49. Surah Al-Hujuraat

الحجراتThe Inner Apartments · 18 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 49:1–3

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 49:1 in the Quran reader

مومنو ! (کسی بات کے جواب میں) خدا اور اسکے رسول سے پہلے نہ بول اٹھا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو بیشک خدا سنتا جانتا ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 49:2 in the Quran reader

اے اہل ایمان ! اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اونچی نہ کرو اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو (اس طرح) ان کے روبرو زور سے نہ بولا کرو (ایسا نہ ہو) کہ تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو

اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰى١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 49:3 in the Quran reader

جو لوگ پیغمبر خدا کے سامنے دبی آواز سے بولتے ہیں خدا نے ان کے دل تقوے کے لئے آزما لیے ہیں ان کے لئے بخشش اور اجر عظیم ہے

حقوق آداب و عظمت رسول اکرم ﷺ وانحصار فلاح وسعادت درانقیاد و اطاعت پیش فرامین بارگاہ رسالت : (ربط) سورة فتح کا اختتام حضرات صحابہ ؓ کے خصوصی اوصاف و فضائل وکمالات کے ذکر پر ہوا تھا تو اب اس سورت میں یہ بیان کیا جارہا ہے کہ امت پر رسول خدا ﷺ کے کیا کیا حقوق عائد ہیں۔ اور حضرات صحابہ ؓ کو اللہ نے جو ایسے فضائل و کمالات سے نوازا تھا وہ ان کے انقعادواطاعت ہی کے باعث تھا، دلوں کے تقوی کے ساتھ ظاہری آداب اور حقوق عظمت کا کس قدر لحاظ تھا کہ مجلس میں جب بیٹھتے تو وہی شان ہوتی جو احادیث میں فرمائی گئی کہ کان علی رؤسنا الطیر گویا ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں تو ان مضامین کا آغاز رسول اعظم کے حق تعظیم وتبجیل کے بیان سے کیا جارہا ہے ارشاد فرمایا۔ اے ایمان والو ! ہرگز آگے نہ بڑھو اللہ سے اور اسکے رسول سے کہ اللہ اور اسکے رسول کے فیصلہ اور اسکی بات سے آگے بڑھو اسکی خلاف ورزی یا اپنی بات کو رسول خدا کی بات پر اونچی کردیا کسی معاملہ میں خدا اور اس کے رسول ﷺ کے فیصلہ سے پہلے ہی کچھ طے کرلو یا اپنی رائے کے مقابلہ میں وحی الہی کو نظر انداز کردو۔ 1 حاشیہ (یہ کلمات اس بات کی طرف اشارہ ہیں کہ خدا اور اسکے رسول سے آگے بڑھنے کی یہ متعدد صورتیں ہیں کسی مومن کے لئے ان صورتوں میں سے کوئی بھی صورت اختیار کرنا یہ اللہ اور اس کے رسول سے آگے بڑھنا ہے 12) بلکہ اس کے برعکس ہر حکم الہی اور فیصلہ رسول کو بےچون وچرا سنو اور اس کی اطاعت کرو اور اس کے خلاف دل میں بھی کسی قسم کی تنگی نہ رکھو اپنی اغراض و خواہشات اور جذبات وحی الہی کے تابع کردو اور اللہ سے ڈرتے رہو، یہی خوف خدا اور خشیت وتقوی اس امر کا ضامن ہوگا کہ تم کسی بھی مرحلہ پر خدا اور اس کے رسول سے آگے قدم نہ بڑھا سکوگے اور یہ باطنی تقوی اس اعتقاد پر موقوف ہے کہ یقیناً اللہ تعالیٰ خوب سننے والا جاننے والا ہے اس لئے کسی انسان کا کوئی قول وفعل اس سے مخفی نہیں رہ سکتا ہے اللہ رب العزت کی سچی فرمان برداری اور کامل اطاعت اس کے رسول ﷺ کی اطاعت وفرمانبرداری میں مضمر ہے اور اطاعت وفرمانبرداری تعظیم و توقیر اور ادب پر موقوف ہے اس لیے پیغمبر خدا ﷺ کی توقیر وتعظیم کا یہ حق ہے کہ اے ایمان والو تم بلند نہ کرو اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز پر اور نہ تڑخ کر بات کرو ان سے جیسے کہ تم ایک دوسرے پر تڑختے ہو اور سخت لب و لہجہ میں ایک دوسرے سے بات کرتے ہو ہرگز اس طرح کی بےادبی اور بےحرمتی خدا کے رسول ﷺ کے ساتھ بات کرنے میں اختیار نہ کرنا کہیں ایسا نہ تمہارے اعمال نیکیاں برباد ہوجائیں اور تم کو خبر ہی نہ ہو اس لئے کہ اس قسم کی بےحرمتی اور بےادبی سے گفتگو کرنا رسول خدا ﷺ کی اذیت اور دل آزاری کا ذریعہ ہوگا اور ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو اذیت پہنچانا یا ایسی کوئی حرکت کرنا جس سے آپ ﷺ کے قلب مبارک پر تکدر واقع ہوا صل ایمان ہی کی بربادی کا باعث ہے جیسا کہ سورة احزاب میں واضح طور پر اعلان فرما دیا گیا (آیت ) ” ان الذین یؤذون اللہ ورسولہ لعنھم اللہ فی الدنیا والاخرۃ “۔ بیشک جو لوگ اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس اور جب بھی وہ مجلس رسول ﷺ میں حاضر ہوتے ہیں تو آپ ﷺ کی تعظیم و توقیر میں آوازیں پست رکھتے ہیں اور آپ کی ہیبت ورعب ان پر اس قدر طاری رہتا ہے کہ آواز ہی گویا نہیں نکلتی تو یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے جانچ لیا ہے تقوی کے واسطے کہ ادب کی تخم ریزی کے لیے ان کے قلوب کو پرکھا اور ان کو مانجھ کر اور صیقل کرکے تقوی و طہارت سے مزین کیا ان کے واسطے درگزر ہے ان کی کوتاہیوں سے اور بڑا ہی ثواب ہے جو ان کو ایمان واخلاص رسول خدا ﷺ کے احکام کی اطاعت و فرمان برداری اور ان کی تعظیم و توقیر پر بارگاہ رب العزت سے عطا کیا جائے گا۔ الغرض یہ ایمان کے بنیادی تقاضے ہیں جن کی رعایت اور تکمیل ہر مومن پر فرض ہے کامل اطاعت وفرمانبرداری کہ ہر حکم خدا اور رسول کے سامنے سرنگوں ہوجانا اور کسی بھی بات میں فرمان خداوندی اور حکم رسول سے آگے نہ بڑھنا جس کی اساس تقوی ہے پیغمبر خدا کا ادب اور تعظیم و توقیر اور ہر ایسی بات سے اجتناب و احتیاط جس سے پیغمبر خدا ﷺ کو تکدر یاد لآزاری ہو۔ بارگاہ رسالت میں حضرات صحابہ ؓ کی شان ادب و تواضع : حضرات صحابہ ؓ کی زندگیوں میں پیش آنے والے بہت سے واقعات امت کے واسطے عظیم رحمت اور سامان ہدایت بنتے ہیں کہ قیامت تک کے واسطے ایک ایسا ضابطہ میسر آجاتا ہے کہ اس پر ایمانی زندگیوں کی تعمیر وتشکیل کی جاسکے۔ حضرات مفسرین بیان کرتے ہیں کہ آیت ”۔ لا ترفعوا اصواتکم “۔ صدیق اکبر ؓ اور عمر فاروق ؓ کے ایک واقعہ میں نازل ہوئی، بخاری (رح) نے (صحیح بخاری ج 2 کتاب التفسیر 12) ابن ابی ملیکہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک روز ابوبکر صدیق ؓ اور عمر فاروق ؓ کی آواز آنحضرت ﷺ کی مجلس میں بلند ہوگئی جب کہ بنو تمیم کا ایک وفد آیا تو ان میں سے ایک نے مشورہ دیا کہ امیر اقرع بن حابس ؓ کو بنایا جائے دوسرے نے کہا نہیں ان کو نہیں کسی۔ 1 حاشیہ (بعض روایات سے ان کا نام معلوم ہوا قعقاع بن معبد ؓ ۔ 12) کسی اور کو بنایا جائے اس پر ابوبکر ؓ نے عمر ؓ سے کہا تم نے میری مخالفت کا ارادہ کرتے ہوئے اس کے خلاف کہا انہوں نے جواب دیا، نہیں میں نے تمہاری مخالفت کا کوئی قصد نہیں کیا تو اس وقت ایک دوسرے سے بات کرتے ہوئے کچھ آواز بلند ہوگئی اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت ) ” لا ترفعوا اصواتکم “۔ اس کے بعد ان حضرات کی تو یہ کیفیت ہوگئی کہ بات کرتے وقت انکی آواز ہی نہیں سنائی دیتی تھی یہاں تک کہ آنحضرت ﷺ کو بار بار پوچھنا پڑتا تھا کہ بھائی کیا کہہ رہے ہو۔ حافظ (رح) نے مسند بزار کے حوالہ سے یہ نقل کیا ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے پر ابوبکر صدیق ؓ آنحضرت ﷺ سے عرض کرنے لگے یا رسول اللہ ﷺ اب آئندہ کبھی بھی کوئی بات نہ کروں گا مگر صرف اسی طرح کہ جیسے کوئی آپ ﷺ سے سرگوشی کرنے والا ہو۔ حضرات صحابہ ؓ آپ ﷺ کے آداب عظمت سے اس قدر متاثر ہوئے کہ اس آیت کے نازل ہونے پر بعض ایسے صحابہ ؓ نے جن کی قدرۃ آواز اونچی تھی آنحضرت ﷺ کی مجلس میں حاضر ہونا ہی چھوڑ دیا۔ حضرت ثابت بن قیس ؓ انصار کے خطیب تھے اور نہایت بلند آواز تھے ارادہ کرکے بھی آہستہ آہستہ بولتے تب بھی انکی آواز رسول اللہ ﷺ کی آواز سے اونچی ہی ہوجاتی تو انہوں نے ڈر کر مجلس ہی میں حاض ہونا ترک کردیا اور یہی سمجھا کہ جب بھی بولوں گا آواز اونچی ہوجائے گی اور اس طرح وعید (آیت ) ” ان تحبط اعمالکم “۔ کی زد میں آجاؤنگا۔ آنحضرت ﷺ نے کئی روز ثابت بن قیس ؓ کو مجلس میں نہ دیکھنے کی وجہ سے دریافت فرمایا کہ کیا ہوا ثابت ؓ کو ؟ کیا وہ بیمار ہے ؟ (کہ نہیں آرہا ہے) ایک صحابی نے اس کا تذکرہ کیا تو ثابت بن قیس ؓ نے یہ سبب بیان کیا اور کہا کہ ایسی صورت میں مجھے ڈر لگتا ہے کہ میں اہل نار میں سے ہوجاؤں گا ان صاحب نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ وجہ بیان کی آنحضرت ﷺ نے فرمایا نہیں بل ھو من اہل الجنۃ بلکہ وہ تو اہل جنت میں سے ہے۔ 2 حاشیہ (صحیح بخاری۔ صحیح مسلم۔ ) ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ثابت ؓ سے فرمایا اے ثابت کیا تمہیں یہ بات پسند نہیں ہے کہ تم زندگی گزارو قابل تعریف زندگی اور اللہ کی راہ میں شہادت نصیب ہو اور جنت میں داخل ہوجاؤ بولے کیوں نہیں یارسول اللہ میں راضی ہوں اللہ اور اس کے رسول کی بشارت پر۔ 1 حاشیہ (اخرجہ الامام احمد (رح) 12) احادیث میں ہے کہ ایک مرتبہ عمر فاروق ؓ نے مسجد میں دو شخصوں کی آواز سنی تو ان کو تنبیہ فرمائی اور پوچھا کہ تم لوگ کہاں کے ہو معلوم ہوا کہ یہ اہل طائف ہیں تو فرمایا اگر یہاں مدینہ کے باشندے ہوتے تو میں تم کو سزا دیتا (افسوس کی بات ہے کہ) تم اپنی آوازیں بلند کر رہے ہو مسجد رسول اللہ ﷺ میں اس حدیث سے علماء امت نے یہ حکم اخذ فرمایا ہے کہ جیسے آنحضرت ﷺ کا احترام آپ ﷺ کی حیات مبارکہ میں تھا اسی طرح کا احترام و توقیر اب بھی لازم ہے کیوں کہ حضور اکرم ﷺ اپنی قبر مبارک میں حی (زندہ) ہیں اور جس طرح کہ آپ ﷺ کی دنیوی حیات مبارکہ میں (آیت ) ” لا تجھروا لہ بالقول “۔ کی حرمت وممانعت تھی اسی طرح اب بھی ہے اس لیے قبر مبارک کے پاس بلند آواز سے بات کرنا اور سخت لب و لہجہ اختیار کرنا ممنوع ہے وقار و سکون اور تعظیم و تکریم ملحوظ رکھتے ہوئے بات کرے۔ 2 حاشیہ (تفسیر ابن کثیر ج 4) : حبط اعمال کی وعید کفر وشرک اور ارتداد کے بعد اس پر بیان فرمائی گئی جس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر خدا کے مقابلہ میں بےتمیزی اور گستاخی ارتداد اور کفر کے درجہ کی معصیت ہے کیونکہ یہ چیز ایذاء رسول ہے اور رسول خدا کو ایذاء پہنچانا ایمان سے محرومی ہے۔ العیاذ باللہ۔
Ayahs 49:4–8

اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 49:4 in the Quran reader

جو لوگ تم کو حجروں کے باہر سے آواز دیتے ہیں ان میں اکثر بےعقل ہیں

وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُجَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:5 in the Quran reader

اور اگر وہ صبر کئے رہتے یہاں تک کہ تم خود نکل کر ان کے پاس آتے تو یہ ان کے لئے بہتر تھا اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ Open ayah 49:6 in the Quran reader

مومنو ! اگر کوئی بدکردار تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کرلیا کرو (مبادا) کہ کسی قوم کو نادانی سے نقصان پہنچا دو پھر تم کو اپنے کئے پر نادم ہونا پڑے

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ فِیْكُمْ رَسُوْلَ اللّٰهِ١ؕ لَوْ یُطِیْعُكُمْ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَیْكُمُ الْاِیْمَانَ وَ زَیَّنَهٗ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ كَرَّهَ اِلَیْكُمُ الْكُفْرَ وَ الْفُسُوْقَ وَ الْعِصْیَانَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوْنَۙ Open ayah 49:7 in the Quran reader

اور جان رکھو کہ تم میں خدا کے پیغمبر ہیں اگر بہت سی باتوں میں وہ تمہارا کہا مان لیا کریں تو تم مشکل میں پڑجاؤ لیکن خدا نے تم کو ایمان عزیز بنادیا اور اس کو تمہارے دلوں میں سجا دیا اور کفر اور گناہ اور نافرمانی سے تم کو بیزار کردیا یہی لوگ راہ ہدایت پر ہیں

فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ نِعْمَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 49:8 in the Quran reader

(یعنی) خدا کے فضل اور احسان سے اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

تنبیہ وتہدید بر بےتمیزی وبیحرمتی دربارگاہ رسالت وتلقین آداب تعظیم و اطاعت : (ربط) گذشتہ آیات میں ان حقوق وآداب کا ذکر تھا جو رسول ﷺ کی ذات اقدس کے لیے امت پر عائد اور فرض ہیں اور ان حقوق میں کوتاہی پر وعید وتنبیہ تھی اور یہ کہ یہ ایسی خطرناک تقصیر وغلطی ہے کہ مسلمان سرمایہ اعمال سے ہی محروم ہوسکتا ہے، جو اس نے اپنی زندگی میں کمایا تو اب ان آیات میں بعض ایسی گستاخیوں اور بےتمیزیوں کا ذکر فرمایا جارہا ہے جو جہلاء اور کم عقل لوگوں سے پیش آتی تھیں اور اس پر تنبیہ کی گئی اور یہ بتایا جارہا ہے کہ پیغمبر خدا ﷺ کو مخاطب بنانے اور آپ ﷺ کی مجلس میں حاضر ہو کر بات کرنے کا کیا طریقہ ہے ادب اور تعظیم و توقیر اختیار کرنا چاہئے ارشاد فرمایا۔ جو لوگ آپ ﷺ کو اے ہمارے پیغمبر پکارتے ہیں حجروں کے پیچھے سے وہ اکثر عقل نہیں رکھتے ان کو چاہئے تھا کہ اس طرح بےتمیزی کا مظاہرہ نہ کرتے کہ حجروں کے پیچھے ہی سے یا محمد، یا محمد، یا، یا رسول اللہ یا رسول اللہ کہہ کر پکارنے لگیں، ان کو تو متانت اور ادب کا طریقہ اختیار کرنا چاہئے تھا اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ آپ ان کی طرف نکل کر باہر آجاتے اور اس وقت آپ ﷺ سے تخاطب شروع کرتے تو بہتر تھا ان کے حق میں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے اس وجہ سے جو بات بےعقلی یا نادانستگی سے سرزد ہوئی اللہ تعالیٰ اس سے درگزر اور اس کو معاف فرمائے گا۔ صبروتحمل اور متانت انسان میں وہ وصف ہے کہ اس کی بدولت بہت سی برائیوں سے محفوظ رہتا ہے اور معاملات ومعاشرت میں باہمی اخوت و ہمدردی کی فضا قائم ہوتی ہے اس لیے یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ اے ایمان والو ! جب تمہارے پاس کوئی فاسق وفاجر آدمی کوئی خبر لے کر آئے تو تم تحقیق کرلو کہیں ایسا نہ ہو تم جا پڑو کسی قوم پر نادانی اور صحیح حقیقت معلوم نہ ہونے کی وجہ سے پھر تم اپنے کئے پر پچھتانے لگو کیونکہ بسا اوقات انسان کسی غلط خبر پر جذبات میں آکر کسی کے مقابلہ میں غلط قدم اٹھا لیتا ہے پھر جب حقیقت سامنے آتی ہے تو اپنی نادانی اور حماقت پر پچھتانا پڑتا ہے اور ظاہر ہے اس طرح کی باتوں سے مسلمان قوم کی اجتماعی اور انفرادی زندگی مختلف اقسام کی خرابیوں میں پڑجائے گی ہر فتنہ اور شر سے تحفظ کے لیے خدا نے اپنا پیغمبر تمام عالم کے واسطے ہادی اور رحمت بنا کر مبعوث فرما دیا ہے تو پیغمبر خدا کی ہدایت و ارشاد کو لائحہ عمل بنانا چاہئے اور ایمان والو ! یہ بھی جان لو کہ تمہارے درمیان اللہ کا رسول ہے اور رسول اللہ ﷺ کا اسوۂ رسول ﷺ ہی کی اتباع وپیروی کریں یہ روش ہرگز اختیار نہ کریں کہ اللہ کے پیغمبر کو اپنی مرضیات اور جذبات کے تابع کریں یا رسول خدا کی ہدایات وتعلیمات کو اپنی اغراض و خواہشات کے مطابق بنانے کی کوشش کریں اگر اللہ کا رسول تمہاری موافقت کرنے لگے تمہاری بہت سی باتوں میں تو یقیناً تم بڑی ہی مشقت میں پڑجاؤ گے اور بالفرض اگر ایسی صورت واقع ہوجائے کہ تم اللہ کے رسول اور اس کی ہدایات وتعلیمات کو اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق بنانے لگو تو بلاشبہ تم ہلاکت وتباہی میں پڑجاؤ گے مگر اے ایمان والو اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں میں ایمان کی محبت ڈال دی ہے اور اسکو تمہارے قلوب میں رچا دیا ہے اور نفرت ڈال دی تمہارے دلوں میں کفر کی اور گناہ ونافرمانی کی تو اسکی بدولت اے اہل ایمان تم اپنی خواہشات اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے سامنے قربان کردیتے ہو جو ایمان کا رنگ اور ایمان کا تقاضا ہے اور تم اسی ایمانی جذبہ اور معرفت کے باعث اس حقیقت کو سمجھ گئے ہو (آیت ) ” ولو اتبع الحق اھوآءھم لفسدت السموت والارض ومن فیھن “۔ کہ اگر حق اور وحی الہی ان لوگوں کی خواہشات کی موافقت کرنے لگے تو آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب تباہ وبرباد ہوجائیں گے تو اس حقیقت کو سمجھ لینے والے ہی وہ لوگ ہیں جو فلاح ورشد کے سیدھے راستے پر چلنے والے ہیں اور ایسے سعادت مند لوگوں کا راہ راست پر چلنا فضلیت و کرامت ہے اللہ کی طرف سے اور انعام ہے اسی کا اور اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا حکیم ہے تو اپنے عمل و حکمت سے جس کے واسطے چاہتا ہے رشد وہدایت مقدر فرماتا ہے اور جس کسی کو چاہتا ہے اپنے فضل وانعام سے نوازتا ہے۔ قبیلہ بنوتمیم کا گستاخانہ طرز اور ان کو تنبیہ ونصیحت : روایات میں ہے کہ ایک دفعہ بنو تمیم کے کچھ لوگ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں ملاقات کے لئے حاضر ہوئے، آنحضرت ﷺ حجرہ مبارک میں تشریف رکھتے تھے وہ حجرہ کی دیواروں کے پیچھے ہی سے پکارنے لگے ،” یا محمد “ اور ایک روایت میں یا رسول اللہ اخرج الینا۔ کہنے لگے کہ اے محمد ﷺ باہر آئیے بلاشبہ یہ ان کی بےعقلی اور بےتمیزی تھی ان کو حضور ﷺ کے مرتبہ کا لحاظ کرنا چاہئے تھا اور یہ بھی سوچنا چاہئے تھا کہ ممکن ہے کہ اس وقت آپ ﷺ پر اللہ کی وحی اتر رہی ہو یا کسی اہم کام میں مشغول ہوں آپ ﷺ پر تو امت کے تمام امور کی ذمہ داری تھی اور آپ ﷺ کی ذات اقدس ان کے دنیوی ودینی امور کا مرکز اور ملجاء تھی آپ ﷺ تو ہر لمحہ ذہنی اور فکری مشغولیت کے علاوہ اپنے دیگر معمولات میں منہمک ومصروف رہتے تھے، پھر یہ طریقہ بےادبی کا بھی ہے ادب کا تقاضا یہ ہے کہ صبر کیا جائے اور جب آپ ﷺ باہر تشریف لائیں تو اس وقت اپنامدعا پیش کیا جائے اس ادب اور رسول خدا ﷺ کی تعظیم و توقیر کی تعلیم کے ساتھ یہ فرمادیا گیا کہ جو غلطی اور تقصیر نادانستگی سے پیش آئی اللہ اس کو معاف فرمانے والا ہے اس وجہ سے یہ چاہئے کہ اپنی تقصیر پر نادم ہوں اور آئندہ پھر کبھی ایسی چیز کا ارتکاب نہ کریں۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی (رح) اپنے فوائد میں فرماتے ہیں۔ ” حضور ﷺ کی تعظیم و محبت ہی وہ نقطہ ہے جس پر مسلم قوم تمام پر اگندہ قوتیں اور منتشر جذبات جمع ہوتے ہیں اور یہ ہی وہ ایمانی رشتہ ہے جس پر اسلامی اخوت کا نظام قائم ہے “ اس آیت مبارکہ میں جس ادب اور تعظیم اور توقیر کی دی گئی تاریخ سے ملحوظ رکھا کرتے تھے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب میں کسی بزرگ صحابی سے کوئی حدیث دریافت کرنے جایا کرتا تو انکے مکان پر پہنچ کر آواز یا دستک دینے سے پرہیز کرتا اور دروازے کے باہر بیٹھ جاتا کہ جب وہ خود ہی باہر تشریف لائیں گے تو اپنا مدعی عرض کردوں گا وہ جب باہرتشریف لائے اور مجھے دیکھتے تو فرماتے اے ابن عم رسول اللہ ﷺ آپ جب آئے تو آپ نے دروازہ پر دستک دے کر اطلاع کیوں نہ کردی فرمایا حق تعالیٰ نے پیغمبر کے پاس آنے والوں کو یہ ادب سکھایا ہے، (آیت ) ” ولوانھم صبروا حتی تخرج الیھم “۔ تو میں نے یہ چاہا کہ جس سے میں اس پیغمبر ﷺ کا علم حاصل کررہا ہوں اسکا بھی اسی طرح ادب کروں۔ 1 حاشیہ (روح المعانی۔ 12) اعتبارروایت کا قرآنی ضابطہ : آیت مبارکہ ” ان جآء کم فاسق بنبا “۔ سے محدثین واصولیین نے نقل حدیث وروایت میں ثقہ اور قابل اعتماد راوی ہونا شرط قرار دیا ہے اور یہ کہ راوی میں اور مخبر میں ایسے اوصاف ہونے چاہئیں جن کے باعث اسکو ثقہ، عادل و متقی کہا جاسکے اس لئے کہ قرآن کریم نے فاسق شخص کی خبر کو ناقابل قبول فرمایا ہے۔ کیونکہ جان ومال اور عزت وآبروکا تحفظ اسی میں ہے کہ صداقت ودیانت کے تقاضے، نقل روایات اور بیان واقعات میں پورے کئے جائیں ورنہ تو فتنہ، فساد کا راستہ کھل جائے گا۔ حضرات مفسرین کا بیان ہے کہ یہ آیت ولید ؓ بن عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئی ہے جن کو آنحضرت ﷺ نے قبیلہ بنو المصطلق کے صدقات وزکوۃ وصول کرنے کیلئے بھیجا تھا امام احمد (رح) نے حارث ؓ بن ابی ضرار الخزاعی کا واقعہ بیان کیا وہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے مجھے اسلام کی دعوت دی میں نے اللہ کی توفیق سے اسلام قبول کرلیا اور احکام اسلام اور ارکان دین کی پابندی کا عہد کیا اور ساتھ ہی میں نے آنحضرت ﷺ سے یہ بھی عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ میں اپنی قوم کی طرف واپس جاتا ہوں اور انکو اسلام کی دعوت دوں گا اور احکام اسلام کی پابندی پر آمادہ کروں گا اور ان کے مالوں کی زکوٰۃ بھی وصول کرکے جمع کروں گا آپ ﷺ فلاں وقت اپنا قاصد بھیج دیجئے تاکہ وہ جمع کردہ زکوٰۃ میں آپ ﷺ کے پاس بھیج دوں جو یہاں فقراء مسلمین پر خرچ ہوسکے حارث ؓ نے یہاں آکر اپنی قوم کی زکوٰۃ جمع کی اور انتظار کیا کہ وقت مقررہ پر آنحضرت ﷺ کا قاصد آئے گا طے کردہ وقت پر آنحضرت ﷺ کا قصد نہ پہنچنے سے حارث ؓ بہت پریشان ہوئے اور دل میں خطرہ گزرا کہیں ایسا تو نہیں کہ آنحضرت ﷺ ناراض ہوگئے ہوں (کسی بات پر) اور اس وجہ سے قاصد نہیں بھیجا، اس خیال و پریشانی پر اپنی قوم کے سرداوں کو جمع کیا اور مشورہ کیا کہ ایسی صورت میں ہم کیا کریں اور یہ بھی رائے دی کہ اگر ایسی صورت ہو کہ کسی بات پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے کوئی ناراضگی ہوئی ہے تو ہم سب کو مل کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونا چاہئے، ادھر قصہ یہ پیش آیا کہ آنحضرت ﷺ نے ولید ؓ بن عقبہ کو حارث ؓ کی طرف روانہ کیا تاکہ زکوٰۃ وصول کرکے لے آئے لیکن ولید ؓ جب روانہ ہوئے تو راستہ میں کچھ خائف ہوئے اور درمیان راستہ ہی سے واپس ہوگئے اور رسول اللہ ﷺ سے آکر یہ بیان کیا یارسول اللہ ﷺ حارث ؓ نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیا اور میرے قتل کا ارادہ کیا (اس وجہ سے میں واپس آگیا ہوں) یہ سن کر رسول اللہ ﷺ کو بہت ناگواری ہوئی اور ایک جماعت کو حکم دیا کہ وہ حارث ؓ کی طرف راونہ ہوجائے بعض روایات میں ہے کہ اس جماعت میں خالد بن ولید ؓ بھی تھے حارث ؓ انتظار میں تھے کہ رسول اللہ ﷺ کا کوئی قاصد آئے تو ان کو جب معلوم ہوا کہ ایک جماعت مدینہ سے آرہی ہے تو استقبال کے لئے اپنی بستی سے باہر آئے اور ان لوگوں سے ملے تو وہ لوگ ان پر لپکے حارث ؓ نے ان سے پوچھا آپ لوگ کس پر حملہ کرنے کے لئے بھیجے گئے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا تم پر ہی تو حملہ کرنے ہمیں بھیجا گیا ہے پوچھا کس وجہ سے ؟ ان لوگوں نے جواب دیا آنحضرت ﷺ نے تمہارے پاس ولید ؓ کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا تھا تو تم نے زکوٰۃ ادا کرنے سے بھی انکار کیا اور ولید کو قتل کرنے کا بھی ارادہ کیا حارث ؓ نے جواب دیا قسم ہے اس ذات کی جس نے حق دے کر محمد رسول اللہ ﷺ کو بھیجا نہ ولید ؓ میرے پاس آیا اور نہ میں نے اسکو دیکھا اس کے بعد حارث خود آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے یہی سوال کیا اے حارث تم نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیا اور میرے قاصد کو بھی قتل کرنے کا ارادہ کیا حارث نے بےقرار ہوکرعرض کیا یارسول اللہ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ ﷺ کو حق دے کر مبعوث فرمایا میں نے تو ولید کو دیکھا بھی نہیں اور میں آپ ﷺ کی طرف اس وقت روانہ ہوا جب کہ میں آپ کے قاصد کا منتظر رہا اور قاصد کے نہ پہنچنے سے مجھے اندیشہ ہوا کہ حضور ﷺ ناراض تو نہیں ہیں تو صورت حال معلوم کرنے کے ارادہ سے میں روانہ ہوا تھا اور اس طرح خدمت میں حاضری ہوئی، حضرات مفسرین بیان کرتے اس واقعہ پر حق تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ، بعض روایات سے یہ معلوم ہوا کہ ولید بن عقبہ کی بنو المصطلق کے ساتھ قدیم زمانہ سے دشمنی تھی تو اس وجہ سے ان کو ڈر ہوا کہ وہ لوگ اس قدیم دشمنی کی بناء پر مجھے قتل کردیں گے محض اس وہم کے باعث واپس لوٹ گئے اور یہ لغزش ہوئی کہ اس طرح کی بات خلاف واقعہ رسول اللہ ﷺ سے بیان کی، روایات کے تتبع سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ صحابی صحیح الاسلام تھے یہ عمل اور یہ صورت حال ان کے نفاق کی وجہ سے نہیں پیش آئی اور ساتھ ہی یہ امر بھی متعین ہے کہ اس آیت کا نزول ولید بن عقبہ ہی کے بارے میں ہوا ہے جیسا کہ صحیح روایات میں ہے تو اس صورت میں لفظ ” فاسق “ کا اطلاق صحابہ میں سے ایک فرد پر محض عملی صورت کو ملحوظ رکھتے ہوئے کیا گیا، جیسا کہ بعض روایات میں حضرت ابوذر ؓ کو آپ ﷺ نے فرمایا یا ابا ذرانک امرء فیک جاھلیۃ۔ حالانکہ جاہلیت معصیت وشرک جیسے امور پر مشتمل ہونے والا عنوان ہے تو اس طرح کے بعض تنبیہی عنوانات حضرات صحابہ کی عدالت اور دین کے اس مسلم قانون کے منافی نہیں جو مشہور ہے۔ الصحابۃ کلھم عدول “۔ علامہ آلوسی (رح) فرماتے ہیں صحابہ کی عدالت تو مسلمات دین میں سے ہے لیکن عدالت کے لئے عصمت لازم نہیں کہ اس ذات سے کوئی معصیت اور خطا سرزد ہی نہ ہو البتہ یہ ضروری ہے کہ اگر کسی وقت بہ تقاضائے بشریت کوئی چوک اور غلطی واقع ہوجائے تو وہ اس پر تائب ہوتے ہیں اور (آیت ) ” رضی اللہ عنھم ورضوا عنہ “۔ کا مقام ایمان وتقوی اور توبہ جیسے عالی اوصاف ہی کے ساتھ جمع ہوسکتا ہے۔ قاضی ابویعلی ؓ کا قول ہے۔ ” رضاء “ اللہ رب العزت کی ایک صفت ہے وہ اپنی رضا کا اعلان انہی لوگوں کے متعلق فرماتے ہیں جن کے بارے میں وہ جانتے ہیں کہ انکی وفات موجبات رضا پر ہوگی اس لئے اگر کسی صحابی سے کسی وقت کوئی غلطی سرزد ہوئی اور اس پر وہ تائب ہوگئے تو یہ عدالت کے منافی نہیں ہے کیونکہ تو بہ تو گناہوں کو کالعدم کردیتی ہے۔ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ ؓ کا واقعہ ہے کہ ان سے ایک غلطی سرزد ہوئی کہ انہوں نے فتح مکہ کے وقت آنحضرت ﷺ کے فوج کشی کی خبر اہل مکہ کو بھیج دی تھی جس پر آیات (آیت) ” یایھا الذین امنوا لاتتخذوا عدوی وعدوکم اولیآء “۔ الخ نازل ہوئیں۔ اسی طرح ایک دفعہ ابولبابۃ بن عبدالمنذر ؓ سے ایک غلطی ہوئی تو انہوں نے خود اپنے آپ کو مسجد نبوی ﷺ کے ایک ستون سے باندھ لیا کہ جب تک میری معافی نازل نہ ہوگی میں اپنے آپ کو اسی ستون سے باندھے رکھوں گا تاآنکہ رسول خدا ﷺ مجھے کھولیں چناچہ معافی نازل ہوئی حتی کہ اس ستون کا نام ہی اسطوانۃ التوبۃ ہوگیا اور اس کی عظیم برکت اور تاثیر کا یہ عالم ہے کہ اس ستون کے سامنے حاضر ہو کر گنہگار جب تائب ہوں تو بارگاہ رب العزت میں ان کی بھی تو بہ شرف قبول حاصل کرلیتی ہے۔ یا اسی طرح بعض حضرات سے کسی گناہ کے سرزد ہونے پر معافی و توبہ اور عند اللہ پاکی کے لئے خود اپنے آپ کو سزا کے لئے پیش کردینا جب کہ کوئی مدعی ہے نہ کوئی استغاثہ ہے اور نہ کسی قسم کی شہادت ہے ، الغرض اس نوع کی تقصیرات جن پر توبہ کا عمل اس قدر قوی ہو کہ اس سے صاحب توبہ اللہ کی بارگاہ میں پہلے کی نسبت زیادہ قرب حاصل کرلے وہ عدالت وتقوی کو مجروح نہیں کرتا بلکہ مزید مراتب کی بلندی کا باعث ہوتا ہے جیسا کہ ارشاد ہے۔ (آیت ) ” عسی ربکم ان یکفر عنکم سیاتکم ویدخلکم جنت تجری من تحتھا الانھر “۔ قاضی ابوبکر جصاص (رح) نے احکام القرآن میں فرمایا یہ آیت اس بات پر دلالت کررہی ہے کہ فاسق کی روایت اور خبر قابل اعتبار اور لائق قبول نہیں اور اس ضمن میں یہ قانون متعین فرما دینا کہ (آیت ) ” فتبینوا “۔ یہ ظاہر کررہا ہے کہ ایسی خبر پر اس وقت تک عمل جائز نہیں جب تک کہ اس کی پوری تحقیق نہ کرلی جائے اور ایک قرأت میں یہ لفظ (آیت ) ” فتثبتوا “۔ پڑھا گیا ہے یعنی اسکا ثبوت حاصل کرلو، تو جب کسی فاسق کی روایت اور خبر بھی متعبر نہیں تو ظاہر ہے کہ شخص فاسق کی شہادت کیوں کر متعبر ہوسکتی ہے، فاسق شریعت کی اصطلاح میں ہر وہ شخص ہے جو کبائر کا ارتکاب کرتا ہو اور فرائض کا تارک ہو اور اس کے باوجود اس کی طرف سے نہ رجوع ثابت ہو نہ وہ تائب ہوا ہو اور نہ اس نے اپنی حالت معصیت میں تبدیلی کی ہو۔
Ayahs 49:9–11

وَ اِنْ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا١ۚ فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَى الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰى تَفِیْٓءَ اِلٰۤى اَمْرِ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَ اَقْسِطُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 49:9 in the Quran reader

اور اگر مومنوں میں سے کوئی دو فریق آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کرا دو اور اگر ایک فریق دوسرے پر زیادتی کرے تو زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ خدا کے حکم کی طرف رجوع لائے پس وہ رجوع لائے تو دونوں فریق میں مساوات کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف سے کام لو کہ خدا انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۠ Open ayah 49:10 in the Quran reader

مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرا دیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو تاکہ تم رحمت کی جائے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّ١ۚ وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ١ؕ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 49:11 in the Quran reader

مومنو ! کوئی قوم کسی قوم سے تمسخر نہ کرے ممکن ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے (تمسخر کریں) ممکن ہے کہ وہ ان سے اچھی ہوں اور اپنے (مومن بھائی) کو عیب نہ لگاؤ اور نہ ایک دوسرے کا برا نام (رکھو) ایمان لانے کے بعد برا نام رکھنا گناہ ہے اور جو توبہ نہ کریں وہ ظالم ہیں

ترغیب وتاکید باہمی اخوت وہمدردی وتنبیہ وتہدید برتحقیر وتذلیل : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” وان طآئفتن من ال مومنین ...... الی ....... فاولٓئک ھم الظلمون “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں اس امر پر تنبیہ کی گئی تھی کہ کسی غیر مستند اور غیر معتبر بات کو سن کر اس پر یقین نہ کرنا چاہئے بلکہ اس کی تحقیق کرلی جائے محض افواہوں سے متاثر ہو کر جذبات میں مغلوب ہوجانا بہت سے مفاسد اور فتنوں کا ذریعہ ہے اور باہمی منازعت وخصومت کا اس سے دروازہ کھل جاتا ہے تو ان آیات میں اس کے بالمقابل ایسی ہدایت وتعلیم دی جارہی ہے کہ مسلمان قوم کو چاہئے کہ وحدت واخوت قائم رکھے، باہمی منازعت اور اختلاف وخصومت سے پوری طرح بچے اور اگر کسی وقت دو جماعتوں میں اختلاف ونزاع کی صورت پیدا ہوجائے تو ان کے درمیان مصالحت کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ امت اس طرح کی باہمی خصومتوں سے خود اپنے آپ کو تباہ وبرباد نہ کرڈالے اور خود اپنے ہاتھوں اپنی عظمت و شوکت کو پامال نہ کرلے، اخوت ووحدت کو قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ ایک دوسرے کی تحقیر اور طعن وتشنیع سے بھی پرہیز کرے کیوں کہ اس قسم کی باتیں باہمی محبت کی بجائے منافرت اور بغض واختلاف پیدا کرتی ہیں جس کا انجام قوم من حیث القوم ہلاکت وتباہی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے تو ارشاد فرمایا جارہا ہے۔ اور اگر دو گروہ مسلمانوں کے آپس میں لڑپڑیں تو انکے درمیان صلح کرا دو پھر اگر چڑھا چلا آئے ان میں سے ایک دوسرے پر تو تم قتال کرو (لڑو) اس گروہ سے جو چڑھ آئے اور زیادتی کرنے والا ہے یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے اللہ کے حکم اور قانون کی طرف پھر اگر رجوع کرلے وہ گروہ تو انکے درمیان صلح کر ادوعدل و انصاف کے ساتھ اور ہمیشہ ہر معاملہ میں انصاف کیا کرو اللہ تعالیٰ بیشک انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے بہرحال مسلمانوں کو ہر معاملہ میں ایسے ہی عدل و انصاف اور باہمی اخوت و محبت کو قائم کرنے اور قائم رکھنے کے لئے کوشش کرتے رہنا چاہئے جذبات اور اغراض میں ایک دوسرے پر ظلم کیا جاتا ہے لیکن ایسی صورت میں دو صورت میں دو جماعتیں باہم لڑیں تو مسلمانوں کو اپنی اجتماعی قوت اور فہم وفکر کی صلاحیتوں کو بروئے کار لائے ہوئے ان جماعتوں میں مصالحت کر ادینی چاہئے یکسو اور بےتعلق ہو کر بیٹھے رہنا درست نہیں زیادتی کے مرتکب فریق کو مجبور کریں کہ وہ اپنی زیادتی سے باز آجائے نزاعات اور خصومتوں کے پیش آنے کا امکان صرف اسی وجہ سے ہے کہ ایک کو دوسرے کے ساتھ محبت ویگانگت نہ ہو، حالانکہ اسلام ایک ایسا قوی ومضبوط رشتہ ہے جو تمام امت کو وحدت واخوت کی لڑی میں منسلک کردیتا ہے تو اس رشتہ اخوت و محبت سے ہرگز غفلت نہ اختیار کرنی چاہئے یہ حقیقت ہے کہ تمام مسلمان باہم ایک دوسرے کے بھائی ہیں تو اگر کسی وقت اختلاف پیش آجائے تو ملاب کرا دیا کرو اپنے دو بھائیوں کے درمیان اور اللہ سے ڈرتے رہو امید ہے کہ تم پر مہربانی کی جائے اس لئے کہ خوف خدا اور تقوی ہی تمام احوال کی اصلاح کا ضامن اور حق تعالیٰ کی عنایات ومہربانیوں کا موجب ہے۔ نزاع واختلاف اور باہمی منافرت وعداوت اور اس کے نتیجہ میں خصومتوں کا سلسلہ تحقیر وتذلیل اور استہزاء و تمسخر سے پیدا ہوتا ہے جس کی وجہ سے محبت واخلاص ختم ہو کر شکوک وادہام اور تنفردلوں میں راسخ ہوجاتا ہے تو مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنا معاشرہ ان برائیوں سے پاک کریں اس لئے یہ حکم ہے کہ اے ایمان والو ! ہرگز تمسخر اور ٹھٹھا پن نہ کرے ایک قوم دوسری قوم سے شاید وہ لوگ ان سے بہتر ہوں جو ان کا مذاق اڑا رہے ہیں اور عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں شاید وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عیب لگاؤ ایک دوسرے پر اور نہ برے القاب سے ایک دوسرے کو چڑاؤ بہت ہی برا ہے گنہ گاری کا نام ایمان کے بعد کیونکہ اس طرح سے مسلمان بھائی کی تحقیر وتذلیل اس کے مومن ہونے کے بعد اس کو فاسق وفاجر کے درجہ میں شمار کرنا ہے۔ اور ساتھ۔ 1 حاشیہ (اس تعبیر میں اشارہ ہے کہ الاسم الفسوق کا مرجع دونوں جانبیں ہیں، خود طعن وتشنیع اور تحقیر کرنے والا اور وہ شخص جس کی تحقیر وتوہین کے لیے ایسے لغو اور بےہودہ عنوانات اختیارکئے جائیں۔ ) ہی خود یہ شخص جو مسلمان ہو کر بھی ایسی روش اختیار کرتا ہے اپنے مومن ہونے کے ساتھ فاسقانہ کردار پیش کررہا ہے اور ظاہر ہے کہ ایسا شخص کذاب ومفسد ہے اور ایذاء رسانی وافتراء پردازی بھی کررہا ہے تو مومن ہو کر ایسے کام کرنا اپنے کو فاسق وفاجر کے عنوان سے موسوم کرنا ہے جو نہایت ہی بدترین نام ہوسکتا ہے بعد اس کے کہ کوئی شخص مسلمان ہو۔ اگر کسی نے ایسا کیا تو اس کو چاہئے کہ نادم وشرمندہ ہو کر تائب ہوجائے اور اگر ایسے لوگ توبہ نہ کریں گے تو وہ ظالم ہوں گے (جو اپنی ذات پر ہوگا اور دوسروں پر بھی یہ ظلم وتعدی ان کی جان ومال اور عزت وآبرو کی بےحرمتی کا موجب ہوگا ) اہل ایمان کے دو (2) گروہوں کے درمیان باہمی قتال کی صورت میں تمام مسلمانوں پر ذمہ داری : آیت مبارکہ (آیت ) ” وان طآئفتان من ال مومنین “۔ اس پر دلالت کرتی ہے کہ مسلمانوں کے دو گروہوں میں اگر کسی قسم کا اختلاف ونزاع مقاتلہ کی صورت اختیار کرلے تو مسلمانوں میں سے اہل فہم اور ارباب حل وعقد پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس منازعت ومخالفت کو ختم کرانے کی پوری جدوجہد کریں اور آپس میں انکے درمیان صلح کروا دیں، باہمی اخوت و محبت کا جو رشتہ جذبات میں مغلوب ہوگیا، اس کو زندہ کیا جائے اس کے لئے ارشاد فرمایا (آیت ) ” انما ال مومن ون اخوۃ فاصلحوا بین اخویکم “۔ اور ساتھ ہی وہ بنیاد و اساس بھی ظاہر کردی گئی جس پر اخوت و محبت کی عظیم عمارت قائم ہوسکتی ہے وہ اللہ کا خوف ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ” یعنی جب حکم شرع کے تابع ہوں تو انصاف سے صلح کرو اور ایک کی طرف داری نہ کرو یہ حکم ہے خانہ جنگی کا جو مسلمان آپس میں لڑپڑیں “۔ خلاصہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے دو گروہوں میں اگر جنگ ہوجائے تو مسلمانوں کو چاہئے کہ آپس میں سمجھا بجھا کرمابہ النزاع امور کو ختم کرا کے اصلاح کرا دیں اور دونوں پارٹیوں میں صلح کرا دیں اور اگر باوجود اصلاح اور صلح کی کوشش کے کسی جماعت کی زیادتی دیکھو، یعنی وہ قتال کے ترک پر آمادہ نہ ہو اور زیادتی اور تعدی سے باز نہ آئے تو زیادتی کرنے والی جماعت سے تم سب ملکر لڑو اور جنگ کرو یہاں تک کہ وہ تعدی اور زیادتی کرنے والی جماعت اللہ تعالیٰ کے حکم اور فیصلے کے آگے جھک جائے اور جنگ بند کردے، پھر جب وہ پارٹی جھک جائے اور جنگ سے رجوع کرلے تو حدود وشرعیہ کے مطابق ان کی اصلاح کردو، عدل کا مطلب ہے شرعی حدود کے موافق صلح کرانا تاکہ صلح پائیدار اور دائمی ہو صرف جنگ بند کرادینے سے پھر اندیشہ رہے گا کہ کسی وقت پھر لڑائی ہوجائے اس لئے تمام معاملات کو انصاف کے ساتھ کرا دو اور انصاف کیا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے آگے پھر اسی مضمون کی تاکید ہے کہ تمام مسلمان آپس میں بھائی ہیں تو کبھی بھائیوں کی لڑائی ہوجائے تو اپنے دونوں بھائیوں میں اصلاح کرا دیا کرو کیونکہ بہرحال وہ دونوں پارٹیاں تمہارے بھائی ہیں اور صلح کراتے وقت اللہ تعالیٰ سے درتے رہا کرو یعنی جانبداری سے کام نہ لو اور کسی پارٹی کی طرفداری نہ کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے ، کہتے ہیں کہ انصار کے بعض حضرات اور عبداللہ بن ابی کے بعض طرفداروں میں ایک جھگڑا ہوگیا جھگڑا معمولی سی بات پر تھا، نبی کریم ﷺ ایک سواری پر سوار تھے سواری نے پیشاب کیا عبداللہ بن ابی نے پیشاب پر کچھ ناک اور بھوں چڑھائی عبداللہ بن رواحہ ؓ نے اس کی ناک بھوں چڑھانے پر کچھ ناراضگی کا اظہار کیا اس پر بات بڑھ گئی اور اس پر آیتیں نازل ہوئیں اس آیت کے متعلق بہت سے مسائل ہیں کیونکہ یہ آیت ہر اس جنگ کو شامل ہے جو مسلمان آپس میں لڑیں یا امام سے بغاوت کر کے مقابلے میں آئیں اور آپس میں لڑیں ان کا حکم فرمایا مرتدین کا نہیں ہے، حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے جنگ جمل اور جنگ صفین کے موقع پر فرمایا تھا اخواننا بغوا علینا۔ حضرت علی ؓ نے بغاوت کرنے والوں کو اپنا بھائی فرمایا معلوم ہوا کہ ایسی بغاوت وباہمی جنگ سے مسلمان کا نام باقی رہتا ہے اور ایک مسلمان کو کافر نہیں کہا جاسکتا اسی لیے اس قسم کے لڑنے والوں کے احکام بھی جدا ہیں مثلا جو دو پارٹیاں باہم نبرد آزما ہیں وہ دونوں امام المسلمین کی ولایت کے تحت ہیں، یا دونوں امام المسلمین کی ولایت کے ماتحت نہیں ہیں یا ایک امام کی ولایت کے تحت ہے اور دوسری نہیں ہے ان کے تمام احکام علیحدہ علیحدہ فقہ کی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ مذکورہ ہیں، یہاں صرف اتنی بات سمجھ لینی چاہئے کہ مسلمانوں کو اخوۃ قائم رکھنے کی غرض سے ایک طریقہ صلح وآشتی اور باہم صفائی کا بتایا گیا ہے اور تیسری پارٹی جو اصلاحی ہو اس کو عدل و انصاف کی تاکید کی گئی اسی پر امت کا نظام اخوت اور نظام عدل قائم ہوسکتا ہے، اللھم اصلح ذات بیننا واحفظنا من الفتن ما ظھر منھا وما بطن۔ ایمان کے ساتھ فسق کا عنوان زیب نہیں دیتا : آیت مبارکہ : بئس الاسم الفسوق بعد الایمان “۔ اس امر کی طرف راہنمائی کررہی ہے کہ ایمان لانے کے بعد مسلمان کے لئے فسق کا نام بہت برا ہے اور جو تو بہ نہ کریں گے تو وہی لوگ ظلم کرنے والے ہوں گے مطلب یہ ہے کہ ایسا مذاق اور تمسخر جو کسی کی تحقیر اور دل آزاری کے لئے کیا جائے وہ حرام ہے خواہ مرد کسی مرد کے ساتھ ایسا مذاق کرے یا عورت کسی عورت کے ساتھ ایسامذاق کرے یا عورت مرد کے ساتھ یا مرد عورت کے ساتھ تحقیر آمیز مذاق کرے تو وہ ناجائز ہوگا باقی جس میں دوسرے کی تحقیر اور دل آزاری نہ ہو وہ مزاح اور خوش طبعی ہے اس میں مضائقہ نہیں اور مزاح جائز ہے۔ یہاں جو رجال اور نساء فرمایا ہے اس سے محض جنس مرا د ہے جیسا کہ ہم نے عرض کردیا ہے یہاں یہ بحث شاید غیر ضروری ہوگی کہ قوم کا اطلاق صرف مردوں پر ہوا کرتا ہے، عورتیں قوم کے لفظ میں داخل نہیں ہوتیں اور اگر ہوتی ہیں تو تبعا داخل ہوتی ہیں اور یہ جو فرمایا کہ شاید وہ تم سے بہتر ہوں، یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ شخص بہتر ہو جس کی تم تحقیر اور دلآزاری کررہے ہو یعنی اس کا خاتمہ ایمان پر مقدر ہو اور وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم سے زیادہ مقبول ہو، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا قول ہے۔ البلاء موکل بالقول لوسخرت من کلب لخشیت ان احوال کلبا۔ یعنی ہر قسم کی ہلاقول پر سونپی گئی ہے۔ اکثر بلائیں زبان کی بدولت نازل ہوتی ہیں میں تو کسی کتے سے بھی مذاق نہیں کرتا اگر کتے سے بھی تحقیر آمیز سلوک کروں تو ڈرتا ہوں کہ کہیں کتا نہ بنا دیاجاؤں، بہرحال وہ شخص جو اپنی حقارت اور ذلت پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ دوسرے آدمی کو ذلیل کرنے سے احتیاط کرتا ہے، (آیت ) ” تلمزوا “۔ کو میم کے زیر سے اور میم کو پیش دونوں طرح کی قرأت ہے خواہ کسی طرح پڑھئے مطلب یہ ہے کسی پر طعن نہ کرو اور عیب نہ لگاؤ بعض حضرات نے فرمایا کہ ایسا کوئی فعل اختیار نہ کرو جس کی وجہ سے تم کو طعن کیا جائے تنابز بالالقاب کا مطلب ہے کسی کو برے لقب سے پکارنا جو کسی کو ناگوار گذارے یعنی ایسے لقب سے نہ پکارو جو اس کی دل آزاری کا موجب ہو جیسے کسی شخص کی کوئی چڑبنالیتے ہیں اور پھر اس چڑ سے اس کو پکارتے ہیں اور وہ ایک مومن کی ناگواری کا سبب ہوتا ہے ہاں اگر کوئی ایسا نام لیا جائے اور ایسا لقب دیا جائے جو ناگوار نہ ہو تو مضائقہ نہیں جیسا کہ بعض لوگ کسی لقب سے خوش ہوتے ہیں آخر میں فرمایا کہ ایمان کے بعد تو مسلمان کے لیے سب سے برا نام فسق کا ہے یعنی کسی مسلمان کو ” یا فاسق “ کہہ کر پکارنا، جیسے بعض لوگ ان مسلمانوں کو جو یہودی سے مسلمان ہوئے تھے ” یا یہودی “ کہہ کر پکارتے تھے تو سب سے برا لقب تو ایمان لانے کے بعد فسق کا لقب ہے اس میں سب گناہ داخل ہوگئے مثلا کسی کو یا فاسق یا زانی یا سارق، کہنا سب داخل ہوگئے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ دوسروں کو برا لقب دینے سے پہلے تو دیکھو کہ تم ایک گناہ کرنے سے فاسق ہوجاتے ہو جو ایمان کے بعد بہت ہی برا لقب ہے یعنی دوسرے کو برا لقب دینے سے اپنا لقب فاسق ہوجاتا ہے اس لیے ایسے امور سے اجتناب کرنا چاہئے جس میں اپنا لقب فاسق ہوجائے اور جو شخص ان حرکات ناشائستہ اور ممنوعہ سے باز نہ آئے گا اور تو یہ نہ کریگا تو ایسے ہی لوگ ظالم اور ناانصاف ہونگے ، حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جہاں کسی پر برا نام ڈالا پہلے تو اپنا نام پڑگیا فاسق آگے تھا مومن اس پر عیب لگایا نہ لگا خلاصہ یہ کہ ایسے افعال سے بچنا چاہئے جو کسی مسلمان کی دل آزاری اور ناگواری کا موجب ہو اور بات بڑھ کر فتنہ فساد اور قتل و قتال کی نوبت آئے اور خود فاسق قرار پائے انسان اگر اپنے آپ کو خود حقیر سمجھے تو دوسروں پر عیب لگانے کی جرأت نہ کرے نبی کریم ﷺ کی یہ دعا مشہور ہے اللہم اجعلنی صبورا واجعلنی شکورا واجعلنی فی عینی صغیرا وفی اعین الناس کبیرا ‘۔ یعنی اللہ مجھ کو صبر کرنے والا اور شکر کرنے والا بنا دے اور مجھ کو اپنی آنکھوں میں چھوٹا اور دوسروں کی آنکھوں میں بڑا بنا دے یعنی جب میں خود اپنے پر نظر کروں تو اپنے کو چھوٹا سمجھوں اور دوسرے جب مجھ کو دیکھیں تو بڑا سمجھیں۔
Ayah 49:12

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ١٘ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا١ؕ اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:12 in the Quran reader

اے اہل ایمان ! بہت گمان کرنے سے احتراز کرو کہ بعض گمان گناہ ہیں اور ایک دوسرے کے حال کا تجسس نہ کیا کرو اور نہ کوئی کسی کی غیبت کرے کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے اس سے تو تم ضرور نفرت کرو گے (تو غیبت نہ کرو) اور خدا کا ڈر رکھو بیشک خدا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے

تنبیہ وتہدید بربدگمانی وغیبت وممانعت از تجسس احوال : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” یایھا الذین امنوا اجتنبوا ...... الی ....... ان اللہ تواب رحیم “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں مسلمانوں کی گروہ بندی اور باہمی منازعت ومخاصمت سے منع کیا گیا تھا اور اس پر وعید وتنبیہ کی گئی تھی کہ کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے یا اس کا مذاق اڑائے کیونکہ ایسی ہی باتیں مسلمانوں میں نفاق وشقاق پیدا کرنے والی ہیں تو اب ان آیات میں مزید ایسے اسباب بیان فرمائے جارہے ہیں جن کی وجہ سے باہمی منافرت اور عداوت کی فضا پیدا ہوئی ہے، آپس میں جھگڑے پیدا ہوتے ہیں اور نوبت جنگ وجدل اور قتل و خونریزی تک پہنچ جاتی ہے جن میں سب سے بڑی اور بنیادی چیز قلوب سے اخلاص کا نکل جانا اور باہم بدگمانی میں پڑجانا ہے بدگوئی، غیبت الزام تراشی غرض یہ سب باتیں مہلک ہیں ان سے بچنے کی ضرورت ہے تو فرمایا۔ اے ایمان والو ! بہت گمان کرنے سے احتراز کیا کرو اور بہت سے گمانوں سے بچا کرو کیونکہ بعضے گمان گناہ ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے عیب کی ٹٹول نہ کیا کرو اور انہ ایک دوسرے کو پیٹھ پیچھے برا کہا کرو کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے سو تم کو اس سے گھن آئے اور تم اس سے منتفر ہو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ تعالیٰ بڑا معاف کرنے والا اور بڑی مہربانی کرنے والا ہے۔ چونکہ ظن کی بہت سی اقسام ہیں بعض جائز، بعض واجب، بعض مباح، بعض حرام، اس لئے فرمایا، ظن اور گمان کی کثرت سے احتراز کرو یا یہ مطلب ہے ” اجتنبوا اجتنابا کثیرا “۔ کہ بچو بچنا بہت۔ اہل خیر اور صلاح کے ساتھ بدگمانی کرنا بہت بری بات ہے اور اہل فسق کے معاملے میں بدگمانی جائز ہے اور جب یہ بات معلوم ہوگئی کہ بعضے افراد ظن اور گمان کے گناہ ہیں تو ان کی تحقیق کرنے کے بعد جہاں بدگمانی جائز ہو یا ضروری ہو وہاں بدگمانی کرے تو مضائقہ نہیں، یہ نہیں کہ ہر موقع پر اور ہر معاملے میں بدگمانی کرو اور برے ظن سے کام لو جو شخص بہت بدگمانیوں سے احتراز کرے گا تو بعض سے بچ جائے گا ” تجسس “ کسی کے عیب کی تلاش کرنا اور مسلمانوں کے عیب ڈھونڈتے پھرنے۔ حضرت مجاہد (رح) کا قول ہے خذوا ماظھروا دعوا ماسترہ اللہ یعنی جو کچھ ظاہر ہو اوہ لے لو اور جو اللہ نے چھپا لیا اسے چھوڑ دوبہر حال عیب جوئی سے منع فرمایا کسی کی چھپ کر باتیں سننا یا سونے والے کی حالت بنا کر جاگتے رہنا اور دوسروں کی باتیں سنتارہنا تجسس ہے اس میں بھی اگر کہیں اپنے آپ کو ضرر سے بچانے یا کسی مسلمان کو نقصان سے بچانے کی غرض سے دشمن کی تدابیر کا کھوج لگائے تو جائز ہوگا پھر فرمایا ایک دوسرے کی غیبت نہ کیا کرو یعنی پیٹھ کے پیچھے ایسی برائی کرنا جو سچی ہو کہ اگر اس کے سامنے کرو تو اسکو ناگوار گزرے یہ غیبت ہے اور اگر وہ بات سچی نہ ہو تو بہتان ہے غیبت کو آنحضرت ﷺ نے گوشت کھانا فرمایا جس طرح کسی انسان کا گوشت نوچ کر کھانے سے تکلیف ہوتی ہے، اسی طرح اس کی آبرو ریزی بھی اسکی تکلیف کا موجب ہے اگرچہ اس آبروریزی کا اسکو علم نہ ہو تو عدم حس میں مشابہت مردے کے ساتھ دی لیکن فی نفسہ تو تکلیف وہ چیز ہے گویا مرے ہوئے بھائی کا گوشت نوچ نوچ کر کھا رہے ہو پس جس طرح مردہ بھائی کے گوشت کھانے سے گھن کرتے ہو اس طرح اسکی پیٹھ پیچھے اس کی آبروریزی سے بھی بچو اور اس کو برا سمجھو، پس پشت ہر صورت میں بدگوئی کی ممانعت فرما دگی البتہ مظلوم ظالم کی بدگوئی کرسکتا ہے بشرطیکہ دین کا کچھ فائدہ ہو۔ ” تحقیر “۔ جس طرح قول سے ہوتی ہے فعل سے بھی ہوتی ہے مثلا کسی لنگڑے کی نقل اتارنا یا کسی پستہ قد کو اشارہ کرکے اور مٹھی بنا کردکھانا وغیرہ وغیرہ۔ اور یہ جو فرمایا اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو یعنی غیبت کرنے سے بچو اور توبہ کرو بلاشبہ اللہ تعالیٰ توبہ کو قبول فرماتا ہے اور وہ بڑی مہربانی کرنے والا ہے، غیبت حق العباد بھی ہے اور حق اللہ بھی یعنی اللہ تعالیٰ سے توبہ کرو اور جس کی غیبت کی ہے اس سے معاف کراؤ اور اگر وہ مرگیا ہو تو اس کے لئے استغفار کرے غیبت صرف مسلمان ہی کی حرام نہیں بلکہ کافر جو ذمی ہو اسکی بھی غیبت حرام ہے۔ ایک دفعہ ایک صحابی ؓ نے نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ اگر وہ بات جو میں اپنے بھائی کے پس پشت کہہ رہا ہوں وہ اس میں موجود ہو تو کیا پھر بھی غیبت ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں ! یہ بھی غیبت ہے اور اگر تم ایسی بات اسکے متعلق کہو گے تو اس میں موجود نہیں تو تم اس پر بہتان لگانے والے ہوگے۔
Ayahs 49:13–18

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا١ؕ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ Open ayah 49:13 in the Quran reader

لوگو ! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرو اور خدا کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے بیشک خدا سب کچھ جاننے والا (اور) سب سے خبردار ہے

قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا١ؕ قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَ لٰكِنْ قُوْلُوْۤا اَسْلَمْنَا وَ لَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَا یَلِتْكُمْ مِّنْ اَعْمَالِكُمْ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:14 in the Quran reader

اعراب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے کہہ دو کہ تم ایمان نہیں لائے (بلکہ) یوں کہو کہ ہم اسلام لائے ہیں اور ایمان تو ہنوز تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا اور اگر تم خدا اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرو گے تو خدا تمہارے اعمال میں سے کچھ کم نہیں کرے گا بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ Open ayah 49:15 in the Quran reader

مومن تو وہ ہیں جو خدا اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر شک میں نہ پڑے اور خدا کی راہ میں مال اور جان سے لڑے یہی لوگ (ایمان کے) سچے ہیں

قُلْ اَتُعَلِّمُوْنَ اللّٰهَ بِدِیْنِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 49:16 in the Quran reader

ان سے کہو کیا تم خدا کو اپنی دینداری جتلاتے ہو ؟ اور خدا تو آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں سے واقف ہے اور خدا ہر شے کو جانتا ہے

یَمُنُّوْنَ عَلَیْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا١ؕ قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَیَّ اِسْلَامَكُمْ١ۚ بَلِ اللّٰهُ یَمُنُّ عَلَیْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِیْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 49:17 in the Quran reader

یہ لوگ تم پر احسان رکھتے ہیں کہ مسلمان ہوگئے ہیں کہہ دو کہ اپنے مسلمان ہونے کا مجھ پر احسان نہ رکھو بلکہ خدا تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کا راستہ دکھایا بشرطیکہ تم سچے (مسلمان) ہو

اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 49:18 in the Quran reader

بیشک خدا آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اسے دیکھتا ہے

مدار فضیلت و کرامت ایمان وتقوی نہ کہ نسبت خاندان وقبائل : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” یایھا الناس انا خلقنکم من ذکر وانثنی ...... الی ..... واللہ بصیر بما تعملون “۔ (ربط) اس سے قبل آیات میں ایسی خصلتوں اور برائیوں سے اجتناب کی تعلیم تھی جو انسانی زندگی کو ذلت و پستی میں ڈالنے والی ہیں اور انسانی معاشرے میں اس قسم کے عیب نہایت ہی بدترین عیب اور تباہ کردینے والی بیماریاں ہیں تو اب ان آیات میں اس کے بالمقابل وہ اوصاف بیان کیئے جارہے ہیں جو انسانی کرامت اور شرف کا باعث ہیں اور اسکو عزت وسربلندی کے مقام پر پہونچا دینے کا باعث ہیں۔ اے لوگو ! ہم نے تم سب کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تم کو مختلف شاخین اور مختلف قبیلے بنایا تاکہ تم ایک دوسرے کو شناخت کرسکو اور پہچان سکو ورنہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تو تم سب میں بڑا شریف اور رعزت والا ہے جو تم سب میں بڑا پرہیزگار اور زیادہ تقوی والا ہے بلاشبہ اللہ تعالیٰ سب کو جانتا ہے اور سب کے حال سے باخبر ہے۔ 1 حاشیہ (اس آیت مبارکہ میں حق تعالیٰ جل شانہ نے فضیلت اور افضلیت کا ایک معیار اور قاعدہ کلیہ ارشاد فرمادیا ہے (آیت ) ” ان اکرمکم عند اللہ اتقکم “۔ اس معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے جب آیت مبارکہ یعنی وسیجنبھا الاتقی الذی یؤتی مالہ یتزکی “۔ پر نظر ڈالتے ہیں اور اس کا شان نزول روایات سے یہ پاتے ہیں کہ یہ ابوبکر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے تو واضح ہوجاتا ہے کہ بہ نص قرآنی حضرت ابوبکر صدیق ؓ اتقی الامۃ المسلمہ ہیں اور حضرات صحابہ ؓ میں سب سے زیادہ متقی ہیں تو جس شخص کا قرآن کریم کی صریح آیت سے امت اور حضرات صحابہ ؓ کے درمیان سب سے زیادہ متقی ہونا ثابت ہوگیا اس پر طعن وتشنیع یا توہین وتحقیر کرے وہ انسان کیسے مسلمان رہ سکتا ہے۔ 12) خلاصہ یہ ہے کہ سب لوگ ایک مرد اور ایک عورت یعنی آدم (علیہ السلام) وحوا (علیہ السلام) سے پیدا ہوئے ہیں جس قدر اولاد بڑھتی گئی ان کے شعب قبیلہ، عمارہ، بطن، فخذ اور فصیلہ بنتے گئے اس سے باہمی تعارف اور پہچان میں آسانی ہوتی ہے کیونکہ ایک ایک نام کے بہت سے آدمی ہوتے ہیں اسکے علاوہ بھی اور بہت سے فوائد ہیں مثلا قرب وبعد کی مناسبت سے انکے حقوق شرعیہ ادا کئے جاتے ہیں حاجب اور محجوب کا پتا چلتا ہے ایک خاندان کا آدمی دوسرے خاندان کے آدمی سے متمیز رہتا ہے ” شعوب “ جمع شعب کی ہے، شعب جمع کرتا ہے قبائل کو اور قبیلہ جمع کرتا ہے عمائر کو اور عمارہ جمع کرتا ہے بطون کو اور بطن جمع کرتا ہے افخاذ کو اور فخذ جمع کرتا ہے فصائل کو یہ ہم نے عربی قبائل کی اصطلاح بیان کی دوسری قوموں میں کوئی اور دستور ہوگا، بہرحال یہ اولاد آدم کی تقسیم ہوتی چلی گئی مثلا فرض کرو خزیمہ شعب ہے اور کنانہ قبیلہ اور قریش عمارہ اور قصی بطن اور ہاشم فخذ اور عباس فصیلہ، یہ تمام تقسمیں صرف باہمی شناخت کیلئے ہیں اور کسی کو کسی پر فضیلت نہیں، شرافت اور بزرگی اور عزت اللہ تعالیٰ کی نظر میں اسی کی ہے جو متقی ہو، جو تقوی میں اونچا اور اعلیٰ اور اتقی ہے وہی اللہ کے نزدیک بڑا شریف اور مکرم ہے اس اعلان نے بنی نوع انسان میں مساوات اور یگانگت پیدا کردی اور زمانہ جاہلیت کے خاندانی تفاخر اور بڑائی کو پارہ پارہ کردیا نبی کریم ﷺ نے فتح مکہ کے دن جو خطبہ فرمایا اس میں اس بات کا اعلان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کی نخوت اور تکبر کو دور کردیا، آدمیوں کو دو (2) ہی قسمیں ہیں، مومن تقی جو پرہیزگار ہو وہ اللہ کے نزدیک عزت دار اور کریم ہے، اور جو شخص فاجر شقی ہے وہ اللہ کی نظر میں ذلیل و خوار ہے پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی (آیت ) ” ان اکرمکم عند اللہ اتقکم “۔ 1 حاشیہ (حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی بڑائیاں ذات کی اور قوم کی عبث ہیں صفت نیک چاہئے نری (صرف ذات کس کام کی) روایات میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حجۃ الوداع میں اپنے ایک خطبہ کے دروان فرمایا اے لوگو ! اب اللہ نے جاہلیت کی عصبیت ونخوت کو ختم کردیا ہے اب تو بس انسانوں کی دوہی قسمیں ہیں یا مومن متقی یا شقی فاجر۔ 12) نبی کریم ﷺ نے فرمایا تمام انسان آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں اور آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے نہ عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت ہے نہ عربی کو عجمی پر کوئی بزرگی ہے نہ سرخ رنگ والے کو سفید رنگ والے پر کوئی بزرگی ہے نہ سفید رنگ والے کو سرخ رنگ والے پر کوئی فضیلت اور بڑائی حاصل ہے مگر تقوی اور پرہیزگاری سے، پیغمبر اسلام (علیہ السلام) کا یہ بنی نوع انسان پر کتنا بڑا احسان ہے کہ تمام دنیا کے نسبی تفاخر کو مٹا کر سب کو بھائی بھائی بنا دیا اور صرف تقوی اور پرہیزگاری کو امتیاز کی وجہ قرار دیا یعنی جو اپنے پروردگار سے ڈرتا ہے وہی بڑا ہے جس قدر تقوی میں بڑھا ہوا ہے اسی قدر بزرگی میں بڑھا ہوا ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے۔ من بطابہ عملہ، لم یسرع بہ لسبہ۔ جو عمل میں پیچھے رہا اس کا نسب اس کو آگے نہ بڑھا سکے گا اللہ تعالیٰ علیم اور خبیر ہے یعنی ہر شخص کے نسب اور اس کے نسبی تفاخر کو بھی جانتا ہے اور ہر شخص کے تقوی سے بھی باخبر ہے۔ یہ دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے، آپ ﷺ ان سے کہہ دیجئے کہ تم ایمان تو نہیں لائے ہاں یوں کہو کہ ہم فرمانبردار ہوگئے یعنی ہم نے مخالفت ترک کردی ہے اور بھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا اور اگر تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی صحیح اطاعت کرو تو اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کے اجر وثواب میں ذرا بھی کمی نہیں کرے گا بیشک اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا نہایت مہربانی کرنے والا ہے۔ عرب کے اکثر دیہاتیوں نے صدق دلی سے ایمان قبول کیا تھا، لیکن یہ بنی اسد کے لوگ قحط کے زمانے میں غلہ وغیرہ حاصل کرنے مدینے میں آئے تو کہنے لگے ” ہم ایمان لائے اس پر تنبیہ کی کہ ایمان صرف زبان کے کہنے سے نہیں ہوتا بلکہ دل سے اس کی نیت بھی کرو یعنی جب تک تصدیق قلبی میسر نہ ہو صرف قول سے مومن نہیں ہوتا ہاں زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہو کہ ہم صلح میں داخل ہو کر آپ ﷺ کے مطیع ہوگئے ہیں اور ہم نے مخالفت ترک کردی ہے اور ابھی ایمان تمہارے قلب میں داخل نہیں ہوا یعنی صدق قلبی حاصل نہیں ہوئی اور اگر تم لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو جس میں تصدیق قلبی بھی آگئی یعنی دل سے بھی ایمان لے آؤ اور زبان اور قلب میں مطابقت پیدا کرلو تو اللہ تعالیٰ تمہارے ان اعمال کے اجر میں جو ایمان لانے کے بعد تم کرو گے اس وقت کے کفر وشرک کی وجہ سے کچھ کمی نہیں کرے گا یعنی ایمان لانے کے بعد جو عمل کرو گے اس کا پورا پورا ثواب ملے گا۔ یہ ایمان کی حقیقت نہیں ہے کہ کسی خوف یا کسی مفاد کی طمع اور لالچ میں ایمان کا اعلان اور دعوی کردیا ایمان ویقین تو دل میں راسخ ہوجانے والی اس کیفیت کا نام ہیں جو درخت کی مضبوط جڑ کی طرح جمی ہوئی ہو اور اس کی شاخیں ابھر رہی ہوں بلندی تک نظر آرہی ہوں اس وقت مومن کی یہ شان ہوتی ہے کہ غیبت وتہمت اور نزاع وخصومت جیسے عیوب سے پاک ہو کر صرف اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لیے اللہ کی اطاعت وفرمانبرداری کے واسطے تیار رہتا ہے نہ اس کو کسی چیز کا ڈر ایمان کے راستہ سے ڈگمگاتا ہے اور نہ لالچ وطمع اللہ کی نافرمانی پر کبھی آمادہ کرتی ہے اس لئے اس طرح کے دعوے کرنے والوں کو سن لینا چاہئے کہ ایمان والے تو بس وہی لوگ ہیں جو اللہ پر اور اسکے رسول پر ایمان لائے اور پھر اس پر ایسی مضبوطی کے ساتھ قائم رہے کہ کوئی تردد اور شبہ بھی نہ کیا اللہ اور اس کے رسول کی کسی بات میں بلکہ استقامت اختیار کی اور جہاد کیا اپنے مالوں اور جانوں سے اللہ کی راہ میں تو درحقیقت یہی لوگ سچے ہیں اس لئے اس قسم کے مدعیان اسلام کے دعوؤں کو دیکھ کر سمجھ لینا چاہئے کہ یہ ایمان کا محض دعوی ہے، ظاہری اسلام ہے حقیقی ایمان نہیں ایمان حقیقی کا رنگ ہی کچھ اور ہوتا ہے جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ یا معشر من اسلم بلسانہ ولم یغض الایمان الی قلبہ لا تغتابوا المسلمین ولا تتبعوا عوراتھم “۔ یعنی اے وہ لوگو ! جو اپنی زبان سے اسلام کا اظہار کرتے ہو لیکن ایمان ابھی تک اس شخص کے دل کے اندر نہیں پہنچا تو تم کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ تم مسلمانوں کی غیبت نہ کیا کرو اور نہ ہی ان کے عیوب ونقائص تلاش کیا کرو ، ان اعراب اور بنو اسد قوم کے لوگوں کی یہ حالت بلاشبہ ایمان والوں کی نشانیوں سے قطعا مختلف اور جدا ہے پھر بھی ایمان کے دعوے اور یہ کوشش کہ کسی طرح خدا کا پیغمبر اس قسم کے لوگوں کو سچا مسلمان سمجھ لے بلاشبہ فضول اور بےمعنی کوشش ہے تو ایسی صورت میں اے ہمارے پیغمبر کہہ دو کیا تم جتلاتے ہو اللہ کو اپنی دینداری، حالانکہ اللہ تو جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور ج و کچھ زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے اسی قسم کے یہ لوگ اے ہمارے پیغمبر آپ پر احسان رکھتے ہیں کہ یہ مسلمان ہوگئے ہیں آپ کہہ دو مت احسان جتلاؤ مجھ پر اپنے اس دعوے میں کہ تم مسلمان ہوگئے ہو ایمان واسلام کی دولت سے سرفراز فرما دینا یہ اللہ ہی کا انعام و احسان ہے کسی کا ایمان لانا خدا پر کوئی احسان نہیں۔ 1 حاشیہ (حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں نیکی اپنے ہاتھ سے ہو یہ اپنی تعریف نہیں رب العزت کی تعریف ہے جس نے وہ نیکی کرائی۔ ) منت منہ کہ خدمت سلطان ہمی کنی منت شناس از و کہ بخدمت بداشتت۔ بیشک اللہ ہی جانتا ہے پوشیدہ چیزیں آسمانوں اور زمین کی اور اللہ خوب دیکھتا ہے، اے لوگو ! جو کچھ تم کرتے ہو تو جب اللہ رب العزت پر آسمانوں اور زمین کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں اور وہی تمام اعمال وافعال حتے کہ دلوں کے بھید اور راز بھی جانتا ہے تو اس پروردگار سے کسی کا ایمان و اطاعت اور اس کا اخلاص ونفاق کیسے مخفی رہ سکتا ہے اور یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی منافق خدا کہ دھوکہ دے سکے ، تم تفسیر سورة الحجرات بعون اللہ تعالیٰ و توفیقہ۔ بندۂ ناچیز محمد مالک کاندھلوی ((رح) ) شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ لاہور، پاکستان 10 جمادی الثانی 1403 ؁ ہجری۔