46. Surah Al-Ahqaf

الأحقافThe Dunes · 35 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 46:1–10

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 46:2 in the Quran reader

(یہ) کتاب خدائے غالب (اور) حکمت والے کی طرف سے نازل ہوئی ہے

مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَمَّاۤ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 46:3 in the Quran reader

ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں میں ہے مبنی برحکمت اور ایک وقت مقرر تک کے لئے پیدا کیا ہے اور کافروں کو جس چیز کی نصیحت کی جاتی ہے اس سے منہ پھیر لیتے ہیں

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ؕ اِیْتُوْنِیْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ هٰذَاۤ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 46:4 in the Quran reader

کہو کہ بھلا تم نے ان چیزوں کو دیکھا ہے جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو ؟ (ذرا) مجھے بھی تو دکھاؤ کہ انہوں نے زمین میں کونسی چیز پیدا کی ہے یا آسمانوں میں ان کی شرکت ہے اگر سچے ہو تو اس سے پہلے کی کوئی کتاب میرے پاس لاؤ یا علم (انبیائ) میں سے کچھ (منقول) چلا آتا ہو (تو اسے پیش کرو)

وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَهٗۤ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ وَ هُمْ عَنْ دُعَآئِهِمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 46:5 in the Quran reader

اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوسکتا ہے جو ایسے کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہ دے سکے اور انکو ان کے پکارنے ہی کی خبر نہ ہو ؟

وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَآءً وَّ كَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 46:6 in the Quran reader

اور جب لوگ جمع کئے جائیں گے تو وہ انکے دشمن ہوں گے اور انکی پرستش سے انکار کریں گے

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 46:7 in the Quran reader

اور جب انکے سامنے ہماری کھلی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کافر حق کے بارے میں جب ان کے پاس آچکا کہتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَلَا تَمْلِكُوْنَ لِیْ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ كَفٰى بِهٖ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 46:8 in the Quran reader

کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اس کو ازخود بنا لیا ہے ؟ کہہ دو اگر میں نے اس کو اپنی طرف سے بنایا ہو تو تم خدا کے سامنے (میرے بچاؤ) کے لئے کچھ اختیار نہیں رکھتے وہ اس گفتگو کو خوب جانتا ہے جو تم اسکے بارے میں کرتے ہو وہی میرے اور تمہارے درمیان گواہ کافی ہے اور وہ بخشنے والا مہربان ہے

قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَ مَاۤ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَ لَا بِكُمْ١ؕ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 46:9 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں کوئی نیا پیغمبر نہیں آیا اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ (کیا جائے گا) میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی آتی ہے اور میرا کام تو علانیہ ہدایت کرنا ہے

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ كَفَرْتُمْ بِهٖ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى مِثْلِهٖ فَاٰمَنَ وَ اسْتَكْبَرْتُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 46:10 in the Quran reader

کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر یہ (قرآن) خدا کی طرف سے ہو اور تم نے اس سے انکار کیا اور بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ اسی طرح کی ایک (کتاب) کی گواہی دے چکا اور ایمان لے آیا اور تم نے سرکشی کی (تو تمہارے ظالم ہونے میں کیا شک ہے ؟ ) بیشک خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

دلائل قدرت خداوندی وگمراہی منکرین قیامت و اثبات رسالت نبی کریم ﷺ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” حم تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم ...... الی ...... لا یھدی القوم الظلمین “۔ (ربط) گذشتہ سورت کی آخری آیات میں قرآن کریم کی حقانیت کا بیان تھا اور یہ کہ قیامت ایک حقیقت ہے جس پر ایمان ویقین انسانی سعادت اور فوز و فلاح ہے اور دین و احکام دین کا تمسخر و مذاق جس طرح کہ منکرین ومکذبین کاشیوہ ہے بدنصیبی وبدبختی ہے حق تعالیٰ کی شان کبریائی کے مقابلہ میں کسی کو بھی جرأت نہیں ہوسکتی کہ سر اٹھا سکے ارشاد فرمایا جارہا ہے، حم خداوند عالم ہی اس کی مراد خوب جانتا ہے قسم ہے اس کتاب ہدایت کی اتارنا ہے اس کتاب عظیم کا اللہ ہی کی طرف سے جو زبردست حکمت والا ہے اس کی شان حکیمی کے باعث اس کتاب الہی کی ہر بات حکمت سے لبریز ہے اور اس کی قوت و غلبہ کی و جہ سے اس کے کسی حکم یا فرمان کو ٹلایا نہیں جاسکتا۔ اسی ہدایت اور احکام کی تمام مخلوق کو دعوت دی گئی اور اسی کے واسطے عالم پیدا کیا گیا چناچہ یہ حقیقت ہے کہ ہم نے نہیں بنائے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے مگر ٹھیک ٹھیک اور حق کے ساتھ کہ ہر پیدا کی ہوئی چیز حکمت کے ساتھ ہے اور اسکا حق ہونا اور حق تعالیٰ کی خالقیت کا دلیل ہونا برحق ہے اور ایک مقررہ وقت کے ساتھ لہذا عالم کی ہر چیز اسی وقت تک کے لیے جس کے واسطے اللہ نے اس کو بنایا حتی کہ خود عالم بھی اسی وقت تک قائم رہے گا جب تک کہ واسطے اللہ نے اس کو بنایا ہے اور جو لوگ منکر ہیں وہ ان باتوں سے بےرخی کرتے ہیں جن سے ان کو ڈرایا گیا نہ تنبیہ وتہدید کا خیال ہے نہ عبرتناک واقعات کی طرف کوئی توجہ اور نہ آخرت کی تیاری جو بھی وعید ونصیحت کی باتیں سنتے ہیں بےتوجہی سے اس کو ٹال دیتے ہیں کہہ دو اے ہمارے پیغمبر بھلا دیکھو تو کہ تم جن کو پکارتے ہو اللہ کو چھوڑ کر تم مجھے دکھلاؤ کہ انہوں نے کیا چیز پیدا کی ہے زمین سے یا ان کے واسطے کچھ شرکت ہے آسمانوں اور آسمانوں کی کسی چیز میں خداوند عالم نے تو سارا عالم بنایا زمین و آسمان پیدا کئے بتاؤ ان مبعودوں نے جن کو خدا کی الوہیت و عبادت میں تم شریک کرتے ہو انہوں نے کیا پیدا کیا ہے کیا زمین کا کوئی ٹکڑا بنایا یا آسمان کی کوئی چیز پیدا کی میرے پاس لے کر آؤ کوئی نوشتہ یا لکھی ہوئی کتاب یا کوئی ثبوت اور نقل علم سے اگر تم سچے ہو ظاہر ہے کہ اس دعوی پر دنیا میں کسی ہمت نہیں جواب دے سکے اور ثبوت پیش کرسکے۔ اور یہ حقیقت ہے کہ اس شخص سے زیادہ اور کون گمراہ ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر ایسے معبود کو پکارتا ہے جو اس کو قیامت تک جواب نہیں دے سکتا اور جواب تو کیا وہ معبود تو اپنے عابدوں کی پکار سے ہی بیخبر ہیں بت پرستوں کے معبودبت ہوں یا مادہ پرستوں کے خیالی معبود کوئی بھی ان میں سے ایسا نہیں کہ خود اس میں ادراک اور شعور ہو تو جب ان معبود ان باطلہ میں خود ہی ادراک و شعور نہیں تو اپنے عابدوں کی پکار کہاں سے سنیں گے اور انکی بات کیا پوری کریں گے فرشتوں اور انبیاء کو خدا اور معبود بنانے والے بھی خود اپنی آواز نہ فرشتوں کو سنا سکتے ہیں اور نہ انبیاء کو فرشتے اور انبیاء وہی سن سکیں گے جو خدا انہیں سنائے گا اور وہی کرسکیں گے جس کی اجازت خدا دے گا اور جب یہ لوگ مشرکین و کفار جمع کیے جائیں گے میدان حشر میں تو وہ انکے معبود ان کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت کا انکار کرنے والے ہوں گے بلکہ سخت بیزاری اور نفرت کا اظہار کریں گے اور ان کی بیزاری ونفرت اپنے عابدوں سے دشمنی کی صورت میں محسوس ہوتی ہوگی اور جب سنائی جاتی ہیں انکو ہماری واضح آیتیں اور کھلے احکام تو یہ منکر اس حق کو جو انکے سامنے آچکا کہتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے بجائے اس کے کہ آیات قرآنیہ کی طرف توجہ اور ان سے عبرت ونصیحت حاصل کریں یہ کہہ کر ٹال دیتے ہیں کہ ” یہ تو جادو ہے “ اور اس میں انکی یہ غرض بھی ہوتی ہے کہ آیات کو سن کر قلبی میلان جو ہوتا ہے تو اس سے لوگوں کے ذہنوں کو برگشتہ کرنے کے لیے یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ یہ جادو ہے اور دلوں کا میلان بھی جادو کا اثر ہے بلکہ یہ لوگ کبھی کبھی یہ کہتے ہیں یہ تو خود ہی انہوں نے بنایا ہے نہ خدا کی وحی ہے اور نہ یہ خدا کے رسول ہیں خدا پر بہتان لگایا ہے کہ یہ اس کی کتاب ہے تو کہہ دو اے ہمارے پیغمبر اگر میں اس خدا پر کسی بات کا افتراء کروں اور کوئی کلام خود بنا کر تمہیں سناؤں اور یہ کہوں کہ یہ خدا کا کلام ہے تو ظاہر ہے کہ یہ بات خدا کے قہر اور غضب کو دعوت دینا ہوگی اور میں یہ کیسے جسارت کرسکتا ہوں کہ انسانوں پر تو کبھی جھوٹ نہ لگاؤں اور خداوند عالم پر جھوٹ بہتان لگاؤں یقیناً ایسا اگر کیا تو خدا کا غضب نازل ہوگا تو پھر تم میرے واسطے کسی بات کی بھی قدرت نہ رکھ سکو گے اللہ کے سامنے وہ خوب جانتا ہے ان باتوں کو۔۔ جن میں تم لگے ہوئے ہو لہذا اس قسم کی بےہودوہ باتوں اور مہمل خیالات کے انجام سے غافل نہ ہو وہی پروردگار کافی ہے میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہونے، کے لحاظ سے یقیناً وہ میرے اور تمہارے درمیان ایسا فیصلہ کردے گا کہ تم خود اس کلام ربانی کی حقانیت اور میری نبوت و رسالت کا یقین کرلو گے اور وہی مغفرت کرنے والا مہربان ہے اگر تم اب بھی باز آجاؤ تو کسی مغرفت ومہربانیاں تمہیں نوازنے کیلئے کافی ہیں کہہ دو اے ہمارے پیغمبر میں نہیں ہوں کوئی نرالا رسول رسولوں میں سے بلکہ اللہ کے رسول جس طرح دنیا میں اللہ کی ہدایات لیکر آئے میں بھی اس خدا کا بھیجا ہو رسول ہوں اسکی وحی اور کلام مجھ پر نازل ہوتا ہے جس طرح اللہ کے پیغمبروں نے خدا کی توحید والوہیت کی طرف دعوت دی میں بھی تم کو خدا کی توحید کی دعوت دیتا ہوں شرک وکفر اور بت پرستی چھوڑ دینے کیلئے کہتا ہوں پھر آخر میری باتوں سے تم کیوں بدکتے ہو اور میری نبوت و رسالت کے ماننے اور قرآن کریم پر ایمان لانے میں کیا تامل ہے میں اللہ کا رسول ہوں میرے ذمہ صرف اللہ کا پیغام اور اسکے احکام پہنچانا ہے میں اس کا ذمہ دار نہیں کہ اس کا انجام کیا ہوگا میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا ہوگا اور نہ یہ جانتا ہوں کہ تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا میری کامیابی وناکامی بھی اللہ کے علم میں ہے اور یہ بھی اللہ کے علم میں ہے کہ تمہاری اس نافرمانی اور بغاوت کا انجام کیا ہوگا ان سب باتوں سے بےپرواہ ہو کر میں تو صرف اسی بات کی پیروی کرتا ہوں جس کی میری طرف وحی کی جاتی ہے اور میں تو صرف کھلے طور پر ڈرانے والا ہوں عذاب خداوندی اور آخرت کے انجام سے اللہ کا معاملہ جو کچھ میرے ساتھ اور تمہارے ساتھ دنیا میں ہوگا وہ تو تمہارے سامنے آہی جائے گا اور جو آخرت میں ہوگا اسکو بھی تم دیکھ لو گے اے ہمارے پیغمبر کہہ دو بھلا یہ بتاؤ اگر یہ قرآن اللہ کے یہاں سے ہو اور تم اس کا انکار کرو اور بنی اسرائیل میں سے ایک گواہی دینے والا گواہی دے اسی کی مثل کتاب پر جیسے حضرت عبداللہ بن سلام ؓ وغیرہ اور یہ کہے کہ ایسی ہی وحی اللہ کی موسیٰ (علیہ السلام) و عیسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی تھی اور انکو کتاب تورات وانجیل دی گئی جن میں اس قرآن اور صاحب قرآن پیغمبر کی خبر دیگئی نشانیاں اور علامت بتائی گئی اور خود یہ قرآن انکی تصدیق بھی کررہا ہے پھر وہ قرآن پر ایمان لائے اور تم غرور وتکبر ہی کرتے ہو قرآن اور صاحب قرآن پر ایمان لانے اور انکے سامنے اطاعت وفرمانبرداری کا سرجھکانے سے تو بھلا بتاؤ تمہارا کیا انجام ہوگا یہ تو صریح ظلم اور ناانصافی ہے اور اللہ تعالیٰ راہنمائی نہیں کرتا ہے ظالموں کو بلکہ وہ اپنی بداعمالیوں کے باعث توفیق خداوندی سے محروم رہتے ہیں جس کا نتیجہ یہی ہے کہ وہ گمراہ ہی رہیں اور عذاب آخرت سے نیز دنیا کی ذلت سے نجات نہ پاسکیں۔ آنحضرت ﷺ کی شان رسالت : (آیت) ” مبارکہ ”۔ قل ما کنت بدعا من الرسل “۔ ان منکرین کو خطاب ہے جو آنحضرت ﷺ کی رسالت پر ایمان لانے میں طرح طرح کے شکوک وادہام اور اعتراضات کرتے تھے تو فرمایا گیا آپ ﷺ اس بات کا اعلان کردیجئے کہ میں کوئی انوکھا اور عجیب رسول نہیں ہوں کہ تم کو میری نبوت پر ایمان لانے اور اس کو سمجھنے میں کوئی دشواری ہوئی بلکہ میری رسالت ونبوت اور وحی انبیاء سابقین کی طرح ہی ہے اس عنوان میں ایک طرف مکذبین ومنکرین کو قرآن کریم کے وحی الہی اور آپ ﷺ کی شان رسالت کو سمجھنے کی دعوت دی جارہی ہے تو دوسری طرف انبیاء سابقین کی تاریخ کی طرف بھی ذہنوں کو متوجہ کیا جارہا ہے کہ اس قدیم تاریخ سے عبرت حاصل کریں کہ انکی قوموں نے جب انکو جھٹلایا تو عذاب خداوندی سے تباہ وبرباد کردیئے گئے تو اے قریش مکہ تم بھی اپنے انجام سے غافل نہ رہو اسی کے ساتھ اہل کتاب کو بھی گویا مخاطب کرکے یہ بتایا جارہا ہے کہ جب انبیاء سابقین کی نبوت اور ان پر نازل کی ہوئی کتابوں کو اہل کتاب پہچانتے ہیں تو بس انکو حقیقت وحی اور میری، رسالت کو بھی اسی طرح سمجھ لینا چاہئے اسی حقیقت کو قرآن کریم کی اس آیت میں ظاہر فرما دیا گیا (آیت) ” انا اوحینا الیک کما اوحینا الی نوح والنبین من بعدہ “۔ (آیت) ” ما ادری ما یفعل بی ولا بکم “۔ کی تفسیر میں شیخ الاسلام حضرت الاستاد مولانا شبیر احمد عثمانی (رح) فرماتے ہیں یعنی مجھے اس سے سروکار نہیں کہ میرے کام کا آخری نتیجہ کیا ہونا ہے میرے ساتھ اللہ کیا معاملہ کرے گا اور تمہارے ساتھ کیا کرے گا نہ میں اس وقت پوری پوری تفاصیل اپنے اور تمہارے انجام کے متعلق بتلا سکتا ہوں کہ دنیا وآخرت میں کیا کیا صورتیں پیش آئیں گی ہاں ایک بات کہتا ہوں کہ میرا کام وحی الہی کا اتباع اور حکم خداو ندی کا امتثال کرنا ہے اور کفر وعصیان کے سخت خطرناک نتائج سے خوب کھول کر آگاہ کردینا ہے آگے چل کر دنیا یا آخرت میں میرے اور تمہارے ساتھ کیا کچھ پیش آے گا اس کی تمام تفصیلات فی الحال میں نہیں جانتا نہ اس بحث میں پڑنے سے مجھ کوئی مطلب۔ بندہ کا کام نتیجہ سے قطع نظر مالک کے احکام کی تعمیل کرنا ہے اور بس۔ ان کلمات میں (آیت) ” ما ادری “۔ کی مراد دنیا وآخرت کے احوال کے تعمیم کے ساتھ فرماتی ہے اور اصل مقصد آیت کی توضیح وتعیین سے ان اشکالات کو رفع کردیا جو بعض مفسرین کو اس لحاظ سے پیش آئے کہ آخرت کے بارے میں تو انجام کا علم آپ ﷺ کو متعدد آیات اور وحی خداوندی سے ہوچکا تھا جن میں آپ ﷺ کے درجات کی عظمت و برتری بیان کردی گئی تھی حتی کی مقام محمود میں اٹھانے کی بشارت دے دی گئی تو پھر (آیت) ” ما ادری “۔ کا مفہوم بلحاظ آخرت کیا ہوگا حضرت شیخ کے یہ کلمات متقدمین مفسرین اور ائمہ کو اس سلسلہ میں پیش آنے والے اشکالات اور ان کے دیئے ہوئے جوابات سے ذہن کو علیحدہ رکھتے ہوئے اصل مراد اور مقصد آیت کو متعین اور واضح کررہے ہیں ، عبداللہ بن عباس ؓ نے بلحاظ آخرت اس کی تفسیر میں یہ فرمایا کہ یہ آیت ”۔ لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک “۔ سے قبل نازل ہوئی تھی اسکے بعد پھر حق تعالیٰ نے اعلان فرمایا جس سے ظاہر ہے کہ نبی کریم ﷺ نے آخرت میں آپ ﷺ کے ساتھ کی معاملہ ہوگا یہ جان لیا۔ حافظ ابن کثیر (رح) نے ضحاک (رح) سے اس کی تفسیر میں بیان کیا کہ مجھے معلوم نہیں ہے کہ اس کے بعد مجھے کیا حکم دیا جائے گا اور کس چیز سے مجھ کو منع کیا جائے گا “۔ حسن بصری (رح) سے منقول ہے کہ یہ نفی علم معاذ اللہ آخرت کے انجام کے لحاظ سے نہیں کیونکہ آخرت کی عظمت وسیادت تو آپ ﷺ کو بتادی گئی اور آپ ﷺ نے اسکو جان لیا اب یہ نفی علم دنیا کے لحاظ سے ہے کہ میں نہیں جانتا کہ دنیا میں میرے ساتھ کیا کیا جائے گا جیسا کہ دوسرے انبیاء کو بھی قتل کیا گیا اور اسی طرح میں یہ بھی نہیں جانتا کہ تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا کہ تم کو زمین میں دھنسا یا جائے گا جیسا کہ پہلی امتوں کو دھنسایا جائے گا جیسا کہ پہلی امتوں کو دھنسایا گیا یا مسخ کیا جائے گا جیسا کہ بعضوں کو کیا گیا یا پتھروں کی بارش کرے ہلاک کردیا جائے گا جیسا کہ بعض قوموں کو ہلاک کیا گیا اسی طرح یہ بھی نہیں جانتا کہ اے لوگو تم ایمان لاؤ گے یا کفر ہی پر قائم رہتے ہوئے عذاب خدواندی سے تباہ کردیئے جاؤ گے۔ رہا اس حدیث کا مضمون جو خارجہ بن زید ؓ ام العلا ؓ کی سند سے بیان کرتے ہیں ام العلاء ؓ ان صحابیات میں سے ہیں جنہوں نے رسول اللہ کے دست مبارک پر بیعت کی تھی اور مہاجرین کی نصرت کا عہد کیا تھا تو جب انصار نے حضرات مہاجرین کو قرعہ اندازی کے ذریعہ اپنی اپنی برادری میں شریک کیا تو حضرت عثمان بن مظعون ؓ کا قرعہ ان کے نام پر نکلا عثمان بن مظعون ؓ بیمار ہوئے اور وفات پاگئے تو جب انکو غسل دینے کے بعد کفنا دیا گیا تو رسول اللہ ﷺ تشریف لائے ام علاء ؓ بیان کرتی ہیں میری زبان سے یہ کلمات نکلے اے ابو السائب (یہ کنیت تھی عثمان بن مظمون ؓ کی) خدا کی رحمتیں تم پر ہوں میری گواہی ہے تمہارے متعلق کہ خدا نے تمہارا بڑا اکرام کیا آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اور تمہیں کیا معلوم کہ خدا نے انکے ساتھ کیسا معاملہ اکرام کا کیا ایک روایت میں یہ ہے کہ میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اگر ان کا اکرام نہ ہوا تو پھر اللہ کے یہاں کس کا اکرام ہوگا آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا اے ام اعلاء ؓ بس ان پر انکے رب کی طرف سے یقین واقع ہوگیا یعنی موت آچکی اور مجھے انکے بارے میں خیر کی امید ہے اور حالانکہ میں اللہ کا رسول ہوں لیکن نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا۔ تو یہ ان بشارات کے منافی نہیں ہے جو آپ ﷺ کے بارے میں رفع درجات اور اس مقام محمود میں اٹھائے جانے کے متعلق ہے جس پر اولین وآخرین رشک کرتے ہوں گے مقصود آپ ﷺ کا یہ تھا کہ احوال آخرت کی انواع تو بیشمار ہیں نفس نجات وجنت متعین ہونے کے باوجود وہاں کا کیا حال ہوگا کس قسم کا معاملہ ہوگا یہ کوئی نہیں جانتا۔ حضرت حکیم الامت مولانا تھانوی (رح) اس پر بطور فائدہ یہ فرماتے ہیں پس جب اپنے اور تمہارے احوال آئندہ کے علم کا باوجود شدت تلبس ان احوال کے میں مدعی نہیں ہوں تو اور مغیبات بعیدہ کی نسبت تو میں کیا دعوی کرتا پس اس باب میں بھی کسی امر عجیب کا مدعی نہیں ہوں یہ وہی چیز ہے جو حق تعالیٰ نے ارشاد فرمائی (آیت) ” قل لا اقول لکم عندی خزآئن اللہ ولا اعلم الغیب “۔ البتہ جن احوال و امور کا وحی سے علم ہوگیا خواہ وہ اپنے متعلق ہوں یا غیر کے اور خواہ دنیاوی احوال ہوں یا اخروی ان کا علم بیشک کامل ہے اور اسی کا اشارہ آئندہ یہ الفاظ کررہے ہیں (آیت) ” ان اتبع الا ما یوحی الی “۔ واللہ اعلم بالصواب “۔ (تفسیر ابن کثیر جلد 4 روح المعانی قرطبی۔ فوائد عثمانی، بیان القرآن ) (آیت) ” وشھد شاھد من بنی اسرآء یل “۔ کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ مجاہد (رح) ضحاک (رح) اور قتادہ (رح) سے منقول ہے کہ یہ شاہد بنی اسرائیل اور علماء تورات میں سے عبداللہ بن سلام ؓ ہیں جنہوں نے حضور اکرم ﷺ کے چہرہ انور پر پہلی نظر پڑتے ہی آپ ﷺ کی نبوت کو پہچان لیا اور اعتراف کیا کہ آپ ﷺ اللہ کے وہی سچے رسول ہیں جن کی کتب سابقہ میں بشارت موجود ہے۔ زمانہ جاہلیت میں عرب کے مشرکین بنی اسرئیل کے علم وفضل سے مرعوب تھے آنحضرت ﷺ نے جب اعلان نبوت فرمایا اور آپ ﷺ کی تعلیمات سے بہت سے لوگ متاثر ہو کر اسلام قبول کرنے لگے اور عرب میں اس بات کا کافی چرچا ہونے لگا تو مشرکین نے چاہا کہ اہل کتاب کا عندیہ لیں کہ وہ کیا کہتے ہیں اور اس سلسلے میں انکی کیا رائے ہے مقصد یہ تھا کہ وہ آپ ﷺ کی تکذیب کردیں گے تو ایک بات ہاتھ آجائے گی اور اس کو سند بنا کر لوگوں کے سامنے پیش کریں گے کہ دیکھو اہل علم اور اہل کتاب بھی ان باتوں کو غلط کہتے ہیں مگر مشرکین اپنی اس غرض میں ناکام ہوئے حق تعالیٰ شانہ نے انھی بنی اسرائیل کی زبانوں سے حضور اکرم ﷺ کی نبوت کی تصدیق کرائی نہ صرف اسی حد تک بلکہ انہوں نے اقرار کیا کہ اس عظیم الشان رسول کی بشارت اور ان کی علامت ونشانیاں تو ہماری کتابوں میں موجود ہیں اور یہ کتاب (قرآن کریم) بالکل اسی طرح ہے جیسا کہ اس کا ذکر کتب سماویہ میں فرمایا گیا چناچہ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ اور کعب احبار ؓ جیسے حق پرست علماء یہود اسلام لائے اور جو لوگ ان میں متعصب ومعاند اور جاہ پرست تھے انہوں نے جان بوجھ کر بھی عناد اور انکار کی روش اختیار کی اور تو اس آیت مبارکہ (آیت) ” وشھد شاھد من بنی اسرآء یل “ میں اسی چیز کو بیان فرمایا جارہا ہے۔ ابویعلی طبرانی اور حاکم نے سند صحیح کے ساتھ عوف بن مالک الاشجعی ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک دفعہ نبی کریم ﷺ (مسجد سے نکل کر) باہر جانے لگے اور میں آپ ﷺ کے ساتھ تھا یہاں تک کہ یہودیوں کے کنیسہ میں داخل ہوئے یہ انکی عید کا دن تھا ان لوگوں کو اس روز ہمارا وہاں پہنچنا کچھ پسند نہیں آیا آپ ﷺ نے اندر جانے کے بعد فرمایا اے یہودیو ! مجھے وہ بارہ آدمی دکھاؤ جو گواہی دیتے ہوں لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ “۔ تو آسمان کے نیچے جو بھی یہودی ہے اس سے اللہ تعالیٰ اپنا غضب دور فرما دے گا یہ سن کر وہ سب خاموش ہوگئے کسی نے کوئی جواب نہ دیا اس کے بعد آپ نے فرمایا تو دور فرما دے گا یہ سن کر وہ سب خاموش ہوگئے کسی نے کوئی جواب نہ دیا اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا تو بھی کسی نے جواب نہ دیا آپ نے پھر تیسری مرتبہ فرمایا تب بھی کسی نے کوئی جواب نہ دیا اس کے بعد آپ نے فرمایا اچھا اگر تم جواب نہیں دیتے تو سن لو میں البتہ حاشر ہوں میں ہی عاقب ہوں اور میں ہی مقفی ہوں خواہ تم ایمان لاؤ یا انکار کرو یہ فرما کر آنحضرت ﷺ کنیسہ سے لوٹنے لگے اور میں آپ کے ساتھ تھا ہم نکلنے ہی والے تھے کہ ایک شخص آپ ﷺ کے پیچھے سے یہ کہتے ہوئے اے محمد ﷺ ذرا آپ ﷺ اسی جگہ ٹھہریں آپ نے اس شخص کی طرف رخ کیا تو اس نے کہا اے گروہ یہود تم لوگ مجھے کیسا سمجھتے ہو سب نے جواب دیا خدا کی قسم ہم میں سے کوئی شخص تم سے زیادہ کتاب اللہ کا نہ عالم ہے نہ تم سے زیادہ کوئی سمجھنے والا ہے اور نہ تمہارے باپ سے اور نہ تمہارے داد ا سے۔ جب یہودی یہ کہہ چکے تو اس شخص نے کہا تو پھر میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے برحق رسول ہیں میں خدا کی قسم کھا کر گواہی دیتا ہوں کہ وہی پیغمبر ہیں جن کو تم تورات وانجیل میں پاتے ہو یہ سن کر سب یہودی غیظ وغضب میں مشتعل ہوگئے اور کہنے لگے کہ تم جھوٹے ہو تم ہمارے میں سب سے برے اور سب سے برے آدمی کے بیٹے ہو راوی بیان کرتے ہیں کہ یہ عبداللہ بن سلام ؓ تھے تو میں اور عبداللہ بن سلام ؓ اور رسول اللہ ﷺ یہاں سے باہر چلے گئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” قل ارء یتم ان کان من عند اللہ وکفر تم بہ وشھدشاھد من بنی اسرآء یل “۔ الخ علامہ آلوسی (رح) نے اس روایت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا اس سے بھی معلوم ہوا کہ یہ آیت مدینہ منورہ میں نازل ہوئی
Ayahs 46:11–20

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ كَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَاۤ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِذْ لَمْ یَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَیَقُوْلُوْنَ هٰذَاۤ اِفْكٌ قَدِیْمٌ Open ayah 46:11 in the Quran reader

اور کافر مومنوں سے کہتے ہیں کہ اگر یہ (دین) کچھ بہتر ہوتا تو یہ لوگ اسکی طرف ہم سے پہلے نہ دوڑ پڑتے ؟ اور جب وہ اس سے ہدایت یاب نہ ہوئے تو اب کہیں گے کہ یہ پرانا جھوٹ ہے

وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ هٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا لِّیُنْذِرَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ وَ بُشْرٰى لِلْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 46:12 in the Quran reader

اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب تھی (لوگوں کے لئے) رہنما اور رحمت اور یہ کتاب عربی زبان میں ہے اسی کی تصدیق کرنے والی تاکہ ظالموں کو ڈرائے اور نیکو کاروں کو خوش خبری سنائے

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ Open ayah 46:13 in the Quran reader

جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار خدا ہے پھر وہ (اس پر) قائم رہے تو ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غمناک ہونگے

اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 46:14 in the Quran reader

یہی اہل جنت ہیں کہ ہمیشہ اس میں رہیں گے (یہ) اس کا بدلہ (ہے) جو وہ کیا کرتے تھے

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ اِحْسٰنًا١ؕ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ كُرْهًا وَّ وَضَعَتْهُ كُرْهًا١ؕ وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ بَلَغَ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۙ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕۚ اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 46:15 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیا اس کی ماں نے اسکو تکلیف سے پیٹ میں رکھا اور تکلیف ہی سے جنا اور اس کا پیٹ میں رہنا اور دودھ چھوڑنا ڈھائی برس میں ہوتا ہے یہاں تک کہ جب خوب جوان ہوتا ہے اور چالیس برس کو پہنچ جاتا ہے تو کہتا ہے کہ اے میرے پروردگار ! مجھے توفیق دے کہ تو نے جو احسان مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کئے ہیں انکا شکر گزار ہوں اور یہ کہ نیک عمل کروں جن کو تو پسند کرے اور میرے لیے میری اولاد میں صلاح (و تقوٰی) دے میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں فرمانبرداروں میں ہوں

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ نَتَجَاوَزُ عَنْ سَیِّاٰتِهِمْ فِیْۤ اَصْحٰبِ الْجَنَّةِ١ؕ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ Open ayah 46:16 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن کے اعمال نیک ہم نے قبول کرینگے اور ان کے گناہوں سے درگزر کریں گے اور (یہی) اہل جنت میں (ہوں گے) (یہ) سچا وعدہ (ہے) جو ان سے کیا جاتا ہے

وَ الَّذِیْ قَالَ لِوَالِدَیْهِ اُفٍّ لَّكُمَاۤ اَتَعِدٰنِنِیْۤ اَنْ اُخْرَجَ وَ قَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ مِنْ قَبْلِیْ١ۚ وَ هُمَا یَسْتَغِیْثٰنِ اللّٰهَ وَیْلَكَ اٰمِنْ١ۖۗ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۖۚ فَیَقُوْلُ مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 46:17 in the Quran reader

اور جس شخص نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ اف اف ! تم مجھے یہ بتاتے ہو کہ میں (زمین سے) نکالا جاؤنگا حالانکہ بہت سے لوگ مجھ سے پہلے گزر چکے ہیں اور وہ دونوں خدا کی جناب میں فریاد کرتے (ہوئے کہتے) تھے کہ کمبخت ایمان لا خدا کا وعدہ تو سچا ہے تو کہنے لگے یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 46:18 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں جنوں اور انسانوں کی (دوسری) امتوں میں سے جو ان کے پہلے گزر چکیں عذاب کا وعدہ تحقیق ہوگیا بیشک وہ نقصان اٹھانے والے تھے

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ۚ وَ لِیُوَفِّیَهُمْ اَعْمَالَهُمْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 46:19 in the Quran reader

اور لوگوں نے جیسے کام کئے ہونگے انکے مطابق سب کے درجے ہوں گے غرض یہ ہے کہ ان کو انکے اعمال کا پورا بدلہ دے اور ان کا نقصان نہ کیا جائے

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا١ۚ فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ۠ Open ayah 46:20 in the Quran reader

اور جس دن کافر دوزخ کے سامنے جائیں گے (اور کہا جائے گا) کہ تم اپنی دنیا کی زندگی میں لذتیں حاصل کرچکے اور ان سے متمتع ہوچکے تو آج تم کو ذلت کا عذاب ہے (یہ) اس کی سزا (ہے) کہ تم زمین میں ناحق غرور کیا کرتے تھے اور اسکی کہ بدکرداری کرتے تھے

بیان ذہنیت کفار دربارۂ قبول ہدایت و انحراف از حق وتحسین استقامت اہل ایمان : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وقال الذین کفروا للذین امنوا ..... الی ...... وبما کنتم تفسقون “۔ (ربط) ماقبل آیات میں کتاب الہی کی عظمت بیان کرتے ہوئے کفار کے بےہودہ اعتراضات کا ذکر تھا اب ان آیات میں اسی طرح کے چند لغو اور مہمل اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے اہل ایمان کی استقامت کا ذکر اور ان پر حق تعالیٰ شانہ کے خاص انعامات بیان کیے جا رہے ہیں اسی کے ساتھ انسان کی سعادت مندی اور اسکی محرومی اور بدنصیبی کا ایک معیار اور ضابطہ بھی بیان فرمایا جارہا ہے ارشاد فرمایا ، اور کہنے لگے کافر ایمان والوں کو اگر یہ دین بہتر ہوتا تو یہ لوگ اسکی طرف ہم سے پہلے سبقت نہ کرتے کیونکہ ہم لوگ عزت والے اور عقل مند ہیں بہتر چیز کی طرف سبقت کرنا ہمارا ہی کام ہے جب ہم نے اس کو قبول نہیں کیا اور اس کو قبول کرنے والے غلام اور لونڈی کمزور اور غریب ہیں جیسے بلال، صہیب، عمار، خباب، اور سمیہ ؓ تو معلوم ہوا کہ یہ دین کوئی بہتر دین نہیں ظاہر ہے کہ کافروں کی یہ باتیں مہمل اور خلاف عقل ہیں اور یہ لوگ جب اس دین حق کی ہدایت اور راہ نہ پا سکے تو آئندہ یہ کہیں گے یہ پرانا جھوٹ ہے کہ انبیاء سابقین بھی ایسا ہی کہا کرتے تھے وہ بھی خدا پر بہتان تھا یہ بھی خدا پر بہتان ہے اور یہ اسکے رسول نہیں حالانکہ۔ 1 حاشیہ (ترجمہ میں لفظ حالانکہ اختیار کرنا اس طرف اشارہ ہے کہ (آیت) ” ومن قبلہ کتاب موسیٰ میں واؤ حالیہ ہے، 12) اس سے پہلے تو موسیٰ کی کتاب تھی جو انکے واسطے پیشوا سیدھی راہ پر ڈالنے والی اور رحمت کا سامان تھی اور یہ کتاب قرآن کریم اسکی تصدیق کرنے والی ہے جو عربی زبان میں ہے اس وجہ سے اہل عرب اس کو بخوبی قرآن کریم اسکی تصدیق کرنے والی ہے جو عربی زبان میں ہے اس وجہ سے اہل عرب اس کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں اور ان پر اس کتاب الہی کی حقانیت کسی درجہ میں پوشیدہ نہیں رہ سکتی اس وجہ سے کہ ڈرائے ظالموں کو اور خوشخبری سنائے نیکی کرنے والوں کو کتاب الہی اور وحی خداوندی سے یہ قانون طے ہوچکا ہے کہ بیشک جن لوگوں نے کہہ لیا دل کے اعتقاد اور ایمان ویقین کے ساتھ کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اسی پر ثابت قدم رہے اور ان کی عملی زندگی کے ہر شعبہ سے حق تعالیٰ کی الوہیت و ربوبیت کے عقیدہ پر ثابت قدم رہنے کا ثبوت ملتا ہے تو ان پر نہ کوئی خوف واندیشہ ہوگا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے اطمینان و سکون اور ہر غم و صدمہ سے محفوظ یہ لوگ بہشت والے ہوں گے جو ہمیشہ جنت ہی میں رہیں گے یہ ان اعمال کا بدلہ ہوگا جو وہ اپنی زندگی میں کرتے تھے جو حق تعالیٰ اپنی رحمت سے انکو عطا فرمائے گا اس کتاب الہی میں جو کتب سماویہ کے واسطے مصدق ہے اور زبان عربی میں نازل کی گئی جس کو اہل عرب بخوبی سمجھ سکتے ہیں انسانی سعادت کے جملہ اصول بیان کردیئے گئے ہیں جہاں اس کتاب الہی میں عقیدہ ربوبیت کے حقوق اور تقاضوں کو پورا کرنے کے احکام ان بندوں کی ہدایت وتاکید فرما دی گئی وحی الہی ایک طرف رب کے حقوق ادا کرنے کا حکم دے رہی ہے تو دوسری طرف انسان کو اپنے مربی کے حقوق ادا کرنے کے لیے کہا جارہا ہے اور ہم نے حکم دیا ہے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ بھلائی کا باپ کے احسانات و انعامات انسان اپنے شعور کے عالم میں محسوس کر ہی لیتا ہے ماں کی شفقت و محبت اور اس کے انعام و احسان کو ہر انسان اس طرح سمجھ سکتا ہے کہ اسکی ماں نے اس کو پیٹ میں رکھا ایک مدت تک تکلیف کے ساتھ اور اس کو جنا ہے تکلیف سے کہ حالت حمل میں بوجھ برداشت کیا طرح طرح کی مشقتیں اور تکلیفیں بھی پیش آئیں پھر وضع حمل کے وقت بھی مشقت اور خطرہ کا مقابلہ کیا اور اس کا حمل اور دودھ کا چھڑانا تیس (30) مہینہ میں ہے یہاں کہ جب پہنچ گیا اپنی قوت کو کہ جسمانی قوی کے لحاظ سے پوری توانائی اور طاقت آگئی اور پہنچا چالیس برس کی عمر کو جس پر پہنچ کر اسکی عقلی اور فکری صلاحیتیں بھی مکمل ہوگئیں تو یہ صاحب اور عقل و فطرت کے مطابق روشن اختیار کرنے والا انسان اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرکے کہنے لگا اے میرے رب مجھے بات کا حصہ عطا کر دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کروں اور جو تو نے مجھ پر فرمائی اور میرے ماں باپ پر اور مجھے اس امر کی توفیق عطا فرما کہ میں ایسا نیک کام کروں جس کو تو پسند کرے اور صالح بنادے تو میری اولاد کو میرے واسطے کہ دنیا میں بھی ان کے صلاح وتقوی اور سعادت مندی سے مجھے خوشی اور راحت حاصل ہو اور آخرت میں بھی اولاد صالح کی نیکیوں سے میرے لیے اللہ کی عنایات اور رحمتوں میں اضافہ ہو میں آپ کی طرف اے پروردگار رجوع کرتا ہوں اپنے گناہوں سے تائب ہوتے ہوئے اور بیشک میں آپ کے فرمانبرداروں میں سے ہوں۔ 1 حاشیہ (بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیونکہ مہاجرین وانصار میں سے صرف صدیق اکبر ؓ ہی ایک ایسے شخص ہیں جو خود بھی ایمان لائے اور انکے والدین بھی اور انکی اولاد بھی فتح مکہ کے بعد انکے گھرانہ میں ایک مرد بھی ایسا باقی نہ رہا تھا جو اسلام نہ لے آیا ہو۔ ) یہ ہے وہ سعادت وصلاح کا نمونہ جو حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے کی ہمہ وقت کوشش میں لگا ہوا ہے جو اپنی صلاحیت کے باعث اللہ رب العزت سے تین چیزوں کا طالب ہے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے انعامات کے شکر کی توفیق عطا فرمائے دوسرے یہ کہ ایسے عمل کی توفیق سے نواز دے جو اسے پسند ہو اور اس عمل سے وہ راضی ہوجائے تیسرے یہ کہ اولاد کو نیک اور صالح بنادے یہ تین چیزیں درحقیقت سعادت بشریہ ہیں اور اس سعادت اور خوبیوں سے متصف افراد اہل ایمان میں سے بارگارہ خداوندی میں پسندیدہ افراد ہیں انکے بارے میں رب العالمین کا یہ پیغام بشارت ہے کہ یہ ہیں وہ لوگ جن سے ہم قبول کرتے ہیں انکے وہ بہتر کام جو انہوں نے کیے اور درگزر کرتے ہیں ہم ان کی برائیوں سے اس طرح کہ وہ جنت والوں میں سے ہیں یہ اللہ کا وہ سچا وعدہ ہے جو ان سے ہمیشہ کیا جاتا تھا بلاشبہ ان کا مقام اللہ کے سچے وعدہ کے مطابق اہل جنت میں ہوگا اور بطور اکرام دخول جنت کے وقت اس کا اظہار کیا جاتا ہوگا یہ تو پیکر سعادت اور ایمان وتقوی کی خوبی سے متصف انسان کا حال کہے اور اس کے بالمقابل جو شقاوت وبدبختی میں مبتلا انسان ہوگا وہ ایسا شخص ہے جس نے اپنے ماں باپ کو کہا جب کہ اس کے ماں باپ ایمان وتقوی کی دعوت دیتے ہوں افسوس ہے تم پر کیا مجھ کو وعدہ دیتے ہو اور ڈراتے ہو میں نکالا جاؤں گا قبر سے یہ کیسے ہوسکتا ہے حالانکہ بہت سے قرن انسانوں کے جو مجھ سے پہلے گزر چکے ہیں ان میں سے کوئی بھی اب تک زندہ ہو کر نہیں آیا تو پھر میں کیونکر اس بات کا اعتبار کرلوں اس ناعاقبت اندیش بدبخت انسان کے مشفق و محسن ماں باپ جذبہ اخلاص و محبت میں اسکو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ دونوں اللہ سے فریاد کرتے ہوئے کہتے ہیں ہلاکت و بربادی ہو تیرے واسطے بس ایمان لے آبیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے اس بدبخت انسان کے ماں باپ اگرچہ نصیحت کرتے ہیں اللہ سے اسکی توفیق وہدایت کی دعا بھی کرتے ہیں پھر اپنی عظمت و بزرگی کا حق ادا کرتے ہوئے ڈانٹتے بھی ہیں مگر پھر کہتا ہے نہیں ہیں یہ سب باتیں مگر پہلوں کی نقل کی ہوئی کہانیاں جو ہم پرانے وقتوں سے سنتے چلے آرہے ہیں جن کا کوئی واقعی مصداق نہیں تو یہ ہیں وہ لوگ جن پر خدا کا فیصلہ عذاب ثابت ہوچکا ان امتوں کے درمیان انکا شمار ہونے کی وجہ سے جو پہلے گزر چکیں۔ 1 حاشیہ (جن وانس کی تعمیم اسی فرمان کے مطابق ہے جو ارشاد فرمایا گیا (آیت) ” لاملئن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین “۔ چونکہ حق تعالیٰ کی بندگی اور اسکی الوہیت پر ایمان لانے کے مکلف جن وانس دونوں ہیں جیسے کہ فرمایا گیا (آیت) ” وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون “۔ تو انسانوں کی طرح جو جنات منکر ونافرمان رہے وہ بھی کفار ومشرکین کی طرح جہنم کا ایندھن بنے۔ ) جنوں میں سے اور انسانوں میں سے یقیناً وہ لوگ خسارہ میں تھے کیونکہ اللہ نے فطری طور پر ایمان وہدایت کا جو ہر ان میں ودیعت رکھا تھا اسکو ضائع کردیا اور ہر ایک کے واسطے درجے ہیں اپنے کئے ہوئے کاموں کے مطابق اور یہ سب کچھ احکام خدا ندی وحی الہی اور ہدایت وگمراہی کے اصول اور نجات وہلاکت کے راز اس لئے نازل کردیئے گئے تاکہ اللہ تعالیٰ پورا پورا بدلہ دیدے ان کے اعمال کا اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا نہ کسی کی نیکی ضائع کی جائے گی اور نہ ہی یہ ہوگا کہ کسی کو بلاجرم کے سزا دی جائے قیامت برحق ہے وہ آکر رہے گی اور جس دن لائے جائیں گے کافر آگ کے سامنے جہنم کے کنارے تو انکو کہا جائے گا لیجا چکے ہو تم اپنے مزے دنیا کی زندگی میں، اور ان سے تم نفع اٹھا چکے ہو لیکن اس دنیوی زندگی کو تم نے غفلت و لاپرواہی اور نافرمانی میں گزار دیا بس اب آج کے دن تم کو ذلت کے عذاب کی سزادی جائے گی اس غرور وتکبر کی وجہ سے جو تم زمین یعنی دنیا میں کرتے تھے ناحق اور نافرمانیوں کی وجہ سے جو تم کرتے تھے اور ظاہر ہے کہ جھوٹی شیخی اور تکبر کی سزا یہی ہے کہ ذلت ورسوائی کا عذاب مسلط ہو۔ فائدہ : (آیت) ” اذھبتم “ کی مراد ترجمہ کے الفاظ سے یہ ظاہر کی گئی کہ حاصل کرلیں دنیا کی لذتیں اور راحتیں بعض ائمہ مفسرین نے اذھب باب افعال سے ہونے کی وجہ سے ازالہ اور اضاعت کے معنی کیے ہیں تو اس صورت میں ترجمہ یہ ہوگا کہ ضائع کردیئے تم نے اپنے مزے یعنی صورۃ وہ نیکیاں اور بھلائیاں جو کیں وہ اس بناء پر کہ ایمان کی روح ان اعمال میں موجود نہ تھی ضائع کردیں اور آخرت میں ان کا کوئی ثمرہ اور فائدہ تو کیا ہوتا الٹا عذاب وذلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مدت حمل وزمانہ رضاعت کے بارے میں مفسرین کی تحقیق : حافظ عماد الدین ابن کثیر (رح) (آیت) ” وحملہ وفصالہ ثلثون شھرا “۔ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس آیت اور سورة لقمان کی آیت ”۔ وفصالہ فی عامین “۔ سے بعض ائمہ مفسرین نے یہ استدلال کیا ہے کہ مدت حمل کم از کم چھ ماہ ہے اور دو سال مدت رضاعت کا بیان ہے جو کہ سورة لقمان میں فرمایا گیا اور مدت رضاعت اور مدت حمل دونوں کو مجموعی طور پر یہاں اس آیت میں (آیت) ” ثلثون شھرا “ َ (تیس ماہ) کی تعبیر سے ذکر فرمایا اس استدلال کو درست فرماتے ہوئے محمد بن اسحاق کی سند سے ایک حدیث کا مضمون بیان کیا کہ ایک واقعہ حضرت عثمان غنی ؓ کے پاس پہنچا اور صورت حال بیان کی ابتدا حضرت عثمان غنی ؓ کو تردد ہوا حضرت علی ؓ نے فرمایا اس میں کوئی تردد نہ کیا جائے کیا آپ قرآن کریم کی یہ آیت نہیں دیکھتے (آیت) ” وحملہ وفصالہ ثلثون شھرا “۔ اور دوسری جگہ (آیت) ” یرضعین اولادھن حولین کاملین “۔ اور سورة لقمان میں ہے (آیت) ” وفصالہ فی عامین “۔ تو جب دودھ پلانے کی مدت دو سال ہوئی تو ظاہر ہے کہ تیس ماہ میں سے اب حمل کے لیے چھ ماہ ہی باقی رہیں گے چناچہ حضرت عثمان ؓ نے اسے موافقت فرمائی۔ 1 حاشیہ (تفسیر ابن کثیر ج 4) عبد اللہ بن عباس ؓ سے منقول ہے فرمایا اگر وضع حمل نوماہ میں ہو تو پھر دودھ پلانے کی مدت 21 ماہ رکھی جائے اگر سات ماہ میں وضع حمل ہو تو 23 مہینہ تاکہ (آیت) ” ثلثون شھرا “۔ کی تکمیل وتعمیل ہوجائے، کیونکہ حق تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت) ” وحملہ وفصالہ ثلثون شھرا “۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی (رح) اپنے فوائد میں فرماتے ہیں کہ مجموعی مدت حمل ورضاعت کی تیس ماہ بطور عادت اکثر یہ بیان کی گئی ہے حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ” لڑکا اگر قوی ہو تو اکیس مہینہ میں دودھ چھوڑتا ہے اور نو مہینے حمل کے اس طرح تین ماہ ہوگئے حضرت حکیم الامت مولانا تھانوی (رح) فرماتے ہیں اس مجمو عی مدت میں ایک چیز یعنی حمل کی اقل مدت چھ ماہ اور رضا عت کی اکثر مدت یعنی دو برس اس وجہ سے اختیار کی گئی کہ یہی دو مدتیں منضبط ہوسکتی ہیں ورنہ دودھ چھڑانے کی کم سے کم مدت کی کوئی تحدید نہیں اسی طرح اکثر مدت حمل کی بھی کوئی تحدید قطعی نہیں روح المعانی میں جالینوس اور ابن سینا کا مشاہدہ نقل کیا ہے، 2 حاشیہ (تفسیر بیان القرآن ج 2) فقہ حنفی میں امام ابوحنفیہ (رح) سے مدت رضاعت ڈھائی سال بیان کی گئی ہے تفسیر مدارک میں امام اعظم (رح) سے اسکی تفسیر میں یہ ذکر کیا گیا، وحملہ بالاکف “ یعنی بانہوں اور گود میں اٹھانا اور بانہوں پر لئے پھرنا جو کہ بالعموم شیر خوارگی کے زمانہ میں ہوتا ہے اور سورة بقرہ کی آیت ” یرضعن اولادھن حولین کاملین “۔ دو سال کی مدت بلحاظ اجرت رضاعت بیان فرمائی گئی ہوگی کہ سے زائد مدت کی رضاعت کے مصارف والد کے ذمہ نہ ہوں گے اگر کسی مرضعہ سے دودھ پلوانا ہے فتوی اگرچہ جمہور کے قول پر ہے مگر حرمت رضاعت کے مسئلہ میں احتیاط بھی ہے کہ امام صاحب (رح) کے قول پر عمل کیا جائے ، فائدہ : (آیت) ” وبلغ اربعین سنۃ “۔ میں انسان کی جوانی اور قوی کی مضبوطی بیان کرتے ہوئے یہ فرمایا ” اور پہنچ گیا چالیس سال کی عمر کی “ جو قوائے عقلیہ اور فکریہ کا کمال اور اس کا بلوغ ہے انسان کا فہم اور فکر جس حالت پر چالیس برس کی عمر پر عطا فرمایا گیا، حافظ موصلی (رح) نے حضرت عثمان ؓ کی روایت بیان کی فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے مسلمان بندہ جب چالیس برس کی عمر کو پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا حساب ہلکا فرما دیتا ہے اور جب ساٹھ برس کا ہوجاتا ہے تو اسکو رجوع الی اللہ کی صلاحیت وتوفیق نصیب ہوتی ہے اور جب ستر برس کا ہوجائے تو آسمانوں میں ملائکہ اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور جب اسی برس کا ہوجائے تو اسکی خطاؤں کا کفارہ ہونے لگتا ہے اور اس کی نیکیاں اللہ تعالیٰ ثابت فرما دیتا ہے، اور اگر نوے برس کا ہوگیا تو اسکے گناہوں کی مغفرت کے ساتھ اسکی شفاعت بھی اسکے گھروالوں کے لیے قبول کرلی جاتی ہے اور آسمان والے اسکو کہتے ہیں۔ اسیر اللہ فی ارضہ۔ 1 حاشیہ (تفسیر ابن کثیر جلد 4، اخرجہ الحافظ الموصلی وروی من غیر ھذا الوجہ فی سند الامام احمد وقد طعن المحدثون علی اسنادہ 12) والذی قال لوالدیہ کے ترجمہ میں جو توضیحی الفاظ اضافہ کیے گئے ان سے یہ ظاہر ہوگیا کہ ان کلمات سے پہلے اس انسان کا ذکر تھا جو سعادت وتقوی کا پیکر ہے اسکے بعد شقاوت وبدبختی میں مبتلا ہونے والے انسان کا بیان ان کلمات سے فرمایا جارہا ہے کہ ہر بدبخت انسان کا یہی شیوہ ہوتا ہے کہ جب اسکے ماں باپ اسکو رشد وہدایت کی دعوت دیتے ہیں وہ انکی ہمدردانہ نصیحتوں کو ایسے ہی انداز سے ٹھکرا دیتا ہے ، حسن بصری (رح) فرماتے ہیں یہ ہر اس کافر کا ذکر ہے جو اپنے ماں باپ کی نافرمانی کرتا ہو جو اس کو رشد وہدایت کی دعوت دیتے ہوں اور وہ ماں باپ کی بات ٹھکرا رہا ہو اور مسلسل انکار قیامت کرتا رہے اور کسی طرح کفر سے باز نہ آئے اس لیے یہ ضروری نہیں کہ اس آیت کا مصداق کسی معین شخص کو قرار دیا جائے ، مروان کا دعوی یہ تھا کہ یہ آیت عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس وقت کہ وہ خطبہ دے رہا تھا ابن ابی حاتم نے عبداللہ المدینی سے روایت کیا ہے کہ مروان جس وقت خطبہ دے رہا تھا تو میں مسجد میں تھا وہ کہنے لگا کہ میں امیر ال مومنین یزید کے متعلق بہتر رائے رکھتا ہوں اگر امیر معاویہ ؓ نے اپنے بیٹے یزید کو خلیفہ نامزد کیا تھا تو ابوبکر ؓ وعمر ؓ نے بھی تو اپنا خلیفہ نامزد کیا تھا یعنی ابوبکر ؓ نے عمر فاروق کو متعین کیا تھا اور عمر فاروق ؓ نے چھ حضرات کی مجلس شوری مقرر کرکے ان ہی میں سے کسی ایک کو خلافت کے واسطے طے فرما دیا تھا لہذا یہ تو ابوبکر ؓ وعمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کا طریقہ اور انکی سنت ہوئی عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ کہنے لگے کیا یہ طریقہ اور میراث ہرقل کی نہیں ہے ؟ خدا کی قسم ابوبکر ؓ وعمر ؓ نے نہ تو اپنی اولاد میں سے کسی کو خلیفہ بنایا اور نہ ہی اپنے خاندان کے کسی فرد کو اور فرمایا کیا تو وہ ابن اللعین نہیں ہے کہ تیرے باپ پر رسول اللہ ﷺ نے اس وقت لعنت فرمائی تھی جب تو اس کی پشت میں تھا یہ بات حضرت عائشہ ؓ نے سن لی اور فرمایا اے مروان کیا تو عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ کے بارے میں ایسا کہتا ہے تو جھوٹ بول رہا ہے خدا کی قسم یہ آیت ان کے بارے میں نازل نہیں ہوئی یہ توفلاں ابن فلاں کے متعلق اتری ہے اور اگر میں چاہوں تو انکے نام بھی بتا سکتی ہوں (روح المعانی ج 26 تفسیر ابن کثیر ج 4) سب سے بڑا قرینہ اس بات کا خود قرآن کریم کے وہ الفاظ ہیں جو اس آیت میں مروان کے دعوی کی تردید کررہے ہیں کیونکہ اس مضمون کا اختتام (آیت) ” اولئک الذین حق علیہم القول فی امم قد خلت من قبلھم “۔ یہ بتا رہا ہے کہ یہ ذکر ان بدبخت اور شقاوت کے پیکر بیٹوں کا ہے جو ماں باپ کے پیغام رشد وہدایت کو ٹھکرا دیں اور زندگی میں کبھی قبول نہ کریں حتی کر کفر پر خاتمہ ہوجائے اور اس کا انجام ان ہی نافرمان قوموں کی طرح ہو جو گزر چکیں اور خدا کے عذاب کا فیصلہ انکے حق میں ہوگیا تو ظاہر ہے ان الفاظ کا مصداق ہرگز ایسا کوئی فرد نہیں ہوسکتا جو ایمان کی سعادت سے مشرف ہوا ہو اور شرف صحابیت نصیب ہوا ہو حجۃ الوداع آنحضرت ﷺ کے ہمراہ کیا ہو ناممکن ہے کہ ان خصائص و فضائل کے حامل فرد کو قرآن کریم اس طرح معذبین اور مجرمین کی فہرست میں درج کردے اور عذاب کا فیصلہ بھی کردیا جائے (واللہ اعلم بالصواب )
Ayahs 46:21–26

وَ اذْكُرْ اَخَا عَادٍ١ؕ اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَهٗ بِالْاَحْقَافِ وَ قَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖۤ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 46:21 in the Quran reader

اور (قوم) عاد کے بھائی (ہود) کو یاد کرو جب انہوں نے اپنی قوم کو سرزمین احقاف میں ہدایت کی اور ان سے پہلے اور پیچھے بھی ہدایت کرنے والے گزر چکے تھے کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو مجھے تمہارے بارے میں بڑے دن کے عذاب کا ڈر لگتا ہے

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَاْفِكَنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 46:22 in the Quran reader

کہنے لگے کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم کو ہمارے معبودوں سے پھیر دو اگر سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو اسے ہم پر لے آؤ

قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۖ٘ وَ اُبَلِّغُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 46:23 in the Quran reader

(انہوں نے) کہا کہ (اس کا) علم تو خدا ہی کو ہے اور میں تو جو (احکام) دیکر بھیجا گیا ہوں وہ تمہیں پہنچا رہا ہوں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ نادانی میں پھنس رہے ہو

فَلَمَّا رَاَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِهِمْ١ۙ قَالُوْا هٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا١ؕ بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهٖ١ؕ رِیْحٌ فِیْهَا عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ Open ayah 46:24 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے اس (عذاب کو) دیکھا کہ بادل (کی صورت میں) انکے میدان کی طرف آرہا ہے تو کہنے لگے یہ تو بادل ہے جو ہم پر برس کر رہے گا (نہیں) بلکہ (یہ) وہ چیز ہے جس کے لئے تم جلدی کرتے تھے یعنی اندھی جس میں درد دینے والا عذاب بھرا ہوا ہے

تُدَمِّرُ كُلَّ شَیْءٍۭ بِاَمْرِ رَبِّهَا فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 46:25 in the Quran reader

ہر چیز کو اپنے پروردگار کے حکم سے تباہ کئے دیتی ہے تو وہ ایسے ہوگئے کہ انکے گھروں کے سوا کچھ نظر ہی نہ آتا تھا گنہگار لوگوں کو ہم اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِیْمَاۤ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِیْهِ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّ اَبْصَارًا وَّ اَفْئِدَةً١ۖ٘ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُهُمْ وَ لَاۤ اَفْئِدَتُهُمْ مِّنْ شَیْءٍ اِذْ كَانُوْا یَجْحَدُوْنَ١ۙ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 46:26 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو ایسے مقدور دئیے تھے جو تم لوگوں کو نہیں دئیے اور انہیں کان اور آنکھیں اور دل دئیے تھے تو جب کہ وہ خدا کی آیتوں سے انکار کرتے تھے تو نہ تو انکے کان ہی انکے کچھ کام آسکے اور نہ آنکھیں اور نہ دل اور جس چیز سے استہزا کیا کرتے تھے اس نے ان کو آگھیرا

تسلی نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم برتکذیب کفار ومجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” واذکر اخاعاد ....... الی ....... ماکانوا بہ یستھزء و ن “۔ ّ (ربط) سعادت وشقاوت کا ایک بنیادی ضابطہ اور قبول ایمان واعراض عن الحق پر مرتب ہونے والے ثمرات ونتائج کا ذکر کرکے آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے امم سابقہ کا حال بیان کرتے ہوئے کہ کسی طرح اللہ کے پیغمبر انکو ہدایت کی دعوت دیتے رہے بالآخر جب وہ اپنی بغاوت وسرکشی سے باز نہ آئے تو خدا تعالیٰ کے قہر و عذاب سے تباہ وبرباد کردیئے گئے فرمایا۔ اور یاد کرو عاد کے بھائی ہود (علیہ السلام) ۔ 1 حاشیہ۔ (پیغمبر چونکہ خود اپنی قوم میں مبعوث ہوئے اس بناء پر حضرت ہود (علیہ السلام) کو قوم عاد کا بھائی فرمایا گیا دیگر انبیاء کی طرح جیسے کہ ارشاد ہے (آیت) ” والی عاد اخاھم ھودا، والی ثمود اخاھم صالحا “۔ ہود (علیہ السلام) سے پہلے اور ان کے بعد بہت سے ڈرانے والے آئے جنہوں نے اپنی اپنی قوم کو عذاب خداوندی سے ڈرایا اور سب کا یہی ایک پیغام تھا (آیت) ” اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ “۔ ) کو جب کہ ڈرایا انہوں نے اپنی قوم کو احقاف میں جیسے کہ ان سے پہلے بھی نبی اپنی قوموں کو ڈراتے رہے اور بہت سے ڈرانے والے ان سے پہلے گزرچکے تھے اور انکے پیچھے بھی سب کا پیغام یہی تھا کہ نہ بندگی کرو کسی کی بھی سوائے اللہ کے میں ڈرتا ہوں تم پر ایک بڑے ہیبت ناک دن کی آفت کو نہ کوئی ٹلانے والا ہوگا اور نہ کسی کی دوستی اور سفارش کام دے گی یہ سب کچھ خدا کے پیغمبر نے کہا لیکن یہ لوگ کہنے لگے کیا تو ہمارے پاس آیا ہے اس لئے کہ تو ہم کو اپنے معبودوں سے پھیر دے کسی اور معبود کی طرف اگر یہی غرض ہے تو پھر لے آ ہمارے سامنے وہ چیز جس کا تو دعوی کرتا ہے اور اس سے ہمیں ڈراتا ہے اگر تو سچوں میں سے ہے ہم اپنے آباؤ اجداد کے طریقہ پر قائم رہیں گے اور اپنے معبودوں کو ہرگز نہیں چھوڑیں گے اگر تو سچا ہے تو پھر وہ عذاب لے آجس سے ڈراتا ہے خدا کے پیغمبر نے کہا یہ علم تو صرف اللہ ہی کے پاس ہے کہ عذاب کب نازل ہوگا میں تو تم کو وہی باتیں پہنچا دیتا ہوں جو دیکر بھیجا گیا ہوں اور پیغمبر کا کام ہی صرف یہ ہے کہ اللہ کے احکام اور پیغام اس کی مخلوق کو پہنچائے تمہیں چاہئے تھا کہ تم اس بات پر یقین کرتے لیکن میں تم کو دیکھ رہا ہوں کہ تم نادانی کرنے والے لوگ ہو کیونکر تمہارے یہ مطالبے بلاشبہ تمہاری نادانی اور جہالت کی دلیل ہیں خدا کے پیغمبر کو عذاب نازل کرنے کی قدرت ہے اور نہ اختیار اور نہ اس کا علم کہ نافرمان قوم پر کب دنیوی عذاب نازل ہوگا اور کب تک ان کو مہلت ہے۔ پھر جب دیکھا اس ابر کو جو انکی وادیوں کی طرف آنے والا تھا تو اسکو اپنی وادیوں کی طرف بڑھتا دیکھ کر خوش ہو کر کہنے لگے کہ یہ سامنے سے آنے والا بادل تو ہم پر برسنے والا بادل ہے جس سے ہماری یہ ساری وادیاں اور ندی نالے بھر جائیں گے۔ 1 حاشیہ (بعض تاریخی نقول سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سال ان پر نہایت ہی قحط اور خشکی کا تھا تو اور بھی اس بادل کو دیکھ کر توقعات باندھنے لگے ) قہر خداوندی نے انکو جواب دیا نہیں بلکہ یہ تو وہ چیز ہے جس کو تم جلدی طلب کررہے تھے ایک آندھی ہے جس میں دردناک عذاب ہے جو اکھاڑ پھینکے گی ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے چناچہ وہ بادل بجائے سیرابی کے عذاب خداوندی بن کر ان پر برسنے لگا اور سات رات اور آٹھ دن مسلسل یہ غضبناک طوفانی آندھی عذاب خداوندی برساتی رہی جس نے درختوں کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکا عمارتیں منہدم ہوگئیں انسان اور بڑے بڑے طاقت ور جانور اس ہوا کے سامنے تنکوں کی حقیقت سے کچھ زائد نہ تھے۔ چناچہ جب صبح کو یہ اٹھے تو کوئی چیز نظر نہ آتی تھی بجز انکے مکانوں کے جو کھنڈرات کی صورت میں نظر آرہے تھے جس کو دیکھنے والا ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ ہم اسی طرح سزا دیتے ہیں نافرمان قوم کو اس لئے قریش مکہ کو بھی چاہئے کہ وہ ان واقعات کو سن کر ہوش میں آجائیں اور حضور اکرم ﷺ کے ساتھ بغاوت اور اللہ کی نافرمانی پر انکو ڈرنا چاہئے کہیں انکا بھی حشر ایسا ہی نہ ہوجائے اور کفار مکہ کو اپنی قوت و طاقت پر گھمنڈ نہ کرنا چاہئے اور بیشک ہم نے ان لوگوں کو طاقت ومضبوطی دی تھی ان ہی چیزوں میں کہ جن میں اے کفار مکہ تم کو طاقت اور زور دیا ہے مال و دولت اور عزت ووجاہت کا مگر ان کا مال واولاد طاقت واقتدار اور جتھے کچھ کام نہ آئے اور عذاب خداوندی نہ ٹلا سکے تو اسی طرح تمہاری یہ تمام قوتیں بھی عذاب خداوندی کے سامنے بےحقیقت ہوں گی پھر عبرت کی نشانیاں دیکھ سکتے تھے اور دلوں سے اللہ کی باتوں پر یقین کرسکتے تھے مگر کام نہ آئے انکے کان اور نہ انکی نگاہیں اور نہ انکے دل کسی بھی چیز میں جب کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے رہے اور چمٹ گیا ان پر وہ عذاب جس کا وہ مذاق اڑا رہے تھے وہ عذاب ان پر مسلط ہوا اور جس چیز کا تمسخر کررہے تھے وہی انکی ہلاکت کا باعث ہوئی اور آخر الامر انجام یہی ہوا کہ قوتیں سب موجود مگر عذاب الہی نے آگھیرا نہ کوئی اندرونی قوت اس عذاب کو رفع کرسکی اور نہ بیرونی تو اسی طرح قریش مکہ کو بھی اپنا انجام سوچ لینا چاہئے ، حافظ عماد الدین ابن کثیر (رح) نے سند غریب سے ایک روایت امام احمد بن حنبل (رح) کی مسند سے ذکر کی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قوم عاد ایک دفعہ قحط میں مبتلا ہوئی تو انہوں نے ایک وفد روانہ کیا جس کو قیل کہا جاتا ہے وہ وفد معاویۃ بن بکر پر سے گزرا تو ایک ماہ اس کے یہاں ٹھہرا جو اسکو شراب پلاتا اور دو گانے والی لونڈیاں اس کو اپنے نغمہ و سرور میں مست کرتی رہیں یہاں تک کہ ایک ماہ گزر گیا تو وہ نہرہ پہاڑ کیطرف روانہ ہوا اور کہا اے پروردگار تو جانتا ہے کہ نہ تو میں کسی مریض کی جانب آیا ہوں کہ اس کا علاج کروں اور نہ کسی قیدی کی طرف کہ اس کا فدیہ ادا کروں۔ اے اللہ (بس یہی طلب ہے) تو عاد کو سیراب کردے جس چیز سے بھی سیراب کرنے والا ہو تو اچانک چندبادل سیاہ رنگ کے سامنے سے گزرنے لگے تو ان میں سے ایک آواز آئی ان میں جو بادل چاہے اختیار کرلے اس نے ان بادلوں میں سیاہ ترین بادل اختیار کرلیا فورا اس میں سے آواز آئی خذہا رماوارمدد الخ۔ یعنی لے لے یہ بادل اس طرح کہ جلاکر راکھ کردینے والے شعلے اور ریزہ ریزہ کردینے والا کہ قوم عاد میں سے کسی ایک کو بھی باقی نہ چھوڑے تو ایک آندھی چلی جس نے پوری بستی ہلاک کردی اور کوئی مکان باقی نہ بچا کہ وہ منہدم نہ ہوگیا ہو اور درخت جڑوں سے اکھڑ گئے اور یہ تناور اور طاقت ور ڈیل ڈول والے زمین پر پچھڑے ہوئے پڑے تھے جیسے کہ کھجور کے درخت اکھاڑ کر پھینک دیئے گئے ہوں (آیت) ” کانھم اعجاز نخل خاویۃ “۔ یہ آندھی مسلسل سات راتوں اور آٹھ دن تک چلتی رہی (آیت) ” سبع لیال وثمنیۃ ایام حسوما “۔ علامہ آلوسی (رح) نے ایک روایت کے مضمون میں یہ بیان کیا کہ سب سے پہلے اس عذاب کو ایک عورت نے دیکھا کہ ایک ہوا کا جھونکا انکی بستی کی طرف اٹھا جس میں دہکتی ہوئی آگ کے شعلے تھے۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت ہود (علیہ السلام) نے جب یہ محسوس کیا کہ یہ آندھی عذاب خداوندی لے کر آرہی ہے تو ایک خط اپنے پر کھینچ لیا اور ایک خط اس جگہ پر جہاں مومنین تھے تو ان پر یہ ہوا نہایت لطیف وخوشگوار ہو کر لگ رہی تھی حالانکہ یہی ہوا قوم عاد کو، انکی بستی درختوں اور مکانات کو اکھاڑ پھینک رہی تھی اور یہ نظر آرہا تھا کہ ان پر پتھروں کی بارش ہورہی ہے، (ابن ابی شیبہ بحوالہ تفسیر روح المعانی) 1 حاشیہ (روح المعانی ج 26) ۔ حضرت عائشہ ؓ بیان فرماتی ہیں کہ جب کبھی تیز ہوا چلنے لگتی تو آنحضرت ﷺ فرماتے۔ اللہم انی اسألک خیرھا وخیر ما فیھا وخیر ما ارسلت بہ واعوذبک من شرھا وشرما فیھا وشرما ارسلت بہ۔ 2 حاشیہ 2 ( تفسیر ابن کثیر جلد 4) (کہ اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس ہوا کی خیر کا اور ہر اس چیز کا جو اس میں ہو اور جس کے ساتھ اس ہوا کو چلایا گیا اور اے اللہ میں پناہ مانگتا ہوں اسکے شر سے اور ہر اس برائی سے جو اس میں ہے اور جسکے ساتھ یہ بھیجی گئی) اور جب آسمان پر بادل چھاتا تو آپ ﷺ کے چہرۂ انور کا رنگ فکر و پریشانی سے متغیر ہوجاتا اور اضطراب کی سی کیفیت میں کبھی آپ ﷺ باہر نکلتے اور کبھی اندر داخل ہوتے اور آگے چلتے اور کبھی پیچھے ہٹتے اور جب بارش برسنے لگتی تو یہ آثار فکر وبے چینی کے آپ ﷺ سے دور ہوجاتے تو حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک روز میں نے دریافت کرلیا یا رسول اللہ ﷺ یہ کیا بات ہے اور یہ کیفیت آپ ﷺ پر کیوں واقع ہوتی ہے فرمایا اے عائشہ ؓ مجھے نہیں معلوم جب بادل آتا ہے تو یہ کیسا بادل ہوگا کہیں ایسا ہی تو نہیں جیسا کہ ایک قوم نے اس بادل کو دیکھ کر کہا یہ ابر تو ہم پر برسے گا اور ہمیں سیراب کرے گا۔ 3 حاشیہ (صحیح مسلم، جامع ترمذی، نسائی، ابن ماجہ ومسند عبد بن حمید، بحوالہ تفسیر روح المعانی جلد 26۔ ) حضور اکرم ﷺ کی مراد یہ تھی ان لوگوں کو کیا خبر تھی اس بادل میں کیسا خطرناک عذاب ہے نہ ہی اس کا تصور میں ہوسکتا تھا تو اسی وجہ سے میں ہر بادل کو دیکھ کر بےچین ہوجاتا ہوں کہ خدا جانے یہ عذاب وہلاکت کو لے کر آرہا ہے (العیاذ باللہ) یا اللہ کی رحمت رزق و برکت اور شادابی لے کر آرہا ہے ، مقام احقاف : ائمہ مفسرین فرماتے ہیں کہ عاد کے بھائی حضرت ہود (علیہ السلام) تھے جن کو حق تعالیٰ نے عاد اولی کی طرف مبعوث فرمایا تھا انکی بستیاں مقام احقاف میں واقع تھیں لفظ احقاف حقف کی جمع ہے جو ریت کے پہاڑ کو کہتے ہیں حافظ ابن کثیر (رح) نے طبقات الارض کے ایک ماہر امام ابن زید کا یہ قول نقل کیا عکرمہ (رح) سے منقول ہے کہ احقاف پہاڑوں اور غاروں کو کہتے ہیں عاد اولی کی آبادیاں ایسی ہی سرزمین میں واقع تھیں۔ حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے مروی ہے کہ حضرموت میں ایک وادی کا نام احقاف ہے قتادہ (رح) کہا کرتے تھے کہ یہ بات مشہور ہے کہ عاد یمن میں رہنے والی ایک قوم تھی جو ریگستانی علاقہ میں ساحل سمندر پر آباد ہوئی اور اسی کے قرب و جوار میں ان کی بستیاں بھی آباد ہوگئیں۔ مؤلف ارض القرآن بلاد احقاف کے تحت یہ لکھتے ہیں کہ یمامہ عمان بحرین حضرموت اور مغربی یمن کے درمیان جو صحرائے اعظم الدھناء یا ربع خالی کے نام سے واقع ہے اگرچہ وہ آبادی کے قابل نہیں لیکن اس کے اطراف و جوانب میں کہیں کہیں آبادی کے لائق کچھ صاف زمین ہے خصوصا اس حصہ میں جو حضرموت سے بحران تک پھیلا ہوا ہے گو اس وقت وہ بھی آباد نہیں تاہم عہد قدیم میں اسی حضرموت اور بحران کے درمیانی حصہ میں عادارم کا مشہور قبیلہ آباد تھا جس کو خداوند عالم نے اسکی نافرمانی کی پاداش میں نیست ونابود کردیا تھا۔
Ayahs 46:27–28

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَ صَرَّفْنَا الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 46:27 in the Quran reader

اور تمہارے اردگرد کی بستیوں کو ہم نے ہلاک کردیا اور بار بار (اپنی) نشانیاں ظاہر کردیں تاکہ وہ رجوع کریں

فَلَوْ لَا نَصَرَهُمُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ قُرْبَانًا اٰلِهَةً١ؕ بَلْ ضَلُّوْا عَنْهُمْ١ۚ وَ ذٰلِكَ اِفْكُهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 46:28 in the Quran reader

تو جن کو ان لوگوں نے تقرب خدا کے لیے (خدا) کے سوا معبود بنایا تھا انہوں نے انکی کیوں مدد نہ کی بلکہ وہ ان (کے سامنے) سے گم ہوگئے اور یہ ان کا جھوٹ تھا اور یہی افتراء کیا کرتے تھے

تذکرۂ ہلاکت امم سابقہ برائے عبرت اہل مکہ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ولقد اھلکنا ما حولکم ..... الی ...... وما کانوا یفترون “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں قوم عاد کی ہلاکت وتباہی کا ذکر فرمایا گیا جس سے مقصدیہ ظاہر کرنا تھا کہ انہوں نے اپنے پیغمبر کی نافرمانی کی انکے دین کا تمسخر و مذاق بنایا اور عذاب خداوندی کی وعید کو سن کر پیغمبر سے مطالبہ کرنے لگے کہ وہ اچھا عذاب لے آؤ جس سے ڈرا رہے ہو تو اب اس مناسبت سے اجمالا ان دوسری قوموں کی تباہی کا حوالہ دیا جارہا ہے جو مکہ کے اطراف اور شام کے علاقہ میں بسنے والی تھیں اور یہ بتایا جارہا ہے کہ نہ انکے معبود کام آئے اور نہ انکے وسائل اور مال و دولت و عذاب خداوندی ٹلا سکے تو ان واقعات سے قریش مکہ کو عبرت حاصل کرنی چاہئے اور نبی کریم ﷺ کی نافرمانی اور بغاوت سے باز آجانا چاہئے۔ ارشاد فرمایا اور بیشک ہم ہلاک کرچکے ہیں تمہارے آس پاس کی بہت سی بستیاں مثلا قوم ثمود اور قوم لوط کی بستیاں بھی اسی طرح تباہ کردیں جیسے کہ عاد کی بستی تباہ کردی گئی جو مکہ والوں کے قرب و جوار میں واقع تھیں اور ان علاقوں پر سے اہل مکہ کا تجارتی سفروں میں گزر ہوتا تھا اور ان کی ہلاکت کے واقعات عام طور پر لوگوں میں معروف تھے ہر ایک جانتا تھا اور تاریخی واقعات کے ذیل میں انکو بیان بھی کیا جاتا تھا ان کا حسرت ناک حال یہ تھا کہ اور پھیر پھیر کر ہم نے سنائیں انکو باتیں اور دلائل ونشانیاں بار بار دکھائیں شاید یہ کہ وہ لوٹ جائیں حق وہدایت کی طرف لیکن نہ انکو نصیحتوں سے کچھ فائدہ پہنچا اور نہ دلائل وبینات سے حق کی طرف رجوع کیا جس کا انجام یہی ہوا کہ تباہ وبرباد کردیئے گئے تو کیوں نہ مدد کی انہوں نے جن کو انہوں نے اپنا معبود بنالیا تھا تقرب حاصل کرنے کے لیے خدا کو چھوڑ کر یہیں، مدد تو کیا کرتے بلکہ وہ تو ان سے گم ہوگئے اور قطعا بےگانگی اختیار کرلی اور یہ ان کا صریح جھوٹ تھا اور جو کچھ وہ اپنی طرف سے گھڑتے تھے اور یہ بات یقینی ہے کہ من گھڑت باتیں اور جھوٹ نہ چلا کرتا ہے اور نہ کام آتا ہے تو اسی طرح جو مشرکین زندگی بھر شرک کرتے رہے اور اپنے بتوں کو یہ سمجھتے تھے کہ انکی عبادت خدا کا قرب حاصل کرنے کے لئے ہے جب میدان حشر ہوگا تو وہ سب معبود غائب ہوں گے اور انکے سارے جھوٹ اور من گھڑت افسانے ان کے سامنے وبال اور عذاب بن کر ظاہر ہورہے ہوں گے ان مضامین کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔