Ayahs 46:29–35اطاعت و قبول حق جماعتے از جنات ببرکت استماع قرآن آیات بینات و انجام معرضین از دعوت داعی اللہ ومنکرین دین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” واذصرفنا الیک نفرا من الجن ....... الی ...... الا القوم الفسقون “۔
(ربط) اس سے قبل آیات میں انسانوں کے تمرد وسرکشی کا بیان تھا اب ان آیات میں جنوں کی اطاعت وفرمانبرداری کا حال بیان کیا جارہا ہے جس سے یہ بات ظاہر کرنی مقصود ہے کہ جنات طبعی طور پر متمردوسرکش ہوتے ہیں کیونکہ انکی تخلیق آگ سے فرمائی گئی لیکن اس کے باوجود ان میں سے ایک جماعت نے جب قرآن حکیم کی طرف توجہ کی اور کان لگا کر آیات خداوندی سنیں تو انکی وہ تمام سختی بالکل موم بن گئی یہ محض برکت اس بات کی تھی کہ انہوں نے قرآن کریم کی طرف توجہ کی اور آیات قرآنیہ سنی مگر افسوس اور حیرت کا مقام ہے کہ کفار مکہ انسان ہونے کے باوجود نہ تو نرماتے ہیں اور نہ ہی ان میں سعادت کے آثار محسوس ہوتے ہیں اور یہ صرف اسی وجہ سے کہ انکو کبھی قرآن کریم کی طرف نہ توجہ ہوتی ہے اور وہ آیات سنتے ہیں اس بنیادی فرق کو واضح کرتے ہوئے اخیر میں قیامت کا مضمون بیان کیا گیا اور آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی یہ فرماتے ہوئے کہ مجرمین اس کے علم اور نگاہوں سے چھپے ہوئے نہیں ہیں اور ہرگز بھی خداوند عالم کی گرفت سے نہیں بچ سکتے اور غلبہ و کامیابی یقیناً حق کی ہوگی۔
ارشاد فرمایا اور جس وقت کہ متوجہ کردیا ہم نے آپ کی طرف جنوں میں سے ایک جماعت کو جو کان لگا کر سننے لگے قرآن کو تو جب وہ وہاں پہنچے تو کہنے لگے ان میں سے بعض افراد اپنے ساتھیوں کو کہ خاموش رہو قرآن کا حق یہی ہے کہ جب تلاوت ہو تو سب سننے والے خاموش رہیں اور سنیں پھر جب ختم ہوا سلسلہ تلاوت تو لوٹے اپنی قوم کی طرف انکو عذاب خداوندی سے ڈراتے ہوئے ،
کلام الہی کو سن کر اس کی بلاغت اور اسکی حقانیت کو پہچانا اور یقین حاصل ہوگیا کہ بیشک یہ کلام خداوندی ہے کہنے لگے اے ہماری قوم ہم نے سنی ایک کتاب جو موسیٰ (علیہ السلام) کے بعداتاری گئی ہے تصدیق کرنے والی ہے اپنے سے پہلے کتابوں کی جو راہنمائی کرتی ہے سچے دین اور سیدھے راستہ کی طرف اور ظاہر ہے کہ جو کتاب حقانیت اور راہ حق کی رہنمائی کرتی ہو انبیاء سابقین کی کتابوں کی تصدیق بھی کررہی ہو تو بلاشبہ اس پر ایمان لے آنا چاہئے اور داعی حق کی دعوت پر لبیک کہنا یہ عقل اور فطرت کا تقاضا ہے اس لیے اے ہماری قوم مان لو اللہ کے داعی کی دعوت کو اور اس پر ایمان لے آؤ وہ پروردگار بخش دیگا تمہارے گناہوں کو اور پناہ دے گا تمہیں دردناک عذاب سے کیونکہ اللہ کے داعی کی دعوت قبول کرلینا اور اس پر ایمان لانا گزشتہ گناہوں اور گمراہیوں کا کفارہ ہے اور آئندہ عذاب آخرت سے بھی نجات کا ذریعہ ہے قبول حق اور پیغمبر خدا پر ایمان لانے میں خود ایمان لانے والے ہی کا فائدہ ہے اور اس سے اعراض و انحراف میں خدا کی شان عظمت والوہیت میں ذرہ برابر بھی کمی نہیں آسکتی چناچہ یہ حقیقت ہے کہ اور جو اللہ کے داعی کو نہ مانے تو اسکو سمجھ لینا چاہئے کہ وہ عاجز نہیں کرسکتا اللہ کو زمین میں اور نہ اس کے واسطے خدا کو چھوڑ کر کوئی مددگار ہوسکتے ہیں ایسے لوگ بڑی ہی صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں جنہوں نے نہ کلام خداوندی کی عظمت اور اس کی شان کو پہچانا نہ اس کی حقیقت کو سمجھا اور نہ ہی یہ سوچا کہ وہ کلام جو صحیح عقائد پاکیزہ اصول حق وہدایت کا پیکر ہو خدا کی کتابوں کی تصدیق کرتا ہو وہ بلاشبہ اللہ کا کلام ہے اور اس کلام کو لانے والا خدا کا پیغمبر اور اس کا داعی ہے ان حقائق کو سمجھنے کے واسطے تو کائنات میں بیشمار دلیلیں موجود ہیں۔
کیا نہیں دیکھتے کہ وہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا وہ نہیں تھکا انکے بنانے میں تو وہ خدا قدرت رکھتا ہے اس بات پر کہ مردوں کو زندہ کردے بیشک وہ ہر چیز پر بڑی ہی قدرت رکھنے والا ہے لہذا اس قسم کے کسی دھوکہ میں نہ رہنا چاہئے کہ مر کر کہاں زندہ ہوں گے جس اللہ کو زمین و آسمان جیسی عظیم مخلوقات پیدا کرنا کچھ مشکل نہ ہوا اس پروردگار کو مردوں کو دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہوسکتا ہے قیامت اور بعث بعد الموت برحق ہے اور جس دن کافروں کو پیش کیا جائے گا جہنم پر اور انکو دہکتی ہوئی آگ اور اس کے شعلے نظر آرہے ہوں گے تو ان سے پوچھا جائے گا کیا نہیں ہے یہ حق کہیں گے بیشک اور قسم ہے ہمارے رب کی اس اقرار واعتراف کے بعد پروردگار فرمائے گا تو پھر چکھو تم عذاب اس کفر ونافرمانی جو تم کرتے تھے ،
بہرحال یہ حقائق ہیں جن پر کائنات اور کائنات کی ہر چیز شاہد ہے اور اس حقیقت سے کسی طرح بھی انکار ممکن نہیں کہ منکرین کو سزا ضرور ملتی ہے خواہ دنیا وآخرت دونوں میں یا آخرت میں اگر اللہ کی حکمت کا یہی تقاضا ہو تو اے ہمارے پیغمبر ﷺ صبر کیجئے آپ بھی جیسا کہ صبر کیا ہمت والے رسولوں نے جیسے حضرت نوح (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ۔ اور جلدی نہ کیجئے ان کے لیے نزول عذاب کی ،
اگر مجرمین ومنکرین کو ڈھیل اور مہلت دی جارہی ہے تو وہ اللہ کی حکمت پر مبنی ہے عذاب آکر رہے گا اگر دنیا میں نہ آیا تو آخرت کے عذاب سے تو کوئی منکر و کافر کسی طرح نہ بچ سکے گا اور آخرت کا عذاب اس قدر ہولناک ہوگا کہ وہ دنیا کی ہر راحت ولذت کو بھلادے گا صورت حال یہ ہوگی یہ لوگ جس دن کہ وہ عذاب دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا رہا محسوس کرتے ہوں گے کہ نہیں ٹھہرے ہیں مگر دن کی صرف ایک گھڑی اور دنیاوی عیش و عشرت کی ساری زندگی صرف ایک گھڑی محسوس ہونے لگے گی اور عذاب آخرت کا پہلا منظر ہی دنیا کی ساری لذتوں کو بھلا دے گا۔
یا یہ کہ دنیا کی زندگی میں عذاب کی تاخیر سے جو یہ خیال کررہے تھے کہ بہت دیر ہوگئی اور طویل مدت گذر گئی مگر عذاب نازل نہیں ہوا مگر جب عذاب خدواندی نظرآئے گا تو سمجھیں گے مہلت اور ڈھیل تو ہم کو صرف دن کی ایک گھڑی ہی کے بقد رملی ہے نہ یہ کہ کوئی طویل زمانہ گذرا ہو۔
یا یہ کہ عالم قبر کو وہ یہ سمجھنے لگیں گے کہ وہ ایک طو یل مد ت نہیں بلکہ صرف ایک گھڑی ہی گزری ہے کہ مرنے بعد اب ہم پھر زندہ ہو کر خداوند عالم کے روبرو حاضر ہیں تو مرنے کے بعد سے لے کر عالم آخرت تک خواہ کتنی ہی طویل مدت گذرے مگر قبر میں رہنا صرف ایک گھڑی ہی معلوم ہوگا جس طرح ایک انسان سونے کے بعد آنکھ کھلنے پر یہ نہیں محسوس کرتا کہ اسکے سونے کے دوران کتنا وقت گذرا بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آنکھ لگی اور بس پھر بیدار ہوگئے نیند آنے اور بیدار ہونے میں کسی امتداد وقت کا احساس ہی نہیں ہوتا لہذا عالم قبر اور مرنے کے بعد سے آخرت و قیامت میں اٹھنے کا مسئلہ بس ایسا ہی ہے جیسا انسان سویا اور اس کے بعد پھر بیدار ہوا یہ پیغام ہے جو خدا کی طرف سے اسکے رسول نے دنیا کو پہنچا دیا اب اس کے بعد ہلاک وہی لوگ کیے جائیں گے جو نافرمان ہیں اور جنہوں نے اللہ کے پیغمبر کے پہنچائے ہوئے پیغام کو نہ سنا نہ اسکو مانا اور نہ اس پر عمل پیرا ہوئے۔
جنوں کا ایک گروہ کا قرآن کریم سننا :
جنوں کی ایک جماعت کا ذکر جو ان آیات میں فرمایا گیا اس کی غرض تو یہ ہے کہ کفار مکہ باوجودیکہ از قسم بنی آدم اشرف المخلوق ہیں، اور خدا نے نوع بشر میں حلم وبردباری اور تاثر انفعال کی صلاحیت بہت زائد رکھی ہے اسکے بالمقابل نوع جن میں اس وجہ سے کہ وہ مخلوق ناری ہیں شدت وتمرد اور سرکشی اور خارجی تاثرات سے متاثر نہ ہونے کا وصف ان میں زائد ہے لیکن اس جماعت نے جب قرآن کریم کی طرف توجہ کی اور غور وفکر کے ساتھ سنا تو فورا ہی حق کی طرف قلوب مائل ہوگئے اور قرآن کریم کی عظمت سے اس قدر متاثر ہوئے کہ اطاعت وفرما نبرداری کا سرجھکا دیا اور نہ صرف یہ کہ خود ہدایت قبول کی بلکہ اپنی قوم کی طرف ہادی و راہنما اور داعی بن کر لوٹے تو اس قصہ سے اہل مکہ کے عناد اور تمرد وسرکشی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ قرآن کریم اور رسول خدا ﷺ سے کس قدر متنفروبرگشتہ تھے، جنوں کا یہ گروہ کون تھا اور کس وقت اور کہاں یہ واقعہ پیش آیا ؟ تو اس سلسلہ میں۔
ایک روایت تو حافظ ابن کثیر (رح) نے اپنی تفسیر میں یہ نقل کی ہے تو یہ واقعہ مقام ” نخلہ “ میں پیش آیا جبکہ رسول اللہ ﷺ نماز عشاء ادا فرما رہے تھے اور یہ افراد نصیبین کے جنوں میں سے تھے جن کی تعداد سات تھی اس روایت کو ائمہ محدثین نے امام احمد (رح) کے تفردات میں شمار کیا ہے ،
بیہقی (رح) نے اپنی کتاب ” دلائل النبوۃ “ میں سعید بن جبیر (رح) کی سند سے عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت ذکر کی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جنات کے سامنے خود کچھ نہیں پڑھا اور نہ انکو دیکھا اصل قصہ یہ پیش آیا کہ آنحضرت ﷺ ایک مرتبہ اپنے اصحاب کے ساتھ بازار عکاظ کی طرف جارہے تھے اور یہ وہ زمانہ تھا کہ جنات و شیاطین اور آسمانوں کی خبروں کے درمیان رکاوٹ قائم کردی گئی تھی اور جب بھی کوئی جن آسمانوں پر چڑھ کر غیبی خبروں کی طرف کان لگاتا تو شہاب ثاقب اس پر ٹوٹ پڑتا اور جلا کر راکھ کردیتا تو جنوں میں اس صورت حال کے پیش آنے پر تشویش ہوئی اور باہم یہ کہنے لگے کہ ضرور کوئی نئی بات ایسی پیش آئی ہے جس کے باعث اب آسمانوں کی خبروں کا سننا ممکن نہیں رہا تو تلاش کے لئے جنوں کی جماعتیں روئے زمین کے اطراف مشرق ومغرب کی طرف نکل کھڑی ہوئیں ان میں سے ایک جماعت جس نے تہامہ (مکہ) کا رخ کیا تھا رسول اللہ ﷺ کی طرف جب کہ آپ ﷺ مقام نخلہ میں تھے (بازارعکاظ جاتے ہوئے) اور اس وقت صحابہ کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے تو ناگہاں قرآن کریم کی آواز انکے کانوں میں پہنچی فورا ہی متوجہ ہوئے اور غور سے سننے لگے جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو کہنے لگے بس یہی وہ چیز ہے جو ہمارے اور آسمانی خبروں کے درمیان حائل ہوتی ہے قرآن کریم کی آوازا نہیں نہایت ہی عجیب موثر اور دل کش معلوم ہوئی اسکی ہیبت و عظمت دلوں پرچھا گئی اور اپنے ایمان و ایقان کا ایسا جوہر لے کر لوٹے کہ اپنی قوم کو بھی رشد و فلاح کی دعوت دینے لگے جس کا ان کلمات میں ذکر ہے، (آیت ) ” یقومنا اجیبوا داعی اللہ وامنوا بہ “۔ یہی وہ قصہ ہے جس کو سورة جن میں (آیت ) ” قل الی انہ استمع نفر من الجن فقالوا انا سمعنا قرانا عجبا “ میں فرمایا گیا۔
روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مرتبہ آنحضرت ﷺ کو انکی آمد کا اور قرآن کریم کے سننے کا علم نہیں ہوا تھا ایک درخت نے باذن اللہ کچھ اجمالی اطلاع آپ ﷺ کو دی اور پھر اسکی تفصیل بذریعہ وحی آپ ﷺ کو بتائی گئی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوں کی اس جماعت نے داعی بننے کے بعد جنوں میں اسلام پھیلا یا اور بہت بڑی تعداد میں جن مسلمان ہوئے اور حضور ﷺ سے ملاقات کرنے اور دین سیکھنے کیلئے ان کے وفود آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
علامہ خفاجی (رح) نے چھ مرتبہ جنوں کی آمد کو بیان کیا ہے عبداللہ بن مسعود ﷺ کی سند سے لیلۃ الجن کا قصہ کتب حدیث میں معروف ہے قارئین تفسیر ابن کثیر اور روح المعانی کی مراجعت فرمائیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایک دفعہ قصدا آپ ﷺ جنوں کی طرف تشریف لے گئے اور ان کو وعظ ونصیحت کے ساتھ دین کی تعلیم دی، تم تفسیر سورة الاحقاف بفضل اللہ تعالیٰ وحسن توفیقہ 17 ربیع الاول 1403 ہجری ،