45. Surah Al-Jaathiya

الجاثيةCrouching · 37 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 45:1–11

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 45:2 in the Quran reader

اس کتاب کا اتارا جانا خدائے غالب (اور) دانا (کی طرف) سے ہے

اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 45:3 in the Quran reader

بیشک آسمانوں اور زمین میں ایمان والوں کے لئے (خدا کی قدرت) کی نشانیاں ہیں

وَ فِیْ خَلْقِكُمْ وَ مَا یَبُثُّ مِنْ دَآبَّةٍ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَۙ Open ayah 45:4 in the Quran reader

اور تمہاری پیدائش میں بھی اور جانوروں میں بھی جن کو وہ پھیلاتا ہے یقین کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں

وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ رِّزْقٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 45:5 in the Quran reader

اور رات اور دن کے آگے پیچھے آنے جانے میں اور وہ جو خدا نے آسمان سے (ذریعہ) رزق نازل فرمایا پھر اس سے زمین کو اس کے مرجانے کے بعد زندہ کیا اس میں اور ہواؤں کے بدلنے میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 45:6 in the Quran reader

یہ خدا کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو سچائی کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں تو یہ خدا اور اسکی آیتوں کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے ؟

وَیْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 45:7 in the Quran reader

ہر جھوٹے گنہگار پر افسوس ہے

یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰى عَلَیْهِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 45:8 in the Quran reader

(کہ) خدا کی آیتیں اس کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کو سن لیتا ہے (مگر) پھر غرور سے ضد کرتا ہے کہ گویا ان کو سنا ہی نہیں سو ایسے شخص کو دکھ دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا دو

وَ اِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْئَا اِ۟تَّخَذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌؕ Open ayah 45:9 in the Quran reader

اور جب ہماری آیتیں اسے معلوم ہوتی ہیں تو ان کی ہنسی اڑاتا ہے ایسے لوگوں کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہے

مِنْ وَّرَآئِهِمْ جَهَنَّمُ١ۚ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَیْئًا وَّ لَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌؕ Open ayah 45:10 in the Quran reader

ان کے سامنے دوزخ ہے اور جو کام وہ کرتے رہے کچھ بھی ان کے کام نہ آئیں گے اور نہ وہی (کام) آئیں گے جن کو انہوں نے خدا کے سوا معبود بنا رکھا تھا اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے

هٰذَا هُدًى١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ۠ Open ayah 45:11 in the Quran reader

یہ ہدایت (کی کتاب) ہے اور جو لوگ اپنے پروردگار کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں ان کو سخت قسم کا درد دینے والا عذاب ہوگا

بیان عظمت کتاب خداوندی وذکر دلائل قدرت وتنبیہ بر اعراض و انحراف : قال اللہ تعالیٰ :۔ (آیت ) ” حم تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم ...... الی ....... من رجز الیم “۔ (ربط) گزشتہ سورت کا مضمون ان اوصاف کے بیان پر ختم کیا گیا تھا۔ جو انسانی فوز و فلاح اور سعادت کے ضامن ہیں اور یہ کہ قرآن کریم عربی زمین میں آسان وسہل بنا کر نازل کیا گیا اب اگر اس کے بعد بھی لوگ ہدایت قبول نہ کریں تو یہ انکی محرومی اور بدنصیبی ہے تو اس مناسبت سے سورة جاثیہ کی ابتداء عظمت کو دیکھ کر اس کی کتاب کی عظمت کو بھی پہچان سکیں، ساتھ انعامات کا بھی ذکر ہے اور قادر مطلق ومنعم حقیقی کی نافرمانی پر تنبیہ ووعید بھی، تو ارشاد فرمایا۔ حآ۔ اتارنا ہے اس کتاب کا اللہ کی طرف سے جو زبردست ہے حکمتوں والا جس کی عزت وکبریائی اور حکمتیں اس کتاب الہی میں رونما ہیں اور تمام کائنات اللہ رب العزت کی الوہیت ووحدانیت کی گواہ ہے، یقیناً آسمانوں میں اور زمین میں بڑی بڑی نشانیاں ہیں ماننے والوں کے لیے اور کائنات کی دوسری بیشمار نشانیوں کا کیا کہنا اے انسانو ! خود تمہارے پیدا کرنے میں اور جس قدر بھی پھیلا رکھے ہیں جانور ہر ایک میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے واسطے جو یقین لائیں کہ انسان خود اپنی ساخت اور دوسرے حیوانات پر غور کرے تو پروردگار کی معرفت اور اس کی قدرت کو پہنچاننے کی ہزار ہانشانیاں اور دلائل مل جائیں گے، اور رات دن کے بدلنے میں اور جو کچھ اللہ نے آسمان سے رزق اتارا کہ بارش برسائی پھر اس سے زمین کو زندہ تروتازہ و شاداب کیا اس کے مرجانے کے بعد اور ہواؤں کو لوٹانے پلٹانے میں نشانیاں ہیں، ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں کہ اگر ذرا بھی غور کریں تو ان کو اس بات کا کامل یقین حاصل ہوجائے کہ یہ تمام صرف اسی زبردست طاقت اور حکمت والے پروردگار کے قبضہ قدرت میں ہے جو یکتا ہے اور عقل اس کا فیصلہ کرتی ہے۔ اور مشاہدی اس کی تصدیق کرتا ہے کہ اس ذات عزیز و حکیم کے سوا یہ چیزیں کسی کے بس میں نہیں انہی نشانیوں کو کہا جارہا ہے کہ یہ ہیں اللہ کی نشانیاں جو ہم آپ کو سنا رہے ہیں۔ ٹھیک ٹھاک اور ان دلائل وحقائق کا سننا اور مشاہدہ کرنا اس بات کا موجب ہے کہ ہر بات کا یقین کریں اور اس پر ایمان لائیں جب یہ چیز اس قدر واضح ہے تو پھر کون سی بات ہے اللہ اور اس کی نشانیوں کے بعد ایسی کہ یہ اس پر ایمان لائیں گے، حقائق اور دلائل کو تسلیم کرنے سے اکثر انسان کا عناد اور اس کی ضد مانع ہوتی ہے تو ایسی صورت میں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ہلاکت و بربادی ہے ہر جھوٹے افتراء پرداز گنہگار کے لیے کہ سنتا ہے اللہ کی آیتوں کو جو اس کے سامنے تلاوت کی جاتی ہیں مگر پھر بھی وہ اپنے کفر ونافرمانی پر اصرار کرتا ہے، تکبر کرتے ہوئے اس طرح کہ گویا اس نے سنا ہی نہیں ہے تو اگر اس نافرمان انسان کے غرور وتکبر کا یہی حال ہے تو پھر اسے ہمارے پیغمبر اس کو خوشخبری سنا دیں ایک درددد ناک عذاب کی اور اگر کسی وقت ہماری نشانیوں میں کوئی نشانی جان لیتا ہے اور مجبور ہوجاتا ہے کہ اس کو مانے تو بنا لیتا ہے اس کو مذاق تو یہ لوگ ایسے ہیں کہ ان کے واسطے بڑا ہی ذلت کا عذاب ہے، اللہ کے احکام اور اس کی آیات کے ساتھ تمسخر اللہ کے دین کی اہانت وتحقیر ہے یہی سزا ہوگی کہ ان پر ذلت و خواری کا عذاب مسلط کردیا جائے گا اور ان کے پیچھے جہنم ہے کہ دنیا کی زندگی اس میں حائل ہے جوں ہی دار دنیا سے کوچ کریں گے، جہنم کا عذاب ان پر مسلط اور ان کو محیط ہوگا اور کام نہ آئے گا ان کے واسطے ذرہ برابر جو انہوں نے اپنی زندگی میں کمایا۔ اور نہ کام آئیں گے، جن کو انہوں نے اپنا ولی بنایا تھا خدا کو چھوڑ کر بلکہ ان کے اولیاء اور معبود خود اپنی اپنی مصبیت میں مبتلا ہوں گے اور ان کے واسطے بڑا ہی زبردست عذاب ہے، یہ ہے سامان ہدایت جو اللہ کی نشانیوں کے بعد اس کے دلائل قدرت پر مشتمل ہے لیکن جو لوگ اپنے رب کی باتوں، دلائل قدرت، احکام ونشانیوں کا انکار کریں ان کے واسطے بڑا ہی درد ناک عذاب ہے اس وجہ سے کہ انہوں نے عقل فطرت کے خلاف حق سے انکار و انحراف کیا اور اپنے خالق کی نافرمانی کی اور ظاہر ہے کہ بغاوت ونافرمانی کا تو ایسا ہی انجام ہونا چاہئے۔ دلائل قدرت کی تفصیل اور ان کے انواع کی تحقیق گزر چکی۔ نیز دلائل آفاق وانفس کی بحث منازل العرفان فی علوم القرآن میں قدرے وضاحت کے ساتھ کی گئی ہے ان آیات کی تفسیر کے لیے اس کی مراجعت فرمائی جائے۔
Ayahs 45:12–15

اَللّٰهُ الَّذِیْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ فِیْهِ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَۚ Open ayah 45:12 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے دریا کو تمہارے قابو میں کردیا تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں اور تاکہ تم اس کے فضل سے (معاش) تلاش کرو اور تاکہ شکر کرو

وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 45:13 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو اپنے (حکم) سے تمہارے کام میں لگا دیا جو لوگ غور کرتے ہیں ان کے لئے اس میں (قدرت خدا کی) نشانیاں ہیں

قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰهِ لِیَجْزِیَ قَوْمًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 45:14 in the Quran reader

مومنوں سے کہہ دو کہ جو لوگ خدا کے دنوں کی (جو اعمال کے بدلے میں مقرر ہیں) توقع نہیں رکھتے ان سے درگزر کریں تاکہ وہ ان لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١٘ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 45:15 in the Quran reader

جو کوئی نیک عمل کرے گا تو اپنے لئے اور جو برے کام کرے گا تو ان کا ضرر اسی کو ہوگا پھر تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر آؤ گے

دلائل قدرت وتکوینی انعامات خداوندی : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” اللہ الذی سخرلکم البحر ......... الی ....... ثم الی ربکم ترجعون “۔ (ربط) گزشتہ آیات حق تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں پر مشتمل تھیں جن سے پروردگار عالم کی الوہتی ووحدانیت کو ثابت کرتے ہوئے اعراض و انحراف کرنے والوں پر وعید تھی اب مزید چند دلائل کا ذکر کرتے ہوئے بعث بعد الموت اور قیامت کو ثابت فرمایا جارہا ہے۔ ارشاد خداوندی ہے۔ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے بس میں کردیا ہے سمندر کو تاکہ چلیں اس میں جہاز اس کے حکم سے حالانکہ سمندر جیسی ہیبت ناک موجوں پر جہازوں اور کشتیوں کا چلنا مادی اسباب کے لحاظ سے متوقع نہ تھا اب بحری سفر انسان کررہا ہے، تجارت بھی، سیروسیاحت بھی اور شکار بھی ہے اس کی تہوں میں سے موتی اور ہیرے قمیتی جواہرات بھی نکالے جارہے ہیں مچھلیوں کو دوا اور غذا میں استعمال کیا جارہا ہے تو یہ بیشمار منافع اور فوائد خالق کائنات کی قدرت اور اس منعم حقیقی کے عظیم تر دلائل اور شواہد ہیں اور یہ سب کچھ اس لیے بھی کہ تلاش کرو اس کے فضل سے اور امید ہے کہ تم اپنے اس منعم حقیقی کا شکر ادا کرو۔ ان تمام انعامات کو دیکھ کر انسانی فطرت کا یہی تقاضا ہے کہ منعم سے قلب میں محبت ہو اور جذبہ طاعت فرمانبرداری اور حق انعام ادا کرنے کے واسطے مستعد ہوجائے اور کام میں لگا دیا تمہارے واسطے ہر اس چیز کو جو آسمانوں اور زمین میں ہے اس طور سے یہ سب کچھ اسی کی طرف سے ہے ، اسی نے ان سب چیزوں کو پیدا کیا اور ان جملہ مخلوقات میں تصرف کرنے اور ان سے منتفع ہونے کی تم میں صلاحیت پیدا کی اور ان کو تمہارے سامنے مسخر وتابع کردیا ورنہ ایک معمولی جانور بھی انسان سے بہت زیادہ طاقت رکھتا ہے اور ممکن نہ ہوسکتا تھا کہ انسان خود اپنی طاقت سے جانور پر سوار ہو کر اس کو جہاں چاہے لیے پھرے، بیشک ان سب باتوں میں بڑی ہی نشانیاں ہیں ایسے لوگوں کے واسطے جو غور وفکر کرتے ہوں تو غور وفکر کرنے والے یقیناً یہ بات سمجھ لیں گے کہ جب ہمارے خالق نے یہ تمام کائنات ہمارے لیے اور ہمارے کام میں سب چیزوں کو لگا رہا ہے تو انصاف کا یہی تقاضا ہے کہ ہم کو اس کے کام میں لگ جانا چاہئے اور یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ دنیا میں انسان کی یہ زندگی حیات مستعا رہے حقیقی زندگی آخرت کی زندگی ہے اس کے واسطے بھی چاہئے کہ عمل کا کچھ ذخیرہ مہیا کیا جائے ، ایسے دلائل اور خالق حقیقی کی قدرت کاملہ کی نشانیاں اور اس کے بےپایاں انعامات کے باوجود بھی جو لوگ اپنے معنم حقیقی اور خالق کائنات کے ساتھ اپنی زندگیوں کا رشتہ وابستہ نہیں کرتے اہل اللہ کے دلوں میں ان سے تکدر اور تنفر پیدا ہونا ایک ایمانی تقاضا ہے غصہ اور جذبہ انتقام کا ابھرنا بھی طبعی تاثر ہے تو ان جذبات پر قابو پانے کے لیے صبر و تحمل کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہہ دو اے ہمارے پیغمبر ایمان والوں کو کہ درگذر کریں وہ ان لوگوں سے جو امید ہی نہیں رکھتے ہیں، اللہ کے دنوں کی سزا دے اللہ ایک قوم کو ان اعمال کی جو وہ کرتے تھے، جس کا یہ نتیجہ ہے کہ نہ اس کی رحمت کی امید ہے اور نہ اس کے عذاب کی فکر ہے، اور نہ اس بات کا احساس ہے کہ اللہ اپنے اور اپنے دین کے دشمنوں کو خاص سزا دے گا اور ان کو ناکام و ذلیل کرے گا اور جو اس کے دوست ہیں اور اس کے دین کے قبول کرنے والے ہیں ان کو اپنے انعام واکرام سے نوازے گا نیز ان کو کامیاب فرمائے گا، ہمارے یہاں تو یہ قانون طے ہوچکا کہ جس کسی شخص نے نیکی کا کام کیا بس وہ اسی کے واسطے ہے نافع و باعث عزت اور جس کسی نے برا کام کیا تو اس کا وبال اسی پر ہے، پھر یہ بھی جان رکھو کہ تم سب اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے وہاں پہنچ کر ہر شخص اپنے اعمال صالحہ کا اجرو ثواب دیکھ لے گا اور اعمال خبیثہ کی سزا اور اعذاب دیکھ لے گا غرض ہر شخص کی نیکی اور بدی اس کے سامنے آجائے گی ، اہل ایمان کو کافروں کی معاندانہ روش پر درگذر کی تلقین : (آیت ) ” قل للذین امنو یغفروا “۔ میں اہل ایمان کی صبر و تحمل کی تلقین فرمائی گئی کیونکہ انسان طبعا دشمنوں کی مذموم اور بےہودہ حرکتوں پر مشتعل ہوجایا کرتا ہے اور اس قسم کا اشتعال اشاعت دین اعلاء کلمۃ اللہ کے مقصد میں رکاوٹ کا باعث بن سکتا ہے تو ان کلمات مبارکہ میں عفو و درگزر کی ہدایت فرمائی گئی مقصد یہ کہ باہمی نزاع اور مخاصمت کی معمولی سی باتوں میں یہ صورت پیدا نہ کی جائے،۔ 1 حاشیہ (بعض ائمہ مفسرین مثلا نحاس (رح) اور مہدی (رح) حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ یہ آیت حضرت عمر فاروق ؓ کے ایک واقعہ کے متعلق نازل ہوئی کہ مکہ مکرمہ میں ہجرت سے قبل کسی مشرک نے ان کو گالی دی اور برا بھلا کہا تو حضرت عمر ؓ اس پر بہت زائد مشتعل ہوئے اور اس کے منہ پر چپت بھی مارنے کا ارادہ کیا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی مقاتل (رح) سے منقول ہے کہ یہ آیت بھی اس سورت کی دیگر آیات کی طرح مکیہ ہے اور اس تاویل کی ضرورت نہیں کہ عمر ؓ نے ہجرت کے بعد ارادہ کیا تھا اس لیے کہ مکہ میں تو مسلمان مجبور وبے بس تھے، کیونکہ عمر فاروق ؓ کی جرأت وہمت سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مکہ مکرمہ میں رہتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا نمونہ بن کر اس کافر کے منہ پر گھونسہ مار کر کام تمام کرسکتے تھے ، ) اس تفسیر پر آیت کو قبل از مشروعیت جہاد کے زمانہ پر محمول کرنے کی ضرورت نہیں بعض مفسرین کی رائے ہے کہ یہ آیت جہاد و قتال کے حکم سے قبل نازل ہوئی تھی، جب حق تعالیٰ نے جہاد کا حکم نازل فرما دیا تو پھر عفو و درگزر کا مسئلہ نہ رہا، بلکہ اس کے بعد تو (آیت ) ” جاھد الکفار والمنافقین واغلظ علیھم “۔ کی صورت مقرر کردی گئی ، حافظ عماد الدین ابن کثیر (رح) اپنی تفسیر میں اسی کو اختیار کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ حکم ابتداء اسلام میں تھا کہ مسلمان کافروں کی ایذاؤں اور تکالیف پر صبر کیں اور درگذر سے کام لیں اور اہل کتاب سے بھی ایسا ہی معاملہ رکھیں تاکہ تالیف قلبی ہو اور وہ اسلام سے قریب ہوسکیں۔ لیکن جب کافروں پر اس مروت اور حسن خلق کا کوئی اثر نہ ہوا بلکہ وہ پہلے سے زائد عناد ودشمنی برتنے لگے تو جہاد کا حکم نازل ہوا، قتادہ (رح) مجاہد (رح) اور عبداللہ بن عباس ؓ سے یہی منقول ہے۔ (تفسیر ابن کثیر)
Ayahs 45:16–21

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 45:16 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب (ہدایت) اور حکومت اور نبوت بخشی اور پاکیزہ چیزیں عطا فرمائیں اور انہیں اہل عالم پر فضیلت دی

وَ اٰتَیْنٰهُمْ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ۙ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 45:17 in the Quran reader

اور ان کو دین کے بارے میں دلیلیں عطا کیں تو انہوں نے جو اختلاف کیا تو علم آچکنے کے بعد آپس کی ضد سے کیا بیشک تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا جن میں وہ اختلاف کرتے تھے فیصلہ کرے گا

ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰى شَرِیْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 45:18 in the Quran reader

پھر ہم نے تم کو دین کے کھلے راستے پر (قائم) کردیا تو اسی (رستے) پر چلے چلو اور نادانوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلنا

اِنَّهُمْ لَنْ یُّغْنُوْا عَنْكَ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۚ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 45:19 in the Quran reader

یہ خدا کے سامنے تمہارے کسی کام نہیں آئیں گے اور ظالم لوگ ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہیں اور خدا پرہیزگاروں کا دوست ہے

هٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 45:20 in the Quran reader

یہ قرآن لوگوں کے لئے دانائی کی باتیں ہیں اور جو یقین رکھتے ہیں ان کے لئے ہدایت و رحمت ہے

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ سَوَآءً مَّحْیَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ۠ Open ayah 45:21 in the Quran reader

جو لوگ برے کام کرتے ہیں کیا وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کو ان لوگوں جیسا کردیں گے جو ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے اور انکی زندگی اور موت یکساں ہوگی یہ جو دعوے کرتے ہیں برے ہیں

انعامات دنیوی واخروی پر قوم بنی اسرائیل وبیان بغاوت ونافرمانی ایشاں : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ولقد اتینا بنی اسرائیل الکتب ..... الی ..... سآء ما یحکمون “۔ (ربط) ماقبل آیات میں حق تعالیٰ شانہ کی قدرت کی نشانیوں کا بیان چل رہا تھا اور یہ کہ اللہ رب العزت کے کس قدر انعامات ہیں کہ اس نے اپنے بندوں ہی کے فوائد ومنافع کے لیے ساری کائنات پید ا کی اور کائنات پر ان کو تصرف کرنے کی صلاحیت اور قدرت بھی عطا فرمائی جس کا ثمرہ اور نتیجہ یہی ہونا چاہئے تھا کہ انسان اپنے رب کا فرمانبردار ہوتا تو اس مقصد اور حقیقت کی توضیح کے لیے قانون کیسے انعامات سے ان کو نوازا لین اس بدنصیب قوم نے اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کی ناشکری کی اور اس کی نازل کی ہوئی ہدایت و رحمت سے محرومی اختیاری کی اور عملی بغاوت وسرکشی کو اپنی زندگی کا شعار بنایا، ارشاد فرمایا۔ اور بیشک دی ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب اور سلطنت و پیغمبری انعامات و اعزازو کرامت کے ساتھ عطا کیں ان کو کھانے کے لیے پاکیزہ چیزیں اور فضیلت و برتری دی ان کو تمام جہاں پر کہ کسی قوم اور خاندان میں اللہ نے اس وقت اس قدر فضیلتیں اور دین دنیا کی عزتیں جمع نہیں فرمائیں تھیں، جتنی کہ بنی اسرائیل کو دین کتاب تورات دی پھر حکومت وسلطنت یاقوت فیصلہ و حکمت سے نوازا کہ دین کی باتیں سمجھیں اور دوسروں کو اس کی طرف دعوت دیں اور جو قانون الہی دے دیا گیا اس کے مطابق وہ نظام حکومت قائم کریں اور پھر سب باتوں کے علاوہ انہیں کھلی نشانیاں اور دلائل یا احکام دین دیئے جس کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ متحد ہو کر اللہ کے احکام کی پیروی کرتے اور باہم کسی قسم کا اختلاف نہ کرتے مگر افسوس کہ انہوں نے باہم اختلاف نہیں کیا مگر بعد اس کے کہ ان کے پاس علم آچکا تھا اور سمجھ چکے تھے کہ علم وہدایت یہ ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تورات کی تعلیمات سے ہمیں عطا کیا اور یہ اختلاف صرف آپس میں ضد اور عناد کی وجہ سے تھا اور اصل کتاب ہدایت کو چھوڑ کر بیشمار فرقے بن گئے تھے لیکن ظاہر ہے کہ نفسانیت اور ضد وعناد کی وجہ سے حق سے بغاوت اور مخالفت حق و باطل کو ملتبس ومتشبہ نہیں کرسکتی۔ بیشک آپ کا رب فیصلہ کردے گا ان کے درمیان قیامت کے روز اس بات کا جس میں وہ اختلاف کرتے تھے بنی اسرائیل کی یہ تاریخ ان کی سرکشی اور نفسانیت وعناد کے باعث باہم فرقہ وارانہ کشمشک کا دور گزر جانے کے بعد پھر بنادیا ہم نے آپ کو پیغمبر وہادی دین کے ایک دستور پر بس آپ اسی کی اتباع وپیروی کیجئے اور مت چلئے ان لوگوں کی خواہشوں پر جو نادان ہیں اگر کسی وقت جذبہ ہمدردی یا مصلحت کے خیال سے آپ ﷺ ان کی کسی بات کو بالفرض پوری کرنے کا ارادہ کریں تو آپ ﷺ کو اس بات سے آگاہ ہونا چاہئے کہ وہ ہر گزر خدا کے یہاں آپ کے ذرہ برابر بھی کام نہ آئیں گے، اور کسی بھی فرو گزاشت پر اگر خدا کا کوئی قہر کسی کی طرف متوجہ ہوا تو اس کو کوئی بھی دفع نہیں کرسکتا مومن مطیع کا کافر نافرمان سے اور باغی ومجرم سے کسی قسم کی مرافقت ممکن ہی نہیں ہر ایک کا راستہ جدا ہے۔ اور بیشک ظالم ومجرم ایک دوسرے کے رفیق و مددگار ہیں اور اللہ مددگار ہے تقوی والوں کا اس لیے ایمان وتقوی والوں کو اپنے خدا پر بھروسہ رکھنا چاہئے اور ظالم کی خواہشات و افکار کا قطعا نہ لحاظ کرنا چاہئے اور نہ ان کی روش اختیار کرنی چاہئے ان کا راستہ ظلم وبغاوت کا راستہ ہے اور اہل ایمان کا راستہ فرمانبردار و اطاعت کا راستہ ہے اور اس پر چلنے والوں کا خدا ساتھی اور مددگار ہے تو پھر کسی کی مخالفت ودشمنی کی کیا پرواہ یہ ہیں بصیرت و عبرت کی باتیں دنیا کے تمام انسانوں کے واسطے اور ہدایت کا سامان ہے اور رحمت ایسی قوم کے واسطے جو یقین رکھتی ہو تو ان بصیرت افروز باتوں اور حقائق پر مشتمل نصیحتوں سے لوگوں کو ہدایت حاصل کرنی چاہئے اور صراط مستقیم پر چل کر دین ودنیا کی رحمت و برکت کا مستحق بننا چاہئے۔ 1 حاشیہ (دین ودنیا کی رحمتوں اور برکتوں کی طرف اشارہ ہے، اسی کے ساتھ ان کلمات سے یہ بھی ظاہر ہورہا ہے کہ قانون شریعت تین چیزوں کا مجموعہ ہے (1) بصیرت (2) ہدایت اور (3) رحمت ترتیب طبعی بھی ایسی ہی ہے انسان کی پہلے آنکھیں کھلتی ہیں تو صحیح راستہ نظرآتا ہے اور منزل مقصود پہچان کر اس کی طرف چلنا شروع کردیتا ہے، تو بصیرت، راستہ نظر آنا ہوا اور ہدایت منزل تک پہنچانے والے راستہ پر چل پڑنا ہے اور رحمت حصول مقصد اور وصول منزل پر مرتب ہونے والے ثمرہ کا نام ہے۔ ) انسان کی عملی زندگی میں حق و باطل ہدایت وگمراہی اور عدل وظلم کا راستہ قطعی مختلف ہے یہ ناممکن ہے کہ حق وہدایت کی پیروی کرنے والا مومن اور باطل وگمراہی میں مبتلا ہونے والا انسان برابر ہو ایسا تصور ہر گزر بھی نہ کرنا چاہئے مگر اہل مکہ ایسی واضح اور روشن حقیقت سمجھنے سے قاصر رہے بلکہ ان کے نفس نے ان کو ایسی گمراہی میں ڈالا کہ شعور واحساس تک باقی نہ رہا تو کیا ایسے لوگوں نے جو برائیاں کما رہے ہیں یہ گمان کرلیا ہے کہ ہم ان کو برابر کردیں گے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیکی کے کام کیے اس طرح کہ ان کا جینا اور مرنا برابر ہوجائے، اگر کسی قسم کا کوئی تصور اور گمان ہے تو بہت ہی برا ہے یہ فیصلہ جو کررہے ہیں کون عقل والا یہ سوچ سکتا ہے کہ ایک بدکار انسان اور ایک مرد صالح خدا کے نزدیک برابر ہوگا اور اس مجرم کے ساتھ وہی انعام واکرام کا معاملہ کیا جائے گا جو بدکار ظالم ومجرم کے ساتھ ہرگز نہیں آخرت میں تو کیا برابری ہوسکتی ہے، دنیا کی زندگی میں بھی یہ ممکن نہیں مومن کو دنیا میں بھی حیات طیبہ نصیب ہوتی ہے اور حق تعالیٰ کی طرف سے عزت ونصرت سے نوازا جاتا ہے اور بدکار انسان دنیا میں بھی ذلیل ہوتا ہے اور آخرت میں بھی ناکام و محروم رہتا ہے، غرض نیکی اور بدی کا فرق دنیا میں بھی نظر آتا ہے اور آخرت میں بھی اسی طرح نظر آئے گا اس لیے کسی نافرمان ومجرم کو مادی اور ظاہری عیش وعیشرت کو دیکھ کر دھوکہ میں پڑنا چاہئے ، ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے بنی اسرائیل پر فائز کردہ انعامات کا ذکر کرتے ہوئے ان کی مجرمانہ نافرمانیاں اور بغاوت کا بیان اہل کتاب کو تنبیہ کے لیے فرمایا اور اس لیے بھی کہ اہل کتاب کو ان باتوں سے صبر وہمت حاصل ہو۔ ابن کثیر (رح) وعلامہ آلوسی (رح) نے ائمہ مفسرین سے بحوالہ کلبی (رح) یہ روایت نقل کی ہے کہ کفار قریش میں سے عتبہ شیبہ اور ولیدبن عتبہ نے حضرت علی بن ابی طالب اور حمزہ ؓ اور دوسرے بعض مسلمانوں سے ایک روز یہ کہا کہ خدا کی قسم تمہارا دین کوئی بہتر دین نہیں اور نہ تم ہم سے افضل ہو ہمارا حال تم سے بدر جہابہتر ہے، اگر وہ بات یعنی آخرت و قیامت ہو بھی گئی تو وہاں بھی ہم تم سے افضل اور بہتر ہوں گے جیسا کہ ہم دنیا میں تم سے افضل ہیں تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (آیت ) ” ام حسب الذین اجترحوا السیات “۔ جس میں قانون خداوندی بیان کردیا گیا کہ مجرم وفرمانبردار برابر نہیں ہوسکتے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی غرض ہے کہ ہر مومن کو اپنی زندگی کے ہر مرحلہ پر یہی تصور و اعتقاد اپنے قلب و دماغ کی گہرائیوں میں رچاتے ہوئے اپنی کوتاہیوں اور غفلت سے ڈرتے رہنا چاہئے اور اعمال صالحہ کے لیے زیادہ سے زیادہ جدو جہد کرتا رہے۔ ابن ابی شیبہ (رح) کی روایت میں ہے کہ ربیع (رح) ایک دفعہ تہجد کی نماز میں جب اس آیت پر سے گزرے اور اسکو تلاوت کیا تو یہی آیت بار بار لوٹاتے رہے حتی کہ صبح ہوگئی حضرت فضیل بن عیاض (رح) خود اپنے نفس کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کرتے کاش مجھے معلوم ہوجاتا کہ ان دو فریقوں میں سے میں کسی فریق میں شامل ہوں۔ اللہم ارزقنا حلاوۃ الایمان وبشاشتہ آمین یا رب العالمین “۔ انسانی زندگی شریعت اور شارع کی محتاج ہے : (آیت ) ” ثم جعلناک علی شریعۃ من الامر “۔ میں اس بات کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے کہ انسانی زندگی شریعت اور شارع کی محتاج ہے اس لیے کہ انسان اپنی ذات سے خود ہر کام انجام نہیں دے سکتا تاوقتیکہ اس کی مدد دوسرے نہ کریں اسی واسطے انسانی حیات مدنیت واجتماعیت کے ساتھ وابستہ ہے۔ اور یہ بات ظاہر ہے کہ لوگوں کی ضرورتیں اغراض اور خواہشات مختلف ہوتی ہیں اور طبعا ہر شخص اپنی خواہش پوری کرنا چاہتا ہے اور اپنی غرض کو دوسرے کی غرض ومقصد پر مقدم رکھتا ہے تو ایسی صورت میں ہر ایک اپنی غرض و خواہش کو پورا کرنا چاہے گا اور جبکہ اغراض و خواہشات متناقض ہیں تو یقیناً نزاع و فساد کا برپا ہونا لازم ہے اس وجہ سے انسانی حیات اس بات کی محتاج ہوئی کہ اس کے واسطے ایک ایسا قانون ہدایت ہو جو سرتاپا رحمت ہو جو عدل و انصاف کا پیکر ہوتے ہوئے اغراض و خواہشات نفس سے پاک ہو اور ظاہر ہے کہ اس ضرورت و احتیاج کو کوئی انسانی دستور اور قانون پورا نہیں کرسکتا کیونکہ انسانی فہم، ادراک و شعور اول تو ناقص پھر یہ کہ اغراض و خواہشات نفس کی آمیزش سے پاک نہیں ہوسکتے پھر طبائع اور مزاج کا بھی عظیم اختلاف وفرق تو ایسی صورت میں صرف وحی الہی اور قانون خداوندی ہی انسان کے واسطے راہنما اصول اور باعث رحمت و عافیت ہوسکتا ہے، جو حضرات انبیاء (علیہم السلام) دنیا کی ہدایت کے واسطے لے کر آئے اور ان جملہ علوم ہدایت و رحمت کا مجموعہ اور لباب وجوہر حضور اکرم ﷺ کی وہ شریعت ہوئی جس کو ان الفاظ میں یاد فرمایا جا رہا ہے، (آیت ) ” ثم جعلنک علی شریعۃ من الامر “ الخ۔
Ayahs 45:22–37

وَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 45:22 in the Quran reader

اور خدا نے آسمانوں اور زمین کو حکمت سے پیدا کیا ہے اور تاکہ ہر شخص اپنے اعمال کا بدلہ پائے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا

اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ وَ اَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلْمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَ قَلْبِهٖ وَ جَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً١ؕ فَمَنْ یَّهْدِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 45:23 in the Quran reader

بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے اور باوجود جاننے بوجھنے کے (گمراہ ہو رہا ہے تو) خدا نے (بھی) اس کو گمراہ کردیا اور اس کے کانوں اور دل پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اب خدا کے سوا اس کو کون راہ راست پر لاسکتا ہے ؟ بھلا تم نصیحت کیوں نہیں پکڑتے ؟

وَ قَالُوْا مَا هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا یُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُ١ۚ وَ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۚ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 45:24 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ ہماری زندگی تو صرف دنیا ہی کی ہے کہ (یہیں) مرتے اور جیتے ہیں اور ہمیں تو زمانہ مار دیتا ہے اور ان کو اس کا کچھ علم نہیں صرف ظن سے کام لیتے ہیں

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 45:25 in the Quran reader

اور جب ان کے سامنے ہماری کھلی کھلی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو ان کی یہی حجت ہوتی ہے کہ اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو (زندہ کر) لاؤ

قُلِ اللّٰهُ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یَجْمَعُكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 45:26 in the Quran reader

کہہ دو کہ خدا ہی تم کو جان بخشتا ہے پھر (وہی) تم کو موت دیتا ہے پھر تم کو قیامت کے روز جس (کے آنے) میں کچھ شک نہیں تم کو جمع کرے گا لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 45:27 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہت خدا ہی کی ہے اور جس روز قیامت برپا ہوگی اس روز اہل باطل خسارے میں پڑجائیں گے

وَ تَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِیَةً١۫ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:28 in the Quran reader

اور تم ہر ایک فرقے کو دیکھو گے کہ گھٹنوں کے بل بیٹھا ہوگا اور ہر ایک جماعت اپنی کتاب اعمال کی طرف بلائی جائے گی جو کچھ تم کرتے رہے ہو آج تم کو اس کا بدلہ دیا جائے گا

هٰذَا كِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:29 in the Quran reader

یہ ہماری کتاب تمہارے بارے میں سچ سچ بیان کر دے گی جو کچھ تم کیا کرتے تھے ہم لکھواتے جاتے ہیں

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 45:30 in the Quran reader

تو جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کا پروردگار انہیں اپنی رحمت (کے باغ) میں داخل کرے گا یہی صریح کامیابی ہے

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١۫ اَفَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 45:31 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر کیا (ان سے کہا جائے گا کہ) بھلا ہماری آیتیں تم کو پڑھ کر سنائی نہیں جاتی تھیں ؟ پھر تم نے تکبر کیا اور تم نافرمان لوگ تھے

وَ اِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ السَّاعَةُ لَا رَیْبَ فِیْهَا قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ Open ayah 45:32 in the Quran reader

اور جب کہا جاتا تھا کہ خدا کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کچھ شک نہیں تو تم کہتے تھے کہ ہم نہیں جانتے کہ قیامت کیا ہے ہم اس کو محض ظنی خیال کرتے ہیں اور ہمیں یقین نہیں آتا

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 45:33 in the Quran reader

اور ان کے اعمال کی برائیاں ان پر ظاہر ہوجائیں گی اور جس (عذاب) کی وہ ہنسی اڑاتے تھے وہ ان کو آ گھیرے گا

وَ قِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰىكُمْ كَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا وَ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 45:34 in the Quran reader

اور کہا جائے گا کہ جس طرح تم نے اس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا اسی طرح آج ہم تمہیں بھلا دیں گے اور تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے اور کوئی تمہارا مددگار نہیں

ذٰلِكُمْ بِاَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا وَّ غَرَّتْكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ لَا یُخْرَجُوْنَ مِنْهَا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 45:35 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ تم نے خدا کی آیتوں کو مذاق بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے تم کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا سو آج یہ لوگ نہ دوزخ سے نکالیں جائیں گے اور نہ ان کی توبہ قبول کی جائے گی

فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 45:36 in the Quran reader

پس خدا ہی کو ہر طرح کی تعریف (سزاوار) ہے جو آسمانوں کا مالک اور زمین کا مالک (اور) تمام جہان کا پروردگار ہے

وَ لَهُ الْكِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۪ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 45:37 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین میں اسی کے لئے بڑائی ہے اور وہ غالب اور دانا ہے

دلائل قدرت خداوندی وتردید کفار ودھریین مع بیان انجام ہدایت وضلالت : قال اللہ تعالیٰ : وخلق اللہ السموت والارض ...... الی ...... وھو العزیز الحکیم “۔ (ربط) ماقبل آیات میں بنی اسرائیل پر ان خاص انعامات کا بیان تھا جن سے ان کو نوازا گیا تھا ان انعامات میں دین ودنیا کی نعمتیں عزت و راحت اور علم و حکمت کے فضائل و کمالات شامل تھے ساتھ ہی ان کی نافرمانی اور بغاوت کا ذکر تھا اور یہ کہ قانون خداوندی یہ طے ہوچکا کہ نیک اور بد برابر نہیں ہوسکتے نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں تو اب ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت کی نشانیاں بیان فرمائیں، دھریوں کا رد فرمایا اور یہ کہ خالقیت ومالکیت اور حاکمیت سب اللہ ہی کے واسطے ہے، اور قرآن حکیم وہ کتاب ہدایت ہے۔ جو حق وصداقت کے ساتھ ہر بات دنیا کے سامنے پیش کرتی ہے اس کتاب پر عمل نجات و کامیابی کا باعث ہے، اور خدا کے احکام فراموش کردینا اس کے انعامات ورحمتوں سے محرومی ہے، ارشاد فرمایا اور پیدا کیا اللہ نے آسمانوں اور زمین کو ٹھیک انداز کے ساتھ کہ جیسے چاہئے تھا ایسے پیدا کیا جس میں بڑی عظیم حکمتیں اور بلند پایہ مصلحتیں ہیں ان میں سے ہر چیز اللہ رب العزت کی قدرت کی عظیم نشانی اور اس کی الوہیت ووحدانیت کی کھلی دلیل ہے۔ اور یہ ساری کائنات آسمان و زمین بیکار وعبث نہیں بنائے گئے بلکہ اس وجہ سے کہ بدلہ دیا جائے ہر انسان کو ان کے اعمال کا جو وہ کرے اور یہ حقیقت ہے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا تخلیق کائنات میں عمل کی مکافات کے نمونہ رکھ دیئے گئے جن کو دیکھ کر ہر انسان یہ سمجھ سکتا ہے کہ نیکی کا انجام فلاح و کامیابی اور بدی کا انجام تباہی و بربادی ہے کھیتی کرنے والا جو بوتا ہے وہی کاٹتا ہے ، گندم از گندم بروید جو زجو۔۔ از مکافات عمل غافل مشو۔ کا سبق ہر کھیتی سبزہ اور درخت انسانوں کو سکھا رہا ہے راہ ہدایت سے بھٹکانے والی اصل چیز انسان کا نفس اور نفس کی خواہشات ہیں، تو اے مخاطب کیا تو نے دیکھ لیا اس شخص کو جس نے اپنی خواہش کو ہی اپنا معبود بنالیا ہے جس طرف اس کی خواہش لے جانا چاہتی ہے اس طرف چل پڑتا ہے حق وصداقت ظاہر ہونے اور اس کو سمجھنے کے باوجود بھی حق کی پیروی نہیں کرتا اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے گمراہ کردیا اللہ نے اللہ نے اس کو اس کی اپنی شقاوت کی وجہ سے اور مہر لگا دی اس کے کان پر اور اس کے دل پر اور پر دوہ ڈال دیا اس کی نگاہ پر تو اللہ کی طرف سے اس محرومی اور بدنصیبی کے بعد کون ایسے شخص کو ہدایت دے سکتا ہے۔ اے مخاطبو ! کیا پھر بھی تم غور وفکر نہیں کرتے ہو افسوس کہ جب انسان حق وصداقت سے اعراض کرکے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو ضائع کر ڈالتا ہے نہ دلائل وحقائق کو دیکھتا ہے اور نہ ہی عبرت ناک واقعات سے عبرت ناک واقعات سے عبرت ونصیحت حاصل کرتا ہے تو پھر اس کے احساسات، ادراک و شعور سب کچھ اسی دنیوی زندگی تک محدود ہو کر رہ جاتے ہیں اور ایسے لوگ کہتے ہیں یہ کچھ نہیں بجز ہماری اس دنیا کی زندگی کے بس ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں۔ اور یہ سلسلہ موت وحیات کا بس اسی طرح جاری ہے اور ہم کو سوائے زمانہ۔ 1 حاشیہ (اس آیت مبارکہ میں ان منکرین خدا کے بیہودہ نظریہ کا رد ہے جو خدا کی خالقیت اور قدرت کا انکار کرتے ہیں اور کائنات کی ہر چیز کو زمانہ اور زمانہ کی تاثیر، اس کے انقلابات کی طرف منسوب کردیتے ہیں کہ یہ سب کچھ زمانہ ہی ہے اور اس کی پشت پر نہ کسی خالق و قادر مطلق کی طاقت و ارادہ کار فرما ہے اور نہ ہی زمانہ کا کوئی خالق ہے اسی وجہ سے اس فرقہ کو دھریہ کہا جاتا ہے۔ ” دھر “ لغت میں طویل زمانہ کو کہا جاتا ہے امام راغب (رح) فرماتے ہیں دھر اصل میں بقاء عالم کی مدت کا نام ہے اس کی ابتداء سے لے کر فناء وانقضاء تک “۔ لیکن دھر کا بالعموم مدت طویلہ پر اطلاق کیا جاتا ہے بعض ائمہ لغت کا خیال ہے کہ دھر مصدر ہے دھریدھر کے لیے جس کے معنی غلبہ کے ہیں، یہ فرقہ قدرت خداوندی کا انکار کرتے ہوئے کہا کرتا تھا کہ دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے زمانہ ہی کرتا ہے نہ کوئی موت وحیات کا مالک ہے نہ ملک الموت ہے اور نہ کوئی حکم خداوندی ہے بس انسان دنیا میں ایسے ہی آجاتے ہیں اور یوں ہی مرجاتے ہیں، ان کی موت وحیات کسی کے حکم و ارادہ کے تابع نہیں یہ فرقہ حوادث وآفات اور عزت وذلت نفع نقصان کو بھی دھر کی طرف منسوب کرتا تھا یہی وجہ ہے کہ ایسے منکرین اور دہریوں یا ان کے اثرات سے متاثر ہو کر لوگوں کے اشعار وقصائد زمانہ کے ظلم وستم کی شکایات سے بھرے ہوتے ہیں۔ فلاسفہ کے نزدیک زمانہ حرکت فلکیہ کا نام ہے تو اس نوع کے لوگ فلک کو برا بھلا کہہ کر اپنا دل ٹھنڈا کرتے ہیں۔ حضور اکرم ﷺ نے اسی کی مخالفت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ”۔ لا تسبوا الدھر فان اللہ ھو الدھر “۔ کہ زمانہ کو گالیاں نہ دیا کرو اللہ ہی کی قدرت و ارادہ زمانہ اور زمانہ کے تغیرات ہیں ایک حدیث میں آپ ﷺ نے اس کی ممانعت فرمائی کہ کوئی شخص یہ کہے ” افسوس زمانہ کی بدنصیبی وناکامی یا نحوست “۔ اور ایک حدیث قدسی کا مضمون ہے حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ابن آدم مجھے تکلیف پہنچاتا ہے زمانہ کو برا کہتا ہے حالانکہ زمانہ تو میں ہی ہوں میرے ہی قبضہ میں رات دن ہے جس طرح چاہوں زمانہ کو لوٹاتا پلٹاتا رہتا ہوں، واللہ اعلم بالصواب “۔ (روح المعانی جلد 25۔ تفسیر ابن کثیر جلد 4) کے اور کوئی چیز نہیں مارتی یہ زمانہ ہی سب کچھ انقلابات وتبدیلیاں لاتا ہے یہی مؤثر و کارساز ہے اور زمانہ کے انقلابات وتغیرات کی پشت پر کوئی بھی قدرت و طاقت کار فرما نہیں یہ ہے، ان کا عقیدہ اور حال یہ ہے کہ ان کو کچھ بھی خبر نہیں یہ تو محض اٹکل وتخمین ہی ہے جو یہ گمان کررہے ہیں کہ اگر اس قسم کے بدنصیب لوگوں نے اپنی عقل و دانائی اور فکر و تدبر کی صلاحیتوں کو بالائے طاق رکھ دیا تھا تو کم ازکم یہی کرتے کہ اللہ کی آیتوں ہی کو سن کر کچھ حق وہدایت کی طرف رخ کرلیتے مگر افسوس ایسا نہ ہوا بلکہ اسی شقاوت وبغاوت پر قائم رہے اور جب ان کو ہماری آیتوں ہی کر سن کر کچھ حق وہدایت کی طرف رخ کرلیتے مگر افسوس ایسا نہ ہوا بلکہ اسی شقاوت وبغاوت پر قائم رہے اور جب ان کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو ان کی حجت اور دلیل اس کے سوا کچھ نہیں ہوتی کہ وہ کہنے لگتے ہیں لے آؤ ہمارے باپ دادوں کو زندہ کر کے اگر تم سچے ہو اس دعوی میں قیامت آئے گی اور قیامت کے روز اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرکے اٹھائے گا، اے ہمارے پیغمبر آپ ان سے کہہ دیجئے اللہ ہی تم کو زندگی دیتا ہے وہی پھر تم کو مارتا ہے اور وہی پھر تم سب کو جمع کرے گا قیامت کے دن تک جس میں کوئی شبہ نہیں اور ظاہر ہے ایسی مدلل اور شبہ سے پاک حقیقت ہر ایک کو تسلیم کرنی چاہئے اور اس پر ایمان لانا چاہئے لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے ہیں کہ جس پروردگار نے ایک مرتبہ زندگی عطا کی ہے اس کو مارنے کے بعد دوبارہ زندگی عطا کردینا کیا مشکل ہے اور ہر ایک کو ایک جگہ اکٹھا کردینا اس کی قدرت کے آگے کوئی دشوار چیز نہیں، عالم میں بکھرے ذرات، اڑتی ہوائیں اور سمندر کی موجوں کو جو پروردگار ایک جگہ جمع کرنے پر قادر ہے وہی قادر مطلق ہر انسان کو دوبارہ زندہ کرکے میدان حشر میں جمع کرلے گا اور اللہ ہی کے لیے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی جس طرح چاہے وہ آسمانوں اور زمین میں اپنا حکم جاری ونافذ فرمادے دنیا کی کوئی طاقت اس کا حکم نہیں پھیر سکتی، جس طرح کے ساری کائنات ہوا کا رخ اور اس کا جھونکا نہیں تبدیل کرسکتی چاند سورج کی رفتار نہیں رد کی جاسکتی بالکل اسی طرح اللہ کا ہر ارادہ اور فیصلہ اٹل ہے اس کے حکم و ارادہ کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن خسارہ میں پڑے ہوں گے جھوٹے اور باطل پرست لوگ ذلت وعاجزی کا یہ مقام ہوگا، اور تو دیکھے گا ہر قوم کو کہ گھٹنوں کے بل۔ 1 حاشہ (یعنی ہیبت و عظمت خداوندی سے مرعوب ہو کر گھٹنوں کے بل بیٹھے ہوئے ہوں گے، حافظ ابن کثیر (رح) اس کی تفسیر میں ایک روایت بھی بیان کرتے ہیں کہ کافروں کے سامنے جب جہنم لائی جائے گی (ظاہر کی جائے گی) اس کے شعلے بھڑکتے ہوں گے اور آگ کے شعلوں کی آواز سمندر کے طوفانی تھپیڑوں کی طرح اٹھتے ہوئے جب نظر آئے گی تو کوئی بھی ایسا باقی نہ رہے گا کہ وہ گھٹنوں کے بل نہ بیٹھ جائے حتی کہ ابراہیم (علیہ السلام) بھی یہی کہتے ہوں گے نفسی نفسی اے پروردگار میں آج تجھ سے کچھ نہیں مانگتا، نفسی نفسی حتی کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بھی یہی کہتے ہوں گے مجاہد (رح) کعب احبار ؓ اور حسن بصری ؓ سے بھی اسی طرح منقول ہے۔ واللہ اعلم بالصواب، (تفسیر ابن کثیر ج 4) بیٹھے ہوں گے اور ذلت و خواری کی وجہ سے ایک حرف بھی منہ سے بولنے کی قدرت نہ ہوگی، ہیبت ورعب طاری ہوگا، ایسی حالت میں ہر امت کو بلایا جاتا ہوگا اس کے نامہ اعمال کی طرف کہ اے مجرمو ! آجاؤ اور اپنے نامہ اعمال کے مطابق بدلہ لے لو، کہا جاتا ہوگا آج تمہیں بدلہ دیا جارہا ہے ان اعمال کا جو تم کرتے تھے، ساتھ ہی یہ بھی حجت قائم کی جارہی ہوگی کہ یہ ہے ہمارا دفتر جو تمہارے سامنے بول رہا ہے ٹھیک ٹھیک جس میں ذرہ برابر بھی کمی بیشی نہیں ہم تو لکھوا لیتے تھے وہ کام جو تم کرتے تھے، تو اب اس کا یہی انجام ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے تو ان کو ان کا رب داخل کرلے گا اپنی رحمت میں جہاں ہر نوع کی نعمتیں اور رب العالمین کی مہربانیاں ہوں گی، یہی ہے روشن کامیابی لیکن جن لوگوں نے کفر کیا وہ بلاشبہ ناکام و ذلیل ہوں گے اور ایسے مجرموں، ناکاموں اور ذلیل انسانوں کو خطاب کیا جارہا ہوگا کہ اے لوگو ! کیا ایسا نہیں تھا کہ میری آیتیں تم کو سنائی جاتی تھیں مگر تم نے غرور وسرکشی کی اور تم نافرمان ومجرم قوم رہے اور ایسے نافرمانوں اور مغرور ومتکبر مجرموں کا حال تو یہ ہے کہ جب کہا جائے کہ اللہ کا وعدہ حق ہے اور جس طرح اس نے قیامت کا وعدہ فرمایا تو وہ ضرور قائم ہو کر رہے گی اور قیامت وہ حقیقت ہے کہ جس میں کوئی شک نہیں تو اے لوگو ! تم کہتے ہو ہم نہیں جانتے کہ قیامت کیا ہے بس ہم تو زیادہ سے زیادہ گمان ہی کرتے ہیں ایک قسم کا گمان کرنا اور ہمیں اس پر ہرگز یقین نہیں کہ عالم فنا ہوجانے کے بعد قیامت قائم ہوگی اور مردوں کو پھر دوبارہ زندہ کرکے حشر قائم کیا جائے گا اور ظاہر ہوجائیں گی ایسے لوگوں کے سامنے ان کی وہ برائیاں جو انہوں نے اپنی زندگی میں کیں اور مسلط ہوجائے گا ان پر عذاب اس چیز کا جس پر تمسخر و مذاق کرتے تھے اور قرآن کریم میں جو وعید و عذاب کی آیات نازل ہوتی تھیں دنیا میں ان کا مذاق اڑاتے تھے لیکن آخرت میں وہی وعید و عذاب خداوندی ان پر مسلط ہوگا اور ان مجرموں کے واسطے اعلان کردیا جائے گا آج کے دن ہم تمہیں بھلائے دیتے ہیں جیسے کہ تم نے اپنے اس دن کی ملاقات کو بھلایا ا وراب تمہارا ٹھکانا جہنم ہے اور تمہارا کوئی مددگار بھی نہیں تمہاری یہ ذلت ورسوائی اور بےیاری ومددگاری یہ تم پر اس وجہ سے ہے کہ تم نے اللہ کی آیتوں کو مذاق بنایا اور دنیا کی زندگی نے تم کو دھوکہ میں ڈالے رکھا اور تمہیں یہ خیال بھی نہ آیا کہ خدا کے رو بر و حاضر ہونا ہے سو آج نہ وہاں سے نکالے جائیں گے اور نہ ان سے کوئی معذرت و توبہ قبول کی جائے گی اور نہ ہی اس امر کا امکان اور موقعہ ہوگا کہ وہ کسی طرح خدا کو راضی کرلیں، بس اللہ ہی کے واسطے ہے ہر تعریف وثناء جو رب ہے آسمانوں کا اور رب ہے زمین کا اور رب ہے تمام جہانوں کا اور اسی کے واسطے بڑائی ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور وہی زبردست حکمت والا ہے اس لیے اس کو نہ کسی کی اطاعت وفرمانبرداری کی حاجت کہے اور نہ کسی کی نافرمانی وبغاوت سے ڈر ہے اگر کفار ومنکریں اس کی نافرمانی کریں تو اس کی شان کبریائی میں کوئی فرق نہیں آسکتا اور وہ نافرمانوں کو سزا دے تو اس کو کوئی طاقت روک نہیں سکتی اس کا مجرمین کو ڈھیل دینا محض اس کی حکمت ہے، وہ جب چاہتا ہے ہر مغرور ومتکبر کے غرور وسرکشی کو ایک آن میں تہہ وبالا کر ڈالتا ہے لہذا ہر انسان کو چاہئے کہ اس کی عظمت و بزرگی کے سامنے سراپا اطاعت وانقیاد بنا رہے اس کے انعامات و احسانات کو پہچان کر انعامات خداوندی کا حق ادا کرنے کی کوشش کرے دنیا کی زندگی، مال و دولت اور عزت وجاہ پر مغرور ہو کر خدا کے ساتھ مقابلہ اور بغاوت پر آمادہ نہ ہونا چاہئے اور اس کے انجام سے بھی ایک لمحہ کے واسطے غافل نہ ہونا چاہئے۔ ایک حدیث قدسی کا مضمون ہے حق تعالیٰ شانہ نے ارشاد فرمایا الکبر یاء ردائی والعظمۃ ازاری فمن نازعنی واحدا منھما قذفتہ فی النار (رواہ مسلم) کہ کبریائی میری چادر ہے اور عظمت میرا تہہ بند ہے (یعنی جس طرح یہ لباس سارے بدن انسانی پر محیط ہے اسی طرح عظمت وکبریائی ذات خداوندی کا ہر جانب سے احاطہ کیے ہوئے ہے) لہذا جو شخص بھی ان دونوں میں سے کسی میں مجھ سے منازعت کرے گا میں اسے جہنم میں جھونک دوں گا۔ اعاذنا اللہ منھا وجعلنا مطیعین لامرک یارب العلمین واحفظنا عن غضبک یا ارحم الراحمین وقنا عذاب الجحیم یا اکرم الاکرمین۔ مجاہد (رح) سے (آیت) ” ولہ الکبریآء “۔ کی تفسیر میں حق تعالیٰ شانہ کی حاکمیت وسلطنت بیان کی گئی اور لفظ (آیت) ” ھو العزیز الحکیم “۔ ذات خداوندی کی اس غلبہ وقدرت کی صفت کو بیان کررہا ہے کہ اس کے امر اور ارادہ کو کوئی مغلوب نہیں کرسکتا اور لفظ حکیم یہ ظاہر کررہا ہے کہ مجرموں کو جرائم کی سزا فورا ہی نہ دینا اور اس میں تاخیر ومہلت یہ سب کچھ اس کی حکمت پر موقوف ہے۔ الحمدللہ : سورة جاثیہ بتوفیق خداوندی پوری ہوئی خداوند عالم باقی تفسیر کی تکمیل اپنی تائید وتوفیق سے فرمائے۔ آمین یا رب العالمین : الحمد للہ پچیسواں سپارہ مکمل ہوا :