرا “۔ کیا ہے ؟ فرمایا بادل ہیں اور اگر میں رسول اللہ ﷺ سے نہ سنتا کبھی نہ کہتا پھر سوال کیا کہ (آیت) ” جاریات یسرا “۔ کیا ہے جواب دیا یہ کشتیاں ہیں جو سمندر میں بڑی سہولت اور آسمانی سے تیرتی ہیں اور حسب سابق اس کو بھی رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کیا پھر کہا اچھا (آیت) ” فالمقسمات “ کے کیا معنی ہیں فرمایا یہ ملائکہ ہیں جو اللہ کی مخلوق پر اس کا رزق تقسیم کرنے والے یا اس کے اوامرواحکام مخلوقات تک پہنچانے والے ہیں تو جمہور مفسرین کے مشہور قول کے مطابق الجاریات سمندر میں تیرنے والی کشتیاں اور جہاز ہیں اور حضرت علی ؓ بن ابی طالب کی تفسیر میں الجاریات سے مراد ستارے ہیں تو اس لحاظ سے ان آیات میں جن اشیاء کی قسم کھائی گئی وہ عالم زمین سے ہوائیں اور عالم جو سے بادل اور ملکوت السموت سے ستارے اور فرشتے ہوئے اس طرح ان مخلوقات عظیم کا ذکر نہایت ہی لطیف انداز سے ترتی من الادنی الی الاعلی کا نمونہ ہوگیا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے بھی اسی طرح منقول ہے۔ 1 حاشیہ (تفسیر ابن کثیر، روح المعانی۔ ) مسند بزار میں اس طرح کا مضمون حضرت علی ابی طالب ؓ سے روایت کیا ہے جب کہ وہ کوفہ کے منبر پر خطبہ دے رہے تھے تو ایک شخص نے ان کلمات کی تفسیر دریافت کی اور آپ ؓ نے اسی طرح جواب دیا۔ 2 حاشیہ (بحوالہ تفسیر ابن کثیر) ” ایان “ لغت عربیہ میں زمانہ اور وقت کے سوال کے لئے واضع کیا گیا ہے لیکن اس کا استعمال اس موقعہ پر ہوتا ہے جہاں متکلم کسی چیز کی آمد بعید اور ناقابل تسلیم سمجھتا ہو برخلاف لفظ متی کے کہ وہ مطلق سوال عن الوقت کے لئے استعمال کیا جاتا ہے الغرض ان کے اس سوال میں عناد و انکار قیامت اور یہ کہ جس قیامت کی دھمکی دی جارہی ہے وہ کہاں آئے گی تو اس طبعی شقاوت کے باعث جواب میں تنبیہ اور سختی کا رنگ اختیار کرتے ہوئے فرمایا (آیت) ” یوم ھم علی النار یفتنون “۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس اللہ سرہ العزیز فرماتے ہیں یہ جواب اسی طرز کا ہے جیسے کسی مجرم کے واسطے پھانسی کا حکم ہوجائے مگر وہ احمق باوجود قیام براہین کے محض اس وجہ سے کہ تاریخ نہیں بتلائی گئی تکذیب ہی کئے جائے اور یہی کہتا رہے اچھا وہ دن کب آئے گا چونکہ یہ سوال از راہ تعنت سے اس لئے جواب میں بجائے تاریخ بتلانے کے یہ کہنا بھی نہایت ہی مناسب ہوگا وہ دن اس وقت آئے گا جب تم پھانسی پر لٹکائے جاؤ گے “۔ تو اسی طرح یہاں (آیت) ” ایان یوم الدین “۔ کے جواب میں بھی مناسب ہوا کہ فرمایا جائے (آیت) ” یوم ھم علی النار یفتنون “۔ ان کلمات میں مجرمین پر تنبیہ کے بعد اہل انعام اور مطیعین کے انعام واکرام کا ذکر فرمایا جارہا ہے۔
Ayahs 51:15–23

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 51:15 in the Quran reader

بیشک پرہیزگار بہشتوں اور چشموں میں (عیش کر رہے) ہوں گے

اٰخِذِیْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُحْسِنِیْنَؕ Open ayah 51:16 in the Quran reader

(اور) جو جو نعمتیں انکا پروردگار انہیں دیتا ہوگا انکو لے رہے ہوں گے بیشک وہ اس سے پہلے نیکیاں کرتے تھے

كَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّیْلِ مَا یَهْجَعُوْنَ Open ayah 51:17 in the Quran reader

رات کے تھوڑے سے حصے میں سوتے تھے

وَ بِالْاَسْحَارِ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ Open ayah 51:18 in the Quran reader

اور اوقات سحر میں بخشش مانگا کرتے تھے

وَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ Open ayah 51:19 in the Quran reader

اور ان کے مال میں مانگنے والے اور نہ مانگنے والے (دونوں) کا حق ہوتا تھا

وَ فِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَۙ Open ayah 51:20 in the Quran reader

اور یقین کرنے والوں کے لئے زمین میں (بہت) سی نشانیاں ہیں

وَ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 51:21 in the Quran reader

اور خود تمہارے نفوس میں تو کیا تم دیکھتے نہیں ؟

وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ Open ayah 51:22 in the Quran reader

اور تمہارا رزق اور جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے آسمان میں ہے

فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِنَّهٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَاۤ اَنَّكُمْ تَنْطِقُوْنَ۠ Open ayah 51:23 in the Quran reader

تو آسمانوں اور زمین کے مالک کی قسم یہ (اسی طرح) قابل یقین ہے جس طرح تم بات کرتے ہو

انعام واکرام مطیعین وآثار ایمان وتقوی درحیات مومنین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان المتقین فی جنت وعیون ....... الی ..... مثل ما انکم تنطقون “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں قیامت کا ذکر تھا اور معاندین کے انکار قیامت پر تنبیہ وتہدید تھی اور عذاب خداوندی سے آگاہ کیا گیا تھا تو اب ان آیات میں معاندین ومنکرین کے بالمقابل اہل ایمان وتقوی کے کچھ احوال اور انکی ایمانی زندگی کا رنگ بیان کرتے ہوئے حق تعالیٰ کی طرف سے جن انعامات سے ان کو نوازا جائے گا اس کا اجمالی بیان ہے تو فرمایا جارہا ہے۔ بیشک تقوی والے اللہ کے فضل وانعام سے باغات اور چشموں میں ہوں گے جو چشمے اور نہریں ان کے محلوں کے نیچے سے بہہ رہی ہونگی بڑی فرحت اور خوشنودی کے ساتھ۔ لینے والے ہونگے ان نعمتوں کو جو ان کے رب نے ان کو عطا کیں اور یہ انعامات خدواندی اور اعزاز واکرام اس بناء پر ان کے لئے ہوگا کہ بیشک اس سے پہلے وہ عالم دنیا میں نیکیاں کرنے والے تھے وہ ایسے محسن۔ 1 حاشیہ (محسنین کے ترجمہ میں اختیار کردہ الفاظ سے اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ یہ صفت احسان بمعنی احسان فی العبادۃ ہے جو اخلاص اور کمال عبادت کا نام ہے اور یہ بھی مراد ہے کہ احسان بمعنی انعام وانفاق فی سبیل اللہ ہو کہ علاوہ زکوٰۃ کے وہ صدقات نافلہ اور انفاق فی سبیل اللہ کی صورت میں لوگوں کے ساتھ احسان کا برتاؤ کرتے ہیں۔ اور نیکو کار اور اللہ رب العزت کی محبت اور ذوق عبادت میں مخمور تھے کہ بہت ہی کم رات کے حصہ میں ایسا ہوتا کہ وہ سوتے ہیں اور باوجود عبادت کے اس ذوق وشوق اور انہماک کے وہ اپنے کو خطا وار ہی سمجھتے ہوئے صبح کے وقتوں میں اپنے رب سے معافی ہی مانگتے ہیں اور ان کا عمل یہ ثابت کرتا ہے کہ ان مالوں میں حق ہے مانگنے والوں کا اور محتاج وتنگدست لوگوں کا اور خود اپنی رضا و خوشنودی طبع سے مساکین وتنگ دستوں کا ایک حصہ مقرر کر رکھا ہے گویا کہ یہ اہل اللہ اس حصہ مال کو ان کا حق سمجھ کر ادا کررہے ہیں اور یہ خوبیاں اور محاسن خدا پر ایمان اور آخرت پر یقین کی صفت پر مبنی ہیں سو خدا پر ایمان اور آخرت پر یقین کے لئے زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں یقین لانے والوں کے لئے روئے زمین کی نشانیاں تو بہت ہی عظیم وبلند ہیں، اور خود تمہارے اندر بیشمار دلائل ونشانیاں ہیں جن سے خدا کی قدرت پر کامل ایمان اور آخرت پر یقین حاصل ہوسکتا ہے تو کیا تمہیں یہ نشانیاں نظر نہیں آتی ہیں احسان وانفاق فی سبیل اللہ سے نفس میں ہرگز یہ خطرہ اور وسوسہ پیدا نہ ہونے دیا جائے کہ ہمارے مال میں کمی آجائے گی اور پھر ہم کہاں سے کھائیں گے اور آسمان میں رزق ہے جو تمہارے واسطے لکھ دیا گیا ہے اور وہ تم کو ہر حال میں ملے گا اور وہ ہر نعمت تم کو ملے گی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے کہ صدقہ اور خیرات کی برکات میں سے ہے کہ ایک کا ثواب اور بدلہ دس گنا سے سات سو گناتک ملے گا اور صدقات کی برکت دنیا میں بھی رزق اور مال کو کثیر کرے گی اور آخرت میں بھی اجر وثواب کا مستحق بنائے گی سو قسم ہے آسمان و زمین کے رب کی یہ بات حق اور قطعی ہے جیسا کہ تم بولتے ہو اور تم کو اپنے بولنے میں کوئی شبہ اور شک نہیں اسی طرح اللہ کا وعدہ بھی یقینی اور حق ہے اس میں بھی ہرگز کوئی شک وشبہ کی گنجائش نہیں۔ اہل ایمان وتقوی کے خصوصی اوصاف : ان آیات میں اہل ایمان وتقوی کے خصوصی احوال واوصاف بیان فرماتے گئے جو انکے واسطے بارگاہ خداوندی میں اعزاز واکرام کا باعث ہیں اس پہلے بیان کردہ گروہ کے برعکس جو اپنی نافرمانی اور سرکشی کے باعث خدا کے قہر وغضب اور عذاب کا مستحق بنا تو پہلی چیز تو یہ ذکر فرمائی گئی کہ وہ باغات اور چشموں میں ہوں گے جو ان کے سکون و راحت کی دلیل ہے دوسری چیز یہ فرمائی گئی ہے (آیت) ” اخذین مآ اتاھم “ کہ اللہ کے انعامات مسلسل ان پر ہورہے ہوں گے جو ان کو بڑی خوشی دیتے ہوں گے عطاء الہی کے قبول کرنے میں اس کے بندوں کو کس قدر لذت ہوتی ہے وہ اس سے ظاہر ہے پھر اس کا راز بیان کیا جارہا ہے کہ یہ انعام واکرام ان کے ایثار وسخاوت اور انفاق فی سبیل اللہ اور ذوق عبادت کے باعث ہے کہ پوری پوری رات اللہ کی عبادت میں گزاردیں اور بستروں پر پہلو بھی نہ ٹیکیں اور پھر اس درجہ کمال عبادت کے باوجود خشیت خداوندی کا یہ عالم کہ صبح کے اوقات میں استغفار میں مصروف ہوں جیسے کہ قصور وار گڑ گڑا کر معافی مانگتا ہو ان حضرات کو معرفت حق میں بھی درجہ اعلی واکمل حاصل ہے کہ زمین کی نشانیوں اور خود اپنی ذات کی نشانیوں یعنی دلائل آفاق اور دلائل انفس سے اپنے عجز وذلت کو اور خالق کائنات کی عزت و عظمت کو خوب پہچان رہے ہوں پھر یہ کہ سائلین اور تنگ دستوں کو دیکر فخر و غرور یا احسان جتانا تو درکنار ان کا طرز اور انداز زندگی تو یہ بتاتا ہے کہ گویا انہوں نے اپنے اوپر اپنا حق سمجھ رکھا ہے نیز خدا پر اعتماد وبھروسہ اس درجہ کہ نہ تنگی کا خطرہ نہ مستقبل کا فکر بلکہ یہ اعتماد و اعتقاد کہ ہمارا رزق آسمانوں پر اللہ کے پاس محفوظ ہے وہ ہمیں ضرور ملے گا اور سب سے بڑھ کر یہ بات کہ آخرت کا یقین، غرض یہ ہیں وہ اوصاف جو اہل ایمان وتقوی کے ان آیات میں نظر آتے ہیں۔ حافظ ابن کثیر (رح) نے (آیت) ” کانوا قلیلا من الیل ما یھجعون “۔ کی تفسیر میں بیان کیا کہ احنف بن قیس ؓ اس آیت کو پڑھ کر فرمایا کرتے ہیں تو اس آیت کا مصداق اپنے کو نہیں پاتا (غایۃ تواضع کے باعث ) عبدالرحمن بن زید بن اسلم ؓ بیان کرتے ہیں کہ بنو تمیم کے ایک شخص نے میرے والد سے کہا اے ابواسامہ ؓ قرآن کریم نے جس قوم کا ذکر کیا ہے (آیت) ” کانوا قلیلا من الیل “۔ میں وہ صفت ہم اپنے میں نہیں پاتے ہم تو خدا کی قسم تھوڑا حصہ بھی رات کا قیام نہیں کرتے فرماتے ہیں میرے والد نے جواب دیا اچھا ہے اس شخص کے لیے جب اونگھ آئی تو سوگیا اور جب بیدار ہوا تو خدا کا تقوی اختیار کیا۔ حسن بصری (رح) نے احنف بن قیس ؓ سے نقل کیا وہ فرماتے تھے میں اپنے عمل جب اہل جنت کے اعمال سے موازنہ کرتا ہوں تو مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ بہت بلند مرتبہ لوگ ہیں اور ایک ایسی قوم ہیں کہ ہمارے اعمال انکے درجے تک نہیں پہنچ سکتے لیکن جب اپنے اعمال کا اہل جہنم کے اعمال سے موازنہ کرتے ہیں تو الحمد للہ ہم اللہ اور اسکے رسول پر ایمان لائے ہیں اسلئے بس ایسا سمجھ میں آتا ہے کہ ہم اس گروہ میں ہیں جن کا ذکر قرآن کریم نے فرمایا (آیت) ” واخرون اعترفوا بذنوبھم خلطوا عملا صالحا واخر سیئا عسی اللہ ان یتوب علیہم “۔ تو اس وجہ سے امید یہی ہے کہ اللہ رب العزت ہم اپنی رحمت و عنایت کے ساتھ توجہ کرتے ہوئے درگزر فرمائے گا ، غرض یہ اوصاف وہی ہیں جن کا ذکر حضرت عبداللہ بن سلام ؓ نے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ آپ ﷺ کی طرف جوق در جوق رجوع کرنے لگے میں بھی انہی میں سے ایک تھا آپ ﷺ کی مجلس میں جس وقت پہنچا اور آپ کے چہرہ انور پر نظر پڑی تو ایک ہی نظر سے یقین کرلیا کہ یہ چہرہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہوسکتا سب سے پہلی چیز جو میں نے آپ ﷺ کی زبان مبارک سے سنی وہ تھی، یایھا الناس اقشوا السلام واطعموا الطعام وفی روایۃ وصلوا الارحام وصلوا باللیل والناس نیام تدخلوا الجنۃ بسلام۔ کہ اے لوگو ! کثرت سے سلام کیا کرو (محتاجوں کو) کھانا کھلایا کرو صلہ رحمی کرو اور رات کے ان حصوں میں نماز پڑھو جب کہ لوگ سوئے ہوئے ہوں بس تم جنت میں سلامتی و عافیت کے ساتھ داخل ہوجاؤ گے۔ اور حدیث اختصام۔ حاشیہ (جامع ترمذی ابواب صلوۃ اللیل۔ 12) ملاء اعلی میں ہے جب درجات کا سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے یہی کلمات ارشاد فرمائے افشاء السلام واطعام الطعام والصلوۃ باللیل والناس نیام۔ المحروم کی تفسیر : المحروم کی تفسیر میں مفسرین کے متعدد اقوال ہیں حافظ ابن کثیر (رح) نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور مجاہد (رح) سے نقل کیا کہ یہ وہ شخص ہے کہ جس کا بیت المال میں کوئی حصہ نہ ہو اور نہ اس کے پاس کسب معاش کا کوئی ذریعہ ہو جس سے وہ اپنا گزارہ کرسکے ام ال مومنین حضرت عائشہ ؓ سے بھی تقریبا یہی مفہوم نقل کیا گیا۔ سعید بن المسیب (رح) اور عطاء (رح) بیان کرتے ہیں محروم وہ شخص ہے جس کا مال ضائع ہوگیا ہو قتادہ (رح) اور زھری (رح) سے منقول ہے اس تنگ دست کو محروم کہتے ہیں جو لوگوں کے سامنے ہاتھ نہ پھیلاتا ہو اور اس پر اس حدیث کو بیان کیا کرتے۔ لیس المسکین بالطواف الذی تردہ اللقمۃ واللقمتان والتمرۃ والتمرتان ولکن المسکین الذی لایجد غنی یغنیہ ولا یفطن لہ فیتصدق علیہ۔ کہ مسکین یہ گشت کرنے والا سائل نہیں ہے کہ اس کو ایک لقمہ دو لقمے دردر بھٹکا رہے ہوں اور ایک کھجور دو کھجوریں ایک در سے دوسرے در پر لیجارہی ہوں مسکین تو درحقیقت وہ شخص ہے جس کے پاس کوئی سہارا نہ ہو اور نہ اسکی حالت وظاہری طور و طریق سے سمجھا جاتا ہو کہ وہ مسکین محتاج شخص ہے کہ اس کو صدقہ ہی دے دیا جائے۔ (آیت) ” وفی السمآء رزقکم “۔ کی تفسیر میں بعض حضرات نے بیان کیا کہ یہ بارش ہے جس سے اللہ بندوں کا رزق پیدا فرماتا ہے بعض مفسرین نے نقل کیا کہ کسی اعرابی نے یہ آیت سنی (آیت) ” فو رب السمآء والارض “۔ تو گھبرا کر کہنے لگا۔ سبحان اللہ یہ کون ہے جس نے خداوند رب جلیل کو غصہ دلایا یہاں تک کہ اس کو قسم تک کھانے کی نوبت آئی کیا ایسا بھی ہے کوئی کہ خدا کی بات کو سن کر فورا ہی تصدیق نہ کرے حتی کہ وہ قسم کھا کر اپنی بات کو مؤکد وثابت فرمائے۔