Ayahs 47:29–33تہدید وتحذیر باظہار مکر وتدابیر منافقین ودشمنان اسلام ومساعین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ام حسب الذین فی قلوبھم مرض ...... الی ...... ولا تبطلوا اعمالکم “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں جہاد کے حکم پر منافقین کے بیہودہ رویہ اور طرز عمل کا ذکر تھا اب ان آیات میں انکو مخاطب کرتے ہوئے تنبیہ کی جارہی ہے اور آگاہ کیا جارہا ہے کہ اللہ رب العزت سے انکی کوئی بھی بات مخفی نہیں ہے اللہ جب چاہے انکے راز فاش کرسکتا ہے انکے نام انکی علامات اور نشانیوں کے ذریعے سے بھی مسلمانوں کو آگاہ کرسکتا ہے کہ یہ لوگ منافق اور اسلام و مسلمانوں کے دشمن ہیں ساتھ ہی اہل ایمان کو اس پر متوجہ کیا جارہا ہے کہ دشمنان اسلام کے اس رویہ اور طرز عمل سے نہ گھبرائیں بلکہ اسکو ایک طرح سے جہاد کا مرحلہ سمجھتے ہوئے ہمت کے ساتھ مردانہ وار مقابلہ کریں اور صبر و استقامت اختیار کریں اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت میں لگے رہیں اسی میں کامیابی ہے ارشاد فرمایا۔
کیا گمان کرلیا ہے ان لوگوں نے جن کے دلوں میں روگ ہے کہ اللہ ظاہر نہیں کرے گا انکے کینے اور دل میں چھپے ہوئے وہ جذبات حسد وعناد جو مسلمانوں کے خلاف انکے دلوں میں بھرے ہوئے ہیں، انکو ہرگز یہ خیال نہ کرنا چاہئے بلکہ انکو یہ سجھ لینا چاہئے کہ انکے یہ سارے مکائد اور راز بہت جلد طشت از بام کردیئے جائیں گے اور امتحان وآزمائش کی ایسی بھٹی میں انکو ڈالے گا کہ کھرا اور کھوٹا الگ ہوجائے گا اور اگر ہم چاہیں تو آپ کو دکھلادیں وہ لوگ اور ان منافقین کو نام بنام آپ کے سامنے ظاہر کردیا جائے لیکن حکمت خداوندی یہ نہیں کہ سب منافقوں کو باشخاصہم آپ ﷺ کو دکھلا دیا جائے ویسے۔ 1
حاشیہ (لفظ ” ویسے تو “ (آیت ) ” فلعرفتھم “۔ میں حرف ” فا “ کا ترجمہ ہے فاچون کہ تعقیب کے لئے استعمال کی جاتی ہے اور یہاں بھی جس معرفت کا ذکر ہورہا ہے وہ ایسی معرفت اور پہچان ہے جو حاصل ہوچکی اس بناء پر ” ویسے تو “ کا عنوان محاورہ کی رو سے اختیار کیا۔ 12)
تو آپ انکو پہچان چکے ہیں انکے چہروں کی نشانیوں سے اور آئندہ پہچانیں گے ان کی گفتگو کے انداز سے اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے تمہارے اعمال، انسانوں کی نظروں سے تمہارے اعمال چھپ سکتے ہیں مگر اللہ سے کسی کا کوئی عمل پوشیدہ نہیں خواہ کتنے ہی پردوں میں وہ کام کیا جائے اور البتہ ہم تم کو آزمائیں گے یہاں تک کہ ہم معلوم کرلیں دیکھ لیں اور دنیا کی نظروں میں بھی یہ بات لے آئیں کہ کون لوگ تم میں جہاد کرنے والے ہیں اور تم میں سے کون صابر اور ثابت قدم رہنے والے ہیں اور خوب جانچ لیں، ہم تمہاری خبریں تاکہ ہر ایک کے ایمان وانقیاد اور اطاعت وفرمانبرداری کا حال عملی طور سے ظاہر ہوجائے۔
بیشک جو لوگ منکر ہیں اور انہوں نے اللہ کی راہ سے دوسروں کو بھی روکا اور مخالفت کی اللہ کے رسول کی، بعد اس کے کہ ظاہر ہوچکی ہدایت اور سیدھی راہ ان پرتو ایسے لوگ ہرگز اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے اور ضائع کردے گا اللہ انکے سب کام اور ان کی وہ تمام ترکوششیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مقابلہ میں اور اسلام کو نقصان پہنچانے کیلئے کریں گے وہ سب کوششیں بےکار ہوں گی اور اس سلسلہ میں جو وہ نام ونمود کے طور پر کچھ بہترکام کریں گے اللہ تعالیٰ اس کو بھی برباد کردیگا اس لئے اے ایمان والو ! تم اللہ کی اطاعت کرو اور فرمانبرداری کرو اس کے رسول ﷺ کی اور اپنے اعمال باطل نہ کرو کسی قسم کی ریاء اور باطنی کھوٹ کی وجہ سے۔
نفاق کے آثار کا چہرہ اور لب و لہجہ سے نمایاں ہونا :
منافقین کا ذکر کرتے ہوئے ان آیات میں یہ فرمایا گیا کہ اگر ہم چاہیں تو آپ ﷺ کو انکے چہرے دکھا دیں اور معین اشخاص کے ساتھ انکے سامنے آپ ﷺ کو کردیں مگر یہ بات حکمت الہیہ کے خلاف ہے اس وجہ سے صرف اتنی ہی بات پر اکتفاء کی جاتی ہے کہ آپ ﷺ انکے باطنی نفاق کے آثار ونشانات انکے ظاہری اعمال اور احوال میں جانچیں چناچہ جب بھی اس حیثیت سے دیکھا جائے گا تو وہ پہچان لئے جائیں گے اللہ رب العزت نے مومن کو نور فراست عطا کیا ہے وہ لب و لہجہ اور طرز گفتگو سے پہچان لے گا مخلص و منافق کی بات اور عمل کا رنگ ڈھنگ مختلف ہوتا ہے بعض روایات سے ثابت ہے کہ حق تعالیٰ شانہ نے حضور ﷺ کو بعض منافقین کے نام سے آگاہ کردیا تھا اور جس وقت آپ ﷺ کو ان کے ناموں سے آگاہ کیا گیا تو آپ ﷺ نے انکو اسی وقت نام بنام اپنی مجلس سے پکار کر اٹھا دیا بعض احادیث میں یہ آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت حذیفہ ؓ کو کچھ منافقین کے نام بتا دیئے اور اسی وجہ سے بعض دفعہ کبار صحابہ ؓ ان سے راستہ میں جب کبھی ملتے تو قسم دے کر پوچھتے کہ تمہیں خدا کی قسم، بتا دو کہیں ہمارا نام تو رسول اللہ ﷺ نے منافقین میں نہیں ذکر فرمایا۔
الغرض ابتداء میں تو شخصی طور پر منافقین کو ظاہر ومعین نہیں کیا گیا تھا بلکہ یہی بتایا گیا تھا (آیت ) ” ولتعرفنھم فی لحن القول “۔ لیکن تفسیر درمنثور کی ایک روایت سے جو حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے معلوم ہوا کہ بعد میں کچھ منافقین کے نام اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو بتا دیتے چناچہ فرماتے ہیں۔
ثم دل اللہ تعالیٰ النبی ﷺ بعد علی المنافقین فکان یدعوا باسم الرجل من اھل النفاق۔ کہ بعد میں اللہ رب العزت نے نبی کریم ﷺ کو جب منافقین بتا دیئے تو آپ ﷺ منافقین میں کسی کا نام لے کر بعنوان منافق پکارا کرتے۔
اور تفسیر روح المعانی میں حضرت انس ؓ سے بیان کیا۔ کان (علیہ السلام) یعرفھم بسیماھم۔ یعنی نبی کریم ﷺ انکی نشانی سے انکو پہچان لیتے تھے یہاں اس آیت میں ایک پہچان تو سابق بتائی (آیت ) ” فلعرفتھم بسیماھم “۔ اور ایک معرفت وپہچان مستقبل کے بارے میں فرمائی گئی (آیت ) ” فلتعرفنھم فی لحن القول “۔ کہ لب و لہجہ سے پہچان لیں گے ان دونوں میں کوئی اختلاف نہیں سابق پہچان باطن کے نفاق کا اثر ظاہر میں محسوس ہونا ایک امر ظنی کے درجہ کی چیز ہے اور لحن القول ایک حسی مشاہدہ ہے۔
اور رہا حضرت حذیفہ ؓ کو نام بنام منافقین کا بتا دینا تو وہ اشخاص معینہ کی حیثیت سے تھا جن کو گویا بارگاہ رب العالمین سے طے کردیا گیا تھا کہ یہ منافق ہیں انکے علاوہ باقی منافقین کے بارے میں یہ فرما دیا گیا کہ آپ ﷺ ان کو ان کے لب و لہجہ سے پہچان لیں گے۔
Ayahs 47:34–38بیان انجام کفر وعناد از اسلام وتلقین صبر و استقامت برائے مومنین مع بشارت غلبہ و کامیابی حق :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ان الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ ...... الی ....... لا یکونوا امثالکم “۔
(ربط) اس سے قبل بیان چل رہا تھا کہ منافقین کا نفاق چھپا نہیں رہ سکتا اور انکی سازشیں بھی مخفی نہیں رہ سکتیں نفاق اور ان منافقین کی سازشیں اور مکرو فریب سب کچھ طشت از بام کردیا جائے گا اب ان آیات میں منکروں اور اسلام کے دشمنوں کا انجام بدبیان کیا جارہا ہے کہ ان کے واسطے دنیا میں بھی ہلاکت ہے اور آخرت میں بھی عذاب ہے اور اسی کے ساتھ مسلمانوں کو صبر و استقامت کی تلقین فرماتے ہوئے کو غلبہ و کامیابی کی بشارت سنائی جارہی ہے اور یہ بتا جارہا ہے کہ مسلمان قوم کی فتح ونصرت کس بنیاد پر قائم ہے انکو چاہئے کہ دنیا اور دنیا کی زیب وزینت اور دھوکہ میں نہ پڑیں اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے جہاد میں مصروف رہیں اور کسی قسم کی بھی جانی اور مالی قربانی سے کوئی دریغ نہ کریں جو کچھ وہ اللہ کی راہ میں خرچ کریں گے لوٹ کر اس کا فائدہ تصور سے بھی بالا و برتر ان ہی کو پہنچے گا اور اگر مال و دولت کی محبت میں بخل کریں گے اس کے نقصانات انہی کو برداشت کرنے پڑیں گے۔
ارشاد فرمایا بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستہ سے دوسروں کو روکا پھر وہ مرگئے اسی حالت پر کہ وہ کافر ہی رہے تو اللہ تعالیٰ انکو ہرگز نہیں بخشے گا اس لئے کہ کفر وشرک کی اللہ کے یہاں کوئی معافی اور مغفرت نہیں، بالخصوص جب کہ یہ کافر بھی رہے اور دوسروں کو بھی ایمان لانے سے روکتے رہے۔
کافر چونکہ اسلام کا دشمن ہے اور دشمن اپنی ہر طاقت اور تدبیر بروئے کار لایا کرتا ہے غلبہ حاصل کرنے کیلئے تو یقیناً وہ مسلمانوں کو نقصان پہنچانے میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑیں گے تو مسلمانوں کو چاہئے کہ کفار کے مقابلہ میں سست کمزور اور کم ہمت نہ بنیں اس لئے اے مسلمانو ! تم کمزور اور بودے نہ بنو اور جنگ کی سختیوں سے گھبرا کر تم پکارنے لگو صلح کی طرف جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تم اپنی کمزوری کی وجہ سے انکے غلبہ اور تسلط کو مان لو گے اور پھر ایسی صورت میں نہ کبھی تم کافروں سے جہاد کرسکو گے اور نہ کفر کی قوت و شوکت کو توڑ سکوگے اور جب کفر کی قوت و شوکت نہ ٹوٹ سکے گی تو پھر ایمان وہدایت عالم میں کس طرح پھیلے گی اور اعلاء کلمۃ اللہ اور غلبہ دین اسلام کیونکر ہوسکے گا۔
تو اے مسلمانو ! تم ہرگز نہ گھبراؤ اور تم ہی غالب رہو گے اور اگر تم صبر و استقلال کے ساتھ احکام خداوندی پر ثابت قدم رہے تو اللہ تمہارے ساتھ ہے، اور ہرگز بھی وہ پروردگار تمہارے کاموں میں کوئی نقصان نہ ہونے دے گا تم مطمئن رہو جب وہ تمہارے ساتھ ہے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ تم مغلوب ہوجاؤ اور تمہاری کوششیں کامیاب نہ ہوں اس لئے گھبرا کر کافروں کیساتھ بغیر جہاد و قتال کے صلح کی طرف مائل نہوں ہاں اگر کسی وقت اسلام کی مصلحت اور مسلمانوں کی بھلائی مصالحت میں نظر آئی تو اس پر وحی الہی سے تم کو مطلع کردیا جائے گا اور اس میں پھر مضائقہ نہ ہوگا جیسے کہ صلح حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا اور اس پر مصالحت نہ ہونے کی صورت میں جو عظیم خطرات ونقصانات تھے ان سے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو بچانے کے لئے صلح کرلینے کی اجازت دی جبکہ پہلے متعدد غزوات ہوچکے تھے اور کافروں کو مسلمانوں کی قوت وہمت کا اندازہ ہوچکا تھا ،
رہا ہر مقابلہ اور جہاد کی صورت پیش آنے پر صلح کی پیش کش کرنا اور عملا جہاد کی کوششوں سے گریز کرنا دنیوی حیات کے مرغوب ہونے آثار میں سے معلوم ہوتا ہے تو اس کے لئے یہ بات ہر وقت قلب کی گہرائیوں میں رچی رہنی چاہئے بس دنیا کی زندگی ایک کھیل اور تماشا ہے اور اگر تم یقین لاؤ گے اور تقوی اختیار کرو گے ،۔ 1
حاشیہ (استاذ محترم شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی (رح) اپنے فوائد میں تحریر فرماتے ہیں آیت ”۔ وان تؤمنوا وتتقوا “۔ کی تفسیر میں یعنی اگر تم ایمان وتقوی اختیار کرو گے اور اس کھیل تماشے سے ذرا بچ کر چلو گے تو اللہ تعالیٰ اس کا پورا بدلہ دے گا اور تمہارا مال بھی تم سے طلب نہیں کرے گا اسے کیا حاجت ہے وہ تو خود دینے والا ہے کما قال تعالیٰ (آیت ) ” ما ارید منھم من رزق وما ارید ان یطمعون ان اللہ ھو الرزاق ذوالقوۃ المتین “۔ اور اگر طلب بھی کرے تو مالک حقیقی وہی ہے تمام مال اسی کا ہے مگر اس کے باوجود دین کے معاملہ میں جب خرچ کرنے کو کہتا ہے تو تمام مال خرچ کرنے کو نہیں بلکہ ایک تھوڑا سا حصہ طلب کیا جاتا ہے وہ بھی اپنے لئے نہیں بلکہ تمہارے ہی فائدہ کو ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں ” حق تعالیٰ نے ملک فتح کر ادئیے مسلمانوں کو تھوڑے ہی دن (اپنی گرہ سے) پیشہ خرچ کرنا پڑا پر پھر جتنا خرچ کیا تھا اس سے سو سو گنا ہاتھ لگا اسی مطلب سے قرآن کریم میں کئی جگہ فرمایا اللہ تعالیٰ کو قرض دو “۔ انتہی کلامہ۔ )
تو وہ پروردگار تمہارے اجر تم کو دے گا اور وہ نہیں مانگتا تمہارے مال اپنے کسی فائدہ کے لیے بلکہ یہ جو کچھ انفاق فی سبیل اللہ کا حکم ہے اول تو مال میں سے بہت ہی معمولی مقدار کا ہے یہ نہیں کہ سارا مال تم سے طلب کیا جارہا ہے اور پھر جو تھوڑا بہت مانگا جاتا ہے اس کے اجور اور بدلے دنیا اور آخرت میں تم ہی کو لوٹا دیئے جاتے ہیں۔
اگر وہ سوال کرلے تم سے تمہارے سارے مال کا جو تم کو دے رکھا ہے جس کا اسکو حق ہے پھر تم کو تنگ کرے اور مجبور کیا جائے کہ کل مال ہی دینا ضروری ہے تو تم بخل کرنے لگوگے اور اس صورت میں اللہ تعالیٰ تمہارے دل میں چھپی ہوئی چیزوں کو ظاہر کر دین مال کی محبت تنگ دلی اور بخل جو انسان کی فطری کمزوری سے اس کے اندر چھپا ہوا ہوتا ہے تو کل مال طلب کرنے میں بہت سے لوگوں کے یہ مخفی عیب ظاہر ہوتے صرف چند ہی باکمال مردان خدا ایسے ہوتے جو اپنا سب کچھ سمیٹ کرلے آتے اور صدیق اکبر ؓ کی طرح کہہ دیتے جو کچھ تھا سب لے آیا اور گھر والوں کے واسطے اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ آیا ہوں اس لئے اللہ کا یہ کس قدر احسان عظیم ہے کہ انفاق فی سبیل اللہ جو درحقیقت خود انسانوں کے واسطے باعث خیر و فلاح اور برکت ہے اس میں صرف تھوڑے سے مال کو طلب کرتا ہے اور اس صورت سے انکی کوتاہیوں اور عیوب کی پردہ پوشی فرمانے والا ہو خبردار ہوجاؤ تم ایسے ہو کہ تم کو جب دعوت دی جاتی ہے اس بات کیلئے کہ تم خرچ کرو اللہ کی راہ میں تو کچھ لوگ تم میں سے وہ ہوتے ہیں کہ جو بخل کرتے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ جو شخص بھی بخل کرے گا وہ حقیقت میں اپنے ہی لئے بخل کررہا ہے اس لئے کہ اس بخل کا نقصان خود اسی کو پہنچے گا اور جو برکات وفوائد انفاق فی سبیل اللہ پر مرتب ہوتے ان سے اپنے آپ ہی کو محروم کردینے والا ہوگا اور اللہ تو بےنیاز ہے اسے کسی کی حاجت نہیں اور نہ کسی کے خرچ کا وہ محتاج ہے اور تم ہی تو محتاج ہو اللہ رب العزت کے حتی کہ تم اپنے وجود اور بقاء حیات میں سراپا احتیاج ہو اور ایک لمحہ کے لیے بھی خدا سے مستغنی نہیں ہوسکتے۔
اور اگر تم روگردانی کرو گے تو اللہ ایک دوسری قوم کو تمہاری جگہ لے آئے گا اور وہ پھر تمہاری ظرح نہ ہوں گے کہ احکام خداوندی کی فرمانبرداری میں پس وپیش کریں اور مال و دولت کی محبت میں اور انفاق فی سبیل اللہ کا فرض انجام دینے میں کوتاہی کریں خدا کا دین کسی جماعت پر موقوف نہیں کہ بس وہی دین خدا کی حفاظت واعانت کرسکتے ہیں انکے سوا اور کوئی یہ کام انجام نہیں دے سکتا یہ خیال باطل ہے وہ اپنی حکمت سے جس قوم اور طبقہ کو چاہے اقامۃ دین اور اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے منتخب کرلے (آیت ) ” اللہ یجتبی الیہ من یشآء ویھدی الیہ من ینیب۔
منت منہ کہ خدمت سلطاں ہمی کنی
منت شناس از و کہ بخدمت بداشتت۔
امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے وجود بابرکت کے لئے قرآنی بشارت :
(آیت ) ” وان تتولوا “۔ کا خطاب درحقیقت ان قاصرین وضعفاء کے لیے تنبیہ وتہدید ہے جو اپنی فطری کمزوریوں یا حالات اور دیگر مصالح کے پیش نظر جہاد فی سبیل اللہ اور اعلاء کلمۃ اللہ کا مقدس فرض ادا کرنے میں کسی قسم کی کوتاہی برتیں اور حب مال کے باعث خدا کی راہ میں خرچ کرنے میں بخل کریں تو ان کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ خدا کو تم جیسوں کی اعانت اور مدد کی ضرورت نہیں وہ بےنیاز ہے اور تم ہی سراپا محتاج ہواگرتم اپنی اس روش سے باز نہ آؤ گے تو خداوند عالم تم جیسے گروہ کی جگہ اور کوئی گروہ اور جماعت لے آئے گا اور پھر وہ اپنے جان ومال اور علمی وعملی تمام ترقوتوں اور صلاحیتوں سے اللہ کا دین قائم کرنے میں مصروف ہوجائیں گے وہ نہایت فراخ دلی سے اللہ کے احکام کی تعمیل کریں گے اور بےدریغ اس کی راہ میں خرچ کریں گے۔
حدیث میں ہے کہ اس آیت کو سن کر بعض صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ دوسری قوم کون سی ہے جس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے آپ ﷺ نے حضرت سلمان فارسی ؓ پر ہاتھ رکھ کر فرمایا۔ 1
حاشیہ (ایک اور روایت ہے کہ انکی ران پر ہاتھ مار کر فرمایا، 12)
” اسکی قوم “ اور فرمایا ” خدا کی قسم ایمان اگر ثریا پر جا پہنچے تو فارس کے لوگ اس کو وہاں سے بھی اتار لائیں گے “۔ الحمد للہ کو حضرات صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین، اس بےمثال ایثار اور جوش ایمانی کا ثبوت دیا کہ ان کی جگہ دوسری قوم کو لانے کی نوبت نہ آئی تاہم فارس والوں نے اسلام میں داخل ہو کر علم اور ایمان کا وہ شاندار مظاہرہ کیا اور علمی ودینی ایسی زبردست خدمات انجام دیں جنہیں دیکھ کر ہر شخص کو ناچار یہ اقرار کرنا پڑتا ہے کہ حضور ﷺ کی پیش گوئی کے موافق یہ ہی قوم تھی جو بوقت ضرورت عرب کی جگہ پر کرسکتی تھی۔
ہزار علماء وائمہ سے قطع نظر کرکے تنہا امام اعظم ابوحنفیہ (رح) کا وجود ہی اس پیش گوئی کے صدق پر کافی شہادت ہے بلکہ اس بشارت عظمی کے کامل اور اولین مصداق امام صاحب (رح) ہی ہیں ؓ وارضاہ ،
شیخ جلال الدین سیوطی (رح) نے مناقب ابوحنیفہ (رح) پر جو کتاب لکھی اس میں فرمایا ہے کہ اس سے مراد ابوحنیفہ (رح) اور انکے اصحاب ہیں کیونکہ آبنائے فارس میں کوئی جماعت علم کے اس مرتبہ پر نہیں پہنچ سکی جس پر امام ابوحنیفہ (رح) اور انکے اصحاب پہنچے اور یہ حقیقت ہے کہ فقہ حنفیی پر نظر کرنے والا شخص یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہوگا کہ واقعی حضرت امام ابوحنیفہ (رح) دلائل فقہیہ اور استنباط احکام میں آسمان کے تارے توڑ کر لائے ہیں،
الحمد للہ تم تفسیر سورة محمد ﷺ صباح یوم الجمعۃ 5 ربیع الاول 1403 ھجری وللہ الحمد والمنۃ :