Ayahs 48:1–3پیغام تہنیت برائے سید المرسلین ﷺ بفتح مبین واعلان اتمام نعمت رب العالمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” انا فتحنالک فتحا مبینا ..... الی ...... نصرا عزیزا “۔
(ربط) جیسا کہ گذشتہ سطور میں عرض کیا کہ سورة محمد ﷺ یا سورة قتال کا موضوع اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے جہاد فی سبیل اللہ تھا اور یہ کہ اہل ایمان کو منافقین کی سازشوں سے نہ پریشان ہونا چاہیے اور نہ ہی اپنے مادی وسائل کی قلت سے ڈرنا چاہئے، اللہ رب العزت ہر چیز پر قادر ہے، قوی کو ضعیف اور ضعیف کو قوی کرسکتا ہے غالب کو مغلوب ومفتوح اور مظلوم وبے سہارا قوم کو فتح ونصرت سے ہم کنار کرسکتا ہے تو اس سورة پاک میں مسلمانوں کو فتح مبین کی بشارت سنائی جارہی ہے،
فرمایا بیشک ہم نے فیصلہ کردیا ہے آپ کے واسطے فتح مبین کا جو کہ صلح حدیبیہ ہے جس سے ظاہری اور باطنی فتوحات اور دینی ودنیاوی نعمتوں کا دروازہ کھول دیا گیا یہ۔ 1
حاشیہ : (جمہور علماء کا قول یہی ہے جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا۔ احمد بن حنبل (رح)، ابن سعد (رح)، ابوداؤد (رح)، نے یہی بیان کیا اور اس روایت کی ابن المنذر (رح)، ابن مردویہ (رح)، نے تصحیح کی، بیہقی نے دلائل النبوۃ میں مجمع بن جاریۃ الانصاری ؓ سے روایت کی ہے کہ قال شھدنا مع رسول اللہ ﷺ الحدیبیۃ فلما انصرفنا عنھا الی کو اع الغمیم فاذا رسول اللہ ﷺ عند کو اع الغمیم فاجتمع الناس الیہ فقرء علیہم (آیت ) ” انا فتحنالک فتحا مبینا۔ الخ۔ 12)
یہ صلح حدیبیہ جن رحمتوں نعمتوں اور کرامات کا آغاز ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ درگزر کرے آپ کے واسطے اللہ تعالیٰ آپ کی وہ تمام تقصیرات جو پہلے گذریں اور وہ جو بعد میں گذریں اس لئے اب آپ ﷺ کی کسی بھی ایسی تقصیر پر جو قبل از نبوت ہوئی یا بعد از نبوت جو بمقتضائے بشریت قبل از وحی پیغمبر سے ممکن ہے آپ ﷺ سے نہ کوئی مؤاخذہ ہوگا اور نہ سوال و عتاب اور نہ ہی ان باتوں پر کوئی گرفت ہوگی جو آپ ﷺ کے مقام عالی اور آپ کی آرزو سے کم تر ہوں کیونکہ آپ ﷺ کی تو آرزو ہر لمحہ یہی تھی کہ درجات زیادہ سے زیادہ بلند تر ہوں اور اللہ کا دین زائد سے زائد غالب اور بلند ہو اور صرف تقصیرات سے درگزر ہی نہیں بلکہ پورا کردے آپ ﷺ پر اپنا انعام ظاہری وباطنی اور مادی وروحانی انعامات میں جو اب تک آپ ﷺ پر ہوچکے ہیں اور چلائے آپ کو سیدھی راہ پر کہ ہمیشہ ہدایت اور استقامت کی سیدھی راہ پر آپ ﷺ معرفت وشہود کے غیر محدود مراتب طے کرتے رہیں اور ابدان وقلوب پر اسلام کی حکومت قائم کرنے کی راہ میں آپ ﷺ کے واسطے کوئی رکاوٹ حائل نہ ہوسکے گی۔ 1
حاشیہ (فوائد شیخ الاسلام حضرت علامہ عثمانی (رح)
اور مدد کرے اللہ آپ کی نہایت ہی مضبوط مدد، جس کو دنیا کی کوئی طاقت روک نہ سکے، اور جب وہ مدد وظفر و کامیابی آپ کے قدموں کے ساتھ ہوگی تو لوگ دین الہی میں فوج در فوج داخل ہونے لگیں گے تو اس وقت آپ ﷺ کا بس یہی وظیفہ ہوگا کہ اپنے رب کی تسبیح وتحمید اور استغفار ہی میں منہمک ہوجائیں گے تو یہ بات اس وعدہ کی تکمیل اور تتمیم ہوجائے گی جو اس وقت فرمایا جارہا ہے (لیغفرلک اللہ الخ)
فتح مبین اور انعامات خداوندی :
ان آیات میں فتح مبین کی بشارت سناتے ہوئے چار خصوصی انعامات کا بیان فرمایا (1) اول مغفرت۔ (2) دوم اتمام نعمت۔ (3) سوم ہدایت صراط مستقیم۔ (4) چہارم نصر عزیز۔
مغفرت ذنوب سے کنایہ ہے کہ آپ ﷺ سے کسی قسم کا کوئی مواخذہ نہ ہوگا کیونکہ آپ ﷺ سید البشر ہیں اور اولین وآخرین انبیاء کے سردار ہیں یہ کرامت وفضیلت ایسی ہے۔ کہ کسی کو عطا نہیں کی گئی جس کا خاص طور پر ظہور قیامت کے روز شفاعت عظمے کی صورت میں ہوگا جب کہ تمام پیغمبر نفسی نفسی کہتے ہوں گے اور ہر پیغمبر کو کسی نہ کسی امر پر مؤاخذہ کا اندیشہ ہوگا اگرچہ وہ تقصیر نہ تو گناہ ہوگی اور نہ کسی خلاف امر خداوندی کا ارتکاب ہوگا بلکہ یا تو وہ بات بغیر کسی وحی خداوندی یا قبل از وحی منشاء خداوندی سے کچھ مختلف واقعی ہوگی کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) معصوم ہوتے ہیں اور عصمت کے منافی یہ امر ہے کہ صریح حکم خداوندی کے خلاف دیدہ و دانستہ کسی امر کا واقع ہونا، سو ظاہر ہے کہ یہ کسی بھی پیغمبر سے نہیں ہوا چہ جائیکہ سرور کائنات جناب رسول اللہ ﷺ سے ! تو ارحم الراحمین نے ختم النبیین کو (آیت ) ” لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر “۔ کی بشارت عظمی سنا کر ہر قسم کے مؤاخذہ سے مطمئن کردیا۔ 2
حاشیہ (روح المعانی جلد 26۔ )
حدیث شفاعت میں ہے کہ جب اہل محشر روز حشر کی شدت سے گھبرا کر اول حضرت آدم (علیہ السلام) کے پاس جائیں گے کہ وہ خدا کے خلیفہ اور پہلے رسول اور نبی ہیں اور ہمارے باپ ہیں تاکہ وہ ہمارے لئے شفاعت کریں تو حضرت آدم (علیہ السلام) اپنی اس لغزش کی بناء پر جو بھولے سے سرزد ہوگئی تھی معذرت کریں گے اور فرمائیں گے ” لست لھا “۔ میں اس مقام اور مرتبہ کے لائق نہیں۔
بالآخر جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی خدمت میں یہ درخواست لے کر جائیں گے تو عیسیٰ (علیہ السلام) اول تو یہی عذر کریں گے ” لست لھا “۔ کہ میں بھی مقام شفاعت میں کھڑے ہونے کا اہل نہیں اور بعد ازاں اہل محشر کو یہ مشورہ دیں گے۔
ولکن ایتوا محمد ا ﷺ عبدا غفر اللہ لہ ماتقدم من ذنبہ وما تاخر (صحیح بخاری ص 1108)
لیکن تم سب محمد رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤ وہ اللہ کے ایسے بندے ہیں جن کی اگلی اور پچھلی تمام تقصیرات کو اللہ نے معاف کردیا ہے۔
باب قول اللہ (آیت ) ” وجوہ یومئذ ناضرۃ الی ربھا ناظرۃ (صحیح بخاری ص 243) باب قول اللہ عزوجل (آیت ) ” وعلم ادم الاسمآء کلھا “۔ از کتاب التفسیر “۔
یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کو یہ خطرہ نہیں کہ ان سے کسی تقصیر پر کوئی سوال اور مؤاخذہ ہو اللہ تعالیٰ نے (آیت ) ” لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر “۔ کی بشارت دے کر اس خطرہ اور اندیشہ سے مامون اور مطمئن کردیا ہے لہذا تم انکی خدمت میں حاضر ہو کر شفاعت کی درخواست کرو اور ایک روایت میں یہ الفاظ آتے ہیں۔
فیاتون محمد ا ﷺ فیقولون یا محمد انت رسول اللہ وخاتم الانبیاء وقد غفر اللہ لک ما تقدم من ذنبک وما تاخر اشفع لنا الی ربک الاتری مانحن فیہ۔ (صحیح بخاری تفسیر سورة اسراء )
پس اہل محشر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کریں گے کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور خاتم الانبیاء ہیں اور اللہ نے آپ ﷺ کی اگلی اور پچھلی کوتاہیوں کو معاف کردیا اس لیے آپ ہمارے رب سے ہمارے لئے شفاعت کیجئے کیا آپ ہماری اس مصیبت و پریشانی کو نہیں دیکھ رہے جس میں ہم مبتلا ہیں۔
سورة محمد کی تفسیر جیسا کہ گذر چکا ذنب سے اس آیت مبارکہ میں وہ سہو ونسیان مراد ہوسکتا ہے جو بمقتضائے بشریت آپ ﷺ سے کسی وقت مدت العمر ظہور میں آیا ہو مقصد آیت یہ ہے کہ آپ ﷺ ہمارے محبوب ہیں آپ ﷺ کو تسلی اور بشارت دی جاتی ہے کہ آپ ﷺ کی ہر بات سے درگزر کیا گیا اور کسی بھی امر پر آپ سے سوال ومؤاخذہ نہ ہوگا یہ (1) پہلا انعام ہوا۔
(2) دوسرا نعام، اتمام نعمت، کہ عفو تقصیر پر در گذر ہی پر اکتفاء نہ کیا جائے گا بلکہ اس نعمت وبشارت کے بعد اور جس قد ر بھی نعمتیں ہیں انکی بھی تکمیل وتتمیم فرما دی جائے گی اور ان نعمتوں میں سب سے بڑی اور عظیم تر نعمت یہ ہوگی کہ آپ ﷺ کا دین کامل اور تمام ادیان پر غالب کردیا جائے گا۔
(3) انعام، ہدایت صراط مستقیم یعنی آپ ﷺ کا دین اور شریعت ایسا سیدھا واضح اور ہموار راستہ ہوگا کہ اس پر چلنے میں نہ کسی کو رکاوٹ ہوگی نہ کوئی ابہام وخفا باقی رہے گا جس طرح کہ سورج کی روشنی میں سیدھے راہ پر چلنے والا مسافر بلاروک ٹوک سہولت کے ساتھ اپنا سفر طے کررہا ہو۔
(4) چوتھا انعام۔ نصر عزیز، کہ ایسی کامیابی اور غلبہ، جو نہایت مضبوط ومستحکم ہو جو کسی کی مخالفت ومقابلہ اور بغاوت سے متاثر نہ ہوسکے اور اسلام کے واسطے اس طرح راستہ کشادہ ہوجائیگا کہ بلاکسی روک ٹوک کے لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے لگیں گے اور جب فتح ونصرت اور غلبہ دین اور اشاعت وقبولیت اسلام کا یہ منظر آپ ﷺ کے سامنے آجائے تو سمجھ لینا کہ آپ ﷺ کی بعثت کا مقصد پورا ہوگیا اور اللہ تعالیٰ نے جس غرض کے واسطے دنیا میں آپ ﷺ کو مبعوث فرمایا تھا وہ غرض پوری ہوگئی تو بس مخلوق سے فارغ ویکسو ہو کر صرف اپنے خالق کی طرف رجوع کرنا اور اسی کی تسبیح وتحمید میں مصروف ہوجانا جس کو سورة نصر میں فرمایا (آیت ) ” اذا جآء نصر اللہ والفتح ورایت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجا فسبح بحمد ربک واستغرہ انہ کان توابا “۔ اور دار دنیا سے روانہ ہو کر دارآخرت میں قدم رکھو تو رنجیدہ وپریشان نہ ہونا کیونکہ ہم نے آپ ﷺ کی ہر بات سے درگزر کرلیا ہے۔
اور جو فتح مبین اور نصر عزیز آپ ﷺ کو عطا کی گئی اسکی تکمیل اور باقی ماندہ رفعت وبلندی کے مراتب آپ ﷺ کے وصال کے بعد آپ ﷺ کے جانشینوں کے ہاتھوں پورے ہوجائیں گے چناچہ ایران اور شام کی سرزمین آپ ﷺ کے خلفاء نے فتح کی اور قیصر وکسرے کے خزائن تقسیم کئے گئے یہ تھی اتمام نعمت جس کی خبر ان کلمات میں دے دی گئی تھی (آیت ) ” ویتم نعمتہ علیک “۔ اور یہی نصر عزیز کی تکمیل تھی جس کو (آیت ) ” وینصرک اللہ نصرا عزیزا “۔ میں فرمایا گیا۔
الغرض یہی حدیبیہ کی صلح فتح خیبر کا سبب بنی، دو سال بعد مکہ فتح ہوگیا حنین وطائف بھی فتح ہوگئے جس کے بعد کل حجاز، نجد اور یمن کے علاقوں میں اسلام کی حکومت قائم ہوگئی فتح روم وفارس سے ظاہری اور باطنی نعمتوں اور خیر کے دروازے کھل گئے۔
تاریخی روایات سے ثابت ہے کہ معاہدہ حدیبیہ سے فارغ ہو کر آنحضرت ﷺ نے شاہان عالم کے نام دعوت اسلام کے خطوت روانہ فرمائے اور قیصر و کسری اور مقوقس شاہ مصر وغیرہ کی طرف خطوط دیکر قاصد روانہ کیے اور اس صلح کی وجہ سے مشرکین کا مسلمانوں کے ساتھ اختلاط شروع اور کافروں کے دلوں میں جو قفل پڑے ہوئے تھے وہ کھلنا شروع ہوئے اور اسلام کی باتیں کافروں کے کانوں اور دلوں میں داخل ہونے لگیں نتیجہ یہ ہوا کہ تھوڑی سی ہی مدت میں بیشمار لوگ اسلام میں داخل ہوگئے اور جو لوگ بیس سال سے اسلام کے دشمن خونخوار بنے ہوئے تھے اب وہ اسلام کے عاشق جانثار بن گئے۔
قریش نے اسلام کی رفتار اور گفتار اور اسکے کردار سے اندرونی طور پر یہ سمجھ لیا کہ اب اسلام دبنے والا نہیں اور جو لشکر حضور پر نور ﷺ کے ساتھ ہے وہ کوئی بادشاہی فوج نہیں بلکہ وہ عاشقوں اور جانبازوں اور پروانوں کا کوئی لشکر ہے جن کے عشق کا یہ عالم ہے کہ حضور پر نور ﷺ کے وضو کا پانی زمین پر نہیں گرتا بلکہ صحابہ کے ہاتھوں پر گرتا ہے جس کو وہ اپنے منہ پر مل لیتے ہیں اور جب حضور پرنور ﷺ بولتے ہیں تو سناٹے کا یہ عالم ہوتا ہے کہ گویا ان کے سر پر پرندے بیٹھے ہیں قریش نے یہ منظر دیکھ کر سمجھ لیا کہ یہ شخص کوئی بادشاہ نہیں بلکہ خدا کا کوئی برگزیدہ بندہ ہے جس پر محبوبیت ختم ہے اور یہ مسلمان جو آپ ﷺ کے گرد جمع ہیں ان پر عاشقیت ختم ہے ان دیوانوں اور پروانوں سے جنگ کرنا آسان نہیں اس لئے صلح پر آمادہ ہوگئے بیس سال سے جو عداوت کا نشہ سر پر چڑھا ہوا تھا وہ ڈھیلا ہوگیا اور آج کل کی اصطلاح میں صلح کے معنی ہتھیار ڈال دینے کے ہیں قریش ظاہر میں بڑائی کی باتیں کرتے تھے مگر دل سے خوفزدہ تھے اور آنحضرت ﷺ دل سے مطمئن تھے اور قریش کی ہر شرط کو منظور کرتے جاتے تھے اس لئے کہ آپ ﷺ جانتے تھے کہ سب چند روزہ قصہ ہے۔ 1
حاشیہ (ازافادات حضرت والد محترم سید المحدثین والمفسرین حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی (رح)
Ayahs 48:4–7بشارات اہل حدیبیہ بعطاء نعمأدنیویہ واخرویہ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ھو الذی انزل السکینۃ فی قلوب المومنین ....... الی ....... عزیزا حکیما “۔
(ربط) گذشتہ آیات فتح مبین کی بشارت کے ساتھ ان بشارتوں اور کرامتوں پر مشتمل تھیں جو آنحضرت ﷺ کی ذات مبارکہ کے ساتھ مخصوص تھیں اب ان آیات میں وہ کرامات اور بشارتیں ذکر فرمائی جارہی ہیں جو آپ ﷺ کے ہمرکاب رفقاء اور حضرات صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین “۔ کے متعلق ہیں اور اس لحاظ سے کہ بضدھاتتبین الاشیاء “۔ نور کی نورانیت ظلمت و تاریکی کے ہی مقابلہ میں پہچانی جاتی ہے تو اولا اہل حدیبیہ کے فضائل بیان فرماتے گئے اور پھر بطور تکمیل مضمون انکے مقابل منافقین ومتخلفین کی ذلت اور کمینہ پن بیان کیا جارہا ہے ،
صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ جب سفر حدیبیہ سے واپس ہوئے تو آپ (علیہ السلام) پر یہ آیات نازل ہوئیں آپ ﷺ نے ان آیات کے نزول پر فرمایا یہ نصیحتیں اور بشارتیں جو اللہ نے نازل فرمائیں مجھے دنیا ومافیہا سے زیادہ محبوب ہیں حضرات صحابہ یہ سن کر فرمانے لگے یا رسول اللہ یہ انعامات وکرامتیں جو اللہ نے نازل فرمائیں تو وہ آپ ﷺ کے واسطے ہیں اور وہ آپ ﷺ کے ساتھ تو کرے گا لیکن ہماری عرض یہ ہے کہ وہ کیا چیز ہے جو اللہ ہمارے ساتھ کرے گا تو اس پر یہ آیات نازل ہوئیں (آیت ) ” ھوالذی انزل السکینۃ “۔ الایات۔
ارشاد فرمایا وہی ہے پروردگار جس نے سکینت وطمانینت کو اتارا اہل ایمان کے دلوں میں تاکہ انکے ایمان میں اور اضافہ ہوجائے استقامت ویقین کامل کی صورت میں انکے اصل ایمان کے ساتھ کے اس سکینت اور طمانینت قلب سے رسول اللہ ﷺ کی بات پر دل مطمین ہوگئے گو کہ بعض باتیں بظاہر خلاف طبع تھیں اور ہوسکتا تھا کہ جس طرح کافر ضد پر ڈٹے ہوئے تھے یہ بھی ایسی ہی ضد کی صورت اختیار کرلیتے مگر اس اطمینان قلب کی وجہ سے انکے مراتب ایمان وعرفان میں ترقی ہوئی۔
پہلے تو جہاد کی بیعت سے یہ ثابت کردیا تھا کہ ہم اللہ کی راہ میں اپنی جانیں قربان کرنے کو تیار ہیں بہرکیف یہ ایمان کا ایک عجیب رنگ تھا اس کے بعد جب پیغمبر ﷺ نے مسلمانوں کے ابھرتے ہوئے مجاہدانہ جذبات کے خلاف اللہ کے حکم سے صلح منظور کرلی تو یہ تو ان کے ایمان کا دوسرا رنگ تھا جو پہلے رنگ پر اضافہ ہوا کہ اپنے جذبات ووعواطف کو مغلوب کرتے ہوئے اللہ اور اسکے رسول ﷺ کے فیصلہ کے سامنے سرجھکا دیا ان کو اس ایمان وانقیاد کے ساتھ اس پر یقین بھی حاصل ہوگیا کہ اللہ ہی کے لئے ہیں لشکر آسمانوں اور زمین کے اور اللہ بڑا ہی خبردار حکمت والا ہے اس کے علم سے دشمنان اسلام کی کوئی سازش اور مخالفت پوشیدہ نہیں اور وہ اپنی حکمت سے جب چاہے گا، اپنے لشکروں کو جہاد کے واسطے حکم دیدیگا اور جب اس کے لشکر میدان جہاد میں آئیں گے جیسے کہ بدر وحنین میں تو پھر کسی کو مقابلہ کی تاب نہ ہوگی اور یہ سب کچھ اس وجہ سے کہ پہنچا دے ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں، 1
حاشیہ (احادیث سے معلوم ہوا کہ اس سفر میں حضرت ام سلمہ ؓ بھی ساتھ تھیں تو قرآن کریم نے ان کے اکرام کو ملحوظ رکھتے ہوئے خاص طور پر مومن ات کا لفظ بھی بول دیا ورنہ تو بالعموم فضائل و احکام میں ایک ہی عنوان اور صیغہ مذکر دونوں کو شامل ہوا کرتا ہے۔ 12)
کو ایسے باغوں (جنتوں) میں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں جو ہمیشہ ان میں رہنے والے ہوں گے اور اس انعام و اعزاز کے علاوہ یہ بھی ایک خصوصی انعام ہوگا کہ مٹا دے گا ان سے انکی برائیاں اور یہ ہے اللہ کے یہاں بڑی ہی کامیابی جو مخلصین ومطیعین اور مومنین صادقین کے حصہ میں آتی ہے اور اسکے برعکس منکرین ومنافقین کے حق میں یہ مصلحت ہے کہ عذاب دے منافق مردوں (دغا باز مردوں) اور منافق عورتوں (دغا باز عورتوں ) ۔ 1
حاشیہ (حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسن قدس اللہ سرۂ نے منافقین ومنافقات کے ترجمہ میں یہ لفظ استعمال کیا جو نہایت ہی بلیغ ولذیذ ہے اس وجہ سے بین القوسین ذکر کردیا گیا۔ 12)
کو اور شرک کرنے والے مردوں اور شرک کرنے والی عورتوں کو جو گمان کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے بارے میں براگمان بیشک انھی پر لوٹے گا چکر انکی برائی کا اور خدا کا غضب ہے ان پر اور لعنت کی خدا نے ان پر اور تیار کی انکے واسطے جہنم اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے جہاں کی مصیبتوں اور تکالیف کی کوئی حدوانتہا نہیں ہے اور یہ تو ظاہر ہی ہے کہ اللہ کے واسطے ہیں تمام لشکر آسمانوں اور زمین کے اور اللہ زبردست حکمت والا ہے۔ 2
حاشیہ (ان آیات میں دو جگہ (آیت ) ” وللہ جنود السموت والارض “۔ فرمایا گیا پہلی جگہ ان الفاظ سے یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ اللہ رب العزت ہی مخلوقات کے تمام کاموں کی تدبیر کرنے والا ہے اور وہ اپنی حکمت کے تقاضے سے جس طرح چاہتا ہے ہر امر طے فرماتا ہے اس بنا پر وہاں اللہ رب العزت نے اپنی صفت (آیت ) ” علیماحکیما “۔ فرمائی لیکن یہاں مقصود مجرمین ونافرمانوں کو تہدید ودھم کی ہے اس وجہ سے اس پر موقعہ پر وصف (آیت ) ” عزیزا حکیما “۔ ارشاد فرمایا 12 (روح المعانی )
اس وجہ سے منافقین ومنافقات اور مشرکین ومشرکات عذاب خداوندی سے نہیں بچ سکتے جن کے خیالات نہایت گندے تھے اور ان کے دلوں میں بیہودہ آرزوئیں تھیں وہ سوچتے تھے مسلمانوں سے اگر لڑائی ہوئی تو ضرور ناکام ہوں گے کیونکہ نہ ان کے پاس فوج ہے نہ سازو سامان، وطن سے دور ہوں گے مدد بھی نہ پہنچ سکے گی اس کے برعکس قریش مکہ طاقت ور ہیں سازوسامان انکے پاس ہے وہ ضرور کامیاب ہوں گے تو ہم کیوں اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالیں کبھی یہ سوچتے کہ مسلمانوں کا یہ کہنا کہ ہم عمرے کے واسطے جارہے ہیں یہ محض ایک دھوکہ ہے دراصل ان کا مقصد لڑائی ہے اور قریش مکہ پر حملہ کرنا ہے غرض اس طرح کے ادہام وخیالات میں تھے کہ اللہ رب العزت نے ارادہ کیا کہ ذلیل کیا جائے اور عذاب دنیوی واخروی میں مبتلا ہوں چناچہ جس قدر انہوں نے پیش بندیاں کیں، احتیاط برتا ان کی سب تدبیریں ضائع گئیں اور مصیبتوں کے چکر نے انکو اپنے گھیرے میں لے لیا یہ تو دنیا کا عذاب ہوا مزید عذاب اخروی یہ کہ غضب خداوندی کے مستحق بنے خدا کی لعنت ان پر ہوئی اور عذاب جہنم جو ہمیشہ کے لئے ہے مقرر کردیا گیا اللہ رب العزت بڑے ہی غلبہ اور طاقت والا ہے اس کے فیصلہ کو کوئی روک نہیں سکتا ساتھ ہی وہ حکمت والابھی ہے بمقتضائے حکمت جب بھی مناسب جانتا ہے مجرمین کو سزا دیتا ہے۔
حضرات صحابہ ؓ کے قلوب میں نزول سکینت کی بشارت ان کے مومن کامل اور صاحب تقوی ہونے کا اعلان ہے :
آیت مبارکہ (آیت ) ” ھو الذی انزل السکینۃ فی قلوب ال مومنین “۔ کا مصداق بلاشبہ حضرات صحابہ اور بالخصوص وہی حضرات ہیں جو حدیبیہ میں آنحضرت ﷺ کے ہمراہ تھے جب قرآن کریم نے واضح طور پر اس امر کی شہادت دے دی کہ اللہ رب العزت نے ان کے دلوں میں سکینت وطمانینت نازل فرمادی تو ظاہر ہے کہ اس کہ اس کے بعد ان افراد اور مقدس ہستیوں کے بارے میں کسی طرح کی ایمان ویقین کی کمزوری کا تصور کرنا قرآنی شہادت العیاذ باللہ ٹھکرانا ہے قرآن کریم نے شہادت دیدی کہ وہ تقوی، ایمان، عفت و پاکدامنی کے پیکر ہیں اور ایمان پر استقامت کا ان کو ایسا مقام حاصل ہے کہ ان کے قدم صراط مستقیم سے کسی بھی مرحلہ پر کسی بھی لمحہ نہیں ڈگمگا سکتے اور حتی کہ تقوی اور پرہیزگاری کا وصف انکے لئے لازم ذات بنادیا جیسا کہ ارشاد ہے (آیت ) ” والزمھم کلمۃ التقوی “۔ اور ساتھ یہ بھی فرمادیا گیا کہ اللہ رب العزت کے علم ازلی کے لحاظ سے وہی اس کے تمام عالم میں سب سے زیادہ مستحق اور لائق تھے اور جب تقوی کمال ایمان اور استقامت وسکینت کا وصف ان حضرات کا لازم ذات وصف ہوگیا تو بلاشبہ ان کا مقام و مرتبہ خداوند عالم کے نزدیک اولیاء اور اس کے محبوب ہونے کا ہوگیا اب اس میں شبہ وتردد قرآن میں شبہ کرنا ہے اور اللہ کی شہادت میں شبہ وتردد بدترین جرم ہے۔
Ayahs 48:8–10انعام بعثت رسول اکرم ﷺ وحق تعظیم و توقیر وعہد اطاعت وفرمانبرداری :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” انا ارسلنک شاھدا ومبشرا ونذیرا ...... الی ...... فسیؤتیہ اجرا عظیما “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں فتح مبین کی بشارت کے ساتھ ان چار انعامات کا زکر فرمایا گیا تھا جو رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس کے ساتھ مخصوص تھے اب ان آیات میں اس انعام عظیم کا ذکر فرمایا گیا جو تمام امت پر بلکہ تمام انسانوں اور کل کائنات پر آنحضرت ﷺ کی بعثت و رسالت کے ذریعہ فرمادیا گیا اور یہ کہ آپ ﷺ پر ایمان اور بیعت کس قدر بلند پایہ فضیلت ہے کہ جو لوگ آپ ﷺ سے بیعت کرتے ہیں وہ درحقیقت اللہ سے بیعت کررہے ہیں اور جس وقت وہ بیعت کرتے ہوئے اپنا ہاتھ رسول خدا کے ہاتھ پر رکھتے ہیں تو اللہ کا ہاتھ اس کی شان بےچگون کے مطابق ایمان لانے مسلمانوں کے ہاتھ پر ہوتا ہے۔
ارشاد فرمایا بیشک ہم نے آپ کو بھیجا ہے اے ہمارے پیغمبر گواہی دینے والا تمام انبیاء (علیہم السلام) کے حق رسالت ادا کرنے اور انکی قوموں کی نافرمانی کرنے پر اور بشارت سنانے والا اہل ایمان وطاعت کے لئے اور ڈرانے والا نافرمانوں کو تاکہ اے لوگو ! تم ایمان لے آؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اسکے رسول کی مدد کرو اور اس کی تعظیم و توقیر کرو۔ 1
حاشیہ (حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور دیگر اکثر حضرات صحابہ ؓ مروی ہے کہ (آیت ) ” وتعزروہ۔ وتوقروہ “۔ کی ضمیریں رسول ﷺ کی طرف راجع ہیں اور (آیت ) ” وتسبحوہ “۔ کی ضمیر اللہ کی طرف راجع ہے کیونکہ مدد اور تعظیم حقوق رسالت سے ہے اور ظاہر ہے کہ اعانت ومدد پیغمبر ہی کی ہوسکتی ہے اس کے احکام ودین کی اشاعت اور مقاصد دین کی تکمیل کے لیے اس بناء پر یہ ممکن نہیں کہ (آیت ) ” وتعزروہ “۔ کی ضمیر کا مرجع اللہ ہو اور تسبیح و پاکی ذات کبریاء کے لئے ہے اس وجہ سے (آیت ) ” تسبحوہ “۔ کی ضمیر اللہ کی طرف راجع ہے یہی وجہ ہے کہ جمہور کے نزدیک (آیت ) ” وتوقروہ “۔ پر وقف لازم ہے اور آگے لفظ (آیت ) ” وتسبحوہ “۔ جملہ مستانفہ کے طور پر کلام مستقل ہے۔ )
اور پاکی بیان کرو اس اللہ کی جس نے ایسا رسول عظیم مبعوث فرمایا صبح اور شام نمازوں میں اور دیگر اوقات میں یقیناً جو لوگ بیعت کرتے ہیں آپ سے وہ اللہ ہی سے بیعت کررہے ہیں اللہ کا ہاتھ انکے ہاتھوں کے اوپر ہے سو جو شخص بھی اس عہد و پیمان کو توڑے گا تو بس اس کا توڑنا خود اسی پر وبال ومصیبت ہوگا اور جو شخص پورا کرے گا وہ عہد جو اس نے اپنے اللہ کے ساتھ کیا ہے تو ضرور عنقریب اللہ اسکو اجر عظیم دے گا اس لئے لیے کہ عہد پیمان کو پورا کرنا بہترین خصلت اور موجب انعام ہے اور اسکے برعکس عہد توڑنا غداری ہے اور مجرمانہ کردار کا عملی ثبوت ہے جسکی سزا سے انسان ہرگز نہیں بچ سکتا عہد شکنی اور غداری کی سزا دنیا میں بھی ملے گی اور آخرت میں بھی اور اہل استقامت جس طرح آخرت میں انعام واکرام کے مستحق ہونگے دنیا میں بھی حق تعالیٰ کے انعامات سے نوازے جائیں گے۔
رسول اللہ ﷺ کی شہادت :
آنحضرت ﷺ کا تمام امتوں اور انبیاء (علیہم السلام) کے حق میں گواہ ہونا سورة نساء کی آیت ”۔ فیکف اذا جئنا من کل امۃ بشھید “۔ کی تفسیر میں وضاحت سے بیان کیا جاچکا ہے جیسا کہ احادیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے میدان حشر کا ذکر فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ہر پیغمبر اور اس پیغمبر کے ساتھ اسکی امت ہوگی امت سے جب یہ سوال ہوگا کیا، ہمارا پیغام تم تک پہنچا تو وہ انکار کریں گے انبیاء (علیہم السلام) حق تعالیٰ شانہ کے پیغام پہنچا دینے کا اقرار کریں گے تو انکو گواہ پیش کرنے کے لئے کہا جائے گا اس پر حضور اکرم ﷺ گواہی دیں گے کہ اے اللہ آپ کے پیغمبر آپ کا پیغام اور ہر حکم اپنی اپنی امتوں کو پہنچا چکے۔
تفصیل کے لئے سورة نساء کی تفسیر کی مراجعت فرمائی جائے ،
رسول اللہ خدا ﷺ سے بیعت اللہ سے بیعت ہے :
بیعت کی صورت یہ ہوتی تھی کہ لوگ حضور ﷺ کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر بیعت کرتے تھے اس کو فرمایا جارہا ہے صورۃ تو یہ رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں ڈال کر بیعت کرنا ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ یہ بیعت اللہ کے ساتھ ہے اس لئے کہ نبی کریم ﷺ تو یہ بیعت خدا ہی کی طرف سے اور اسی کی نیابت میں لے رہے ہیں اللہ کا پیغمبر ﷺ تو اللہ کے احکام ہی کی اطاعت کے لیے بیعت لے رہا ہے لہذا یہ بیعت حقیقت میں اللہ ہی سے ہے یہ وہی حقیقت ہے جس کو قرآن کریم کی اس آیت میں ارشاد فرمایا گیا ، (آیت ) ” ومن یطع الرسول فقد اطاع اللہ “۔ (نسآء) اسی طرح سورة انفال میں ارشاد فرمایا گیا۔ (آیت ) ” وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی “۔ (انفال )
یہ بیعت حدیبیہ میں اہل ایمان اور حضرات صحابہ ؓ سے تھی جو پہلے سے اصل اسلام پر بیعت کرچکے تھے لیکن آنحضرت ﷺ ایمان واسلام پر بیعت کے علاوہ جہاد پر اور کبھی کسی اور امر خیر پر بھی بیعت لیتے تھے جیسے صحیح مسلم میں حضرت جریر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے۔ بایعت رسول اللہ ﷺ علی النصح لکل مسلم ، (میں نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی اس بات پر کہ ہر مسلمان کے ساتھ اخلاص وہمدردی کروں گا )
حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے فرماتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان حضرات صحابہ سے جو حدیبیہ میں ہمراہ تھے موت پر بیعت نہیں لی (کیونکہ مرنا تو مقصود نہیں) بلکہ اس بات پر بیعت لی تھی کہ ہم میدان جہاد سے بھاگیں گے نہیں۔
امام احمد بن حنبل (رح) نے (آیت ) ” فسیؤتیہ اجرا عظیما “۔ کی تفسیر میں حضرت جابر ؓ سے یہ حدیث روایت کی ہے۔
عن جابر ؓ رسول اللہ ﷺ انہ قال لایدخل النار احد ممن بایع تحت الشجرۃ۔ (ابن کثیر )
کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا یقیناً کوئی بھی جہنم میں نہیں جائے گا ان لوگوں میں سے جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی (یعنی بیعت الرضوان میں شامل ہونے والا کوئی بھی شخص جہنم میں نہیں جائیگا )
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ حدیبیہ کے ہمسفر لوگوں میں سے نہ کسی نے بیعت کو توڑا اور نہ کوئی بیعت سے پیچھے رہا بجز ایک شخص جدبن قیس منافق کے یہ شخص منافق تھا جیسے کہ صحیح مسلم کی روایت میں وضاحت ہے جب بیعت لی جارہی تھی اور حضرت عمر فاروق ؓ نبی کریم ﷺ کا دست مبارک تھامے ہوئے تھے یہ شخص جد بن قیس اپنے بیٹھے ہوئے اونٹ کے پیٹ کے نیچے چھپ کر بیٹھا رہا بیعت الرضوان کی تفصیل انشاء اللہ العزیز آیت ”۔ لقد ؓ عن ال مومنین “۔ کے تحت آئے گی، بتوفیق اللہ تعالیٰ وعونہ۔
Ayahs 48:11–15قبائح وشنائع منافقین ومتخلفین وبیان حکم معذورین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” سیقول لک المخلفون من الاعراب ...... الی ....... عذابا الیما “۔
(ربط) آیات سابقہ میں مومنین ومیعین کا ذکر تھا اور رسول خدا ﷺ سے کئے ہوئے عہد و پیمان پر قائم رہنے والوں کی فضیلت ومدح تھی تو اب ان آیات میں منافقین اور عہد و پیمان توڑنین والوں کی شناعت و قباحت بیان فرمائی جارہی ہے اور یہ کہ اس طرح کے نفاق اور دھوکہ کا انجام کس قدر برا ہے دنیوی ذلت ورسوائی کے علاوہ عذاب آخرت بھی ہوگا البتہ حقیقتہ جو لوگ معذور ہیں ان پر اللہ کی طرف سے کوئی مواخذہ نہیں۔
علامہ آلوسی (رح) نے تفسیر روح المعانی میں ان آیات کی تفسیر و توضیح میں اس صورت حال کا ذکر فرمایا ہے جن پر ان آیات کا مضمون مرتب ہے ،
احادیث صحیحہ اور صریحہ سے بھی اسی کو ان آیات کا شان نزول بیان کیا گیا اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے 6 ھجری میں جب عمرہ کا ارادہ فرمایا تو اعراب یعنی بادیہ نشینوں اور دیہات میں بسنے والے بعض قبائل کو بھی بلایا تاکہ وہ بھی آپ ﷺ کے ہمراہ سفر میں شامل ہوجائیں آپ ﷺ کو یہ خیال تھا کہ شاید قریش کے قبائل رکاوٹ ڈالیں اور مکہ مکرمہ میں داخل نہ ہونے دیں یا ہوسکتا ہے کہ مقابلہ کی صورت پیدا ہوجائے کیونکہ غزوہ بدر اور غزوہ احزاب میں انکے بہت سے خویش و اقارب مارے گئے تھے اور یہ احتمال غالب تھا کہ جذبہ انتقام میں آبادۂ پیکار ہوجائیں اور اسی بات کو جنگ کا بہانہ نہ بنالیا جائے تو آپ ﷺ کا جو اصل مقصد عمرہ کرنے کا ہے وہ فوت ہوجائے گا اس لئے مناسب سمجھا کہ ایک کثیر جماعت آپ ﷺ کے ساتھ ہوتا کہ قریش کو ایسی جرأت ہی نہ ہو اور پھر یہ کہ ان بادیہ نشینوں کی اہل مکہ کے ساتھ کچھ قرابتیں بھی وابستہ تھیں تو یہ توقع کی کہ شاید اس لحاظ میں قریش مکہ عمرہ کرنے سے نہ روکیں بہرکیف آپ ﷺ نے جب اعاب کو طلب فرمایا تو بہت سوں نے پہلے ہی انکار کردیا اور مختلف حیلے اور بہانے کرکے بیٹھے رہے البتہ ان میں سے جو بااخلاص مومن تھے وہ آپ ﷺ کے ساتھ روانہ ہونے کے واسطے تیار ہوگئے جب مقام حدیبیہ میں پہنچے تو قریش اپنی جاہلانہ حمیت اور جوش انتقام سے مغلوب ہو کر جنگ پر آمادہ ہوگئے (جیسا کہ پہلے گزر چکا) اس موقعہ پر کافی رد وقدح کے بعد مصالحت کی گئی جو بظاہر مغلوبانہ تھی اور بہت سے صحابہ کرام کو جذبہ جہاد کے باعث یہی خیال تھا کہ بجائے کسی معاہدہ اور صلح کے مقابلہ اور جہاد کیا جائے اور حضور اکرم ﷺ کے عشاق وجانثار مخلصین ومحبین کو صدمہ بھی گزرا جس پر حق تعالیٰ نے بذریعہ وحی پر فرمایا کہ یہ معاہدہ کسی قسم کی شکست اور مغلوبی نہیں بلکہ یہ تو ” فتح مبین “ ہے اس معاہدہ میں بہت سی مصلحتیں فتوحات اور فوائد ہمارے علم میں ہیں خیبر فتح ہوگا، مکہ فتح ہوگا۔
خیبر و مکہ اور حنین کی غنیمتیں اے مسلمانو ! تمہارے ہاتھ آئیں گی تو اس طرح قلب کی شکستگی دور کی گئی اور جو صدمہ اور دل پر زخم تھا ان آیات نے اس پر مرہم کا کام دیا۔
معاہدہ حدیبیہ کے بعد جب واپسی ہوگئی اور قریش نے خود اپنے عمل سے غداری کا ثبوت دیتے ہوئے عہد و پیمان پارہ پارہ کرڈالا اور اس وجہ سے آپ ﷺ نے خیبر پر حملہ کا ارادہ فرمایا تو اللہ کی وحی سے آپ ﷺ نے یہ اعلان فرما دیا کہ خیبر میں صرف وہی جاسکے گا جو سفر حدیبیہ میں ساتھ تھا تاکہ وہ اعراب نہ جاسکیں جنہوں نے حیلے بہانے کرکے سفر حدیبیہ میں ساتھ چلنے سے جان بچائی تھی اور ساتھ ہی یہ اعلان بھی کردیا گیا کہ خیبر کی غنیمتوں میں سے صرف اس شخص کو ہی حصہ ملے گا جو حدیبیہ میں تھا ان اعراب نے ھر چند چاہا کہ ہم بھی ساتھ چلیں تاکہ ہمیں بھی مال غنیمت مل جائے اسی کا ان کلمات مبارکہ میں ذکر ہے (آیت ) ” وعدکم اللہ مغانم کثیرۃ تاخذونھا فعجل لکم ھذہ “۔ یہ غنمتیں خیبر ہی کی تھیں جو حدیبیہ کے بعد فورا ہی مسلمانوں کو ملیں اور پھر انعامات خداوندی میں اسی پر اکتفاء نہیں فرمایا گیا بلکہ مزید اور غنائم کی بھی بشارت سنا دی گئی (آیت ) ” واخری لم تقدروا علیھا “۔ سے کہ انکے علاوہ اور بھی غنیمتیں اے مسلمانو ! تم کو ملیں گی جن پر ابھی تم قادر نہیں ہوئے ہو یہ غنیمتیں روم اور فارس کی غنائم تھیں جن کا اس وقت وہم و گمان بھی نہیں کیا جاسکتا تھا تو ان آیات میں ان منافقین اعراب کو تنبیہ کی گئی جو آنحضرت ﷺ کے بلانے پر بھی حاضر نہ ہونے اور حدیبیہ کے سفر میں شریک ہونے سے عذر کردیا تو اس تنبیہ ووعید کے علاوہ ان اعراب کو یہ دھمکی بھی دی گئی کہ اچھا اب تو تم نے بہانے کرکے اپنی جان بچالی لیکن عنقریب ایک وقت آئے گا اور ایک سخت اور جنگجو اور طاقت ور قوم سے لڑنے کے لیے تم کو بلایا جائے گا اس وقت تمہاری جانثاری اور اخلاص کا امتحان ہوجائے گا اس کو تم کو ابھی سے خبر کردیہ تاکہ تم سوچ لو اور خوب غور کرلو اس وقت خیبر میں تو تم کو چلنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جاتی البتہ آئندہ جب اس جنگ جو اور طاقتور قوم سے مقابلہ ہوگا تو اس میں تم چاہوتو چلنا اس میں تم کو جہاد کے لئے نکلنے کی اجازت دے دی جائے گی ،
جس کا ذکر (آیت ) ” ستدعون الی قوم اولی باس شدید میں فرمایا گیا اور یہ طاقتور جنگ جو قوم قریش مکہ کے علاوہ ہوگی جو قوت و شوکت میں ان قوموں سے بڑھ کر ہوگی جن سے اب تک مقابلہ پیش آیا اور ظاہر اسباب میں ان پر غلبہ وفتح ممکن معلوم نہ ہوگا لیکن اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل سے بطور خرق عادت کمزور مسلمانوں کو فتح و کامیابی عطا فرمائے گا، اور اس پرشوکت و عظمت قوم یعنی فارس وروم کی حکومت وسلطنت درہم برہم کردے گا۔ اور اس زمانہ میں فارس وروم آدمی دنیا کے مالک تھے اور ساری دنیا ان سے مرعوب وہیبت زدہ تھی اور لفظ (آیت ) ” ستدعون “ یہ بتارہا ہے کہ یہ دعوت آئندہ عنقریب زمانہ میں دی جائے گی اور یہ عنوان بتا رہا ہے کہ اس دعوت کا داعی ظاہرا کوئی انسان واحد مخصوص نہ ہوگا بلکہ وہ داعی، اللہ ہوگا اور اس دعوت کو قبول کرنا اللہ کی دعوت کو قبول کرنا ہوگا اور اسکو ٹھکرانا اللہ کی دعوت کو تھکڑانا ہوگا اور تاریخ سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ روم وفارس سے قتال ومقابلہ صدیق اکبر ؓ کے دور سے شروع ہو کر حضرت عثمان غنی ؓ کے زمانہ خلافت میں پایہ تکمیل کو پہنچا تو اس نص قرآنی اور تاریخی حقیقت نے خلفائے ثلاثہ کی دعوت کو اللہ رب العزت کی دعوت قرار دیا اور ان کی دعوت کی قبولیت کو ایمان کا ثبوت شمار فرمایا گیا اور اس دعوت کے انکار کو کفر و ارتداد اور بغاوت کا درجہ دیا گیا تو ارشاد فرمایا جارہا ہے۔
اب کہیں گے آپ ﷺ سے یہ پیچھے رہ جانے والے لوگ بادیہ نشینوں یعنی جنگلی قسم کے لوگوں میں سے حیلے کے طور پر ہم کو مشغول رکھا اور مہلت نہ دی ہم کو ہمارے مالوں (کاروبار) اور گھروالوں نے تو آپ ہمارے واسطے مغفرت طلب کیجئے اس وجہ سے کہ ہم آپ ﷺ کے ساتھ سفر نہیں کرسکے کہہ رہے ہیں یہ لوگ اپنی زبانوں سے وہ بات جو انکے دلوں میں نہیں ہے جانتے ہیں کہ یہ عذر غلط ہے، نہ حقیقت میں انکو کوئی عذر ہے اور نہ وہ آپ کے ساتھ نہ جانے میں اپنے کو قصور وار سمجھ رہے ہیں کہ اس پر استغفار کی درخواست کریں یہ بھی ایک دھوکہ دینا ہے کہ انکی اس درخواست پر یہ گمان کرلیا جائے کہ واقعی یہ لوگ مجبور ہیں اور نہ جانے پر شرمندگی کے ساتھ معافی طلب کررہے ہیں آپ کہ دیجئے تو کس کو قدرت ہے تمہارے واسطے اللہ سے کسی چیز کو دفع کرنے کی، اگر اللہ چاہے کسی ضرر ومصیبت کو تمہارے لئے یا ارادہ کرے تم کو کوئی نفع پہنچانے کا یقیناً اللہ پر کسی کا بس نہیں دنیا کی کوئی طاقت اس کے کسی بھی ارادہ کو نہیں ٹلا سکتی ہر نفع ونقصان اسی کے قبضے میں ہے اور اسی کی مشیت کے تابع ہے خداوند عالم کو اس طرح غلط اعذار اور حیلوں سے کوئی دھوکہ نہیں دے سکتا بلکہ اللہ تعالیٰ تو خوب خبردار ہے ان کاموں سے جو تم کرتے ہو اے لوگو ! یہ غلط ہے کہ تم کو تمہارے کاروبار اور گھرکے لوگوں نے مہلت نہیں دی کہ تم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں نکلتے بلکہ تم نے تو یہ گمان کرلیا تھا کہ اب ہرگز نہیں لوٹیں گے رسول اور ایمان والے اپنے گھروں کی طرف کبھی بھی یہ دیکھ کر کہ مسلمان کمزور اور بےسروسامان ہیں اور قریش مکہ بڑے طاقتور اور سازوسامان سے آراستہ ہیں اور یقیناً مقابلہ کی صورت میں یہ جتنے جانے والے مسلمان ہیں سب کے سب قتل کردیئے جائیں گے اور یہ بات تمہارے دلوں میں پوری طرح رچا دی گئی تھی اور تمہاری دلی آرزو تھی حالانکہ یہ بات اور اس طرح کی تمنائیں خود تمہاری ہلاکت وتباہی کا باعث تھیں اور بیشک تم نے یہ گمان بہت ہی براگمان کیا اور تم لوگ اپنے اس کمینہ پن کے باعث تباہ ہوجانے والی قوم ہو کیونکہ یہ چیز ایسی نہیں کہ خدا تعالیٰ اس پر درگزر کرے اور تم اس کی سزا سے بچ سکو اور قانون خداوندی یہی ہیں جو بھی کوئی ایمان نہ لائے اللہ پر اور اس کے رسول پر تو بس سمجھ لینا چاہئے کہ ہم نے تیار کر رکھا ہے کافروں کے واسطے دہکتی ہوئی آگ کا عذاب جس سے ہرگز بھی کوئی نہیں بچ سکتا اور اللہ ہی کے واسطے ہے سلطنت زمینوں اور آسمانوں کی اس کے حکم کو مجال نہیں کہ کوئی ٹلا سکے جسکو چاہے وہ بخش دے اور جس کو چاہے عذاب دے اگر اپنی مہربانی سے کسی کو بخشنا چاہے تو اسکو کوئی روک نہیں سکتا اور اگر کسی کی معصیت ونافرمانی پر سزا دنیا چاہے تو اسکو کوئی ٹلا نہیں سکتا اور اللہ ہے بڑا ہی درگز کرنے والا مہربان کہ بندوں کے ہر گناہ پر انھیں سزا نہیں دیتا بلکہ درگزر ہی فرماتا ہے یہ اسکی مہربانی ہے اور رحمت ہے ورنہ قانون عذاب کا تقاضا سزا کا نفاذ ہونے لگے تو کوئی بھی عذاب سے نہیں بچ سکتا بلکہ نوبت یہ آجائے (آیت ) ” ولو یؤاخذ اللہ الناس بما کسبوا ما ترک علی ظھرھا من دآبۃ ولکن یؤخرھم الی اجل مسمی “۔ تو وہ محض اپنی شان رحیمی سے ایسے عذاب سے درگزر فرماتا ہے۔ 1
حاشیہ (ان کلمات سے مضمون عذاب کے ساتھ حق تعالیٰ شانہ کے وصف غفور رحیم کی مناسبت اور لطافت کو ظاہر کرنا مقصود ہے۔ )
اس وقت تو یہ اعذار اور حیلے کر کے بیٹھے رہے مگر اس کے بعد اب عنقریب یہ پیچھے رہنے والے کہیں گے جب اے مسلمانو ! تم چلو گے غینمتوں کے حاصل کرنے کے لئے چھوڑ دو ہمیں اپنے ساتھ چلنے سے نہ روکو ہم بھی چلتے ہیں تمہارے ساتھ چاہتے ہیں کہ بدل دیں اللہ کا کہا ہوا اور اس کا یہ فیصلہ ہے کہ جو اعراب جھوٹے ہیں اعذار پیش کرکے حدیبیہ کے سفر سے رہ گئے اب وہ آئندہ خیبر کے سفر میں شریک نہ ہوسکیں گے ان لوگوں کو چونکہ خیبر میں فتح کی توقع اور مال غنیمت کا لالچ تھا تو اس سفر میں ساتھ چلنے کے خواہش مند تھے جب کہ سفر حدیبیہ میں خطرہ غالب تھا اور ظاہر اسباب سے انکے دلوں میں یہی رچا ہوا تھا کہ مسلمان بچ کر واپس نہیں آسکیں گے تو اس میں چلنے کے واسطے تیار نہ ہوئے اس لئے اے ہمارے پیغمبر ﷺ ان سے کہہ دو تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چلو گے یونہی فیصلہ کردیا ہے اللہ نے تمہارے واسطے پہلے ہی سے لہذا اب یہ تمہارے لیے ممکن نہیں کہ تم اس سفر میں روانہ ہو اور غزوہ میں شرکت کرو تو اس پر یہ لوگ کہنے لگیں گے نہیں یہ بات نہیں بلکہ تم لوگ تو ہم پر حسد کرتے ہو کہ ہمارا کچھ فائدہ ہوجائے اور بوجہ حسد تمہیں یہ برداشت نہیں کہ مال غنیمت میں ہمیں بھی کچھ حصہ مل جائے اس لئے یہ کہہ رہے ہو کہ خدا نے ہمارے جانے کو منع کردیا ہے حالانکہ ہمارے جانے کی کوئی ممانعت نہیں اور نہ ہی اس کی کوئی وجہ تو اس طرح یہ منافقین خدا کے فیصلہ اور بات کو بدلنا چاہتے ہیں کچھ نہیں یہ تو سمجھتے ہی نہیں کسی بھی بات کو مگر بہت کم نہ انکو یہ شعور ہے کہ انکے جھوٹ کو اور فریب کو مسلمان اور رسول خدا ﷺ خوب سمجھ رہے ہیں اور نہ ہی انکو یہ احساس ہے کہ ان کی یہ حرکتیں ان کے کمینہ پن اور مال کی حرص و لالچ کو عیاں کررہی ہیں عجیب خود فریبی میں مبتلا ہیں اپنی عیاری سے یہ چاہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو دھوکہ میں رکھیں حالانکہ وہ خود دھوکہ میں مبتلا ہیں کہہ دو اے ہمارے پیغمبر ان پیچھے رہنے والے گنواروں سے اچھا جب تم اب سفر خیبر میں نکلنے کا شوق ظاہر کررہے ہو تو عنقریب تمہارا یہ شوق اور جذبہ ظاہر ہوجائے گا تو سن لو عنقریب تم کو بلایا جائے گا ایک ایسی قوم کی جانب جو بڑی ہی قوت و شوکت والی ہوگی تم ان سے لڑو گے یا وہ مسلمان ہوجائیں گے یعنی از خود مرعوب ہو کر مطیع وفرمانبردار ہوجائیں گے یا اس کے بعد تم قتال کرلو پھر مغلوب ومفتوح ہوں پھر اگر تم اطاعت کرلو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ایمان واخلاص کے ساتھ تو اللہ تم کو بہتر بدلہ دے گا اور اگر تم روگردانی کرو گے جیسا کہ تم پہلے روگردانی اور نافرمانی کرچکے تو تم کو عذاب دے گا نہایت ہی درد ناک عذاب یہ وعید وتنبیہ اور تہدید ان منافقین اور جھوٹوں کے واسطے ہے جو غلط اعذارپیش کرکے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ غداری کرتے ہیں، لیکن جو لوگ واقعۃ معذور ومجبور ہیں سفر کی ان میں قدرت ہی نہیں ان کے متعلق قانون خداوندی یہ ہے کہ نہیں ہے نابینا پر کوئی حرج اور نہ ہی کوئی حرج ہے کسی لنگڑے معذور انسان پر اور نہ بیمار پر کوئی حرج ہے اگر یہ لوگ سفر جہاد پر نہ نکلیں ان پر نہ کوئی مواخذہ ہے اور نہ یہ اسکے پابند ہیں کہ خواہ کچھ بھی مشقت و تکلیف ہو یہ ضرور نکلیں اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرے گا اللہ اسکو باغات (جنتوں) میں داخل کریگا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور جو شخص روگردانی ونافرمانی کرے گا اس کو درد ناک عذاب دے گا۔
سفر حدیبیہ میں شریک نہ ہونے والوں کی آزمائش اور سزا :
ان آیات مبارکہ میں جن منافقین کا حدیبیہ کے سفر سے تخلف کرنے اور پیچھے رہ جانے کا ذکر فرمایا گیا ان پر بطور تہدید کے یہ واضح کردیا گیا کہ ایسے منافقوں کے لیے بطور سزا حق تعالیٰ کی طرف سے دو چیزیں مقدر کی گئیں۔
ایک تو غزوہ خیبر (جس میں مال غنیمت ملنے کی توقع تھی) میں شرکت کی ممانعت جس کے نتیجہ میں مال و دولت سے محرومی ایسے منافقوں اور مال کے حریص لوگوں کے واسطے تکلیف دہ چیز اور حسرت وملال کا باعث بنی دوسری سزا یہ طے کی گئی (آیت ) ” ستدعون الی قوم “۔ کہ ایسی قوم کے مقابلہ اور جہاد کی طرف ان کو بلایا جائے گا جو بڑی قوت اور شوکت والی ہوگی۔
علامہ آلوسی (رح) فرماتے ہیں، (آیت ) ” قوم اولی باس شدید “۔ میں لفظ قوم نکرہ ہے اور نکرہ ظاہر ہے کہ غیر معین اور غیر معروف ہوتا ہے تو ان الفاظ کی دلالت سے یہ متعین ہوگیا کہ وہ قوم قریش کے علاوہ ہوگی جس سے تم واقف نہ ہوگے، جیسا کہ گذشتہ سطور میں بیان کیا گیا کہ یہ قوم فارس اور روم تھی اور انکے قتال کی طرف دعوت دینے والے حضرات خلفائے ثلثہ تھے اور آنحضرت ﷺ کے زمانے میں اس کا ظہور نہ ہوا تھا کیونکہ آپ ﷺ کے زمانہ میں حدیبیہ کے فورا بعد غزوہ خیبر ہوا اس میں تو واضح طور پر ممانعت نازل ہوگئی (آیت ) ” قل لن تتبعونا “۔ (کہہ دو کہ ہرگز ہمارے ساتھ نہ چلو) اس کے بعد فتح مکہ اور غزوہ حنین پیش آیا تو یہ دونوں واقعات بھی اس پیش گوئی کا مصداق نہیں کیونکہ یہ قومیں بھی قریش اور انکے لواحق میں تھے نیز حنین میں مقابلہ ہوازن سے پیش آیا اگرچہ وہ لوگ بڑے سخت تیر انداز تھے مگر وہ نہ تو تعداد میں زائد تھے اور نہ ہی قوت و شوکت والے تھے پھر غزوہ تبوک پیش آیا وہ بھی اس کا مصداق نہیں ہوسکتا اس لیے کہ تبوک میں تو قتال کی نوبت ہی پیش نہیں آئی حالانکہ الفاظ آیت یہ ہیں (آیت ) ” تقاتلونھم اویسلمون “۔ کہ اس جنگ کا انجام یہ ہوگا کہ حریف یا تو مرعوب ہو کر اسلام لے آئیگا یا جنگ و قتال کی نوبت آئی تو مفتوح ومغلوب ہوگا تو غزوہ تبو میں اس کی نوبت ہی نہیں آئی الغرض ان وجوہ سے بھی متعین اور ثابت ہوا کہ یہ واقعہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے بعد پیش آیا اور یہ مقابلہ فارس وروم ہی کے ساتھ تھا۔
حضرت علی ؓ کے زمانہ میں پیش آنے والے مقابلہ کی حقیقت :
حضرت شاہ ولی اللہ قدس اللہ سرہ العزیز نے ” ازالۃ الخفاء “ میں اس آیت پر تفصیل سے کلام کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ وعدہ حضرت عثمان غنی ؓ کے دور خلافت میں پورا ہوگیا خلافت عثمانی کے بعد اگرچہ حضرت علی ؓ کے دور خلافت میں بھی قتال اور مقابلہ کی صورت پیش آئی لیکن انہوں نے جس قتال کی طرف لوگوں کو دعوت دی وہ مسئلہ خلافت کو مضبوط کرنے کے لئے تھا اور اس گروہ کے مقابلہ میں جو خود مسلمانوں میں سے تھا ان کو مغلوب کرنے اور شکست دینے کے واسطے حضرت امیر معاویہ ب اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ مقابلہ ہو ایہ مقابلہ نہ تو کفر کے مقابلہ میں تھا اور نہ اس میں حضرت علی ﷺ نے اعراب کو دعوت دی تھی۔
بعض روایات صحیحہ سے یہ ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت امیر کے حق میں یہ فرمایا تھا، یا علی بانک لتقاتل علی تاویل القرآن کما قاتلت علی تنزیلہ “۔ کہ اے علی ؓ تم قتال کرو گے قرآن کی تاویل پر یعنی اس کی مراد کی تحریف کرنے والوں سے مقابلہ کرو گے جیسا کہ میں نے اس کی تنزیل پر لوگوں سے قتال کیا یعنی اس پر ایمان لانے کے واسطے ان لوگوں سے قتال کیا اس پر ایمان نہیں لائے تھے اور یہ امر قطعی ہے کہ تاویل پر قتال ومقابلہ اسی سے ہوسکتا ہے اور اسی صورت میں کہ وہ گروہ اصل قرآن کو تو مانتا ہو مگر اس کی مراد میں تحریف وتاویل کرتا ہو اور تنزیل قرآن پر قتال کافروں ہی سے ہوسکتا ہے جو نزول قرآن کے منکر ہوں تو قتال علی التاویل اور قتال علی التنزیل دونوں جمع نہیں ہوسکتے الغرض وہ جنگ جو اور طاقت ورقوم جس کے ساتھ قتال کے لئے اعراب کو بلانے کا ذکر آیت مبارکہ میں ہوا اس کا ظہور خلفائے ثلاثہ ؓ کے زمانہ میں ہوا اور اس سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ وہ خلیفہ راشد تھے ان کی دعوت کو قبول کرنا قرآنی حکم اور امر لازم تھا اور ان کی دعوت کو قبول کرنے والا نص قرآنی سے مستحق اجر وثواب تھا اور جنہوں نے ان کے حکم سے انحراف کیا ہو مستوجب عذاب ہوئے۔ 1
حاشیہ (خطبہ صدیق اکبر ؓ بروایت واقدی (رح)، مراجعت فرمائیں ازالۃ الخفاء جلد اول طبع قدیم۔ 12)
شیعہ حضرات اپنے ائمہ کے معصوم ہونے کا دعوی کرتے ہیں حالانکہ اس کے واسطے کوئی ادنی سے ادنی اور ضعیف بھی روایت و دلیل نہیں اس کے بالمقابل ان حضرات صحابہ اور اصحاب حدیبیہ کے بارے میں جرح وتنقید بلکہ طعن وتنقیص کرتے ہیں جن کے واسطے قرآن کریم نے صفت تقوی کو لازم فرمادیا گویا ان حضرات کے واسطے وصف تقوی لازمہ حیات ہوا ان کے ایمان و فضائل میں ایک نہیں متعدد آیات موجود ہیں۔
قرآنی پیش گوئی کے مصداق خلفائے ثلثہ ؓ تھے :
حضرت شاہ ولی اللہ قدس سرہ ایک اور موقعہ پر فرماتے ہیں۔
حضرت علی مرتضی ؓ کا زمانہ مبارک اس پیشن گوئی کا مصداق نہیں ہوسکتا بچندوجوہ اول یہ کہ حضرت علی ؓ کے زمانہ میں تین لڑائیاں ہوئیں۔ (1) جمل۔ (2) صفین ، (3) نہروان، یہ تینوں لڑائیاں کلمہ گویاں اسلام سے تھیں (آیت ) ” او یسلمون “۔ اس پر صادق نہیں آتا یہ لڑائیاں تو محض مسلمان باغیوں کو شکست دینے کے لئے تھیں (2) دوم یہ کہ تینوں لڑائیاں عربوں ہی سے تھیں (3) سوم یہ کہ کسی روایت میں یہ مضمون نہیں ہے کہ ان بدؤوں کو حضرت علی المرتضی ؓ نے دعوت جہاد دی ہو۔
بنی امیہ نے بھی کبھی حجاز ویمن کے بدوؤں کو دعوت جہاد نہیں دی جیسا کہ کتب تورایخ شاہد ہیں باقی رہے حضرات خلفائے ثلاثہ ؓ تو واقعات تاریخیہ بتلا رہے ہیں کہ انکے عہد میں دنیا کی دو بڑی سلطنتوں یعنی روم وایران سے لڑائی ہوئی اور رومیوں اور ایراینوں کا (آیت ) ” قوم اولی باس شدید “۔ ہونا یقیناً ناقابل انکار ہے نیز یہ بھی ثابت ہے کہ ان تینوں خلفاء ؓ نے ان لڑائیوں میں حجاز ویمن کے بدؤوں کو دعوت دی لہذا وہ بلانے والے قطعا یہ تینوں خلفاء ؓ خصوصا حضرات شیخین ؓ ہیں پیشن گوئی کے تمام اجزاء ان پر منطبق ہیں اور جب ان کا داعی جہاد ہونا اور انکی دعوت کی اطاعت کا فرض ہونا ثابت ہوگیا تو خلیفہ برحق ہونے میں کیا کلام ہوسکتا ہے۔
اگر باوجود اس پیشین گوئی کے تمام اجزاء کے منطبق ہوجانے کے کوئی شخص ان تینوں خلفاء ؓ کو اس آیت کا مصداق نہ مانے اس کا لازم نتیجہ یہ ہے کہ آیت کی پیشین گوئی پوری نہ ہو اور کلام الہی کی تکذیب ہوجائے۔ نعوذ باللہ۔
اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے حضرات خلفائے ثلاثہ ؓ کی حقیقت خلافت بیان فرمائی ہے حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی (رح) نے بھی اس آیت کی عمدہ تقریر تحفہ اثناء عشریہ میں لکھی ہے مگر حضرت مولانا الشیخ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) نے ازالۃ الخفاء میں جو تقریر اس آیت کی لکھی ہے وہ انھیں کا حصہ تھی میں اس موقع پر ازالۃ الخفاء کی وہ پوری تقریر ہدیہ ناظرین کرتا ہوں اور اسی کو خاتمہ بیان بناتا ہوں میں نے جو کچھ لکھا وہ سب ازالۃ الخفاء میں ہے۔
شکر لطف تو چمن چوں کند اے ابر بہار
کہ اگر خار وگل ایں ہمہ آوردہ تست۔