50. Surah Qaaf

قThe letter Qaaf · 45 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 50:1–11

قٓ١ۚ۫ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِۚ Open ayah 50:1 in the Quran reader

ق قرآن مجید کی قسم کہ محمد پیغمبر خدا ہے

بَلْ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا شَیْءٌ عَجِیْبٌۚ Open ayah 50:2 in the Quran reader

لیکن ان لوگوں نے تعجب کیا کہ ان ہی میں سے ایک ہدایت کرنے والا انکے پاس آیا تو کافر کہنے لگے کہ یہ بات تو (بڑی) عجیب ہے

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِیْدٌ Open ayah 50:3 in the Quran reader

بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی ہوگئے (تو پھر زندہ ہونگے ؟ ) یہ زندہ ہونا (عقل سے) بعید ہے

قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْ١ۚ وَ عِنْدَنَا كِتٰبٌ حَفِیْظٌ Open ayah 50:4 in the Quran reader

انکے جسموں کو زمین جتنا (کھا کھا کر) کم کرتی جاتی ہے ہم کو معلوم ہے اور ہمارے پاس تحریری یادداشت بھی ہے

بَلْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ فَهُمْ فِیْۤ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ Open ayah 50:5 in the Quran reader

بلکہ (عجیب بات یہ ہے کہ) جب انکے پاس (دین) حق آپہنچا تو انہوں نے اسکو جھوٹ سمجھا تو یہ ایک الجھی ہوئی بات میں (پڑ رہے) ہیں

اَفَلَمْ یَنْظُرُوْۤا اِلَى السَّمَآءِ فَوْقَهُمْ كَیْفَ بَنَیْنٰهَا وَ زَیَّنّٰهَا وَ مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ Open ayah 50:6 in the Quran reader

کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نگاہ نہیں کی کہ ہم نے اس کو کیونکر بنایا اور (کیونکر) سجایا اور اس میں کہیں شگاف تک نہیں

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍۙ Open ayah 50:7 in the Quran reader

اور زمین کو (دیکھو اسے) ہم نے پھیلایا اور اس میں پہاڑ رکھ دئیے اور اس میں ہر طرح کی خوشنما چیزیں اگائیں

تَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ Open ayah 50:8 in the Quran reader

تاکہ رجوع لانے والے بندے ہدایت اور نصیحت حاصل کریں

وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَكًا فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الْحَصِیْدِۙ Open ayah 50:9 in the Quran reader

اور آسمان سے برکت والا پانی اتارا اور اس سے باغ و بستان اگائے اور کھیتی کا اناج

وَ النَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌۙ Open ayah 50:10 in the Quran reader

اور لمبی لمبی کھجوریں جن کا گھابہ تہ بہ تہ ہوتا ہے

رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ١ۙ وَ اَحْیَیْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ؕ كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ Open ayah 50:11 in the Quran reader

(یہ سب کچھ) بندوں کو روزی دینے کے لئے (کیا ہے) اور اس (پانی) سے ہم نے شہر مردہ (یعنی زمین افتادہ) کو زندہ کیا (بس) اسی طرح (قیامت کے روز) نکل پڑنا ہے

بیان عظمت کلام خداوندی و انکار منکرین وتعجب بر حشر ونشر : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ق والقران المجید ....... الی ...... کذلک الخروج “۔ (ربط) سورة حجرات کے مضامین کا اختتام اس امر کے بیان پر تھا کہ اسلام کی توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہدایت ہے اور اس کا عظیم انعام ہے اس پر اللہ رب العزت کا شکر ادا کرنا چاہئے ایمان پر استقامت اور دین حق پر ثابت قدمی اس اعتقاد ویقین پر موقوف ہے کہ حق تعالیٰ شانہ بندہ کی ہر حالت سے باخبر ہے اور وہ ہر عمل کو دیکھتا ہے وہ آسمانوں اور زمینوں کی پوشیدہ چیزوں کو جانتا ہے تو اس مناسبت سے اب سورة ق کی ابتداء عظمت کلام خدا وندی سے کی جارہی ہے یہ ثابت کرنے کے لئے کہ ہدایت کا سرچشمہ قرآن کریم ہے اس پر ایمان لانا چاہئے تو فرمایا ق قسم ہے اس قرآن کی جو بڑے ہی مجد اور شرف والا ہے، ایسے کلام پر چاہئے تھا کہ لوگ ایمان لائے اور اس کے ذریعے ہدایت اور سعادت حاصل کرتے لیکن افسوس ان اہل مکہ نے اس پر ایمان لانے سے انکار کیا بلکہ اس پر تعجب کرنے لگے کہ انکے پاس آیا ہے ایک ڈرانے والا انہی میں سے جو ان کو عذاب آکرت سے ڈراتا ہے اگر وہ ایمان نہ لائیں ایمان سے انحراف و روگردانی ہی کچھ کم بدنصیبی نہ تھی اس سے بڑھ کر یہاں تک نوبت پہنچی کہ پھر کہنے لگے کافر یہ تو بہت ہی قابل تعجب چیز ہے جو عذاب خداوندی سے ڈرانے والا ہمیں بتا رہا ہے کہ ہم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوں گے جس کو ہم سمجھنے سے قاصر ہیں اور ماننے کے لئے ہرگز تیار نہیں تو کیا جب ہم مرجائیں گے اور مر چکنے کے بعد خاک میں مل کرمٹی ہوجائیں گے تو بھی ہم پھر دوبارہ زندہ ہو کر اٹھیں گے یہ تو لوٹنا بہت ہی بعید ہے عقل اس بات کو قبول نہیں کرتی اس طرح زمین میں دفن ہو کر ریزہ ریزہ ہوچکنے کے بعد پھر بھی کوئی انسان دوبارہ زندہ ہو اور خدا کی طرف لوٹے یہ منکرین ومکذبین ہماری قدرت و عظمت سے بیخبر ہیں ہمیں تو معلوم ہے زمین ان میں کتنا گھٹاتی ہے اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جس میں ہر چیز محفوظ ہے تو جس ذات کا علم اس قدر بلند اور محیط ہے کہ انسانی ابدان زمین میں دفن ہونے کے بعد کس حالت میں ہیں اور کس طرح گھٹتے ہیں اور زمین ان میں سے کتنا کھاتی ہے تو بیشک اس ذات کو اس بات پر بھی قدرت ہے کہ وہ اجزاء بدنیہ جہاں بھی کہیں ہوں جس شکل میں بھی ہوں انکو لوٹا کر پھر زندہ کردے۔ 1 حاشیہ (احادیث میں ہے کہ جب قیامت قائم کرنے کے لیے اسرافیل (علیہ السلام) کو صور پھونکنے کا حکم ہوگا تو وہ یہ ندا کریں گے ابی تھا العظام البالیۃ والاوصال المتقطعۃ والشعور المتفرقۃ ان اللہ یامرکن ان تجتمعن۔ کہ اے بوسیدہ ہڈیو اور ٹکڑے ٹکڑے ہوئے جوڑو اور منتشر بالو تم سب سب کو اللہ کا حکم ہے کہ جمع ہوجاؤ چناچہ اس نداء ہی کے ساتھ انسانی اجزاء جہاں بھی اور جس حالت میں ہوں گے ایک جاجمع ہوجائیں گے اور اس طرح دوبارہ زندہ ہو کر میدان حشر میں جمع ہوں گے۔ صحاح ستہ کی روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ایک شخص نے پہلی امتوں میں سے جب مرنے لگا تو اس سے اپنے بیٹوں کو وصیت کی کہ جب میں مرجاؤں تو میری لاش کو جلانا اور جلا کر راکھ کردینا اور جب میں جل کر راکھ ہوجاؤں تو اس میں سے نصف راکھ سمندر میں بہادینا اور نصف ہواؤں میں اڑا دینا اور ایک روایت میں یہ لفظ ہے کہ جس روز تیز ہوائیں چل رہی ہوں اس روز راکھ ہوا میں اڑا دینا اور ایک روایت میں ہے کہ خدا کی قسم اگر اللہ تعالیٰ کو مجھ پر دوبارہ اٹھانے کی قدرت ہوا میں اڑا دینا اور ایک روایت میں ہے کہ خدا کی قسم اگر اللہ تعالیٰ کو مجھ پر دوبارہ اٹھانے کی قدرت ہوگئی تو وہ مجھ کو ایسا عذاب دے گا کہ جہان والوں میں سے کسی کو مجھ پر دوبارہ اٹھانے کی قدرت ہوگئی تو وہ مجھ کو ایسا عذاب دے گا کہ جہان والوں میں سے کسی کو ایسا عذاب نہ ہوگا (گویا اس کے نزدیک یہ شکل عدم محض کے درجہ میں ہوجانے کی تھی اور اس حالت کے بعد اس کو تصور نہ تھا کہ پھر دوبارہ زندگی کا امکان ہوگا وہ قدرت خداوندی پر یقین تو رکھتا تھا مگر اس کے احاطہ فکر میں قدرت خداوندی کی یہی حد تھی کہ کوئی مردہ اپنے جسم کے ساتھ زمین میں موجود ہو تو بس اس کو دوبارہ اٹھا لیا جائے گا) حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس شخص کے مرنے کے بعد ایسا ہی کیا گیا حق تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا اس میں جو اجزاء تھے وہ اس نے جمع کرلئے ہواؤں کو حکم ہوا، ہوا نے جو ریزے اس میں منتشر تھے ان کو جمع کرلیا اور حق تعالیٰ نے اس کو زندہ کرکے سوال فرمایا اے میرے بندے یہ بات تو نے کس وجہ سے کی عرض کرے گا اے پروردگار تیرے ڈر سے تو آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بارگاہ خداوندی سے اس کے اس تقوی اور خشیت پر مغفرت فرما دی جائے گی۔ 12) اور صرف یہی نہیں کہ ہمارا علم اشیاء کے وجود اور اس کے بعد ہے بلکہ یہ علم قدیم ہر چیز کے وجود سے قبل بھی ہمارے پاس ایک کتاب یعنی لوح محفوظ میں موجود ہے خواہ کسی کی سمجھ میں آئے یہ نہ آئے یہ لوگ ان حقائق اور دلائل کو اپنے عناددسرکشی سے کیا مانتے بلکہ انہوں نے اس حق کو جھٹلایا جب کہ وہ ان کے پاس آچکا تو اب وہ تردد وحیرت ہی کی بات میں الجھے ہوئے ہیں اور ظاہر ہے کہ حق کا انکار کرنے والا تو اضطراب وتحیرہی میں مبتلا رہے گا کیونکہ سکون و طمانیت تو حق اور قبول حق میں ہے آخر ان کو قدرت خداوندی پر ایمان لانے میں کیا رکاوٹ ہے تو کیا انہوں نے نہیں دیکھا آسمان کو جو ان کے اوپر ہے اور ہم نے اس کو کیسا عجیب اور عظیم بنایا اور اس کو مزین کیا ستاروں سے اور اس میں کسی قسم سے کوئی پھٹن (شگا ف) نہیں ہے، کہ ایسا عظیم الشان جسم چھت کی طرح کیسے بغیر کسی ستون کے قائم اور مستحکم ہے اور رات کے وقت جب ستارے روشن ہوتے ہیں وہ قندیل کی شکل میں کس طرح بارونق اور خوبصورت نظر آتے ہیں اور پھر عجیب تر بات یہ ہے کہ ہزاروں لاکھوں سال گزرنے پر بھی اس چھت میں نہ کوئی سوراخ نظر آیا اور نہ ہی اس کا کوئی کنگرہ گرا اور نہ ہی اس کے رنگ میں کوئی فرق آیا۔ الغرض آسمان پر نظر کرنے اور اس کو غور سے دیکھنے سے یہ سب حقائق واضح ہوتے ہیں اور ان حقائق سے ہر عقل رکھنے والا آدمی یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ اس عظیم مخلوق کی تخلیق میں بڑے ہی باکمال قادر مطلق اور حکیم خالق کا دست قدرت شامل ہے اور زمین کو پھیلا دیا ہم نے اور ڈال دیئے ہم نے بوجھ اور وزنی پہاڑ میخوں کی طرح اس میں گاڑ دیئے کہ کرہ ارضی اپنے اوپر بسنے والی مخلوق کا بوجھ اٹھائے ہوتے ہے نہ حرکت ہے اور نہ دباؤ جھکاؤ ہے کہ اس پر انسان وحیوان چل رہے ہیں اور سواریاں دوڑ رہی ہیں اور اگاتی ہم نے اس میں ہر قسم کی رونق کی چیز سمجھانے کے لئے اور یاد دلانے کے لئے ہر اس بندہ کے واسطے جو اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا ہو کہ نہیں بنا اور یہ نظام عالم بغیر کسی چلانے والے پروردگار کے نہیں چل رہا ہے اور برسایا ہم نے آسمان سے پانی برکت والا پھر اس سے اگائے ہم نے باغات اور سبزے اور اناج کے دانے جس کے کھیت کو کاٹا جاتا ہے اور کھجور کے طویل درخت ان کے خوشے تہہ بر تہہ ہیں بندوں کے واسطے روزی کا سامان بناتے ہوئے اور زندہ کیا ہم نے اس بارش سے مردہ سرزمین کو تو جس طرح ایک بنجر زمین بارش کے ذریعہ زندہ کی جارہی ہے اور اس سے سبزے، درخت، پھل اور پھول پیدا ہورہے ہیں جن کے تخم زمین میں بودیئے جانے کے بعد مٹی میں مل گئے تھے اور مٹی ہی کے ریزوں کی طرح ہوگئے لیکن پھر بھی ان سے درخت سبزے پھل اور پھول اگائے جارہے ہیں بس اسی طرح میدان حشر میں بھی تمام انسانوں کا نکل کھڑا ہونا ہے اسی وجہ سے منکرین حشر کو ان مشاہدات کے بعد انکار وتکذیب سے باز آجانا چاہئے اور جو کچھ خدا کے پیغمبر نے وحی الہی سے بتایا اس پر ایمان لانا چاہئے بارش کے برسنے سے زمین بنجر کے شاداب ہونے اور زمین کی تہوں سے سبزے غلے، پھل اور پھول کی پیدائش کے مناظر کو دیکھ کر اقرار کرلینا چاہئے (آیت ) ” کذالک یحی اللہ الموتی “۔ کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو بھی بس اسی طرح زمین سے یا جہاں بھی ہوں قیامت کے روز میدان حشر میں اٹھائے گا اور جمع کرے گا چناچہ ارشاد خداوندی ہے (آیت ) ” ومن ایاتہ انک تری الارض خاشعۃ فاذا انزلنا علیھا المآء اھتزت وربت ان الذی احیاھا لمحی الموتی “۔ کہ اس پروردگار کی نشانیوں میں سے ہے کہ اے مخاطب تو زمین کو دیکھتا ہے کہ خشک اور بنجر پڑی ہے پھر جب ہم نے اس پر پانی برسایا تو وہ شاداب ہو کر سبز لہلہانے لگی اور ابھری (تو) یقیناً وہ ذات جس نے اس زمین کو زندہ کیا (اور اس سے سبزوں کو پیدا کیا) بلاشبہ وہ مردوں کو بھی زندہ کرنے والی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
Ayahs 50:12–15

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ اَصْحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوْدُۙ Open ayah 50:12 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح کی قوم اور کنوئیں والے اور ثمود جھٹلا چکے ہیں

وَ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ وَ اِخْوَانُ لُوْطٍۙ Open ayah 50:13 in the Quran reader

اور عاد اور فرعون اور لوط کے بھائی

وَّ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ وَ قَوْمُ تُبَّعٍ١ؕ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیْدِ Open ayah 50:14 in the Quran reader

اور بن کے رہنے والے اور تبع کی قوم (غرض) ان سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہماری وعید (عذاب) بھی پوری ہو کر رہی

اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ۠ Open ayah 50:15 in the Quran reader

کیا ہم پہلی بار پیدا کر کے تھک گئے ہیں ؟ نہیں بلکہ یہ از سر نو پیدا کرنے میں شک میں (پڑے ہوئے) ہیں

تنبیہ وتہدید کفار قریش پر انکار آخرت وحوالہ تاریخ ہلاکت امم سابقہ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” کذبت قبلھم قوم نوح ...... الی ...... من خلق جدید “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں مسئلہ آخرت اور حشر جسمانی کا ذکر تھا اور اس پر دلائل و شواہد بیان فرمائے گئے اور کفار قریش کے انکار وتعجب کا رد کیا گیا کہ بعث بعد الموت کا انکار عقلا وطبعا ممکن ہی نہیں اب اس کے بعد بطور عبرت اجمالا امم سابقہ کی ہلاکت و بربادی کی تاریخ دہرائی جارہی ہے کہ کس قدر طاقت در قومیں تھیں لیکن عذاب خداوندی نے ان کو تباہ وبرباد کرڈالا۔ ارشاد فرمایا جھٹلاچکے ہیں ان سے پہلے قوم نوح اور اصحاب الرس یعنی کنوئیں والے اور ثمود وعادوعاد اور فرعون اور لوط کی برادری والے اور اصحاب ایکہ یعنی بن کے رہنے والے جو شعیب (علیہ السلام) کی قوم سے تھے اور تبع کی قوم جو اہل یمن تھے ان سب نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا بس ان پر مسلط ہوگئی میری وعید یعنی تکذیب انبیاء پر جس عبرت ناک انجام سے ڈرایا گیا تھا اور عذاب سے آگاہ کیا گیا تھا وہ عذاب ان پر آکر رہا چناچہ کوئی قوم طوفان سے تباہ کردی گئی تو کسی کو آندھیوں نے ہلاک کردیا کوئی زلزلہ اور زمین میں دھنسا دئیے جانے کے عذاب سے نیست ونابود کردیئے گئے کسی کو آسمان سے پتھروں کی بارش نے تباہ کرڈالا یہ سب عبرتناک واقعات ہیں جو خدا کے رسولوں کی تکذیب کرنے والوں پر پیش آئے اور تاریخ عالم اس کی گواہ ہے تو ان کفار قریش کو بھی ڈرنا چاہئے کہ کہیں یہ بھی اسی طرح کسی عذاب سے ہلاک وتباہ نہ کرڈالے جائیں۔ (یہ واقعات اوراقوام کے قصے سورة ہود، حجر، فرقان، اور سورة دخان وغیرہ میں تفصیل کے ساتھ گذر چکے ہیں ) ان واقعات وحقائق کو دیکھ کر ہر شخص کو خدا کی باتوں پر ایمان لے آنا چاہئے اور یقین کرلینا چاہئے کہ بیشک خداوند عالم انسانوں کو دوبارہ قیامت میں اٹھائے گا اور ان کا حساب ہوگا اور جزاء سزا بھی ہوگی اس حقیقت کو تسلیم کرلینے میں ذرہ برابر تردد اور شک کی گنجائش نہیں تو اب اس حقیقت کے واضح ہوچکنے کے بعد اے منکرو ! سن لو کیا ہم عاجز ہوگئے پہلی مرتبہ پیدا کرکے کہ کوئی شخص یہ تو تسلیم کرے کہ ابتداء تخلیق اللہ نے کی لیکن وہ دوبارہ پیدا کرنے میں تردد کرے، نہیں، حقیقت میں تو نہ کوئی تردد ہے اور نہ ہی شبہ کی گنجائش ہے بلکہ وہ تو ایک دھوکہ میں پڑے ہوئے ہیں دوبارہ نئے طریقے سے پیدا کرنے کے معاملہ میں حالانکہ جب ابتداء خلق کو تسلیم کرلیا گیا تو اعادۂ خلق (جو قیامت کی حقیقت ہے) کہ تسلیم کرنے میں کیا تردد ہوسکتا ہے۔ صحیحین کی روایات میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا قال اللہ تعالیٰ کذبنی ابن ادم ولم یکن لہ ذالک۔ الخ۔ اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ ابن آدم (علیہ السلام) نے مجھے جھٹلایا حالانکہ یہ بات اس کو زیب نہیں دیتی تھی اور وہ اس کا یہ کہنا ہے کہ وہ رب مجھ کو دوبارہ نہیں زندہ کرے گا جس طرح کہ اس نے مجھے پہلے پیدا کیا تھا۔ بہرحال یہ اس کا فضول دھوکہ ہے جس میں وہ مبتلا ہے بھلا جس ذات نے پہلی مرتبہ پیدا کردیا اس کو دوبارہ زندگی بخش دینے میں کیا مشکل ہے اگر ایسا گمان ہے کہ وہ پروردگار پہلی مرتبہ پیدا کرکے تھک گیا ہے (العیاذ باللہ) اس لیے اب دوبارہ اس کو ہمت و طاقت نہیں ہے کہ پیدا کردے اس قادر مطلق کے متعلق اس قسم کا تو ہم سخت جہالت اور گستاخی ہے اسی امر کو قرآن کریم نے متعدد مواقع میں ثابت فرمایا جیسے کہ ارشاد خداوندی ہے۔ (آیت ) ” وھو الذی یبدؤا الخلق ثم یعیدہ “۔ اور (آیت ) ” کما بدانا اول خلق نعیدہ، وعدا علینا انا کنا فاعلین “۔
Ayahs 50:16–29

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ١ۖۚ وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ Open ayah 50:16 in the Quran reader

اور ہم ہی نے انسان پیدا کیا ہے اور جو خیالات اس کے دل میں گزرتے ہیں ہم انکو جانتے ہیں اور ہم اس کی رگ جان سے بھی اس سے زیادہ قریب ہیں

اِذْ یَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ Open ayah 50:17 in the Quran reader

جب (وہ کوئی کام کرتا ہے تو) دو لکھنے والے جو دائیں بائیں بیٹھتے ہیں لکھ لیتے ہیں

مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ Open ayah 50:18 in the Quran reader

کوئی بات اس کی زبان پر نہیں آتی مگر ایک نگہبان اس کے پاس تیار رہتا ہے

وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِیْدُ Open ayah 50:19 in the Quran reader

اور موت کی بیہوشی حقیقت کھولنے کو طاری ہوگئی (اے انسان) یہی (وہ حالت) ہے جس سے تو بھاگتا تھا

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ Open ayah 50:20 in the Quran reader

اور صور پھونکا جائے گا یہی (عذاب کے) وعید کا دن ہے

وَ جَآءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَآئِقٌ وَّ شَهِیْدٌ Open ayah 50:21 in the Quran reader

اور ہر شخص (ہمارے سامنے) آئے گا ایک (فرشتہ) اس کے ساتھ چلانے والا ہوگا اور ایک (اسکے عملوں کی) گواہی دینے والا

لَقَدْ كُنْتَ فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ Open ayah 50:22 in the Quran reader

(یہ وہ دن ہے کہ) اس سے تو غافل ہو رہا تھا اب ہم نے تجھ پر سے پردہ اٹھا دیا تو آج تیری نگاہ تیز ہے

وَ قَالَ قَرِیْنُهٗ هٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیْدٌؕ Open ayah 50:23 in the Quran reader

اور اسکا ہم نشین (فرشتہ) کہے گا کہ یہ اعمال نامہ میرے پاس حاضر ہے

اَلْقِیَا فِیْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 50:24 in the Quran reader

(حکم ہوگا کہ) ہر سرکش ناشکرے کو دوزخ میں ڈال دو

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ مُّرِیْبِۙ Open ayah 50:25 in the Quran reader

جو مال میں بخل کرنے والا حد سے بڑھنے والا شبہ نکالنے والا تھا

اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَاَلْقِیٰهُ فِی الْعَذَابِ الشَّدِیْدِ Open ayah 50:26 in the Quran reader

جس نے خدا کے ساتھ اور معبود مقرر کر رکھے تھے تو اس کو سخت عذاب میں ڈال دو

قَالَ قَرِیْنُهٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطْغَیْتُهٗ وَ لٰكِنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 50:27 in the Quran reader

اس کا ساتھی (شیطان) کہے گا کہ اے ہمارے پروردگار میں نے اس کو گمراہ نہیں کیا تھا بلکہ یہ آپ ہی راستے سے دور بھٹکا ہوا تھا

قَالَ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَ قَدْ قَدَّمْتُ اِلَیْكُمْ بِالْوَعِیْدِ Open ayah 50:28 in the Quran reader

(خدا) فرمائے گا کہ ہمارے حضور میں ردوکد نہ کرو ہم تمہارے پاس پہلے ہی (عذاب کی) وعید بھیج چکے تھے

مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 50:29 in the Quran reader

ہمارے ہاں بات بدلا نہیں کرتی اور ہم بندوں پر ظلم نہیں کیا کرتے

کمال قدرت خداوندی از روئے علم واحاطہ باحوال انسانی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ولقد خلقنا الانسان ...... الی ..... وما انا بظلام للعبید “۔ (ربط) ما قبل آیات میں منکرین حشر ونشر کا ذکر تھا اسی کے ساتھ پہلی امتوں کی عبرت ناک تاریخ دہرائی گئی تھی کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب کی تو اس کے نتیجے میں مختلف انواع و اقسام کے عذاب ان پر نازل ہوئے اور ان کو ہلاک کردیا گیا تو اسی طرح حضور اکرم ﷺ کی تکذیب ومخالفت کرنے والی قوم کفار قریش کو عذاب خداوندی سے بےفکر نہ ہونا چاہئے سزا دنیا چوں کہ دو چیزوں پر موقوف ہے ایک علم پر کہ مجرم کے جرم کا علم ہو دوسرے قدرت پر کہ مجرم کو سزا دینے پر قادر ہو تو اب ان آیات میں حق تعالیٰ کا کمال علم اور قدرت کا بیان ہے کہ وہ پروردگار احوال انسانی پر ہر لمحہ پورا پورا مطلع ہے حتی کہ ہو دل کے احوال اور وساوس و خطرات سے آگا ہے اور اس طرح اس کے احاطہ قدرت سے بھی کوئی باہر نہیں لہذا کسی مجرم کو اس دھوکہ میں نہ رہنا چاہئے کہ اس کے جرم کی خبر نہ ہوگی یا وہ جرم کی سزا سے بچ سکے گا تو ارشاد خداوندی ہے اور بیشک پیدا کیا ہے ہم نے انسان کو جس کو ہر صاحب عقل تسلیم کرنے پر مجبور ہے اور اس کے انکار کی عالم مادیت ودھریت میں کوئی دلیل نہیں اور ہم جانتے ہیں ان باتوں کو بھی جو اس کے نفس (دل) میں گزرتی ہیں لہذا انسان کا کوئی عمل اور حال حتی کہ خیال وتصور بھی ہم سے چھپا ہوا نہیں ہے اور ہم اس کے نزدیک تر ہیں اس کی رگ جاں سے بھی زیادہ، یعنی اسکی دھڑکتی ہوئی رگ جس کو شہ رگ کہا جاتا ہے تو جس اللہ رب العزت اور اس کا علم انسان کو روح اور نفس سے بھی زیادہ قریب ہے تو یہ کیونکر ممکن ہے کہ انسان کی کوئی بات اللہ سے مخفی رہے جب لیتے جاتے ہیں دو لینے والے انسان کے دائیں اور بائیں سے اس طرح ہے کہ ہر ایک ان میں تیار بیٹھا رہتا ہے کہ جونہی کوئی کام کیا اس نگران و پہریدار نے اس کو اچک کر محفوظ کرلیا نہیں بولتا انسان کوئی لفظ اپنے منہ سے مگر یہ کہ ایک نگران اس کے پاس تیار اسکو دیکھنے والا ہوتا ہے کہ جوں ہی کوئی لفظ منہ سے نکلا اس نگران پہریدار نے لکھا لیا اس طرح سے انسان کی زندگی اس کے احوال اور زبان سے نکلنے والا اور دل میں گذرنے والا ہر خطرہ خدا کے علم میں ہے اور ان میں سے ہر ایک کو محفوظ کرکے پوری زندگی کی ایک دستاویز مکمل ہوتی ہے اور اسی طرح جب اسکی زندگی اپنی انتہا کو پہنچتی ہے موت کی غشی اس پر آجاتی ہے حقیقت کے ساتھ اور جان کنی کی سختیوں میں مبتلا ہوجاتا ہے اس وقت اسکی حالت اور غیب کی ندا اس کو کہتی ہوتی ہے کہ اے انسان یہی تو ہے وہ جس سے تو اپنا رخ موڑتا رہتا تھا اور کسی طرح بھی اس پر آمادہ نہ ہوتا تھا کہ اس کی طرف توجہ کرے یا اس کو ٹلاتا رہتا تھا لیکن موت کب کسی تدبیر سے ٹلا کرتی ہے بہرکیف ہر انسان اپنی انفرادی زندگی پوری کرتے ہوئے موت اور آخرت کی حقیقت تو دیکھتا ہی رہتا ہے یہاں تک کہ ایک وقت آئے گا اور صور پھونکا جائے گا، بس یہی دن ہے ڈرانے کا جس سے تمام انبیاء اپنی اپنی قوموں کو ڈراتے رہے اور یہی وہ پیغام تھا جو آنحضرت ﷺ نے کوہ صفا پر تمام قبائل قریش و مکہ کو پہنچایا اور جس وقت یہ دن آئے گا تو حالت یہ ہوگی کہ ہر انسان آتا ہوگا اس طرح کہ میدان حشر میں کہ اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا ہوں گا ایک گواہ ہوگا جو اس کے احوال کی گواہی دے رہا ہوگا اس وقت دنیا کی لذتوں میں پڑ کر آخرت سے غافل ہونے والے انسان کو کہا جارہا ہوگا اے انسان ! بیشک تو بڑی ہی غفلت میں پڑا رہا اس دن سے اور تیری مادی لذتوں نے تیری آنکھوں پر ایک پردہ ڈال رکھا تھا سو اب کھول دیا ہے تیرا وہ پردہ تجھ سے تو بس تیری نگاہ آج تو خوب تیز ہے اور وہ چیزیں تجھے صاف نظر آرہی ہیں جن کے دیکھنے اور سمجھنے کے لیے آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا تھا اور کہے گا اس کا ساتھی یعنی وہ فرشتہ جو نامہ اعمال لئے حاضر ہوگا یہ ہے میرے پاس جو کچھ بھی مرتب کیا ہوا ہے جس پر ان دونوں کو جس میں سے ایک سائق ہنکانے والا اور دوسرا شہید وگواہ تھا حکم ہوگا ڈال دو تم جہنم میں ہر اس نافرمان، مغرور و مخالف انسان کو جو خیر سے لوگوں کو روکنے والا حد سے بڑھنے اور شک وشبہ میں ڈالنے والا تھا جس نے خدا کے ساتھ بہت سے اور معبود بنالیے تھے خواہ وہ معبود بت ہوں یا انسان کی نفسانی خواہشات اور دنیاوی لذتیں ہوں سو پھینک دو اس کو سخت عذاب میں اس وقت کہے گا اس کا ساتھی شیطان اے ہمارے پروردگار میں نے اس کو سرکشی میں نہیں ڈالا بلکہ یہ تو خود ہی راہ حق سے بہت دور بھٹکا ہوا گمراہی میں پڑا رہا نافرمان اور مجرم انسان اپنے جرائم اور گمراہی کی ذمہ داری شیطان پر ڈال رہا ہوگا اور شیطان اپنی براءت کرتے ہوئے کہتا ہوگا کہ اے پروردگار میں نے کیا زبردستی اس کو اس راستہ پر ڈالا ؟ میں نے تو بس اس کو دعوت دی تھی اور یہ خود برضا ورغبت ساری عمر گمراہی کی راہ پر چلتا رہا اور دعوت تو اس کو حق و ہدایت کی بھی پہنچتی تھی یہ تو سراسر اسی کا قصور ہے کہ اس نے ہادی حق کی دعوت کو ٹھکرا کر گمراہی کی دعوت کو قبول اور اختیار کیا غرض جب یہ تو تو میں میں ہورہی ہوگی تو حق تعالیٰ فرمائے گا جھگڑا مت کرو میرے پاس اور میں تو پہلے ہی بھیج چکا تھا تمہاری طرف اپنی دھمکی، نیک وبد سے آگاہ کردیا تھا اور یہ بھی بتادیا تھا کہ کس جرم کی کیا سزا ہوگی اور کوئی بھی شخص اپنے اعمال کی جزاء وسزا سے بچ نہ سکے گا میرے یہاں بات نہیں بدلتی اور نہ ہی میں ظلم کرنے والا ہوں ذرہ برابر بھی بندوں پر جو کچھ فیصلہ ہوگا وہ عین عدل و انصاف اور قانون حکمت کے مطابق ہوگا اور یہ پہلے ہی بتا دیا گیا تھا کہ کافر و مشرک کی بخشش ومعافی نہیں ہوسکتی سو یہ قانون اسی طرح اٹل ہے اور اسی کے مطابق اب کفر وشرک کی سزا نافذ وجاری کی جارہی ہے اور جب کافر کی بخشش نہیں تو وہ شیطان جو ہر کفر وگمراہی کا اصل سرچشمہ اور سبب ہے اس کی کیونکر بخشش ہوگی۔ (آیت ) ” ونعلم ما تو سوس بہ نفسہ “۔ سے حق تعالیٰ شانہ کے علم محیط کا ہونا بیان کیا جارہا ہے کہ ظاہری اعمال واحوال تو درکنار اللہ رب العزت تو دل میں گزرنے والے خطرات بھی جانتا ہے جیسے کہ ارشاد فرمایا گیا (آیت ) ” ان تبدوا مافی انفسکم او تخفوہ یحاسبکم بہ اللہ “۔ قلب کے خطرات ووساوس میں جو درجہ غیراختیاری ہے اس سے اللہ نے درگزر فرمانے کا وعدہ فرما لیا چناچہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے، ان اللہ تجاوز عن امتی ما تو سوست بھا صدورھا، کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت سے ان چیزوں کے بارے میں درگزر فرمالیا ہے جو بطور وسوسہ انکے دلوں میں گزریں البتہ عقائد اور باطنی گندگیاں اور نافرمانیوں کا عزم وہ یقیناً قابل گرفت ہے اس لئے کہ وہ عمل اختیاری ہے جسکو آیت ”۔ وان تبدوا “۔ میں فرمایا گیا (تفصیل سورة بقر میں گزر چکی ہے ) (آیت ) ” حبل الورید “۔ لغت میں دھڑکتی ہوئی رگ کو کہا جاتا ہے وہ گردن کی رگ ہے جس کو شہ رگ اور رگ جان بھی کہا جاتا ہے جس سے مراد انسان کی روح اور جان ہے مقصد یہ ہے کہ اللہ رب العزت انسان سے اس کی جان سے بھی زیادہ قریب ہے اور یہ قرب ظاہر ہے کہ اللہ کے علم اور قدرت کے لحاظ سے قرب ہے یعنی انسان کو اپنے احوال کا عمل اتنا نہیں ہوتا جتنا کہ اللہ کو اس کے احوال کا علم ہے۔ استاذمحترم شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی (رح) فرماتے ہیں علت اور منشاء کو معلوم اور ناشی کے ساتھ وہ قرب حاصل ہوتا ہے جو معلول اور ناشی کو خود اپنے نفس سے بھی نہیں ہوتا (کیونکہ علت پر معلول کا اور منشاء پر ناشی کا وجود موقوف ہے اور ظاہر ہے کہ موقوف علیہ موقوف سے تقدم رکھتا ہے تو اس وجہ سے خداوند عالم کا یہ فرمانا ہے کہ ہم تو انسان سے بہ نسبت اس کی رگ جاں سے زیادہ قریب ہیں۔ 1) حاشیہ (فوائد عثمانی۔ 12) حضرت شاہ صاحب (رح) کہتے ہیں کہ اللہ اندر سے نزدیک ہے اور رگ آخر باہر ہے جان سے کسی نے خوب کہا۔ جاں نہاں درجسم واودرجاں نہاں اے نہاں اندر نہاں اے جان جاں۔ (آیت ) ” اذ یتلقی المتلقین “۔ سے مراد دو فرشتے ہیں جو خدا کے حکم سے ہر وقت اس کی تاک میں لگے رہتے ہیں جو بھی لفظ اس کے منہ سے نکلتا ہے لکھ لیتے ہیں ایک دائیں طرف ہوتا ہے جو نیکیاں لکھنے پر مامور ہوتا ہے اور دوسرا بائیں طرف ہوتا ہے جو بدی اور گناہ لکھنے پر مقرر ہوتا ہے ان دو فرشتوں کا محل کیا ہے ؟ اس بارے میں مفسرین کے متعدد اقوال ہیں۔ امام احمد بن حنبل (رح) نے۔ 1 حاشیہ (تفسیر ابن کثیر۔ 12) بلال بن مزنی ؓ سے روایت کیا کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا بندہ کبھی ایک کلمہ اللہ کی خوشنودی کا بول دیتا ہے جس کو گمان بھی نہیں ہوتا کہ یہ ایک کلمہ اس درجہ تک پہنچ جائے گا تو اسی ایک کلمہ کی بدولت اس کے واسطے قیامت تک کیلئے اللہ کی رضا مندی کا پروانہ لکھ دیا جاتا ہے اور بسا اوقات ایک کلمہ اللہ کی ناراضگی کا بول دیتا ہے، حالانکہ اس کو اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ اس درجہ تک پہنچا دے گا تو اسی ایک کلمہ کی وجہ سے اللہ کی ناراضگی قیامت تک کے واسطے لکھ دی جاتی ہے۔ علقمہ ؓ اس روایت کو نقل کرکے کہا کرتے تھے کہ بہت سی باتیں ہیں جن کو میں اسی وجہ سے کہنے سے باز رہتا ہوں یعنی اس فرمان کا تصور مجھ کو ایک ایک لفظ زبان سے ادا کرنے کی جانچ پڑتال پر آمادہ کرتا ہے اور میں انتہائی احتیاط اختیار کرتا ہوں۔ احنف بن قیس ؓ کہا کرتے تھے دائیں ہاتھ والا فرشتہ جو خیر لکھتا ہے دوسرے فرشتے پر نگران رہتا ہے کہ اگر بندہ نے کوئی خطا کرلی تو دائیں ہاتھ والا فرشتہ بائیں جانب والے کو کہتا ہے ذرا ٹھیرجا ابھی اس کی یہ برائی نہ لکھ تاکہ اس مہلت میں بندہ استغفار کرلے لیکن بندہ نے اگر استغفار نہ کیا تو پھر لکھ لیتا ہے حسن بصری (رح) یہ آیت ” عن الیمین وعن الشمال “ الخ۔ پڑھ کر فرمایا کرتے اے ابن آدم تیرا نامہ اعمال میں نے کھول رکھا ہے اور تجھ پر دو معزز فرشتے مقرر کردیئے ہیں ایک تیری دائیں جانب ہے اور دوسرا بائیں جانب دائیں جانب والا تیری نیکیاں لکھ رہا ہے اور بائیں جانب والا تیری برائیاں لکھ رہا ہے اب تیری مرضی جو عمل چاہے کر کم کر یا زیادہ کر یہاں تک کہ جب تو مرجائے گا تو تیرے یہ صحیفے لپیٹ کر تیری گردن میں ڈال دیئے جائیں گے یہاں تک کہ جب قیامت کے روز تو اپنی قبر سے اٹھے گا تو اس وقت کہا جائے گا۔ (آیت ) ” اقرا کتابک کفی بنفسک الیوم علیک حسیبا “۔ اس کے بعد فرمایا کرتے خدا کی قسم تیرے بارے میں اس ذات نے عدل و انصاف کیا جس نے خود تیرے نفس کو تیرا محاسب بنایا۔ 1 حاشیہ (تفسیر ابن کثیر۔ تفسیر قرطبی۔ ) اسی کو حق تعالیٰ شانہ نے فرمایا ہے (آیت ) ” وکل انسان الزمناہ طائرہ فی عنقہ ونخرج لہ یوم القیامۃ کتابا یلقاہ منشورا “۔ (آیت ) ” وجآءت سکرۃ الموت بالحق “۔ سکرۃ الموت موت کی بےچینی کا نام ہے جو جسمانی طور پر نزع روح کے وقت پیش آتی ہے یہ سکرۃ الموت ہر ایک کے حق میں ہے حدیث صحیح میں ہے حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ پر جب موت کی کیفیت واقع ہونے لگی تو آپ کی پیشانی پسینہ آلود ہوگئی آپ ﷺ پیشانی کا پسینہ پونچھتے جاتے اور فرماتے، سبحان اللہ ان للموت سکرات۔ اس آیت میں ہر انسان کی موت کا ذکر ہے اور ہر انسان کی موت اس کے حق میں قیامت ہے جیسا کہ ارشاد نبوی ﷺ ہے ان من مات فقد قامت قیامتہ، کہ جو شخص مرگیا بس اس کی تو قیامت شروع ہوگئی تو اس انفرادی قیامت کے ذکر کے بعد عمومی اور اجتماعی قیامت (جو کل عالم کائنات پر برپا ہوگی) کا ذکر فرمادیا گیا (آیت ) ” ونفخ فی الصور ذلک یوم الوعید “۔ ابن جریر (رح) نے یحییٰ بن رافع (رح) سے نقل کیا کہ میں نے حضرت عثمان بن عفان ؓ سے ا (آیت ) ” وجآءت کل نفس معھا سآئق وشھید “۔ سنی اور فرمایا سائق محشر کی طرف گھسیٹ رہا ہوگا اور شہید اس کے ہر عمل کی گواہی دیتا ہوگا مجاہد (رح) وقتادہ (رح) بیان کرتے تھے بروایت ابوہریرہ ؓ سائق فرشتہ ہے اور شہید انسان کا عمل ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے منقول ہے فرمایا سائق تو فرشتوں میں سے ہوگا لیکن شہید خود وہ انسان ہے اپنے ہر عمل کی خود ہی گواہی دے رہا ہوگا جیسے کہ (آیت ) ” الیوم نختم علی افواھھم “ میں واضح فرمادیا گیا۔ بعض مفسرین کی رائے یہ ہے کہ سائق وشہید کافر کے حق میں ہوگا اور بعض کا خیال ہے کہ ہر شخص خواہ وہ نیک یا بدکار ہو ہر ایک کے واسطے یہی ہوگا کہ ایک سائق ہے اور دوسرا شہید۔