Ayahs 44:1–29بیان عظمت کتاب اللہ وبرکات زمانہ نزول قرآن مع دعوت ایمان وبدنصیبی محرومین واشقیاء از سعادت خداوندی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” حم والکتب المبین ...... الی ....... انا منتقمون “۔
(ربط) گزشتہ سورتک مضمون توحید و رسالت کا اثبات تھا اور اس سے اختلاف واعراض کرنے والے مجرمین کی بدنصیبی کا ذکر کرتے ہوئے ان کے افسوس ناک عبرت ناک انجام کا بیان تھا اور اسی موضوع پر سورت کا مضمون ختم فرما دیا گیا تھا کہ اگر ان واقعات کو سن کر بھی قریش کے لوگ آنحضرت ﷺ پر ایمان نہیں لاتے تو ان کو سوچ لینا چاہئے کہ ایسا ہی عبرت ناک انجام ان کا بھی ہوگا، ساتھ ہی آپ ﷺ کو تسلی دینا بھی مقصود تھا کہ قریش مکہ کی مخالفت ودشمنی سے آپ زائد پریشان نہ ہوں اور اتمام حجت کے ساتھ فرما دیا گیا تھا، (آیت ) ” وقل سلام فسوف یعلمون “۔ تو اسی مناسبت سے اب اس سورت کی ابتداء قرآن کی عظمت وحقانیت سے ہورہی ہے اور یہ بتایا جارہا ہے کہ اس کتاب الہی کی حقانیت و عظمت اس طرح سمجھی جاسکتی ہے کہ وہ ذات جس نے یہ کتاب نازل کی وہ بھی بڑی عظمتوں والی ذات ہے اور جس زمانہ اور ساعت میں اس کو اتارا گیا اس کی برکتوں اور عظمتوں کی بھی کوئی انتہاء نہیں، تو جب اس کتاب کو نازل کرنے والی ذات بھی باعظمت ہے اور زمانہ نزول بھی برکتوں اور عظمتوں کا زمانہ ہے تو ظاہر ہے کہ اس کتاب الہی کی عظمت وبلندی کی کوئی حد وانتہاہی نہیں ہوسکتی، تو ارشاد فرمایا۔
ح آ اللہ رب العزت ہی اس کی مراد خوب جاننے والا ہے قسم ہے اس کتاب کی جو نہایت ہی واضح اور روشن ہے جس کے نور ہدایت سے سارا عالم روشن ومنور ہوا، جس کے علوم ہدایت ومعرفت نے لوگوں کو ضلالت وگمراہی کی تاریکی سے نکال کر ایمان ومعرفت کی روشنی بخشی۔ 1
حاشیہ (ان الفاظ میں یہ اشارہ مقصود ہے کہ لفظ مبین کا لازمی اور متعدد ہی دونوں معنی میں استعمال درست ہے اور یہ بات اہل عرب کے نزدیک معروف ہے، 12)
اس کتاب الہی کی عظمتوں کا یہ حال ہے کہ بیشک ہم نے اس کو اتارا ہے لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر ایک برکت والی رات میں جو کہ شب قدر ہے پھر بتدریج 23 سال کی مدت تک آنحضرت ﷺ پر نازل ہوتا رہا اور یہ رات ایسی مبارک ہے کہ اس کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے بھی بڑھ کر ہے، بیشک ہم لوگوں کو آگاہ کردینے والے ہیں اسی رات میں۔ 2
حاشیہ 2 ( ترجمہ میں لفظ ” جدا ہوتا ہے “۔ حضرت شیخ الہند (رح) کا اختیار کردہ لفظ ہے جس سے طے کرنیکے معنی بھی مفہوم ہوتے ہیں، جیسے بعض روایات سے یہ تفصیل معلوم ہوتی ہے اسی وجہ سے لفظ ” اور طے کردیا جاتا ہے “ درمیان میں بڑھا دیا گیا۔ واللہ اعلم “۔ )
جدا ہوتا ہے اور طے کردیا جاتا ہے ہر کام جانچا ہوا جو حق تعالیٰ کی طرف سے محکم وطے شدہ اور حکمتوں سے معمور ہوتا ہے حکم ہو کر ہماری جانب سے۔
بیشک ہم ہیں بھیجنے والے فرشتوں کو۔ 3
حاشیہ 3 (مفسرین کی ایک رائے کے مطابق مرسلین کا متعلق فرشتے ہیں اسی کو ملحوظ رکھتے ہوئے ترجمہ کیا گیا ہے، دوسری رائے کے مطابق مرسلین کا مفعول رسل یعنی انبیاء کرام (علیہم السلام) ہیں، جن کو اللہ رب العزت نے احکام دیکر بندوں کی طرف بھیجا۔ 12)
ہر کام پر جو ان کے مناسب ہے اور احکام خداوندی کی اس وحی کے ساتھ جو جبرائیل امین (علیہ السلام) کے ذریعہ نبی کریم ﷺ پر بھیجی جاتی رہی رحمت بنا کر اے ہمارے پیغمبر ﷺ آپ کے پروردگار کی طرف سے بیشک وہی سننے والا جاننے والا ہے اس لیے تمام عالم کے حالات سے باخبر ہے، اور وہ دنیا والوں کی پکار بھی سننے والا ہے تو اس نے اپنی حکمت سے خاتم الانبیاء ﷺ کو تمام انبیاء ومرسلین کے بعد خاتم الانبیاء بنا کر مبعوث فرمایا اور آپ ﷺ پر قرآن کریم نازل کرکے آپ ﷺ کو رحمۃ للعالمین بنایا، جو رب ہے آسمانوں اور زمینوں کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے جس کی ربوبیت وخالقیت کائنات کے ایک ایک ذرہ سے ظاہر ہے جس کے مشاہدہ سے تم سمجھ سکتے ہو اگر تم یقین کرنے والے ہو تو ان روشن اور واضح دلائل سے تم بخوبی جان سکتے ہو کہ نہیں ہے کوئی بندگی کے لائق سوائے اس کے، وہی ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے، وہی ہے پالنے والا تمہارا، اور تمہارے آباؤ اجداد کا جو پہلے گزرنے والے ہیں، ان واضح نشانیوں اور قطعی دلائل کا تقاضا تو یہ تھا کہ لوگ خدا کی خالقیت و ربوبیت کو پہچان کر اس کو مانتے اس کی توحید والوہیت پر ایمان لاتے لیکن پھر بھی یہ مشرکین ومنکرین نہیں مانتے اور نہ ایمان لاتے ہیں بلکہ وہ تو دھوکہ میں پڑے ہیں، اسی طرح کھیل تماشے میں لگے ہوئے ہیں کہ ہر نصیحت اور عبرت کی بات ہنسی مذاق میں اڑا دیتے ہیں اور ان کی یہ لہو ولعب میں انہماک کی زندگی یہ بتاتی ہے کہ ان کو خدا کے سامنے پیشی کا کوئی تصور ہی نہیں چاہئے تو یہ تھا کہ یہ مشرکین ومنکرین گزرے ہوئے واقعات سے عبرت حاصل کرتے اور یہ دیکھ کر کہ اللہ کے رسولوں کو جھٹلانے والوں کا کیسا برا نجام ہوا، آپ ﷺ پر ایمان لے آتے لیکن اس غفلت و لاپرواہی کی روش نے جب انکی طرف سے مایوسی پیدا کردی ہے تو پھر انتظار کر اس دن کا کہ لے کر آئے آسمان ایک کھلا ہوا دھواں جو لوگوں کو ڈھانک لے جس کے بعد واضح بھی ہوجائے گا اور ہر ایک کو یہی کہنا پڑے گا کہ یہ ہے دردناک عذاب جس کے واقع ہونے پر بےچینی وبیقراری کے عالم میں ہر ایک کی زبان سے جاری ہوگا کہ اے ہمارے رب کھول دے ہم پر سے یہ عذاب اور اسے دور کردے ہم ایمان لاتے ہیں کہاں ہے ان کے واسطے عبرت ونصیحت حالانکہ اس سے قبل ان کے پاس آچکا ایک ایسا رسول، جو کھلی ہوئی شان والا تھا یا وہ رسول جو کھول کھول کر انکو اللہ کے احکام ونشانیاں بتا نیوالا تھا تو جب ایسے واضح شان والے رسول اور واضح نشانیوں سے عبرت حاصل نہ ہوئی تو اب کیا اس عذاب یا نشانی کو دیکھ کر عبرت ونصیحت ہوگی، چناچہ یہ لوگ تو ایسے رسول کے آجانے کے بعد بھی پھر اس سے روگردانی کرتے رہے اور کہا کہ یہ تو ایک سکھایا پڑھایا ہو اشخص دیوانہ ہے جس کو کوئی شخص آکر پڑھا جاتا ہے جیسے کہ ارشاد ہے (آیت ) ” انما یعلمہ بشر “۔ اور خود یہ مجنون ہے کہ جنون ودیوانگی میں یہ باتیں کہتا ہے الغرض جب ایسے رسول عظیم اور معجزات ظاہرہ کے بعد یہ لوگ ایمان نہیں لائے تو اس دھوئیں کے عذاب کو دیکھ کر کیا ایمان لائیں گے، تو ظاہر ہے کہ ان کا یہ وعدہ (آیت ) ” انا مومن ون “۔ کوئی حقیقی اور سچا وعدہ نہیں بلکہ محض ایک مصیبت کو ٹلانے کے لیے حیلہ اور بہانہ ہے، مگر خیر پھر بھی ہم حجت پوری کرنے کے لیے کھولے دیتے ہیں اس عذاب کو تھوڑی مدت تک کے لیے لیکن ہم جانتے ہیں کہ یقیناً تم پھر لوٹنے والے ہو اپنی پہلی ہی حالت کی طرف اور وہی حرکتیں کروگے جو پہلے کرتے رہے حقیقت یہ ہے کہ جس دن ہم بڑی سخت پکڑ کے ساتھ پکڑیں گے تو اس روز ہم پورا پورا انتقام لینے والے ہوں گے اور یہ قانون خداوندی ہے کہ جرم کی اصل سزا اور بدلہ سے پہلے کچھ تنبیہ وتہدید کے مرحلے گزارے جاتے ہیں تاکہ اگر کسی میں کچھ بھی صلاحیت اور سعادت کا اثر ہے تو وہ باز آجائے اور یہ قانون خداوندی اور طریق سزا بھی دراصل حق تعالیٰ کی طرف سے حجت کو پورا کردینا ہے۔
تفسیر آیت دخان :
(آیت ) ” فارتقب یوم تاتی السمآء بدخان مبین “۔ کی تفسیر میں مفسرین نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایات بیان کی ہیں، تفسیر درمنثور، روح المعانی اور حافظ ابن کثیر (رح) نے اپنی تفسیر میں ان روایات کو تفصیل سے ذکر کیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آیت مبارکہ میں جس دخان کا ذکر ہے وہ دخان مبین گذر چکا ہے یا آئندہ پیش آنیوالے واقعہ اور علامات قیامت میں سے کسی علامت کا بیان ہے سلف سے یہی دو قول منقول ہیں، بعضوں نے پہلا قول اختیار کیا ہے، اور بعضوں نے دوسرا ،
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی رائے یہ ہے کہ یہ دخان مبین قیامت کے قریب پیش آنے والی علامت ہے جو تمام لوگوں پر پھیل جائے گا مگر اہل ایمان کے حق میں تو یہ محض خفیف زکام کی طرح ہوگا اور کافروں منافقوں کی ناک میں اور کانوں کے ذریعہ دماغ کے اندر گھس کر انکو بیہوش کرڈالے گا جیسے کہ ابن ابی حاتم ؓ نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ قیامت کے قریب یہ دھواں لوگوں پر چھاجائے گا، مومن کو تو محض زکام کی سی کیفیت ہوگی اور کافر کے دماغ میں گھس کر اس کو بےہوش کردے گا۔ 1
حاشیہ 1 (تفسیر ابن کثیر ج 4۔ روح المعانی ج 24)
حذیفہ بن اسید الغفاری ؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ایک مرتبہ ہمیں جھانکا اور یہ فرمایا جب کہ ہم آپس میں قیامت کا ذکر کررہے تھے کہ :
لاتقوم الساعۃ حتی تروا عشر آیات طلوع الشمس من مغربھا والدخان والدابۃ وخروج یاجوج وماجوج وخروج عیسیٰ بن مریم والدجال وثلثۃ خسوف خسف یا المشرق وخسف بالمغرب وخسف بجزیرۃ العرب ونار تخرج من فعرعون تسوق الناس تبیت معھم حیث یاتوا وتقیل معھم حیث قالوا۔ (صحیح مسلم )
قیامت اس تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ تم یہ دس نشانیاں نہ دیکھ لو، سورج کا طلوع مغرب سے، دھوئیں کا ظاہر ہونا اور دابۃ الارض کا نکلنا اور یا جوج وماجوج کا ظاہر ہونا اور عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کا نزول اور دجال کا نکلنا اور تین واقع زمین کے دھنسنے کے زلزلوں کے ساتھ ایک مشرق میں اور ایک مغرب میں اور ایک جزیرۂ عرب میں، اور ایک آگ جو عون کے علاقہ کے وسط میں سے نکلے گی جو لوگوں کو ہنکاتی ہوی اور وہ رات کو بھی ان کے ساتھ رہے گی، جہاں وہ رات گذاریں گے اور دوپہر کو بھی ان کے ساتھ رہے گی جہاں وہ دوپہر گذاریں گے۔
اور ایک روایت میں حضرت حذیفہ ؓ سے یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے ان (10) دس آیات میں دخان (دھوئیں) کا ذکر فرمایا تو لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ما الدخان کہ یہ دھواں کیا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی، (آیت ) ” فارتقب یوم تاتی السمآء بدخان مبین یغشی الناس “۔ اور ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ دھواں مشرق ومغرب کے مابین پھیل جائے گا اور چالیس روز تک باقی رہے گا۔ 2
حاشیہ 2 (تفسیر ابن کثیر ج 4)
اس قول کے بالمقابل حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا قول یہ تھا کہ اس آیت میں دھوئیں سے مراد وہ علامات قیامت والا دھواں نہیں ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ قریش نے جب اسلام سے روگردانی کی اور کسی طرح بھی تمرد وسرکشی سے باز نہ آئے تو آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک سے انتہائی رنج اور صدمہ کے باعث یہ کلمات جاری ہوئے، اللہم علیھم بسنین کسنی یوسف (علیہ السلام) ۔ یعنی اے اللہ تو ان قریش مکہ پر ایسی شدت و سختی کے سال مسلط کردے جیسے یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ میں اہل مصر پر، تو اس کے بعد قریش کے ہڈیاں ابال کر پینے لگے، کمزوری کا یہ عالم ہوگیا کہ جب بھی آسمان کی طرف سراٹھا کر دیکھتے تو کمزوری اور نقاہت سے آنکھون کے سامنے ایک بادل اور دھواں سانظر آتا، اور مزید یہ ہوا کہ اسی سال یمامہ کا سردار ثمامہ بن اثال ؓ مشرف باسلام ہوگیا تو جو امداد اور غلہ کی فراہمی وہاں سے ہوتی تھی وہ اس نے بند کردی تو مزید قحط وفاقہ کی مصیبت بڑھ گئی، تو ” دخان مبین “ یہ آنکھوں کے سامنے چھا جانے والا اندھیرا اور غبار کی طرح کا منظر ہے جو غایب کمزوری سے محسوس ہوتا ہے، روایات سے یہ بھی ثابت ہے کہ خود عبداللہ بن مسعود ؓ کے سامنے جب عبداللہ بن عباس ؓ کی تفسیر کا ذکر کیا گیا تو اس کی تردید فرمائی، چناچہ مسروق (رح) (جو عبداللہ بن مسعود ؓ کے مخصوص تلامذہ میں سے ہیں) فرماتے ہیں ہم ایک روز کوفہ کی مسجد میں پہنچے ابواب کندہ کے نزدیک تو وہاں دیکھا کہ ایک شخص وعظ کررہا ہے اور (آیت ) ” یوم تاتی السمآء بدخان مبین “۔ کے متعلق بیان کررہا ہے کہ لوگو ! تم جانتے ہی ہو کہ یہ دخان مبین کیا ہے ؟ سنو ! یہ دخان مبین (دھواں) قیامت کے روز ظاہر ہوگا جو کفار ومنافقین کی آنکھوں، ناک اور کانوں میں بھر دیا جائے گا (جس سے وہ بےہوش ہوجائیں گے) لیکن مومن کے لیے صرف ایک زکام کی سی کیفیت ہوگی، تو مسروق (رح) بیان کرتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن مسعود ؓ کے پاس حاضر ہوئے اور ان سے یہ تفسیر نقل کی وہ سن کر چونک گئے، اٹھ بیٹھے اور فرمایا کہ حق تعالیٰ شانہ نے اپنے پیغمبر کو یہ خطاب فرمایا ہے (آیت ) ” قل مآ اسئلکم علیہ من اجر وما انا من المتکلفین “۔ یعنی آپ ﷺ یہ اعلان فرما دیجئے کہ میں امر وحی اور تبلیغ رسالت پر کسی قسم کے معاوضہ کا سوال نہیں کرتا اور نہ ہی میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں، مراد یہ تھی کہ اگر کوئی بات وحی الہی نہیں تو پھر میں خود اپنی طرف سے بنا کر پیش کرنے والا نہیں ہوں تو اسی کے مطابق کسی کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ صحیح اور تحقیقی علم کے بغیر کوئی بات کہے، ابن مسعود ؓ یہ کہتے ہوئے فرمانے لگے کہ یہ بھی علم کا ایک شعبہ ہے کہ انسان جس بات کو نہ جانتا ہو اس کے بارے میں یہ کہہ دے ” اللہ اعلم “
اچھا اب میں تم کو بتاتا ہوں کہ آیت مبارکہ کی کیا مراد ہے اور یہ کس واقعہ کی طرف اشارہ ہے وہ یہ کہ قریش کے لوگ جب اسلام سے مسلسل نفرت وبیزاری ہی اختیاری کرتے رہے اور رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں نافرمانی ہی کرتے رہے تو آپ ﷺ نے ان کے حق میں بددعا فرمائی اے اللہ ان پر یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ کی طرح قحط وشدت کے سال مقدر فرما تو ان پر فاقہ اور قحط مسلط ہوا اور نوبت ہڈیوں اور مردار کھانے کی آگئی اور یہ لوگ فاقہ میں اس قدر کمزور ہوگئے کہ جب نظر اوپر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھتے تو دھواں ہی دھواں نظر آتا تو یہی وہ چیز ہے۔
جس کو ان الفاظ میں ذکر فرمایا گیا۔ (آیت ) ” فارتقب یوم تاتی السمآء بدخان مبین، یغشی الناس ھذا عذاب الیم “۔ قریش کے لوگ جب اس مصیبت سے بدحواس ہوگئے تو آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ تو مکارم اخلاق اور صلہ رحمی کرنے والے ہیں، آپ ﷺ بارش کے لیے دعا فرما دیجئے قوم مضر کے واسطے یہ لوگ ہلاک ہوئے جارہے ہیں، آنحضرت ﷺ نے دعا فرمادی تو کچھ سیرابی ان کو حاصل ہوگئی، یہ سیرابی وہ ہے جس کا ذکر ان الفاظ میں ہے۔ (آیت ) ” ان کاشفوا العذاب قلیلا انکم عآئدون “۔ کہ یہ مصیبت ہم دور کردیتے ہیں تھوڑے وقت کے لیے مگر بیشک تم پھر لوٹنے والے ہو اسی نافرمانی اور کفر کی جانب، ابن مسعود ؓ فرمانے لگے کیا عذاب قیامت دور ہوسکتا ہے یعنی اگر اس دخان مبین کو احوال قیامت اور قیامت کے عذاب پر محمول کیا جائے تو یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کیونکہ یہاں یہ تصریح ہے کہ ہم یہ عذاب دور کیے دیتے ہیں، اور قیامت کا کوئی عذاب اور شدت دور نہیں ہوسکتی، تو معلوم ہوا کہ یہ عذاب قیامت کے متعلقات میں سے نہیں ہوسکتا، فرمایا الغرض جب پھر ان پر خوش حالی لوٹ آئی تو اس پر اللہ نے یہ فرمایا (آیت ) ” یوم نبطش البطشۃ الکبری “۔ اور یہ گرفت غزوۂ بدر کی گرفت ہے (جو قدرت خداوندی کی طرف سے انتقام تھا) ابن مسعود ؓ نے فرمایا یہ پانچ چیزیں گزر چکی ہیں۔ الدخان، الروم، القمر اللزام البطشۃ، امام بخاری اور امام مسلم نے صحیحین میں اس مضمون کو متعدد سندوں کے ساتھ تخریج فرمایا۔ 1
حاشیہ (امام احمد بن حنبل (رح) نے اپنی مسند میں یہ مضمون تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے امام ترمذی (رح) اور امام نسائی (رح) نے اس کو روایت کیا، ابن جریر (رح) اور ابن ابی حاتم (رح) بھی متعدد سندوں سے اس کو بیان کرتے ہیں، مسروق (رح) کی طرح عبداللہ بن مسعود ؓ کے دوسرے تلمیذ خاص اعمش (رح) نے بھی اس آیت کے تفسیر اسی طرح کی ہے مجاہد (رح) ابوالعالیہ (رح) ابراہیم نخعی (رح) ضحاک (رح) عطیۃ العوفی (رح) کی تفاسیر بھی اسی کی تائید کررہی ہیں، یہ سب اسی کے قائل ہیں کہ دخان کا واقعہ گزر چکا ہے، (تفسیر ابن کثیر ج 4)
اور ایک روایت سند صحیح کے ساتھ یہ مذکور ہے کہ آپ ﷺ کی اس دعا پر جب قریش کے لوگ فقروفاقہ اور قحط کی مصیبت میں مبتلا ہوئے تو ابو سفیان ؓ اور کچھ اہل مکہ آپ ﷺ کے پاس گئے اور کہنے لگے اے محمد ﷺ آپ کا تو یہ خیال ہے کہ آپ رحمت بنا کر مبعوث کیے گئے ہیں، اور آپ کی قوم ہلاک ہوئی جارہی تو دعا کردیجئے تو آنحضرت ﷺ نے دعا فرمائی اس پر بارش برسی اور قحط کے آثار دور ہوئے اور مسلسل سات روز اس طرح بارش کا سلسلہ جاری رہا کہ آسمان نظر نہ آتا تھا۔
علامہ آلوسی (رح) اس روایت کو نقل کرکے بیان فرماتے ہیں کہ ظاہر مضمون سے تو یہ معلوم ہوتا ہے جیسا کہ ابن کثیر نے اپنی تاریخ میں تصریح کی ہے کہ یہ قصہ مکہ مکرمہ میں پیش آیا (یعنی مکی زندگی میں قبل از ہجرت) اور یہ آیت بھی مکیہ ہے مگر بعض روایات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ قصہ ہجرت کے بعد کا ہے اور ابوسفیان ؓ کا مدینہ منورہ جاکر درخواست کرنا مذکور ہے، تو بہت ممکن ہے کہ اس قسم کا واقعہ اہل مکہ پر دو مرتبہ پیش آیا ہو۔ 2
حاشیہ 2 (روح المعانی ج 25)
مفسرین کی ایک جماعت نے عبداللہ بن عباس ؓ کی تفسیر کو ترجیح دیتے ہوئے اس کے قرائن ومؤیدات کو ذکر کیا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر ج 4 میں تفصیل ملاحظہ فرمائیں )
علامہ آلوسی (رح)، ابن عباس ؓ اور ابن مسعود ؓ کی تفسیر پر کلام فرمانے کے بعد اخیر میں کہتے ہیں الفاظ آیت سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ دخان کو اسی معنی پر محمول کرنا زیادہ بہتر ہے جو ابن مسعود ؓ نے اختیار کیے اور مضمون کا ربط اس طرح سمجھا جاسکتا ہے، حق تعالیٰ شانہ نے قرآن حکیم کا نزول لیلۃ مبارکہ میں ذکر فرما کر یہ ظاہر فرمایا کہ یہ کتاب الہی بڑی ہی برکتوں اور رحمتوں والی کتاب ہے، چاہئے تھا کہ اہل مکہ اس کتاب سے منتفع ہوتے اور جس ذات سراپا رحمت پر یہ کتاب اتری اس سے بھی منتفع ہوتے لیکن افسوس کہ وہ شک اور کفر میں مبتلا رہے اور اپنی جبلی بدنصیبی سے لہو ولعب ہی میں پڑے رہے تو اس کے بعد مناسب یہی تھا کہ ان کی ذلت و محرومی اور بدحالی کا مضمون لایا جاتا چناچہ (آیت ) ” فارتقب یوم تاتی السمآ بدخان مبین “۔ سے ان کے فقر ومصیبت اور ذلت کا حال بیان فرمایا دیا گیا۔ 1
حاشیہ (روح المعانی ج 25)
اور ساتھ ہی اس مہلت کا بھی تذکرہ دیا گیا جو انکو دی گئی۔
تفسیر لیلۃ مبرکۃ ‘:
لیلۃ مبارکہ کی تفسیر میں بعض مفسرین شب براءت یعنی شعبان کی پندرہویں رات بیان کرتے ہیں، کیونکہ ان آیات میں (آیت ) ” فیھا یغرق کل امر حکیم “۔ بطور قرینہ اسی کی تائید کررہا ہے یعنی اس رات میں ہر چیز کا فیصلہ کیا جاتا ہے، اور احادیث میں شعبان کی پندرھویں رات کی یہی خصوصیت ذکر فرمائی گئی ہے کہ اس رات میں ہر پیدا ہونے والا بچہ اور ہر فوت ہونے والا انسان اس کا رزق، عمل غرض جملہ احوال طے کیے جاتے ہیں، جیسے حدیث جامع ترمذی میں مذکور ہے، لیکن یہاں لیلۂ مبارکہ کی تفسیر لیلہ برأۃ سے کرنا اس لیے مشکل ہے کہ اس رات میں حق تعالیٰ نے نزول قرآن کا بھی ذکر فرمایا اور قرآن کا نزول ہونا (جود وسری آیات کی تصریح سے معلوم ہوا) رمضان مبارک اور لیلۃ القدر میں ہے جیسے کہ سورة بقرہ میں ارشاد ہے۔ (آیت ) ” شھر رمضان الذی انزل فیہ القران “۔ اور سورت القدر میں ہے (آیت ) ” انا انزلنہ فی لیلۃ القدر وما ادرک مالیلۃ القدر “۔ اور جمہور مفسرین کے نزدیک یہی متعین ہے کہ شب قدر میں قرآن کریم لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر اتارا گیا اور پھر تیئیس سال کی مدت میں بتدریج آنحضرت ﷺ پر اترتا گیا، تو اس وجہ سے اس موقعہ پر لیلۃ مبارکہ سے لیلۃ براءت مراد لیا جانا مشکل ہے۔
حضرت استاذ مولانا شبیر احمد عثمانی (رح) فرماتے ہیں تطبیق کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ یہ کہا جائے کہ سال بھر کے متعلق قضاء وقدر کے حکیمانہ اور اٹل فیصلے اسی عظیم الشان رات میں طے کیے جاتے ہیں۔ اور لوح محفوظ سے نقل کرکے (جس میں ہر چیز ازل سے لکھی ہوئی ہے جیسے کہ ارشاد مبارک (آیت ) ” وکل شیء احصینہ فی امام مبین) ان فرشتوں کے حوالے کردئیے جاتے ہیں، جو شعبہائے تکوینیات میں کام کرنے والے ہیں، بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لیلۃ البرأت یعنی شعبان کی پندرھویں رات ہے، ممکن ہے کہ وہاں سے کام کی ابتداء اور شب قدر میں انتہاء ہوتی ہو۔ واللہ اعلم۔ 1
حاشیہ (فوائد قرآن کریم از حضرت شیخ الاسلام علامہ عثمانی (رح)
تو اسی بنیاد پر سمجھا جاسکتا ہے کہ لیلۃ البرأت میں نزول قرآن کا فیصلہ اور اس کو ان ملائکہ کے حوالہ کرنا ہو جو تکوینی طور پر اس کا نازل کرنے پر مامور کیے گئے اور لیلۃ القدر میں اس امر تکوینی کا نفاذ اور تحقیق یعنی لوح محفوظ (جہاں یہ کلام الہی ہمیشہ سے تھا اور بلکہ اس وقت سے تھا جب کہ زمین و آسمان کی تخلیق بھی نہیں ہوئی تھی ) ۔ 2
حاشیہ 2 (ان الفاظ میں جامع ترمذی کی اس حدیث کی طرف اشارہ ہے جس میں حق تعالیٰ شانہ کا آسمانوں اور زمین کی پیدائش سے ہزار سال قبل فرشتوں کے سامنے قرآن کریم کی سورة طہ اور سورة یسین تلاوت فرمانے کا ذکر ہے۔ )
سے آسمان دنیا پر اتارا گیا تو اس طرح ایک نزول بمعنی تکوین، لیلۃ برأت میں ہوا اور ایک نزول لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر شب قدر میں ہوا اور کوئی تعجب نہیں کہ اس سورت مبارکہ کی ان آیات میں دونوں قسم کے نزول کی طرف اشارہ ہو کہ شب برأت میں فیصلہ نزول از لوح محفوظ اور شب قدر میں لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر اتر جانا مراد ہو۔
Ayahs 44:30–39نجات و کامیابی بنی اسرائیل مع بیان بعث بعد موت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ولقد نجینا بنی ٓ اسرآء یل ....... الی ...... اکثرھم لا یعلمون “۔
(ربط) گزشتہ آیات کا مضمون قوم مجرمین کے عبرت ناک انجام اور فرعون لعین کی ہلاکت اور تباہی کا تھا تو اب ان آیات میں اس کے بالمقابل یہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ حق تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کے ساتھیوں کو کس طرح نجات و کامیابی عطا فرمائی اور اسی کے ساتھ ان دلائل کو بھی ذکر کیا جارہا ہے، جو بعث بعد از موت کو ثابت کرنے والے ہیں، اور ان شبہات اور لغو اعتراضات کو بھی رد کیا گیا، جو منکرین کیا کرتے تھے، ارشاد فرمایا ! اور بیشک ہم نے نجات دی بنی اسرائیل کو ایک ذلت کے عذاب سے جو فرعون کی طرف سے ان پر مسلط تھا، یقیناً وہ بہت ہی سرچڑھا حد سے بڑھ جانے والوں میں سے تھا کہ وہ اپنی غرور وسرکشی میں دنیا کے مغروروں اور متکبروں سے بڑھ کر تھا اور اس کی سرکشی ہر ظلم وتعدی کے حدود سے آگے متجاوز تھی، اور ہم نے ان کو برتری دی تھی جانتے ہوئے جہاں کے لوگوں پر یعنی ہم جانتے تھے کہ قوم بنی اسرائیل میں کتنی کمزوریاں اور کس کس طرح کے نقائص وعیوب ہیں لیکن محض اپنے انعام واکرام کے باعث لوگوں پر فضیلت و برتری بخشی تھی اور دیں ہم نے ان کو ایسی نشانیاں جن میں واضح طور پر ان کی مدد تھی اور محض انعام خداوندی تھا اور ان کو من وسلوی جیسا پاکیزہ رزق عطا کیا پھر فرعون کی غلامی اور اس کی ذلت سے نکالا اور اس کی سلطنت و دولت کا وارث بنایا تو یہ انعامات نہایت ہی واضح تھے اور محض انعام خداوندی تھا اور ان کو من وسلوی جیسا پاکیزہ رزق عطا کیا پھر فرعون کی غلامی اور اس کی ذلت سے نکالا اور اس کی سلطنت و دولت کا وارث بنایا تو یہ انعامات نہایت ہی واضح تھے اور محض انعامات خداوندی تھے کہ بنی اسرائیل میں کوئی خوبی نہ تھی کہ وہ انعامات سے نوازے جاتے بلکہ اس کے بالمقابل ان میں تو بہت سے عیب تھے تو ہم نے ان کے عیوب ونقائص کو جانتے ہوئے اور دیکھتے ہوئے بھی یہ نعمتیں دی تھیں یہ واقعات ہر قوم کے واسطے بلاشبہ سامان عبرت ہیں اور ایسے مضبوط دلائل ہیں کہ قدرت خداوندی پر ایمان لائیں اور قیامت پر یقین کریں مگر عجیب بات ہے، قریش مکہ آنحضرت ﷺ پر ایمان نہیں لاتے بلکہ انکار کرتے ہوئے یہ لوگ کہتے ہیں بس اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ یہی ہے ہمارا مرنا پچھلی مرتبہ اور ہم دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے بس یہی دنیوی موت آخری موت ہے اس کے بعد نہ کوئی قیامت ہے اور نہ کوئی صور پھونکنا ہے نہ اٹھنا ہے، اور نہ پھر مدہوش ہونا ہے، یہ منکرین اپنے اس عناد و انکار پر پوری قوت کے ساتھ جمے ہوئے اسی طرح کا مطالبہ کرنے لگے جیسا کہ پچھلے منکرین اپنے انبیاء سے کیا کرتے تھے تو اچھا اگر دوبارہ زندہ ہونا ہے تو ہمارے باپ دادوں کو لے آؤ زندہ کرکے اگر ہو تم سچے، تب ہم یقین کریں گے کہ تم ٹھیک کہتے ہو، حق تعالیٰ ایسے بدنصیبوں کو تنبیہ کرتے ہوئے فرماتا ہے بتاؤ کیا یہ بہتر ہیں، قوت و شوکت میں یا قوم تبع جو یمن کی نہایت ہی طاقت ور قوم اور مادی سازو سامان سے پوری طرح آراستہ تھی، اور وہ قومیں جو ان سے پہلے گزریں مثلا عادو ثمود ہم نے ہلاک کرڈالا ان سب کو ان کی نافرمانیوں اور بداعمالیوں کی وجہ سے بیشک وہ بڑے ہی گنہگار تھے آخر ہر انسان کو یہ سوچنا چاہئے کہ ہم نے اتنا بڑا یہ کارخانہ عالم کس لیے بنایا یہ حقیقت ہے کہ اور ہم نے جو کچھ آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان پیدا کیا، ہم نے اس طرح نہیں بنایا ہے کہ ہم فعل عبث کرنے والے ہیں اور یہ زمین کو مگر ایک قوی اور مضبوط حکمت کے ساتھ چاہئے تو یہ تھا یہ لوگ اس حقیقت و حکمت کو سمجھتے مگر ان قوموں کے اکثر لوگ نہیں سمجھتے اور حقائق و دلائل سے چشم پوشی کرتے ہوئے ان عناد و انکار پر ڈٹے رہتے ہیں اور یہی نہیں حالانکہ یہ بات قطعی اور لازم التسلیم ہے کہ جو قادر کسی چیز کو پہلے مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہے وہ بلاشبہ اس کے اعادہ پر قادر ہے تخلیق کائنا ت کے سلسلہ میں خدا کی خالقیت کا اقرار کرنے کے بعد یہ ناقابل فہم منطق ہے کہ قریش مکہ قیامت پر ایمان نہ لائیں۔
قوم تبع :
حافظ ابن کثیر (رح) اپنی تفسیر میں ذکر فرماتے ہیں کہ قوم تبع یمن کی ایک قوم تھی جو قوم سبا کہلاتی تھی اس قوم کو اللہ تعالیٰ نے شمار انعامات سے نوازا تھا مگر یہ اپنی سرکشی پر قائم رہی جس کے نتیجہ میں خداوند عالم نے اس کو تباہ وبرباد کرڈالا ان کے شہر اجڑ گئے باغات اور کھیتیاں بنجر ہوگئیں جس کا ذکر قرآن کریم نے سورة سبا میں تفصیل سے کیا تو اس قوم کا تاریخی حوالہ قریش مکہ کی عبرت وتنبیہ کے لیے فرمایا گیا اور یہ قوم تبع عرب قحطان تھے جب کہ قریش عرب عدنان تھے تبع یمن کے بادشاہ کا لقب ہوتا تھا جیسا کہ کسری شاہ فارس کو اور قیصر شاہ روم کو اور فرعون بادشاہ مصر کو اور نجاشی شاہ حبشہ کو کہتے تھے، یمن میں اس لقب سے بہت سے بادشاہ گزرے جس تبع کا یہاں ذکر ہے اس کا نام بعض روایات میں اسعد بیان کیا جاتا ہے اور بعض احادیث سے اس کا ایمان لانا بھی ثا بت ہے، واللہ اعلم۔
قوم تبع اگرچہ بالعموم اپنے تاریخی ادوار میں کافر گزری اور ان کا بادشاہ فرعون اور قیصر و کسری کی طرح کافر ہوتا تھا لیکن اہل یمن کے بعض فرمانروا اور تبع کا یمن سے نکل کر بلاد سمر قند میں جانے کا بعض تواریخ میں ذکر ملتا ہے اور یہ کہ یہ تبع شاہ یمن جب یمن سے نکلا اور سمر قند وغیرہ پہنچا تو اس زمانہ میں میں اس کا ملک نہایت وسیع اور مضبوط ہوچکا تھا اور رعایا بھی بڑی تعداد میں تھی اس نے حیرہ شہر آباد کیا تھا، ایام جاہلیت میں جب اس کا گزر مدینہ منورہ سے ہوا تو اس نے اہل مدینہ منورہ سے قتال کا ارادہ کیا اہل مدینہ نے مقابلہ کیا اور اس کے باوجود کہ دن کے وقت اس کے ساتھ قتال کرتے اور جب رات ہوتی تو مہمان نوازی کرتے اس طرز عمل پر یہ بادشاہ شرمایا اور قتال کے ارادہ سے باز آیا، اور مدینہ منورہ میں بسنے والے یہودیوں میں سے ان دو علماء کو اپنا مصاحب بنالیا، جنہوں نے اس کو نصیحت کی تھی کہ اے تبع تیرا یہ طرز صحیح نہیں اور تو ہرگز اس شہر کے باشندوں پر غالب نہیں آسکتا کیونکہ یہ شہر اس نبی آخر الزمان ﷺ کی ہجرت گاہ ہے جو اخیر زمانہ میں مبعوث ہوں گے تو شاہ تبع اس ارادہ سے باز آگیا تھا اور ان دونوں کو اپنا مصاحب بنا کر اپنے ساتھ لے کر روانہ ہوگیا، پھر یہ بادشاہ جب مکہ کی طرف پہنچا تو وہاں بھی حملہ کرنے کا ارادہ کیا تو ان دونوں نے اس کو اس سے بھی منع کیا اور کہا کہ یہ اللہ کا گھر ہے جسے ابراہیم خلیل (علیہ السلام) نے بنایا تھا اور اس کعبہ کی بہت ہی بڑی شان ہوگی ان ہی نبی آخر الزمان ﷺ کی وجہ سے تو بادشاہ یہ سن کر بیت اللہ کی عزت و تکریم وتعظیم کرنے لگا، طواف کیا اور قیمتی غلاف چڑھایا اور جب یمن کی طرف لوٹنے کا ارادہ کیا تو اہل مکہ کو یہودی مذہب قبول کرنے کی دعوت دی اس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا دین ہی آسمانی ہدایت کا دین تھا اور حضرت مسیح بن مریم (علیہما السلام) کی بعثت نہیں ہوئی تھی تو اس وقت اہل یمن بالعموم اس بادشاہ تبع کے ساتھ یہودی ہوگئے تھے محمد بن اسحاق (رح) نے اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے ابن عساکر (رح) نے اپنی تاریخ میں بعض مزید چیزیں ذکر کیں، تبع کے بارے میں بعض روایات ابن عباس ؓ اور کعب احبار ؓ سے مروی ہیں کہ اس نے دین حق قبول کرلیا تھا ،
حضرت سعید بن جبیر ؓ سے منقول ہے تبع نے خانہ کعبہ پر غلاف چڑھایا جس سے قبل بیت اللہ پر غلاف کا دستور نہیں تھا، بعض تاریخی نقول سے ثابت ہے کہ اس نے اپنی قوم پر تین سو چھبیس برس حکومت کی اور قوم حمیر میں اس سے زیادہ کوئی طویل العمر نہیں ہوا اور یہ بھی منقول ہے کہ یہ بادشاہ آنحضرت ﷺ کی وفات سے تقریبا سات سو سال قبل مرا ہے اور یہ بھی ذکر کیا گیا کہ جب ان دو علماء یہود نے مدینہ منورہ کے بارے میں یہ بتایا کہ یہ شہر رسول آخر الزمان ﷺ کی ہجرت گاہ ہے اور وہ اس شہر میں آکر بسیں گے جن کا نام احمد ومحمد ﷺ ہوگا، تو اس نے آپکی شان میں چند اشعار کہے۔
شھدت علی احمد انہ۔ رسول اللہ باری النسم
فلومدعمری الی عمرہ۔ لکنت وزیرا وابن عم۔
وجاھدت بالسیف اعداۂ ۔ وفرجت عن صدرہ کل عم۔
یعنی میں گواہی دیتا ہوں احمد ﷺ کے بارے میں کہ وہ اس پروردگار کے رسول ہیں جو کائنات کا خالق ہے اور اگر میری عمر ان کے وقت تک دراز کردی جائے تو میں ان کا وزیر اور چچا زاد بھائی ہوتا اور میں تلوار اٹھا کر ان کے دشمنوں کے ساتھ جہاد کرتا اور ان کے دل سے ہر غم و پریشانی کو دور کرتا۔
بعض تاریخی نقول سے یہ بھی ثابت ہے کہ مدینہ کے بعد علماء یہود نے اس علم ومعرفت کی بناء پر کہ یہ سرزمین حضور اکرم ﷺ کی ہجرت گاہ ہے مدینہ میں قیام کی اجازت طلب کی تو شاہ تبع نے سب کو اجازت دی ان کو بہت سارا مال و دولت بھی دیا اور ایک خاص مکان تیار کرایا کہ نبی آخری الزمان ﷺ جب ہجرت کرکے آئیں تو وہ اس مکان میں قیام پذیر ہوں اور ایک خط بھی لکھا جس میں آپ ﷺ سے ملاقات کی تمنا کا اظہار تھا اور مذکورہ اشعار بھی اس میں تھے حضرت ابوایوب انصاری ؓ اسی عالم کی اولاد میں تھے اور یہ مکان وہی ہے تو تبع نے اسی غرض سے بنوایا تھا چناچہ خدا کے حکم سے وہ اونٹنی اسی مقام پر آکر ٹھہری اور آنحضرت ﷺ حضرت ابوایو انصاری ؓ کے یہاں مقیم رہے۔ 1
حاشیہ (تفسیر ابن کثیر تاریخ ابن عساکر۔ فتح الباری جلد 7)
شیخ زین الدین مراغی (رح) بیان کیا کرتے تھے کہ اگر یہ کہہ دیا جائے کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ میں ابوایوب انصاری ؓ کے مکان پر نہیں اترے تھے بلکہ اپنے مکان پر اترے تھے تو بےجانہ ہوگا، گویا ابوایوب انصاری ؓ کا قیام تو اس مکان میں آپ ﷺ کے انتظار میں تھا۔ 2
حاشیہ 2 (روض الانف بحوالہ سیرت المصطفی جلداول حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی (رح)۔ 12)