47. Surah Muhammad

محمدMuhammad · 38 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 47:1–6

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:1 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا اور (اوروں کو) خدا کے راستے سے روکا خدا نے انکے اعمال برباد کر دئیے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۙ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ اَصْلَحَ بَالَهُمْ Open ayah 47:2 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور جو (کتاب) محمد ﷺ پر نازل ہوئی اسے مانتے رہے اور وہ ان کے پروردگار کی طرف سے برحق ہے ان سے انکے گناہ دور کر دئیے اور انکی حالت سنوار دی

ذٰلِكَ بِاَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَ اَنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمْثَالَهُمْ Open ayah 47:3 in the Quran reader

یہ (حبط اعمال اور اصلاح حال) اسلیے ہے کہ جن لوگوں نے کفر کیا انہوں نے جھوٹی بات کی پیروی کی اور جو ایمان لائے وہ اپنے پروردگار کی طرف سے (دین) حق کے پیچھے چلے اسی طرح خدا لوگوں سے انکے حالات بیان فرماتا ہے

فَاِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَثْخَنْتُمُوْهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ١ۙۗ فَاِمَّا مَنًّۢا بَعْدُ وَ اِمَّا فِدَآءً حَتّٰى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا١ۛ۫ۚ۬ ذٰؔلِكَ١ۛؕ وَ لَوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَانْتَصَرَ مِنْهُمْ وَ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَاۡ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَنْ یُّضِلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:4 in the Quran reader

جب تم کافروں سے بھڑ جاؤ تو ان کی گردنیں اڑا دو یہاں تک کہ جب ان کو خوب قتل کر چکو تو (جو زندہ پکڑے جائیں انکو) مضبوطی سے قید کرلو پھر اس کے بعد یا تو احسان رکھ کر چھوڑ دینا چاہیے یا کچھ مال لے کر یہاں تک کہ (فریق مقابل) لڑائی (کے) ہتھیار (ہاتھ سے) رکھ دے یہ (حکم یاد رکھو) اور اگر خدا چاہتا تو (اور طرح) ان سے انتقام لے لیتا لیکن اس نے چاہا کہ تمہاری آزمائش ایک (کو) دوسرے سے (لڑوا کر) کرے اور جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کے عملوں کو ہرگز ضائع نہ کرے گا

سَیَهْدِیْهِمْ وَ یُصْلِحُ بَالَهُمْۚ Open ayah 47:5 in the Quran reader

(بلکہ) انکو سیدھے راستے پر چلائے گا اور ان کی حالت درست کرے گا

وَ یُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ Open ayah 47:6 in the Quran reader

اور ان کو بہشت میں جس سے ان کو شناسا کر رکھا ہے داخل کرے گا

تنبیہ وتہدید برکفر و انکار منکرین وبشارت برائے اہل ایمان ومطیعین “۔ قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ ...... الی ..... عرفھا لھم “۔ (ربط) گذشتہ سورت کا اختتام مجرمین کی ہلاکت وتباہی کے واقعات بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا تھا اور مقصود اہل مکہ کو تنبیہ تھی کہ وہ ان واقعات سے عبرت حاصل کریں ساتھ ہی نبی کریم ﷺ کو تسلی بھی دینا تھا کہ آپ ﷺ اللہ کی مدد اور رحمت کا انتظار کریں حق بہرحال غالب ہوگا تو اب اس سورت کی بتداء کافروں اور منکروں کے اعمال کی بربادی کے بیان سے کی جارہی ہے اور یہ کہ حق اور باطل کا فرق اس دنیوی زندگی میں بھی انسان کے سامنے آکر رہے گا اور آخرت میں بھی باطل پرستوں کی تباہی اور عذاب اور اہل حق کی کامیابی ونجات قطعی اور یقینی ہے۔ ان مضامین کے ساتھ یہ بھی فرمایا جارہا ہے کہ حق اور باطل کا معرکہ اس کا متقاضی ہے کہ اہل حق اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے باطل سے جہاد کرنے کے واسطے تیار ہوجائیں جہاد کا حکم ایک امتحان ہے جس کے ذریعہ مومنین ومطیعین کا ایثار واخلاص اور قربانی کا جذبہ معلوم ہوگا اور ساتھ ہی باطل پر حق کی فتح و کامیابی بھی تاریخ عالم میں ایک حقیقت بن کر دنیا کی نظروں میں آئے گی ، فرمایا جن لوگوں نے کفر کیا اور دوسروں کو اللہ کے راستہ سے روکا انہوں نے اپنے اعمال برباد کردیئے اگرچہ قبل از اسلام انکے اعمال کتنے ہی بہتر ہوں سخاوت کی ہو غریبوں کی اعانت وامداد کی ہو یا خدمت خلق کی ہو جیسے کہ بہت سے شریف الطبع لوگ جاہلیت میں کرتے تھے لیکن جب انہوں نے آنحضرت ﷺ کا دین اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا تو سب نیکیاں اور خوبیاں برباد کردیں اور جو لوگ ایمان لائے اور نیکی کے کام کئے اور مانا اس کتاب یا دین کو جو نازل کیا گیا محمد ﷺ پر اور وہی تو حق ہے انکے پروردگار کی طرف سے تو اللہ نے انکی برائیاں مٹا دیں جو بھی کچھ انہوں نے جاہلیت کے زمانہ میں کرلی ہوں اور درست کردیا ان کا حال جیسے کہ کسی بیمار کی بیماری دور ہوگئی تو اب وہ اپنے نظام بدن کو محسوس کرے گا کہ درست ہوگیا ہے تو کفر کا مرض دور ہونے سے اعمال واحوال کی درستگی ہونی ہی چاہئے یہ اس وجہ سے کہ کافروں نے پیروی کی باطل کی اور ایمان والوں کے واسطے انکی مثالیں کہ منکریں ونافرمانوں کے واسطے انکے نمونے ہیں جنکے نقش قدم پر چل کر بعد والے بھی گمراہ ہوتے ہیں اور اہل ایمان ومطیعین ایمان ویقین والوں کے واسطے نمونہ ہوتے ہیں جن کی پیروی کرتے ہوئے وہ نجات و کامیابی کے مستحق ہوتے ہیں اور یہی وہ معیار ہے جس پر اعمال کی بربادی یا احوال کی اصلاح موقوف ہے عالم دنیا میں جب حق تعالیٰ نے حق اور باطل کا مقابلہ مقدر فرمادیا ہے تو لامحالہ اہل حق پر باطل کے مقابلہ میں جہاد کی ذمہ داری عائدہو گی توا یسی صورت میں بارگاہ رب العزت سے ا ہل ایمان کو فرمایا جا رہا ہے تو اے ایمان والوں ! جب تم میدان جہاد میں مقابلہ کرو کافروں سے تو مارو انکی گردنیں یہاں تک کہ جب انکو خوب قتل کر چکو تو باقی ماندہ کافروں کو مضبوط باندھ لو قید و بند سے پھرا سکے بعد یا تو احسان کرو اور انکو رہا کردو بغیر کسی فدیہ کے یا معاوضہ لے لو یہاں تک کہ لڑائی اپنے ہتھیار رکھ دے یعنی قتل و خونریزی اور ضرب وقید کا سلسلہ جاری رہے تاآنکہ لڑائی اپنے ہتھیار اتار کر رکھ دے اور قتال موقوف ہوجائے یہی ہے فیصلہ جس کو خوب توجہ اور غور سے سن لینا چاہئے اور اگر اللہ چاہتا تو خود ہی ان سے بدلہ لے لیتا اور قوم عاد اور ثمود کی طرح ہلاک کردیتا اسکی ضرورت ہی نہ تھی کہ جہاد و قتال کا حکم دیا جاتا لیکن یہ اس لئے کہ امتحان لے اور جانچے اللہ تعالیٰ تم میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ اور جو لوگ جہاد کے دوران اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے تو اللہ انکے اعمال ضائع نہیں کرے گا انکی راہنمائی فرمائے گا جنت کے منازل ومحلات کی طرف اور ان کا حال بھی بہتر فرمائے گا ہر طرح کی نعمتیں اور کرامتیں عطا فرما کر بالخصوص اپنی رضا اور خوشنودی کے انعام سے بہی جو ہر نعمت اور لذت سے بڑھ کر ہے اس لئے اگر کچھ لوگ اللہ کی راہ میں شہید ہوجائیں تو یہ نہ سمجھیں کہ انکی جان ضائع ہوگئی بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کا بہترین اور اعلی عوض حاصل کرلیا ، اور داخل فرمائے گا ان شہیدوں کو جنت میں جو انکو معلوم کرادی ہے اس کے احوال اور نعمتوں کا قرآن کریم اور رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ پورا علم کرا دیا ہے اور نیز شہید فی سبیل اللہ کو دنیا سے گزرنے سے قبل اللہ رب العزت اس کا وہ مقام بھی دکھا دیتا ہے جو اللہ نے اس کو آخرت میں عطا کرنے کا فیصلہ فرمایا ہوتا ہے چناچہ جب جنتی جنت میں داخل ہوں گے تو ہر ایک اپنے ٹھکانے کو اس طرح پہچانتا ہوگا جیسے دنیا میں ہر ایک کو اپنا گھر معلوم ہوتا ہے ، حضرت عبداللہ بن عباس ؓ (آیت ) ” عرفھا لھم “۔ کی تفسیر میں یہ بھی فرمایا کرتے تھے (آیت ) ” طیبھا لھم “۔ طیب کے معنی خوشبو کے ہیں یعنی وہ مکانات جنتیوں کے واسطے خوشبوؤں سے مہکائے ہوئے ہوں گے۔ میدان جہاد میں مسلمانوں کو ثابت قدمی اور قوت کے ساتھ مقابلہ کا حکم : آیتہ مبارکہ (آیت ) ” فاذا لقیتم الذین کفروا “۔ میں مسلمانوں کو کافروں کے مقابلہ میں جہاد کا حکم اور کفر وشرک کی طاغوتی طاقتوں کی سرکوبی کی تاکید کی جارہی ہے ابتداء میں حق اور باطل کا مقابلہ ذکر فرمایا گیا تو ظاہر ہے کہ اس کا مقصد یہی ہے کہ اہل حق اور مومنین کو ضروری ہے کہ کفر کی شوکت اور غلبہ پامال کرنے کے واسطے جہاد کے لئے اٹھ کھڑے ہوں اور کافروں سے خوب مقابلہ اور مقاتلہ کریں اور ان کی گردنیں اڑائیں اور ان مجرمین کا خون بہائیں تاآنکہ انکی قوت اور حوصلے شکستہ ہوجائیں اور مسلمانوں سے مقابلہ کرنے کی سکت باقی نہ رہے کافروں کے عناد اور مسلمانوں سے مقابلہ میں جو ایک طویل عرصہ تک ان کی ظالمانہ جدوجہد کا سلسلہ رہا کا علاج بجز اس کے کچھ نہیں کہ اب مسلمان انکی یہ طاغوتی طاقتیں پامال کرنے کے لئے جہاد کریں اور جب تک لڑائی ختم نہ ہوجائے اسکے علاوہ اور کسی چیز کی گنجائش نہیں ہاں جب لڑائی ختم ہوجائے اور کافروں کے خون بہ جائیں اور وہ مسلمانوں کے سامنے عاجز و درماندہ ہوجائیں تو پھر بیشک اختیار ہے کہ احسان کرکے بغیر کسی فدیہ اور معاوضہ کے چھوڑ دیا جائے یا فدیہ لے کررہا کرجائے حاصل یہ کہ اعلاء کلمۃ اللہ اور کفر کے غلبہ کو ختم کرنے کے لیے جیسے کہ ارشاد ہے (آیت ) ” وقاتلوھم حتی لا تکون فتنۃ ویکون الدین کلہ للہ “۔ خوب قتال کیا جائے اور اعداء اللہ کی جب تک خوب خونریزی نہ ہوجائے قتال ترک نہ کیا جائے یہاں تک کہ حق کی ہیبت اور رعب کافروں کے دلوں پر اس قدر طاری ہوجائے کہ وہ ہتھیارڈال دیں اور آئندہ کبھی مسلمانوں کے مقابلہ میں سراٹھانے کی ہمت بھی نہ کرسکیں ، غزوۂ بدر کے موقعہ پر اعداء اللہ کے اثخان یعنی خوب خون ریزی اور حوصلہ شکستگی سے قبل فدیہ لینے کا فیصلہ کرلیا گیا تھا قبل اسکے کہ کوئی واضح حکم خداوندی نازل ہوتا بارگاہ خداوندی سے عتاب نازل ہوا (آیت ) ” ماکان لنبی ان یکون لہ اسری حتی یثخن فی الارض “۔ جس کی تفصیل سورة انفال میں گزر چکی ہے کہ غزوۂ بدر میں کافروں کے مقابلہ میں مسلمانوں کے غالب آجانے کے بعد کفار قریش میں سے جب ستر آدمی مسلمانوں کی قید میں آئے تو آنحضرت ﷺ نے ان کے بارے میں صحابہ کرام ؓ سے مشورہ کیا کہ کیا کیا جائے صدیق اکبر ؓ نے رائے دی یا رسول اللہ یہ لوگ آپ ﷺ کے خویش و رشتہ دار ہیں اگر فدیہ لے کر انکو چھوڑ دیا جائے تو ممکن ہے کہ اس احسان ونرمی سے یہ لوگ ایمان کی طرف مائل ہوجائیں اور یہ حسن سلوک انکی ہدایت کا ذریعہ بن جائے اور ساتھ ہی فدیہ کی وجہ سے تنگ دست اور بےسہارا مسلمانوں کی بھی کچھ اعانت ہوجائے اور یہ مال فدیہ آئندہ مسلمانوں کے لئے جنگی قوت میں اضافہ کا باعث بھی ہوسکتا ہے۔ عمر فاروق ؓ نے اس رائے سے اختلاف کیا اور کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ یہ لوگ ائمہ الکفر اور کافروں کے سرغنہ اور سردار ہیں انکی گردنیں اڑا دیجئے تاکہ کفر کی طاقت پارہ پارہ ہوجائے سعد بن معاذ ؓ نے بھی اس کی موافقت کی آنحضرت ﷺ نے اپنی طبعی رأفت ومہربانی اور نرم دلی کے جذبہ سے فدیہ لے کر رہا فرمانا قبول فرما لیا تھا جس پر وہ عتاب خداوندی نازل ہوا تھا تفصیل کے لئے ملاحظہ فرمائیں سورة انفال تفسیر روح المعانی ابن کثیر اور معارف القرآن حضرت والد صاحب (رح)۔ ان آیات میں کون سی آیت کس آیۃ کے لئے ناسخ ہے ؟ اسکی تحقیق کیلئے تفسیر احکام القرآن قاضی جصاصرحمۃ اللہ علیہ کی مراجعت فرمائیں۔ بعض ائمہ حنفیہ سے منقول ہے کہ (آیت ) ” فاما منا بعد واما فدآء “۔ سورة برأت کی آیت ”۔ فاذا انسلخ الاشھر الحرم فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم وخذوھم واحصروھم واقعدوا لھم کل مرصد “۔ سے منسوخ کردی گئی بعض روایات میں عبداللہ بن عباس ؓ اور ضحاک ؓ سے بھی ایسی طرح نقل کیا گیا لیکن اکثر ائمہ مفسرین نسخ کے قائل نہیں ہیں اس موقعہ پر ان آیات میں باہم کوئی تعارض اور مفہوم کا کوئی اختلاف نہیں اور اس امر کی ضرورت نہیں ہے کہ کسی آت کو منسوخ قرار دیا جائے (آیت ) ” فاما منا بعد و اما فدآء “۔ کا حکم جب کہ اشخان وخون ریزی کے بعد ہے تو لامحالہ یہ نوبت (آیت ) ” فاقتلوا المشرکین “۔ کے بعد ہی آئے گی ، اور غزوہ بدر میں چونکہ اس وقت تک کفر کی شوکت پامال نہ ہوئی تھی اس وجہ سے فدیہ قبول کرنا مشیت خداوندی کے مطابق نہ ہوا تھا (واللہ اعلم بالصواب ) شیخ الاسلام حضرت شیخ عثمانی (رح) اپنے فوائد میں تحریر فرماتے ہیں حق و باطل کا معرکہ تو رہتا ہی ہے جس وقت مسلمانوں اور کافروں میں جنگ ہوجائے تو مسلمانوں کو پوری مضبوطی اور بہادری سے مقابلہ کرنا چاہئے باطل کا زور جب ہی ٹوٹے گا جب بڑے بڑے شریر مارے جائیں اس لئے ہنگامہ کار زار میں کسل وسستی وبزدلی اور توقف وتردد کو راہ نہ دو شمنان خدا کی گردنیں مارنے میں کچھ باک نہ کرو کافی خون ریزی کے بعد جب تمہاری دھاک بیٹھ جائے اور ان کا زور ٹوٹ جائے اس وقت قید کرنا بھی کفایت کرتا ہے کما قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ماکان لنبی ان یکون لہ اسری “۔ الخ یہ قید وبند ممکن ہے ان کے لئے تازیانہ عبرت کا کام دے اور مسلمانوں کے پاس رہ کر انکو اس بات کا بھی موقعہ ملے گا کہ وہ اپنی اور مسلمانوں کی حالت کا مواز نہ کریں اور جانچیں اور تعلیمات میں غور کرنے کا بھی موقعہ ملے گا اس طرح ہوسکتا ہے کہ شدہ شدہ حق وصداقت کا راستہ اختیار کرلیں یا مصلحت سمجھو تو بدون معاوضہ کے رہا کردو تو اس صورت میں ممکن ہے کہ بہت سے افراد تمہارے اس احسان سے اور خوبی اخلاق سے متاثر ہو کر تمہاری طرف راغب ہوں اور تمہارے دین سے محبت کرنے لگیں اور خود ہی مشرف باسلام ہوجائیں یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان قیدیوں کے عوض ان مظلوم مسلمانوں کو رہا کرایا جاسکے جو کفار کے قید وبند میں مبتلا اور ظلم وستم کا نشانہ بنے ہوتے ہیں تو یہ متعدد فوائد اس میں ہیں بہرحال اسیران جنگ کو ان کے وطن واپس کردینے کی دو ہی صورتیں ہیں معاوضہ میں چھوڑنا یا بلامعاوضہ رہا کردینا ان میں جو صورت امام کے نزدیک اصلح ہو وہ اختیاری کرسکتا ہے حنفیہ کے ہاں بھی فتح القدیر اور شامی وغیرہ میں اسی طرح کی روایات موجود ہیں ہاں اگر قیدیوں کو انکے وطن واپس کرنا مصلحت نہ ہو تو پھر تین صورتیں ہیں، ذمی بنا کر بطور رعیت کے رکھنا یا غلام بنا لینا یا قتل کردینا احادیث سے قیدی کو قتل کرنے کا ثبوت صرف خاص خاص حالات میں ملتا ہے جبکہ وہ کسی ایسے سنگین جرم کا مرتکب ہوا ہو جسکی سزا قتل سے کم نہیں ہوسکتی تھی البتہ غلام یا رعیت بنا کر رکھنے میں کوئی رکاوٹ نہیں (فوائد عثمانی ) اس سورت کا موضوع چونکہ مومنین مخلصین اور منافقین ومنکرین کے درمیان تمیز قائم کرنا اور انکی علامات ونشانیاں اس طرح ظاہر کرنا ہے کہ اہل ایمان کرنا ہے اہل ایمان اور منافق کے درمیان کسی طرح کا التباس باقی نہ رہے تو اس ضمن میں اشارۃ خلافت خاصہ اور اس کے لوازم کا بھی اظہار ہورہا ہے کیونکہ ایک طرف بیان فرمایا جارہا ہے (آیت ) ” الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ “۔ سے کافروں اور اللہ کے راستہ سے روکنے والے فریق کا تو دوسری طرف (آیت ) ” والذین امنوا وعملو الصالحات “۔ سے دوسرے فریق مومنین مخلصین کا ذکر ہے اور یہ دونوں فریق رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں موجود تھے یہ الفاظ آیات انکے وجود پر دلالت کررہے ہیں آیت کا عموم اگرچہ ہر مسلمان اور کافر و منافق کو شامل ہے مگر بلحاظ نزول اشارہ اور تعریض ہے کہ یہ دونوں گروہ نزول آیت کے وقت موجود تھے اس کے بعد آیۃ مبارکہ (آیت ) ” ان تنصروا اللہ ینصرکم “۔ اس امر پر دلالت کررہی ہے کہ مسلمانوں کے گروہ کو چاہئے کہ وہ کافروں سے جہاد و قتال کرے اور حق کی حمایت ونصرت کے واسطے مستعد ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اس کی بدولت انکو دنیا میں مظفر ومنصور فرمائے گا اور آخرت میں نجات ومغفرت اور جنت کی بلند وبالا نعمتوں سے سرفراز فرما کر آخرت کا بھی اعزاز بخشے گا جس کے لئے (آیت ) ” ان اللہ یدخل الذین امنوا وعملوا الصالحات جنات تجری من تحتھا الانھار “۔ سے فرمائی جارہی ہے گویا واضح اعلان ہورہا ہے کہ دنیا میں فتح ونصرت حاصل ہوگی اور آخرت میں جنت کی نعمتوں کا وعدہ پھر اس کے بعد جملہ (آیت ) ” من قریتک التی اخرجتک “۔ اور (آیت ) ” زین لہ سوٓء عملہ “۔ کے مقابل (آیت ) ” افمن کان علی بینۃ من ربہ “۔ سے دلالۃ سمجھ میں آیا کہ یہ مہاجرین اولین ہیں جو نزول آیت کے وقت موجود تھے اور (آیت ) ” مثل الجنۃ التی وعدالمتقون “۔ میں انکے اجر وثواب کا بیان ہے پھر اس کے بعد (آیت ) ” فھل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض وتقطعوا ارحامکم “۔ سے یہ واضح کیا جارہا ہے کہ اگر فاسقین ومنافقین کے گروہ کو قتدار دے دیا جائے تو فساد فی الارض اور قطع رحمی کا سلسلہ عالم میں پھیل جائے گا اسکے بالمقابل جب مومنین مخلصین اور صالحین کی حکومت واقتدار کا دور ہوگا تو اہل زمین امن و عافیت اور صلاح کی زندگی گزارنے لگیں گے چناچہ خلافت راشدہ کے دور ہوگا تو اہل زمین امن و عافیت اور صلاح کی زندگی گزارنے لگیں گے چناچہ خلافت راشدہ کے دورنے دنیا کے سامنے اس کا ثبوت پیش کردیا منافقین ومفسدین ناکام و ذلیل ہوئے فتوحات سے اسلام کو اللہ نے غلبہ عطا فرمایا قیصر و کسری کی حکومتیں اور طاقتیں پارہ پارہ ہوگئیں اور مسلمانوں کا افلاس انکی غربت اور ذلت غنا و خوشحالی اور غلبہ وعزت سے تبدیل ہوگئی اور جو وعدے اہل ایمان واخلاص سے کئے گئے تھے دنیا ہی میں اس کا مشاہدہ خلفاء راشدین ؓ کے دور میں ہوگیا یہ تاریخی حقیقت ہر صاحب علق انسان کو اس پر مجبور کرتی ہے کہ وہ خلافت راشدہ کے منہاج نبوت پر ہونے پر ایمان لائے اور خلفاء راشدین کے اخلاص ایمان وتقوی اور عنداللہ تعالیٰ انکے مکرم ومشرف ہونے اور ماجور ومظفر ومنصور ہونے کو قرآنی فیصلہ سمجھے (آیت ) ” فمن شآء فلیؤمن ومن شآء فلیکفر “۔
Ayahs 47:7–11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ یَنْصُرْكُمْ وَ یُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ Open ayah 47:7 in the Quran reader

اے اہل ایمان ! اگر تم خدا کی مدد کرو گے تو وہ بھی تمہاری مدد کرے گا اور تم کو ثابت قدم رکھے گا

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَتَعْسًا لَّهُمْ وَ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:8 in the Quran reader

اور جو کافر ہیں ان کے لئے ہلاکت ہے اور وہ انکے اعمال کو برباد کر دے گا

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَرِهُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:9 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ خدا نے جو چیز نازل فرمائی انہوں نے اس کو ناپسند کیا تو خدا نے انکے اعمال اکارت کر دئیے

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ دَمَّرَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١٘ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ اَمْثَالُهَا Open ayah 47:10 in the Quran reader

کیا انہوں نے ملک میں سیر نہیں کی تاکہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا ؟ خدا نے ان پر تباہی ڈال دی اور اسی طرح کا (عذاب) ان کافروں کو ہوگا

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ مَوْلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اَنَّ الْكٰفِرِیْنَ لَا مَوْلٰى لَهُمْ۠ Open ayah 47:11 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ جو مومن ہیں ان کا خدا کارساز ہے اور کافروں کا کوئی کارساز نہیں

ماخوذ از افاضات حضرت شاہ ولی اللہ قدس اللہ سرہ۔ مراجعت فرمائیں (ازالۃ الخفاء ) قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” یایھا الذین امنوا ان تنصروا اللہ ...... الی ......... وان الکفرین لامولی لھم “۔ (ربط) سابق مضمون مسلمانوں کو کافروں کے مقابلہ میں جہاد و قتال کی ترغیب وتشویق پر مشتمل تھا اور یہ کہ اہل حق پر یہ لازم ہے کہ باطل کو مٹانے کے لئے اپنی پوری قوت صرف کرڈالیں جب تک وہ فریضہ جہاد ادا نہیں کریں گے عند اللہ بری الذمہ نہ ہوسکیں گے تو اب ان آیات میں مسلمانوں کی فتح و کامیابی اور میدان جہاد میں انکی ثابت قدمی کا میعار بیان فرمایا جارہا ہے۔ فرمایا، اے ایمان والو اگر تم مدد کروگے اللہ کی تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور میدان جہاد میں تمہیں ثابت قدم رکھے گا کہ اللہ کی مدد سے تمہارے قدم کبھی بھی نہیں ڈگمگائیں گے اسلام اور طاعت خداوندی پر بھی قائم رہو گے اور یہ عملی واعتقادی پختگی وثابت قدمی اس طرح مسلمان کی زندگی میں سرایت کرجائے گی کہ میدان جنگ میں جب کافروں سے مقابلہ ہوگا تو وہاں بھی مضبوط وثابت قدم رہیں گے اور اس کے برعکس جو لوگ کافر ہیں انکے واسطے منہ کے بل گرانا ذلیل ومغلوب کرنا ہے۔ 1 حاشیہ (حضرت شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں کہ اللہ چاہے تو خود ہی کافروں کو مسلمان کر دے پر یہ بھی منظور نہیں جانچنا منظور ہے سو بندہ کی طرف سے کمر باندھنی اور اللہ کی طرف سے کام بنانا۔ 12) اور بجائے اس کے کہ اچھے کام یا انکی وہ کوششیں جو مسلمانوں کے خلاف ہوں کامیاب ہوں یہی فیصلہ ہے کہ انکے کئے ہوئے کام برباد کردیئے اس وجہ سے نہ تو انکے کوئی اچھے کام اور نیک عمل ان کے کام آئے اور نہ اس کے ساتھ جو کچھ انہوں نے اسلام خدا ﷺ کے خلاف محنت کی تدبیریں کیں وہ گا رگر ثابت ہوئیں جس کا حاصل یہی ہے کہ آخرت اور دنیا ہر لحاظ سے انکے اعمال اور کوششیں حبط وبرباد ہوئیں اور یہ سب کچھ اس بناء پر ہے کہ انہوں نے نفرت کی اس چیز سے جو اللہ نے نازل کی تو ظاہر ہے کہ اسکا یہی انجام ہوا کہ ان کے اعمال برباد کردیئے حالانکہ اگر یہ خیر کے کام ایمان کے ساتھ کئے جاتے تو اجر وثواب کا ذریعہ ہوسکتے تھے ، جہاد کا حکم فرمانے کے بعد ان آیات میں رب العزت نے مسلمانوں کو خدا کے دین کی مدد کا حکم فرمایا اور ساتھ ہی یہ بتا دیا کہ خود انکی کامیابی وفتح کا راز یہی ہے ، اگر مسلمان من حیث القوم زندہ رہنا چاہتے ہیں اور عزت کی زندگی مطلوب ہے تو انکو چاہئے کہ اعلاء کلمۃ اللہ میں مصروف رہیں اور اپنی کوششیں اسی مقصد کے واسطے وقف کردیں اسی کی برکت سے وہ دشمنوں کے مقابلے میں مضبوط وثابت قدم رہیں گے اور یہی ملحوظ رکھنا چاہئے کہ اصل کامیابی آخرت کی ہے وہ صرف ایمان وتقوی پر موقوف ہے۔ تاریخ اس کی شاہد ہے دیکھ لیں تو کیا انہوں نے سفر نہیں کیا ہے زمین میں کہ دیکھ لیں کیسا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے جب انہوں نے انکار کیا اور خدا کے رسولوں کا مقابلہ کیا تو ہلاکت وتباہی مسلط کردی اللہ نے ان پر اور کافروں کے واسطے انکی مثالیں ہیں جو عبرت کے واسطے کافی ہیں تو اب کفار مکہ بھی ان واقعات کو دیکھ کر عبرت حاصل کرسکتے ہیں اور ابھی وقت ہے کہ وہ ہدایت قبول کرلیں اور رسول خدا ﷺ پر ایمان لے آئیں یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ اللہ مولی و مددگار ہے ایمان والوں کا اور بیشک جو کافر ہیں انکا کوئی مددگار نہیں حتی کہ خود انکے معبود اور انکے ذرائع ووسائل بھی انکو عذاب خداوندی سے نہ بچا سکے نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں۔ فائدہ : غزوہ احد میں جب وقتی طور پر مسلمانوں کو کچھ پریشانی پیش آگئی تھی تو ابوسفیان بن حرب ؓ نے پکارا تھا، لنا لعزی ولا عزی لکم، حضرات صحابہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم کیا کہیں آپ ﷺ نے فرمایا، کہہ دو ” اللہ مولانا ولا مولی لکم “۔
Ayahs 47:12–19

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَتَمَتَّعُوْنَ وَ یَاْكُلُوْنَ كَمَا تَاْكُلُ الْاَنْعَامُ وَ النَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ Open ayah 47:12 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے انکو خدا بہشتوں میں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں داخل فرمائے گا اور جو کافر ہیں وہ فائدے اٹھاتے ہیں اور (اس طرح) کھاتے ہیں جیسے حیوان کھاتے ہیں اور انکا ٹھکانا دوزخ ہے

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ هِیَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْیَتِكَ الَّتِیْۤ اَخْرَجَتْكَ١ۚ اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ Open ayah 47:13 in the Quran reader

اور بہت سی بستیاں تمہاری بستی سے جس (کے باشندوں نے تمہیں وہاں) سے نکال دیا زور قوت میں کہیں بڑھ کر تھیں ہم نے ان کا ستیاناس کردیا اور انکا کوئی مددگار نہ ہوا

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ كَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:14 in the Quran reader

بھلا جو شخص اپنے پروردگار (کی مہربانی) سے کھلے راستے پر (چل رہا) ہو وہ انکی طرح (ہو سکتا) ہے جن کے اعمال بد انہیں اچھے کر کے دکھائے جائیں اور جو اپنی خاہشوں کی پیروی کریں

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ فِیْهَاۤ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَیْرِ اٰسِنٍ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُهٗ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ١ۚ۬ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَ مَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَ سُقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ Open ayah 47:15 in the Quran reader

جنت جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا جاتا ہے اسکی صفت یہ ہے کہ اس میں پانی کی نہریں ہیں جو بو نہیں کرے گا اور دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ نہیں بدلے گا اور شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لئے (سراسر) لذت ہے اور شہد مصفی کی نہریں ہیں (جو حلاوت ہی حلاوت ہے) اور (وہاں) ان کے لئے ہر قسم کے میوے ہیں اور انکے پروردگار کی طرف سے مغفرت ہے (کیا یہ پرہیزگار) انکی طرح (ہو سکتے) ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور جنکو کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا تو انکی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَا ذَا قَالَ اٰنِفًا١۫ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:16 in the Quran reader

اور ان میں بعض ایسے بھی ہیں جو تمہاری طرف کان لگائے رہتے ہیں یہاں تک کہ (سب کچھ سنتے ہیں لیکن) جب تمہارے پاس سے نکل کر چلے جاتے ہیں تو جن لوگوں کو علم (دین) دیا گیا ہے ان سے کہتے ہیں کہ (بھلا) انہوں نے ابھی کیا کہا تھا ؟ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر خدا نے مہر لگا رکھی ہے اور وہ اپنی خواہشوں کے پیچھے چل رہے ہیں

وَ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَّ اٰتٰىهُمْ تَقْوٰىهُمْ Open ayah 47:17 in the Quran reader

اور جو لوگ ہدایت یافتہ ہیں ان کو وہ ہدایت مزید بخشتا ہے اور پرہیزگاری عنایت کرتا ہے

فَهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً١ۚ فَقَدْ جَآءَ اَشْرَاطُهَا١ۚ فَاَنّٰى لَهُمْ اِذَا جَآءَتْهُمْ ذِكْرٰىهُمْ Open ayah 47:18 in the Quran reader

اب تو یہ لوگ قیامت ہی کو دیکھتے ہیں کہ ناگہاں ان پر آ واقع ہو تو اس کی نشانیاں (وقوع میں) آچکی ہیں پھر جب وہ ان پر آ نازل ہوگی اس وقت انہیں نصیحت کہاں (مفید ہو سکے گی ؟ )

فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوٰىكُمْ۠ Open ayah 47:19 in the Quran reader

پس جان رکھو کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگو اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لئے بھی اور خدا تم لوگوں کے چلنے پھرنے اور ٹھہرنے سے واقف ہے

جزاء و انعامات اہل سعادت و محرومی وبدنصیبی اہل شقاوت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ان اللہ یدخل الذین امنوا ..... الی ..... متقلبکم ومثوکم “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں مسلمانوں کے غلبہ و کامیابی کا ایک راز بیان فرمایا گیا اور وہ ضابطہ جس پر نصرت خداوندی ان کے شامل حال ہوتی ہے اور اسی کے ساتھ تاریخی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے ظاہر کردیا گیا کہ ہمیشہ سے قانون قدرت اسی طرح چلا آرہا ہے کہ حق کو غلبہ ہوتا ہے اور باطل اپنے جملہ مادی وسائل اور ذرائع کے ناکام ومغلوب ہوتا ہے تو اب ان آیات میں اہل مکہ پر حق تعالیٰ شانہ کی طرف سے ہونے والے انعامات کا، بیان ہے اور یہ کہ انکو دنیوی کا میابی برتری اور عزت کے علاوہ آخرت میں جنت کی بےپایاں نعمتوں سے نوازا جائے گا اور جو قومیں شقاوت وبدبختی کا شکار ہوگئیں انکے واسطے سوائے ذلت وناکامی اور عذاب آخرت کے اور کچھ نہیں اور حقیقت یہ ہے کہ کافر کی حیات بےمقصد اور بےمعنی ہے اس لحاظ سے ان کا دنیوی زندگی میں کھانا پینا مادی اسباب عیش و راحت سے تمتع بالکل حیوانوں کی طرح ہے کہ حیوان کا بھی اس دنیوی زندگی کا کوئی مقصد حیات نہیں بس یہی دنیا کی زندگی اسکی زندگی ہے بالکل یہی حال کفار ومنکرین کا بھی ہے ، ارشاد فرمایا جارہا ہے بیشک اللہ تعالیٰ داخل کرے گا ایمان والوں کی اور ان لوگوں کو جنہوں نے نیکی کے کئے ایسے باغات میں جنکے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور جو لوگ کافر ہیں وہ دنیا کے سازو سامان سے نفع اٹھا رہے ہیں اور کھا رہے ہیں جیسے کہ چوپائے کھاتے ہوں کہ انکو اس حیات دنیوی کے مابعد آخرت کا کوئی تصور ہی نہیں اور سمجھتے ہی نہیں کہ یہ دنیوی حیات کس مقصد کیلئے انسان کو دی گئی ہے اور نیز مال و دولت کی حرص بھی اچھے برے اور نفع نقصان میں انکو تمیز نہیں کرنے دیتی جس طرھ چوپائے تمیز نہیں کرتے کہ کیا چیز اچھی ہے اور کیا بری بس چارہ کی حرص ہے اور ہر چیز پیٹ میں بھرے چلے جارہے ہیں تو ٹھیک ہے چند دن مزے اڑا لیں مگر پس آگ ہی انکا ٹھکانا ہے جو انکے واسطے گویا اسی طرح تیار کیا ہوا ہے جیسے کسی انسان کے واسطے اس کا گھر بطور ٹھکانے کے تیار کیا جاتا ہے ، اور کتنی ہی بستیاں تھیں گزری ہوئی تاریخ میں جن کے تذکرے موجود ہیں جو زیادہ طاقت ور تھیں بہ نسبت آپ کی اس بستی کے کہ جس نے نکالا آپ کو اور آپ اس سرزمین سے ہجرت کرکے اب مدینہ منورہ جارہے ہیں کہ ہم نے ان کو تباہ کرڈالا پھر انکا کوئی مددگار نہ تھا اس لیے اہل مکہ کو اپنے زور اور طاقت پر گھمنڈ نہیں کرنا چاہئے یہ قوم عاد وثمود اور مدین والے تو بڑے ہی طاقتو تھے مالی وسائل بھی بہت تھے ہر قسم کا سازو سامان تھا حتی کہ پہاڑوں میں تراشے ہوئے محفوظ ترین مکانات تھے لیکن کیا کسی نے انکی کوئی مدد کرلی جب عذاب خداوندی آیاتو ایک رات میں بستیاں کی بستیاں نیست ونابود ہوگئیں۔ 1 حاشیہ (بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب آپ ﷺ ہجرت کرتے ہوئے مکہ مکرمہ سے نکل کر مدینہ منورہ جارہے تھے اور مکہ سے نکلتے وقت آپ نے چہرۂ انور مکہ کی آبادی یعنی بیت اللہ کی طرف کیا اور فرمایا اے سرزمین مکہ تو مجھے کس قدر محبوب ہے خدا کی قسم اگر یہ تیری قوم مجھ کو نکلنے پر مجبور نہ کرتی تو میں ہرگز نہ نکلتا : 12) تو کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک واضح حجت اور صحیح راستہ پر ہے وہ اس شخص کے برابر ہوسکتا ہے جس کے واسطے اسکے برے اعمال رچا دیئے گئے اور وہ ان ہی اعمال خبیثہ کو اچھا سمجھ رہا ہے اور وہ لوگ اپنی خواہشات پر ہی چلتے ہیں ؟ ہرگز نہیں دونوں کبھی برابر نہیں ہوسکتے ظاہر ہے کہ جو شخص نہایت ہے شرح صدر اور فہم وبصیرت کے ساتھ حق وصداقت کے کشادہ راستہ پر بےروک ٹوک چل رہا ہو وہ اس شخص کے برابر کیسے ہوسکتا ہے جو متحیر ومبہوت وبدحواسی کے عالم میں ایک تاریک راستہ میں بھٹک رہا ہے اور ٹھوکریں کھارہا ہے حتی کہ وہ سیاہ وسفید اور نیک وبد کی بھی تمیز نہ کرسکتا ہو اور خواہشات نفس کی پیروی میں ہر بری چیز کو بھلی سمجھ رہا ہو حال اس جنت کا جس کا تقوی والوں سے وعدہ کیا گیا ہے یہ ہے کہ اس میں نہریں ہیں ایسے پانی کی جو متغیر وبدبو دار نہیں ہوتا خواہ وہ کتنے ہی زمانہ تک رکھا رہے جس کا مزہ شہد سے زیادہ شیریں اور رنگ دودھ سے زائد سفید ہے نہ اس کے رنگ میں تغیر آتا ہے اور نہ اسکے مزے میں اور نہریں ہیں دود ھ کی جس کے مزہ میں کوئی فرق نہیں آتا خواہ کتنا ہی وقت گزر جائے اور نہریں ہیں شراب طہور کی جس میں لذت ہے پینے والوں کے واسطے برخلاف دنیوی شرابوں کے کہ نہ ان میں کوئی لذت نہ مزہ نہ فرحت بلکہ بدبوگندگی اور قلب کی بےچینی اور دماغ کی مدہوشی اور جسمانی امراض کے سوا ان میں کچھ نہیں۔ 1 حاشیہ (اس کا ثبوت شراب کے اثرات کے تجزیہ وتحقیق سے واضح طور پر موجود ہے اور یورپ کے لوگ جو شراب میں بدمست رہتے ہیں انکی صورت وشکل اور حالت اس کا شاہد ہیں 12) اور نہریں ہیں شہد کی جو جھاگ سے صاف کیا ہوا ہو جس میں تکدر کا تو کیا شائبہ ہو اس میں جھاگ تک بھی نہ ہوگا بلور کی طرح صاف اور چمکدار ہوگا۔ اور غرض انکے واسطے اس جنت میں ہر قسم کے پھل ہوں گے کہ لطیف مشروبات کے لطف و سرور کے ساتھ ماکولات میں بھی مفرح اور لذیذ پھل ہوں گے اور ان سب نعمتوں سے بڑھ کر یہ کہ مغفرت ومعافی ہوگی انکے رب کی طرف سے کہ جنت میں داخل ہونے کے بعد اس سے بھی قلب کو اطمینان ہوجائیگا کہ اب آئندہ کسی بات پر پروردگار کی طرف سے عتاب و عقاب نہ ہوگا ورنہ تو انسان کو ہر نعمت کے ہوتے ہوئے بھی نعمتوں کے زوال اور مصیبت کے نزول کا تصور فکر وغم کا موجب ہوتا ہے جس سے اہل جنت مامون کردیئے جائیں گے حق تعالیٰ کی طرف سے اعلان معافی اور اعلان خوشنودی فرمادینے کی وجہ سے (آیت ) ” ورضوان من اللہ اکبر ذالک ھو الفوز العظیم “۔ تو کیا یہ ایمان وتقوی والے جن کو ایسی عظیم الشان نعمتوں سے نوازا جائے گا اس شخص کی طرح ہوسکتے ہیں جو ہمیشہ کے لیے آگ میں ہو اور ان کو کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جو انکی آنتوں کو بھی کاٹ ڈالے (اعاذ نا اللہ منہ) یقیناً دونوں گروہ برابر نہیں ہر عقل والا سمجھ سکتا ہے بس اسی طرح اہل ایمان اور منکر بھی برابر نہیں اہل ایمان وتقوی اللہ کی دی ہوئی نعمتوں میں سرشار ہوں گے اور منکرین و کفار آلام ومصائب اور نار جہنم میں مبتلا ہوں گے۔ امام احمد بن حنبل (رح) نے باسناد حکیم بن معاویۃ ؓ عن ابیہ بیان کیا کہ آنحضرت ﷺ ارشاد فرمایا کرتے تھے بیشک جنت میں پانی کے سمندر کے ساتھ ایک سمندر دودھ کا ہے اور ایک شہد اور ایک شراب طہور کا جن سے نہریں نکل رہی ہیں۔ اور ایک حدیث میں ہے آپ ﷺ نے فرمایا اے لوگو ! جب تم اللہ سے جنت کے لیے دعا مانگو تو فردوس کا سوال کیا کرو کیونکہ فردوس جنت کا درمیانی اور اعلی ترین مقام ہے جس سے تمام نہریں جنت کی بہہ رہی ہیں اور اسکے اوپر عرش رحمن ہے ، بہرحال اہل ایمان وتقوی یقین و توجہ کے ساتھ ان باتوں کو سن کر وحی الہی اور تعلیمات نبویہ کے آثار قبول کرتے ہیں اور روحانی ہدایات ومعارف سے اپنے قلوب کو منور اور اپنی زندگیوں کو مزین بناتے ہیں اس کے بالمقابل ایک گروہ منافقین کا ہے جن کا یہ حال ہے اور بہت سے ان میں سے ایسے ہیں کہ جو کان لگاتے ہیں اے ہمارے پیغمبر آپ کی طرف اور آپ ﷺ کی باتیں سنتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ آپ کے پاس سے باہر نکلتے ہیں تو کہتے ہیں ان لوگوں سے جن کو علم دیا گیا اور وہ علم ورشد کے باعث ایمان سے مشرف ہوئے یعنی حضرات صحابہ ؓ سے کیا ہے یہ بات جو ابھی آپ نے کہی ہے اس ارشاد فرمائے ہوئے قول کی تحقیر وتنقیص کرتے ہوئے کہ یہ بھی کوئی ہم تو نہیں سمجھ سکے کیا کہا ہے تاکہ ارشادات رسول اللہ ﷺ سننے والے ان سے متاثر نہ ہوں بلکہ جو تاثر ان پر ہوا ہو اس کو بھی تذبذب کی کیفیت میں بدل ڈالیں یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہرلگا دی ہے اور وہ اپنی خواہشات کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور جب دلوں پر مہرلگ گئی تو اب کہاں انکو سمجھ اور ہدایت نصیب ہوسکتی ہے اور جن لوگوں نے ہدایت قبول کی خدا تعالیٰ ان کی ہدایت میں اور اضافہ کرتا ہے اور خدا نے ان کو تقوی عطا کیا ہے اس وجہ سے جب بھی وہ پیغمبر خدا کا ارشاد سنتے ہیں انکے ایمان وتقوی میں اضافہ ہوتا ہے اور منافقین جب بھی اس طرح کی کوئی کوشش کرتے ہیں کہ انکے ایمان و اعتقاد کو کوئی ٹھیس پہنچے خدا تعالیٰ اسکے برعکس انکے نور ایمان وتقوی میں اور زیادتی ہی فرماتا ہے یہ باتیں ایسی ہیں کہ انکو سن کر ہر منافق ومنکر کو اپنے نفاق وکفر اور اسلام کے خلاف سازشوں اور مسلمانوں کے ساتھ ریشہ دوانیوں سے باز آجانا چاہئے بلکہ دلائل وحقائق کی روشنی میں ان لوگوں کو حق وہدایت قبول کرلینا چاہئے مگر پھر افسوس انکے نفاق وکفر میں نہ کوئی کمی ہے اور نہ ہی اس سے رجوع کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں تو پھر کیا یہ صرف قیامت ہی کا انتظار کررہے ہیں کہ ناگہاں ان پر آجائے ایسے منکروں کو قیامت دور نہ سمجھنی چاہئے اور نہ اسکا ذکر سن کر مذاق اڑانا چاہئے پس حقیقت تو یہ ہے کہ قیامت کی نشانیاں تو آچکی ہیں پھر بھی یہ لوگ نہ باز آتے ہیں اور نہ نصیحت قبول کرتے ہیں۔ تو کہاں سود مند ہوگا ان کا نصیحت قبول کرنا جب کہ قیامت ان پر آہی جائے گی اس وقت تو توبہ کے سب دروازے بند ہوچکے ہوں گے نہ تو کوئی توبہ قبول ہوگی نہ کوئی معذرت سنی جائے گی اور نہ ہی کسی کا ایمان قبول ہوگا جیسے کہ ارشاد باری تعالیٰ میں یہ قانون واضح فرما دیا گیا (آیت ) ” یوم یاتی بعض ایات ربک لاینفع نفسا ایمان نھا لم تکن امنت من قبل اوکسبت فی ایمانھا خیرا “۔ کیونکہ قیامت کے قریب علامات مثلا طلوع الشمن من المغرب سے نظام عالم درہم برہم ہوجائے گا اور عالم غیب نظروں کے سامنے مشاہد ہونے لگے گا تو پھر ایمان بالغیب ہی نہ رہے گا اور ایمان تو وہی ہے جو بالغیب ہو۔ بہرکیف۔ 1 حاشیہ (” بہرکیف “۔ فاعلم میں جو ” فا “ ہے اسکا ترجمہ کیا گیا۔ 12) یہ پیغام توحید اور دعوت ایمان منکرین و کفار سنیں یا نہ سنیں، مانیں یا نہ مانیں اے ہمارے پیغمبر ! آپ جان لیجئے یہ بات کہ یقیناً وہ خدا تنہا ایک ہی معبود ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ 2 حاشیہ (بعض مفسرین کی رائے یہ ہے کہ یہ خطاب عام ہے اور بعض کے نزدیک آنحضرت ﷺ کو خطاب ہے تو یہ الفاظ جیسا کہ آپ جانتے ہیں اسی قول کے پیش نظر ہیں یہ علم اگرچہ رسول خدا ﷺ کو پہلے سے تھا لیکن مقصود اس مقتضاء پر عمل کی تلقین وتاکید ہے۔ “ جیسا کہ آپ جانتے ہیں اسی پر قائم رہئے اور استغفار کرتے رہئے اپنی تقصیر ولغزش کے لئے اور تمام ایمان دار مردوں اور عورتوں کیلئے اور اللہ کو معلوم ہے تمہارا لوٹنا پلٹنا چلنا پھرنا اور تمہارا ٹھکانا تمہارا کوئی حال اس سے پوشیدہ نہیں اور نہ کسی کا انجام اور ٹھکانا کہ آخرت میں کیا ہے وہ بھی اس سے مخفی نہیں اس لئے نہ تو اہل ایمان کو مایوس ہونا چاہئے اور نہ کفار پر عالم دنیا میں عذاب کی تاخیر سے پریشان ہونا چاہئے اور نہ ہی یہ سمجھنا چاہئے کہ جس مغلوبی اور مظلومی کے دور سے مسلمان آج گزر رہے ہیں وہ کبھی بدلے گا نہیں یہ سب باتیں اللہ کے علم محیط وازلی میں ہیں غرض عارضی اور وقتی احوال کو مستقل نہ سمجھنا چاہئے۔ آنحضرت ﷺ کیلئے امر بالاستغفار کی حقیقت : آیت مبارکہ (آیت ) ” واستغفر لذنبک “۔ میں استغفار کا حکم مفسرین کی ایک جماعت کے نزدیک آنحضرت ﷺ کو ہے تو اس صورت میں ” ذنب “۔ سے مراد امر خداوندی کی خلاف ورزی اور نافرمانی جیسی کوئی چیز ہرگز ممکن نہیں اس لئے کہ انبیاء (علیہم السلام) معصوم ہوتے ہیں اور عصمت انبیاء کا مسئلہ دین کے اصول مسلم میں سے ہے جیسا کہ سورة بقرہ کی تفسیر میں مسئلہ عصمت انبیاء (علیہ السلام) پر حضرت والد صاحب (رح) نے دلائل کے ساتھ کلام فرمایا ہے اس وجہ سے لامحالہ لفظ ذنب سے مراد کوتاہی اور کمی یا منشاء خداوندی کی کسی اجتہادی مسئلہ میں پوری پوری مطابقت کا نہ ہونا سمجھا جائے گا قانون ہے ” حسنات الابرابر سیئات المقربین “ کہ عام نیکوں کے حسنات ونیکیاں بارگاہ خداوندی کے مقربین کے حق میں خطا و تقصیر ہیں اصل حقیقت یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کا ہر لحظہ مدارج کی ترقی اور بلندی کا ہوتا ہے اور ہر آنے والی گھڑی گذشتہ گھڑی کی نسبت عظمت وبلندی کے مقام پر پہنچانے والی ہوتی تھی اور آپ ﷺ کے قلب وذہن میں جن مدارج ومقامات کی آرزو ہوتی تھی ان تک آپ ﷺ کا اپنے تخیل کے لحاظ سے یہ محسوس کرنا کہ نہیں عروج ہوا تقصیر کا درجہ ہے جسکو ذنب کے لفظ سے تعبیر کیا گیا اور اس پر گویا یہ حکم ہے اور اسی کی تعمیل میں آپ کا یہ دستور العمل تھا جس کو ارشاد فرماتے ہیں۔ انی لا ستغفر اللہ کل یوم مأۃ مرۃ “۔ 1 حاشیہ (مسند احمد بن حنبل (رح) جامع ترمذی، صحٰح مسلم، سنن نسائی۔ کہ ہر وز میں اللہ سے استغفار کرتا ہوں سو مرتبہ (مسنداحمد بن حنبل جامع ترمذی) امام مسلم ابوداؤد ونسائی نے اغر مزنی ؓ سے روایت کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ انہ لیغات قلبی وانی لاستغفر اللہ کل یوم مأۃ مرۃ، کہ میرے قلب پر ایک قسم کی رکاوٹ یا تکدر محسوس ہوتا ہے اور البتہ میں اللہ رب العزت سے استغفار کرتا ہوں ہر روز ایک سو مرتبہ حضرت ابوموسی اشعری ؓ رسول اللہ ﷺ کا فرمان نقل کرتے تھے آپ ﷺ نے فرمایا جب بھی میں صبح کرتا ہوں تو کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ میں سو مرتبہ استغفار نہ کرلوں معلوم ہوا کہ کل یوم سے ہر دن کی صبح کے وقت اسکی پابندی مرا د ہے وگرنہ آپ ﷺ کی تو ایک ایک مجلس میں ایک ہی دن میں متعدد بار ایک سو مرتبہ سے زائد استغفار کی تعداد ہوجاتی تھی جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ ہم ایک ہی نشت میں آپ ﷺ کے استغفار شمار کرتے تو سو مرتبہ سے زائد ہوجاتا تھا، اور یہ جو رکاوٹ یا مراتب عالیہ کی عروج وبلندی میں کمی کا ذکر حدیث میں وارد ہوا اسکی حقیقت یہ معلوم ہوئی ہے کہ پیغمبر خدا کی ظاہر اشتغال کے لحاظ سے دو جانبیں ہیں ایک اشتغال الی الحق اور دوسری جانب اشتغال مع الخلق ہے اگرچہ آپ ﷺ کا اشتغال معل الخلق بھی جو کہ امت کی تعلیم وتربیت کی صورت میں ہے اللہ ہی کے لیے ہے لیکن صورۃ اشتغال الی الحق سے بظاہر تعطل نظر آتا ہے تو اسی کو آپ ﷺ تقصیر وکوتاہی فرما رہے ہیں اور اسی پر سلسلہ استغفار ہے اور یہی وہ ہے جس کو (آیت ) ” واستغفر لذنبک میں فرمایا گیا۔
Ayahs 47:20–28

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ لَا نُزِّلَتْ سُوْرَةٌ١ۚ فَاِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَّ ذُكِرَ فِیْهَا الْقِتَالُ١ۙ رَاَیْتَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یَّنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ؕ فَاَوْلٰى لَهُمْۚ Open ayah 47:20 in the Quran reader

اور مومن لوگ کہتے ہیں کہ (جہاد کی) کوئی سورت کیوں نازل نہیں ہوتی لیکن جب کوئی صاف معنوں کی سورت نازل ہو اور اس میں جہاد کا بیان ہو تو جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) مرض ہے تم ان کو دیکھو کہ تمہاری طرف اس طرح دیکھنے لگیں جس طرح کسی پر موت کی بیہوشی (طاری) ہو رہی ہو تو ان کے لئے خرابی ہے

طَاعَةٌ وَّ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ١۫ فَاِذَا عَزَمَ الْاَمْرُ١۫ فَلَوْ صَدَقُوا اللّٰهَ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْۚ Open ayah 47:21 in the Quran reader

(خوب کام تو) فرمانبرداری اور پسندیدہ بات کہنا (ہے) پھر جب (جہاد کی) بات پختہ ہوگئی تو اگر یہ لوگ خدا سے سچے رہنا چاہتے تو ان کے لئے بہت اچھا ہوتا

فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ Open ayah 47:22 in the Quran reader

(اے منافقو ! ) تم سے عجب نہیں کہ اگر تم حاکم ہوجاؤ تو ملک میں خرابی کرنے لگو اور اپنے رشتوں کو توڑ ڈالو

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَ اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ Open ayah 47:23 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی ہے اور ان (کے کانوں) کو بہرا اور (ان کی) آنکھوں کو اندھا کردیا ہے

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا Open ayah 47:24 in the Quran reader

بھلا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا (ان کے) دلوں پر قفل لگ رہے ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدَى١ۙ الشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَهُمْ١ؕ وَ اَمْلٰى لَهُمْ Open ayah 47:25 in the Quran reader

جو لوگ راہ ہدایت ظاہر ہونے کے بعد پیٹھ دے کر پھرگئے شیطان نے (یہ کام) ان کو مزین کر دکھایا اور انہیں طول (عمر کا وعدہ) دیا

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ سَنُطِیْعُكُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِسْرَارَهُمْ Open ayah 47:26 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ جو لوگ خدا کی اتاری ہوئی (کتاب) سے بیزار ہیں یہ ان سے کہتے ہیں کہ بعض کاموں میں ہم تمہاری بات بھی مانیں گے اور خدا ان کے پوشیدہ مشوروں سے واقف ہے

فَكَیْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ Open ayah 47:27 in the Quran reader

تو اس وقت (انکا) کیسا (حال) ہوگا جب فرشتے انکی جان نکالیں گے اور انکے مونہوں اور پیٹھو پر مارتے جائیں گے

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوْا مَاۤ اَسْخَطَ اللّٰهَ وَ كَرِهُوْا رِضْوَانَهٗ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ۠ Open ayah 47:28 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ جس چیز سے خدا ناخوش ہے یہ اس کے پیچھے چلے اور اس کی خوشنودی کو اچھا نہ سمجھے تو اس نے بھی انکے عملوں کو برباد کردیا

جذبہ ایمان واخلاص مومنین وشناعت اعتقاد وعمل منافقین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ویقول الذین امنوا لولانزلت سورة ....... الی ...... فاحبط اعمالھم “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں سعادت مند اور اہل ایمان اور انکی مقبولیت عند اللہ کا ذکر تھا اور یہ کہ مجرمین کا انجام ہلاکت اور دین ودنیا کی ذلت ورسوائی کے علاوہ کچھ نہیں تو اب ان آیات میں یہ ذکر فرمایا جارہا ہے کہ مومنین مخلصین کا جذبہ کس قدر پاکیزہ ہوتا ہے اور وہ اللہ کا دین قائم کرنے کیلئے کس طرح جہاد فی سبیل اللہ کی آرزو کرتے ہیں مگر اس کے برعکس منافق اور وہ لوگ جنکے دلوں میں روگ ہوتا ہے وہ کس کس طرح دین اور احکام دین کی پیروی کرنے سے گریز کرتے ہیں ایسے لوگوں کی بداعمالیوں اور فساد فی الارض کو بیان کرتے ہوئے اس حقیقت کا پھر اعادہ کیا گیا انسانی سعادت اور کامیابی خدا اور اس کے رسول اللہ ﷺ کے احکام کی فرمانبرداری میں ہے چناچہ ارشاد فرمایا۔ اور کہتے ہیں ایمان والے کیوں نہ اتاری گئی ایک سورت خاص طور سے جس میں جہاد کی اجازت دے دی جائے اور احکام جہاد کی تفصیل بیان کردی جائے حضرات صحابہ ؓ جہاد کی فرضیت سے قبل اسکی تمنا اور طلب میں تھے جس کے لیے سب سے پہلے (آیت ) ” اذن للذین یقاتلون بانھم ظلموا “۔ نازل کی گئی یہ تو جذبہ اہل ایمان کا تھا لیکن پھر جب نازل کی گئی ایک سورت جانچی ہوئی جو اپنے ٹھیک وقت پر اتاری گئی اور جس میں جچے تلے احکام تھے اور اس میں ذکر ہوا قتال کا تو اے ہمارے پیغمبر ! آپ دیکھیں گے ان لوگوں کو جن کے دلوں میں مرض ہے تو وہ حیرانی اور بدحواسی کے عالم میں آپ کی طرف دیکھتے ہیں اس شخص کی طرف دیکھنا جس پر موت کے وقت کی غشی طاری ہوئی ہو کہ خوفزدہ ہو کر پھٹی پھٹی بےرونق آنکھوں سے دیکھتا ہے جیسے کہ مرتے وقت انسان کی آنکھوں کا نور جاتا رہتا ہے پس ہلاکت و بربادی ہے انکے واسطے جو نفاق اور ضعف ایمان کی وجہ سے اسی طرح کی کیفیات میں مبتلا ہیں حکم ماننا اور بھلی بات کہنا ہی سعادت ونجات ہے پھر جب معاملہ پختہ ہوجائے اور جہاد کے لئے قدم اٹھانا ضروری ہوجائے تو کامیابی اسی میں مضمر ہے کہ فرمانبرداری و اطاعت کا جو زبان سے اظہار کیا جارہا ہے اس کی تکمیل عملا کریں یہی ان کے قول وقرار کی عملی تصدیق ہوگی۔ حاشیہ (علامہ آلوسی (رح) کی رائے یہ ہے کہ (آیت ) ” فاذاعزم الامر “۔ میں اذا کا جواب (آیت ) ” فلو صدقو اللہ “۔ ہے اس تقدیر پر مراد یہ ہوگی کہ جہاد کے حکم وتاکید اور مرحلہ جہاد کے سامنے آجانے پر اگر یہ لوگ اللہ کے ساتھ سچے رہتے تو بہتر تھا اور بعض ائمہ نحاۃ وعربیہ کی رائے یہ ہے کہ (آیت ) ” فاذا عزم “ کا جواب محذوف ہے اور وہ (آیت ) ” کرھوا “۔ وغیرہ جیسا مضمون ہے یعنی جہاد کے حکم اور اسکی نوبت آنے پر دل سے اسکو ناگوار سمجھنے لگے اور پہلو تہی کرنے لگے جیسے کہ حق تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی (آیت ) ” قالوا ربنا لم کتبت علینا القتال “۔ اور فرمایا (آیت ) ” فلما کتب علیہم القتال اذا فریق منھم یخشون الناس کخشیۃ اللہ او اشدخشیۃ “۔ تفسیر سورة نساء میں گزر چکی۔ 12) تو اگر وہ سچے رہئے اللہ کے ساتھ اپنے وعدوں اور اقرار میں تو انکے حق میں بہتر ہوتا تو اے وہ لوگو ! جو دل کی بیماری نفاق اور گندگی میں مبتلا ہونے کے باعث جہاد کی فرضیت کا حکم نازل ہوتے ہی اپنے اوپر موت کی سی گھٹن اور بدحواسی محسوس کرنے لگے ہو کیا یہ بات متوقع نہیں ہے کہ اگر تم جہاد سے روگردانی کرو تو پھر نوبت یہ آجائے گی کہ تم زمین میں فساد برپا کروگے اور قطع رحمی کرو گے کہ قرابتوں کو پامال کرکے اور انکی حق تلفی کرکے نظام عالم کو تباہ وبرباد کردو گے یہ لوگ یقیناً ایسے ہیں کہ اللہ نے انکو اپنی رحمت سے دور کردیا ہے اس طرح۔ 1 حاشیہ (اس لفظ میں اشارہ ہے کہ تاتصویر کے معنی میں ہے نہ کہ تعقیب کے لیے کیونکہ ان لوگوں کا اندھا اور بہرا ہونا مقدم ہے (آیت ) ” لعنھم اللہ “۔ سے بلکہ ملعون ہونا ان احوال پر مرتب ہے۔ 12) کہ انکو بہرا کردیا حق کے سننے سے اور اندھا کردیا ہے حقائق کے مشاہدے سے انکی آنکھوں کو اس وجہ سے نہ تو کوئی حق کی بات سننے کی توفیق ہوسکتی ہے اور نہ ہی حق اور دلائل وآیات کا مشاہدہ ممکن ہے اور یہی وہ ذرائع اور راستے ہیں جن سے انسان سعادت اور حق قبول کیا کرتا ہے اور ظاہر ہے حق تعالیٰ نے جو جو اس انسان کو اسی غرض سے عطا کئے ہیں وہ ان کو کام میں لائے اگر وہ ان کو اپنی بدنصیبی سے معطل کردے تو یقیناً خدا کی رحمت سے دور ہوگا رحمت خداوندی کا مستحق انسان کو تو ہی ہے جو ہدایت اور حق قبول کرے۔ انسان کو اللہ نے جس طرح ظاہری بینائی اور بصارت عطا کی ہے اس کو قلب کی بینائی اور بصیرت بھی عطا کی ہے اور عقل وفکر سے نوازا ہے۔ تو ایسے لوگ کیوں نہیں غور وفکر کرتے قرآن میں غور وفکر نہیں کرتے یا دلوں پر لگے ہوئے ہیں ان کے قفل کہ انکی بداعمالیوں اور غفلت کی وجہ سے دلوں پر قفل پڑگئے ہیں کہ نصیحت اندر جانے کا راستہ ہی نہیں رہا بیشک جو لوگ الٹے پھرگئے ہیں اپنی پیٹھ پر بجائے اسکے کہ حق وہدایت کی طرف بڑھیں اور پیش قدمی کریں وہ پشت کی طرف الٹے جاہلیت وکفر ہی کی جانب لوٹ رہے ہیں بعد اسکے کہ انکو سیدھا راستہ واضح ہوچکا حقیقت یہ ہے شیطان نے انکے واسطے گمراہی رچادی ہے۔ 2 حاشیہ 2 (آیت ) ” الشیطن سول لھم واملی لھم “۔ میں شیطان کی طرف دو باتوں کی نسبت کی گئی ایک تسویل اور دوسرے املاء تسویل کے معنی مزین کردینے اور رچا دینے کے ہیں شیطان نے برے اور قابل نفرت کاموں کو مزین کرکے انکے دلوں میں پسندیدہ اور قابل رغبت بنادیا مراد یہ کہ ان کو ایسی طویل آرزوؤں اور امیدوں میں الجھا دیا کہ انکے پورے ہونے کی امید نہیں۔ ) انکے دلوں میں اور دور کی باتیں سمجھائیں کہ جہاد میں جانے سے تو ہوسکتا ہے جلد مرجائیں اور اگر نہ گئے تو دیر تک زندہ رہیں گے خواہ مخواہ جہاد میں جاکر مرجانے سے کیا فائدہ دور دراز کی باتیں اور امیدیں بھی دل میں رچائیں اور دھوکہ میں ڈالا جیسا کہ ارشاد ہے (آیت ) ” وما یعدھم الشیطان الا غرور ا “۔ یہ سب کچھ اس وجہ اس وجہ کہ انہوں نے ان لوگوں سے جو اللہ کی نازل کی ہوئی چیز سے نفرت کرتے تھے کہا یعنی یہودیوں سے ہم تمہارے اطاعت کریں گے بعض کاموں میں اگرچہ ہم نے ظاہر میں اسلام کا دعوی کیا ہے لیکن ہم درحقیقت انکے ساتھ نہیں بلکہ دل سے ہم تمہارے ساتھ ہیں اور تمہاری موافقت و اطاعت کریں گے اگر مسلمان تم پر حملہ کریں گے تو ہم اس وجہ سے کہ ظاہر میں مسلمان ہیں یہ نہیں ہوگا کہ ان کا ساتھ دیتے ہوئے تم سے لڑیں بلکہ ایسی صورت میں کہ تم مسلمانوں سے مقابلہ کرو ہم تمہارا ساتھ دیں گے منافقین یہ باتیں کہہ رہے ہیں اور اللہ ان کے یہ خفیہ مشورے جانتا ہے یہ منافقین ان خفیہ معاہدوں اور راز دارانہ مشوروں کو یہ خیال کرتے ہیں کہ انکی کسی کو خبر نہیں یہ غلط ہے خدا جانتا ہے اور مسلمانوں کے ساتھ انکی معاندانہ باتیں اور حاسدانہ مکاریاں خدا کو معلوم ہیں اور عنقریب انکے مکروفریب کے تمام حربے طشت از بام کردے گا اور یہ لوگ اپنی ان منافقانہ سازشوں کی سزا اور عذاب سے ہرگز نہیں بچ سکتے تو پھر یہ سوچ لیں کہ کیا حال ہوگا جب کہ فرشتے انکی جان نکالیں گے اور مارتے جارہے ہوں گے ان کے مونہوں۔ حاشیہ (جیسے کہ دوسری آیت میں ارشاد ہے (آیت ) ” ولو تری اذ یتوفی الذین کفروا الملئکۃ یضربون وجوھھم وادبارھم یوں تو کفار کی ارواح کے قبض کے وقت جسم کا ایک ایک حصہ کرب و عذاب میں مبتلا ہوگا لیکن اس وجہ سے کہ منافقین نے مونہہ سے جھوٹ بولا تھا مونہوں پر مار پڑتی ہوگی اور اللہ کی اطاعت سے پیٹھ پھیری تھی تو پشت پر فرشتے گرز مارتے ہوں گے 12) اور پیٹھ پرتو اس وقت نفاق کا مزہ خوب چکھیں گے یہ سب کچھ اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ کی رضا مندی تو انکے سارے کام اکارت کرڈالے اور جو تدبیریں انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کی تھیں وہ بھی برباد ہوئیں اور ذلت ورسوائی کا سامنا کرنا پڑا اس طرح دنیا میں تباہ ہوئے اور آخرت کے عذاب کو بھی اپنے اوپر مسلط کرلیا۔ اقتدار و حکومت ایمان واخلاص کے بغیر فساد عالم کا باعث ہے : فائدہ : آیت مبارکہ : (آیت ) ” فھل عسیتم ان تولیتم “۔ میں لفظ تولی کا ترجمہ روگردانی سے کیا گیا ہے جیسا کہ بعض ائمہ مفسرین کرام یہی مفہوم ذکر کرتے ہیں تو اعراض و روگردانی کے معنی لینے کی صورت میں (آیت ) ” ان تفسدوا فی الارض “۔ کا مفہوم یہ ہوگا کہ اگر تم اللہ کی راہ میں جہاد سے عراض و روگردانی کروگے تو زمین میں فساد برپا ہوجائے گا اور عدل و انصاف قائم نہ رہ سکے گا بلکہ ظلم و استبداد اور حق تلفی وقطع رحمی کا سلسلہ شروع ہوجائے گا اس سے یہ نتیجہ ظاہر ہوا کہ جہاد فی سبیل اللہ درحقیقت دنیا میں قیام امن اور تحفظ حقوق کا ذریعہ ہے اس لئے کہ حقوق انسانی کا تحفظ صرف اللہ کے قانون میں ہے اور جہاد اعلاء کلمۃ اللہ اور دین خداوندی کے قائم کرنے ہی کے واسطے ہوتا ہے اس کے برعکس کفر ہر قسم کی بدامنی ظلم وحق تلفی کا باعث ہے اور آج کی دنیا میں یہ بات مشاہدہ اور تجربہ میں بخوبی آچکی ہے دنیا کے امن و سکون کو تباہ کرنے والی ایٹمی طاقتیں سرزمین کفر ہی سے تمام عالم میں پھیل رہی ہیں اور اس امر کا اعتراف ہر صاحب عقل کرنے پر مجبور ہے کہ کفر ہی درحقیقت تمام فتنوں کا سرچشمہ اور امن عالم کو تباہ کرنے والا ہے ایک طرف کفر فساد عالم کا ذریعہ ہے تو دوسری طرف حق تلفی اور ظلم و استبداد کا بھی باعث ہے بعض ائمہ مفسرین نے (آیت ) ” ان تولیتم “۔ کا ترجمہ ولایت سے مشتق قرار دیتے ہوئے حکومت وولایت کے حاصل کرنے کا کیا ہے یعنی اگر تم کو حکومت مل جائے “۔ حضرت شیخ الہند (رح) نے اپنے ترجمہ میں اسی کو اختیار فرمایا، تو اس صورت میں مراد یہ ہوگی کہ ایسے منافقین جن کا معاملہ یہ ہے کہ اللہ سے بھی کوئی بات سچی نہیں کرتے اگر حکومت واقتدار حاصل کرلیں تو انجام یہ ہوگا امن عالم کو تباہ کردیں گے اور لوگوں کے حقوق پامال کرتے ہوئے قطع رحمی کرنے لگیں گے حکومت واقتدار کا نشہ بالعموم اعتدال و انصاف کی راہ سے بھٹکا دیتا ہے دنیا کی حرص، جاہ ومال، نفس پرستی، اغراض و خواہشات کی پیروی کا نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ فتنے اور ہنگامے پھیلتے ہیں، باہمی تعلقات انس و محبت اور اخوت کی فضا قطعا ختم ہوجاتی ہے ان تمام برائیوں سے بچانے والی قوت ایمان واخلاص ہے اس لئے اگر حکومت واقتدار ان برائیوں سے محفوظ رہ سکتا ہے تو وہ ایمان واخلاص ہی کی وجہ سے ممکن ہوگا ورنہ منافق قسم کے لوگوں کا اقتدار و حکومت عالم کی تباہی ہی کا موجب ہوگی۔ 1 حاشیہ (ملاحظہ فرمائیں روح المعانی تفسیر قرطبی اور ابن کثیر 12 منہ ) (آیت ) ” اولیک الذین لعنھم اللہ “۔ میں یہی ظاہر فرمایا جارہا ہے کہ فساد فی الارض اور قطع علائق مخلوق خدا کی خدا کی رحمت سے دور اور محروم کردینے والی ہے۔ صلہ رحمی کی تاکید اور معاشرہ میں اس کی آثار وبرکات : تفسیر کے سابق حصوں میں صلہ رحمی کے بارے میں تفصیل سے کلام کیا جاچکا ہے صلہ رحمی حقوق قرابت کے ادا کرنے کا نام ہے قطع رحمی کرنے والے کتاب اللہ میں بدترین مجرم قرار دئیے گئے اور صلہ رحمی اور حقوق قرابت ادا کرنے والوں کو مفلحین وفائزین میں شمار فرمایا گیا۔ لفظ ” رحم “ وضع لغت کے لحاظ سے ماں کے پیٹ میں بچہ کے مقام تخلیق کو کہتے ہیں کیونکہ تمام رشتوں اور قرابتوں کا اصل منشاء یہی ہے اس وجہ سے رحم قرابت کا نام ہوا۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ 1 حاشیہ (ابن کثیر، جامع ترمذی ابوداؤد۔ 12) کہ حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا جو شخص صلہ رحمی کرے گا میں اس کو اپنے قریب کروں گا اور جو شخص قطع رحمی کرے گا میں اس کو اپنے سے قطع اور جدا کردوں گا۔ اور یہ بھی ارشاد ہے کہ میں رحمن ورحیم ہوں رحم (قرابت) کو میں نے اپنے نام میں سے نکالا ہے آنحضرت ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا قطع رحمی اور ظلم کے علاوہ کوئی گناہ ایسا نہیں ہے کہ اسکی آخرت کی سزا کے علاوہ دنیا میں بھی اس کی سزا جلد از جلد دیتا ہو۔ 2 حاشیہ 2 (ابن کثیر۔ 12) حضرت ثوبان ؓ فرماتے تھے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اسکے رزق اور اس کے رزق اور اس کی عمر میں برکت ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ صلہ رحمی کرے اور صلہ رحمی یہ نہیں ہے کہ اگر کوئی عزیز و قریب قرابت کا لحاظ کرتا ہے تو اس کے ساتھ ایسا ہی حق قرابت کی ادائیگی کا معاملہ کیا جائے گا بلکہ صلہ رحمی کی حقیقت وہ ہے جس کو فرمایا گیا ” لیس الواصل بالمکافی ولکن الواصل الذی اذا قطعت رحمہ وصلھا۔ یعنی صلہ رحمی کرنیوالا وہ شخص نہیں جو مکافات اور بدلہ کا معاملہ کررہا ہو، حقیقت میں صلہ رحمی کرنے والا تو وہ شخص ہے کہ جب اس کے ساتھ قطع تعلق اور حقوق قرابت کی پامالی کا معاملہ کیا جائے تو یہ صلہ رحمی کرے اور اپنے اوپر جو حق قرابت عائد ہے اسکو ادا کرتا رہے۔ ظاہر ہے کہ معاشرہ میں اگر یہ خوبی عملی طور پر پھیل جاتے کہ ہر شخص اپنے حقوق کی وصولی اور مطالبہ کے جذبات وجدوجہد سے بےنیاز ہو کر صرف اسی فکر میں لگ جائے کہ مجھ پر جو حقوق دوسروں کے عائد ہیں جس طرح ممکن ہو اور جو بھی کچھ ہو ادا کروں گا تو بلاشبہ یہ طرز زندگی انسانی حیات اطمینان و راحت اور سکون و عافیت کا گہوارہ بنا دے گا